<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 05:02:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 05:02:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289111/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ اور ایران و امریکہ اسرائیل جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات کے باعث جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی، تاہم اس کے باوجود رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کے مستقبل کے معاہدے 3.59 ڈالر (3.57 فیصد) کی کمی کے ساتھ 97.10 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے بعد برینٹ کی قیمت مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی تھی۔ تاہم اس کمی کے باوجود برینٹ اس ہفتے مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کے اضافے کی جانب گامزن ہے۔ دوسری جانب  امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے معاہدے 3.14 ڈالر (3.41 فیصد) گر کر 89.05 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جو ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد اضافے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تیل مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور سپلائی کی بندش نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیلا ہے، کیونکہ ایندھن کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں حملوں کے بعد ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کو شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار ادارہ جے پی مارگن کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی میں ہر اضافی ماہ کی رکاوٹ برینٹ کی قیمت میں 7 سے 8 ڈالر فی بیرل کا اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ماہانہ اوسط قیمتیں 114 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں اور قازقستان کی آئل ایکسپورٹ ٹرمینل کی عارضی بندش نے بھی عالمی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ اور ایران و امریکہ اسرائیل جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات کے باعث جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی، تاہم اس کے باوجود رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کے مستقبل کے معاہدے 3.59 ڈالر (3.57 فیصد) کی کمی کے ساتھ 97.10 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے بعد برینٹ کی قیمت مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی تھی۔ تاہم اس کمی کے باوجود برینٹ اس ہفتے مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کے اضافے کی جانب گامزن ہے۔ دوسری جانب  امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے معاہدے 3.14 ڈالر (3.41 فیصد) گر کر 89.05 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جو ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد اضافے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تیل مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور سپلائی کی بندش نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیلا ہے، کیونکہ ایندھن کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں حملوں کے بعد ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کو شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کار ادارہ جے پی مارگن کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی میں ہر اضافی ماہ کی رکاوٹ برینٹ کی قیمت میں 7 سے 8 ڈالر فی بیرل کا اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ماہانہ اوسط قیمتیں 114 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں اور قازقستان کی آئل ایکسپورٹ ٹرمینل کی عارضی بندش نے بھی عالمی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289111</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 19:14:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2419101076a3329.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2419101076a3329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد خام تیل دوبارہ 100 ڈالر کی سطح عبور کر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے دعوے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس پیش رفت نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت تقریباً معطل ہونے کے باعث عالمی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات مزید بڑھا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت صبح 10:52 بجے (امریکی وقت) / 1452 جی ایم ٹی تک 6.64 ڈالر یا 7 فیصد اضافے کے بعد 100.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو مئی کے اواخر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی۔ عالمی معیار کے اس خام تیل کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور مسلسل نویں روز تکنیکی لحاظ سے اوور باٹ سطح پر رہی، جو ستمبر 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 5.18 ڈالر یا 6 فیصد اضافے کے بعد 92.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو 11 جون کے بعد پہلی مرتبہ 90 ڈالر سے اوپر گیا۔ دونوں معاہدوں میں مسلسل پانچویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹاڈور اکنامکس کے چیف اکنامسٹ ٹِم سنائیڈر نے کہا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملے نے خام تیل کی عالمی قیمتوں کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی تجارت کے لیے ایک اور اہم بحری گزرگاہ متاثر ہونے کے باعث سپلائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سعودی-آئل-ٹینکروں-پر-حملہ" href="#سعودی-آئل-ٹینکروں-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے سعودی عرب سے تیل لے جانے والے جہازوں کو باب المندب میں نشانہ بنا کر ایران سے جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سعودی عرب سے روانہ ہونے والی تیل کی ترسیل پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے جمعرات کو ایک فوجی کارروائی میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعد ازاں سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران حملے کے نتیجے میں دونوں میں سے ایک ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر 2027 تک آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ اگلے سال اس کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق اگر باب المندب اور نہر سویز بھی مسلسل متاثر رہیں تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکروں نے واپسی اختیار کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں اور ”مکمل طور پر بند“ رہے گی، اور ایران سے رابطہ کیے بغیر کسی بھی آئل ٹینکر کو داخل یا خارج ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنووو کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کے باعث غیر ایرانی آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد ایرانی خام تیل کی لوڈنگ، جو رواں ماہ کے آغاز میں 15 سے 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی، غالباً صفر پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے کم جہاز گزرنے کے باعث گزشتہ سات روز کے دوران خلیجی خطے میں خام تیل کی لوڈنگ کم ہو کر 25 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ گزشتہ 30 روز کے دوران یہ اوسطاً 60 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی حملے مکمل کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکہ اس کے کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے دعوے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس پیش رفت نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت تقریباً معطل ہونے کے باعث عالمی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات مزید بڑھا دیے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت صبح 10:52 بجے (امریکی وقت) / 1452 جی ایم ٹی تک 6.64 ڈالر یا 7 فیصد اضافے کے بعد 100.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو مئی کے اواخر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی۔ عالمی معیار کے اس خام تیل کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور مسلسل نویں روز تکنیکی لحاظ سے اوور باٹ سطح پر رہی، جو ستمبر 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 5.18 ڈالر یا 6 فیصد اضافے کے بعد 92.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو 11 جون کے بعد پہلی مرتبہ 90 ڈالر سے اوپر گیا۔ دونوں معاہدوں میں مسلسل پانچویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>میٹاڈور اکنامکس کے چیف اکنامسٹ ٹِم سنائیڈر نے کہا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملے نے خام تیل کی عالمی قیمتوں کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی تجارت کے لیے ایک اور اہم بحری گزرگاہ متاثر ہونے کے باعث سپلائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<h3><a id="سعودی-آئل-ٹینکروں-پر-حملہ" href="#سعودی-آئل-ٹینکروں-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ</h3>
<p>حوثیوں نے سعودی عرب سے تیل لے جانے والے جہازوں کو باب المندب میں نشانہ بنا کر ایران سے جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سعودی عرب سے روانہ ہونے والی تیل کی ترسیل پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>حوثیوں نے جمعرات کو ایک فوجی کارروائی میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعد ازاں سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران حملے کے نتیجے میں دونوں میں سے ایک ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر 2027 تک آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ اگلے سال اس کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق اگر باب المندب اور نہر سویز بھی مسلسل متاثر رہیں تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکروں نے واپسی اختیار کر لی۔</p>
<p>پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں اور ”مکمل طور پر بند“ رہے گی، اور ایران سے رابطہ کیے بغیر کسی بھی آئل ٹینکر کو داخل یا خارج ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنووو کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کے باعث غیر ایرانی آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد ایرانی خام تیل کی لوڈنگ، جو رواں ماہ کے آغاز میں 15 سے 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی، غالباً صفر پر آ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے کم جہاز گزرنے کے باعث گزشتہ سات روز کے دوران خلیجی خطے میں خام تیل کی لوڈنگ کم ہو کر 25 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ گزشتہ 30 روز کے دوران یہ اوسطاً 60 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔</p>
<p>ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی حملے مکمل کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکہ اس کے کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289064</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 20:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2308383841d5fcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2308383841d5fcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 4.2 فیصد اضافے کے بعد 94.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 95.24 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کر گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.33 فیصد اضافے کے ساتھ 87.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس نے 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ریکارڈ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل گیارھویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے باب المندب سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پیش رفت سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز کی طرح عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نیا حساس محاذ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تاجر اب دونوں اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کے باعث چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے جانے والے تین آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے یمن کے ساحل کے بجائے نہر سویز کا رخ کر لیا، جبکہ ایشیائی ریفائنریز بھی سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل کو نہر سویز اور افریقا کے راستے منگوانے کے متبادل انتظامات کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافہ جبکہ پٹرول کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی نظریں اب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 4.2 فیصد اضافے کے بعد 94.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 95.24 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کر گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.33 فیصد اضافے کے ساتھ 87.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس نے 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ریکارڈ کی۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل گیارھویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا۔</p>
<p>ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے باب المندب سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پیش رفت سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز کی طرح عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نیا حساس محاذ بن سکتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تاجر اب دونوں اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ان خدشات کے باعث چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے جانے والے تین آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے یمن کے ساحل کے بجائے نہر سویز کا رخ کر لیا، جبکہ ایشیائی ریفائنریز بھی سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل کو نہر سویز اور افریقا کے راستے منگوانے کے متبادل انتظامات کر رہی ہیں۔</p>
<p>امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافہ جبکہ پٹرول کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی نظریں اب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289022</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 15:51:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221549453fde53e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221549453fde53e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران کے جوابی حملوں اور حوثیوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر تیل پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288969/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا اور وہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.12 ڈالر (2.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 91.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.80 ڈالر (2.2 فیصد) بڑھ کر 85.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل 10 جون کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی جانب گامزن تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 11 جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب تھا۔ برینٹ مسلسل ساتویں روز تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری (اوور باٹ) کی کیفیت میں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی خام تیل لے کر ایشیا جانے والے دو آئل ٹینکروں نے منگل کو بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ بدل لیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے رات گئے ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز میں کم از کم ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای بی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خوش بین حلقے امریکی حملوں کو ممکنہ سمجھوتے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے قبل مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کی آخری کوشش قرار دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر تعطل طویل ہوگیا تو توانائی کی رسد غیر یقینی رہے گی، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ بھی برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تنازع کو مزید وسعت دے دی، جس سے خلیج سے باہر بھی عالمی توانائی کی رسد اور تجارت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے کر روانہ ہونے والے دونوں ٹینکروں نے یو ٹرن لیتے ہوئے نہرِ سویز کی سمت رخ کر لیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے دنیا کے ایک اور بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جوائنٹ آرگنائزیشنز ڈیٹا انیشی ایٹو (جوڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سعودی عرب کی خام تیل برآمدات مسلسل تیسرے ماہ کم ہو کر ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایشیا میں بھی بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے سے سعودی عرب کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کے خدشات کے باعث فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" href="#امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکی تیل ذخائر پر نظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی کی نظریں اب امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کی منگل کو جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ اور امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (ای آئی اے) کی بدھ کو آنے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 17 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی توانائی کمپنیوں نے خام تیل کے ذخائر سے پانچ لاکھ بیرل نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوا تو یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہوگا جس میں ذخائر میں کمی آئے گی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی ہفتے ذخائر میں 32 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران اسی عرصے میں اوسطاً 12 لاکھ بیرل کمی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا اور وہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.12 ڈالر (2.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 91.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.80 ڈالر (2.2 فیصد) بڑھ کر 85.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>برینٹ خام تیل 10 جون کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی جانب گامزن تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 11 جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب تھا۔ برینٹ مسلسل ساتویں روز تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری (اوور باٹ) کی کیفیت میں رہا۔</p>
