<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:50:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 09:50:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادویات کا ایک قابلِ تدارک بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں صحت کے شعبے سے متعلق بحث طویل عرصے سے ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: ادویات کو عوام کی پہنچ میں کیسے رکھا جائے؟ یہ تشویش بالکل بجا ہے کیونکہ ملک میں علاج پر ذاتی اخراجات خطے کے بلند ترین اخراجات میں شمار ہوتے ہیں اور لاکھوں افراد معمول کے علاج کا خرچ بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم جب ادویات دستیاب ہی نہ ہوں تو سستی کی بحث بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں میں نظرثانی کی منظوری دو سال سے زائد عرصے تک مؤخر رہنے کے بعد درجنوں ہارڈشپ کیٹیگری ادویات کی مبینہ قلت محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ قیمتوں کا تعین، خواہ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، معاشی حقائق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ متاثرہ ادویات کی فہرست بھی معمولی نوعیت کی نہیں۔ ان میں کینسر کے علاج کی ادویات، دل کے امراض کی دوائیں، تکلیف کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اورل مورفین، بچوں کے لیے مخصوص ادویات، ویکسینز اور آنکھوں کی دوائیں شامل ہیں جن کی شدید قلت کی اطلاعات ہیں۔  یہ ایسی ادویات نہیں ہیں جنہیں مریض قیمتوں میں استحکام آنے تک ملتوی کرسکیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے علاج میں تعطل کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پے در پے آنے والی حکومتیں ایک ہی پرانے مخمصے کا شکار رہی ہیں۔ ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دینا سیاسی طور پر مہنگا فیصلہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی گھریلو آمدنی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہو۔ تاہم ان فیصلوں میں تاخیر دراصل مسئلے کا بوجھ صرف دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔ درآمدی خام مال، توانائی، نقل و حمل اور ریگولیٹری تقاضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ادویات ساز کمپنیاں غیر معاشی قیمتوں پر غیر معینہ مدت تک ادویات تیار نہیں کر سکتیں۔ بالآخر وہ یا تو پیداوار کم کردیتی ہیں یا مکمل طور پر بند کردیتی ہیں۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے، یعنی فارمیسیوں کے شیلف بڑی حد تک خالی ہیں, تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادویات کی قیمتوں کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ادویات عام صارف اشیا کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ عوامی صحت کے تناظر میں ان کی ایک منفرد حیثیت ہے جس کے باعث ان پر مؤثر ریگولیٹری نگرانی ناگزیر ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت اور ادویات ساز کمپنیوں کی تجارتی پائیداری کے درمیان درست توازن قائم کیا جائے، اگر اس توازن کا پلڑا کسی ایک جانب زیادہ جھک جائے تو پورا نظام ناکامی سے دوچار ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا حالیہ تجربہ خود اس حوالے سے ایک سبق آموز مثال پیش کرتا ہے۔ غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ضابطوں سے آزاد کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ اس سے برسوں سے جاری وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی قلت کا خاتمہ ہوا اور مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی بحال ہوئی، اگرچہ اس کے نتیجے میں خوردہ قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ضروری ادویات کو عوامی صحت میں ان کی اہمیت کے پیشِ نظر بدستور قیمتوں کے سرکاری کنٹرول میں رکھا گیا, تاہم اگر انہی کنٹرول شدہ ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی، ریگولیٹر کی سفارشات کے باوجود، برسوں تک مؤخر رکھی جائے تو عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا یہی نظام الٹا اپنے مقصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی اہم ہے کہ مسئلہ صرف ادویات کی دستیابی تک محدود نہیں۔ جب اصل اور قانونی ذرائع سے ادویات غائب ہونے لگتی ہیں تو مریض مجبوری میں متبادل ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی قلت جعلی، اسمگل شدہ اور غیر معیاری ادویات کے بازار میں آنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کردیتی ہے۔ یہ خطرہ قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ سنگین ہے کیونکہ جعلی کینسر یا دل کے امراض کی دوا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ مریضوں کی جان کیلئے براہِ راست خطرہ اور صحت کے نظام پر عوامی اعتماد کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ یہ صورتحال معاشی نظم و نسق کی ایک گہری کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ ریگولیٹری غیر یقینی نہ مریضوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ادویات ساز کمپنیوں کے۔ اگر موجودہ نظام کے تحت ہارڈشپ کیٹیگری کی ادویات کو وقتاً فوقتاً قیمتوں پر نظرثانی کا حق حاصل ہے تو ان جائزوں کا بروقت فیصلوں پر منتج ہونا ضروری ہے، نہ کہ وہ برسوں تک بیوروکریسی کی نذر ہو کر تعطل کا شکار رہیں۔ اس عمل میں پیش گوئی اور تسلسل خود فیصلے جتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ادویات ساز کمپنیاں ایک شفاف اور قابلِ اعتماد ریگولیٹری نظام کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، لیکن غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی تاخیر کے ساتھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مریضوں کے تحفظ کیلئے بنائی گئی یہی پالیسی بالآخر انہی کیلئے زیادہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی دوا جس کی قیمت تو مقرر ہو مگر وہ بازار میں دستیاب ہی نہ ہو، کینسر سے لڑنے والے، دل کے دورے سے بچنے والے یا کسی دائمی مرض میں مبتلا مریض کے لیے کسی فائدے کی نہیں۔ درحقیقت ادویات کی دستیابی بھی ان کی استطاعت کا ایک لازمی جزو ہے لہٰذا حکومت کو مریضوں کے تحفظ اور ادویات کی پیداوار برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ دونوں مقاصد ایک قابلِ پیش گوئی قیمتوں کے نظام، بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور ضرورت پڑنے پر کمزور اور نادار مریضوں کے لیے ہدفی معاونت کے ذریعے بیک وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ البتہ جس چیز کی گنجائش نہیں وہ پالیسی سازی میں جمود ہے۔ صحت کے شعبے میں تاخیر سے ہونے والے فیصلے محض انتظامی معاملہ نہیں رہتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ علاج اور مریضوں کی جان سے جڑا مسئلہ بن جاتے ہیں جن کے نتائج کا بوجھ بالآخر مریضوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ بروقت فیصلہ سازی اور ریگولیٹری ادارے کی سفارشات پر فوری عملدرآمد ہی مریضوں کے لیے بہترین ممکنہ طبی نتائج یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں صحت کے شعبے سے متعلق بحث طویل عرصے سے ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: ادویات کو عوام کی پہنچ میں کیسے رکھا جائے؟ یہ تشویش بالکل بجا ہے کیونکہ ملک میں علاج پر ذاتی اخراجات خطے کے بلند ترین اخراجات میں شمار ہوتے ہیں اور لاکھوں افراد معمول کے علاج کا خرچ بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم جب ادویات دستیاب ہی نہ ہوں تو سستی کی بحث بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔</strong></p>
<p>ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں میں نظرثانی کی منظوری دو سال سے زائد عرصے تک مؤخر رہنے کے بعد درجنوں ہارڈشپ کیٹیگری ادویات کی مبینہ قلت محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ قیمتوں کا تعین، خواہ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، معاشی حقائق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ متاثرہ ادویات کی فہرست بھی معمولی نوعیت کی نہیں۔ ان میں کینسر کے علاج کی ادویات، دل کے امراض کی دوائیں، تکلیف کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اورل مورفین، بچوں کے لیے مخصوص ادویات، ویکسینز اور آنکھوں کی دوائیں شامل ہیں جن کی شدید قلت کی اطلاعات ہیں۔  یہ ایسی ادویات نہیں ہیں جنہیں مریض قیمتوں میں استحکام آنے تک ملتوی کرسکیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے علاج میں تعطل کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پے در پے آنے والی حکومتیں ایک ہی پرانے مخمصے کا شکار رہی ہیں۔ ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دینا سیاسی طور پر مہنگا فیصلہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی گھریلو آمدنی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہو۔ تاہم ان فیصلوں میں تاخیر دراصل مسئلے کا بوجھ صرف دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔ درآمدی خام مال، توانائی، نقل و حمل اور ریگولیٹری تقاضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ادویات ساز کمپنیاں غیر معاشی قیمتوں پر غیر معینہ مدت تک ادویات تیار نہیں کر سکتیں۔ بالآخر وہ یا تو پیداوار کم کردیتی ہیں یا مکمل طور پر بند کردیتی ہیں۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے، یعنی فارمیسیوں کے شیلف بڑی حد تک خالی ہیں, تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادویات کی قیمتوں کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ادویات عام صارف اشیا کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ عوامی صحت کے تناظر میں ان کی ایک منفرد حیثیت ہے جس کے باعث ان پر مؤثر ریگولیٹری نگرانی ناگزیر ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت اور ادویات ساز کمپنیوں کی تجارتی پائیداری کے درمیان درست توازن قائم کیا جائے، اگر اس توازن کا پلڑا کسی ایک جانب زیادہ جھک جائے تو پورا نظام ناکامی سے دوچار ہونے لگتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا حالیہ تجربہ خود اس حوالے سے ایک سبق آموز مثال پیش کرتا ہے۔ غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ضابطوں سے آزاد کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ اس سے برسوں سے جاری وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی قلت کا خاتمہ ہوا اور مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی بحال ہوئی، اگرچہ اس کے نتیجے میں خوردہ قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ضروری ادویات کو عوامی صحت میں ان کی اہمیت کے پیشِ نظر بدستور قیمتوں کے سرکاری کنٹرول میں رکھا گیا, تاہم اگر انہی کنٹرول شدہ ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی، ریگولیٹر کی سفارشات کے باوجود، برسوں تک مؤخر رکھی جائے تو عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا یہی نظام الٹا اپنے مقصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔</p>
<p>یہ بھی اہم ہے کہ مسئلہ صرف ادویات کی دستیابی تک محدود نہیں۔ جب اصل اور قانونی ذرائع سے ادویات غائب ہونے لگتی ہیں تو مریض مجبوری میں متبادل ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی قلت جعلی، اسمگل شدہ اور غیر معیاری ادویات کے بازار میں آنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کردیتی ہے۔ یہ خطرہ قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ سنگین ہے کیونکہ جعلی کینسر یا دل کے امراض کی دوا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ مریضوں کی جان کیلئے براہِ راست خطرہ اور صحت کے نظام پر عوامی اعتماد کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ یہ صورتحال معاشی نظم و نسق کی ایک گہری کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ ریگولیٹری غیر یقینی نہ مریضوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ادویات ساز کمپنیوں کے۔ اگر موجودہ نظام کے تحت ہارڈشپ کیٹیگری کی ادویات کو وقتاً فوقتاً قیمتوں پر نظرثانی کا حق حاصل ہے تو ان جائزوں کا بروقت فیصلوں پر منتج ہونا ضروری ہے، نہ کہ وہ برسوں تک بیوروکریسی کی نذر ہو کر تعطل کا شکار رہیں۔ اس عمل میں پیش گوئی اور تسلسل خود فیصلے جتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ادویات ساز کمپنیاں ایک شفاف اور قابلِ اعتماد ریگولیٹری نظام کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، لیکن غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی تاخیر کے ساتھ نہیں۔</p>
<p>سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مریضوں کے تحفظ کیلئے بنائی گئی یہی پالیسی بالآخر انہی کیلئے زیادہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی دوا جس کی قیمت تو مقرر ہو مگر وہ بازار میں دستیاب ہی نہ ہو، کینسر سے لڑنے والے، دل کے دورے سے بچنے والے یا کسی دائمی مرض میں مبتلا مریض کے لیے کسی فائدے کی نہیں۔ درحقیقت ادویات کی دستیابی بھی ان کی استطاعت کا ایک لازمی جزو ہے لہٰذا حکومت کو مریضوں کے تحفظ اور ادویات کی پیداوار برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ دونوں مقاصد ایک قابلِ پیش گوئی قیمتوں کے نظام، بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور ضرورت پڑنے پر کمزور اور نادار مریضوں کے لیے ہدفی معاونت کے ذریعے بیک وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ البتہ جس چیز کی گنجائش نہیں وہ پالیسی سازی میں جمود ہے۔ صحت کے شعبے میں تاخیر سے ہونے والے فیصلے محض انتظامی معاملہ نہیں رہتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ علاج اور مریضوں کی جان سے جڑا مسئلہ بن جاتے ہیں جن کے نتائج کا بوجھ بالآخر مریضوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ بروقت فیصلہ سازی اور ریگولیٹری ادارے کی سفارشات پر فوری عملدرآمد ہی مریضوں کے لیے بہترین ممکنہ طبی نتائج یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288736</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 12:11:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151147175041904.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151147175041904.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلامی جمہوریہ میں مراعات کا کلچر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288727/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی سے منظوری نے بجا طور پر شدید تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ دباؤ کا شکار ہے، یہ تجویز بالکل غلط پیغام دیتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس کے فوری اور اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے، قانون ساز بظاہر اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے مزید مراعات بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ کا مقصد سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں عمر بھر کے لیے رتبے کی علامت یا موروثی استحقاق کا نشان بنا دیا جائے۔ اس کا مقصد عملی اور انتظامی ہے، علامتی نہیں۔ اس سہولت کو موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں تک توسیع دینا سرکاری پاسپورٹ کے بنیادی جواز کو ہی کھینچ کر اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کی اصل منطق کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ عوامی عہدے کو عوامی خدمت کے موقع کے بجائے مراعات تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کو حکومت کے مؤقف سے متعلق متضاد بیانات نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی اور کسی بھی فیصلے سے قبل وسیع تر مشاورت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سینیٹ سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انہوں نے بل کی منظوری سے اتفاق کیا تھا۔ اس نوعیت کے تضادات پارلیمانی فیصلوں میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے عوامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس تجویز پر تنقید صرف اپوزیشن یا سول سوسائٹی تک محدود نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی کھل کر اس تجویز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس کا موازنہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حالیہ اقدام سے کیا، جہاں ارکانِ اسمبلی کے لیے اسی نوعیت کی مراعات میں توسیع کی گئی، اور خبردار کیا کہ منتخب عوامی عہدے کو خصوصی استحقاق کا ذریعہ بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف پاسپورٹ کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے ایسی طرزِ حکمرانی کا شکار ہے جو خصوصی مراعات، امتیازی فوائد اور ترجیحی سلوک کے ذریعے شہریوں کے الگ الگ طبقات پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ مراعات سیاست دان حاصل کریں، اعلیٰ بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج یا فوجی افسران، اس سے یہی تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت تک رسائی رکھنے والوں کے لیے حقوق اور مراعات کا ایک الگ نظام موجود ہے، جو عام شہریوں کو حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قسم کی ثقافت عوامی اداروں پر اعتماد کو کھوکھلا کرتی ہے، جمہوری نظام کی ساکھ کو کمزور بناتی ہے اور شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایک حقیقی جمہوریت میں عوامی عہدہ ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے، موروثی استحقاق کی نہیں۔ موجودہ یا سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچے نہ تو کوئی سرکاری ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی باضابطہ حیثیت میں ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں سرکاری پاسپورٹ جاری کرنا نہ انتظامی اعتبار سے قابلِ جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ دفاع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ضروری ہے کہ اس مجوزہ قانون سازی کو مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی واپس لے لیا جائے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قانون کے سامنے مساوات کے اصول سے اپنی وابستگی اور ضبطِ نفس کا عملی مظاہرہ کرے، نہ کہ ان افراد کے لیے نئی مراعات وضع کرے جو پہلے ہی عوامی عہدوں کے باعث متعدد فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب عوامی عہدہ ایک عوامی امانت ہے، ذاتی یا خاندانی استحقاق، مفاد یا خودنمائی کا ذریعہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں اسی وقت اپنی حقیقی ساکھ قائم کر سکیں گی جب وہ یہ ثابت کریں گی کہ قانون بنانے والے خود بھی انہی اصولوں اور معیارات کے پابند ہیں جن کی وہ ملک کے دوسرے شہریوں سے توقع رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی سے منظوری نے بجا طور پر شدید تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ دباؤ کا شکار ہے، یہ تجویز بالکل غلط پیغام دیتی ہے۔</strong></p>
<p>گورننس کے فوری اور اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے، قانون ساز بظاہر اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے مزید مراعات بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ کا مقصد سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں عمر بھر کے لیے رتبے کی علامت یا موروثی استحقاق کا نشان بنا دیا جائے۔ اس کا مقصد عملی اور انتظامی ہے، علامتی نہیں۔ اس سہولت کو موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں تک توسیع دینا سرکاری پاسپورٹ کے بنیادی جواز کو ہی کھینچ کر اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کی اصل منطق کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ عوامی عہدے کو عوامی خدمت کے موقع کے بجائے مراعات تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کو حکومت کے مؤقف سے متعلق متضاد بیانات نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی اور کسی بھی فیصلے سے قبل وسیع تر مشاورت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سینیٹ سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انہوں نے بل کی منظوری سے اتفاق کیا تھا۔ اس نوعیت کے تضادات پارلیمانی فیصلوں میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے عوامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس تجویز پر تنقید صرف اپوزیشن یا سول سوسائٹی تک محدود نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی کھل کر اس تجویز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس کا موازنہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حالیہ اقدام سے کیا، جہاں ارکانِ اسمبلی کے لیے اسی نوعیت کی مراعات میں توسیع کی گئی، اور خبردار کیا کہ منتخب عوامی عہدے کو خصوصی استحقاق کا ذریعہ بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف پاسپورٹ کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے ایسی طرزِ حکمرانی کا شکار ہے جو خصوصی مراعات، امتیازی فوائد اور ترجیحی سلوک کے ذریعے شہریوں کے الگ الگ طبقات پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ مراعات سیاست دان حاصل کریں، اعلیٰ بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج یا فوجی افسران، اس سے یہی تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت تک رسائی رکھنے والوں کے لیے حقوق اور مراعات کا ایک الگ نظام موجود ہے، جو عام شہریوں کو حاصل نہیں۔</p>
<p>اس قسم کی ثقافت عوامی اداروں پر اعتماد کو کھوکھلا کرتی ہے، جمہوری نظام کی ساکھ کو کمزور بناتی ہے اور شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایک حقیقی جمہوریت میں عوامی عہدہ ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے، موروثی استحقاق کی نہیں۔ موجودہ یا سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچے نہ تو کوئی سرکاری ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی باضابطہ حیثیت میں ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں سرکاری پاسپورٹ جاری کرنا نہ انتظامی اعتبار سے قابلِ جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ دفاع۔</p>
<p>اسی لیے ضروری ہے کہ اس مجوزہ قانون سازی کو مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی واپس لے لیا جائے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قانون کے سامنے مساوات کے اصول سے اپنی وابستگی اور ضبطِ نفس کا عملی مظاہرہ کرے، نہ کہ ان افراد کے لیے نئی مراعات وضع کرے جو پہلے ہی عوامی عہدوں کے باعث متعدد فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں۔</p>
