<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Life &amp; Style</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 13:47:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 13:47:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹی وی کامیڈی میں نمایاں جدت کے حامل اور بااثر ہدایت کار جیمز بیروز 85 برس کی عمر میں چل بسے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287752/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ہدایت کار اور ٹیلی ویژن کے تخلیق کار جیمز بیروز، جنہوں نے ”فرینڈز“، ”چیئرز“، ”ٹیکسی“ اور متعدد دیگر مقبول کامیڈی ڈراموں کے پسِ پردہ کام کیا، انتقال کر گئے۔ یہ خبر پیپل میگزین نے جمعہ کے روز دی ہے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” ہم جیمز ’جمی‘ بیروز کی غیر معمولی زندگی اور لازوال ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جو آج اپنے پیاروں کے درمیان پرامن انداز میں انتقال کر گئے۔“ ان کے انتقال کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیروز نے ٹیلی ویژن میں بہترین کارکردگی پر 11 ایمی ایوارڈز حاصل کیے اور ایک ہزار سے زائد مقبول پروگراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی، جبکہ وہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور مصنف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 1970 کی دہائی میں اپنے شاندار کیریئر کے آغاز کے ساتھ ہی ملٹی کیمرا سِٹ کام (سیچویشن کامیڈی) کے ابتدائی جدت کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے ”دی میری ٹائلر مور شو“، ”لاورن اینڈ شرلی“ اور ”دی بوب نیوہارٹ شو“ جیسے ڈراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں پہلا ایمی ایوارڈ ”ٹیکسی“ کی ہدایت کاری پر ملا، جو نیویارک سٹی کی ایک ٹیکسی کمپنی کے عملے پر مبنی انقلابی کامیڈی تھی، جس میں ڈینی ڈیویٹو، اینڈی کافمین اور ٹونی ڈینزا نے اداکاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 236 اقساط کی ہدایت کاری کی اور طویل عرصے کے ساتھی جیمز بروکس کے ساتھ مل کر ”چیئرز“ کو تخلیق کیا، جس سے اس کا اسپن آف ”فریزیئر“ بھی سامنے آیا۔ ان کے دیگر مشہور شوز میں ”دی بگ بینگ تھیوری“، ”مائیک اینڈ مولی“ اور ”تھرڈ راک فرام دی سن“ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بیروز نے شاذ و نادر ہی اسکرین پر آ کر ”دی کم بیک“ میں بطور خود اداکاری بھی کی، جہاں انہوں نے ”فرینڈز“ کی اسٹار لیزا کُدرو کے ساتھ دوبارہ کام کیا۔ یہ شو ہالی ووڈ میں سِٹ کام کے پس منظر میں کام کرنے والی زندگی پر طنزیہ انداز پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اہلِ خانہ نے مزید کہا کہ ”پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک بیروز ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے بااثر اور محبوب ہدایت کاروں میں سے ایک رہے۔ ایک لیجنڈری ڈائریکٹر، مینٹور اور تخلیقی قوت کے طور پر انہوں نے کامیڈی کی کئی نسلوں کی تشکیل کی اور دنیا بھر کے ناظرین کو بے حد خوشی فراہم کی۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ہدایت کار اور ٹیلی ویژن کے تخلیق کار جیمز بیروز، جنہوں نے ”فرینڈز“، ”چیئرز“، ”ٹیکسی“ اور متعدد دیگر مقبول کامیڈی ڈراموں کے پسِ پردہ کام کیا، انتقال کر گئے۔ یہ خبر پیپل میگزین نے جمعہ کے روز دی ہے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔</strong></p>
<p>ان کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” ہم جیمز ’جمی‘ بیروز کی غیر معمولی زندگی اور لازوال ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جو آج اپنے پیاروں کے درمیان پرامن انداز میں انتقال کر گئے۔“ ان کے انتقال کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>بیروز نے ٹیلی ویژن میں بہترین کارکردگی پر 11 ایمی ایوارڈز حاصل کیے اور ایک ہزار سے زائد مقبول پروگراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی، جبکہ وہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور مصنف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔</p>
<p>وہ 1970 کی دہائی میں اپنے شاندار کیریئر کے آغاز کے ساتھ ہی ملٹی کیمرا سِٹ کام (سیچویشن کامیڈی) کے ابتدائی جدت کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے ”دی میری ٹائلر مور شو“، ”لاورن اینڈ شرلی“ اور ”دی بوب نیوہارٹ شو“ جیسے ڈراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی۔</p>
<p>انہیں پہلا ایمی ایوارڈ ”ٹیکسی“ کی ہدایت کاری پر ملا، جو نیویارک سٹی کی ایک ٹیکسی کمپنی کے عملے پر مبنی انقلابی کامیڈی تھی، جس میں ڈینی ڈیویٹو، اینڈی کافمین اور ٹونی ڈینزا نے اداکاری کی۔</p>
<p>انہوں نے 236 اقساط کی ہدایت کاری کی اور طویل عرصے کے ساتھی جیمز بروکس کے ساتھ مل کر ”چیئرز“ کو تخلیق کیا، جس سے اس کا اسپن آف ”فریزیئر“ بھی سامنے آیا۔ ان کے دیگر مشہور شوز میں ”دی بگ بینگ تھیوری“، ”مائیک اینڈ مولی“ اور ”تھرڈ راک فرام دی سن“ شامل ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں بیروز نے شاذ و نادر ہی اسکرین پر آ کر ”دی کم بیک“ میں بطور خود اداکاری بھی کی، جہاں انہوں نے ”فرینڈز“ کی اسٹار لیزا کُدرو کے ساتھ دوبارہ کام کیا۔ یہ شو ہالی ووڈ میں سِٹ کام کے پس منظر میں کام کرنے والی زندگی پر طنزیہ انداز پیش کرتا ہے۔</p>
<p>ان کے اہلِ خانہ نے مزید کہا کہ ”پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک بیروز ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے بااثر اور محبوب ہدایت کاروں میں سے ایک رہے۔ ایک لیجنڈری ڈائریکٹر، مینٹور اور تخلیقی قوت کے طور پر انہوں نے کامیڈی کی کئی نسلوں کی تشکیل کی اور دنیا بھر کے ناظرین کو بے حد خوشی فراہم کی۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287752</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 17:02:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/201653385cc9bc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/201653385cc9bc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیجنڈری بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے ممبئی میں چل بسیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بالی وڈ کی ورسٹائل گلوکارہ آشا بھوسلے ممبئی میں چل بسیں،ان کی عمر 92 برس تھی۔ سات دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگانے والی آشا بھوسلے نے فلمی موسیقی کو ایک نئی پہچان دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر اپنے پیغام میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ان کا غیر معمولی موسیقی کا سفر، جو دہائیوں پر محیط تھا، ہمارے ثقافتی ورثے کے لیے ایک سرمایہ رہا اور اس نے دنیا بھر کے ان گنت دلوں کو چھو لیا۔ ان کی آواز، خواہ وہ سریلی دھنیں ہوں یا متحرک کمپوزیشن  ہمیشہ ایک لازوال چمک لیے ہوئے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی پوتی زنائی بھوسلے کے مطابق آشا بھوسلے کو ہفتے کی شام سینے میں انفیکشن اور نقاہت کے باعث ممبئی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً سات دہائیوں پر محیط طویل فنی سفر طے کرنے والی آشا بھوسلے بھارت کی ایک اورعظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں۔اپنے شاندار کیریئر کے دوران آشا بھوسلے دو  گریمی ایوارڈز  کے لیے نامزد ہوئیں جبکہ انہیں بھارت کے سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور ملک کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بالی وڈ کی ورسٹائل گلوکارہ آشا بھوسلے ممبئی میں چل بسیں،ان کی عمر 92 برس تھی۔ سات دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگانے والی آشا بھوسلے نے فلمی موسیقی کو ایک نئی پہچان دی تھی۔</strong></p>
<p>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر اپنے پیغام میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ان کا غیر معمولی موسیقی کا سفر، جو دہائیوں پر محیط تھا، ہمارے ثقافتی ورثے کے لیے ایک سرمایہ رہا اور اس نے دنیا بھر کے ان گنت دلوں کو چھو لیا۔ ان کی آواز، خواہ وہ سریلی دھنیں ہوں یا متحرک کمپوزیشن  ہمیشہ ایک لازوال چمک لیے ہوئے تھی۔</p>
<p>ان کی پوتی زنائی بھوسلے کے مطابق آشا بھوسلے کو ہفتے کی شام سینے میں انفیکشن اور نقاہت کے باعث ممبئی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p>تقریباً سات دہائیوں پر محیط طویل فنی سفر طے کرنے والی آشا بھوسلے بھارت کی ایک اورعظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں۔اپنے شاندار کیریئر کے دوران آشا بھوسلے دو  گریمی ایوارڈز  کے لیے نامزد ہوئیں جبکہ انہیں بھارت کے سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور ملک کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284961</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 14:22:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/121413515e63838.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/121413515e63838.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپاہ وائرس : بھارت میں پھیلاؤ کے بعد سندھ حکومت کا سرحدوں پر سخت نگرانی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محکمہ صحت سندھ نے سرحدی نگرانی بڑھانے کی کوششوں کے تحت حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر کے ذریعے آنے والے کسی بھی مشتبہ نیپاہ وائرس (این آئی وی) کے کیس یا دماغی سوزش  کی علامات ظاہر کرنے والے مریضوں کی جلد تشخیص کو یقینی بنائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ صحت نے یہ الرٹ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں جاری کیا ہے۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ  نیپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو سانس کی شدید بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ابھی تک کسی انسانی کیس کی اطلاع نہیں ملی، تاہم جنوبی ایشیا میں ایک تشویشناک صورتحال ابھر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الرٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے علاقے مغربی بنگال میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جہاں کولکتہ میں طبی عملے سمیت کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 40 سے 75 فیصد تک بلند شرحِ اموات اور انسان سے انسان میں منتقلی کے خطرے کے پیش نظر خطے کے تمام محکمہ صحت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/989258847/Alert-Advisory-on-Nipah-Virus#from_embed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--scribd  '&gt;&lt;iframe src='https://www.scribd.com/embeds/989258847/content?start_page=1&amp;view_mode=scroll&amp;show_recommendations=falseAlert-Advisory-on-Nipah-Virus#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے محکمہ صحت نے ایک خط کے ذریعے بارڈر ہیلتھ سروسز (پی ایچ ایس) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ محکمے نے تنہائی (آئیسولیشن)، نمونوں کی ترسیل اور انفیکشن کنٹرول کے لیے ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طبی ماہرین کو منتقلی کے ذرائع (جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں) کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ نے ریپڈ رسپانس ٹیموں (آرآرٹیز) اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (پی ایچ ای او سیز) کو بھی ہمہ وقت تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیپاہ-وائرس" href="#نیپاہ-وائرس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نیپاہ وائرس&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نیپاہ وائرس کا تعلق پیرامیکسوویریڈے خاندان کے  ہینی پاوائرس  جینس سے ہے۔ اسے عالمی ادارہ صحت (ایچ ڈبلیواو) نے وبائی صلاحیت رکھنے والی ترجیحی بیماریوں کی فہرست میں رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے کی سوزش شامل ہیں۔ یہ بیماری شدید دماغی سوزش کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں چکر آنا، غنودگی، ہوش و حواس کی تبدیلی اور دورے پڑنا شامل ہیں، جو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کو کومہ میں لے جا سکتے ہیں۔ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا عرصہ عام طور پر 4 سے 14 دن ہوتا ہے، تاہم 45 دن تک کا طویل عرصہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپاہ وائرس بنیادی طور پر درج ذیل ذرائع سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ چمگادڑوں کے لعاب یا پیشاب سے آلودہ پھلوں یا پھلوں سے بنی مصنوعات (جیسے کھجور کا کچا رس) کا استعمال۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ جانوروں خاص طور پر چمگادڑوں یا خنزیروں کے ساتھ براہِ راست رابطہ۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ انسان کے جسمانی رطوبتوں کے ساتھ قریبی اور غیر محفوظ رابطہ، جو اکثر اسپتالوں میں طبی نگہداشت کے دوران ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;فی الحال نیپاہ وائرس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا لائسنس یافتہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ علاج کی بنیاد بنیادی طور پر مریض کو طبی امداد  فراہم کرنے پر ہے جس میں بخار، سانس کی تکلیف اور اعصابی پیچیدگیوں کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ شدید بیمار مریضوں کو اکثر انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) اور مصنوعی تنفس (وینٹی لیٹر) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین  نامی دوا کی طبی تاثیر ابھی غیر حتمی ہے، اس لیے اسے باقاعدہ تجویز نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کی عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت کا ایمرجنسی سینٹر (این آئی ایچ ،پی ایچ ای او سی) اس وقت الرٹ ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ بھارتی کیسز سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے اور ابھی تک انسان سے انسان میں منتقلی کی شرح میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محکمہ صحت سندھ نے سرحدی نگرانی بڑھانے کی کوششوں کے تحت حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر کے ذریعے آنے والے کسی بھی مشتبہ نیپاہ وائرس (این آئی وی) کے کیس یا دماغی سوزش  کی علامات ظاہر کرنے والے مریضوں کی جلد تشخیص کو یقینی بنائیں۔</strong></p>
<p>محکمہ صحت نے یہ الرٹ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں جاری کیا ہے۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ  نیپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو سانس کی شدید بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ابھی تک کسی انسانی کیس کی اطلاع نہیں ملی، تاہم جنوبی ایشیا میں ایک تشویشناک صورتحال ابھر رہی ہے۔</p>
<p>الرٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے علاقے مغربی بنگال میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جہاں کولکتہ میں طبی عملے سمیت کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 40 سے 75 فیصد تک بلند شرحِ اموات اور انسان سے انسان میں منتقلی کے خطرے کے پیش نظر خطے کے تمام محکمہ صحت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/989258847/Alert-Advisory-on-Nipah-Virus#from_embed'>
        <div class='media__item  media__item--scribd  '><iframe src='https://www.scribd.com/embeds/989258847/content?start_page=1&view_mode=scroll&show_recommendations=falseAlert-Advisory-on-Nipah-Virus#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سندھ کے محکمہ صحت نے ایک خط کے ذریعے بارڈر ہیلتھ سروسز (پی ایچ ایس) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ محکمے نے تنہائی (آئیسولیشن)، نمونوں کی ترسیل اور انفیکشن کنٹرول کے لیے ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طبی ماہرین کو منتقلی کے ذرائع (جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں) کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ نے ریپڈ رسپانس ٹیموں (آرآرٹیز) اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (پی ایچ ای او سیز) کو بھی ہمہ وقت تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<h3><a id="نیپاہ-وائرس" href="#نیپاہ-وائرس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نیپاہ وائرس</strong></h3>
<p>نیپاہ وائرس کا تعلق پیرامیکسوویریڈے خاندان کے  ہینی پاوائرس  جینس سے ہے۔ اسے عالمی ادارہ صحت (ایچ ڈبلیواو) نے وبائی صلاحیت رکھنے والی ترجیحی بیماریوں کی فہرست میں رکھا ہے۔</p>
<p>ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے کی سوزش شامل ہیں۔ یہ بیماری شدید دماغی سوزش کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں چکر آنا، غنودگی، ہوش و حواس کی تبدیلی اور دورے پڑنا شامل ہیں، جو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کو کومہ میں لے جا سکتے ہیں۔ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا عرصہ عام طور پر 4 سے 14 دن ہوتا ہے، تاہم 45 دن تک کا طویل عرصہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>نیپاہ وائرس بنیادی طور پر درج ذیل ذرائع سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے:</p>
<ol>
<li>
<p>متاثرہ چمگادڑوں کے لعاب یا پیشاب سے آلودہ پھلوں یا پھلوں سے بنی مصنوعات (جیسے کھجور کا کچا رس) کا استعمال۔</p>
</li>
<li>
<p>متاثرہ جانوروں خاص طور پر چمگادڑوں یا خنزیروں کے ساتھ براہِ راست رابطہ۔</p>
</li>
<li>
<p>متاثرہ انسان کے جسمانی رطوبتوں کے ساتھ قریبی اور غیر محفوظ رابطہ، جو اکثر اسپتالوں میں طبی نگہداشت کے دوران ہوتا ہے۔</p>
</li>
</ol>
<p>فی الحال نیپاہ وائرس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا لائسنس یافتہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ علاج کی بنیاد بنیادی طور پر مریض کو طبی امداد  فراہم کرنے پر ہے جس میں بخار، سانس کی تکلیف اور اعصابی پیچیدگیوں کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ شدید بیمار مریضوں کو اکثر انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) اور مصنوعی تنفس (وینٹی لیٹر) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین  نامی دوا کی طبی تاثیر ابھی غیر حتمی ہے، اس لیے اسے باقاعدہ تجویز نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>صورتحال کی عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت کا ایمرجنسی سینٹر (این آئی ایچ ،پی ایچ ای او سی) اس وقت الرٹ ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ بھارتی کیسز سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے اور ابھی تک انسان سے انسان میں منتقلی کی شرح میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282207</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 15:26:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/291513493f101cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/291513493f101cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بالی وڈ لیجنڈ دھرمیندر چل بسے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279716/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی اداکار دھرمیندر دیول، جو دھرمیندر کے نام سے مشہور تھے، صحت کی خرابی کے باعث پیر کے روز چل بسے، ان کی عمر 89 برس تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعلے فلم کے اداکار دھرمیندر کے پس ماندگان میں ان کی دو بیویاں، پرکاش کور اور اداکارہ ہیما مالنی، اور ان کے بچے سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا دیول، اجیتا دیول، ایشا دیول اور آہانا دیول شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے انتقال کی خبر کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دھرمیندر جی کا جانا بھارتی سنیما کے ایک عہد کے اختتام کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ دھرمیندر جی کو ان کی سادگی، انکساری اور گرمجوشی کی وجہ سے بھی یکساں طور پر سراہا جاتا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں میری ہمدردیاں ان کے خاندان، دوستوں اور بے شمار مداحوں کے ساتھ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/1992884677124690030?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1992884677124690030%7Ctwgr%5E95297fe807cc280047154d820dca7cf0c09d96d2%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40393971'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1992884677124690030?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1992884677124690030%7Ctwgr%5E95297fe807cc280047154d820dca7cf0c09d96d2%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40393971"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرن جوہر نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ہم آپ کو بہت یاد کریں گے…. آج جنت کو برکت ملی ہے…. آپ کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ میرے لیے باعث فخر رہے گا….&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“یہ ایک عہد کا خاتمہ ہے….. ایک عظیم سپر اسٹار… مین اسٹریم سنیما میں ایک ہیرو کی مکمل تصویر… بے حد خوبصورت اور نہایت پراسرار اسکرین موجودگی کے حامل … وہ بھارتی سنیما کا ایک حقیقی لیجنڈ تھے اور ہمیشہ رہیں گے… سنیما کی تاریخ کے صفحات میں گہرائی کے ساتھ درج اور نمایاں موجود۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار بومن ایرانی نے بھی اس لیجنڈ کو خراج عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ خوبصورت چہرہ، مگر اس کے باوجود وہ ایسی مہربانی بکھیرتے تھے جو کسی اور میں نہ تھی۔ جہاں ضروری ہوتا وہاں شدید، اور کسی اور دن معصوم اور ہنس مکھ۔ ان میں ہر کسی کے لیے کچھ نہ کچھ تھا۔ کچھ کے لیے رومانوی، دوسروں کے لیے مردانہ وقار کی علامت، مگر سب کے لیے نہایت شفیق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار فرحان اختر نے ان کی موت کو پوری فلم انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ چھ دہائیوں پر محیط تفریح کے لیے آپ کا شکریہ۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے آپ کی گرمجوشی، مہربانی، سخاوت، دلکشی، شدت اور بذلہ سنجی کو اسکرین پر اور اس سے باہر بھی محسوس کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ کچھ ہوتا ہے کی اسٹار کاجول نے بھی انسٹاگرام پر ”او جی آف دی گڈ مین“ قرار دیکر ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھرمیندر نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کی، جن میں شعلے، سیتا اور گیتا اور چپکے چپکے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی اداکار دھرمیندر دیول، جو دھرمیندر کے نام سے مشہور تھے، صحت کی خرابی کے باعث پیر کے روز چل بسے، ان کی عمر 89 برس تھی۔</strong></p>
<p>شعلے فلم کے اداکار دھرمیندر کے پس ماندگان میں ان کی دو بیویاں، پرکاش کور اور اداکارہ ہیما مالنی، اور ان کے بچے سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا دیول، اجیتا دیول، ایشا دیول اور آہانا دیول شامل ہیں۔</p>
