<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 10:50:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 10:50:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں کمی، امریکی ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعرات کو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، کیونکہ امریکا میں مہنگائی کے کمزور اعداد و شمار نے اس توقع کو تقویت دی کہ فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مستقبل میں مہنگائی کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر مسلسل تیسرے سیشن میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.075 ین پر آ گیا، جبکہ یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1472 ڈالر کی ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح 1.354 ڈالر کے قریب برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.47 پر مستحکم رہا۔ گزشتہ دو سیشنز کے دوران یہ انڈیکس 0.8 فیصد گر چکا ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) جون میں غیر متوقع طور پر گزشتہ 14 ماہ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کر گیا، جبکہ اس سے قبل صارفین کی مہنگائی اور روزگار کے کمزور اعداد و شمار بھی سامنے آئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے بعد جولائی میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گئے ہیں، اگرچہ ستمبر میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں حالیہ کمی نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس سے امریکی کرنسی کو سہارا ملنے کا امکان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی ایک ماہ کی بلند ترین سطح، تقریباً 85.28 ڈالر فی بیرل، کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعرات کو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، کیونکہ امریکا میں مہنگائی کے کمزور اعداد و شمار نے اس توقع کو تقویت دی کہ فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مستقبل میں مہنگائی کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔</strong></p>
<p>جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر مسلسل تیسرے سیشن میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.075 ین پر آ گیا، جبکہ یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1472 ڈالر کی ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح 1.354 ڈالر کے قریب برقرار رہا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 100.47 پر مستحکم رہا۔ گزشتہ دو سیشنز کے دوران یہ انڈیکس 0.8 فیصد گر چکا ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) جون میں غیر متوقع طور پر گزشتہ 14 ماہ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کر گیا، جبکہ اس سے قبل صارفین کی مہنگائی اور روزگار کے کمزور اعداد و شمار بھی سامنے آئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے بعد جولائی میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گئے ہیں، اگرچہ ستمبر میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں حالیہ کمی نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس سے امریکی کرنسی کو سہارا ملنے کا امکان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی ایک ماہ کی بلند ترین سطح، تقریباً 85.28 ڈالر فی بیرل، کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288773</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:06:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16090446bc1b9be.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16090446bc1b9be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر امریکی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288772/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات پر نئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی بڑھ گئیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بھرپور جنگ چھڑنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 42 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی معیار بدھ کو بھی تقریباً 0.3 فیصد بڑھے تھے اور ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روک سکتا ہے۔ تہران نے موجودہ صورتحال کو امریکا کے خلاف بقا کی جنگ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خریداری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پڑوسی ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور عمومی رائے یہ ہے کہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، تاہم صورتحال بگڑنے کی صورت میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 85 سے 87 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے اہم باب المندب راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی مزید تاخیر کا شکار رہی تو سال کی آخری سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم کشیدگی کم ہونے اور پیداوار میں تیزی سے بحالی کی صورت میں سال کے اختتام تک قیمتیں 60 ڈالر کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات پر نئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی بڑھ گئیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بھرپور جنگ چھڑنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 42 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی معیار بدھ کو بھی تقریباً 0.3 فیصد بڑھے تھے اور ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہیں۔</p>
<p>امریکا نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روک سکتا ہے۔ تہران نے موجودہ صورتحال کو امریکا کے خلاف بقا کی جنگ قرار دیا ہے۔</p>
<p>نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خریداری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پڑوسی ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور عمومی رائے یہ ہے کہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، تاہم صورتحال بگڑنے کی صورت میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 85 سے 87 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے اہم باب المندب راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>ادھر سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی مزید تاخیر کا شکار رہی تو سال کی آخری سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم کشیدگی کم ہونے اور پیداوار میں تیزی سے بحالی کی صورت میں سال کے اختتام تک قیمتیں 60 ڈالر کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288772</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:00:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16085847a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16085847a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں گندم کی نقل و حمل پر پابندی سے آزاد منڈی متاثر، بین الصوبائی اسمگلنگ کو فروغ ملا، پی ایف ایم اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288769/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے بدھ کو کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کو دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے پر پابندی کے باعث ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایم اے کے مطابق پنجاب حکومت نے مسلسل دوسرے سال بھی صوبے سے باہر گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے، حالانکہ صوبہ ضرورت سے زائد گندم پیدا کرتا ہے اور پاکستان کی مجموعی گندم پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس پابندی نے پنجاب سے دوسرے صوبوں کو گندم کی غیر قانونی ترسیل کو فروغ دیا، جس کے باعث سپلائی تو جاری رہی، تاہم چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر رشوت کی ادائیگی کے سبب اس کی لاگت اور قیمت دونوں میں اضافہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایم اے کے مرکزی چیئرمین بدر الدین کاکڑ نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا، ”یہ پابندی غیر قانونی ہے۔ اس سے ملک میں غذائی عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔ گندم کی نقل و حمل پر پابندی پاکستان میں گندم کو آزاد منڈی کی شے بنانے سے متعلق وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے بھی خلاف ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایم اے نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں گندم اور آٹے کے مبینہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق اس کارروائی کے باعث سندھ کی فلور ملوں کو گندم کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایم اے کے سابق مرکزی چیئرمین چودھری محمد یوسف نے کہا، ”فلور ملوں کو گندم کی ترسیل مکمل طور پر رک چکی ہے۔ اگر آئندہ ایک دو روز میں ملوں کو گندم کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو کراچی اور بالائی سندھ کے بعض علاقوں میں دس روز کے اندر آٹا دستیاب نہیں ہوگا۔ ہم اس صورتحال کے حل کے لیے متعلقہ صوبائی حکام سے ملاقات کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدر الدین کاکڑ نے کہا کہ موجودہ بحران طلب اور رسد کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب سالانہ 2 کروڑ 20 لاکھ ٹن گندم پیدا کرتا ہے، جبکہ صوبے کی اپنی سالانہ ضرورت 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس کا مطلب ہے کہ پنجاب کے پاس ہر سال تقریباً 70 لاکھ ٹن اضافی گندم موجود ہوتی ہے، اس کے باوجود گزشتہ دو برس سے صوبے سے دوسرے صوبوں کو گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ملک بھر میں گندم کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکڑ نے کہا، ”غذائی تحفظ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے، لہٰذا قومی سطح پر تمام صوبوں کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق خیبر پختونخوا کو سالانہ 55 لاکھ ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جبکہ مقامی پیداوار صرف 15 لاکھ ٹن ہے۔ یوں تقریباً 40 لاکھ ٹن گندم کی کمی پنجاب سے خرید کر پوری کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”پنجاب سے خیبر پختونخوا گندم کی ترسیل بند نہیں ہوئی، لیکن اب یہ ضرورت بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ چیک پوسٹوں پر بھاری رشوت دے کر گندم پہنچائی جاتی ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکڑ نے بتایا کہ پنجاب میں نمبر 2.5 آٹا 11,500 سے 11,800 روپے فی 100 کلوگرام بوری میں دستیاب ہے، جبکہ یہی آٹا خیبر پختونخوا میں 13 ہزار روپے، اور سندھ و بلوچستان میں 12 ہزار 500 روپے فی بوری فروخت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایم اے خیبر پختونخوا زون کے چیئرمین محمد نعیم بٹ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں قائم چیک پوسٹوں پر گندم سے بھرے ہر ٹرک کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ روپے تک رشوت دینا پڑتی ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے بدھ کو کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کو دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے پر پابندی کے باعث ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>پی ایف ایم اے کے مطابق پنجاب حکومت نے مسلسل دوسرے سال بھی صوبے سے باہر گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے، حالانکہ صوبہ ضرورت سے زائد گندم پیدا کرتا ہے اور پاکستان کی مجموعی گندم پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس پابندی نے پنجاب سے دوسرے صوبوں کو گندم کی غیر قانونی ترسیل کو فروغ دیا، جس کے باعث سپلائی تو جاری رہی، تاہم چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر رشوت کی ادائیگی کے سبب اس کی لاگت اور قیمت دونوں میں اضافہ ہو گیا۔</p>
<p>پی ایف ایم اے کے مرکزی چیئرمین بدر الدین کاکڑ نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا، ”یہ پابندی غیر قانونی ہے۔ اس سے ملک میں غذائی عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔ گندم کی نقل و حمل پر پابندی پاکستان میں گندم کو آزاد منڈی کی شے بنانے سے متعلق وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے بھی خلاف ہے۔“</p>
<p>پی ایف ایم اے نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں گندم اور آٹے کے مبینہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق اس کارروائی کے باعث سندھ کی فلور ملوں کو گندم کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے۔</p>
<p>پی ایف ایم اے کے سابق مرکزی چیئرمین چودھری محمد یوسف نے کہا، ”فلور ملوں کو گندم کی ترسیل مکمل طور پر رک چکی ہے۔ اگر آئندہ ایک دو روز میں ملوں کو گندم کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو کراچی اور بالائی سندھ کے بعض علاقوں میں دس روز کے اندر آٹا دستیاب نہیں ہوگا۔ ہم اس صورتحال کے حل کے لیے متعلقہ صوبائی حکام سے ملاقات کریں گے۔“</p>
<p>بدر الدین کاکڑ نے کہا کہ موجودہ بحران طلب اور رسد کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب سالانہ 2 کروڑ 20 لاکھ ٹن گندم پیدا کرتا ہے، جبکہ صوبے کی اپنی سالانہ ضرورت 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس کا مطلب ہے کہ پنجاب کے پاس ہر سال تقریباً 70 لاکھ ٹن اضافی گندم موجود ہوتی ہے، اس کے باوجود گزشتہ دو برس سے صوبے سے دوسرے صوبوں کو گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ملک بھر میں گندم کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنائیں۔</p>
<p>کاکڑ نے کہا، ”غذائی تحفظ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے، لہٰذا قومی سطح پر تمام صوبوں کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔“</p>
<p>ان کے مطابق خیبر پختونخوا کو سالانہ 55 لاکھ ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جبکہ مقامی پیداوار صرف 15 لاکھ ٹن ہے۔ یوں تقریباً 40 لاکھ ٹن گندم کی کمی پنجاب سے خرید کر پوری کی جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”پنجاب سے خیبر پختونخوا گندم کی ترسیل بند نہیں ہوئی، لیکن اب یہ ضرورت بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ چیک پوسٹوں پر بھاری رشوت دے کر گندم پہنچائی جاتی ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔“</p>
<p>کاکڑ نے بتایا کہ پنجاب میں نمبر 2.5 آٹا 11,500 سے 11,800 روپے فی 100 کلوگرام بوری میں دستیاب ہے، جبکہ یہی آٹا خیبر پختونخوا میں 13 ہزار روپے، اور سندھ و بلوچستان میں 12 ہزار 500 روپے فی بوری فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p>پی ایف ایم اے خیبر پختونخوا زون کے چیئرمین محمد نعیم بٹ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں قائم چیک پوسٹوں پر گندم سے بھرے ہر ٹرک کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ روپے تک رشوت دینا پڑتی ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288769</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 23:21:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1523023203a0963.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1523023203a0963.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سم کے اجرا میں خلاف ورزیاں، پی ٹی اے کا موبائل آپریٹرز پر 740 ملین روپے جرمانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288753/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے اجرا سے متعلق ضوابط کی بار بار خلاف ورزی پر ملک کی چاروں سیلولر موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 740 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیے۔  پی ٹی اے نے ان آپریٹرز کو سمز کی غیر مجاز ایکٹیویشن اور بائیو میٹرک تصدیق و فرنچائز نیٹ ورکس کی نگرانی میں سنگین غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کردہ متعدد نفاذی احکامات کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 155.6 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک کو متعدد خلاف ورزیوں پر بالترتیب 116.7 ملین، 116.7 ملین اور 116.7 ملین روپے کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یوفون پر دو الگ الگ مقدمات میں 77.8 ملین  روپے اور 38.9 ملین روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے جس کے بعد چاروں موبائل آپریٹرز پر مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 740 ملین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارہا ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود موبائل آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ہدایات غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفاذی احکامات سے انکشاف ہوا کہ متعدد کیسز میں سمیں صارفین کے علم، رضامندی یا فزیکل موجودگی کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر جاری اور فعال کی گئیں جو کہ سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفیکیشن ریگولیشنز (صارفین کے کوائف کی تصدیق کے ضوابط) اور بائیو میٹرک تصدیق کو کنٹرول کرنے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  کی صریح خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتہائی سنگین کیسز میں سے ایک میں پی ٹی اے نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے لاہور میں اپنی ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے صارف کی معلومات کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر سم جاری کر کے فعال کر دی۔ بعد ازاں کیے گئے ایک چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیو میٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں جو کہ سم کے اجرا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ متعلقہ سم نادرا کے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے ذریعے فعال کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کا کامیاب ہونا آپریٹر کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ سم کے اجرا کو قانون کے مطابق یقینی بنائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ صارف کی حقیقی رضامندی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی نار پاکستان کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب پی ٹی اے نے پایا کہ ایک صارف کی رضامندی کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے سم جاری کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران حکام نے فرنچائز کے احاطے سے بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ برآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز یہ مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ فرنچائزز انڈیپنڈنٹ کنٹریکٹرز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹیلی کام ضوابط کے تحت فروخت ہونے والی ہر سم کی قانونی ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر پر ہی عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوفون  کو اس وقت متعدد تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جب تحقیقات میں اس کے سیلز نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کیس میں چھاپوں کے دوران 12,600 سے زائد فعال سمیں برآمد ہوئیں جن کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز اور دیگر آلات بھی ملے جو مبینہ طور پر سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں مختلف شہروں میں فرنچائز آؤٹ لیٹس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر سموں کی غیر مجاز ایکٹیویشن کے واقعات بھی سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) پر سم کے اجرا اور بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے پر 116.7 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سموں کا اجرا اور ان کی ایکٹیویشن مقررہ ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جس میں مجاز سیلز چینلز پر صارف کی فزیکل موجودگی کے ذریعے تصدیق شدہ رضامندی کا فقدان اور مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم  ڈیوائسز کے استعمال پر ناکافی نگرانی اور تعمیل شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ تعمیل کے تفصیلی طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود، آپریٹرز فرنچائزز اور ریٹیلرز کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے بار بار خلاف ورزیاں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز لائیو فنگر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز پر جیو فینسنگ کنٹرولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے، یہ حفاظتی اقدامات شناخت کی چوری، بائیو میٹرک اسپوفنگ (جعلی بائیو میٹرک ڈیٹا) اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سموں کا اجرا ٹیلی کام صارفین کو شناخت کی چوری، سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور ٹیلی مواصلاتی انفرااسٹرکچر کے غلط استعمال کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز اپنے مجاز سیلز چینلز کے ذریعے جاری ہونے والی ہر سم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اوپر عائد جرمانے جمع کرائیں۔ پی ٹی اے نے تنبیہ کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانون کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے اجرا سے متعلق ضوابط کی بار بار خلاف ورزی پر ملک کی چاروں سیلولر موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 740 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیے۔  پی ٹی اے نے ان آپریٹرز کو سمز کی غیر مجاز ایکٹیویشن اور بائیو میٹرک تصدیق و فرنچائز نیٹ ورکس کی نگرانی میں سنگین غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔</strong></p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کردہ متعدد نفاذی احکامات کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 155.6 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک کو متعدد خلاف ورزیوں پر بالترتیب 116.7 ملین، 116.7 ملین اور 116.7 ملین روپے کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یوفون پر دو الگ الگ مقدمات میں 77.8 ملین  روپے اور 38.9 ملین روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے جس کے بعد چاروں موبائل آپریٹرز پر مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 740 ملین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارہا ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود موبائل آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ہدایات غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی تھیں۔</p>
<p>نفاذی احکامات سے انکشاف ہوا کہ متعدد کیسز میں سمیں صارفین کے علم، رضامندی یا فزیکل موجودگی کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر جاری اور فعال کی گئیں جو کہ سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفیکیشن ریگولیشنز (صارفین کے کوائف کی تصدیق کے ضوابط) اور بائیو میٹرک تصدیق کو کنٹرول کرنے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>انتہائی سنگین کیسز میں سے ایک میں پی ٹی اے نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے لاہور میں اپنی ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے صارف کی معلومات کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر سم جاری کر کے فعال کر دی۔ بعد ازاں کیے گئے ایک چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیو میٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں جو کہ سم کے اجرا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔</p>
<p>اتھارٹی نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ متعلقہ سم نادرا کے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے ذریعے فعال کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کا کامیاب ہونا آپریٹر کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ سم کے اجرا کو قانون کے مطابق یقینی بنائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ صارف کی حقیقی رضامندی بھی موجود ہے۔</p>
<p>ٹیلی نار پاکستان کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب پی ٹی اے نے پایا کہ ایک صارف کی رضامندی کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے سم جاری کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران حکام نے فرنچائز کے احاطے سے بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ برآمد کیا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز یہ مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ فرنچائزز انڈیپنڈنٹ کنٹریکٹرز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹیلی کام ضوابط کے تحت فروخت ہونے والی ہر سم کی قانونی ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر پر ہی عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>یوفون  کو اس وقت متعدد تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جب تحقیقات میں اس کے سیلز نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔</p>
<p>ایک کیس میں چھاپوں کے دوران 12,600 سے زائد فعال سمیں برآمد ہوئیں جن کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز اور دیگر آلات بھی ملے جو مبینہ طور پر سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں مختلف شہروں میں فرنچائز آؤٹ لیٹس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر سموں کی غیر مجاز ایکٹیویشن کے واقعات بھی سامنے آئے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) پر سم کے اجرا اور بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے پر 116.7 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سموں کا اجرا اور ان کی ایکٹیویشن مقررہ ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جس میں مجاز سیلز چینلز پر صارف کی فزیکل موجودگی کے ذریعے تصدیق شدہ رضامندی کا فقدان اور مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم  ڈیوائسز کے استعمال پر ناکافی نگرانی اور تعمیل شامل ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ تعمیل کے تفصیلی طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود، آپریٹرز فرنچائزز اور ریٹیلرز کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے بار بار خلاف ورزیاں ہوئیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز لائیو فنگر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز پر جیو فینسنگ کنٹرولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے، یہ حفاظتی اقدامات شناخت کی چوری، بائیو میٹرک اسپوفنگ (جعلی بائیو میٹرک ڈیٹا) اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔</p>
<p>اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سموں کا اجرا ٹیلی کام صارفین کو شناخت کی چوری، سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور ٹیلی مواصلاتی انفرااسٹرکچر کے غلط استعمال کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز اپنے مجاز سیلز چینلز کے ذریعے جاری ہونے والی ہر سم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>تمام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اوپر عائد جرمانے جمع کرائیں۔ پی ٹی اے نے تنبیہ کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانون کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288753</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 16:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15163149bd9dc46.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="721">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15163149bd9dc46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشین پام آئل کی برآمدات میں سالانہ 25.1 فیصد کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کی پام آئل ایسوسی ایشن  کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں انڈونیشین پام آئل کی برآمدات  1.996 ملین میٹرک ٹن رہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد 2.664 ملین ٹن تھی جو کہ 25.1 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیپکی کے مطابق مئی میں برآمدات ماہانہ 28.12 فیصد گریں۔ دنیا کے سب سے بڑے پام آئل پیدا کرنے والے ملک میں مئی کے دوران خام پام آئل کی پیداوار 4.165 ملین ٹن رہی جو ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداوار کم ہونے کے باوجود مئی کے اختتام تک پام آئل کے ذخائر 3.042 ملین میٹرک ٹن تھے جو کہ برآمدات میں کمی کے باعث ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 18.9 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کی پام آئل ایسوسی ایشن  کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں انڈونیشین پام آئل کی برآمدات  1.996 ملین میٹرک ٹن رہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد 2.664 ملین ٹن تھی جو کہ 25.1 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</strong></p>
<p>گیپکی کے مطابق مئی میں برآمدات ماہانہ 28.12 فیصد گریں۔ دنیا کے سب سے بڑے پام آئل پیدا کرنے والے ملک میں مئی کے دوران خام پام آئل کی پیداوار 4.165 ملین ٹن رہی جو ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے۔</p>
<p>پیداوار کم ہونے کے باوجود مئی کے اختتام تک پام آئل کے ذخائر 3.042 ملین میٹرک ٹن تھے جو کہ برآمدات میں کمی کے باعث ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 18.9 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288744</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 13:19:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15131741837af58.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15131741837af58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتی یونٹس کی منتقلی کے خلاف صنعت کاروں کا لاہور چیمبر کے باہر احتجاج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288750/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں کے فیکٹری مالکان اور کاروباری نمائندوں نے صنعتی یونٹس کی منتقلی کیخلاف لاہور چیمبر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی  اور ضلعی انتظامیہ کے مبینہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور صنعتوں کی منتقلی کو فوری طور پر روکنے، طویل عرصے سے قائم صنعتی یونٹس کو ریگولرائز کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر واہگہ کے خلاف بھی احتساب کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاقے میں صنعتی یونٹس کے خلاف ضرورت سے زیادہ کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صنعتی یونٹ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے شرکاء نے کہا کہ صنعت کار ملک کی معیشت، برآمدات اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں سہولیات فراہم کرنے کے بجائے انتظامی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان علاقوں میں قائم صنعتوں کو ریگولرائز کرنے، بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی اور صنعتی یونٹس کے خلاف نام نہاد غیر ضروری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں کے فیکٹری مالکان اور کاروباری نمائندوں نے صنعتی یونٹس کی منتقلی کیخلاف لاہور چیمبر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔</strong></p>
<p>شرکاء نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی  اور ضلعی انتظامیہ کے مبینہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور صنعتوں کی منتقلی کو فوری طور پر روکنے، طویل عرصے سے قائم صنعتی یونٹس کو ریگولرائز کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر واہگہ کے خلاف بھی احتساب کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاقے میں صنعتی یونٹس کے خلاف ضرورت سے زیادہ کارروائیاں کیں۔</p>
<p>ایک صنعتی یونٹ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>احتجاج کے شرکاء نے کہا کہ صنعت کار ملک کی معیشت، برآمدات اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں سہولیات فراہم کرنے کے بجائے انتظامی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ان علاقوں میں قائم صنعتوں کو ریگولرائز کرنے، بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی اور صنعتی یونٹس کے خلاف نام نہاد غیر ضروری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288750</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 14:27:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151425525a032d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151425525a032d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کی ڈسٹرکٹ اکنامک مہم شروع کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288749/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) نے ملک گیر ڈسٹرکٹ اکنامک مہم کے آغاز کا اعلان کردیا جو کہ ایک جامع اقدام ہے جس کا مقصد مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا، ضلعی معیشتوں کو مضبوط کرنا اور پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی بی ایف  کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد اعجاز تنویر نے کہا کہ ملکی اقتصادی بحالی کا انحصار ہر ضلع کو متحرک، خود انحصار اور سرمایہ کاری دوست معاشی مرکز میں تبدیل کرنے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مہم پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مہم اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بااختیار اور مالی طور پر خود مختار مقامی حکومت کا نظام ہی غربت کے خاتمے اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنانے کی کلید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے اعجاز تنویر نے کہا کہ پی آئی بی ایف ہر ضلع میں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات، موثر بلدیاتی خدمات، جدید شہری بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات میں بہتری کی وکالت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہم کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، انٹرپرینیورشپ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ پائیدار روزگار پیدا کیا جا سکے اور مقامی معیشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) نے ملک گیر ڈسٹرکٹ اکنامک مہم کے آغاز کا اعلان کردیا جو کہ ایک جامع اقدام ہے جس کا مقصد مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا، ضلعی معیشتوں کو مضبوط کرنا اور پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی بی ایف  کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد اعجاز تنویر نے کہا کہ ملکی اقتصادی بحالی کا انحصار ہر ضلع کو متحرک، خود انحصار اور سرمایہ کاری دوست معاشی مرکز میں تبدیل کرنے پر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مہم پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مہم اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بااختیار اور مالی طور پر خود مختار مقامی حکومت کا نظام ہی غربت کے خاتمے اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنانے کی کلید ہے۔</p>