<p>یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی خام تیل لے کر ایشیا جانے والے دو آئل ٹینکروں نے منگل کو بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ بدل لیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے رات گئے ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز میں کم از کم ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آیا۔</p>
<p>ایس ای بی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خوش بین حلقے امریکی حملوں کو ممکنہ سمجھوتے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے قبل مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کی آخری کوشش قرار دے سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر تعطل طویل ہوگیا تو توانائی کی رسد غیر یقینی رہے گی، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ بھی برقرار رہے گا۔</p>
<p>حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تنازع کو مزید وسعت دے دی، جس سے خلیج سے باہر بھی عالمی توانائی کی رسد اور تجارت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے کر روانہ ہونے والے دونوں ٹینکروں نے یو ٹرن لیتے ہوئے نہرِ سویز کی سمت رخ کر لیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے دنیا کے ایک اور بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جوائنٹ آرگنائزیشنز ڈیٹا انیشی ایٹو (جوڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سعودی عرب کی خام تیل برآمدات مسلسل تیسرے ماہ کم ہو کر ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئیں۔</p>
<p>ادھر ایشیا میں بھی بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے سے سعودی عرب کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کے خدشات کے باعث فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔</p>
<h3><a id="امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" href="#امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکی تیل ذخائر پر نظر</h3>
<p>عالمی منڈی کی نظریں اب امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کی منگل کو جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ اور امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (ای آئی اے) کی بدھ کو آنے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 17 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی توانائی کمپنیوں نے خام تیل کے ذخائر سے پانچ لاکھ بیرل نکالے۔</p>
<p>اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوا تو یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہوگا جس میں ذخائر میں کمی آئے گی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی ہفتے ذخائر میں 32 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران اسی عرصے میں اوسطاً 12 لاکھ بیرل کمی دیکھی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288969</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 22:27:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21091105a07182d.webp" type="image/webp" medium="image" height="330" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21091105a07182d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے خطرے کے باوجود امریکہ ایران مذاکرات کی امید پر تیل کی قیمتیں مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288919/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث قیمتیں ابتدائی اضافے کے بعد واپس آئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل 18 سینٹس اضافے کے ساتھ 88.28 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 34 سینٹس کمی کے ساتھ 82.15 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ثالثوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جس سے عالمی مارکیٹ پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی ٹریفک انتہائی کم ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی جہازوں کی بحالی تقریباً رک چکی ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر محفوظ سمندری راستے پر دھماکوں کے بعد دو آئل ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے سے تیل کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی تھی۔ مزید برآں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی تنصیبات پر حملہ کیا تو حوثی بحیرہ احمر کا راستہ بھی مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث قیمتیں ابتدائی اضافے کے بعد واپس آئیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل 18 سینٹس اضافے کے ساتھ 88.28 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 34 سینٹس کمی کے ساتھ 82.15 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ثالثوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جس سے عالمی مارکیٹ پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی ٹریفک انتہائی کم ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی جہازوں کی بحالی تقریباً رک چکی ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر محفوظ سمندری راستے پر دھماکوں کے بعد دو آئل ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے سے تیل کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی تھی۔ مزید برآں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی تنصیبات پر حملہ کیا تو حوثی بحیرہ احمر کا راستہ بھی مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288919</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 19:45:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/200908337b6fef5.webp" type="image/webp" medium="image" height="330" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/200908337b6fef5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو 4 فیصد سے زائد بڑھ کر ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت اور بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی پیدا کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 3.87 ڈالر یا 4.59 فیصد اضافے کے بعد 88.10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.54 ڈالر یا 4.48 فیصد اضافے سے 82.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں عالمی معیار جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ مسلسل تیسرے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو امریکا نے ایران میں پلوں اور ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کویت میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملہ کیا۔ تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جو امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیپو آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈریو لیپو کے مطابق اگر مزید آئل ٹینکر حملوں کی زد میں آئے تو جہاز مالکان خلیج فارس میں داخل ہونے سے گریز کریں گے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی، تاہم جنگ کے بعد وہاں سے تیل کی ترسیل نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے حوثیوں پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھتا ہے تو بحیرہ احمر کا راستہ بند کردیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی یومیہ خام تیل برآمدات کا 70 فیصد سے زائد حصہ آبنائے ہرمز کے بجائے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کردیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ینبع سے خام تیل کی ترسیل اوسطاً 40 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے تقریباً 9 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو 4 فیصد سے زائد بڑھ کر ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت اور بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی پیدا کر دی۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 3.87 ڈالر یا 4.59 فیصد اضافے کے بعد 88.10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.54 ڈالر یا 4.48 فیصد اضافے سے 82.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں عالمی معیار جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ مسلسل تیسرے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو امریکا نے ایران میں پلوں اور ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کویت میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملہ کیا۔ تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جو امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔</p>
<p>لیپو آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈریو لیپو کے مطابق اگر مزید آئل ٹینکر حملوں کی زد میں آئے تو جہاز مالکان خلیج فارس میں داخل ہونے سے گریز کریں گے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی، تاہم جنگ کے بعد وہاں سے تیل کی ترسیل نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے حوثیوں پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھتا ہے تو بحیرہ احمر کا راستہ بند کردیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی یومیہ خام تیل برآمدات کا 70 فیصد سے زائد حصہ آبنائے ہرمز کے بجائے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کردیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ینبع سے خام تیل کی ترسیل اوسطاً 40 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے تقریباً 9 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288870</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 09:09:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/18090643a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/18090643a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحیرہ احمر کی بندش کا خدشہ، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288825/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور ایران کی جانب سے حوثی تحریک کو بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.05 ڈالر یا تقریباً 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.03 ڈالر یا 1.3 فیصد بڑھ کر 79.98 ڈالر فی بیرل ہوگیا، یوں گزشتہ سیشن کے نقصانات پورے ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں عالمی بینچ مارک اس ہفتے تقریباً 12 فیصد مہنگے ہوچکے ہیں۔ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اور ڈبلیو ٹی آئی مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے بدھ کو ایک ہی روز ایران پر فضائی حملوں کی دو بڑی لہریں چلائیں، جن کا زیادہ تر ہدف ایران کے جنوبی ساحلی علاقے تھے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی حملوں کی نئی لہر شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران نے اردن میں حال ہی میں توسیع کیے گئے فضائی اڈے سمیت خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین ذرائع نے بتایا کہ تہران نے اپنے اتحادی حوثیوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو بحیرہ احمر سے تیل کی برآمدات کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی کی سلامتی اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے، اور اگر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تیل کی رسد مزید متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر آئی جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 70 ڈالر کے وسط کی اہم تکنیکی سطح سے اوپر برقرار رہا تو اس کی قیمت 80 ڈالر کے وسط تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور ایران کی جانب سے حوثی تحریک کو بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.05 ڈالر یا تقریباً 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.03 ڈالر یا 1.3 فیصد بڑھ کر 79.98 ڈالر فی بیرل ہوگیا، یوں گزشتہ سیشن کے نقصانات پورے ہوگئے۔</p>
<p>دونوں عالمی بینچ مارک اس ہفتے تقریباً 12 فیصد مہنگے ہوچکے ہیں۔ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اور ڈبلیو ٹی آئی مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے بدھ کو ایک ہی روز ایران پر فضائی حملوں کی دو بڑی لہریں چلائیں، جن کا زیادہ تر ہدف ایران کے جنوبی ساحلی علاقے تھے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی حملوں کی نئی لہر شروع کی۔</p>
<p>ادھر ایران نے اردن میں حال ہی میں توسیع کیے گئے فضائی اڈے سمیت خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین ذرائع نے بتایا کہ تہران نے اپنے اتحادی حوثیوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو بحیرہ احمر سے تیل کی برآمدات کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔</p>
<p>دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی کی سلامتی اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے، اور اگر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تیل کی رسد مزید متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ادھر آئی جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 70 ڈالر کے وسط کی اہم تکنیکی سطح سے اوپر برقرار رہا تو اس کی قیمت 80 ڈالر کے وسط تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288825</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:54:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/170852506c1f602.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/170852506c1f602.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران سے بڑھتے خدشات، بحیرۂ احمر کا بحری راستہ خطرے میں، تیل ایک فیصد سے زائد مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288772/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعرات کو ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق جنگ کے دوران حملوں میں شدت آنے سے توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔ اسی دوران تہران نے یمن کے حوثیوں سے کہا کہ وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 93 سینٹ یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 85.88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 89 سینٹ یا 1.12 فیصد بڑھ کر 80.49 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسنیس کے مالیاتی منڈیوں کے چیف اسٹریٹجسٹ وائل مکارم نے کہا، ”اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر بیک وقت رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو سپلائی چین پر دباؤ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا، تیل بردار جہازوں کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی اور بحری انشورنس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک سے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی رسد کو ایک سنگین نئے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب کی آبنائے، جو بحیرۂ احمر کا مرکزی داخلی راستہ ہے، اگر بند ہوتی ہے تو توانائی کے بحران اور ایران و امریکہ کے وسیع تر تصادم میں ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب سے روزانہ 74 لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو عالمی یومیہ تیل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہیں۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے 42 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد اس کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ تہران نے خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف ”بقا کی جنگ“ لڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کشیدگی جون میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے اگلے ہی روز، بدھ کو، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی کم ہو گئی۔ بدھ کو صرف 7 جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 13 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای بی ریسرچ کے مارکیٹ تجزیہ کار اولے ہوالبیے نے کہا، ”یہ توقع کرنا معقول ہے کہ تیل کی قیمتیں 90 سے 95 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، بلکہ دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی چھو سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہونے سے خلیجی خطے سے تیل کی رسد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رسد میں اضافے کے آثار بھی نظر آئے۔ کپلر کے اعداد و شمار اور تیل کی ترسیل سے واقف ایک ذریعے کے مطابق، جولائی کے پہلے نصف میں عراق سے خام تیل کی لوڈنگ دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر اوسطاً 12 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، کیونکہ کئی ماہ تک محدود رہنے کے بعد برآمدات میں تیزی آ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعرات کو ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق جنگ کے دوران حملوں میں شدت آنے سے توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔ اسی دوران تہران نے یمن کے حوثیوں سے کہا کہ وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 93 سینٹ یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 85.88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 89 سینٹ یا 1.12 فیصد بڑھ کر 80.49 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔</p>
<p>ایکسنیس کے مالیاتی منڈیوں کے چیف اسٹریٹجسٹ وائل مکارم نے کہا، ”اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر بیک وقت رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو سپلائی چین پر دباؤ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا، تیل بردار جہازوں کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی اور بحری انشورنس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔“</p>
<p>تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک سے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی رسد کو ایک سنگین نئے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>باب المندب کی آبنائے، جو بحیرۂ احمر کا مرکزی داخلی راستہ ہے، اگر بند ہوتی ہے تو توانائی کے بحران اور ایران و امریکہ کے وسیع تر تصادم میں ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔</p>
<p>کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب سے روزانہ 74 لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو عالمی یومیہ تیل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہیں۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے 42 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔</p>
<p>امریکہ نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد اس کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ تہران نے خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف ”بقا کی جنگ“ لڑ رہا ہے۔</p>
<p>یہ کشیدگی جون میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔</p>
<p>امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے اگلے ہی روز، بدھ کو، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی کم ہو گئی۔ بدھ کو صرف 7 جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 13 تھی۔</p>
