<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ، اوپیک پلس نے تیل پیداواری صلاحیت کا جائزہ مؤخر کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کی جانب سے رکن ممالک کے 2027 کے تیل پیداواری کوٹے کے تعین کے لیے کیے جانے والے جائزے میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس، جس میں پٹرولیم برآمد کنندہ ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے علاوہ روس اور دیگر اتحادی ممالک شامل ہیں، نے 2027 کے کوٹے مقرر کرنے سے قبل تمام رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینے کا فیصلہ 2025 کے اواخر میں کیا تھا، جسے ستمبر 2026 کے اختتام تک مکمل ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جائزے کی تکمیل کی مقررہ مدت گزر چکی ہے، جبکہ ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ اب یہ جائزہ نومبر کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک نے تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر کہا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس مشق کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک اہم پیمانہ ہے جسے پیداوار کے اہداف پر مذاکرات میں استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے مفروضوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جاری منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر بتایا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی جمع نہیں کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ پیداوار کے اہداف کے تعین سے متعلق مذاکرات میں استعمال ہونے والا ایک اہم پیمانہ ہے۔ منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے تخمینوں کو متاثر کرسکتی ہے اور ممکنہ طور پر رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ کم لگایا گیا ہے، انہیں کم پیداواری کوٹے کے لیے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ جن پیداوار کنندگان نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، وہ زیادہ کوٹے کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات، جو اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے عکاس کے طور پر اوپیک پلس سے زیادہ کوٹے کا مطالبہ کرتا رہا تھا، مئی میں اتحاد سے الگ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ عراق بھی زیادہ پیداواری کوٹے کا خواہاں ہے اور اوپیک سے علیحدگی پر غور کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کی جانب سے رکن ممالک کے 2027 کے تیل پیداواری کوٹے کے تعین کے لیے کیے جانے والے جائزے میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>اوپیک پلس، جس میں پٹرولیم برآمد کنندہ ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے علاوہ روس اور دیگر اتحادی ممالک شامل ہیں، نے 2027 کے کوٹے مقرر کرنے سے قبل تمام رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینے کا فیصلہ 2025 کے اواخر میں کیا تھا، جسے ستمبر 2026 کے اختتام تک مکمل ہونا تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جائزے کی تکمیل کی مقررہ مدت گزر چکی ہے، جبکہ ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ اب یہ جائزہ نومبر کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>اوپیک نے تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<h3><a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی</h3>
<p>مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر کہا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس مشق کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک اہم پیمانہ ہے جسے پیداوار کے اہداف پر مذاکرات میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے مفروضوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔</p>
<h3><a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی</h3>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جاری منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر بتایا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی جمع نہیں کرائے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ پیداوار کے اہداف کے تعین سے متعلق مذاکرات میں استعمال ہونے والا ایک اہم پیمانہ ہے۔ منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے تخمینوں کو متاثر کرسکتی ہے اور ممکنہ طور پر رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔</p>
<p>جن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ کم لگایا گیا ہے، انہیں کم پیداواری کوٹے کے لیے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ جن پیداوار کنندگان نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، وہ زیادہ کوٹے کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات، جو اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے عکاس کے طور پر اوپیک پلس سے زیادہ کوٹے کا مطالبہ کرتا رہا تھا، مئی میں اتحاد سے الگ ہوگیا۔</p>
<p>ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ عراق بھی زیادہ پیداواری کوٹے کا خواہاں ہے اور اوپیک سے علیحدگی پر غور کرچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292048</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:31:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231711b1a93c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02231711b1a93c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل 13 ہفتوں کی کم ترین سطح پر، مسلسل دوسری ہفتہ وار کمی کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل فیوچرز کے نرخ  مسلسل دوسرے ہفتے بھی کمی کی جانب گامزن رہے جبکہ قیمتیں مسلسل چھٹے سیشن میں بھی گر کر 13 ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجوہات کمزور برآمدی اعدادوشمار اور پام آئل کے بلند ذخائر کی توقعات ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر دسمبر میں ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ دوپہر کے وقفے تک 26 رنگٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے ساتھ 4,528 رنگٹ فی میٹرک ٹن پر آگیا جبکہ دن کے آغاز میں یہ 3 جولائی کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے اب تک اس کنٹریکٹ کی قیمت میں 3.08 فیصد کمی ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوالالمپور میں مقیم ایک تاجر نے کہا کہ برسا ملائیشیا میں خام پام آئل کے فیوچرز کمزور برآمدات، پیداوار میں اضافے اور اختتامی ذخائر کے بڑھ کر 30 لاکھ ٹن سے تجاوز کرنے کے باعث دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارگو سروے کرنے والی کمپنیوں انٹرٹیک ٹیسٹنگ سروسز اور ایم اسپیک ایگری ملائیشیا کے مطابق ستمبر میں ملائیشیا کی پام آئل مصنوعات کی برآمدات اگست کے مقابلے میں 17.1 فیصد سے 28.8 فیصد تک کم ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں سویا آئل کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی آئی اور ان میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دالیان کموڈیٹی ایکسچینج عوامی تعطیل کے باعث بند رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل فیوچرز کے نرخ  مسلسل دوسرے ہفتے بھی کمی کی جانب گامزن رہے جبکہ قیمتیں مسلسل چھٹے سیشن میں بھی گر کر 13 ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجوہات کمزور برآمدی اعدادوشمار اور پام آئل کے بلند ذخائر کی توقعات ہیں۔</strong></p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر دسمبر میں ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ دوپہر کے وقفے تک 26 رنگٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے ساتھ 4,528 رنگٹ فی میٹرک ٹن پر آگیا جبکہ دن کے آغاز میں یہ 3 جولائی کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>اس ہفتے اب تک اس کنٹریکٹ کی قیمت میں 3.08 فیصد کمی ہوچکی ہے۔</p>
<p>کوالالمپور میں مقیم ایک تاجر نے کہا کہ برسا ملائیشیا میں خام پام آئل کے فیوچرز کمزور برآمدات، پیداوار میں اضافے اور اختتامی ذخائر کے بڑھ کر 30 لاکھ ٹن سے تجاوز کرنے کے باعث دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>کارگو سروے کرنے والی کمپنیوں انٹرٹیک ٹیسٹنگ سروسز اور ایم اسپیک ایگری ملائیشیا کے مطابق ستمبر میں ملائیشیا کی پام آئل مصنوعات کی برآمدات اگست کے مقابلے میں 17.1 فیصد سے 28.8 فیصد تک کم ہوئیں۔</p>
<p>شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں سویا آئل کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی آئی اور ان میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>دالیان کموڈیٹی ایکسچینج عوامی تعطیل کے باعث بند رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292009</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 11:33:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02113256ba1e8aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02113256ba1e8aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دی ہیں، معاملے سے آگاہ چار افراد نے بتایا۔ بیجنگ کی جانب سے ملکی ذخائر محفوظ رکھنے کے اس اقدام سے جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں میں سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے پر بیجنگ نے مارچ میں ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ چین نے جولائی میں ان پابندیوں میں نرمی کی اور اس کے بعد سے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی برآمدات کو ماہانہ بنیادوں پر منظم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ذرائع کے مطابق چین نے جمعرات کو ایک ہفتے کی تعطیلات کا آغاز کیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ مرکز میں موجود بڑی ریفائنریوں کو اکتوبر میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر علاقوں کو پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا بیجنگ 7 اکتوبر کو تعطیلات ختم ہونے کے بعد ریفائنریوں کو برآمدات کی اجازت دوبارہ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار ملکی ایندھن کے ذخائر اور ریفائننگ پیداوار پر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے سرکاری تعطیل کے دوران تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیاں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی ریفائننگ تنصیبات پر حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔ ایسے میں چین کی جانب سے برآمدات روکنے کے اقدام سے بعض ممالک میں ایندھن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دی ہیں، معاملے سے آگاہ چار افراد نے بتایا۔ بیجنگ کی جانب سے ملکی ذخائر محفوظ رکھنے کے اس اقدام سے جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں میں سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>ایران جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے پر بیجنگ نے مارچ میں ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ چین نے جولائی میں ان پابندیوں میں نرمی کی اور اس کے بعد سے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی برآمدات کو ماہانہ بنیادوں پر منظم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ذرائع کے مطابق چین نے جمعرات کو ایک ہفتے کی تعطیلات کا آغاز کیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ مرکز میں موجود بڑی ریفائنریوں کو اکتوبر میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر علاقوں کو پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا بیجنگ 7 اکتوبر کو تعطیلات ختم ہونے کے بعد ریفائنریوں کو برآمدات کی اجازت دوبارہ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار ملکی ایندھن کے ذخائر اور ریفائننگ پیداوار پر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے سرکاری تعطیل کے دوران تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>عالمی منڈیاں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی ریفائننگ تنصیبات پر حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔ ایسے میں چین کی جانب سے برآمدات روکنے کے اقدام سے بعض ممالک میں ایندھن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292034</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02162706caaee4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02162706caaee4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی نئی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ٹی ایم اے) نے 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے اپنی نئی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے انتخاب کا اعلان کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب عہدیداران میں ریحان مہتاب چاولہ چیئرمین، وسیم عارف ڈوگر سینئر وائس چیئرمین اور عمر انور لاری وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی 2026 تا 2028 کے دوران پاکستان کے ٹاول مینوفیکچرنگ اور برآمدی شعبے کے مفادات کی نمائندگی کرے گی۔ کمیٹی شعبے کو درپیش مسائل اور دیگر متعلقہ امور پر حکومتی اداروں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ٹی ایم اے) نے 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے اپنی نئی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے انتخاب کا اعلان کر دیا۔</strong></p>
<p>نو منتخب عہدیداران میں ریحان مہتاب چاولہ چیئرمین، وسیم عارف ڈوگر سینئر وائس چیئرمین اور عمر انور لاری وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔</p>
<p>نو منتخب مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی 2026 تا 2028 کے دوران پاکستان کے ٹاول مینوفیکچرنگ اور برآمدی شعبے کے مفادات کی نمائندگی کرے گی۔ کمیٹی شعبے کو درپیش مسائل اور دیگر متعلقہ امور پر حکومتی اداروں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292011</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 11:51:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02115016e482bd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02115016e482bd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیول ریلیف اسکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوچکے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کو جمعرات کو بتایا گیا کہ 15 ستمبر کو آغاز کے بعد سے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ 84 لاکھ سے زیادہ افراد سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کراچکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار وزیراعظم کی زیر صدارت اسکیم پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان کو ایندھن پر سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اسکیم کے آغاز سے اب تک ایندھن سبسڈی کے 1 کروڑ 22 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں، جن میں سے 1 کروڑ 3 لاکھ استعمال کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکیم تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور جن شہریوں نے پہلے یا دوسرے ہفتے میں سبسڈی حاصل کی تھی، وہ اگلی ہفتہ وار سبسڈی حاصل کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے مطابق پروگرام ملک کے 129 اضلاع میں نافذ کیا جارہا ہے اور تمام پیٹرول پمپس اسکیم کے تحت شہریوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں اور پیٹرول پمپ مالکان کی رہنمائی کے لیے 24 گھنٹے کال سینٹر قائم کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم آفس کا پبلک افیئرز یونٹ اور منتخب نمائندے بھی رجسٹریشن کے عمل میں شہریوں کی معاونت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے تناظر میں کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کے بروقت اقدامات سے شہری مختصر مدت میں فیول سبسڈی سے مستفید ہوسکے ہیں۔ وزیراعظم نے اسکیم سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام پر عملدرآمد کرنے والی حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور اسکیم سے وابستہ تمام وفاقی و صوبائی حکام کی کوششوں کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ فیول سبسڈی پروگرام کے ذریعے تیار کیا جانے والا ڈیٹا بیس مستقبل میں بھی شہریوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کو جمعرات کو بتایا گیا کہ 15 ستمبر کو آغاز کے بعد سے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ 84 لاکھ سے زیادہ افراد سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کراچکے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ اعداد و شمار وزیراعظم کی زیر صدارت اسکیم پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان کو ایندھن پر سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اسکیم کے آغاز سے اب تک ایندھن سبسڈی کے 1 کروڑ 22 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں، جن میں سے 1 کروڑ 3 لاکھ استعمال کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکیم تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور جن شہریوں نے پہلے یا دوسرے ہفتے میں سبسڈی حاصل کی تھی، وہ اگلی ہفتہ وار سبسڈی حاصل کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>بریفنگ کے مطابق پروگرام ملک کے 129 اضلاع میں نافذ کیا جارہا ہے اور تمام پیٹرول پمپس اسکیم کے تحت شہریوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔</p>