<p>اس اقدام کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے اعجاز تنویر نے کہا کہ پی آئی بی ایف ہر ضلع میں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات، موثر بلدیاتی خدمات، جدید شہری بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات میں بہتری کی وکالت کرتا ہے۔</p>
<p>اس مہم کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، انٹرپرینیورشپ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ پائیدار روزگار پیدا کیا جا سکے اور مقامی معیشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288749</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 14:20:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15142015f5620eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15142015f5620eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی مہنگائی میں غیرمتوقع کمی سے ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p>مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔</p>
<p>تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288722</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:27:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150926328e03fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150926328e03fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود بڑھنے کے خدشات، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288721/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی، ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد گر کر 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور تہران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی، ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد گر کر 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>منگل کو امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور تہران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288721</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:22:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1509200218c9add.webp" type="image/webp" medium="image" height="307" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1509200218c9add.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288720/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے بدھ کو ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی اور رات گئے حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ وہ ”امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں“ کو بند کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچر 26 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 79.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ یہ قیمتیں 1214 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں۔ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، جہاں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے جون میں کئی ماہ کی لڑائی کے بعد طے پانے والی پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو مزید متاثر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی رات امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کارروائیاں تقریباً سات گھنٹے جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواباً ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت اور اردن کے مقامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر کیے گئے نئے حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبی گزرگاہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں اندازہ لگایا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان یادداشتِ مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زیادہ تک بحال ہو گئی تھیں، تاہم گزشتہ ہفتے یہ دوبارہ 50 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی کا عمل مزید تعطل کا شکار ہوا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ جنگ سے متعلق متضاد بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک کے سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹجی اولے ہینسن نے کہا، ”یہ سب جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ مارکیٹ نے بڑے اعلانات پر قدرے محتاط ردعمل دینا سیکھ لیا ہے، کیونکہ اکثر یہ اعلانات عملی شکل اختیار نہیں کرتے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے بدھ کو ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اس سے قبل امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی اور رات گئے حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ وہ ”امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں“ کو بند کر دے گا۔</p>
<p>برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچر 26 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 79.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ یہ قیمتیں 1214 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>منگل کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں۔ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، جہاں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔</p>
<p>ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے جون میں کئی ماہ کی لڑائی کے بعد طے پانے والی پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو مزید متاثر کر دیا ہے۔</p>
<p>منگل کی رات امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کارروائیاں تقریباً سات گھنٹے جاری رہیں۔</p>
<p>جواباً ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت اور اردن کے مقامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر کیے گئے نئے حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبی گزرگاہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں اندازہ لگایا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان یادداشتِ مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زیادہ تک بحال ہو گئی تھیں، تاہم گزشتہ ہفتے یہ دوبارہ 50 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔</p>
<p>بینک نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی کا عمل مزید تعطل کا شکار ہوا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ جنگ سے متعلق متضاد بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>سیکسو بینک کے سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹجی اولے ہینسن نے کہا، ”یہ سب جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ مارکیٹ نے بڑے اعلانات پر قدرے محتاط ردعمل دینا سیکھ لیا ہے، کیونکہ اکثر یہ اعلانات عملی شکل اختیار نہیں کرتے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288720</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 20:38:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15091539a70a526.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15091539a70a526.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاز نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصول کا عمل مکمل کرلیا، کنٹرول سنبھال لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288689/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس لمیٹڈ میں 76.33 فیصد حصص حاصل کرتے ہوئے کمپنی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 13 جولائی 2026 کو حصص کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد یہ خریداری باضابطہ طور پر مکمل ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل انشورنس نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ لین دین اب کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ چنانچہ 13 جولائی 2026 سے خریدار اور ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے شیئر پرچیز معاہدے اور متعلقہ قوانین کے تحت لازمی ٹینڈر آفر کے مطابق، خریدار نے کمپنی کے جاری شدہ شیئر سرمایہ کا 76.33 فیصد حصہ اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ متعلقہ حصص باقاعدہ طور پر خریدار کے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل انشورنس نے کہا کہ اس لین دین کی کامیاب تکمیل کمپنی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کمپنی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ جاز اور ویون  کے ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے بعد توقع ہے کہ کمپنی کو بہتر ڈیجیٹل صلاحیتوں،  وسیع تر ڈسٹری بیوشن چینلز اور پاکستان  میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی انشورنس حل مزید لوگوں تک پہنچانے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویون  اور جاز ورلڈ  نے ٹی پی ایل انشورنس کو اپنے گروپ میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خریداری کے ذریعے ویون نے پاکستان میں اپنے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے تحت جاز کیش  اور موبی لنک بینک  کے ساتھ انشورنس کو بھی شامل کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل مالی خدمات کے پورٹ فولیو کو مزید وسعت دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور جاز ورلڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کان ترزی اوغلو نے کہا کہ انشورنس ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کا اگلا اہم مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ خریداری مربوط ڈیجیٹل آپریٹر ایکو سسٹمز کی تعمیر کی ہماری حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتی ہے جس کے ذریعے ہم صارفین کو روزمرہ زندگی میں حقیقی اور مؤثر سہولیات فراہم کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈرز کے لیے پائیدار طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ اس خریداری کی تکمیل کے ساتھ ہی جاز ورلڈ نے پاکستان کا سب سے جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا ایکو سسٹم قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پاکستان دنیا کی ان مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں انشورنس کی سہولت سب سے کم ہے اور یہاں انشورنس کا پھیلاؤ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کی انڈر رائٹنگ کی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو اپنے ایکو سسٹم کی پہنچ، ڈیٹا بصیرت اور ڈسٹری بیوشن کے وسیع پیمانے کے ساتھ ملا کر ہم ایمبیڈڈ انشورنس میں جدت لانے اور ملک بھر کے صارفین اور کاروبار کے لیے سستی انشورنس مصنوعات تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل کارپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی جمیل نے کہا کہ ٹی پی ایل انشورنس ایک ہی یقین کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے ہر شہری کے لیے، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کی آمدنی کا ذریعہ کچھ بھی ہو، انشورنس کو قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی ٹیم کی ان کامیابیوں پر فخر ہے جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جدید مصنوعات اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں جو اس کاروبار کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ستمبر میں ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصص اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دسمبر 2025 میں جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کو باضابطہ طور پر نیا خریدار قرار دیا گیا جس نے ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس سے منسلک اداروں کی جگہ لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ نے جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کے ساتھ ٹی پی ایل انشورنس کے حصص کی فروخت اور کمپنی کا کنٹرول منتقل کرنے کے لیے شیئر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے تقریباً 4.15 ارب روپے کے عوض ٹی پی ایل انشورنس میں کنٹرولنگ حصص خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے فروری 2026 میں اس خریداری کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل انشورنس کمپنی اور ایک بڑے ڈیجیٹل آپریٹر کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان میں انشورنس کی رسائی بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بننے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس لمیٹڈ میں 76.33 فیصد حصص حاصل کرتے ہوئے کمپنی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 13 جولائی 2026 کو حصص کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد یہ خریداری باضابطہ طور پر مکمل ہوگئی۔</strong></p>
<p>ٹی پی ایل انشورنس نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ لین دین اب کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ چنانچہ 13 جولائی 2026 سے خریدار اور ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے شیئر پرچیز معاہدے اور متعلقہ قوانین کے تحت لازمی ٹینڈر آفر کے مطابق، خریدار نے کمپنی کے جاری شدہ شیئر سرمایہ کا 76.33 فیصد حصہ اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ متعلقہ حصص باقاعدہ طور پر خریدار کے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>ٹی پی ایل انشورنس نے کہا کہ اس لین دین کی کامیاب تکمیل کمپنی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کمپنی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ جاز اور ویون  کے ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے بعد توقع ہے کہ کمپنی کو بہتر ڈیجیٹل صلاحیتوں،  وسیع تر ڈسٹری بیوشن چینلز اور پاکستان  میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی انشورنس حل مزید لوگوں تک پہنچانے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔</p>
<p>ویون  اور جاز ورلڈ  نے ٹی پی ایل انشورنس کو اپنے گروپ میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>اس خریداری کے ذریعے ویون نے پاکستان میں اپنے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے تحت جاز کیش  اور موبی لنک بینک  کے ساتھ انشورنس کو بھی شامل کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل مالی خدمات کے پورٹ فولیو کو مزید وسعت دے دی ہے۔</p>
<p>ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور جاز ورلڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کان ترزی اوغلو نے کہا کہ انشورنس ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کا اگلا اہم مرحلہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ خریداری مربوط ڈیجیٹل آپریٹر ایکو سسٹمز کی تعمیر کی ہماری حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتی ہے جس کے ذریعے ہم صارفین کو روزمرہ زندگی میں حقیقی اور مؤثر سہولیات فراہم کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈرز کے لیے پائیدار طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ اس خریداری کی تکمیل کے ساتھ ہی جاز ورلڈ نے پاکستان کا سب سے جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا ایکو سسٹم قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔</p>
<p>“پاکستان دنیا کی ان مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں انشورنس کی سہولت سب سے کم ہے اور یہاں انشورنس کا پھیلاؤ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کی انڈر رائٹنگ کی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو اپنے ایکو سسٹم کی پہنچ، ڈیٹا بصیرت اور ڈسٹری بیوشن کے وسیع پیمانے کے ساتھ ملا کر ہم ایمبیڈڈ انشورنس میں جدت لانے اور ملک بھر کے صارفین اور کاروبار کے لیے سستی انشورنس مصنوعات تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔</p>
<p>ٹی پی ایل کارپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی جمیل نے کہا کہ ٹی پی ایل انشورنس ایک ہی یقین کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے ہر شہری کے لیے، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کی آمدنی کا ذریعہ کچھ بھی ہو، انشورنس کو قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی ٹیم کی ان کامیابیوں پر فخر ہے جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جدید مصنوعات اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں جو اس کاروبار کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>گزشتہ سال ستمبر میں ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصص اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں دسمبر 2025 میں جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کو باضابطہ طور پر نیا خریدار قرار دیا گیا جس نے ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس سے منسلک اداروں کی جگہ لے لی۔</p>
