<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 18:23:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 18:23:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی، ڈالر مستحکم، ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔</p>
<p>ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</p>
<p>بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔</p>
<p>یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289066</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23090841dbbf740.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23090841dbbf740.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ین 163 کی سطح سے نیچے آگیا، جاپانی مداخلت کے خدشات بڑھ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی بانڈز کی بلند منافع بخش شرحوں کے باعث جاپانی ین بدھ کو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کار جاپان کی جانب سے ممکنہ کرنسی مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو نیویارک ٹریڈنگ کے دوران ین فی ڈالر 163.24 کی سطح تک گر گیا، جو 1986 کے آخر کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔ ایشیائی کاروباری اوقات میں بھی ین تقریباً 163.21 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی افواج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارھویں رات حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری  کی حیثیت سے مزید تقویت ملی۔ دولتِ مشترکہ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ڈالر کی حمایت کرتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس کا مثبت تعلق پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو معمولی کمی کے بعد 1.1401 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کے قریب رہا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے گر کر 1.3385 ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کار برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی بانڈز کی بلند منافع بخش شرحوں کے باعث جاپانی ین بدھ کو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کار جاپان کی جانب سے ممکنہ کرنسی مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>منگل کو نیویارک ٹریڈنگ کے دوران ین فی ڈالر 163.24 کی سطح تک گر گیا، جو 1986 کے آخر کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔ ایشیائی کاروباری اوقات میں بھی ین تقریباً 163.21 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>امریکی افواج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارھویں رات حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری  کی حیثیت سے مزید تقویت ملی۔ دولتِ مشترکہ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ڈالر کی حمایت کرتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس کا مثبت تعلق پایا جاتا ہے۔</p>
<p>یورو معمولی کمی کے بعد 1.1401 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کے قریب رہا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے گر کر 1.3385 ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کار برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289024</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 09:19:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/220918225003ee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="649" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/220918225003ee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288970/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کے درمیان امریکی ڈالر منگل کو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 162.50 ین پر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1415 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3434 ڈالر پر مضبوط رہا، جس کی وجہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا عزم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.96 پر مستحکم رہا، جو 15 جولائی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، تاہم ایران کو ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز ملنے سے کشیدگی میں کمی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یورپی مرکزی بینک سے توقع ہے کہ وہ اس ہفتے شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم بلند تیل کی قیمتوں کے باعث ستمبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مضبوط ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کے درمیان امریکی ڈالر منگل کو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 162.50 ین پر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1415 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3434 ڈالر پر مضبوط رہا، جس کی وجہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا عزم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.96 پر مستحکم رہا، جو 15 جولائی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، تاہم ایران کو ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز ملنے سے کشیدگی میں کمی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یورپی مرکزی بینک سے توقع ہے کہ وہ اس ہفتے شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم بلند تیل کی قیمتوں کے باعث ستمبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مضبوط ہو گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288970</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 09:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/210917003099322.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/210917003099322.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ڈالر مزید مضبوط ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیر کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر نے بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں معمولی مضبوطی حاصل کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا، جو 9 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1426 ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3445 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.6975 امریکی ڈالر، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0.5833 امریکی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی نسبتاً پرسکون رہی، تاہم مجموعی طور پر امریکی ڈالر مستحکم رہا جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی قدر سے متعلق خدشات اور ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی بعض شرائط معطل کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز پر 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ 90.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ امریکا نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مالیاتی منڈیاں اب بھی توقع کر رہی ہیں کہ 29 جولائی کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کے امکانات 85.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 64,637.89 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1,869.72 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیر کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر نے بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں معمولی مضبوطی حاصل کر لی۔</strong></p>
<p>امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا، جو 9 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔</p>
<p>یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1426 ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3445 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.6975 امریکی ڈالر، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0.5833 امریکی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی نسبتاً پرسکون رہی، تاہم مجموعی طور پر امریکی ڈالر مستحکم رہا جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی قدر سے متعلق خدشات اور ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی بعض شرائط معطل کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز پر 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ 90.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ امریکا نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔</p>
<p>ادھر مالیاتی منڈیاں اب بھی توقع کر رہی ہیں کہ 29 جولائی کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کے امکانات 85.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 64,637.89 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1,869.72 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288921</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 09:29:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/20092725af47027.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/20092725af47027.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کم، ڈالر ہفتہ وار کمی کی راہ پر گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعہ کو بڑی حد تک مستحکم رہا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس کی قدر میں کمی کا امکان ہے کیونکہ توقع سے کم امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے فوری شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ اس کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طلب کو سہارا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے جاری حملوں کے تبادلے نے گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً ختم کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1445 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ہفتہ وار بنیاد پر 0.29 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3476 ڈالر پر رہا اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی راہ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین 162.39 فی ڈالر پر برقرار رہا، جو رواں ماہ کے آغاز میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح 162.84 کے قریب ہے۔ اسی دوران ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.72 پر رہا اور ہفتہ وار 0.24 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جون میں امریکا میں ریٹیل فروخت معمولی بڑھی، جبکہ آن لائن خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد ماہرین نے دوسری سہ ماہی کی اقتصادی ترقی کے تخمینے بہتر کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں ماہ شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم نائب چیئرمین فلپ جیفرسن نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی میں جلد مزید بہتری نہ آئی تو شرح سود میں اضافے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق جولائی میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 25 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعہ کو بڑی حد تک مستحکم رہا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس کی قدر میں کمی کا امکان ہے کیونکہ توقع سے کم امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے فوری شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ اس کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طلب کو سہارا دیا۔</strong></p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے جاری حملوں کے تبادلے نے گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً ختم کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1445 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ہفتہ وار بنیاد پر 0.29 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3476 ڈالر پر رہا اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی راہ پر ہے۔</p>
<p>جاپانی ین 162.39 فی ڈالر پر برقرار رہا، جو رواں ماہ کے آغاز میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح 162.84 کے قریب ہے۔ اسی دوران ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.72 پر رہا اور ہفتہ وار 0.24 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جون میں امریکا میں ریٹیل فروخت معمولی بڑھی، جبکہ آن لائن خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد ماہرین نے دوسری سہ ماہی کی اقتصادی ترقی کے تخمینے بہتر کر دیے۔</p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں ماہ شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم نائب چیئرمین فلپ جیفرسن نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی میں جلد مزید بہتری نہ آئی تو شرح سود میں اضافے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق جولائی میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 25 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288826</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/17085720af47027.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/17085720af47027.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں کمی، امریکی ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعرات کو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، کیونکہ امریکا میں مہنگائی کے کمزور اعداد و شمار نے اس توقع کو تقویت دی کہ فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مستقبل میں مہنگائی کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر مسلسل تیسرے سیشن میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.075 ین پر آ گیا، جبکہ یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1472 ڈالر کی ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح 1.354 ڈالر کے قریب برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.47 پر مستحکم رہا۔ گزشتہ دو سیشنز کے دوران یہ انڈیکس 0.8 فیصد گر چکا ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) جون میں غیر متوقع طور پر گزشتہ 14 ماہ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کر گیا، جبکہ اس سے قبل صارفین کی مہنگائی اور روزگار کے کمزور اعداد و شمار بھی سامنے آئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے بعد جولائی میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گئے ہیں، اگرچہ ستمبر میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں حالیہ کمی نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس سے امریکی کرنسی کو سہارا ملنے کا امکان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی ایک ماہ کی بلند ترین سطح، تقریباً 85.28 ڈالر فی بیرل، کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعرات کو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، کیونکہ امریکا میں مہنگائی کے کمزور اعداد و شمار نے اس توقع کو تقویت دی کہ فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مستقبل میں مہنگائی کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔</strong></p>