<p>شہریوں اور پیٹرول پمپ مالکان کی رہنمائی کے لیے 24 گھنٹے کال سینٹر قائم کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم آفس کا پبلک افیئرز یونٹ اور منتخب نمائندے بھی رجسٹریشن کے عمل میں شہریوں کی معاونت کررہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے تناظر میں کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کے بروقت اقدامات سے شہری مختصر مدت میں فیول سبسڈی سے مستفید ہوسکے ہیں۔ وزیراعظم نے اسکیم سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام پر عملدرآمد کرنے والی حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور اسکیم سے وابستہ تمام وفاقی و صوبائی حکام کی کوششوں کو بھی سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ فیول سبسڈی پروگرام کے ذریعے تیار کیا جانے والا ڈیٹا بیس مستقبل میں بھی شہریوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>اجلاس میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291998</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 09:40:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02093845e244567.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02093845e244567.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج : کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292007/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ کا شکار کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جانب سے مزید فوجی دستے اور جنگی بحری جہاز بھیجے جانے کی اطلاعات کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار میں فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 167,685.42 پوائنٹس تک گر گیا۔ بعد ازاں مارکیٹ نے استحکام حاصل کیا اور انڈیکس میں بہتری آئی، جو کاروباری اوقات کے دوسرے حصے میں دن کی بلند ترین سطح 168,854.46 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اختتام کے قریب ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی حاصل کردہ بہتری برقرار نہ رکھ سکا اور دوبارہ 168,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 481.36 پوائنٹس یا 0.29 فیصد کمی کے بعد 168,155.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ نئے محرکات کی عدم موجودگی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور امریکا ایران تعلقات میں جاری تعطل کے باعث سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں دلچسپی محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سسٹمز لمیٹڈ، میزان بینک، لکی سیمنٹ، نیشنل بینک اور حبیب بینک نے انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈالا اور مجموعی طور پر انڈیکس کو 269 پوائنٹس نیچے کھینچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع کے حصول اور بینکوں، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں، سیمنٹ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث جمعرات کو پی ایس ایکس میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ خام تیل کی بلند قیمتوں اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا اور مارکیٹ کی 170,000 پوائنٹس سے اوپر کی ابتدائی تیزی بھی ختم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ایشیائی حصص بھی جمعہ کو دباؤ میں رہے، کیونکہ اہم امریکی روزگار کے اعدادوشمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کار بانڈ اور کرنسی مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار رہے، جبکہ خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا اور رواں ہفتے مجموعی طور پر 1.7 فیصد کمی کی جانب گامزن تھا۔ جاپان کا نکیئی 0.7 فیصد نیچے آیا، تاہم ہفتے کے دوران اس میں 3.1 فیصد اضافے کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی سرزمین پر قائم اسٹاک مارکیٹیں اگلے ہفتے بدھ تک سرکاری تعطیلات کے باعث بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں کمی سے وال اسٹریٹ میں کاروبار کے اختتامی حصے میں بہتری آنے کے بعد نیس ڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد معمولی اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام تر توجہ بعد ازاں جاری ہونے والے امریکا کے نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار پر مرکوز رہی۔ ستمبر میں 90 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی جارہی تھی، جبکہ روزگار کی شرح 4.1 فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان تھا۔ فی گھنٹہ اجرت کے اعدادوشمار بھی خاص توجہ کا مرکز رہیں گے، کیونکہ آئی ایس ایم سروے میں ادا کی جانے والی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے لاگت کے مزید دباؤ کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافہ جاری رکھا۔ روپے کی قدر میں 0.01 فیصد بہتری ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 277.07 روپے پر بند ہوا، جو 3 پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 54 کروڑ 83 لاکھ 80 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 49 کروڑ 39 لاکھ 60 ہزار حصص رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.05 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 17.49 ارب روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف نیٹ ایکویٹیز 4 کروڑ 25 لاکھ 10 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ ورلڈ کال ٹیلی کام کے 4 کروڑ 8 لاکھ حصص جبکہ ڈی ایس انڈسٹریز لمیٹڈ کے 2 کروڑ 95 لاکھ 10 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 128 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 321 میں کمی جبکہ 45 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/10/021844565640f95.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/10/021844565640f95.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ کا شکار کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جانب سے مزید فوجی دستے اور جنگی بحری جہاز بھیجے جانے کی اطلاعات کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>ابتدائی کاروبار میں فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 167,685.42 پوائنٹس تک گر گیا۔ بعد ازاں مارکیٹ نے استحکام حاصل کیا اور انڈیکس میں بہتری آئی، جو کاروباری اوقات کے دوسرے حصے میں دن کی بلند ترین سطح 168,854.46 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔</p>
<p>تاہم اختتام کے قریب ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی حاصل کردہ بہتری برقرار نہ رکھ سکا اور دوبارہ 168,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 481.36 پوائنٹس یا 0.29 فیصد کمی کے بعد 168,155.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ نئے محرکات کی عدم موجودگی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور امریکا ایران تعلقات میں جاری تعطل کے باعث سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں دلچسپی محدود رہی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سسٹمز لمیٹڈ، میزان بینک، لکی سیمنٹ، نیشنل بینک اور حبیب بینک نے انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈالا اور مجموعی طور پر انڈیکس کو 269 پوائنٹس نیچے کھینچا۔</p>
<p>منافع کے حصول اور بینکوں، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں، سیمنٹ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث جمعرات کو پی ایس ایکس میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ خام تیل کی بلند قیمتوں اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا اور مارکیٹ کی 170,000 پوائنٹس سے اوپر کی ابتدائی تیزی بھی ختم ہوگئی۔</p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر ایشیائی حصص بھی جمعہ کو دباؤ میں رہے، کیونکہ اہم امریکی روزگار کے اعدادوشمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کار بانڈ اور کرنسی مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار رہے، جبکہ خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہیں۔</p>
<p>ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا اور رواں ہفتے مجموعی طور پر 1.7 فیصد کمی کی جانب گامزن تھا۔ جاپان کا نکیئی 0.7 فیصد نیچے آیا، تاہم ہفتے کے دوران اس میں 3.1 فیصد اضافے کی توقع تھی۔</p>
<p>چین کی سرزمین پر قائم اسٹاک مارکیٹیں اگلے ہفتے بدھ تک سرکاری تعطیلات کے باعث بند ہیں۔</p>
<p>ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں کمی سے وال اسٹریٹ میں کاروبار کے اختتامی حصے میں بہتری آنے کے بعد نیس ڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد معمولی اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>تمام تر توجہ بعد ازاں جاری ہونے والے امریکا کے نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار پر مرکوز رہی۔ ستمبر میں 90 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی جارہی تھی، جبکہ روزگار کی شرح 4.1 فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان تھا۔ فی گھنٹہ اجرت کے اعدادوشمار بھی خاص توجہ کا مرکز رہیں گے، کیونکہ آئی ایس ایم سروے میں ادا کی جانے والی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے لاگت کے مزید دباؤ کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافہ جاری رکھا۔ روپے کی قدر میں 0.01 فیصد بہتری ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 277.07 روپے پر بند ہوا، جو 3 پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 54 کروڑ 83 لاکھ 80 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 49 کروڑ 39 لاکھ 60 ہزار حصص رہ گیا۔</p>
<p>حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.05 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 17.49 ارب روپے ہوگئی۔</p>
<p>ایف نیٹ ایکویٹیز 4 کروڑ 25 لاکھ 10 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ ورلڈ کال ٹیلی کام کے 4 کروڑ 8 لاکھ حصص جبکہ ڈی ایس انڈسٹریز لمیٹڈ کے 2 کروڑ 95 لاکھ 10 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 128 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 321 میں کمی جبکہ 45 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/10/021844565640f95.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/10/021844565640f95.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292007</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 19:16:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02110618237a33f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02110618237a33f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بانڈز میں شدید فروخت، ڈالر 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعہ کو مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن رہا اور 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ تیل کی بلند قیمتوں سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے نتیجے میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 5.344 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.249 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے، 102.08 پر رہا اور رواں ہفتے تقریباً ایک فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ یہ ڈالر کا مسلسل تیسرا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو برقرار رہنے والی مہنگائی، حکومتوں کے بڑے قرضوں اور بانڈز کی وسیع تر فراہمی کے امتزاج کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق طویل مدتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ محض امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلے کے بجائے مالیاتی خطرات اور اضافی منافع کی طلب سے بھی متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکی روزگار رپورٹ پر سرمایہ کاروں کی توجہ مرکوز ہے، جس میں ستمبر کے دوران ملازمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہونے اور بے روزگاری کی شرح مسلسل تیسرے ماہ 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1237 ڈالر پر رہا اور مئی 2025 کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ جاپانی ین 158 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعہ کو مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن رہا اور 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ تیل کی بلند قیمتوں سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھ گئے۔</strong></p>
<p>روئٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے نتیجے میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 5.344 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.249 فیصد رہی۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے، 102.08 پر رہا اور رواں ہفتے تقریباً ایک فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ یہ ڈالر کا مسلسل تیسرا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔</p>
<p>سیکسو کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو برقرار رہنے والی مہنگائی، حکومتوں کے بڑے قرضوں اور بانڈز کی وسیع تر فراہمی کے امتزاج کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق طویل مدتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ محض امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلے کے بجائے مالیاتی خطرات اور اضافی منافع کی طلب سے بھی متعلق ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، امریکی روزگار رپورٹ پر سرمایہ کاروں کی توجہ مرکوز ہے، جس میں ستمبر کے دوران ملازمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہونے اور بے روزگاری کی شرح مسلسل تیسرے ماہ 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>یورو 1.1237 ڈالر پر رہا اور مئی 2025 کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ جاپانی ین 158 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291995</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 09:20:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/020918326a071ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/020918326a071ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی روزگار اعدادوشمار سے قبل سونے کی قیمت میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291994/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمتی دھات مسلسل دوسری ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن رہی۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرحِ منافع نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا، جبکہ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں تاکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کی پالیسی کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی سے 4,154.78 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ رواں ہفتے اب تک سونے کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,184 ڈالر فی اونس پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر رواں ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ ادھر 10 اور 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع جمعرات کو 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے سینئر مالیاتی مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا نے کہا کہ مارکیٹ کے شرکا امریکی شرح سود کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار شرح سود کی توقعات کے لیے اہم ہوں گے، کیونکہ مضبوط روزگار رپورٹ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا سکتی ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 25 فیصد رہ گیا ہے، جو ہفتے کے آغاز میں 70 فیصد تھا، جبکہ دسمبر میں اضافے کا امکان 79 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.5 فیصد، پلاٹینم 0.4 فیصد سستا ہوا، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 0.1 فیصد بڑھی۔ تینوں دھاتیں بھی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمتی دھات مسلسل دوسری ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن رہی۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرحِ منافع نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا، جبکہ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں تاکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کی پالیسی کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکے۔</strong></p>
