<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Mutual Funds</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 18:30:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 18:30:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی پر خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40264843/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ برینٹ اب بھی سات ماہ کی کم ترین سطح پر ہے، جس کی وجہ کمزور طلب اور امریکہ میں کساد بازاری کے خدشات ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کے سودے 1.10 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 77.58 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.05 ڈالر اضافے سے 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 74.25 ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز برینٹ کے سودے جنوری کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے اور ڈبلیو ٹی آئی کے سودے فروری کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر ہوئے کیونکہ ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار کے بعد امریکہ میں کساد بازاری کے خدشات کی وجہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹ میں مندی میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئل بروکر پی وی ایم کے تامس ورگا نے کہاکہ کیا فروخت جاری رہنے سے پہلے رسک ایسٹس کی قیمتوں میں تبدیلی محض نچلی سطح کا انتخاب ثابت ہوگی یا سرمایہ کاروں نے امریکی ملازمت کے اعداد و شمار کے درمیانی مدت کے مضمرات کا مکمل جائزہ لینے کے لئے وقت لیا ہے جس پر بحث کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز تیل کے دونوں بینچ مارکس نے تین سیشن کی گراوٹ کا سلسلہ توڑ دیا  اور مشرق وسطی میں تناؤ نے بدھ کے کاروباری سیشن میں رسد کے خدشات کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے حماس اور حزب اللہ گروپوں کے سینئر ارکان کے جاں بحق ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کی ایک نئی لہر کی تیاری کر رہا ہے اور اس تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ غزہ کا تنازع مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی حکام خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس بات پر ’واضح اتفاق رائے‘ ہے کہ کسی کو بھی صورتحال کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این زیڈ کے تجزیہ کار ڈینیئل ہینز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کسی بھی طرح کا اضافہ خطے سے رسد میں خلل کا زیادہ خطرہ دیکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اعداد و شمار کے مطابق خام تیل اور پٹرول کی انوینٹریز میں غیر متوقع اضافے کے بعد بدھ کے کاروباری سیشن کے آغاز میں قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل، پٹرول اور ڈسٹیلیٹ انوینٹریز میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن بدھ کی صبح 10:30 بجے (14:30 جی ایم ٹی) ہفتہ وار انوینٹری ڈیٹا جاری کرنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندی کی طلب کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے چینی تجارتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی میں یومیہ خام تیل کی درآمدات ستمبر 2022 کے بعد سے کم ترین سطح پر گر گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ برینٹ اب بھی سات ماہ کی کم ترین سطح پر ہے، جس کی وجہ کمزور طلب اور امریکہ میں کساد بازاری کے خدشات ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کے سودے 1.10 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 77.58 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.05 ڈالر اضافے سے 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 74.25 ڈالر رہی۔</p>