<p>منتخب عوامی عہدہ ایک عوامی امانت ہے، ذاتی یا خاندانی استحقاق، مفاد یا خودنمائی کا ذریعہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں اسی وقت اپنی حقیقی ساکھ قائم کر سکیں گی جب وہ یہ ثابت کریں گی کہ قانون بنانے والے خود بھی انہی اصولوں اور معیارات کے پابند ہیں جن کی وہ ملک کے دوسرے شہریوں سے توقع رکھتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288727</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:16:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1510134493ed053.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1510134493ed053.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکارڈ ترسیلاتِ زر، مگر چیلنجز بدستور برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288692/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلاتِ زر نے ایک بار پھر نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ مالی سال 2025-26  کے دوران ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سنگِ میل نہ صرف اپنی حجم (مالیت) کے اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ اس رجحان کو تقویت دیتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاموشی سے پاکستان کے بیرونی شعبے کی کایا پلٹ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف سات برسوں میں ترسیلاتِ زر تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔ اسی عرصے کے دوران مرچنڈائز ایکسپورٹس کی برآمدات ایک محدود دائرے سے نکلنے میں مشکلات کا شکار رہیں جس سے ملک کے بیرونی کھاتے میں موجود گہرا عدم توازن واضح ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں سے ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے سہارا ثابت ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے درآمدات کی مالی ضروریات پوری کرنے، زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور سب سے بڑھ کر لاکھوں گھرانوں کے اخراجات پورے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہر ماہ بننے والے ریکارڈ کے پیچھے سمندر پار پاکستانیوں کی ایک ایسی داستان چھپی ہے جو بہت زیادہ پرکشش تو نہیں لیکن حقیقت پر مبنی ہے، جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بچوں کی فیسیں ادا کر رہے ہیں، گھر کا راشن خرید رہے ہیں، طبی اخراجات پورے کر رہے ہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث زندگی گزارنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ رقوم بنیادی طور پر کھپت  کو سہارا دیتی ہیں، سرمایہ کاری کو نہیں۔ اس حقیقت کو حکومت کے بیانیے اور پالیسی اقدامات دونوں کی تشکیل میں مدنظر رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں کریڈٹ بنتا ہے وہاں اسے دینا چاہیے۔ حکام اس بات کے اعتراف کے مستحق ہیں کہ انہوں نے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائی کی اور ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی و رسمی ذرائع کو مزید آسان اور پرکشش بنایا۔غیر رسمی طریقوں سے رقوم کی منتقلی کے بجائے دستاویزی اور قانونی چینلز کی طرف منتقلی نے بلاشبہ سرکاری ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ قدرتی طور پر ہونے والی نمو نے بھی اپنا حصہ ڈالا کیونکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک کا رخ کررہے ہیں۔ ان دونوں عوامل کے امتزاج نے ایسا فائدہ فراہم کیا جس کی چند برس قبل بہت کم لوگوں نے توقع کی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ریکارڈ ترسیلاتِ زر کو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد یا وسیع تر معاشی خوشحالی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ورکرز کی ترسیلاتِ زر نہ تو پورٹ فولیو ان فلو ہیں اور نہ ہی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)۔ یہ ان پاکستانیوں کی کمائی ہے جو بیرونِ ملک کام کر رہے ہیں اور مسلسل اپنے گھر والوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ بحث کو سیاسی بیانیے کے بجائے معاشی حقائق پر مبنی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تلخ حقیقت ہے جس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ترسیلاتِ زر کی کامیابی نے کچھ حد تک پاکستان کی مسلسل مایوس کن برآمدی کارکردگی پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ برسوں کی رعایتی فنانسنگ، ترجیحی ٹیرف، توانائی کے سبسڈی والے پیکجز اور مختلف برآمدی فروغ کی اسکیموں کے باوجود تجارتی برآمدات اس پائیدار متحرک پن کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی جو پاکستان جیسے بڑے ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔ اس نتیجے سے بچنا مشکل ہے کہ ترسیلاتِ زر اب ملک کی سب سے قابلِ اعتماد برآمد بن چکی ہیں جہاں پاکستان کے عوام ہی اس کی سب سے بڑی برآمدی پیداوار بن کر سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ترقی کی کوئی پائیدار حکمتِ عملی ہرگز نہیں ہے۔ ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار بیرونی کھاتے کو فطری طور پر غیر محفوظ بناتا ہے۔ پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے جس سے ملک ان ممالک کے معاشی چکروں، لیبر مارکیٹ میں اصلاحات اور جغرافیائی سیاسی  حالات کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے جو حالیہ عرصے میں کافی غیر مستحکم رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے ان ترسیلات کے لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے غیر یقینی ہونے کو بھی ثابت کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر مستحکم رہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانیوں نے علاقائی کشیدگی کے بعد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس پاکستان بھیجی یا خود وطن لوٹ آئے لیکن غیر معمولی حالات کو مستقل رجحانات نہیں سمجھنا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ آج دنیا کے سب سے زیادہ جغرافیائی سیاسی طور پر نازک خطوں میں سے ایک ہے۔ ایک طویل تنازعہ، معاشی سست روی یا لیبر کی مانگ میں ساختی تبدیلیاں ترسیلاتِ زر کے منظرنامے کو تیزی سے بدل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا دانشمندانہ ردعمل خوش فہمی نہیں بلکہ تنوع  ہے۔ پاکستان کو سمندر پار روزگار کی سہولت فراہم کرنے، لین دین کے اخراجات کم کرنے اور ترسیلاتِ زر کے باضابطہ ذرائع کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ ضرور جاری رکھنا چاہیے۔ یہ کامیابیاں برقرار رکھنے اور مزید آگے بڑھانے کے لائق ہیں۔ لیکن اب بیرونی کھاتے  کے دوسرے پہلو پر بھی اسی قدر فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ بار بار کی پالیسی مداخلتوں کے باوجود اشیاء کی برآمدات طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں۔ اگر اسی سطح کی ادارہ جاتی توجہ جو ترسیلاتِ زر کو دستاویزی شکل دینے پر دی گئی ہے، برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے، لاجسٹکس  اخراجات کم کرنے اور صنعتی بنیاد کو وسیع کرنے پر دی جائے، تو ملکی معیشت کہیں زیادہ مستحکم اور لچکدار ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر کی کارکردگی بلاشبہ جشن منانے کے لائق ہے۔ یہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی قربانیوں کا عکاس ہے جو اپنے گھر سے دور کام کررہے ہیں اور ان پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے جنہوں نے باضابطہ ذرائع سے رقوم کی منتقلی کو زیادہ پرکشش بنایا ہے۔ لیکن اس کامیابی کو خوش فہمی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کو بریتھنگ اسپیس ضرور فراہم کی لیکن یہ ملک کے کمزور برآمدی شعبے کو نظر انداز کرنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ معاشی پالیسی کا اصل امتحان اس میں نہیں کہ وہ تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کو کتنی مؤثر طریقے سے شمار کرتی ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ ملک کے اندر موجود کاروبار کو اپنے بل بوتے پر زرمبادلہ کمانے کے قابل بنانے میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلاتِ زر نے ایک بار پھر نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ مالی سال 2025-26  کے دوران ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ ہیں۔</strong></p>
<p>یہ سنگِ میل نہ صرف اپنی حجم (مالیت) کے اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ اس رجحان کو تقویت دیتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاموشی سے پاکستان کے بیرونی شعبے کی کایا پلٹ دی ہے۔</p>
<p>صرف سات برسوں میں ترسیلاتِ زر تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔ اسی عرصے کے دوران مرچنڈائز ایکسپورٹس کی برآمدات ایک محدود دائرے سے نکلنے میں مشکلات کا شکار رہیں جس سے ملک کے بیرونی کھاتے میں موجود گہرا عدم توازن واضح ہوتا ہے۔</p>
<p>کئی برسوں سے ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے سہارا ثابت ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے درآمدات کی مالی ضروریات پوری کرنے، زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور سب سے بڑھ کر لاکھوں گھرانوں کے اخراجات پورے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہر ماہ بننے والے ریکارڈ کے پیچھے سمندر پار پاکستانیوں کی ایک ایسی داستان چھپی ہے جو بہت زیادہ پرکشش تو نہیں لیکن حقیقت پر مبنی ہے، جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بچوں کی فیسیں ادا کر رہے ہیں، گھر کا راشن خرید رہے ہیں، طبی اخراجات پورے کر رہے ہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث زندگی گزارنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ رقوم بنیادی طور پر کھپت  کو سہارا دیتی ہیں، سرمایہ کاری کو نہیں۔ اس حقیقت کو حکومت کے بیانیے اور پالیسی اقدامات دونوں کی تشکیل میں مدنظر رکھنا چاہیے۔</p>
<p>جہاں کریڈٹ بنتا ہے وہاں اسے دینا چاہیے۔ حکام اس بات کے اعتراف کے مستحق ہیں کہ انہوں نے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائی کی اور ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی و رسمی ذرائع کو مزید آسان اور پرکشش بنایا۔غیر رسمی طریقوں سے رقوم کی منتقلی کے بجائے دستاویزی اور قانونی چینلز کی طرف منتقلی نے بلاشبہ سرکاری ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ قدرتی طور پر ہونے والی نمو نے بھی اپنا حصہ ڈالا کیونکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک کا رخ کررہے ہیں۔ ان دونوں عوامل کے امتزاج نے ایسا فائدہ فراہم کیا جس کی چند برس قبل بہت کم لوگوں نے توقع کی ہوگی۔</p>
<p>اس کے باوجود ریکارڈ ترسیلاتِ زر کو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد یا وسیع تر معاشی خوشحالی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ورکرز کی ترسیلاتِ زر نہ تو پورٹ فولیو ان فلو ہیں اور نہ ہی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)۔ یہ ان پاکستانیوں کی کمائی ہے جو بیرونِ ملک کام کر رہے ہیں اور مسلسل اپنے گھر والوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ بحث کو سیاسی بیانیے کے بجائے معاشی حقائق پر مبنی رکھتا ہے۔</p>
<p>ایک اور تلخ حقیقت ہے جس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ترسیلاتِ زر کی کامیابی نے کچھ حد تک پاکستان کی مسلسل مایوس کن برآمدی کارکردگی پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ برسوں کی رعایتی فنانسنگ، ترجیحی ٹیرف، توانائی کے سبسڈی والے پیکجز اور مختلف برآمدی فروغ کی اسکیموں کے باوجود تجارتی برآمدات اس پائیدار متحرک پن کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی جو پاکستان جیسے بڑے ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔ اس نتیجے سے بچنا مشکل ہے کہ ترسیلاتِ زر اب ملک کی سب سے قابلِ اعتماد برآمد بن چکی ہیں جہاں پاکستان کے عوام ہی اس کی سب سے بڑی برآمدی پیداوار بن کر سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>یہ ترقی کی کوئی پائیدار حکمتِ عملی ہرگز نہیں ہے۔ ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار بیرونی کھاتے کو فطری طور پر غیر محفوظ بناتا ہے۔ پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے جس سے ملک ان ممالک کے معاشی چکروں، لیبر مارکیٹ میں اصلاحات اور جغرافیائی سیاسی  حالات کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے جو حالیہ عرصے میں کافی غیر مستحکم رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے ان ترسیلات کے لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے غیر یقینی ہونے کو بھی ثابت کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر مستحکم رہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانیوں نے علاقائی کشیدگی کے بعد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس پاکستان بھیجی یا خود وطن لوٹ آئے لیکن غیر معمولی حالات کو مستقل رجحانات نہیں سمجھنا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ آج دنیا کے سب سے زیادہ جغرافیائی سیاسی طور پر نازک خطوں میں سے ایک ہے۔ ایک طویل تنازعہ، معاشی سست روی یا لیبر کی مانگ میں ساختی تبدیلیاں ترسیلاتِ زر کے منظرنامے کو تیزی سے بدل سکتی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا دانشمندانہ ردعمل خوش فہمی نہیں بلکہ تنوع  ہے۔ پاکستان کو سمندر پار روزگار کی سہولت فراہم کرنے، لین دین کے اخراجات کم کرنے اور ترسیلاتِ زر کے باضابطہ ذرائع کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ ضرور جاری رکھنا چاہیے۔ یہ کامیابیاں برقرار رکھنے اور مزید آگے بڑھانے کے لائق ہیں۔ لیکن اب بیرونی کھاتے  کے دوسرے پہلو پر بھی اسی قدر فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ بار بار کی پالیسی مداخلتوں کے باوجود اشیاء کی برآمدات طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں۔ اگر اسی سطح کی ادارہ جاتی توجہ جو ترسیلاتِ زر کو دستاویزی شکل دینے پر دی گئی ہے، برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے، لاجسٹکس  اخراجات کم کرنے اور صنعتی بنیاد کو وسیع کرنے پر دی جائے، تو ملکی معیشت کہیں زیادہ مستحکم اور لچکدار ہو سکتی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر کی کارکردگی بلاشبہ جشن منانے کے لائق ہے۔ یہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی قربانیوں کا عکاس ہے جو اپنے گھر سے دور کام کررہے ہیں اور ان پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے جنہوں نے باضابطہ ذرائع سے رقوم کی منتقلی کو زیادہ پرکشش بنایا ہے۔ لیکن اس کامیابی کو خوش فہمی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کو بریتھنگ اسپیس ضرور فراہم کی لیکن یہ ملک کے کمزور برآمدی شعبے کو نظر انداز کرنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ معاشی پالیسی کا اصل امتحان اس میں نہیں کہ وہ تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کو کتنی مؤثر طریقے سے شمار کرتی ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ ملک کے اندر موجود کاروبار کو اپنے بل بوتے پر زرمبادلہ کمانے کے قابل بنانے میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288692</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:53:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14130250f3ac148.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14130250f3ac148.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں حماس کی اسٹریٹجک تبدیلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288685/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ پر تقریباً دو دہائیوں سے انتظام سنبھالنے والے حکومتی ادارے کو حماس کی جانب سے تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، اگرچہ یہ اسرائیل فلسطین کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں کسی جامع پیش رفت سے اب بھی بہت دور ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد غزہ کی شہری انتظامیہ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، جو ایک تکنوکریٹک ادارہ ہے اور امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن فریم ورک کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جیسا کہ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے وضاحت کی، تحریک نے یہ قدم قابض قوت کو ہر قسم کا بہانہ فراہم کرنے سے روکنے کے لیے اٹھایا ہے، جو ان کے بقول اپنی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ماہ کی تباہ کن جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، ضروری خدمات کو مفلوج کر دیا ہے اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ایک ایسے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں خوراک، پانی، صحت کی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے نقطۂ نظر سے اپنے حکومتی ادارے کو تحلیل کرنے کا مقصد سیاسی عمل کو آگے بڑھانا اور ساتھ ہی جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کو نمایاں کرنا ہے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ معاہدے کی اہم شقوں، خصوصاً این سی اے جی سے متعلق دفعات، پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی گئی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد وجود میں آیا۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا تصور پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، مغربی حکومتوں، بالخصوص امریکا، نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو مؤثر نتائج سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے، جبکہ فلسطینیوں پر معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔ انخلا کے بجائے اسرائیلی افواج نے اپنی موجودگی میں مزید توسیع کی ہے اور اطلاعات کے مطابق غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 1,072 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 73,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسے حالات میں حماس بدستور اپنے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، مسلح مزاحمت کا خاتمہ ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں حالات کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال بھی انتہائی تشویش ناک ہے، جہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی برادریوں کی بے دخلی، اور اسرائیلی افواج و انتہا پسند آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے متنازع قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کا یہ بیان کہ ویسٹ بینک میں یہودی قانون سے بالاتر ہیں، اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں آبادکاروں کو اسلحہ فراہم کرنے میں سہولت دینے والی پالیسیوں نے سزا سے استثنیٰ کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ پالیسیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، حماس کے اس اقدام کو کسی فیصلہ کن موڑ کے بجائے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ غزہ کی رسمی حکمرانی چھوڑنے، مگر قبضے کے دوران ہتھیار نہ ڈالنے کے فیصلے کے ذریعے حماس نے سفارتی توجہ کا مرکز اسرائیل کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ امن کی جانب کوئی بھی بامعنی راستہ اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کرے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت دے، قبضے اور بستیوں کی توسیع کو برقرار رکھنے والی پالیسیوں کا خاتمہ کرے، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق سنجیدہ اور قابلِ اعتماد مذاکرات میں شریک ہو۔ علاقائی ثالثوں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنائیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو اس تنازع کی مسلسل انسانی قیمت اکیلے برداشت کرنے کے لیے تنہا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ اس تنازع نے ایک پوری قوم پر بے پناہ مصائب مسلط کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ پر تقریباً دو دہائیوں سے انتظام سنبھالنے والے حکومتی ادارے کو حماس کی جانب سے تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، اگرچہ یہ اسرائیل فلسطین کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں کسی جامع پیش رفت سے اب بھی بہت دور ہے۔</strong></p>
<p>اس اقدام کا مقصد غزہ کی شہری انتظامیہ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، جو ایک تکنوکریٹک ادارہ ہے اور امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن فریم ورک کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جیسا کہ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے وضاحت کی، تحریک نے یہ قدم قابض قوت کو ہر قسم کا بہانہ فراہم کرنے سے روکنے کے لیے اٹھایا ہے، جو ان کے بقول اپنی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ماہ کی تباہ کن جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، ضروری خدمات کو مفلوج کر دیا ہے اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ایک ایسے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں خوراک، پانی، صحت کی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔</p>
<p>حماس کے نقطۂ نظر سے اپنے حکومتی ادارے کو تحلیل کرنے کا مقصد سیاسی عمل کو آگے بڑھانا اور ساتھ ہی جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کو نمایاں کرنا ہے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ معاہدے کی اہم شقوں، خصوصاً این سی اے جی سے متعلق دفعات، پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی گئی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد وجود میں آیا۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا تصور پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس، مغربی حکومتوں، بالخصوص امریکا، نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو مؤثر نتائج سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے، جبکہ فلسطینیوں پر معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔ انخلا کے بجائے اسرائیلی افواج نے اپنی موجودگی میں مزید توسیع کی ہے اور اطلاعات کے مطابق غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 1,072 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 73,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسے حالات میں حماس بدستور اپنے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، مسلح مزاحمت کا خاتمہ ممکن نہیں۔</p>