<p>روئٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی سے 4,154.78 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ رواں ہفتے اب تک سونے کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,184 ڈالر فی اونس پر آگئے۔</p>
<p>امریکی ڈالر رواں ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ ادھر 10 اور 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع جمعرات کو 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے سینئر مالیاتی مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا نے کہا کہ مارکیٹ کے شرکا امریکی شرح سود کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار شرح سود کی توقعات کے لیے اہم ہوں گے، کیونکہ مضبوط روزگار رپورٹ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا سکتی ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 25 فیصد رہ گیا ہے، جو ہفتے کے آغاز میں 70 فیصد تھا، جبکہ دسمبر میں اضافے کا امکان 79 فیصد ہے۔</p>
<p>دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.5 فیصد، پلاٹینم 0.4 فیصد سستا ہوا، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 0.1 فیصد بڑھی۔ تینوں دھاتیں بھی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291994</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 09:13:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02091237df6fd51.webp" type="image/webp" medium="image" height="329" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02091237df6fd51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ کے ڈیزل ذخائر جاری کرنے پر اتفاق کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291992/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی رہنماؤں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کی درخواست سے اتفاق کے بعد جمعے کو تیل کی قیمتیں 2 ڈالر تک گر گئیں۔ اس اقدام کا مقصد قیمتیں کم کرنا اور امریکا سے ایندھن درآمد کرنے کی ضرورت گھٹانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 10 بج کر 49 منٹ پر (سی ڈی ٹی، 16:49 جی ایم ٹی) برینٹ خام تیل کی قیمت 1.80 ڈالر یا 1.76 فیصد کمی سے 100.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.02 ڈالر یا 2.18 فیصد کمی سے 90.85 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت اب تک تقریباً 2.84 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 1.54 فیصد کم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کے ممالک نے فرانس کی جانب سے اضافی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یورپ نے ابھی اپنے بھاری مقدار میں ذخیرہ کیے گئے ڈیزل آئل کا بڑا ذخیرہ جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکا سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا، ’’یورپ خود کو خاصا غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ اگر ہم ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرتے ہیں تو یورپ ان خطوں میں شامل ہوگا جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فرانسیسی-تجویز" href="#فرانسیسی-تجویز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فرانسیسی تجویز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو مذاکرات سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی اس تجویز پر غور کے بعد اقدامات کیے، جس کے تحت یورپی ممالک 5 کروڑ بیرل ڈیزل جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک 5 کروڑ بیرل خام تیل کے ذخائر جاری کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع میں سے دو نے بتایا کہ اس تجویز کے تحت یورپ 20 روز کے عرصے میں ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلیزے پیلس نے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو جی 7 ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی صدارت کی۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جی 7 ممالک نے فرانس کی جانب سے ایندھن کے ذخائر جاری کرنے کی تجویز کردہ مقدار پر اتفاق کیا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک میں اجناس کی حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہانسن نے کہا، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی منڈی میں بنیادی دباؤ اب خام تیل کی دستیابی نہیں رہا، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل بحال ہورہی ہے، بلکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی رسد پر دباؤ ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ اور روس میں ریفائنری کی صلاحیت اور پیداوار میں کمی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو تیل کی قیمتیں اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جس کی وجہ رائٹرز کی یہ رپورٹ تھی کہ چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات معطل کردی ہیں تاکہ ملکی ذخائر کو محفوظ رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافے کو مزید تقویت اس رپورٹ سے ملی کہ &lt;em&gt;وال اسٹریٹ جرنل&lt;/em&gt; کے مطابق امریکا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور مزید 10 ہزار تک فوجی اہلکار مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جبکہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ ماحولیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ تیل کے ذخائر کی مزید کھیپ جاری کرنا ’’مجموعی منڈی کو دوبارہ معمولی فاضل رسد کی جانب لے جانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں حالیہ بہتری برقرار رہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارکلیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل میں بہتری کے باوجود طبعی منڈی کی بنیادی صورتحال بدستور مضبوط ہے، ذخائر میں اب بھی کمی ہورہی ہے جبکہ فوری ترسیل کے لیے دستیاب تیل کی کھیپیں مستقبل کی قیمتوں کے مقابلے میں خاصے زیادہ نرخوں پر فروخت ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 20 ڈالر بڑھا کر 115 ڈالر فی بیرل کردیا، جبکہ 2026 کے لیے بھی اپنا تخمینہ بڑھا کر 100 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، یوکرین نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس کے سمارا اور وولگوگراڈ کے علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر بتایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی رہنماؤں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کی درخواست سے اتفاق کے بعد جمعے کو تیل کی قیمتیں 2 ڈالر تک گر گئیں۔ اس اقدام کا مقصد قیمتیں کم کرنا اور امریکا سے ایندھن درآمد کرنے کی ضرورت گھٹانا ہے۔</strong></p>
<p>صبح 10 بج کر 49 منٹ پر (سی ڈی ٹی، 16:49 جی ایم ٹی) برینٹ خام تیل کی قیمت 1.80 ڈالر یا 1.76 فیصد کمی سے 100.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.02 ڈالر یا 2.18 فیصد کمی سے 90.85 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت اب تک تقریباً 2.84 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 1.54 فیصد کم ہوئی ہے۔</p>
<p>صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کے ممالک نے فرانس کی جانب سے اضافی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یورپ نے ابھی اپنے بھاری مقدار میں ذخیرہ کیے گئے ڈیزل آئل کا بڑا ذخیرہ جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘</p>
<p>اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکا سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا، ’’یورپ خود کو خاصا غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ اگر ہم ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرتے ہیں تو یورپ ان خطوں میں شامل ہوگا جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘‘</p>
<h3><a id="فرانسیسی-تجویز" href="#فرانسیسی-تجویز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>فرانسیسی تجویز</h3>
<p>رائٹرز کو مذاکرات سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی اس تجویز پر غور کے بعد اقدامات کیے، جس کے تحت یورپی ممالک 5 کروڑ بیرل ڈیزل جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک 5 کروڑ بیرل خام تیل کے ذخائر جاری کریں گے۔</p>
<p>ذرائع میں سے دو نے بتایا کہ اس تجویز کے تحت یورپ 20 روز کے عرصے میں ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ جاری کرے گا۔</p>
<p>ایلیزے پیلس نے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو جی 7 ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی صدارت کی۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جی 7 ممالک نے فرانس کی جانب سے ایندھن کے ذخائر جاری کرنے کی تجویز کردہ مقدار پر اتفاق کیا یا نہیں۔</p>
<p>سیکسو بینک میں اجناس کی حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہانسن نے کہا، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی منڈی میں بنیادی دباؤ اب خام تیل کی دستیابی نہیں رہا، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل بحال ہورہی ہے، بلکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی رسد پر دباؤ ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ اور روس میں ریفائنری کی صلاحیت اور پیداوار میں کمی ہے۔‘‘</p>
<p>جمعرات کو تیل کی قیمتیں اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جس کی وجہ رائٹرز کی یہ رپورٹ تھی کہ چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات معطل کردی ہیں تاکہ ملکی ذخائر کو محفوظ رکھا جاسکے۔</p>
<p>قیمتوں میں اضافے کو مزید تقویت اس رپورٹ سے ملی کہ <em>وال اسٹریٹ جرنل</em> کے مطابق امریکا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور مزید 10 ہزار تک فوجی اہلکار مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جبکہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔</p>
<p>کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ ماحولیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ تیل کے ذخائر کی مزید کھیپ جاری کرنا ’’مجموعی منڈی کو دوبارہ معمولی فاضل رسد کی جانب لے جانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں حالیہ بہتری برقرار رہے۔‘‘</p>
<p>بارکلیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل میں بہتری کے باوجود طبعی منڈی کی بنیادی صورتحال بدستور مضبوط ہے، ذخائر میں اب بھی کمی ہورہی ہے جبکہ فوری ترسیل کے لیے دستیاب تیل کی کھیپیں مستقبل کی قیمتوں کے مقابلے میں خاصے زیادہ نرخوں پر فروخت ہورہی ہیں۔</p>
<p>بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 20 ڈالر بڑھا کر 115 ڈالر فی بیرل کردیا، جبکہ 2026 کے لیے بھی اپنا تخمینہ بڑھا کر 100 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، یوکرین نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس کے سمارا اور وولگوگراڈ کے علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر بتایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291992</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:01:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/021236231053a95.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/021236231053a95.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/020858399200871.webp" type="image/webp" medium="image" height="334" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/020858399200871.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں فیکٹری سرگرمیوں کی شرح نمو 7 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291963/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ستمبر کے دوران نمایاں توسیع ہوئی، جس کے ساتھ تین ماہ سے جاری سست روی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ ایک نجی سروے کے مطابق مضبوط طلب کے باعث فیکٹریوں کی سرگرمیوں میں سات ماہ کی تیز ترین شرح سے اضافہ ہوا، ملازمتوں کے مواقع بحال ہوئے اور کاروباری اعتماد میں بہتری آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل کی مرتب کردہ ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) اگست میں پانچ سال کی کم ترین سطح 52.8 سے بڑھ کر ستمبر میں 55.1 ہوگئی، تاہم یہ 55.7 کی ابتدائی اندازے سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم آئی کی یہ سطح فروری کے بعد بلند ترین ہے۔ 50.0 سے زیادہ پی ایم آئی ریڈنگ کاروباری سرگرمیوں میں نمو کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے مطابق نئے آرڈرز میں فروری کے بعد تیز ترین رفتار سے اضافہ ہوا جس کی وجہ الیکٹرانک، غذائی، دواسازی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مضبوط طلب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی آرڈرز میں بھی تیزی آئی جبکہ مینوفیکچررز نے برازیل، یورپ، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے صارفین کی جانب سے طلب میں اضافے کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور توسیع کی رفتار مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جسے نئے کاروباری آرڈرز اور بلند طلب سے سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں کہا گیا کہ کمپنیوں نے متوقع فروخت کی تیاری کے لیے مزید خام مال خریدا اور اپنے ذخائر میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ایس بی سی کے چیف انڈیا اکانومسٹ پرانجول بھنڈاری نے کہا کہ تیار شدہ مصنوعات کے ذخائر میں تقریباً 12 سال کے دوران دوسری سب سے بڑی شرح سے اضافہ ہوا ہے جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ کمپنیوں نے کم سے کم ذخائر رکھنے کی حکمت عملی سے رخ موڑ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلب میں اضافے کے باعث بھرتیوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہوگیا۔ روزگار میں مئی کے بعد تیز ترین شرح سے اضافہ ہوا جبکہ اگست میں اس میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اگست کی کمی ڈھائی سال میں فیکٹریوں میں روزگار میں پہلی کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں کاروباری اعتماد چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ نئے استفسارات اور طلب برقرار رہنے کی توقعات کے باعث کاروباری رجائیت میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوا اور خام مال کی لاگت میں افراط زر کی رفتار اگست کے مقابلے میں تیز ہوگئی، جس کی بنیادی وجہ الیکٹرانک پرزہ جات، دواسازی کی اشیا اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم افراط زر کی شرح طویل مدتی اوسط سے کم رہی۔ فروخت کی قیمتوں میں بھی اگست کے مقابلے میں اضافہ ہوا، اگرچہ اس کی رفتار معمولی اور طویل مدتی رجحان سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں افراط زر مسلسل تیسرے ماہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے 4 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے اوپر رہا جس کی بنیادی وجہ توانائی اور غذائی اشیا کی لاگت میں نمایاں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے توقع ہے کہ آر بی آئی رواں سال شرح سود میں مجموعی طور پر 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 5.75 فیصد تک لے جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ستمبر کے دوران نمایاں توسیع ہوئی، جس کے ساتھ تین ماہ سے جاری سست روی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ ایک نجی سروے کے مطابق مضبوط طلب کے باعث فیکٹریوں کی سرگرمیوں میں سات ماہ کی تیز ترین شرح سے اضافہ ہوا، ملازمتوں کے مواقع بحال ہوئے اور کاروباری اعتماد میں بہتری آئی۔</strong></p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل کی مرتب کردہ ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) اگست میں پانچ سال کی کم ترین سطح 52.8 سے بڑھ کر ستمبر میں 55.1 ہوگئی، تاہم یہ 55.7 کی ابتدائی اندازے سے کم رہی۔</p>
