<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:01:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:01:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج سے برآمدات میں بحالی، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد گر گئیں، جس کی وجہ خلیج سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی اور امریکا میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے سے رسد کے خدشات میں کمی ہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کرنے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی سفارتی کوششوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.1 فیصد کمی سے 96.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.4 فیصد گر کر 89.18 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں بدھ کو تقریباً 1 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 5 فیصد مہنگا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی میں قائم تحقیقی فرم ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سگندھا سچدیو نے کہا کہ خلیجی خطے سے ترسیلات کی بحالی، سعودی عرب کی جانب سے ینبع کے راستے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور امریکی ذخائر میں اضافے سے رسد کے خدشات کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 922,000 بیرل بڑھ کر 427.3 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں 264,000 بیرل کمی کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچدیو کے مطابق امریکا ایران سفارتی رابطوں کی بحالی سے جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم مزید کم ہوسکتا ہے، تاہم پیش رفت غیر یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس کے مطابق گزشتہ ہفتے خلیجی تیل کی برآمدات 23.3 ملین بیرل یومیہ تک بحال ہوگئیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادھر اوپیک پلس کے ممالک اتوار کو اجلاس میں نومبر کیلئے پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد گر گئیں، جس کی وجہ خلیج سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی اور امریکا میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے سے رسد کے خدشات میں کمی ہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کرنے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی سفارتی کوششوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.1 فیصد کمی سے 96.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.4 فیصد گر کر 89.18 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں بدھ کو تقریباً 1 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>ستمبر میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 5 فیصد مہنگا ہوا۔</p>
<p>نئی دہلی میں قائم تحقیقی فرم ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سگندھا سچدیو نے کہا کہ خلیجی خطے سے ترسیلات کی بحالی، سعودی عرب کی جانب سے ینبع کے راستے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور امریکی ذخائر میں اضافے سے رسد کے خدشات کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 922,000 بیرل بڑھ کر 427.3 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں 264,000 بیرل کمی کی توقع تھی۔</p>
<p>سچدیو کے مطابق امریکا ایران سفارتی رابطوں کی بحالی سے جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم مزید کم ہوسکتا ہے، تاہم پیش رفت غیر یقینی ہے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس کے مطابق گزشتہ ہفتے خلیجی تیل کی برآمدات 23.3 ملین بیرل یومیہ تک بحال ہوگئیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادھر اوپیک پلس کے ممالک اتوار کو اجلاس میں نومبر کیلئے پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291941</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:19:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01090404850b035.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01090404850b035.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران کے مذاکرات میں تعطل، ایندھن کی قلت سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291883/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور امریکا۔ایران امن مذاکرات میں تعطل اور امریکی ایندھن کی منڈیوں میں رسد کی صورتحال سخت ہونے کے باعث قیمتیں رواں ماہ نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہونے کی جانب گامزن ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مدت پوری ہونے والے برینٹ نومبر فیوچرز معاہدے کی قیمت صبح 10:50 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق 1.12 ڈالر یا ایک فیصد اضافے سے 103.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ زیادہ فعال دسمبر معاہدہ 2.65 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے سے 98.81 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.98 ڈالر یا 2.2 فیصد اضافے سے 91.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، جو جولائی کے بعد اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوگا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 5.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے منگل کو کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کے لیے جاری سفارتی کوششیں کسی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایکسِیوس‘ اور ’سی این این‘ کی ان رپورٹس کی تردید کردی جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے اس کے جوہری پروگرام پر ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے میں تہران کو پابندیوں میں ریلیف دینے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر آمادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو سعودی عرب نے مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار ٹینکروں میں تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے منگل کو جاری کردہ ایک نوٹ میں اندازہ ظاہر کیا کہ گزشتہ ہفتے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات بحال ہوکر 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی ہیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادارے کے مطابق ستمبر میں تیل کی برآمدات دگنی ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی تیل برآمدات کی 10 روزہ اوسط 2 کروڑ 5 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو 2025 کی سطح کا 89 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اوپیک پلس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں نومبر کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی بینک ایم یو ایف جی کے تجزیہ کاروں نے کہا، ’’خام تیل کی ترسیل بحال ہونے سے رسد کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ کم ہونا چاہیے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل قلت اور بلند فریٹ لاگت کے باعث مجموعی توانائی کی منڈی میں سختی برقرار رہنے کا امکان ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو باخبر ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے عالمی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے تحت یورپی یونین پر ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لانے پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ایندھن کے ذخائر میں کمی نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا، اگرچہ خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر کے تجزیہ کار میٹ اسمتھ نے کہا، ’’ریفائننگ سرگرمی میں کمی کے باعث ڈسٹلیٹس اور پٹرول، دونوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ ریفائننگ سرگرمی میں آئندہ بتدریج اضافہ متوقع ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو مزید کم سطح تک گرنے سے تحفظ ملے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں پٹرول کے ذخائر 17 لاکھ بیرل کم ہوکر 20 کروڑ 44 لاکھ بیرل رہ گئے، جبکہ ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ذخائر 23 لاکھ بیرل کمی سے 10 کروڑ 52 لاکھ بیرل رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر 9 لاکھ 22 ہزار بیرل اضافے سے 42 کروڑ 73 لاکھ بیرل ہوگئے۔ ای آئی اے کے مطابق رائٹرز کے ایک سروے میں تجزیہ کاروں نے خام تیل کے ذخائر میں 2 لاکھ 64 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کے دو اہم بینچ مارکس کے درمیان قیمت کا فرق بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ تاجر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے ممکنہ منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے اقدام سے امریکی منڈی میں ڈیزل کی اضافی رسد پیدا ہوسکتی ہے اور وہاں ریفائنریوں کو خام تیل کی پروسیسنگ کم کرنا پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صارفین کو قیمتوں میں کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے بجائے سرخ رنگ سے نشان زد ڈیزل کی فروخت کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور امریکا۔ایران امن مذاکرات میں تعطل اور امریکی ایندھن کی منڈیوں میں رسد کی صورتحال سخت ہونے کے باعث قیمتیں رواں ماہ نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہونے کی جانب گامزن ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کو مدت پوری ہونے والے برینٹ نومبر فیوچرز معاہدے کی قیمت صبح 10:50 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق 1.12 ڈالر یا ایک فیصد اضافے سے 103.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ زیادہ فعال دسمبر معاہدہ 2.65 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے سے 98.81 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.98 ڈالر یا 2.2 فیصد اضافے سے 91.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>برینٹ کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، جو جولائی کے بعد اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوگا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 5.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>قطر نے منگل کو کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کے لیے جاری سفارتی کوششیں کسی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایکسِیوس‘ اور ’سی این این‘ کی ان رپورٹس کی تردید کردی جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے اس کے جوہری پروگرام پر ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے میں تہران کو پابندیوں میں ریلیف دینے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر آمادہ ہیں۔</p>
<p>منگل کو سعودی عرب نے مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار ٹینکروں میں تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔</p>
<p>گولڈمین سیکس نے منگل کو جاری کردہ ایک نوٹ میں اندازہ ظاہر کیا کہ گزشتہ ہفتے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات بحال ہوکر 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی ہیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادارے کے مطابق ستمبر میں تیل کی برآمدات دگنی ہوگئی تھیں۔</p>
<p>جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی تیل برآمدات کی 10 روزہ اوسط 2 کروڑ 5 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو 2025 کی سطح کا 89 فیصد ہے۔</p>
<p>دو باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اوپیک پلس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں نومبر کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>جاپانی بینک ایم یو ایف جی کے تجزیہ کاروں نے کہا، ’’خام تیل کی ترسیل بحال ہونے سے رسد کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ کم ہونا چاہیے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل قلت اور بلند فریٹ لاگت کے باعث مجموعی توانائی کی منڈی میں سختی برقرار رہنے کا امکان ہے۔‘‘</p>
<p>دو باخبر ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے عالمی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے تحت یورپی یونین پر ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لانے پر زور دیا ہے۔</p>
<p>امریکی ایندھن کے ذخائر میں کمی نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا، اگرچہ خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>کےپلر کے تجزیہ کار میٹ اسمتھ نے کہا، ’’ریفائننگ سرگرمی میں کمی کے باعث ڈسٹلیٹس اور پٹرول، دونوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ ریفائننگ سرگرمی میں آئندہ بتدریج اضافہ متوقع ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو مزید کم سطح تک گرنے سے تحفظ ملے گا۔‘‘</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں پٹرول کے ذخائر 17 لاکھ بیرل کم ہوکر 20 کروڑ 44 لاکھ بیرل رہ گئے، جبکہ ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ذخائر 23 لاکھ بیرل کمی سے 10 کروڑ 52 لاکھ بیرل رہ گئے۔</p>
<p>دریں اثنا، 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر 9 لاکھ 22 ہزار بیرل اضافے سے 42 کروڑ 73 لاکھ بیرل ہوگئے۔ ای آئی اے کے مطابق رائٹرز کے ایک سروے میں تجزیہ کاروں نے خام تیل کے ذخائر میں 2 لاکھ 64 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔</p>
<p>تیل کے دو اہم بینچ مارکس کے درمیان قیمت کا فرق بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ تاجر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے ممکنہ منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے اقدام سے امریکی منڈی میں ڈیزل کی اضافی رسد پیدا ہوسکتی ہے اور وہاں ریفائنریوں کو خام تیل کی پروسیسنگ کم کرنا پڑسکتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صارفین کو قیمتوں میں کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے بجائے سرخ رنگ سے نشان زد ڈیزل کی فروخت کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291883</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 21:51:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3008500527015b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="357" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3008500527015b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی پر توجہ مرکوز، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتیں منگل کو کم ہوگئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار اور خطے میں امریکی و اسرائیلی ایران جنگ کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات پر مرکوز رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرینچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق 1306 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.96 ڈالر یا 1.86 فیصد کمی سے 103.32 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.95 ڈالر یا 2.11 فیصد کمی سے 90.65 ڈالر فی بیرل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں رواں ماہ بالترتیب تقریباً 14 فیصد اور 5.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’خلیج سے تیل کی برآمدات میں اضافے کی ایک واضح تصویر سامنے آرہی ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ اب بھی بحری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی جیسے متبادل طریقوں پر منحصر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’یہ طریقے معمول کی کارروائیوں کے مقابلے میں کم مؤثر اور زیادہ مہنگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل بھی بحال کردی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی ترسیل میں اضافے نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں منگل کو معمولی کمی کے بعد تقریباً 1,379 ڈالر فی میٹرک ٹن رہی۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ قیمت 1,535 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ رواں سال اب تک یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے حکام نے الگ الگ ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی، جس کا مقصد سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوشش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے انہوں نے ایران کو کوئی پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکا میں قیمتیں کم کرنے کے لیے سرخ رنگ والے ڈیزل کی وسیع پیمانے پر فروخت کی اجازت دینے کی غرض سے ضوابط میں نرمی پر غور کیا جارہا ہے۔ معاملے سے واقف افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ تجویز ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے متبادل کے طور پر نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ قربت سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والی خبریں ٹھوس معاہدوں کے بجائے محض خواہشات پر مبنی دکھائی دیتی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکی صدر اب بھی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی اور زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے ’سرخ‘ ڈیزل کے ٹیکس نظام میں ردوبدل پر غور کیوں کرتے، جبکہ ان کے خیال میں تیل کی مصنوعات جلد ان آبناؤں سے دوبارہ گزرنا شروع ہوجاتیں جہاں آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے پیدا کی گئی رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے پیر کو کیے گئے ایک ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی متوقع تھی، جبکہ ڈیزل سمیت کشید شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں ممکنہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتیں منگل کو کم ہوگئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار اور خطے میں امریکی و اسرائیلی ایران جنگ کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات پر مرکوز رہی۔</strong></p>
<p>گرینچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق 1306 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.96 ڈالر یا 1.86 فیصد کمی سے 103.32 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.95 ڈالر یا 2.11 فیصد کمی سے 90.65 ڈالر فی بیرل رہا۔</p>
<p>برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں رواں ماہ بالترتیب تقریباً 14 فیصد اور 5.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’خلیج سے تیل کی برآمدات میں اضافے کی ایک واضح تصویر سامنے آرہی ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ اب بھی بحری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی جیسے متبادل طریقوں پر منحصر ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’یہ طریقے معمول کی کارروائیوں کے مقابلے میں کم مؤثر اور زیادہ مہنگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔‘‘</p>
<p>تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل بھی بحال کردی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی ترسیل میں اضافے نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں منگل کو معمولی کمی کے بعد تقریباً 1,379 ڈالر فی میٹرک ٹن رہی۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ قیمت 1,535 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ رواں سال اب تک یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔</p>
<p>دونوں ممالک کے حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے حکام نے الگ الگ ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی، جس کا مقصد سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوشش کرنا تھا۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے انہوں نے ایران کو کوئی پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، امریکا میں قیمتیں کم کرنے کے لیے سرخ رنگ والے ڈیزل کی وسیع پیمانے پر فروخت کی اجازت دینے کی غرض سے ضوابط میں نرمی پر غور کیا جارہا ہے۔ معاملے سے واقف افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ تجویز ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے متبادل کے طور پر نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔</p>
<p>پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ قربت سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والی خبریں ٹھوس معاہدوں کے بجائے محض خواہشات پر مبنی دکھائی دیتی ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکی صدر اب بھی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی اور زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے ’سرخ‘ ڈیزل کے ٹیکس نظام میں ردوبدل پر غور کیوں کرتے، جبکہ ان کے خیال میں تیل کی مصنوعات جلد ان آبناؤں سے دوبارہ گزرنا شروع ہوجاتیں جہاں آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے پیدا کی گئی رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے؟‘‘</p>
<p>رائٹرز کے پیر کو کیے گئے ایک ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی متوقع تھی، جبکہ ڈیزل سمیت کشید شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں ممکنہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291829</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 19:59:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29083921cd5eb1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="357" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29083921cd5eb1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن مذاکرات تعطل کا شکار، تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291779/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی امن معاہدے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ مین ٹائم کے مطابق دوپہر ایک بج کر 20 منٹ پر برینٹ فیوچرز 1.68 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے سے 106 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دورانِ سیشن قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بھی پہنچ گئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.69 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے سے 94.10 ڈالر فی بیرل پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ مسترد کردیا ہے، تاہم اتوار کو ایک فون انٹرویو میں امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں حصہ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ثالث پیر یا منگل کو امریکا اور ایران کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی ٹی مارکیٹس دبئی کے تجزیہ کار محمود مشال نے کہا، “سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ترسیل سے متعلق خدشات بھی برقرار رکھے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی قیادت میں یمن میں قائم اتحاد نے ہفتے کی صبح کہا تھا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرون مار گرائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 12.8 ملین بیرل روزانہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بحالی کے بعد ہوا، جو رواں ماہ تقریباً 7.4 ملین بیرل روزانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب نے مشرقی جانب واقع رأس تنورہ بندرگاہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے اپنی ترسیلات کا رخ موڑ دیا، جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔ یہ اقدام ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے حملوں کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونونو نے کہا، ”آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ترسیل تنازع سے پہلے کی سطح سے کم ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں رسد کی کمی برقرار ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے برینٹ کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ گر گئی۔ اس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ ریکارڈ بلند قیمتوں میں کمی لانے کے لیے امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے، جس سے امریکی ریفائننگ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے یورپی کم سلفر گیس آئل کی برینٹ خام تیل کے فیوچرز کے مقابلے میں اضافی قیمت تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ عالمی سطح پر رسد کی کمی کے باعث ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے کہا کہ اگرچہ یورپ اور بالخصوص لاطینی امریکا امریکی ڈیزل کی برآمدات کی اہم منڈیاں ہیں، تاہم ڈیزل کی رسد میں اچانک کمی کا جھٹکا تیزی سے دنیا کے دیگر حصوں، بشمول ایشیا، تک پھیل سکتا ہے، کیونکہ لاطینی امریکا اور یورپ بھارت جیسے ممالک سے دستیاب ڈیزل کی باقی مقدار کے حصول کے لیے مزید دباؤ ڈالنا شروع کردیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے مزید کہا، ”ہمارا اندازہ ہے کہ امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے ہر ہفتے سے یورپ میں تھوک ڈیزل (اے آر اے گیس آئل) کی قیمتوں میں 3 ڈالر فی بیرل، یا تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، یوکرین کی فوج نے روس کے کراسنودار خطے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے پیر کو یہ دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی امن معاہدے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>گرین وچ مین ٹائم کے مطابق دوپہر ایک بج کر 20 منٹ پر برینٹ فیوچرز 1.68 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے سے 106 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دورانِ سیشن قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بھی پہنچ گئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.69 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے سے 94.10 ڈالر فی بیرل پر تھا۔</p>
<p>ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ مسترد کردیا ہے، تاہم اتوار کو ایک فون انٹرویو میں امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں حصہ لیں گے۔</p>
<p>مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ثالث پیر یا منگل کو امریکا اور ایران کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>وی ٹی مارکیٹس دبئی کے تجزیہ کار محمود مشال نے کہا، “سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ترسیل سے متعلق خدشات بھی برقرار رکھے ہیں۔”</p>
<p>سعودی قیادت میں یمن میں قائم اتحاد نے ہفتے کی صبح کہا تھا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرون مار گرائے ہیں۔</p>
<p>کےپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 12.8 ملین بیرل روزانہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بحالی کے بعد ہوا، جو رواں ماہ تقریباً 7.4 ملین بیرل روزانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب نے مشرقی جانب واقع رأس تنورہ بندرگاہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے اپنی ترسیلات کا رخ موڑ دیا، جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔ یہ اقدام ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے حملوں کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونونو نے کہا، ”آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ترسیل تنازع سے پہلے کی سطح سے کم ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں رسد کی کمی برقرار ہے۔“</p>