<p>ان کے انتقال کی خبر کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دھرمیندر جی کا جانا بھارتی سنیما کے ایک عہد کے اختتام کی علامت ہے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ دھرمیندر جی کو ان کی سادگی، انکساری اور گرمجوشی کی وجہ سے بھی یکساں طور پر سراہا جاتا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں میری ہمدردیاں ان کے خاندان، دوستوں اور بے شمار مداحوں کے ساتھ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/1992884677124690030?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1992884677124690030%7Ctwgr%5E95297fe807cc280047154d820dca7cf0c09d96d2%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40393971'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1992884677124690030?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1992884677124690030%7Ctwgr%5E95297fe807cc280047154d820dca7cf0c09d96d2%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40393971"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کرن جوہر نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ہم آپ کو بہت یاد کریں گے…. آج جنت کو برکت ملی ہے…. آپ کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ میرے لیے باعث فخر رہے گا….</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DRbpzqYCMV3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=db02522d-0265-4ec7-8111-8e18ab41190b" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>“یہ ایک عہد کا خاتمہ ہے….. ایک عظیم سپر اسٹار… مین اسٹریم سنیما میں ایک ہیرو کی مکمل تصویر… بے حد خوبصورت اور نہایت پراسرار اسکرین موجودگی کے حامل … وہ بھارتی سنیما کا ایک حقیقی لیجنڈ تھے اور ہمیشہ رہیں گے… سنیما کی تاریخ کے صفحات میں گہرائی کے ساتھ درج اور نمایاں موجود۔”</p>
<p>اداکار بومن ایرانی نے بھی اس لیجنڈ کو خراج عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ خوبصورت چہرہ، مگر اس کے باوجود وہ ایسی مہربانی بکھیرتے تھے جو کسی اور میں نہ تھی۔ جہاں ضروری ہوتا وہاں شدید، اور کسی اور دن معصوم اور ہنس مکھ۔ ان میں ہر کسی کے لیے کچھ نہ کچھ تھا۔ کچھ کے لیے رومانوی، دوسروں کے لیے مردانہ وقار کی علامت، مگر سب کے لیے نہایت شفیق۔</p>
<p>اداکار فرحان اختر نے ان کی موت کو پوری فلم انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ چھ دہائیوں پر محیط تفریح کے لیے آپ کا شکریہ۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے آپ کی گرمجوشی، مہربانی، سخاوت، دلکشی، شدت اور بذلہ سنجی کو اسکرین پر اور اس سے باہر بھی محسوس کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DRbrfldEwXp/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=02df562c-1d3b-4ed9-8cc4-619be5a55a46" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>کچھ کچھ ہوتا ہے کی اسٹار کاجول نے بھی انسٹاگرام پر ”او جی آف دی گڈ مین“ قرار دیکر ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DRbtnZ9AuaS/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=40882f9e-7863-402c-a049-93b2bff25d01" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>دھرمیندر نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کی، جن میں شعلے، سیتا اور گیتا اور چپکے چپکے شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279716</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 15:21:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/24151745f0ffd4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/24151745f0ffd4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ 10 سال میں اے آئی بڑی بیماریوں کی تشخیص و خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277310/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت نے صحت کے شعبے کو موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تیزی سے اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی دریافت اور تجویز، اور مضر ضمنی اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادویات بنانے والے شعبے نے پیر کے روز ایک سرکاری ورکشاپ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ورکشاپ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے زیر اہتمام بدھ کو منعقد ہونے والے آٹھویں فارما سمٹ سے قبل منعقد کی گئی، جس کا عنوان ہے: ”فارما کا مستقبل: ادویات کی دریافت اور شخصی علاج کے لیے مصنوعی ذہانت کا انضمام“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، جنریٹیو اے آئی اور انقلابی ٹیکنالوجی کے ماہر، بیسٹ سیلر مصنف، اور ٹیک ( ٹی ای سی) کینیڈا 2024 کے سال کے مقرر جم ہیرس نے کہا کہ ”گوگل ڈیپ مائنڈ کے بانی ڈیمِس ہسابِس، جنہیں 2024 میں کیمیا کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر نوبیل انعام ملا ہے، نے کہا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں تمام بڑی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو دوا ساز صنعت کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل الفا فولڈ (AlphaFold) کو دوا سازی کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے مرکبات دریافت کیے جا سکیں جو کینسر کو اس کی ابتدائی ترین سطح، یعنی اسٹیج زیرو، پر ہی روک سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جم ہیرس نے بتایا کہ ماضی میں جس پروٹین کو سمجھنے اور نقشہ سازی کے لیے ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کو پانچ سال درکار ہوتے تھے، الفا فولڈ نے وہی کام محض دو سیکنڈ میں کر دکھایا۔ ان کے بقول، ”یہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں ارب گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا نے ایک جدید پِل کیم ( PillCam) ایجاد کی ہے، جو دنیا کے سب سے چھوٹے میڈیکل کیمروں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک نگلنے کے قابل کیپسول نما آلہ ہے، جس میں دو کیمرے اور وائی فائی ٹرانسمیٹرز نصب ہیں۔ یہ آلہ مریض کے معدے اور بالخصوص چھوٹی آنت کے اندرونی حصوں کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں بعد ازاں اے آئی کی مدد سے تجزیہ کر کے قبل از کینسر پولپس ( پری کینسرس پولپس) کی موجودگی کا پتا لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح اے آئی خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کے ٹیومرز اور دیگر بیماریوں کی تشخیص میں استعمال ہو رہی ہے، ایک ایسا عمل جو طب کے شعبے میں نئی راہیں کھول رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے معروف عالمی ماہرِ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انقلابی تبدیلیوں کے داعی جم ہیرس نے مزید بتایا کہ کس طرح اے آئی مریضوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے لیے طویل انتظار سے نجات دلا رہی ہے۔ ”جہاں ماضی میں اپائنٹمنٹ کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا، وہاں اب صرف چند دنوں میں ورچوئل کنسلٹیشن ممکن ہو چکی ہے،زوم( Zoom)، ٹیلی میڈیسن اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے“، انہوں نے کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان میں چند مقامی دوا ساز کمپنیاں پہلے ہی مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر چکی ہیں تاکہ دوا سازی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے اور دواؤں کے ممکنہ منفی اثرات کی بروقت تشخیص کی جا سکے۔
یہ کمپنیاں DiBot جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے مریضوں سے رابطہ قائم کر رہی ہیں، ٹیلی میڈیسن کا استعمال کر رہی ہیں اور براہِ راست صارفین تک رسائی ( ڈائریکٹ ٹو کنزیومر یعنی ڈی ٹی سی) ماڈل کے تحت اپنی ای کامرس پلیٹ فارم بھی متعارف کرا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے جم ہیرس نے کہا کہ ”اے آئی انسانیت کی جانب سے تخلیق کردہ سب سے طاقتور ٹول ہے۔ یہ واقعی ہر کمپنی اور ہر شعبے کو تبدیل کر رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اے آئی نہ صرف دوا کی دریافت کے عمل کو تیز کر سکتی ہے بلکہ اداروں کے اندر دہرائے جانے والے، سست اور غیر مؤثر طریقہ کار کو بھی مؤثر اور تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہ مریضوں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کہ ان کی بیماری اصل میں کیا ہے۔ کینیڈا میں ہم نے ایسے کئی کیسز میں اے آئی کا استعمال کیا جہاں مختلف ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹس کی موجودگی میں بھی تشخیص ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایک نمایاں مثال دواؤں کے منفی اثرات کی ہے، جب ایک ہی مریض کو مختلف ماہرین کی جانب سے مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ مریض پہلے سے کیا کچھ استعمال کر رہا ہے۔ اے آئی اس مسئلے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کو دوا سازی، مارکیٹنگ اور دواؤں کی برآمدات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی دوا ساز ادارے اپنی عالمی رسائی بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے پہلے ہی کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اے آئی کی موثر کارکردگی کے لیے ڈیٹا کی دستیابی بنیادی شرط ہے، جب کہ پاکستان میں مریضوں، بیماریوں اور دیگر متعلقہ امور کا کوئی قومی سطح کا مربوط ڈیٹا بیس موجود نہیں، جو ایک سنگین رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے یہ بھی کہا کہ ملک میں اے آئی کا استعمال خود تشخیصی یا خود علاج (سیلف میڈیکشن) کے رجحان کو بھی فروغ دے رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ایک ہی علامت کے لیے مختلف حالات میں مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں، اور غلط استعمال سے نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین توقیر الحق نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فارما انڈسٹری میں اعلیٰ کارکردگی، پیداواری صلاحیت، مارکیٹنگ اور برآمدات میں نمایاں بہتری کا ذریعہ بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کے شرکاء نے فارما انڈسٹری میں اے آئی کے استعمال سے متعلق مثبت فیڈبیک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت نے صحت کے شعبے کو موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تیزی سے اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی دریافت اور تجویز، اور مضر ضمنی اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ادویات بنانے والے شعبے نے پیر کے روز ایک سرکاری ورکشاپ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ورکشاپ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے زیر اہتمام بدھ کو منعقد ہونے والے آٹھویں فارما سمٹ سے قبل منعقد کی گئی، جس کا عنوان ہے: ”فارما کا مستقبل: ادویات کی دریافت اور شخصی علاج کے لیے مصنوعی ذہانت کا انضمام“۔</p>
<p>ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، جنریٹیو اے آئی اور انقلابی ٹیکنالوجی کے ماہر، بیسٹ سیلر مصنف، اور ٹیک ( ٹی ای سی) کینیڈا 2024 کے سال کے مقرر جم ہیرس نے کہا کہ ”گوگل ڈیپ مائنڈ کے بانی ڈیمِس ہسابِس، جنہیں 2024 میں کیمیا کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر نوبیل انعام ملا ہے، نے کہا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں تمام بڑی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو دوا ساز صنعت کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔“</p>
<p>گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل الفا فولڈ (AlphaFold) کو دوا سازی کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے مرکبات دریافت کیے جا سکیں جو کینسر کو اس کی ابتدائی ترین سطح، یعنی اسٹیج زیرو، پر ہی روک سکیں۔</p>
<p>جم ہیرس نے بتایا کہ ماضی میں جس پروٹین کو سمجھنے اور نقشہ سازی کے لیے ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کو پانچ سال درکار ہوتے تھے، الفا فولڈ نے وہی کام محض دو سیکنڈ میں کر دکھایا۔ ان کے بقول، ”یہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں ارب گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا نے ایک جدید پِل کیم ( PillCam) ایجاد کی ہے، جو دنیا کے سب سے چھوٹے میڈیکل کیمروں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک نگلنے کے قابل کیپسول نما آلہ ہے، جس میں دو کیمرے اور وائی فائی ٹرانسمیٹرز نصب ہیں۔ یہ آلہ مریض کے معدے اور بالخصوص چھوٹی آنت کے اندرونی حصوں کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں بعد ازاں اے آئی کی مدد سے تجزیہ کر کے قبل از کینسر پولپس ( پری کینسرس پولپس) کی موجودگی کا پتا لگایا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح اے آئی خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کے ٹیومرز اور دیگر بیماریوں کی تشخیص میں استعمال ہو رہی ہے، ایک ایسا عمل جو طب کے شعبے میں نئی راہیں کھول رہا ہے۔</p>
<p>ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے معروف عالمی ماہرِ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انقلابی تبدیلیوں کے داعی جم ہیرس نے مزید بتایا کہ کس طرح اے آئی مریضوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے لیے طویل انتظار سے نجات دلا رہی ہے۔ ”جہاں ماضی میں اپائنٹمنٹ کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا، وہاں اب صرف چند دنوں میں ورچوئل کنسلٹیشن ممکن ہو چکی ہے،زوم( Zoom)، ٹیلی میڈیسن اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے“، انہوں نے کہا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان میں چند مقامی دوا ساز کمپنیاں پہلے ہی مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر چکی ہیں تاکہ دوا سازی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے اور دواؤں کے ممکنہ منفی اثرات کی بروقت تشخیص کی جا سکے۔
یہ کمپنیاں DiBot جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے مریضوں سے رابطہ قائم کر رہی ہیں، ٹیلی میڈیسن کا استعمال کر رہی ہیں اور براہِ راست صارفین تک رسائی ( ڈائریکٹ ٹو کنزیومر یعنی ڈی ٹی سی) ماڈل کے تحت اپنی ای کامرس پلیٹ فارم بھی متعارف کرا چکی ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے جم ہیرس نے کہا کہ ”اے آئی انسانیت کی جانب سے تخلیق کردہ سب سے طاقتور ٹول ہے۔ یہ واقعی ہر کمپنی اور ہر شعبے کو تبدیل کر رہا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اے آئی نہ صرف دوا کی دریافت کے عمل کو تیز کر سکتی ہے بلکہ اداروں کے اندر دہرائے جانے والے، سست اور غیر مؤثر طریقہ کار کو بھی مؤثر اور تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>”یہ مریضوں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کہ ان کی بیماری اصل میں کیا ہے۔ کینیڈا میں ہم نے ایسے کئی کیسز میں اے آئی کا استعمال کیا جہاں مختلف ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹس کی موجودگی میں بھی تشخیص ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایک نمایاں مثال دواؤں کے منفی اثرات کی ہے، جب ایک ہی مریض کو مختلف ماہرین کی جانب سے مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ مریض پہلے سے کیا کچھ استعمال کر رہا ہے۔ اے آئی اس مسئلے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کو دوا سازی، مارکیٹنگ اور دواؤں کی برآمدات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی دوا ساز ادارے اپنی عالمی رسائی بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے پہلے ہی کوشاں ہیں۔</p>
<p>تاہم ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اے آئی کی موثر کارکردگی کے لیے ڈیٹا کی دستیابی بنیادی شرط ہے، جب کہ پاکستان میں مریضوں، بیماریوں اور دیگر متعلقہ امور کا کوئی قومی سطح کا مربوط ڈیٹا بیس موجود نہیں، جو ایک سنگین رکاوٹ ہے۔</p>
<p>شرکاء نے یہ بھی کہا کہ ملک میں اے آئی کا استعمال خود تشخیصی یا خود علاج (سیلف میڈیکشن) کے رجحان کو بھی فروغ دے رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ایک ہی علامت کے لیے مختلف حالات میں مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں، اور غلط استعمال سے نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین توقیر الحق نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فارما انڈسٹری میں اعلیٰ کارکردگی، پیداواری صلاحیت، مارکیٹنگ اور برآمدات میں نمایاں بہتری کا ذریعہ بنے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کے شرکاء نے فارما انڈسٹری میں اے آئی کے استعمال سے متعلق مثبت فیڈبیک دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277310</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Sep 2025 19:55:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/221914537febfa1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/221914537febfa1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈبلیو ڈبلیو ای کے معروف ریسلر ہلک ہوگن 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1980 کی دہائی میں پروفیشنل ریسلنگ کی عالمی شناخت بننے والے معروف ریسلر ہلک ہوگن 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ یہ اطلاع  امریکی میڈیا نے جمعرات کے روز دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این بی سی نیوز کے مطابق ہلک ہوگن نے فلوریڈا میں واقع اپنے گھر پر وفات پائی۔ ان کے مینیجر کرس وولو نے اس خبر کی تصدیق کی ہے جبکہ ٹی ایم زیڈ نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کو یہ جان کر افسوس ہوا ہے کہ ہال آف فیم کے رکن ہلک ہوگن کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ پاپ کلچر کی ان چند نمایاں شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے 1980 کی دہائی میں ڈبلیو ڈبلیو ای کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WWE/status/1948414335153230023"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ای نے ہلک ہوگن کے اہلِ خانہ، دوستوں اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>1980 کی دہائی میں پروفیشنل ریسلنگ کی عالمی شناخت بننے والے معروف ریسلر ہلک ہوگن 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ یہ اطلاع  امریکی میڈیا نے جمعرات کے روز دی ہے۔</strong></p>
<p>این بی سی نیوز کے مطابق ہلک ہوگن نے فلوریڈا میں واقع اپنے گھر پر وفات پائی۔ ان کے مینیجر کرس وولو نے اس خبر کی تصدیق کی ہے جبکہ ٹی ایم زیڈ نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔</p>
<p>ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کو یہ جان کر افسوس ہوا ہے کہ ہال آف فیم کے رکن ہلک ہوگن کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ پاپ کلچر کی ان چند نمایاں شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے 1980 کی دہائی میں ڈبلیو ڈبلیو ای کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WWE/status/1948414335153230023"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ای نے ہلک ہوگن کے اہلِ خانہ، دوستوں اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275058</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 22:05:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/242148532e14439.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/242148532e14439.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بھارت کشیدگی نے فلم و موسیقی کا رشتہ توڑ دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274162/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب بھارت اور پاکستان کی طاقتور افواج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، تب ایک اور محاذ پر — ثقافتی میدان میں — ایک الگ جنگ لڑی جا رہی تھی، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک برسوں سے فلموں اور موسیقی کے مشترکہ شوق سے جُڑے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے اوائل میں ہونے والی مہلک لڑائی — جو دہائیوں میں سب سے بدترین تھی — نے اُن فنکاروں کو بھی متاثر کیا جو اس سے قبل دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان کشیدگی سے محفوظ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ریپر اور مزاحیہ فنکار علی گل پیر، جن کے بھارت میں بھی لاکھوں مداح موجود ہیں، نے چند سال قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مذاق اُڑاتے ہوئے ایک گانا جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب تو اُن پر کوئی خاص ردِعمل سامنے نہ آیا، لیکن مئی میں اُن کا یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام پروفائل بھارت میں بلاک کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی گل پیر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھارتی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ڈیجیٹل اسپیس دراصل پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے — اور وہ اُسے کاٹنے کے درپے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ تعلقات کی یہ خرابی اپریل میں بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے سے شروع ہوئی، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن اس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی سطح پر سخت ردِعمل دیا اور پھر چار دن تک جنگی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد جنگ بندی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع پہلی بار موسیقی کی صنعت کو بھی متاثر کر گیا۔ پاکستانی گلوکارہ انورال خالد نے یاد کیا کہ کس طرح ان کے بھارتی سامعین کی تعداد میں واضح کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ دہلی میرے سامعین کا سب سے بڑا شہر تھا، مگر پابندی کے بعد یہ سب ختم ہو گیا۔ مجھے سامعین کے معاملے میں بہت نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انورال خالد نے مزید کہا کہ لوگوں کو موسیقی سے محروم کر دیا گیا کیونکہ اسے وہ کچھ بنا دیا گیا جو وہ ہے ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازعہ سابقہ فنکارانہ تعاون کو بھی مٹا گیا۔ مثال کے طور پر 2017 کی فلم رئیس کا ساؤنڈ ٹریک اب بھارت میں اسپاٹی فائی پر دستیاب نہیں، اور اب صرف بھارتی اداکار شاہ رخ خان کا نام ظاہر ہوتا ہے، پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہماری تکلیفیں ایک جیسی ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ہر سال چند ہی فلمیں سخت سنسر شپ قوانین کے تحت بنتی ہیں، اسی لیے بالی ووڈ یہاں ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فلم نقاد سجیر شیخ نے کہا کہ میں نے بالی ووڈ دیکھتے ہوئے ہوش سنبھالا۔ ہماری تاریخ ایک جیسی ہے، ہماری تکلیفیں ایک جیسی ہیں، ہماری کہانیاں بھی ایک جیسی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی اداکار اور ہدایتکار عشروں سے بالی ووڈ تک پہنچنا سب سے بڑی کامیابی سمجھتے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس ماہ بھارتی اداکار دلجیت دوسانج نے اعلان کیا کہ ان کی نئی فلم سردار جی 3 جس میں چار پاکستانی اداکار شامل ہیں، صرف بیرونِ ملک ریلیز کی جائے گی کیونکہ نئی دہلی نے پاکستانی فنکاروں اور مواد پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، پاکستانی اداکار فواد خان اور بھارتی اداکارہ وانی کپور کی فلم ابیر گُلال جو 9 مئی کو بھارتی سینما گھروں میں ریلیز ہونا تھی، اُس کی ریلیز ملتوی کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ فنکار جو ماضی میں سرحد پار فن کے تبادلے کے حامی تھے، انہوں نے بھی گزشتہ ماہ اپنا مؤقف بدل لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اداکار سنیل شیٹی، جنہیں پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل ہے، نے کہا کہ سب کچھ بند کر دینا چاہیے… کرکٹ، فلمیں، سب کچھ…&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے وہ 2004 کی فلم میں ہوں نا میں جلوہ گر ہوئے تھے، جس کا مرکزی پیغام ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی ترویج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وارنر برادرز ساؤتھ ایشیا کی میوزک لیبل پاکستان کی اسسٹنٹ منیجر دعا زہرا نے کہا کہ یہ سیاست کی بدقسمتی ہے جو فن کے گرد سرحدیں کھینچ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئیے صرف فن بنائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشمیر حملے کے بعد نئی دہلی نے جن پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی، اُن میں نجی براڈکاسٹر ہم ٹی وی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چینل، جس کے مطابق اس کے تقریباً 40 فیصد ناظرین بھارت سے ہوتے ہیں، نے اپنے شائقین سے بس اتنا کہا کہ وی پی این استعمال کریں اور دیکھتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کے گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے بھارتی نقاد اور فلمساز خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ بالی ووڈ اب تیزی سے ان کی حکومت کی ہندو قوم پرستانہ نظریاتی پالیسیوں کی تشہیر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تنازع ثقافتی منظرنامے پر دراڑیں ڈال رہا ہے، مگر اس کے باوجود فنکارانہ تبادلہ جاری رہنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے ایک ماہ بعد بھی پاکستان میں نیٹ فلکس کی ٹاپ 10 فہرست میں تین بھارتی فلمیں شامل تھیں، جبکہ بھارت میں ٹاپ 20 گانوں میں دو پاکستانی گانے بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی گل پیر، جو ریپر اور مزاحیہ فنکار ہیں، نے کہا کہ وہ لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئیے جنگ نہ کریں، صرف فن تخلیق کریں۔ آئیے ایک دوسرے پر بم نہ گرائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب بھارت اور پاکستان کی طاقتور افواج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، تب ایک اور محاذ پر — ثقافتی میدان میں — ایک الگ جنگ لڑی جا رہی تھی، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک برسوں سے فلموں اور موسیقی کے مشترکہ شوق سے جُڑے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>مئی کے اوائل میں ہونے والی مہلک لڑائی — جو دہائیوں میں سب سے بدترین تھی — نے اُن فنکاروں کو بھی متاثر کیا جو اس سے قبل دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان کشیدگی سے محفوظ رہے تھے۔</p>