<p>ایس ای بی ریسرچ کے مارکیٹ تجزیہ کار اولے ہوالبیے نے کہا، ”یہ توقع کرنا معقول ہے کہ تیل کی قیمتیں 90 سے 95 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، بلکہ دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی چھو سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہونے سے خلیجی خطے سے تیل کی رسد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔“</p>
<p>دوسری جانب رسد میں اضافے کے آثار بھی نظر آئے۔ کپلر کے اعداد و شمار اور تیل کی ترسیل سے واقف ایک ذریعے کے مطابق، جولائی کے پہلے نصف میں عراق سے خام تیل کی لوڈنگ دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر اوسطاً 12 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، کیونکہ کئی ماہ تک محدود رہنے کے بعد برآمدات میں تیزی آ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288772</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 20:15:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16085847a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16085847a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288720/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے بدھ کو ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی اور رات گئے حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ وہ ”امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں“ کو بند کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچر 26 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 79.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ یہ قیمتیں 1214 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں۔ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، جہاں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے جون میں کئی ماہ کی لڑائی کے بعد طے پانے والی پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو مزید متاثر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی رات امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کارروائیاں تقریباً سات گھنٹے جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواباً ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت اور اردن کے مقامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر کیے گئے نئے حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبی گزرگاہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں اندازہ لگایا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان یادداشتِ مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زیادہ تک بحال ہو گئی تھیں، تاہم گزشتہ ہفتے یہ دوبارہ 50 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی کا عمل مزید تعطل کا شکار ہوا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ جنگ سے متعلق متضاد بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹجی اولے ہینسن نے کہا، ”یہ سب جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ مارکیٹ نے بڑے اعلانات پر قدرے محتاط ردعمل دینا سیکھ لیا ہے، کیونکہ اکثر یہ اعلانات عملی شکل اختیار نہیں کرتے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے بدھ کو ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اس سے قبل امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی اور رات گئے حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ وہ ”امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں“ کو بند کر دے گا۔</p>
<p>برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچر 26 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 79.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ یہ قیمتیں 1214 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>منگل کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں۔ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، جہاں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔</p>
<p>ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے جون میں کئی ماہ کی لڑائی کے بعد طے پانے والی پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو مزید متاثر کر دیا ہے۔</p>
<p>منگل کی رات امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کارروائیاں تقریباً سات گھنٹے جاری رہیں۔</p>
<p>جواباً ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت اور اردن کے مقامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر کیے گئے نئے حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبی گزرگاہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں اندازہ لگایا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان یادداشتِ مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زیادہ تک بحال ہو گئی تھیں، تاہم گزشتہ ہفتے یہ دوبارہ 50 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔</p>
<p>بینک نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی کا عمل مزید تعطل کا شکار ہوا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ جنگ سے متعلق متضاد بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>سیکسو بینک کے سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹجی اولے ہینسن نے کہا، ”یہ سب جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ مارکیٹ نے بڑے اعلانات پر قدرے محتاط ردعمل دینا سیکھ لیا ہے، کیونکہ اکثر یہ اعلانات عملی شکل اختیار نہیں کرتے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288720</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 20:38:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15091539a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15091539a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288676/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمت 12 جون کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ تاریخیں تھیں جب 17 جون کو امریکہ اور ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔جی ایم ٹی  کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.53 ڈالر یا 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 79.67 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این زی کی تجزیہ کار سونی کماری کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ سلسلہ چند ہفتے بھی نہ چل سکا۔ چنانچہ مارکیٹ اس وقت اسی تشویش کو اپنے کھاتوں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا خیال ہے کہ کشیدگی کا عروج اب گزر چکا ہے لیکن اگر یہ تعطل اسی طرح برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ رہے گا، جس کی وجہ سے قیمتیں 85 سے 90 ڈالر کی حد میں رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے 20 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم شہ رگ ہے، جہاں سے تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی روزانہ کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو سامنے آنے والے جہاز رانی کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی بینک نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد تک مفاہمت کی یادداشت سے دستبردار رہے، ایسی صورتحال میں غالب امکان یہی ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمت 12 جون کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ تاریخیں تھیں جب 17 جون کو امریکہ اور ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔جی ایم ٹی  کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.53 ڈالر یا 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 79.67 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔</p>
<p>اے این زی کی تجزیہ کار سونی کماری کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ سلسلہ چند ہفتے بھی نہ چل سکا۔ چنانچہ مارکیٹ اس وقت اسی تشویش کو اپنے کھاتوں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>ہمارا خیال ہے کہ کشیدگی کا عروج اب گزر چکا ہے لیکن اگر یہ تعطل اسی طرح برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ رہے گا، جس کی وجہ سے قیمتیں 85 سے 90 ڈالر کی حد میں رہیں گی۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے 20 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم شہ رگ ہے، جہاں سے تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی روزانہ کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>پیر کو سامنے آنے والے جہاز رانی کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p>سٹی بینک نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد تک مفاہمت کی یادداشت سے دستبردار رہے، ایسی صورتحال میں غالب امکان یہی ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288676</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 17:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14084625a3fabe4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14084625a3fabe4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے ایران کی بحری ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان پر تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288637/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.04 ڈالر یا 4.26 فیصد اضافے کے بعد 74.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی، اور امریکا نے اگر ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری آمدورفت میں کچھ اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر اس میں سست روی آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کے مطابق، &lt;em&gt;”اب توجہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد پر رہے گی، کیونکہ اگر ان کی تعداد کم ہوئی تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت رسد میں تعطل کا خدشہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔“&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی تعطل کے خدشات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مستقل متبادل تلاش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں منصوبہ بندی کے مطابق اضافہ ہوا تو 2028 کے اختتام تک خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک متبادل پائپ لائنوں کی استعداد میں 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر 73 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو جائے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی مجموعی مؤثر صلاحیت ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری امن معاہدے کے دوران ایران نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کے ذخائر بھی بڑھ گئے، تاہم فروخت کی رفتار سست رہی کیونکہ چین کی آزاد ریفائنریوں نے عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر سے نسبتاً سستا خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اگست کے لیے اپنے معیاری مربان خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت 80.01 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ 101.48 ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب روسی توانائی کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ یوکرین ماسکو کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے مطابق اس نے روس کے ستاوروپول ریجن میں ایک آئل ڈپو اور جنوبی کراسنوڈار ریجن کی کاوکاز بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے والے تین ٹینکوں کو رات گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دو صنعتی ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جس کے ذریعے قازقستان کی 80 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، نے ٹینگیز آئل فیلڈ میں مرمتی کام اور روس سے کم رسد کے باعث گزشتہ ماہ مئی کے مقابلے میں اپنی ترسیل میں 7 فیصد کمی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.04 ڈالر یا 4.26 فیصد اضافے کے بعد 74.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔</p>
<p>اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی، اور امریکا نے اگر ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی۔</p>
<p>جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری آمدورفت میں کچھ اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر اس میں سست روی آ گئی ہے۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کے مطابق، <em>”اب توجہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد پر رہے گی، کیونکہ اگر ان کی تعداد کم ہوئی تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت رسد میں تعطل کا خدشہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔“</em></p>
<p>طویل المدتی تعطل کے خدشات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مستقل متبادل تلاش کریں گے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں منصوبہ بندی کے مطابق اضافہ ہوا تو 2028 کے اختتام تک خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔</p>
<p>ادارے کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک متبادل پائپ لائنوں کی استعداد میں 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر 73 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو جائے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی مجموعی مؤثر صلاحیت ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔</p>
<p>عبوری امن معاہدے کے دوران ایران نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کے ذخائر بھی بڑھ گئے، تاہم فروخت کی رفتار سست رہی کیونکہ چین کی آزاد ریفائنریوں نے عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر سے نسبتاً سستا خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔</p>
<p>ادھر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اگست کے لیے اپنے معیاری مربان خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت 80.01 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ 101.48 ڈالر تھی۔</p>
<p>دوسری جانب روسی توانائی کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ یوکرین ماسکو کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے مطابق اس نے روس کے ستاوروپول ریجن میں ایک آئل ڈپو اور جنوبی کراسنوڈار ریجن کی کاوکاز بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے والے تین ٹینکوں کو رات گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔</p>
<p>ادھر دو صنعتی ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جس کے ذریعے قازقستان کی 80 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، نے ٹینگیز آئل فیلڈ میں مرمتی کام اور روس سے کم رسد کے باعث گزشتہ ماہ مئی کے مقابلے میں اپنی ترسیل میں 7 فیصد کمی کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288637</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 21:58:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1310540143e07aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1310540143e07aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خطرات برقرار، خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا رجحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288524/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی جھڑپوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 24 سینٹس (0.3 فیصد) اضافے کے ساتھ 76.54 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 9 سینٹس بڑھ کر 72.17 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اس اضافے کے ساتھ برینٹ کروڈ رواں ہفتے مجموعی طور پر 6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 5 فیصد مہنگا ہوا ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے سپلائی تقریباً رک جانے کے باعث مارکیٹ میں پائے جانے والے شدید خطرات قیمتوں کو اوپر لے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں نے جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق قطری مذاکرات کاروں کی تہران آمد اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی خبروں کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کچھ تھم گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اسٹرٹیجک علاقوں بشمول بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دھماکوں کی بھی اطلاع دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ اس نئی کشیدگی کے باعث اگلے سال مارکیٹ میں تیل کی وافر فراہمی (سرپلس) کا امکان ختم ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کی 20 فیصد گیس اور تیل کی سپلائی اسی آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ  یہ جنگ طویل نہیں کھچے گی اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلے نے مارکیٹ کو کچھ حوصلہ بھی دیا ہے۔ متبادل مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کے حملوں کی وجہ سے روس کی تیل کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی جھڑپوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 24 سینٹس (0.3 فیصد) اضافے کے ساتھ 76.54 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 9 سینٹس بڑھ کر 72.17 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اس اضافے کے ساتھ برینٹ کروڈ رواں ہفتے مجموعی طور پر 6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 5 فیصد مہنگا ہوا ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے سپلائی تقریباً رک جانے کے باعث مارکیٹ میں پائے جانے والے شدید خطرات قیمتوں کو اوپر لے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں نے جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق قطری مذاکرات کاروں کی تہران آمد اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی خبروں کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کچھ تھم گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اسٹرٹیجک علاقوں بشمول بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دھماکوں کی بھی اطلاع دی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ اس نئی کشیدگی کے باعث اگلے سال مارکیٹ میں تیل کی وافر فراہمی (سرپلس) کا امکان ختم ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کی 20 فیصد گیس اور تیل کی سپلائی اسی آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ  یہ جنگ طویل نہیں کھچے گی اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلے نے مارکیٹ کو کچھ حوصلہ بھی دیا ہے۔ متبادل مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کے حملوں کی وجہ سے روس کی تیل کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288524</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 18:27:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10090806a081186.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10090806a081186.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان، خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288435/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہوا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی مفاہمت کی یادداشت کو ختم قرار دیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات دوبارہ پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.82 ڈالر یا 5.15 فیصد اضافے کے ساتھ 77.