<p>پی ایم آئی کی یہ سطح فروری کے بعد بلند ترین ہے۔ 50.0 سے زیادہ پی ایم آئی ریڈنگ کاروباری سرگرمیوں میں نمو کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>سروے کے مطابق نئے آرڈرز میں فروری کے بعد تیز ترین رفتار سے اضافہ ہوا جس کی وجہ الیکٹرانک، غذائی، دواسازی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مضبوط طلب رہی۔</p>
<p>برآمدی آرڈرز میں بھی تیزی آئی جبکہ مینوفیکچررز نے برازیل، یورپ، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے صارفین کی جانب سے طلب میں اضافے کی نشاندہی کی۔</p>
<p>پیداواری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور توسیع کی رفتار مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جسے نئے کاروباری آرڈرز اور بلند طلب سے سہارا ملا۔</p>
<p>سروے میں کہا گیا کہ کمپنیوں نے متوقع فروخت کی تیاری کے لیے مزید خام مال خریدا اور اپنے ذخائر میں اضافہ کیا۔</p>
<p>ایچ ایس بی سی کے چیف انڈیا اکانومسٹ پرانجول بھنڈاری نے کہا کہ تیار شدہ مصنوعات کے ذخائر میں تقریباً 12 سال کے دوران دوسری سب سے بڑی شرح سے اضافہ ہوا ہے جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ کمپنیوں نے کم سے کم ذخائر رکھنے کی حکمت عملی سے رخ موڑ لیا ہے۔</p>
<p>طلب میں اضافے کے باعث بھرتیوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہوگیا۔ روزگار میں مئی کے بعد تیز ترین شرح سے اضافہ ہوا جبکہ اگست میں اس میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اگست کی کمی ڈھائی سال میں فیکٹریوں میں روزگار میں پہلی کمی تھی۔</p>
<p>ستمبر میں کاروباری اعتماد چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ نئے استفسارات اور طلب برقرار رہنے کی توقعات کے باعث کاروباری رجائیت میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوا اور خام مال کی لاگت میں افراط زر کی رفتار اگست کے مقابلے میں تیز ہوگئی، جس کی بنیادی وجہ الیکٹرانک پرزہ جات، دواسازی کی اشیا اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔</p>
<p>تاہم افراط زر کی شرح طویل مدتی اوسط سے کم رہی۔ فروخت کی قیمتوں میں بھی اگست کے مقابلے میں اضافہ ہوا، اگرچہ اس کی رفتار معمولی اور طویل مدتی رجحان سے کم رہی۔</p>
<p>اگست میں افراط زر مسلسل تیسرے ماہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے 4 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے اوپر رہا جس کی بنیادی وجہ توانائی اور غذائی اشیا کی لاگت میں نمایاں اضافہ تھا۔</p>
<p>بڑھتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے توقع ہے کہ آر بی آئی رواں سال شرح سود میں مجموعی طور پر 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 5.75 فیصد تک لے جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291963</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011316062c0f01c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="638">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011316062c0f01c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکئی کے سودے مسلسل چوتھے سیشن میں بھی گر گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شکاگو میں جمعرات مکئی کے سودے مسلسل چوتھے سیشن میں بھی گر گئے جس کی وجہ امریکا میں توقعات سے زیادہ مکئی کے ذخائر تھے، مکئی کی قیمت 0.05 فیصد کم ہو کر 5.5 ڈالر فی بشل رہ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں فی بشل 5 ڈالر سے 5.03 ڈالر کے درمیان محدود دائرے میں کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یکم ستمبر تک امریکی کسانوں اور اناج ذخیرہ کرنے والوں کے پاس مکئی کے ذخائر ایک سال قبل کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ تھے۔ 2025 کی بڑی فصل کے بعد یہ اضافہ توقعات سے زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکی مڈویسٹ میں مکئی کے اسپاٹ بیسس نرخوں میں کمی آئی، کیونکہ موسم میں بہتری کی پیش گوئی کی گئی تھی جس سے فصل کی کٹائی اور اناج کی ترسیل میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ دریں اثنا جنوبی امریکا کے میدانی علاقوں میں ہارڈ ریڈ ونٹر گندم کے بیسس نرخ مستحکم سے کمزور رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم کی قیمت 0.15 فیصد کم ہو کر 6.74-3/4 ڈالر فی بشل رہی، جو مسلسل دوسرے سیشن میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شکاگو میں جمعرات مکئی کے سودے مسلسل چوتھے سیشن میں بھی گر گئے جس کی وجہ امریکا میں توقعات سے زیادہ مکئی کے ذخائر تھے، مکئی کی قیمت 0.05 فیصد کم ہو کر 5.5 ڈالر فی بشل رہ گئی۔</strong></p>
<p>اس معاہدے میں فی بشل 5 ڈالر سے 5.03 ڈالر کے درمیان محدود دائرے میں کاروبار ہوا۔</p>
<p>امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یکم ستمبر تک امریکی کسانوں اور اناج ذخیرہ کرنے والوں کے پاس مکئی کے ذخائر ایک سال قبل کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ تھے۔ 2025 کی بڑی فصل کے بعد یہ اضافہ توقعات سے زیادہ رہا۔</p>
<p>بدھ کو امریکی مڈویسٹ میں مکئی کے اسپاٹ بیسس نرخوں میں کمی آئی، کیونکہ موسم میں بہتری کی پیش گوئی کی گئی تھی جس سے فصل کی کٹائی اور اناج کی ترسیل میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ دریں اثنا جنوبی امریکا کے میدانی علاقوں میں ہارڈ ریڈ ونٹر گندم کے بیسس نرخ مستحکم سے کمزور رہے۔</p>
<p>گندم کی قیمت 0.15 فیصد کم ہو کر 6.74-3/4 ڈالر فی بشل رہی، جو مسلسل دوسرے سیشن میں کمی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291982</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:00:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01155932ca6401a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01155932ca6401a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291977/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.10 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کومقامی کرنسی 277.11 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.10 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کومقامی کرنسی 277.11 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔</p>
<p>ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291977</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:11:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01144744699e87b.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01144744699e87b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا کا اگست میں 3.55 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291981/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا نے اگست میں 3.55 ارب ڈالر کا حیران کن طور پر بڑا تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا جو رائٹرز کے ایک سروے میں ظاہر کیے گئے تقریباً 630 ملین ڈالر کے تجارتی سرپلس کے درمیانی تخمینے سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں تجارتی سرپلس ستمبر 2025 کے بعد سب سے زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے محکمہ شماریات کے مطابق اگست میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 6.72 فیصد بڑھ کر 26.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ سروے میں 4.3 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدات سالانہ بنیاد پر 19.09 فیصد بڑھ کر 23.06 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ سروے میں 31.14 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ قدرتی وسائل سے مالا مال انڈونیشیا کو رواں سال اپنی بعض اہم اجناس کی برآمدی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ ہوا ہے جبکہ بعض فوائد مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، تیل کا خالص درآمد کنندہ ہونے کے باعث اس کے درآمدی بل میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا دنیا میں کوئلے، پام آئل اور نکل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ جبکہ ٹِن، تانبے، ایلومینیم اور کافی کا ایک بڑا سپلائر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا نے اگست میں 3.55 ارب ڈالر کا حیران کن طور پر بڑا تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا جو رائٹرز کے ایک سروے میں ظاہر کیے گئے تقریباً 630 ملین ڈالر کے تجارتی سرپلس کے درمیانی تخمینے سے کہیں زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں تجارتی سرپلس ستمبر 2025 کے بعد سب سے زیادہ رہا۔</p>
<p>انڈونیشیا کے محکمہ شماریات کے مطابق اگست میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 6.72 فیصد بڑھ کر 26.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ سروے میں 4.3 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔</p>
<p>درآمدات سالانہ بنیاد پر 19.09 فیصد بڑھ کر 23.06 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ سروے میں 31.14 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ قدرتی وسائل سے مالا مال انڈونیشیا کو رواں سال اپنی بعض اہم اجناس کی برآمدی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ ہوا ہے جبکہ بعض فوائد مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہوئے۔</p>
<p>تاہم، تیل کا خالص درآمد کنندہ ہونے کے باعث اس کے درآمدی بل میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا دنیا میں کوئلے، پام آئل اور نکل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ جبکہ ٹِن، تانبے، ایلومینیم اور کافی کا ایک بڑا سپلائر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291981</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:57:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0115573788ad7e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0115573788ad7e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل مسلسل دباؤ کا شکار، سویا آئل اور برآمدات اثرانداز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291956/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا کے پام آئل کے نرخ جمعرات کو مسلسل پانچویں سیشن میں بھی گر گئے جس کی وجہ شکاگو میں سویا آئل کی قیمتوں میں کمزوری، ستمبر میں برآمدات کی سست رفتار اور پیداوار میں اضافے کے باعث مارکیٹ پر دباؤ رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں دسمبر کی ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ صبح کی تجارت کے دوران 19 رنگٹ یعنی 0.41 فیصد کم ہوکر 4,591 رنگٹ (1,123.59 ڈالر) فی میٹرک ٹن رہ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا کے پام آئل کے نرخ جمعرات کو مسلسل پانچویں سیشن میں بھی گر گئے جس کی وجہ شکاگو میں سویا آئل کی قیمتوں میں کمزوری، ستمبر میں برآمدات کی سست رفتار اور پیداوار میں اضافے کے باعث مارکیٹ پر دباؤ رہا۔</strong></p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں دسمبر کی ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ صبح کی تجارت کے دوران 19 رنگٹ یعنی 0.41 فیصد کم ہوکر 4,591 رنگٹ (1,123.59 ڈالر) فی میٹرک ٹن رہ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291956</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:53:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01115322613023f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01115322613023f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی پیکیجز گروپ کو فروخت کا عمل مکمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291962/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایکزو نوبل نے ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی آئی جی آئی انوسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کوفروخت مکمل کرلی ہے جو پاکستان کے مختلف کاروباری شعبوں میں کام کرنے والے معروف پیکیجز گروپ کا حصہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فروخت کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو تقریباً 50 ملین یورو (16.2 ارب پاکستانی روپے) ہے جبکہ اس کی EV/EBITDA ویلیو14 گنامقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں پاکستان میں   ایکزو نوبل کے ڈیکوریٹو پینٹس اور لیکوئڈ کوٹنگز کے کاروبار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکزو نوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرGreg Poux-Guillaume نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیل کی تکمیل ہماری جاری اسٹریٹجک پورٹ فولیو ریویو پر عمل درآمد میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ہم پاکستان میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے دکھائے گئے جذبے اور عزم کے شکر گزار ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ پیکیجز گروپ، پاکستان کی صارفین اور صنعتی مارکیٹوں میں اپنی مضبوط موجودگی کے باعث، اس کاروبار کو ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکیجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی نے کہا کہ ہم   ایکزو نوبل پاکستان کو پیکیجز گروپ کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ ڈیل پاکستان میں اعلیٰ معیار کے کاروبار، مضبوط مارکیٹ پوزیشن رکھنے والے معتبر برانڈز اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت رکھنے والے اداروں کی تعمیر اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے ہمارے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایکزو نوبل نے ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی آئی جی آئی انوسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کوفروخت مکمل کرلی ہے جو پاکستان کے مختلف کاروباری شعبوں میں کام کرنے والے معروف پیکیجز گروپ کا حصہ ہے۔</strong></p>
<p>اس فروخت کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو تقریباً 50 ملین یورو (16.2 ارب پاکستانی روپے) ہے جبکہ اس کی EV/EBITDA ویلیو14 گنامقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اس معاہدے میں پاکستان میں   ایکزو نوبل کے ڈیکوریٹو پینٹس اور لیکوئڈ کوٹنگز کے کاروبار شامل ہیں۔</p>