<p>پاکستانی ریپر اور مزاحیہ فنکار علی گل پیر، جن کے بھارت میں بھی لاکھوں مداح موجود ہیں، نے چند سال قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مذاق اُڑاتے ہوئے ایک گانا جاری کیا تھا۔</p>
<p>تب تو اُن پر کوئی خاص ردِعمل سامنے نہ آیا، لیکن مئی میں اُن کا یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام پروفائل بھارت میں بلاک کر دیے گئے۔</p>
<p>علی گل پیر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھارتی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ڈیجیٹل اسپیس دراصل پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے — اور وہ اُسے کاٹنے کے درپے ہیں۔</p>
<p>دو طرفہ تعلقات کی یہ خرابی اپریل میں بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے سے شروع ہوئی، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا۔</p>
<p>پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن اس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی سطح پر سخت ردِعمل دیا اور پھر چار دن تک جنگی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد جنگ بندی ہوئی۔</p>
<p>یہ تنازع پہلی بار موسیقی کی صنعت کو بھی متاثر کر گیا۔ پاکستانی گلوکارہ انورال خالد نے یاد کیا کہ کس طرح ان کے بھارتی سامعین کی تعداد میں واضح کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ دہلی میرے سامعین کا سب سے بڑا شہر تھا، مگر پابندی کے بعد یہ سب ختم ہو گیا۔ مجھے سامعین کے معاملے میں بہت نقصان ہوا۔</p>
<p>انورال خالد نے مزید کہا کہ لوگوں کو موسیقی سے محروم کر دیا گیا کیونکہ اسے وہ کچھ بنا دیا گیا جو وہ ہے ہی نہیں۔</p>
<p>یہ تنازعہ سابقہ فنکارانہ تعاون کو بھی مٹا گیا۔ مثال کے طور پر 2017 کی فلم رئیس کا ساؤنڈ ٹریک اب بھارت میں اسپاٹی فائی پر دستیاب نہیں، اور اب صرف بھارتی اداکار شاہ رخ خان کا نام ظاہر ہوتا ہے، پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p><strong>ہماری تکلیفیں ایک جیسی ہیں</strong></p>
<p>پاکستان میں ہر سال چند ہی فلمیں سخت سنسر شپ قوانین کے تحت بنتی ہیں، اسی لیے بالی ووڈ یہاں ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی فلم نقاد سجیر شیخ نے کہا کہ میں نے بالی ووڈ دیکھتے ہوئے ہوش سنبھالا۔ ہماری تاریخ ایک جیسی ہے، ہماری تکلیفیں ایک جیسی ہیں، ہماری کہانیاں بھی ایک جیسی ہیں۔</p>
<p>پاکستانی اداکار اور ہدایتکار عشروں سے بالی ووڈ تک پہنچنا سب سے بڑی کامیابی سمجھتے آئے ہیں۔</p>
<p>لیکن اس ماہ بھارتی اداکار دلجیت دوسانج نے اعلان کیا کہ ان کی نئی فلم سردار جی 3 جس میں چار پاکستانی اداکار شامل ہیں، صرف بیرونِ ملک ریلیز کی جائے گی کیونکہ نئی دہلی نے پاکستانی فنکاروں اور مواد پر پابندی عائد کر دی ہے۔</p>
<p>اسی طرح، پاکستانی اداکار فواد خان اور بھارتی اداکارہ وانی کپور کی فلم ابیر گُلال جو 9 مئی کو بھارتی سینما گھروں میں ریلیز ہونا تھی، اُس کی ریلیز ملتوی کر دی گئی۔</p>
<p>حتیٰ کہ فنکار جو ماضی میں سرحد پار فن کے تبادلے کے حامی تھے، انہوں نے بھی گزشتہ ماہ اپنا مؤقف بدل لیا۔</p>
<p>بھارتی اداکار سنیل شیٹی، جنہیں پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل ہے، نے کہا کہ سب کچھ بند کر دینا چاہیے… کرکٹ، فلمیں، سب کچھ…</p>
<p>یاد رہے وہ 2004 کی فلم میں ہوں نا میں جلوہ گر ہوئے تھے، جس کا مرکزی پیغام ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی ترویج تھا۔</p>
<p>وارنر برادرز ساؤتھ ایشیا کی میوزک لیبل پاکستان کی اسسٹنٹ منیجر دعا زہرا نے کہا کہ یہ سیاست کی بدقسمتی ہے جو فن کے گرد سرحدیں کھینچ رہی ہے۔</p>
<p><strong>آئیے صرف فن بنائیں</strong></p>
<p>کشمیر حملے کے بعد نئی دہلی نے جن پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی، اُن میں نجی براڈکاسٹر ہم ٹی وی بھی شامل ہے۔</p>
<p>یہ چینل، جس کے مطابق اس کے تقریباً 40 فیصد ناظرین بھارت سے ہوتے ہیں، نے اپنے شائقین سے بس اتنا کہا کہ وی پی این استعمال کریں اور دیکھتے رہیں۔</p>
<p>مودی کے گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے بھارتی نقاد اور فلمساز خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ بالی ووڈ اب تیزی سے ان کی حکومت کی ہندو قوم پرستانہ نظریاتی پالیسیوں کی تشہیر کر رہا ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ تنازع ثقافتی منظرنامے پر دراڑیں ڈال رہا ہے، مگر اس کے باوجود فنکارانہ تبادلہ جاری رہنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p>جنگ بندی کے ایک ماہ بعد بھی پاکستان میں نیٹ فلکس کی ٹاپ 10 فہرست میں تین بھارتی فلمیں شامل تھیں، جبکہ بھارت میں ٹاپ 20 گانوں میں دو پاکستانی گانے بھی شامل تھے۔</p>
<p>علی گل پیر، جو ریپر اور مزاحیہ فنکار ہیں، نے کہا کہ وہ لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئیے جنگ نہ کریں، صرف فن تخلیق کریں۔ آئیے ایک دوسرے پر بم نہ گرائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274162</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jun 2025 15:56:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/30155416f366ab9.png" type="image/png" medium="image" height="710" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/30155416f366ab9.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرباز خان بغیر آکسیجن 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہ پیما سرباز خان نے اتوار کے روز دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ”کانگ چنجنگا“ (8,586 میٹر) کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کر لیا، یوں وہ 8,000 میٹر سے بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیوں کو بغیر آکسیجن سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارنامہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 4:15 بجے صبح) سرانجام دیا گیا، جسے ماہرین ”بلند پہاڑی مہم جوئی کا ایک نایاب اور قابلِ ستائش کارنامہ“ قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;35 سالہ سرباز خان کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے علی آباد، ہنزہ سے ہے۔ اُنہوں نے یہ مہم روایتی ”الپائن اسٹائل“ میں مکمل کی، جس میں نہ شیرپا کے لگائے گئے کیمپس استعمال کیے گئے، نہ رسیوں کی سہولت، اور نہ ہی آکسیجن کا سہارا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارنامے کے ساتھ، سرباز خان اب دنیا کے اُن منتخب کوہ پیماؤں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے دنیا کی تمام 14 ”آٹھ ہزار میٹر سے بلند“ چوٹیوں کو کامیابی سے سر کیا ہے۔ان میں ایوریسٹ (8,848م)، کے ٹو (8,611م)، کانگچنجنگا (8,586م)، لوہتسے (8,516م)، مکالو (8,485م)، چو اویو (8,188م)، دھولاگیری (8,167م)، مناسلو (8,163م)، نانگا پربت (8,126م)، اناپورنا اول (8,091م)، گاشر برم اول (8,080م)، براڈ پیک (8,051م)، گاشر برم دوم (8,035م) اور شیشاپنگما (8,027م) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری نے اس کامیاب مہم جوئی کی تصدیق کرتے ہوئے سرباز خان کے بے مثال عزم کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اس چوٹی کی سر بلندی کے ساتھ، سرباز خان بغیر آکسیجن دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔ یہ ایک نادر اور تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Alpine_Pakistan/status/1924054890545893469"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرباز خان نے 2016 میں اپنے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز کیا، اور گزشتہ دہائی میں اپنی ہمت، مہارت اور جرأت کی بدولت ایک بااعتماد کوہ پیما کے طور پر شہرت حاصل کی۔انہوں نے کئی بڑی مہمات میں حصہ لیا، جن میں چار اہم مہمات عظیم پاکستانی کوہ پیما مرحوم محمد علی سدپارہ کے ساتھ تھیں، وہی محمد علی سدپارہ جن کا خواب بھی یہی تھا کہ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال اپنی دھولاگیری کی کامیاب مہم سے قبل بات کرتے ہوئے سرباز خان نے اپنے استاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا“میں اس مہم کا بے چینی سے منتظر ہوں، اور امید ہے کہ اپنے استاد علی سدپارہ کے خواب کے قریب تر پہنچ سکوں۔ وہ بھی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنا چاہتے تھے، مگر بدقسمتی سے رواں برس K-2 کی ایک سردیوں کی مہم کے دوران اُن کی جان چلی گئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرباز خان کی اس حالیہ کامیابی پر ملک بھر سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔ ممتاز کوہ پیما نائیلہ کیانی اور ساجد سدپارہ سمیت سول سوسائٹی کے اراکین اور سیاسی رہنماؤں نے ان کے عزم اور پاکستان کی کوہ پیمائی کی روایت میں ان کے کردار کو سراہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرباز خان طویل عرصے سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ ان کا مشن صرف دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر پاکستانی پرچم لہرانا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے اور مہم جوئی کی روح کو اپنانے کی ترغیب دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہ پیما سرباز خان نے اتوار کے روز دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ”کانگ چنجنگا“ (8,586 میٹر) کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کر لیا، یوں وہ 8,000 میٹر سے بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیوں کو بغیر آکسیجن سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔</strong></p>
<p>یہ کارنامہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 4:15 بجے صبح) سرانجام دیا گیا، جسے ماہرین ”بلند پہاڑی مہم جوئی کا ایک نایاب اور قابلِ ستائش کارنامہ“ قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>35 سالہ سرباز خان کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے علی آباد، ہنزہ سے ہے۔ اُنہوں نے یہ مہم روایتی ”الپائن اسٹائل“ میں مکمل کی، جس میں نہ شیرپا کے لگائے گئے کیمپس استعمال کیے گئے، نہ رسیوں کی سہولت، اور نہ ہی آکسیجن کا سہارا لیا گیا۔</p>
<p>اس کارنامے کے ساتھ، سرباز خان اب دنیا کے اُن منتخب کوہ پیماؤں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے دنیا کی تمام 14 ”آٹھ ہزار میٹر سے بلند“ چوٹیوں کو کامیابی سے سر کیا ہے۔ان میں ایوریسٹ (8,848م)، کے ٹو (8,611م)، کانگچنجنگا (8,586م)، لوہتسے (8,516م)، مکالو (8,485م)، چو اویو (8,188م)، دھولاگیری (8,167م)، مناسلو (8,163م)، نانگا پربت (8,126م)، اناپورنا اول (8,091م)، گاشر برم اول (8,080م)، براڈ پیک (8,051م)، گاشر برم دوم (8,035م) اور شیشاپنگما (8,027م) شامل ہیں۔</p>
<p>الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری نے اس کامیاب مہم جوئی کی تصدیق کرتے ہوئے سرباز خان کے بے مثال عزم کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اس چوٹی کی سر بلندی کے ساتھ، سرباز خان بغیر آکسیجن دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔ یہ ایک نادر اور تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Alpine_Pakistan/status/1924054890545893469"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>سرباز خان نے 2016 میں اپنے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز کیا، اور گزشتہ دہائی میں اپنی ہمت، مہارت اور جرأت کی بدولت ایک بااعتماد کوہ پیما کے طور پر شہرت حاصل کی۔انہوں نے کئی بڑی مہمات میں حصہ لیا، جن میں چار اہم مہمات عظیم پاکستانی کوہ پیما مرحوم محمد علی سدپارہ کے ساتھ تھیں، وہی محمد علی سدپارہ جن کا خواب بھی یہی تھا کہ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کی جائیں۔</p>
<p>گزشتہ سال اپنی دھولاگیری کی کامیاب مہم سے قبل بات کرتے ہوئے سرباز خان نے اپنے استاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا“میں اس مہم کا بے چینی سے منتظر ہوں، اور امید ہے کہ اپنے استاد علی سدپارہ کے خواب کے قریب تر پہنچ سکوں۔ وہ بھی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنا چاہتے تھے، مگر بدقسمتی سے رواں برس K-2 کی ایک سردیوں کی مہم کے دوران اُن کی جان چلی گئی۔“</p>
<p>سرباز خان کی اس حالیہ کامیابی پر ملک بھر سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔ ممتاز کوہ پیما نائیلہ کیانی اور ساجد سدپارہ سمیت سول سوسائٹی کے اراکین اور سیاسی رہنماؤں نے ان کے عزم اور پاکستان کی کوہ پیمائی کی روایت میں ان کے کردار کو سراہا ہے۔</p>
<p>سرباز خان طویل عرصے سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ ان کا مشن صرف دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر پاکستانی پرچم لہرانا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے اور مہم جوئی کی روح کو اپنانے کی ترغیب دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272827</guid>
      <pubDate>Sun, 18 May 2025 20:09:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید احمد رضا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/181950522db4af6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/181950522db4af6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میمز کی بھرمار: بھارت کیخلاف فضائی برتری پر پاکستانی شہریوں کا سوشل میڈیا پر جشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272535/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی چلی جارہی ے تاہم پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اس موقع کو بھارت کیخلاف اپنی فضائیہ کی برتری کو سراہنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس سلسلے میں میمز کی بھار بھی جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روزچینی ساختہ جے-10 پاکستانی جنگی طیارے نے کم از کم دو بھارتی فوجی طیارے مار گرائے تھے – ان میں سے ایک فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارہ تھا جس کا مار گرایا جانا بیجنگ کے جدید جنگی طیارے کے لیے ایک ممکنہ اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع ابلاغ یا نشریاتی ادارے اس فضائی جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں اور یورپی گروپ ایم بی ڈی اے سوشل میڈیا پر چین کے پی ایل-15 ایئر ٹو ایئر میزائل کی کارکردگی کوایک رڈار گائیڈڈ ایئر ٹو ایئر میزائل کے مقابلے میں جانچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فضائی جھڑپ دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک موقع بنتی جا رہی ہے اور وہ لڑائی کے دوران پائلٹوں، جنگی طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مشاہدہ کر کے اپنی فضائیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لڑائی کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر اس واقعے کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جھڑپ کے بعد پاکستان میں &lt;a href="/trends/J10C"&gt;#J10C&lt;/a&gt; اور #رافیل_ہوا_فیل جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیل میں کچھ میمز موجود ہیں جنہوں نے ہماری توجہ حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920430627750621687"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920557534781505836"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920110655685718264"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920139523717018002"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://pbs.twimg.com/media/GqWlahibUAAynrb?format=jpg&amp;amp;name=small'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://pbs.twimg.com/media/GqeqJtQWoAAOCZ5?format=jpg&amp;amp;name=small'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://pbs.twimg.com/media/Gqfwp-4XAAAgVZa?format=jpg&amp;amp;name=small'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920124220975006198"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1920403211724144667"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی چلی جارہی ے تاہم پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اس موقع کو بھارت کیخلاف اپنی فضائیہ کی برتری کو سراہنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس سلسلے میں میمز کی بھار بھی جاری ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کے روزچینی ساختہ جے-10 پاکستانی جنگی طیارے نے کم از کم دو بھارتی فوجی طیارے مار گرائے تھے – ان میں سے ایک فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارہ تھا جس کا مار گرایا جانا بیجنگ کے جدید جنگی طیارے کے لیے ایک ممکنہ اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع ابلاغ یا نشریاتی ادارے اس فضائی جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں اور یورپی گروپ ایم بی ڈی اے سوشل میڈیا پر چین کے پی ایل-15 ایئر ٹو ایئر میزائل کی کارکردگی کوایک رڈار گائیڈڈ ایئر ٹو ایئر میزائل کے مقابلے میں جانچ رہا ہے۔</p>
<p>تاہم، ان ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p>یہ فضائی جھڑپ دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک موقع بنتی جا رہی ہے اور وہ لڑائی کے دوران پائلٹوں، جنگی طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مشاہدہ کر کے اپنی فضائیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گی۔</p>
<p>اس لڑائی کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر اس واقعے کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جھڑپ کے بعد پاکستان میں <a href="/trends/J10C">#J10C</a> اور #رافیل_ہوا_فیل جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔</p>
<p>ذیل میں کچھ میمز موجود ہیں جنہوں نے ہماری توجہ حاصل کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920430627750621687"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920557534781505836"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920110655685718264"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920139523717018002"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://pbs.twimg.com/media/GqWlahibUAAynrb?format=jpg&amp;name=small'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://pbs.twimg.com/media/GqeqJtQWoAAOCZ5?format=jpg&amp;name=small'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://pbs.twimg.com/media/Gqfwp-4XAAAgVZa?format=jpg&amp;name=small'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920124220975006198"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1920403211724144667"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272535</guid>
      <pubDate>Fri, 09 May 2025 17:43:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/09174148b0c0ddb.png" type="image/png" medium="image" height="451" width="712">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/09174148b0c0ddb.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2024: دبئی میں جائیدایں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر، بھارت سرفہرست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40270596/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی شہری 2024 میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ کے سب سے بڑے خریدار رہے، جبکہ پاکستانی خریدار پانچویں نمبر پر آگئے، جو پہلے ساتویں نمبر پر تھے، یہ انکشاف حال ہی میں دبئی کی پراپرٹی کنسلٹنسی ”بیٹر ہومز“ کی جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں 2025 میں سالانہ 5 سے 8 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ پام جمیرا اور ڈاؤن ٹاؤن دبئی جیسے لگژری مقامات پر قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ متوقع ہے، یہ اعداد و شمار متحدہ عرب امارات کے ڈویلپر ”ڈاماک“ نے مرتب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خریدار دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ 2023 میں تیسری پوزیشن پر رہنے والے روسی خریدار اب نویں نمبر پر چلے گئے ہیں، جبکہ ترکی نے پولینڈ کی جگہ لیتے ہوئے دسویں نمبر پر قبضہ جما لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹر ہومز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ سال 2024 میں دبئی میں بیچی گئی پراپرٹی کی مجموعی مالیت 423 ارب درہم رہی، جو سالانہ بنیاد پر لین دین کی مالیت اور حجم میں 30 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربین بزنس کے مطابق، دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے فروخت کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے، صنعت کے ماہرین نے ایمار، ایلنگٹن، میراس، سلیکٹ، اور اومنیات کو پریمیئر ڈویلپرز کے طور پر شناخت کیا ہے جو 2025 میں غیر معمولی ترقی اور سرمایہ کاری کے منافع کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لگژری پراپرٹی کا شعبہ خاص طور پر مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور لندن اور نیویارک جیسے شہروں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں 10 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے گھروں کی مارکیٹ میں بھرمار ہو چکی ہے۔ بیٹر ہومز کے مطابق، ان گھروں کی قیمتیں 2025 میں مزید 8 سے 10 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کی ”ریئل اسٹیٹ اسٹریٹیجی 2033“ کا ہدف بھی ایک کھرب درہم کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرنا ہے، جبکہ شہر کی آبادی 2027 تک 4.34 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024 میں دبئی نے سیاحوں کی ریکارڈ تعداد 18.72 ملین کا خیر مقدم کیا، کیونکہ سیاحت معیشت کی ترقی کو بڑھا رہی ہے، جس کا اثر ریٹیل، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کی مانگ پر بھی پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، ”اتحاد ریل نیٹ ورک“، دبئی کی ”بلیو میٹرو لائن“ اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے اس ترقی کو مزید تقویت دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی لگژری ڈیزائنر ڈویلپمنٹس میں اضافے کے ساتھ مزید ”الٹرا ہائی نیٹ ورتھ انڈویجولز“ (یو ایچ این ڈبلیو آئی) کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ دبئی میں تقریباً 140 برانڈڈ رہائش گاہیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ٹیلنٹ بھی ”گولڈن ویزا“، ”بلو ویزا“ اور ”انویسٹر پروگرامز“ جیسے اقدامات کی وجہ سے دبئی کا رخ کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق موجودہ رئیل اسٹیٹ رجحان محض ایک ”بلبلا“ نہیں بلکہ ایک مستحکم مارکیٹ کا عکاس ہے، جو ہوٹل انڈسٹری میں بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران، فائیو اسٹار ہوٹل انڈسٹری میں 111.8 فیصد کا شاندار اضافہ دیکھا گیا، جس کا اعلان ”کویینڈش میکسویل“ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنسی کی رپورٹ میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی شہری 2024 میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ کے سب سے بڑے خریدار رہے، جبکہ پاکستانی خریدار پانچویں نمبر پر آگئے، جو پہلے ساتویں نمبر پر تھے، یہ انکشاف حال ہی میں دبئی کی پراپرٹی کنسلٹنسی ”بیٹر ہومز“ کی جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا۔</strong></p>