<p>جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر مسلسل تیسرے سیشن میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.075 ین پر آ گیا، جبکہ یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1472 ڈالر کی ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح 1.354 ڈالر کے قریب برقرار رہا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.47 پر مستحکم رہا۔ گزشتہ دو سیشنز کے دوران یہ انڈیکس 0.8 فیصد گر چکا ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) جون میں غیر متوقع طور پر گزشتہ 14 ماہ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کر گیا، جبکہ اس سے قبل صارفین کی مہنگائی اور روزگار کے کمزور اعداد و شمار بھی سامنے آئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے بعد جولائی میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گئے ہیں، اگرچہ ستمبر میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں حالیہ کمی نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس سے امریکی کرنسی کو سہارا ملنے کا امکان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی ایک ماہ کی بلند ترین سطح، تقریباً 85.28 ڈالر فی بیرل، کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288773</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:06:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16090446bc1b9be.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16090446bc1b9be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی مہنگائی میں غیرمتوقع کمی سے ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p>مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔</p>
<p>تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288722</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:27:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150926328e03fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150926328e03fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈالر مستحکم، ین دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288679</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:32:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/140930369212f06.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/140930369212f06.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی کے سائے، ین دباؤ کا شکار، ڈالر مضبوط رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288525/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ جمعہ کو ین ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہا، جس کے باعث سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ رات گئے سرمایہ کاروں نے امریکا-ایران تنازع میں شدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کے مزید کمزور ہونے سے توانائی کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی کے بارے میں خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میککواری گروپ کے گلوبل ایف ایکس اور ریٹس اسٹریٹجسٹ تھیری وِزمین کے مطابق جنگ کے خدشات بدستور منڈیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کے دعوے کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر جمعہ کو معمولی کمزور ہوا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً مستحکم رہا۔ محفوظ سرمایہ کاری  کے طور پر ڈالر کی طلب میں اضافے نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات میں کمی کے اثرات کو متوازن رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین 162.36 کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ ہونے والی تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ اس طرح ڈالر ہفتہ وار بنیاد پر ین کے مقابلے میں 0.5 فیصد سے زائد مضبوط ہونے کی راہ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یورو 1.1433 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3413 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر بھی اس ہفتے شرح سود میں اضافے کے بعد مضبوط رہا۔ نیوزی لینڈ کے مرکزی بینک نے مزید مانیٹری سختی کا عندیہ دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ آئندہ مہینوں میں مزید شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ جمعہ کو ین ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہا، جس کے باعث سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ رات گئے سرمایہ کاروں نے امریکا-ایران تنازع میں شدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کے مزید کمزور ہونے سے توانائی کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی کے بارے میں خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>میککواری گروپ کے گلوبل ایف ایکس اور ریٹس اسٹریٹجسٹ تھیری وِزمین کے مطابق جنگ کے خدشات بدستور منڈیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کے دعوے کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔</p>
<p>ڈالر جمعہ کو معمولی کمزور ہوا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً مستحکم رہا۔ محفوظ سرمایہ کاری  کے طور پر ڈالر کی طلب میں اضافے نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات میں کمی کے اثرات کو متوازن رکھا۔</p>
<p>ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین 162.36 کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ ہونے والی تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ اس طرح ڈالر ہفتہ وار بنیاد پر ین کے مقابلے میں 0.5 فیصد سے زائد مضبوط ہونے کی راہ پر ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یورو 1.1433 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3413 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر بھی اس ہفتے شرح سود میں اضافے کے بعد مضبوط رہا۔ نیوزی لینڈ کے مرکزی بینک نے مزید مانیٹری سختی کا عندیہ دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ آئندہ مہینوں میں مزید شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288525</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 09:15:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/100915010f20444.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/100915010f20444.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر امریکی حملوں کے بعد ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288437/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد بدھ کو ایشیائی کاروبار کے دوران امریکی ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر اس وقت نمایاں مضبوط ہوا جب وہاں کے مرکزی بینک نے شرح سود میں اضافہ کرتے ہوئے مزید سخت مالیاتی پالیسی کا عندیہ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 162.46 ین تک پہنچ گیا، جو 2 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1405 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 0.1 فیصد گر کر 1.3351 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے توقعات کے مطابق شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.5 فیصد کر دیا۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی محرکات میں مزید کمی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس اعلان کے بعد نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) 0.5 فیصد بڑھ کر 0.5705 امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر بھی معمولی اضافے کے ساتھ 0.6938 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس بڑھ کر 101.210 تک پہنچ گیا، جو گزشتہ ایک ہفتے کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طلب اس وقت بڑھی جب امریکہ نے منگل کو ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا اور آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی بی ایس بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار فی الحال یہی سمجھ رہے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران عارضی جنگ بندی کے دوران سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی، تاہم اگست کے وسط میں عبوری جنگ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق تنازع بدستور بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ 76.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 1.3 فیصد کمی کے بعد 62,851.94 ڈالر جبکہ ایتھر 1.9 فیصد گر کر 1,749.96 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد بدھ کو ایشیائی کاروبار کے دوران امریکی ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر اس وقت نمایاں مضبوط ہوا جب وہاں کے مرکزی بینک نے شرح سود میں اضافہ کرتے ہوئے مزید سخت مالیاتی پالیسی کا عندیہ دیا۔</strong></p>
<p>امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 162.46 ین تک پہنچ گیا، جو 2 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1405 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 0.1 فیصد گر کر 1.3351 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے توقعات کے مطابق شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.5 فیصد کر دیا۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی محرکات میں مزید کمی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس اعلان کے بعد نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) 0.5 فیصد بڑھ کر 0.5705 امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر بھی معمولی اضافے کے ساتھ 0.6938 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس بڑھ کر 101.210 تک پہنچ گیا، جو گزشتہ ایک ہفتے کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طلب اس وقت بڑھی جب امریکہ نے منگل کو ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا اور آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کر دیا۔</p>
<p>ڈی بی ایس بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار فی الحال یہی سمجھ رہے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران عارضی جنگ بندی کے دوران سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی، تاہم اگست کے وسط میں عبوری جنگ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق تنازع بدستور بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ 76.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 1.3 فیصد کمی کے بعد 62,851.94 ڈالر جبکہ ایتھر 1.9 فیصد گر کر 1,749.96 ڈالر پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288437</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 09:16:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0809152234c8fc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0809152234c8fc3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، حکومت کی اچانک مداخلت کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288392/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی کرنسی ین منگل کو ایک بار پھر دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ جاپانی حکام کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کے کوئی آثار سامنے نہ آنے پر سرمایہ کاروں نے ین کی فروخت جاری رکھی۔ تاہم ٹوکیو کی جانب سے اچانک مداخلت کے خدشے نے اس کی مزید گراوٹ کو محدود رکھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی کاروباری اوقات میں ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 162 کی سطح سے کمزور رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں بھی تقریباً 2007 کے بعد کی کم ترین سطح 217.09 ین کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ دوسری جانب یورو 185.47 ین پر پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 0.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم یو ایف جی کے سینئر کرنسی تجزیہ کار لی ہارڈمین کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی تعطیل کے دوران جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے باعث ین نے اپنی حالیہ مضبوطی کا بڑا حصہ کھو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر بھی دباؤ میں رہا، کیونکہ توقع سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید کم ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1442 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ دو ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح 1.34005 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ڈالر انڈیکس مختلف بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں 100.86 پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 29 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھانے کی توقع کی جا رہی ہے، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 38 بیسس پوائنٹس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی توجہ اب بدھ کو جاری ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے جون کے اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہے، جن سے آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے ممکنہ رخ سے متعلق اہم اشارے ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.6955 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر معمولی اضافے کے ساتھ 0.5702 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی کرنسی ین منگل کو ایک بار پھر دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ جاپانی حکام کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کے کوئی آثار سامنے نہ آنے پر سرمایہ کاروں نے ین کی فروخت جاری رکھی۔ تاہم ٹوکیو کی جانب سے اچانک مداخلت کے خدشے نے اس کی مزید گراوٹ کو محدود رکھا۔</strong></p>