<p>گزشتہ ہفتے برینٹ کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ گر گئی۔ اس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ ریکارڈ بلند قیمتوں میں کمی لانے کے لیے امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے، جس سے امریکی ریفائننگ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے یورپی کم سلفر گیس آئل کی برینٹ خام تیل کے فیوچرز کے مقابلے میں اضافی قیمت تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ عالمی سطح پر رسد کی کمی کے باعث ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے کہا کہ اگرچہ یورپ اور بالخصوص لاطینی امریکا امریکی ڈیزل کی برآمدات کی اہم منڈیاں ہیں، تاہم ڈیزل کی رسد میں اچانک کمی کا جھٹکا تیزی سے دنیا کے دیگر حصوں، بشمول ایشیا، تک پھیل سکتا ہے، کیونکہ لاطینی امریکا اور یورپ بھارت جیسے ممالک سے دستیاب ڈیزل کی باقی مقدار کے حصول کے لیے مزید دباؤ ڈالنا شروع کردیں گے۔</p>
<p>بینک نے مزید کہا، ”ہمارا اندازہ ہے کہ امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے ہر ہفتے سے یورپ میں تھوک ڈیزل (اے آر اے گیس آئل) کی قیمتوں میں 3 ڈالر فی بیرل، یا تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوگا۔“</p>
<p>دریں اثنا، یوکرین کی فوج نے روس کے کراسنودار خطے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے پیر کو یہ دعویٰ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291779</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 20:13:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/281214555ed5e1a.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/281214555ed5e1a.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگے، خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو تقریباً 3 فیصد گر گئیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث مارکیٹ پر دباؤ رہا، تاہم تاجروں کو خدشہ تھا کہ سعودی عرب پر حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے مشرق وسطیٰ کے اس اہم تیل پیدا کرنے والے ملک سے رسد متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر 12:12 بجے امریکی مشرقی وقت (1612 جی ایم ٹی) تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 2.96 ڈالر، یعنی 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 103.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.86 ڈالر، یعنی 3 فیصد کمی کے ساتھ 91.75 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح رواں ہفتے برینٹ کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا جبکہ واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے، جس کے باعث سعودی، ترک اور پاکستانی فوجی سربراہان سعودی عرب کی معاونت پر بات چیت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’سفارتی امیدیں بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں حالیہ فوجی حملوں کے اثرات برداشت کرنے میں تیل کی قیمتوں کی مدد کر رہی ہیں اور حملوں کے باوجود خام تیل کی تجارت میں معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب پر بھی بارہا حملے کیے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگ کا حصہ ہیں، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی ترسیل جاری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر کے ابتدائی بحری جہازوں سے باخبر رہنے والے اعداد و شمار کے مطابق 20 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل 3 کروڑ 37 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات گزشتہ ہفتے کی سطح کے لگ بھگ برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 19 ٹینکرز نے آمدورفت کی، جن میں 17 انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز (وی ایل سی سی) شامل ہیں، جو 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیشتر ٹینکرز سعودی عرب کے خام تیل سے لدے ہوئے ہیں، جس کے بعد عراق کا نمبر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں واشنگٹن کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی باتوں کے باعث امریکی خام تیل کے فیوچرز اور عالمی معیار برینٹ کے درمیان قیمتوں کا فرق بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ اگر امریکی ریفائنریوں میں تیار ہونے والا ڈیزل ملکی منڈی تک محدود ہوگیا تو ریفائنریاں خام تیل کی کم مقدار پراسیس کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو برینٹ خام تیل پر ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں اضافی قیمت مسلسل دوسرے روز بڑھ کر مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے جمعہ کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کے دوران واضح کردیا تھا کہ چین کی جانب سے ایران کی مدد ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے سے اقتصادی نمو اور توانائی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس اور یوکرین&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کو یوکرین اور روس کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کی تجویز دی ہے، جس میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں نووشاختنسک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر کام معطل کرنا پڑا، روسی گورنر یوری سلیوسر نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی ریفائنریوں پر شدید ڈرون حملے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں کیف اور ماسکو کے درمیان توانائی سے متعلق ممکنہ جنگ بندی پر ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے کسی بھی معاہدے سے روس کو مزید توانائی برآمد کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اوپیک پلس کا رکن روس 2025 میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو تقریباً 3 فیصد گر گئیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث مارکیٹ پر دباؤ رہا، تاہم تاجروں کو خدشہ تھا کہ سعودی عرب پر حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے مشرق وسطیٰ کے اس اہم تیل پیدا کرنے والے ملک سے رسد متاثر ہوسکتی ہے۔</strong></p>
<p>دوپہر 12:12 بجے امریکی مشرقی وقت (1612 جی ایم ٹی) تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 2.96 ڈالر، یعنی 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 103.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.86 ڈالر، یعنی 3 فیصد کمی کے ساتھ 91.75 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>اس طرح رواں ہفتے برینٹ کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا جبکہ واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا۔</p>
<p>تاہم مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے، جس کے باعث سعودی، ترک اور پاکستانی فوجی سربراہان سعودی عرب کی معاونت پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’سفارتی امیدیں بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں حالیہ فوجی حملوں کے اثرات برداشت کرنے میں تیل کی قیمتوں کی مدد کر رہی ہیں اور حملوں کے باوجود خام تیل کی تجارت میں معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔‘‘</p>
<p>حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب پر بھی بارہا حملے کیے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگ کا حصہ ہیں، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی۔</p>
<p><strong>خام تیل کی ترسیل جاری</strong></p>
<p>کےپلر کے ابتدائی بحری جہازوں سے باخبر رہنے والے اعداد و شمار کے مطابق 20 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل 3 کروڑ 37 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات گزشتہ ہفتے کی سطح کے لگ بھگ برقرار ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 19 ٹینکرز نے آمدورفت کی، جن میں 17 انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز (وی ایل سی سی) شامل ہیں، جو 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیشتر ٹینکرز سعودی عرب کے خام تیل سے لدے ہوئے ہیں، جس کے بعد عراق کا نمبر ہے۔</p>
<p>ایران جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔</p>
<p>امریکا میں واشنگٹن کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی باتوں کے باعث امریکی خام تیل کے فیوچرز اور عالمی معیار برینٹ کے درمیان قیمتوں کا فرق بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ اگر امریکی ریفائنریوں میں تیار ہونے والا ڈیزل ملکی منڈی تک محدود ہوگیا تو ریفائنریاں خام تیل کی کم مقدار پراسیس کریں گی۔</p>
<p>جمعرات کو برینٹ خام تیل پر ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں اضافی قیمت مسلسل دوسرے روز بڑھ کر مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</p>
<p>علاوہ ازیں، امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے جمعہ کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کے دوران واضح کردیا تھا کہ چین کی جانب سے ایران کی مدد ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے سے اقتصادی نمو اور توانائی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p><strong>روس اور یوکرین</strong></p>
<p>یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کو یوکرین اور روس کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کی تجویز دی ہے، جس میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p>روس میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں نووشاختنسک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر کام معطل کرنا پڑا، روسی گورنر یوری سلیوسر نے بتایا۔</p>
<p>روس کی ریفائنریوں پر شدید ڈرون حملے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں کیف اور ماسکو کے درمیان توانائی سے متعلق ممکنہ جنگ بندی پر ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئے۔</p>
<p>روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے کسی بھی معاہدے سے روس کو مزید توانائی برآمد کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اوپیک پلس کا رکن روس 2025 میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291666</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 21:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/251922472658483.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/251922472658483.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے، تیل 4 فیصد مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291619/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثیوں کی جانب سے جمعرات کو سعودی عرب پر میزائل داغے جانے اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کے کم آثار کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد بڑھ کر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 9 منٹ (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1509 بجے) برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.10 ڈالر یا 4 فیصد اضافے سے 107.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 3.66 ڈالر یا 4 فیصد بڑھ کر 95.82 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو روز کے دوران تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہونے کی جانب گامزن تھی۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت مسلسل 6 روز کی تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 7 روز میں پہلی مرتبہ اضافے کی جانب بڑھ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا، جس کے نتیجے میں جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی خلیجی ہمسایہ ممالک، بشمول دبئی جیسے اہم سفری مرکز، کے لیے پروازیں جمعرات کو بظاہر منسوخ کردی گئیں، جس کے بعد عالمی کمپنیوں کو ایران کی ایئرلائنز کے ساتھ کام روکنے کے لیے امریکا کی مقررہ مہلت ختم ہوگئی۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ قرار دی گئی مہم میں ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میدان جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کئی ماہ سے بڑی حد تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا کر امریکی مالیاتی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اس طرزِ عمل کو ’’ثانوی پابندیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے بدھ کے روز دھمکی دی کہ وہ اپنی پروازوں پر امریکی پابندی کی تعمیل کرنے والے کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور ان کے ہوائی اڈوں کو ’’ناقابلِ استعمال‘‘ بنا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے طریقۂ کار پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، لیکن سفارت کاری کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ یہ بیان ایرانی صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس عزم کے اظہار کے بعد سامنے آیا کہ تہران کبھی بھی امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، صنعتی ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق، سعودی عرب اپنی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے؛ یہ پائپ لائن بحیرہ احمر پر واقع برآمدی مرکز ’ینبع‘ تک جاتی ہے، اگرچہ خام تیل کے ٹینکروں میں لوڈنگ کا عمل ابھی تک دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیزل کی قیمتیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد یورپی یونین اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔ یہ رابطے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ امریکی پابندی کے حوالے سے ہیں؛ یورپی یونین کا ماننا ہے کہ ایسی کسی بھی پابندی کا دونوں فریقین پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر امریکا ڈیزل کی برآمدات پر 90 دن کی پابندی عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس خبر کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ڈیزل برآمدی پابندی سے توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے، بلکہ اس سے عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور معیشتوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ جمعرات کی صبح کے آخری پہر میں امریکی ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مسلسل دوسرے روز ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کا پریمیم مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کمپنیوں کے لیے برآمدی مقصد سے خام تیل اٹھانے کی خاطر امریکا جہاز بھیجنا زیادہ کفایت بخش ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹینکر کرائے پر لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی برآمدات میں کمی آئی ہے جو اس سال کے اوائل میں ریکارڈ سطح پر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کی برآمدات صرف 33 لاکھ بیرل روزانہ رہیں؛ یہ اپریل میں ریکارڈ کی گئی 64 لاکھ بیرل روزانہ کی ہفتہ وار بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہیں، جب جہاز کرائے پر لینے کی لاگت بہت کم تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثیوں کی جانب سے جمعرات کو سعودی عرب پر میزائل داغے جانے اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کے کم آثار کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد بڑھ کر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 9 منٹ (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1509 بجے) برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.10 ڈالر یا 4 فیصد اضافے سے 107.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 3.66 ڈالر یا 4 فیصد بڑھ کر 95.82 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>گزشتہ دو روز کے دوران تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہونے کی جانب گامزن تھی۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت مسلسل 6 روز کی تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 7 روز میں پہلی مرتبہ اضافے کی جانب بڑھ رہی تھی۔</p>
<p>یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا، جس کے نتیجے میں جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے گئے۔</p>
<p>ایران کی خلیجی ہمسایہ ممالک، بشمول دبئی جیسے اہم سفری مرکز، کے لیے پروازیں جمعرات کو بظاہر منسوخ کردی گئیں، جس کے بعد عالمی کمپنیوں کو ایران کی ایئرلائنز کے ساتھ کام روکنے کے لیے امریکا کی مقررہ مہلت ختم ہوگئی۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ قرار دی گئی مہم میں ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>میدان جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کئی ماہ سے بڑی حد تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا کر امریکی مالیاتی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اس طرزِ عمل کو ’’ثانوی پابندیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>ایران نے بدھ کے روز دھمکی دی کہ وہ اپنی پروازوں پر امریکی پابندی کی تعمیل کرنے والے کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور ان کے ہوائی اڈوں کو ’’ناقابلِ استعمال‘‘ بنا دے گا۔</p>
<p>ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے طریقۂ کار پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، لیکن سفارت کاری کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ یہ بیان ایرانی صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس عزم کے اظہار کے بعد سامنے آیا کہ تہران کبھی بھی امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔</p>
<p>دوسری جانب، صنعتی ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق، سعودی عرب اپنی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے؛ یہ پائپ لائن بحیرہ احمر پر واقع برآمدی مرکز ’ینبع‘ تک جاتی ہے، اگرچہ خام تیل کے ٹینکروں میں لوڈنگ کا عمل ابھی تک دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔</p>
<p><strong>ڈیزل کی قیمتیں</strong></p>
<p>حالیہ ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد یورپی یونین اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔ یہ رابطے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ امریکی پابندی کے حوالے سے ہیں؛ یورپی یونین کا ماننا ہے کہ ایسی کسی بھی پابندی کا دونوں فریقین پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر امریکا ڈیزل کی برآمدات پر 90 دن کی پابندی عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس خبر کی تردید کی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ڈیزل برآمدی پابندی سے توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے، بلکہ اس سے عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور معیشتوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ جمعرات کی صبح کے آخری پہر میں امریکی ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p><strong>ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم</strong></p>
<p>جمعرات کو مسلسل دوسرے روز ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کا پریمیم مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کمپنیوں کے لیے برآمدی مقصد سے خام تیل اٹھانے کی خاطر امریکا جہاز بھیجنا زیادہ کفایت بخش ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹینکر کرائے پر لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی برآمدات میں کمی آئی ہے جو اس سال کے اوائل میں ریکارڈ سطح پر تھیں۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کی برآمدات صرف 33 لاکھ بیرل روزانہ رہیں؛ یہ اپریل میں ریکارڈ کی گئی 64 لاکھ بیرل روزانہ کی ہفتہ وار بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہیں، جب جہاز کرائے پر لینے کی لاگت بہت کم تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291619</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 21:30:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24212245a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24212245a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا ہتھیار نہ ڈالنے کا عزم، تیل تقریباً 2 فیصد مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291573/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں بدھ کو اتار چڑھاؤ کے دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.84 ڈالر یا 1.85 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 101.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودوں میں 69 سینٹ یا 0.76 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 91.21 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پزشکیان نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو اسی فورم سے خطاب میں ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران دشمنی ختم کرنے کی اپنی تجویز پر امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی متعدد اختلافات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق منگل کو ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر واشنگٹن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بدھ کو ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا تھا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، یورپ میں کم سلفر والے گیس آئل کی برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کے مقابلے میں قیمت میں اضافی رقم ریکارڈ بلند سطح پر، تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے ریکارڈ بلند قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی۔ عالمی سطح پر رسد کی قلت کے باعث ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں اور مارکیٹ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی لانے میں معمولی اثر ڈالے گا، جبکہ عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب اور معیشتوں میں مزید خلل پیدا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران یورپ ڈیزل اور جیٹ فیول کی درآمد کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے کموڈیٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا، ’’برینٹ کی قیمتوں کو گیس آئل کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں سے سہارا مل رہا ہے، کیونکہ یہ خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں کہ امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا کہ 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر 30 لاکھ بیرل بڑھ کر 42 کروڑ 64 لاکھ بیرل ہوگئے۔ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں نے ذخائر میں 6 لاکھ 41 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔ ایندھن کے ذخائر میں کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خلیجی-رسد-میں-اضافہ-سفارت-کاری-کی-امیدیں" href="#خلیجی-رسد-میں-اضافہ-سفارت-کاری-کی-امیدیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خلیجی رسد میں اضافہ، سفارت کاری کی امیدیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 97.36 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح تھی۔ بدھ کی ابتدائی تجارت میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی یکم ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ مشرق وسطیٰ سے مزید تیل کی رسد بڑھنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جلد امن معاہدے کی امیدوں کے باعث قیمتوں پر دباؤ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے منگل کو بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل دوبارہ شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینسن نے مزید کہا، ’’قیمتوں میں کمی کے تناظر میں توجہ دینے کے قابل واحد خبر سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا دوبارہ کھلنا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے جن ڈرون حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے، ان کے باعث مملکت نے 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کردی تھی، جس سے ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے منگل کو ایشیائی ریفائنریوں کو آبنائے ہرمز سے باہر واقع مقامات سے تیل اٹھانے کے لیے مزید خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق کے وزیرِ تیل نے منگل کو بتایا کہ ملک یومیہ 30 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے اور ترکی کے راستے برآمدات بڑھا کر یومیہ 6 لاکھ بیرل سے زیادہ کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرتا اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ روس اور یوکرین دونوں نے اناج اور توانائی کے شعبوں تک محدود جنگ بندی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں بدھ کو اتار چڑھاؤ کے دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.84 ڈالر یا 1.85 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 101.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودوں میں 69 سینٹ یا 0.76 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 91.21 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>پزشکیان نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو اسی فورم سے خطاب میں ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔</p>
<p>ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران دشمنی ختم کرنے کی اپنی تجویز پر امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی متعدد اختلافات موجود ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق منگل کو ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر واشنگٹن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔</p>
<p>اس سے قبل بدھ کو ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا تھا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔</p>
<p>دریں اثنا، یورپ میں کم سلفر والے گیس آئل کی برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کے مقابلے میں قیمت میں اضافی رقم ریکارڈ بلند سطح پر، تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے ریکارڈ بلند قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی۔ عالمی سطح پر رسد کی قلت کے باعث ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>بعدازاں امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں اور مارکیٹ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی لانے میں معمولی اثر ڈالے گا، جبکہ عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب اور معیشتوں میں مزید خلل پیدا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران یورپ ڈیزل اور جیٹ فیول کی درآمد کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے۔</p>
<p>سیکسو بینک کے کموڈیٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا، ’’برینٹ کی قیمتوں کو گیس آئل کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں سے سہارا مل رہا ہے، کیونکہ یہ خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں کہ امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔‘‘</p>
<p>دریں اثنا، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا کہ 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر 30 لاکھ بیرل بڑھ کر 42 کروڑ 64 لاکھ بیرل ہوگئے۔ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں نے ذخائر میں 6 لاکھ 41 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔ ایندھن کے ذخائر میں کمی ہوئی۔</p>
<h3><a id="خلیجی-رسد-میں-اضافہ-سفارت-کاری-کی-امیدیں" href="#خلیجی-رسد-میں-اضافہ-سفارت-کاری-کی-امیدیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خلیجی رسد میں اضافہ، سفارت کاری کی امیدیں</h3>