<p>ایکزو نوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرGreg Poux-Guillaume نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیل کی تکمیل ہماری جاری اسٹریٹجک پورٹ فولیو ریویو پر عمل درآمد میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ہم پاکستان میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے دکھائے گئے جذبے اور عزم کے شکر گزار ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ پیکیجز گروپ، پاکستان کی صارفین اور صنعتی مارکیٹوں میں اپنی مضبوط موجودگی کے باعث، اس کاروبار کو ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>پیکیجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی نے کہا کہ ہم   ایکزو نوبل پاکستان کو پیکیجز گروپ کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ ڈیل پاکستان میں اعلیٰ معیار کے کاروبار، مضبوط مارکیٹ پوزیشن رکھنے والے معتبر برانڈز اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت رکھنے والے اداروں کی تعمیر اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے ہمارے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291962</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:09:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01130841033fb71.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01130841033fb71.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہواوے نے میٹ 90 فونز متعارف کرا دیے، امریکی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے مقامی چِپ ڈیزائن پر انحصار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291944/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے جمعرات کو اپنی نئی میٹ 90 اسمارٹ فون سیریز متعارف کرا دی، جس میں کمپنی نے امریکی پابندیوں کے باعث جدید سیمی کنڈکٹرز کی محدود دستیابی کے باوجود کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنی تیار کردہ چِپ آرکیٹیکچر اور آپریٹنگ سسٹم پر انحصار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہواوے کے کنزیومر بزنس چیف رچرڈ یو نے لانچ سے قبل بتایا کہ چین میں جدید سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت اب بھی انتہائی محدود ہے، جس کے باعث اسمارٹ فون چِپس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو بڑھتی ہوئی میموری اور دیگر اجزا کی قیمتوں کے باعث فونز کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم یہ اضافہ نسبتاً کم رفتار سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹ 90 سیریز گزشتہ سال نومبر میں پیش کی گئی میٹ 80 سیریز کی جانشین ہے۔ اس کے پریمیم ماڈلز، جن میں میٹ 90 پرو میکس شامل ہے، ہواوے کی تیار کردہ کیرن 9050 پرو سسٹم آن چِپ استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس چِپ میں لاجک فولڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں چِپ کی اندرونی وائرنگ کو روایتی دو جہتی ترتیب کے بجائے تین جہتی انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہواوے نے کیرن 9050 پرو تیار کرنے والی کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم چین کی معروف چِپ ساز کمپنی ایس ایم آئی سی کو اس کا ممکنہ تیار کنندہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فونز میں ہواوے کا اینڈرائیڈ سے آزاد ہارمنی او ایس 7 آپریٹنگ سسٹم موجود ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد ایپس اور خدمات کو سپورٹ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ڈی سی کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران چین میں اسمارٹ فونز کی مجموعی فروخت 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہواوے کی ترسیلات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ہواوے کے مطابق چین کی فولڈ ایبل فون مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 75 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے جمعرات کو اپنی نئی میٹ 90 اسمارٹ فون سیریز متعارف کرا دی، جس میں کمپنی نے امریکی پابندیوں کے باعث جدید سیمی کنڈکٹرز کی محدود دستیابی کے باوجود کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنی تیار کردہ چِپ آرکیٹیکچر اور آپریٹنگ سسٹم پر انحصار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ہواوے کے کنزیومر بزنس چیف رچرڈ یو نے لانچ سے قبل بتایا کہ چین میں جدید سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت اب بھی انتہائی محدود ہے، جس کے باعث اسمارٹ فون چِپس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو بڑھتی ہوئی میموری اور دیگر اجزا کی قیمتوں کے باعث فونز کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم یہ اضافہ نسبتاً کم رفتار سے کیا جائے گا۔</p>
<p>میٹ 90 سیریز گزشتہ سال نومبر میں پیش کی گئی میٹ 80 سیریز کی جانشین ہے۔ اس کے پریمیم ماڈلز، جن میں میٹ 90 پرو میکس شامل ہے، ہواوے کی تیار کردہ کیرن 9050 پرو سسٹم آن چِپ استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس چِپ میں لاجک فولڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں چِپ کی اندرونی وائرنگ کو روایتی دو جہتی ترتیب کے بجائے تین جہتی انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ہواوے نے کیرن 9050 پرو تیار کرنے والی کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم چین کی معروف چِپ ساز کمپنی ایس ایم آئی سی کو اس کا ممکنہ تیار کنندہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>نئے فونز میں ہواوے کا اینڈرائیڈ سے آزاد ہارمنی او ایس 7 آپریٹنگ سسٹم موجود ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد ایپس اور خدمات کو سپورٹ کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ڈی سی کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران چین میں اسمارٹ فونز کی مجموعی فروخت 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہواوے کی ترسیلات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ہواوے کے مطابق چین کی فولڈ ایبل فون مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 75 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291944</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:29:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01092827abf022d.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01092827abf022d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا شدید دباؤ، انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔</p>
<p>تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔</p>
<p>پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔</p>
<p>نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔</p>
<p>بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔</p>
<p>سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291953</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:47:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116462699f151d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116462699f151d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116464167212e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116464167212e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ کے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم، سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ امریکا میں مہنگائی کے توقعات سے کم اعدادوشمار ہیں، جس سے رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے، جبکہ سرمایہ کار اب پالیسی کے حوالے سے مزید اشاروں کیلئے آئندہ روزگار کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے نے اکتوبر کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم ستمبر میں اس کی قیمت 6 فیصد سے زیادہ کم ہوئی تھی۔ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 0.4 فیصد اضافے سے 4,204.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اگست کے دوران مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ کے قیمتوں کے دباؤ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے اور مارکیٹ میں اس کے امکانات 38 فیصد تک آگئے، جو رپورٹ جاری ہونے سے قبل 45 فیصد تھے۔ تاہم، ٹریڈرز اب بھی دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 97 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شرح سود سونے کی کشش کم کرتی ہے کیونکہ اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ آنے والے اعدادوشمار اہم ہوں گے تاکہ دیکھا جاسکے کہ مارکیٹ ان سے کیسے نمٹتی ہے اور شرح سود میں اضافے سے متعلق توقعات کیسے تشکیل پاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نان فارم پے رولز کی ستمبر کی اہم رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ ادھر ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب برقرار رہنے سے سونے کی قیمت میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ڈی سیکیورٹیز کے عالمی سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹیجی بارٹ میلیک نے کہا کہ ستمبر میں سونے کی قیمت میں ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ اصلاح کا بدترین مرحلہ گزر جانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی محاذ پر ایران نے کہا کہ اسے خلیج میں ختم ہونے والی جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سلور 1.2 فیصد اضافے سے 61.11 ڈالر، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,717.35 ڈالر اور پیلاڈیم 0.3 فیصد اضافے سے 1,207.12 ڈالر فی اونس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ امریکا میں مہنگائی کے توقعات سے کم اعدادوشمار ہیں، جس سے رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے، جبکہ سرمایہ کار اب پالیسی کے حوالے سے مزید اشاروں کیلئے آئندہ روزگار کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے نے اکتوبر کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم ستمبر میں اس کی قیمت 6 فیصد سے زیادہ کم ہوئی تھی۔ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 0.4 فیصد اضافے سے 4,204.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔</p>
<p>بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اگست کے دوران مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ کے قیمتوں کے دباؤ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی گئی۔</p>
<p>اعدادوشمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے اور مارکیٹ میں اس کے امکانات 38 فیصد تک آگئے، جو رپورٹ جاری ہونے سے قبل 45 فیصد تھے۔ تاہم، ٹریڈرز اب بھی دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 97 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>زیادہ شرح سود سونے کی کشش کم کرتی ہے کیونکہ اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ آنے والے اعدادوشمار اہم ہوں گے تاکہ دیکھا جاسکے کہ مارکیٹ ان سے کیسے نمٹتی ہے اور شرح سود میں اضافے سے متعلق توقعات کیسے تشکیل پاتی ہیں۔</p>
<p>امریکی نان فارم پے رولز کی ستمبر کی اہم رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ ادھر ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب برقرار رہنے سے سونے کی قیمت میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔</p>
<p>ٹی ڈی سیکیورٹیز کے عالمی سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹیجی بارٹ میلیک نے کہا کہ ستمبر میں سونے کی قیمت میں ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ اصلاح کا بدترین مرحلہ گزر جانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی محاذ پر ایران نے کہا کہ اسے خلیج میں ختم ہونے والی جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔</p>
<p>اسپاٹ سلور 1.2 فیصد اضافے سے 61.11 ڈالر، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,717.35 ڈالر اور پیلاڈیم 0.3 فیصد اضافے سے 1,207.12 ڈالر فی اونس ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291951</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01104306a5adc0f.webp" type="image/webp" medium="image" height="650" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01104306a5adc0f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع سے ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291943/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔</strong></p>
<p>رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</p>
<p>ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291943</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:24:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01092307ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01092307ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج سے برآمدات میں بحالی، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد گر گئیں، جس کی وجہ خلیج سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی اور امریکا میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے سے رسد کے خدشات میں کمی ہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کرنے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی سفارتی کوششوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.1 فیصد کمی سے 96.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.4 فیصد گر کر 89.18 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں بدھ کو تقریباً 1 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 5 فیصد مہنگا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی میں قائم تحقیقی فرم ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سگندھا سچدیو نے کہا کہ خلیجی خطے سے ترسیلات کی بحالی، سعودی عرب کی جانب سے ینبع کے راستے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور امریکی ذخائر میں اضافے سے رسد کے خدشات کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 922,000 بیرل بڑھ کر 427.3 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں 264,000 بیرل کمی کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچدیو کے مطابق امریکا ایران سفارتی رابطوں کی بحالی سے جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم مزید کم ہوسکتا ہے، تاہم پیش رفت غیر یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس کے مطابق گزشتہ ہفتے خلیجی تیل کی برآمدات 23.3 ملین بیرل یومیہ تک بحال ہوگئیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادھر اوپیک پلس کے ممالک اتوار کو اجلاس میں نومبر کیلئے پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد گر گئیں، جس کی وجہ خلیج سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی اور امریکا میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے سے رسد کے خدشات میں کمی ہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کرنے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی سفارتی کوششوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.1 فیصد کمی سے 96.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.4 فیصد گر کر 89.18 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں بدھ کو تقریباً 1 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>ستمبر میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 5 فیصد مہنگا ہوا۔</p>
<p>نئی دہلی میں قائم تحقیقی فرم ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سگندھا سچدیو نے کہا کہ خلیجی خطے سے ترسیلات کی بحالی، سعودی عرب کی جانب سے ینبع کے راستے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور امریکی ذخائر میں اضافے سے رسد کے خدشات کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 922,000 بیرل بڑھ کر 427.3 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں 264,000 بیرل کمی کی توقع تھی۔</p>