<p>ایشیائی کاروباری اوقات میں ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 162 کی سطح سے کمزور رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں بھی تقریباً 2007 کے بعد کی کم ترین سطح 217.09 ین کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ دوسری جانب یورو 185.47 ین پر پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 0.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ایم یو ایف جی کے سینئر کرنسی تجزیہ کار لی ہارڈمین کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی تعطیل کے دوران جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے باعث ین نے اپنی حالیہ مضبوطی کا بڑا حصہ کھو دیا۔</p>
<p>ادھر عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر بھی دباؤ میں رہا، کیونکہ توقع سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید کم ہو گئی ہیں۔</p>
<p>یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1442 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ دو ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح 1.34005 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ڈالر انڈیکس مختلف بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں 100.86 پر رہا۔</p>
<p>مارکیٹ میں اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 29 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھانے کی توقع کی جا رہی ہے، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 38 بیسس پوائنٹس تھی۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کی توجہ اب بدھ کو جاری ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے جون کے اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہے، جن سے آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے ممکنہ رخ سے متعلق اہم اشارے ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.6955 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر معمولی اضافے کے ساتھ 0.5702 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288392</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 09:30:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07092842765c583.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07092842765c583.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا، جاپانی ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288344/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر پیر کے روز تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ دوسری جانب جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جس سے جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات برقرار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1435 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3351 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 100.9 پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین 161.57 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 1986 کے بعد کی کم ترین سطح 162.84 سے زیادہ دور نہیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کے باعث محتاط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ڈالر میں اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی دیکھی گئی، کیونکہ جون میں ملازمتوں کی شرح نمو توقعات سے کم رہی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے روزگاری کی شرح میں کمی سے امریکی لیبر مارکیٹ اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی توجہ اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے جون کے اجلاس کی کارروائی (منٹس) پر مرکوز رہے گی، جس سے آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جنوبی کوریا کی کرنسی وون میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت اگر ہوئی بھی تو اس کے اثرات عارضی ہوں گے اور بنیادی معاشی عوامل میں تبدیلی کے بغیر ین کو دیرپا سہارا ملنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر پیر کے روز تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ دوسری جانب جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جس سے جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات برقرار ہیں۔</strong></p>
<p>ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1435 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3351 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 100.9 پر رہا۔</p>
<p>جاپانی ین 161.57 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 1986 کے بعد کی کم ترین سطح 162.84 سے زیادہ دور نہیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کے باعث محتاط ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ڈالر میں اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی دیکھی گئی، کیونکہ جون میں ملازمتوں کی شرح نمو توقعات سے کم رہی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے روزگاری کی شرح میں کمی سے امریکی لیبر مارکیٹ اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی توجہ اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے جون کے اجلاس کی کارروائی (منٹس) پر مرکوز رہے گی، جس سے آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔</p>
<p>ادھر جنوبی کوریا کی کرنسی وون میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت اگر ہوئی بھی تو اس کے اثرات عارضی ہوں گے اور بنیادی معاشی عوامل میں تبدیلی کے بغیر ین کو دیرپا سہارا ملنا مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288344</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 09:28:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/060925548e59181.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/060925548e59181.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار، ڈالر تین ماہ کی بڑی گراوٹ کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288233/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعہ کو تقریباً تین ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن رہا، کیونکہ جون کے دوران روزگار کے توقعات سے کمزور اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری اضافے کی توقعات کو کمزور کر دیا، جس سے جاپانی ین کو بھی نمایاں سہارا ملا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ایشیائی کاروبار میں یورو تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح 1.1442 ڈالر پر برقرار رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3361 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور تقریباً 1.2 فیصد ہفتہ وار اضافے کی راہ پر گامزن رہا، جو تقریباً تین ماہ کی بہترین کارکردگی ہے۔ آسٹریلوی ڈالر بھی 0.6935 ڈالر تک پہنچ گیا اور چار ہفتوں سے جاری تنزلی کا سلسلہ ختم ہونے کے آثار دکھائی دیے، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) ہفتہ وار 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5702 ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو اہم عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.2 فیصد کمی کے بعد 100.77 پوائنٹس پر آ گیا۔ ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس میں تقریباً 0.58 فیصد کمی متوقع ہے، جو اپریل کے اوائل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ محنت کے مطابق جون میں نان فارم پے رولز میں صرف 57 ہزار نئی ملازمتیں شامل ہوئیں، جبکہ ماہرین نے ایک لاکھ 10 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ اسی دوران لیبر فورس میں شرکت کی شرح کم ہو کر 61.5 فیصد پر آ گئی، جو پانچ برس سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور معاشی اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم کر دیے ہیں۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق اب ستمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان 52 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 64 فیصد تھا۔ امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں بھی 4 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین تقریباً ایک فیصد مضبوط ہو کر 161.01 فی ڈالر پر آ گیا، جس سے حالیہ کئی دہائیوں کی کمزور ترین سطح سے اسے کچھ سہارا ملا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے لیے بدستور چوکس ہیں، جبکہ بینک آف جاپان پر بھی بتدریج شرح سود بڑھانے کا دباؤ برقرار ہے تاکہ ین کی مسلسل کمزوری پر قابو پایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعہ کو تقریباً تین ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن رہا، کیونکہ جون کے دوران روزگار کے توقعات سے کمزور اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری اضافے کی توقعات کو کمزور کر دیا، جس سے جاپانی ین کو بھی نمایاں سہارا ملا۔</strong></p>
<p>ابتدائی ایشیائی کاروبار میں یورو تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح 1.1442 ڈالر پر برقرار رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3361 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور تقریباً 1.2 فیصد ہفتہ وار اضافے کی راہ پر گامزن رہا، جو تقریباً تین ماہ کی بہترین کارکردگی ہے۔ آسٹریلوی ڈالر بھی 0.6935 ڈالر تک پہنچ گیا اور چار ہفتوں سے جاری تنزلی کا سلسلہ ختم ہونے کے آثار دکھائی دیے، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) ہفتہ وار 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5702 ڈالر پر رہا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو اہم عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.2 فیصد کمی کے بعد 100.77 پوائنٹس پر آ گیا۔ ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس میں تقریباً 0.58 فیصد کمی متوقع ہے، جو اپریل کے اوائل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہوگی۔</p>
<p>امریکی محکمہ محنت کے مطابق جون میں نان فارم پے رولز میں صرف 57 ہزار نئی ملازمتیں شامل ہوئیں، جبکہ ماہرین نے ایک لاکھ 10 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ اسی دوران لیبر فورس میں شرکت کی شرح کم ہو کر 61.5 فیصد پر آ گئی، جو پانچ برس سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>کمزور معاشی اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم کر دیے ہیں۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق اب ستمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان 52 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 64 فیصد تھا۔ امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں بھی 4 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین تقریباً ایک فیصد مضبوط ہو کر 161.01 فی ڈالر پر آ گیا، جس سے حالیہ کئی دہائیوں کی کمزور ترین سطح سے اسے کچھ سہارا ملا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے لیے بدستور چوکس ہیں، جبکہ بینک آف جاپان پر بھی بتدریج شرح سود بڑھانے کا دباؤ برقرار ہے تاکہ ین کی مسلسل کمزوری پر قابو پایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288233</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 09:10:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0309082534c8fc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0309082534c8fc3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے انتظار میں ڈالر مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعرات کو عالمی منڈی میں مجموعی طور پر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ کے اہم نان فارم پے رولز (روزگار) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جبکہ جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے باعث ممکنہ سرکاری مداخلت کی قیاس آرائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی 0.02 فیصد کمی کے ساتھ 101.38 پر رہا۔ ماہرین کے مطابق جون میں امریکی معیشت میں تقریباً 110,000 نئی ملازمتوں کے اضافے اور بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں مہنگائی سے متعلق خدشات اور قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی ہے، جبکہ اے ڈی پی نیشنل ایمپلائمنٹ رپورٹ کے مطابق نجی شعبے میں روزگار میں اضافہ ہوا، تاہم یہ مارکیٹ کی توقعات سے کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر آئے تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین بدھ کو ڈالر کے مقابلے میں 162.84 کی سطح تک گر گیا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔ بعد ازاں ابتدائی کاروبار میں یہ 162.50 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ مارکیٹ میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جاپان کی وزارت خزانہ ین کو سہارا دینے کے لیے کسی بھی وقت مداخلت کر سکتی ہے، خاص طور پر امریکی یومِ آزادی کی تعطیلات سے قبل جب مارکیٹ میں لین دین نسبتاً کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کرنسیوں میں یورو 1.138 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3279 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ آسٹریلوی ڈالر میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد گر کر 59,934.94 ڈالر اور ایتھر 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 1,605.88 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعرات کو عالمی منڈی میں مجموعی طور پر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ کے اہم نان فارم پے رولز (روزگار) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جبکہ جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے باعث ممکنہ سرکاری مداخلت کی قیاس آرائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی 0.02 فیصد کمی کے ساتھ 101.38 پر رہا۔ ماہرین کے مطابق جون میں امریکی معیشت میں تقریباً 110,000 نئی ملازمتوں کے اضافے اور بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں مہنگائی سے متعلق خدشات اور قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی ہے، جبکہ اے ڈی پی نیشنل ایمپلائمنٹ رپورٹ کے مطابق نجی شعبے میں روزگار میں اضافہ ہوا، تاہم یہ مارکیٹ کی توقعات سے کم رہا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر آئے تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین بدھ کو ڈالر کے مقابلے میں 162.84 کی سطح تک گر گیا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔ بعد ازاں ابتدائی کاروبار میں یہ 162.50 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ مارکیٹ میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جاپان کی وزارت خزانہ ین کو سہارا دینے کے لیے کسی بھی وقت مداخلت کر سکتی ہے، خاص طور پر امریکی یومِ آزادی کی تعطیلات سے قبل جب مارکیٹ میں لین دین نسبتاً کم ہوگا۔</p>
<p>دیگر کرنسیوں میں یورو 1.138 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3279 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ آسٹریلوی ڈالر میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد گر کر 59,934.94 ڈالر اور ایتھر 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 1,605.88 ڈالر پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288196</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 09:59:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/02095739d57a298.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/02095739d57a298.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین 40 سال کی کم ترین سطح پر، حکومتی مداخلت کی قیاس آرائیاں تیز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288090/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی کرنسی ین منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے بعد مالیاتی منڈیوں میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ جاپان کی حکومت کرنسی کو سہارا دینے کے لیے جلد براہِ راست مداخلت کر سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر، اہم روزگار کے اعداد و شمار سے قبل، اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار میں ڈالر کے مقابلے میں ین 162.27 تک گر گیا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم ہونے کی توقع ہے، جو مسلسل چوتھی سہ ماہی کی گراوٹ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کے بڑے فرق نے ین پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ کے مطابق جاپان کی وزارت خزانہ کی جانب سے مداخلت کا سوال اگر کا نہیں بلکہ کب کا ہے، تاہم ایسی کارروائی بھی ڈالر کے مقابلے میں ین کی مجموعی کمزوری کا رجحان تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سرمایہ کار جمعرات کو جاری ہونے والی امریکی روزگار رپورٹ کے منتظر ہیں، کیونکہ مضبوط لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ مارکیٹ اس وقت ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے تقریباً 63 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سرمایہ کار امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔ اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کے رجحان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی کرنسی ین منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے بعد مالیاتی منڈیوں میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ جاپان کی حکومت کرنسی کو سہارا دینے کے لیے جلد براہِ راست مداخلت کر سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر، اہم روزگار کے اعداد و شمار سے قبل، اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔</strong></p>
<p>ابتدائی کاروبار میں ڈالر کے مقابلے میں ین 162.27 تک گر گیا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم ہونے کی توقع ہے، جو مسلسل چوتھی سہ ماہی کی گراوٹ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کے بڑے فرق نے ین پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ کے مطابق جاپان کی وزارت خزانہ کی جانب سے مداخلت کا سوال اگر کا نہیں بلکہ کب کا ہے، تاہم ایسی کارروائی بھی ڈالر کے مقابلے میں ین کی مجموعی کمزوری کا رجحان تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔</p>
<p>ادھر سرمایہ کار جمعرات کو جاری ہونے والی امریکی روزگار رپورٹ کے منتظر ہیں، کیونکہ مضبوط لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ مارکیٹ اس وقت ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے تقریباً 63 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سرمایہ کار امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔ اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کے رجحان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288090</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 09:35:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30093333736c114.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30093333736c114.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج میں کشیدگی، امریکی ڈالر بلند ترین ماہانہ اضافے کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں جاری کشیدگی اور امریکا میں اس ہفتے جاری ہونے والے روزگار کے اہم اعداد و شمار سے قبل امریکی ڈالر پیر کو دباؤ کے باوجود مضبوط رہا اور تقریباً ایک سال کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھت کی جانب گامزن دکھائی دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر سخت بیانات کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے جوابی حملے روکنے اور منگل کو قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا، تاہم جنگ بندی کی نازک صورتحال کے باعث سرمایہ کار بدستور محتاط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث توانائی کی ترسیل ایک بار پھر متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1387 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا، تاہم یہ جون کے دوران 2.3 فیصد ماہانہ کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ برطانوی پاؤنڈ 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.3198 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً 2 فیصد نیچے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.6885 ڈالر پر آ گیا اور جون میں 4.1 فیصد خسارے کی جانب گامزن رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.5635 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہتے ہوئے ماہانہ 5.9 فیصد کمی کی راہ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین 161.75 فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہوا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 101.36 پر پہنچ گیا اور جون میں تقریباً 2.5 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو گزشتہ سال جولائی کے بعد سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی نے مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش کے سخت مؤقف نے رواں سال شرح سود میں کمی کی توقعات کو کمزور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکا میں اس ہفتے جاری ہونے والی نان فارم پے رولز اور بے روزگاری کی شرح کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جن سے امریکی معیشت اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یورپی مرکزی بینک  کے سالانہ فورم پر بھی عالمی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے، جہاں مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسیوں پر اہم اشارے سامنے آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں جاری کشیدگی اور امریکا میں اس ہفتے جاری ہونے والے روزگار کے اہم اعداد و شمار سے قبل امریکی ڈالر پیر کو دباؤ کے باوجود مضبوط رہا اور تقریباً ایک سال کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھت کی جانب گامزن دکھائی دیا۔</strong></p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر سخت بیانات کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے جوابی حملے روکنے اور منگل کو قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا، تاہم جنگ بندی کی نازک صورتحال کے باعث سرمایہ کار بدستور محتاط ہیں۔</p>
<p>آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث توانائی کی ترسیل ایک بار پھر متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>یورو 1.1387 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا، تاہم یہ جون کے دوران 2.3 فیصد ماہانہ کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ برطانوی پاؤنڈ 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.3198 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً 2 فیصد نیچے رہا۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.6885 ڈالر پر آ گیا اور جون میں 4.1 فیصد خسارے کی جانب گامزن رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.5635 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہتے ہوئے ماہانہ 5.9 فیصد کمی کی راہ پر ہے۔</p>
<p>جاپانی ین 161.75 فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہوا، جو تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 101.36 پر پہنچ گیا اور جون میں تقریباً 2.5 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو گزشتہ سال جولائی کے بعد سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ہوگی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی نے مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش کے سخت مؤقف نے رواں سال شرح سود میں کمی کی توقعات کو کمزور کر دیا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکا میں اس ہفتے جاری ہونے والی نان فارم پے رولز اور بے روزگاری کی شرح کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جن سے امریکی معیشت اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ادھر یورپی مرکزی بینک  کے سالانہ فورم پر بھی عالمی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے، جہاں مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسیوں پر اہم اشارے سامنے آنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288050</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 13:33:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/291331473b9fa8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/291331473b9fa8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات، ڈالر کی قدر میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے کئی بڑی کرنسیوں کو دباؤ میں ڈال دیا اور سونے سمیت دیگر عالمی اثاثوں پر بھی اثر ڈالا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا۔ یورو کے مقابلے میں ڈالر نے 1.14 کی اہم حد عبور کی اور 1.1325 تک جا پہنچا، جبکہ جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 161.73 کی سطح پر رہا، جو کئی دہائیوں کی کمزور ترین ین پوزیشن کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی مضبوطی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، جو گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح بٹ کوائن بھی مختصر وقت کے لیے 60,000 ڈالر سے نیچے چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود بلند رہنے کی توقعات ڈالر کی تیزی کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کو بھی کم کر دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب ممکنہ طور پر اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی دو سالہ ٹریژری ییلڈز میں 27 بیسز پوائنٹس اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ میں اسی مدت کے بانڈ ییلڈز میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے شرح سود کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مضبوط امریکی پیداواری شرح اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک ترقی سرمایہ کاری کو امریکا کی طرف راغب کر رہی ہے، جو ڈالر کو مزید تقویت دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی افراطِ زر کے اہم پیمانے کور پی سی ای کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو آئندہ مالیاتی پالیسی کے لیے اہم اشارے فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے کئی بڑی کرنسیوں کو دباؤ میں ڈال دیا اور سونے سمیت دیگر عالمی اثاثوں پر بھی اثر ڈالا۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا۔ یورو کے مقابلے میں ڈالر نے 1.14 کی اہم حد عبور کی اور 1.1325 تک جا پہنچا، جبکہ جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 161.73 کی سطح پر رہا، جو کئی دہائیوں کی کمزور ترین ین پوزیشن کے قریب ہے۔</p>