<p>اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں حالات کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال بھی انتہائی تشویش ناک ہے، جہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی برادریوں کی بے دخلی، اور اسرائیلی افواج و انتہا پسند آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے متنازع قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کا یہ بیان کہ ویسٹ بینک میں یہودی قانون سے بالاتر ہیں، اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں آبادکاروں کو اسلحہ فراہم کرنے میں سہولت دینے والی پالیسیوں نے سزا سے استثنیٰ کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ پالیسیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا، حماس کے اس اقدام کو کسی فیصلہ کن موڑ کے بجائے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ غزہ کی رسمی حکمرانی چھوڑنے، مگر قبضے کے دوران ہتھیار نہ ڈالنے کے فیصلے کے ذریعے حماس نے سفارتی توجہ کا مرکز اسرائیل کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ امن کی جانب کوئی بھی بامعنی راستہ اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کرے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت دے، قبضے اور بستیوں کی توسیع کو برقرار رکھنے والی پالیسیوں کا خاتمہ کرے، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق سنجیدہ اور قابلِ اعتماد مذاکرات میں شریک ہو۔ علاقائی ثالثوں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنائیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو اس تنازع کی مسلسل انسانی قیمت اکیلے برداشت کرنے کے لیے تنہا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ اس تنازع نے ایک پوری قوم پر بے پناہ مصائب مسلط کر دیے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288685</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 10:22:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1410201037faf6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1410201037faf6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ایم ایز کے لیے صرف قرضوں تک رسائی کافی نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو مالی سہولیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے ایک خصوصی فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ وزیرِ خزانہ، جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا تقریباً بیشتر حصہ بینکاری کے شعبے میں گزارا ہے، ایس ایم ایز کو مالی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ اس شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ ایس ایم ایز کی ترقی میں رکاوٹیں صرف مالی وسائل تک محدود نہیں بلکہ قرضوں تک رسائی ان متعدد مسائل میں سے صرف ایک ہے، تاہم ان دیگر بنیادی رکاوٹوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران زیادہ ٹیکسوں اور دیگر ضابطہ جاتی (ریگولیٹری) پیچیدگیوں نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔جب تک ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا، صرف مالی سہولتوں یا قرضوں میں معمولی اضافہ ایس ایم ای شعبے کی رفتار بدلنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ٹیکس نظام ہے۔ نہ صرف ٹیکسوں کی شرح زیادہ ہے بلکہ ان کی تعمیل (کمپلائنس) کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کاروبار ترقی کرنے یا اپنے دائرۂ کار کو وسعت دینے کے بجائے محدود پیمانے پر کام کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کاروبار بڑھانے سے فائدے کے بجائے مزید مسائل اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے بہت سے کاروباری ادارے ایسوسی ایشن آف پرسنز  کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ٹیکس اور ریگولیٹری تقاضوں کی پیچیدگیوں کے باعث پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی صورت اختیار کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے باعث یہ کاروبار بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے اور طویل المدتی ترقی کے بارے میں سوچنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی وجہ سے بہت سے کاروباری افراد غیر رسمی انداز میں کاروبار جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سروس سیکٹر جس میں ٹول مینوفیکچرنگ بھی شامل ہے، پر کاروباری ٹرن اوور پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے جو کم از کم ٹیکس بھی شمار ہوتا ہے حالانکہ اس شعبے میں منافع کی شرح پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے۔ چونکہ بیشتر ایس ایم ایز خدمات کے شعبے سے وابستہ ہیں اور محدود منافع پر کام کرتے ہیں اس لیے یہ ٹیکس ان کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب حکومت زیادہ ٹیکس عائد کرتی ہے تو بہت سے کاروبار اپنی آمدن یا کاروباری حجم کم ظاہر کرنے  کا راستہ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث ان کی دستاویزی حیثیت محدود رہ جاتی ہے اور وہ بڑے پیمانے پر ترقی کرنے سے محروم رہتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنے تمام ملازمین کو بھی باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں کرتے کیونکہ کاروبار کا حجم بڑھنے کی صورت میں انہیں انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس، سوشل سیکیورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور متعدد دیگر قانونی تقاضوں پر عمل کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں موجود ہر شخص اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ پیچیدگیاں سرے سے ہونی ہی نہیں چاہئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رکاوٹیں اپنی جگہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل نکتہ یہ ہے کہ رعایتی مالیاتی اسکیموں یا بینکوں کو ایس ایم ایز کو زیادہ قرضے دینے پر آمادہ کرنے جیسے اقدامات، اکیلے اس شعبے کو معاشی ترقی کا حقیقی انجن بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ویسے بھی نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی پہلے ہی محدود ہے کیونکہ حکومت کے بڑھتے ہوئے داخلی قرضوں نے بینکوں کی توجہ نجی شعبے کے بجائے سرکاری قرضہ جات کی طرف منتقل کردی ہے جس سے نجی کاروبار کے لیے قرضوں کی گنجائش کم ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ جو قرضے دستیاب بھی ہوتے ہیں بینک انہیں چند معروف اور قابلِ اعتماد کاروباری خاندانوں کو دینا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جائیداد ضبطی اور دیوالیہ پن کے قوانین کمزور ہیں اور ان کا نفاذ اس سے بھی زیادہ غیر مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ بینکوں پر ایس ایم ایز  کو قرض دینے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جس کے نتیجے میں بینک ایس ایم ایز کے لبادے میں درمیانے درجے کے یا بڑے کاروباروں کو زیادہ قرض دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی رعایتی اسکیمیں متعارف کرائی بھی جاتی ہیں تو بینک ان میں حصہ لینے کے لیے تیار تو ہوتے ہیں، مگر ایسی ضمانتوں  کی شرط پر جہاں سارا مالی خطرہ حکومت پر منتقل ہو جاتا ہے۔ ایسی اسکیمیں بظاہر شہ سرخیوں اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز میں تو بہت پرکشش لگتی ہیں لیکن مجموعی معیشت پر ان کا اثر نہایت محدود رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وزیر خزانہ واقعی ایس ایم ایز  کی ترقی کی بھول بھلیوں کو سلجھانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اسلام آباد میں اپنے اندرونی نظام کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ کاروباری اداروں کو باضابطہ اور دستاویزی بننے کی ترغیب دی جا سکے۔ یہ وزارتِ خزانہ، ریونیو، کامرس، صنعت، لیبر اور قانون سمیت مختلف وزارتوں کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے تاکہ قانونی اور تعمیلی مسائل کو دور کیا جا سکے۔ اس کے لیے صوبائی ریگولیٹری باڈیز کو بھی ساتھ لانا ہوگا تاکہ تعمیلی اخراجات  میں کمی لائی جا سکے جس کے لیے صوبائی حدود کے اندر قوانین کے اطلاق کی حدوں  میں ترمیمی ترامیم کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ معاملات طے پا جائیں اور ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد کم ہوجائے تب ہی بینکنگ سسٹم کی جانب سے فنانسنگ کو بڑھانے کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔ بصورت دیگر ایس ایم ایز کی فنانسنگ اور ان کا معیشت میں باضابطہ کردار بدستور کم ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو مالی سہولیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے ایک خصوصی فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ وزیرِ خزانہ، جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا تقریباً بیشتر حصہ بینکاری کے شعبے میں گزارا ہے، ایس ایم ایز کو مالی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ اس شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ ایس ایم ایز کی ترقی میں رکاوٹیں صرف مالی وسائل تک محدود نہیں بلکہ قرضوں تک رسائی ان متعدد مسائل میں سے صرف ایک ہے، تاہم ان دیگر بنیادی رکاوٹوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران زیادہ ٹیکسوں اور دیگر ضابطہ جاتی (ریگولیٹری) پیچیدگیوں نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔جب تک ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا، صرف مالی سہولتوں یا قرضوں میں معمولی اضافہ ایس ایم ای شعبے کی رفتار بدلنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوگا۔</p>
<p>سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ٹیکس نظام ہے۔ نہ صرف ٹیکسوں کی شرح زیادہ ہے بلکہ ان کی تعمیل (کمپلائنس) کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کاروبار ترقی کرنے یا اپنے دائرۂ کار کو وسعت دینے کے بجائے محدود پیمانے پر کام کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کاروبار بڑھانے سے فائدے کے بجائے مزید مسائل اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے بہت سے کاروباری ادارے ایسوسی ایشن آف پرسنز  کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ٹیکس اور ریگولیٹری تقاضوں کی پیچیدگیوں کے باعث پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی صورت اختیار کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کے باعث یہ کاروبار بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے اور طویل المدتی ترقی کے بارے میں سوچنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی وجہ سے بہت سے کاروباری افراد غیر رسمی انداز میں کاروبار جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سروس سیکٹر جس میں ٹول مینوفیکچرنگ بھی شامل ہے، پر کاروباری ٹرن اوور پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے جو کم از کم ٹیکس بھی شمار ہوتا ہے حالانکہ اس شعبے میں منافع کی شرح پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے۔ چونکہ بیشتر ایس ایم ایز خدمات کے شعبے سے وابستہ ہیں اور محدود منافع پر کام کرتے ہیں اس لیے یہ ٹیکس ان کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔</p>
<p>جب حکومت زیادہ ٹیکس عائد کرتی ہے تو بہت سے کاروبار اپنی آمدن یا کاروباری حجم کم ظاہر کرنے  کا راستہ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث ان کی دستاویزی حیثیت محدود رہ جاتی ہے اور وہ بڑے پیمانے پر ترقی کرنے سے محروم رہتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنے تمام ملازمین کو بھی باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں کرتے کیونکہ کاروبار کا حجم بڑھنے کی صورت میں انہیں انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس، سوشل سیکیورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور متعدد دیگر قانونی تقاضوں پر عمل کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں موجود ہر شخص اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ پیچیدگیاں سرے سے ہونی ہی نہیں چاہئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رکاوٹیں اپنی جگہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p>اصل نکتہ یہ ہے کہ رعایتی مالیاتی اسکیموں یا بینکوں کو ایس ایم ایز کو زیادہ قرضے دینے پر آمادہ کرنے جیسے اقدامات، اکیلے اس شعبے کو معاشی ترقی کا حقیقی انجن بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ویسے بھی نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی پہلے ہی محدود ہے کیونکہ حکومت کے بڑھتے ہوئے داخلی قرضوں نے بینکوں کی توجہ نجی شعبے کے بجائے سرکاری قرضہ جات کی طرف منتقل کردی ہے جس سے نجی کاروبار کے لیے قرضوں کی گنجائش کم ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ جو قرضے دستیاب بھی ہوتے ہیں بینک انہیں چند معروف اور قابلِ اعتماد کاروباری خاندانوں کو دینا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جائیداد ضبطی اور دیوالیہ پن کے قوانین کمزور ہیں اور ان کا نفاذ اس سے بھی زیادہ غیر مؤثر ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ بینکوں پر ایس ایم ایز  کو قرض دینے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جس کے نتیجے میں بینک ایس ایم ایز کے لبادے میں درمیانے درجے کے یا بڑے کاروباروں کو زیادہ قرض دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی رعایتی اسکیمیں متعارف کرائی بھی جاتی ہیں تو بینک ان میں حصہ لینے کے لیے تیار تو ہوتے ہیں، مگر ایسی ضمانتوں  کی شرط پر جہاں سارا مالی خطرہ حکومت پر منتقل ہو جاتا ہے۔ ایسی اسکیمیں بظاہر شہ سرخیوں اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز میں تو بہت پرکشش لگتی ہیں لیکن مجموعی معیشت پر ان کا اثر نہایت محدود رہتا ہے۔</p>
<p>اگر وزیر خزانہ واقعی ایس ایم ایز  کی ترقی کی بھول بھلیوں کو سلجھانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اسلام آباد میں اپنے اندرونی نظام کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ کاروباری اداروں کو باضابطہ اور دستاویزی بننے کی ترغیب دی جا سکے۔ یہ وزارتِ خزانہ، ریونیو، کامرس، صنعت، لیبر اور قانون سمیت مختلف وزارتوں کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے تاکہ قانونی اور تعمیلی مسائل کو دور کیا جا سکے۔ اس کے لیے صوبائی ریگولیٹری باڈیز کو بھی ساتھ لانا ہوگا تاکہ تعمیلی اخراجات  میں کمی لائی جا سکے جس کے لیے صوبائی حدود کے اندر قوانین کے اطلاق کی حدوں  میں ترمیمی ترامیم کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>جب یہ معاملات طے پا جائیں اور ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد کم ہوجائے تب ہی بینکنگ سسٹم کی جانب سے فنانسنگ کو بڑھانے کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔ بصورت دیگر ایس ایم ایز کی فنانسنگ اور ان کا معیشت میں باضابطہ کردار بدستور کم ہی رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288646</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 12:54:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1312341997289d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1312341997289d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعلیم کا نہ ختم ہونے والا بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288633/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سول سروسز اکیڈمی کے تازہ ترین جائزے کے مطابق قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان میں اب بھی اسکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشخیص، پالیسی فریم ورک یا سرکاری اعلانات کی کوئی کمی نہیں ہے کہ ملک اس مقام تک کیسے پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل المیہ یہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک اس بحران کو تسلیم تو کیا، لیکن اسے روکنے کے بجائے مزید گہرا ہونے دیا، یہاں تک کہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن گیا۔ یہ اب محض تعلیم کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی ترقی کا بحران بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ کئی برسوں سے پالیسی ساز اس بڑی اور نوجوان آبادی کو ایک ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ، یعنی ایسی آبادیاتی برتری، میں تبدیل کرنے کی بات کرتے آئے ہیں جو معاشی ترقی کو مہمیز دے سکے۔ مگر اس خواہش کی بنیاد ایک ہی بنیادی شرط پر قائم ہے: نوجوانوں کو ایسی تعلیم ملنی چاہیے جو انہیں علم اور مہارتوں سے آراستہ کرے تاکہ وہ معیشت میں مؤثر اور پیداواری کردار ادا کر سکیں۔ جب ڈھائی کروڑ  سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام سے باہر چھوڑ دیا جائے تو جو چیز معاشی فائدہ بن سکتی تھی، وہ آبادیاتی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول سروسز اکیڈمی کے جامع جائزے نے درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کا بحران اب پالیسی سازی کا نہیں بلکہ عمل درآمد کا ہے۔ یہ مشاہدہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ کئی دہائیوں سے تعلیم قومی منصوبوں، آئینی ضمانتوں اور بارہا کیے گئے پالیسی وعدوں کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-اے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ قومی ایکشن پلان تیار کیے گئے، تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان ہوا، مگر ہر چند سال بعد ایک نئی رپورٹ سامنے آ جاتی ہے جو انہی ناکامیوں کو پہلے سے زیادہ بڑے اعداد و شمار اور زیادہ سنگین انداز میں دہراتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کس قدر گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ صرف پنجاب میں 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 74 لاکھ ہے، جن میں سے 41 لاکھ کے قریب لڑکیاں ہیں۔ خیبر پختونخوا کو سکیورٹی مسائل، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان اب بھی بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی، غیر فعال اسکولوں اور تعلیم تک رسائی میں غیر معمولی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ اگرچہ ہر صوبے کے مسائل مختلف ہیں، لیکن سب ایک ہی انجام تک پہنچتے ہیں: لاکھوں بچے اس تعلیم سے محروم ہیں جس کی ضمانت انہیں آئین دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ ایک اور تلخ حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بحران اس کے باوجود برقرار ہے کہ ملک بخوبی جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ بہتر طرز حکمرانی، زیادہ مضبوط احتساب، بہتر ڈیٹا انضمام، زیادہ سرمایہ کاری، مزید کلاس رومز، اضافی اساتذہ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی—یہ تمام سفارشات بارہا دی جا چکی ہیں۔ پاکستان کو آئیڈیاز کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ سیاسی عزم کی کمی درپیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناکامی کے نتائج صرف شرح خواندگی تک محدود نہیں رہتے۔ جو بچے آج اسکول سے باہر ہیں، ان کے غربت میں پھنسے رہنے، کم مہارت والے غیر رسمی روزگار اختیار کرنے، خراب صحت کے نتائج کا سامنا کرنے اور پوری زندگی محدود معاشی مواقع سے دوچار رہنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ قومی سطح پر کمزور تعلیمی معیار براہِ راست کم پیداواری صلاحیت، مسابقت میں کمی اور طویل المدتی معاشی ترقی کی سست رفتاری کا سبب بنتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو پائیدار ترقی کا خواہاں ہو، وہ اپنی مستقبل کی افرادی قوت کے اتنے بڑے حصے کو کلاس روم سے باہر رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی دلیل بھی اتنی ہی مضبوط ہے۔ پاکستان اب بھی اپنی قومی آمدنی کا نسبتاً کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جبکہ اس اخراجات کا بڑا حصہ تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے بجائے تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ ہر گزرتا سال اس بحران پر قابو پانے کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ آبادی میں اضافہ تعلیمی استعداد سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ستم ظریفی بھی توجہ کی مستحق ہے۔ سیاسی رہنما اکثر پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایسی طاقت جو تعلیم یافتہ نہ ہو، ہمیشہ طاقت نہیں رہ سکتی۔ ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ صرف آبادی بڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس آبادی پر تعلیم، صحت اور مہارتوں کی ترقی کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ان سرمایہ کاریوں کے بغیر آبادی میں اضافہ بالآخر روزگار، عوامی خدمات، سماجی استحکام اور معاشی وسائل پر مزید دباؤ ڈال دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا سول سروسز اکیڈمی کی اس رپورٹ کو محض ایک اور پالیسی جائزہ سمجھ کر سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے جہاں کئی دہائیوں کی غفلت کا ازالہ کرنا بتدریج مشکل تر ہوتا جائے گا۔ آج جو ہر بچہ اسکول سے باہر ہے، وہ کل نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے ملک کے لیے ایک کھویا ہوا موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان بہت کر چکا۔ اب اصل ایمرجنسی عمل درآمد کی ہے۔ جب تک حکومتیں ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کو دیگر تمام قومی اسٹرٹیجک اہداف کے برابر اہم قومی ترجیح نہیں بناتیں، اس وقت تک ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے بچے ایک ایک کرکے اس کے ہاتھوں سے پھسلتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سول سروسز اکیڈمی کے تازہ ترین جائزے کے مطابق قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان میں اب بھی اسکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔</strong></p>
<p>تشخیص، پالیسی فریم ورک یا سرکاری اعلانات کی کوئی کمی نہیں ہے کہ ملک اس مقام تک کیسے پہنچا۔</p>
<p>اصل المیہ یہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک اس بحران کو تسلیم تو کیا، لیکن اسے روکنے کے بجائے مزید گہرا ہونے دیا، یہاں تک کہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن گیا۔ یہ اب محض تعلیم کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی ترقی کا بحران بن چکا ہے۔</p>
<p>آج پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ کئی برسوں سے پالیسی ساز اس بڑی اور نوجوان آبادی کو ایک ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ، یعنی ایسی آبادیاتی برتری، میں تبدیل کرنے کی بات کرتے آئے ہیں جو معاشی ترقی کو مہمیز دے سکے۔ مگر اس خواہش کی بنیاد ایک ہی بنیادی شرط پر قائم ہے: نوجوانوں کو ایسی تعلیم ملنی چاہیے جو انہیں علم اور مہارتوں سے آراستہ کرے تاکہ وہ معیشت میں مؤثر اور پیداواری کردار ادا کر سکیں۔ جب ڈھائی کروڑ  سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام سے باہر چھوڑ دیا جائے تو جو چیز معاشی فائدہ بن سکتی تھی، وہ آبادیاتی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سول سروسز اکیڈمی کے جامع جائزے نے درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کا بحران اب پالیسی سازی کا نہیں بلکہ عمل درآمد کا ہے۔ یہ مشاہدہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ کئی دہائیوں سے تعلیم قومی منصوبوں، آئینی ضمانتوں اور بارہا کیے گئے پالیسی وعدوں کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-اے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ قومی ایکشن پلان تیار کیے گئے، تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان ہوا، مگر ہر چند سال بعد ایک نئی رپورٹ سامنے آ جاتی ہے جو انہی ناکامیوں کو پہلے سے زیادہ بڑے اعداد و شمار اور زیادہ سنگین انداز میں دہراتی ہے۔</p>
<p>صوبائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کس قدر گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ صرف پنجاب میں 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 74 لاکھ ہے، جن میں سے 41 لاکھ کے قریب لڑکیاں ہیں۔ خیبر پختونخوا کو سکیورٹی مسائل، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان اب بھی بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی، غیر فعال اسکولوں اور تعلیم تک رسائی میں غیر معمولی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ اگرچہ ہر صوبے کے مسائل مختلف ہیں، لیکن سب ایک ہی انجام تک پہنچتے ہیں: لاکھوں بچے اس تعلیم سے محروم ہیں جس کی ضمانت انہیں آئین دیتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ ایک اور تلخ حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بحران اس کے باوجود برقرار ہے کہ ملک بخوبی جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ بہتر طرز حکمرانی، زیادہ مضبوط احتساب، بہتر ڈیٹا انضمام، زیادہ سرمایہ کاری، مزید کلاس رومز، اضافی اساتذہ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی—یہ تمام سفارشات بارہا دی جا چکی ہیں۔ پاکستان کو آئیڈیاز کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ سیاسی عزم کی کمی درپیش ہے۔</p>
