<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:30:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:30:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع سے ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291943/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔</strong></p>
<p>رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</p>
<p>ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291943</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:24:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01092307ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01092307ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر کے دوران ڈالر کی قدر میں اضافہ، یورو کمزور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی زرمبادلہ مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی اور یورو کے مقابلے میں رواں سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث ڈالر رواں ماہ یورو کے مقابلے میں تقریباً 2.5 فیصد مضبوط ہوچکا ہے، جو 14 ماہ میں اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ بننے کی راہ پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو رات گئے 1.1312 ڈالر تک گر گیا، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ایشیائی تجارت میں یہ 1.1339 ڈالر کے قریب رہا۔ ڈالر کی مضبوطی کے باعث آسٹریلوی ڈالر بھی اگست کے اوائل کے بعد پہلی بار 70 امریکی سینٹ سے نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوط رفتار کے برعکس یورپ کو توانائی کی قیمتوں، قرضوں اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ رواں ماہ یورپی گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ فرانس میں قرضوں اور سیاسی تعطل کے باعث جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی بانڈز کی شرح منافع کا فرق 2012 کے بعد وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی 16 ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر رواں ماہ تقریباً 1.5 فیصد کمزور ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توجہ بدھ کو امریکا کے بنیادی ذاتی کھپت اخراجات (پی سی ای) کے اعدادوشمار اور جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ پر ہے۔ مضبوط معاشی اعدادوشمار امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا ہے کہ شرح سود بڑھانے میں عجلت کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی زرمبادلہ مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی اور یورو کے مقابلے میں رواں سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث ڈالر رواں ماہ یورو کے مقابلے میں تقریباً 2.5 فیصد مضبوط ہوچکا ہے، جو 14 ماہ میں اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ بننے کی راہ پر ہے۔</strong></p>
<p>یورو رات گئے 1.1312 ڈالر تک گر گیا، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ایشیائی تجارت میں یہ 1.1339 ڈالر کے قریب رہا۔ ڈالر کی مضبوطی کے باعث آسٹریلوی ڈالر بھی اگست کے اوائل کے بعد پہلی بار 70 امریکی سینٹ سے نیچے آگیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوط رفتار کے برعکس یورپ کو توانائی کی قیمتوں، قرضوں اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ رواں ماہ یورپی گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ فرانس میں قرضوں اور سیاسی تعطل کے باعث جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی بانڈز کی شرح منافع کا فرق 2012 کے بعد وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی 16 ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر رواں ماہ تقریباً 1.5 فیصد کمزور ہوا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کی توجہ بدھ کو امریکا کے بنیادی ذاتی کھپت اخراجات (پی سی ای) کے اعدادوشمار اور جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ پر ہے۔ مضبوط معاشی اعدادوشمار امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا ہے کہ شرح سود بڑھانے میں عجلت کی ضرورت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291884</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:57:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/300856206a071ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/300856206a071ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار، بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں ڈالر منگل کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں تیزی سے اضافے سے سہارا ملا، تاہم سرمایہ کار رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی معاشی اعداد و شمار کے منتظر ہیں تاکہ فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اشارے مل سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 101.2 پر رہا اور رواں ماہ تقریباً 1.8 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کی بہترین ماہانہ کارکردگی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب 1.1367 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3248 ڈالر پر مستحکم رہا اور تین ماہ کی کم ترین سطح سے زیادہ دور نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کی کامیابی کے امکانات پر شکوک پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹریژری بانڈز کی فروخت میں اضافے کے باعث شرح منافع نئی بلند سطحوں پر پہنچ گئی۔ 10 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر جبکہ 30 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2004 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا دو سالہ بانڈ کی شرح منافع، جو مانیٹری پالیسی کے لیے حساس سمجھی جاتی ہے، بھی دو سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 5 فیصد کے قریب آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات 70 فیصد سے تجاوز کرگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 57 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار بدھ کو ذاتی کھپت کے اخراجات اور جمعہ کو نان فارم پے رولز سمیت اہم امریکی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں ڈالر منگل کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں تیزی سے اضافے سے سہارا ملا، تاہم سرمایہ کار رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی معاشی اعداد و شمار کے منتظر ہیں تاکہ فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اشارے مل سکیں۔</strong></p>
<p>رائٹرز کے مطابق ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 101.2 پر رہا اور رواں ماہ تقریباً 1.8 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کی بہترین ماہانہ کارکردگی ہوگی۔</p>
<p>یورو تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب 1.1367 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3248 ڈالر پر مستحکم رہا اور تین ماہ کی کم ترین سطح سے زیادہ دور نہیں تھا۔</p>
<p>دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کی کامیابی کے امکانات پر شکوک پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکی ٹریژری بانڈز کی فروخت میں اضافے کے باعث شرح منافع نئی بلند سطحوں پر پہنچ گئی۔ 10 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر جبکہ 30 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2004 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</p>
<p>دریں اثنا دو سالہ بانڈ کی شرح منافع، جو مانیٹری پالیسی کے لیے حساس سمجھی جاتی ہے، بھی دو سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 5 فیصد کے قریب آگئی۔</p>
<p>سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات 70 فیصد سے تجاوز کرگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 57 فیصد تھے۔</p>
<p>سرمایہ کار بدھ کو ذاتی کھپت کے اخراجات اور جمعہ کو نان فارم پے رولز سمیت اہم امریکی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291831</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:55:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29085437ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29085437ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی کے باعث ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291782/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر پیر کو معمولی بڑھی اور امریکی کرنسی دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہی۔ امریکا ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور رواں ہفتے افراط زر سے متعلق اہم اعداد و شمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کار محتاط رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوئے اور بالترتیب 1.1379 اور 1.3232 ڈالر پر آگئے۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے، معمولی اضافے سے 101.15 پر پہنچ گیا اور ستمبر میں 1.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کی بہترین ماہانہ کارکردگی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد بڑھیں اور برینٹ خام تیل 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی امن تجویز مسترد کیے جانے کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی کے ایف ایکس اسٹریٹجسٹ سم مو سیونگ نے کہا کہ اگر توانائی کی مارکیٹ میں کشیدگی برقرار رہی اور افراط زر کے خطرات بڑھتے رہے تو قلیل مدت میں ڈالر مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار رواں ہفتے امریکی ذاتی کھپت کے اخراجات (پی سی ای) انڈیکس اور نان فارم پے رولز سمیت اہم اعداد و شمار پر نظر رکھیں گے۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کا امکان 65 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.3 فیصد کمزور ہوکر 157.7 فی ڈالر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.07 فیصد کمی سے 0.7017 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر پیر کو معمولی بڑھی اور امریکی کرنسی دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہی۔ امریکا ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور رواں ہفتے افراط زر سے متعلق اہم اعداد و شمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کار محتاط رہے۔</strong></p>
<p>یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوئے اور بالترتیب 1.1379 اور 1.3232 ڈالر پر آگئے۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے، معمولی اضافے سے 101.15 پر پہنچ گیا اور ستمبر میں 1.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کی بہترین ماہانہ کارکردگی ہوگی۔</p>
<p>پیر کو تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد بڑھیں اور برینٹ خام تیل 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی امن تجویز مسترد کیے جانے کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>او سی بی سی کے ایف ایکس اسٹریٹجسٹ سم مو سیونگ نے کہا کہ اگر توانائی کی مارکیٹ میں کشیدگی برقرار رہی اور افراط زر کے خطرات بڑھتے رہے تو قلیل مدت میں ڈالر مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار رواں ہفتے امریکی ذاتی کھپت کے اخراجات (پی سی ای) انڈیکس اور نان فارم پے رولز سمیت اہم اعداد و شمار پر نظر رکھیں گے۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کا امکان 65 فیصد ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.3 فیصد کمزور ہوکر 157.7 فی ڈالر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.07 فیصد کمی سے 0.7017 ڈالر پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291782</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 09:03:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28090226ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28090226ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں اضافے کے امکانات، ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291574/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر بدھ کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جس کی وجہ قلیل مدت میں مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی پیش رفت کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1446 ڈالر پر رہا، جو جولائی کے اواخر کے بعد اس کی کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3337 ڈالر پر آگیا۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.56 پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے حالیہ شرح سود میں اضافوں اور سخت مالیاتی پالیسی کے اشاروں نے کرنسی مارکیٹوں میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ ایران کے ساتھ امریکا اسرائیل تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب مرکزی بینکوں سے مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع کر رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر افراط زر میں کمی نہ آئی تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، برینٹ خام تیل کے سودے 99.22 ڈالر فی بیرل پر رہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سفارتی کوششوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ بلند سطح سے کچھ کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 157.55 فی ڈالر پر رہا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ین کی قدر میں مزید کمی کی صورت میں جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرسکتے ہیں۔ جاپانی مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر بدھ کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جس کی وجہ قلیل مدت میں مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی پیش رفت کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔</strong></p>
<p>ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1446 ڈالر پر رہا، جو جولائی کے اواخر کے بعد اس کی کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3337 ڈالر پر آگیا۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.56 پر رہا۔</p>