<p>منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 97.36 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح تھی۔ بدھ کی ابتدائی تجارت میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی یکم ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ مشرق وسطیٰ سے مزید تیل کی رسد بڑھنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جلد امن معاہدے کی امیدوں کے باعث قیمتوں پر دباؤ رہا۔</p>
<p>معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے منگل کو بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل دوبارہ شروع کردی۔</p>
<p>ہینسن نے مزید کہا، ’’قیمتوں میں کمی کے تناظر میں توجہ دینے کے قابل واحد خبر سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا دوبارہ کھلنا ہے۔‘‘</p>
<p>سعودی عرب نے جن ڈرون حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے، ان کے باعث مملکت نے 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کردی تھی، جس سے ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔</p>
<p>سعودی عرب نے منگل کو ایشیائی ریفائنریوں کو آبنائے ہرمز سے باہر واقع مقامات سے تیل اٹھانے کے لیے مزید خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی۔</p>
<p>عراق کے وزیرِ تیل نے منگل کو بتایا کہ ملک یومیہ 30 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے اور ترکی کے راستے برآمدات بڑھا کر یومیہ 6 لاکھ بیرل سے زیادہ کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرتا اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔</p>
<p>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ روس اور یوکرین دونوں نے اناج اور توانائی کے شعبوں تک محدود جنگ بندی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291573</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 22:07:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/23084149b6856b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/23084149b6856b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی خطے میں رسد کے امکانات بہتر ہونے پر تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291519/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی تیل کی قیمتیں منگل کو دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ خلیجی خطے سے خام تیل کی رسد بڑھنے کے امکانات نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم کردیے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بحال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 10:27 بجے نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 2.01 ڈالر، یعنی 2 فیصد کم ہوکر 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اکتوبر کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے، جن کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 2.50 ڈالر، یعنی 2.61 فیصد کمی کے بعد 93.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ کاروبار والے نومبر کے ڈبلیو ٹی آئی سودوں کی قیمت بھی 2.45 ڈالر، یعنی 2.65 فیصد کم ہوکر 89.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ نومبر، ڈبلیو ٹی آئی اکتوبر اور ڈبلیو ٹی آئی نومبر کے تینوں سودوں کی قیمتیں 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کو امریکا کے ساتھ سفارتی کوششیں بحال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپیٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ اس بات کی مثبت علامت ہوسکتی ہے کہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے اواخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی رسد گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین نے مزید کہا کہ پائیدار حل تک پہنچنے سے قبل بعض دیگر رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی، جن میں ٹولز اور فیس کا معاملہ شامل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی عرب نے مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی ہیں اور معاملے سے آگاہ تین ذرائع کے مطابق منگل کے اواخر میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمدات بھی بحال کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے دو ذرائع نے بتایا کہ پائپ لائن سے کم شرح پر تیل کی ترسیل جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توجہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر بھی مرکوز ہے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہورہی ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورت حال غیر مستحکم ہے اور یوکرین میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سعودی آرامکو نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بڑھا دی ہیں۔ اس سے قبل مشرقی-مغربی پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی کو ینبع کے راستے بعض ترسیلات روکنا پڑی تھیں۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو خلیج کے اندر سات بڑے تیل بردار جہازوں میں سعودی خام تیل کے تقریباً 14 ملین بیرل لادے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے شعبہ اجناس حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے، بالخصوص ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی رسد میں اضافہ ہونے تک، انہیں تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اصل قلت ریفائن شدہ مصنوعات ہی کے شعبے میں برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ اور امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی ہیں، کیونکہ ایران اور یوکرین کی جنگوں نے روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے پیداواری ممالک سے برآمدات میں نمایاں کمی کردی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی تیل کی قیمتیں منگل کو دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ خلیجی خطے سے خام تیل کی رسد بڑھنے کے امکانات نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم کردیے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بحال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 10:27 بجے نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 2.01 ڈالر، یعنی 2 فیصد کم ہوکر 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اکتوبر کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے، جن کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 2.50 ڈالر، یعنی 2.61 فیصد کمی کے بعد 93.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔</p>
<p>زیادہ کاروبار والے نومبر کے ڈبلیو ٹی آئی سودوں کی قیمت بھی 2.45 ڈالر، یعنی 2.65 فیصد کم ہوکر 89.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>برینٹ نومبر، ڈبلیو ٹی آئی اکتوبر اور ڈبلیو ٹی آئی نومبر کے تینوں سودوں کی قیمتیں 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئیں۔</p>
<p>ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کو امریکا کے ساتھ سفارتی کوششیں بحال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>کیپیٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ اس بات کی مثبت علامت ہوسکتی ہے کہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہورہی ہیں۔</p>
<p>فروری کے اواخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی رسد گزرتی تھی۔</p>
<p>حسین نے مزید کہا کہ پائیدار حل تک پہنچنے سے قبل بعض دیگر رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی، جن میں ٹولز اور فیس کا معاملہ شامل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی عرب نے مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی ہیں اور معاملے سے آگاہ تین ذرائع کے مطابق منگل کے اواخر میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمدات بھی بحال کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے دو ذرائع نے بتایا کہ پائپ لائن سے کم شرح پر تیل کی ترسیل جاری تھی۔</p>
<p>مارکیٹ کی توجہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر بھی مرکوز ہے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہورہی ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورت حال غیر مستحکم ہے اور یوکرین میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔</p>
<p>دریں اثنا، سعودی آرامکو نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بڑھا دی ہیں۔ اس سے قبل مشرقی-مغربی پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی کو ینبع کے راستے بعض ترسیلات روکنا پڑی تھیں۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو خلیج کے اندر سات بڑے تیل بردار جہازوں میں سعودی خام تیل کے تقریباً 14 ملین بیرل لادے گئے۔</p>
<p>سیکسو بینک کے شعبہ اجناس حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے، بالخصوص ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی رسد میں اضافہ ہونے تک، انہیں تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اصل قلت ریفائن شدہ مصنوعات ہی کے شعبے میں برقرار ہے۔</p>
<p>یورپ اور امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی ہیں، کیونکہ ایران اور یوکرین کی جنگوں نے روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے پیداواری ممالک سے برآمدات میں نمایاں کمی کردی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291519</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 17:50:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22084922eee71f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22084922eee71f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی برآمدات اور امریکا، ایران سفارت کاری کی امید پر تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے 100 ڈالر سے نیچے آگئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں پیر کو خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر 12 روز کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ سرمایہ کار سعودی عرب سے تیل کی ترسیل میں جزوی بحالی پر نظر رکھے ہوئے تھے، جبکہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کے اجلاس کے باعث ایران جنگ کے معاملے پر سفارتی پیش رفت کی امید بھی پیدا ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ فی بیرل 100 ڈالر سے نیچے آگئے، جو 9 ستمبر کے بعد ان کی کم ترین سطح تھی۔ مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 2 منٹ (1502 جی ایم ٹی) پر نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودے 3.48 ڈالر یا 3.35 فیصد کمی کے ساتھ 100.39 ڈالر فی بیرل پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ، جس کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 4.64 ڈالر یا 4.63 فیصد کمی کے ساتھ 95.66 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ نومبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ 92.34 ڈالر فی بیرل پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کو نئی دھمکیاں دیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، جن کی اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مشرق وسطیٰ میں لڑائی جاری رہی۔ یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض کے علاوہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ وہ بحیرہ احمر کے ساحل کو سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر قبضہ باقی علاقوں سے منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف تین ایرانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے حملوں کے بعد بیجنگ سے مدد کی اپیل کیے جانے پر چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو کرنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی نے ینبع کے راستے تیل کی کچھ ترسیلات روکنے کے بعد رواں ماہ اور آئندہ ماہ آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے 18 ستمبر کے ایک نوٹ میں کہا کہ ’’سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل کے باوجود مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل حیران کن حد تک مضبوط ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے کہا کہ ’’سب سے نمایاں تبدیلی سعودی عرب کی جانب سے آئی ہے،‘‘ جبکہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ روز کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل اوسطاً 29 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو اگست میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن مذاکرات میں پیش رفت کی امیدوں نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے چیئرمین مسعود سلیمان نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ ملک کے شرارہ آئل فیلڈ میں پیداوار جزوی طور پر کم ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں پیر کو خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر 12 روز کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ سرمایہ کار سعودی عرب سے تیل کی ترسیل میں جزوی بحالی پر نظر رکھے ہوئے تھے، جبکہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کے اجلاس کے باعث ایران جنگ کے معاملے پر سفارتی پیش رفت کی امید بھی پیدا ہوئی۔</strong></p>
<p>کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ فی بیرل 100 ڈالر سے نیچے آگئے، جو 9 ستمبر کے بعد ان کی کم ترین سطح تھی۔ مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 2 منٹ (1502 جی ایم ٹی) پر نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودے 3.48 ڈالر یا 3.35 فیصد کمی کے ساتھ 100.39 ڈالر فی بیرل پر رہے۔</p>
<p>اکتوبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ، جس کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 4.64 ڈالر یا 4.63 فیصد کمی کے ساتھ 95.66 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ نومبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ 92.34 ڈالر فی بیرل پر رہا۔</p>
<p>اتوار کو ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کو نئی دھمکیاں دیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، جن کی اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>الجزیرہ نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔</p>
<p>ادھر مشرق وسطیٰ میں لڑائی جاری رہی۔ یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض کے علاوہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ وہ بحیرہ احمر کے ساحل کو سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر قبضہ باقی علاقوں سے منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>معاملے سے واقف تین ایرانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے حملوں کے بعد بیجنگ سے مدد کی اپیل کیے جانے پر چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو کرنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی نے ینبع کے راستے تیل کی کچھ ترسیلات روکنے کے بعد رواں ماہ اور آئندہ ماہ آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے 18 ستمبر کے ایک نوٹ میں کہا کہ ’’سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل کے باوجود مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل حیران کن حد تک مضبوط ہے۔‘‘</p>
<p>تجزیہ کاروں نے کہا کہ ’’سب سے نمایاں تبدیلی سعودی عرب کی جانب سے آئی ہے،‘‘ جبکہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ روز کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل اوسطاً 29 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو اگست میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔</p>
<p>پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن مذاکرات میں پیش رفت کی امیدوں نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔</p>
<p>دریں اثنا، لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے چیئرمین مسعود سلیمان نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ ملک کے شرارہ آئل فیلڈ میں پیداوار جزوی طور پر کم ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291474</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 21:26:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2108423643e07aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2108423643e07aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی تیل سپلائی میں تعطل کے خدشات کم ہونے پر عالمی منڈی میں تیل سستا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291374/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی، کیونکہ سعودی عرب سے تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات کم ہونے سے مشرق وسطیٰ میں تنازع پھیلنے کے خدشات کا اثر زائل ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 88 سینٹ، یعنی 0.84 فیصد کمی سے 103.94 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ 1225 جی ایم ٹی تک امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے سودے معمولی تبدیلی کے ساتھ 102.15 ڈالر فی بیرل پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک برینٹ کی قیمت رواں ہفتے 0.8 فیصد کمی کے ساتھ تین ہفتوں میں پہلی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے مزید خام تیل کی ترسیل، امریکا، سنگاپور اور یورپ میں تیل کی مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ اور چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات بڑھنے سے فوری طور پر سپلائی میں کمی کے خدشات کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وارگا نے مزید کہا، ’’ہفتے کے اختتام سے قبل منافع کے حصول کے لیے مسلسل فروخت کو خارج نہیں کیا جا سکتا، تاہم موجودہ بنیادی صورتحال برینٹ کی بنیاد پر قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے طویل عرصے تک نیچے رہنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ نے ان خدشات کو بڑی حد تک نظر انداز کیا، حالانکہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو سرحد کے آرپار ایک دوسرے کے خلاف تازہ حملے کیے، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا محاذ مزید پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جب ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے بحیرہ احمر میں واقع تیل برآمدی مرکز ینبع سے خام تیل کی ترسیل معطل کر دی گئی ہے اور گزشتہ ہفتے حملے میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد ریاض نے یورپ کو بعض ترسیلات منسوخ کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بعد ازاں ان اطلاعات پر قیمتوں میں کمی آئی کہ سعودی عرب چند روز میں اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی تقریباً نصف گنجائش بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع نے پائپ لائن دوبارہ کھولنے اور خام تیل کی ترسیل معمول پر آنے میں درکار وقت کے حوالے سے مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی اگست میں ریفائن شدہ تیل مصنوعات کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد بڑھیں، جبکہ جیٹ فیول کی برآمدات ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔ توقع ہے کہ چین ستمبر میں برآمدی پابندیوں میں مزید نرمی جاری رکھے گا، جس سے اسے بیرون ملک بلند منافع کے مارجن سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگن اسٹینلے کی ایک رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے ریفائنڈ تیل مصنوعات کے ذخائر میں 3.7 ملین بیرل اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ مغربی ممالک اور سنگاپور میں ذخائر کا بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا کی سربراہ برائے مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اہم سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر تیل کی ترسیل معمول پر آ سکتی ہے یا نہیں اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔ اگر آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں پائیدار بہتری آتی ہے تو جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث قیمتوں میں شامل اضافی پریمیم مزید کم ہو سکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، خطے سے تیل کی ترسیل اب بھی خطرناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی شپنگ اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو جمعرات کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ خلیج میں چار مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو 10 روزہ اوسط تقریباً 16 جہازوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق تین مائع قدرتی گیس کے جہاز بھی جمعرات کو آبنائے ہرمز کے باہر دوبارہ دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض بحری جہاز تنازع کے علاقے میں سفر کے دوران اپنی موجودگی کا سراغ لگنے کے خطرے سے بچنے کے لیے عموماً ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والا عبوری معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے کوئی امن مذاکرات نہیں ہوئے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جنگ کا معاملہ زیر بحث آئے گا، جبکہ ایرانی وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی، کیونکہ سعودی عرب سے تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات کم ہونے سے مشرق وسطیٰ میں تنازع پھیلنے کے خدشات کا اثر زائل ہوگیا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 88 سینٹ، یعنی 0.84 فیصد کمی سے 103.94 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ 1225 جی ایم ٹی تک امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے سودے معمولی تبدیلی کے ساتھ 102.15 ڈالر فی بیرل پر رہے۔</p>
<p>بینچ مارک برینٹ کی قیمت رواں ہفتے 0.8 فیصد کمی کے ساتھ تین ہفتوں میں پہلی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے مزید خام تیل کی ترسیل، امریکا، سنگاپور اور یورپ میں تیل کی مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ اور چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات بڑھنے سے فوری طور پر سپلائی میں کمی کے خدشات کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>وارگا نے مزید کہا، ’’ہفتے کے اختتام سے قبل منافع کے حصول کے لیے مسلسل فروخت کو خارج نہیں کیا جا سکتا، تاہم موجودہ بنیادی صورتحال برینٹ کی بنیاد پر قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے طویل عرصے تک نیچے رہنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔‘‘</p>
<p>مارکیٹ نے ان خدشات کو بڑی حد تک نظر انداز کیا، حالانکہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو سرحد کے آرپار ایک دوسرے کے خلاف تازہ حملے کیے، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا محاذ مزید پھیل گیا۔</p>
<p>ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جب ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے بحیرہ احمر میں واقع تیل برآمدی مرکز ینبع سے خام تیل کی ترسیل معطل کر دی گئی ہے اور گزشتہ ہفتے حملے میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد ریاض نے یورپ کو بعض ترسیلات منسوخ کر دی ہیں۔</p>
<p>تاہم، بعد ازاں ان اطلاعات پر قیمتوں میں کمی آئی کہ سعودی عرب چند روز میں اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی تقریباً نصف گنجائش بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع نے پائپ لائن دوبارہ کھولنے اور خام تیل کی ترسیل معمول پر آنے میں درکار وقت کے حوالے سے مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں، کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی اگست میں ریفائن شدہ تیل مصنوعات کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد بڑھیں، جبکہ جیٹ فیول کی برآمدات ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔ توقع ہے کہ چین ستمبر میں برآمدی پابندیوں میں مزید نرمی جاری رکھے گا، جس سے اسے بیرون ملک بلند منافع کے مارجن سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>مورگن اسٹینلے کی ایک رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے ریفائنڈ تیل مصنوعات کے ذخائر میں 3.7 ملین بیرل اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ مغربی ممالک اور سنگاپور میں ذخائر کا بڑھنا ہے۔</p>
<p>فلپ نووا کی سربراہ برائے مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اہم سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر تیل کی ترسیل معمول پر آ سکتی ہے یا نہیں اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔ اگر آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں پائیدار بہتری آتی ہے تو جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث قیمتوں میں شامل اضافی پریمیم مزید کم ہو سکتا ہے۔‘‘</p>
<p>تاہم، خطے سے تیل کی ترسیل اب بھی خطرناک ہے۔</p>