<p>اس ناکامی کے نتائج صرف شرح خواندگی تک محدود نہیں رہتے۔ جو بچے آج اسکول سے باہر ہیں، ان کے غربت میں پھنسے رہنے، کم مہارت والے غیر رسمی روزگار اختیار کرنے، خراب صحت کے نتائج کا سامنا کرنے اور پوری زندگی محدود معاشی مواقع سے دوچار رہنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ قومی سطح پر کمزور تعلیمی معیار براہِ راست کم پیداواری صلاحیت، مسابقت میں کمی اور طویل المدتی معاشی ترقی کی سست رفتاری کا سبب بنتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو پائیدار ترقی کا خواہاں ہو، وہ اپنی مستقبل کی افرادی قوت کے اتنے بڑے حصے کو کلاس روم سے باہر رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>مالیاتی دلیل بھی اتنی ہی مضبوط ہے۔ پاکستان اب بھی اپنی قومی آمدنی کا نسبتاً کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جبکہ اس اخراجات کا بڑا حصہ تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے بجائے تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ ہر گزرتا سال اس بحران پر قابو پانے کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ آبادی میں اضافہ تعلیمی استعداد سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایک اور ستم ظریفی بھی توجہ کی مستحق ہے۔ سیاسی رہنما اکثر پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایسی طاقت جو تعلیم یافتہ نہ ہو، ہمیشہ طاقت نہیں رہ سکتی۔ ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ صرف آبادی بڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس آبادی پر تعلیم، صحت اور مہارتوں کی ترقی کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ان سرمایہ کاریوں کے بغیر آبادی میں اضافہ بالآخر روزگار، عوامی خدمات، سماجی استحکام اور معاشی وسائل پر مزید دباؤ ڈال دیتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا سول سروسز اکیڈمی کی اس رپورٹ کو محض ایک اور پالیسی جائزہ سمجھ کر سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے جہاں کئی دہائیوں کی غفلت کا ازالہ کرنا بتدریج مشکل تر ہوتا جائے گا۔ آج جو ہر بچہ اسکول سے باہر ہے، وہ کل نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے ملک کے لیے ایک کھویا ہوا موقع ہے۔</p>
<p>پاکستان تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان بہت کر چکا۔ اب اصل ایمرجنسی عمل درآمد کی ہے۔ جب تک حکومتیں ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کو دیگر تمام قومی اسٹرٹیجک اہداف کے برابر اہم قومی ترجیح نہیں بناتیں، اس وقت تک ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے بچے ایک ایک کرکے اس کے ہاتھوں سے پھسلتے رہیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288633</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:11:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131010033367c64.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131010033367c64.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زندہ مویشی یا ویلیو ایڈیشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب کی جانب سے زندہ مویشیوں کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کی سمت کے حوالے سے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ زرمبادلہ کمانا بلا شبہ قومی ترجیح ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب بیرونی مالی معاونت اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلسل توقعات سے کم رہی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا زندہ مویشی برآمد کرنا اس مقصد کو اتنے ہی مؤثر انداز میں پورا کرتا ہے جتنا کہ انہی جانوروں کو ملک کے اندر پراسیس کرکے کہیں زیادہ ویلیو ایڈڈ (قدر میں اضافے والی) مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوشت برآمد کرنے والوں اور کاروباری رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک صنعت کے مفادات تک محدود نہیں۔ پاکستان خطے میں مویشیوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک میں گوشت کی پروسیسنگ کی ایک ایسی صنعت بھی ترقی کر چکی ہے جس کا مؤقف ہے کہ زندہ جانوروں کی برآمد ان سرمایہ کاریوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو پہلے ہی برآمدات پر مبنی گوشت پراسیسنگ کی تنصیبات میں کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی اعتبار سے یہ فرق نہایت اہم ہے۔ ایک زندہ جانور صرف ایک مرتبہ زرمبادلہ کما کر دیتا ہے، جبکہ اسی جانور کو پراسیس کرنے سے وہ بین الاقوامی منڈی تک پہنچنے سے پہلے ملک کے اندر پوری ایک ویلیو چین کو متحرک کرتا ہے۔ گوشت کی پروسیسنگ ذبح خانوں، پیکجنگ، ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج، ویٹرنری خدمات، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح کھالیں اور چمڑا، لیدر انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں، جبکہ اوجھڑی، ہڈیاں اور دیگر ضمنی مصنوعات کئی دوسرے شعبوں میں اضافی تجارتی سرگرمیوں کا باعث بنتی ہیں۔ ملکی سطح پر پروسیسنگ کا ہر مرحلہ آمدنی، روزگار اور ٹیکس محصولات پیدا کرتا ہے، جبکہ جانور کو زندہ برآمد کر دینے کی صورت میں یہ تمام معاشی فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ وہ ممالک جو اپنی برآمدات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، عموماً خام مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان بھی برسوں سے اس ضرورت پر زور دیتا آیا ہے کہ خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے انہیں پراسیس کرکے برآمد کیا جائے، اور زرعی اجناس کو خام حالت میں بھیجنے کے بجائے برانڈڈ غذائی مصنوعات کی شکل میں عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے۔ یہی اصول مویشیوں کے شعبے پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کچھ عملی پہلو بھی ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر زندہ مویشیوں کی برآمد پر کوئی مؤثر ضابطہ نہ ہوا تو اس سے ملکی گوشت پراسیسنگ صنعت کے لیے معیاری مویشیوں کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے قائم کیے گئے جدید پراسیسنگ پلانٹس اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ مویشیوں کی رسد میں کمی سے ملک کے اندر گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافے کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ پہلے ہی مہنگائی کا شکار صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زندہ مویشیوں کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ مویشی پال کسان بھی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے حق دار ہیں، جبکہ خطے میں موجود طلب ان کے لیے آمدنی کے قیمتی مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اصل چیلنج ایسی پالیسی تشکیل دینا ہے جو ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم کرے، نہ کہ ایک شعبے کے مفاد کو دوسرے کے نقصان کا سبب بننے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے صرف برآمدات کی اجازت دینے یا ان پر پابندی عائد کرنے سے کہیں زیادہ جامع اور دانشمندانہ برآمدی حکمت عملی درکار ہے۔ ملک میں گوشت پراسیسنگ کی استعداد کو واضح حکومتی پالیسی کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔ پراسیس شدہ حلال گوشت کی برآمدات کے لیے مراعات، جدید پراسیسنگ پلانٹس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کہ مقامی صنعت کو مناسب مقدار میں مویشی دستیاب رہیں، ایسے تمام اقدامات ہیں جو اس شعبے سے حاصل ہونے والی مجموعی معاشی قدر میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حقیقی مسابقتی برتری صرف مویشی پالنے میں نہیں بلکہ عالمی معیار کی ایک مسابقتی حلال گوشت کی صنعت قائم کرنے میں ہے۔ دنیا بھر میں مستند حلال غذائی مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جو ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جو زندہ جانوروں کی ایک بار کی فروخت سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ جو ممالک آج ان عالمی منڈیوں پر غلبہ رکھتے ہیں، انہوں نے یہ مقام صرف خام مال برآمد کرکے حاصل نہیں کیا بلکہ برانڈنگ، معیار کی یقین دہانی، جدید پراسیسنگ کے معیارات اور مربوط سپلائی چینز کے ذریعے حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے پنجاب حکومت کی اس پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ ایک مستقل مثال بن جائے۔ مقصد صرف آج زرمبادلہ کمانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، مقامی صنعت کو مضبوط بنانا اور طویل مدت میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان متعدد مواقع پر اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب معیشت ویلیو چین میں بہتری کی جانب پیش رفت کرے۔ مویشیوں کا شعبہ اس اصول کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زندہ جانور فروخت کرنے سے فوری آمدنی تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اسی جانور کو ملک کے اندر پراسیس کرنے سے صرف آمدنی نہیں بلکہ ایک پوری صنعت جنم لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب کی جانب سے زندہ مویشیوں کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کی سمت کے حوالے سے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ زرمبادلہ کمانا بلا شبہ قومی ترجیح ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب بیرونی مالی معاونت اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلسل توقعات سے کم رہی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا زندہ مویشی برآمد کرنا اس مقصد کو اتنے ہی مؤثر انداز میں پورا کرتا ہے جتنا کہ انہی جانوروں کو ملک کے اندر پراسیس کرکے کہیں زیادہ ویلیو ایڈڈ (قدر میں اضافے والی) مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا۔</strong></p>
<p>گوشت برآمد کرنے والوں اور کاروباری رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک صنعت کے مفادات تک محدود نہیں۔ پاکستان خطے میں مویشیوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک میں گوشت کی پروسیسنگ کی ایک ایسی صنعت بھی ترقی کر چکی ہے جس کا مؤقف ہے کہ زندہ جانوروں کی برآمد ان سرمایہ کاریوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو پہلے ہی برآمدات پر مبنی گوشت پراسیسنگ کی تنصیبات میں کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>اقتصادی اعتبار سے یہ فرق نہایت اہم ہے۔ ایک زندہ جانور صرف ایک مرتبہ زرمبادلہ کما کر دیتا ہے، جبکہ اسی جانور کو پراسیس کرنے سے وہ بین الاقوامی منڈی تک پہنچنے سے پہلے ملک کے اندر پوری ایک ویلیو چین کو متحرک کرتا ہے۔ گوشت کی پروسیسنگ ذبح خانوں، پیکجنگ، ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج، ویٹرنری خدمات، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح کھالیں اور چمڑا، لیدر انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں، جبکہ اوجھڑی، ہڈیاں اور دیگر ضمنی مصنوعات کئی دوسرے شعبوں میں اضافی تجارتی سرگرمیوں کا باعث بنتی ہیں۔ ملکی سطح پر پروسیسنگ کا ہر مرحلہ آمدنی، روزگار اور ٹیکس محصولات پیدا کرتا ہے، جبکہ جانور کو زندہ برآمد کر دینے کی صورت میں یہ تمام معاشی فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ وہ ممالک جو اپنی برآمدات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، عموماً خام مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان بھی برسوں سے اس ضرورت پر زور دیتا آیا ہے کہ خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے انہیں پراسیس کرکے برآمد کیا جائے، اور زرعی اجناس کو خام حالت میں بھیجنے کے بجائے برانڈڈ غذائی مصنوعات کی شکل میں عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے۔ یہی اصول مویشیوں کے شعبے پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کچھ عملی پہلو بھی ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر زندہ مویشیوں کی برآمد پر کوئی مؤثر ضابطہ نہ ہوا تو اس سے ملکی گوشت پراسیسنگ صنعت کے لیے معیاری مویشیوں کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے قائم کیے گئے جدید پراسیسنگ پلانٹس اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ مویشیوں کی رسد میں کمی سے ملک کے اندر گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافے کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ پہلے ہی مہنگائی کا شکار صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔</p>
<p>اس تمام بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زندہ مویشیوں کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ مویشی پال کسان بھی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے حق دار ہیں، جبکہ خطے میں موجود طلب ان کے لیے آمدنی کے قیمتی مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اصل چیلنج ایسی پالیسی تشکیل دینا ہے جو ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم کرے، نہ کہ ایک شعبے کے مفاد کو دوسرے کے نقصان کا سبب بننے دے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے صرف برآمدات کی اجازت دینے یا ان پر پابندی عائد کرنے سے کہیں زیادہ جامع اور دانشمندانہ برآمدی حکمت عملی درکار ہے۔ ملک میں گوشت پراسیسنگ کی استعداد کو واضح حکومتی پالیسی کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔ پراسیس شدہ حلال گوشت کی برآمدات کے لیے مراعات، جدید پراسیسنگ پلانٹس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کہ مقامی صنعت کو مناسب مقدار میں مویشی دستیاب رہیں، ایسے تمام اقدامات ہیں جو اس شعبے سے حاصل ہونے والی مجموعی معاشی قدر میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی حقیقی مسابقتی برتری صرف مویشی پالنے میں نہیں بلکہ عالمی معیار کی ایک مسابقتی حلال گوشت کی صنعت قائم کرنے میں ہے۔ دنیا بھر میں مستند حلال غذائی مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جو ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جو زندہ جانوروں کی ایک بار کی فروخت سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ جو ممالک آج ان عالمی منڈیوں پر غلبہ رکھتے ہیں، انہوں نے یہ مقام صرف خام مال برآمد کرکے حاصل نہیں کیا بلکہ برانڈنگ، معیار کی یقین دہانی، جدید پراسیسنگ کے معیارات اور مربوط سپلائی چینز کے ذریعے حاصل کیا ہے۔</p>
<p>اسی لیے پنجاب حکومت کی اس پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ ایک مستقل مثال بن جائے۔ مقصد صرف آج زرمبادلہ کمانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، مقامی صنعت کو مضبوط بنانا اور طویل مدت میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان متعدد مواقع پر اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب معیشت ویلیو چین میں بہتری کی جانب پیش رفت کرے۔ مویشیوں کا شعبہ اس اصول کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ایک زندہ جانور فروخت کرنے سے فوری آمدنی تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اسی جانور کو ملک کے اندر پراسیس کرنے سے صرف آمدنی نہیں بلکہ ایک پوری صنعت جنم لیتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288610</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 12:58:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/12125620dc9ac23.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/12125620dc9ac23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راوی کے سیلابی میدان پر تجاوزات، خطرے کی گھنٹی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288611/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راوی کے بارے میں پائی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ چونکہ یہ دریا سال کے بیشتر حصے میں تقریباً خشک رہتا ہے، اس لیے اس سے کوئی خاص خطرہ نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی کے بیشتر پانی کا حق بھارت کو دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں اس کے زیریں حصے تک صرف محدود مقدار میں پانی پہنچتا ہے، سوائے مون سون کے موسم یا سیلابی پانی چھوڑے جانے کے اوقات کے۔ تاہم یہ ظاہری خشکی ایک بڑے خطرے پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ شدید مون سون بارشیں، اور ان کے ساتھ ایسے مواقع پر جب بھارت زیادہ بارشوں کے دوران اضافی پانی چھوڑتا ہے، اچانک آنے والے سیلابی ریلے چند ہی گھنٹوں میں راوی کو ایک طغیانی مچاتے دریا میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت معلومات کے تبادلے کے نظام کی معطلی نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اب پاکستان کو دریا کے بہاؤ میں تبدیلی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں ملتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے سپارکو کی جانب سے جاری کردہ تازہ سیٹلائٹ تصاویر اس غلط فہمی کو دور کر دینی چاہییں کہ لاہور کا مسلسل راوی کے سیلابی میدان میں پھیلاؤ ترقی کی علامت ہے۔ گزشتہ 35 برسوں کے دوران شہر بتدریج اس زمین پر قابض ہوتا گیا ہے جسے قدرت نے شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران پانی کے گزرنے اور جذب ہونے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں اضافے کے ساتھ اس سیلابی میدان کو محدود کرنا محض غیر دانشمندانہ نہیں بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب، جس میں سیلابی میدان میں قائم ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کم از کم 80 گھر زیرِ آب آ گئے تھے، اس حقیقت کی واضح یاد دہانی تھے کہ دریا بالآخر اپنی گزرگاہ اور جگہ واپس حاصل کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے نتائج ان خدشات کی توثیق کرتے ہیں جن کی ماحولیاتی ماہرین برسوں سے نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کی شہری منصوبہ بندی ماحولیاتی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ شہر نکاسیٔ آب کے نظام، آبی گزرگاہوں، دلدلی علاقوں، دریا کے قدرتی راستوں اور سبزہ زاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل نہیں پھیل سکتے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی  اور آزاد ماہرین کے متضاد دعوے اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ اگر منظور شدہ منصوبے واقعی جامع ہائیڈرولوجیکل مطالعات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور فعال سیلابی میدان سے باہر واقع ہیں تو ان مطالعات کو آزاد سائنسی جانچ کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ اس نوعیت کے بڑے منصوبوں پر عوامی اعتماد صرف سرکاری یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ شفافیت اور قابلِ تصدیق شواہد سے قائم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ دنیا کے متعدد شہروں نے سخت سیلابی میدان کے قوانین نافذ کرکے، گرین بیلٹس محفوظ رکھ کر، جدید فلڈ کنٹرول انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرکے اور شہری منصوبہ بندی میں سائنسی بنیادوں پر خطرات کا جائزہ شامل کرکے دریاؤں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ پاکستان کو کوئی نیا راستہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ان آزمودہ اصولوں کو اپنانے اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی قوانین کا یکساں نفاذ بھی نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی ادارہ، خواہ اس کا مینڈیٹ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، ایسے قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے جو انسانی جانوں، املاک اور ماحول کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کی جانب سے جاری کیا گیا یہ انتباہ محض ایک اور تکنیکی رپورٹ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسے راوی کے کنارے شہری منصوبہ بندی پر فوری نظرثانی کا باعث بننا چاہیے۔ سیلابی میدان پر ہر قسم کی تجاوزات روکی جائیں، زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کو پوری سختی سے نافذ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو دریا کے قدرتی راستوں کو بحال کیا جائے۔ راوی کا سیلابی میدان کوئی اضافی اراضی نہیں جسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، بلکہ یہ سیلاب سے بچاؤ کی ایک نہایت اہم قدرتی حفاظتی ڈھال ہے۔ ذمہ دار طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے کہ دریا کا احترام کیا جائے، ورنہ قدرت اپنی طاقت کا کہیں زیادہ مہنگا اور تکلیف دہ احساس دلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>راوی کے بارے میں پائی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ چونکہ یہ دریا سال کے بیشتر حصے میں تقریباً خشک رہتا ہے، اس لیے اس سے کوئی خاص خطرہ نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی کے بیشتر پانی کا حق بھارت کو دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں اس کے زیریں حصے تک صرف محدود مقدار میں پانی پہنچتا ہے، سوائے مون سون کے موسم یا سیلابی پانی چھوڑے جانے کے اوقات کے۔ تاہم یہ ظاہری خشکی ایک بڑے خطرے پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ شدید مون سون بارشیں، اور ان کے ساتھ ایسے مواقع پر جب بھارت زیادہ بارشوں کے دوران اضافی پانی چھوڑتا ہے، اچانک آنے والے سیلابی ریلے چند ہی گھنٹوں میں راوی کو ایک طغیانی مچاتے دریا میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت معلومات کے تبادلے کے نظام کی معطلی نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اب پاکستان کو دریا کے بہاؤ میں تبدیلی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں ملتی۔</strong></p>
<p>اسی لیے سپارکو کی جانب سے جاری کردہ تازہ سیٹلائٹ تصاویر اس غلط فہمی کو دور کر دینی چاہییں کہ لاہور کا مسلسل راوی کے سیلابی میدان میں پھیلاؤ ترقی کی علامت ہے۔ گزشتہ 35 برسوں کے دوران شہر بتدریج اس زمین پر قابض ہوتا گیا ہے جسے قدرت نے شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران پانی کے گزرنے اور جذب ہونے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں اضافے کے ساتھ اس سیلابی میدان کو محدود کرنا محض غیر دانشمندانہ نہیں بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب، جس میں سیلابی میدان میں قائم ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کم از کم 80 گھر زیرِ آب آ گئے تھے، اس حقیقت کی واضح یاد دہانی تھے کہ دریا بالآخر اپنی گزرگاہ اور جگہ واپس حاصل کر لیتے ہیں۔</p>
