<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آبادججز کے الزامات: سپریم کورٹ نے ازخود سماعت ملتوی کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40261991/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ (ایس سی) نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ ( آئی ایچ سی ) کے ججز کے عدالتی کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت اور دھمکیوں کے خط پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ملتوی کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجربینچ نے سماعت کی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ افریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل ( ایس جے سی) کوخفیہ ایجنسیوں کے کارندوںکی مبینہ مداخلت اور دھمکی ے خلاف ایک خط لکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفعت امتیاز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھاکہ حکومت انکوائری کمیشن کی تشکیل کے لیے خط وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم ایک غیر جانبدار اور ریٹائرڈ جج سے انکوائری کمیشن کی سربراہی اور قانون کے مطابق تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی درخواست کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان 28 مئی کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت معاملے کی انکوائری کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 مارچ کو، وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق حسین جیلانی کو IHC کے ججوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کا سربراہ مقرر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآںملک بھر سے قانونی برادری کے 300 سے زائد ارکان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت ریاستی اداروں کی طرف سے عدلیہ کے معاملات میں مبینہ مداخلت کا نوٹس لے ۔انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متعلقہ انکوائری پینل کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ (ایس سی) نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ ( آئی ایچ سی ) کے ججز کے عدالتی کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت اور دھمکیوں کے خط پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ملتوی کردی۔</strong></p>
<p>چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجربینچ نے سماعت کی ۔</p>
<p>بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ افریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل ( ایس جے سی) کوخفیہ ایجنسیوں کے کارندوںکی مبینہ مداخلت اور دھمکی ے خلاف ایک خط لکھا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفعت امتیاز شامل تھے۔</p>
<p>بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھاکہ حکومت انکوائری کمیشن کی تشکیل کے لیے خط وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گی۔</p>
<p>تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم ایک غیر جانبدار اور ریٹائرڈ جج سے انکوائری کمیشن کی سربراہی اور قانون کے مطابق تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی درخواست کریں گے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان 28 مئی کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت معاملے کی انکوائری کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔</p>
<p>30 مارچ کو، وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق حسین جیلانی کو IHC کے ججوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کا سربراہ مقرر کیا۔</p>
<p>مزید برآںملک بھر سے قانونی برادری کے 300 سے زائد ارکان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت ریاستی اداروں کی طرف سے عدلیہ کے معاملات میں مبینہ مداخلت کا نوٹس لے ۔انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متعلقہ انکوائری پینل کو مسترد کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40261991</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Apr 2024 14:56:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/04/031455142906acf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/04/031455142906acf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