<p>مارچ میں ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ نے جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کے ساتھ ٹی پی ایل انشورنس کے حصص کی فروخت اور کمپنی کا کنٹرول منتقل کرنے کے لیے شیئر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے تقریباً 4.15 ارب روپے کے عوض ٹی پی ایل انشورنس میں کنٹرولنگ حصص خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے فروری 2026 میں اس خریداری کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل انشورنس کمپنی اور ایک بڑے ڈیجیٹل آپریٹر کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان میں انشورنس کی رسائی بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بننے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288689</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:15:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141158182f63e1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="597" width="896">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141158182f63e1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشین پام آئل کے نرخ مزید بڑھ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ شکاگو اور دالیان کی منڈیوں میں متبادل خوردنی تیل کی قیمتوں میں مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا جس نے پام آئل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر ستمبر میں ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل کا معاہدہ ابتدائی تجارت کے دوران 41 رنگٹ یعنی 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,574 رنگٹ (1,121.63 ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ شکاگو اور دالیان کی منڈیوں میں متبادل خوردنی تیل کی قیمتوں میں مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا جس نے پام آئل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔</strong></p>
<p>بورسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر ستمبر میں ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل کا معاہدہ ابتدائی تجارت کے دوران 41 رنگٹ یعنی 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,574 رنگٹ (1,121.63 ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288700</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 14:35:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141432231cf1304.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141432231cf1304.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی سی ڈی ایم اے کا ایف بی آر سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامع اصلاحات نافذ کریں جن میں درآمدی مرحلے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ، صنعتی مراعات کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے موثر ریگولیٹری نگرانی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق کے مطابق مینوفیکچررز کودرآمد شدہ خام مال کا 50 فیصد بغیر پروسیسنگ فروخت کرنے کی اجازت دینا درحقیقت صنعتی مراعات کے غلط استعمال کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خام مال صرف برآمدی مقاصد اور ویلیو ایڈیشن کے لیے رعایتی شرائط پر درآمد کیا گیا ہے تو اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے بلکہ اس سے مکمل ٹیکس، ڈیوٹیز اور لیویز ادا کرکے درآمدات کرنے والے کمرشل درآمدکنندگان کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر جس مقصد کے لیے خام مال درآمد کیا جائے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اضافی مقدار منگوا کر اس کا بڑا حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے، غیر منصفانہ مسابقت جنم لیتی ہے اور قومی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے صنعتی مراعات کی آڑ میں تجارت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کیمیکلز اور ڈائز کے شعبے میں کئی برسوں سے جاری غیر مساوی ٹیکس نظام نے کمرشل امپورٹرز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عناصر نے صنعتی یونٹس کے لیے مختص رعایتی ٹیکس سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمرشل امپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے درمیان تفریق کیمیکلز اینڈ ڈائز کے شعبے میں غیر منصفانہ مسابقتی ماحول پیدا کررہاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو خام مال فراہم کرنے والے کمرشل امپورٹرز سے درآمد کے وقت زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) وصول کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ادارے رعایتی شرح پر خام مال درآمد کرکے بعض اوقات اسے بغیر کسی پراسیسنگ کے براہِ راست اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز بلکہ قومی خزانے کو بھی خطیر نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خام مال کی فروخت پر 50 فیصد حد مقرر کرنا کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمد کے مرحلے پر تمام درآمدکنندگان کے لیے بلاامتیاز یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں موجود ٹیکس امتیاز کا خاتمہ ہو، جائز کمرشل امپورٹرز کو مساوی مواقع میسر آئیں، ایس ایم ایز کی سپلائی چین مضبوط ہو اور کیمیکلز و ڈائز کی تجارت میں شفاف اور منصفانہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ صنعتی مراعات کے ناجائز استعمال کے مکمل خاتمے، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ سمیت تمام ضروری اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامع اصلاحات نافذ کریں جن میں درآمدی مرحلے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ، صنعتی مراعات کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے موثر ریگولیٹری نگرانی شامل ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق کے مطابق مینوفیکچررز کودرآمد شدہ خام مال کا 50 فیصد بغیر پروسیسنگ فروخت کرنے کی اجازت دینا درحقیقت صنعتی مراعات کے غلط استعمال کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خام مال صرف برآمدی مقاصد اور ویلیو ایڈیشن کے لیے رعایتی شرائط پر درآمد کیا گیا ہے تو اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے بلکہ اس سے مکمل ٹیکس، ڈیوٹیز اور لیویز ادا کرکے درآمدات کرنے والے کمرشل درآمدکنندگان کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر جس مقصد کے لیے خام مال درآمد کیا جائے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اضافی مقدار منگوا کر اس کا بڑا حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے، غیر منصفانہ مسابقت جنم لیتی ہے اور قومی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے صنعتی مراعات کی آڑ میں تجارت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کیمیکلز اور ڈائز کے شعبے میں کئی برسوں سے جاری غیر مساوی ٹیکس نظام نے کمرشل امپورٹرز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عناصر نے صنعتی یونٹس کے لیے مختص رعایتی ٹیکس سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمرشل امپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے درمیان تفریق کیمیکلز اینڈ ڈائز کے شعبے میں غیر منصفانہ مسابقتی ماحول پیدا کررہاہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو خام مال فراہم کرنے والے کمرشل امپورٹرز سے درآمد کے وقت زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) وصول کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ادارے رعایتی شرح پر خام مال درآمد کرکے بعض اوقات اسے بغیر کسی پراسیسنگ کے براہِ راست اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز بلکہ قومی خزانے کو بھی خطیر نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خام مال کی فروخت پر 50 فیصد حد مقرر کرنا کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمد کے مرحلے پر تمام درآمدکنندگان کے لیے بلاامتیاز یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں موجود ٹیکس امتیاز کا خاتمہ ہو، جائز کمرشل امپورٹرز کو مساوی مواقع میسر آئیں، ایس ایم ایز کی سپلائی چین مضبوط ہو اور کیمیکلز و ڈائز کی تجارت میں شفاف اور منصفانہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ صنعتی مراعات کے ناجائز استعمال کے مکمل خاتمے، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ سمیت تمام ضروری اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288703</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 15:46:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141538054c60820.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141538054c60820.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس 17 جولائی سے شروع ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288697/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انوسٹمنٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد 17 اور 18 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (یس آئی ایف سی)، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری  اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی مشترکہ قیادت میں منعقد ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق یہ کانفرنس ادویہ سازی، صحتِ عامہ اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، جدت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کانفرنس غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس ایک ممتاز بزنس ٹو بزنس  پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے اور یہ پاکستان کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کو چینی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقریب شرکاء کو تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سرحد پار کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء بی ٹو بی ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیں گے جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیقی تعاون اور مقامی پیداوار کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انوسٹمنٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد 17 اور 18 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (یس آئی ایف سی)، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری  اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی مشترکہ قیادت میں منعقد ہوگی۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق یہ کانفرنس ادویہ سازی، صحتِ عامہ اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، جدت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوگی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کانفرنس غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>یہ کانفرنس ایک ممتاز بزنس ٹو بزنس  پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے اور یہ پاکستان کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کو چینی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقریب شرکاء کو تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سرحد پار کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گی۔</p>
<p>شرکاء بی ٹو بی ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیں گے جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیقی تعاون اور مقامی پیداوار کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288697</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 14:08:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141407113b56146.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141407113b56146.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرمایہ کاروں کا زبردست ردعمل : سلیکٹ ٹیکنالوجیز نے آئی پی او کے ذریعے 3.02 ارب روپے حاصل کر لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسمارٹ فونز اور گھریلو برقی آلات (کنزیومر اپلائنسز) بنانے والی پاکستانی کمپنی ” سلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ“  نے اپنا ابتدائی پبلک آفرنگ (آئی پی او) کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ جاتی اور انفرادی (ریٹیل) سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث کمپنی نے آئی پی او کے ذریعے 3.02 ارب روپے جمع کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنے کل پیڈ اپ کیپیٹل کا 10 فیصد یعنی 8 کروڑ 89 لاکھ (88.9 ملین) عام شیئرز پیش کیے۔ آئی پی او کی قیمت کا تعین بک بلڈنگ کے عمل کے ذریعے کیا گیا، جس میں شیئر کی حتمی قیمت (اسٹرائیک پرائس) 34 روپے فی شیئر طے پائی، جو کہ ابتدائی مقررہ قیمت (فلور پرائس) یعنی 28 روپے سے 21 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس آئی پی او کو مقررہ ہدف سے 3.23 گنا زیادہ سبسکرپشن (خریداری کی درخواستیں) حاصل ہوئیں اور اس میں تقریباً 13 ہزار سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ ان سرمایہ کاروں میں تجارتی بینک، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں، انویسٹمنٹ بینک، پینشن و ملازمین کے فنڈز، بروکریج ہاؤسز، کارپوریٹ ادارے اور بڑی مالیت کے حامل افراد سمیت عام سرمایہ کار شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کو سلیکٹ ٹیکنالوجیز کی مینوفیکچرنگ (پیداواری) صلاحیت بڑھانے، مصنوعات کی جدت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے کنزیومر ٹیکنالوجی کے شعبے میں کمپنی کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روایتی گھنٹہ بجانے (گونگ کٹانے) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ سلیکٹ ٹیکنالوجیز کی لسٹنگ نئے مالی سال کا پہلا آئی پی او ہے، جو پاکستان کے ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ سیکٹر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/PWYpfKqoXrc'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/PWYpfKqoXrc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں مجموعی طور پر 11 آئی پی اوز سامنے آئے، جو گزشتہ 25 سالوں میں تیسری سب سے بڑی سالانہ تعداد ہے، جس کے ذریعے 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) ڈالر اکٹھے کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاروں کی تعداد بھی ریکارڈ 583,052 اکاؤنٹس تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر ذیشان رحمان خٹک نے کہا کہ ریگولیٹر سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ابھرتے ہوئے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ لسٹنگ کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے چیئرمین اسلم ایچ پراچہ نے کہا کہ کامیاب لسٹنگ کمپنی کی حکمت عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ مضبوط کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیکٹ ٹیکنالوجیز کے سی ای او عدنان آفتاب نے لسٹنگ کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو کمپنی کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں میں مددگار ثابت ہو گا اور پاکستان کی کنزیومر ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کمپنی کے کردار کو مزید مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایشو کے لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ  کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی اور عام سرمایہ کاروں کی طرف سے ملنے والا زبردست ردعمل کمپنی کے بزنس ماڈل اور پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کی وسعت پر مضبوط اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسمارٹ فونز اور گھریلو برقی آلات (کنزیومر اپلائنسز) بنانے والی پاکستانی کمپنی ” سلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ“  نے اپنا ابتدائی پبلک آفرنگ (آئی پی او) کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>ادارہ جاتی اور انفرادی (ریٹیل) سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث کمپنی نے آئی پی او کے ذریعے 3.02 ارب روپے جمع کیے ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے اپنے کل پیڈ اپ کیپیٹل کا 10 فیصد یعنی 8 کروڑ 89 لاکھ (88.9 ملین) عام شیئرز پیش کیے۔ آئی پی او کی قیمت کا تعین بک بلڈنگ کے عمل کے ذریعے کیا گیا، جس میں شیئر کی حتمی قیمت (اسٹرائیک پرائس) 34 روپے فی شیئر طے پائی، جو کہ ابتدائی مقررہ قیمت (فلور پرائس) یعنی 28 روپے سے 21 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق اس آئی پی او کو مقررہ ہدف سے 3.23 گنا زیادہ سبسکرپشن (خریداری کی درخواستیں) حاصل ہوئیں اور اس میں تقریباً 13 ہزار سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ ان سرمایہ کاروں میں تجارتی بینک، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں، انویسٹمنٹ بینک، پینشن و ملازمین کے فنڈز، بروکریج ہاؤسز، کارپوریٹ ادارے اور بڑی مالیت کے حامل افراد سمیت عام سرمایہ کار شامل تھے۔</p>