<p>سپارکو کے نتائج ان خدشات کی توثیق کرتے ہیں جن کی ماحولیاتی ماہرین برسوں سے نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کی شہری منصوبہ بندی ماحولیاتی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ شہر نکاسیٔ آب کے نظام، آبی گزرگاہوں، دلدلی علاقوں، دریا کے قدرتی راستوں اور سبزہ زاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل نہیں پھیل سکتے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی  اور آزاد ماہرین کے متضاد دعوے اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ اگر منظور شدہ منصوبے واقعی جامع ہائیڈرولوجیکل مطالعات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور فعال سیلابی میدان سے باہر واقع ہیں تو ان مطالعات کو آزاد سائنسی جانچ کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ اس نوعیت کے بڑے منصوبوں پر عوامی اعتماد صرف سرکاری یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ شفافیت اور قابلِ تصدیق شواہد سے قائم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ دنیا کے متعدد شہروں نے سخت سیلابی میدان کے قوانین نافذ کرکے، گرین بیلٹس محفوظ رکھ کر، جدید فلڈ کنٹرول انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرکے اور شہری منصوبہ بندی میں سائنسی بنیادوں پر خطرات کا جائزہ شامل کرکے دریاؤں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ پاکستان کو کوئی نیا راستہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ان آزمودہ اصولوں کو اپنانے اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی قوانین کا یکساں نفاذ بھی نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی ادارہ، خواہ اس کا مینڈیٹ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، ایسے قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے جو انسانی جانوں، املاک اور ماحول کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔</p>
<p>سپارکو کی جانب سے جاری کیا گیا یہ انتباہ محض ایک اور تکنیکی رپورٹ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسے راوی کے کنارے شہری منصوبہ بندی پر فوری نظرثانی کا باعث بننا چاہیے۔ سیلابی میدان پر ہر قسم کی تجاوزات روکی جائیں، زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کو پوری سختی سے نافذ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو دریا کے قدرتی راستوں کو بحال کیا جائے۔ راوی کا سیلابی میدان کوئی اضافی اراضی نہیں جسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، بلکہ یہ سیلاب سے بچاؤ کی ایک نہایت اہم قدرتی حفاظتی ڈھال ہے۔ ذمہ دار طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے کہ دریا کا احترام کیا جائے، ورنہ قدرت اپنی طاقت کا کہیں زیادہ مہنگا اور تکلیف دہ احساس دلا سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288611</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:16:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/121315174af1adf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/121315174af1adf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288573/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احتساب کے قوانین کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے، نہ کہ قانون شکنی کے ملزمان کو قانون کی تکنیکی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر احتساب سے بچنے کا موقع فراہم کرنا۔ اسی لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اپنی دائرۂ اختیار برقرار رکھنے کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کو بنیاد بنا کر قانونی تشریح پر غور کیے جانے کی اطلاعات قابلِ توجہ اور قابلِ حمایت ہیں۔ اگر افراطِ زر کے باعث نیب کے دائرۂ اختیار کا تعین کرنے والی مالی حد میں اضافہ ہوگیا ہے تو اس بات کا بھی مضبوط جواز موجود ہے کہ خزانے کو مبینہ نقصان کی مالیت کا جائزہ بھی اسی پیمانے، یعنی افراطِ زر کے تناظر میں لیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس لیے پیدا ہوا کہ اطلاعات کے مطابق نیب کے دائرۂ اختیار کی مالی حد کو افراطِ زر (مہنگائی) سے منسلک کرنے والی ترامیم کے نتیجے میں یہ مؤثر کم از کم حد 500 ملین  روپے سے بڑھ کر 800 ملین روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں جاری بڑی تعداد میں انکوائریاں اور تحقیقات اب ممکنہ طور پر نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوسکتی ہیں حالانکہ ان میں ایسے الزامات شامل ہیں جو پہلے نیب کے تحت قابلِ کارروائی اور قابلِ احتساب سمجھے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ غور تجویز کا مقصد اس غیر معمولی صورتِ حال کو دور کرنا ہے۔ اس کے تحت مبینہ نقصان کی مالیت پر بھی وہی افراطِ زر (مہنگائی) کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ لاگو کرنے کی تجویز ہے، خواہ نقصان اٹھانے والا کوئی فرد ہو، سرکاری ادارہ ہو یا قومی خزانہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز کے بنیادی اصول سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ افراطِ زر (مہنگائی) اس معاملے کے دونوں پہلوؤں پر یکساں اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر کسی ملزم کو یہ مؤقف اختیار کرنے کی اجازت دی جائے کہ مہنگائی کے باعث قانونی مالی حد مبینہ رقم سے بڑھ گئی ہے، تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مبینہ طور پر ہونے والے مالی نقصان کی قدر میں مہنگائی کے باعث آنے والی کمی کو بھی تسلیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر کا اطلاق منتخب طور پر کرنے سے ایسے نتائج نکلنے کا خطرہ ہے جو قانون کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے بجائے وقت گزرنے کو فائدہ پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے نیب کے اختیارات کو پارلیمنٹ کے مقرر کردہ دائرہ کار سے بڑھانے کی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ایک ہی معاشی حقیقت، یعنی افراطِ زر کے اثرات، کا اطلاق یکساں اور مستقل انداز میں کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر کے اثرات کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی قانونی شق کا اطلاق صرف ایک فریق کے فائدے تک محدود نہیں ہونا چاہیے جبکہ اس کے اس واضح اثر کو نظر انداز کر دیا جائے جو عوامی نقصان پر پڑتا ہے، جس کا ازالہ احتسابی عمل کا بنیادی مقصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا احتسابی نظام طویل عرصے سے قانونی پیچیدگیوں، قانون سازی میں بار بار کی جانے والی ترامیم اور طویل عدالتی کارروائیوں جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوامی توجہ بدعنوانی کے الزامات کی اصل نوعیت سے ہٹ کر دائرۂ اختیار، قانونی طریقۂ کار یا قانون کی تشریح سے متعلق تکنیکی تنازعات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ہر نظامِ انصاف میں قانونی تحفظات اور ضمانتیں ناگزیر ہیں لیکن انہیں اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ وہ ایسے ذرائع بن جائیں جن کے باعث احتساب کے عمل پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ہی دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا چلا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خاص طور پر عوامی فنڈز سے متعلق کرپشن کے مقدمات میں بہت اہم ہے۔ افراطِ زر (مہنگائی) وقت کے ساتھ ساتھ پیسے کی قوتِ خرید کو مسلسل کم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی سال قبل مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم آج کی معاشی قدر کے لحاظ سے کہیں زیادہ بڑے مالی نقصان کی نمائندگی کرسکتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر دوسری جانب مہنگائی کو احتساب کے دائرۂ اختیار کو محدود کرنے کی بنیاد بنالیا جائے تو اس سے ایسا عدم توازن پیدا ہوتا ہے جسے شاید ہی عوام کی اکثریت منصفانہ قرار دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً اگر نیب کی یہ تجویز منظور کر لی جاتی ہے تو تقریباً یقینی طور پر اس کا عدالتی جائزہ لیا جائے گا، اور ایسا ہونا بھی مناسب ہے۔ قانون کی تشریح سے متعلق معاملات کا حتمی فیصلہ عدالتوں ہی کا اختیار ہے، جو یہ طے کرتی ہیں کہ آیا ایسا طریقۂ کار پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔عدالتی نظرِثانی احتسابی عمل کی قانونی حیثیت اور ساکھ کو مضبوط بناتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قانون میں کی جانے والی نئی تشریحات یا اقدامات آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتساب پر عوامی اعتماد کا انحصار نہ صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات پر ہے بلکہ اس تاثر پر بھی ہے کہ قانونی اصلاحات کو ان کے اصل مقصد کو ناکام بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قوانین کو انصاف، شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے ارتقاء پذیر ہونا چاہیے۔ انہیں نادانستہ طور پر ایسے مواقع پیدا نہیں کرنے چاہئیں جن سے کرپشن کے مبینہ مقدمات اس لیے ختم ہو جائیں کہ معاشی حالات تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ مبینہ عوامی نقصان کو ایسا سمجھا جائے جیسے وہ وقت میں منجمد ہو کر رہ گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بارہا احتساب کو مضبوط بنانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ ان وعدوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی اگر قانونی سقم (خامیاں) آہستہ آہستہ وہ کام کر دکھائیں جو میرٹ پر ہونے والی بریت سے ممکن نہ تھا۔ احتساب کی قانون سازی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کرپشن کے الزامات کی جانچ پڑتال قانون کے مطابق ہو۔ یہ مقصد تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک دائرہ اختیار ایسی تکنیکی بے قاعدگیوں کی وجہ سے خاموشی سے ختم ہوتا رہے جن کا مبینہ جرم کی سنگینی سے کوئی تعلق نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر (مہنگائی) پیسے کی قدر تو گھٹا سکتی ہے لیکن اسے احتساب کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>احتساب کے قوانین کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے، نہ کہ قانون شکنی کے ملزمان کو قانون کی تکنیکی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر احتساب سے بچنے کا موقع فراہم کرنا۔ اسی لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اپنی دائرۂ اختیار برقرار رکھنے کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کو بنیاد بنا کر قانونی تشریح پر غور کیے جانے کی اطلاعات قابلِ توجہ اور قابلِ حمایت ہیں۔ اگر افراطِ زر کے باعث نیب کے دائرۂ اختیار کا تعین کرنے والی مالی حد میں اضافہ ہوگیا ہے تو اس بات کا بھی مضبوط جواز موجود ہے کہ خزانے کو مبینہ نقصان کی مالیت کا جائزہ بھی اسی پیمانے، یعنی افراطِ زر کے تناظر میں لیا جائے۔</strong></p>
<p>یہ معاملہ اس لیے پیدا ہوا کہ اطلاعات کے مطابق نیب کے دائرۂ اختیار کی مالی حد کو افراطِ زر (مہنگائی) سے منسلک کرنے والی ترامیم کے نتیجے میں یہ مؤثر کم از کم حد 500 ملین  روپے سے بڑھ کر 800 ملین روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں جاری بڑی تعداد میں انکوائریاں اور تحقیقات اب ممکنہ طور پر نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوسکتی ہیں حالانکہ ان میں ایسے الزامات شامل ہیں جو پہلے نیب کے تحت قابلِ کارروائی اور قابلِ احتساب سمجھے جاتے تھے۔</p>
<p>زیرِ غور تجویز کا مقصد اس غیر معمولی صورتِ حال کو دور کرنا ہے۔ اس کے تحت مبینہ نقصان کی مالیت پر بھی وہی افراطِ زر (مہنگائی) کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ لاگو کرنے کی تجویز ہے، خواہ نقصان اٹھانے والا کوئی فرد ہو، سرکاری ادارہ ہو یا قومی خزانہ۔</p>
<p>اس تجویز کے بنیادی اصول سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ افراطِ زر (مہنگائی) اس معاملے کے دونوں پہلوؤں پر یکساں اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر کسی ملزم کو یہ مؤقف اختیار کرنے کی اجازت دی جائے کہ مہنگائی کے باعث قانونی مالی حد مبینہ رقم سے بڑھ گئی ہے، تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مبینہ طور پر ہونے والے مالی نقصان کی قدر میں مہنگائی کے باعث آنے والی کمی کو بھی تسلیم کیا جائے۔</p>
<p>افراطِ زر کا اطلاق منتخب طور پر کرنے سے ایسے نتائج نکلنے کا خطرہ ہے جو قانون کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے بجائے وقت گزرنے کو فائدہ پہنچائیں۔</p>
<p>اسے نیب کے اختیارات کو پارلیمنٹ کے مقرر کردہ دائرہ کار سے بڑھانے کی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ایک ہی معاشی حقیقت، یعنی افراطِ زر کے اثرات، کا اطلاق یکساں اور مستقل انداز میں کیا جائے۔</p>
<p>افراطِ زر کے اثرات کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی قانونی شق کا اطلاق صرف ایک فریق کے فائدے تک محدود نہیں ہونا چاہیے جبکہ اس کے اس واضح اثر کو نظر انداز کر دیا جائے جو عوامی نقصان پر پڑتا ہے، جس کا ازالہ احتسابی عمل کا بنیادی مقصد ہے۔</p>
<p>پاکستان کا احتسابی نظام طویل عرصے سے قانونی پیچیدگیوں، قانون سازی میں بار بار کی جانے والی ترامیم اور طویل عدالتی کارروائیوں جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔</p>
<p>اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوامی توجہ بدعنوانی کے الزامات کی اصل نوعیت سے ہٹ کر دائرۂ اختیار، قانونی طریقۂ کار یا قانون کی تشریح سے متعلق تکنیکی تنازعات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ہر نظامِ انصاف میں قانونی تحفظات اور ضمانتیں ناگزیر ہیں لیکن انہیں اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ وہ ایسے ذرائع بن جائیں جن کے باعث احتساب کے عمل پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ہی دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا چلا جائے۔</p>
<p>یہ خاص طور پر عوامی فنڈز سے متعلق کرپشن کے مقدمات میں بہت اہم ہے۔ افراطِ زر (مہنگائی) وقت کے ساتھ ساتھ پیسے کی قوتِ خرید کو مسلسل کم کرتی ہے۔</p>
<p>کئی سال قبل مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم آج کی معاشی قدر کے لحاظ سے کہیں زیادہ بڑے مالی نقصان کی نمائندگی کرسکتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر دوسری جانب مہنگائی کو احتساب کے دائرۂ اختیار کو محدود کرنے کی بنیاد بنالیا جائے تو اس سے ایسا عدم توازن پیدا ہوتا ہے جسے شاید ہی عوام کی اکثریت منصفانہ قرار دے۔</p>
<p>یقیناً اگر نیب کی یہ تجویز منظور کر لی جاتی ہے تو تقریباً یقینی طور پر اس کا عدالتی جائزہ لیا جائے گا، اور ایسا ہونا بھی مناسب ہے۔ قانون کی تشریح سے متعلق معاملات کا حتمی فیصلہ عدالتوں ہی کا اختیار ہے، جو یہ طے کرتی ہیں کہ آیا ایسا طریقۂ کار پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔عدالتی نظرِثانی احتسابی عمل کی قانونی حیثیت اور ساکھ کو مضبوط بناتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قانون میں کی جانے والی نئی تشریحات یا اقدامات آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جائے۔</p>
<p>احتساب پر عوامی اعتماد کا انحصار نہ صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات پر ہے بلکہ اس تاثر پر بھی ہے کہ قانونی اصلاحات کو ان کے اصل مقصد کو ناکام بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قوانین کو انصاف، شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے ارتقاء پذیر ہونا چاہیے۔ انہیں نادانستہ طور پر ایسے مواقع پیدا نہیں کرنے چاہئیں جن سے کرپشن کے مبینہ مقدمات اس لیے ختم ہو جائیں کہ معاشی حالات تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ مبینہ عوامی نقصان کو ایسا سمجھا جائے جیسے وہ وقت میں منجمد ہو کر رہ گیا ہو۔</p>
<p>پاکستان نے بارہا احتساب کو مضبوط بنانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ ان وعدوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی اگر قانونی سقم (خامیاں) آہستہ آہستہ وہ کام کر دکھائیں جو میرٹ پر ہونے والی بریت سے ممکن نہ تھا۔ احتساب کی قانون سازی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کرپشن کے الزامات کی جانچ پڑتال قانون کے مطابق ہو۔ یہ مقصد تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک دائرہ اختیار ایسی تکنیکی بے قاعدگیوں کی وجہ سے خاموشی سے ختم ہوتا رہے جن کا مبینہ جرم کی سنگینی سے کوئی تعلق نہ ہو۔</p>
<p>افراطِ زر (مہنگائی) پیسے کی قدر تو گھٹا سکتی ہے لیکن اسے احتساب کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288573</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 14:56:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11143457437bf49.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11143457437bf49.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر مستحکم امن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288594/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جوابی حملوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت قائم ہونے والی جنگ بندی کی پائیداری پر نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ عبوری انتظام خلیج میں خطرناک محاذ آرائی کے تسلسل کو روکنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تازہ جھڑپیں ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ فوجی جوابی کارروائیاں وقتی سیاسی مقاصد تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر وہ خطے میں دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو جواز بنا کر ایرانی اہداف پر نئے حملوں کا حکم دینے سے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر فوری جوابی حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق فوجی کارروائی کا جواب دیے بغیر اسے برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہایت مہنگی ثابت ہوگی اور اس کے نتائج بھی غالباً ماضی کی محاذ آرائیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں نے جنگ بندی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی کم دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے روایتی متضاد اندازِ بیان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا، ”میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ میں ان سے مزید نہیں نمٹنا چاہتا۔“ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ کشیدگی مزید نہیں بڑھے گی، اور کہا، ”انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ہم نے کہیں زیادہ شدید حملہ کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ واشنگٹن یہ توقع نہیں کر سکتا کہ اگر معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد نہ ہو تو ایران اس کی پابندی کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیل نے غزہ، لبنان اور بالواسطہ طور پر ایران کے حوالے سے بھی جنگ بندی کے انتظامات کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذاکرات کے بجائے مسلسل فوجی دباؤ کی اس کی حکمت عملی نے بارہا سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنایا اور امریکا کو خطے کی محاذ آرائیوں میں مزید گہرائی تک کھینچ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے تہران کا یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جتانے کی تہران کی کوشش اگرچہ امریکا کے ساتھ اس کی کشمکش میں اسے ایک تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے عالمی برادری کا بڑا حصہ ایران سے دور ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں پاکستان اور قطر نے جو تعمیری ثالثی کا کردار ادا کیا، اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے بجا طور پر تحمل، مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور خطے کے دیگر اہم فریقوں کی حمایت سے پاکستان اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششیں ہی اس بات کی بہترین امید فراہم کرتی ہیں کہ محدود فوجی واقعات ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کے لیے واحد قابلِ اعتماد فریم ورک ہے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر لفظ اور روح، دونوں اعتبار سے عمل کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جوابی حملوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت قائم ہونے والی جنگ بندی کی پائیداری پر نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ عبوری انتظام خلیج میں خطرناک محاذ آرائی کے تسلسل کو روکنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا تھا۔</strong></p>
<p>اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تازہ جھڑپیں ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ فوجی جوابی کارروائیاں وقتی سیاسی مقاصد تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر وہ خطے میں دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو جواز بنا کر ایرانی اہداف پر نئے حملوں کا حکم دینے سے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر فوری جوابی حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق فوجی کارروائی کا جواب دیے بغیر اسے برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔</p>
<p>تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہایت مہنگی ثابت ہوگی اور اس کے نتائج بھی غالباً ماضی کی محاذ آرائیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔</p>