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) 3.70 ڈالر یا 5.25 فیصد اضافے سے 74.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارکس 23 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انقرہ میں ناٹو سربراہی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کا عبوری معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے اور وہ تہران سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ مزید برآں آبنائے ہرمز میں ایرانی اقدامات کی وجہ سے چار بحری جہازوں نے اپنا رخ موڑ لیا ہے، جس نے تیل کی ترسیل کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے عالمی توانائی کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ دوسری جانب امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس نے قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہوا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی مفاہمت کی یادداشت کو ختم قرار دیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات دوبارہ پیدا ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.82 ڈالر یا 5.15 فیصد اضافے کے ساتھ 77.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) 3.70 ڈالر یا 5.25 فیصد اضافے سے 74.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارکس 23 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انقرہ میں ناٹو سربراہی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کا عبوری معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے اور وہ تہران سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ مزید برآں آبنائے ہرمز میں ایرانی اقدامات کی وجہ سے چار بحری جہازوں نے اپنا رخ موڑ لیا ہے، جس نے تیل کی ترسیل کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے عالمی توانائی کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ دوسری جانب امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس نے قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288435</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 14:27:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/080903590487cb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/080903590487cb5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288390/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملوں کی رپورٹس کے بعد سپلائی معطل ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 76 سینٹس (1.1 فیصد) اضافے کے ساتھ 72.75 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 73 سینٹس بڑھ کر 69.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق رات گئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے آبنائے ہرمز کے قریب قطر کا ایک ایل این جی  ٹینکر اور سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والا جہاز متاثر ہوئے ہیں۔ قطر کے وزراتِ خارجہ نے حملے کی تمام تر قانونی ذمہ داری تہران پر عائد کی ہے۔ دوسری طرف یوکرین نے بھی روس کے شیڈو فلیٹ کے 8 آئل ٹینکرز پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولی ہینسن کے مطابق ان واقعات نے مارکیٹ میں جیو پولیٹیکل رسک پریمیم دوبارہ بڑھا دیا ہے اور کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں قیمت اگلا ہدف 75 اور پھر 80 ڈالر تک چھو سکتی ہے۔ دوسری جانب  سوسیٹی جنرل بینک نے سست طلب کے باعث چوتھی سہ ماہی کے لیے تیل کی متوقع قیمت 83 ڈالر سے کم کرکے 75 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ اس دوران سعودی عرب آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے بحیرہ احمر تک متبادل پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملوں کی رپورٹس کے بعد سپلائی معطل ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 76 سینٹس (1.1 فیصد) اضافے کے ساتھ 72.75 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 73 سینٹس بڑھ کر 69.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق رات گئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے آبنائے ہرمز کے قریب قطر کا ایک ایل این جی  ٹینکر اور سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والا جہاز متاثر ہوئے ہیں۔ قطر کے وزراتِ خارجہ نے حملے کی تمام تر قانونی ذمہ داری تہران پر عائد کی ہے۔ دوسری طرف یوکرین نے بھی روس کے شیڈو فلیٹ کے 8 آئل ٹینکرز پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولی ہینسن کے مطابق ان واقعات نے مارکیٹ میں جیو پولیٹیکل رسک پریمیم دوبارہ بڑھا دیا ہے اور کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں قیمت اگلا ہدف 75 اور پھر 80 ڈالر تک چھو سکتی ہے۔ دوسری جانب  سوسیٹی جنرل بینک نے سست طلب کے باعث چوتھی سہ ماہی کے لیے تیل کی متوقع قیمت 83 ڈالر سے کم کرکے 75 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ اس دوران سعودی عرب آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے بحیرہ احمر تک متبادل پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288390</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 19:11:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07091749c845223.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07091749c845223.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتیں ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288342/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے کی سطح پر مستحکم رہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اپنے سرکاری فروختی نرخ کم کر دیے جبکہ اوپیک پلس نے اگست سے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے ذریعے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ معیاری وقت کے مطابق 1322 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4 سینٹ، یا 0.06 فیصد، کمی کے بعد 72.08 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ جمعہ کو یہ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 7 سینٹ، یا 0.1 فیصد، کمی کے بعد 68.62 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں سرکاری تعطیل کے باعث جمعہ کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، حالانکہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد قیمتیں فروری کے آخر والی سطح پر واپس آ گئی تھیں، یعنی اس دور کی سطح پر جب ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو کے مطابق ”قیمتوں میں کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے پھنسی ہوئی آئل ٹینکرز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو رہی ہیں، جس سے سمندر میں دستیاب تیل کی مقدار بڑھ گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے مستقبل پر جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کی بحالی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری اعداد و شمار سے واقف دو ذرائع نے پیر کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے جون میں اپنی خام تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 38 لاکھ بیرل سے زائد کر دی، جو ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔ امارات نے پیداواری پابندیوں سے بچنے کے لیے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی عرب نے اگست کے لیے ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے اپنے مرکزی گریڈ عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے، جو 2003 سے رائٹرز کے ریکارڈ کے مطابق ایک ماہ میں سب سے بڑی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، نے اتوار کو اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران جنگ کے باعث یہ اضافہ بڑی حد تک کاغذی ثابت ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت متاثر ہونے سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے اہم اوپیک ممالک کی برآمدات اور پیداوار محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا، ”وہ گرتی ہوئی منڈی میں فروخت کر رہے ہیں، اس لیے قیمتوں میں فوری بحالی کی امید کم ہے، تاہم کم تیل کی قیمتیں مستقبل میں طلب میں ضرور اضافہ کریں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرین کی فوج نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے وقت روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنری، اومسک، کے علاوہ یاروسلاول اور لینن گراڈ کے علاقوں میں واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے کی سطح پر مستحکم رہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اپنے سرکاری فروختی نرخ کم کر دیے جبکہ اوپیک پلس نے اگست سے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے ذریعے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔</p>
<p>گرین وچ معیاری وقت کے مطابق 1322 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4 سینٹ، یا 0.06 فیصد، کمی کے بعد 72.08 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ جمعہ کو یہ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 7 سینٹ، یا 0.1 فیصد، کمی کے بعد 68.62 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>امریکا میں سرکاری تعطیل کے باعث جمعہ کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، حالانکہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد قیمتیں فروری کے آخر والی سطح پر واپس آ گئی تھیں، یعنی اس دور کی سطح پر جب ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو کے مطابق ”قیمتوں میں کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے پھنسی ہوئی آئل ٹینکرز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو رہی ہیں، جس سے سمندر میں دستیاب تیل کی مقدار بڑھ گئی ہے۔“</p>
<p>سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے مستقبل پر جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کی بحالی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>پیداواری اعداد و شمار سے واقف دو ذرائع نے پیر کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے جون میں اپنی خام تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 38 لاکھ بیرل سے زائد کر دی، جو ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔ امارات نے پیداواری پابندیوں سے بچنے کے لیے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔</p>
<p>ادھر سعودی عرب نے اگست کے لیے ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے اپنے مرکزی گریڈ عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے، جو 2003 سے رائٹرز کے ریکارڈ کے مطابق ایک ماہ میں سب سے بڑی کمی ہے۔</p>
<p>اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، نے اتوار کو اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہوگا۔</p>
<p>تاہم ایران جنگ کے باعث یہ اضافہ بڑی حد تک کاغذی ثابت ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت متاثر ہونے سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے اہم اوپیک ممالک کی برآمدات اور پیداوار محدود رہی۔</p>
<p>پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا، ”وہ گرتی ہوئی منڈی میں فروخت کر رہے ہیں، اس لیے قیمتوں میں فوری بحالی کی امید کم ہے، تاہم کم تیل کی قیمتیں مستقبل میں طلب میں ضرور اضافہ کریں گی۔“</p>
<p>دوسری جانب یوکرین کی فوج نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے وقت روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنری، اومسک، کے علاوہ یاروسلاول اور لینن گراڈ کے علاقوں میں واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288342</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 20:10:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06180653c5ba708.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06180653c5ba708.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر محتاط انداز میں نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 17 سینٹ یا 0.24 فیصد اضافے کے ساتھ 72.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 14 سینٹ یا 0.20 فیصد اضافے کے بعد 68.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں یومِ آزادی کی تعطیلات کے باعث جمعہ کو مالیاتی منڈیاں بند رہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔ گزشتہ سیشن کے دوران دونوں بینچ مارک قیمتیں فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ میں صرف 0.02 فیصد کمی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 0.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کئی ماہ کے دوران سب سے کم ہفتہ وار اتار چڑھاؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق مارکیٹ میں محتاط امید پائی جاتی ہے۔ سرمایہ کار یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ امن کی کوششیں کامیاب رہیں گی، تاہم وہ زمینی حقائق واضح ہونے تک مکمل اعتماد کے ساتھ فیصلے کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے کئی ممالک نے تیل کی پیداوار میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ جنگ سے قبل دنیا بھر میں یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد حصہ ترسیل کرنے کا اہم راستہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کویت کی تیل پیداوار جون میں بڑھ کر 1.65 ملین بیرل یومیہ ہو گئی، جو مئی میں 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ اسی طرح کم از کم پانچ سپر ٹینکرز، جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل سعودی خام تیل موجود تھا، آبنائے ہرمز سے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی آرامکو نے ایشیائی خریداروں کو تیل کی تیز تر فروخت کے لیے اسپاٹ پرائسنگ کی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر محتاط انداز میں نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 17 سینٹ یا 0.24 فیصد اضافے کے ساتھ 72.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 14 سینٹ یا 0.20 فیصد اضافے کے بعد 68.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>امریکا میں یومِ آزادی کی تعطیلات کے باعث جمعہ کو مالیاتی منڈیاں بند رہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔ گزشتہ سیشن کے دوران دونوں بینچ مارک قیمتیں فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ میں صرف 0.02 فیصد کمی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 0.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کئی ماہ کے دوران سب سے کم ہفتہ وار اتار چڑھاؤ ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق مارکیٹ میں محتاط امید پائی جاتی ہے۔ سرمایہ کار یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ امن کی کوششیں کامیاب رہیں گی، تاہم وہ زمینی حقائق واضح ہونے تک مکمل اعتماد کے ساتھ فیصلے کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے کئی ممالک نے تیل کی پیداوار میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ جنگ سے قبل دنیا بھر میں یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد حصہ ترسیل کرنے کا اہم راستہ تھی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کویت کی تیل پیداوار جون میں بڑھ کر 1.65 ملین بیرل یومیہ ہو گئی، جو مئی میں 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ اسی طرح کم از کم پانچ سپر ٹینکرز، جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل سعودی خام تیل موجود تھا، آبنائے ہرمز سے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی آرامکو نے ایشیائی خریداروں کو تیل کی تیز تر فروخت کے لیے اسپاٹ پرائسنگ کی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288231</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:58:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/030857088b45361.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/030857088b45361.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران مذاکرات کے بعد خام تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات میں پیشرفت کے اعلان کے بعد سپلائی معطلی کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے دن تقریباً 2 فیصد تک گر گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 1.24 ڈالر (1.73 فیصد) کی کمی کے ساتھ 70.33 ڈالر، جبکہ امریکی خام تیل 1.38 ڈالر (2.01 فیصد) کی گراوٹ کے ساتھ 67.20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو فروری کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق دوحہ مذاکرات میں جون کی جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق امور پر  مثبت پیشرفت ہوئی ہے، تاہم مستقل امن کے حوالے سے تاحال کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا اگلا دور ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات (9 جولائی) کے بعد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا تعطل فراہمی، اسٹریٹیجک ذخائر سے تیل کے اخراج اور چین کی جانب سے طلب میں متوقع اضافہ نہ ہونے کے باعث قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے ایک کروڑ بیرل سعودی تیل لے جانے والے 5 سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جبکہ سعودی آرامکو نے ایشیا میں فروخت تیز کرنے کے لیے اسپاٹ پرائسنگ کا طریقہ کار اپنایا ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں مقامی ریفائنریوں کی مانگ میں اضافے کے باعث خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئس بینک یو بی ایس نے برینٹ خام تیل کے لیے اپنے مستقبل کے تخمینے کم کرکے 80 ڈالر فی بیرل کر دیے ہیں، جبکہ  ایچ ایس بی سی  کا کہنا ہے کہ جولائی میں اسٹریٹجک ذخائر کی ریلیز ختم ہونے کے بعد قیمتیں دوبارہ 80 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔ دیگر خبروں کے مطابق نائیجیریا انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) میں شامل ہونے والا پہلا اوپیک ملک بن گیا ہے، جبکہ یوکرینی افواج نے روس کے علاقے میں واقع لوک آئل کی ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات میں پیشرفت کے اعلان کے بعد سپلائی معطلی کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے دن تقریباً 2 فیصد تک گر گئیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 1.24 ڈالر (1.73 فیصد) کی کمی کے ساتھ 70.33 ڈالر، جبکہ امریکی خام تیل 1.38 ڈالر (2.01 فیصد) کی گراوٹ کے ساتھ 67.20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو فروری کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق دوحہ مذاکرات میں جون کی جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق امور پر  مثبت پیشرفت ہوئی ہے، تاہم مستقل امن کے حوالے سے تاحال کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا اگلا دور ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات (9 جولائی) کے بعد ہوگا۔</p>