<p>ابتدائی شپنگ اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو جمعرات کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ خلیج میں چار مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو 10 روزہ اوسط تقریباً 16 جہازوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق تین مائع قدرتی گیس کے جہاز بھی جمعرات کو آبنائے ہرمز کے باہر دوبارہ دکھائی دیے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض بحری جہاز تنازع کے علاقے میں سفر کے دوران اپنی موجودگی کا سراغ لگنے کے خطرے سے بچنے کے لیے عموماً ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والا عبوری معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے کوئی امن مذاکرات نہیں ہوئے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جنگ کا معاملہ زیر بحث آئے گا، جبکہ ایرانی وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291374</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 18:42:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18091535c5ba708.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18091535c5ba708.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، چین اور بھارت میں ایل این جی کی طلب امریکا ایران جنگ خاتمے کے بعد بحالی کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعت سے وابستہ حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں رسد کا بحران ختم ہونے اور ایل این جی کی نئی رسد مارکیٹ میں آنے کے بعد پاکستان، چین اور بھارت میں ایل این جی کی طلب کئی سال کی کم ترین سطح سے دوبارہ بحال ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکا۔ایران جنگ کے دوران گیس کے متبادل کے طور پر کوئلے اور تیل کے استعمال میں آنے والا اضافہ بھی واپس پلٹ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے باعث قطر اور متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کے راستے اپنی زیادہ تر ایل این جی برآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ آبنائے ہرمز سے پہلے عالمی ایل این جی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی تاجر ادارے شیل کے مطابق رواں سال اب تک مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 36 ملین ٹن ایل این جی کی عالمی رسد متاثر ہوئی ہے۔ شیل کے انٹیگریٹڈ گیس ڈویژن کے صدر سیڈرک کریمرز نے یہ تخمینہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی منڈی میں متبادل رسد کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث ایشیا میں ایل این جی کی اسپاٹ قیمتیں جنگ سے قبل تقریباً 10 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس سے بڑھ کر تقریباً 30 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاک میں منعقدہ گیس ٹیک کانفرنس کے موقع پر بھارت کی سرکاری گیس کمپنی گیل کے چیئرمین دیپک گپتا نے کہا کہ ایل این جی کی آسمان کو چھوتی قیمتیں بھارت میں طلب کو ’’یقینی طور پر متاثر کر رہی ہیں‘‘، جہاں ’’بہت سے شعبے قیمتوں کے حوالے سے حساس ہیں‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے سب سے بڑی قدرتی گیس تقسیم کار کمپنی گیل کے سربراہ گپتا نے کہا، ’’ایسی بہت سی صنعتیں ہیں جو گیس ان کے لیے قابلِ عمل نہ رہے تو متبادل ایندھن استعمال کرنے لگتی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی سب سے بڑی ایل این جی درآمد کنندہ کمپنی پیٹروچائنا اور گیل، دونوں نے قطری اور اماراتی رسد کے متبادل کارگو حاصل کرنے کے لیے اپنی تجارتی ٹیمیں متحرک کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی سب سے بڑی گیس درآمد کنندہ کمپنی پیٹرونیٹ ایل این جی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ صارفین قیمتوں میں استحکام چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکشے کمار سنگھ نے کہا، ’’قابلِ استطاعت قیمت ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طلب موجود ہے، تاہم یہ قیمتوں کے حوالے سے حساس طلب ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی ملک پاکستان میں درآمد کنندہ کمپنی پاکستان ایل این جی کے چیف ایگزیکٹو مسعود نبی نے بھی کہا کہ اگر قیمت مناسب رہی تو طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اضافی حجم مارکیٹ میں آنے کے ساتھ ایسا ممکن ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران سولر توانائی کے منصوبوں میں اضافے نے پاکستان کو بجلی کی بندش سے نمٹنے میں مدد دی ہے، تاہم دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کی جانب سے بھی گیس کی طلب بدستور موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="طلب-میں-کمی-مستقل-نہیں" href="#طلب-میں-کمی-مستقل-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;طلب میں کمی مستقل نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گیل کے چیئرمین گپتا نے کہا کہ بھارت کو ابتدا میں گیس کے استعمال میں کمی کرنا پڑی، تاہم دیگر ذرائع سے ایل این جی خریدنے کی صلاحیت بڑھانے کے بعد گیس کی رسد تقریباً 90 سے 95 فیصد تک بحال کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسون موبل، گیل اور پیٹروچائنا کے حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے بعد گیس کی کھپت دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گپتا نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ یہ تمام صورتحال بہت قلیل مدتی ہے اور آنے والے دنوں، درمیانی اور طویل مدت میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چار سے پانچ برس کے دوران تقریباً 150 سے 200 ملین ٹن ایل این جی مارکیٹ میں دستیاب ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹروچائنا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو لو یژو نے کہا کہ ایل این جی کی قیمتیں 7 سے 9 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس کی ’’معمول کی‘‘ سطح پر واپس آنے کے بعد گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی طلب بھی بحال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ بجلی کی کھپت میں مضبوط اضافہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسون کے عالمی ایل این جی مارکیٹنگ کے نائب صدر اینڈریو بیری نے کانفرنس کے موقع پر رائٹرز کو بتایا کہ طویل مدت میں چین میں ایل این جی کی طلب میں نمایاں اضافے کی توقع ہے، کیونکہ ملک کے مشرقی ساحل کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا وسیع بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کو اپنے ایل این جی پورٹ فولیو میں تنوع پر بدستور بھرپور اعتماد ہے، جس میں امریکا، موزمبیق، قطر، پاپوا نیو گنی اور آسٹریلیا میں اس کے مفادات شامل ہیں۔ کمپنی رسد کی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مواقع کا جائزہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیری نے کہا، ’’ہمیں 2050 تک ایل این جی کی طلب میں انتہائی مضبوط اضافے کی توقع بدستور ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعت سے وابستہ حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں رسد کا بحران ختم ہونے اور ایل این جی کی نئی رسد مارکیٹ میں آنے کے بعد پاکستان، چین اور بھارت میں ایل این جی کی طلب کئی سال کی کم ترین سطح سے دوبارہ بحال ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکا۔ایران جنگ کے دوران گیس کے متبادل کے طور پر کوئلے اور تیل کے استعمال میں آنے والا اضافہ بھی واپس پلٹ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>اس تنازع کے باعث قطر اور متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کے راستے اپنی زیادہ تر ایل این جی برآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ آبنائے ہرمز سے پہلے عالمی ایل این جی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی تاجر ادارے شیل کے مطابق رواں سال اب تک مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 36 ملین ٹن ایل این جی کی عالمی رسد متاثر ہوئی ہے۔ شیل کے انٹیگریٹڈ گیس ڈویژن کے صدر سیڈرک کریمرز نے یہ تخمینہ پیش کیا۔</p>
<p>علاقائی منڈی میں متبادل رسد کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث ایشیا میں ایل این جی کی اسپاٹ قیمتیں جنگ سے قبل تقریباً 10 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس سے بڑھ کر تقریباً 30 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئی ہیں۔</p>
<p>بینکاک میں منعقدہ گیس ٹیک کانفرنس کے موقع پر بھارت کی سرکاری گیس کمپنی گیل کے چیئرمین دیپک گپتا نے کہا کہ ایل این جی کی آسمان کو چھوتی قیمتیں بھارت میں طلب کو ’’یقینی طور پر متاثر کر رہی ہیں‘‘، جہاں ’’بہت سے شعبے قیمتوں کے حوالے سے حساس ہیں‘‘۔</p>
<p>بھارت کی مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے سب سے بڑی قدرتی گیس تقسیم کار کمپنی گیل کے سربراہ گپتا نے کہا، ’’ایسی بہت سی صنعتیں ہیں جو گیس ان کے لیے قابلِ عمل نہ رہے تو متبادل ایندھن استعمال کرنے لگتی ہیں۔‘‘</p>
<p>چین کی سب سے بڑی ایل این جی درآمد کنندہ کمپنی پیٹروچائنا اور گیل، دونوں نے قطری اور اماراتی رسد کے متبادل کارگو حاصل کرنے کے لیے اپنی تجارتی ٹیمیں متحرک کر دی ہیں۔</p>
<p>بھارت کی سب سے بڑی گیس درآمد کنندہ کمپنی پیٹرونیٹ ایل این جی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ صارفین قیمتوں میں استحکام چاہتے ہیں۔</p>
<p>اکشے کمار سنگھ نے کہا، ’’قابلِ استطاعت قیمت ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طلب موجود ہے، تاہم یہ قیمتوں کے حوالے سے حساس طلب ہے۔‘‘</p>
<p>پڑوسی ملک پاکستان میں درآمد کنندہ کمپنی پاکستان ایل این جی کے چیف ایگزیکٹو مسعود نبی نے بھی کہا کہ اگر قیمت مناسب رہی تو طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اضافی حجم مارکیٹ میں آنے کے ساتھ ایسا ممکن ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران سولر توانائی کے منصوبوں میں اضافے نے پاکستان کو بجلی کی بندش سے نمٹنے میں مدد دی ہے، تاہم دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کی جانب سے بھی گیس کی طلب بدستور موجود ہے۔</p>
<h3><a id="طلب-میں-کمی-مستقل-نہیں" href="#طلب-میں-کمی-مستقل-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>طلب میں کمی مستقل نہیں</strong></h3>
<p>گیل کے چیئرمین گپتا نے کہا کہ بھارت کو ابتدا میں گیس کے استعمال میں کمی کرنا پڑی، تاہم دیگر ذرائع سے ایل این جی خریدنے کی صلاحیت بڑھانے کے بعد گیس کی رسد تقریباً 90 سے 95 فیصد تک بحال کردی گئی۔</p>
<p>ایکسون موبل، گیل اور پیٹروچائنا کے حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے بعد گیس کی کھپت دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>گپتا نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ یہ تمام صورتحال بہت قلیل مدتی ہے اور آنے والے دنوں، درمیانی اور طویل مدت میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چار سے پانچ برس کے دوران تقریباً 150 سے 200 ملین ٹن ایل این جی مارکیٹ میں دستیاب ہوسکتی ہے۔</p>
<p>پیٹروچائنا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو لو یژو نے کہا کہ ایل این جی کی قیمتیں 7 سے 9 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس کی ’’معمول کی‘‘ سطح پر واپس آنے کے بعد گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی طلب بھی بحال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ بجلی کی کھپت میں مضبوط اضافہ قرار دیا۔</p>
<p>ایکسون کے عالمی ایل این جی مارکیٹنگ کے نائب صدر اینڈریو بیری نے کانفرنس کے موقع پر رائٹرز کو بتایا کہ طویل مدت میں چین میں ایل این جی کی طلب میں نمایاں اضافے کی توقع ہے، کیونکہ ملک کے مشرقی ساحل کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا وسیع بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>کمپنی کو اپنے ایل این جی پورٹ فولیو میں تنوع پر بدستور بھرپور اعتماد ہے، جس میں امریکا، موزمبیق، قطر، پاپوا نیو گنی اور آسٹریلیا میں اس کے مفادات شامل ہیں۔ کمپنی رسد کی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مواقع کا جائزہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>بیری نے کہا، ’’ہمیں 2050 تک ایل این جی کی طلب میں انتہائی مضبوط اضافے کی توقع بدستور ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291281</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 20:05:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15193633e3ee2f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15193633e3ee2f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی تیل برآمدات معطل، لیبیا میں رسد متاثر؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 3 ڈالر بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291245/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ہوا، جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے، جبکہ لیبیا نے 3 آئل فیلڈز میں کام روک دیا ہے۔ اس سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تیل کی اہم رسد گاہوں میں خلل کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.81 ڈالر، یعنی 2.66 فیصد اضافے کے بعد 108.49 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے فیوچرز 3.29 ڈالر اضافے کے بعد 104.68 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر قیمتوں میں یہ اضافہ برقرار رہا تو دونوں معاہدے تقریباً 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد سے متعلق خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب یمن میں حوثی فورسز نے پیر کو سعودی عرب پر تازہ حملے کیے، جبکہ خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ حملے جمعہ کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے کے بعد کیے گئے، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کا اہم راستہ بند کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد کو درپیش خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی برآمدی ٹرمینل ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب ذرائع نے بتایا کہ ریاض نے یورپی خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں روانہ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایران کے ساتھ جاری تنازع سے الگ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے بتایا کہ 3 آئل فیلڈز میں کام معطل کردیا گیا ہے۔ پٹرولیم فیسلٹیز گارڈ کے احتجاج کرنے والے ارکان نے حمادہ۔زاویہ خام تیل برآمدی پائپ لائن کا ایک والو بند کردیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بندش کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا کہ اگر والو بند رہا یا مزید آئل فیلڈز کو پیداوار روکنے پر مجبور کیا گیا تو وہ ہنگامی حالات کا اعلان کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق لیبیا 2023 میں اوپیک کا خام تیل پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کے باعث امریکی ڈیزل کے فیوچرز میں 5.9 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا، ’’سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے تازہ حملے ممکنہ طور پر تنازع کی شدت اور دورانیے سے متعلق تیل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملے جمعہ کو سعودی عرب پر کیے گئے ان حملوں کے بعد ہوئے جن کا ذمہ دار ریاض نے عراق میں موجود حوثیوں کو قرار دیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ملک کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن متاثر ہوئی، جو تیل کی برآمدات کو بند آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستے سے جاری رکھنے کی سہولت دیتی ہے۔ امریکا۔ایران جنگ سے قبل عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کارروائیاں بحال نہ ہوئیں تو سعودی عرب کے پاس برآمد کے لیے دستیاب خام تیل چند ہی روز میں ختم ہوسکتا ہے۔ پائپ لائن پر حملے سے عالمی تیل رسد کے 4 فیصد تک متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں کہا، ’’حالیہ حملہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے اور اس سے حالیہ عرصے میں ینبع سے ہونے والی باقی ماندہ 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جبکہ تازہ ترین مرمتی جائزوں کے مطابق بحالی کا وقت ’بہت جلد‘ سے لے کر 8 ہفتوں تک ہوسکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" href="#تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیل کی رسد کے خطرات بڑھ گئے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے تنازع میں نمایاں شدت آئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ بینک نے یہ تخمینہ اس منظرنامے کی بنیاد پر پیش کیا ہے جس میں 2027 کے دوران خلیجی ممالک کی اوسط تیل پیداوار جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں روزانہ 40 لاکھ بیرل کم رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر کے منگل کو جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کم ہو کر 4 رہ گئی، جو ایک روز قبل 10 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین نے کہا، ’’اگر طلب میں کوئی ردوبدل نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد میں اضافہ نہ ہوا تو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کئی ہفتوں تک بندش برینٹ خام تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا سکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہ روس اور یوکرین نے حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں متحارب فریقوں نے ایک دوسرے کے توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگل کو روس نے کیف میں پیٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جبکہ یوکرین نے روس کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے حسابات کے مطابق روس کی ڈیزل پیدا کرنے والی 6 بڑی ریفائنریوں میں سے نصف کو ستمبر میں ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی یا پیداوار مکمل طور پر روکنا پڑی۔ یہ حسابات ایندھن کی مارکیٹ سے وابستہ فریقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ہوا، جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے، جبکہ لیبیا نے 3 آئل فیلڈز میں کام روک دیا ہے۔ اس سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تیل کی اہم رسد گاہوں میں خلل کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.81 ڈالر، یعنی 2.66 فیصد اضافے کے بعد 108.49 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے فیوچرز 3.29 ڈالر اضافے کے بعد 104.68 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔</p>
<p>اگر قیمتوں میں یہ اضافہ برقرار رہا تو دونوں معاہدے تقریباً 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہوں گے۔</p>
<p>رسد سے متعلق خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب یمن میں حوثی فورسز نے پیر کو سعودی عرب پر تازہ حملے کیے، جبکہ خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیے۔</p>
<p>تازہ حملے جمعہ کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے کے بعد کیے گئے، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کا اہم راستہ بند کرنا پڑا۔</p>
<p>رسد کو درپیش خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی برآمدی ٹرمینل ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب ذرائع نے بتایا کہ ریاض نے یورپی خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں روانہ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب، ایران کے ساتھ جاری تنازع سے الگ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے بتایا کہ 3 آئل فیلڈز میں کام معطل کردیا گیا ہے۔ پٹرولیم فیسلٹیز گارڈ کے احتجاج کرنے والے ارکان نے حمادہ۔زاویہ خام تیل برآمدی پائپ لائن کا ایک والو بند کردیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔</p>
<p>گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بندش کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا کہ اگر والو بند رہا یا مزید آئل فیلڈز کو پیداوار روکنے پر مجبور کیا گیا تو وہ ہنگامی حالات کا اعلان کرسکتی ہے۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق لیبیا 2023 میں اوپیک کا خام تیل پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کے باعث امریکی ڈیزل کے فیوچرز میں 5.9 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہیں۔</p>
<p>کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا، ’’سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے تازہ حملے ممکنہ طور پر تنازع کی شدت اور دورانیے سے متعلق تیل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔</p>
<p>یہ حملے جمعہ کو سعودی عرب پر کیے گئے ان حملوں کے بعد ہوئے جن کا ذمہ دار ریاض نے عراق میں موجود حوثیوں کو قرار دیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ملک کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن متاثر ہوئی، جو تیل کی برآمدات کو بند آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستے سے جاری رکھنے کی سہولت دیتی ہے۔ امریکا۔ایران جنگ سے قبل عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔</p>
<p>خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کارروائیاں بحال نہ ہوئیں تو سعودی عرب کے پاس برآمد کے لیے دستیاب خام تیل چند ہی روز میں ختم ہوسکتا ہے۔ پائپ لائن پر حملے سے عالمی تیل رسد کے 4 فیصد تک متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں کہا، ’’حالیہ حملہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے اور اس سے حالیہ عرصے میں ینبع سے ہونے والی باقی ماندہ 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جبکہ تازہ ترین مرمتی جائزوں کے مطابق بحالی کا وقت ’بہت جلد‘ سے لے کر 8 ہفتوں تک ہوسکتا ہے۔‘‘</p>
<h3><a id="تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" href="#تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیل کی رسد کے خطرات بڑھ گئے</h3>
<p>گولڈمین ساکس کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے تنازع میں نمایاں شدت آئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ بینک نے یہ تخمینہ اس منظرنامے کی بنیاد پر پیش کیا ہے جس میں 2027 کے دوران خلیجی ممالک کی اوسط تیل پیداوار جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں روزانہ 40 لاکھ بیرل کم رہتی ہے۔</p>
<p>کےپلر کے منگل کو جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کم ہو کر 4 رہ گئی، جو ایک روز قبل 10 تھی۔</p>
<p>حسین نے کہا، ’’اگر طلب میں کوئی ردوبدل نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد میں اضافہ نہ ہوا تو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کئی ہفتوں تک بندش برینٹ خام تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا سکتی ہے۔‘‘</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہ روس اور یوکرین نے حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں متحارب فریقوں نے ایک دوسرے کے توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگل کو روس نے کیف میں پیٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جبکہ یوکرین نے روس کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔</p>
<p>رائٹرز کے حسابات کے مطابق روس کی ڈیزل پیدا کرنے والی 6 بڑی ریفائنریوں میں سے نصف کو ستمبر میں ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی یا پیداوار مکمل طور پر روکنا پڑی۔ یہ حسابات ایندھن کی مارکیٹ سے وابستہ فریقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291245</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 21:41:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15213621a3fabe4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15213621a3fabe4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی پائپ لائن اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291194/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت صبح 11 بج کر 39 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک 2.72 ڈالر یا 2.6 فیصد بڑھ کر 107.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.51 ڈالر یا 2.5 فیصد اضافے سے 102.56 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اہم اشاریوں کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری کی سطح پر برقرار ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین یومیہ اختتامی سطح پر پہنچنے کی راہ پر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا، تاہم بعد میں اس وقت اضافہ محدود ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں مدد ملی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق روس، جو اوپیک پلس کا رکن ہے، 2025ء میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران جلد از جلد اور سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش محدود ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کو ایران کے ساتھ طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر نیا حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جاری لڑائی نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ایک اور محاذ تک پھیلا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سرحد کے قریب واقع سعودی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جنہوں نے طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ہونے والے ایک حملے، جس کا الزام ریاض نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر عائد کیا، کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہوگئی، جس کے باعث تیل کی ترسیل کا رخ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کی جانب موڑنا پڑا۔ اس حملے سے عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری جہازوں کی نگرانی کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت روزانہ ایک ہندسے تک گر گئی، جو 14 جہازوں کی 10 روزہ اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہونے کے باعث بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کو ذخائر سے تیل فراہم کرنا ہوگا، جبکہ ان ذخائر میں پانچ سے سات روز کی برآمدات کے لیے تیل موجود ہونے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسٹاد کے تیل مارکیٹس کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’قیمتوں میں نسبتاً محدود ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کو اب بھی توقع ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر قلیل مدت میں برآمدات کو سہارا دیں گے، تاہم اگر رسد میں خلل پانچ سے سات روز کے ذخیرے کی گنجائش سے زیادہ برقرار رہا تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوثی جمعہ کو جزیرہ پریم تک پہنچ گئے، جس کے بعد بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایران نے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اس کے وضع کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت صبح 11 بج کر 39 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک 2.72 ڈالر یا 2.6 فیصد بڑھ کر 107.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.51 ڈالر یا 2.5 فیصد اضافے سے 102.56 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>دونوں اہم اشاریوں کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری کی سطح پر برقرار ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین یومیہ اختتامی سطح پر پہنچنے کی راہ پر تھی۔</p>
<p>خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا، تاہم بعد میں اس وقت اضافہ محدود ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں مدد ملی تھی۔</p>
<p>امریکی توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق روس، جو اوپیک پلس کا رکن ہے، 2025ء میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران جلد از جلد اور سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش محدود ہوگئی۔</p>
<p>خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کو ایران کے ساتھ طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر نیا حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جاری لڑائی نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ایک اور محاذ تک پھیلا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔</p>
<p>حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سرحد کے قریب واقع سعودی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جنہوں نے طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>جمعہ کو ہونے والے ایک حملے، جس کا الزام ریاض نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر عائد کیا، کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہوگئی، جس کے باعث تیل کی ترسیل کا رخ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کی جانب موڑنا پڑا۔ اس حملے سے عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔</p>
<p>پیر کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری جہازوں کی نگرانی کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت روزانہ ایک ہندسے تک گر گئی، جو 14 جہازوں کی 10 روزہ اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔</p>
<p>صنعتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہونے کے باعث بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کو ذخائر سے تیل فراہم کرنا ہوگا، جبکہ ان ذخائر میں پانچ سے سات روز کی برآمدات کے لیے تیل موجود ہونے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>رسٹاد کے تیل مارکیٹس کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’قیمتوں میں نسبتاً محدود ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کو اب بھی توقع ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر قلیل مدت میں برآمدات کو سہارا دیں گے، تاہم اگر رسد میں خلل پانچ سے سات روز کے ذخیرے کی گنجائش سے زیادہ برقرار رہا تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔‘‘</p>
<p>یمن کے حوثی جمعہ کو جزیرہ پریم تک پہنچ گئے، جس کے بعد بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگیا۔</p>