<p>دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں 2025 میں سالانہ 5 سے 8 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ پام جمیرا اور ڈاؤن ٹاؤن دبئی جیسے لگژری مقامات پر قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ متوقع ہے، یہ اعداد و شمار متحدہ عرب امارات کے ڈویلپر ”ڈاماک“ نے مرتب کیے ہیں۔</p>
<p>برطانوی خریدار دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ 2023 میں تیسری پوزیشن پر رہنے والے روسی خریدار اب نویں نمبر پر چلے گئے ہیں، جبکہ ترکی نے پولینڈ کی جگہ لیتے ہوئے دسویں نمبر پر قبضہ جما لیا۔</p>
<p>بیٹر ہومز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ سال 2024 میں دبئی میں بیچی گئی پراپرٹی کی مجموعی مالیت 423 ارب درہم رہی، جو سالانہ بنیاد پر لین دین کی مالیت اور حجم میں 30 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>عربین بزنس کے مطابق، دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے فروخت کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے، صنعت کے ماہرین نے ایمار، ایلنگٹن، میراس، سلیکٹ، اور اومنیات کو پریمیئر ڈویلپرز کے طور پر شناخت کیا ہے جو 2025 میں غیر معمولی ترقی اور سرمایہ کاری کے منافع کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>لگژری پراپرٹی کا شعبہ خاص طور پر مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور لندن اور نیویارک جیسے شہروں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں 10 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے گھروں کی مارکیٹ میں بھرمار ہو چکی ہے۔ بیٹر ہومز کے مطابق، ان گھروں کی قیمتیں 2025 میں مزید 8 سے 10 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دبئی کی ”ریئل اسٹیٹ اسٹریٹیجی 2033“ کا ہدف بھی ایک کھرب درہم کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرنا ہے، جبکہ شہر کی آبادی 2027 تک 4.34 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>سال 2024 میں دبئی نے سیاحوں کی ریکارڈ تعداد 18.72 ملین کا خیر مقدم کیا، کیونکہ سیاحت معیشت کی ترقی کو بڑھا رہی ہے، جس کا اثر ریٹیل، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کی مانگ پر بھی پڑ رہا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، ”اتحاد ریل نیٹ ورک“، دبئی کی ”بلیو میٹرو لائن“ اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے اس ترقی کو مزید تقویت دیں گے۔</p>
<p>دبئی لگژری ڈیزائنر ڈویلپمنٹس میں اضافے کے ساتھ مزید ”الٹرا ہائی نیٹ ورتھ انڈویجولز“ (یو ایچ این ڈبلیو آئی) کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ دبئی میں تقریباً 140 برانڈڈ رہائش گاہیں موجود ہیں۔</p>
<p>عالمی ٹیلنٹ بھی ”گولڈن ویزا“، ”بلو ویزا“ اور ”انویسٹر پروگرامز“ جیسے اقدامات کی وجہ سے دبئی کا رخ کرتا رہے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق موجودہ رئیل اسٹیٹ رجحان محض ایک ”بلبلا“ نہیں بلکہ ایک مستحکم مارکیٹ کا عکاس ہے، جو ہوٹل انڈسٹری میں بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران، فائیو اسٹار ہوٹل انڈسٹری میں 111.8 فیصد کا شاندار اضافہ دیکھا گیا، جس کا اعلان ”کویینڈش میکسویل“ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنسی کی رپورٹ میں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40270596</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Mar 2025 13:28:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/03/06132709d323bc1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/03/06132709d323bc1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کانٹینٹ کریئیٹرز دبئی گولڈن ویزا کیلئے اہل، 10 ہزار انفلوئنسرز کو راغب کرنے کی کوشش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40269475/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی نے حال ہی میں ’کریئیٹرز ایچ کیو‘  کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد شہر کو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر پیش کرنا اور 10,000 انفلوئنسرز کو شہر کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اس میں شامل ہونے والے اراکین کو یو اے ای گولڈن ویزا کی درخواستوں، منتقلی کی معاونت، اور کمپنی کی سیٹ اپ اور رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا اعلان ’ون بلین فالوورز سمٹ‘ کے تیسرے ایڈیشن میں کیا گیا، جو انفلوئنسرز کے لیے ایک پروگرام ہے جس کا نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کانفرنس میں شریک تخلیق کاروں نے ایک ارب سے زائد فالوورز کی نمائندگی کی۔ سمٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ ”دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جو مواد تخلیق کرنے والی معیشت کے لیے مخصوص ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ کیو کو ایک اہم  150 ملین اماراتی درہم (40.8 ملین ڈالر) کے کانٹینٹ کریئیٹر کی معاونت فنڈ کی پشت پناہی حاصل ہے، جو پچھلے سال ایونٹ میں اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار اسد رضا خان، جنہیں 2022 میں اداکار کی حیثیت سے گولڈن ویزا ملا تھا، نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ”ہمیشہ ان مہارتوں کو فروغ دینے میں رہنمائی کر رہا ہے، چاہے وہ مواد تخلیق کرنا ہو، اداکاری یا تحریر ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اب وہ تقریباً 10,000 کانٹینٹ کریئیٹر کو گولڈن ویزا فراہم کر رہے ہیں، جو ایک 10 سالہ رہائشی پروگرام ہے، تاکہ لوگوں کو اس شاندار ملک میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای نے تقریباً دو سال قبل پرفارمنگ آرٹس کے لیے گولڈن ویزا پروگرام شروع کیا تھا اور اب ”آرٹ اور تفریح کے شعبوں میں کئی تکنیکی ماہرین کو ملک میں آنے، یہاں رہنے اور مواقع تخلیق کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسی جذبے کے تحت، انہوں نے اب  کانٹینٹ کریئیٹر کے لیے ایسا کیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ”کانٹینٹ آئیڈیاز، کانٹینٹ اپرچونیٹیز ، اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے تربیت“ کی تخلیق میں مدد کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام صرف سوشل میڈیا انفلوئنسرز تک محدود نہیں ہے۔ کریئیٹر  ایچ کیو کا مقصد مختلف ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا اور ان کی حمایت کرنا ہے، جس میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے، پڈکاسٹرز، اور  فنکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ تخلیقی صنعتوں کے اہم کھلاڑیوں کو بھی ہدف بناتا ہے، جیسے اشتہاری اور مارکیٹنگ کمپنیاں، میڈیا اور میوزک پروڈیوسرز، اینیمیشن اسٹوڈیوز، اور فیشن اور لائف اسٹائل برانڈز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد ٹیک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنا ہے تاکہ ایک مکمل طور پر مربوط تخلیقی ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ اس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اسٹریمنگ سروسز، گیمنگ اور ای اسپورٹس کمپنیوں، وی آر اور اے آر ڈویلپرز، اور اے آئی اور مشین لرننگ سٹارٹ اپس کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ٹیلنٹ مینجمنٹ، اور میڈیا جدت میں مہارت رکھنے والے کاروباری افراد بھی ایک اہم توجہ کا مرکز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز میں رپورٹ کیا گیا کہ ”دنیا کے بہترین تخلیق کاروں کو ایک تخلیق دوست منزل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، دبئی عالمی سطح کے انفرااسٹرکچر، ٹیکس فوائد، اور اب ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے خصوصی معاونت کے ساتھ خود کو اس تیزی سے بڑھتے ہوئے مارکیٹ کا ایک اہم کھلاڑی بنانے کے لیے تیار کر رہا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق“اگر یہ 10,000 انفلوئنسرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اقدام دبئی کو ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹ  کرنے کے لیے دنیا کی اہم منزل بنا سکتی ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا اقتصادی تنوع کے اہداف میں معاون ثابت ہو گا اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا،“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’دنیا کے بہترین تخلیق کار‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ کیو کا آغاز دبئی کے ایمریٹس ٹاورز میں کیا گیا۔ ایک بیان کے مطابق، یہ ”تخلیق کاروں کو بااختیار بنانے، ان کے اثرات کو بڑھانے، اور تخلیق کاروں کی معیشت کے لیے پائیدار فریم ورک قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 100 اراکین کے ساتھ شروع ہوا ہے جو ”دنیا کے بہترین تخلیق کاروں“ کی نمائندگی کرتے ہیں، ساتھ ہی مواد کی صنعت کے سہولت کار اور حامی بھی شامل ہیں، جو 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اقدام کو اس  شعبے کے 15 سے زائد معروف ناموں کی حمایت حاصل ہے، جن میں میٹا، ٹک ٹاک اور ایکس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر کابینہ امور محمد الجرگوی نے کہا: ”ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ عالمی مواد تخلیق کرنے والے یو اے ای میں جمع ہوں، جو اپنی ثقافتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جہاں وہ معاونت پائیں گے، فنڈنگ اور سرمایہ کاروں سے جڑیں گے تاکہ وہ جدت پیدا کر سکیں اور اپنے اثرات کو بڑھا سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”جیسا کہ دنیا مسلسل ترقی کر رہی ہے، خاص طور پر مواد اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبوں میں، ہمیں اس ترقی کے مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ اس کے چیلنجز سے نمٹنے اور اسے انسانیت کی بھلا ئی کے لیے چینل کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریئیٹر ایچ کیو ہر سال 300 سے زیادہ ایونٹس اور ورکشاپس کی میزبانی کرے گا۔ اس کا مقصد تخلیق کاروں کو اپنے اثرات کو بڑھانے اور ایک معاون اور جدید ماحول میں اپنے ہنر کو بہتر بنانے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی پہلوں میں نوجوانوں کے لیے تخلیقی کیمپ، رہنمائی کے مواقع، فنڈنگ اور ورکشاپس شامل ہیں جو اہم مہارتوں جیسے برانڈنگ، ویڈیو پروڈکشن، کہانی سنانے، سامعین سے جڑنے، منافع کمانے اور اسپانسرشپ، اور خصوصی اور مؤثر مواد تخلیق کرنے پر مرکوز ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی نے حال ہی میں ’کریئیٹرز ایچ کیو‘  کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد شہر کو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر پیش کرنا اور 10,000 انفلوئنسرز کو شہر کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اس میں شامل ہونے والے اراکین کو یو اے ای گولڈن ویزا کی درخواستوں، منتقلی کی معاونت، اور کمپنی کی سیٹ اپ اور رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>اس کا اعلان ’ون بلین فالوورز سمٹ‘ کے تیسرے ایڈیشن میں کیا گیا، جو انفلوئنسرز کے لیے ایک پروگرام ہے جس کا نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کانفرنس میں شریک تخلیق کاروں نے ایک ارب سے زائد فالوورز کی نمائندگی کی۔ سمٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ ”دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جو مواد تخلیق کرنے والی معیشت کے لیے مخصوص ہے۔“</p>
<p>ایچ کیو کو ایک اہم  150 ملین اماراتی درہم (40.8 ملین ڈالر) کے کانٹینٹ کریئیٹر کی معاونت فنڈ کی پشت پناہی حاصل ہے، جو پچھلے سال ایونٹ میں اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>اداکار اسد رضا خان، جنہیں 2022 میں اداکار کی حیثیت سے گولڈن ویزا ملا تھا، نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ”ہمیشہ ان مہارتوں کو فروغ دینے میں رہنمائی کر رہا ہے، چاہے وہ مواد تخلیق کرنا ہو، اداکاری یا تحریر ہو۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اب وہ تقریباً 10,000 کانٹینٹ کریئیٹر کو گولڈن ویزا فراہم کر رہے ہیں، جو ایک 10 سالہ رہائشی پروگرام ہے، تاکہ لوگوں کو اس شاندار ملک میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای نے تقریباً دو سال قبل پرفارمنگ آرٹس کے لیے گولڈن ویزا پروگرام شروع کیا تھا اور اب ”آرٹ اور تفریح کے شعبوں میں کئی تکنیکی ماہرین کو ملک میں آنے، یہاں رہنے اور مواقع تخلیق کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسی جذبے کے تحت، انہوں نے اب  کانٹینٹ کریئیٹر کے لیے ایسا کیا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ”کانٹینٹ آئیڈیاز، کانٹینٹ اپرچونیٹیز ، اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے تربیت“ کی تخلیق میں مدد کرے گی۔</p>
<p>یہ پروگرام صرف سوشل میڈیا انفلوئنسرز تک محدود نہیں ہے۔ کریئیٹر  ایچ کیو کا مقصد مختلف ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا اور ان کی حمایت کرنا ہے، جس میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے، پڈکاسٹرز، اور  فنکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ تخلیقی صنعتوں کے اہم کھلاڑیوں کو بھی ہدف بناتا ہے، جیسے اشتہاری اور مارکیٹنگ کمپنیاں، میڈیا اور میوزک پروڈیوسرز، اینیمیشن اسٹوڈیوز، اور فیشن اور لائف اسٹائل برانڈز۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد ٹیک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنا ہے تاکہ ایک مکمل طور پر مربوط تخلیقی ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ اس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اسٹریمنگ سروسز، گیمنگ اور ای اسپورٹس کمپنیوں، وی آر اور اے آر ڈویلپرز، اور اے آئی اور مشین لرننگ سٹارٹ اپس کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔</p>
<p>سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ٹیلنٹ مینجمنٹ، اور میڈیا جدت میں مہارت رکھنے والے کاروباری افراد بھی ایک اہم توجہ کا مرکز ہیں۔</p>
<p>فوربز میں رپورٹ کیا گیا کہ ”دنیا کے بہترین تخلیق کاروں کو ایک تخلیق دوست منزل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، دبئی عالمی سطح کے انفرااسٹرکچر، ٹیکس فوائد، اور اب ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے خصوصی معاونت کے ساتھ خود کو اس تیزی سے بڑھتے ہوئے مارکیٹ کا ایک اہم کھلاڑی بنانے کے لیے تیار کر رہا ہے“۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق“اگر یہ 10,000 انفلوئنسرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اقدام دبئی کو ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹ  کرنے کے لیے دنیا کی اہم منزل بنا سکتی ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا اقتصادی تنوع کے اہداف میں معاون ثابت ہو گا اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا،“۔</p>
<p><strong>’دنیا کے بہترین تخلیق کار‘</strong></p>
<p>ایچ کیو کا آغاز دبئی کے ایمریٹس ٹاورز میں کیا گیا۔ ایک بیان کے مطابق، یہ ”تخلیق کاروں کو بااختیار بنانے، ان کے اثرات کو بڑھانے، اور تخلیق کاروں کی معیشت کے لیے پائیدار فریم ورک قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔“</p>
<p>یہ 100 اراکین کے ساتھ شروع ہوا ہے جو ”دنیا کے بہترین تخلیق کاروں“ کی نمائندگی کرتے ہیں، ساتھ ہی مواد کی صنعت کے سہولت کار اور حامی بھی شامل ہیں، جو 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اقدام کو اس  شعبے کے 15 سے زائد معروف ناموں کی حمایت حاصل ہے، جن میں میٹا، ٹک ٹاک اور ایکس شامل ہیں۔</p>
<p>وزیر کابینہ امور محمد الجرگوی نے کہا: ”ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ عالمی مواد تخلیق کرنے والے یو اے ای میں جمع ہوں، جو اپنی ثقافتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جہاں وہ معاونت پائیں گے، فنڈنگ اور سرمایہ کاروں سے جڑیں گے تاکہ وہ جدت پیدا کر سکیں اور اپنے اثرات کو بڑھا سکیں۔“</p>
<p>”جیسا کہ دنیا مسلسل ترقی کر رہی ہے، خاص طور پر مواد اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبوں میں، ہمیں اس ترقی کے مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ اس کے چیلنجز سے نمٹنے اور اسے انسانیت کی بھلا ئی کے لیے چینل کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔“</p>
<p>کریئیٹر ایچ کیو ہر سال 300 سے زیادہ ایونٹس اور ورکشاپس کی میزبانی کرے گا۔ اس کا مقصد تخلیق کاروں کو اپنے اثرات کو بڑھانے اور ایک معاون اور جدید ماحول میں اپنے ہنر کو بہتر بنانے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔</p>
<p>اس کی پہلوں میں نوجوانوں کے لیے تخلیقی کیمپ، رہنمائی کے مواقع، فنڈنگ اور ورکشاپس شامل ہیں جو اہم مہارتوں جیسے برانڈنگ، ویڈیو پروڈکشن، کہانی سنانے، سامعین سے جڑنے، منافع کمانے اور اسپانسرشپ، اور خصوصی اور مؤثر مواد تخلیق کرنے پر مرکوز ہوں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40269475</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jan 2025 11:37:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/28113650be0e277.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/28113650be0e277.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>56 ہزار ڈالر ٹیوشن فیس، دبئی میں 100 ملین ڈالر کا اسکول کیمپس اگست میں کھلے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40269134/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی کی ترقی کی ایک اور علامت میں، دنیا کے سب سے بڑے نجی اسکول آپریٹرز میں سے ایک – جی ای ایم ایس ایجوکیشن – ایک نیا 100 ملین ڈالر کا کیمپس کھول رہا ہے جہاں سالانہ فیس 56,000 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، کمپنی نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ جی ای ایم ایس اسکول آف ریسرچ اینڈ انوویشن دبئی اسپورٹس سٹی میں واقع ہوگا اور اس میں 600 نشستوں والا آڈیٹوریم، اولمپک سائز کا پول، این بی اے مخصوص باسکٹ بال کورٹ اور ایک فٹ بال کا میدان ہوگا جو ہیلی پیڈ کے طور پر بھی استعمال ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہیں جب کمپنی گلف ہب میں انتہائی امیر خاندانوں کی آمد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، جو پہلے ہی ”تیز“ پراپرٹی مارکیٹ کو ریکارڈ بلند سطحوں تک لے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی میں اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امیر خاندان تعلیم کے شعبے سے مزید بہت کچھ کی توقع کر رہے ہیں۔ دبئی تیزی سے مزید ہج فنڈز، پرائیوٹ ایکویٹی فرموں، کرپٹو تاجروں اور بینکروں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے جو اپنے خاندانوں کے لیے پریمیم تعلیم چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کا مالیاتی مرکز، ڈی آئی ایف سی، 120 سے زائد خاندانوں اور 800 خاندان سے متعلق اداروں کا مرکز ہے جو 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کا انتظام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت دبئی کے مرتب کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں نجی اسکولوں میں طلبہ کا اندراج 25-2024 تعلیمی سال کے دوران 6 فیصد بڑھا، اور اب دبئی کے 227 اسکولوں میں 17 مختلف نصاب کی پیشکش کے ساتھ 387,441 طلباء رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنا، جو ایک بھارتی باشندہ اور دبئی کی رہائشی ماں ہیں، نے اس مقابلے کا رجحان بیان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پرانی اسٹیٹ اسکولز جیسے جیس دبئی اور دبئی انگلش اسپیٹنگ اسکولز (ڈی ای ایس ایس) پچاس سال سے زیادہ پرانے ہیں، جہاں داخلہ سخت مقابلے کا ہوتا ہے۔ ویٹ لسٹ بھی بہت بڑی ہوتی ہے – پانچ سے آٹھ سال تک، کیونکہ یہ اسکولز بہترین ادارے سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“یہ اسکولز جیب پر بھی نرم ہوتے ہیں، لیکن جیس دبئی میں ایک ڈیبینچر سسٹم ہے، کیونکہ یہ اسکول ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ”تاہم، جی ای ایم ایس جیسے ادارے کامیاب ہوں گے کیونکہ یہاں داخلے کے لیے لوگوں کی کمی نہیں ہے، خاص طور پر دبئی کے مقامی افراد کے لیے،“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 25-2024 تعلیمی سال کے دوران دس نئے نجی اسکولز کھلے ہیں، جو دبئی کی عزائم سے بھر پور ”ایجوکیشن 33“ حکمت عملی کے مطابق ہے، جس کا مقصد 2033 تک کم از کم 100 نئے نجی اسکولز کھولنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی ابھی تک گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مقابلے میں  رات کو آنے والے سیاحوں کی تعداد میں سب کو پیچھے چھوڑنے کے راستے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ جی ای ایم ایس میں، بہتر برطانوی نصاب کو علمی عمدگی اور مستقبل کی بنیاد پر مضامین کے امتزاج کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، ای اسپورٹس، اور گیم ڈیزائن سے ابتدائی طور پر آگاہ ہوں گے جبکہ خصوصی زبانوں، فنون، کھیلوں، انجینئرنگ، اور کاروبار کا بھی مطالعہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، ان کے پاس روبوٹکس لیبز اور گو کارٹ انجینئرنگ ورکشاپس ہوں گی، ساتھ ہی ایک 400 میٹر ٹریک ہوگا تاکہ وہ اپنے ڈیزائن کا تجربہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ طلبہ دنیا بھر کے اسکولوں کے ساتھ جڑیں گے، یونیسکو کانفرنسز میں شرکت کریں گے اور جی ای ایم ایس فار لائف پروگرام کے ذریعے ممتاز یونیورسٹیوں اور اعلی سطح کے آجر تک رسائی حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات،  دبئی جس کا حصہ ہے، اس سال امیگریشن ایڈوائزری فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق منتقل ہونے والے ارب پتی افراد کے لیے سب سے بڑا مقام بننے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی کی ترقی کی ایک اور علامت میں، دنیا کے سب سے بڑے نجی اسکول آپریٹرز میں سے ایک – جی ای ایم ایس ایجوکیشن – ایک نیا 100 ملین ڈالر کا کیمپس کھول رہا ہے جہاں سالانہ فیس 56,000 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، کمپنی نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا۔</strong></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ جی ای ایم ایس اسکول آف ریسرچ اینڈ انوویشن دبئی اسپورٹس سٹی میں واقع ہوگا اور اس میں 600 نشستوں والا آڈیٹوریم، اولمپک سائز کا پول، این بی اے مخصوص باسکٹ بال کورٹ اور ایک فٹ بال کا میدان ہوگا جو ہیلی پیڈ کے طور پر بھی استعمال ہو گا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہیں جب کمپنی گلف ہب میں انتہائی امیر خاندانوں کی آمد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، جو پہلے ہی ”تیز“ پراپرٹی مارکیٹ کو ریکارڈ بلند سطحوں تک لے جا چکے ہیں۔</p>