<p>مالیاتی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا تعطل فراہمی، اسٹریٹیجک ذخائر سے تیل کے اخراج اور چین کی جانب سے طلب میں متوقع اضافہ نہ ہونے کے باعث قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے ایک کروڑ بیرل سعودی تیل لے جانے والے 5 سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جبکہ سعودی آرامکو نے ایشیا میں فروخت تیز کرنے کے لیے اسپاٹ پرائسنگ کا طریقہ کار اپنایا ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں مقامی ریفائنریوں کی مانگ میں اضافے کے باعث خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>سوئس بینک یو بی ایس نے برینٹ خام تیل کے لیے اپنے مستقبل کے تخمینے کم کرکے 80 ڈالر فی بیرل کر دیے ہیں، جبکہ  ایچ ایس بی سی  کا کہنا ہے کہ جولائی میں اسٹریٹجک ذخائر کی ریلیز ختم ہونے کے بعد قیمتیں دوبارہ 80 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔ دیگر خبروں کے مطابق نائیجیریا انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) میں شامل ہونے والا پہلا اوپیک ملک بن گیا ہے، جبکہ یوکرینی افواج نے روس کے علاقے میں واقع لوک آئل کی ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288195</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 19:36:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/020951014102a4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/020951014102a4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوحہ میں ایران امریکہ مذاکرات کا امکان، خام تیل سستا ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں نے چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 40 سینٹ کمی کے ساتھ 73.51 ڈالر فی بیرل رہا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 47 سینٹ یا 0.66 فیصد گر کر 70.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق سرمایہ کار دوحہ مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی مکمل بحالی ابھی تک نظر نہیں آ رہی، اس لیے مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے ماہرین آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نئے تعین پر بات چیت کریں گے، جبکہ ایران طے شدہ راستوں سے ہٹ کر چلنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ آئندہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ میں متوقع ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا شپنگ ڈیٹا کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تیل اور ایل این جی برآمد کنندگان حالیہ حملوں کے باوجود اپنی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گولڈمین ساکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی بحالی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو جولائی کے آغاز تک یومیہ ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 23 ملین بیرل، تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں نے چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 40 سینٹ کمی کے ساتھ 73.51 ڈالر فی بیرل رہا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 47 سینٹ یا 0.66 فیصد گر کر 70.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق سرمایہ کار دوحہ مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی مکمل بحالی ابھی تک نظر نہیں آ رہی، اس لیے مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے ماہرین آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نئے تعین پر بات چیت کریں گے، جبکہ ایران طے شدہ راستوں سے ہٹ کر چلنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ آئندہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ میں متوقع ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔</p>
<p>دریں اثنا شپنگ ڈیٹا کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تیل اور ایل این جی برآمد کنندگان حالیہ حملوں کے باوجود اپنی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گولڈمین ساکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی بحالی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو جولائی کے آغاز تک یومیہ ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 23 ملین بیرل، تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288088</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 09:22:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30092016b7a8128.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30092016b7a8128.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کے نئے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288039/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ  حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں سست روی نے توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے بعد 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ادارے آئی این جی  کے تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی عالمی منڈی کو اب بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے، تاہم سرمایہ کار اس امید پر توجہ دے رہے ہیں کہ اگر تیل کی ترسیل میں بحالی جاری رہی تو عالمی سپلائی کا توازن بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطمینان قبل از وقت ہے اور اگر سپلائی کی بحالی سست رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی آئی تھی، کیونکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا۔اسرائیل اور ایران کشیدگی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جمعرات سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر نئے حملوں، جن میں قطر سے منسلک ایک آئل ٹینکر بھی نشانہ بنا، کے بعد بحری ٹریفک دوبارہ سست ہو گئی۔ ان واقعات نے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی امن معاہدے کے باوجود کشیدگی میں اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور ایران نے خلیج میں حالیہ کشیدگی روکنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کی رفتار کسی حد تک محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد جمعہ کو رأس تنورہ ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی۔ اگرچہ اتوار کو آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں 14 افراد ہلاک ہوگئے، تاہم کمپنی نے تیل کی لوڈنگ کا عمل جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این زیڈ  کے تجزیہ کاروں کے مطابق ٹینکروں کی قطاریں، انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات اور پیداوار میں رکاوٹیں تیل کی سپلائی کو محدود کیے ہوئے ہیں، اور امکان ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ہی سپلائی جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ سکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ  حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں سست روی نے توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے بعد 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>مالیاتی ادارے آئی این جی  کے تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی عالمی منڈی کو اب بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے، تاہم سرمایہ کار اس امید پر توجہ دے رہے ہیں کہ اگر تیل کی ترسیل میں بحالی جاری رہی تو عالمی سپلائی کا توازن بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطمینان قبل از وقت ہے اور اگر سپلائی کی بحالی سست رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی آئی تھی، کیونکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا۔اسرائیل اور ایران کشیدگی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>تاہم جمعرات سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر نئے حملوں، جن میں قطر سے منسلک ایک آئل ٹینکر بھی نشانہ بنا، کے بعد بحری ٹریفک دوبارہ سست ہو گئی۔ ان واقعات نے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی امن معاہدے کے باوجود کشیدگی میں اضافہ کر دیا۔</p>
<p>اتوار کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور ایران نے خلیج میں حالیہ کشیدگی روکنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کی رفتار کسی حد تک محدود رہی۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد جمعہ کو رأس تنورہ ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی۔ اگرچہ اتوار کو آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں 14 افراد ہلاک ہوگئے، تاہم کمپنی نے تیل کی لوڈنگ کا عمل جاری رکھا۔</p>
<p>اے این زیڈ  کے تجزیہ کاروں کے مطابق ٹینکروں کی قطاریں، انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات اور پیداوار میں رکاوٹیں تیل کی سپلائی کو محدود کیے ہوئے ہیں، اور امکان ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ہی سپلائی جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288039</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 09:27:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/29092612eac484d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/29092612eac484d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر کی جانب سے ٹینڈر کے ذریعے خام تیل کی فروخت، جولائی اگست کیلئے پیشکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287972/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارتی ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ قطر انرجی نے جولائی سے اگست میں لوڈنگ کے لیے خام تیل فروخت کرنے کا ٹینڈر جاری کیا ہے جو غالباً امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس کا پہلا ٹینڈر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے ٹینڈر دستاویز کے مطابق پروڈیوسر اپنے ال شاہین، میرین قطر اور میرین لینڈ خام تیل کی پیشکش کررہا ہے۔ خریدار شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے فجیرہ اور صحار کے درمیان تیل لوڈ یا حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹینڈر 29 جون کو بند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشکش مشرقِ وسطیٰ کے پروڈیوسرز کی بڑھتی ہوئی سپلائی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ عراق کی ریاستی تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو نے جمعرات کو ایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس کے تحت جولائی میں بصرہ ہیوی اور بصرہ میڈیم خام تیل کی فروخت کی پیشکش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی ایک ٹینڈر میں جولائی میں لوڈ ہونے والے خام تیل کی پیشکش کی تھی جبکہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی اس ماہ تین ٹینڈرز کے ذریعے کم از کم 4 کروڑ 80 لاکھ بیرل خام تیل فروخت کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں تائیوان کی کمپنی فارموسا نے قطر کے ال-شاہین خام تیل کے 20 لاکھ بیرل خریدے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تجارتی ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ قطر انرجی نے جولائی سے اگست میں لوڈنگ کے لیے خام تیل فروخت کرنے کا ٹینڈر جاری کیا ہے جو غالباً امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس کا پہلا ٹینڈر ہے۔</strong></p>
<p>رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے ٹینڈر دستاویز کے مطابق پروڈیوسر اپنے ال شاہین، میرین قطر اور میرین لینڈ خام تیل کی پیشکش کررہا ہے۔ خریدار شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے فجیرہ اور صحار کے درمیان تیل لوڈ یا حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>یہ ٹینڈر 29 جون کو بند ہوگا۔</p>
<p>یہ پیشکش مشرقِ وسطیٰ کے پروڈیوسرز کی بڑھتی ہوئی سپلائی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ عراق کی ریاستی تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو نے جمعرات کو ایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس کے تحت جولائی میں بصرہ ہیوی اور بصرہ میڈیم خام تیل کی فروخت کی پیشکش کی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی ایک ٹینڈر میں جولائی میں لوڈ ہونے والے خام تیل کی پیشکش کی تھی جبکہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی اس ماہ تین ٹینڈرز کے ذریعے کم از کم 4 کروڑ 80 لاکھ بیرل خام تیل فروخت کر چکی ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے کے اوائل میں تائیوان کی کمپنی فارموسا نے قطر کے ال-شاہین خام تیل کے 20 لاکھ بیرل خریدے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287972</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 15:03:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/261456542511751.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/261456542511751.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، تیل کی قیمتیں معمولی بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 93 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 74.67 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.16 ڈالر یا 1.7 فیصد بڑھ کر 71.50 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل رسد ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔ ابتدائی کاروبار کے دوران قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ تاجروں کو امید تھی کہ متعدد بحری جہازوں کی آمدورفت کے بعد تیل کی ترسیل معمول پر آ رہی ہے، تاہم بعد ازاں صورتحال بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ( یو کے ایم ٹی او) نے جمعرات کو بتایا کہ عمان کے قریب ایک مال بردار جہاز نامعلوم میزائل یا گولے کی زد میں آیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم بارودی سرنگوں کی صفائی مکمل ہونے میں ابھی چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو کے مطابق خلیج سے تیل بردار جہازوں کی روانگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن بحری انشورنس کی شرحوں میں معمول آنے اور جہاز رانی کے اعتماد کی بحالی کے لیے سکیورٹی خدشات کا خاتمہ اور بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہوئی ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے کہا ہے کہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے باوجود ایرانی تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں، جبکہ چین بدستور ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار رہنے کا امکان رکھتا ہے کیونکہ یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیاں برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یو بی ایس نے برینٹ خام تیل کی قیمتوں کے اپنے تخمینے کم کرتے ہوئے ستمبر اور دسمبر کے اختتام تک 85 ڈالر فی بیرل اور 2027 کی پہلی ششماہی کے اختتام تک 80 ڈالر فی بیرل مقرر کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منظرنامے میں، وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے وہاں تیل کی برآمدات میں متوقع اضافے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ذرائع کے مطابق عراق نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسے تیل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اوپیک سے علیحدگی پر غور کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تنظیم کے لیے بڑا دھچکا ہوگا، خصوصاً اس پس منظر میں کہ متحدہ عرب امارات بھی حال ہی میں اوپیک سے الگ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو جنگ سے قبل کی سطح پر آ گئیں، کیونکہ سپلائی میں اضافے کی توقعات نے طلب سے متعلق خدشات کو پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کی ڈلیوری کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز 25 سینٹ یا 0.34 فیصد کمی کے ساتھ 73.49 ڈالر فی بیرل تک آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 24 سینٹ یا 0.34 فیصد کمی کے ساتھ 70.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں معاہدے 27 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے، یعنی اس دن سے پہلے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست برینٹ کی قیمت ستمبر کے معاہدے کے مقابلے میں کم رہی، جو 1327 جی ایم ٹی پر 73.83 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جس سے مختصر مدت میں وافر سپلائی کا اشارہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹاڈ انرجی کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا کہ خلیج فارس میں جہازوں کا بیک لاگ ختم کیا جا رہا ہے، جس سے سپلائی میں اضافہ ہوا ہے، اور جلد ہی مزید پیداوار اور ٹرمینلز کی بحالی کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی توانائی کے سیکرٹری کرس رائٹ نے ایک فورم میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 20 ملین بیرل تیل اس آبنائے سے باہر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ معمول پر آنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ آبنائے کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوو نے کہا کہ خلیجی خطے سے زیادہ تر اضافہ برآمدات کی صورت میں ہو رہا ہے، یعنی جہاز آبنائے سے باہر جا رہے ہیں، جبکہ اندرونی سپلائی کی مکمل بحالی کے لیے شپنگ اعتماد، سیکیورٹی یقین دہانیوں اور انشورنس پریمیم کی معمول پر واپسی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ سے بڑھتی سپلائی اور ایران کو امریکی پابندیوں میں وقتی نرمی کے بعد برآمدات بڑھانے کی توقعات نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے باوجود ایرانی پیداوار میں بڑا اضافہ متوقع نہیں، چاہے یہ رعایت 21 اگست کے بعد بھی جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلب کے محاذ پر چین کو ایرانی تیل کا بنیادی خریدار رہنے کی توقع ہے کیونکہ یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جو جنگ کے دوران عملاً بند ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر بات چیت شامل ہے۔ کرس رائٹ نے کہا کہ اگر معاہدہ ناکام بھی ہو جائے تو بھی تیل کی ترسیل جاری رہے گی اور ایران دوبارہ آبنائے بند نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس نے برینٹ کی قیمتوں کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر کے آخر اور دسمبر کے لیے 85 ڈالر فی بیرل، جبکہ مارچ اور جون 2027 کے لیے 80 ڈالر فی بیرل متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 93 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 74.67 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.16 ڈالر یا 1.7 فیصد بڑھ کر 71.50 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔</strong></p>
<p>جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل رسد ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔ ابتدائی کاروبار کے دوران قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ تاجروں کو امید تھی کہ متعدد بحری جہازوں کی آمدورفت کے بعد تیل کی ترسیل معمول پر آ رہی ہے، تاہم بعد ازاں صورتحال بدل گئی۔</p>