<p>ڈالر کی مضبوطی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، جو گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح بٹ کوائن بھی مختصر وقت کے لیے 60,000 ڈالر سے نیچے چلا گیا۔</p>
<p>مارکیٹ میں امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود بلند رہنے کی توقعات ڈالر کی تیزی کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کو بھی کم کر دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب ممکنہ طور پر اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی دو سالہ ٹریژری ییلڈز میں 27 بیسز پوائنٹس اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ میں اسی مدت کے بانڈ ییلڈز میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے شرح سود کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مضبوط امریکی پیداواری شرح اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک ترقی سرمایہ کاری کو امریکا کی طرف راغب کر رہی ہے، جو ڈالر کو مزید تقویت دے رہی ہے۔</p>
<p>اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی افراطِ زر کے اہم پیمانے کور پی سی ای کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو آئندہ مالیاتی پالیسی کے لیے اہم اشارے فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287932</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 11:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/251126510269e77.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/251126510269e77.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287886/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر بدھ کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید مضبوط ہو گیا اور بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں 13 ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت کے رجحان اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں دباؤ دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹتے ہوئے ڈالر اور امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری بڑھا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی کے باعث فیڈرل ریزرو کے حکام کے سخت مؤقف نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق مارکیٹیں جولائی میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے 37 فیصد امکانات اور ستمبر میں اضافے کے 70 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، بڑھ کر 101.44 کی سطح پر پہنچ گیا، جو مئی 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو تقریباً ایک سال کی کم ترین سطح 1.1375 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی کمزور ہو کر 1.3199 ڈالر تک آ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر نسبتاً مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر سات ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعض اہم نکات، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات پر اختلافات بھی برقرار ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین بھی دباؤ کا شکار رہا اور ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دو سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیڈ شرح سود بڑھاتا ہے تو ین مزید کمزور ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر بدھ کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید مضبوط ہو گیا اور بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں 13 ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت کے رجحان اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔</strong></p>
<p>ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں دباؤ دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹتے ہوئے ڈالر اور امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری بڑھا دی۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی کے باعث فیڈرل ریزرو کے حکام کے سخت مؤقف نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق مارکیٹیں جولائی میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے 37 فیصد امکانات اور ستمبر میں اضافے کے 70 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہیں۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، بڑھ کر 101.44 کی سطح پر پہنچ گیا، جو مئی 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>یورو تقریباً ایک سال کی کم ترین سطح 1.1375 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی کمزور ہو کر 1.3199 ڈالر تک آ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر نسبتاً مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر سات ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ادھر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعض اہم نکات، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات پر اختلافات بھی برقرار ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>جاپانی ین بھی دباؤ کا شکار رہا اور ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دو سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیڈ شرح سود بڑھاتا ہے تو ین مزید کمزور ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287886</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 09:21:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24091902dccc9cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24091902dccc9cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ سے سخت پالیسی کی توقعات، ڈالر مضبوط، ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287841/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر منگل کو مضبوط رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی اور ممکنہ شرح سود میں اضافے کی توقعات کے مطابق اپنی پوزیشنیں ترتیب دے رہے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں گزشتہ روز کی نمایاں گراوٹ کے بعد بحالی دیکھی گئی۔ دوسری جانب جاپانی ین تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز پیر کو اضافے کے بعد بلند سطح پر برقرار رہیں۔ دو سالہ نوٹس کی ییلڈ، جو شرح سود سے حساس سمجھی جاتی ہے، 16 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہی، کیونکہ مارکیٹوں کو رواں سال مزید شرح سود میں اضافے کا امکان نظر آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق ستمبر تک شرح سود میں اضافے کے امکانات 75 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ بینک آف امریکہ گلوبل ریسرچ اور ڈوئچے بینک نے بھی اپنی سابقہ پیش گوئیاں واپس لیتے ہوئے اب رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے، جس کی وجہ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی بینک کے فارن ایکسچینج اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کے مطابق بڑھتی ہوئی ییلڈز اور فیڈرل ریزرو سے متعلق سخت مؤقف کی توقعات ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر انڈیکس گزشتہ 14 ماہ کی بلند ترین سطح 101.97 سے اوپر نکل گیا تو اس میں مزید 2 سے 3 فیصد اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 161.59 فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہوا، جبکہ پیر کو یہ 161.93 تک گر گیا تھا۔ 161.96 کی سطح عبور ہونے کی صورت میں ین 1986 کے بعد کمزور ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی حکام ممکنہ کرنسی مداخلت کے اشارے دے رہے ہیں، جبکہ مارکیٹیں اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا جاپان ین کو مزید کمزور ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر منگل کو مضبوط رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی اور ممکنہ شرح سود میں اضافے کی توقعات کے مطابق اپنی پوزیشنیں ترتیب دے رہے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں گزشتہ روز کی نمایاں گراوٹ کے بعد بحالی دیکھی گئی۔ دوسری جانب جاپانی ین تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔</strong></p>
<p>امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز پیر کو اضافے کے بعد بلند سطح پر برقرار رہیں۔ دو سالہ نوٹس کی ییلڈ، جو شرح سود سے حساس سمجھی جاتی ہے، 16 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہی، کیونکہ مارکیٹوں کو رواں سال مزید شرح سود میں اضافے کا امکان نظر آ رہا ہے۔</p>
<p>فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق ستمبر تک شرح سود میں اضافے کے امکانات 75 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ بینک آف امریکہ گلوبل ریسرچ اور ڈوئچے بینک نے بھی اپنی سابقہ پیش گوئیاں واپس لیتے ہوئے اب رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے، جس کی وجہ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>او سی بی سی بینک کے فارن ایکسچینج اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کے مطابق بڑھتی ہوئی ییلڈز اور فیڈرل ریزرو سے متعلق سخت مؤقف کی توقعات ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر انڈیکس گزشتہ 14 ماہ کی بلند ترین سطح 101.97 سے اوپر نکل گیا تو اس میں مزید 2 سے 3 فیصد اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 161.59 فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہوا، جبکہ پیر کو یہ 161.93 تک گر گیا تھا۔ 161.96 کی سطح عبور ہونے کی صورت میں ین 1986 کے بعد کمزور ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔</p>
<p>جاپانی حکام ممکنہ کرنسی مداخلت کے اشارے دے رہے ہیں، جبکہ مارکیٹیں اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا جاپان ین کو مزید کمزور ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287841</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 09:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/23092506dccc9cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/23092506dccc9cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن معاہدے پر غیر یقینی صورتحال،امریکی ڈالر مزید مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287793/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی اور مالیاتی منڈیوں میں پیر کے روز امریکی ڈالر مضبوط رہا، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری عبوری امن معاہدے پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں بے یقینی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، جو گزشتہ ہفتے طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1.30 فیصد اضافے کے ساتھ 81.62 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ 0.24 فیصد کمی کے ساتھ 1.3205 ڈالر پر آگیا جبکہ یورو بھی معمولی کمی کے ساتھ 1.1462 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین دباؤ کا شکار رہا اور 161.53 فی ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جو دو سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سطح 161.96 سے اوپر جاتی ہے تو ین 1986 کے بعد کم ترین سطح پر آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ٹریژری مارکیٹ میں بھی دباؤ برقرار رہا اور 2 سالہ بانڈز کی پیداوار 4.22 فیصد سے اوپر چلی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کے باعث ڈالر کو مزید سپورٹ مل رہی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی اور مالیاتی منڈیوں میں پیر کے روز امریکی ڈالر مضبوط رہا، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری عبوری امن معاہدے پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات ہیں۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں بے یقینی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، جو گزشتہ ہفتے طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1.30 فیصد اضافے کے ساتھ 81.62 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ 0.24 فیصد کمی کے ساتھ 1.3205 ڈالر پر آگیا جبکہ یورو بھی معمولی کمی کے ساتھ 1.1462 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>جاپانی ین دباؤ کا شکار رہا اور 161.53 فی ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جو دو سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سطح 161.96 سے اوپر جاتی ہے تو ین 1986 کے بعد کم ترین سطح پر آ سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی ٹریژری مارکیٹ میں بھی دباؤ برقرار رہا اور 2 سالہ بانڈز کی پیداوار 4.22 فیصد سے اوپر چلی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کے باعث ڈالر کو مزید سپورٹ مل رہی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287793</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:42:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/220940390269e77.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/220940390269e77.