<p>سچدیو کے مطابق امریکا ایران سفارتی رابطوں کی بحالی سے جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم مزید کم ہوسکتا ہے، تاہم پیش رفت غیر یقینی ہے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس کے مطابق گزشتہ ہفتے خلیجی تیل کی برآمدات 23.3 ملین بیرل یومیہ تک بحال ہوگئیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادھر اوپیک پلس کے ممالک اتوار کو اجلاس میں نومبر کیلئے پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291941</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:19:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01090404850b035.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01090404850b035.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’’لائف سائیکل مکمل‘‘: ہونڈا اٹلس نے پاکستان میں بی آر-وی کی پروڈکشن بند کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291935/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس ریکارڈر کو بدھ کو معلوم ہوا ہے کہ ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے پاکستان میں ہونڈا بی آر-وی کی پروڈکشن بند کردی ہے، جبکہ ایچ آر-وی، سٹی اور سوک کمپنی کی مقامی گاڑیوں کی فہرست میں شامل رہیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ اے سی ایل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے تین سے چار ماہ قبل بی آر-وی کی پروڈکشن بتدریج بند کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’موجودہ معاشی حالات میں نیا ماڈل متعارف کرانا واقعی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بی آر-وی کو تقریباً 10 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہونڈا سوک، سٹی اور ایچ آر-وی مقامی مارکیٹ میں دستیاب رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ملک کے موجودہ مشکل کاروباری ماحول میں جدید خصوصیات سے لیس نیا ماڈل متعارف کرانا آسان نہیں۔ دوسری جانب بی آر-وی اپنی مصنوعات کی مقررہ مدتِ کار مکمل کرچکی ہے، اس لیے اب اس کی پروڈکشن بند کردی گئی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو ماہر عثمان انصاری نے کہا کہ تقریباً 2016 میں متعارف کرائی گئی بی آر-وی پرانی خصوصیات اور ٹربو چارجڈ انجن نہ ہونے کے باوجود اپنی ابتدائی قیمت کے مقابلے میں تقریباً تین گنا قیمت پر فروخت ہورہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ گاڑی کی شکل و صورت ایس یو وی جیسی تھی، ’’حقیقت میں یہ صرف سات نشستوں والی وین تھی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اسی گاڑی (بی آر-وی) کی بھارت میں چند سال قبل پروڈکشن بند کردی گئی تھی۔ تاہم ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اس گاڑی کی شکل تبدیل کی گئی، جہاں اسے اب بھی فروخت کیا جارہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس ریکارڈر کو بدھ کو معلوم ہوا ہے کہ ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے پاکستان میں ہونڈا بی آر-وی کی پروڈکشن بند کردی ہے، جبکہ ایچ آر-وی، سٹی اور سوک کمپنی کی مقامی گاڑیوں کی فہرست میں شامل رہیں گی۔</strong></p>
<p>ایچ اے سی ایل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے تین سے چار ماہ قبل بی آر-وی کی پروڈکشن بتدریج بند کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’موجودہ معاشی حالات میں نیا ماڈل متعارف کرانا واقعی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بی آر-وی کو تقریباً 10 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہونڈا سوک، سٹی اور ایچ آر-وی مقامی مارکیٹ میں دستیاب رہیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ملک کے موجودہ مشکل کاروباری ماحول میں جدید خصوصیات سے لیس نیا ماڈل متعارف کرانا آسان نہیں۔ دوسری جانب بی آر-وی اپنی مصنوعات کی مقررہ مدتِ کار مکمل کرچکی ہے، اس لیے اب اس کی پروڈکشن بند کردی گئی ہے۔‘‘</p>
<p>آٹو ماہر عثمان انصاری نے کہا کہ تقریباً 2016 میں متعارف کرائی گئی بی آر-وی پرانی خصوصیات اور ٹربو چارجڈ انجن نہ ہونے کے باوجود اپنی ابتدائی قیمت کے مقابلے میں تقریباً تین گنا قیمت پر فروخت ہورہی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ گاڑی کی شکل و صورت ایس یو وی جیسی تھی، ’’حقیقت میں یہ صرف سات نشستوں والی وین تھی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اسی گاڑی (بی آر-وی) کی بھارت میں چند سال قبل پروڈکشن بند کردی گئی تھی۔ تاہم ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اس گاڑی کی شکل تبدیل کی گئی، جہاں اسے اب بھی فروخت کیا جارہا ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291935</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 20:21:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30201513138e4fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30201513138e4fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فی تولہ سونا 4 ہزار 300 روپے مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291916/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں بدھ  کو چاندی اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 43 ڈالر کے اضافے سے 4191 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 636 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3,686 روپے اضافے سے 3 لاکھ 78 ہزار 631 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 37 ہزار336 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 20 روپے بڑھ کر 6,578 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں بدھ  کو چاندی اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 43 ڈالر کے اضافے سے 4191 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 636 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3,686 روپے اضافے سے 3 لاکھ 78 ہزار 631 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 37 ہزار336 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 20 روپے بڑھ کر 6,578 روپے ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291916</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:05:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3015025429d1ba6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3015025429d1ba6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمر احسن خان اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291903/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاؤلینس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر عمر احسن خان  کو 2026-28کیلئے اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا اعلان او آئی سی سی کے غیر معمولی اجلاس میں کیا گیا۔ شیورون لبریکینٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کنٹری چیئرمین اور جنرل منیجر احمد زاہد ظہیر سینئر نائب صدراور  میزان بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی کو نائب صدر منتخب کیا گیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر او آئی سی سی کی منیجنگ کمیٹی کا بھی انتخاب کیا گیا جس میں صدر عمر احسن خان  ڈاؤلینس پرائیویٹ لمیٹڈ، سینئر نائب صدر احمد زاہد ظہیر شیورون پاکستان لبریکینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ  اور نائب صدر ڈاکٹر سید عامر علی میزان بینک لمیٹڈ  کے علاوہ احسن ظفر سید  اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ ، امین محمدخواجہ جے پی مورگن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ، ارم شاکر رحیم  گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان لمیٹڈ ، خرم شہزاد خان حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ ، سمیع اے وحید  کوکا کولا ایکسپورٹ کارپوریشن ، سید انیس احمد  ایبٹ لیبارٹریز پاکستان لمیٹڈ اور سید کاشان حسن  فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ  شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر سبکدوش ہونے والے صدر یوسف حسین نے معاشی استحکام میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں، بلکہ اسے معاشی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے میں تبدیل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب صدر عمر احسن خان نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کی پالیسی قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مرتب کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق چیمبر کا کردار صرف ان امور کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونا چاہیے جہاں بہتری کی ضرورت ہےبلکہ جہاں ممکن ہو وہاں عملی حل بھی پیش کیے جائیں اور حکومت و دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ان پر عمل درآمد کے لیے کام کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر احسن خان نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری   34 فیصد کم ہوکر 1.65 ارب ڈالر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلے کا انحصار مجموعی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے مواقعوں پر ہوتاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نئی مینجنگ کمیٹی حکومت،ریگولیٹری اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے ساتھ او آئی سی سی آئی کی ڈیٹا پر مبنی تحقیق کو فروغ دے گی اور موسمیاتی تبدیلی، تنوع و شمولیت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پلیٹ فارمز پر کام جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈاؤلینس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر عمر احسن خان  کو 2026-28کیلئے اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس بات کا اعلان او آئی سی سی کے غیر معمولی اجلاس میں کیا گیا۔ شیورون لبریکینٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کنٹری چیئرمین اور جنرل منیجر احمد زاہد ظہیر سینئر نائب صدراور  میزان بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی کو نائب صدر منتخب کیا گیاہے۔</p>
<p>اس موقع پر او آئی سی سی کی منیجنگ کمیٹی کا بھی انتخاب کیا گیا جس میں صدر عمر احسن خان  ڈاؤلینس پرائیویٹ لمیٹڈ، سینئر نائب صدر احمد زاہد ظہیر شیورون پاکستان لبریکینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ  اور نائب صدر ڈاکٹر سید عامر علی میزان بینک لمیٹڈ  کے علاوہ احسن ظفر سید  اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ ، امین محمدخواجہ جے پی مورگن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ، ارم شاکر رحیم  گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان لمیٹڈ ، خرم شہزاد خان حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ ، سمیع اے وحید  کوکا کولا ایکسپورٹ کارپوریشن ، سید انیس احمد  ایبٹ لیبارٹریز پاکستان لمیٹڈ اور سید کاشان حسن  فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ  شامل ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر سبکدوش ہونے والے صدر یوسف حسین نے معاشی استحکام میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں، بلکہ اسے معاشی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے میں تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p>نو منتخب صدر عمر احسن خان نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کی پالیسی قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مرتب کی جائے گی۔</p>
<p>ان کے مطابق چیمبر کا کردار صرف ان امور کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونا چاہیے جہاں بہتری کی ضرورت ہےبلکہ جہاں ممکن ہو وہاں عملی حل بھی پیش کیے جائیں اور حکومت و دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ان پر عمل درآمد کے لیے کام کیا جائے۔</p>
<p>عمر احسن خان نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری   34 فیصد کم ہوکر 1.65 ارب ڈالر رہ گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلے کا انحصار مجموعی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے مواقعوں پر ہوتاہے۔</p>
<p>دوسری جانب نئی مینجنگ کمیٹی حکومت،ریگولیٹری اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے ساتھ او آئی سی سی آئی کی ڈیٹا پر مبنی تحقیق کو فروغ دے گی اور موسمیاتی تبدیلی، تنوع و شمولیت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پلیٹ فارمز پر کام جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291903</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:34:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301228156bb05f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301228156bb05f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھائی لینڈ میں سیلاب، ٹویوٹا کے 4 پلانٹس بند، تھائی ایئرویز کا کارگو آپریشن معطل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ میں سیلاب کے باعث ٹویوٹا کے چار پلانٹس عارضی طور پر بند ہوگئے جب کہ قومی فضائی کمپنی تھائی ایئرویز نے کارگو آپریشنز معطل کردیئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں نے بدھ کو بتایا کہ سیلاب سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت بینکاک میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں صرف تین روز کے دوران 320 ملی میٹر (12.6 انچ) بارش ہوئی جو پورے ستمبر میں شہر میں ہونے والی معمول کی بارش کے تقریباً برابر ہے جس کے بعد شہر کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹویوٹا کے ترجمان نے بتایا کہ سیلاب کے باعث ٹویوٹا کے تھائی یونٹ کو پرزہ جات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں تین پلانٹس اور مشترکہ منصوبے ٹویوٹا آٹو ورکس کی ایک تنصیب میں آپریشنز معطل کردیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کمپنی سپلائرز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پرزہ جات کی ترسیل بحال اور جلد از جلد آپریشنز دوبارہ شروع کیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی ایئرویز نے بتایا کہ اس کے متعدد ملازمین سیلاب کے باعث کام پر پہنچنے سے قاصر ہیں جس کے پیش نظر ایئرلائن نے بدھ سے 6 اکتوبر تک اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک جانے والے کارگو کی بکنگ اور ترسیل قبول کرنا روک دی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ خدمات جلد از جلد بحال کردی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ داخلہ کے مطابق سیلاب سے اب تک کم از کم 24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تھائی لینڈ کے 77 میں سے 44 صوبے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھائی لینڈ میں سیلاب کے باعث ٹویوٹا کے چار پلانٹس عارضی طور پر بند ہوگئے جب کہ قومی فضائی کمپنی تھائی ایئرویز نے کارگو آپریشنز معطل کردیئے ہیں۔</strong></p>
<p>کمپنیوں نے بدھ کو بتایا کہ سیلاب سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>دارالحکومت بینکاک میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں صرف تین روز کے دوران 320 ملی میٹر (12.6 انچ) بارش ہوئی جو پورے ستمبر میں شہر میں ہونے والی معمول کی بارش کے تقریباً برابر ہے جس کے بعد شہر کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا۔</p>
<p>ٹویوٹا کے ترجمان نے بتایا کہ سیلاب کے باعث ٹویوٹا کے تھائی یونٹ کو پرزہ جات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں تین پلانٹس اور مشترکہ منصوبے ٹویوٹا آٹو ورکس کی ایک تنصیب میں آپریشنز معطل کردیئے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کمپنی سپلائرز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پرزہ جات کی ترسیل بحال اور جلد از جلد آپریشنز دوبارہ شروع کیے جاسکیں۔</p>
<p>تھائی ایئرویز نے بتایا کہ اس کے متعدد ملازمین سیلاب کے باعث کام پر پہنچنے سے قاصر ہیں جس کے پیش نظر ایئرلائن نے بدھ سے 6 اکتوبر تک اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک جانے والے کارگو کی بکنگ اور ترسیل قبول کرنا روک دی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ خدمات جلد از جلد بحال کردی جائیں گی۔</p>
<p>وزارتِ داخلہ کے مطابق سیلاب سے اب تک کم از کم 24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تھائی لینڈ کے 77 میں سے 44 صوبے متاثر ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291921</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:46:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30154247d36edea.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30154247d36edea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سید ضیا علمدار پی ایچ ایم اے کے چیئرمین منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے منگل کو 2026-28 کی مدت کے لیے سید ضیا علمدار حسین کو چیئرمین منتخب کرلیا جبکہ دیگر عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کا بھی انتخاب عمل میں لایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابی نتائج کا اعلان ایسوسی ایشن کے سالانہ جنرل اجلاس میں کیا گیا، جس میں عبدالجبار گجیانی کو سینئر وائس چیئرمین جبکہ میاں فرخ اقبال کو وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔جنوبی زون سے نومنتخب ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں عبدالجبار گجیانی، شبیر ہارون بلوانی، محمد عدیل ایاز، محمد جاوید بلوانی، محمد ریاض احمد، محمود نارا، اختر میمن، الطاف حسین، محمد الیاس گگی، محمد سلیم ناگریا، افتخار اشرف، شہریار محمد بشیر، امان احمد اللہ والا اور نعمان رؤف شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی سینئر وائس چیئرمین عبدالجبار گجیانی جنوبی زونل کمیٹی کے زونل چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے۔ شبیر ہارون بلوانی اور محمد عدیل ایاز کو بالترتیب زونل سینئر وائس چیئرمین اور زونل وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی زون کی نومنتخب ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں سید ضیا علمدار حسین، اظہار الحق، نوید افضل، محمد ذنون نذیر، علی حسن، نصیر احمد، محمد خباب انیس، نعیم ملک، محمد امان اللہ خان، ابرار احمد، خواجہ مشرف اقبال، محمد اختر اور صوائز الرحمٰن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی وائس چیئرمین میاں فرخ اقبال شمالی زونل کمیٹی کے زونل چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے جبکہ اظہار الحق اور نوید افضل کو بالترتیب زونل سینئر وائس چیئرمین اور زونل وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومنتخب عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ گروپ (ای ڈی جی) کی حمایت حاصل رہی جس کی سربراہی محمد جاوید بلوانی کر رہے ہیں۔ وہ پی ایچ ایم اے کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے منگل کو 2026-28 کی مدت کے لیے سید ضیا علمدار حسین کو چیئرمین منتخب کرلیا جبکہ دیگر عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کا بھی انتخاب عمل میں لایا گیا۔</strong></p>