<p>دبئی میں اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امیر خاندان تعلیم کے شعبے سے مزید بہت کچھ کی توقع کر رہے ہیں۔ دبئی تیزی سے مزید ہج فنڈز، پرائیوٹ ایکویٹی فرموں، کرپٹو تاجروں اور بینکروں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے جو اپنے خاندانوں کے لیے پریمیم تعلیم چاہتے ہیں۔</p>
<p>دبئی کا مالیاتی مرکز، ڈی آئی ایف سی، 120 سے زائد خاندانوں اور 800 خاندان سے متعلق اداروں کا مرکز ہے جو 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کا انتظام کرتے ہیں۔</p>
<p>حکومت دبئی کے مرتب کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں نجی اسکولوں میں طلبہ کا اندراج 25-2024 تعلیمی سال کے دوران 6 فیصد بڑھا، اور اب دبئی کے 227 اسکولوں میں 17 مختلف نصاب کی پیشکش کے ساتھ 387,441 طلباء رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>سنا، جو ایک بھارتی باشندہ اور دبئی کی رہائشی ماں ہیں، نے اس مقابلے کا رجحان بیان کیا۔</p>
<p>“پرانی اسٹیٹ اسکولز جیسے جیس دبئی اور دبئی انگلش اسپیٹنگ اسکولز (ڈی ای ایس ایس) پچاس سال سے زیادہ پرانے ہیں، جہاں داخلہ سخت مقابلے کا ہوتا ہے۔ ویٹ لسٹ بھی بہت بڑی ہوتی ہے – پانچ سے آٹھ سال تک، کیونکہ یہ اسکولز بہترین ادارے سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>“یہ اسکولز جیب پر بھی نرم ہوتے ہیں، لیکن جیس دبئی میں ایک ڈیبینچر سسٹم ہے، کیونکہ یہ اسکول ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ”تاہم، جی ای ایم ایس جیسے ادارے کامیاب ہوں گے کیونکہ یہاں داخلے کے لیے لوگوں کی کمی نہیں ہے، خاص طور پر دبئی کے مقامی افراد کے لیے،“</p>
<p>سال 25-2024 تعلیمی سال کے دوران دس نئے نجی اسکولز کھلے ہیں، جو دبئی کی عزائم سے بھر پور ”ایجوکیشن 33“ حکمت عملی کے مطابق ہے، جس کا مقصد 2033 تک کم از کم 100 نئے نجی اسکولز کھولنا ہے۔</p>
<p>دبئی ابھی تک گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مقابلے میں  رات کو آنے والے سیاحوں کی تعداد میں سب کو پیچھے چھوڑنے کے راستے پر ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ جی ای ایم ایس میں، بہتر برطانوی نصاب کو علمی عمدگی اور مستقبل کی بنیاد پر مضامین کے امتزاج کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>طلبہ کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، ای اسپورٹس، اور گیم ڈیزائن سے ابتدائی طور پر آگاہ ہوں گے جبکہ خصوصی زبانوں، فنون، کھیلوں، انجینئرنگ، اور کاروبار کا بھی مطالعہ کریں گے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، ان کے پاس روبوٹکس لیبز اور گو کارٹ انجینئرنگ ورکشاپس ہوں گی، ساتھ ہی ایک 400 میٹر ٹریک ہوگا تاکہ وہ اپنے ڈیزائن کا تجربہ کر سکیں۔</p>
<p>مزید برآں، بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ طلبہ دنیا بھر کے اسکولوں کے ساتھ جڑیں گے، یونیسکو کانفرنسز میں شرکت کریں گے اور جی ای ایم ایس فار لائف پروگرام کے ذریعے ممتاز یونیورسٹیوں اور اعلی سطح کے آجر تک رسائی حاصل کریں گے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات،  دبئی جس کا حصہ ہے، اس سال امیگریشن ایڈوائزری فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق منتقل ہونے والے ارب پتی افراد کے لیے سب سے بڑا مقام بننے کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40269134</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jan 2025 13:30:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/1613301879b2b0e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/1613301879b2b0e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین پاسپورٹ دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40268967/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی ادارے نے 2025ء کی پاسپورٹ کی رینکنگ جاری کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا پاسپورٹ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2024 میں بدستور سب سے نچلے درجوں میں رہا –  نیچے سے چوتھے نمبر پر  – پاکستانی پاسپورٹ صرف عراقی، شامی اور افغانی پاسپورٹ سے  بہتر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درجہ بندی ایسے وقت  سامنے آئی ہے جب موسم سرما کے دوران پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کے ویزے مسترد کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا پاسپورٹ رینکنگ میں 106 میں سے 103 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال  یہ یمن کے ساتھ 100 ویں نمبر پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے اعدادوشمار کی بنیاد پر ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا کے 199 پاسپورٹس کی درجہ بندی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور دنیا کے 227 میں سے 195 مقامات پر ویزا کے بغیر رسائی کے ساتھ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے جب کہ جاپان 193 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات 10 ویں نمبر پر آیا -یواےای واحد عرب ریاست ہے جس نے  ٹاپ ٹین میں جگہ بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/01/10151519cf3ad31.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یواےای) گزشتہ دہائی میں ہینلے پاسپورٹ انڈیکس پر سب سے زیادہ ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس نے 2015 کے بعد 72 نئے مقامات تک رسائی حاصل کی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یواےای نے 32 درجے ترقی کی اور 185 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر 10ویں نمبر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کا پاسپورٹ (9ویں نمبر) اور برطانیہ کا پاسپورٹ (5ویں نمبر) سب سے زیادہ نیچے آنے والے پاسپورٹس میں شامل ہیں جبکہ چین نے گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن تھنک ٹینک سینٹر فاراسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی سینئر ایسوسی ایٹ اینی فورزہیمر نے کہا کہ عالمی نقل و حرکت کے لحاظ سے امریکہ کی مسلسل تنزلی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ دوسری بار ٹرمپ کی صدارت کے آغاز سے پہلے ہی امریکی سیاسی رجحانات نمایاں طور پر اندرونی اور تنہائی پسند بن چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق ایک ہی وقت میں، مختلف علاقوں میں سیاسی عدم استحکام اور مسلح تصادم بے شمار افراد کو اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ محفوظ پناہ گاہ اور پناہ تلاش کر سکیں۔ بے گھر ہونے والے افراد اور دیگر مہاجرین کی چھپی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے فری گلوبل سٹیز متعارف کرانے کی ضرورت کبھی اتنی فوری اور واضح نہیں تھی، تاکہ انہیں حالات کے متاثرین سے اپنے مستقبل کے معماروں میں تبدیل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی شہری بھی دوسرے شہریت کے لیے درخواست دینے والے نمایاں درخواست گزاروں میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025 میں اہم سفری رجحانات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، دنیا کا سفری منظر 2025 میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال ڈیجیٹل بارڈر کنٹرول میں ایک اہم پیشرفت دیکھنے کو ملے گی، جس میں برطانیہ کی ای ٹی اے کی توسیع اور طویل عرصے سے منتظر یورپی سفر کی معلومات اور اجازت کا نظام (ای ٹی آئی اے ایس) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے اپنے ای ٹی اے نظام کو مرحلہ وار متعارف کرانا شروع کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں، فروری 2024 میں خلیج تعاون کونسل کے شہریوں کے لیے کھولے جانے والے اس منصوبے کی توسیع جنوری 2025 میں یورپ سے باہر کے اہل مسافروں تک کی جائے گی، اور بعد میں اس سے چھ ملین شہریوں کو فائدہ پہنچے گا جن میں آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کے شہری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینلے اینڈ پارٹنرز اور نیو ورلڈ ویلتھ کی جانب سے لگائے گئے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کروڑ پتی افراد کی نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زائد مالیت کی دولت رکھنے والے ایک لاکھ 42 ہزار افراد نقل مکانی کریں گے اور نئے افق تلاش کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی ادارے نے 2025ء کی پاسپورٹ کی رینکنگ جاری کردی۔</strong></p>
<p>پاکستان کا پاسپورٹ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2024 میں بدستور سب سے نچلے درجوں میں رہا –  نیچے سے چوتھے نمبر پر  – پاکستانی پاسپورٹ صرف عراقی، شامی اور افغانی پاسپورٹ سے  بہتر رہا۔</p>
<p>یہ درجہ بندی ایسے وقت  سامنے آئی ہے جب موسم سرما کے دوران پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کے ویزے مسترد کیے جاچکے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا پاسپورٹ رینکنگ میں 106 میں سے 103 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال  یہ یمن کے ساتھ 100 ویں نمبر پر تھا۔</p>
<p>انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے اعدادوشمار کی بنیاد پر ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا کے 199 پاسپورٹس کی درجہ بندی کرتا ہے۔</p>
<p>سنگاپور دنیا کے 227 میں سے 195 مقامات پر ویزا کے بغیر رسائی کے ساتھ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے جب کہ جاپان 193 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔</p>
<p>فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات 10 ویں نمبر پر آیا -یواےای واحد عرب ریاست ہے جس نے  ٹاپ ٹین میں جگہ بنائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/01/10151519cf3ad31.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>متحدہ عرب امارات (یواےای) گزشتہ دہائی میں ہینلے پاسپورٹ انڈیکس پر سب سے زیادہ ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس نے 2015 کے بعد 72 نئے مقامات تک رسائی حاصل کی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یواےای نے 32 درجے ترقی کی اور 185 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر 10ویں نمبر پر آ گیا۔</p>
<p>امریکہ کا پاسپورٹ (9ویں نمبر) اور برطانیہ کا پاسپورٹ (5ویں نمبر) سب سے زیادہ نیچے آنے والے پاسپورٹس میں شامل ہیں جبکہ چین نے گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن تھنک ٹینک سینٹر فاراسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی سینئر ایسوسی ایٹ اینی فورزہیمر نے کہا کہ عالمی نقل و حرکت کے لحاظ سے امریکہ کی مسلسل تنزلی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ دوسری بار ٹرمپ کی صدارت کے آغاز سے پہلے ہی امریکی سیاسی رجحانات نمایاں طور پر اندرونی اور تنہائی پسند بن چکے تھے۔</p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق ایک ہی وقت میں، مختلف علاقوں میں سیاسی عدم استحکام اور مسلح تصادم بے شمار افراد کو اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ محفوظ پناہ گاہ اور پناہ تلاش کر سکیں۔ بے گھر ہونے والے افراد اور دیگر مہاجرین کی چھپی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے فری گلوبل سٹیز متعارف کرانے کی ضرورت کبھی اتنی فوری اور واضح نہیں تھی، تاکہ انہیں حالات کے متاثرین سے اپنے مستقبل کے معماروں میں تبدیل کیا جا سکے۔</p>
<p>امریکی شہری بھی دوسرے شہریت کے لیے درخواست دینے والے نمایاں درخواست گزاروں میں شامل تھے۔</p>
<p><strong>2025 میں اہم سفری رجحانات</strong></p>
<p>دریں اثنا، دنیا کا سفری منظر 2025 میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔</p>
<p>اس سال ڈیجیٹل بارڈر کنٹرول میں ایک اہم پیشرفت دیکھنے کو ملے گی، جس میں برطانیہ کی ای ٹی اے کی توسیع اور طویل عرصے سے منتظر یورپی سفر کی معلومات اور اجازت کا نظام (ای ٹی آئی اے ایس) شامل ہے۔</p>
<p>برطانیہ نے اپنے ای ٹی اے نظام کو مرحلہ وار متعارف کرانا شروع کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں، فروری 2024 میں خلیج تعاون کونسل کے شہریوں کے لیے کھولے جانے والے اس منصوبے کی توسیع جنوری 2025 میں یورپ سے باہر کے اہل مسافروں تک کی جائے گی، اور بعد میں اس سے چھ ملین شہریوں کو فائدہ پہنچے گا جن میں آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کے شہری شامل ہیں۔</p>
<p>ہینلے اینڈ پارٹنرز اور نیو ورلڈ ویلتھ کی جانب سے لگائے گئے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کروڑ پتی افراد کی نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زائد مالیت کی دولت رکھنے والے ایک لاکھ 42 ہزار افراد نقل مکانی کریں گے اور نئے افق تلاش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40268967</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jan 2025 16:07:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/1015242266d5a9f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/1015242266d5a9f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا بھر میں 6 کروڑ گھرانوں نے پال-ٹائسن میچ دیکھا، نیٹ فلکس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40267501/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک بیان کے مطابق دنیا بھر میں 60 ملین(6 کروڑ) گھرانوں نے جیک پال اور مائیک ٹائسن کے درمیان انتہائی متوقع باکسنگ میچ دیکھا تھا اور ایونٹ 65 ملین اسٹریمز تک پہنچ گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر سے پرائز فائٹر بننے والے پال اور 58 سالہ سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن ٹائسن کے درمیان مقابلہ نیٹ فلکس پر براہ راست نشر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ فلکس کے مطابق آئرلینڈ کی لائٹ ویٹ چیمپیئن کیٹی ٹیلر اور پورٹو ریکو کی فیدر ویٹ چیمپیئن امانڈا سیرانو کے درمیان ہونے والے اس مشترکہ ایونٹ میں تقریبا پانچ کروڑ گھرانوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ فلکس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مقابلہ امریکی تاریخ میں خواتین کے کھیلوں کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ایونٹ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آؤٹیج ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق میچ کی لائیو اسٹریمنگ کے دوران کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور 90 ہزار سے زائد صارفین نے نیٹ فلکس  پر مسائل کی اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، امریکہ میں تقریبا 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی بندش کے بعد ہفتے کے روز اسٹریمنگ پلیٹ فارم کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک بیان کے مطابق دنیا بھر میں 60 ملین(6 کروڑ) گھرانوں نے جیک پال اور مائیک ٹائسن کے درمیان انتہائی متوقع باکسنگ میچ دیکھا تھا اور ایونٹ 65 ملین اسٹریمز تک پہنچ گیا تھا۔</strong></p>
<p>27 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر سے پرائز فائٹر بننے والے پال اور 58 سالہ سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن ٹائسن کے درمیان مقابلہ نیٹ فلکس پر براہ راست نشر کیا گیا۔</p>
<p>نیٹ فلکس کے مطابق آئرلینڈ کی لائٹ ویٹ چیمپیئن کیٹی ٹیلر اور پورٹو ریکو کی فیدر ویٹ چیمپیئن امانڈا سیرانو کے درمیان ہونے والے اس مشترکہ ایونٹ میں تقریبا پانچ کروڑ گھرانوں نے شرکت کی۔</p>
<p>نیٹ فلکس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مقابلہ امریکی تاریخ میں خواتین کے کھیلوں کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ایونٹ ہوگا۔</p>
<p>آؤٹیج ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق میچ کی لائیو اسٹریمنگ کے دوران کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور 90 ہزار سے زائد صارفین نے نیٹ فلکس  پر مسائل کی اطلاع دی۔</p>
<p>تاہم، امریکہ میں تقریبا 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی بندش کے بعد ہفتے کے روز اسٹریمنگ پلیٹ فارم کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40267501</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Nov 2024 13:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/11/171326591c10baa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/11/171326591c10baa.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوبل انعام برائے اقتصادیات خوشحالی کے محققین کو دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40266588/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کا کہنا ہے کہ امریکی ماہرینِ اقتصادیات دارون اکی موگلو، سائمن جانسن اور جیمز رابنسن نے 2024 کا نوبل انعام برائے اقتصادیات ”اداروں کی تشکیل اور ان کے خوشحالی پر اثرات کے مطالعے“ کے لیے جیتا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفریڈ نوبل کی یاد میں اقتصادی علوم میں سوریجز رکس بینک انعام کے نام سے جانا جانے والا یہ اعزاز اس سال دیا جانے والا آخری انعام ہے اور اس کی مالیت ایک کروڑ 10 لاکھ سویڈش کراؤن (1.1 ملین ڈالر) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ممالک کے درمیان آمدنی میں وسیع فرق کو کم کرنا ہمارے وقت کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے. اقتصادی علوم میں انعام کے لئے کمیٹی کے چیئرمین جیکب سوینسن نے کہا کہ انعام یافتگان نے اس مقصد کے حصول کے لئے معاشرتی اداروں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوارڈ کے منتظمین نے اپنی ویب سائٹ پر مزید کہا، “قانون کی ناقص حکمرانی والے معاشرے اور آبادی کا استحصال کرنے والے ادارے ترقی یا تبدیلی پیدا نہیں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارون اکی موگلو، سائمن جانسن میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں جبکہ جیمز رابنسن شکاگو یونیورسٹی میں کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکی موگلو اور جانسن نے حال ہی میں ایک کتاب پر مشترکہ طور پر کام کیا جس میں مختلف ادوار میں ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا گیا اور دکھایا گیا کہ کس طرح بعض ٹیکنالوجی کی ترقی ملازمتیں پیدا کرنے اور دولت پھیلانے میں زیادہ کامیاب رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادیات کا انعام سائنس، ادب اور امن کے لیے الفریڈ نوبل کے وصیت میں شامل اصل انعامات میں سے ایک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بعد میں شامل کردہ انعام ہے جو 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک کے ذریعے قائم اور مالی معاونت فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں جیتنے والوں میں ملٹن فریڈمین، جان نیش جیسے بااثر مفکرین شامل ہیں - جس کا کردار اداکار رسل کرو نے 2001 کی فلم میں ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ایک خوبصورت دماغ“ - اور، حال ہی میں، امریکی فیڈرل ریزرو کے سابق چیئرمین بین برنانکے. گزشتہ سال ہارورڈ کی معاشی تاریخ دان کلاڈیا گولڈن نے مردوں اور خواتین کے درمیان اجرت اور لیبر مارکیٹ میں عدم مساوات کی وجوہات کو اجاگر کرنے پر یہ انعام جیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشیات کے اس انعام پر اس کے آغاز سے ہی امریکی ماہرین تعلیم کا غلبہ رہا ہے، جبکہ امریکہ میں مقیم محققین بھی سائنسی شعبوں میں جیتنے والوں کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں جن کے لیے گزشتہ ہفتے 2024 کے انعام یافتگان کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انعامات کا سلسلہ پیر کو امریکی سائنسدانوں وکٹر امبروس اور گیری رووکون کے میڈیسن کے انعام کے ساتھ شروع ہوا اور جمعہ کو جاپان کے نِہون ہیڈانکیو، ہیروشیما اور ناگاساکی کے متاثرین کی تنظیم جس نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے مہم چلائی، کے امن انعام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کا کہنا ہے کہ امریکی ماہرینِ اقتصادیات دارون اکی موگلو، سائمن جانسن اور جیمز رابنسن نے 2024 کا نوبل انعام برائے اقتصادیات ”اداروں کی تشکیل اور ان کے خوشحالی پر اثرات کے مطالعے“ کے لیے جیتا</strong></p>
<p>الفریڈ نوبل کی یاد میں اقتصادی علوم میں سوریجز رکس بینک انعام کے نام سے جانا جانے والا یہ اعزاز اس سال دیا جانے والا آخری انعام ہے اور اس کی مالیت ایک کروڑ 10 لاکھ سویڈش کراؤن (1.1 ملین ڈالر) ہے۔</p>
<p>“ممالک کے درمیان آمدنی میں وسیع فرق کو کم کرنا ہمارے وقت کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے. اقتصادی علوم میں انعام کے لئے کمیٹی کے چیئرمین جیکب سوینسن نے کہا کہ انعام یافتگان نے اس مقصد کے حصول کے لئے معاشرتی اداروں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p>ایوارڈ کے منتظمین نے اپنی ویب سائٹ پر مزید کہا، “قانون کی ناقص حکمرانی والے معاشرے اور آبادی کا استحصال کرنے والے ادارے ترقی یا تبدیلی پیدا نہیں کرتے ہیں۔</p>
<p>دارون اکی موگلو، سائمن جانسن میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں جبکہ جیمز رابنسن شکاگو یونیورسٹی میں کام کرتے ہیں۔</p>
<p>اکی موگلو اور جانسن نے حال ہی میں ایک کتاب پر مشترکہ طور پر کام کیا جس میں مختلف ادوار میں ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا گیا اور دکھایا گیا کہ کس طرح بعض ٹیکنالوجی کی ترقی ملازمتیں پیدا کرنے اور دولت پھیلانے میں زیادہ کامیاب رہی ہیں۔</p>
<p>اقتصادیات کا انعام سائنس، ادب اور امن کے لیے الفریڈ نوبل کے وصیت میں شامل اصل انعامات میں سے ایک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بعد میں شامل کردہ انعام ہے جو 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک کے ذریعے قائم اور مالی معاونت فراہم کیا گیا۔</p>
<p>ماضی میں جیتنے والوں میں ملٹن فریڈمین، جان نیش جیسے بااثر مفکرین شامل ہیں - جس کا کردار اداکار رسل کرو نے 2001 کی فلم میں ادا کیا تھا۔</p>
<p>”ایک خوبصورت دماغ“ - اور، حال ہی میں، امریکی فیڈرل ریزرو کے سابق چیئرمین بین برنانکے. گزشتہ سال ہارورڈ کی معاشی تاریخ دان کلاڈیا گولڈن نے مردوں اور خواتین کے درمیان اجرت اور لیبر مارکیٹ میں عدم مساوات کی وجوہات کو اجاگر کرنے پر یہ انعام جیتا تھا۔</p>