<p>پیر کے روز برینٹ کے سودے جنوری کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے اور ڈبلیو ٹی آئی کے سودے فروری کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر ہوئے کیونکہ ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار کے بعد امریکہ میں کساد بازاری کے خدشات کی وجہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹ میں مندی میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>آئل بروکر پی وی ایم کے تامس ورگا نے کہاکہ کیا فروخت جاری رہنے سے پہلے رسک ایسٹس کی قیمتوں میں تبدیلی محض نچلی سطح کا انتخاب ثابت ہوگی یا سرمایہ کاروں نے امریکی ملازمت کے اعداد و شمار کے درمیانی مدت کے مضمرات کا مکمل جائزہ لینے کے لئے وقت لیا ہے جس پر بحث کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>منگل کے روز تیل کے دونوں بینچ مارکس نے تین سیشن کی گراوٹ کا سلسلہ توڑ دیا  اور مشرق وسطی میں تناؤ نے بدھ کے کاروباری سیشن میں رسد کے خدشات کو جنم دیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے حماس اور حزب اللہ گروپوں کے سینئر ارکان کے جاں بحق ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کی ایک نئی لہر کی تیاری کر رہا ہے اور اس تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ غزہ کا تنازع مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی حکام خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس بات پر ’واضح اتفاق رائے‘ ہے کہ کسی کو بھی صورتحال کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>اے این زیڈ کے تجزیہ کار ڈینیئل ہینز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کسی بھی طرح کا اضافہ خطے سے رسد میں خلل کا زیادہ خطرہ دیکھ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی اعداد و شمار کے مطابق خام تیل اور پٹرول کی انوینٹریز میں غیر متوقع اضافے کے بعد بدھ کے کاروباری سیشن کے آغاز میں قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل، پٹرول اور ڈسٹیلیٹ انوینٹریز میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن بدھ کی صبح 10:30 بجے (14:30 جی ایم ٹی) ہفتہ وار انوینٹری ڈیٹا جاری کرنے والا ہے۔</p>
<p>مندی کی طلب کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے چینی تجارتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی میں یومیہ خام تیل کی درآمدات ستمبر 2022 کے بعد سے کم ترین سطح پر گر گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40264843</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Aug 2024 18:17:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/08/07181704b86924a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/08/07181704b86924a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان میں فری لانسرز کی سالانہ کمائی 15 ملین ڈالر، آئی ٹی کمپنیوں سے کہیں زیادہ آمدن کیوں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279574/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان میں فری لانسنگ کمیونٹی کی اندازاً سالانہ آمدن بڑھ کر 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو خطے میں موجود آئی ٹی کمپنیوں کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے، جو سالانہ 3.5 ملین ڈالر کے قریب ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی صنعت کی تنظیم P@SHA کی جانب سے جاری کردہ گلگت بلتستان آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس سیکٹر ڈائیگناسٹک رپورٹ کے مطابق، خطے کے ٹیک سیکٹر سے حاصل ہونے والی مجموعی سالانہ آمدن کا تخمینہ 15 ملین ڈالر سے 18 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ فری لانسنگ کمیونٹی، جس کی تعداد تقریباً 3,000 سے 4,000 افراد کے درمیان ہے، سالانہ 10 ملین ڈالر سے 15 ملین ڈالر تک کماتی ہے، جبکہ تقریباً 110 سے 120 آئی ٹی کمپنیاں مجموعی طور پر 3.5 ملین ڈالر کے قریب آمدن حاصل کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان تیزی سے پاکستان میں فری لانسنگ کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں نوجوان پروفیشنلز عالمی کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اپ ورک اور فائور جیسے مشہور فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو متوجہ کیا ہے، جو گرافک ڈیزائن، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، کانٹینٹ رائٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں اپنی مہارتیں استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ ریموٹ ورک ماڈل باصلاحیت افراد کو  گلگت بلتستان میں رہتے ہوئے بین الاقوامی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے، جو خطے کی جغرافیائی دوری کے باعث ایک موزوں انتظام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان کی سرزمین انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق چیلنجز کے باوجود اپنی بلند شرح خواندگی کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان پاکستان میں بلند ترین شرح خواندگی رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے اور یہاں نوجوان ٹیلنٹ کا ایک متحرک ذخیرہ موجود ہے، تاہم اعلیٰ درجے کی آئی ٹی مہارتوں اور مینٹورشپ میں ابھی بھی خلا پایا جاتا ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے منظم اسکلز ٹریننگ، انٹرن شپس اور مسلسل سیکھنے کے پروگرامز کی ضرورت برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے فری لانسرز کا ٹیلنٹ حیران کن حد تک شاندار ہے، جو اسکلز ڈیولپمنٹ اداروں، کمرشل بینکس، سروس پرووائیڈرز، نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز اور حکومت کے باہمی تعاون سے ممکن ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ  گلگت بلتستان کے اضلاع میں نوجوانوں کی سہولت اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ فارن ایکسچینج کی آمدنی حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق  گلگت بلتستان کی سرزمین اپنی بلند شرح خواندگی کی وجہ سے غیر معمولی ہے، جو مضبوط ہیومن کیپیٹل پروڈکٹیوٹی کو ممکن بناتی ہے اور انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق مسائل کے باوجود ملک کے لیے قابل ذکر آمدن فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن  گلگت بلتستان کے اضلاع میں فری لانسر کمیونٹی کو بااختیار بنانے اور انہیں قومی فری لانسنگ ایکو سسٹم سے جوڑنے کے لیے فری لانس فیسٹ گلگت 2022 جیسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں نمایاں پیش رفت میں موبائل براڈ بینڈ کی توسیع، خطے کے پہلے ٹیکنالوجی پارکس کا قیام، اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس اور فری لانسر کمیونٹیز کا ابھرنہ شامل ہے، جو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 سے قبل  گلگت بلتستان میں عملاً کوئی مخصوص آئی ٹی پارکس، کو ورکنگ اسپیسز یا انکیوبیٹرز موجود نہیں تھے۔ یہ صورتحال اس وقت بدلنا شروع ہوئی جب حکومت کے اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ٹیک ایکو سسٹم کی معاونت کے لیے اقدامات کیے۔ گلگت اور اسکردو میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے گئے، جن میں دفتری سہولیات، قابل اعتماد انٹرنیٹ اور بیک اپ پاور فراہم کی گئی۔ ان سہولیات نے 1,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے اور 3,000 سے زیادہ آئی ٹی طلبہ کو تربیت دی، جبکہ  گلگت بلتستان کی چند ابتدائی باضابطہ رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیوں کو بھی یہاں جگہ فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی او نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تعاون سے گلگت میں ایک فری لانسنگ حب بھی قائم کیا، جہاں اس وقت 14 آئی ٹی کمپنیاں اور 45 فری لانسرز موجود ہیں، جو اختراع اور تعاون کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے  گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تین بڑے ٹیک ہبز بھی قائم کیے ہیں، جہاں کو ورکنگ اسپیسز، تربیتی سہولیات اور انکیوبیشن سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن  نے متعدد اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرامز شروع کیے ہیں، جن میں ویب ڈیولپمنٹ، موبائل ایپ ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں قلیل مدتی سرٹیفیکیشنز شامل ہیں، جو مقامی تربیتی اداروں کے ذریعے منعقد کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان کا آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس سیکٹر اگرچہ اب بھی چھوٹا ہے مگر نمایاں ترقی دکھا رہا ہے۔ خطے میں تقریباً 300 آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کمپنیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان میں سے صرف 100 سے 120 کو فعال سمجھا جاتا ہے۔ شعبے کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ  گلگت بلتستان کے شہری مراکز میں رجسٹرڈ آئی ٹی فرموں کی تعداد کم ہے، جبکہ فری لانسرز اور غیر رسمی ٹیموں کی ایک بڑی کمیونٹی موجود ہے۔ مجموعی ٹیک ورک فورس کا تخمینہ 6,000 سے 7,000 افراد کے درمیان ہے، جن میں کمپنی ملازمین اور فری لانسرز دونوں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر مستحکم بجلی اور محدود ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ تقریباً 88 فیصد آئی ٹی فرموں نے بجلی کی بندش کے باعث خلل کی شکایت کی، جبکہ غیر ہموار براڈ بینڈ کوریج کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسائل  گلگت بلتستان میں بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں فوری بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان میں فری لانسنگ کمیونٹی کی اندازاً سالانہ آمدن بڑھ کر 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو خطے میں موجود آئی ٹی کمپنیوں کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے، جو سالانہ 3.5 ملین ڈالر کے قریب ہے۔</strong></p>