<p>انتخابی نتائج کا اعلان ایسوسی ایشن کے سالانہ جنرل اجلاس میں کیا گیا، جس میں عبدالجبار گجیانی کو سینئر وائس چیئرمین جبکہ میاں فرخ اقبال کو وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔جنوبی زون سے نومنتخب ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں عبدالجبار گجیانی، شبیر ہارون بلوانی، محمد عدیل ایاز، محمد جاوید بلوانی، محمد ریاض احمد، محمود نارا، اختر میمن، الطاف حسین، محمد الیاس گگی، محمد سلیم ناگریا، افتخار اشرف، شہریار محمد بشیر، امان احمد اللہ والا اور نعمان رؤف شامل ہیں۔</p>
<p>مرکزی سینئر وائس چیئرمین عبدالجبار گجیانی جنوبی زونل کمیٹی کے زونل چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے۔ شبیر ہارون بلوانی اور محمد عدیل ایاز کو بالترتیب زونل سینئر وائس چیئرمین اور زونل وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔</p>
<p>شمالی زون کی نومنتخب ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں سید ضیا علمدار حسین، اظہار الحق، نوید افضل، محمد ذنون نذیر، علی حسن، نصیر احمد، محمد خباب انیس، نعیم ملک، محمد امان اللہ خان، ابرار احمد، خواجہ مشرف اقبال، محمد اختر اور صوائز الرحمٰن شامل ہیں۔</p>
<p>مرکزی وائس چیئرمین میاں فرخ اقبال شمالی زونل کمیٹی کے زونل چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے جبکہ اظہار الحق اور نوید افضل کو بالترتیب زونل سینئر وائس چیئرمین اور زونل وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔</p>
<p>نومنتخب عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ گروپ (ای ڈی جی) کی حمایت حاصل رہی جس کی سربراہی محمد جاوید بلوانی کر رہے ہیں۔ وہ پی ایچ ایم اے کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291909</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 13:44:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301344340fbf852.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301344340fbf852.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایچ بی ایل مائیکروفنانس ، ون لنک اور یورونیٹ کے پاکستان کے پہلے پے پاک کریڈٹ کارڈ کے اجرا کیلئے معاہدے پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291908/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک، ون لنک (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور یورونیٹ پاکستان نے پاکستان کے پہلے پے پاک کریڈٹ کارڈ کے اجرا کیلئے سہ فریقی معاہدہ پر دستخط کئے ہیں جس سے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک پے پاک کا اولین کریڈٹ کارڈ پارٹنر بن جائیگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سنگ میل پاکستان کے ادائیگی کے منظر نامے میں اہم پیش رفت ہے۔ معاہدہ پردستخط ، سی ای او ون لنک نجیب آگرا والا اور سی ای او یورونیٹ کاشف گایا نے کئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت داری کے تحت ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک پے پاک کریڈیٹ کارڈز جاری کرے گا، ون لنک پے پاک ادائیگی سکیم جبکہ یورونیٹ کارڈ پراسسنگ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم اور عمل درآمدی معاونت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک گرین، اسٹینڈرڈ، پنک اور ایج چار ویریئنٹس میں پے پاک کریڈٹ کارڈ متعارف کروائے گا جس سے صارفین کو اپنے ذریعہ معاش کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بہتر اور وسیع انتخاب اور لچک میسرآئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام بینک کی طرف سے روایتی اور اسلامک پے پاک کریڈٹ کارڈ کی پیشکشیں متعارف کروانے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس سے پاکستان بھر میں مائیکرو فنانس صارفین کے لیے جدید کریڈٹ حل تک رسائی میں توسیع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر و سی ای او ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک عامر خان نے کہا کہ ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک میں ہم مالیات تک رسائی کو صارفین کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دینے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔ ذمہ دارانہ اور جدید مالی حل تک رسائی کو بڑھانے کے ہمارے عزم کے حصہ کے طور پر ہمیں پاکستان میں مائیکروفنانس شعبہ کے پہلے کریڈٹ کارڈ متعارف کروانے پر فخر ہے۔ شراکت داری کا مقصد مائیکروفنانس صارفین کو کریڈٹ تک رسائی اور ادائیگیوں میں وسیع انتخاب ، لچک اور سہولت دیناہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پے پاک کے ملکی نیٹ ورک اور یورونیٹ کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے صارفین کو یکجا کرکے ہم مائیکروفنانس انڈسٹری کیلئے نئے باب کے علمبردار بن رہے ہیں۔ اس اقدام سے ہمارے صارفین کو ان کے ذریعہ معاش کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد جبکہ ذمہ دارنہ قرض اور وسیع تر مالی شمولیت کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او ون لنک نجیب آگرا والا نے کہا کہ آج پاکستان کے ادائیگی کے ایکو سسٹم کیلئے ایک تاریخی لمحہ ہے جب پے پاک کے پہلے کریڈٹ کارڈ کیلئے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔ یہ سنگ میل ہمارے ادائیگی کے ملکی انفراسٹرکچر اور محفوظ، آسان اور ادائیگی کے مقامی حل کی طاقت کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او یورونیٹ کاشف گایانے کہا کہ کارڈ پراسیسر اور ٹیکنالوجی پارٹنر کی حیثیت سے ہمیں پے پاک کے تاریخی کریڈٹ کارڈ کے اجرا میں معاونت پر فخر ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک اور ون لنک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اس اہم پروگرام کو مارکیٹ میں متعارف کروا رہے ہیں۔ میں اس موقع پر ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو پے پاک کریڈٹ کارڈز کا پہلا پارٹنر بننے اور ون لنک کو اس اہم موقع پر مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کی مائیکروفنانس میں رسائی، پے پاک کے ملکی ادائیگی کے نیٹ ورک اور یورونیٹ کی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان میں مقامی طور پر تیار کردہ ایک نئی کریڈٹ کارڈ سہولت متعارف کروائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک، ون لنک (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور یورونیٹ پاکستان نے پاکستان کے پہلے پے پاک کریڈٹ کارڈ کے اجرا کیلئے سہ فریقی معاہدہ پر دستخط کئے ہیں جس سے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک پے پاک کا اولین کریڈٹ کارڈ پارٹنر بن جائیگا۔</strong></p>
<p>یہ سنگ میل پاکستان کے ادائیگی کے منظر نامے میں اہم پیش رفت ہے۔ معاہدہ پردستخط ، سی ای او ون لنک نجیب آگرا والا اور سی ای او یورونیٹ کاشف گایا نے کئے۔</p>
<p>شراکت داری کے تحت ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک پے پاک کریڈیٹ کارڈز جاری کرے گا، ون لنک پے پاک ادائیگی سکیم جبکہ یورونیٹ کارڈ پراسسنگ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم اور عمل درآمدی معاونت فراہم کرے گا۔</p>
<p>ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک گرین، اسٹینڈرڈ، پنک اور ایج چار ویریئنٹس میں پے پاک کریڈٹ کارڈ متعارف کروائے گا جس سے صارفین کو اپنے ذریعہ معاش کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بہتر اور وسیع انتخاب اور لچک میسرآئے گی۔</p>
<p>یہ اقدام بینک کی طرف سے روایتی اور اسلامک پے پاک کریڈٹ کارڈ کی پیشکشیں متعارف کروانے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس سے پاکستان بھر میں مائیکرو فنانس صارفین کے لیے جدید کریڈٹ حل تک رسائی میں توسیع ہوگی۔</p>
<p>صدر و سی ای او ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک عامر خان نے کہا کہ ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک میں ہم مالیات تک رسائی کو صارفین کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دینے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔ ذمہ دارانہ اور جدید مالی حل تک رسائی کو بڑھانے کے ہمارے عزم کے حصہ کے طور پر ہمیں پاکستان میں مائیکروفنانس شعبہ کے پہلے کریڈٹ کارڈ متعارف کروانے پر فخر ہے۔ شراکت داری کا مقصد مائیکروفنانس صارفین کو کریڈٹ تک رسائی اور ادائیگیوں میں وسیع انتخاب ، لچک اور سہولت دیناہے۔</p>
<p>پے پاک کے ملکی نیٹ ورک اور یورونیٹ کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے صارفین کو یکجا کرکے ہم مائیکروفنانس انڈسٹری کیلئے نئے باب کے علمبردار بن رہے ہیں۔ اس اقدام سے ہمارے صارفین کو ان کے ذریعہ معاش کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد جبکہ ذمہ دارنہ قرض اور وسیع تر مالی شمولیت کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>سی ای او ون لنک نجیب آگرا والا نے کہا کہ آج پاکستان کے ادائیگی کے ایکو سسٹم کیلئے ایک تاریخی لمحہ ہے جب پے پاک کے پہلے کریڈٹ کارڈ کیلئے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔ یہ سنگ میل ہمارے ادائیگی کے ملکی انفراسٹرکچر اور محفوظ، آسان اور ادائیگی کے مقامی حل کی طاقت کا عکاس ہے۔</p>
<p>سی ای او یورونیٹ کاشف گایانے کہا کہ کارڈ پراسیسر اور ٹیکنالوجی پارٹنر کی حیثیت سے ہمیں پے پاک کے تاریخی کریڈٹ کارڈ کے اجرا میں معاونت پر فخر ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک اور ون لنک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اس اہم پروگرام کو مارکیٹ میں متعارف کروا رہے ہیں۔ میں اس موقع پر ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو پے پاک کریڈٹ کارڈز کا پہلا پارٹنر بننے اور ون لنک کو اس اہم موقع پر مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا۔</p>
<p>شراکت ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کی مائیکروفنانس میں رسائی، پے پاک کے ملکی ادائیگی کے نیٹ ورک اور یورونیٹ کی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان میں مقامی طور پر تیار کردہ ایک نئی کریڈٹ کارڈ سہولت متعارف کروائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291908</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 13:33:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301332138a94094.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301332138a94094.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشین پام آئل کے نرخ میں تین سیشنز کی گراوٹ کے بعد معمولی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291898/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملائیشین پام آئل کے نرخ میں بدھ کو تین مسلسل سیشنز کی گراوٹ کے بعد معمولی اضافہ ہوا جسے دالیان میں ویجیٹیبل آئل کی قیمتوں میں مضبوطی سے سہارا ملا، تاہم یہ اب بھی چار ماہ میں پہلی ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر دسمبر ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ 5 رنگٹ یا 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 4,629 رنگٹ (1,135.67 ڈالر) فی میٹرک ٹن پر پہنچ گیا جبکہ منگل کو یہ 10 ہفتوں کی کم ترین اختتامی سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کنٹریکٹ کی قیمت رواں ماہ اب تک 5.4 فیصد گرچکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملائیشین پام آئل کے نرخ میں بدھ کو تین مسلسل سیشنز کی گراوٹ کے بعد معمولی اضافہ ہوا جسے دالیان میں ویجیٹیبل آئل کی قیمتوں میں مضبوطی سے سہارا ملا، تاہم یہ اب بھی چار ماہ میں پہلی ماہانہ کمی کی جانب گامزن ہیں۔</p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر دسمبر ڈلیوری کے لیے پام آئل کا بینچ مارک کنٹریکٹ 5 رنگٹ یا 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 4,629 رنگٹ (1,135.67 ڈالر) فی میٹرک ٹن پر پہنچ گیا جبکہ منگل کو یہ 10 ہفتوں کی کم ترین اختتامی سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>اس کنٹریکٹ کی قیمت رواں ماہ اب تک 5.4 فیصد گرچکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291898</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:02:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30120217761ed6a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30120217761ed6a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار سے قبل سونا ماہانہ کمی کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتیں بدھ کو مستحکم رہیں، تاہم بلند شرح سود کی توقعات کے باعث رواں ماہ مجموعی طور پر کمی کی جانب گامزن رہیں، جبکہ سرمایہ کار امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار کے منتظر رہے تاکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے حوالے سے اشارے مل سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ کی قیمت معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,180.30 ڈالر فی اونس رہی، تاہم رواں ماہ اب تک اس کی قیمت میں 6 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.8 فیصد اضافے سے 4,212.70 ڈالر فی اونس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر بھی رواں ماہ اضافے کی جانب گامزن تھا، جس کے باعث ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتیں دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے زیادہ مہنگی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی پرسنل کنزیومپشن ایکسپینڈیچرز (پی سی ای) پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار 1230 جی ایم ٹی پر جاری کیے جانے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریٹیکل میٹلز کے چیف ایگزیکٹو ٹونی سیج نے کہا کہ پی سی ای کے اعداد و شمار کا اجرا سونے کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا کیونکہ اس سے امریکی مانیٹری پالیسی، ٹریژری ییلڈز اور ڈالر کی سمت سے متعلق توقعات متاثر ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر اعداد و شمار توقع سے کم رہتے ہیں تو اس سے سونے کو ممکنہ طور پر سہارا ملے گا اور قیمت کے دوبارہ 4,200 سے 4,300 ڈالر کی حد میں آنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ توقع سے زیادہ بلند اعداد و شمار ییلڈز اور ڈالر کو اوپر لے جاسکتے ہیں، جس سے سونے پر دوبارہ دباؤ پڑے گا اور 4,100 ڈالر کی سطح کا امتحان ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر بلند شرح سود سونے کی کشش کم کردیتی ہے کیونکہ اس دھات سے کوئی منافع یا ییلڈ حاصل نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سلور کی قیمت 0.6 فیصد کمی سے 61.07 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.2 فیصد کمی سے 1,703.19 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.2 فیصد کمی سے 1,220.61 ڈالر فی اونس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتیں بدھ کو مستحکم رہیں، تاہم بلند شرح سود کی توقعات کے باعث رواں ماہ مجموعی طور پر کمی کی جانب گامزن رہیں، جبکہ سرمایہ کار امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار کے منتظر رہے تاکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے حوالے سے اشارے مل سکیں۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ کی قیمت معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,180.30 ڈالر فی اونس رہی، تاہم رواں ماہ اب تک اس کی قیمت میں 6 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.8 فیصد اضافے سے 4,212.70 ڈالر فی اونس ہوگئی۔</p>