<p>معاشیات کے اس انعام پر اس کے آغاز سے ہی امریکی ماہرین تعلیم کا غلبہ رہا ہے، جبکہ امریکہ میں مقیم محققین بھی سائنسی شعبوں میں جیتنے والوں کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں جن کے لیے گزشتہ ہفتے 2024 کے انعام یافتگان کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ انعامات کا سلسلہ پیر کو امریکی سائنسدانوں وکٹر امبروس اور گیری رووکون کے میڈیسن کے انعام کے ساتھ شروع ہوا اور جمعہ کو جاپان کے نِہون ہیڈانکیو، ہیروشیما اور ناگاساکی کے متاثرین کی تنظیم جس نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے مہم چلائی، کے امن انعام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40266588</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 17:19:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/10/141718461cc8f80.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/10/141718461cc8f80.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ امیر افراد کی ترجیح</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40266493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عرب بزنس کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی تیزی عالمی دولت مندوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے حصوں سے نقدی سے مالا مال سرمایہ کار تیزی سے خلیجی شہر میں لگژری جائیدادوں میں سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور انتہائی غیر مستحکم اسٹاک مارکیٹ سے دور ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں صنعتی ماہرین کا حوالہ دیا گیا ہے جو پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2024 میں جنریشن زیڈ (Gen Z) خریداروں کی سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی اہمیت ہوگی، جبکہ ملینیئلز بھی رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کی معروف رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فرم فورمین فیفڈوم کے گلوبل آپریشنز کے نائب صدر کرون لوتھرا نے عرب بزنس کو بتایا کہ جبکہ پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور دبئی کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہو رہا ہے، سرمایہ کار، خاص طور پر دولت مند، رئیل اسٹیٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسٹاک مارکیٹ لیکویڈٹی اور تیزی سے منافع کی پیش کش کرتی ہے، دبئی میں رئیل اسٹیٹ اس کے استحکام، طویل مدتی ترقی اور اہم ٹیکس فوائد کیلئے نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا  کہ دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور نتیجہ خیز ہے، جو سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع بخش منافع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور شمالی امریکہ جیسے ممالک سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد (ایچ این ڈبلیو آئی) دبئی کا رخ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ رپورٹ میں آسٹریلیا، یورپ، ترکیہ اور ایران کے سرمایہ کاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو دبئی کے اگلے گروتھ سائیکل کی قیادت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوتھرا نے مزید کہا کہ وہ شہر کے اعلی منافع والے کاروباری مواقع، اہم مقامات اور پرکشش ٹیکس فوائد سے متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوتھرا نے مزید کہا کہ پام جمیرہ پر واٹر فرنٹ ولاز سے لے کر دبئی میں پینٹ ہاؤسز تک، لگژری پراپرٹیز نہ صرف حیثیت کی علامت ہیں بلکہ غیر یقینی صورتحال کے وقت میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں صنعتی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ حالیہ مہینوں میں 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور توقع ہے کہ طلب اور قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراپرٹی کنسلٹنٹ نائٹ فرینک ایل ایل پی کے مطابق دبئی پہلے ہی مندی کی  پیش گوئیوں کی نفی کرچکا ہے کیونکہ طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سال 2023 میں 74.6 ارب ڈالر کی ڈیلز مکمل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں مہنگے اثاثوں میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی میں پہلی برانڈڈ رہائشیں 2010 میں برج خلیفہ میں ارمانی رہائشیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے، ان پریمیم گھروں کی مانگ میں صرف اضافہ ہوا ہے ، اور دبئی نے سالوں میں اس مخصوص مارکیٹ میں توسیع دیکھی ہے ، اس وقت 70 سے زیادہ برانڈڈ رہائش گاہیں ہیں جن میں بلغاری ، ورسیس اور سکس سینسز جیسے برانڈز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے ایک سینئر ایگزیکٹو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برانڈڈ رہائش گاہوں کی کشش اور شہر کی عالمی حیثیت نے دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم انتخاب کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ رجحان عالمی عدم استحکام کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار ٹھوس اور مستحکم اثاثے تلاش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں دبئی میں لگژری رئیل اسٹیٹ صرف طرز زندگی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دولت کے تحفظ کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عرب بزنس کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی تیزی عالمی دولت مندوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے حصوں سے نقدی سے مالا مال سرمایہ کار تیزی سے خلیجی شہر میں لگژری جائیدادوں میں سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور انتہائی غیر مستحکم اسٹاک مارکیٹ سے دور ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں صنعتی ماہرین کا حوالہ دیا گیا ہے جو پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2024 میں جنریشن زیڈ (Gen Z) خریداروں کی سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی اہمیت ہوگی، جبکہ ملینیئلز بھی رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔</p>
<p>دبئی کی معروف رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فرم فورمین فیفڈوم کے گلوبل آپریشنز کے نائب صدر کرون لوتھرا نے عرب بزنس کو بتایا کہ جبکہ پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور دبئی کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہو رہا ہے، سرمایہ کار، خاص طور پر دولت مند، رئیل اسٹیٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسٹاک مارکیٹ لیکویڈٹی اور تیزی سے منافع کی پیش کش کرتی ہے، دبئی میں رئیل اسٹیٹ اس کے استحکام، طویل مدتی ترقی اور اہم ٹیکس فوائد کیلئے نمایاں ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا  کہ دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور نتیجہ خیز ہے، جو سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع بخش منافع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور شمالی امریکہ جیسے ممالک سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد (ایچ این ڈبلیو آئی) دبئی کا رخ کررہے ہیں۔</p>
<p>ایک حالیہ رپورٹ میں آسٹریلیا، یورپ، ترکیہ اور ایران کے سرمایہ کاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو دبئی کے اگلے گروتھ سائیکل کی قیادت کریں گے۔</p>
<p>لوتھرا نے مزید کہا کہ وہ شہر کے اعلی منافع والے کاروباری مواقع، اہم مقامات اور پرکشش ٹیکس فوائد سے متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>لوتھرا نے مزید کہا کہ پام جمیرہ پر واٹر فرنٹ ولاز سے لے کر دبئی میں پینٹ ہاؤسز تک، لگژری پراپرٹیز نہ صرف حیثیت کی علامت ہیں بلکہ غیر یقینی صورتحال کے وقت میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں صنعتی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ حالیہ مہینوں میں 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور توقع ہے کہ طلب اور قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔</p>
<p>پراپرٹی کنسلٹنٹ نائٹ فرینک ایل ایل پی کے مطابق دبئی پہلے ہی مندی کی  پیش گوئیوں کی نفی کرچکا ہے کیونکہ طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سال 2023 میں 74.6 ارب ڈالر کی ڈیلز مکمل کی گئیں۔</p>
<p>شہر میں مہنگے اثاثوں میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>دبئی میں پہلی برانڈڈ رہائشیں 2010 میں برج خلیفہ میں ارمانی رہائشیں تھیں۔</p>
<p>اس کے بعد سے، ان پریمیم گھروں کی مانگ میں صرف اضافہ ہوا ہے ، اور دبئی نے سالوں میں اس مخصوص مارکیٹ میں توسیع دیکھی ہے ، اس وقت 70 سے زیادہ برانڈڈ رہائش گاہیں ہیں جن میں بلغاری ، ورسیس اور سکس سینسز جیسے برانڈز شامل ہیں۔</p>
<p>انڈسٹری کے ایک سینئر ایگزیکٹو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برانڈڈ رہائش گاہوں کی کشش اور شہر کی عالمی حیثیت نے دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم انتخاب کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ رجحان عالمی عدم استحکام کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار ٹھوس اور مستحکم اثاثے تلاش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں دبئی میں لگژری رئیل اسٹیٹ صرف طرز زندگی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دولت کے تحفظ کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40266493</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Oct 2024 15:21:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر لائف اینڈ اسٹائل)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/10/101515571be8ea7.png" type="image/png" medium="image" height="379" width="790">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/10/101515571be8ea7.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی شہریوں سمیت تارکین وطن مزدوروں کو ’میڈ ان اٹلی‘ لیبل تیار کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40265914/</link>
      <description>&lt;p&gt;’میڈ ان اٹلی: شیم ان اٹلی“، اٹلی میں چرمی اشیا بنانے کیلئے معروف علاقے ٹسکنی سے جنیوا منتقل ہونے والے مٹھی بھر تارکین وطن مزدروں نے لگژری ایسیسیریز بنانے والی کمپنی مونٹ بلانک کے فلیگ شپ اسٹور کے باہر پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مذکورہ نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;76 ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالک مونٹ بلانک کی پیرنٹ کمپنی رچیومونٹ کے شیئر ہولڈرز کے اجلاس سے تقریباً تین کلومیٹر دور کھڑے، مزدوروں نے، جن کے ساتھ درجنوں اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کے یونین اہلکار تھے، الزام لگایا کہ کمپنی نے گزشتہ سال بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے اپنے سپلائر زیڈ پروڈکشن کو چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزدوروں اور یونین کے عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹسکنی میں واقع چینی ملکیت والے کنٹریکٹرز نے کئی سالوں کے غیر قانونی معاہدوں اور طویل شفٹوں کے بعد اکتوبر 2022 میں اپنے کام کے حالات کو بہتر بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/09/181355444834dab.png'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ زین علی نے کہا کہ نے کہا کہ مونبلان نے معاہدہ ختم کر دیا کیونکہ ہم قانون کے مطابق دیگر مزدوروں کی طرح دن میں آٹھ گھنٹے، ہفتے میں پانچ دن کام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو سال اور چھ ماہ تک زیڈ پروڈکشن کے لیے کام کرتے رہے جس میں انہوں نے چمڑے کی اشیاء پر مونبلان کے دھاتی لوگو لگائے، کمپنی کو مزدور نہیں صرف غلام چاہیئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیڈ پروڈکشن نے اس اسٹوری پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ مونبلان نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے 2023 کے اوائل میں زیڈ پروڈکشن کے معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس کے آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کنٹریکٹرز سپلائرز کے لئے رچیومونٹ کے ضابطہ اخلاق میں بیان کردہ معیارپر پورا اترنے میں ناکام رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات کے مطابق رواں سال پراسیکیوٹرز کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں اٹلی کے فیشن دارالحکومت میلان کے قریب 16 ورکشاپس میں مزدوروں سے متعلق انتہائی سخت حالات سامنے لائے گئے جو لگژری برانڈز ڈیور، جورجیو ارمانی اور الویرو مارٹینی کے لیے مصنوعات تیار کرتے تھے۔ رائٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے روئٹرز نے سات لگژری سپلائی چین ورکرز اور تین یونین رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متعدد غیر منافع بخش تنظیموں، مقامی عہدیداروں اور صنعت کاروں سے بات کی جنہوں نے کہا کہ کام کرنے کے اس طرح کے سخت حالات ٹسکنی میں لگژری سپلائی چین کی ایک خصوصیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ زیڈ پروڈکشن اور دیگر ورکشاپس نے مونٹ بلانک اور دیگر اعلی درجے کے برانڈز کے لیے لگژری مصنوعات تیار کرنے کے لیے چمڑے کی تیاری کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل میلان سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیڈ پروڈکشن میں 2022 تک ڈیلیوری مین کے طور پر کام کرنے والے 53 سالہ ایلیسنڈرو لیسی نے بتایا کہ بڑی ورکشاپ میں واحد اطالوی ہونے کے ناطے ان کے پاس باقاعدہ کنٹریکٹ تھا لیکن وہاں کے تارکین وطن مزدوروں سے اضافی کام لیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ میں شام 6 بجے چلا جاتا تھا لیکن باقی سب وہیں رہتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین کا تعلق چین، پاکستان یا بنگلہ دیش سے تھا کیونکہ کمپنی نے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی تھی، یہ یہاں ٹسکنی میں بہت عام ہے، یہ بڑے برانڈز لاگت ٹھیکیداروں پر عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/09/181355164ddd64f.png'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کی ایک عدالت نے ارمانی کی صنعتی شاخ جیورجیو ارمانی آپریشنز اور اٹلی کی مینوفیکچررز ڈیور کو بالترتیب جنوری، اپریل اور جون میں ایک سال کی مدت کے لیے عدالتی انتظامیہ میں شامل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات اور عدالتی ذرائع کے مطابق، اس کے بعد، جج اس بات کی تصدیق کریں گے کہ آیا کمپنیوں نے خامیوں کو دور کیا ہے اور مزدوروں کے مسائل کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لئے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں بات کرتے ہوئے ڈیور کی پیرنٹ کمپنی ایل وی ایم ایچ نے کہا کہ وہ سپلائی چین کے آڈٹ اور جانچ پڑتال کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ کہ ڈیور اس کی پیداوار کا زیادہ براہ راست کنٹرول لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں ارمانی گروپ نے کہا تھا کہ اس کے پاس سپلائی چین میں زیادتیوں کو کم سے کم کرنے کے لئے ہمیشہ کنٹرول اور روک تھام کے اقدامات موجود ہیں۔ الویرو مارٹینی نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ غیر مجاز ذیلی معاہدوں اور مزدوروں کے استحصال سے لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے سے واقف ایک شخص نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ اطالوی استغاثہ اب تقریبا ایک درجن مزید فیشن برانڈز کی سپلائی چینز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرتعیش اشیا کا گورکھ راز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نایاب اور خصوصی اشیاء کے لئے صارفین کی طلب نے ایل وی ایم ایچ کو 300 بلین یورو (330 بلین ڈالر) سے زیادہ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ یورپ کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے جو لگژری شعبے کی تیزی سے توسیع کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برانڈز پیداوار کو تیز کرنے کے لئے ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کی ایک چین پر انحصار کرتے ہیں جب طلب زیادہ ہوتی ہے اور جب اس میں کمی آتی ہے تو صلاحیت کو تیزی سے کم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹسکنی میں ٹیکسٹائل کے مرکز پراٹو میں یونین کے ایک عہدیدار کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے عباس اور ارسلان محمد، جو پاکستان سے غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر آئے تھے، نے کہا کہ انہوں نے لگژری برانڈز فراہم کرنے والی ورکشاپوں میں درجنوں تارکین وطن کے ساتھ مل کر برسوں تک محنت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;32 سالہ عباس، جو پاکستان میں ویلڈر کا کام کرتے تھے اور 2015 میں بلقان کے راستے اٹلی پہنچے تھے، نے بتایا کہ انہوں نے فلورنس کے قریب چمڑے سے کام کرنے والے ایک مشہور ضلع انیسا والڈارنو میں چین کے زیر انتظام ایک ورکشاپ سے شروعات کی تھی لیکن ان کے پاس کام کا اجازت نامہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس نے بتایا کہ مجھے 14 گھنٹے کھڑے ہوکر کام کرنا پڑتا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ تقریبا 50 پاکستانی، افغان اور چینی تارکین وطن کے ساتھ مل کر بین الاقوامی لگژری برانڈز کے لیے بیگ اور چمڑے کی ایسیسریز بناتے تھے۔ انہوں نے جوابی کارروائی کے خوف سے ورکشاپ کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کام الگ الگ ٹھیکیداروں کے بنائے ہوئے تھیلوں کے چمڑے کو رنگنا تھا، یہ ہنر انہوں نے اٹلی آنے کے بعد سیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میری ٹانگوں میں اس قدر شدید درد تھا کہ میں رات کو سو نہیں سکتا تھا، میں  ٹوائلٹ نہیں جا سکتا تھا اور نہ ہی بیٹھ سکتا تھا۔ انہوں نے نوکری کھونے کے ڈر سے اپنا پورا نام بتانے یا اپنے موجودہ ٹھیکیدار کی تفصیلات دینے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ جزوقتی معاہدے سے ماہانہ 600 سے 700 یورو اور اضافی گھنٹوں کے لیے 400 سے 500 یورو نقد کماتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا احتجاج کو منظم کرنے میں مدد کرنے والی یونین ایس یو ڈی ڈی کوبس کی ایک عہدیدار فرانسسکا سیفی نے کہا کہ پراٹو میں ورکشاپوں میں اس طرح کے طریقے اب بھی عام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے مسائل کی وجہ سے عباس کو پہلی نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا لیکن 2019 میں پراٹو کی اسی صنعت میں کام مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں تک ان کے کام کے حالات وہی تھے جس کا تجربہ پہلی فیکٹری میں تجربہ کیا گیا تھا۔ لیکن 2022 میں ایس یو ڈی ڈی کوبس کی مدد سے عباس اور ان کے ساتھیوں نے ماہانہ 1400 یورو کا باقاعدہ معاہدہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیڈ پروڈکشن کے لیے کام کرنے والے 27 سالہ پاکستانی تارکین وطن ارسلان نے بتایاکہ انہوں نے 2017 میں اٹلی پہنچنے کے بعد روزانہ کئی گھنٹے کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب آپ ہفتے میں چھ دن، دن میں 12 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں تو آپ کے پاس خریداری کرنے کا بھی وقت نہیں ہوتا ہے، آپ کے پاس اپنے کپڑے دھونے کا بھی وقت نہیں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ابتدائی طور پر بغیر کسی معاہدے کے کام کیا اور پھر انہیں جزوقتی معاہدہ دیا گیا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ عباس کی طرح انہیں بھی بالآخر یونین سے مدد ملی اور انہوں نے 2022 میں زیڈ پروڈکشن سے مناسب معاہدہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر قانونی طریقوں کا پردہ فاش&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کی عدالت کی دستاویزات کے مطابق، لگژری برانڈز عموماً اپنے ڈیزائن کی پیداوار ایک سرکردہ ذیلی ٹھیکیدار کو سونپتے ہیں لیکن وہ کمپنی محض ایک خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی، جو نمونے تیار کرنے کے قابل ہوتی ہے لیکن اس کی مینوفیکچرنگ صلاحیت محدود ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کام دوسرے ورکشاپ میں کیا جاتا ہے، جہاں اخراجات کم ہوتے ہیں اور حالات اور مزدوروں کے ساتھ اچھے سلوک کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کے پراسیکیوٹرز نے جون میں ڈیور کیس سے متعلق دستاویزات میں لکھا تھا کہ تحقیقات کے دوران ایسی آزمودہ اور گہری جڑیں رکھنے والی غیر قانونی باتیں سامنے آئیں کہ اسے ایک وسیع تر کاروباری ماڈل کے حصے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کا مقصد صرف منافع میں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی میں پھیلی ہوئی لگژری سپلائی چین کے اندر کیا ہوتا ہے اس پر نظر رکھنا مشکل ہے۔ کنسلٹنسی بین کے مطابق عالمی مہنگی اشیا کی پیداوار میں ملک کا حصہ 50 سے 55 فیصد کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی فیشن برانڈز لابی گروپ نیشنل فیشن چیمبر کے چیئرمین کارلو کاپاسا نے کہا کہ ایک اوسط برانڈ میں 7،000 سپلائرز ہوتے ہیں، اگر ہر سپلائر کے پاس دو ذیلی سپلائرز ہیں، تو یہ شاید یہ مزید 14،000 کا اضافہ ہے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک سال میں 21,000 آڈٹ کون کر سکتا ہے…. یہ ناممکن ہے، لہذا یہ واضح ہے کہ کوئی نہ کوئی (کنٹرول) سے بچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عدالتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اٹلی کے کارابینیری کی جانب سے ورکشاپس پر چھاپوں نے ٹھیکیداروں کو الرٹ کر دیا ہے کیونکہ یہ معاملہ جاری ہے: موسم گرما کے دوران کی گئی جانچ پڑتال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار کم از کم میلان کے گردونواح میں اپنی صورتحال کو درست کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلیٰ تحقیقاتی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کچھ سپلائرز نے پیداوار کو وینیٹو، کیمپانیا اور اپولیا جیسے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی لابی گروپ سی این اے فیڈرموڈا سے تعلق رکھنے والے انتونیو فرانسشینی، جو کاریگروں اور چھوٹے فیشن کاروباری اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ لگژری کی سخت مقابلے والی دنیا میں عملے کو صحیح معاہدوں پر رکھنا اور ماحولیاتی ضوابط کی پاسداری کرنا بالآخر ایک قیمت پر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کی عدالتی دستاویزات کے مطابق کم تنخواہ والے ملازمین اور غیر صحت مند کام کے حالات کی وجہ سے ڈیور کے ٹھیکیدار پیلٹٹیریا الزبیٹا یانگ سرل نے ڈیور سے فی ہینڈ بیگ 53 یورو وصول کرنے کی اجازت دی جبکہ اس کی ریٹیل قیمت 2600 یورو تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیور نے کہا کہ اس نے سپلائر کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیئے ہیں جو صرف جزوی طور پر بیگ اسمبل کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین انتباہ دیتے ہیں کہ ایسے ورکشاپس جو مہنگی مصنوعات کے لیے انتہائی کم قیمتوں پر کام کرنے کی پیشکش کرتے ہیں، جیسے کہ میلان کے پراسیکیوٹرز کی جانچ پڑتال میں سامنے آئے، بڑے برانڈز کے لیے ایک سرخ جھنڈا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ جیسے جیسے پیداوار کی قیمتیں کم ہوتی ہیں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسشینی نے کہاکہ کام کے معاوضے کی لاگت ایک خاص سطح سے نیچے نہیں گر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’میڈ ان اٹلی: شیم ان اٹلی“، اٹلی میں چرمی اشیا بنانے کیلئے معروف علاقے ٹسکنی سے جنیوا منتقل ہونے والے مٹھی بھر تارکین وطن مزدروں نے لگژری ایسیسیریز بنانے والی کمپنی مونٹ بلانک کے فلیگ شپ اسٹور کے باہر پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مذکورہ نعرے درج تھے۔</p>
<p>76 ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالک مونٹ بلانک کی پیرنٹ کمپنی رچیومونٹ کے شیئر ہولڈرز کے اجلاس سے تقریباً تین کلومیٹر دور کھڑے، مزدوروں نے، جن کے ساتھ درجنوں اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کے یونین اہلکار تھے، الزام لگایا کہ کمپنی نے گزشتہ سال بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے اپنے سپلائر زیڈ پروڈکشن کو چھوڑ دیا۔</p>
<p>مزدوروں اور یونین کے عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹسکنی میں واقع چینی ملکیت والے کنٹریکٹرز نے کئی سالوں کے غیر قانونی معاہدوں اور طویل شفٹوں کے بعد اکتوبر 2022 میں اپنے کام کے حالات کو بہتر بنایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/09/181355444834dab.png'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ زین علی نے کہا کہ نے کہا کہ مونبلان نے معاہدہ ختم کر دیا کیونکہ ہم قانون کے مطابق دیگر مزدوروں کی طرح دن میں آٹھ گھنٹے، ہفتے میں پانچ دن کام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو سال اور چھ ماہ تک زیڈ پروڈکشن کے لیے کام کرتے رہے جس میں انہوں نے چمڑے کی اشیاء پر مونبلان کے دھاتی لوگو لگائے، کمپنی کو مزدور نہیں صرف غلام چاہیئے تھے۔</p>