<p>آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کو سلیکٹ ٹیکنالوجیز کی مینوفیکچرنگ (پیداواری) صلاحیت بڑھانے، مصنوعات کی جدت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے کنزیومر ٹیکنالوجی کے شعبے میں کمپنی کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روایتی گھنٹہ بجانے (گونگ کٹانے) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ سلیکٹ ٹیکنالوجیز کی لسٹنگ نئے مالی سال کا پہلا آئی پی او ہے، جو پاکستان کے ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ سیکٹر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/PWYpfKqoXrc'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/PWYpfKqoXrc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں مجموعی طور پر 11 آئی پی اوز سامنے آئے، جو گزشتہ 25 سالوں میں تیسری سب سے بڑی سالانہ تعداد ہے، جس کے ذریعے 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) ڈالر اکٹھے کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاروں کی تعداد بھی ریکارڈ 583,052 اکاؤنٹس تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر ذیشان رحمان خٹک نے کہا کہ ریگولیٹر سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ابھرتے ہوئے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ لسٹنگ کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے چیئرمین اسلم ایچ پراچہ نے کہا کہ کامیاب لسٹنگ کمپنی کی حکمت عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ مضبوط کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>سلیکٹ ٹیکنالوجیز کے سی ای او عدنان آفتاب نے لسٹنگ کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو کمپنی کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں میں مددگار ثابت ہو گا اور پاکستان کی کنزیومر ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کمپنی کے کردار کو مزید مضبوط کرے گا۔</p>
<p>اس ایشو کے لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ  کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی اور عام سرمایہ کاروں کی طرف سے ملنے والا زبردست ردعمل کمپنی کے بزنس ماڈل اور پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کی وسعت پر مضبوط اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288698</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 14:08:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1413591933f2956.webp" type="image/webp" medium="image" height="1068" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1413591933f2956.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈالر مستحکم، ین دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288679</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:32:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/140930369212f06.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/140930369212f06.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کے امریکی اعدادوشمار سے قبل سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سیشن کے آغاز میں قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا میں مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,013.93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,020.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔ اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں کا ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلند شرح سود غیر منافع بخش دھات کی کشش کو کم کر دیتی ہے کیونکہ سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو شعبے کے سربراہ ایلیا اسپیواک نے کہا کہ سرمایہ کار فی الحال بڑے معاشی واقعات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈ چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں گواہی، امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فیڈ گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود مزید بڑھانا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 57.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 1,597.52 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,254.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سیشن کے آغاز میں قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا میں مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,013.93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,020.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>پیر کے روز سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔ اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں کا ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تھا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلند شرح سود غیر منافع بخش دھات کی کشش کو کم کر دیتی ہے کیونکہ سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو شعبے کے سربراہ ایلیا اسپیواک نے کہا کہ سرمایہ کار فی الحال بڑے معاشی واقعات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈ چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں گواہی، امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔</p>
<p>ادھر فیڈ گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود مزید بڑھانا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 57.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 1,597.52 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,254.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288678</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:22:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/140915120647893.webp" type="image/webp" medium="image" height="307" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/140915120647893.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288676/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمت 12 جون کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ تاریخیں تھیں جب 17 جون کو امریکہ اور ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔جی ایم ٹی  کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.53 ڈالر یا 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 79.67 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این زی کی تجزیہ کار سونی کماری کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ سلسلہ چند ہفتے بھی نہ چل سکا۔ چنانچہ مارکیٹ اس وقت اسی تشویش کو اپنے کھاتوں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا خیال ہے کہ کشیدگی کا عروج اب گزر چکا ہے لیکن اگر یہ تعطل اسی طرح برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ رہے گا، جس کی وجہ سے قیمتیں 85 سے 90 ڈالر کی حد میں رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے 20 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم شہ رگ ہے، جہاں سے تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی روزانہ کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو سامنے آنے والے جہاز رانی کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی بینک نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد تک مفاہمت کی یادداشت سے دستبردار رہے، ایسی صورتحال میں غالب امکان یہی ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمت 12 جون کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ تاریخیں تھیں جب 17 جون کو امریکہ اور ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔جی ایم ٹی  کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.53 ڈالر یا 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 79.67 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔</p>
<p>اے این زی کی تجزیہ کار سونی کماری کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ سلسلہ چند ہفتے بھی نہ چل سکا۔ چنانچہ مارکیٹ اس وقت اسی تشویش کو اپنے کھاتوں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>ہمارا خیال ہے کہ کشیدگی کا عروج اب گزر چکا ہے لیکن اگر یہ تعطل اسی طرح برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ رہے گا، جس کی وجہ سے قیمتیں 85 سے 90 ڈالر کی حد میں رہیں گی۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے 20 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم شہ رگ ہے، جہاں سے تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی روزانہ کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>پیر کو سامنے آنے والے جہاز رانی کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p>سٹی بینک نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد تک مفاہمت کی یادداشت سے دستبردار رہے، ایسی صورتحال میں غالب امکان یہی ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288676</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 17:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14084625a3fabe4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14084625a3fabe4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلیکٹ ٹیکنالوجیز نے کامیاب آئی پی او کے ذریعے 3.02 ارب روپے حاصل کر لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسمارٹ فونز اور گھریلو برقی آلات بنانے والی پاکستانی کمپنی سیلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (سیلیکٹ) نے ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (آئی پی او) کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے 3.02 ارب روپے حاصل کر لیے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے مطابق اس کامیابی میں ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنے اجرا کے بعد ادا شدہ سرمایہ کے 10 فیصد کے مساوی 8 کروڑ 89 لاکھ عام حصص فروخت کے لیے پیش کیے۔ بک بلڈنگ کے عمل کے دوران حصص کی حتمی قیمت 34 روپے فی شیئر مقرر ہوئی، جو 28 روپے کی کم از کم قیمت سے 21 فیصد زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق آئی پی او کو 3.23 گنا زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ تقریباً 13 ہزار سرمایہ کاروں نے اس میں حصہ لیا۔ ان میں کمرشل بینک، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں، سرمایہ کاری بینک، پنشن اور ملازمین کے فنڈز، بروکریج ہاؤسز، کارپوریٹ سرمایہ کار، اعلیٰ مالیت کے حامل افراد اور ریٹیل سرمایہ کار شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والی رقم پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئی مصنوعات کی تیاری میں جدت لانے اور پاکستان کے کنزیومر ٹیکنالوجی شعبے میں اپنی مارکیٹ پوزیشن مزید مستحکم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں منعقدہ گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ سیلیکٹ کی فہرست بندی نئے مالی سال کا پہلا آئی پی او ہے، جو پاکستان کے ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ شعبے پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے دوران 11 آئی پی اوز کے ذریعے 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سرمایہ حاصل کیا گیا، جو گزشتہ 25 برسوں میں تیسرا بڑا سالانہ ہندسہ ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کی تعداد ریکارڈ 5 لاکھ 83 ہزار 52 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر ذیشان رحمان خٹک نے کہا کہ ریگولیٹر سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے فہرست بندی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کی کمپنیوں کو سرمایہ مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے چیئرمین اسلم ایچ پیراچا نے کہا کہ کامیاب فہرست بندی کمپنی کی حکمت عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے اور یہ مضبوط کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کے عزم کی توثیق کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلیکٹ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو عدنان آفتاب نے اس فہرست بندی کو کمپنی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طویل المدتی توسیعی منصوبوں کو تقویت ملے گی اور پاکستان کی کنزیومر ٹیکنالوجی صنعت میں کمپنی کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی او کے لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کاروں کو سیلیکٹ کے کاروباری ماڈل اور پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی گہرائی پر اعتماد حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسمارٹ فونز اور گھریلو برقی آلات بنانے والی پاکستانی کمپنی سیلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (سیلیکٹ) نے ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (آئی پی او) کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے 3.02 ارب روپے حاصل کر لیے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے مطابق اس کامیابی میں ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے اپنے اجرا کے بعد ادا شدہ سرمایہ کے 10 فیصد کے مساوی 8 کروڑ 89 لاکھ عام حصص فروخت کے لیے پیش کیے۔ بک بلڈنگ کے عمل کے دوران حصص کی حتمی قیمت 34 روپے فی شیئر مقرر ہوئی، جو 28 روپے کی کم از کم قیمت سے 21 فیصد زیادہ تھی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق آئی پی او کو 3.23 گنا زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ تقریباً 13 ہزار سرمایہ کاروں نے اس میں حصہ لیا۔ ان میں کمرشل بینک، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں، سرمایہ کاری بینک، پنشن اور ملازمین کے فنڈز، بروکریج ہاؤسز، کارپوریٹ سرمایہ کار، اعلیٰ مالیت کے حامل افراد اور ریٹیل سرمایہ کار شامل تھے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والی رقم پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئی مصنوعات کی تیاری میں جدت لانے اور پاکستان کے کنزیومر ٹیکنالوجی شعبے میں اپنی مارکیٹ پوزیشن مزید مستحکم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔</p>
<p>پی ایس ایکس میں منعقدہ گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ سیلیکٹ کی فہرست بندی نئے مالی سال کا پہلا آئی پی او ہے، جو پاکستان کے ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ شعبے پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے دوران 11 آئی پی اوز کے ذریعے 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سرمایہ حاصل کیا گیا، جو گزشتہ 25 برسوں میں تیسرا بڑا سالانہ ہندسہ ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کی تعداد ریکارڈ 5 لاکھ 83 ہزار 52 تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر ذیشان رحمان خٹک نے کہا کہ ریگولیٹر سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے فہرست بندی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کی کمپنیوں کو سرمایہ مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>ایئرلنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے چیئرمین اسلم ایچ پیراچا نے کہا کہ کامیاب فہرست بندی کمپنی کی حکمت عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے اور یہ مضبوط کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کے عزم کی توثیق کرتی ہے۔</p>
<p>سیلیکٹ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو عدنان آفتاب نے اس فہرست بندی کو کمپنی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طویل المدتی توسیعی منصوبوں کو تقویت ملے گی اور پاکستان کی کنزیومر ٹیکنالوجی صنعت میں کمپنی کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔</p>
<p>آئی پی او کے لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کاروں کو سیلیکٹ کے کاروباری ماڈل اور پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی گہرائی پر اعتماد حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288675</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 00:33:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1400220133f2956.webp" type="image/webp" medium="image" height="1068" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1400220133f2956.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین  پام آئل کی قیمتوں میں پیر کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ شکاگو مارکیٹ میں حریف سویابین آئل (سویا آئل) کی قیمتوں میں تیزی ہے جب کہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بھی پام آئل مارکیٹ کو سہارا فراہم کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں ستمبر میں ترسیل کے لیے پام آئل کے بینچ مارک فیوچر معاہدے کی قیمت دوپہر کے وقفے تک 28 رنگٹ یا 0.62 فیصد اضافے کے ساتھ 4,541 رنگٹ (1,113.54 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوالالمپور سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے کہا کہ خام تیل اور شکاگو میں سویابین آئل کی مضبوط قیمتیں پام آئل مارکیٹ کے رجحان کو سہارا فراہم کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالیان میں سویا آئل کا سب سے فعال معاہدہ بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہا جب کہ اسی ایکسچینج پر پام آئل کے معاہدے میں 0.36 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب شکاگو بورڈ آف ٹریڈ  پر سویا آئل کی قیمتوں میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین  پام آئل کی قیمتوں میں پیر کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ شکاگو مارکیٹ میں حریف سویابین آئل (سویا آئل) کی قیمتوں میں تیزی ہے جب کہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بھی پام آئل مارکیٹ کو سہارا فراہم کیا۔</strong></p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں ستمبر میں ترسیل کے لیے پام آئل کے بینچ مارک فیوچر معاہدے کی قیمت دوپہر کے وقفے تک 28 رنگٹ یا 0.62 فیصد اضافے کے ساتھ 4,541 رنگٹ (1,113.54 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔</p>
<p>کوالالمپور سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے کہا کہ خام تیل اور شکاگو میں سویابین آئل کی مضبوط قیمتیں پام آئل مارکیٹ کے رجحان کو سہارا فراہم کرتی رہیں گی۔</p>