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، جاپان کی مداخلت کا خدشہ بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287693/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی کرنسی ین جمعے کے روز تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہی، جس کے بعد مارکیٹ میں جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں جونٹینتھ تعطیل کے باعث کم تجارتی سرگرمیوں کے دوران کم لیکویڈیٹی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس سے جاپان کے دوبارہ مارکیٹ میں مداخلت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے قبل اپریل اور مئی میں جاپان نے 11.7 کھرب ین (تقریباً 72.5 ارب ڈالر) کی مداخلت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی وزیر خزانہ سوتسکی کاتا یاما نے کہا ہے کہ حکام قیاس آرائی پر مبنی غیر معمولی کرنسی حرکات کے خلاف سخت اقدامات کے لیے تیار ہیں اور جی 7 اجلاس میں بھی اس صلاحیت کی توثیق کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو میں ابتدائی تجارت کے دوران ین 161.25 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ رات کے وقت یہ 161.81 تک گر گیا، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ اگر یہ 161.96 کی سطح سے نیچے جاتا ہے تو یہ 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں حالیہ اضافے کے باوجود ین پر دباؤ برقرار ہے، کیونکہ امریکا اور جاپان کے درمیان شرح سود کا بڑا فرق برقرار ہے، جو ڈالر کو مضبوط اور کیری ٹریڈز کو پرکشش بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق سرمایہ کار کم شرح سود پر ین میں قرض لے کر زیادہ منافع والی کرنسیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ توقع کر رہی ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک سال کے آخر تک مزید شرح سود بڑھا سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود ین پر مندی کا رجحان برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر ریووزو ہیمینو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اگرچہ پالیسی کا مقصد براہ راست شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا نہیں، لیکن کرنسی کی شدید اتار چڑھاؤ معیشت اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکام کو اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ مارکیٹ کی حرکات کس طرح افراطِ زر کی توقعات اور بنیادی مہنگائی کو متاثر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاپان جیسے درآمدی ملک پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک بھی سخت مالیاتی پالیسی اپنا رہا ہے جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی نے ڈالر کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے ین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو جاپانی حکام کو ایک بار پھر کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی کرنسی ین جمعے کے روز تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہی، جس کے بعد مارکیٹ میں جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکا میں جونٹینتھ تعطیل کے باعث کم تجارتی سرگرمیوں کے دوران کم لیکویڈیٹی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس سے جاپان کے دوبارہ مارکیٹ میں مداخلت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے قبل اپریل اور مئی میں جاپان نے 11.7 کھرب ین (تقریباً 72.5 ارب ڈالر) کی مداخلت کی تھی۔</p>
<p>جاپانی وزیر خزانہ سوتسکی کاتا یاما نے کہا ہے کہ حکام قیاس آرائی پر مبنی غیر معمولی کرنسی حرکات کے خلاف سخت اقدامات کے لیے تیار ہیں اور جی 7 اجلاس میں بھی اس صلاحیت کی توثیق کی گئی ہے۔</p>
<p>ٹوکیو میں ابتدائی تجارت کے دوران ین 161.25 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ رات کے وقت یہ 161.81 تک گر گیا، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ اگر یہ 161.96 کی سطح سے نیچے جاتا ہے تو یہ 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔</p>
<p>جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں حالیہ اضافے کے باوجود ین پر دباؤ برقرار ہے، کیونکہ امریکا اور جاپان کے درمیان شرح سود کا بڑا فرق برقرار ہے، جو ڈالر کو مضبوط اور کیری ٹریڈز کو پرکشش بنا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق سرمایہ کار کم شرح سود پر ین میں قرض لے کر زیادہ منافع والی کرنسیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ توقع کر رہی ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک سال کے آخر تک مزید شرح سود بڑھا سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود ین پر مندی کا رجحان برقرار ہے۔</p>
<p>بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر ریووزو ہیمینو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اگرچہ پالیسی کا مقصد براہ راست شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا نہیں، لیکن کرنسی کی شدید اتار چڑھاؤ معیشت اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکام کو اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ مارکیٹ کی حرکات کس طرح افراطِ زر کی توقعات اور بنیادی مہنگائی کو متاثر کرتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاپان جیسے درآمدی ملک پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک بھی سخت مالیاتی پالیسی اپنا رہا ہے جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی نے ڈالر کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے ین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو جاپانی حکام کو ایک بار پھر کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287693</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 09:53:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/190951556976819.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/190951556976819.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مضبوط ڈالر کے باعث سونا مسلسل تیسرے ہفتے کمی کی طرف گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287692/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعے کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور یہ مسلسل تیسری ہفتہ وار کمی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مالیاتی اشارے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,184.33 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر یہ اب تک 0.9 فیصد نیچے ہے۔ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1 فیصد کمی کے ساتھ 4,202.10 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ذرائع کے مطابق چین اور ہانگ کانگ میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیلات کے باعث تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق مضبوط ڈالر قیمتی دھاتوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ امریکا-ایران امن معاہدے کے بعد سونے کی قیمتوں میں آنے والا اضافہ عارضی ثابت ہوا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے سخت مؤقف نے مارکیٹ کی سمت تبدیل کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کے تحت امریکی مالیاتی پالیسی کا سخت رویہ جیوپولیٹیکل اثرات کو کم کر رہا ہے اور اب مرکزی بینک کی پالیسی ہی مارکیٹ کو کنٹرول کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے 19 میں سے 9 پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اس سال شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کو جاری کیے گئے جب مرکزی بینک نے شرح سود کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹوں میں اب دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 87 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جو پہلے 61 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ سونا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے سونے کی قیمتوں کا ہدف کم کر کے 4,900 ڈالر فی اونس کر دیا ہے، جبکہ پہلے یہ 5,400 ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جغرافیائی سیاسی محاذ پر آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہوئی اور امریکا نے ایران پر عائد کچھ پابندیاں ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 64.83 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 1,674.47 ڈالر اور پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 1,268.65 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعے کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور یہ مسلسل تیسری ہفتہ وار کمی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مالیاتی اشارے ہیں۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,184.33 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر یہ اب تک 0.9 فیصد نیچے ہے۔ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1 فیصد کمی کے ساتھ 4,202.10 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔</p>
<p>مارکیٹ ذرائع کے مطابق چین اور ہانگ کانگ میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیلات کے باعث تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں۔</p>
<p>ڈالر ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق مضبوط ڈالر قیمتی دھاتوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ امریکا-ایران امن معاہدے کے بعد سونے کی قیمتوں میں آنے والا اضافہ عارضی ثابت ہوا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے سخت مؤقف نے مارکیٹ کی سمت تبدیل کر دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کے تحت امریکی مالیاتی پالیسی کا سخت رویہ جیوپولیٹیکل اثرات کو کم کر رہا ہے اور اب مرکزی بینک کی پالیسی ہی مارکیٹ کو کنٹرول کر رہی ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے 19 میں سے 9 پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اس سال شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کو جاری کیے گئے جب مرکزی بینک نے شرح سود کو برقرار رکھا۔</p>
<p>مارکیٹوں میں اب دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 87 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جو پہلے 61 فیصد تھے۔</p>
<p>چونکہ سونا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس نے سونے کی قیمتوں کا ہدف کم کر کے 4,900 ڈالر فی اونس کر دیا ہے، جبکہ پہلے یہ 5,400 ڈالر تھا۔</p>
<p>دوسری جانب جغرافیائی سیاسی محاذ پر آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہوئی اور امریکا نے ایران پر عائد کچھ پابندیاں ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔</p>
<p>دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 64.83 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 1,674.47 ڈالر اور پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 1,268.65 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287692</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 09:43:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/19094102adc3afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/19094102adc3afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالیاتی ٹیکنالوجی کا فروغ، ایزی پیسہ اور بائنانس میں اشتراک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287647/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک، جو ٹیلی نار اور اینٹ گروپ کی حمایت یافتہ ہے، نے دنیا کے معروف بلاک چین ایکو سسٹم اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں تاکہ پاکستان میں ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے اپنانے اور ترقی کے امکانات کو تلاش کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مفاہمتی یادداشت اسلام آباد میں ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان اور بائنانس کے ریجنل ہیڈ برائے مینٹ اور سینئر ایگزیکٹو آفیسر ابوظہبی طارق ایرک کے درمیان دستخط کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت ایزی پیسہ اور بائنانس ابتدائی بات چیت شروع کریں گے تاکہ پاکستان کے ڈیجیٹل سیونگز اور سرمایہ کاری کے نظام کی ترقی کے لیے ممکنہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی مستقبل کا تعاون متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں، بدلتے ہوئے ریگولیٹری فریم ورک، اور تمام لائسنسنگ و تعمیلی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائنانس نے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی  کے تحت اے ایم ایل رجسٹریشن بھی حاصل کر لی ہے، جو پاکستان کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی حمایت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے تحت مجوزہ اقدامات میں ابتدائی آگاہی، تعلیم اور استعدادِ کار بڑھانے سے متعلق سرگرمیاں شامل ہو سکتی ہیں، جو بینک کو قابلِ اطلاق ریگولیٹری رہنما اصولوں کے مطابق مستقبل کے ممکنہ اقدامات تیار کرنے میں مدد دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان نے کہا کہ ابھرتے ہوئے مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بائنانس کی مہارت سے فائدہ اٹھانا ہمارے لیے ایک موقع ہے تاکہ ہم سیکھ سکیں اور پی وی اے آر اے کے رہنما اصولوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم بائنانس کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی رسائی اور جدت کو محفوظ اور زیادہ قابلِ اعتماد طریقوں سے فروغ دینے کے امکانات تلاش کرنے کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بائنانس کے ریجنل ہیڈ برائے مینٹ اور ایس ای او ابوظہبی طارق ایرک نے کہا کہ ایزی پیسہ کے ساتھ شراکت پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے جو ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک مستقبل بین مارکیٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جسے پیمانے، اعتماد اور بڑھتی ہوئی ریگولیٹری شمولیت کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور دلچسپی کے ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ بائنانس کی عالمی مہارت اور ایزی پیسہ کی مقامی رسائی اور پیمانے کو ملا کر ذمہ دارانہ جدت اور طویل مدتی ایکو سسٹم کی ترقی میں مدد دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک، جو ٹیلی نار اور اینٹ گروپ کی حمایت یافتہ ہے، نے دنیا کے معروف بلاک چین ایکو سسٹم اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں تاکہ پاکستان میں ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے اپنانے اور ترقی کے امکانات کو تلاش کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ مفاہمتی یادداشت اسلام آباد میں ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان اور بائنانس کے ریجنل ہیڈ برائے مینٹ اور سینئر ایگزیکٹو آفیسر ابوظہبی طارق ایرک کے درمیان دستخط کی گئی۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت ایزی پیسہ اور بائنانس ابتدائی بات چیت شروع کریں گے تاکہ پاکستان کے ڈیجیٹل سیونگز اور سرمایہ کاری کے نظام کی ترقی کے لیے ممکنہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی مستقبل کا تعاون متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں، بدلتے ہوئے ریگولیٹری فریم ورک، اور تمام لائسنسنگ و تعمیلی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔</p>