<p>دریں اثنا، ایران نے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اس کے وضع کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291194</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 22:22:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/14214602ab9c7b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/14214602ab9c7b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع، تیل کی ترسیل کو خطرات بڑھ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291166/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز میں اتوار کو ایک بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع سامنے آئی ہے، جس سے ایران سے متعلق توانائی کی ترسیل کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی صورتحال کے بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اطلاع سعودی عرب کی جانب سے مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ سعودی حکام کے مطابق عراق سے آنے والے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کی گئی، جبکہ بغداد اور ریاض دونوں نے حملے کا ماخذ عراق کو قرار دیا ہے، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں جاری حملوں کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل مشرقی مغربی پائپ لائن گزشتہ چھ ماہ سے عالمی منڈیوں تک مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ رہی ہے، کیونکہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 4 سے 5 ملین بیرل تیل منتقل کیا جارہا تھا، جو عالمی رسد کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائپ لائن پر حملے کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے ایک مقام سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے فی الحال انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے عمان میں ہونے والے اجلاس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقعات بھی کم کردی ہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک کے اجلاس میں پیر کو آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات ہوگی، تاہم ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں کسی باقاعدہ معاہدے پر دستخط کا امکان نہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کرنے اور جہازوں سے فیس وصول کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے امریکا مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز میں اتوار کو ایک بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع سامنے آئی ہے، جس سے ایران سے متعلق توانائی کی ترسیل کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی صورتحال کے بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں تھیں۔</strong></p>
<p>یہ اطلاع سعودی عرب کی جانب سے مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ سعودی حکام کے مطابق عراق سے آنے والے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کی گئی، جبکہ بغداد اور ریاض دونوں نے حملے کا ماخذ عراق کو قرار دیا ہے، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔</p>
<p>خطے میں جاری حملوں کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل مشرقی مغربی پائپ لائن گزشتہ چھ ماہ سے عالمی منڈیوں تک مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ رہی ہے، کیونکہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 4 سے 5 ملین بیرل تیل منتقل کیا جارہا تھا، جو عالمی رسد کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>پائپ لائن پر حملے کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے ایک مقام سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔</p>
<p>ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے فی الحال انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش کی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکام نے عمان میں ہونے والے اجلاس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقعات بھی کم کردی ہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک کے اجلاس میں پیر کو آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات ہوگی، تاہم ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں کسی باقاعدہ معاہدے پر دستخط کا امکان نہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کرنے اور جہازوں سے فیس وصول کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے امریکا مسترد کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291166</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Sep 2026 10:33:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/131030297216225.webp" type="image/webp" medium="image" height="270" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/131030297216225.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپلائی میں کمی کے خدشات: تیل نرخوں میں کچھ کمی کے باوجود ہفتہ وار بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر 8 فیصد سے زائد اضافے کی راہ پر برقرار رہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بحری گزرگاہوں پر حملوں کے باعث سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھنے سے امریکی ڈیزل کی قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1132 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.45 ڈالر یا 3.21 فیصد کمی سے 104.18 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.96 ڈالر یا 2.89 فیصد کم ہوکر 99.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں بینچ مارکس نے کاروباری سیشن کے آغاز میں مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطحیں بھی ریکارڈ کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں ابتدائی اضافہ ختم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے ایران کے ساتھ عارضی معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقے میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد جمعرات کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے توانائی امور کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ نئے مذاکرات کی کچھ اطلاعات آج تیل کی قیمتوں پر معتدل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ تاہم قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات برقرار ہیں اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض کے لیے ایک اور اہم پیش رفت میں سیٹلائٹ تصاویر سے جمعرات کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب دھواں دیکھا گیا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز سے ہٹ کر خام تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے جمعہ کو کہا کہ سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ ایجنسی نے اس کمی کی وجہ سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے جب ایران کے اتحادی یمن کے حوثیوں نے جمعہ کو باب المندب آبنائے میں واقع جزیرہ پریم تک رسائی حاصل کرلی۔ یمنی حکومت کے چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اس پیش رفت سے دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر حوثیوں کی گرفت مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد یہ کارروائی سامنے آئی جب امریکا نے ایران کے پانچ آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور نے مزید حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جمعرات کو 7 رہ گئی، جو ایک روز قبل 11 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے تقریباً 125 اجناس بردار بحری جہاز روزانہ گزرتے تھے اور دنیا کی یومیہ تیل و مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے منتقل ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا یورپی مرکزی بینک کے دو پالیسی سازوں نے جمعہ کو مزید شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا، اگر جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا اور یورو زون میں دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپلائی میں تعطل سے ایندھن مہنگا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ کے باعث تیل کی سپلائی میں خلل اور روس کی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کے نتیجے میں امریکی سطح پر ڈیزل کی اوسط قیمت جمعرات کو پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔ قیمتوں کے ٹریکر گیس بڈی کے مطابق یہ ریکارڈ سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، اس وقت دوہری ضرب کا سامنا کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب تک خلیجی خطے میں بحری آمدورفت کی پابندیاں اور روسی ریفائنریوں میں پیداوار کا تعطل برقرار رہتا ہے، ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی خام تیل مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومرز بینک نے سال کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا۔ بینک نے ڈیزل کی قیمت کی پیش گوئی بھی 950 ڈالر سے بڑھا کر 1,200 ڈالر فی ٹن، جبکہ جیٹ فیول کی قیمت کا تخمینہ 980 ڈالر سے بڑھا کر 1,230 ڈالر فی ٹن کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر 8 فیصد سے زائد اضافے کی راہ پر برقرار رہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بحری گزرگاہوں پر حملوں کے باعث سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھنے سے امریکی ڈیزل کی قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی۔</strong></p>
<p>1132 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.45 ڈالر یا 3.21 فیصد کمی سے 104.18 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.96 ڈالر یا 2.89 فیصد کم ہوکر 99.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں بینچ مارکس نے کاروباری سیشن کے آغاز میں مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطحیں بھی ریکارڈ کیں۔</p>
<p>فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں ابتدائی اضافہ ختم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے ایران کے ساتھ عارضی معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>علاقے میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد جمعرات کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>یو بی ایس کے توانائی امور کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ نئے مذاکرات کی کچھ اطلاعات آج تیل کی قیمتوں پر معتدل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ تاہم قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات برقرار ہیں اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ریاض کے لیے ایک اور اہم پیش رفت میں سیٹلائٹ تصاویر سے جمعرات کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب دھواں دیکھا گیا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز سے ہٹ کر خام تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے جمعہ کو کہا کہ سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ ایجنسی نے اس کمی کی وجہ سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کو قرار دیا۔</p>
<p>علاقائی تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے جب ایران کے اتحادی یمن کے حوثیوں نے جمعہ کو باب المندب آبنائے میں واقع جزیرہ پریم تک رسائی حاصل کرلی۔ یمنی حکومت کے چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اس پیش رفت سے دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر حوثیوں کی گرفت مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ایران نے کہا کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد یہ کارروائی سامنے آئی جب امریکا نے ایران کے پانچ آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور نے مزید حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ابتدائی بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جمعرات کو 7 رہ گئی، جو ایک روز قبل 11 تھی۔</p>
<p>فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے تقریباً 125 اجناس بردار بحری جہاز روزانہ گزرتے تھے اور دنیا کی یومیہ تیل و مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے منتقل ہوتا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا یورپی مرکزی بینک کے دو پالیسی سازوں نے جمعہ کو مزید شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا، اگر جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا اور یورو زون میں دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔</p>
<p><strong>سپلائی میں تعطل سے ایندھن مہنگا</strong></p>
<p>ایران جنگ کے باعث تیل کی سپلائی میں خلل اور روس کی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کے نتیجے میں امریکی سطح پر ڈیزل کی اوسط قیمت جمعرات کو پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔ قیمتوں کے ٹریکر گیس بڈی کے مطابق یہ ریکارڈ سطح ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، اس وقت دوہری ضرب کا سامنا کر رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب تک خلیجی خطے میں بحری آمدورفت کی پابندیاں اور روسی ریفائنریوں میں پیداوار کا تعطل برقرار رہتا ہے، ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی خام تیل مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کومرز بینک نے سال کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا۔ بینک نے ڈیزل کی قیمت کی پیش گوئی بھی 950 ڈالر سے بڑھا کر 1,200 ڈالر فی ٹن، جبکہ جیٹ فیول کی قیمت کا تخمینہ 980 ڈالر سے بڑھا کر 1,230 ڈالر فی ٹن کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291098</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Sep 2026 18:48:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/11084433e95a940.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/11084433e95a940.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ، مزید ٹینکر حملوں پر برینٹ اور امریکی خام تیل 100 ڈالر سے تجاوز کرگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا اور دونوں اہم عالمی بینچ مارک خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہازوں پر حملوں میں آنے والی سب سے بڑی شدت نے پہلے ہی محدود تیل رسد میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وقت کے مطابق صبح 11:49 بجے (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 15:49 بجے) برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 5.39 ڈالر، یعنی 5.33 فیصد اضافے کے ساتھ 106.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے سودے 5.16 ڈالر، یعنی 5.37 فیصد اضافے کے ساتھ 101.21 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان حملے روکنے کے لیے مستقل معاہدہ طے پانے کی امیدیں پوری نہ ہوسکیں اور لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے جمعرات کو یمن کی بندرگاہ المخا کا کنٹرول سنبھال لیا، جس سے بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کو مزید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران ٹینکروں پر حملوں میں شدت آنے کے باعث خلیجی بحری آمدورفت بھی آبنائے ہرمز کے راستے محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس ایس ڈاٹ کام کے شعبہ کاروباری ترقی کے سربراہ سائمن پیٹر ماسابنی نے کہا کہ یمن سے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈی کے لیے خطرے کا ایک نیا ذریعہ پیدا کردیا ہے، جس سے خدشات ایران اور آبنائے ہرمز سے آگے بھی پھیل گئے ہیں۔ اب خطرہ کسی ایک اہم بحری گزرگاہ تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی برآمدی راستوں، تیل کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے میں خلل کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو ایران کی شدید متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے قبل امریکا نے ایران کے 5 تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں اس کا ردعمل مزید شدید ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ایک نئے تجزیے کے مطابق ’’ایران تنازع کے حتمی حل کے امکانات معدوم ہونے اور برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار حال ہی میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد، خام تیل کی عالمی منڈیاں اب ایک ایسے طویل مدتی نئے معمول کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں رسد میں خلل کا خطرہ عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کرچکا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جاری تیزی کا تسلسل چین پر منحصر ہوگا، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ چین نے کئی ماہ تک کمزور طلب کے بعد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس سے حقیقی خام تیل کی منڈی کو سہارا ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی این جی کے مطابق اگر چین میں خام تیل کی خریداری میں بحالی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے رسد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور قیمتیں بلند ہوسکتی ہیں، جبکہ درآمدات میں کمی سے مارکیٹ میں جاری تیزی کی رفتار محدود ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کموڈیٹیز سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے آئی سی آئی ایس کے عالمی تیل مارکیٹ سربراہ ڈیوڈ جوربینازے نے کہا، ’’کئی ماہ تک قیمتوں میں کمی کی بنیادی دلیل چین کی کمزور طلب رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک نے جمعرات کو 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کرکے 380,000 بیرل یومیہ کردی۔ اس کے ماہانہ رپورٹ کے مطابق یہ مسلسل پانچویں مرتبہ ہے کہ تنظیم نے طلب میں اضافے کے اپنے تخمینے میں کمی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اگست میں اوپیک کی تیل پیداوار میں 640,000 بیرل یومیہ کمی ہوئی، کیونکہ ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی برآمدات کو نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل ترسیل بھی متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا اور دونوں اہم عالمی بینچ مارک خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہازوں پر حملوں میں آنے والی سب سے بڑی شدت نے پہلے ہی محدود تیل رسد میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی وقت کے مطابق صبح 11:49 بجے (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 15:49 بجے) برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 5.39 ڈالر، یعنی 5.33 فیصد اضافے کے ساتھ 106.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے سودے 5.16 ڈالر، یعنی 5.37 فیصد اضافے کے ساتھ 101.21 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔</p>
<p>اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان حملے روکنے کے لیے مستقل معاہدہ طے پانے کی امیدیں پوری نہ ہوسکیں اور لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔</p>
<p>حوثیوں نے جمعرات کو یمن کی بندرگاہ المخا کا کنٹرول سنبھال لیا، جس سے بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کو مزید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران ٹینکروں پر حملوں میں شدت آنے کے باعث خلیجی بحری آمدورفت بھی آبنائے ہرمز کے راستے محدود ہے۔</p>
<p>ایکس ایس ڈاٹ کام کے شعبہ کاروباری ترقی کے سربراہ سائمن پیٹر ماسابنی نے کہا کہ یمن سے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈی کے لیے خطرے کا ایک نیا ذریعہ پیدا کردیا ہے، جس سے خدشات ایران اور آبنائے ہرمز سے آگے بھی پھیل گئے ہیں۔ اب خطرہ کسی ایک اہم بحری گزرگاہ تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی برآمدی راستوں، تیل کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے میں خلل کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو ایران کی شدید متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے قبل امریکا نے ایران کے 5 تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں اس کا ردعمل مزید شدید ہوگا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ایک نئے تجزیے کے مطابق ’’ایران تنازع کے حتمی حل کے امکانات معدوم ہونے اور برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار حال ہی میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد، خام تیل کی عالمی منڈیاں اب ایک ایسے طویل مدتی نئے معمول کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں رسد میں خلل کا خطرہ عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کرچکا ہے۔‘‘</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جاری تیزی کا تسلسل چین پر منحصر ہوگا، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔</p>
<p>آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ چین نے کئی ماہ تک کمزور طلب کے بعد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس سے حقیقی خام تیل کی منڈی کو سہارا ملا ہے۔</p>
<p>آئی این جی کے مطابق اگر چین میں خام تیل کی خریداری میں بحالی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے رسد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور قیمتیں بلند ہوسکتی ہیں، جبکہ درآمدات میں کمی سے مارکیٹ میں جاری تیزی کی رفتار محدود ہوسکتی ہے۔</p>
<p>کموڈیٹیز سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے آئی سی آئی ایس کے عالمی تیل مارکیٹ سربراہ ڈیوڈ جوربینازے نے کہا، ’’کئی ماہ تک قیمتوں میں کمی کی بنیادی دلیل چین کی کمزور طلب رہی ہے۔‘‘</p>
<p>اوپیک نے جمعرات کو 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کرکے 380,000 بیرل یومیہ کردی۔ اس کے ماہانہ رپورٹ کے مطابق یہ مسلسل پانچویں مرتبہ ہے کہ تنظیم نے طلب میں اضافے کے اپنے تخمینے میں کمی کی ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اگست میں اوپیک کی تیل پیداوار میں 640,000 بیرل یومیہ کمی ہوئی، کیونکہ ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی برآمدات کو نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل ترسیل بھی متاثر ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291052</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 22:12:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/102206586c1f602.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/102206586c1f602.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی : خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرکے چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کے فیوچرز 2.77 ڈالر یا 2.83 فیصد اضافے سے 100.69 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ کاروبار کے دوران قیمت 100.95 ڈالر تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) 2.18 ڈالر یا 2.34 فیصد اضافے سے 95.21 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع طویل ہونے کے خدشات کے باعث مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خطرات بڑھ رہے ہیں۔ حوثیوں کے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ بحیرہ احمر سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی نمایاں کم ہوچکی ہے۔ رائسٹڈ انرجی کے مطابق 30 اگست کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے قبل ہرمز سے تقریباً 80 سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزرتا تھا، جو حالیہ عرصے میں کم ہوکر 20 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا فزیکل مارکیٹ میں بھی برینٹ کی قیمت 3 ستمبر سے 100 ڈالر فی بیرل سے زائد رہی ہے۔ یورپی ڈیزل تقریباً 199 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ ڈیزل کی ریفائننگ مارجن یکم ستمبر کو ریکارڈ 78.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت اور بلند تیل قیمتیں عالمی افراط زر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرکے چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کے فیوچرز 2.77 ڈالر یا 2.83 فیصد اضافے سے 100.69 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ کاروبار کے دوران قیمت 100.95 ڈالر تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) 2.18 ڈالر یا 2.34 فیصد اضافے سے 95.21 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع طویل ہونے کے خدشات کے باعث مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خطرات بڑھ رہے ہیں۔ حوثیوں کے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ بحیرہ احمر سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>اہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی نمایاں کم ہوچکی ہے۔ رائسٹڈ انرجی کے مطابق 30 اگست کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے قبل ہرمز سے تقریباً 80 سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزرتا تھا، جو حالیہ عرصے میں کم ہوکر 20 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی نیچے آگیا۔</p>
<p>دریں اثنا فزیکل مارکیٹ میں بھی برینٹ کی قیمت 3 ستمبر سے 100 ڈالر فی بیرل سے زائد رہی ہے۔ یورپی ڈیزل تقریباً 199 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ ڈیزل کی ریفائننگ مارجن یکم ستمبر کو ریکارڈ 78.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت اور بلند تیل قیمتیں عالمی افراط زر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291014</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 18:47:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/09123656f36d232.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/09123656f36d232.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثی حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کی وجہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے اور تہران کی جانب سے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی قرار دی جارہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1311 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 48 سینٹ، یعنی 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 97.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.07 ڈالر، یعنی 1.17 فیصد اضافے کے ساتھ 92.55 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 94.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 8 جون کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’قیمتوں میں یہ ردوبدل حقیقی رسدی قلت اور واضح جغرافیائی سیاسی خطرے کے پریمیم، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت معمول کی سطح سے کہیں کم ہے۔ اس وقت قیمتوں میں اضافے میں خطرے کا پریمیم نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’رواں سال کے باقی عرصے میں بھی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، جب تک آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا تنازع برقرار رہتا ہے اور سفارتی پیش رفت نازک حالت میں ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب میں بعض توانائی تنصیبات پر آپریشنز منگل کو معطل کردیے گئے، جس کے بعد حکام نے اسے خطرناک کشیدگی قرار دیا۔ یہ کارروائی یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئی، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایران نے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جدید میزائل داغا ہے، جس سے جنگ میں مزید کشیدگی کے خطرات نمایاں ہوگئے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان چند ہی روز قبل ایک بار پھر حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کے روز امریکی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ٹینکر ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ یہ حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے پیر کو کسی بھی نئے امریکی حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بھی سست پڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" href="#بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بینکوں نے قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے، ایندھن کی منڈیوں میں رسد بدستور محدود&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے تخمینے میں 5 ڈالر کا اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب 85 اور 80 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ 2027 کے لیے یہ تخمینے بالترتیب 80 اور 75 ڈالر فی بیرل مقرر کیے گئے ہیں۔ بینک نے یہ تبدیلی اس نئے مفروضے کی بنیاد پر کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل 2027 تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ایس بی سی نے بھی 2026 کے لیے برینٹ کی قیمت کا تخمینہ 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جس میں 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے 95 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ بینک نے 2027 کے لیے بھی اپنا تخمینہ 65 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے سینئر حکام نے منگل کو بتایا کہ اضافی ریفائننگ گنجائش کی کمی، روس کی جانب سے برآمدات پر پابندی اور موسمِ سرما میں ایندھن کی طلب کے عروج کے قریب پہنچنے کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد بدستور محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر ڈے کی تعطیلات کے اختتامِ ہفتہ کے دوران امریکی شہریوں کو پٹرول کی ریکارڈ بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں اور نئی دھمکیوں کے باعث عالمی رسد محدود رہی، جس سے ایندھن کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک پرو کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بروکارڈو نے کہا، ’’اگر ریفائنریوں کی گنجائش اور رسد و ترسیل کا نظام طویل عرصے تک محدود رہا تو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی منڈیاں خام تیل کی منڈی کے مقابلے میں مزید سخت رسدی حالات کا شکار رہ سکتی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کی وجہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے اور تہران کی جانب سے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی قرار دی جارہی ہے۔</strong></p>