<p>برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ( یو کے ایم ٹی او) نے جمعرات کو بتایا کہ عمان کے قریب ایک مال بردار جہاز نامعلوم میزائل یا گولے کی زد میں آیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>ایک روز قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم بارودی سرنگوں کی صفائی مکمل ہونے میں ابھی چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو کے مطابق خلیج سے تیل بردار جہازوں کی روانگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن بحری انشورنس کی شرحوں میں معمول آنے اور جہاز رانی کے اعتماد کی بحالی کے لیے سکیورٹی خدشات کا خاتمہ اور بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی ضروری ہے۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہوئی ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے کہا ہے کہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے باوجود ایرانی تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں، جبکہ چین بدستور ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار رہنے کا امکان رکھتا ہے کیونکہ یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیاں برقرار ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب یو بی ایس نے برینٹ خام تیل کی قیمتوں کے اپنے تخمینے کم کرتے ہوئے ستمبر اور دسمبر کے اختتام تک 85 ڈالر فی بیرل اور 2027 کی پہلی ششماہی کے اختتام تک 80 ڈالر فی بیرل مقرر کیے ہیں۔</p>
<p>عالمی منظرنامے میں، وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے وہاں تیل کی برآمدات میں متوقع اضافے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ادھر ذرائع کے مطابق عراق نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسے تیل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اوپیک سے علیحدگی پر غور کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تنظیم کے لیے بڑا دھچکا ہوگا، خصوصاً اس پس منظر میں کہ متحدہ عرب امارات بھی حال ہی میں اوپیک سے الگ ہو چکا ہے۔</p>
<p><strong>مشرقِ وسطیٰ سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو جنگ سے قبل کی سطح پر آ گئیں، کیونکہ سپلائی میں اضافے کی توقعات نے طلب سے متعلق خدشات کو پیچھے چھوڑ دیا۔</strong></p>
<p>اگست کی ڈلیوری کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز 25 سینٹ یا 0.34 فیصد کمی کے ساتھ 73.49 ڈالر فی بیرل تک آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 24 سینٹ یا 0.34 فیصد کمی کے ساتھ 70.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>دونوں معاہدے 27 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے، یعنی اس دن سے پہلے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔</p>
<p>اگست برینٹ کی قیمت ستمبر کے معاہدے کے مقابلے میں کم رہی، جو 1327 جی ایم ٹی پر 73.83 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جس سے مختصر مدت میں وافر سپلائی کا اشارہ ملتا ہے۔</p>
<p>ریسٹاڈ انرجی کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا کہ خلیج فارس میں جہازوں کا بیک لاگ ختم کیا جا رہا ہے، جس سے سپلائی میں اضافہ ہوا ہے، اور جلد ہی مزید پیداوار اور ٹرمینلز کی بحالی کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی توانائی کے سیکرٹری کرس رائٹ نے ایک فورم میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 20 ملین بیرل تیل اس آبنائے سے باہر گیا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ معمول پر آنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ آبنائے کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوو نے کہا کہ خلیجی خطے سے زیادہ تر اضافہ برآمدات کی صورت میں ہو رہا ہے، یعنی جہاز آبنائے سے باہر جا رہے ہیں، جبکہ اندرونی سپلائی کی مکمل بحالی کے لیے شپنگ اعتماد، سیکیورٹی یقین دہانیوں اور انشورنس پریمیم کی معمول پر واپسی ضروری ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ سے بڑھتی سپلائی اور ایران کو امریکی پابندیوں میں وقتی نرمی کے بعد برآمدات بڑھانے کی توقعات نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال دیا ہے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے باوجود ایرانی پیداوار میں بڑا اضافہ متوقع نہیں، چاہے یہ رعایت 21 اگست کے بعد بھی جاری رہے۔</p>
<p>طلب کے محاذ پر چین کو ایرانی تیل کا بنیادی خریدار رہنے کی توقع ہے کیونکہ یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جو جنگ کے دوران عملاً بند ہو گئی تھی۔</p>
<p>یہ معاہدہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر بات چیت شامل ہے۔ کرس رائٹ نے کہا کہ اگر معاہدہ ناکام بھی ہو جائے تو بھی تیل کی ترسیل جاری رہے گی اور ایران دوبارہ آبنائے بند نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>یو بی ایس نے برینٹ کی قیمتوں کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر کے آخر اور دسمبر کے لیے 85 ڈالر فی بیرل، جبکہ مارچ اور جون 2027 کے لیے 80 ڈالر فی بیرل متوقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287930</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 22:25:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/251109554d8b76b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/251109554d8b76b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے خام تیل کی بلا رکاوٹ ترسیل کی توقعات، برینٹ کی قیمتوں میں مزید کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برینٹ خام تیل کی قیمتیں بدھ کو 3 فیصد گر کر ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے مزید آئل ٹینکرز کی روانگی کے آثار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی وقت کے مطابق 12:18 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 2.32 ڈالر یا 3.01 فیصد کمی کے ساتھ 74.76 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  بھی 2.17 ڈالر یا 2.96 فیصد گر کر 71.04 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ نے 74.61 ڈالر کی کم ترین سطح کو چھوا، جو 27 فروری کے بعد اس کی سب سے کم ترین سطح ہے، یعنی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے ایک دن پہلے کی سطح۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی گر کر 70.91 ڈالر تک آگیا، جو 3 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ  اگرچہ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں اضافے کے ابتدائی حوصلہ افزا آثار موجود ہیں لیکن مارکیٹ عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی دوبارہ واپسی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے کے وسیع تر منظر نامے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹم واٹرر نے مزید کہا کہ  اگر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو ٹینکرز میں ذخیرہ شدہ تیل کی بڑی مقدار کے پیش نظر ایرانی پیداوار اور برآمدات نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور اس کے لیے مہینوں کے بجائے ممکنہ طور پر چند ہفتے ہی درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں مندی کے دیگر اشاروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں خام تیل کی کھیپ ڈسکاؤنٹ پر فروخت ہو رہی ہے، جس سے تجارتی بہاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ مارکیٹیں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے دباؤ میں ہیں کیونکہ امریکی پابندیوں سے عارضی چھوٹ کے بعد ایران اپنی فروخت بڑھانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا اور خطے سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی سہولت کے لیے موجودہ شپنگ لین کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے مختص کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے قیمتیں اس 60 روزہ پابندیوں کی چھوٹ کی وجہ سے بھی دباؤ کا شکار رہیں جو واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو دی ہے، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی ہے اور ساتھ ہی لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے  بتایا کہ نئے شروع کیے گئے انخلا کے منصوبے کے تحت بحری جہاز پہلے ہی آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران  لا محدود جوہری معائنوں پر راضی ہو گیا ہے، حالانکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی کوئی رعایت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیبرٹ فنانشل کے سی آئی او مارک مالیک کا کہنا ہے کہ  مارکیٹیں فی الحال غیر حل شدہ جوہری مسائل اور معائنہ کے تنازعات سے وابستہ خطرات کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے، سازگار نتائج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن نے او ای سی ڈی  کے تجارتی اسٹاک میں توقع سے کم کمی اور تیل کی کمزور طلب کے باعث 2026 کی دوسری چھماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشگوئی کو کم کر دیا۔ بینک کے مطابق تیسری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 86 ڈالر اور آخری سہ ماہی میں 80 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انڈسٹری کے دو ذرائع نے  بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں شدید نقصان پہنچنے کے بعد ماسکو کی آئل ریفائنری کم از کم چھ ماہ کے لیے بند رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برینٹ خام تیل کی قیمتیں بدھ کو 3 فیصد گر کر ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے مزید آئل ٹینکرز کی روانگی کے آثار ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی وقت کے مطابق 12:18 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 2.32 ڈالر یا 3.01 فیصد کمی کے ساتھ 74.76 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  بھی 2.17 ڈالر یا 2.96 فیصد گر کر 71.04 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>برینٹ نے 74.61 ڈالر کی کم ترین سطح کو چھوا، جو 27 فروری کے بعد اس کی سب سے کم ترین سطح ہے، یعنی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے ایک دن پہلے کی سطح۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی گر کر 70.91 ڈالر تک آگیا، جو 3 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ  اگرچہ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں اضافے کے ابتدائی حوصلہ افزا آثار موجود ہیں لیکن مارکیٹ عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی دوبارہ واپسی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے کے وسیع تر منظر نامے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔</p>
<p>ٹم واٹرر نے مزید کہا کہ  اگر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو ٹینکرز میں ذخیرہ شدہ تیل کی بڑی مقدار کے پیش نظر ایرانی پیداوار اور برآمدات نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور اس کے لیے مہینوں کے بجائے ممکنہ طور پر چند ہفتے ہی درکار ہوں گے۔</p>
<p>مارکیٹ میں مندی کے دیگر اشاروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں خام تیل کی کھیپ ڈسکاؤنٹ پر فروخت ہو رہی ہے، جس سے تجارتی بہاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ مارکیٹیں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے دباؤ میں ہیں کیونکہ امریکی پابندیوں سے عارضی چھوٹ کے بعد ایران اپنی فروخت بڑھانے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>عمان نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا اور خطے سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی سہولت کے لیے موجودہ شپنگ لین کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے مختص کر دیے ہیں۔</p>
<p>رواں ہفتے قیمتیں اس 60 روزہ پابندیوں کی چھوٹ کی وجہ سے بھی دباؤ کا شکار رہیں جو واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو دی ہے، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی ہے اور ساتھ ہی لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے  بتایا کہ نئے شروع کیے گئے انخلا کے منصوبے کے تحت بحری جہاز پہلے ہی آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران  لا محدود جوہری معائنوں پر راضی ہو گیا ہے، حالانکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی کوئی رعایت نہیں دی۔</p>
<p>سیبرٹ فنانشل کے سی آئی او مارک مالیک کا کہنا ہے کہ  مارکیٹیں فی الحال غیر حل شدہ جوہری مسائل اور معائنہ کے تنازعات سے وابستہ خطرات کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے، سازگار نتائج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔</p>
<p>جے پی مورگن نے او ای سی ڈی  کے تجارتی اسٹاک میں توقع سے کم کمی اور تیل کی کمزور طلب کے باعث 2026 کی دوسری چھماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشگوئی کو کم کر دیا۔ بینک کے مطابق تیسری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 86 ڈالر اور آخری سہ ماہی میں 80 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دوسری جانب انڈسٹری کے دو ذرائع نے  بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں شدید نقصان پہنچنے کے بعد ماسکو کی آئل ریفائنری کم از کم چھ ماہ کے لیے بند رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287884</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:29:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24090635f7f29a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24090635f7f29a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی ایل نے سہیتو-ون گیس دریافت کو پیداوار میں شامل کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ کھیواڑی ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت لوئر گورو فارمیشن (میسیو سینڈ) میں واقع سہیتو-ون گیس دریافت کو کامیابی کے ساتھ پیداوار میں شامل کر لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بیان کے مطابق سہیتو-ون کنویں سے اس وقت روزانہ 6.0 ملین معیاری مکعب فٹ گیس پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ سطحی تنصیبات کی مجوزہ توسیع کے بعد پیداوار میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی مرحلے میں اس دریافت سے پیداوار کو جلد منافع بخش بنانے کے لیے او جی ڈی سی ایل نے 6 انچ قطر اور 5 کلومیٹر طویل فلو لائن بچھائی ہے، جو اس کنویں کو سلیمان کلیکشن فیسلٹی سے جوڑتی ہے، جہاں سے گیس کو مزید پراسیسنگ کے لیے سنجھورو پلانٹ بھیجا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پراسیس شدہ گیس ایس ایس جی سی ایل نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنویں کا مقام ضلع خیرپور، سندھ ہے۔ او جی ڈی سی ایل کھیواڑی ایکسپلوریشن لائسنس کی آپریٹر ہے اور اس منصوبے میں اس کا 75 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے، جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے پاس 25 فیصد حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ سہیتو-ون سے پیداوار کا آغاز مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کی مؤثر ترقی اور انہیں معاشی طور پر قابلِ استعمال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی ہے، جو ایکسپلوریشن، ڈرلنگ، پروڈکشن، ریزروائر مینجمنٹ اور انجینئرنگ سپورٹ سمیت مختلف سرگرمیوں میں کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ کھیواڑی ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت لوئر گورو فارمیشن (میسیو سینڈ) میں واقع سہیتو-ون گیس دریافت کو کامیابی کے ساتھ پیداوار میں شامل کر لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے بیان کے مطابق سہیتو-ون کنویں سے اس وقت روزانہ 6.0 ملین معیاری مکعب فٹ گیس پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ سطحی تنصیبات کی مجوزہ توسیع کے بعد پیداوار میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>ابتدائی مرحلے میں اس دریافت سے پیداوار کو جلد منافع بخش بنانے کے لیے او جی ڈی سی ایل نے 6 انچ قطر اور 5 کلومیٹر طویل فلو لائن بچھائی ہے، جو اس کنویں کو سلیمان کلیکشن فیسلٹی سے جوڑتی ہے، جہاں سے گیس کو مزید پراسیسنگ کے لیے سنجھورو پلانٹ بھیجا جائے گا۔</p>
<p>بیان کے مطابق پراسیس شدہ گیس ایس ایس جی سی ایل نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کنویں کا مقام ضلع خیرپور، سندھ ہے۔ او جی ڈی سی ایل کھیواڑی ایکسپلوریشن لائسنس کی آپریٹر ہے اور اس منصوبے میں اس کا 75 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے، جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے پاس 25 فیصد حصہ ہے۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ سہیتو-ون سے پیداوار کا آغاز مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کی مؤثر ترقی اور انہیں معاشی طور پر قابلِ استعمال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی ہے، جو ایکسپلوریشن، ڈرلنگ، پروڈکشن، ریزروائر مینجمنٹ اور انجینئرنگ سپورٹ سمیت مختلف سرگرمیوں میں کام کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287845</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:03:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/23100134fe9de13.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/23100134fe9de13.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر توجہ، خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287840/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک ڈالر سے زائد کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 1.18 ڈالر (تقریباً 1.2 فیصد) کمی کے ساتھ 76.72 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 1.18 ڈالر (1.6 فیصد) کمی کے ساتھ 72.68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، 10:06 بجے صبح (ای ٹی) کے وقت۔ اس سے قبل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح 72.48 ڈالر تک بھی گر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی ہوئی تھی، جب امریکا نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد ایران کو 60 روز کی پابندیوں میں نرمی دی، اور لبنان میں وسیع تر معاہدے کے تحت کشیدگی میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری نگرانی اور اس اہم آبی گزرگاہ میں نیویگیشن سروسز اور اس کے اخراجات سے متعلق انتظامات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوجی ذریعے کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ محدود تعداد میں جہازوں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو دو پھنسے ہوئے سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ قطر سے منسلک ایل این جی کے سات خالی ٹینکرز حالیہ ہفتوں میں اس راستے میں داخل ہوئے، جو خلیجی گیس کی ترسیل کی جزوی بحالی کے ابتدائی اشارے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیر کو آبنائے ہرمز سے 1.9 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، اور منگل کو سوشل میڈیا پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی جانب اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایس ای بی ریسرچ کے تجزیہ کار اولے ہولبائے کے مطابق مختصر مدت میں پابندیوں میں نرمی کا تیل کی قیمتوں پر بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ابھی نئی اور نازک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ماہ سے زائد عرصے تک بند رہنے کے باعث، جو دنیا کی تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرنے کی اہم گزرگاہ ہے، عالمی منڈی لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی فراہمی سے محروم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار ٹامس وارگا نے کہا کہ جہازوں کے مالکان کو یقین دہانی درکار ہوگی کہ بارودی سرنگوں کا خطرہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ تباہ شدہ بندرگاہیں، پانی میں ملبہ اور ٹریفک کا دباؤ بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق نے اپنے جنوبی آئل فیلڈز سے پیداوار بڑھا کر تقریباً 21 لاکھ بیرل یومیہ کر دی ہے، جبکہ مزید ٹینکرز خلیجی ٹرمینلز سے خام تیل لوڈ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابوبینک نے خلیج میں رسد کے خطرات میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اب برینٹ کی قیمت تیسری سہ ماہی میں 79 ڈالر اور چوتھی سہ ماہی میں 78 ڈالر فی بیرل بتائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور برقرار ہیں، کیونکہ لبنان کی حزب اللہ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں شہریوں پر فائرنگ کی، جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رائٹرز کے سروے کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 50 لاکھ بیرل کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک ڈالر سے زائد کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 1.18 ڈالر (تقریباً 1.2 فیصد) کمی کے ساتھ 76.72 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 1.18 ڈالر (1.6 فیصد) کمی کے ساتھ 72.68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، 10:06 بجے صبح (ای ٹی) کے وقت۔ اس سے قبل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح 72.48 ڈالر تک بھی گر گئی تھی۔</p>