<p>اسی لیے اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں نے جنگ بندی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی کم دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اپنے روایتی متضاد اندازِ بیان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا، ”میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ میں ان سے مزید نہیں نمٹنا چاہتا۔“ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ کشیدگی مزید نہیں بڑھے گی، اور کہا، ”انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ہم نے کہیں زیادہ شدید حملہ کیا۔“</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ واشنگٹن یہ توقع نہیں کر سکتا کہ اگر معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد نہ ہو تو ایران اس کی پابندی کرتا رہے گا۔</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم اسرائیل نے غزہ، لبنان اور بالواسطہ طور پر ایران کے حوالے سے بھی جنگ بندی کے انتظامات کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذاکرات کے بجائے مسلسل فوجی دباؤ کی اس کی حکمت عملی نے بارہا سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنایا اور امریکا کو خطے کی محاذ آرائیوں میں مزید گہرائی تک کھینچ لیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے تہران کا یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>اسی دوران آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جتانے کی تہران کی کوشش اگرچہ امریکا کے ساتھ اس کی کشمکش میں اسے ایک تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے عالمی برادری کا بڑا حصہ ایران سے دور ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس معاہدے میں پاکستان اور قطر نے جو تعمیری ثالثی کا کردار ادا کیا، اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے بجا طور پر تحمل، مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور خطے کے دیگر اہم فریقوں کی حمایت سے پاکستان اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششیں ہی اس بات کی بہترین امید فراہم کرتی ہیں کہ محدود فوجی واقعات ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل نہ ہوں۔</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کے لیے واحد قابلِ اعتماد فریم ورک ہے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر لفظ اور روح، دونوں اعتبار سے عمل کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288594</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 21:04:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11205659909314c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11205659909314c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی قرضوں کا مالیاتی نظام پر بڑھتا انحصار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288535/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کا قرض مئی 2026 کے اختتام تک 81.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ نظام ہے جو مسلسل اس قرض کو پیدا بھی کررہا ہے اور اپنے اندر جذب بھی کررہا ہے۔ حکومت بڑے پیمانے پر مقامی بینکوں سے قرض لیتی ہے، بینک سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات (سکوک/ٹریژری پیپرز وغیرہ) پر مبنی منافع بخش بیلنس شیٹس تیار کرتے ہیں جبکہ مرکزی بینک کو ایسے مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے جو بتدریج حکومت کی قرض لینے کی ضروریات کے گرد منظم ہوتا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 میں وفاقی حکومت کا قرض 77.9 ٹریلین روپے تھا جو مئی 2026 تک بڑھ کر 81.9 ٹریلین روپے ہوگیا، یعنی گیارہ مہینوں میں 4.1 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کا زیادہ تر حصہ مقامی قرضوں پر مشتمل ہے جو 54.5 ٹریلین سے بڑھ کر 58.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ روپے کے اعتبار سے بیرونی قرض 23.4 ٹریلین سے بڑھ کر 23.8 ٹریلین روپے ہوگیا۔ اگرچہ قرضوں میں اضافہ زیادہ تر اندرونی ذرائع سے ہوا تاہم اسے اطمینان کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اصل مسئلہ قرضوں کا ملکی مالیاتی نظام میں حد سے زیادہ ارتکاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی قرض اگرچہ زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں مالیاتی نظام کو درپیش خطرات ملک کے اندر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مقامی بینکوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والی حکومت کو بیرونی مالیاتی دباؤ تو نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے مگر اس سے ملکی سطح پر مالیاتی بالادستی مزید گہری ہو جاتی ہے، اس صورتِ حال میں بینکوں کی بیلنس شیٹس کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں سے وابستہ ہو جاتا ہے، حکومتی سیکیورٹیز کی مارکیٹ لیکویڈیٹی کے انتظام کا مرکزی ذریعہ بن جاتی ہے جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی مالیاتی نظام کے بنیادی کردار کے بجائے ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف بھی حکومت، بینکوں اور مرکزی بینک کے باہمی انحصار کے تناظر میں اس مسئلے کی مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کو اس چکر کو سمجھنے کے لیے کسی بیرونی تشخیص کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو مسلسل بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، اس لیے بینک حکومتی سیکیورٹیز کا بڑا حصہ خرید لیتے ہیں کیونکہ سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات زیادہ لیکویڈ، بڑے پیمانے پر دستیاب، ضابطہ جاتی اعتبار سے موزوں اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش ہوتی ہیں۔اس کے بعد مرکزی بینک ایسے مالیاتی نظام میں جہاں حکومتی قرض سب سے بڑا مالیاتی اثاثہ بن چکا ہو، لیکویڈیٹی، ضمانتی اثاثوں اور مانیٹری پالیسی سے متعلق پیدا ہونے والے اثرات اور نتائج کا انتظام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر کراؤڈنگ آؤٹ کا تصور صرف اثر کے پہلے مرحلے کو بیان کرتا ہے۔ حکومت کا حد سے زیادہ قرضہ بلاشبہ نجی شعبے کے لیے قرض کی گنجائش کو کم کرتا ہے لیکن اس سے بڑا مسئلہ ساختی  نوعیت کا ہے۔ حکومتی قرضوں سے وابستگی پورے مالیاتی نظام کی بنیاد بن جاتی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے لیے آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ، پسندیدہ لیکویڈیٹی اثاثہ، ضمانت (کولیٹرل) کا بنیادی وسیلہ اور منی مارکیٹ کی سرگرمیوں کا مرکزی حوالہ بن جاتی ہیں۔یوں ریاست مالیاتی اور بینکاری نظام کا محور بن جاتی ہے اور بینکوں کی بیشتر سرگرمیاں حکومتی مالی ضروریات کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی میچورٹی کا پروفائل اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ قلیل مدتی مقامی قرض جون 2025 میں 8.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر مئی 2026 تک 10.7 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ صرف مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 8.6 ٹریلین سے بڑھ کر 10.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال رول اوور (قرضوں کی تجدید) کی ضروریات کو بڑھاتی ہے اور ریاست کو ری فنانسنگ (نئے قرض سے پرانا ادا کرنا) اور شرح سود کے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قلیل مدتی مقامی کاغذاتِ مالیت پر بار بار انحصار، مسلسل ری فنانسنگ کو مالیاتی انتظام کا ایک مستقل طریقہ کار بنا دیتا ہے۔ بنیادی خسارہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، بس اس کی قیمت کا دوبارہ تعین کرکے اسے آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک تنگ اور محدود دائرہ کار کو جنم دیتی ہے۔ خسارہ برقرار رہتا ہے، حکومت قرض لیتی ہے، بینک ان سرکاری کاغذات کو جذب کر لیتے ہیں اور مرکزی بینک اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ ہر فریق اپنے ترغیبات کے مطابق منطقی ردعمل دے رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کو خسارے کو پورا کرنا ہے، بینک کم انڈر رائٹنگ لاگت کے ساتھ زیادہ منافع بخش سرکاری اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں اور مرکزی بینک کو نظام کو رواں دواں رکھنا ہے۔ اس سب کا مجموعی نتیجہ ایک ایسے مالیاتی نظام کی شکل میں نکلتا ہے جو معیشت کو مالی اعانت فراہم کرنے کے بجائے ریاست کو فنڈز فراہم کرنے میں زیادہ کارگر بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا حجم جون 2025 میں 35.0 ٹریلین روپے سے کم ہو کر مئی 2026 تک 34.6 ٹریلین روپے پر آ گیا جبکہ حکومتی اجارہ سکوک 5.2 ٹریلین سے بڑھ کر 7.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔اسلامی قرضہ جاتی منڈی کے فروغ سے سرمایہ کاروں کے لیے متبادل سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور مالیاتی منڈی مزید وسعت اختیار کرسکتی ہے، تاہم صرف ایک مالیاتی آلے سے دوسرے میں منتقلی کو مالیاتی استحکام نہیں کہا جا سکتا۔ بنیادی حقیقت بدستور برقرار ہے کہ حکومت اب بھی ملکی مالیاتی بچتوں کا ایک بڑا حصہ اپنے قرضوں کی مالی اعانت کے لیے جذب کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر کے لحاظ سے بیرونی قرضوں کی صورتحال ان کے اصل ڈھانچے کے مقابلے میں زیادہ پرسکون دکھائی دیتی ہے۔ بیرونی قرضے بظاہر نسبتاً محدود نظر آتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیرِ نظر مدت کے دوران شرح مبادلہ میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔ درحقیقت طویل مدتی بیرونی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں 210 ارب روپے سے 2.7 ٹریلین روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس پیمانے کی تبدیلی کو بیرونی میچورٹی رسک (مدت کی تکمیل کے خطرے) میں واضح بگاڑ قرار دینے سے پہلے اس کا درست تجزیہ اور مطابقت ضروری ہے۔ یہ ٹائمنگ، درجہ بندی، یا رول اوور (قرضوں کی تجدید) کے طریقہ کار کی عکاسی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اہم نکتہ بدستور وہی ہے: بیرونی قرضوں کا مجموعی عدد اتنا پرسکون ہے کہ وہ خطرے کی پوری کہانی بیان کرنے سے قاصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اور بینکوں کا باہمی گٹھ جوڑ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جب بینکوں کی منافع بخشیت کا انحصار براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز پر ہو تو بینکاری کے شعبے کی مضبوطی حقیقت سے زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔ بینک بظاہر لیکویڈ، منافع بخش اور بہتر کیپٹلائزڈ نظر آتے ہیں لیکن اس مضبوطی کا ایک حصہ اس فرضی مفروضے پر قائم ہے کہ حکومتی قرضے عملی طور پر خطرے سے پاک ہیں۔ یہ مفروضہ نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے دباؤ کو کم کر دیتا ہے، شعبہ جاتی انڈر رائٹنگ کے لیے حوصلہ افزائی کو کمزور کرتا ہے اور بینکوں کی بیلنس شیٹس کو پیداواری معیشت کے بجائے ریاست کے گرد پھیلنے کی ترغیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کی جانب سے سرکاری کاغذاتِ مالیت  کو ترجیح دینے کی وجہ صرف آسانی نہیں ہے۔ وہ اسے اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ متبادل راستے مہنگے اور غیر یقینی ہیں۔ ایس ایم ای قرضوں کے لیے دستاویزی عمل، وصولیوں کا نظام، ضمانتوں کا نفاذ، شعبہ جاتی معلومات، کریڈٹ ہسٹری اور پروویژننگ کا نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں کیش فلو پر مبنی تشخیص اور فیلڈ لیول پر معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح برآمدی فنانسنگ کے لیے ورکنگ کیپٹل کی سمجھ اور کارکردگی کے خطرات کا اندازہ لگانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، سرکاری کاغذاتِ مالیت کے لیے صرف ایک نیلامی کیلنڈر کافی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے اثرات محض قرضوں کے حجم تک محدود نہیں رہتے۔ بینک ایس ایم ایز، زراعت، برآمد کنندگان اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے قرضوں کی تشخیص کی مناسب صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔ قرض لینے والے اپنی باقاعدہ کریڈٹ ہسٹری نہیں بنا پاتے۔ خطرے کے مطابق قیمت کا تعین  غیر ترقی یافتہ رہتا ہے۔ ضمانتوں کا نفاذ کمزور رہتا ہے اور دستاویزات کی جانچ پڑتال سطحی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بینک منافع کماتے رہتے ہیں اور حکومت کو مالی معاونت ملتی رہتی ہے جبکہ مجموعی معیشت نجی شعبے کو فراہم کردہ محدود قرضوں کی بنیاد پر ہی کام کرتی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کا پہلو بھی اسی قدر اہم ہے۔ حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے براہِ راست قرض لینے پر پابندی نے رسمی فریم ورک کو تو بہتر بنایا ہے لیکن مالیاتی تسلط ختم ہونے کے بجائے اس کے ذرائع تبدیل ہوگئے ہیں۔ اب حکومت براہِ راست مرکزی بینک سے قرض لینے کے بجائے کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے جبکہ مرکزی بینک اس قرض لینے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ یہ انتظام بظاہر زیادہ شفاف ضرور ہے لیکن انحصار بدستور نظام میں پیوست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخراجات میں اصلاحات اس مسئلے کا دوسرا گمشدہ پہلو ہے۔ قرضوں پر ایمانداری سے بات تب تک ممکن نہیں جب تک ان اخراجات کے ڈھانچے پر بات نہ کی جائے جو ان قرضوں کو جنم دیتے ہیں۔ سود کی ادائیگی ماضی کے خساروں کا مجموعی نتیجہ ہے جبکہ یہ خسارے ایک ایسے مالیاتی فریم ورک کی عکاسی کرتے ہیں جو بار بار ہونے والے اخراجات کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے، نقصانات کو محدود کرنے، سرکاری اداروں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اور وفاقی و صوبائی مالیاتی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنے میں جدوجہد کررہا ہے۔ قرضوں کی سروسنگ (سود اور اصل زر کی ادائیگی) ایک گہری اخراجاتی ناکامی کی ظاہری علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ردِعمل کو روایتی اقدامات کی فہرست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو بلاشبہ طویل مدت کے قرضوں، کم ری فنانسنگ دباؤ، وسیع ٹیکس بیس، اخراجات میں نظم و ضبط، سرکاری اداروں  میں اصلاحات اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر مالیاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس چکر سے نکلنے کے لیے مالی شعبے میں ایک زیادہ مخصوص حکمتِ عملی درکار ہے جس کے تحت بینکوں کی جانب سے حکومتی قرضوں کو جذب کرنے کے موجودہ ماڈل سے نکل کر وسیع تر بچتوں کے نظام اور خطرات کی منتقلی پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کی طرف بتدریج منتقلی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ غیر بینکنگ ادارہ جاتی مانگ  کو سنجیدگی سے تعمیر کیا جائے۔ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، میوچل فنڈز اور کیپٹل مارکیٹ کے دیگر ذرائع کو طویل مدتی سرکاری سیکیورٹیز کا بڑا ہولڈر بننا چاہیے جبکہ بینکوں کو بتدریج سرکاری رسک کے مستقل گودام بننے کے بجائے نجی قرضوں کے موجد، تقسیم کاراور ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پیش گوئی کے قابل بینچ مارک سپلائی، مارکیٹ میکنگ کا نظم و ضبط، ثانوی مارکیٹ میں قابلِ اعتماد لیکویڈیٹی اور ایسے ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے جو محض بینکنگ سیکٹر کے انکشاف کا نام بدلنے کے بجائے حقیقی سرمایہ کاروں کے تنوع  کی حوصلہ افزائی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم راستہ پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ کی ترقی ہے۔ پاکستان کو ایسے قابلِ سرمایہ کاری نجی قرضوں کے کاغذات کی ضرورت ہے جنہیں بینکوں کے علاوہ دیگر ادارے بھی اپنے پاس رکھ سکیں۔ یہ مقصد محض بینکوں سے یہ مطالبہ کرنے سے حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ایس  ایم ایز کو زیادہ قرض دیں، اس کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;81.9 ٹریلین روپے کا قرضوں کا ذخیرہ  تو صرف ایک ابتدائی نکتہ ہے۔ اصل مسئلہ وہ مالیاتی اور حکومتی ڈھانچہ ہے جو اس صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان بدستور ایک ایسے ماڈل پر چل رہا ہے جہاں اصلاحات کی جگہ قرضے لے لیے جاتے ہیں، ایک وسیع سرمایہ کار بنیاد کی جگہ بینکوں کو بٹھا دیا جاتا ہے اور معاشی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ قرضوں کی ری فنانسنگ (بار بار نیا قرض لے کر پرانا اتارنا) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب تک یہ ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوتا، قرضوں کا انتظام ہر آنے والے فنانسنگ سائیکل میں اسی مسئلے کو صرف آگے دھکیلتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کا قرض مئی 2026 کے اختتام تک 81.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ نظام ہے جو مسلسل اس قرض کو پیدا بھی کررہا ہے اور اپنے اندر جذب بھی کررہا ہے۔ حکومت بڑے پیمانے پر مقامی بینکوں سے قرض لیتی ہے، بینک سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات (سکوک/ٹریژری پیپرز وغیرہ) پر مبنی منافع بخش بیلنس شیٹس تیار کرتے ہیں جبکہ مرکزی بینک کو ایسے مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے جو بتدریج حکومت کی قرض لینے کی ضروریات کے گرد منظم ہوتا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>جون 2025 میں وفاقی حکومت کا قرض 77.9 ٹریلین روپے تھا جو مئی 2026 تک بڑھ کر 81.9 ٹریلین روپے ہوگیا، یعنی گیارہ مہینوں میں 4.1 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کا زیادہ تر حصہ مقامی قرضوں پر مشتمل ہے جو 54.5 ٹریلین سے بڑھ کر 58.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ روپے کے اعتبار سے بیرونی قرض 23.4 ٹریلین سے بڑھ کر 23.8 ٹریلین روپے ہوگیا۔ اگرچہ قرضوں میں اضافہ زیادہ تر اندرونی ذرائع سے ہوا تاہم اسے اطمینان کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اصل مسئلہ قرضوں کا ملکی مالیاتی نظام میں حد سے زیادہ ارتکاز ہے۔</p>
<p>مقامی قرض اگرچہ زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں مالیاتی نظام کو درپیش خطرات ملک کے اندر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مقامی بینکوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والی حکومت کو بیرونی مالیاتی دباؤ تو نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے مگر اس سے ملکی سطح پر مالیاتی بالادستی مزید گہری ہو جاتی ہے، اس صورتِ حال میں بینکوں کی بیلنس شیٹس کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں سے وابستہ ہو جاتا ہے، حکومتی سیکیورٹیز کی مارکیٹ لیکویڈیٹی کے انتظام کا مرکزی ذریعہ بن جاتی ہے جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی مالیاتی نظام کے بنیادی کردار کے بجائے ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف بھی حکومت، بینکوں اور مرکزی بینک کے باہمی انحصار کے تناظر میں اس مسئلے کی مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کو اس چکر کو سمجھنے کے لیے کسی بیرونی تشخیص کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو مسلسل بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، اس لیے بینک حکومتی سیکیورٹیز کا بڑا حصہ خرید لیتے ہیں کیونکہ سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات زیادہ لیکویڈ، بڑے پیمانے پر دستیاب، ضابطہ جاتی اعتبار سے موزوں اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش ہوتی ہیں۔اس کے بعد مرکزی بینک ایسے مالیاتی نظام میں جہاں حکومتی قرض سب سے بڑا مالیاتی اثاثہ بن چکا ہو، لیکویڈیٹی، ضمانتی اثاثوں اور مانیٹری پالیسی سے متعلق پیدا ہونے والے اثرات اور نتائج کا انتظام کرتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر کراؤڈنگ آؤٹ کا تصور صرف اثر کے پہلے مرحلے کو بیان کرتا ہے۔ حکومت کا حد سے زیادہ قرضہ بلاشبہ نجی شعبے کے لیے قرض کی گنجائش کو کم کرتا ہے لیکن اس سے بڑا مسئلہ ساختی  نوعیت کا ہے۔ حکومتی قرضوں سے وابستگی پورے مالیاتی نظام کی بنیاد بن جاتی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے لیے آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ، پسندیدہ لیکویڈیٹی اثاثہ، ضمانت (کولیٹرل) کا بنیادی وسیلہ اور منی مارکیٹ کی سرگرمیوں کا مرکزی حوالہ بن جاتی ہیں۔یوں ریاست مالیاتی اور بینکاری نظام کا محور بن جاتی ہے اور بینکوں کی بیشتر سرگرمیاں حکومتی مالی ضروریات کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔</p>
<p>قرضوں کی میچورٹی کا پروفائل اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ قلیل مدتی مقامی قرض جون 2025 میں 8.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر مئی 2026 تک 10.7 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ صرف مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 8.6 ٹریلین سے بڑھ کر 10.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال رول اوور (قرضوں کی تجدید) کی ضروریات کو بڑھاتی ہے اور ریاست کو ری فنانسنگ (نئے قرض سے پرانا ادا کرنا) اور شرح سود کے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قلیل مدتی مقامی کاغذاتِ مالیت پر بار بار انحصار، مسلسل ری فنانسنگ کو مالیاتی انتظام کا ایک مستقل طریقہ کار بنا دیتا ہے۔ بنیادی خسارہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، بس اس کی قیمت کا دوبارہ تعین کرکے اسے آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک تنگ اور محدود دائرہ کار کو جنم دیتی ہے۔ خسارہ برقرار رہتا ہے، حکومت قرض لیتی ہے، بینک ان سرکاری کاغذات کو جذب کر لیتے ہیں اور مرکزی بینک اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ ہر فریق اپنے ترغیبات کے مطابق منطقی ردعمل دے رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کو خسارے کو پورا کرنا ہے، بینک کم انڈر رائٹنگ لاگت کے ساتھ زیادہ منافع بخش سرکاری اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں اور مرکزی بینک کو نظام کو رواں دواں رکھنا ہے۔ اس سب کا مجموعی نتیجہ ایک ایسے مالیاتی نظام کی شکل میں نکلتا ہے جو معیشت کو مالی اعانت فراہم کرنے کے بجائے ریاست کو فنڈز فراہم کرنے میں زیادہ کارگر بن چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا حجم جون 2025 میں 35.0 ٹریلین روپے سے کم ہو کر مئی 2026 تک 34.6 ٹریلین روپے پر آ گیا جبکہ حکومتی اجارہ سکوک 5.2 ٹریلین سے بڑھ کر 7.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔اسلامی قرضہ جاتی منڈی کے فروغ سے سرمایہ کاروں کے لیے متبادل سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور مالیاتی منڈی مزید وسعت اختیار کرسکتی ہے، تاہم صرف ایک مالیاتی آلے سے دوسرے میں منتقلی کو مالیاتی استحکام نہیں کہا جا سکتا۔ بنیادی حقیقت بدستور برقرار ہے کہ حکومت اب بھی ملکی مالیاتی بچتوں کا ایک بڑا حصہ اپنے قرضوں کی مالی اعانت کے لیے جذب کر رہی ہے۔</p>
<p>روپے کی قدر کے لحاظ سے بیرونی قرضوں کی صورتحال ان کے اصل ڈھانچے کے مقابلے میں زیادہ پرسکون دکھائی دیتی ہے۔ بیرونی قرضے بظاہر نسبتاً محدود نظر آتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیرِ نظر مدت کے دوران شرح مبادلہ میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔ درحقیقت طویل مدتی بیرونی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں 210 ارب روپے سے 2.7 ٹریلین روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس پیمانے کی تبدیلی کو بیرونی میچورٹی رسک (مدت کی تکمیل کے خطرے) میں واضح بگاڑ قرار دینے سے پہلے اس کا درست تجزیہ اور مطابقت ضروری ہے۔ یہ ٹائمنگ، درجہ بندی، یا رول اوور (قرضوں کی تجدید) کے طریقہ کار کی عکاسی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اہم نکتہ بدستور وہی ہے: بیرونی قرضوں کا مجموعی عدد اتنا پرسکون ہے کہ وہ خطرے کی پوری کہانی بیان کرنے سے قاصر ہے۔</p>
<p>حکومت اور بینکوں کا باہمی گٹھ جوڑ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جب بینکوں کی منافع بخشیت کا انحصار براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز پر ہو تو بینکاری کے شعبے کی مضبوطی حقیقت سے زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔ بینک بظاہر لیکویڈ، منافع بخش اور بہتر کیپٹلائزڈ نظر آتے ہیں لیکن اس مضبوطی کا ایک حصہ اس فرضی مفروضے پر قائم ہے کہ حکومتی قرضے عملی طور پر خطرے سے پاک ہیں۔ یہ مفروضہ نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے دباؤ کو کم کر دیتا ہے، شعبہ جاتی انڈر رائٹنگ کے لیے حوصلہ افزائی کو کمزور کرتا ہے اور بینکوں کی بیلنس شیٹس کو پیداواری معیشت کے بجائے ریاست کے گرد پھیلنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
<p>بینکوں کی جانب سے سرکاری کاغذاتِ مالیت  کو ترجیح دینے کی وجہ صرف آسانی نہیں ہے۔ وہ اسے اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ متبادل راستے مہنگے اور غیر یقینی ہیں۔ ایس ایم ای قرضوں کے لیے دستاویزی عمل، وصولیوں کا نظام، ضمانتوں کا نفاذ، شعبہ جاتی معلومات، کریڈٹ ہسٹری اور پروویژننگ کا نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں کیش فلو پر مبنی تشخیص اور فیلڈ لیول پر معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح برآمدی فنانسنگ کے لیے ورکنگ کیپٹل کی سمجھ اور کارکردگی کے خطرات کا اندازہ لگانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، سرکاری کاغذاتِ مالیت کے لیے صرف ایک نیلامی کیلنڈر کافی ہوتا ہے۔</p>