<p>ڈالیان میں سویا آئل کا سب سے فعال معاہدہ بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہا جب کہ اسی ایکسچینج پر پام آئل کے معاہدے میں 0.36 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب شکاگو بورڈ آف ٹریڈ  پر سویا آئل کی قیمتوں میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288651</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:29:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13141938e5ecb15.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13141938e5ecb15.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کے نئے سی ای او تیوولڈے گیبریمریم کے بارے میں 5 اہم باتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے ایتھوپین ائرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو تیوولڈے گیبریمریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) منتخب کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئے مالکان کی اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کریں گے جس کا مقصد پی آئی اے کی آپریشنل کارکردگی بحال کرنا اور اسے علاقائی و بین الاقوامی ایوی ایشن مارکیٹوں میں مزید مضبوط مقام دلانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم ٹیسفائے کون ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 1985 میں ایتھوپین ایئرلائنز میں شمولیت اختیار کی اور کارگو ڈویژن میں مختلف عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے کارگو ٹریفک ہینڈلنگ کے منیجر کے منصب تک پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے بھارت، سعودی عرب اور امریکہ میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2004 میں انہیں ایگزیکٹو آفیسر مارکیٹنگ اینڈ سیلز اور 2006 میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) مقرر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جنوری 2011 سے انہوں نے ایتھوپین ایئرلائنز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ اس دوران وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے معاشیات میں بیچلر (بی اے) اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جبکہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہیں متعدد ممتاز اور باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم کو ایتھوپین ایئرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بنانے اور ادیس ابابا کو ایک اہم علاقائی و بین الاقوامی فضائی مرکز (ایوی ایشن ہب) کے طور پر مستحکم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی تقرری پی آئی اے کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عمل میں آئی جس کے تحت شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کی تمام شرائط پوری ہونے کے بعد انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے ایتھوپین ائرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو تیوولڈے گیبریمریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) منتخب کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئے مالکان کی اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کریں گے جس کا مقصد پی آئی اے کی آپریشنل کارکردگی بحال کرنا اور اسے علاقائی و بین الاقوامی ایوی ایشن مارکیٹوں میں مزید مضبوط مقام دلانا ہے۔</p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم ٹیسفائے کون ہیں؟</p>
<p>انہوں نے 1985 میں ایتھوپین ایئرلائنز میں شمولیت اختیار کی اور کارگو ڈویژن میں مختلف عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے کارگو ٹریفک ہینڈلنگ کے منیجر کے منصب تک پہنچے۔</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے بھارت، سعودی عرب اور امریکہ میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2004 میں انہیں ایگزیکٹو آفیسر مارکیٹنگ اینڈ سیلز اور 2006 میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) مقرر کیا گیا۔</p>
<p>یکم جنوری 2011 سے انہوں نے ایتھوپین ایئرلائنز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ اس دوران وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔</p>
<p>انہوں نے معاشیات میں بیچلر (بی اے) اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جبکہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہیں متعدد ممتاز اور باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا۔</p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم کو ایتھوپین ایئرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بنانے اور ادیس ابابا کو ایک اہم علاقائی و بین الاقوامی فضائی مرکز (ایوی ایشن ہب) کے طور پر مستحکم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کی تقرری پی آئی اے کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عمل میں آئی جس کے تحت شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کی تمام شرائط پوری ہونے کے بعد انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288659</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 16:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13155649b7d871c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13155649b7d871c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے تیل مہنگا، سونا دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288640/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں پیر کو 1 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی، اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 03:56 جی ایم ٹی تک 1.5 فیصد گر کر 4,059.11 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ اگست میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں 1.1 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4,067.10 ڈالر پر ٹریڈ کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور ایرانی افواج نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے جب کہ اتوار کو تہران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ڈالر اور امریکی ٹریژری ییلڈز بھی بلند ہو گئیں۔ دوسری جانب ایشیائی شیئر بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے بی سی ریفائنری میں ادارہ جاتی منڈیوں کے عالمی سربراہ نکولس فریپل نے کہا کہ خلیجی خطے میں جب بھی تشدد یا جنگی کشیدگی بڑھتی ہے سونے کی قیمتوں پر  دباؤ آ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دن کے دوران فیڈرل ریزرو کی نائب چیئر مشل باؤمن اور گورنر کرسٹوفر والر سمیت دیگر پالیسی سازوں کے بیانات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے کیونکہ ان سے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ نے شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مرکزی بینک کے مؤقف کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق اس وقت تاجروں کی جانب سے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے 72 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے تقریباً 63 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اسپاٹ چاندی 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 58.14 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ پلاٹینم 1.8 فیصد گر کر 1,598.48 ڈالر اور پیلیڈیم 2.3 فیصد کمی کے بعد 1,247.27 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں پیر کو 1 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی، اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 03:56 جی ایم ٹی تک 1.5 فیصد گر کر 4,059.11 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ اگست میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں 1.1 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4,067.10 ڈالر پر ٹریڈ کررہے تھے۔</p>
<p>امریکی اور ایرانی افواج نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے جب کہ اتوار کو تہران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ڈالر اور امریکی ٹریژری ییلڈز بھی بلند ہو گئیں۔ دوسری جانب ایشیائی شیئر بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔</p>
<p>اے بی سی ریفائنری میں ادارہ جاتی منڈیوں کے عالمی سربراہ نکولس فریپل نے کہا کہ خلیجی خطے میں جب بھی تشدد یا جنگی کشیدگی بڑھتی ہے سونے کی قیمتوں پر  دباؤ آ جاتا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں دن کے دوران فیڈرل ریزرو کی نائب چیئر مشل باؤمن اور گورنر کرسٹوفر والر سمیت دیگر پالیسی سازوں کے بیانات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے کیونکہ ان سے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ نے شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مرکزی بینک کے مؤقف کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔</p>
<p>سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق اس وقت تاجروں کی جانب سے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے 72 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے تقریباً 63 فیصد تھے۔</p>
<p>دوسری جانب قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اسپاٹ چاندی 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 58.14 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ پلاٹینم 1.8 فیصد گر کر 1,598.48 ڈالر اور پیلیڈیم 2.3 فیصد کمی کے بعد 1,247.27 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288640</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 11:59:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13114342f525bf9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13114342f525bf9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میزان بینک نے جی ایچ ٹی اے پروگرام میں 2 ارب روپے کے قرضے تقسیم کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میزان بینک نے حکومتِ پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ منصوبے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام  گھر ہو تو اپنا (جی ایچ ٹی اے) کے تحت 2 ارب روپے کی قرضہ فراہمی مکمل کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے ماہانہ ہاؤسنگ فنانس کی مد میں بھی اب تک کی سب سے زیادہ 1.3 ارب روپے کی قرضہ فراہمی ریکارڈ کی جو اس کی شریعہ کمپلائنٹ (اسلامی اصولوں کے مطابق) ہاؤسنگ فنانسنگ سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس شعبے میں اس کی قیادت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سستے ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان نے میرا گھر  میرا آشیانہ کے نام سے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت بینک 20 سال تک کی مدت کے لیے فکسڈ ٹرم کی بنیاد پر 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کا قرض فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ یہ کامیابیاں حکومت کے سستے ہاؤسنگ پروگرام اور مجموعی ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کی معاونت کے لیے میزان بینک کے مسلسل عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک اخلاقی اصولوں اور شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سلوشنز کے ذریعے افراد اور خاندانوں کو اپنے گھر کے خواب کی تکمیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میزان بینک نے حکومتِ پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ منصوبے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام  گھر ہو تو اپنا (جی ایچ ٹی اے) کے تحت 2 ارب روپے کی قرضہ فراہمی مکمل کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا۔</strong></p>
<p>بینک نے ماہانہ ہاؤسنگ فنانس کی مد میں بھی اب تک کی سب سے زیادہ 1.3 ارب روپے کی قرضہ فراہمی ریکارڈ کی جو اس کی شریعہ کمپلائنٹ (اسلامی اصولوں کے مطابق) ہاؤسنگ فنانسنگ سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس شعبے میں اس کی قیادت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔</p>
<p>سستے ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان نے میرا گھر  میرا آشیانہ کے نام سے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔</p>
<p>سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت بینک 20 سال تک کی مدت کے لیے فکسڈ ٹرم کی بنیاد پر 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کا قرض فراہم کررہے ہیں۔</p>
<p>میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ یہ کامیابیاں حکومت کے سستے ہاؤسنگ پروگرام اور مجموعی ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کی معاونت کے لیے میزان بینک کے مسلسل عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک اخلاقی اصولوں اور شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سلوشنز کے ذریعے افراد اور خاندانوں کو اپنے گھر کے خواب کی تکمیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288655</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 15:14:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13150400b057a66.webp" type="image/webp" medium="image" height="367" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13150400b057a66.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایچ اے کی نئی ایجنسیوں کو اپنے وسائل سے آمدنی بڑھانے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288653/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے اپنے 9 قائم شدہ ضلعی ہارٹیکلچر دفاتر کو مالی خود انحصاری کے لیے ریونیو بڑھانے کی حکمتِ عملیاں مرتب کرنے اور اپنے ذرائع سے آمدن میں اضافہ کرنے کی ہدایت کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل مرزا ولید بیگ نے نئے اداروں کے تفصیلی دورے کے دوران جاری کی جو گزشتہ سال پی ایچ اے کے قیام کے بعد اس کے دائرہ کار میں شامل کیے گئے تھے۔ اس دورے کے احکامات ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد نے دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرزا ولید بیگ کا یہ دورہ ان کوششوں کا حصہ تھا جن کے ذریعے پی ایچ اے نئی ایجنسیوں کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور پنجاب بھر میں یکساں انتظامی، مالی اور آپریشنل معیارات کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران انہوں نے ایجنسیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں، ان کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا اور مختلف تنظیمی و ترقیاتی معاملات پر ہونے والی پیش رفت کا اندازہ لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی ایجنسیوں کے پائیدار کام کے لیے مالی خود انحصاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے کے مواقع کی نشاندہی کریں اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے ذرائع سے آمدنی بڑھانے کے لیے ضلع کے مطابق حکمت عملیاں تیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے اپنے 9 قائم شدہ ضلعی ہارٹیکلچر دفاتر کو مالی خود انحصاری کے لیے ریونیو بڑھانے کی حکمتِ عملیاں مرتب کرنے اور اپنے ذرائع سے آمدن میں اضافہ کرنے کی ہدایت کردی۔</strong></p>
<p>یہ ہدایت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل مرزا ولید بیگ نے نئے اداروں کے تفصیلی دورے کے دوران جاری کی جو گزشتہ سال پی ایچ اے کے قیام کے بعد اس کے دائرہ کار میں شامل کیے گئے تھے۔ اس دورے کے احکامات ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد نے دیے تھے۔</p>