<p>آئی ٹی صنعت کی تنظیم P@SHA کی جانب سے جاری کردہ گلگت بلتستان آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس سیکٹر ڈائیگناسٹک رپورٹ کے مطابق، خطے کے ٹیک سیکٹر سے حاصل ہونے والی مجموعی سالانہ آمدن کا تخمینہ 15 ملین ڈالر سے 18 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ فری لانسنگ کمیونٹی، جس کی تعداد تقریباً 3,000 سے 4,000 افراد کے درمیان ہے، سالانہ 10 ملین ڈالر سے 15 ملین ڈالر تک کماتی ہے، جبکہ تقریباً 110 سے 120 آئی ٹی کمپنیاں مجموعی طور پر 3.5 ملین ڈالر کے قریب آمدن حاصل کرتی ہیں۔</p>
<p>گلگت بلتستان تیزی سے پاکستان میں فری لانسنگ کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں نوجوان پروفیشنلز عالمی کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اپ ورک اور فائور جیسے مشہور فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو متوجہ کیا ہے، جو گرافک ڈیزائن، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، کانٹینٹ رائٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں اپنی مہارتیں استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ ریموٹ ورک ماڈل باصلاحیت افراد کو  گلگت بلتستان میں رہتے ہوئے بین الاقوامی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے، جو خطے کی جغرافیائی دوری کے باعث ایک موزوں انتظام ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>گلگت بلتستان کی سرزمین انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق چیلنجز کے باوجود اپنی بلند شرح خواندگی کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان پاکستان میں بلند ترین شرح خواندگی رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے اور یہاں نوجوان ٹیلنٹ کا ایک متحرک ذخیرہ موجود ہے، تاہم اعلیٰ درجے کی آئی ٹی مہارتوں اور مینٹورشپ میں ابھی بھی خلا پایا جاتا ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے منظم اسکلز ٹریننگ، انٹرن شپس اور مسلسل سیکھنے کے پروگرامز کی ضرورت برقرار ہے۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے فری لانسرز کا ٹیلنٹ حیران کن حد تک شاندار ہے، جو اسکلز ڈیولپمنٹ اداروں، کمرشل بینکس، سروس پرووائیڈرز، نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز اور حکومت کے باہمی تعاون سے ممکن ہوا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ  گلگت بلتستان کے اضلاع میں نوجوانوں کی سہولت اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ فارن ایکسچینج کی آمدنی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>ان کے مطابق  گلگت بلتستان کی سرزمین اپنی بلند شرح خواندگی کی وجہ سے غیر معمولی ہے، جو مضبوط ہیومن کیپیٹل پروڈکٹیوٹی کو ممکن بناتی ہے اور انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق مسائل کے باوجود ملک کے لیے قابل ذکر آمدن فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن  گلگت بلتستان کے اضلاع میں فری لانسر کمیونٹی کو بااختیار بنانے اور انہیں قومی فری لانسنگ ایکو سسٹم سے جوڑنے کے لیے فری لانس فیسٹ گلگت 2022 جیسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھے گی۔</p>
<p>ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں نمایاں پیش رفت میں موبائل براڈ بینڈ کی توسیع، خطے کے پہلے ٹیکنالوجی پارکس کا قیام، اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس اور فری لانسر کمیونٹیز کا ابھرنہ شامل ہے، جو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>2018 سے قبل  گلگت بلتستان میں عملاً کوئی مخصوص آئی ٹی پارکس، کو ورکنگ اسپیسز یا انکیوبیٹرز موجود نہیں تھے۔ یہ صورتحال اس وقت بدلنا شروع ہوئی جب حکومت کے اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ٹیک ایکو سسٹم کی معاونت کے لیے اقدامات کیے۔ گلگت اور اسکردو میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے گئے، جن میں دفتری سہولیات، قابل اعتماد انٹرنیٹ اور بیک اپ پاور فراہم کی گئی۔ ان سہولیات نے 1,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے اور 3,000 سے زیادہ آئی ٹی طلبہ کو تربیت دی، جبکہ  گلگت بلتستان کی چند ابتدائی باضابطہ رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیوں کو بھی یہاں جگہ فراہم کی گئی۔</p>