<p>بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے حالیہ شرح سود میں اضافوں اور سخت مالیاتی پالیسی کے اشاروں نے کرنسی مارکیٹوں میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ ایران کے ساتھ امریکا اسرائیل تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھے ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کار اب مرکزی بینکوں سے مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع کر رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر افراط زر میں کمی نہ آئی تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، برینٹ خام تیل کے سودے 99.22 ڈالر فی بیرل پر رہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سفارتی کوششوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ بلند سطح سے کچھ کمی آئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 157.55 فی ڈالر پر رہا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ین کی قدر میں مزید کمی کی صورت میں جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرسکتے ہیں۔ جاپانی مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291574</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:52:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/23085139ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/23085139ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی مرکزی بینکوں کی سخت پالیسی کا رجحان برقرار، ین دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291521/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی ین منگل کو مضبوط ڈالر کے مقابلے میں دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ تاجروں کا خیال ہے کہ جاپانی پالیسی ساز عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی کی طرف بڑھتے رجحان کے ساتھ قدم ملانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث جاپان اور بڑی معیشتوں کے درمیان شرح سود کا فرق برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں تعطیل اور ممکنہ کرنسی مارکیٹ مداخلت کے خدشے کے باعث ین میں اتار چڑھائو محدود رہا۔ نکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جاپانی حکام نے جمعہ کو ڈالر اور ین کی شرح کا جائزہ لیا تھا، جسے عموماً مارکیٹ میں مداخلت کی تیاری کا ممکنہ اشارہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو معمولی کمی کے بعد منگل کی صبح ین 157.33 فی ڈالر پر ٹریڈ کررہا تھا، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مالیاتی منڈیوں میں قدرے بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اہم کرنسیوں میں یورو 1.1467 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ دریں اثنا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو کرنسیوں میں تیزی رہی اور بٹ کوائن آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح 87 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونین بینکیئر پریوی کے ایشیا کے سینئر ماہر اقتصادیات کارلوس کاسانووا نے کہا کہ اگر بینک آف جاپان، امریکی فیڈرل ریزرو کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شرح سود نہ بڑھائے تو امریکا اور جاپان کے درمیان تقریباً 275 بیسس پوائنٹس کا فرق ین پر دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں اکتوبر میں بینک آف جاپان کی جانب سے قلیل مدتی شرح سود 1.5 فیصد تک بڑھانے کے امکانات تقریباً 30 فیصد جبکہ فیڈ کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے امکانات تقریباً 55 فیصد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر 0.7120 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3372 ڈالر کے قریب رہا۔ نیوزی لینڈ ڈالر بھی 0.5708 ڈالر کی کئی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی ین منگل کو مضبوط ڈالر کے مقابلے میں دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ تاجروں کا خیال ہے کہ جاپانی پالیسی ساز عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی کی طرف بڑھتے رجحان کے ساتھ قدم ملانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث جاپان اور بڑی معیشتوں کے درمیان شرح سود کا فرق برقرار ہے۔</strong></p>
<p>جاپان میں تعطیل اور ممکنہ کرنسی مارکیٹ مداخلت کے خدشے کے باعث ین میں اتار چڑھائو محدود رہا۔ نکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جاپانی حکام نے جمعہ کو ڈالر اور ین کی شرح کا جائزہ لیا تھا، جسے عموماً مارکیٹ میں مداخلت کی تیاری کا ممکنہ اشارہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>پیر کو معمولی کمی کے بعد منگل کی صبح ین 157.33 فی ڈالر پر ٹریڈ کررہا تھا، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مالیاتی منڈیوں میں قدرے بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>دیگر اہم کرنسیوں میں یورو 1.1467 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ دریں اثنا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو کرنسیوں میں تیزی رہی اور بٹ کوائن آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح 87 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگیا۔</p>
<p>یونین بینکیئر پریوی کے ایشیا کے سینئر ماہر اقتصادیات کارلوس کاسانووا نے کہا کہ اگر بینک آف جاپان، امریکی فیڈرل ریزرو کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شرح سود نہ بڑھائے تو امریکا اور جاپان کے درمیان تقریباً 275 بیسس پوائنٹس کا فرق ین پر دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں اکتوبر میں بینک آف جاپان کی جانب سے قلیل مدتی شرح سود 1.5 فیصد تک بڑھانے کے امکانات تقریباً 30 فیصد جبکہ فیڈ کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے امکانات تقریباً 55 فیصد ہیں۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر 0.7120 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3372 ڈالر کے قریب رہا۔ نیوزی لینڈ ڈالر بھی 0.5708 ڈالر کی کئی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291521</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 09:06:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/220905118c73e64.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/220905118c73e64.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ین میں اتار چڑھاؤ، کرنسی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291476/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی مارکیٹ میں پیر کو سرمایہ کاروں کی توجہ جاپانی ین پر مرکوز رہی، جو گزشتہ ہفتے 2 فیصد کمی کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ ین میں تیزی سے کمی کے باعث ٹوکیو کی جانب سے شرحِ سود سے متعلق جانچ اور ممکنہ کرنسی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین معمولی بہتری کے ساتھ 156.64 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ جاپانی مارکیٹیں تین روزہ تعطیلات کے باعث بند رہیں۔ کم کاروباری حجم کے دوران سرمایہ کار ممکنہ سرکاری مداخلت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان نے جمعہ کو شرحِ سود 1.25 فیصد کردی، جو 31 سال کی بلند ترین سطح ہے، تاہم متوقع اضافے کے باوجود ین کو سہارا نہ مل سکا۔ شرحِ سود میں اضافے کے فیصلے پر دو اراکین نے اختلاف کیا، جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے مستقبل میں مزید سخت پالیسی کا واضح اشارہ نہ ملنے سے سرمایہ کار مایوس ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ین کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے بعد نکی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جاپانی حکام نے بینکوں سے کرنسی کی قیمتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مارکیٹ میں شرحِ سود کی جانچ کو ممکنہ کرنسی مداخلت سے قبل کا اقدام سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک نے بھی رواں ماہ شرحِ سود میں اضافہ کیا اور مہنگائی سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا امکان ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 100.23 پر مستحکم رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے فیڈ کے شرحِ سود میں اضافے کے بعد اس میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں فیڈ کی مزید شرحِ سود بڑھانے کے امکانات 55 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 42.5 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی مارکیٹ میں پیر کو سرمایہ کاروں کی توجہ جاپانی ین پر مرکوز رہی، جو گزشتہ ہفتے 2 فیصد کمی کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ ین میں تیزی سے کمی کے باعث ٹوکیو کی جانب سے شرحِ سود سے متعلق جانچ اور ممکنہ کرنسی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔</strong></p>
<p>ین معمولی بہتری کے ساتھ 156.64 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ جاپانی مارکیٹیں تین روزہ تعطیلات کے باعث بند رہیں۔ کم کاروباری حجم کے دوران سرمایہ کار ممکنہ سرکاری مداخلت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>بینک آف جاپان نے جمعہ کو شرحِ سود 1.25 فیصد کردی، جو 31 سال کی بلند ترین سطح ہے، تاہم متوقع اضافے کے باوجود ین کو سہارا نہ مل سکا۔ شرحِ سود میں اضافے کے فیصلے پر دو اراکین نے اختلاف کیا، جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے مستقبل میں مزید سخت پالیسی کا واضح اشارہ نہ ملنے سے سرمایہ کار مایوس ہوئے۔</p>
<p>اس کے بعد ین کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے بعد نکی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جاپانی حکام نے بینکوں سے کرنسی کی قیمتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مارکیٹ میں شرحِ سود کی جانچ کو ممکنہ کرنسی مداخلت سے قبل کا اقدام سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک نے بھی رواں ماہ شرحِ سود میں اضافہ کیا اور مہنگائی سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا امکان ظاہر کیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 100.23 پر مستحکم رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے فیڈ کے شرحِ سود میں اضافے کے بعد اس میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں فیڈ کی مزید شرحِ سود بڑھانے کے امکانات 55 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 42.5 فیصد تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291476</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 09:05:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/210902481e66495.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/210902481e66495.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ین کی قدر میں کمی، بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود بڑھانے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیا میں جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر ین کی قدر ڈالر اور یورو کے مقابلے میں کم ہوگئی، جبکہ سرمایہ کار بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کے منتظر رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کم ہوکر 156.19 ین فی ڈالر پر آگیا۔ جمعرات کو ین نے مسلسل تین روزہ گراوٹ کا سلسلہ توڑا تھا۔ یورو کے مقابلے میں بھی جاپانی کرنسی 0.2 فیصد کم ہوکر 179.30 ین فی یورو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات 83 فیصد دیکھے جارہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ مرکزی بینک آئندہ بھی سہ ماہی بنیادوں پر شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپر اسٹون گروپ کے سربراہ تحقیق کرس ویسٹن نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے امکانات پہلے ہی بڑی حد تک مارکیٹ میں شامل ہوچکے ہیں، اس لیے اصل توجہ مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی اور شرح سود میں مزید اضافے کی رفتار پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی پاؤنڈ 1.3359 ڈالر پر ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا۔ بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو شرح سود برقرار رکھی اور حکومتی بانڈز کی فروخت بھی چھ ماہ کے لیے غیر متوقع طور پر روک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1478 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد اضافے سے 0.7117 ڈالر پر رہا۔ امریکی ڈالر انڈیکس 100.21 پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، فیڈرل ریزرو کی آئندہ ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔ سی ایم ای گروپ کے مطابق 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان 53 فیصد ہوگیا ہے، جو ایک ہفتہ قبل 27.2 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد کم ہوکر 103.76 ڈالر فی بیرل رہیں، جبکہ بٹ کوائن 0.1 فیصد کمی سے 76,442.97 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیا میں جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر ین کی قدر ڈالر اور یورو کے مقابلے میں کم ہوگئی، جبکہ سرمایہ کار بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کے منتظر رہے۔</strong></p>
<p>ین ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کم ہوکر 156.19 ین فی ڈالر پر آگیا۔ جمعرات کو ین نے مسلسل تین روزہ گراوٹ کا سلسلہ توڑا تھا۔ یورو کے مقابلے میں بھی جاپانی کرنسی 0.2 فیصد کم ہوکر 179.30 ین فی یورو رہی۔</p>
<p>ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات 83 فیصد دیکھے جارہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ مرکزی بینک آئندہ بھی سہ ماہی بنیادوں پر شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔</p>
<p>پیپر اسٹون گروپ کے سربراہ تحقیق کرس ویسٹن نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے امکانات پہلے ہی بڑی حد تک مارکیٹ میں شامل ہوچکے ہیں، اس لیے اصل توجہ مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی اور شرح سود میں مزید اضافے کی رفتار پر ہوگی۔</p>
<p>برطانوی پاؤنڈ 1.3359 ڈالر پر ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا۔ بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو شرح سود برقرار رکھی اور حکومتی بانڈز کی فروخت بھی چھ ماہ کے لیے غیر متوقع طور پر روک دی۔</p>
<p>یورو 1.1478 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد اضافے سے 0.7117 ڈالر پر رہا۔ امریکی ڈالر انڈیکس 100.21 پر مستحکم رہا۔</p>
<p>دریں اثنا، فیڈرل ریزرو کی آئندہ ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔ سی ایم ای گروپ کے مطابق 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان 53 فیصد ہوگیا ہے، جو ایک ہفتہ قبل 27.2 فیصد تھا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد کم ہوکر 103.76 ڈالر فی بیرل رہیں، جبکہ بٹ کوائن 0.1 فیصد کمی سے 76,442.97 ڈالر پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291377</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 09:50:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18094834e24b82f.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18094834e24b82f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط، ڈالر دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291247/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر منگل کو معمولی اضافے کے ساتھ تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بڑھا دی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں ہفتے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید مضبوط ہوگئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں بدھ کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات تقریباً یقینی سمجھے جارہے ہیں۔ سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 93 فیصد ہے، جو تین سال سے زائد عرصے میں پہلا اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی کے ایف ایکس تجزیہ کار کرسٹوفر وونگ نے کہا کہ بلند تیل قیمتوں، امریکی بانڈز کی زیادہ شرح منافع اور کمزور خطرہ مول لینے کے رجحان نے امریکی ڈالر کو وسیع پیمانے پر سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 99.55 پر رہا۔ یورو معمولی کمزوری کے ساتھ 1.1538 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3494 ڈالر پر آگیا۔ ین بھی سات ماہ کی بلند سطح سے پیچھے ہٹتے ہوئے 0.2 فیصد کم ہوکر 154.72 فی ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جس سے افراط زر کے خدشات بڑھے اور 10 سالہ امریکی ٹریژری کی شرح منافع گزشتہ روز 5 فیصد کی اہم سطح سے تجاوز کرگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بینک آف جاپان کی جانب سے جمعہ کو شرح سود بڑھانے کی توقع ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی ڈالر بھی تقریباً 0.1 فیصد کمزور رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر منگل کو معمولی اضافے کے ساتھ تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بڑھا دی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں ہفتے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید مضبوط ہوگئیں۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں بدھ کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات تقریباً یقینی سمجھے جارہے ہیں۔ سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 93 فیصد ہے، جو تین سال سے زائد عرصے میں پہلا اضافہ ہوگا۔</p>