<p>1311 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 48 سینٹ، یعنی 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 97.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.07 ڈالر، یعنی 1.17 فیصد اضافے کے ساتھ 92.55 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>اس سے قبل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 94.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 8 جون کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’قیمتوں میں یہ ردوبدل حقیقی رسدی قلت اور واضح جغرافیائی سیاسی خطرے کے پریمیم، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت معمول کی سطح سے کہیں کم ہے۔ اس وقت قیمتوں میں اضافے میں خطرے کا پریمیم نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’رواں سال کے باقی عرصے میں بھی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، جب تک آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا تنازع برقرار رہتا ہے اور سفارتی پیش رفت نازک حالت میں ہے۔‘‘</p>
<p>دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب میں بعض توانائی تنصیبات پر آپریشنز منگل کو معطل کردیے گئے، جس کے بعد حکام نے اسے خطرناک کشیدگی قرار دیا۔ یہ کارروائی یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئی، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>دریں اثنا، ایران نے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جدید میزائل داغا ہے، جس سے جنگ میں مزید کشیدگی کے خطرات نمایاں ہوگئے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان چند ہی روز قبل ایک بار پھر حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کے روز امریکی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ٹینکر ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ یہ حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے۔</p>
<p>ایران کی جانب سے پیر کو کسی بھی نئے امریکی حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بھی سست پڑ گئی۔</p>
<h3><a id="بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" href="#بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بینکوں نے قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے، ایندھن کی منڈیوں میں رسد بدستور محدود</strong></h3>
<p>گولڈمین سیکس نے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے تخمینے میں 5 ڈالر کا اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب 85 اور 80 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ 2027 کے لیے یہ تخمینے بالترتیب 80 اور 75 ڈالر فی بیرل مقرر کیے گئے ہیں۔ بینک نے یہ تبدیلی اس نئے مفروضے کی بنیاد پر کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل 2027 تک جاری رہے گا۔</p>
<p>ایچ ایس بی سی نے بھی 2026 کے لیے برینٹ کی قیمت کا تخمینہ 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جس میں 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے 95 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ بینک نے 2027 کے لیے بھی اپنا تخمینہ 65 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے سینئر حکام نے منگل کو بتایا کہ اضافی ریفائننگ گنجائش کی کمی، روس کی جانب سے برآمدات پر پابندی اور موسمِ سرما میں ایندھن کی طلب کے عروج کے قریب پہنچنے کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد بدستور محدود رہے گی۔</p>
<p>لیبر ڈے کی تعطیلات کے اختتامِ ہفتہ کے دوران امریکی شہریوں کو پٹرول کی ریکارڈ بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں اور نئی دھمکیوں کے باعث عالمی رسد محدود رہی، جس سے ایندھن کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>بینک پرو کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بروکارڈو نے کہا، ’’اگر ریفائنریوں کی گنجائش اور رسد و ترسیل کا نظام طویل عرصے تک محدود رہا تو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی منڈیاں خام تیل کی منڈی کے مقابلے میں مزید سخت رسدی حالات کا شکار رہ سکتی ہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290966</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 18:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/080846166b6c483.webp" type="image/webp" medium="image" height="314" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/080846166b6c483.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290923/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔ آبنائے ہرمز اور دیگر علاقوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل محدود رہی، جس سے قیمتوں کو تقویت ملی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 1214 جی ایم ٹی تک 1.19 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے سے 97.47 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس سے قبل قیمت 97.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی حالیہ چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب 92.26 ڈالر فی بیرل رہی، جو 78 سینٹ کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی جازان آئل ریفائنری کو پیر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ہفتے کو ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک خَرج جزیرے کے قریب موجود تھا، جو ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری امور سے متعلق انٹیلی جنس فرم میری ساکس نے ہفتے کے حملوں کو ’’بڑی کشیدگی‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرم نے مزید کہا، ’’اب تجارتی آئل ٹینکروں کو باہمی اقتصادی دباؤ کے ذرائع کے طور پر دانستہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جس سے فوجی محاذ آرائی اور تجارتی بحری جہازوں کے درمیان پہلے موجود واضح فرق نمایاں طور پر کمزور ہوگیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہفتہ قبل ایران نے سعودی ملکیت والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا، جس پر سعودی عرب نے کہا تھا کہ حملے میں دو بحری کارکن جاں بحق ہوئے۔ عمان نے پیر کو بتایا کہ اس نے ٹینکر کے عملے کے 16 ارکان کو بحفاظت نکال لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی فرم کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ 10 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین تعداد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اگر آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی تو مارکیٹ میں رسد کو لگنے والے کہیں بڑے دھچکے کے خدشات کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اور پہلے ہی ایسے آثار نظر آرہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے کہا ہے کہ اگر بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اکتوبر کے لیے اپنی تیل پیداوار سے متعلق پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ پیداوار کے حوالے سے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل اسے نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔ آبنائے ہرمز اور دیگر علاقوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل محدود رہی، جس سے قیمتوں کو تقویت ملی۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 1214 جی ایم ٹی تک 1.19 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے سے 97.47 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس سے قبل قیمت 97.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی حالیہ چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب 92.26 ڈالر فی بیرل رہی، جو 78 سینٹ کا اضافہ ہے۔</p>
<p>سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی جازان آئل ریفائنری کو پیر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔</p>
<p>پیر کو تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ہفتے کو ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک خَرج جزیرے کے قریب موجود تھا، جو ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔</p>
<p>ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>سمندری امور سے متعلق انٹیلی جنس فرم میری ساکس نے ہفتے کے حملوں کو ’’بڑی کشیدگی‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>فرم نے مزید کہا، ’’اب تجارتی آئل ٹینکروں کو باہمی اقتصادی دباؤ کے ذرائع کے طور پر دانستہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جس سے فوجی محاذ آرائی اور تجارتی بحری جہازوں کے درمیان پہلے موجود واضح فرق نمایاں طور پر کمزور ہوگیا ہے۔‘‘</p>
<p>ایک ہفتہ قبل ایران نے سعودی ملکیت والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا، جس پر سعودی عرب نے کہا تھا کہ حملے میں دو بحری کارکن جاں بحق ہوئے۔ عمان نے پیر کو بتایا کہ اس نے ٹینکر کے عملے کے 16 ارکان کو بحفاظت نکال لیا ہے۔</p>
<p>تجزیاتی فرم کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ 10 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین تعداد ہے۔</p>
<p>فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اگر آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی تو مارکیٹ میں رسد کو لگنے والے کہیں بڑے دھچکے کے خدشات کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اور پہلے ہی ایسے آثار نظر آرہے ہیں۔‘‘</p>
<p>گولڈمین سیکس نے کہا ہے کہ اگر بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p>تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اکتوبر کے لیے اپنی تیل پیداوار سے متعلق پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ پیداوار کے حوالے سے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل اسے نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290923</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 18:51:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/07085917c58dee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="302" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/07085917c58dee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے پر ہفتے بھر تیل کی قیمتوں میں تیزی، ڈیزل ریکارڈ بلند سطح پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے 6 فیصد سے زائد اضافے کا امکان ہے، کیونکہ سات ماہ سے جاری تنازع میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں کہیں زیادہ تیزی نے دنیا بھر میں مہنگائی اور حکومتوں کے قرض لینے کی لاگت بڑھا دی ہے، جس سے عالمی معیشت کے ’ہارڈ لینڈنگ‘ یعنی اچانک اور شدید معاشی سست روی کا شکار ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹاد انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گالمبرتی نے کہا، ’’معیشت کے تمام شعبے ڈیزل سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی ایک وجہ ہے کہ امریکا میں سرکاری بانڈز پر منافع اتنا زیادہ ہے، کیونکہ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ جاری رہے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی اور روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کے باعث ایندھن کی رسد میں خلل مزید بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تجزیہ-کاروں-اور-جہازوں-کی-نقل-و-حرکت-پر-نظر-رکھنے-والے-اداروں-کے-مطابق-تیل-کی-ترسیل-بدستور-متاثر" href="#تجزیہ-کاروں-اور-جہازوں-کی-نقل-و-حرکت-پر-نظر-رکھنے-والے-اداروں-کے-مطابق-تیل-کی-ترسیل-بدستور-متاثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تجزیہ کاروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق تیل کی ترسیل بدستور متاثر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل تقریباً معمول کی سطح پر بحال ہوگئی ہے، تاہم تجزیہ کاروں اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق تیل کی ترسیل اب بھی شدید متاثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو 1015 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 14 سینٹ یا 0.15 فیصد کمی کے ساتھ 95.38 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 37 سینٹ یا 0.41 فیصد کمی کے بعد 90.93 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 8.8 فیصد بڑھی، جو 13 جولائی کے بعد اس کی سب سے مضبوط ہفتہ وار کارکردگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے امریکا کے کیے گئے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں ایرانی شہری بھی شامل تھے۔ یہ جھڑپیں جولائی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے فوجی اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کی تنصیبات، کو ’’مفلوج‘‘ کردے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے امریکی مہم، جس کے تحت ایرانی تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کا مقابلہ کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال سے متعلق مسلسل غیر یقینی نے خطرات کی قیمت میں مزید اضافے کے لیے کافی بنیاد فراہم کی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی بحری اعدادوشمار کے مطابق جمعرات کو صرف چار اجناس بردار جہاز اہم آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ 10 دن کی اوسط یومیہ تعداد تقریباً 15 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق نے اگست میں اپنی تیل کی برآمدات بڑھا کر تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ کر دیں، جو جولائی میں تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔ عراق کے توانائی کے دو حکام نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی گروپ (سٹی) نے تیسری سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کی پیش گوئی 80 ڈالر سے بڑھا کر 86 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عمل میں اس کی سابقہ توقعات سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں نے بھی جمعے کو قلیل مدت کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیش گوئی بڑھا کر 95 ڈالر فی بیرل کر دی۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافے کا خطرہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے 6 فیصد سے زائد اضافے کا امکان ہے، کیونکہ سات ماہ سے جاری تنازع میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔</strong></p>
<p>خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں کہیں زیادہ تیزی نے دنیا بھر میں مہنگائی اور حکومتوں کے قرض لینے کی لاگت بڑھا دی ہے، جس سے عالمی معیشت کے ’ہارڈ لینڈنگ‘ یعنی اچانک اور شدید معاشی سست روی کا شکار ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>ریسٹاد انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گالمبرتی نے کہا، ’’معیشت کے تمام شعبے ڈیزل سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی ایک وجہ ہے کہ امریکا میں سرکاری بانڈز پر منافع اتنا زیادہ ہے، کیونکہ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ جاری رہے گا۔‘‘</p>
<p>امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی اور روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کے باعث ایندھن کی رسد میں خلل مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<h3><a id="تجزیہ-کاروں-اور-جہازوں-کی-نقل-و-حرکت-پر-نظر-رکھنے-والے-اداروں-کے-مطابق-تیل-کی-ترسیل-بدستور-متاثر" href="#تجزیہ-کاروں-اور-جہازوں-کی-نقل-و-حرکت-پر-نظر-رکھنے-والے-اداروں-کے-مطابق-تیل-کی-ترسیل-بدستور-متاثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تجزیہ کاروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق تیل کی ترسیل بدستور متاثر</h3>
<p>امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل تقریباً معمول کی سطح پر بحال ہوگئی ہے، تاہم تجزیہ کاروں اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق تیل کی ترسیل اب بھی شدید متاثر ہے۔</p>
<p>جمعے کو 1015 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 14 سینٹ یا 0.15 فیصد کمی کے ساتھ 95.38 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 37 سینٹ یا 0.41 فیصد کمی کے بعد 90.93 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔</p>
<p>تاہم ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 8.8 فیصد بڑھی، جو 13 جولائی کے بعد اس کی سب سے مضبوط ہفتہ وار کارکردگی ہے۔</p>
<p>اس ہفتے امریکا کے کیے گئے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں ایرانی شہری بھی شامل تھے۔ یہ جھڑپیں جولائی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے فوجی اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کی تنصیبات، کو ’’مفلوج‘‘ کردے گا۔</p>
<p>ایران کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے امریکی مہم، جس کے تحت ایرانی تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کا مقابلہ کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال سے متعلق مسلسل غیر یقینی نے خطرات کی قیمت میں مزید اضافے کے لیے کافی بنیاد فراہم کی ہے۔‘‘</p>
<p>ابتدائی بحری اعدادوشمار کے مطابق جمعرات کو صرف چار اجناس بردار جہاز اہم آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ 10 دن کی اوسط یومیہ تعداد تقریباً 15 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>عراق نے اگست میں اپنی تیل کی برآمدات بڑھا کر تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ کر دیں، جو جولائی میں تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔ عراق کے توانائی کے دو حکام نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔</p>
<p>سٹی گروپ (سٹی) نے تیسری سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کی پیش گوئی 80 ڈالر سے بڑھا کر 86 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عمل میں اس کی سابقہ توقعات سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔</p>
<p>اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں نے بھی جمعے کو قلیل مدت کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیش گوئی بڑھا کر 95 ڈالر فی بیرل کر دی۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافے کا خطرہ موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290819</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 17:19:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/04084428121c095.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/04084428121c095.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران کشیدگی میں عارضی کمی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290771/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے اکتوبر ڈیلیوری کے لیے فیوچرز 43 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 95.20 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 24 سینٹ یا 0.26 فیصد کمی سے 90.77 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملے جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا عسکری تبادلہ قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ جنگ کا 7واں ماہ جاری ہے۔ گزشتہ سیشن کے دوران برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 2 ڈالر فی بیرل تک اضافہ اور 1 ڈالر تک کمی ہوئی۔ دونوں کی سیشن کی بلند ترین سطح 24 جولائی کے بعد سب سے زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کے مطابق بدھ کی دوپہر کے بعد فریقین کے درمیان کسی نئی جھڑپ کی تصدیق نہ ہونے سے کشیدگی میں عارضی کمی کے اشارے ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف تازہ امریکی کارروائی زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی۔ کپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو صرف 4 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ 10 روزہ اوسط تقریباً 13 جہاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل تیل گزرا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے خام تیل کی سب سے بڑی ترسیل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے اکتوبر ڈیلیوری کے لیے فیوچرز 43 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 95.20 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 24 سینٹ یا 0.26 فیصد کمی سے 90.77 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملے جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا عسکری تبادلہ قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ جنگ کا 7واں ماہ جاری ہے۔ گزشتہ سیشن کے دوران برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 2 ڈالر فی بیرل تک اضافہ اور 1 ڈالر تک کمی ہوئی۔ دونوں کی سیشن کی بلند ترین سطح 24 جولائی کے بعد سب سے زیادہ رہی۔</p>
<p>آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کے مطابق بدھ کی دوپہر کے بعد فریقین کے درمیان کسی نئی جھڑپ کی تصدیق نہ ہونے سے کشیدگی میں عارضی کمی کے اشارے ملے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف تازہ امریکی کارروائی زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی۔ کپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو صرف 4 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ 10 روزہ اوسط تقریباً 13 جہاز ہے۔</p>
<p>امریکہ کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل تیل گزرا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے خام تیل کی سب سے بڑی ترسیل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290771</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:48:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/030845229d4e3e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/030845229d4e3e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح چھونے کے بعد کم ہوگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتیں بدھ کو کاروباری سیشن کے دوران ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد گر گئیں۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان رات گئے ہونے والے حملوں کے بعد سپلائی میں ممکنہ خلل کے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم خام تیل کی مارکیٹ میں مسلسل سپلائی پہنچنے کے آثار بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 57 سینٹ یا 0.60 فیصد کمی سے 94.08 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  خام تیل 72 سینٹ یا 0.80 فیصد کمی سے 89.50 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی بالترتیب 97.04 اور 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے ہیڈ آف کموڈیٹی اسٹریٹیجی اولے ہینسن کے مطابق مارکیٹ کو دو طرفہ خطرے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی معاہدے یا پیش رفت کے اعلان سے قیمتیں تیزی سے گر سکتی ہیں، جبکہ کشیدگی میں اضافہ امن معاہدے کے امکانات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار ہے اور نئی پیش رفت پر دونوں سمتوں میں تقریباً 5 ڈالر کی تبدیلی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی شدید ترین جھڑپوں کے بعد جنگی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی، جبکہ واشنگٹن نے مزید تباہ کن حملوں کی دھمکی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت مزید محدود ہوگی۔ یہ اہم آبی گزرگاہ جنگ سے قبل دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً پانچواں حصہ تیل منتقل کرتی تھی، تاہم ایران نے اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق بدھ کو دو آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپیٹل اکنامکس کے سینئر کلائمیٹ اینڈ کموڈیٹیز اکانومسٹ حماد حسین نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں جہاز سے جہاز تیل منتقل کیے جانے کے باعث آبنائے ہرمز سے کچھ تیل کی برآمد جاری رہی، جس سے مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا، تاہم فوجی حملوں کے باعث یہ سپلائی بھی شدید خطرے سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ پیر کو 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جو جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والی خام تیل کی بلند ترین مقدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماد حسین کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھی اور مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا روس نے رات گئے یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس سے خطے میں توانائی کی سپلائی کے خطرات مزید بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتیں بدھ کو کاروباری سیشن کے دوران ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد گر گئیں۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان رات گئے ہونے والے حملوں کے بعد سپلائی میں ممکنہ خلل کے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم خام تیل کی مارکیٹ میں مسلسل سپلائی پہنچنے کے آثار بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 57 سینٹ یا 0.60 فیصد کمی سے 94.08 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  خام تیل 72 سینٹ یا 0.80 فیصد کمی سے 89.50 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>اس سے قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی بالترتیب 97.04 اور 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح تھی۔</p>