<p>ایس سی او نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تعاون سے گلگت میں ایک فری لانسنگ حب بھی قائم کیا، جہاں اس وقت 14 آئی ٹی کمپنیاں اور 45 فری لانسرز موجود ہیں، جو اختراع اور تعاون کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے  گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تین بڑے ٹیک ہبز بھی قائم کیے ہیں، جہاں کو ورکنگ اسپیسز، تربیتی سہولیات اور انکیوبیشن سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔</p>
<p>ادھر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن  نے متعدد اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرامز شروع کیے ہیں، جن میں ویب ڈیولپمنٹ، موبائل ایپ ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں قلیل مدتی سرٹیفیکیشنز شامل ہیں، جو مقامی تربیتی اداروں کے ذریعے منعقد کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>گلگت بلتستان کا آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس سیکٹر اگرچہ اب بھی چھوٹا ہے مگر نمایاں ترقی دکھا رہا ہے۔ خطے میں تقریباً 300 آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کمپنیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان میں سے صرف 100 سے 120 کو فعال سمجھا جاتا ہے۔ شعبے کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ  گلگت بلتستان کے شہری مراکز میں رجسٹرڈ آئی ٹی فرموں کی تعداد کم ہے، جبکہ فری لانسرز اور غیر رسمی ٹیموں کی ایک بڑی کمیونٹی موجود ہے۔ مجموعی ٹیک ورک فورس کا تخمینہ 6,000 سے 7,000 افراد کے درمیان ہے، جن میں کمپنی ملازمین اور فری لانسرز دونوں شامل ہیں۔</p>
<p>غیر مستحکم بجلی اور محدود ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ تقریباً 88 فیصد آئی ٹی فرموں نے بجلی کی بندش کے باعث خلل کی شکایت کی، جبکہ غیر ہموار براڈ بینڈ کوریج کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسائل  گلگت بلتستان میں بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں فوری بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279574</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 15:36:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/201532091b8ae68.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/201532091b8ae68.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی ایشیا میں بدلتے سیاسی محرکات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40268989/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئے عوامی جذبات کے تحت تبدیلی کی خواہش سے متاثر بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت بتدریج لیکن مستقل طور پر بھارتی اثر و رسوخ سے باہر نکل رہی ہے اور یہ اقدامات محتاط انداز میں سوچ سمجھ کر اٹھائے جا رہے ہیں۔ جسے بنگلہ دیش میں بہت سے لوگ آمرانہ اور معیشت، توانائی کی سلامتی، سرحدی سلامتی اور خارجہ امور کے لحاظ سے ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جذبات کے جواب میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس نے خطے میں بھارت کی بالادستی سے خود کو کافی حد تک دور کر لیا ہے اور خطے میں دو طرفہ اتحاد بنا رہا ہے۔ اس نے بہتر تعلقات اور اپنے تعلقات میں ایک نئی شروعات کے لئے پاکستان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں نگران سربراہ حکومت کے ترجمان نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا کہ محمد یونس سارک کی بحالی اور تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور اس میں پاکستان بھی شامل ہے اور اب ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اچھے تعلقات قائم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ہی جذبات کا اظہار بنگلہ دیش کے ماہرینِ رائے نے بھی کیا ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش تعلقات پر منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بنگلہ دیشی ماہر نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مزید برآں، پاکستان کے حامی پروفیسر نے بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تاریخی رشتوں کے پابند ہیں۔ شاہد الزماں نے بنگلہ دیش پاکستان تعلقات کے بارے میں کہا کہ ہم نشیب و فراز سے گزرے ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ اُس وقت کے مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کے ہولناک واقعات کے گواہ شاید اپنے زندگی میں ان پرانے تعلقات کی بحالی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم کی بحالی کے حق میں نہیں۔ 2016 میں اس تنظیم کا عملہ طور پر خاتمہ ہوگیا جب اسلام آباد میں 2016 میں ہونے والی سارک کانفرنس کو اس وقت کی پی ایم ایل-این حکومت نے منسوخ کر دیا، کیونکہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بہانے 19ویں  سارک  سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ دیگر جنوبی ایشیائی رہنما بھی مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اس طرح پاکستان خطے میں اکیلا اور بے بس رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت خطے میں اپنا تسلط چاہتا تھا اور پاکستان اس کے لیے رکاو تھا۔ بھارت کا ارادہ اس وقت سامنے آیا جب سارک چھوڑنے کے فورا بعد نئی دہلی نے بمسٹیک (خلیج بنگال انیشی ایٹو فار ملٹی سیکٹرل ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن) کو علاقائی تعاون کے متبادل فورم کے طور پر فروغ دینا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بمسٹیک سات ممالک پر مشتمل ہے جن میں سارک کے آٹھ ارکان میں سے پانچ بھی شامل ہیں۔ اس میں بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ اس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جس پر بھارت سارک کے فریم ورک کے تحت علاقائی رابطوں کے منصوبوں کو روکنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی کی توجہ خطے کی توانائی کی سلامتی سے فائدہ اٹھانے پر ہے۔ بنگلورو میں بمسٹیک انرجی سینٹر (بی ای سی) قائم کیا گیا ہے جو بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ کے درمیان اس شعبے میں علاقائی تعاون کو فروغ دے گا۔ حکومت ہند نے ’میزبان ملک کے معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلورو میں بی ای سی علاقائی توانائی کے ڈیٹا بیس کا انتظام کرے گا، انٹرا بمسٹیک منصوبوں کے لئے فزیبلٹی اسٹڈیز کرے گا اور بمسٹیک رکن ممالک کی قومی ایجنسیوں کے درمیان نیٹ ورکنگ کے لئے ایک فریم ورک تیار کرکے تعاون میں اضافہ کرے گا۔ یہ گرڈ انٹر کنکشنز، قابل تجدید توانائی کی ترقی اور توانائی کی کارکردگی کے حصول کے ذریعے توانائی کے تحفظ کو بھی فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بمسٹیک اب بجلی کی ترسیل اور تجارت، بجلی کے تبادلے اور ٹیرف میکانزم کے لئے پالیسیوں کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ بلاک کے اندر بمسٹیک گرڈ انٹرکنکشن ماسٹر پلان بھی زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی قیادت میں ان تمام اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ اس جنوبی ایشیائی خطے کی توانائی کی حفاظت بھارت کے ہاتھوں میں رہے گی، جس سے اسے ان ممالک کے توانائی کے وسائل، خاص طور پر بھوٹان اور نیپال کے پن بجلی کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ یہ بھارت کے لئے خطے میں توانائی کی مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کرنے کے راستے بھی کھولتا ہے۔ اس کی بہترین مثال بنگلہ دیش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش اپنی بجلی کی ضروریات کے لئے بنیادی طور پر بھارت پر انحصار کرتا ہے۔ 25 سالہ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش اپریل 2023 سے اڈانی گروپ آف انڈیا سے بجلی حاصل کر رہا ہے جبکہ دیگر بھارتی پلانٹس سے تقریبا 1160 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اڈانی پاور کی قیمت بنگلہ دیش کے لیے 12 ٹکا ( 0.1008 ڈالر) فی یونٹ پڑتی ہے اور یہ بات بنگلہ دیش پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے ایک عہدیدار نے 2023/24 کے مالی سال کے لیے حالیہ آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتائی۔ یہ بھارت کے دیگر نجی پیداواری اداروں کے نرخوں سے 27 فیصد زیادہ ہے اور بھارتی سرکاری پلانٹس کے نرخوں سے 63 فیصد زیادہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنگلہ دیش کے لیے مالی طور پر غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا پاکستان کو خطے میں کسی بھی اہم موجودگی سے الگ کرنے کا ایجنڈا واضح ہے۔ بھارت نے سارک کو چھوڑا تاکہ اسے ختم کرنے کا عمل تیز کیا جاسکے، وہ برکس میں پاکستان کو شامل ہونے سے روکنے کیلئے اپنی ویٹو پاور کا استعمال کررہا ہے حالانکہ اس عالمی بلاک میں اس سے بہت چھوٹی معیشتیں شامل ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے داخلی سیاسی اور اقتصادی بحران میں گھرا ہوا تھا اور اس نے اس تنہائی کو خاموشی سے برداشت کیا۔ سارک کی بحالی کے لئے بنگلہ دیش کے ساتھ ہاتھ ملانے کا موقع پاکستان کے لئے خطے میں اپنی اہمیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے صحیح سمت ہے۔ سارک کی بحالی شاید ممکن نہ ہو لیکن اس کا متبادل تیار کیا جا سکتا ہے جس میں وہ ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو بھارت کی بالادستی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;صرف حکومتیں ہی یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں۔ نجی شعبے کو بھی اس میں شامل ہونا ہوگا۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا ایک وفد بہت جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں کاروبار کے لیے سازگار لاگت اور آسانی کی وجہ سے پاکستان کی کئی صنعتیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری، بنگلہ دیش منتقل ہونے پر غور کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئے عوامی جذبات کے تحت تبدیلی کی خواہش سے متاثر بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت بتدریج لیکن مستقل طور پر بھارتی اثر و رسوخ سے باہر نکل رہی ہے اور یہ اقدامات محتاط انداز میں سوچ سمجھ کر اٹھائے جا رہے ہیں۔ جسے بنگلہ دیش میں بہت سے لوگ آمرانہ اور معیشت، توانائی کی سلامتی، سرحدی سلامتی اور خارجہ امور کے لحاظ سے ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>ان جذبات کے جواب میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس نے خطے میں بھارت کی بالادستی سے خود کو کافی حد تک دور کر لیا ہے اور خطے میں دو طرفہ اتحاد بنا رہا ہے۔ اس نے بہتر تعلقات اور اپنے تعلقات میں ایک نئی شروعات کے لئے پاکستان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں نگران سربراہ حکومت کے ترجمان نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا کہ محمد یونس سارک کی بحالی اور تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور اس میں پاکستان بھی شامل ہے اور اب ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اچھے تعلقات قائم کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایسے ہی جذبات کا اظہار بنگلہ دیش کے ماہرینِ رائے نے بھی کیا ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش تعلقات پر منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بنگلہ دیشی ماہر نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مزید برآں، پاکستان کے حامی پروفیسر نے بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تاریخی رشتوں کے پابند ہیں۔ شاہد الزماں نے بنگلہ دیش پاکستان تعلقات کے بارے میں کہا کہ ہم نشیب و فراز سے گزرے ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ اُس وقت کے مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کے ہولناک واقعات کے گواہ شاید اپنے زندگی میں ان پرانے تعلقات کی بحالی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔</p>
<p>بھارت جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم کی بحالی کے حق میں نہیں۔ 2016 میں اس تنظیم کا عملہ طور پر خاتمہ ہوگیا جب اسلام آباد میں 2016 میں ہونے والی سارک کانفرنس کو اس وقت کی پی ایم ایل-این حکومت نے منسوخ کر دیا، کیونکہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بہانے 19ویں  سارک  سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ دیگر جنوبی ایشیائی رہنما بھی مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اس طرح پاکستان خطے میں اکیلا اور بے بس رہ گیا۔</p>
<p>بھارت خطے میں اپنا تسلط چاہتا تھا اور پاکستان اس کے لیے رکاو تھا۔ بھارت کا ارادہ اس وقت سامنے آیا جب سارک چھوڑنے کے فورا بعد نئی دہلی نے بمسٹیک (خلیج بنگال انیشی ایٹو فار ملٹی سیکٹرل ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن) کو علاقائی تعاون کے متبادل فورم کے طور پر فروغ دینا شروع کر دیا۔</p>
<p>بمسٹیک سات ممالک پر مشتمل ہے جن میں سارک کے آٹھ ارکان میں سے پانچ بھی شامل ہیں۔ اس میں بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ اس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جس پر بھارت سارک کے فریم ورک کے تحت علاقائی رابطوں کے منصوبوں کو روکنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔</p>