<p>او سی بی سی کے ایف ایکس تجزیہ کار کرسٹوفر وونگ نے کہا کہ بلند تیل قیمتوں، امریکی بانڈز کی زیادہ شرح منافع اور کمزور خطرہ مول لینے کے رجحان نے امریکی ڈالر کو وسیع پیمانے پر سہارا دیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 99.55 پر رہا۔ یورو معمولی کمزوری کے ساتھ 1.1538 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3494 ڈالر پر آگیا۔ ین بھی سات ماہ کی بلند سطح سے پیچھے ہٹتے ہوئے 0.2 فیصد کم ہوکر 154.72 فی ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جس سے افراط زر کے خدشات بڑھے اور 10 سالہ امریکی ٹریژری کی شرح منافع گزشتہ روز 5 فیصد کی اہم سطح سے تجاوز کرگئی۔</p>
<p>دوسری جانب بینک آف جاپان کی جانب سے جمعہ کو شرح سود بڑھانے کی توقع ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی ڈالر بھی تقریباً 0.1 فیصد کمزور رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291247</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 09:32:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/150930473c6ee9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/150930473c6ee9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ اور بینک آف جاپان کے اجلاس سے قبل ڈالر مستحکم، ین 7 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی منڈی میں پیر کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی جبکہ ین اپنی حالیہ تیز رفتار بہتری برقرار رکھتے ہوئے 7 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ سرمایہ کار اس ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں اضافے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف 6 ماہ سے جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ اور مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے شرح سود میں اضافہ کیا اور مزید اضافے کا عندیہ دیا۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں بدھ کو ہونے والے امریکی فیڈ کے اجلاس اور جمعہ کو بینک آف جاپان کے متوقع شرح سود اضافے پر ہیں۔ بینک آف انگلینڈ سے جمعرات کو شرح سود برقرار رکھنے کی توقع ہے، تاہم ووٹنگ سخت ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری اعداد و شمار میں امریکی صارف قیمتوں میں اگست کے دوران تیزی ظاہر ہونے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈ کی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا دیے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق رواں ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان 86 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو حالیہ طور پر 1.159 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3524 ڈالر پر رہا۔ ڈالر انڈیکس 99.15 پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ین 153.49 فی ڈالر پر تھا اور گزشتہ ہفتے کی 152.89 کی 7 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ ین رواں ماہ اب تک تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم یو ایف جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق بینک آف جاپان کی 25 بیسس پوائنٹس شرح سود میں اضافہ تقریباً مکمل طور پر مارکیٹ میں شامل ہوچکا ہے، تاہم ین کی مزید مضبوطی کے لیے بینک کو تیز رفتار شرح اضافے کا عندیہ دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی عرب پر حوثی حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 107.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی منڈی میں پیر کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی جبکہ ین اپنی حالیہ تیز رفتار بہتری برقرار رکھتے ہوئے 7 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ سرمایہ کار اس ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں اضافے پر غور کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کے خلاف 6 ماہ سے جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ اور مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے شرح سود میں اضافہ کیا اور مزید اضافے کا عندیہ دیا۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں بدھ کو ہونے والے امریکی فیڈ کے اجلاس اور جمعہ کو بینک آف جاپان کے متوقع شرح سود اضافے پر ہیں۔ بینک آف انگلینڈ سے جمعرات کو شرح سود برقرار رکھنے کی توقع ہے، تاہم ووٹنگ سخت ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>جمعہ کو جاری اعداد و شمار میں امریکی صارف قیمتوں میں اگست کے دوران تیزی ظاہر ہونے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈ کی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا دیے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق رواں ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان 86 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>یورو حالیہ طور پر 1.159 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3524 ڈالر پر رہا۔ ڈالر انڈیکس 99.15 پر مستحکم رہا۔</p>
<p>ادھر ین 153.49 فی ڈالر پر تھا اور گزشتہ ہفتے کی 152.89 کی 7 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ ین رواں ماہ اب تک تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکا ہے۔</p>
<p>ایم یو ایف جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق بینک آف جاپان کی 25 بیسس پوائنٹس شرح سود میں اضافہ تقریباً مکمل طور پر مارکیٹ میں شامل ہوچکا ہے، تاہم ین کی مزید مضبوطی کے لیے بینک کو تیز رفتار شرح اضافے کا عندیہ دینا ہوگا۔</p>
<p>ادھر سعودی عرب پر حوثی حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 107.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291196</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 09:13:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/14091216522690e.webp" type="image/webp" medium="image" height="296" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/14091216522690e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں توانائی بحران گہرا ہونے سے ین کمزور، ڈالر کی قدر برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291100/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر جمعہ کو ایشیائی تجارت کے آغاز پر گزشتہ ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جبکہ ین مسلسل دوسرے روز کمزور ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خدشات دوبارہ بڑھنے سے بانڈ ییلڈز اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر جانچنے والا ڈالر انڈیکس 99.081 پر رہا۔ جمعرات کو انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ کر 7 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ یہ اضافہ امریکی پروڈیوسر پرائسز میں اگست کے دوران 0.4 فیصد اضافے کے اعداد و شمار کے بعد ہوا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث ڈالر کو فائدہ پہنچا، جبکہ توانائی کی بلند قیمتوں نے اگلے ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکان کو 70 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں کاروبار کے دوبارہ آغاز پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 108.96 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں بڑے بینچ مارکس رواں ہفتے 100 ڈالر کی سطح عبور کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین کے مقابلے میں ڈالر 0.1 فیصد اضافے سے 154.615 ین تک پہنچا، تاہم جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے بعد جاپانی کرنسی نے کچھ بہتری حاصل کی۔ اگست میں ہول سیل افراط زر سالانہ بنیاد پر 7.6 فیصد بڑھا، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، مارکیٹیں جمعہ کو امریکی صارف قیمت اشاریہ کے اعداد و شمار کی منتظر ہیں۔ سی ایم ای گروپ کے مطابق 16 ستمبر کو ختم ہونے والے فیڈ اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس شرح سود اضافے کا امکان 71.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ مارکیٹ میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2.3 بیسس پوائنٹس اضافے سے 4.965 فیصد ہوگئی۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.8 فیصد کمی سے 76,624.32 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.8 فیصد کمی سے 2,443.18 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر جمعہ کو ایشیائی تجارت کے آغاز پر گزشتہ ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جبکہ ین مسلسل دوسرے روز کمزور ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خدشات دوبارہ بڑھنے سے بانڈ ییلڈز اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔</strong></p>
<p>چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر جانچنے والا ڈالر انڈیکس 99.081 پر رہا۔ جمعرات کو انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ کر 7 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ یہ اضافہ امریکی پروڈیوسر پرائسز میں اگست کے دوران 0.4 فیصد اضافے کے اعداد و شمار کے بعد ہوا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔</p>
<p>آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث ڈالر کو فائدہ پہنچا، جبکہ توانائی کی بلند قیمتوں نے اگلے ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکان کو 70 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔</p>
<p>ایشیا میں کاروبار کے دوبارہ آغاز پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 108.96 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں بڑے بینچ مارکس رواں ہفتے 100 ڈالر کی سطح عبور کرچکے ہیں۔</p>
<p>ین کے مقابلے میں ڈالر 0.1 فیصد اضافے سے 154.615 ین تک پہنچا، تاہم جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے بعد جاپانی کرنسی نے کچھ بہتری حاصل کی۔ اگست میں ہول سیل افراط زر سالانہ بنیاد پر 7.6 فیصد بڑھا، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔</p>
<p>دریں اثنا، مارکیٹیں جمعہ کو امریکی صارف قیمت اشاریہ کے اعداد و شمار کی منتظر ہیں۔ سی ایم ای گروپ کے مطابق 16 ستمبر کو ختم ہونے والے فیڈ اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس شرح سود اضافے کا امکان 71.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>بانڈ مارکیٹ میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2.3 بیسس پوائنٹس اضافے سے 4.965 فیصد ہوگئی۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.8 فیصد کمی سے 76,624.32 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.8 فیصد کمی سے 2,443.18 ڈالر پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291100</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Sep 2026 09:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/11085952c5991ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/11085952c5991ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی کرنسی مارکیٹ میں محتاط کاروبار، بانڈ ییلڈز میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291054/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کو محتاط تجارت کے دوران قیمتوں میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے، عالمی بانڈ ییلڈز اور جاپانی ین کی تیزی کا جائزہ لیتے رہے۔ امریکی پی پی آئی اور افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل ین کی مضبوط ریلی بھی رک گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرنے کے بعد جمعرات کو بھی اسی سطح سے اوپر رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان بحری جہازوں پر حملوں کی تازہ لہر نے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی میں مزید خلل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی قیمتوں سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافے کے باعث عالمی بانڈ ییلڈز دوبارہ بڑھ گئیں، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 98.81 پر رہا، جبکہ یورو 1.1633 ڈالر اور پاؤنڈ 1.3547 ڈالر پر معمولی کمزور ہوئے۔ ین بھی سات ماہ کی بلند سطح پر پہنچنے کے بعد معمولی کمزور ہوکر 153.70 فی ڈالر ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پروڈیوسر پرائس انڈیکس جمعرات جبکہ صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ جمعہ کو جاری ہوگا۔ یہ اعداد و شمار 15 اور 16 ستمبر کے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی اجلاس سے قبل اہم ترین اعداد و شمار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 60 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کو محتاط تجارت کے دوران قیمتوں میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے، عالمی بانڈ ییلڈز اور جاپانی ین کی تیزی کا جائزہ لیتے رہے۔ امریکی پی پی آئی اور افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل ین کی مضبوط ریلی بھی رک گئی۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرنے کے بعد جمعرات کو بھی اسی سطح سے اوپر رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان بحری جہازوں پر حملوں کی تازہ لہر نے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی میں مزید خلل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</p>