<p>بائنانس نے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی  کے تحت اے ایم ایل رجسٹریشن بھی حاصل کر لی ہے، جو پاکستان کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی حمایت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے تحت مجوزہ اقدامات میں ابتدائی آگاہی، تعلیم اور استعدادِ کار بڑھانے سے متعلق سرگرمیاں شامل ہو سکتی ہیں، جو بینک کو قابلِ اطلاق ریگولیٹری رہنما اصولوں کے مطابق مستقبل کے ممکنہ اقدامات تیار کرنے میں مدد دیں گی۔</p>
<p>اس تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان نے کہا کہ ابھرتے ہوئے مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بائنانس کی مہارت سے فائدہ اٹھانا ہمارے لیے ایک موقع ہے تاکہ ہم سیکھ سکیں اور پی وی اے آر اے کے رہنما اصولوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم بائنانس کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی رسائی اور جدت کو محفوظ اور زیادہ قابلِ اعتماد طریقوں سے فروغ دینے کے امکانات تلاش کرنے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>اسی طرح بائنانس کے ریجنل ہیڈ برائے مینٹ اور ایس ای او ابوظہبی طارق ایرک نے کہا کہ ایزی پیسہ کے ساتھ شراکت پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے جو ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک مستقبل بین مارکیٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جسے پیمانے، اعتماد اور بڑھتی ہوئی ریگولیٹری شمولیت کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور دلچسپی کے ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ بائنانس کی عالمی مہارت اور ایزی پیسہ کی مقامی رسائی اور پیمانے کو ملا کر ذمہ دارانہ جدت اور طویل مدتی ایکو سسٹم کی ترقی میں مدد دی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287647</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 13:07:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18104817348fca9.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18104817348fca9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر 10 روزہ کم ترین سطح کے قریب جا پہنچا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287558/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں خطرات سے بچاؤ کا رجحان کم ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر منگل کو 10 روزہ کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ جاپان اور آسٹریلیا کے مرکزی بینکوں کے پالیسی فیصلوں پر مرکوز ہو گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ اس خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت اپریل میں ہونے والی عارضی جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع متوقع ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھولنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جسے ایران نے فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.159 ڈالر پر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3413 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ڈالر انڈیکس 99.66 پر رہا، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ توانائی کی منڈیوں نے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر لیا ہے، لیکن عالمی سپلائی چین کی مکمل بحالی اور مہنگائی کے مستقبل کے رجحانات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ آسٹریلیا کا مرکزی بینک شرح سود برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مرکزی بینکوں کے بیانات عالمی مالیاتی منڈیوں اور کرنسیوں کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، خصوصاً اس تناظر میں کہ مہنگائی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں خطرات سے بچاؤ کا رجحان کم ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر منگل کو 10 روزہ کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ جاپان اور آسٹریلیا کے مرکزی بینکوں کے پالیسی فیصلوں پر مرکوز ہو گئی۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ اس خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>معاہدے کے تحت اپریل میں ہونے والی عارضی جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع متوقع ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھولنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جسے ایران نے فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔</p>
<p>یورو 1.159 ڈالر پر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3413 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ڈالر انڈیکس 99.66 پر رہا، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ توانائی کی منڈیوں نے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر لیا ہے، لیکن عالمی سپلائی چین کی مکمل بحالی اور مہنگائی کے مستقبل کے رجحانات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ آسٹریلیا کا مرکزی بینک شرح سود برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مرکزی بینکوں کے بیانات عالمی مالیاتی منڈیوں اور کرنسیوں کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، خصوصاً اس تناظر میں کہ مہنگائی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287558</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:55:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/160853170269e77.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/160853170269e77.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن معاہدہ، ڈالر 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287522/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کی خبر کے بعد امریکی ڈالر پیر کے روز اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ معاہدے کی پیش رفت سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کا رجحان نسبتاً زیادہ خطرے والے اثاثوں کی جانب بڑھ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد سے زائد گر کر 83.82 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مارکیٹ میں کچھ احتیاط بھی برقرار رہی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو امریکا تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتا ہے یا پھر مشرق وسطیٰ کا نگران بننے کے بدلے خطے کی آمدنی میں 20 فیصد حصہ طلب کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.3 فیصد مضبوط ہو کر 1.3448 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ آسٹریلوی ڈالر میں 0.5 فیصد اور نیوزی لینڈ ڈالر میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.31 فیصد کمی کے بعد 99.492 پر آ گیا، جو 5 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک 16 جون کو ختم ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو 31 سال کی بلند ترین سطح تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ عالمی مرکزی بینکوں کے سخت مالیاتی پالیسی اپنانے کے رجحان کے مطابق ہوگا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کی خبر کے بعد امریکی ڈالر پیر کے روز اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ معاہدے کی پیش رفت سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کا رجحان نسبتاً زیادہ خطرے والے اثاثوں کی جانب بڑھ گیا۔</strong></p>
<p>امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد سے زائد گر کر 83.82 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔</p>
<p>تاہم مارکیٹ میں کچھ احتیاط بھی برقرار رہی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو امریکا تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتا ہے یا پھر مشرق وسطیٰ کا نگران بننے کے بدلے خطے کی آمدنی میں 20 فیصد حصہ طلب کر سکتا ہے۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.3 فیصد مضبوط ہو کر 1.3448 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ آسٹریلوی ڈالر میں 0.5 فیصد اور نیوزی لینڈ ڈالر میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.31 فیصد کمی کے بعد 99.492 پر آ گیا، جو 5 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک 16 جون کو ختم ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو 31 سال کی بلند ترین سطح تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ عالمی مرکزی بینکوں کے سخت مالیاتی پالیسی اپنانے کے رجحان کے مطابق ہوگا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287522</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 10:20:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/15101914dccc9cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/15101914dccc9cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود بڑھنے کے خدشات ، ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287357/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد عالمی کرنسی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جبکہ امریکی ڈالر جمعرات کو اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ دوسری جانب امریکا میں مئی کے دوران مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق ایران میں متعدد اہداف پر نئے حملے کیے گئے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جہاں برینٹ خام تیل 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1553 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3390 ڈالر کی سطح پر رہا۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی کمی کے بعد 99.903 پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا میں سالانہ بنیادوں پر صارفین کی مہنگائی 4.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم بنیادی مہنگائی میں نسبتاً محدود اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں پر دباؤ قابو میں رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں مزید اضافہ نہیں کرے گا، اگرچہ رواں سال شرح سود میں کمی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 160.52 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد عالمی کرنسی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جبکہ امریکی ڈالر جمعرات کو اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ دوسری جانب امریکا میں مئی کے دوران مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی فوج کے مطابق ایران میں متعدد اہداف پر نئے حملے کیے گئے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جہاں برینٹ خام تیل 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔</p>