<p>نئی دہلی کی توجہ خطے کی توانائی کی سلامتی سے فائدہ اٹھانے پر ہے۔ بنگلورو میں بمسٹیک انرجی سینٹر (بی ای سی) قائم کیا گیا ہے جو بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ کے درمیان اس شعبے میں علاقائی تعاون کو فروغ دے گا۔ حکومت ہند نے ’میزبان ملک کے معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>بنگلورو میں بی ای سی علاقائی توانائی کے ڈیٹا بیس کا انتظام کرے گا، انٹرا بمسٹیک منصوبوں کے لئے فزیبلٹی اسٹڈیز کرے گا اور بمسٹیک رکن ممالک کی قومی ایجنسیوں کے درمیان نیٹ ورکنگ کے لئے ایک فریم ورک تیار کرکے تعاون میں اضافہ کرے گا۔ یہ گرڈ انٹر کنکشنز، قابل تجدید توانائی کی ترقی اور توانائی کی کارکردگی کے حصول کے ذریعے توانائی کے تحفظ کو بھی فروغ دے گا۔</p>
<p>بمسٹیک اب بجلی کی ترسیل اور تجارت، بجلی کے تبادلے اور ٹیرف میکانزم کے لئے پالیسیوں کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ بلاک کے اندر بمسٹیک گرڈ انٹرکنکشن ماسٹر پلان بھی زیر غور ہے۔</p>
<p>بھارت کی قیادت میں ان تمام اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ اس جنوبی ایشیائی خطے کی توانائی کی حفاظت بھارت کے ہاتھوں میں رہے گی، جس سے اسے ان ممالک کے توانائی کے وسائل، خاص طور پر بھوٹان اور نیپال کے پن بجلی کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ یہ بھارت کے لئے خطے میں توانائی کی مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کرنے کے راستے بھی کھولتا ہے۔ اس کی بہترین مثال بنگلہ دیش کی ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش اپنی بجلی کی ضروریات کے لئے بنیادی طور پر بھارت پر انحصار کرتا ہے۔ 25 سالہ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش اپریل 2023 سے اڈانی گروپ آف انڈیا سے بجلی حاصل کر رہا ہے جبکہ دیگر بھارتی پلانٹس سے تقریبا 1160 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔</p>
<p>اڈانی پاور کی قیمت بنگلہ دیش کے لیے 12 ٹکا ( 0.1008 ڈالر) فی یونٹ پڑتی ہے اور یہ بات بنگلہ دیش پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے ایک عہدیدار نے 2023/24 کے مالی سال کے لیے حالیہ آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتائی۔ یہ بھارت کے دیگر نجی پیداواری اداروں کے نرخوں سے 27 فیصد زیادہ ہے اور بھارتی سرکاری پلانٹس کے نرخوں سے 63 فیصد زیادہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنگلہ دیش کے لیے مالی طور پر غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کا پاکستان کو خطے میں کسی بھی اہم موجودگی سے الگ کرنے کا ایجنڈا واضح ہے۔ بھارت نے سارک کو چھوڑا تاکہ اسے ختم کرنے کا عمل تیز کیا جاسکے، وہ برکس میں پاکستان کو شامل ہونے سے روکنے کیلئے اپنی ویٹو پاور کا استعمال کررہا ہے حالانکہ اس عالمی بلاک میں اس سے بہت چھوٹی معیشتیں شامل ہو چکی ہیں۔</p>
<p>پاکستان اپنے داخلی سیاسی اور اقتصادی بحران میں گھرا ہوا تھا اور اس نے اس تنہائی کو خاموشی سے برداشت کیا۔ سارک کی بحالی کے لئے بنگلہ دیش کے ساتھ ہاتھ ملانے کا موقع پاکستان کے لئے خطے میں اپنی اہمیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے صحیح سمت ہے۔ سارک کی بحالی شاید ممکن نہ ہو لیکن اس کا متبادل تیار کیا جا سکتا ہے جس میں وہ ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو بھارت کی بالادستی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>صرف حکومتیں ہی یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں۔ نجی شعبے کو بھی اس میں شامل ہونا ہوگا۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا ایک وفد بہت جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں کاروبار کے لیے سازگار لاگت اور آسانی کی وجہ سے پاکستان کی کئی صنعتیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری، بنگلہ دیش منتقل ہونے پر غور کر رہی ہیں۔</p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40268989</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jan 2025 16:05:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/11160508c8e53ca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/11160508c8e53ca.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