<p>توانائی کی قیمتوں سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافے کے باعث عالمی بانڈ ییلڈز دوبارہ بڑھ گئیں، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 98.81 پر رہا، جبکہ یورو 1.1633 ڈالر اور پاؤنڈ 1.3547 ڈالر پر معمولی کمزور ہوئے۔ ین بھی سات ماہ کی بلند سطح پر پہنچنے کے بعد معمولی کمزور ہوکر 153.70 فی ڈالر ہوگیا۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پروڈیوسر پرائس انڈیکس جمعرات جبکہ صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ جمعہ کو جاری ہوگا۔ یہ اعداد و شمار 15 اور 16 ستمبر کے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی اجلاس سے قبل اہم ترین اعداد و شمار ہوں گے۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 60 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291054</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 09:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/10091508c06a612.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/10091508c06a612.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین فروری کے بعد بلند ترین سطح کے قریب، ڈالر دبائو کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291016/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ کو جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں فروری کے بعد کی مضبوط ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے سے امریکی ڈالر دباؤ میں رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں پر حملے کیے، جس سے امریکا کے اتحادی سعودی عرب کی تنازع میں شمولیت مزید بڑھ گئی۔ دوسری جانب امریکی فورسز نے متعدد ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پیش رفتوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.48 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 99.37 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی۔ سرمایہ کار جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی افراط زر کی رپورٹ کے منتظر ہیں، جو امریکا اور جاپان میں آئندہ ہفتے ہونے والے مرکزی بینک اجلاسوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں ڈالر معمولی کمزور ہوا۔ ڈالر انڈیکس 98.15 پر رہا، جو تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو 1.1631 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3546 ڈالر پر مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین 153.65 فی ڈالر پر پہنچ گیا، جو سات ماہ کی بلند ترین سطح 152.89 کے قریب ہے۔ ستمبر میں ین اب تک تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ین کی تیزی کی بنیادی وجوہات میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیز اضافے کی توقعات، جاپانی سرمایہ کاروں کی بیرون ملک سرمایہ واپس لانے کے امکانات اور واشنگٹن کا مضبوط ین کے لیے دباؤ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کو توقع ہے کہ بینک آف جاپان 17 اور 18 ستمبر کے اجلاس میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرے گا۔ تاہم ین کی مزید مضبوطی کا انحصار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ کو جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں فروری کے بعد کی مضبوط ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے سے امریکی ڈالر دباؤ میں رہا۔</strong></p>
<p>یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں پر حملے کیے، جس سے امریکا کے اتحادی سعودی عرب کی تنازع میں شمولیت مزید بڑھ گئی۔ دوسری جانب امریکی فورسز نے متعدد ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر حملہ کیا۔</p>
<p>ان پیش رفتوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.48 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 99.37 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی۔ سرمایہ کار جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی افراط زر کی رپورٹ کے منتظر ہیں، جو امریکا اور جاپان میں آئندہ ہفتے ہونے والے مرکزی بینک اجلاسوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں ڈالر معمولی کمزور ہوا۔ ڈالر انڈیکس 98.15 پر رہا، جو تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو 1.1631 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3546 ڈالر پر مستحکم رہے۔</p>
<p>ین 153.65 فی ڈالر پر پہنچ گیا، جو سات ماہ کی بلند ترین سطح 152.89 کے قریب ہے۔ ستمبر میں ین اب تک تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ین کی تیزی کی بنیادی وجوہات میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیز اضافے کی توقعات، جاپانی سرمایہ کاروں کی بیرون ملک سرمایہ واپس لانے کے امکانات اور واشنگٹن کا مضبوط ین کے لیے دباؤ شامل ہیں۔</p>
<p>تاجروں کو توقع ہے کہ بینک آف جاپان 17 اور 18 ستمبر کے اجلاس میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرے گا۔ تاہم ین کی مزید مضبوطی کا انحصار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر بھی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291016</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 09:10:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0909083440fb8ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0909083440fb8ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین 7 ماہ کی بلند ترین سطح پر، ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی ین منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 7 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھنے کے باعث سرمایہ کار ین کے خلاف لگائی گئی مختصر پوزیشنز ختم کر رہے ہیں، جبکہ رواں ہفتے امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل ڈالر دباؤ میں رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی کرنسی صبح کی تجارت کے دوران 153.53 ین فی ڈالر تک مضبوط ہوئی، جو فروری کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ ین کی یہ سطح جولائی میں جاپان کی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے دوران دیکھی گئی سطحوں سے بھی آگے نکل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو امریکی تعطیل کے باعث کم کاروباری حجم کے دوران ین میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ یوں گزشتہ ہفتے کے آغاز میں تقریباً 160 ین فی ڈالر کی سطح کے مقابلے میں جاپانی کرنسی اب تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ماہرین کے مطابق بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے اضافے کی توقعات، جاپانی سرمایہ کاروں کی رقوم ملک واپس لانے کا امکان، کیری ٹریڈز کے خاتمے اور امریکی سیاسی دباؤ سمیت متعدد عوامل نے ین کی سمت تبدیل کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ ین کی حالیہ مضبوطی بنیادی طور پر 155 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے جانے کے بعد شارٹ پوزیشنز کے تیزی سے خاتمے کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ 98.83 پر آگیا۔ یورو 0.06 فیصد اضافے سے 1.1628 ڈالر اور پاؤنڈ بھی 0.06 فیصد بڑھ کر 1.3549 ڈالر ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار رواں ہفتے امریکی سی پی آئی اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اجلاس سے قبل اہم ترین معاشی اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے تقریباً 60 فیصد امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں پر بھی مارکیٹ کی نظریں ہیں۔ برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی ین منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 7 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھنے کے باعث سرمایہ کار ین کے خلاف لگائی گئی مختصر پوزیشنز ختم کر رہے ہیں، جبکہ رواں ہفتے امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل ڈالر دباؤ میں رہا۔</strong></p>
<p>جاپانی کرنسی صبح کی تجارت کے دوران 153.53 ین فی ڈالر تک مضبوط ہوئی، جو فروری کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ ین کی یہ سطح جولائی میں جاپان کی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے دوران دیکھی گئی سطحوں سے بھی آگے نکل گئی۔</p>
<p>پیر کو امریکی تعطیل کے باعث کم کاروباری حجم کے دوران ین میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ یوں گزشتہ ہفتے کے آغاز میں تقریباً 160 ین فی ڈالر کی سطح کے مقابلے میں جاپانی کرنسی اب تقریباً 4 فیصد مضبوط ہوچکی ہے۔</p>
<p>مارکیٹ ماہرین کے مطابق بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے اضافے کی توقعات، جاپانی سرمایہ کاروں کی رقوم ملک واپس لانے کا امکان، کیری ٹریڈز کے خاتمے اور امریکی سیاسی دباؤ سمیت متعدد عوامل نے ین کی سمت تبدیل کردی ہے۔</p>
<p>آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ ین کی حالیہ مضبوطی بنیادی طور پر 155 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے جانے کے بعد شارٹ پوزیشنز کے تیزی سے خاتمے کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ 98.83 پر آگیا۔ یورو 0.06 فیصد اضافے سے 1.1628 ڈالر اور پاؤنڈ بھی 0.06 فیصد بڑھ کر 1.3549 ڈالر ہوگیا۔</p>
<p>سرمایہ کار رواں ہفتے امریکی سی پی آئی اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اجلاس سے قبل اہم ترین معاشی اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے تقریباً 60 فیصد امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>ادھر خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں پر بھی مارکیٹ کی نظریں ہیں۔ برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290968</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 09:01:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/080900048a4f923.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/080900048a4f923.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی اور عالمی شرح سود کے خدشات، ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر پیر کو کمزور رہا، اگرچہ امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے، جس کے باعث دنیا کے بڑے مرکزی بینک بھی بیک وقت شرح سود سخت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات، امریکا کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی ڈالر کو دباؤ میں رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ایشیائی کاروبار میں کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا، جبکہ امریکی مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔ جمعہ کو امریکی روزگار کے توقعات سے کہیں بہتر اعداد و شمار کے بعد ڈالر میں آنے والی مختصر تیزی بھی برقرار نہ رہ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو معمولی اضافے سے 1.1618 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.3519 ڈالر پر آگیا۔ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 0.07 فیصد کمی سے 99.09 پر آگیا، جو حالیہ کم ترین سطح 98.558 کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر زرعی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں امریکی فیڈرل ریزرو کی رواں ماہ شرح سود بڑھانے کے امکان کو تقریباً 57 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی افراط زر کے اعداد و شمار پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی ایچ کے عالمی سربراہ برائے مارکیٹس اسٹریٹیجی ایلیاس حداد کے مطابق اگر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) توقعات سے زیادہ گرم رہا تو ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی ہوجائے گا اور ڈالر مضبوط ہوگا، جبکہ کمزور افراط زر کا ڈیٹا شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات بڑھا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تیل کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد کرنے کی توقع کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دسمبر تک مزید اضافے کا امکان بھی 75 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں بھی 18 ستمبر کو بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا امکان 75 فیصد لگایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر پیر کو کمزور رہا، اگرچہ امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے، جس کے باعث دنیا کے بڑے مرکزی بینک بھی بیک وقت شرح سود سخت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>جاپانی ین کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات، امریکا کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی ڈالر کو دباؤ میں رکھا۔</p>
<p>ابتدائی ایشیائی کاروبار میں کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا، جبکہ امریکی مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔ جمعہ کو امریکی روزگار کے توقعات سے کہیں بہتر اعداد و شمار کے بعد ڈالر میں آنے والی مختصر تیزی بھی برقرار نہ رہ سکی۔</p>
<p>یورو معمولی اضافے سے 1.1618 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.3519 ڈالر پر آگیا۔ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 0.07 فیصد کمی سے 99.09 پر آگیا، جو حالیہ کم ترین سطح 98.558 کے قریب ہے۔</p>
<p>غیر زرعی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں امریکی فیڈرل ریزرو کی رواں ماہ شرح سود بڑھانے کے امکان کو تقریباً 57 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی افراط زر کے اعداد و شمار پر ہیں۔</p>
<p>بی بی ایچ کے عالمی سربراہ برائے مارکیٹس اسٹریٹیجی ایلیاس حداد کے مطابق اگر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) توقعات سے زیادہ گرم رہا تو ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی ہوجائے گا اور ڈالر مضبوط ہوگا، جبکہ کمزور افراط زر کا ڈیٹا شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات بڑھا دے گا۔</p>
<p>ادھر تیل کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد کرنے کی توقع کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دسمبر تک مزید اضافے کا امکان بھی 75 فیصد ہے۔</p>
<p>جاپان میں بھی 18 ستمبر کو بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا امکان 75 فیصد لگایا جارہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290925</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 09:16:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/070914587bfe9e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/070914587bfe9e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں اضافے کی توقعات، جاپانی ین ایک ماہ کی بلند ترین ہفتہ وار سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290821/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی ین نے جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھی اور ایک ماہ سے زائد عرصے کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب گامزن رہا۔ بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھنے اور امریکی روزگار کے اہم اعداد و شمار کے انتظار نے کرنسی مارکیٹ میں سرگرمی بڑھا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کی صبح ین 155.25 فی ڈالر تک مضبوط ہوا، جو گزشتہ ماہ جولائی میں مداخلت کے بعد ریکارڈ کی گئی 155.20 کی سطح کے قریب ہے۔ بعد ازاں ین معمولی کمزور ہوا اور آخری اطلاعات کے مطابق 155.71 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ین کی قدر میں تقریباً 2.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو جولائی کے اواخر کے بعد اس کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔ اس وقت جاپان اور امریکا نے کرنسی کی مسلسل گراوٹ روکنے کے لیے غیر معمولی مشترکہ مداخلت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ین کی حالیہ تیزی میں کسی نئی سرکاری مداخلت کے واضح شواہد نہیں ملے، بلکہ مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ بینک آف جاپان 17 اور 18 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود کے حوالے سے پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ اسٹریٹ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے سینئر فکسڈ انکم اسٹریٹجسٹ ماساہیکو لو نے کہا کہ مارکیٹ جاپان کی جانب سے 2027 تک پالیسی معمول پر لانے کے امکان کو سنجیدگی سے لینا شروع کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ وہ شرح مبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، جس سے ین کی ممکنہ خریداری کے لیے ایک اور سرکاری مداخلت کے خدشات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس 99.01 پر مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1625 ڈالر اور پاؤنڈ 1.3527 ڈالر پر رہا۔ ڈالر رواں ہفتے 0.7 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے محتاط بیان کے بعد ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوکر تقریباً 50 فیصد رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی ین نے جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھی اور ایک ماہ سے زائد عرصے کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب گامزن رہا۔ بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھنے اور امریکی روزگار کے اہم اعداد و شمار کے انتظار نے کرنسی مارکیٹ میں سرگرمی بڑھا دی۔</strong></p>