<p>سیکسو بینک کے ہیڈ آف کموڈیٹی اسٹریٹیجی اولے ہینسن کے مطابق مارکیٹ کو دو طرفہ خطرے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی معاہدے یا پیش رفت کے اعلان سے قیمتیں تیزی سے گر سکتی ہیں، جبکہ کشیدگی میں اضافہ امن معاہدے کے امکانات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار ہے اور نئی پیش رفت پر دونوں سمتوں میں تقریباً 5 ڈالر کی تبدیلی ممکن ہے۔</p>
<p>بدھ کو امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی شدید ترین جھڑپوں کے بعد جنگی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی، جبکہ واشنگٹن نے مزید تباہ کن حملوں کی دھمکی دی۔</p>
<p>ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت مزید محدود ہوگی۔ یہ اہم آبی گزرگاہ جنگ سے قبل دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً پانچواں حصہ تیل منتقل کرتی تھی، تاہم ایران نے اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق بدھ کو دو آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے۔</p>
<p>کیپیٹل اکنامکس کے سینئر کلائمیٹ اینڈ کموڈیٹیز اکانومسٹ حماد حسین نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں جہاز سے جہاز تیل منتقل کیے جانے کے باعث آبنائے ہرمز سے کچھ تیل کی برآمد جاری رہی، جس سے مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا، تاہم فوجی حملوں کے باعث یہ سپلائی بھی شدید خطرے سے دوچار ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ پیر کو 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جو جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والی خام تیل کی بلند ترین مقدار ہے۔</p>
<p>حماد حسین کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھی اور مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا روس نے رات گئے یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس سے خطے میں توانائی کی سپلائی کے خطرات مزید بڑھ گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290733</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Sep 2026 18:32:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/02085508677391b.webp" type="image/webp" medium="image" height="302" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/02085508677391b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران کشیدگی سے تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ، قیمتیں تقریباً 2 فیصد بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290683/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں دنیا کے اہم خام تیل پیدا کرنے والے خطے سے رسد میں خلل کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.72 ڈالر یعنی 1.9 فیصد اضافے سے 92.21 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 1046 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.12 ڈالر یعنی 2.47 فیصد اضافے سے 87.88 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ یہ دھمکی جولائی کے اواخر کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آئی، جس سے اس تنازع میں کشیدگی مزید بڑھ گئی جو حال ہی میں اقتصادی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے جواباً تبادلے سے ان لوگوں کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ اگرچہ یہ ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ نہ بھی ہو، تاہم یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو ایران فوری طور پر اس کا جواب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری کے اواخر میں اس بحری راستے سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی رسد گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہانسن نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں طویل تعطل کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مزید خریداری نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کا اندازہ ہے کہ تیل کی رسد موجودہ سطح سے زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی عرب کا تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز کو چند منٹ کے وقفے سے نامعلوم سمت سے داغے گئے گولوں کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کلیپر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نمایاں کمرشل بحری جہازوں کی تعداد تقریباً پانچ یومیہ رہی، جو 10 روزہ اوسط تقریباً 14 جہازوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ ان پانچ جہازوں میں سے کوئی بھی مائع ایندھن لے جانے والا ٹینکر نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرز بینک کے تجزیہ کاروں نے لکھا، ’’گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولے جانے کی جو امید پیدا ہوئی تھی، اسے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو کیا آبنائے سے غیر سرکاری طور پر جاری بحری آمدورفت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے کے مطابق 2026 میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی توقع ہے، کیونکہ بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں دنیا کے اہم خام تیل پیدا کرنے والے خطے سے رسد میں خلل کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.72 ڈالر یعنی 1.9 فیصد اضافے سے 92.21 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 1046 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.12 ڈالر یعنی 2.47 فیصد اضافے سے 87.88 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ یہ دھمکی جولائی کے اواخر کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آئی، جس سے اس تنازع میں کشیدگی مزید بڑھ گئی جو حال ہی میں اقتصادی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔</p>
<p>پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے جواباً تبادلے سے ان لوگوں کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ اگرچہ یہ ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ نہ بھی ہو، تاہم یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘‘</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو ایران فوری طور پر اس کا جواب دے گا۔</p>
<p>قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری کے اواخر میں اس بحری راستے سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی رسد گزرتی تھی۔</p>
<p>سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہانسن نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں طویل تعطل کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مزید خریداری نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کا اندازہ ہے کہ تیل کی رسد موجودہ سطح سے زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔</p>
<p>پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی عرب کا تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز کو چند منٹ کے وقفے سے نامعلوم سمت سے داغے گئے گولوں کا نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کلیپر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نمایاں کمرشل بحری جہازوں کی تعداد تقریباً پانچ یومیہ رہی، جو 10 روزہ اوسط تقریباً 14 جہازوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ ان پانچ جہازوں میں سے کوئی بھی مائع ایندھن لے جانے والا ٹینکر نہیں تھا۔</p>
<p>کمرز بینک کے تجزیہ کاروں نے لکھا، ’’گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولے جانے کی جو امید پیدا ہوئی تھی، اسے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو کیا آبنائے سے غیر سرکاری طور پر جاری بحری آمدورفت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی۔‘‘</p>
<p>رائٹرز کی جانب سے اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے کے مطابق 2026 میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی توقع ہے، کیونکہ بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290683</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 19:28:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/010851022965f2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/010851022965f2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران میں دوبارہ فوجی کارروائیاں؛ عالمی منڈی میں تیل 2 فیصد سے زائد مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290629/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے پر حملے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کے اعلان کے بعد پیر کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع چھٹے ماہ میں داخل ہوگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرینچ مرین ٹائم کے مطابق 1306 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.35 ڈالر یا 2.67 فیصد اضافے سے 90.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.31 ڈالر یا 2.77 فیصد بڑھ کر 85.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ برینٹ کی قیمت دورانِ کاروبار 91.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 25 اگست کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایران کے لارک جزیرے پر دو لانچرز کو نشانہ بنایا۔ جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر امریکا کی یہ پہلی معلوم کارروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا نے پیر کو پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ اس کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹ کی توجہ کشیدگی میں کمی کے امکانات پر مرکوز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی ستاونو نے کہا، ’’مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ فوجی حملوں اور تیل کی رسد میں مزید خلل کے خدشات نے تیل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اب مارکیٹ کی توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ صورتحال میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران کے توانائی کے مرکز خارک جزیرے کے ’’پرخچے اڑائے جا رہے ہیں‘‘، تاہم اس جزیرے پر حملے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو پر مشتمل اس پوسٹ میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایران نے جزیرے پر کسی بھی حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ثالث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر کی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ پیر کو مارکیٹ میں قیمتوں کا نمایاں ردعمل جزوی طور پر برطانیہ میں عام تعطیل کے باعث کم کاروباری حجم کا نتیجہ بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے اجناس بردار بحری جہازوں کی تعداد کم ہوکر روزانہ صرف پانچ رہ گئی، جو حملوں کے خدشے کے باعث جہاز رانی کمپنیوں میں پائی جانے والی احتیاط کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں داخل ہوتے ہوئے ایک ٹینکر کو ایک گولہ یا میزائل نما شے لگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے اضافے کے باوجود برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی اگست میں معمولی ماہانہ کمی ریکارڈ کرنے کی راہ پر ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے دونوں کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ یہ تین ہفتوں میں ان کی پہلی ہفتہ وار کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اتوار کو یہ بھی کہا کہ وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت حاصل ہونے والا تیل امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں دوبارہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو کم ہوکر تقریباً 44 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے پر حملے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کے اعلان کے بعد پیر کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع چھٹے ماہ میں داخل ہوگیا ہے۔</strong></p>
<p>گرینچ مرین ٹائم کے مطابق 1306 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.35 ڈالر یا 2.67 فیصد اضافے سے 90.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.31 ڈالر یا 2.77 فیصد بڑھ کر 85.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ برینٹ کی قیمت دورانِ کاروبار 91.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 25 اگست کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایران کے لارک جزیرے پر دو لانچرز کو نشانہ بنایا۔ جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر امریکا کی یہ پہلی معلوم کارروائی ہے۔</p>
<p>ایرانی میڈیا نے پیر کو پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ اس کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔</p>
<p><strong>مارکیٹ کی توجہ کشیدگی میں کمی کے امکانات پر مرکوز</strong></p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی ستاونو نے کہا، ’’مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ فوجی حملوں اور تیل کی رسد میں مزید خلل کے خدشات نے تیل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اب مارکیٹ کی توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ صورتحال میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا نہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران کے توانائی کے مرکز خارک جزیرے کے ’’پرخچے اڑائے جا رہے ہیں‘‘، تاہم اس جزیرے پر حملے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو پر مشتمل اس پوسٹ میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایران نے جزیرے پر کسی بھی حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔</p>
<p>تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ثالث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر کی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔</p>
<p>سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ پیر کو مارکیٹ میں قیمتوں کا نمایاں ردعمل جزوی طور پر برطانیہ میں عام تعطیل کے باعث کم کاروباری حجم کا نتیجہ بھی تھا۔</p>
<p>جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے اجناس بردار بحری جہازوں کی تعداد کم ہوکر روزانہ صرف پانچ رہ گئی، جو حملوں کے خدشے کے باعث جہاز رانی کمپنیوں میں پائی جانے والی احتیاط کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں داخل ہوتے ہوئے ایک ٹینکر کو ایک گولہ یا میزائل نما شے لگی تھی۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>پیر کے اضافے کے باوجود برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی اگست میں معمولی ماہانہ کمی ریکارڈ کرنے کی راہ پر ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے دونوں کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ یہ تین ہفتوں میں ان کی پہلی ہفتہ وار کمی تھی۔</p>
<p>ٹرمپ نے اتوار کو یہ بھی کہا کہ وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت حاصل ہونے والا تیل امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں دوبارہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو کم ہوکر تقریباً 44 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290629</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2026 21:38:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/31084625585177a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/31084625585177a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فیڈ پالیسی کے اشاروں اور آبنائے ہرمز معاہدے کی افواہوں پر تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتیں جمعے کو مزید کم ہوگئیں اور ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کی جانب گامزن رہیں، کیونکہ تاجروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی سے متعلق اشاروں اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ممکنہ معاہدے کی افواہوں کا جائزہ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنٹرل ڈے لائٹ ٹائم کے مطابق صبح 10 بج کر 54 منٹ پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 38 سینٹ یا 0.42 فیصد کم ہوکر 89.32 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 36 سینٹ یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 83.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اہم بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہے تھے۔ برینٹ کی قیمت میں ہفتے کے دوران تقریباً 5.38 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.47 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا کہ نئے فیڈ چیئرمین کیون وارش کے ان بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں مزید نیچے آگئیں جن میں انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے رواں سال کے اواخر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلِن نے کہا، ’’عالمی مصنوعات کی مارکیٹیں روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے مزید حملوں کے باعث مضبوط دکھائی دے رہی ہیں، تاہم یہ چہ میگوئیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ ممکن ہے ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ سامنے آجائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ جمعے کو چھٹے ماہ میں داخل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر آبنائے ہرمز سے تیل کی بڑھتی ہوئی ترسیل پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی پیداوار اسی بحری گزرگاہ سے گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹڈ کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’مارکیٹ کو اضافی ترسیل، ایران-عمان بحری راہداری اور امریکا کی جانب سے بارودی سرنگیں صاف کیے جانے کے دعووں نے حیران کیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار کمی کی ممکنہ وجہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے تیل کی دستیاب مقدار اور ترسیل میں اضافے کی رفتار ہے، جس سے ایشیائی ریفائنریوں کو تیل حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے رواں ہفتے ایران پر وہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جنہیں اس نے ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دیا۔ تہران نے ان پابندیوں کو ’’غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تاثیر ختم ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔ قطر کے ایک نمائندے کی جانب سے ایرانی حکام پر بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے حق کا احترام کرنے پر زور دیے جانے کے بعد تہران نے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آبنائے-ہرمز-سے-تیل-کی-ترسیل-بدستور-غیر-یقینی" href="#آبنائے-ہرمز-سے-تیل-کی-ترسیل-بدستور-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بدستور غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی کا عمل، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی، بدستور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف 7 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 15 جہاز یومیہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم بحری گزرگاہ باب المندب سے 17 اجناس بردار بحری جہاز گزرے، جن میں 6 اندر داخل ہوئے جبکہ 11 باہر نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے جمعرات کو اندازہ لگایا کہ خلیجی ممالک کی حالیہ مجموعی تیل برآمدات 15 سے 16 ملین بیرل یومیہ رہی ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے 7 سے 8 ملین بیرل یومیہ کم، تاہم مارچ کی کم ترین سطح سے 5 سے 6 ملین بیرل یومیہ زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم آئل فیوچرز کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا کہ اوپیک میں کون شامل رہے گا اور کون باہر ہوگا، چین میں تیل کی طلب کس حد تک متاثر ہوگی اور دنیا بھر میں ریفائنریوں سے متعلق مسائل حل ہوسکیں گے یا نہیں، ان تمام معاملات کا انحصار جنگ کی اس غیر یقینی صورتحال پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کی-وینزویلا-سے-تیل-معاہدے-پر-نظر" href="#ٹرمپ-کی-وینزویلا-سے-تیل-معاہدے-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کی وینزویلا سے تیل معاہدے پر نظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے واقف ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر کے ایک حصے تک طویل مدتی رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں بالآخر تیل کی درآمدی لاگت کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق وینزویلا اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے گروپ سے علیحدگی پر بھی غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماسکو کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے یوکرین کے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں روس یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے روسی حکام کو ایسے کسی حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ برطانیہ نیٹو کے بانی ارکان میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے جنرل اسٹاف نے بتایا کہ یوکرینی فوج نے رات کے وقت روس کے یاروسلاول خطے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتیں جمعے کو مزید کم ہوگئیں اور ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کی جانب گامزن رہیں، کیونکہ تاجروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی سے متعلق اشاروں اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ممکنہ معاہدے کی افواہوں کا جائزہ لیا۔</strong></p>
<p>سنٹرل ڈے لائٹ ٹائم کے مطابق صبح 10 بج کر 54 منٹ پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 38 سینٹ یا 0.42 فیصد کم ہوکر 89.32 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 36 سینٹ یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 83.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>دونوں اہم بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہے تھے۔ برینٹ کی قیمت میں ہفتے کے دوران تقریباً 5.38 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.47 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا کہ نئے فیڈ چیئرمین کیون وارش کے ان بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں مزید نیچے آگئیں جن میں انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے رواں سال کے اواخر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p>فلِن نے کہا، ’’عالمی مصنوعات کی مارکیٹیں روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے مزید حملوں کے باعث مضبوط دکھائی دے رہی ہیں، تاہم یہ چہ میگوئیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ ممکن ہے ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ سامنے آجائے۔‘‘</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ جمعے کو چھٹے ماہ میں داخل ہوگئی۔</p>
<p>تاجر آبنائے ہرمز سے تیل کی بڑھتی ہوئی ترسیل پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی پیداوار اسی بحری گزرگاہ سے گزرتی تھی۔</p>
<p>ریسٹڈ کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’مارکیٹ کو اضافی ترسیل، ایران-عمان بحری راہداری اور امریکا کی جانب سے بارودی سرنگیں صاف کیے جانے کے دعووں نے حیران کیا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار کمی کی ممکنہ وجہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے تیل کی دستیاب مقدار اور ترسیل میں اضافے کی رفتار ہے، جس سے ایشیائی ریفائنریوں کو تیل حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>امریکا نے رواں ہفتے ایران پر وہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جنہیں اس نے ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دیا۔ تہران نے ان پابندیوں کو ’’غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تاثیر ختم ہوچکی ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔ قطر کے ایک نمائندے کی جانب سے ایرانی حکام پر بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے حق کا احترام کرنے پر زور دیے جانے کے بعد تہران نے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<h3><a id="آبنائے-ہرمز-سے-تیل-کی-ترسیل-بدستور-غیر-یقینی" href="#آبنائے-ہرمز-سے-تیل-کی-ترسیل-بدستور-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بدستور غیر یقینی</h3>
<p>آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی کا عمل، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی، بدستور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>جمعے کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف 7 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 15 جہاز یومیہ رہی۔</p>
<p>ایک اور اہم بحری گزرگاہ باب المندب سے 17 اجناس بردار بحری جہاز گزرے، جن میں 6 اندر داخل ہوئے جبکہ 11 باہر نکلے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس نے جمعرات کو اندازہ لگایا کہ خلیجی ممالک کی حالیہ مجموعی تیل برآمدات 15 سے 16 ملین بیرل یومیہ رہی ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے 7 سے 8 ملین بیرل یومیہ کم، تاہم مارچ کی کم ترین سطح سے 5 سے 6 ملین بیرل یومیہ زیادہ ہیں۔</p>
<p>پی وی ایم آئل فیوچرز کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا کہ اوپیک میں کون شامل رہے گا اور کون باہر ہوگا، چین میں تیل کی طلب کس حد تک متاثر ہوگی اور دنیا بھر میں ریفائنریوں سے متعلق مسائل حل ہوسکیں گے یا نہیں، ان تمام معاملات کا انحصار جنگ کی اس غیر یقینی صورتحال پر ہے۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کی-وینزویلا-سے-تیل-معاہدے-پر-نظر" href="#ٹرمپ-کی-وینزویلا-سے-تیل-معاہدے-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کی وینزویلا سے تیل معاہدے پر نظر</h3>
<p>مذاکرات سے واقف ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر کے ایک حصے تک طویل مدتی رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں بالآخر تیل کی درآمدی لاگت کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق وینزویلا اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے گروپ سے علیحدگی پر بھی غور کر رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ماسکو کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے یوکرین کے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں روس یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے روسی حکام کو ایسے کسی حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ برطانیہ نیٹو کے بانی ارکان میں شامل ہے۔</p>