<p>ڈالر بھی رواں ماہ اضافے کی جانب گامزن تھا، جس کے باعث ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتیں دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے زیادہ مہنگی ہوگئیں۔</p>
<p>امریکی پرسنل کنزیومپشن ایکسپینڈیچرز (پی سی ای) پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار 1230 جی ایم ٹی پر جاری کیے جانے ہیں۔</p>
<p>کریٹیکل میٹلز کے چیف ایگزیکٹو ٹونی سیج نے کہا کہ پی سی ای کے اعداد و شمار کا اجرا سونے کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا کیونکہ اس سے امریکی مانیٹری پالیسی، ٹریژری ییلڈز اور ڈالر کی سمت سے متعلق توقعات متاثر ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر اعداد و شمار توقع سے کم رہتے ہیں تو اس سے سونے کو ممکنہ طور پر سہارا ملے گا اور قیمت کے دوبارہ 4,200 سے 4,300 ڈالر کی حد میں آنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ توقع سے زیادہ بلند اعداد و شمار ییلڈز اور ڈالر کو اوپر لے جاسکتے ہیں، جس سے سونے پر دوبارہ دباؤ پڑے گا اور 4,100 ڈالر کی سطح کا امتحان ہوسکتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر بلند شرح سود سونے کی کشش کم کردیتی ہے کیونکہ اس دھات سے کوئی منافع یا ییلڈ حاصل نہیں ہوتی۔</p>
<p>اسپاٹ سلور کی قیمت 0.6 فیصد کمی سے 61.07 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.2 فیصد کمی سے 1,703.19 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.2 فیصد کمی سے 1,220.61 ڈالر فی اونس ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291894</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 11:13:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30111221f9bff41.webp" type="image/webp" medium="image" height="650" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30111221f9bff41.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر کے دوران ڈالر کی قدر میں اضافہ، یورو کمزور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی زرمبادلہ مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی اور یورو کے مقابلے میں رواں سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث ڈالر رواں ماہ یورو کے مقابلے میں تقریباً 2.5 فیصد مضبوط ہوچکا ہے، جو 14 ماہ میں اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ بننے کی راہ پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو رات گئے 1.1312 ڈالر تک گر گیا، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ایشیائی تجارت میں یہ 1.1339 ڈالر کے قریب رہا۔ ڈالر کی مضبوطی کے باعث آسٹریلوی ڈالر بھی اگست کے اوائل کے بعد پہلی بار 70 امریکی سینٹ سے نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوط رفتار کے برعکس یورپ کو توانائی کی قیمتوں، قرضوں اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ رواں ماہ یورپی گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ فرانس میں قرضوں اور سیاسی تعطل کے باعث جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی بانڈز کی شرح منافع کا فرق 2012 کے بعد وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی 16 ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر رواں ماہ تقریباً 1.5 فیصد کمزور ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توجہ بدھ کو امریکا کے بنیادی ذاتی کھپت اخراجات (پی سی ای) کے اعدادوشمار اور جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ پر ہے۔ مضبوط معاشی اعدادوشمار امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا ہے کہ شرح سود بڑھانے میں عجلت کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی زرمبادلہ مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کی قدر مستحکم رہی اور یورو کے مقابلے میں رواں سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث ڈالر رواں ماہ یورو کے مقابلے میں تقریباً 2.5 فیصد مضبوط ہوچکا ہے، جو 14 ماہ میں اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ بننے کی راہ پر ہے۔</strong></p>
<p>یورو رات گئے 1.1312 ڈالر تک گر گیا، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ایشیائی تجارت میں یہ 1.1339 ڈالر کے قریب رہا۔ ڈالر کی مضبوطی کے باعث آسٹریلوی ڈالر بھی اگست کے اوائل کے بعد پہلی بار 70 امریکی سینٹ سے نیچے آگیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوط رفتار کے برعکس یورپ کو توانائی کی قیمتوں، قرضوں اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ رواں ماہ یورپی گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ فرانس میں قرضوں اور سیاسی تعطل کے باعث جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی بانڈز کی شرح منافع کا فرق 2012 کے بعد وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی 16 ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر رواں ماہ تقریباً 1.5 فیصد کمزور ہوا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کی توجہ بدھ کو امریکا کے بنیادی ذاتی کھپت اخراجات (پی سی ای) کے اعدادوشمار اور جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ پر ہے۔ مضبوط معاشی اعدادوشمار امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا ہے کہ شرح سود بڑھانے میں عجلت کی ضرورت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291884</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:57:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/300856206a071ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/300856206a071ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291893/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آغاز میں بینچ مارک انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی اور یہ دورانِ کاروبار کی بلند ترین سطح 171,492.52 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جس سے خریداری کے مضبوط رجحان کی عکاسی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار آگے بڑھنے کے ساتھ ابتدائی تیزی بتدریج کم ہوگئی اور دوپہر تک انڈیکس 171,000 پوائنٹس کی سطح کے آس پاس محدود رہا، جس کے بعد ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے دوسرے نصف حصے میں بھی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل گرتے ہوئے اختتامی مرحلے میں دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 169,872.13 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، لکی سیمنٹ، فاطمہ اور ایف ایف سی شامل رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 311 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ منتخب حصص میں خریداری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 1.12 فیصد تک بڑھا، تاہم منافع کے حصول اور امریکا ایران تنازع سے پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث بیشتر تیزی ختم ہوگئی۔ انڈیکس 0.22 فیصد یومیہ اضافے سے 169,969 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں وزارت خزانہ نے منگل کو پاکستان کے مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ (ایل سی بی ایم) کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان پیش کیا۔ یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت پاکستان کے اس عزم کا حصہ ہے جس کا مقصد مارکیٹ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جبکہ ثانوی مارکیٹ میں زیادہ گہرائی اور لیکویڈیٹی، سرمایہ کاروں کے وسیع تر دائرے، حکومت کی جانب سے زیادہ قابلِ پیش گوئی قرض گیری اور روپے میں جاری ہونے والی سیکیورٹیز سے متعلق قانونی، ٹیکس اور مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے کاروبار کے اختتامی مرحلے میں فروخت کا رجحان بڑھا دیا،جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 170,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا۔ گزشتہ روز انڈیکس 825.22 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کی کم سے 169,600.41 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بدھ کو عالمی بانڈ مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور وہ کئی برسوں میں اپنی بدترین ماہانہ کارکردگی کی جانب گامزن تھیں۔ اس کی وجہ حکومتی مالیات کی بگڑتی صورتحال، بانڈز کے اجرا کی بھرمار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ایک مشکل امتزاج ہے، جبکہ ایران کے خلاف سات ماہ سے جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے باعث توانائی کی لاگت بلند سطح پر برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسٹاک مارکیٹوں کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جو بڑی حد تک بانڈ ییلڈز میں اضافے سے متاثر نہیں ہوئیں، جبکہ ایشیائی مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض لینے کی لاگت میں اضافہ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، کیونکہ خودمختار بانڈز کی ییلڈز عالمی مارکیٹوں کے لیے ایک بنیادی حوالہ، زیادہ خطرے والے حصص میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ریفرنس قیمت اور رہن و کارپوریٹ قرض گیری کے لیے ایک بینچ مارک کا کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مستقل طور پر بلند خطرے سے پاک شرح کمپنیاں کے لیے قرضوں کی ری فنانسنگ کی لاگت بڑھاتی ہے اور اقتصادی نمو پر دباؤ ڈالتی ہے، تاہم اب تک اس کے اسٹاکس پر اثرات نسبتاً محدود رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.2 فیصد بڑھ گیا اور رواں ماہ صرف 1 فیصد سے کچھ زیادہ کمی کے ساتھ اختتام کی جانب گامزن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکیئی 0.9 فیصد بڑھا اور رواں ماہ معمولی تبدیلی کے ساتھ اختتام پذیر ہونے کی جانب گامزن تھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ماہانہ بنیاد پر 1.4 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے سے 277.11 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 568.04 ملین کے مقابلے میں بڑھ کر 591.23 ملین حصص ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 20.81 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 20.19 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک انٹرنیشنل بلک 73.45 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، اس کے بعد کوہِ نور اسپننگ کے 58.39 ملین اور تصدیق انفارمیشن کے 50.88 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو 495 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 253 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 195 میں کمی جبکہ 47 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/30183349f50ec3d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/30183349f50ec3d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے آغاز میں بینچ مارک انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی اور یہ دورانِ کاروبار کی بلند ترین سطح 171,492.52 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جس سے خریداری کے مضبوط رجحان کی عکاسی ہوئی۔</p>
<p>تاہم کاروبار آگے بڑھنے کے ساتھ ابتدائی تیزی بتدریج کم ہوگئی اور دوپہر تک انڈیکس 171,000 پوائنٹس کی سطح کے آس پاس محدود رہا، جس کے بعد ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے دوسرے نصف حصے میں بھی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل گرتے ہوئے اختتامی مرحلے میں دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 169,872.13 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، لکی سیمنٹ، فاطمہ اور ایف ایف سی شامل رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 311 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ منتخب حصص میں خریداری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 1.12 فیصد تک بڑھا، تاہم منافع کے حصول اور امریکا ایران تنازع سے پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث بیشتر تیزی ختم ہوگئی۔ انڈیکس 0.22 فیصد یومیہ اضافے سے 169,969 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں وزارت خزانہ نے منگل کو پاکستان کے مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ (ایل سی بی ایم) کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان پیش کیا۔ یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت پاکستان کے اس عزم کا حصہ ہے جس کا مقصد مارکیٹ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جبکہ ثانوی مارکیٹ میں زیادہ گہرائی اور لیکویڈیٹی، سرمایہ کاروں کے وسیع تر دائرے، حکومت کی جانب سے زیادہ قابلِ پیش گوئی قرض گیری اور روپے میں جاری ہونے والی سیکیورٹیز سے متعلق قانونی، ٹیکس اور مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنا ہے۔</p>
<p>منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے کاروبار کے اختتامی مرحلے میں فروخت کا رجحان بڑھا دیا،جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 170,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا۔ گزشتہ روز انڈیکس 825.22 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کی کم سے 169,600.41 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر بدھ کو عالمی بانڈ مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور وہ کئی برسوں میں اپنی بدترین ماہانہ کارکردگی کی جانب گامزن تھیں۔ اس کی وجہ حکومتی مالیات کی بگڑتی صورتحال، بانڈز کے اجرا کی بھرمار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ایک مشکل امتزاج ہے، جبکہ ایران کے خلاف سات ماہ سے جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے باعث توانائی کی لاگت بلند سطح پر برقرار ہے۔</p>
<p>دریں اثنا اسٹاک مارکیٹوں کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جو بڑی حد تک بانڈ ییلڈز میں اضافے سے متاثر نہیں ہوئیں، جبکہ ایشیائی مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔</p>
<p>قرض لینے کی لاگت میں اضافہ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، کیونکہ خودمختار بانڈز کی ییلڈز عالمی مارکیٹوں کے لیے ایک بنیادی حوالہ، زیادہ خطرے والے حصص میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ریفرنس قیمت اور رہن و کارپوریٹ قرض گیری کے لیے ایک بینچ مارک کا کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ مستقل طور پر بلند خطرے سے پاک شرح کمپنیاں کے لیے قرضوں کی ری فنانسنگ کی لاگت بڑھاتی ہے اور اقتصادی نمو پر دباؤ ڈالتی ہے، تاہم اب تک اس کے اسٹاکس پر اثرات نسبتاً محدود رہے ہیں۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.2 فیصد بڑھ گیا اور رواں ماہ صرف 1 فیصد سے کچھ زیادہ کمی کے ساتھ اختتام کی جانب گامزن تھا۔</p>
<p>جاپان کا نکیئی 0.9 فیصد بڑھا اور رواں ماہ معمولی تبدیلی کے ساتھ اختتام پذیر ہونے کی جانب گامزن تھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ماہانہ بنیاد پر 1.4 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے سے 277.11 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 568.04 ملین کے مقابلے میں بڑھ کر 591.23 ملین حصص ہوگیا۔</p>
<p>حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 20.81 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 20.19 ارب روپے رہی۔</p>
<p>پاک انٹرنیشنل بلک 73.45 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، اس کے بعد کوہِ نور اسپننگ کے 58.39 ملین اور تصدیق انفارمیشن کے 50.88 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>بدھ کو 495 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 253 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 195 میں کمی جبکہ 47 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/30183349f50ec3d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/30183349f50ec3d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291893</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 19:01:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3011065400d1f6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3011065400d1f6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