<p>جمعہ کی صبح ین 155.25 فی ڈالر تک مضبوط ہوا، جو گزشتہ ماہ جولائی میں مداخلت کے بعد ریکارڈ کی گئی 155.20 کی سطح کے قریب ہے۔ بعد ازاں ین معمولی کمزور ہوا اور آخری اطلاعات کے مطابق 155.71 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>رواں ہفتے ین کی قدر میں تقریباً 2.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو جولائی کے اواخر کے بعد اس کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔ اس وقت جاپان اور امریکا نے کرنسی کی مسلسل گراوٹ روکنے کے لیے غیر معمولی مشترکہ مداخلت کی تھی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ین کی حالیہ تیزی میں کسی نئی سرکاری مداخلت کے واضح شواہد نہیں ملے، بلکہ مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ بینک آف جاپان 17 اور 18 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود کے حوالے سے پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرسکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ اسٹریٹ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے سینئر فکسڈ انکم اسٹریٹجسٹ ماساہیکو لو نے کہا کہ مارکیٹ جاپان کی جانب سے 2027 تک پالیسی معمول پر لانے کے امکان کو سنجیدگی سے لینا شروع کررہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ وہ شرح مبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، جس سے ین کی ممکنہ خریداری کے لیے ایک اور سرکاری مداخلت کے خدشات برقرار ہیں۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس 99.01 پر مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1625 ڈالر اور پاؤنڈ 1.3527 ڈالر پر رہا۔ ڈالر رواں ہفتے 0.7 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے محتاط بیان کے بعد ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوکر تقریباً 50 فیصد رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290821</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 09:08:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0409070440fb8ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0409070440fb8ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین مضبوط، ڈالر پر دباؤ بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپانی ین نے جمعرات کو گزشتہ سیشن میں اچانک اور مختصر تیزی کے بعد اپنی برتری برقرار رکھی، جس سے امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھ گیا۔ مارکیٹ کے شرکا کو شبہ ہے کہ ین کی اس تیزی میں جاپانی حکام کا ممکنہ کردار ہوسکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار اہم امریکی روزگار رپورٹ کے منتظر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 158.88 پر مستحکم رہی۔ گزشتہ روز ین میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ ٹوکیو کے حکام نے کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی تیاری کے طور پر ریٹ چیک کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ نے کہا کہ ین کی تقریباً 0.9 فیصد تیزی کوئی بہت بڑا اضافہ نہیں، اس لیے وہ اسے براہ راست حکومتی مداخلت نہیں سمجھتیں، تاہم بعض مارکیٹ شرکا کا خیال ہے کہ یہ ریٹ چیک کے باعث ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 جولائی کو امریکہ اور جاپان کی جانب سے ین کی قدر بڑھانے کے لیے مشترکہ مداخلت کے بعد بھی جاپانی کرنسی کو مستقل حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔ بلند شرح سود کے فرق، مالیاتی خدشات اور توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے نے ین پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر مارکیٹ میں ڈالر کمزور رہا۔ یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1589 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3482 ڈالر پر آگیا۔ ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی سے 99.56 پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر ہیں۔ تجزیہ کاروں نے اگست میں 56,000 نئی ملازمتوں کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ جولائی میں ملازمتوں میں حیران کن طور پر 23,000 کمی ہوئی تھی۔ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا 61 فیصد امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپانی ین نے جمعرات کو گزشتہ سیشن میں اچانک اور مختصر تیزی کے بعد اپنی برتری برقرار رکھی، جس سے امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھ گیا۔ مارکیٹ کے شرکا کو شبہ ہے کہ ین کی اس تیزی میں جاپانی حکام کا ممکنہ کردار ہوسکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار اہم امریکی روزگار رپورٹ کے منتظر ہیں۔</strong></p>
<p>ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 158.88 پر مستحکم رہی۔ گزشتہ روز ین میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ ٹوکیو کے حکام نے کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی تیاری کے طور پر ریٹ چیک کیا ہے۔</p>
<p>کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ نے کہا کہ ین کی تقریباً 0.9 فیصد تیزی کوئی بہت بڑا اضافہ نہیں، اس لیے وہ اسے براہ راست حکومتی مداخلت نہیں سمجھتیں، تاہم بعض مارکیٹ شرکا کا خیال ہے کہ یہ ریٹ چیک کے باعث ہوئی۔</p>
<p>31 جولائی کو امریکہ اور جاپان کی جانب سے ین کی قدر بڑھانے کے لیے مشترکہ مداخلت کے بعد بھی جاپانی کرنسی کو مستقل حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔ بلند شرح سود کے فرق، مالیاتی خدشات اور توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے نے ین پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>وسیع تر مارکیٹ میں ڈالر کمزور رہا۔ یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1589 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3482 ڈالر پر آگیا۔ ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی سے 99.56 پر رہا۔</p>
<p>اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر ہیں۔ تجزیہ کاروں نے اگست میں 56,000 نئی ملازمتوں کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ جولائی میں ملازمتوں میں حیران کن طور پر 23,000 کمی ہوئی تھی۔ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا 61 فیصد امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290773</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2026 09:04:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0309032352639ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="314" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0309032352639ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کے خدشات بڑھنے کے بعد ڈالر کی قدر مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کے خدشات دوبارہ بڑھنے کے بعد بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات نے بھی ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت کو تقویت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے منگل کو ایران پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے بھی کارروائی کی۔ اس کشیدگی کے باعث بدھ کو ابتدائی کاروبار میں تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر ظاہر کرتا ہے، 99.67 پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جولائی کی  جاب اوپننگز اور اگست کے آئی ایس ایم مینوفیکچرنگ انڈیکس کے اعدادوشمار مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے۔ تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 40 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ گورنر مائیکل بار نے کہا ہے کہ اگر افراط زر تیزی سے کم نہ ہوا تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود بڑھانے کا وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ بڑھ کر 4.8 فیصد ہوگئی، جبکہ جاپان کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 3 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جاپانی ین 160.21 فی ڈالر پر دباؤ میں رہا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جاپانی وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات میں ین کی کمزوری سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن مالیاتی اقدامات کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے تک امریکا اور جاپان کی جانب سے ین کی قدر میں بہتری کے لیے دوبارہ مشترکہ مداخلت کے امکانات محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کے خدشات دوبارہ بڑھنے کے بعد بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات نے بھی ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت کو تقویت دی۔</strong></p>
<p>امریکا نے منگل کو ایران پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے بھی کارروائی کی۔ اس کشیدگی کے باعث بدھ کو ابتدائی کاروبار میں تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد بڑھ گئیں۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر ظاہر کرتا ہے، 99.67 پر رہا۔</p>
<p>دوسری جانب جولائی کی  جاب اوپننگز اور اگست کے آئی ایس ایم مینوفیکچرنگ انڈیکس کے اعدادوشمار مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے۔ تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 40 فیصد تھے۔</p>
<p>فیڈ گورنر مائیکل بار نے کہا ہے کہ اگر افراط زر تیزی سے کم نہ ہوا تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود بڑھانے کا وقت ہوگا۔</p>
<p>امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ بڑھ کر 4.8 فیصد ہوگئی، جبکہ جاپان کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 3 فیصد رہی۔</p>
<p>دریں اثنا جاپانی ین 160.21 فی ڈالر پر دباؤ میں رہا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جاپانی وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات میں ین کی کمزوری سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن مالیاتی اقدامات کی حمایت کی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے تک امریکا اور جاپان کی جانب سے ین کی قدر میں بہتری کے لیے دوبارہ مشترکہ مداخلت کے امکانات محدود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290736</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Sep 2026 09:22:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0209215546fc5b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="1369" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0209215546fc5b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فچ نے پاکستان کے ڈالر بانڈ اور میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کو بی مائنس ریٹنگ دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290738/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فچ ریٹنگز نے پاکستان کے مجوزہ امریکی ڈالر بانڈ اور میڈیم ٹرم نوٹ (ایم این ٹی) پروگرام کو بی مائنس ریٹنگ تفویض کردی ہے، جبکہ ریکوری ریٹنگ آر آر فور مقرر کی گئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ خودمختار ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے قرض کی واپسی کے امکانات اوسط درجے کے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریٹنگ پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی ایشوئر ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کے مطابق ہے، جبکہ آر آر فور ریکوری ریٹنگ ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے اوسط درجے کی وصولی کے امکانات ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ کے مطابق پاکستانی حکام ایم این ٹی پروگرام کے تحت جاری کیے جانے والے نوٹس سے حاصل رقم کو عمومی بجٹ اور خودمختار مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ مجوزہ بانڈ کی ریٹنگ میں کسی بھی تبدیلی کا انحصار پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر میں تبدیلی پر ہوگا۔ فچ نے 13 اپریل 2026 کو پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر کو بی مائنس پر برقرار رکھتے ہوئے آؤٹ لک مستحکم قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے بیرونی لیکویڈیٹی کی صورتحال اور سرکاری مالیات کو ایسے اہم عوامل قرار دیا ہے جو ریٹنگ میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بیرونی فنانسنگ کے حالات میں دوبارہ بگاڑ، مثلاً طویل عرصے تک تیل کی بلند قیمتیں یا ترسیلات زر میں نمایاں کمی، ریٹنگ پر منفی دباؤ ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مالیاتی استحکام کے عمل میں رکاوٹ سے حکومتی قرضوں میں نمایاں اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی کے اشاریوں میں مزید خرابی بھی ریٹنگ میں منفی اقدام کا سبب بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فچ کے مطابق بیرونی فنانسنگ کے خطرات میں نمایاں اور پائیدار کمی ریٹنگ میں بہتری کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ اس میں بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی زیادہ صلاحیت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں موجودہ پیش گوئیوں سے زیادہ پائیدار بہتری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی قرض اور قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں نمایاں کمی بھی ریٹنگ کو بہتر بنا سکتی ہے، خصوصاً اگر پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کے اقدامات کامیابی سے نافذ کرے اور ٹیکس آمدن میں ساختی بہتری حاصل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے پاکستان کے لیے گورننس سے متعلق خطرات کو بھی ریٹنگ کے اہم عوامل میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کا ای ایس جی ریلیونس اسکور سیاسی استحکام اور حقوق، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی و ریگولیٹری معیار اور بدعنوانی پر قابو پانے کے حوالے سے 5 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق یہ اسکور اس کے خودمختار ریٹنگ ماڈل میں ورلڈ بینک گورننس انڈیکیٹرز (ڈبلیو بی جی آئی) کو دی جانے والی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی ڈبلیو بی جی آئی درجہ بندی بدستور کم ہے اور ملک 18ویں پرسنٹائل پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ایم این ٹی پروگرام کا مقصد حکومت کو بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے ایک اضافی ذریعہ فراہم کرنا ہے، جبکہ پاکستان اپنی مالیاتی پوزیشن مستحکم کرنے اور بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ کی ریٹنگ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل بیرونی لیکویڈیٹی کے دباؤ، قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات اور مالیاتی استحکام کی رفتار کے حوالے سے بدستور حساس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی مائنس ریٹنگ اسپیکیولیٹو کیٹیگری میں شامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت فی الحال مناسب سمجھی جاتی ہے، تاہم اس صلاحیت کو منفی اقتصادی، مالیاتی اور بیرونی عوامل سے خطرات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فچ ریٹنگز نے پاکستان کے مجوزہ امریکی ڈالر بانڈ اور میڈیم ٹرم نوٹ (ایم این ٹی) پروگرام کو بی مائنس ریٹنگ تفویض کردی ہے، جبکہ ریکوری ریٹنگ آر آر فور مقرر کی گئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ خودمختار ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے قرض کی واپسی کے امکانات اوسط درجے کے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ ریٹنگ پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی ایشوئر ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کے مطابق ہے، جبکہ آر آر فور ریکوری ریٹنگ ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے اوسط درجے کی وصولی کے امکانات ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>فچ کے مطابق پاکستانی حکام ایم این ٹی پروگرام کے تحت جاری کیے جانے والے نوٹس سے حاصل رقم کو عمومی بجٹ اور خودمختار مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ مجوزہ بانڈ کی ریٹنگ میں کسی بھی تبدیلی کا انحصار پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر میں تبدیلی پر ہوگا۔ فچ نے 13 اپریل 2026 کو پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر کو بی مائنس پر برقرار رکھتے ہوئے آؤٹ لک مستحکم قرار دیا تھا۔</p>