<p>زیڈ پروڈکشن نے اس اسٹوری پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ مونبلان نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے 2023 کے اوائل میں زیڈ پروڈکشن کے معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس کے آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کنٹریکٹرز سپلائرز کے لئے رچیومونٹ کے ضابطہ اخلاق میں بیان کردہ معیارپر پورا اترنے میں ناکام رہا تھا۔</p>
<p>عدالتی دستاویزات کے مطابق رواں سال پراسیکیوٹرز کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں اٹلی کے فیشن دارالحکومت میلان کے قریب 16 ورکشاپس میں مزدوروں سے متعلق انتہائی سخت حالات سامنے لائے گئے جو لگژری برانڈز ڈیور، جورجیو ارمانی اور الویرو مارٹینی کے لیے مصنوعات تیار کرتے تھے۔ رائٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے روئٹرز نے سات لگژری سپلائی چین ورکرز اور تین یونین رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متعدد غیر منافع بخش تنظیموں، مقامی عہدیداروں اور صنعت کاروں سے بات کی جنہوں نے کہا کہ کام کرنے کے اس طرح کے سخت حالات ٹسکنی میں لگژری سپلائی چین کی ایک خصوصیت ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ زیڈ پروڈکشن اور دیگر ورکشاپس نے مونٹ بلانک اور دیگر اعلی درجے کے برانڈز کے لیے لگژری مصنوعات تیار کرنے کے لیے چمڑے کی تیاری کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل میلان سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>زیڈ پروڈکشن میں 2022 تک ڈیلیوری مین کے طور پر کام کرنے والے 53 سالہ ایلیسنڈرو لیسی نے بتایا کہ بڑی ورکشاپ میں واحد اطالوی ہونے کے ناطے ان کے پاس باقاعدہ کنٹریکٹ تھا لیکن وہاں کے تارکین وطن مزدوروں سے اضافی کام لیا جاتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ میں شام 6 بجے چلا جاتا تھا لیکن باقی سب وہیں رہتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین کا تعلق چین، پاکستان یا بنگلہ دیش سے تھا کیونکہ کمپنی نے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی تھی، یہ یہاں ٹسکنی میں بہت عام ہے، یہ بڑے برانڈز لاگت ٹھیکیداروں پر عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/09/181355164ddd64f.png'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>میلان کی ایک عدالت نے ارمانی کی صنعتی شاخ جیورجیو ارمانی آپریشنز اور اٹلی کی مینوفیکچررز ڈیور کو بالترتیب جنوری، اپریل اور جون میں ایک سال کی مدت کے لیے عدالتی انتظامیہ میں شامل کیا ہے۔</p>
<p>عدالتی دستاویزات اور عدالتی ذرائع کے مطابق، اس کے بعد، جج اس بات کی تصدیق کریں گے کہ آیا کمپنیوں نے خامیوں کو دور کیا ہے اور مزدوروں کے مسائل کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لئے اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>جولائی میں بات کرتے ہوئے ڈیور کی پیرنٹ کمپنی ایل وی ایم ایچ نے کہا کہ وہ سپلائی چین کے آڈٹ اور جانچ پڑتال کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ کہ ڈیور اس کی پیداوار کا زیادہ براہ راست کنٹرول لے گا۔</p>
<p>اپریل میں ارمانی گروپ نے کہا تھا کہ اس کے پاس سپلائی چین میں زیادتیوں کو کم سے کم کرنے کے لئے ہمیشہ کنٹرول اور روک تھام کے اقدامات موجود ہیں۔ الویرو مارٹینی نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ غیر مجاز ذیلی معاہدوں اور مزدوروں کے استحصال سے لاعلم ہیں۔</p>
<p>اس معاملے سے واقف ایک شخص نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ اطالوی استغاثہ اب تقریبا ایک درجن مزید فیشن برانڈز کی سپلائی چینز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>پرتعیش اشیا کا گورکھ راز</strong></p>
<p>نایاب اور خصوصی اشیاء کے لئے صارفین کی طلب نے ایل وی ایم ایچ کو 300 بلین یورو (330 بلین ڈالر) سے زیادہ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ یورپ کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے جو لگژری شعبے کی تیزی سے توسیع کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<p>برانڈز پیداوار کو تیز کرنے کے لئے ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کی ایک چین پر انحصار کرتے ہیں جب طلب زیادہ ہوتی ہے اور جب اس میں کمی آتی ہے تو صلاحیت کو تیزی سے کم کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ٹسکنی میں ٹیکسٹائل کے مرکز پراٹو میں یونین کے ایک عہدیدار کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے عباس اور ارسلان محمد، جو پاکستان سے غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر آئے تھے، نے کہا کہ انہوں نے لگژری برانڈز فراہم کرنے والی ورکشاپوں میں درجنوں تارکین وطن کے ساتھ مل کر برسوں تک محنت کی۔</p>
<p>32 سالہ عباس، جو پاکستان میں ویلڈر کا کام کرتے تھے اور 2015 میں بلقان کے راستے اٹلی پہنچے تھے، نے بتایا کہ انہوں نے فلورنس کے قریب چمڑے سے کام کرنے والے ایک مشہور ضلع انیسا والڈارنو میں چین کے زیر انتظام ایک ورکشاپ سے شروعات کی تھی لیکن ان کے پاس کام کا اجازت نامہ نہیں تھا۔</p>
<p>عباس نے بتایا کہ مجھے 14 گھنٹے کھڑے ہوکر کام کرنا پڑتا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ تقریبا 50 پاکستانی، افغان اور چینی تارکین وطن کے ساتھ مل کر بین الاقوامی لگژری برانڈز کے لیے بیگ اور چمڑے کی ایسیسریز بناتے تھے۔ انہوں نے جوابی کارروائی کے خوف سے ورکشاپ کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>ان کا کام الگ الگ ٹھیکیداروں کے بنائے ہوئے تھیلوں کے چمڑے کو رنگنا تھا، یہ ہنر انہوں نے اٹلی آنے کے بعد سیکھا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میری ٹانگوں میں اس قدر شدید درد تھا کہ میں رات کو سو نہیں سکتا تھا، میں  ٹوائلٹ نہیں جا سکتا تھا اور نہ ہی بیٹھ سکتا تھا۔ انہوں نے نوکری کھونے کے ڈر سے اپنا پورا نام بتانے یا اپنے موجودہ ٹھیکیدار کی تفصیلات دینے سے انکار کیا۔</p>
<p>عباس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ جزوقتی معاہدے سے ماہانہ 600 سے 700 یورو اور اضافی گھنٹوں کے لیے 400 سے 500 یورو نقد کماتے تھے۔</p>
<p>جنیوا احتجاج کو منظم کرنے میں مدد کرنے والی یونین ایس یو ڈی ڈی کوبس کی ایک عہدیدار فرانسسکا سیفی نے کہا کہ پراٹو میں ورکشاپوں میں اس طرح کے طریقے اب بھی عام ہیں۔</p>
<p>صحت کے مسائل کی وجہ سے عباس کو پہلی نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا لیکن 2019 میں پراٹو کی اسی صنعت میں کام مل گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں تک ان کے کام کے حالات وہی تھے جس کا تجربہ پہلی فیکٹری میں تجربہ کیا گیا تھا۔ لیکن 2022 میں ایس یو ڈی ڈی کوبس کی مدد سے عباس اور ان کے ساتھیوں نے ماہانہ 1400 یورو کا باقاعدہ معاہدہ حاصل کیا۔</p>
<p>زیڈ پروڈکشن کے لیے کام کرنے والے 27 سالہ پاکستانی تارکین وطن ارسلان نے بتایاکہ انہوں نے 2017 میں اٹلی پہنچنے کے بعد روزانہ کئی گھنٹے کام کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب آپ ہفتے میں چھ دن، دن میں 12 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں تو آپ کے پاس خریداری کرنے کا بھی وقت نہیں ہوتا ہے، آپ کے پاس اپنے کپڑے دھونے کا بھی وقت نہیں ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ابتدائی طور پر بغیر کسی معاہدے کے کام کیا اور پھر انہیں جزوقتی معاہدہ دیا گیا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ عباس کی طرح انہیں بھی بالآخر یونین سے مدد ملی اور انہوں نے 2022 میں زیڈ پروڈکشن سے مناسب معاہدہ حاصل کیا۔</p>
<p><strong>غیر قانونی طریقوں کا پردہ فاش</strong></p>
<p>میلان کی عدالت کی دستاویزات کے مطابق، لگژری برانڈز عموماً اپنے ڈیزائن کی پیداوار ایک سرکردہ ذیلی ٹھیکیدار کو سونپتے ہیں لیکن وہ کمپنی محض ایک خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی، جو نمونے تیار کرنے کے قابل ہوتی ہے لیکن اس کی مینوفیکچرنگ صلاحیت محدود ہوتی ہے۔</p>
<p>اصل کام دوسرے ورکشاپ میں کیا جاتا ہے، جہاں اخراجات کم ہوتے ہیں اور حالات اور مزدوروں کے ساتھ اچھے سلوک کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔</p>
<p>میلان کے پراسیکیوٹرز نے جون میں ڈیور کیس سے متعلق دستاویزات میں لکھا تھا کہ تحقیقات کے دوران ایسی آزمودہ اور گہری جڑیں رکھنے والی غیر قانونی باتیں سامنے آئیں کہ اسے ایک وسیع تر کاروباری ماڈل کے حصے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کا مقصد صرف منافع میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>اٹلی میں پھیلی ہوئی لگژری سپلائی چین کے اندر کیا ہوتا ہے اس پر نظر رکھنا مشکل ہے۔ کنسلٹنسی بین کے مطابق عالمی مہنگی اشیا کی پیداوار میں ملک کا حصہ 50 سے 55 فیصد کے درمیان ہے۔</p>
<p>اطالوی فیشن برانڈز لابی گروپ نیشنل فیشن چیمبر کے چیئرمین کارلو کاپاسا نے کہا کہ ایک اوسط برانڈ میں 7،000 سپلائرز ہوتے ہیں، اگر ہر سپلائر کے پاس دو ذیلی سپلائرز ہیں، تو یہ شاید یہ مزید 14،000 کا اضافہ ہے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک سال میں 21,000 آڈٹ کون کر سکتا ہے…. یہ ناممکن ہے، لہذا یہ واضح ہے کہ کوئی نہ کوئی (کنٹرول) سے بچ جاتا ہے۔</p>
<p>ایک عدالتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اٹلی کے کارابینیری کی جانب سے ورکشاپس پر چھاپوں نے ٹھیکیداروں کو الرٹ کر دیا ہے کیونکہ یہ معاملہ جاری ہے: موسم گرما کے دوران کی گئی جانچ پڑتال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار کم از کم میلان کے گردونواح میں اپنی صورتحال کو درست کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایک اعلیٰ تحقیقاتی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کچھ سپلائرز نے پیداوار کو وینیٹو، کیمپانیا اور اپولیا جیسے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>اطالوی لابی گروپ سی این اے فیڈرموڈا سے تعلق رکھنے والے انتونیو فرانسشینی، جو کاریگروں اور چھوٹے فیشن کاروباری اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ لگژری کی سخت مقابلے والی دنیا میں عملے کو صحیح معاہدوں پر رکھنا اور ماحولیاتی ضوابط کی پاسداری کرنا بالآخر ایک قیمت پر آتا ہے۔</p>
<p>میلان کی عدالتی دستاویزات کے مطابق کم تنخواہ والے ملازمین اور غیر صحت مند کام کے حالات کی وجہ سے ڈیور کے ٹھیکیدار پیلٹٹیریا الزبیٹا یانگ سرل نے ڈیور سے فی ہینڈ بیگ 53 یورو وصول کرنے کی اجازت دی جبکہ اس کی ریٹیل قیمت 2600 یورو تھی۔</p>
<p>ڈیور نے کہا کہ اس نے سپلائر کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیئے ہیں جو صرف جزوی طور پر بیگ اسمبل کررہا تھا۔</p>
<p>صنعتی ماہرین انتباہ دیتے ہیں کہ ایسے ورکشاپس جو مہنگی مصنوعات کے لیے انتہائی کم قیمتوں پر کام کرنے کی پیشکش کرتے ہیں، جیسے کہ میلان کے پراسیکیوٹرز کی جانچ پڑتال میں سامنے آئے، بڑے برانڈز کے لیے ایک سرخ جھنڈا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ جیسے جیسے پیداوار کی قیمتیں کم ہوتی ہیں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>فرانسشینی نے کہاکہ کام کے معاوضے کی لاگت ایک خاص سطح سے نیچے نہیں گر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40265914</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Sep 2024 20:27:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/09/1820265210aff5a.png" type="image/png" medium="image" height="468" width="745">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/09/1820265210aff5a.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وسائل نہ ہونے کے باوجود اولمپک ریکارڈ: ملالہ اور ثروت بھی ارشد ندیم کے جشن میں شریک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40264898/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیرس اولمپکس 2024 میں ملک کا پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے اسٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کو پاکستان کی نامور شخصیات نے مبارکباد دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخ ساز فتح نے پاکستان کو 40 سال بعد پہلا  گولڈ میڈل اور 32 سال میں پہلا تمغہ دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد ندیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب میں نے جیولین  تھرو کیا تو مجھے اسی وقت محسوس ہوگیا تھا کہ یہ اولمپک ریکارڈ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوری قوم نے اس کامیابی پر جشن منایا جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ قابل ذکر ہے کیونکہ پاکستان میں کھیلوں اور ایتھلیٹکس کی سہولتوں کو عام طور پرکم مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان نے 27 رکنی دستے میں 7 ایتھلیٹس پیرس بھیجے تھے جس پر ملک میں معیاری ایتھلیٹس کی کمی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹریک اینڈ فیلڈ کے لیے مناسب گراؤنڈ نہیں ہے اس لیے کھلاڑیوں کو کرکٹ کے میدان میں ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود ارشد ندیم نے اپنی دوسری کوشش میں 92.97 میٹر تھرو کرکے ایک نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا جس نے پاکستان کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قوم کو مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ جیت نوجوان ایتھلیٹس کے لئے ایک متاثر کن مثال کے طور پر کام کرے گی  جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی مقصد کے لئے سچی لگن لازمی طور پر کامیابی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت نے اسٹار ایتھلیٹ کیلئے 5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور شخصیات نے اس فتح کا بھرپور جشن منایا جن میں تعلیمی کارکن، نوبل انعام یافتہ اور پروڈیوسر ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھیں جنہوں نے ایکس پرارشد ندیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح ارشد ندیم نوجوان پاکستانیوں کو اپنے خوابوں پر یقین کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134223dce4fe9.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسیقار سلمان احمد نے بھی ارشد ندیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید، طاقت، میرٹ اور محنت کی علامت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے نے بھی ارشد ندیم کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ کس طرح انہوں نے بھارت کے  نمبر ایک نیرج چوپڑا کو شکست دی ۔ انہوں نے  بھارتی ایتھلیٹ کی والدہ کا انٹرویو بھی شیئر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09143626aff5d45.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماڈل و اداکارہ کرن ملک نے بھی ان کی ریکارڈ جیت پر مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134823e716a63.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفہ اور اداکارہ میرا سیٹھی نے یہ اعزاز پاکستان لانے پر اسٹار ایتھلیٹ کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134829cb21a9c.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوکارعلی ظفر نے اپنی فاؤنڈیشن کی طرف سے ارشد ندیم کو  10 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ،گلوکار نے حکومت پاکستان سے ارشد ندیم کے نام پر اسپورٹس اکیڈمی قائم کرنے کی اپیل بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0913483164cd80b.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوکار و اداکار جنید خان نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایتھلیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو ’مسکرانے اور جشن منانے کی وجہ‘ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091403322468188.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار شہروز سبزواری نے ایتھلیٹ کو مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134838f9e25c3.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماڈل زاویار نے جیتنے والے ایتھلیٹ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کوئی وسائل یا سہولیات نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ایسے بھی ایک نیا اولمپک ریکارڈ قائم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091403246da3cca.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھلیٹ تھامس رولر نے پاکستانی کھلاڑی کی طرف سے قائم کیے گئے نئے اولمپک ریکارڈ کے بارے میں پوسٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09140335fe06c6a.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کنزہ ہاشمی، حرا مانی اور حرا ترین نے بھی اس میں حصہ لیا۔
&lt;img src="https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0914104466f6a17.jpg" alt=" . " /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09141159c83395d.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091416185a82c4a.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسیقار فیصل کپاڈیا  اور اداکار محب مرزا نے کہا کہ انہیں ارشد ندیم پر فخر ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091419374139aea.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0914193044156c9.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیرس اولمپکس 2024 میں ملک کا پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے اسٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کو پاکستان کی نامور شخصیات نے مبارکباد دی ہے۔</strong></p>
<p>اس تاریخ ساز فتح نے پاکستان کو 40 سال بعد پہلا  گولڈ میڈل اور 32 سال میں پہلا تمغہ دلایا۔</p>
<p>ارشد ندیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب میں نے جیولین  تھرو کیا تو مجھے اسی وقت محسوس ہوگیا تھا کہ یہ اولمپک ریکارڈ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پوری قوم نے اس کامیابی پر جشن منایا جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ قابل ذکر ہے کیونکہ پاکستان میں کھیلوں اور ایتھلیٹکس کی سہولتوں کو عام طور پرکم مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان نے 27 رکنی دستے میں 7 ایتھلیٹس پیرس بھیجے تھے جس پر ملک میں معیاری ایتھلیٹس کی کمی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔</p>
<p>پاکستان میں ٹریک اینڈ فیلڈ کے لیے مناسب گراؤنڈ نہیں ہے اس لیے کھلاڑیوں کو کرکٹ کے میدان میں ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p>تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود ارشد ندیم نے اپنی دوسری کوشش میں 92.97 میٹر تھرو کرکے ایک نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا جس نے پاکستان کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف نے ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قوم کو مبارکباد دی۔</p>
<p>انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ جیت نوجوان ایتھلیٹس کے لئے ایک متاثر کن مثال کے طور پر کام کرے گی  جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی مقصد کے لئے سچی لگن لازمی طور پر کامیابی کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>سندھ حکومت نے اسٹار ایتھلیٹ کیلئے 5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>مشہور شخصیات نے اس فتح کا بھرپور جشن منایا جن میں تعلیمی کارکن، نوبل انعام یافتہ اور پروڈیوسر ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھیں جنہوں نے ایکس پرارشد ندیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح ارشد ندیم نوجوان پاکستانیوں کو اپنے خوابوں پر یقین کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134223dce4fe9.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>موسیقار سلمان احمد نے بھی ارشد ندیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید، طاقت، میرٹ اور محنت کی علامت ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/C-a7083taj5/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=6cdb34a5-a3fe-4c51-be9e-2e857c6b799f" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے نے بھی ارشد ندیم کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ کس طرح انہوں نے بھارت کے  نمبر ایک نیرج چوپڑا کو شکست دی ۔ انہوں نے  بھارتی ایتھلیٹ کی والدہ کا انٹرویو بھی شیئر کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09143626aff5d45.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماڈل و اداکارہ کرن ملک نے بھی ان کی ریکارڈ جیت پر مبارکباد دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134823e716a63.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>مصنفہ اور اداکارہ میرا سیٹھی نے یہ اعزاز پاکستان لانے پر اسٹار ایتھلیٹ کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134829cb21a9c.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>گلوکارعلی ظفر نے اپنی فاؤنڈیشن کی طرف سے ارشد ندیم کو  10 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ،گلوکار نے حکومت پاکستان سے ارشد ندیم کے نام پر اسپورٹس اکیڈمی قائم کرنے کی اپیل بھی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0913483164cd80b.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>گلوکار و اداکار جنید خان نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایتھلیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو ’مسکرانے اور جشن منانے کی وجہ‘ دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091403322468188.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اداکار شہروز سبزواری نے ایتھلیٹ کو مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09134838f9e25c3.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماڈل زاویار نے جیتنے والے ایتھلیٹ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کوئی وسائل یا سہولیات نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ایسے بھی ایک نیا اولمپک ریکارڈ قائم کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091403246da3cca.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اتھلیٹ تھامس رولر نے پاکستانی کھلاڑی کی طرف سے قائم کیے گئے نئے اولمپک ریکارڈ کے بارے میں پوسٹ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09140335fe06c6a.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اداکارہ کنزہ ہاشمی، حرا مانی اور حرا ترین نے بھی اس میں حصہ لیا۔
<img src="https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0914104466f6a17.jpg" alt=" . " /></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/09141159c83395d.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091416185a82c4a.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>موسیقار فیصل کپاڈیا  اور اداکار محب مرزا نے کہا کہ انہیں ارشد ندیم پر فخر ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/091419374139aea.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0914193044156c9.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40264898</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Aug 2024 15:45:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر لائف اینڈ اسٹائل)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/08/091520596f24420.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="721" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/08/091520596f24420.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فواد خان، صنم سعید کی نئی سیریز بزرخ 9 اگست کو یوٹیوب سے ہٹادی جائے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40264814/</link>