<p>پیر کے روز قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی ہوئی تھی، جب امریکا نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد ایران کو 60 روز کی پابندیوں میں نرمی دی، اور لبنان میں وسیع تر معاہدے کے تحت کشیدگی میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔</p>
<p>منگل کو عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری نگرانی اور اس اہم آبی گزرگاہ میں نیویگیشن سروسز اور اس کے اخراجات سے متعلق انتظامات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>ایرانی فوجی ذریعے کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ محدود تعداد میں جہازوں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔</p>
<p>شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو دو پھنسے ہوئے سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ قطر سے منسلک ایل این جی کے سات خالی ٹینکرز حالیہ ہفتوں میں اس راستے میں داخل ہوئے، جو خلیجی گیس کی ترسیل کی جزوی بحالی کے ابتدائی اشارے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیر کو آبنائے ہرمز سے 1.9 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، اور منگل کو سوشل میڈیا پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی جانب اشارہ کیا۔</p>
<p>تاہم ایس ای بی ریسرچ کے تجزیہ کار اولے ہولبائے کے مطابق مختصر مدت میں پابندیوں میں نرمی کا تیل کی قیمتوں پر بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ابھی نئی اور نازک ہے۔</p>
<p>تین ماہ سے زائد عرصے تک بند رہنے کے باعث، جو دنیا کی تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرنے کی اہم گزرگاہ ہے، عالمی منڈی لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی فراہمی سے محروم رہی۔</p>
<p>پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار ٹامس وارگا نے کہا کہ جہازوں کے مالکان کو یقین دہانی درکار ہوگی کہ بارودی سرنگوں کا خطرہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ تباہ شدہ بندرگاہیں، پانی میں ملبہ اور ٹریفک کا دباؤ بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں۔</p>
<p>عراق نے اپنے جنوبی آئل فیلڈز سے پیداوار بڑھا کر تقریباً 21 لاکھ بیرل یومیہ کر دی ہے، جبکہ مزید ٹینکرز خلیجی ٹرمینلز سے خام تیل لوڈ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔</p>
<p>رابوبینک نے خلیج میں رسد کے خطرات میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اب برینٹ کی قیمت تیسری سہ ماہی میں 79 ڈالر اور چوتھی سہ ماہی میں 78 ڈالر فی بیرل بتائی ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور برقرار ہیں، کیونکہ لبنان کی حزب اللہ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں شہریوں پر فائرنگ کی، جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رائٹرز کے سروے کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 50 لاکھ بیرل کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287840</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 20:15:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/230920417b1ecc9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/230920417b1ecc9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان جاری عبوری امن معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات میں ابتدائی مشکلات بتائی جا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ (0.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 81.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ دورانِ ٹریڈنگ یہ 82.30 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 2.02 ڈالر (2.64 فیصد) اضافے کے ساتھ 78.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اگلے ماہ کا فعال کنٹریکٹ بھی 1.43 ڈالر بڑھ کر 77.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد اتوار کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام اسرائیل اور امریکا کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مارکیٹ نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی امیدیں قبل از وقت وابستہ کر لی تھیں، جبکہ ایران اس راستے کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی کشیدہ رہے، جن میں لبنان میں جاری لڑائی اور خطے کی صورتحال اہم موضوعات رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے تیل کے کارگو کی ممکنہ ریلیز اور ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقعات تھیں۔ عراق اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے بھی تیل کی سپلائی بڑھانے کے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ عراق نے پیداوار بتدریج 4.2 سے 4.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان جاری عبوری امن معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات میں ابتدائی مشکلات بتائی جا رہی ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ (0.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 81.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ دورانِ ٹریڈنگ یہ 82.30 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 2.02 ڈالر (2.64 فیصد) اضافے کے ساتھ 78.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اگلے ماہ کا فعال کنٹریکٹ بھی 1.43 ڈالر بڑھ کر 77.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد اتوار کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام اسرائیل اور امریکا کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مارکیٹ نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی امیدیں قبل از وقت وابستہ کر لی تھیں، جبکہ ایران اس راستے کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی کشیدہ رہے، جن میں لبنان میں جاری لڑائی اور خطے کی صورتحال اہم موضوعات رہے۔</p>
<p>ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>تاہم گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے تیل کے کارگو کی ممکنہ ریلیز اور ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقعات تھیں۔ عراق اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے بھی تیل کی سپلائی بڑھانے کے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ عراق نے پیداوار بتدریج 4.2 سے 4.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287792</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:37:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22093532f379f9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22093532f379f9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران جنگ بندی کا امکان، برینٹ خام تیل کریش، ہفتہ وار خسارہ 8 فیصد سے متجاوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287687/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کواستحکام دیکھا گیا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات مدہم پڑنے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی کے باعث یہ اب بھی 8 فیصد سے زائد کے ہفتہ وار خسارے کی زد میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی وقت کے مطابق صبح 08:20 بجے برینٹ کروڈ فیوچرز معمولی ردوبدل کے بعد 79.78 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  کے جولائی کے سودے  تقریباً 1 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 77.59 ڈالر، جبکہ اگست کے سودے 13 سینٹ اضافے کے ساتھ 75.98 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئٹزرلینڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے، کیونکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ  ٹم واٹیرر کا کہنا ہے کہ تاجر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں شک ہے کہ یہ معاہدہ  کتنی جلدی اثر دکھائے گا۔ ان کے مطابق قیمتوں میں مزید کمی کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کے شواہد درکار ہوں گے اور برینٹ کی قیمتیں فی الحال 75 سے 90 ڈالر کے درمیان رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے سعودی عرب کے تین ٹینکرز سمیت متعدد جہازوں کے گزرنے پر تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خلیجِ فارس میں پھنسا ہوا 85 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈی میں آ جائے گا۔ اگرچہ دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، مگر بینکوں کا کہنا ہے کہ سپلائی کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی بینک کے مطابق 60 فیصد امکان ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ میں تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی اور 2027 کی پہلی سہ ماہی تک قیمتیں گر کر 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک آ سکتی ہیں۔ اوپیک کی 2026 کی عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تیل کی طلب 2025 میں 105.1 ملین بیرل سے بڑھ کر 2030 تک 113.3 ملین بیرل یومیہ ہو جائے گی۔ ادھر عراق کے وزیرِ پٹرولیم عاصم محمد نے بھی تصدیق کی ہے کہ عراقی آئل فیلڈز دوبارہ پیداوار کے لیے تیار ہیں اور سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔ تاہم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے جاری حملوں نے اس امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کواستحکام دیکھا گیا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات مدہم پڑنے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی کے باعث یہ اب بھی 8 فیصد سے زائد کے ہفتہ وار خسارے کی زد میں ہے۔</strong></p>
<p>عالمی وقت کے مطابق صبح 08:20 بجے برینٹ کروڈ فیوچرز معمولی ردوبدل کے بعد 79.78 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  کے جولائی کے سودے  تقریباً 1 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 77.59 ڈالر، جبکہ اگست کے سودے 13 سینٹ اضافے کے ساتھ 75.98 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔</p>
<p>سوئٹزرلینڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے، کیونکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ  ٹم واٹیرر کا کہنا ہے کہ تاجر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں شک ہے کہ یہ معاہدہ  کتنی جلدی اثر دکھائے گا۔ ان کے مطابق قیمتوں میں مزید کمی کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کے شواہد درکار ہوں گے اور برینٹ کی قیمتیں فی الحال 75 سے 90 ڈالر کے درمیان رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے سعودی عرب کے تین ٹینکرز سمیت متعدد جہازوں کے گزرنے پر تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خلیجِ فارس میں پھنسا ہوا 85 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈی میں آ جائے گا۔ اگرچہ دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، مگر بینکوں کا کہنا ہے کہ سپلائی کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>سٹی بینک کے مطابق 60 فیصد امکان ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ میں تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی اور 2027 کی پہلی سہ ماہی تک قیمتیں گر کر 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک آ سکتی ہیں۔ اوپیک کی 2026 کی عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تیل کی طلب 2025 میں 105.1 ملین بیرل سے بڑھ کر 2030 تک 113.3 ملین بیرل یومیہ ہو جائے گی۔ ادھر عراق کے وزیرِ پٹرولیم عاصم محمد نے بھی تصدیق کی ہے کہ عراقی آئل فیلڈز دوبارہ پیداوار کے لیے تیار ہیں اور سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔ تاہم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے جاری حملوں نے اس امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287687</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 16:45:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/190854056889de2.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/190854056889de2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز ابتدائی تجارت کے دوران کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقع ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی میں بڑی رکاوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 89 سینٹس (1.12 فیصد) کمی کے بعد 78.66 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 98 سینٹس (1.28 فیصد) کمی کے بعد 75.81 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ماہرین کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی تیزی کے بعد قیمتوں میں یہ کمی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ توانائی مارکیٹس ایران کے تیل کی جلد واپسی کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا، جس کے دوران ایران کو آبنائے ہرمز سے بغیر ٹول بحری گزرگاہ کی اجازت دینی ہوگی۔ معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر اس راستے کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی پیچیدہ مسائل کو مؤخر کرتا ہے جبکہ امریکا اور اس کے شراکت داروں کو ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا بھی کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو 2027 تک عالمی منڈی میں سپلائی کا بحران ختم ہو کر بڑی اضافی رسد (سرپلس) میں تبدیل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو بھی افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے ممکنہ طور پر شرح سود میں اضافے پر غور کر رہا ہے، جس سے معاشی ترقی کی رفتار سست اور تیل کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز ابتدائی تجارت کے دوران کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقع ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی میں بڑی رکاوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 89 سینٹس (1.12 فیصد) کمی کے بعد 78.66 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 98 سینٹس (1.28 فیصد) کمی کے بعد 75.81 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔</p>
<p>مارکیٹ ماہرین کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی تیزی کے بعد قیمتوں میں یہ کمی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ توانائی مارکیٹس ایران کے تیل کی جلد واپسی کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔</p>
<p>14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا، جس کے دوران ایران کو آبنائے ہرمز سے بغیر ٹول بحری گزرگاہ کی اجازت دینی ہوگی۔ معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر اس راستے کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔</p>
<p>ابتدائی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی پیچیدہ مسائل کو مؤخر کرتا ہے جبکہ امریکا اور اس کے شراکت داروں کو ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا بھی کہا گیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو 2027 تک عالمی منڈی میں سپلائی کا بحران ختم ہو کر بڑی اضافی رسد (سرپلس) میں تبدیل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو بھی افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے ممکنہ طور پر شرح سود میں اضافے پر غور کر رہا ہے، جس سے معاشی ترقی کی رفتار سست اور تیل کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287643</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:09:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1810080274216e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1810080274216e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران معاہدہ: تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی، تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287560/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تین ماہ کی نئی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ مارکیٹیں آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی ممکنہ بحالی، کمزور فزیکل ڈیمانڈ اور ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی محدود تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 3.20 ڈالر یا 3.85 فیصد کمی کے بعد 1253 جی ایم ٹی تک 79.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ اس سے قبل یہ 79.61 ڈالر تک گر گئے، جو 3 مارچ کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ اسی روز کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 3.52 ڈالر یا 4.36 فیصد کمی کے بعد 77.23 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ دورانِ تجارت یہ 76.88 ڈالر تک گر گیا، جو 10 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمتیں تقریباً 65 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز بھی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے لیے عبوری معاہدے کا اعلان کیا، تاہم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق، ”قلیل مدت میں قیمتوں میں مزید کمی کے خدشات برقرار ہیں، کیونکہ مارکیٹ آبنائے ہرمز کی تیز رفتار بحالی اور رکی ہوئی سپلائی کی واپسی کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کے بقول، کم ہوتی ہوئی ذخیرہ اندوزی، موسمی طلب، اسٹریٹجک ذخائر کی دوبارہ تعمیر اور برقرار جغرافیائی غیر یقینی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ سے پہلے کی قیمتوں تک واپسی کا عمل اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا موجودہ مارکیٹ کا رجائیت پسندانہ رویہ ظاہر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کی بحالی پر سرمایہ کاروں کی نظریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی، جو عام طور پر عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچویں سپلائی کی ترسیل کا راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے اعلان کے بعد سے اب تک چند ہی آئل ٹینکرز اس راستے سے گزرے ہیں، تاہم عمان کے ساحل کے ساتھ بحیرۂ عرب میں کئی جہاز خاموشی سے تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی بحریہ کی نگرانی میں ”ڈارک“ شپنگ آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں۔ شپنگ کمپنیاں بارودی سرنگوں کی صفائی سمیت سیکیورٹی یقین دہانیوں کی منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے خفیہ شپ ٹو شپ تیل منتقلی کے متعدد آپریشنز کی نگرانی بھی کی ہے تاکہ خلیجی توانائی کی سپلائی جاری رکھی جا سکے، جس میں ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بحری قافلوں کی رہنمائی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ ایران معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کا امکان ہے، تاکہ جوہری پروگرام سمیت دیگر امور پر مذاکرات کو وقت مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض ماہرین کے مطابق سپلائی جلد بحال ہونے کا امکان ہے، جس سے پہلے ہی کمزور فزیکل مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے برینٹ کروڈ کی چوتھی سہ ماہی کے لیے اپنی قیمت کی پیش گوئی 90 ڈالر سے کم کرکے 80 ڈالر فی بیرل کر دی، جبکہ 2027 کے لیے اوسط تخمینہ بھی 80 ڈالر سے گھٹا کر 75 ڈالر فی بیرل مقرر کر دیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب اس کی توقع ہے کہ خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات اگست کے آخر کے بجائے جولائی کے اختتام تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کی تفصیلات اب بھی غیر واضح ہیں، مستقل جنگ بندی تاحال یقینی نہیں بن سکی، اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے بعد بھی تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے، اس لیے منڈی میں اتار چڑھاؤ کے خدشات بدستور موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومرز بینک کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا، ”بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی، یعنی اگر آبنائے ہرمز پائیدار بنیادوں پر دوبارہ کھل جاتی ہے، تب بھی شپنگ ٹریفک اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں خاصا وقت لگنے کا امکان ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومرز بینک نے رواں سال کے اختتام تک برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ آئندہ سال اس کے دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تک واپس آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تین ماہ کی نئی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ مارکیٹیں آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی ممکنہ بحالی، کمزور فزیکل ڈیمانڈ اور ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی محدود تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 3.20 ڈالر یا 3.85 فیصد کمی کے بعد 1253 جی ایم ٹی تک 79.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ اس سے قبل یہ 79.61 ڈالر تک گر گئے، جو 3 مارچ کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ اسی روز کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 3.52 ڈالر یا 4.36 فیصد کمی کے بعد 77.23 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ دورانِ تجارت یہ 76.88 ڈالر تک گر گیا، جو 10 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمتیں تقریباً 65 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں۔</p>
<p>پیر کے روز بھی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے لیے عبوری معاہدے کا اعلان کیا، تاہم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا۔</p>
<p>سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق، ”قلیل مدت میں قیمتوں میں مزید کمی کے خدشات برقرار ہیں، کیونکہ مارکیٹ آبنائے ہرمز کی تیز رفتار بحالی اور رکی ہوئی سپلائی کی واپسی کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔“</p>
<p>تاہم ان کے بقول، کم ہوتی ہوئی ذخیرہ اندوزی، موسمی طلب، اسٹریٹجک ذخائر کی دوبارہ تعمیر اور برقرار جغرافیائی غیر یقینی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ سے پہلے کی قیمتوں تک واپسی کا عمل اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا موجودہ مارکیٹ کا رجائیت پسندانہ رویہ ظاہر کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>آبنائے ہرمز کی بحالی پر سرمایہ کاروں کی نظریں</strong></p>
<p>تنازع کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی، جو عام طور پر عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچویں سپلائی کی ترسیل کا راستہ ہے۔</p>
<p>معاہدے کے اعلان کے بعد سے اب تک چند ہی آئل ٹینکرز اس راستے سے گزرے ہیں، تاہم عمان کے ساحل کے ساتھ بحیرۂ عرب میں کئی جہاز خاموشی سے تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی بحریہ کی نگرانی میں ”ڈارک“ شپنگ آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں۔ شپنگ کمپنیاں بارودی سرنگوں کی صفائی سمیت سیکیورٹی یقین دہانیوں کی منتظر ہیں۔</p>
<p>امریکی فوج نے خفیہ شپ ٹو شپ تیل منتقلی کے متعدد آپریشنز کی نگرانی بھی کی ہے تاکہ خلیجی توانائی کی سپلائی جاری رکھی جا سکے، جس میں ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بحری قافلوں کی رہنمائی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ابتدائی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ ایران معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کا امکان ہے، تاکہ جوہری پروگرام سمیت دیگر امور پر مذاکرات کو وقت مل سکے۔</p>
<p>بعض ماہرین کے مطابق سپلائی جلد بحال ہونے کا امکان ہے، جس سے پہلے ہی کمزور فزیکل مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے برینٹ کروڈ کی چوتھی سہ ماہی کے لیے اپنی قیمت کی پیش گوئی 90 ڈالر سے کم کرکے 80 ڈالر فی بیرل کر دی، جبکہ 2027 کے لیے اوسط تخمینہ بھی 80 ڈالر سے گھٹا کر 75 ڈالر فی بیرل مقرر کر دیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب اس کی توقع ہے کہ خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات اگست کے آخر کے بجائے جولائی کے اختتام تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔</p>
<p>تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کی تفصیلات اب بھی غیر واضح ہیں، مستقل جنگ بندی تاحال یقینی نہیں بن سکی، اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے بعد بھی تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے، اس لیے منڈی میں اتار چڑھاؤ کے خدشات بدستور موجود ہیں۔</p>
<p>کومرز بینک کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا، ”بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی، یعنی اگر آبنائے ہرمز پائیدار بنیادوں پر دوبارہ کھل جاتی ہے، تب بھی شپنگ ٹریفک اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں خاصا وقت لگنے کا امکان ہے۔“</p>
<p>کومرز بینک نے رواں سال کے اختتام تک برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ آئندہ سال اس کے دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تک واپس آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287560</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 20:21:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1609102335ed1d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1609102335ed1d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن معاہدے پر پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 3 ماہ کی کم ترین سطح پر ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت کی بحالی کے ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12:34 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 4.47 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے ساتھ 82.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) 4.90 ڈالر یا 5.8 فیصد گراوٹ کے ساتھ 79.98 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا۔ جمعہ کے روز دونوں معاہدوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد پیر کو یہ 10 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا امریکی بحری محاصرہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی  مہر کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایرانی انتظامات کے تحت 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس ورگا کا کہنا ہے کہ  اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے بحران سے پہلے کی طرح روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل کی سپلائی کی بحالی میں وقت لگے گا۔ آمدورفت کی مکمل بحالی کے تخمینے چند ہفتوں سے لے کر مہینوں تک مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  مالیاتی سرمایہ کار فی الحال صرف مستقبل کی فزیکل سپلائی حاصل کر رہے ہیں، اسی لیے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سپلائی کی سست بحالی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سال 2026 کے دوران سپلائی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے پانچویں حصے کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کے تین ماہ سے زائد عرصے تک جنگ کی وجہ سے بند رہنے سے دنیا لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری ممالک جنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد کتنی جلدی تیل کی پیداوار اور برآمدات بحال کر سکتے ہیں اور آیا خطے میں مزید بحری جہاز داخل ہوں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ  اگر ہم جنگ سے پہلے برینٹ کی 60 سے 70 ڈالر کی حد کو دیکھیں تو میرا اندازہ ہے کہ قیمتوں کی نئی نچلی سطح (پرائس فلور) اب دسمبر اور جنوری کی 60 ڈالر کی سطح سے بڑھ کر مستقبل میں 75 یا 80 ڈالر تک جا سکتی ہے، جس میں مزید اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج سرحدوں اور اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کے لیے لبنان، شام اور غزہ کے سیکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔ ذرائع نے اس سے قبل روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ، جو کہ ایک اور پیچیدہ مسئلہ ہے بعد میں ہونے والے انہی مذاکرات میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی آئی ایس  میں گلوبل آئل مارکیٹ کے سربراہ ڈیوڈ جوربنیز کے مطابق ایک معتبر معاہدے کے چند ہفتوں کے اندر آمدورفت کی جزوی بحالی اور چار سے چھ ماہ کے اندر تجارتی سرگرمیوں کی باقاعدہ بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع سے پہلے کی طرح مکمل سپلائی کی بحالی حقیقت پسندانہ طور پر 2027 کی بات معلوم ہوتی ہے اور وہ بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب معاہدہ بغیر کسی خلل کے برقرار رہے اور پیداوار تیزی سے بحال ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل E4 ممالک نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے جواب میں اس پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت کی بحالی کے ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔</strong></p>
<p>گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12:34 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 4.47 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے ساتھ 82.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) 4.90 ڈالر یا 5.8 فیصد گراوٹ کے ساتھ 79.98 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا۔ جمعہ کے روز دونوں معاہدوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد پیر کو یہ 10 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔</p>
<p>ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا امریکی بحری محاصرہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی  مہر کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایرانی انتظامات کے تحت 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس ورگا کا کہنا ہے کہ  اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے بحران سے پہلے کی طرح روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل کی سپلائی کی بحالی میں وقت لگے گا۔ آمدورفت کی مکمل بحالی کے تخمینے چند ہفتوں سے لے کر مہینوں تک مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  مالیاتی سرمایہ کار فی الحال صرف مستقبل کی فزیکل سپلائی حاصل کر رہے ہیں، اسی لیے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سپلائی کی سست بحالی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سال 2026 کے دوران سپلائی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے پانچویں حصے کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کے تین ماہ سے زائد عرصے تک جنگ کی وجہ سے بند رہنے سے دنیا لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری ممالک جنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد کتنی جلدی تیل کی پیداوار اور برآمدات بحال کر سکتے ہیں اور آیا خطے میں مزید بحری جہاز داخل ہوں گے یا نہیں۔</p>
<p>سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ  اگر ہم جنگ سے پہلے برینٹ کی 60 سے 70 ڈالر کی حد کو دیکھیں تو میرا اندازہ ہے کہ قیمتوں کی نئی نچلی سطح (پرائس فلور) اب دسمبر اور جنوری کی 60 ڈالر کی سطح سے بڑھ کر مستقبل میں 75 یا 80 ڈالر تک جا سکتی ہے، جس میں مزید اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔</p>
<p>ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج سرحدوں اور اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کے لیے لبنان، شام اور غزہ کے سیکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔ ذرائع نے اس سے قبل روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ، جو کہ ایک اور پیچیدہ مسئلہ ہے بعد میں ہونے والے انہی مذاکرات میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔</p>
<p>آئی سی آئی ایس  میں گلوبل آئل مارکیٹ کے سربراہ ڈیوڈ جوربنیز کے مطابق ایک معتبر معاہدے کے چند ہفتوں کے اندر آمدورفت کی جزوی بحالی اور چار سے چھ ماہ کے اندر تجارتی سرگرمیوں کی باقاعدہ بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع سے پہلے کی طرح مکمل سپلائی کی بحالی حقیقت پسندانہ طور پر 2027 کی بات معلوم ہوتی ہے اور وہ بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب معاہدہ بغیر کسی خلل کے برقرار رہے اور پیداوار تیزی سے بحال ہو۔</p>
<p>برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل E4 ممالک نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے جواب میں اس پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287520</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 19:36:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/150929182b8707e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/150929182b8707e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران امن معاہدے کی خبریں، خام تیل دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287452/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو 3 فیصد سے زائد گر گئیں اور تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ امریکی اور ایرانی حکام نے اشارہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.34 ڈالر یا 3.7 فیصد کمی کے بعد 87.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.11 ڈالر یا 3.55 فیصد گر کر 84.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں معاہدے 17 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلائن کے مطابق مارکیٹ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اب پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ خلیج میں جنگ بندی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم) پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں اور جنیوا اس کے لیے سب سے ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے مذاکرات سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے کے حوالے سے اس قیاس آرائی کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف مجوزہ فضائی حملے منسوخ کر دیے، جبکہ ایرانی خبر ایجنسی مہر کے مطابق حتمی مذاکرات میں جوہری اور اقتصادی معاملات پر توجہ دی جائے گی، تاہم ایران کے میزائل پروگرام کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممکنہ معاہدے سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن عالمی تیل ذخائر اب بھی کم سطح پر ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جولائی کے آخر تک تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اوپیک نے 2026 کے لیے عالمی تیل طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کر دی ہے، تاہم تنظیم کو توقع ہے کہ 2027 میں طلب دوبارہ مضبوط انداز میں بحال ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو 3 فیصد سے زائد گر گئیں اور تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ امریکی اور ایرانی حکام نے اشارہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.34 ڈالر یا 3.7 فیصد کمی کے بعد 87.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.11 ڈالر یا 3.55 فیصد گر کر 84.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں معاہدے 17 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔</p>
<p>پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلائن کے مطابق مارکیٹ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اب پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ خلیج میں جنگ بندی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم) پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں اور جنیوا اس کے لیے سب سے ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے مذاکرات سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے کے حوالے سے اس قیاس آرائی کی تردید کی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف مجوزہ فضائی حملے منسوخ کر دیے، جبکہ ایرانی خبر ایجنسی مہر کے مطابق حتمی مذاکرات میں جوہری اور اقتصادی معاملات پر توجہ دی جائے گی، تاہم ایران کے میزائل پروگرام کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔</p>
<p>ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممکنہ معاہدے سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن عالمی تیل ذخائر اب بھی کم سطح پر ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جولائی کے آخر تک تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، اوپیک نے 2026 کے لیے عالمی تیل طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کر دی ہے، تاہم تنظیم کو توقع ہے کہ 2027 میں طلب دوبارہ مضبوط انداز میں بحال ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287452</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 23:42:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/12234042a74d905.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/12234042a74d905.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