<p>یوکرین کے جنرل اسٹاف نے بتایا کہ یوکرینی فوج نے رات کے وقت روس کے یاروسلاول خطے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290526</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Aug 2026 22:39:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/28083846bd5a748.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/28083846bd5a748.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ، اوپیک پلس کا تیل مارکیٹ پر اثر و رسوخ کم، چین کا کردار بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے 6 ماہ مکمل ہونے پر دنیا کا سب سے طاقتور تیل اتحاد اوپیک پلس ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ایک اہم برآمدی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جبکہ اوپیک کے متعدد رکن ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال نے اوپیک پلس کے تیل کی عالمی پیداوار میں حصے کو کم کردیا ہے اور قیمتوں پر اس کے اثر و رسوخ کو محدود کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جولائی میں اوپیک پلس کا تیل کی عالمی پیداوار میں حصہ تقریباً 40 فیصد رہا، جو فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حملے سے قبل 48 فیصد سے زیادہ تھا۔ اس کمی میں تقریباً 4 سے 5 فیصد پوائنٹس متحدہ عرب امارات کی مئی میں اوپیک سے علیحدگی کے باعث بھی آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور روس سمیت اوپیک پلس کے 7 بنیادی پیداواری ممالک کا عالمی تیل پیداوار میں حصہ جولائی میں صرف ایک چوتھائی رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات متاثر کرکے اوپیک پلس کی فوری طور پر پیداوار بڑھانے یا کم کرنے کی صلاحیت محدود کردی ہے۔ مارچ سے بنیادی اوپیک پلس گروپ نے تیل پیداوار میں 6 مرتبہ اضافے کا اعلان کیا، تاہم ہرمز کی بندش کے باعث ان میں سے بیشتر فیصلے عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس 2026 میں چین کی خام تیل درآمدات میں نمایاں کمی عالمی مارکیٹ کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد چین نے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 400 ملین بیرل کم تیل خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن کی برآمدات پر پابندی، ریفائننگ سرگرمیوں میں کمی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے استعمال نے چینی تیل طلب کو کم کیا، جس سے رواں سال عالمی قیمتوں پر دباؤ محدود رکھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپارٹا کموڈیٹیز کی تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ چین اب تیل کی طلب کا نیا سوئنگ سینٹر بن چکا ہے، جو ماضی میں بنیادی طور پر اوپیک پلس کا کردار سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران جنگ کے 6 ماہ مکمل ہونے پر دنیا کا سب سے طاقتور تیل اتحاد اوپیک پلس ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کردیا ہے۔</strong></p>
<p>جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ایک اہم برآمدی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جبکہ اوپیک کے متعدد رکن ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال نے اوپیک پلس کے تیل کی عالمی پیداوار میں حصے کو کم کردیا ہے اور قیمتوں پر اس کے اثر و رسوخ کو محدود کردیا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جولائی میں اوپیک پلس کا تیل کی عالمی پیداوار میں حصہ تقریباً 40 فیصد رہا، جو فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حملے سے قبل 48 فیصد سے زیادہ تھا۔ اس کمی میں تقریباً 4 سے 5 فیصد پوائنٹس متحدہ عرب امارات کی مئی میں اوپیک سے علیحدگی کے باعث بھی آئے۔</p>
<p>سعودی عرب اور روس سمیت اوپیک پلس کے 7 بنیادی پیداواری ممالک کا عالمی تیل پیداوار میں حصہ جولائی میں صرف ایک چوتھائی رہ گیا۔</p>
<p>جنگ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات متاثر کرکے اوپیک پلس کی فوری طور پر پیداوار بڑھانے یا کم کرنے کی صلاحیت محدود کردی ہے۔ مارچ سے بنیادی اوپیک پلس گروپ نے تیل پیداوار میں 6 مرتبہ اضافے کا اعلان کیا، تاہم ہرمز کی بندش کے باعث ان میں سے بیشتر فیصلے عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔</p>
<p>اس کے برعکس 2026 میں چین کی خام تیل درآمدات میں نمایاں کمی عالمی مارکیٹ کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد چین نے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 400 ملین بیرل کم تیل خریدا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن کی برآمدات پر پابندی، ریفائننگ سرگرمیوں میں کمی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے استعمال نے چینی تیل طلب کو کم کیا، جس سے رواں سال عالمی قیمتوں پر دباؤ محدود رکھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>اسپارٹا کموڈیٹیز کی تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ چین اب تیل کی طلب کا نیا سوئنگ سینٹر بن چکا ہے، جو ماضی میں بنیادی طور پر اوپیک پلس کا کردار سمجھا جاتا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290486</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 13:02:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/27125716801d2b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/27125716801d2b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران میں مذاکرات کے امکانات معدوم، تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290477/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اس وقت ایک ڈالر سے زائد اضافہ ہوا، جب واشنگٹن نے تصدیق کی کہ دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امیدیں بھی ماند پڑ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے سے 88.92 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 19 سینٹ یا 0.23 فیصد بڑھ کر 82.42 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یہ قیمتیں صبح 11:35 بجے مشرقی وقت (1535 جی ایم ٹی) پر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی خطرات سے متعلق مشاورتی ادارے اسکارب رائزنگ کی صدر ایرینا تسوکرمن نے کہا کہ “ڈبلیو ٹی آئی میں کمزوری امریکا میں خام تیل کی طلب و رسد کے نسبتاً بہتر توازن کی عکاسی کرتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاع دی، جس میں اوکلاہوما کے شہر کشنگ میں واقع ترسیلی مرکز کے ذخائر میں بھی اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین سیشنز کی مسلسل گراوٹ کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بڑھانے میں مددگار سفارتی پیش رفت کی توقعات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور تیل کی سپلائی بدستور محدود رہنے سے مارکیٹ کی توقعات میں تبدیلی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم تمام آپشنز اب بھی زیرِ غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا، “اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ شاید ایران بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہے۔ ابھی تک ہمیں ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے وزیراعظم نے ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کے لیے تہران کا دورہ کیا، جہاں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز اب بھی محدود آمدورفت کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان پر امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے پیر کو ایران کے خلاف “تاریخ کی سخت ترین پابندیوں” کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان معاشی اقدامات سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائیوں کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے پابندیوں کو ”غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام“ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اپنی تاثیر کھو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ”اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کسی معاہدے کے حوالے سے امید قبل از وقت ثابت ہو اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوجائیں یا دوبارہ ناکام ہوجائیں۔ ایسی صورت میں قیمتوں میں خطرے کا پریمیم تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا کی ہیڈ آف مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوہ نے کہا کہ تنازع کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس کے فوری حل ہونے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والے دباؤ کے اختیار کی اہمیت سے بھی واقف ہے، اس لیے طویل غیر یقینی صورتحال کا خطرہ برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اجناس بردار کشتیوں کی تعداد میں معمولی بہتری آئی اور 10 جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔ یہ حالیہ کم ترین سطح سے زیادہ تعداد ہے، تاہم 10 روزہ اوسط 15 جہازوں سے اب بھی کم ہے۔ آبنائے سے نکلنے والے جہازوں میں درمیانے حجم کا فیول ٹینکر، بٹومین ٹینکر اور ایک بلک کیریئر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کی طرف سے برطانوی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اس وقت ایک ڈالر سے زائد اضافہ ہوا، جب واشنگٹن نے تصدیق کی کہ دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امیدیں بھی ماند پڑ گئیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے سے 88.92 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 19 سینٹ یا 0.23 فیصد بڑھ کر 82.42 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یہ قیمتیں صبح 11:35 بجے مشرقی وقت (1535 جی ایم ٹی) پر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی خطرات سے متعلق مشاورتی ادارے اسکارب رائزنگ کی صدر ایرینا تسوکرمن نے کہا کہ “ڈبلیو ٹی آئی میں کمزوری امریکا میں خام تیل کی طلب و رسد کے نسبتاً بہتر توازن کی عکاسی کرتی ہے۔”</p>
<p>بدھ کو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاع دی، جس میں اوکلاہوما کے شہر کشنگ میں واقع ترسیلی مرکز کے ذخائر میں بھی اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>تاہم تین سیشنز کی مسلسل گراوٹ کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بڑھانے میں مددگار سفارتی پیش رفت کی توقعات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور تیل کی سپلائی بدستور محدود رہنے سے مارکیٹ کی توقعات میں تبدیلی آسکتی ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم تمام آپشنز اب بھی زیرِ غور ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا، “اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ شاید ایران بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہے۔ ابھی تک ہمیں ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔”</p>
<p>قطر کے وزیراعظم نے ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کے لیے تہران کا دورہ کیا، جہاں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز اب بھی محدود آمدورفت کا شکار ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان پر امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔</p>
<p>امریکا نے پیر کو ایران کے خلاف “تاریخ کی سخت ترین پابندیوں” کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان معاشی اقدامات سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائیوں کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے پابندیوں کو ”غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام“ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اپنی تاثیر کھو چکی ہیں۔</p>
<p>کے سی ایم کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ”اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کسی معاہدے کے حوالے سے امید قبل از وقت ثابت ہو اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوجائیں یا دوبارہ ناکام ہوجائیں۔ ایسی صورت میں قیمتوں میں خطرے کا پریمیم تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔“</p>
<p>فلپ نووا کی ہیڈ آف مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوہ نے کہا کہ تنازع کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس کے فوری حل ہونے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والے دباؤ کے اختیار کی اہمیت سے بھی واقف ہے، اس لیے طویل غیر یقینی صورتحال کا خطرہ برقرار ہے۔</p>
<p>فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی ہوتا تھا۔</p>
<p>کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اجناس بردار کشتیوں کی تعداد میں معمولی بہتری آئی اور 10 جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔ یہ حالیہ کم ترین سطح سے زیادہ تعداد ہے، تاہم 10 روزہ اوسط 15 جہازوں سے اب بھی کم ہے۔ آبنائے سے نکلنے والے جہازوں میں درمیانے حجم کا فیول ٹینکر، بٹومین ٹینکر اور ایک بلک کیریئر شامل تھے۔</p>
<p>دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کی طرف سے برطانوی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290477</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 22:39:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/270839382965f2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/270839382965f2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2 فیصد گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290452/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ کو تقریباً 2 فیصد مزید گر گئیں، جس کے بعد گزشتہ سیشن میں ہونے والی 3 فیصد سے زائد کمی کے اثرات بھی برقرار رہے۔ قیمتوں میں تازہ کمی کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ہے، جس  کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ٹریفک کے انتظام پر کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے مذاکرات جاری تھے۔ دونوں ممالک نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مشترکہ عارضی بحری راہداری پر بات چیت کی اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو  برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.78 ڈالر یا 2 فیصد کمی کے بعد 86.80 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.49 ڈالر یا 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ دونوں بینچ مارکس میں منگل کو 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار میتسورو مورا ئشی نے کہا کہ مارکیٹ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت سے متعلق پیش رفت پر ردعمل ظاہر کررہی ہے، جبکہ ایران اور عمان کے مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے تیل کی فروخت کو بڑھایا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی متحرک کیا، جس سے مزید کمی محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 4.2 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اوسطاً 600,000 بیرل اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے سرکاری اعدادوشمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ کو تقریباً 2 فیصد مزید گر گئیں، جس کے بعد گزشتہ سیشن میں ہونے والی 3 فیصد سے زائد کمی کے اثرات بھی برقرار رہے۔ قیمتوں میں تازہ کمی کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ہے، جس  کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔</strong></p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ٹریفک کے انتظام پر کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے مذاکرات جاری تھے۔ دونوں ممالک نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مشترکہ عارضی بحری راہداری پر بات چیت کی اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>بدھ کو  برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.78 ڈالر یا 2 فیصد کمی کے بعد 86.80 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.49 ڈالر یا 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ دونوں بینچ مارکس میں منگل کو 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار میتسورو مورا ئشی نے کہا کہ مارکیٹ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت سے متعلق پیش رفت پر ردعمل ظاہر کررہی ہے، جبکہ ایران اور عمان کے مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے تیل کی فروخت کو بڑھایا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی متحرک کیا، جس سے مزید کمی محدود رہی۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا، امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 4.2 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اوسطاً 600,000 بیرل اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے سرکاری اعدادوشمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290452</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Aug 2026 09:31:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2609303508a486b.webp" type="image/webp" medium="image" height="309" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2609303508a486b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر نئی امریکی پابندیاں : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290399/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ سیشن میں 2 فیصد سے زائد کمی کے بعد منگل کو تیل کی قیمتوں میں بحالی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار ایران کے خلاف امریکا کی تازہ پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 27 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے سے 92.44 ڈالر فی بیرل ہوگئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 37 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے سے 85.38 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں پیر کو کم ہوئیں، امریکی خام تیل کی قیمت ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئی۔ ماہرین کے مطابق ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں نے مارکیٹ پر فوری نمایاں اثر نہیں ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنا ہوں گے، بصورت دیگر انہیں ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے متاثر ہونے والے ممالک یا پابندیوں کے نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہ کرنے کے باوجود کہا کہ امریکا اقتصادی دباؤ بڑھانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے فوری خدشات کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرکے ردعمل دے سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں خطرے کا کچھ پریمیم برقرار ہے۔ اسی دوران عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آکر ناکارہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل عالمی تیل استعمال کے تقریباً 20 فیصد کے برابر کارگو گزرتا تھا۔ دوسری جانب امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر 37 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 97 لاکھ بیرل رہ گئے، جو نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ سیشن میں 2 فیصد سے زائد کمی کے بعد منگل کو تیل کی قیمتوں میں بحالی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار ایران کے خلاف امریکا کی تازہ پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 27 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے سے 92.44 ڈالر فی بیرل ہوگئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 37 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے سے 85.38 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں پیر کو کم ہوئیں، امریکی خام تیل کی قیمت ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئی۔ ماہرین کے مطابق ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں نے مارکیٹ پر فوری نمایاں اثر نہیں ڈالا۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنا ہوں گے، بصورت دیگر انہیں ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے متاثر ہونے والے ممالک یا پابندیوں کے نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی۔</p>
<p>امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہ کرنے کے باوجود کہا کہ امریکا اقتصادی دباؤ بڑھانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے فوری خدشات کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرکے ردعمل دے سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں خطرے کا کچھ پریمیم برقرار ہے۔ اسی دوران عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آکر ناکارہ ہوگیا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل عالمی تیل استعمال کے تقریباً 20 فیصد کے برابر کارگو گزرتا تھا۔ دوسری جانب امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر 37 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 97 لاکھ بیرل رہ گئے، جو نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290399</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Aug 2026 17:20:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/25084913af49a4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="309" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/25084913af49a4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی نئی ایرانی پابندیوں کے اعلان سے قبل تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290359/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتیں پیر کو فی بیرل 2 ڈالر سے زیادہ گر گئیں۔ حالیہ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے اور ایران پر متوقع نئی امریکی پابندیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے انتظار کے باعث قیمتوں میں کمی ہوئی۔ نئی پابندیاں مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں مزید خلل ڈال سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے دوپہر 12:48 بجے (مشرقی امریکی وقت) 1.71 ڈالر یا 1.81 فیصد کمی سے 92.69 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.72 ڈالر یا 1.98 فیصد کمی سے 85.34 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں معاہدوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسری ہفتہ وار بڑھوتری ریکارڈ کی گئی اور قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی، جو ماضی میں عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ لے جانے والی اہم گزرگاہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر ایک بجے (مشرقی امریکی وقت) پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں توقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ممکنہ ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے اقدامات کی تفصیلات بتائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم کے تجزیہ کار تامس وارگا نے کہا، ’’اگر اعلان کردہ پابندی کا نفاذ شروع کردیا گیا تو خطے سے تیل کی رسد کم ہوجائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایران مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات پر تازہ حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ امریکی اعلان سے قبل پاکستان کے آرمی چیف پیر کو ثالثی کے لیے مذاکرات کی غرض سے تہران کے دورے پر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر 20 سے بھی کم اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، کیونکہ ایرانی اور امریکی ناکہ بندیوں کے باعث توانائی کی ترسیل کی اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک پوئیانے نے کہا کہ کمپنی آبنائے ہرمز کے راستے منافع بخش انداز میں تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، تاہم خام تیل پیدا کرنے والوں کی جانب سے دی جانے والی بھاری رعایتیں اس اضافی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق عراق کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو اور قطر انرجی نے بھی ٹینڈرز میں آبنائے ہرمز کے اندر سے لوڈنگ کے لیے خام تیل کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای بی کے تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے رائٹرز کو بتایا، ’’120 سے 150 ڈالر کے بجائے برینٹ کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور مجموعی طور پر خلیج فارس سے کافی مقدار میں تیل گزر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آسکتا ہے جب ایران راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو واقعی بند کرنے کا فیصلہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے برینٹ کی قیمتوں کے اپنے اندازوں میں اضافہ کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی میں قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے پیر کو کہا کہ ادارہ فی الحال تزویراتی ذخائر سے تیل کے دوسرے مرحلے میں اجرا پر غور نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتیں پیر کو فی بیرل 2 ڈالر سے زیادہ گر گئیں۔ حالیہ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے اور ایران پر متوقع نئی امریکی پابندیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے انتظار کے باعث قیمتوں میں کمی ہوئی۔ نئی پابندیاں مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں مزید خلل ڈال سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے دوپہر 12:48 بجے (مشرقی امریکی وقت) 1.71 ڈالر یا 1.81 فیصد کمی سے 92.69 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.72 ڈالر یا 1.98 فیصد کمی سے 85.34 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>دونوں معاہدوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسری ہفتہ وار بڑھوتری ریکارڈ کی گئی اور قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی، جو ماضی میں عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ لے جانے والی اہم گزرگاہ تھی۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر ایک بجے (مشرقی امریکی وقت) پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں توقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ممکنہ ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے اقدامات کی تفصیلات بتائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>پی وی ایم کے تجزیہ کار تامس وارگا نے کہا، ’’اگر اعلان کردہ پابندی کا نفاذ شروع کردیا گیا تو خطے سے تیل کی رسد کم ہوجائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایران مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات پر تازہ حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔</p>
<p>ایران نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ امریکی اعلان سے قبل پاکستان کے آرمی چیف پیر کو ثالثی کے لیے مذاکرات کی غرض سے تہران کے دورے پر تھے۔</p>
<p>پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر 20 سے بھی کم اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، کیونکہ ایرانی اور امریکی ناکہ بندیوں کے باعث توانائی کی ترسیل کی اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت محدود ہے۔</p>
<p>ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک پوئیانے نے کہا کہ کمپنی آبنائے ہرمز کے راستے منافع بخش انداز میں تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، تاہم خام تیل پیدا کرنے والوں کی جانب سے دی جانے والی بھاری رعایتیں اس اضافی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق عراق کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو اور قطر انرجی نے بھی ٹینڈرز میں آبنائے ہرمز کے اندر سے لوڈنگ کے لیے خام تیل کی پیشکش کی ہے۔</p>
<p>ایس ای بی کے تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے رائٹرز کو بتایا، ’’120 سے 150 ڈالر کے بجائے برینٹ کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور مجموعی طور پر خلیج فارس سے کافی مقدار میں تیل گزر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آسکتا ہے جب ایران راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو واقعی بند کرنے کا فیصلہ کرے۔</p>
<p>مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے برینٹ کی قیمتوں کے اپنے اندازوں میں اضافہ کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی میں قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے پیر کو کہا کہ ادارہ فی الحال تزویراتی ذخائر سے تیل کے دوسرے مرحلے میں اجرا پر غور نہیں کر رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290359</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Aug 2026 23:15:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/24084123744346e.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/24084123744346e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