<p>فچ نے بیرونی لیکویڈیٹی کی صورتحال اور سرکاری مالیات کو ایسے اہم عوامل قرار دیا ہے جو ریٹنگ میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بیرونی فنانسنگ کے حالات میں دوبارہ بگاڑ، مثلاً طویل عرصے تک تیل کی بلند قیمتیں یا ترسیلات زر میں نمایاں کمی، ریٹنگ پر منفی دباؤ ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح مالیاتی استحکام کے عمل میں رکاوٹ سے حکومتی قرضوں میں نمایاں اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی کے اشاریوں میں مزید خرابی بھی ریٹنگ میں منفی اقدام کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فچ کے مطابق بیرونی فنانسنگ کے خطرات میں نمایاں اور پائیدار کمی ریٹنگ میں بہتری کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ اس میں بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی زیادہ صلاحیت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں موجودہ پیش گوئیوں سے زیادہ پائیدار بہتری شامل ہے۔</p>
<p>حکومتی قرض اور قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں نمایاں کمی بھی ریٹنگ کو بہتر بنا سکتی ہے، خصوصاً اگر پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کے اقدامات کامیابی سے نافذ کرے اور ٹیکس آمدن میں ساختی بہتری حاصل کرے۔</p>
<p>فچ نے پاکستان کے لیے گورننس سے متعلق خطرات کو بھی ریٹنگ کے اہم عوامل میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کا ای ایس جی ریلیونس اسکور سیاسی استحکام اور حقوق، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی و ریگولیٹری معیار اور بدعنوانی پر قابو پانے کے حوالے سے 5 ہے۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق یہ اسکور اس کے خودمختار ریٹنگ ماڈل میں ورلڈ بینک گورننس انڈیکیٹرز (ڈبلیو بی جی آئی) کو دی جانے والی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی ڈبلیو بی جی آئی درجہ بندی بدستور کم ہے اور ملک 18ویں پرسنٹائل پر ہے۔</p>
<p>مجوزہ ایم این ٹی پروگرام کا مقصد حکومت کو بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے ایک اضافی ذریعہ فراہم کرنا ہے، جبکہ پاکستان اپنی مالیاتی پوزیشن مستحکم کرنے اور بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>فچ کی ریٹنگ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل بیرونی لیکویڈیٹی کے دباؤ، قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات اور مالیاتی استحکام کی رفتار کے حوالے سے بدستور حساس ہے۔</p>
<p>بی مائنس ریٹنگ اسپیکیولیٹو کیٹیگری میں شامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت فی الحال مناسب سمجھی جاتی ہے، تاہم اس صلاحیت کو منفی اقتصادی، مالیاتی اور بیرونی عوامل سے خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290738</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Sep 2026 09:40:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/02093845977da29.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/02093845977da29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں اضافے کی توقعات، ین 160 فی ڈالر کے قریب مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290685/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بینک آف جاپان (بی او جے) پر رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے لیے دباؤ بڑھائے جانے کے بعد جاپانی ین منگل کو 160 فی ڈالر کی اہم سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ کرنسی مارکیٹس نے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والے حملوں پر بھی نظر رکھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین آخری بار 159.81 فی ڈالر پر خریدا گیا۔ گزشتہ دو کاروباری سیشنز میں یہ 160 کی سطح سے تجاوز کرگیا تھا۔ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد ین کو کچھ سہارا ملا کہ انہیں یقین ہے جاپانی حکومت اور مرکزی بینک ایسے اقدامات کریں گے جن سے ین مضبوط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو مارکیٹ کے پاس نہیں اور ان کے خیال میں جاپانی حکومت اور  بینک آف جاپان ایسے اقدامات کریں گے جو ین کو مضبوط بنانے کا باعث بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں رواں ماہ  بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے 73 فیصد امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ین کو 160 کی سطح سے پائیدار طور پر دور کرنے کے لیے ستمبر کے بعد بھی مرکزی بینک کی جانب سے زیادہ جارحانہ پالیسی درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ڈالر بھی محدود رہا اور گزشتہ ہفتے کے اضافے سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے حالیہ سخت مؤقف کے بعد رواں ماہ امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق ستمبر میں امریکی شرح سود بڑھنے کے امکانات 65 فیصد تک پہنچ گئے، جو ایک ہفتہ قبل 41 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 99.37 پر آگیا، جبکہ یورو 1.1623 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.35575 ڈالر پر مستحکم رہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.7172 اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5921 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بینک آف جاپان (بی او جے) پر رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے لیے دباؤ بڑھائے جانے کے بعد جاپانی ین منگل کو 160 فی ڈالر کی اہم سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ کرنسی مارکیٹس نے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والے حملوں پر بھی نظر رکھی۔</strong></p>
<p>ین آخری بار 159.81 فی ڈالر پر خریدا گیا۔ گزشتہ دو کاروباری سیشنز میں یہ 160 کی سطح سے تجاوز کرگیا تھا۔ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد ین کو کچھ سہارا ملا کہ انہیں یقین ہے جاپانی حکومت اور مرکزی بینک ایسے اقدامات کریں گے جن سے ین مضبوط ہوگا۔</p>
<p>بیسنٹ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو مارکیٹ کے پاس نہیں اور ان کے خیال میں جاپانی حکومت اور  بینک آف جاپان ایسے اقدامات کریں گے جو ین کو مضبوط بنانے کا باعث بنیں گے۔</p>
<p>مارکیٹ میں رواں ماہ  بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے 73 فیصد امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ین کو 160 کی سطح سے پائیدار طور پر دور کرنے کے لیے ستمبر کے بعد بھی مرکزی بینک کی جانب سے زیادہ جارحانہ پالیسی درکار ہوگی۔</p>
<p>ادھر امریکی ڈالر بھی محدود رہا اور گزشتہ ہفتے کے اضافے سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے حالیہ سخت مؤقف کے بعد رواں ماہ امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق ستمبر میں امریکی شرح سود بڑھنے کے امکانات 65 فیصد تک پہنچ گئے، جو ایک ہفتہ قبل 41 فیصد تھے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 99.37 پر آگیا، جبکہ یورو 1.1623 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.35575 ڈالر پر مستحکم رہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.7172 اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5921 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290685</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 09:09:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/01090732ac61633.webp" type="image/webp" medium="image" height="649" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/01090732ac61633.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات، ڈالر دو ہفتے کی بلند سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر پیر کو دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کاروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے سخت گیر بیانات کے بعد ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا دیے۔ دوسری جانب جاپانی ین دوبارہ 160 ین فی ڈالر کی اہم سطح سے نیچے چلا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیون وارش نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر پالیسی سازوں کو یہ اعتماد حاصل نہ ہوا کہ افراط زر 2 فیصد کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو امریکی مرکزی بینک کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے بیان کے بعد ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات بڑھ کر 57 فیصد ہوگئے، جبکہ 2 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار ایک ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح 4.33 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی کے ایف ایکس اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ نے کہا کہ وارش کی جانب سے افراط زر کے ہدف کے دفاع نے ڈالر پر موجود ایک بڑی رکاوٹ کم کردی اور توجہ دوبارہ امریکی معاشی بنیادوں پر مرکوز کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکی معاشی اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، خصوصاً جمعہ کو جاری ہونے والی نان فارم پے رولز رپورٹ اور آئندہ ہفتے کے افراط زر کے اعداد و شمار، جو ستمبر کے فیڈ اجلاس سے قبل شرح سود کی توقعات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے بعد 99.6 پر آگیا، تاہم رواں ماہ مسلسل دوسری ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہے۔ یورو 0.1 فیصد اضافے سے 1.1591 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3539 ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ین معمولی کمزور ہو کر 160.01 فی ڈالر پر آگیا۔ 160 کی سطح کو جاپانی حکام کی ممکنہ کرنسی مداخلت کے خطرے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توجہ پیر اور منگل کو امریکا میں ہونے والے جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز کے اجلاس پر بھی مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر پیر کو دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کاروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے سخت گیر بیانات کے بعد ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا دیے۔ دوسری جانب جاپانی ین دوبارہ 160 ین فی ڈالر کی اہم سطح سے نیچے چلا گیا۔</strong></p>
<p>کیون وارش نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر پالیسی سازوں کو یہ اعتماد حاصل نہ ہوا کہ افراط زر 2 فیصد کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو امریکی مرکزی بینک کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے بیان کے بعد ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات بڑھ کر 57 فیصد ہوگئے، جبکہ 2 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار ایک ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح 4.33 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>او سی بی سی کے ایف ایکس اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ نے کہا کہ وارش کی جانب سے افراط زر کے ہدف کے دفاع نے ڈالر پر موجود ایک بڑی رکاوٹ کم کردی اور توجہ دوبارہ امریکی معاشی بنیادوں پر مرکوز کردی ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکی معاشی اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، خصوصاً جمعہ کو جاری ہونے والی نان فارم پے رولز رپورٹ اور آئندہ ہفتے کے افراط زر کے اعداد و شمار، جو ستمبر کے فیڈ اجلاس سے قبل شرح سود کی توقعات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے بعد 99.6 پر آگیا، تاہم رواں ماہ مسلسل دوسری ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہے۔ یورو 0.1 فیصد اضافے سے 1.1591 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3539 ڈالر پر رہا۔</p>
<p>دوسری جانب ین معمولی کمزور ہو کر 160.01 فی ڈالر پر آگیا۔ 160 کی سطح کو جاپانی حکام کی ممکنہ کرنسی مداخلت کے خطرے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کی توجہ پیر اور منگل کو امریکا میں ہونے والے جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز کے اجلاس پر بھی مرکوز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290631</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2026 09:09:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/31090727ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/31090727ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ پالیسی کے اشاروں کا انتظار، ڈالر ایک ہفتے کی بلند سطح کے قریب مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290528/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعہ کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ایک ہفتے کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں تقریر کے منتظر ہیں تاکہ مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اشارے حاصل کیے جا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی تجارت کے آغاز پر ڈالر انڈیکس، جو 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر ظاہر کرتا ہے، معمولی تبدیلی کے ساتھ 99.13 پر رہا۔ رواں ہفتے ڈالر انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ مسلسل دوسری ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہے اور اگست میں تقریباً 0.7 فیصد گرنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اور برطانوی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب رہے۔ یورو 1.1652 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3597 ڈالر پر موجود تھا، تاہم دونوں کرنسیاں مسلسل دوسرے ماہانہ اضافے کی جانب گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین 159.34 فی ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ حالیہ سرکاری مداخلت کے باعث حاصل ہونے والی کچھ قدر واپس کھونے کے باوجود ین اگست میں 1.3 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توجہ اب کیون وارش کی جیکسن ہول میں پہلی تقریر پر مرکوز ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ افراط زر پر قابو پانے اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ بعض دیگر فیڈ حکام نے بھی جمعرات کو امریکی افراط زر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرح سود میں اضافے کے امکان کا عندیہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کا امکان تقریباً 35 فیصد جبکہ دسمبر تک یہ امکان 75 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار 4.676 فیصد پر بلند رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بٹ کوائن 0.5 فیصد اضافے سے 80,620.33 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعہ کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ایک ہفتے کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں تقریر کے منتظر ہیں تاکہ مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اشارے حاصل کیے جا سکیں۔</strong></p>