<p>مرزا ولید بیگ کا یہ دورہ ان کوششوں کا حصہ تھا جن کے ذریعے پی ایچ اے نئی ایجنسیوں کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور پنجاب بھر میں یکساں انتظامی، مالی اور آپریشنل معیارات کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>اپنے دورے کے دوران انہوں نے ایجنسیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں، ان کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا اور مختلف تنظیمی و ترقیاتی معاملات پر ہونے والی پیش رفت کا اندازہ لگایا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی ایجنسیوں کے پائیدار کام کے لیے مالی خود انحصاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے کے مواقع کی نشاندہی کریں اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے ذرائع سے آمدنی بڑھانے کے لیے ضلع کے مطابق حکمت عملیاں تیار کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288653</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:47:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13144522f73d56b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13144522f73d56b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے ایران کی بحری ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان پر تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288637/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.04 ڈالر یا 4.26 فیصد اضافے کے بعد 74.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی، اور امریکا نے اگر ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری آمدورفت میں کچھ اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر اس میں سست روی آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کے مطابق، &lt;em&gt;”اب توجہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد پر رہے گی، کیونکہ اگر ان کی تعداد کم ہوئی تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت رسد میں تعطل کا خدشہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔“&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی تعطل کے خدشات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مستقل متبادل تلاش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں منصوبہ بندی کے مطابق اضافہ ہوا تو 2028 کے اختتام تک خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک متبادل پائپ لائنوں کی استعداد میں 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر 73 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو جائے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی مجموعی مؤثر صلاحیت ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری امن معاہدے کے دوران ایران نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کے ذخائر بھی بڑھ گئے، تاہم فروخت کی رفتار سست رہی کیونکہ چین کی آزاد ریفائنریوں نے عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر سے نسبتاً سستا خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اگست کے لیے اپنے معیاری مربان خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت 80.01 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ 101.48 ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب روسی توانائی کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ یوکرین ماسکو کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے مطابق اس نے روس کے ستاوروپول ریجن میں ایک آئل ڈپو اور جنوبی کراسنوڈار ریجن کی کاوکاز بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے والے تین ٹینکوں کو رات گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دو صنعتی ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جس کے ذریعے قازقستان کی 80 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، نے ٹینگیز آئل فیلڈ میں مرمتی کام اور روس سے کم رسد کے باعث گزشتہ ماہ مئی کے مقابلے میں اپنی ترسیل میں 7 فیصد کمی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.04 ڈالر یا 4.26 فیصد اضافے کے بعد 74.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔</p>
<p>اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی، اور امریکا نے اگر ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی۔</p>
<p>جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری آمدورفت میں کچھ اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر اس میں سست روی آ گئی ہے۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کے مطابق، <em>”اب توجہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد پر رہے گی، کیونکہ اگر ان کی تعداد کم ہوئی تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت رسد میں تعطل کا خدشہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔“</em></p>
<p>طویل المدتی تعطل کے خدشات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مستقل متبادل تلاش کریں گے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں منصوبہ بندی کے مطابق اضافہ ہوا تو 2028 کے اختتام تک خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔</p>
<p>ادارے کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک متبادل پائپ لائنوں کی استعداد میں 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر 73 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو جائے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی مجموعی مؤثر صلاحیت ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔</p>
<p>عبوری امن معاہدے کے دوران ایران نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کے ذخائر بھی بڑھ گئے، تاہم فروخت کی رفتار سست رہی کیونکہ چین کی آزاد ریفائنریوں نے عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر سے نسبتاً سستا خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔</p>
<p>ادھر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اگست کے لیے اپنے معیاری مربان خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت 80.01 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ 101.48 ڈالر تھی۔</p>
<p>دوسری جانب روسی توانائی کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ یوکرین ماسکو کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے مطابق اس نے روس کے ستاوروپول ریجن میں ایک آئل ڈپو اور جنوبی کراسنوڈار ریجن کی کاوکاز بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے والے تین ٹینکوں کو رات گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔</p>
<p>ادھر دو صنعتی ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جس کے ذریعے قازقستان کی 80 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، نے ٹینگیز آئل فیلڈ میں مرمتی کام اور روس سے کم رسد کے باعث گزشتہ ماہ مئی کے مقابلے میں اپنی ترسیل میں 7 فیصد کمی کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288637</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 21:58:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1310540143e07aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1310540143e07aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پورٹ قاسم نے قومی بجلی بحران ٹالنے کے لیے مون سون کے دوران تاریخی آپریشن مکمل کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288624/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے مون سون کی شدید موسمی صورتحال کے باوجود مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ایک بہت بڑے کارگو جہاز کو کامیابی سے راستہ دکھا کر لنگرانداز کر دیا، جس سے ملک میں پیدا ہونے والا توانائی کا شدید بحران ٹل گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتہائی پرخطر اور ہنگامی آپریشن کے دوران ہفتے کے روز شدید خراب موسم میں ایس کے ریزولیوشن  نامی جہاز کو 49 کلومیٹر طویل بحری راستے (نیوی گیشنل چینل) سے گزار کر منزل تک پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث قطر انرجی کے دو طے شدہ جہازوں کو ناگزیر وجوہات کے تحت اپنی سپلائی منسوخ کرنی پڑی۔ پی کیو اے کے پبلک ریلیشنز آفیسراسد الطاف حسین وارثی نے ایک بیان میں بتایا کہ گرمی کے عروج کے سیزن میں ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہوئے  پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) راستے میں موجود ایک ہنگامی اسپاٹ کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹ قاسم کی بحری صلاحیت کی آخری حدود میں کام کرتے ہوئے پی کیو اے کی آپریشنز ٹیم نے جہاز کو باحفاظت لنگرانداز کرنے کے لیے انتہائی مہارت  کا مظاہرہ کیا۔ ایس کے ریزولیوشن 171,951 کیوبک میٹر ایل این جی لے کر پہنچا، جو پی جی پی سی ایل ٹرمینل پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا واحد ایل این جی کارگو ہے۔ 47.8 میٹر چوڑائی (بیم وڈتھ) کے ساتھ یہ مون سون کے سیزن کے دوران پورٹ قاسم پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے چوڑا ایل این جی بردار جہاز بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی کیو اے کا کہنا ہے کہ بحری شعبے کی اس تاریخی کامیابی نے قومی ٹرانسمیشن سسٹم کو اہم گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن نے ملک کے پاور گرڈ کو استحکام بخشا ہے، جس سے پاکستان بھر کے لاکھوں گھرانوں اور صنعتی یونٹوں کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے 9 جولائی کو رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں نئی ​​دشمنی اور کشیدگی کی وجہ سے قطر سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد پاکستان فوری طور پر ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس نے ملک کو دوبارہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک نوٹس کے مطابق سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے 15-16 جولائی کو ڈیلیوری کے لیے ایل این جی کارگو خریدنے کا ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کی بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو بتایا تھا کہ اس ماہ کے لیے طے شدہ قطری ایل این جی کی کھیپ منسوخ ہونے کے بعد حکومت نے بدھ کو اس ٹینڈر کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے مون سون کی شدید موسمی صورتحال کے باوجود مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ایک بہت بڑے کارگو جہاز کو کامیابی سے راستہ دکھا کر لنگرانداز کر دیا، جس سے ملک میں پیدا ہونے والا توانائی کا شدید بحران ٹل گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس انتہائی پرخطر اور ہنگامی آپریشن کے دوران ہفتے کے روز شدید خراب موسم میں ایس کے ریزولیوشن  نامی جہاز کو 49 کلومیٹر طویل بحری راستے (نیوی گیشنل چینل) سے گزار کر منزل تک پہنچایا گیا۔</p>
<p>یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث قطر انرجی کے دو طے شدہ جہازوں کو ناگزیر وجوہات کے تحت اپنی سپلائی منسوخ کرنی پڑی۔ پی کیو اے کے پبلک ریلیشنز آفیسراسد الطاف حسین وارثی نے ایک بیان میں بتایا کہ گرمی کے عروج کے سیزن میں ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہوئے  پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) راستے میں موجود ایک ہنگامی اسپاٹ کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>پورٹ قاسم کی بحری صلاحیت کی آخری حدود میں کام کرتے ہوئے پی کیو اے کی آپریشنز ٹیم نے جہاز کو باحفاظت لنگرانداز کرنے کے لیے انتہائی مہارت  کا مظاہرہ کیا۔ ایس کے ریزولیوشن 171,951 کیوبک میٹر ایل این جی لے کر پہنچا، جو پی جی پی سی ایل ٹرمینل پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا واحد ایل این جی کارگو ہے۔ 47.8 میٹر چوڑائی (بیم وڈتھ) کے ساتھ یہ مون سون کے سیزن کے دوران پورٹ قاسم پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے چوڑا ایل این جی بردار جہاز بھی ہے۔</p>
<p>پی کیو اے کا کہنا ہے کہ بحری شعبے کی اس تاریخی کامیابی نے قومی ٹرانسمیشن سسٹم کو اہم گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن نے ملک کے پاور گرڈ کو استحکام بخشا ہے، جس سے پاکستان بھر کے لاکھوں گھرانوں اور صنعتی یونٹوں کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی ہو گئی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ نے 9 جولائی کو رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں نئی ​​دشمنی اور کشیدگی کی وجہ سے قطر سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد پاکستان فوری طور پر ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس نے ملک کو دوبارہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔</p>
<p>کمپنی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک نوٹس کے مطابق سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے 15-16 جولائی کو ڈیلیوری کے لیے ایل این جی کارگو خریدنے کا ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کی بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ تھی۔</p>
<p>معاملے سے واقف تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو بتایا تھا کہ اس ماہ کے لیے طے شدہ قطری ایل این جی کی کھیپ منسوخ ہونے کے بعد حکومت نے بدھ کو اس ٹینڈر کی منظوری دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288624</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 18:31:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/12181836d372144.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/12181836d372144.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس کٹوتی کا نیا نظام متعارف، ڈیجیٹل ادائیگی پر بڑی رعایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288585/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب حکومت نے ٹیکس کٹوتی کا ایک نیا آسان ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنا اور صوبہ بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق نئے میکانزم کے تحت ای پیمنٹس (آن لائن ادائیگیوں) اور کارڈ ٹرانزیکشنز کے ذریعے جمع ہونے والا سیلز ٹیکس اب براہِ راست حکومت کو منتقل ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکس وصولی میں شفافیت اور کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ بیوٹی پارلرز، سیلونز اور فیشن ڈیزائنرز کی خدمات پر سیلز ٹیکس 5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ کاسمیٹک سرجری، پلاسٹک سرجری، جلد کے علاج اور لیزر ٹریٹمنٹ سینٹرز بھی اسی 5 فیصد ٹیکس کے زمرے میں آئیں گے جبکہ ایونٹ مینجمنٹ سروسز، ٹور آپریٹرز، جم اور لانڈری سروسز پر 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے شعبے میں نیا ڈھانچہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک واضح ترغیب فراہم کرتا ہے۔ نقد ادائیگی کرنے والے صارفین سے 16 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سمیت ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کرنے والوں پر صرف 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جس سے کیش لیس ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح نصف رہ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس ریونیو حکومت کے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کی فنڈنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا انتخاب کریں اور ہمیشہ درست ٹیکس انوائس (رسید) طلب کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز شفاف اور محفوظ طریقے سے حکومتی خزانے میں منتقل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی فوڈ آؤٹ لیٹ یا سروس پرووائیڈر کی رپورٹ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو کریں جو درست ٹیکس رسید جاری کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب حکومت نے ٹیکس کٹوتی کا ایک نیا آسان ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنا اور صوبہ بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق نئے میکانزم کے تحت ای پیمنٹس (آن لائن ادائیگیوں) اور کارڈ ٹرانزیکشنز کے ذریعے جمع ہونے والا سیلز ٹیکس اب براہِ راست حکومت کو منتقل ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکس وصولی میں شفافیت اور کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھائے گا۔</p>
<p>پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ بیوٹی پارلرز، سیلونز اور فیشن ڈیزائنرز کی خدمات پر سیلز ٹیکس 5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ کاسمیٹک سرجری، پلاسٹک سرجری، جلد کے علاج اور لیزر ٹریٹمنٹ سینٹرز بھی اسی 5 فیصد ٹیکس کے زمرے میں آئیں گے جبکہ ایونٹ مینجمنٹ سروسز، ٹور آپریٹرز، جم اور لانڈری سروسز پر 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔</p>
<p>ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے شعبے میں نیا ڈھانچہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک واضح ترغیب فراہم کرتا ہے۔ نقد ادائیگی کرنے والے صارفین سے 16 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سمیت ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کرنے والوں پر صرف 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جس سے کیش لیس ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح نصف رہ جائے گی۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس ریونیو حکومت کے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کی فنڈنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا انتخاب کریں اور ہمیشہ درست ٹیکس انوائس (رسید) طلب کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز شفاف اور محفوظ طریقے سے حکومتی خزانے میں منتقل ہوں۔</p>