      <description>&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق فواد خان اور صنم سعید کی نئی سیریز ’برزخ‘  9 اگست کو یوٹیوب پاکستان سے ہٹا دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیریز کو ایل جی بی ٹی کیو تھیم پر مبنی مواد پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ سیریز 2 ہفتے قبل اپنے آغاز کے بعد سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زندگی کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں نیٹ ورک نے سیریز کی تعریف کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور وضاحت کی کہ اسے کیوں ہٹایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم زندگی اور ٹیم برزخ میں اپنے عالمی سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے برزخ کی بھرپور حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پاکستان میں موجودہ عوامی جذبات کی روشنی میں ہم نے رضاکارانہ طور پر 9 اگست 2024 سے یوٹیوب پاکستان سے برزخ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’برزخ‘ کی کہانی کا مرکزی کردار ہنزہ کا ایک 76 سالہ شخص ہے جو اپنی پہلی محبت کے بھوت سے منگنی کا اعلان کرکے اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو حیران کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انکشاف سے جذباتی تصادم کا ایک سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب پورا خاندان ایک ساتھ جمع ہوتا ہے  اور غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے کہ جواب کیسے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 حصوں پر مشتمل سیریز کی پہلی قسط کو یوٹیوب پر 4 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے کچھ ناظرین نے سیریز کے موضوعات پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ”اشتعال انگیز“ اور ”غیر مہذب“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز کو وقاص حسن اور شیلجا کجریوال نے اسٹریمر زی فائیو گلوبل پر مرکوز پروگرامنگ بلاک ’زندگی‘ کے لیے پروڈیوس کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم کی ہدایتکاری معروف و مقبول ہدایت کار عاصم عباسی نے کی تھی اور انہوں نے زندگی کی پہلی پاکستانی اصل فلم ’چوڑیلز‘ اور فیچر فلم ’کیک‘ کی ہدایت کاری بھی کی تھی جو 2019 کے آسکر میں پاکستان کی جانب سے انٹری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوسٹ پر ناظرین کے رد عمل ملے جلے تھے ، کچھ نے اس اقدام کی تعریف کی ، ساتھ ہی بہت سارے صارفین نے شو کی تعریف کی اور اسے ہٹانے پر افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0615242344e20fd.jpg?r=152749'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/061524255116360.jpg?r=152749'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز میں فواد خان اور صنم سعید کو ان کے سپر ہٹ ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ (2012) کے بعد پہلی بار ایک ساتھ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اپنے بیان میں فواد خان نے کہا تھا کہ اتنے سالوں بعد بھی صنم کے ساتھ کام کرنا بالکل آسان رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’برزخ‘ کی آخری قسط آج رات آٹھ بجے نشر ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ’برزخ‘ نے فرانس میں سیریز مینیا فیسٹیول میں ڈیبیو کیا تھا جو جنوبی ایشیا سے منتخب ہونے والی واحد فلم تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تفصیلات کے مطابق فواد خان اور صنم سعید کی نئی سیریز ’برزخ‘  9 اگست کو یوٹیوب پاکستان سے ہٹا دی جائے گی۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیریز کو ایل جی بی ٹی کیو تھیم پر مبنی مواد پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ سیریز 2 ہفتے قبل اپنے آغاز کے بعد سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔</p>
<p>زندگی کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں نیٹ ورک نے سیریز کی تعریف کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور وضاحت کی کہ اسے کیوں ہٹایا جائے گا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم زندگی اور ٹیم برزخ میں اپنے عالمی سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے برزخ کی بھرپور حمایت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق پاکستان میں موجودہ عوامی جذبات کی روشنی میں ہم نے رضاکارانہ طور پر 9 اگست 2024 سے یوٹیوب پاکستان سے برزخ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/C-UgBQFpgFZ/?igsh=MXBodzhkcnBkbWdlcQ%3D%3D" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>’برزخ‘ کی کہانی کا مرکزی کردار ہنزہ کا ایک 76 سالہ شخص ہے جو اپنی پہلی محبت کے بھوت سے منگنی کا اعلان کرکے اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو حیران کر دیتا ہے۔</p>
<p>اس انکشاف سے جذباتی تصادم کا ایک سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب پورا خاندان ایک ساتھ جمع ہوتا ہے  اور غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے کہ جواب کیسے دیا جائے۔</p>
<p>6 حصوں پر مشتمل سیریز کی پہلی قسط کو یوٹیوب پر 4 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے کچھ ناظرین نے سیریز کے موضوعات پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ”اشتعال انگیز“ اور ”غیر مہذب“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>اس سیریز کو وقاص حسن اور شیلجا کجریوال نے اسٹریمر زی فائیو گلوبل پر مرکوز پروگرامنگ بلاک ’زندگی‘ کے لیے پروڈیوس کیا تھا۔</p>
<p>اس فلم کی ہدایتکاری معروف و مقبول ہدایت کار عاصم عباسی نے کی تھی اور انہوں نے زندگی کی پہلی پاکستانی اصل فلم ’چوڑیلز‘ اور فیچر فلم ’کیک‘ کی ہدایت کاری بھی کی تھی جو 2019 کے آسکر میں پاکستان کی جانب سے انٹری تھی۔</p>
<p>اس پوسٹ پر ناظرین کے رد عمل ملے جلے تھے ، کچھ نے اس اقدام کی تعریف کی ، ساتھ ہی بہت سارے صارفین نے شو کی تعریف کی اور اسے ہٹانے پر افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/0615242344e20fd.jpg?r=152749'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2024/08/061524255116360.jpg?r=152749'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>سیریز میں فواد خان اور صنم سعید کو ان کے سپر ہٹ ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ (2012) کے بعد پہلی بار ایک ساتھ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل اپنے بیان میں فواد خان نے کہا تھا کہ اتنے سالوں بعد بھی صنم کے ساتھ کام کرنا بالکل آسان رہا ہے۔</p>
<p>’برزخ‘ کی آخری قسط آج رات آٹھ بجے نشر ہونے والی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال ’برزخ‘ نے فرانس میں سیریز مینیا فیسٹیول میں ڈیبیو کیا تھا جو جنوبی ایشیا سے منتخب ہونے والی واحد فلم تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40264814</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Aug 2024 18:38:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر لائف اینڈ اسٹائل)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/08/06180111df0707e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="364" width="583">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/08/06180111df0707e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکاؤنٹ سے لائیو پرفارمنس تک: دبئی سمر سرپرائزز کا سب سے بڑا ایڈیشن لانچ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40263896/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی: دبئی سمر سرپرائزز (ڈی ایس ایس) - جو اب اپنے 27 ویں سال میں داخل ہورہا ہے- آج (جمعہ) سے شروع ہوگا اور یکم ستمبر تک جاری رہے گا جس میں پروگراموں کے بہترین شیڈول کے ساتھ شاپنگ ، ڈائننگ ڈسکاؤنٹ اور نارویجین ڈانس گروپ کوئیک اسٹائل کی پرفارمنس بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف نیوز نے دبئی فیسٹیول اینڈ ریٹیل اسٹیبلشمنٹ (ڈی ایف آر ای) کے سی ای او احمد الخجا کے حوالے سے بتایا کہ اس سال کے دبئی سمر سرپرائزز میں اب تک کی سب سے بڑی سمر لائن اپ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک غیر معمولی ڈی ایس ایس پروگرام ڈیزائن کیا ہے جس میں ہر ایک کے لیے ہزاروں پیشکشیں اور چیزیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد الخجا کے مطابق دبئی ایک بار پھر خود سے آگے نکلنے کیلئے تیار ہے کیونکہ یہ روایتی موسم گرما کے مقامات کا ایک زبردست متبادل پیش کرتا ہے جس میں عالمی معیار کی تفریح، بڑے پیمانے پر پیشکشیں، دلچسپ مہم جوئی اور صحت بخش و لذیذ کھانوں کا منظرنامہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لائیو پرفارمنس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی ویک اینڈ 28 سے 29 جون تک سٹی سینٹر میرڈیف، دبئی فیسٹیول سٹی مال اور مال آف دی ایمریٹس میں براہ راست تفریح ​​کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں فرانسیسی ڈی جے اور پروڈیوسر ڈی جے کیزا کے علاوہ دبئی سے تعلق رکھنے والے ڈی جے طلا سمان بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;12 گھنٹے کی فلیش سیل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس ایس اپنے اب تک کے سب سے بڑے ایڈیشن کا آغاز 28 جون کو صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک میگا 12 گھنٹے کی فلیش سیل کے ساتھ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دن کے لیے ماجد الفطیم مالز میں 100 سے زیادہ معروف مقامی اور بین الاقوامی برانڈز پر 90 فیصد تک کی چھوٹ کے خصوصی ڈیلز دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریدار مال آف ایمریٹس، سٹی سنٹر میرڈیف، سٹی سنٹر دیرا، سٹی سنٹر میعسیم، اور سٹی سنٹر ال شنداغہ میں ناقابل یقین ڈیلز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خوش خوراکی کے شوقین افراد کیلئے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمر ریسٹورنٹ ویک 23 اگست سے 1 ستمبر تک جاری رہے گا جہاں 50 ریستوران دوپہر اور رات کے کھانے کے لیے پاکٹ فرینڈلی سیٹ مینو پیش کریں گے، جس میں مشہور کھانوں کے ساتھ ساتھ بہترین مقامی کھانے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال خوش خوراکی پر مرکوز ایک نیا ایونٹ بھی شروع ہو رہا ہے جسے سیزلنگ سمر ایٹس یعنی موسم گرما کے لذیذ کھانے بھی کہا جاتا ہے، جہاں 100 ریستوران 15 جولائی سے 30 دنوں کے لیے 30  تک رعایت کی پیشکش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی سینٹر دیرا میں فوڈ سنٹرل گیم نائٹس، کامیڈی نائٹس اور کروکی نائٹس بھی پیش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرکشش مقامات اور تفریح&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس ایس نے پہلی بار ڈسکاؤنٹ پبلشر انٹرٹینر کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ مختلف پرکشش مقامات پر 7000 آفرز کے لیے 596 درہم کے بجائے 195 درہم کا موسم گرما کا مخصوص پیکج پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ انٹرٹینر پیکج کے بغیر بھی، وزیٹرز مادام تساؤ، دی ویو ایٹ دی پام، برج خلیفہ ایٹ دی ٹاپ اور آیا یونیورس جیسے مقامات سے انفرادی ڈیلز سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ شہر بھر میں منتخب ہوٹل، بشمول سینٹ ریگیس دی پام، ایچ دبئی، کیمپنسکی مال آف ایمریٹس، میریٹ ہوٹل الجدف بھی اپنی اپنی ڈیلز پیش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انعامات اور تحائف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ سونے کے شہر کیلئے معروف دبئی مختلف مقامات پر انعامات کی ایک حیرت انگیز رینج پیش کر رہا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;150 زیورات کی دکانوں پر پیش کشوں میں میکنگ چارجز میں 50 فیصد تک رعایت اور ہیرے اور موتی کے زیورات پر رعایت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 جولائی تک 1000 درہم یا اس سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ہر خریدار کو ایک لاکھ درہم تک کے انعامات پر مشتمل خصوصی انعامی قرعہ اندازی کا ایک خصوصی انعام دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 جون سے یکم ستمبر 2024 تک دبئی فیسٹیول سٹی مال میں خریداری کرنے سے دو بالکل نئی لیکسس کاریں جیتنے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک مسیراٹی گریکال جی ٹی بھی پیش کی گئی ہے جس کی قیمت 300،000 درہم سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بچوں کی پروگرامنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا الجلیلہ کلچرل سینٹر بچوں کے سمر کیمپ کی پیش کش کر رہا ہے جس میں آرٹ میوزیم دبئی اور تھیٹر آف ڈیجیٹل آرٹ کے ورکشاپس اور دوروں جیسی شاندار سرگرمیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی اسکول آف جیولری آرٹس میں بھی جگہ بک کرسکتا ہے جہاں چھوٹے بچے 150 درہم کے عوض کریٹو ورکشاپ کے لئے سائن اپ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امارات کے محکمہ معیشت اور سیاحت کے مطابق دبئی نے حال ہی میں 2023 میں سیاحت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی سال دیکھا کیونکہ یہاں ریکارڈ 17 ملین بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی: دبئی سمر سرپرائزز (ڈی ایس ایس) - جو اب اپنے 27 ویں سال میں داخل ہورہا ہے- آج (جمعہ) سے شروع ہوگا اور یکم ستمبر تک جاری رہے گا جس میں پروگراموں کے بہترین شیڈول کے ساتھ شاپنگ ، ڈائننگ ڈسکاؤنٹ اور نارویجین ڈانس گروپ کوئیک اسٹائل کی پرفارمنس بھی شامل ہے۔</p>
<p>گلف نیوز نے دبئی فیسٹیول اینڈ ریٹیل اسٹیبلشمنٹ (ڈی ایف آر ای) کے سی ای او احمد الخجا کے حوالے سے بتایا کہ اس سال کے دبئی سمر سرپرائزز میں اب تک کی سب سے بڑی سمر لائن اپ شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک غیر معمولی ڈی ایس ایس پروگرام ڈیزائن کیا ہے جس میں ہر ایک کے لیے ہزاروں پیشکشیں اور چیزیں شامل ہیں۔</p>
<p>احمد الخجا کے مطابق دبئی ایک بار پھر خود سے آگے نکلنے کیلئے تیار ہے کیونکہ یہ روایتی موسم گرما کے مقامات کا ایک زبردست متبادل پیش کرتا ہے جس میں عالمی معیار کی تفریح، بڑے پیمانے پر پیشکشیں، دلچسپ مہم جوئی اور صحت بخش و لذیذ کھانوں کا منظرنامہ شامل ہے۔</p>
<p><strong>لائیو پرفارمنس</strong></p>
<p>افتتاحی ویک اینڈ 28 سے 29 جون تک سٹی سینٹر میرڈیف، دبئی فیسٹیول سٹی مال اور مال آف دی ایمریٹس میں براہ راست تفریح ​​کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ان میں فرانسیسی ڈی جے اور پروڈیوسر ڈی جے کیزا کے علاوہ دبئی سے تعلق رکھنے والے ڈی جے طلا سمان بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p><strong>12 گھنٹے کی فلیش سیل</strong></p>
<p>ڈی ایس ایس اپنے اب تک کے سب سے بڑے ایڈیشن کا آغاز 28 جون کو صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک میگا 12 گھنٹے کی فلیش سیل کے ساتھ کرے گا۔</p>
<p>ایک دن کے لیے ماجد الفطیم مالز میں 100 سے زیادہ معروف مقامی اور بین الاقوامی برانڈز پر 90 فیصد تک کی چھوٹ کے خصوصی ڈیلز دی جائیں گی۔</p>
<p>خریدار مال آف ایمریٹس، سٹی سنٹر میرڈیف، سٹی سنٹر دیرا، سٹی سنٹر میعسیم، اور سٹی سنٹر ال شنداغہ میں ناقابل یقین ڈیلز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>خوش خوراکی کے شوقین افراد کیلئے</strong></p>
<p>سمر ریسٹورنٹ ویک 23 اگست سے 1 ستمبر تک جاری رہے گا جہاں 50 ریستوران دوپہر اور رات کے کھانے کے لیے پاکٹ فرینڈلی سیٹ مینو پیش کریں گے، جس میں مشہور کھانوں کے ساتھ ساتھ بہترین مقامی کھانے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اس سال خوش خوراکی پر مرکوز ایک نیا ایونٹ بھی شروع ہو رہا ہے جسے سیزلنگ سمر ایٹس یعنی موسم گرما کے لذیذ کھانے بھی کہا جاتا ہے، جہاں 100 ریستوران 15 جولائی سے 30 دنوں کے لیے 30  تک رعایت کی پیشکش کررہے ہیں۔</p>
<p>سٹی سینٹر دیرا میں فوڈ سنٹرل گیم نائٹس، کامیڈی نائٹس اور کروکی نائٹس بھی پیش کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>پرکشش مقامات اور تفریح</strong></p>
<p>ڈی ایس ایس نے پہلی بار ڈسکاؤنٹ پبلشر انٹرٹینر کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ مختلف پرکشش مقامات پر 7000 آفرز کے لیے 596 درہم کے بجائے 195 درہم کا موسم گرما کا مخصوص پیکج پیش کیا جا سکے۔</p>
<p>یہاں تک کہ انٹرٹینر پیکج کے بغیر بھی، وزیٹرز مادام تساؤ، دی ویو ایٹ دی پام، برج خلیفہ ایٹ دی ٹاپ اور آیا یونیورس جیسے مقامات سے انفرادی ڈیلز سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ شہر بھر میں منتخب ہوٹل، بشمول سینٹ ریگیس دی پام، ایچ دبئی، کیمپنسکی مال آف ایمریٹس، میریٹ ہوٹل الجدف بھی اپنی اپنی ڈیلز پیش کررہے ہیں۔</p>
<p><strong>انعامات اور تحائف</strong></p>
<p>جیسا کہ سونے کے شہر کیلئے معروف دبئی مختلف مقامات پر انعامات کی ایک حیرت انگیز رینج پیش کر رہا ہے.</p>
<p>150 زیورات کی دکانوں پر پیش کشوں میں میکنگ چارجز میں 50 فیصد تک رعایت اور ہیرے اور موتی کے زیورات پر رعایت شامل ہے۔</p>
<p>20 جولائی تک 1000 درہم یا اس سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ہر خریدار کو ایک لاکھ درہم تک کے انعامات پر مشتمل خصوصی انعامی قرعہ اندازی کا ایک خصوصی انعام دیا جائے گا۔</p>
<p>28 جون سے یکم ستمبر 2024 تک دبئی فیسٹیول سٹی مال میں خریداری کرنے سے دو بالکل نئی لیکسس کاریں جیتنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک مسیراٹی گریکال جی ٹی بھی پیش کی گئی ہے جس کی قیمت 300،000 درہم سے زیادہ ہے۔</p>
<p><strong>بچوں کی پروگرامنگ</strong></p>
<p>دریں اثنا الجلیلہ کلچرل سینٹر بچوں کے سمر کیمپ کی پیش کش کر رہا ہے جس میں آرٹ میوزیم دبئی اور تھیٹر آف ڈیجیٹل آرٹ کے ورکشاپس اور دوروں جیسی شاندار سرگرمیاں شامل ہیں۔</p>
<p>کوئی بھی اسکول آف جیولری آرٹس میں بھی جگہ بک کرسکتا ہے جہاں چھوٹے بچے 150 درہم کے عوض کریٹو ورکشاپ کے لئے سائن اپ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>امارات کے محکمہ معیشت اور سیاحت کے مطابق دبئی نے حال ہی میں 2023 میں سیاحت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی سال دیکھا کیونکہ یہاں ریکارڈ 17 ملین بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40263896</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jun 2024 15:47:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/06/281515288fdabf7.png" type="image/png" medium="image" height="428" width="627">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/06/281515288fdabf7.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان بدستور بدترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں شامل، سنگاپور طاقتور ترین پاسپورٹ رکھنے والا ملک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40264481/</link>
      <description>&lt;p&gt;تازہ ترین ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق 2024 میں پاکستان ایک بار پھر بدترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس فہرست میں پاکستان ایک بار پھر چوتھا بدترین پاسپورٹ رکھنے والا ملک رہا ہے تاہم  پاکستان فہرست میں عراق، شام اور افغانستان سے اوپر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینکنگ میں پاکستان 103 میں سے مشترکہ طور پر یمن کے ساتھ 100 ویں نمبر پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں شائع ہونے والی گزشتہ رینکنگ میں بھی پاکستان کا پاسپورٹ عراق، شام اور افغانستان کے بعد دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سنگاپور 195 موبلٹی اسکور کے ساتھ سرفہرست ہے، سنگاپور کے شہریوں کو ویزا کے بغیر 159 ممالک تک رسائی حاصل ہے جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور اسپین 192 مقامات تک رسائی کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;190 ممالک تک رسائی حاصل ہونے کے بعد برطانوی پاسپورٹ چوتھے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینلے پاسپورٹ انڈیکس، جو لندن میں مقیم عالمی شہریت اور رہائشی مشاورتی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز نے بنایا ہے، بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے خصوصی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے عالمی آزادیوں کی خصوصی نگرانی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس میں 199 مختلف پاسپورٹ اور 227 مختلف سفری مقامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست میں متحدہ عرب امارات کی 2 درجے ترقی ہوئی ہے اور وہ سال کے اوائل میں 11 ویں سے اب نویں نمبر پر آگیا ہے۔ اس نے لتھوانیا اور ایسٹونیا کے ساتھ اس مقام کا اشتراک کیا ۔ اماراتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو 185 ممالک میں ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا 186 کے موبلٹی اسکور کے ساتھ 7 ویں اور ریاستہائے متحدہ امریکہ 8 ویں نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، تاجکستان اور سینیگال مشترکہ طور پر 82 ویں نمبر پر ہیں، ان ممالک کے پاسپورٹ پر 58 ممالک میں ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین، عمان اور چین بالترتیب 57، 58 اور 59 ویں نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تازہ ترین ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق 2024 میں پاکستان ایک بار پھر بدترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس فہرست میں پاکستان ایک بار پھر چوتھا بدترین پاسپورٹ رکھنے والا ملک رہا ہے تاہم  پاکستان فہرست میں عراق، شام اور افغانستان سے اوپر ہے۔</p>
<p>رینکنگ میں پاکستان 103 میں سے مشترکہ طور پر یمن کے ساتھ 100 ویں نمبر پر ہے۔</p>
<p>جنوری میں شائع ہونے والی گزشتہ رینکنگ میں بھی پاکستان کا پاسپورٹ عراق، شام اور افغانستان کے بعد دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ تھا۔</p>
<p>دوسری جانب سنگاپور 195 موبلٹی اسکور کے ساتھ سرفہرست ہے، سنگاپور کے شہریوں کو ویزا کے بغیر 159 ممالک تک رسائی حاصل ہے جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور اسپین 192 مقامات تک رسائی کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔</p>
<p>190 ممالک تک رسائی حاصل ہونے کے بعد برطانوی پاسپورٹ چوتھے نمبر پر رہا۔</p>
<p>ہینلے پاسپورٹ انڈیکس، جو لندن میں مقیم عالمی شہریت اور رہائشی مشاورتی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز نے بنایا ہے، بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے خصوصی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے عالمی آزادیوں کی خصوصی نگرانی کرتا ہے۔</p>
<p>انڈیکس میں 199 مختلف پاسپورٹ اور 227 مختلف سفری مقامات شامل ہیں۔</p>
<p>فہرست میں متحدہ عرب امارات کی 2 درجے ترقی ہوئی ہے اور وہ سال کے اوائل میں 11 ویں سے اب نویں نمبر پر آگیا ہے۔ اس نے لتھوانیا اور ایسٹونیا کے ساتھ اس مقام کا اشتراک کیا ۔ اماراتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو 185 ممالک میں ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>کینیڈا 186 کے موبلٹی اسکور کے ساتھ 7 ویں اور ریاستہائے متحدہ امریکہ 8 ویں نمبر پر رہا۔</p>
<p>بھارت، تاجکستان اور سینیگال مشترکہ طور پر 82 ویں نمبر پر ہیں، ان ممالک کے پاسپورٹ پر 58 ممالک میں ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>بحرین، عمان اور چین بالترتیب 57، 58 اور 59 ویں نمبر پر رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40264481</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jul 2024 18:08:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/07/24180503d90008b.png" type="image/png" medium="image" height="435" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/07/24180503d90008b.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