<p>ایشیائی تجارت کے آغاز پر ڈالر انڈیکس، جو 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر ظاہر کرتا ہے، معمولی تبدیلی کے ساتھ 99.13 پر رہا۔ رواں ہفتے ڈالر انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ مسلسل دوسری ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہے اور اگست میں تقریباً 0.7 فیصد گرنے کا امکان ہے۔</p>
<p>یورو اور برطانوی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب رہے۔ یورو 1.1652 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3597 ڈالر پر موجود تھا، تاہم دونوں کرنسیاں مسلسل دوسرے ماہانہ اضافے کی جانب گامزن ہیں۔</p>
<p>جاپانی ین 159.34 فی ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ حالیہ سرکاری مداخلت کے باعث حاصل ہونے والی کچھ قدر واپس کھونے کے باوجود ین اگست میں 1.3 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کی توجہ اب کیون وارش کی جیکسن ہول میں پہلی تقریر پر مرکوز ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ افراط زر پر قابو پانے اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ بعض دیگر فیڈ حکام نے بھی جمعرات کو امریکی افراط زر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرح سود میں اضافے کے امکان کا عندیہ دیا۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کا امکان تقریباً 35 فیصد جبکہ دسمبر تک یہ امکان 75 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار 4.676 فیصد پر بلند رہی۔</p>
<p>دریں اثنا، بٹ کوائن 0.5 فیصد اضافے سے 80,620.33 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290528</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/280854307bfe9e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/280854307bfe9e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات، ڈالر آٹھ روز کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290479/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی افراط زر اور دیگر معاشی اعداد و شمار کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات میں معمولی بہتری کے باعث جمعرات کو ڈالر آٹھ روز کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں جیکسن ہول میں ہونے والے مرکزی بینکوں کے سالانہ سمپوزیم پر مرکوز ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تک 12 ماہ میں پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (پی سی ای) پرائس انڈیکس 3.7 فیصد بڑھا، جو جون کے برابر اور ماہرین اقتصادیات کی 3.6 فیصد کی توقع سے معمولی زیادہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر پی سی ای میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جون میں اس میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ پیک کے ماہر اقتصادیات ریان ویلز نے کہا کہ مہنگائی کے اعداد و شمار نے سال کے اختتام تک فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقع کو برقرار رکھا ہے، تاہم جیکسن ہول میں فیڈ چیئرمین کیون وارش کی متوقع تقریر اس حوالے سے اہم امتحان ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 0.21 فیصد اضافے سے 99.13 پر پہنچ گیا، جو 19 اگست کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سرمایہ کار بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر ریوزو ہیمینو کی تقریر پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ منی مارکیٹ کے مطابق اگلے ماہ  بی او جے کی جانب سے شرح سود بڑھانے کا امکان 87 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بڑی کرنسیوں میں یورو 1.1655 ڈالر، برطانوی پاؤنڈ 1.3592 ڈالر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.18 فیصد اضافے سے 0.7181 ڈالر پر رہا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.55 فیصد بڑھ کر 78,874.60 ڈالر جبکہ ایتھر 1.07 فیصد اضافے سے 2,498.35 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی افراط زر اور دیگر معاشی اعداد و شمار کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات میں معمولی بہتری کے باعث جمعرات کو ڈالر آٹھ روز کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں جیکسن ہول میں ہونے والے مرکزی بینکوں کے سالانہ سمپوزیم پر مرکوز ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تک 12 ماہ میں پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (پی سی ای) پرائس انڈیکس 3.7 فیصد بڑھا، جو جون کے برابر اور ماہرین اقتصادیات کی 3.6 فیصد کی توقع سے معمولی زیادہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر پی سی ای میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جون میں اس میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>ویسٹ پیک کے ماہر اقتصادیات ریان ویلز نے کہا کہ مہنگائی کے اعداد و شمار نے سال کے اختتام تک فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقع کو برقرار رکھا ہے، تاہم جیکسن ہول میں فیڈ چیئرمین کیون وارش کی متوقع تقریر اس حوالے سے اہم امتحان ہوگی۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 0.21 فیصد اضافے سے 99.13 پر پہنچ گیا، جو 19 اگست کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، سرمایہ کار بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر ریوزو ہیمینو کی تقریر پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ منی مارکیٹ کے مطابق اگلے ماہ  بی او جے کی جانب سے شرح سود بڑھانے کا امکان 87 فیصد ہے۔</p>
<p>دیگر بڑی کرنسیوں میں یورو 1.1655 ڈالر، برطانوی پاؤنڈ 1.3592 ڈالر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.18 فیصد اضافے سے 0.7181 ڈالر پر رہا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.55 فیصد بڑھ کر 78,874.60 ڈالر جبکہ ایتھر 1.07 فیصد اضافے سے 2,498.35 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290479</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 08:54:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/270853257bfe9e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/270853257bfe9e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھر ہو تو اپنا پروگرام، میزان بینک کی ہاؤسنگ فنانسنگ 3 ارب روپے سے تجاوز کرگئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289781/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک میزان بینک نے حکومت پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ اقدام وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا کے تحت مجموعی طور پر 3.05 ارب روپے سے زائد کی فنانسنگ جاری کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سنگِ میل میزان بینک کی شریعہ کمپلائنٹ ہاؤسنگ فنانس سہولیات کو بڑھتی ہوئی ترجیح اور اخلاقی، شفاف اور صارف مرکز فنانسنگ کے ذریعے گھر کی ملکیت کو مزید قابل رسائی بنانے کے بینک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا  ملک گیر سبسڈائزڈ ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے، جس کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف نے 30 اپریل 2026 کو کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پروگرام کا مقصد پاکستان میں رہائش کی کمی سے نمٹنے کے لیے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے سستی اور طویل مدتی فنانسنگ فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا بھی پروگرام کا مقصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام نجی شعبے، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق میزان بینک نے گھر ہو تو اپنا پروگرام کے تحت 3,000 سے زائد ہاؤسنگ فنانس درخواستوں کی منظوری دی، جن کے تحت مجموعی منظور شدہ فنانسنگ کی رقم 22.557 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے میزان بینک کے گروپ ہیڈ، کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ سستے گھر کی ملکیت کو فروغ دینا میزان بینک کی اہم اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 3,000 سے زائد منظور شدہ درخواستیں زیرِ عمل ہیں اور بینک حکومت کے سستے ہاؤسنگ کے ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ اخلاقی اسلامی فنانسنگ کے ذریعے مزید ہزاروں پاکستانی خاندانوں کو اپنا گھر حاصل کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک میزان بینک نے حکومت پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ اقدام وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا کے تحت مجموعی طور پر 3.05 ارب روپے سے زائد کی فنانسنگ جاری کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سنگِ میل میزان بینک کی شریعہ کمپلائنٹ ہاؤسنگ فنانس سہولیات کو بڑھتی ہوئی ترجیح اور اخلاقی، شفاف اور صارف مرکز فنانسنگ کے ذریعے گھر کی ملکیت کو مزید قابل رسائی بنانے کے بینک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا  ملک گیر سبسڈائزڈ ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے، جس کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف نے 30 اپریل 2026 کو کیا تھا۔</p>
<p>اس پروگرام کا مقصد پاکستان میں رہائش کی کمی سے نمٹنے کے لیے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے سستی اور طویل مدتی فنانسنگ فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا بھی پروگرام کا مقصد ہے۔</p>
<p>یہ پروگرام نجی شعبے، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق میزان بینک نے گھر ہو تو اپنا پروگرام کے تحت 3,000 سے زائد ہاؤسنگ فنانس درخواستوں کی منظوری دی، جن کے تحت مجموعی منظور شدہ فنانسنگ کی رقم 22.557 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔</p>
<p>اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے میزان بینک کے گروپ ہیڈ، کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ سستے گھر کی ملکیت کو فروغ دینا میزان بینک کی اہم اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 3,000 سے زائد منظور شدہ درخواستیں زیرِ عمل ہیں اور بینک حکومت کے سستے ہاؤسنگ کے ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ اخلاقی اسلامی فنانسنگ کے ذریعے مزید ہزاروں پاکستانی خاندانوں کو اپنا گھر حاصل کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289781</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 11:39:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/10113808ee9c0dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="367" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/10113808ee9c0dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان اور امریکا کی مشترکہ ین خریداری مداخلت کی تصدیق، مزید اقدامات کا عندیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289497/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کی وزارت خزانہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ جاپان اور امریکا نے ین کی قدر میں مسلسل کمی روکنے کے لیے مشترکہ طور پر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر معمولی اقدام ین کو 40 سال کی کم ترین سطح تک گرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد ین اور جاپانی حکومتی بانڈز میں شدید فروخت کے عالمی اثرات کو محدود کرنا ہے، کیونکہ اس سے امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی وزارت خزانہ کے مطابق جمعہ کو امریکی محکمہ خزانہ کے تعاون سے کی گئی ین خریداری کی مداخلت نے حالیہ مہینوں میں جاپانی کرنسی میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ اور بے ترتیبی کو روکنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی اور مزید مشترکہ مداخلت سے گریز نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ واشنگٹن جاپان کی مدد کر رہا ہے تاکہ ین کو سہارا دیا جا سکے اور عالمی معیشت کو فائدہ پہنچے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی جمعہ کے اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے دریغ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی تجارت میں ڈالر کے مقابلے میں ین مضبوط ہوا۔ ڈالر 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 156.50 ین کی سطح تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ حکومت بینک آف جاپان کی مالیاتی پالیسی کے ساتھ مل کر ین کی گراوٹ روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور جاپان و امریکا کے درمیان شرح سود کا فرق جیسے بنیادی عوامل اب بھی ین پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس لیے طویل مدت میں کرنسی کو مضبوط کرنا ایک چیلنج رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کی وزارت خزانہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ جاپان اور امریکا نے ین کی قدر میں مسلسل کمی روکنے کے لیے مشترکہ طور پر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ غیر معمولی اقدام ین کو 40 سال کی کم ترین سطح تک گرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد ین اور جاپانی حکومتی بانڈز میں شدید فروخت کے عالمی اثرات کو محدود کرنا ہے، کیونکہ اس سے امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>جاپانی وزارت خزانہ کے مطابق جمعہ کو امریکی محکمہ خزانہ کے تعاون سے کی گئی ین خریداری کی مداخلت نے حالیہ مہینوں میں جاپانی کرنسی میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ اور بے ترتیبی کو روکنے میں مدد دی۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی اور مزید مشترکہ مداخلت سے گریز نہیں کرے گی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ واشنگٹن جاپان کی مدد کر رہا ہے تاکہ ین کو سہارا دیا جا سکے اور عالمی معیشت کو فائدہ پہنچے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی جمعہ کے اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے دریغ نہیں کرے گا۔</p>
<p>اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی تجارت میں ڈالر کے مقابلے میں ین مضبوط ہوا۔ ڈالر 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 156.50 ین کی سطح تک آ گیا۔</p>
<p>جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ حکومت بینک آف جاپان کی مالیاتی پالیسی کے ساتھ مل کر ین کی گراوٹ روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔</p>