<p>عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی فوڈ آؤٹ لیٹ یا سروس پرووائیڈر کی رپورٹ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو کریں جو درست ٹیکس رسید جاری کرنے میں ناکام رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288585</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 17:03:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/111701208763765.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/111701208763765.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی سی ایل فلیش فائبر صارفین کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کرگئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288586/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی معروف  فائبر ٹو دی ہوم(ایف ٹی ٹی ایچ) سروس، فلیش فائبر کے صارفین کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ کامیابی پاکستان بھر کے صارفین کی  پی ٹی سی ایل کی تیز رفتار براڈ بینڈ سروسز پر مسلسل بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے ۔ علاوہ ازیں ملک کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ کے طور پر کمپنی کی پوزیشن  مزید مستحکم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل کی  جانب سے پاکستان میں عالمی معیار کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی  کی فراہمی کی  کوششوں میں یہ ایک اہم  سنگ میل  ہے جو ملک میں ڈیجیٹل سہولیات کی دستیابی اور حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے  فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ اپنے مسلسل توسیع پذیر فائبر نیٹ ورک  کی بدولت  ٹی سی ایل فلیش فائبر گھریلو صارفین، کاروباری اداروں، گیمرز، سوشل میڈیا تخلیق کاروں، طلبہ اور اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے تیز رفتار، مستحکم اور بلا تعطل انٹرنیٹ پر  انحصار  کرنے والے تمام  پیشہ ور افراد کے لیے براڈ بینڈ کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کی نیٹ ورک کارکردگی کی آزادانہ طور پر بھی توثیق کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ ٹیسٹنگ اور نیٹ ورک انٹیلی جنس کے معتبر عالمی  ادارے،  اوکلا (Ookla) نے پی ٹی سی ایل کو دو ممتاز اعزازات سے نوازا ہے، جن میں پاکستان کا بہترین فکسڈ نیٹ ورک اور بہترین آئی ایس پی گیمنگ تجربہ شامل ہیں۔ یہ اعزازات اوکلا کی اسپیڈ ٹیسٹ کنیکٹیویٹی رپورٹ کے تحت نیٹ ورک کی کارکردگی اور صارفین کے تجربے کے جامع جائزے کی بنیاد پر دیے گئے جنہوں نے ملک بھر میں اعلیٰ معیار کی نیٹ ورک کارکردگی، کم تعطل  اور بہتر ڈیجیٹل تجربہ کی  فراہمی کے حوالے سے  پی ٹی سی ایل  کے قائدانہ کردار  کو مزید مستحکم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حالیہ کامیابی پاکستان کی ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ قابلِ اعتماد فائبر براڈ بینڈ کی بڑھتی ہوئی طلب کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ریموٹ ورک، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل تفریح، کلاؤڈ ایپلی کیشنز اور مسابقتی گیمنگ سمیت مختلف شعبوں میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر ایسی بلاتعطل کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے جو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل امنگوں کو تقویت دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرو چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ٹی سی ایل محمد ندیم خان نے کہا کہ یہ سنگ میل  پی ٹی سی ایل فلیش فائبر پر  لاکھوں صارفین   کے   بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے ۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور ہم اپنے فائبر نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے، جدید ترین  نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جاری رکھنے، اور ایسا اعلیٰ معیار کا براڈ بینڈ تجربہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو ملک بھر میں افراد، کاروباری اداروں اور کمیونٹیز کو بااختیار بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک  پی ٹی سی ایل فلیش فائبر ملک بھر کے 78 شہروں میں دستیاب ہے اور لاکھوں پاکستانیوں کو قابلِ اعتماد فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے۔ اس کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ پی ٹی سی ایل کی جانب سے  جدید ترین  نیٹ ورک انفراسٹرکچر، سروس کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل  سرمایہ کاری کا عکاس ہے، جس کے نتیجے میں صارفین بلا تعطل  اعلیٰ کارکردگی پر مبنی براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی سے مستفید ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی معروف  فائبر ٹو دی ہوم(ایف ٹی ٹی ایچ) سروس، فلیش فائبر کے صارفین کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ کامیابی پاکستان بھر کے صارفین کی  پی ٹی سی ایل کی تیز رفتار براڈ بینڈ سروسز پر مسلسل بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے ۔ علاوہ ازیں ملک کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ کے طور پر کمپنی کی پوزیشن  مزید مستحکم ہوئی ہے۔</p>
<p>پی ٹی سی ایل کی  جانب سے پاکستان میں عالمی معیار کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی  کی فراہمی کی  کوششوں میں یہ ایک اہم  سنگ میل  ہے جو ملک میں ڈیجیٹل سہولیات کی دستیابی اور حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے  فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ اپنے مسلسل توسیع پذیر فائبر نیٹ ورک  کی بدولت  ٹی سی ایل فلیش فائبر گھریلو صارفین، کاروباری اداروں، گیمرز، سوشل میڈیا تخلیق کاروں، طلبہ اور اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے تیز رفتار، مستحکم اور بلا تعطل انٹرنیٹ پر  انحصار  کرنے والے تمام  پیشہ ور افراد کے لیے براڈ بینڈ کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔</p>
<p>پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کی نیٹ ورک کارکردگی کی آزادانہ طور پر بھی توثیق کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ ٹیسٹنگ اور نیٹ ورک انٹیلی جنس کے معتبر عالمی  ادارے،  اوکلا (Ookla) نے پی ٹی سی ایل کو دو ممتاز اعزازات سے نوازا ہے، جن میں پاکستان کا بہترین فکسڈ نیٹ ورک اور بہترین آئی ایس پی گیمنگ تجربہ شامل ہیں۔ یہ اعزازات اوکلا کی اسپیڈ ٹیسٹ کنیکٹیویٹی رپورٹ کے تحت نیٹ ورک کی کارکردگی اور صارفین کے تجربے کے جامع جائزے کی بنیاد پر دیے گئے جنہوں نے ملک بھر میں اعلیٰ معیار کی نیٹ ورک کارکردگی، کم تعطل  اور بہتر ڈیجیٹل تجربہ کی  فراہمی کے حوالے سے  پی ٹی سی ایل  کے قائدانہ کردار  کو مزید مستحکم کیا۔</p>
<p>یہ حالیہ کامیابی پاکستان کی ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ قابلِ اعتماد فائبر براڈ بینڈ کی بڑھتی ہوئی طلب کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ریموٹ ورک، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل تفریح، کلاؤڈ ایپلی کیشنز اور مسابقتی گیمنگ سمیت مختلف شعبوں میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر ایسی بلاتعطل کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے جو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل امنگوں کو تقویت دے رہی ہے۔</p>
<p>صدرو چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ٹی سی ایل محمد ندیم خان نے کہا کہ یہ سنگ میل  پی ٹی سی ایل فلیش فائبر پر  لاکھوں صارفین   کے   بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے ۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور ہم اپنے فائبر نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے، جدید ترین  نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جاری رکھنے، اور ایسا اعلیٰ معیار کا براڈ بینڈ تجربہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو ملک بھر میں افراد، کاروباری اداروں اور کمیونٹیز کو بااختیار بنا سکے۔</p>
<p>اب تک  پی ٹی سی ایل فلیش فائبر ملک بھر کے 78 شہروں میں دستیاب ہے اور لاکھوں پاکستانیوں کو قابلِ اعتماد فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے۔ اس کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ پی ٹی سی ایل کی جانب سے  جدید ترین  نیٹ ورک انفراسٹرکچر، سروس کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل  سرمایہ کاری کا عکاس ہے، جس کے نتیجے میں صارفین بلا تعطل  اعلیٰ کارکردگی پر مبنی براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی سے مستفید ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288586</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 17:07:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/111705128cd4aef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/111705128cd4aef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ایکسپو سینٹر میں تین روزہ سولر اینڈ اسٹوریج ایکسپو کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سر پرست اعلیٰ ایس ایم تنویر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس ایند انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز نے ایکسپوسنٹر لاہور میں 3 روزہ سولر اینڈ اسٹوریج ایکسپو کا افتتاح کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمائش میں 100 سے زائد بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں نے شرکت کی جہاں جدید سولر ٹیکنالوجی، انرجی اسٹوریج سلوشنز، الیکٹرک گاڑیاں، ای وی بائیکس اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق جدید مصنوعات اور خدمات پیش کی گی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر اور ذکی اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، توانائی کے تحفظ اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے شمسی توانائی کا فروغ ناگزیر ہوچکا ہے۔موجودہ حالات میں صنعتوں کو سستی، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی ملکی معیشت کی اولین ضرورت ہے، اگر انڈسٹریز کو چلانا ہے تو سستی بجلی مہیا کرنی ہو گی، مستقبل اسی کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیک آورز کا بجلی ریٹ کم کریں۔ پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس زیادہ ہے، پنجاب حکومت ٹیکس کو کم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ سولر بیٹریز کی خریداری کے لیے صرف 3 فیصد شرح پر خصوصی فنانسنگ اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ خصوصا پنجاب کی صنعت کم لاگت پر توانائی حاصل کرکے عالمی منڈی میں موثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز پر مزید ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ صنعت، تجارت اور صارفین کے لیے خوش آئند اقدام ہے، تاہم حکومت کو گرین انرجی کے فروغ کے لیے مزید عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، درآمدی ایندھن پر انحصار اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث قومی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک قابلِ تجدید توانائی کو ترجیح دے کر اپنی معیشتوں کو مستحکم بنا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو سال کے بیشتر حصے میں وافر دھوپ کی صورت میں قدرت کا عظیم تحفہ حاصل ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سر پرست اعلیٰ ایس ایم تنویر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس ایند انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز نے ایکسپوسنٹر لاہور میں 3 روزہ سولر اینڈ اسٹوریج ایکسپو کا افتتاح کردیا۔</strong></p>
<p>نمائش میں 100 سے زائد بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں نے شرکت کی جہاں جدید سولر ٹیکنالوجی، انرجی اسٹوریج سلوشنز، الیکٹرک گاڑیاں، ای وی بائیکس اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق جدید مصنوعات اور خدمات پیش کی گی ہیں۔</p>
<p>افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر اور ذکی اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، توانائی کے تحفظ اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے شمسی توانائی کا فروغ ناگزیر ہوچکا ہے۔موجودہ حالات میں صنعتوں کو سستی، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی ملکی معیشت کی اولین ضرورت ہے، اگر انڈسٹریز کو چلانا ہے تو سستی بجلی مہیا کرنی ہو گی، مستقبل اسی کا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیک آورز کا بجلی ریٹ کم کریں۔ پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس زیادہ ہے، پنجاب حکومت ٹیکس کو کم کریں۔</p>
<p>انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ سولر بیٹریز کی خریداری کے لیے صرف 3 فیصد شرح پر خصوصی فنانسنگ اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ خصوصا پنجاب کی صنعت کم لاگت پر توانائی حاصل کرکے عالمی منڈی میں موثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔</p>
<p>انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز پر مزید ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ صنعت، تجارت اور صارفین کے لیے خوش آئند اقدام ہے، تاہم حکومت کو گرین انرجی کے فروغ کے لیے مزید عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، درآمدی ایندھن پر انحصار اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث قومی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک قابلِ تجدید توانائی کو ترجیح دے کر اپنی معیشتوں کو مستحکم بنا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو سال کے بیشتر حصے میں وافر دھوپ کی صورت میں قدرت کا عظیم تحفہ حاصل ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288583</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 16:46:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11164317ffd20fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11164317ffd20fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینک الفلاح نے 20 ارب روپے کے ٹئیر 2 ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ جاری کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینک الفلاح نے کامیابی کے ساتھ 20 ارب روپے کا ٹرپل اے ریٹنگ یافتہ ٹئیر 2 ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (ٹی ایف سی ) جاری کیا ہے جو پاکستان کی بینکاری صنعت میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ٹی ایف سی اجرا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بینک الفلاح کا پہلا AAA ریٹنگ یافتہ ٹی ایف سی بھی ہے۔ اس اجرا کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری حاصل تھی اور اسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی جو بینک الفلاح کی مالی مضبوطی، مؤثر طرزِ حکمرانی اور طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باسل III ریگولیٹری فریم ورک کے تحت جاری کیا گیا یہ ٹئیر 2 اجرا بینک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے گروتھ کیپیٹل کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے بینک کو بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) اقدامات، اور صارفین کے شعبے (کنزیومر سیگمنٹ) میں اپنی جارحانہ ترقی کی حکمتِ عملی کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاریخی لین دین بینک کی بنیادی منافع بخشی میں اضافہ کرے گا اور طویل المدتی بنیادوں پر حصص یافتگان کے منافع میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا۔یہ کامیاب اجرا بینک الفلاح کی مضبوط مالی کارکردگی اور متوازن بیلنس شیٹ مینجمنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 دسمبر 2025 تک بینک نے 28.34 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع، 2.49 کھرب روپے کے مجموعی ڈپازٹس، 1.15 کھرب روپے کے مجموعی قرضہ جات رپورٹ کیے، جبکہ اس کا سرمایہ جاتی کفایت کا تناسب 15.87 فیصد رہا، جو ریگولیٹری کم از کم حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیاب اجرا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے گروپ ہیڈ اسٹریٹجی ٹرانسفارمیشن، کسٹمر ایکسپیرینس اور وی سی انویسٹمنٹس عاصم واجد جواد نے کہا کہ یہ لین دین بینک الفلاح کے کیپٹل مارکیٹس کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک الفلاح کے گروپ ہیڈ گلوبل مارکیٹس اینڈ ٹریژری پرویز شہباز خان نے کہا کہ اس اہم ٹرانزیکشن کا کامیاب نفاذ بینک الفلاح کے کریڈٹ معیار اور مالی لچک پر سرمایہ کاروں کے گہرے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بینک الفلاح نے کامیابی کے ساتھ 20 ارب روپے کا ٹرپل اے ریٹنگ یافتہ ٹئیر 2 ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (ٹی ایف سی ) جاری کیا ہے جو پاکستان کی بینکاری صنعت میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ٹی ایف سی اجرا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بینک الفلاح کا پہلا AAA ریٹنگ یافتہ ٹی ایف سی بھی ہے۔ اس اجرا کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری حاصل تھی اور اسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی جو بینک الفلاح کی مالی مضبوطی، مؤثر طرزِ حکمرانی اور طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>باسل III ریگولیٹری فریم ورک کے تحت جاری کیا گیا یہ ٹئیر 2 اجرا بینک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے گروتھ کیپیٹل کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے بینک کو بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) اقدامات، اور صارفین کے شعبے (کنزیومر سیگمنٹ) میں اپنی جارحانہ ترقی کی حکمتِ عملی کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>یہ تاریخی لین دین بینک کی بنیادی منافع بخشی میں اضافہ کرے گا اور طویل المدتی بنیادوں پر حصص یافتگان کے منافع میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا۔یہ کامیاب اجرا بینک الفلاح کی مضبوط مالی کارکردگی اور متوازن بیلنس شیٹ مینجمنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>31 دسمبر 2025 تک بینک نے 28.34 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع، 2.49 کھرب روپے کے مجموعی ڈپازٹس، 1.15 کھرب روپے کے مجموعی قرضہ جات رپورٹ کیے، جبکہ اس کا سرمایہ جاتی کفایت کا تناسب 15.87 فیصد رہا، جو ریگولیٹری کم از کم حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
<p>اس کامیاب اجرا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے گروپ ہیڈ اسٹریٹجی ٹرانسفارمیشن، کسٹمر ایکسپیرینس اور وی سی انویسٹمنٹس عاصم واجد جواد نے کہا کہ یہ لین دین بینک الفلاح کے کیپٹل مارکیٹس کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
<p>بینک الفلاح کے گروپ ہیڈ گلوبل مارکیٹس اینڈ ٹریژری پرویز شہباز خان نے کہا کہ اس اہم ٹرانزیکشن کا کامیاب نفاذ بینک الفلاح کے کریڈٹ معیار اور مالی لچک پر سرمایہ کاروں کے گہرے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288584</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 16:54:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11165306ad2d802.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11165306ad2d802.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
