<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کی ترقی کیلئے 10 سالہ معاہدے پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40262823/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور ایران نے پیر کے روز ایران میں اسٹریٹجک چابہار بندرگاہ کو ترقی دینے کے  10 سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں کیونکہ بھارت مغربی اور وسطی ایشیا میں تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سڑکوں اور شہری ترقی کی وزارت کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کے ساتھ ایران کی جنوب مشرقی سرحد کے قریب واقع بندرگاہ کو استعمال  کرنے کیلئے 10 سال کی رسائی حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے نتیجے میں انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (آئی پی جی ایل) اسٹریٹجک سازوسامان فراہم کرنے اور بندرگاہ کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں 370 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے شہری ترقی کے وزیر مہرداد بزرپاش اور بھارت کے بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے چابہار شہر میں معاہدے پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان نے 2016 میں ایرانی بندرگاہ کو وسطی ایشیا کے تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے مالی اعانت پر اتفاق کیا تھا، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے پابندیوں کے خاتمے کے بعد تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی اور ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے بندرگاہ کی ترقی کے لئے ہندوستان کے ایگزم بینک سے لائن آف کریڈٹ کی فراہمی کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی نگرانی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پابندیوں میں چھوٹ کے باوجود بندرگاہ کی ترقی  تعطل کا شکار رہی،   امریکہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنا شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چابہار معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بزرپاش نے کہا کہ  چابہار خطے کی ٹرانزٹ ترقی میں مرکزی نقطہ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے سے خوش ہیں اور ہمیں بھارت پر مکمل اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر نے کہا کہ ایران اور ہندوستان علاقائی منڈیوں تک مشترکہ رسائی کے لیے دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے چابہار بندرگاہ کو ہر ممکن حد تک ترقی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ طویل مدتی معاہدہ ہندوستان اور ایران کے درمیان پائیدار اعتماد اور موثر شراکت داری کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں ، کووڈ وبائی مرض کے پھیلنے سے پہلے ، دونوں ممالک نے ہندوستان کے وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر کے تہران کے دورے کے بعد اس منصوبے کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور ایران نے پیر کے روز ایران میں اسٹریٹجک چابہار بندرگاہ کو ترقی دینے کے  10 سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں کیونکہ بھارت مغربی اور وسطی ایشیا میں تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے۔</strong></p>
<p>ایران کی سڑکوں اور شہری ترقی کی وزارت کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کے ساتھ ایران کی جنوب مشرقی سرحد کے قریب واقع بندرگاہ کو استعمال  کرنے کیلئے 10 سال کی رسائی حاصل ہوگی۔</p>
<p>معاہدے کے نتیجے میں انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (آئی پی جی ایل) اسٹریٹجک سازوسامان فراہم کرنے اور بندرگاہ کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں 370 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔</p>
<p>ایران کے شہری ترقی کے وزیر مہرداد بزرپاش اور بھارت کے بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے چابہار شہر میں معاہدے پر دستخط کیے۔</p>
<p>ہندوستان نے 2016 میں ایرانی بندرگاہ کو وسطی ایشیا کے تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے مالی اعانت پر اتفاق کیا تھا، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے پابندیوں کے خاتمے کے بعد تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>مودی اور ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے بندرگاہ کی ترقی کے لئے ہندوستان کے ایگزم بینک سے لائن آف کریڈٹ کی فراہمی کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی نگرانی کی تھی۔</p>
<p>تاہم پابندیوں میں چھوٹ کے باوجود بندرگاہ کی ترقی  تعطل کا شکار رہی،   امریکہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>چابہار معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بزرپاش نے کہا کہ  چابہار خطے کی ٹرانزٹ ترقی میں مرکزی نقطہ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے سے خوش ہیں اور ہمیں بھارت پر مکمل اعتماد ہے۔</p>
<p>بھارتی وزیر نے کہا کہ ایران اور ہندوستان علاقائی منڈیوں تک مشترکہ رسائی کے لیے دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے چابہار بندرگاہ کو ہر ممکن حد تک ترقی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ طویل مدتی معاہدہ ہندوستان اور ایران کے درمیان پائیدار اعتماد اور موثر شراکت داری کی علامت ہے۔</p>
<p>2019 میں ، کووڈ وبائی مرض کے پھیلنے سے پہلے ، دونوں ممالک نے ہندوستان کے وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر کے تہران کے دورے کے بعد اس منصوبے کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40262823</guid>
      <pubDate>Mon, 13 May 2024 21:09:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/05/13210246f0dc216.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/05/13210246f0dc216.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