<p>تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور جاپان و امریکا کے درمیان شرح سود کا فرق جیسے بنیادی عوامل اب بھی ین پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس لیے طویل مدت میں کرنسی کو مضبوط کرنا ایک چیلنج رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289497</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 09:17:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/030914581648db5.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/030914581648db5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امارات ایئرلائن نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے فلائٹ بکنگ کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں شامل امارات ایئرلائن نے باضابطہ طور پر کرپٹو ادائیگی سروس متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے صارفین اب ایئرلائن کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر ڈیجیٹل ادائیگی کر سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین اب امارات کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر ٹکٹ بک کرتے وقت ادائیگی کے مرحلے میں کرپٹو ادائیگی کا انتخاب کر سکیں گے۔ تمام لین دین محفوظ طریقے سے اور متحدہ عرب امارات کے ضابطہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت فی الحال متحدہ عرب امارات کے اہل رہائشیوں کے لیے دستیاب ہوگی، جو اماراتی درہم میں قیمت مقرر اور ادائیگی کی جانے والی بکنگز کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنی مختلف مالیاتی خدمات پیش کرتی ہے، جن میں ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینج، موبائل ایپ اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس والیٹ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد دنیا بھر میں 100 ملین سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امارات کے مطابق یہ سہولت دبئی میں قائم ادارے کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جو متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک سے ورچوئل اثاثہ خدمات کے لیے لائسنس حاصل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام امارات ایئرلائن اور کرپٹو ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنی کے درمیان 2025 میں اعلان کردہ شراکت داری پر عملدرآمد کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امارات کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور چیف کمرشل آفیسر عدنان کاظم نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کو سفری ادائیگیوں کے لیے مزید سہولت اور انتخاب فراہم کرنا ہے، جبکہ نئی ڈیجیٹل نسل کی بدلتی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو ادائیگی کمپنی کے صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر ایرک انزیانی نے کہا کہ امارات کے ساتھ شراکت داری ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کے جدت پر مبنی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین موبائل پر بکنگ کے دوران ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے ادائیگی مکمل کر سکیں گے، جبکہ ڈیسک ٹاپ صارفین کیو آر کوڈ اسکین کرکے ادائیگی کی تصدیق کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں شامل امارات ایئرلائن نے باضابطہ طور پر کرپٹو ادائیگی سروس متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے صارفین اب ایئرلائن کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر ڈیجیٹل ادائیگی کر سکیں گے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین اب امارات کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر ٹکٹ بک کرتے وقت ادائیگی کے مرحلے میں کرپٹو ادائیگی کا انتخاب کر سکیں گے۔ تمام لین دین محفوظ طریقے سے اور متحدہ عرب امارات کے ضابطہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔</p>
<p>یہ سہولت فی الحال متحدہ عرب امارات کے اہل رہائشیوں کے لیے دستیاب ہوگی، جو اماراتی درہم میں قیمت مقرر اور ادائیگی کی جانے والی بکنگز کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔</p>
<p>کرپٹو ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنی مختلف مالیاتی خدمات پیش کرتی ہے، جن میں ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینج، موبائل ایپ اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس والیٹ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد دنیا بھر میں 100 ملین سے زائد ہے۔</p>
<p>امارات کے مطابق یہ سہولت دبئی میں قائم ادارے کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جو متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک سے ورچوئل اثاثہ خدمات کے لیے لائسنس حاصل کر چکا ہے۔</p>
<p>یہ اقدام امارات ایئرلائن اور کرپٹو ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنی کے درمیان 2025 میں اعلان کردہ شراکت داری پر عملدرآمد کا حصہ ہے۔</p>
<p>امارات کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور چیف کمرشل آفیسر عدنان کاظم نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کو سفری ادائیگیوں کے لیے مزید سہولت اور انتخاب فراہم کرنا ہے، جبکہ نئی ڈیجیٹل نسل کی بدلتی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔</p>
<p>کرپٹو ادائیگی کمپنی کے صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر ایرک انزیانی نے کہا کہ امارات کے ساتھ شراکت داری ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کے جدت پر مبنی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>صارفین موبائل پر بکنگ کے دوران ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے ادائیگی مکمل کر سکیں گے، جبکہ ڈیسک ٹاپ صارفین کیو آر کوڈ اسکین کرکے ادائیگی کی تصدیق کر سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289410</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 10:34:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/31103303213ceea.webp" type="image/webp" medium="image" height="397" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/31103303213ceea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی، ڈالر مستحکم، ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔</p>
<p>ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</p>
<p>بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔</p>
<p>یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289066</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23090841dbbf740.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23090841dbbf740.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ین 163 کی سطح سے نیچے آگیا، جاپانی مداخلت کے خدشات بڑھ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی بانڈز کی بلند منافع بخش شرحوں کے باعث جاپانی ین بدھ کو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کار جاپان کی جانب سے ممکنہ کرنسی مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو نیویارک ٹریڈنگ کے دوران ین فی ڈالر 163.24 کی سطح تک گر گیا، جو 1986 کے آخر کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔ ایشیائی کاروباری اوقات میں بھی ین تقریباً 163.21 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی افواج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارھویں رات حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری  کی حیثیت سے مزید تقویت ملی۔ دولتِ مشترکہ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ڈالر کی حمایت کرتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس کا مثبت تعلق پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو معمولی کمی کے بعد 1.1401 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کے قریب رہا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے گر کر 1.3385 ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کار برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی بانڈز کی بلند منافع بخش شرحوں کے باعث جاپانی ین بدھ کو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سرمایہ کار جاپان کی جانب سے ممکنہ کرنسی مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>منگل کو نیویارک ٹریڈنگ کے دوران ین فی ڈالر 163.24 کی سطح تک گر گیا، جو 1986 کے آخر کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔ ایشیائی کاروباری اوقات میں بھی ین تقریباً 163.21 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>امریکی افواج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارھویں رات حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری  کی حیثیت سے مزید تقویت ملی۔ دولتِ مشترکہ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ڈالر کی حمایت کرتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس کا مثبت تعلق پایا جاتا ہے۔</p>
<p>یورو معمولی کمی کے بعد 1.1401 ڈالر پر جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کے قریب رہا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے گر کر 1.3385 ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کار برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289024</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 09:19:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/220918225003ee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="649" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/220918225003ee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288970/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کے درمیان امریکی ڈالر منگل کو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 162.50 ین پر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1415 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3434 ڈالر پر مضبوط رہا، جس کی وجہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا عزم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.96 پر مستحکم رہا، جو 15 جولائی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، تاہم ایران کو ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز ملنے سے کشیدگی میں کمی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یورپی مرکزی بینک سے توقع ہے کہ وہ اس ہفتے شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم بلند تیل کی قیمتوں کے باعث ستمبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مضبوط ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کے درمیان امریکی ڈالر منگل کو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 162.50 ین پر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1415 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3434 ڈالر پر مضبوط رہا، جس کی وجہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا عزم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.96 پر مستحکم رہا، جو 15 جولائی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، تاہم ایران کو ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز ملنے سے کشیدگی میں کمی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یورپی مرکزی بینک سے توقع ہے کہ وہ اس ہفتے شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم بلند تیل کی قیمتوں کے باعث ستمبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مضبوط ہو گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288970</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 09:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/210917003099322.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/210917003099322.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ڈالر مزید مضبوط ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیر کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر نے بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں معمولی مضبوطی حاصل کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا، جو 9 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1426 ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3445 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.6975 امریکی ڈالر، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0.5833 امریکی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی نسبتاً پرسکون رہی، تاہم مجموعی طور پر امریکی ڈالر مستحکم رہا جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی قدر سے متعلق خدشات اور ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی بعض شرائط معطل کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز پر 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ 90.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ امریکا نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مالیاتی منڈیاں اب بھی توقع کر رہی ہیں کہ 29 جولائی کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کے امکانات 85.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 64,637.89 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1,869.72 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیر کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر نے بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں معمولی مضبوطی حاصل کر لی۔</strong></p>
<p>امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا، جو 9 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔</p>
<p>یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1426 ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3445 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.6975 امریکی ڈالر، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0.5833 امریکی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی نسبتاً پرسکون رہی، تاہم مجموعی طور پر امریکی ڈالر مستحکم رہا جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی قدر سے متعلق خدشات اور ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی بعض شرائط معطل کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز پر 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ 90.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ امریکا نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔</p>
<p>ادھر مالیاتی منڈیاں اب بھی توقع کر رہی ہیں کہ 29 جولائی کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کے امکانات 85.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 64,637.89 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1,869.72 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288921</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 09:29:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/20092725af47027.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/20092725af47027.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