<p>یورو 1.1553 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3390 ڈالر کی سطح پر رہا۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی کمی کے بعد 99.903 پر آ گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا میں سالانہ بنیادوں پر صارفین کی مہنگائی 4.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم بنیادی مہنگائی میں نسبتاً محدود اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں پر دباؤ قابو میں رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں مزید اضافہ نہیں کرے گا، اگرچہ رواں سال شرح سود میں کمی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 160.52 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287357</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 09:07:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/110904595fe8c29.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/110904595fe8c29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر امریکی حملوں کے بعد ڈالر مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287309/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد بدھ کے روز ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکا کے اہم افراطِ زر (مہنگائی) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا، جس کے جواب میں امریکا نے منگل کو ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان امن کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے، تاہم ٹرمپ نے بعد میں اس واقعے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں تھا اور پائلٹ محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی کارکردگی کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی اضافے کے ساتھ 100.02 پر پہنچ گیا۔ یورو 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.1537 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.04 فیصد گر کر 1.337 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق امریکی معیشت توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اس رجحان نے یورو اور جاپانی ین پر دباؤ بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین بھی معمولی کمزوری کے ساتھ 160.38 ین فی ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔ اسی دوران جاپان میں ہول سیل قیمتوں میں مئی کے دوران 6.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹوں کی نظریں اب امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ظاہر ہوا تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہوں گی، جس سے ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ دوسری جانب یورپی مرکزی بینک کے اجلاس میں بھی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد بدھ کے روز ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکا کے اہم افراطِ زر (مہنگائی) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا، جس کے جواب میں امریکا نے منگل کو ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان امن کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے، تاہم ٹرمپ نے بعد میں اس واقعے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں تھا اور پائلٹ محفوظ ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی کارکردگی کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی اضافے کے ساتھ 100.02 پر پہنچ گیا۔ یورو 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.1537 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.04 فیصد گر کر 1.337 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق امریکی معیشت توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اس رجحان نے یورو اور جاپانی ین پر دباؤ بڑھایا ہے۔</p>
<p>جاپانی ین بھی معمولی کمزوری کے ساتھ 160.38 ین فی ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔ اسی دوران جاپان میں ہول سیل قیمتوں میں مئی کے دوران 6.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹوں کی نظریں اب امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ظاہر ہوا تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہوں گی، جس سے ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ دوسری جانب یورپی مرکزی بینک کے اجلاس میں بھی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287309</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 09:23:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1009215881783dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1009215881783dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج میں کشیدگی سے ڈالر مضبوط، جاپانی ین160 کی سطح تک گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287112/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین جمعہ کو ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم سطح کو چھو گیا، جس کے بعد جاپانی حکام نے سخت ردعمل کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی طلب بڑھنے سے امریکی ڈالر ہفتہ وار بنیادوں پر مضبوطی کی جانب گامزن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران ین مسلسل تیسرے روز 160 ین فی ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا، حالانکہ جاپانی حکام کی جانب سے زبانی انتباہات جاری کیے جا چکے ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں اس سطح کو ممکنہ سرکاری مداخلت کی حد تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے کہا ہے کہ حکومت زرمبادلہ کی منڈی میں ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت مناسب اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے تاکہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلند توانائی قیمتیں، امریکی معیشت کے مضبوط اعداد و شمار اور زیادہ شرح سود ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ین پر دباؤ برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق کشیدگی نے بھی ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے لبنان میں نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے جبکہ اسرائیل نے اپنی افواج واپس بلانے سے انکار کیا ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سرمایہ کار امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین جمعہ کو ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم سطح کو چھو گیا، جس کے بعد جاپانی حکام نے سخت ردعمل کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی طلب بڑھنے سے امریکی ڈالر ہفتہ وار بنیادوں پر مضبوطی کی جانب گامزن ہے۔</strong></p>
<p>ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران ین مسلسل تیسرے روز 160 ین فی ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا، حالانکہ جاپانی حکام کی جانب سے زبانی انتباہات جاری کیے جا چکے ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں اس سطح کو ممکنہ سرکاری مداخلت کی حد تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>جاپان کی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے کہا ہے کہ حکومت زرمبادلہ کی منڈی میں ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت مناسب اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے تاکہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلند توانائی قیمتیں، امریکی معیشت کے مضبوط اعداد و شمار اور زیادہ شرح سود ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ین پر دباؤ برقرار ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق کشیدگی نے بھی ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے لبنان میں نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے جبکہ اسرائیل نے اپنی افواج واپس بلانے سے انکار کیا ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>ادھر سرمایہ کار امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287112</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 09:38:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/050927496d812c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/050927496d812c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث ڈالر مضبوط، جاپانی ین 160 کی سطح تک گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر امریکی ڈالر کی بڑھتی طلب کے باعث جاپانی ین بدھ کے روز ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم سطح تک کمزور ہو گیا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے خطے کے بعض پڑوسی ممالک کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جزیرہ قشم پر حملے کیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران ین کی قدر کم ہو کر 160 ین فی ڈالر تک پہنچ گئی، جو وہ سطح ہے جہاں جاپانی حکام ماضی میں کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر چکے ہیں۔ ڈالر آخری اطلاعات تک 159.98 ین پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے کہا ہے کہ حکومت زرمبادلہ کی منڈی میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یورو 0.09 فیصد کمی کے ساتھ 1.1621 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 1.3455 ڈالر پر آ گیا۔ یورو زون میں مہنگائی میں اضافے کے تازہ اعداد و شمار نے یورپی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی لیبر مارکیٹ کے مضبوط اعداد و شمار اور بلند مہنگائی کے باعث سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد توقع کر رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں سال کے آخر تک شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بٹ کوائن دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ کر 66,985 ڈالر جبکہ ایتھر تین ماہ کی کم ترین سطح پر 1,869 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر امریکی ڈالر کی بڑھتی طلب کے باعث جاپانی ین بدھ کے روز ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم سطح تک کمزور ہو گیا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے خطے کے بعض پڑوسی ممالک کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جزیرہ قشم پر حملے کیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔</p>
<p>ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران ین کی قدر کم ہو کر 160 ین فی ڈالر تک پہنچ گئی، جو وہ سطح ہے جہاں جاپانی حکام ماضی میں کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر چکے ہیں۔ ڈالر آخری اطلاعات تک 159.98 ین پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔</p>
<p>جاپان کے وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے کہا ہے کہ حکومت زرمبادلہ کی منڈی میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یورو 0.09 فیصد کمی کے ساتھ 1.1621 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 1.3455 ڈالر پر آ گیا۔ یورو زون میں مہنگائی میں اضافے کے تازہ اعداد و شمار نے یورپی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی لیبر مارکیٹ کے مضبوط اعداد و شمار اور بلند مہنگائی کے باعث سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد توقع کر رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں سال کے آخر تک شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بٹ کوائن دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ کر 66,985 ڈالر جبکہ ایتھر تین ماہ کی کم ترین سطح پر 1,869 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287014</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:23:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/030921496cfa3f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/030921496cfa3f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات پر پیش رفت کا انتظار، ڈالر کی قدر مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر منگل کو عالمی کرنسی منڈیوں میں مجموعی طور پر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات کی پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔ لبنان کی جانب سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محدود جنگ بندی کے اعلان نے کشیدگی میں کچھ کمی کے اشارے دیے ہیں، تاہم وسیع تر علاقائی تنازعے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی کو اب بھی نازک سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو کچھ استحکام مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 99.17 پر تقریباً مستحکم رہا۔ یورو 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1634 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد بڑھ کر 1.346 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمزور ہو کر 159.66 ین فی ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر 160 ین کی سطح عبور کرتا ہے تو جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی نظریں اب امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری ہونے والے روزگار کے اعداد و شمار اور جمعہ کو متوقع ماہانہ ایمپلائمنٹ رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل کرنسیوں میں بٹ کوائن 0.13 فیصد کمی کے ساتھ 71,277 ڈالر جبکہ ایتھیریم 0.04 فیصد کمی کے بعد 2,001 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر منگل کو عالمی کرنسی منڈیوں میں مجموعی طور پر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات کی پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔ لبنان کی جانب سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محدود جنگ بندی کے اعلان نے کشیدگی میں کچھ کمی کے اشارے دیے ہیں، تاہم وسیع تر علاقائی تنازعے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔</strong></p>
<p>سرمایہ کار ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی کو اب بھی نازک سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو کچھ استحکام مل سکتا ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 99.17 پر تقریباً مستحکم رہا۔ یورو 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1634 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد بڑھ کر 1.346 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ادھر جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمزور ہو کر 159.66 ین فی ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر 160 ین کی سطح عبور کرتا ہے تو جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹ کی نظریں اب امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری ہونے والے روزگار کے اعداد و شمار اور جمعہ کو متوقع ماہانہ ایمپلائمنٹ رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈیجیٹل کرنسیوں میں بٹ کوائن 0.13 فیصد کمی کے ساتھ 71,277 ڈالر جبکہ ایتھیریم 0.04 فیصد کمی کے بعد 2,001 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286961</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 09:18:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02091628813ab39.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02091628813ab39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