<p>اس صورتحال کے اثرات محض قرضوں کے حجم تک محدود نہیں رہتے۔ بینک ایس ایم ایز، زراعت، برآمد کنندگان اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے قرضوں کی تشخیص کی مناسب صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔ قرض لینے والے اپنی باقاعدہ کریڈٹ ہسٹری نہیں بنا پاتے۔ خطرے کے مطابق قیمت کا تعین  غیر ترقی یافتہ رہتا ہے۔ ضمانتوں کا نفاذ کمزور رہتا ہے اور دستاویزات کی جانچ پڑتال سطحی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بینک منافع کماتے رہتے ہیں اور حکومت کو مالی معاونت ملتی رہتی ہے جبکہ مجموعی معیشت نجی شعبے کو فراہم کردہ محدود قرضوں کی بنیاد پر ہی کام کرتی رہتی ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کا پہلو بھی اسی قدر اہم ہے۔ حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے براہِ راست قرض لینے پر پابندی نے رسمی فریم ورک کو تو بہتر بنایا ہے لیکن مالیاتی تسلط ختم ہونے کے بجائے اس کے ذرائع تبدیل ہوگئے ہیں۔ اب حکومت براہِ راست مرکزی بینک سے قرض لینے کے بجائے کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے جبکہ مرکزی بینک اس قرض لینے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ یہ انتظام بظاہر زیادہ شفاف ضرور ہے لیکن انحصار بدستور نظام میں پیوست ہے۔</p>
<p>اخراجات میں اصلاحات اس مسئلے کا دوسرا گمشدہ پہلو ہے۔ قرضوں پر ایمانداری سے بات تب تک ممکن نہیں جب تک ان اخراجات کے ڈھانچے پر بات نہ کی جائے جو ان قرضوں کو جنم دیتے ہیں۔ سود کی ادائیگی ماضی کے خساروں کا مجموعی نتیجہ ہے جبکہ یہ خسارے ایک ایسے مالیاتی فریم ورک کی عکاسی کرتے ہیں جو بار بار ہونے والے اخراجات کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے، نقصانات کو محدود کرنے، سرکاری اداروں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اور وفاقی و صوبائی مالیاتی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنے میں جدوجہد کررہا ہے۔ قرضوں کی سروسنگ (سود اور اصل زر کی ادائیگی) ایک گہری اخراجاتی ناکامی کی ظاہری علامت ہے۔</p>
<p>پالیسی ردِعمل کو روایتی اقدامات کی فہرست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو بلاشبہ طویل مدت کے قرضوں، کم ری فنانسنگ دباؤ، وسیع ٹیکس بیس، اخراجات میں نظم و ضبط، سرکاری اداروں  میں اصلاحات اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر مالیاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس چکر سے نکلنے کے لیے مالی شعبے میں ایک زیادہ مخصوص حکمتِ عملی درکار ہے جس کے تحت بینکوں کی جانب سے حکومتی قرضوں کو جذب کرنے کے موجودہ ماڈل سے نکل کر وسیع تر بچتوں کے نظام اور خطرات کی منتقلی پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کی طرف بتدریج منتقلی کی جائے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ غیر بینکنگ ادارہ جاتی مانگ  کو سنجیدگی سے تعمیر کیا جائے۔ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، میوچل فنڈز اور کیپٹل مارکیٹ کے دیگر ذرائع کو طویل مدتی سرکاری سیکیورٹیز کا بڑا ہولڈر بننا چاہیے جبکہ بینکوں کو بتدریج سرکاری رسک کے مستقل گودام بننے کے بجائے نجی قرضوں کے موجد، تقسیم کاراور ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پیش گوئی کے قابل بینچ مارک سپلائی، مارکیٹ میکنگ کا نظم و ضبط، ثانوی مارکیٹ میں قابلِ اعتماد لیکویڈیٹی اور ایسے ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے جو محض بینکنگ سیکٹر کے انکشاف کا نام بدلنے کے بجائے حقیقی سرمایہ کاروں کے تنوع  کی حوصلہ افزائی کریں۔</p>
<p>دوسرا اہم راستہ پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ کی ترقی ہے۔ پاکستان کو ایسے قابلِ سرمایہ کاری نجی قرضوں کے کاغذات کی ضرورت ہے جنہیں بینکوں کے علاوہ دیگر ادارے بھی اپنے پاس رکھ سکیں۔ یہ مقصد محض بینکوں سے یہ مطالبہ کرنے سے حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ایس  ایم ایز کو زیادہ قرض دیں، اس کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔</p>
<p>81.9 ٹریلین روپے کا قرضوں کا ذخیرہ  تو صرف ایک ابتدائی نکتہ ہے۔ اصل مسئلہ وہ مالیاتی اور حکومتی ڈھانچہ ہے جو اس صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان بدستور ایک ایسے ماڈل پر چل رہا ہے جہاں اصلاحات کی جگہ قرضے لے لیے جاتے ہیں، ایک وسیع سرمایہ کار بنیاد کی جگہ بینکوں کو بٹھا دیا جاتا ہے اور معاشی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ قرضوں کی ری فنانسنگ (بار بار نیا قرض لے کر پرانا اتارنا) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب تک یہ ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوتا، قرضوں کا انتظام ہر آنے والے فنانسنگ سائیکل میں اسی مسئلے کو صرف آگے دھکیلتا رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288535</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 13:57:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10120648ccf1bf0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10120648ccf1bf0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نامکمل گیس اصلاحات کی بھاری قیمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288492/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آر ایل این جی کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ محض محض ایک اور معمول کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔ یہ گیس شعبے کو درپیش ان بنیادی خامیوں کی یاد دہانی ہے جو مسلسل مسائل کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ پالیسی میں بگاڑ، معاہدوں کی سخت شرائط اور انتظامی فیصلہ سازی میں تاخیر نے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو مزید ناقابلِ برداشت بنادیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد آر ایل این جی  کی نئی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر گیس کی خریداری کی لاگت میں نمایاں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی بجلی شعبے میں نظر آنا شروع ہوگئے جہاں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت چند ہفتوں کے اندر دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے، اگرچہ درآمدی ایندھن کی قیمتیں پاکستان کے اختیار میں نہیں، تاہم ان عالمی جھٹکوں کا بوجھ مقامی صارفین تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے، یہ بڑی حد تک ملکی پالیسی فیصلوں پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ آڈیٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ آر ایل این جی کی منتقلی کا بوجھ اب بھی ان صارفین کو برداشت کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نہ تو اس گیس کا معاہدہ کیا اور نہ ہی اسے استعمال کیا۔ آڈٹ رپورٹ نے ایک بار پھر اس دیرینہ طریقہ کار کو اجاگر کیا جس کے تحت گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی یا اپنے اصل صارفین سے ہٹا کر کہیں اور منتقل کی جانے والی آر ایل این جی کی مالی لاگت بالآخر وسیع تر گیس صارفین پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس طرح کی کراس سبسڈی شفافیت کو متاثر کرتی ہے اور قیمتوں کے ان اشاروں کو کمزور کرتی ہے جو وسائل کے مؤثر استعمال اور درست تقسیم کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے مہنگے ترین توانائی ذرائع میں سے ایک کے انتظام میں جوابدہی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال معاملہ صرف ایک ماہ کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن یا آڈٹ کی ایک نشاندہی تک محدود نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرے انتظامی اور حکمرانی کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس سے نمٹنے میں آنے والی حکومتیں مسلسل مشکلات کا شکار رہی ہیں۔پاکستان کئی برسوں سے ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس  کے تصور پر بحث کرتا رہا ہے جس کا مقصد مقامی گیس اور درآمدی آر ایل این جی کو ایک مشترکہ نظام میں شامل کرکے قیمتوں کے تعین کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانا تھا۔اس کا مقصد واضح تھا: مختلف صارفین کو فراہم کی جانے والی گیس کی اقسام کے درمیان غیر ضروری فرق ختم کرنا، مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانا اور مخصوص صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی سے پیدا ہونے والے مسائل اور بگاڑ کے امکانات کو کم کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون سازی میں پیش رفت کے باوجود ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کا نفاذ اب بھی جزوی طور پر ہی ہوسکا ہے۔ مارکیٹ کے بڑے حصے اب بھی پرانے قیمتوں کے نظام کے تحت کام کررہے ہیں جبکہ درآمدی آر ایل این جی کی فراہمی زیادہ تر مخصوص صارفین تک محدود ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے بکھرے ہوئے قیمتوں کے نظام کی صورت میں نکلا جہاں کچھ صارفین کو مقامی گیس پر بھاری سبسڈی حاصل ہے جبکہ دیگر صارفین کو درآمدی ایندھن کی مکمل لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نظام نہ تو معاشی حقائق کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی گیس کے محتاط استعمال اور ایندھن کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ترغیبات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں ناکامی نے گردشی قرضے کے انتظام کو بھی مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی اور درآمدی ایل این جی پر بڑھتے انحصار کے باعث مختلف متوازی قیمتوں کے نظام کو برقرار رکھنا مالی عدم توازن میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔آر ایل این جی کی ہر منتقلی ہر وہ تقسیم جو مارکیٹ کے اصولوں اور طلب و رسد کی حرکیات کے بجائے انتظامی صوابدید کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ٹیرف کو حقیقی لاگت کے مطابق کرنے میں ہر تاخیر، بالآخر چھپے ہوئے مالی بوجھ کی ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتی ہے جس کی وصولی آخرکار صارفین یا ٹیکس دہندگان سے ہی کرنا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے توانائی اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے نے بلاشبہ کئی شعبوں میں پیش رفت کی ہے، خاص طور پر پاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں۔ تاہم گیس کے شعبے کی اصلاحات تاحال واضح طور پر ادھوری ہیں۔ وسائل کی تقسیم میں نااہلی کا تسلسل اور درآمدی ایندھن پر بڑھتا ہوا انحصار ان بہت سے فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ ایک مربوط پرائسنگ فریم ورک  کے بغیر ٹیرف میں وقتی ردوبدل صرف علامات کا علاج ہے جبکہ اصل بیماری بدستور موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے پالیسی سازوں کے سامنے اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ صارفین کو بین الاقوامی ایل این جی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کیسے بچایا جائے بلکہ اصل مسئلہ ایک شفاف اور اصولوں پر مبنی گیس مارکیٹ قائم کرنا ہے جہاں قیمتیں لاگت کی درست عکاسی کریں، سبسڈیز ٹیرف میں چھپانے کے بجائے واضح طور پر بجٹ کا حصہ ہوں اور معاہدوں کی پاسداری ان صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر کی جائے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پاکستان مزید ایک دہائی تک جزوی اور وقتی اصلاحات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ درآمد شدہ آر ایل این جی کی معاشیات نے ملکی گیس کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے۔ پالیسی، ضابطہ اخلاق اور قیمتوں کے تعین کے میکانزم کو اسی کے مطابق بدلنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، آر ایل این جی کی قیمتوں میں ہر نیا نوٹیفکیشن ایک الگ اور معمولی تبدیلی کے بجائے ایک ایسے اصلاحاتی ایجنڈے کے ثبوت کے طور پر سامنے آتا رہے گا جو بدستور ادھورا اور مایوس کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آر ایل این جی کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ محض محض ایک اور معمول کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔ یہ گیس شعبے کو درپیش ان بنیادی خامیوں کی یاد دہانی ہے جو مسلسل مسائل کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ پالیسی میں بگاڑ، معاہدوں کی سخت شرائط اور انتظامی فیصلہ سازی میں تاخیر نے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو مزید ناقابلِ برداشت بنادیا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد آر ایل این جی  کی نئی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر گیس کی خریداری کی لاگت میں نمایاں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی بجلی شعبے میں نظر آنا شروع ہوگئے جہاں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت چند ہفتوں کے اندر دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے، اگرچہ درآمدی ایندھن کی قیمتیں پاکستان کے اختیار میں نہیں، تاہم ان عالمی جھٹکوں کا بوجھ مقامی صارفین تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے، یہ بڑی حد تک ملکی پالیسی فیصلوں پر منحصر ہے۔</p>
<p>اسی طرح تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ آڈیٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ آر ایل این جی کی منتقلی کا بوجھ اب بھی ان صارفین کو برداشت کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نہ تو اس گیس کا معاہدہ کیا اور نہ ہی اسے استعمال کیا۔ آڈٹ رپورٹ نے ایک بار پھر اس دیرینہ طریقہ کار کو اجاگر کیا جس کے تحت گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی یا اپنے اصل صارفین سے ہٹا کر کہیں اور منتقل کی جانے والی آر ایل این جی کی مالی لاگت بالآخر وسیع تر گیس صارفین پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس طرح کی کراس سبسڈی شفافیت کو متاثر کرتی ہے اور قیمتوں کے ان اشاروں کو کمزور کرتی ہے جو وسائل کے مؤثر استعمال اور درست تقسیم کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے مہنگے ترین توانائی ذرائع میں سے ایک کے انتظام میں جوابدہی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔</p>
<p>بہرحال معاملہ صرف ایک ماہ کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن یا آڈٹ کی ایک نشاندہی تک محدود نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرے انتظامی اور حکمرانی کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس سے نمٹنے میں آنے والی حکومتیں مسلسل مشکلات کا شکار رہی ہیں۔پاکستان کئی برسوں سے ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس  کے تصور پر بحث کرتا رہا ہے جس کا مقصد مقامی گیس اور درآمدی آر ایل این جی کو ایک مشترکہ نظام میں شامل کرکے قیمتوں کے تعین کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانا تھا۔اس کا مقصد واضح تھا: مختلف صارفین کو فراہم کی جانے والی گیس کی اقسام کے درمیان غیر ضروری فرق ختم کرنا، مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانا اور مخصوص صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی سے پیدا ہونے والے مسائل اور بگاڑ کے امکانات کو کم کرنا۔</p>
<p>تاہم قانون سازی میں پیش رفت کے باوجود ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کا نفاذ اب بھی جزوی طور پر ہی ہوسکا ہے۔ مارکیٹ کے بڑے حصے اب بھی پرانے قیمتوں کے نظام کے تحت کام کررہے ہیں جبکہ درآمدی آر ایل این جی کی فراہمی زیادہ تر مخصوص صارفین تک محدود ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے بکھرے ہوئے قیمتوں کے نظام کی صورت میں نکلا جہاں کچھ صارفین کو مقامی گیس پر بھاری سبسڈی حاصل ہے جبکہ دیگر صارفین کو درآمدی ایندھن کی مکمل لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نظام نہ تو معاشی حقائق کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی گیس کے محتاط استعمال اور ایندھن کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ترغیبات فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں ناکامی نے گردشی قرضے کے انتظام کو بھی مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی اور درآمدی ایل این جی پر بڑھتے انحصار کے باعث مختلف متوازی قیمتوں کے نظام کو برقرار رکھنا مالی عدم توازن میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔آر ایل این جی کی ہر منتقلی ہر وہ تقسیم جو مارکیٹ کے اصولوں اور طلب و رسد کی حرکیات کے بجائے انتظامی صوابدید کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ٹیرف کو حقیقی لاگت کے مطابق کرنے میں ہر تاخیر، بالآخر چھپے ہوئے مالی بوجھ کی ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتی ہے جس کی وصولی آخرکار صارفین یا ٹیکس دہندگان سے ہی کرنا پڑتی ہے۔</p>
<p>حکومت کے توانائی اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے نے بلاشبہ کئی شعبوں میں پیش رفت کی ہے، خاص طور پر پاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں۔ تاہم گیس کے شعبے کی اصلاحات تاحال واضح طور پر ادھوری ہیں۔ وسائل کی تقسیم میں نااہلی کا تسلسل اور درآمدی ایندھن پر بڑھتا ہوا انحصار ان بہت سے فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ ایک مربوط پرائسنگ فریم ورک  کے بغیر ٹیرف میں وقتی ردوبدل صرف علامات کا علاج ہے جبکہ اصل بیماری بدستور موجود ہے۔</p>
<p>اس لیے پالیسی سازوں کے سامنے اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ صارفین کو بین الاقوامی ایل این جی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کیسے بچایا جائے بلکہ اصل مسئلہ ایک شفاف اور اصولوں پر مبنی گیس مارکیٹ قائم کرنا ہے جہاں قیمتیں لاگت کی درست عکاسی کریں، سبسڈیز ٹیرف میں چھپانے کے بجائے واضح طور پر بجٹ کا حصہ ہوں اور معاہدوں کی پاسداری ان صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر کی جائے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>“پاکستان مزید ایک دہائی تک جزوی اور وقتی اصلاحات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ درآمد شدہ آر ایل این جی کی معاشیات نے ملکی گیس کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے۔ پالیسی، ضابطہ اخلاق اور قیمتوں کے تعین کے میکانزم کو اسی کے مطابق بدلنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، آر ایل این جی کی قیمتوں میں ہر نیا نوٹیفکیشن ایک الگ اور معمولی تبدیلی کے بجائے ایک ایسے اصلاحاتی ایجنڈے کے ثبوت کے طور پر سامنے آتا رہے گا جو بدستور ادھورا اور مایوس کن ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288492</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 13:09:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/091247195398054.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/091247195398054.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ایف سی اصلاحات: ذمہ داری، اختیار اور احتساب کا توازن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288450/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق ورلڈ بینک کی رپورٹ کو چاہیے کہ وہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر معمول کی سیاسی بحث کے بجائے ایک زیادہ سنجیدہ اور جامع مکالمے کو فروغ دے۔ 2010 کے بعد طے پانے والے مالیاتی انتظام نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں واقعی ایک اہم اور بامعنی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام نے صوبوں کے مالیاتی اختیارات میں توسیع کی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو آئینی تحفظ فراہم کیا اور ملک کو حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی مالیاتی ڈھانچے سے دور کیا، تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد تشکیل دیا گیا مالیاتی نظام اب بھی نامکمل ہے، اس پر یکساں طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور اس کے نتائج و کارکردگی کے ساتھ مؤثر ربط بھی کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مالی معاہدہ ایک قابلِ جواز اصول پر مبنی تھا۔ اگر اہم اخراجاتی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جانی تھیں تو قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) میں سے وسائل کا زیادہ حصہ بھی انہی ذمہ داریوں کے ساتھ صوبوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشترکہ قانون ساز فہرست ختم کر دی گئی اور متعدد اہم شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کے سپرد کر دی گئیں۔ بعدازاں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی ٹیکس محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں صرف آبادی کو بنیاد بنانے کے بجائے دیگر عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اصولی طور پر اس تبدیلی کا مقصد اخراجاتی ذمہ داریوں کو حکومت کی اس سطح کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا جو عوام کو خدمات کی فراہمی کے زیادہ قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملدرآمد کے مرحلے میں یہ نظام اتنا مربوط ثابت نہ ہو سکا۔ صوبوں کو مالی وسائل میں بڑا حصہ تو مل گیا مگر وفاق نے اختیارات کی منتقلی کے مطابق اپنے اخراجات میں متناسب کمی نہیں کی۔ ورلڈ بینک کی یہ نشاندہی اسی بنیادی عدم توازن کو اجاگر کرتی ہے کہ 2010 سے 2024 کے دوران صوبائی آمدن، جس میں وفاقی منتقلیاں بھی شامل ہیں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4 فیصد سے کم سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ وفاقی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں آئی۔ وفاق نے اپنی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل تو کردیا، لیکن اس کے ساتھ اپنی اخراجاتی ذمہ داریوں میں مطلوبہ نوعیت کی تنظیمِ نو نہیں کی۔ اختیارات کی منتقلی یا مشترکہ دائرۂ کار والے شعبوں میں وفاقی وزارتوں، منصوبوں اور مالی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ازسرِنو ترتیب نہیں دیا گیا۔ نتیجتاً وفاقی حکومت ایک طرف محدود مالی وسائل کے ساتھ کام کررہی ہے جبکہ دوسری جانب اس پر اخراجات اور مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بدستور غیر متناسب طور پر برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عدم توازن کی ذمہ داری صرف این ایف سی ایوارڈ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ درحقیقت یہ اختیارات کی منتقلی کے انتظامی اور اخراجاتی پہلوؤں کو مکمل طور پر نافذ نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ محصولات کی تقسیم کا کوئی بھی نظام، خواہ وہ کتنا ہی فراخدلانہ یا محدود کیوں نہ ہو اپنے طور پر اختیارات اور ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔اگر وفاق ایسے شعبوں پر اخراجات کرتا رہے جو درحقیقت صوبوں کی ذمہ داری ہیں اور صوبے بھی منتقل کیے گئے اختیارات کے ساتھ مکمل مالی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے وفاقی رقوم پر انحصار جاری رکھیں، تو یہ نظام مسلسل مالی خسارے، دہرے انتظامی ڈھانچے اور احتساب کے خلا کو جنم دیتا رہے گا۔لہٰذا اصل مسئلہ صرف صوبوں کے حصے کے حجم کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اختیارات، مالی وسائل اور کارکردگی کے درمیان مضبوط اور مؤثر ربط موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کے لیے بھی مطمئن ہو کر بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ساتویں این ایف سی  کے بعد ملنے والی زیادہ مالی گنجائش کے تناسب سے عوامی خدمات کی فراہمی، محصولات کو بڑھانے یا مقامی سطح پر احتساب میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی گئی۔ ورلڈ بینک کا یہ مشاہدہ کہ اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ جاری اخراجات، خاص طور پر تنخواہوں، پنشن اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو گیا ہے، پاکستان کے عوامی مالیاتی نظام کی ایک جانی پہچانی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اضافی وسائل، بہتر اسکولوں، کلینکوں، میونسپل سروسز، زرعی توسیع، صفائی کے نظام یا مقامی انفرااسٹرکچر میں تبدیل ہونے سے بہت پہلے ہی تنخواہوں کے بل اور سیاسی طور پر محفوظ اخراجات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان اختیارات کی منتقلی کے حق میں دی جانے والی ترقیاتی دلیل کو کمزور کرتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا بیانیہ تب سب سے مضبوط ہوتا ہے جب (اختیارات کی) قربت پالیسی سازی، نفاذ اور احتساب کو بہتر بنائے۔ یہ تب کمزور پڑ جاتا ہے جب صوبائی حکومتیں ایک مرکزی وفاقی ریاست کے چھوٹے ورژن کی طرح برتاؤ کرنے لگیں جس میں مالیاتی اختیارات اوپر ہی برقرار رہیں جبکہ اضلاع اور مقامی ادارے صوابدیدی فیصلوں پر انحصار کرتے رہیں۔ شہری مالیاتی وفاقیت کو قابلِ تقسیم پول  میں عمودی حصص  کے ذریعے نہیں پرکھتے۔ وہ اسے روزمرہ کی عوامی خدمات کے معیار سے پرکھتے ہیں۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو 2010 کے بعد کا مالیاتی تصفیہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصولات (ریونیو) کا پہلو بھی اتنا ہی مسئلہ ساز ہے۔ صوبوں کو اہم ٹیکس کے ذرائع، خاص طور پر خدمات پر سیلز ٹیکس پر زیادہ اختیارات تو مل گئے ہیں لیکن صوبوں کی اپنی آمدنی بڑھانے کی کوششیں اب بھی محدود ہیں۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس، شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس اور صوبائی محصولات کے دیگر ذرائع اب بھی اپنی صلاحیت سے بہت کم کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس ناکامی کی ایک وجہ سیاسی معیشت ہے۔ جن ذرائع پر صوبوں سے ٹیکس لینے کی توقع کی جاتی ہے، ان میں اکثر بااثر مقامی حلقے شامل ہوتے ہیں: زمیندار، جائیداد کے مالکان، شہری اشرافیہ اور سروس سیکٹر کے مفادات۔ وفاقی محصولات میں سے اپنا حصہ محفوظ رکھنا صوبائی سطح پر ٹیکس کی سنجیدہ کوشش کرنے کی نسبت سیاسی طور پر زیادہ آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوری مالی خودمختاری کی ایک نامکمل یا غیر متوازن شکل پیدا کرتی ہے۔ صوبے بجا طور پر اپنے مالیاتی حصے کے لیے آئینی تحفظ پر اصرار کرتے ہیں لیکن خودمختاری کا مطلب صرف وفاق سے رقوم کی منتقلی وصول کرنا نہیں ہو سکتا۔ اس میں اپنے صوبائی ذرائع پر ٹیکس لگانا، اخراجات کے انتخاب کا انتظام کرنا اور نتائج کے لیے قابلِ پیمائش ذمہ داری قبول کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایک ایسا صوبہ جو مکمل طور پر وفاقی منتقلیوں پر انحصار کرتا ہو اور اپنے ٹیکس کے ذرائع کا کم استعمال کرتا ہو، وہ میچیور مالی وفاقیت پر عمل نہیں کررہا۔ وہ دراصل ایک ایسی منتقلی پر انحصار کرنے والی ساخت کے اندر کام کررہا ہے جو احتساب اور اصلاحات کی ترغیب، دونوں کو محدود کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اتھارٹی  کا بکھراؤ مشکل کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرچکا ہے۔ ٹیکس کے ذرائع وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار میں تقسیم ہونے کی وجہ سے کاروبار کو تعمیلی اخراجات ، درجہ بندی کے تنازعات اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اشیاء اور خدمات پر سیلز ٹیکس میں نمایاں ہوا ہے جہاں دائرہ اختیار کی علیحدگی نے اکثر ٹیکس کے عمل کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایک وفاقی ڈھانچہ متعدد ٹیکس حکام کو جگہ دے سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب قوانین، طریقہ کار، تعریفیں، ڈیٹا سسٹمز اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں مناسب ہم آہنگی ہو۔ پاکستان نے ابھی تک اس سطح کی انتظامی یکجہتی پیدا کرنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اگلے این ایف سی ایوارڈ کو حصص کی روایتی لڑائی کے بجائے ترغیبات  کی اصلاح کے طور پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 160(3A) صوبائی حصے میں پچھلے ایوارڈ سے کم کسی بھی قسم کی کٹوتی پر پابندی لگاتا ہے جس سے اس میں سادہ سی تنزلی  سیاسی اور آئینی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی تنزلی بنیادی کمزوریوں کو دور نہیں کرے گی۔ زیادہ مفید طریقہ کار یہ ہے کہ فارمولے اور اس کے ساتھ منسلک مالیاتی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دیا جائے تاکہ منتقلی کا عمل اخراجات کی ضروریات، محصولات کی صلاحیت، محصولات جمع کرنے کی کوشش، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کارکردگی کا عکاس ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے بہتر پیمائش کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ بحث اب بھی مجموعی دعووں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے کہ کسے کتنا مل رہا ہے۔ اب اسے ٹھوس شواہد کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے کہ کون کس فنکشن کا ذمہ دار ہے، ہر سطح اس فنکشن پر کتنا خرچ کر رہی ہے، کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور کیا مالی اعانت اس سطح تک پہنچ رہی ہے جہاں خدمات درحقیقت فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسی معلومات کے بغیر این ایف سی مذاکرات اصلاحات کے بجائے سودے بازی کی ایک اور مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کو مالیاتی وفاقیت کے ایک ایسے ڈھانچے کی ضرورت ہے جو حقیقی ضرورت اور عادی انحصار، برابری اور استحقاق اور خودمختاری اور احتساب سے دوری کے درمیان فرق کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی حکومتیں اس بحث کا مرکزی نقطہ ہیں۔ 18ویں ترمیم نے منتخب مقامی حکومتوں کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا لیکن صوبائی سطح سے نیچے مالیاتی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ ’صوبائی فنانس کمیشنز مالیاتی تقسیم کے باقاعدہ، پابند اور قابلِ اعتماد آلات نہیں بن سکے۔ اضلاع اور مقامی ادارے اب بھی صوبائی صوابدید، تاخیر سے ہونے والی منتقلیوں، محصولات جمع کرنے کے کمزور اختیارات اور غیر مستحکم ادارہ جاتی انتظامات کے رحم و کرم پر ہیں۔ عملی طور پر، اختیارات کی منتقلی  اکثر صوبائی دارالحکومت تک پہنچ کر ہی رک گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فعال صوبائی فنانس کمیشن نظام کو چاہیے کہ وہ اضلاع اور مقامی حکومتوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف اور کثیر الجہتی فارمولے کا استعمال کرے۔ آبادی، غربت، رقبہ، آبادی کی کثافت، محصولات کی صلاحیت، خدمات کی فراہمی میں خلا اور پسماندگی جیسے عوامل کو اس فارمولے میں شامل ہونا چاہیے۔ کارکردگی کے اشاریے  بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں احتیاط سے ڈیزائن کیا جائے اور وہ تاریخی محرومیوں کے شکار پسماندہ اضلاع کے لیے سزا نہ بن جائیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مقامی سطح پر مالیاتی گنجائش میں پیش گوئی پیدا کی جائے، ساتھ ہی بہتر انتظامیہ کے لیے ترغیبات کو بھی برقرار رکھا جائے۔ ایسے ڈھانچے کے بغیر، صوبائی حکومتیں اختیارات کی منتقلی کے فوائد تو حاصل کرتی رہیں گی لیکن اس کے بنیادی منطقی تقاضوں کو عوام کے سب سے قریب تر سطح تک پہنچانے سے گریزاں رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کو بھی مسئلے کے اپنے حصے کا سامنا کرنا چاہیے۔ این ایف سی  کے بارے میں شکایات تب تک قابلِ یقین نہیں ہو سکتیں جب تک مرکز ان شعبوں میں اخراجات جاری رکھے جو صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ منتقل شدہ شعبوں میں وفاقی وزارتوں، پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنا مالیاتی درستی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مرکز کو اپنی حقیقی وفاقی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے: میکرو اکنامک استحکام، دفاع، خارجہ امور، بین الصوبائی رابطہ، قومی انفرااسٹرکچر، ریگولیٹری معیارات اور برابری  کے لیے معاونت۔ صوبائی دائرہ اختیار میں متوازی ڈھانچے چلانا صرف اس عدم توازن کو گہرا کرتا ہے جسے وفاق اب درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا مقصد پاکستان کو ایک زیادہ متوازن وفاقی نظام کی جانب لے جانا تھا، لیکن صرف مالی وسائل کی منتقلی سے کوئی وفاقی نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔ مالی وسائل کو ذمہ داری سے، ذمہ داری کو اختیارات سے اور اختیارات کو احتساب سے منسلک ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ان میں سے پہلی کڑی یعنی مالی وسائل کی منتقلی کو تو کافی مضبوط بنایا ہے مگر باقی روابط کو اسی تناسب سے مستحکم نہیں کیا جا سکا۔ اسی لیے ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کو وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک اور بے نتیجہ سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنانے کے بجائے این ایف سی نظام میں سنجیدہ اصلاحات کے آغاز کا موقع سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق ورلڈ بینک کی رپورٹ کو چاہیے کہ وہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر معمول کی سیاسی بحث کے بجائے ایک زیادہ سنجیدہ اور جامع مکالمے کو فروغ دے۔ 2010 کے بعد طے پانے والے مالیاتی انتظام نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں واقعی ایک اہم اور بامعنی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔</strong></p>
<p>اس نظام نے صوبوں کے مالیاتی اختیارات میں توسیع کی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو آئینی تحفظ فراہم کیا اور ملک کو حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی مالیاتی ڈھانچے سے دور کیا، تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد تشکیل دیا گیا مالیاتی نظام اب بھی نامکمل ہے، اس پر یکساں طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور اس کے نتائج و کارکردگی کے ساتھ مؤثر ربط بھی کمزور ہے۔</p>
<p>اصل مالی معاہدہ ایک قابلِ جواز اصول پر مبنی تھا۔ اگر اہم اخراجاتی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جانی تھیں تو قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) میں سے وسائل کا زیادہ حصہ بھی انہی ذمہ داریوں کے ساتھ صوبوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشترکہ قانون ساز فہرست ختم کر دی گئی اور متعدد اہم شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کے سپرد کر دی گئیں۔ بعدازاں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی ٹیکس محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں صرف آبادی کو بنیاد بنانے کے بجائے دیگر عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اصولی طور پر اس تبدیلی کا مقصد اخراجاتی ذمہ داریوں کو حکومت کی اس سطح کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا جو عوام کو خدمات کی فراہمی کے زیادہ قریب ہے۔</p>
<p>عملدرآمد کے مرحلے میں یہ نظام اتنا مربوط ثابت نہ ہو سکا۔ صوبوں کو مالی وسائل میں بڑا حصہ تو مل گیا مگر وفاق نے اختیارات کی منتقلی کے مطابق اپنے اخراجات میں متناسب کمی نہیں کی۔ ورلڈ بینک کی یہ نشاندہی اسی بنیادی عدم توازن کو اجاگر کرتی ہے کہ 2010 سے 2024 کے دوران صوبائی آمدن، جس میں وفاقی منتقلیاں بھی شامل ہیں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4 فیصد سے کم سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ وفاقی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں آئی۔ وفاق نے اپنی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل تو کردیا، لیکن اس کے ساتھ اپنی اخراجاتی ذمہ داریوں میں مطلوبہ نوعیت کی تنظیمِ نو نہیں کی۔ اختیارات کی منتقلی یا مشترکہ دائرۂ کار والے شعبوں میں وفاقی وزارتوں، منصوبوں اور مالی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ازسرِنو ترتیب نہیں دیا گیا۔ نتیجتاً وفاقی حکومت ایک طرف محدود مالی وسائل کے ساتھ کام کررہی ہے جبکہ دوسری جانب اس پر اخراجات اور مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بدستور غیر متناسب طور پر برقرار ہے۔</p>
<p>اس عدم توازن کی ذمہ داری صرف این ایف سی ایوارڈ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ درحقیقت یہ اختیارات کی منتقلی کے انتظامی اور اخراجاتی پہلوؤں کو مکمل طور پر نافذ نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ محصولات کی تقسیم کا کوئی بھی نظام، خواہ وہ کتنا ہی فراخدلانہ یا محدود کیوں نہ ہو اپنے طور پر اختیارات اور ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔اگر وفاق ایسے شعبوں پر اخراجات کرتا رہے جو درحقیقت صوبوں کی ذمہ داری ہیں اور صوبے بھی منتقل کیے گئے اختیارات کے ساتھ مکمل مالی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے وفاقی رقوم پر انحصار جاری رکھیں، تو یہ نظام مسلسل مالی خسارے، دہرے انتظامی ڈھانچے اور احتساب کے خلا کو جنم دیتا رہے گا۔لہٰذا اصل مسئلہ صرف صوبوں کے حصے کے حجم کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اختیارات، مالی وسائل اور کارکردگی کے درمیان مضبوط اور مؤثر ربط موجود نہیں۔</p>
<p>صوبائی حکومتوں کے لیے بھی مطمئن ہو کر بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ساتویں این ایف سی  کے بعد ملنے والی زیادہ مالی گنجائش کے تناسب سے عوامی خدمات کی فراہمی، محصولات کو بڑھانے یا مقامی سطح پر احتساب میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی گئی۔ ورلڈ بینک کا یہ مشاہدہ کہ اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ جاری اخراجات، خاص طور پر تنخواہوں، پنشن اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو گیا ہے، پاکستان کے عوامی مالیاتی نظام کی ایک جانی پہچانی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اضافی وسائل، بہتر اسکولوں، کلینکوں، میونسپل سروسز، زرعی توسیع، صفائی کے نظام یا مقامی انفرااسٹرکچر میں تبدیل ہونے سے بہت پہلے ہی تنخواہوں کے بل اور سیاسی طور پر محفوظ اخراجات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ رجحان اختیارات کی منتقلی کے حق میں دی جانے والی ترقیاتی دلیل کو کمزور کرتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا بیانیہ تب سب سے مضبوط ہوتا ہے جب (اختیارات کی) قربت پالیسی سازی، نفاذ اور احتساب کو بہتر بنائے۔ یہ تب کمزور پڑ جاتا ہے جب صوبائی حکومتیں ایک مرکزی وفاقی ریاست کے چھوٹے ورژن کی طرح برتاؤ کرنے لگیں جس میں مالیاتی اختیارات اوپر ہی برقرار رہیں جبکہ اضلاع اور مقامی ادارے صوابدیدی فیصلوں پر انحصار کرتے رہیں۔ شہری مالیاتی وفاقیت کو قابلِ تقسیم پول  میں عمودی حصص  کے ذریعے نہیں پرکھتے۔ وہ اسے روزمرہ کی عوامی خدمات کے معیار سے پرکھتے ہیں۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو 2010 کے بعد کا مالیاتی تصفیہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>محصولات (ریونیو) کا پہلو بھی اتنا ہی مسئلہ ساز ہے۔ صوبوں کو اہم ٹیکس کے ذرائع، خاص طور پر خدمات پر سیلز ٹیکس پر زیادہ اختیارات تو مل گئے ہیں لیکن صوبوں کی اپنی آمدنی بڑھانے کی کوششیں اب بھی محدود ہیں۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس، شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس اور صوبائی محصولات کے دیگر ذرائع اب بھی اپنی صلاحیت سے بہت کم کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس ناکامی کی ایک وجہ سیاسی معیشت ہے۔ جن ذرائع پر صوبوں سے ٹیکس لینے کی توقع کی جاتی ہے، ان میں اکثر بااثر مقامی حلقے شامل ہوتے ہیں: زمیندار، جائیداد کے مالکان، شہری اشرافیہ اور سروس سیکٹر کے مفادات۔ وفاقی محصولات میں سے اپنا حصہ محفوظ رکھنا صوبائی سطح پر ٹیکس کی سنجیدہ کوشش کرنے کی نسبت سیاسی طور پر زیادہ آسان ہے۔</p>
<p>یہ کمزوری مالی خودمختاری کی ایک نامکمل یا غیر متوازن شکل پیدا کرتی ہے۔ صوبے بجا طور پر اپنے مالیاتی حصے کے لیے آئینی تحفظ پر اصرار کرتے ہیں لیکن خودمختاری کا مطلب صرف وفاق سے رقوم کی منتقلی وصول کرنا نہیں ہو سکتا۔ اس میں اپنے صوبائی ذرائع پر ٹیکس لگانا، اخراجات کے انتخاب کا انتظام کرنا اور نتائج کے لیے قابلِ پیمائش ذمہ داری قبول کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایک ایسا صوبہ جو مکمل طور پر وفاقی منتقلیوں پر انحصار کرتا ہو اور اپنے ٹیکس کے ذرائع کا کم استعمال کرتا ہو، وہ میچیور مالی وفاقیت پر عمل نہیں کررہا۔ وہ دراصل ایک ایسی منتقلی پر انحصار کرنے والی ساخت کے اندر کام کررہا ہے جو احتساب اور اصلاحات کی ترغیب، دونوں کو محدود کر دیتی ہے۔</p>
<p>ٹیکس اتھارٹی  کا بکھراؤ مشکل کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرچکا ہے۔ ٹیکس کے ذرائع وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار میں تقسیم ہونے کی وجہ سے کاروبار کو تعمیلی اخراجات ، درجہ بندی کے تنازعات اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اشیاء اور خدمات پر سیلز ٹیکس میں نمایاں ہوا ہے جہاں دائرہ اختیار کی علیحدگی نے اکثر ٹیکس کے عمل کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایک وفاقی ڈھانچہ متعدد ٹیکس حکام کو جگہ دے سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب قوانین، طریقہ کار، تعریفیں، ڈیٹا سسٹمز اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں مناسب ہم آہنگی ہو۔ پاکستان نے ابھی تک اس سطح کی انتظامی یکجہتی پیدا کرنی ہے۔</p>
<p>لہٰذا اگلے این ایف سی ایوارڈ کو حصص کی روایتی لڑائی کے بجائے ترغیبات  کی اصلاح کے طور پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 160(3A) صوبائی حصے میں پچھلے ایوارڈ سے کم کسی بھی قسم کی کٹوتی پر پابندی لگاتا ہے جس سے اس میں سادہ سی تنزلی  سیاسی اور آئینی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی تنزلی بنیادی کمزوریوں کو دور نہیں کرے گی۔ زیادہ مفید طریقہ کار یہ ہے کہ فارمولے اور اس کے ساتھ منسلک مالیاتی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دیا جائے تاکہ منتقلی کا عمل اخراجات کی ضروریات، محصولات کی صلاحیت، محصولات جمع کرنے کی کوشش، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کارکردگی کا عکاس ہو۔</p>
<p>اس کے لیے بہتر پیمائش کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ بحث اب بھی مجموعی دعووں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے کہ کسے کتنا مل رہا ہے۔ اب اسے ٹھوس شواہد کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے کہ کون کس فنکشن کا ذمہ دار ہے، ہر سطح اس فنکشن پر کتنا خرچ کر رہی ہے، کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور کیا مالی اعانت اس سطح تک پہنچ رہی ہے جہاں خدمات درحقیقت فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسی معلومات کے بغیر این ایف سی مذاکرات اصلاحات کے بجائے سودے بازی کی ایک اور مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کو مالیاتی وفاقیت کے ایک ایسے ڈھانچے کی ضرورت ہے جو حقیقی ضرورت اور عادی انحصار، برابری اور استحقاق اور خودمختاری اور احتساب سے دوری کے درمیان فرق کر سکے۔</p>
<p>مقامی حکومتیں اس بحث کا مرکزی نقطہ ہیں۔ 18ویں ترمیم نے منتخب مقامی حکومتوں کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا لیکن صوبائی سطح سے نیچے مالیاتی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ ’صوبائی فنانس کمیشنز مالیاتی تقسیم کے باقاعدہ، پابند اور قابلِ اعتماد آلات نہیں بن سکے۔ اضلاع اور مقامی ادارے اب بھی صوبائی صوابدید، تاخیر سے ہونے والی منتقلیوں، محصولات جمع کرنے کے کمزور اختیارات اور غیر مستحکم ادارہ جاتی انتظامات کے رحم و کرم پر ہیں۔ عملی طور پر، اختیارات کی منتقلی  اکثر صوبائی دارالحکومت تک پہنچ کر ہی رک گئی ہے۔</p>
<p>ایک فعال صوبائی فنانس کمیشن نظام کو چاہیے کہ وہ اضلاع اور مقامی حکومتوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف اور کثیر الجہتی فارمولے کا استعمال کرے۔ آبادی، غربت، رقبہ، آبادی کی کثافت، محصولات کی صلاحیت، خدمات کی فراہمی میں خلا اور پسماندگی جیسے عوامل کو اس فارمولے میں شامل ہونا چاہیے۔ کارکردگی کے اشاریے  بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں احتیاط سے ڈیزائن کیا جائے اور وہ تاریخی محرومیوں کے شکار پسماندہ اضلاع کے لیے سزا نہ بن جائیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مقامی سطح پر مالیاتی گنجائش میں پیش گوئی پیدا کی جائے، ساتھ ہی بہتر انتظامیہ کے لیے ترغیبات کو بھی برقرار رکھا جائے۔ ایسے ڈھانچے کے بغیر، صوبائی حکومتیں اختیارات کی منتقلی کے فوائد تو حاصل کرتی رہیں گی لیکن اس کے بنیادی منطقی تقاضوں کو عوام کے سب سے قریب تر سطح تک پہنچانے سے گریزاں رہیں گی۔</p>
<p>وفاقی حکومت کو بھی مسئلے کے اپنے حصے کا سامنا کرنا چاہیے۔ این ایف سی  کے بارے میں شکایات تب تک قابلِ یقین نہیں ہو سکتیں جب تک مرکز ان شعبوں میں اخراجات جاری رکھے جو صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ منتقل شدہ شعبوں میں وفاقی وزارتوں، پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنا مالیاتی درستی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مرکز کو اپنی حقیقی وفاقی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے: میکرو اکنامک استحکام، دفاع، خارجہ امور، بین الصوبائی رابطہ، قومی انفرااسٹرکچر، ریگولیٹری معیارات اور برابری  کے لیے معاونت۔ صوبائی دائرہ اختیار میں متوازی ڈھانچے چلانا صرف اس عدم توازن کو گہرا کرتا ہے جسے وفاق اب درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا مقصد پاکستان کو ایک زیادہ متوازن وفاقی نظام کی جانب لے جانا تھا، لیکن صرف مالی وسائل کی منتقلی سے کوئی وفاقی نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔ مالی وسائل کو ذمہ داری سے، ذمہ داری کو اختیارات سے اور اختیارات کو احتساب سے منسلک ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ان میں سے پہلی کڑی یعنی مالی وسائل کی منتقلی کو تو کافی مضبوط بنایا ہے مگر باقی روابط کو اسی تناسب سے مستحکم نہیں کیا جا سکا۔ اسی لیے ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کو وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک اور بے نتیجہ سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنانے کے بجائے این ایف سی نظام میں سنجیدہ اصلاحات کے آغاز کا موقع سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288450</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 15:26:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0812052824c1b7a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0812052824c1b7a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریلوے اراضی کی واگزاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288412/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز کے نیٹ ورک پر تجاوزات کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کر کے اچھا اقدام کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمیٹی کے غور و خوض میں حالیہ حادثات، تنظیم نو کا منصوبہ اور مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت بھی شامل تھی لیکن ریلوے کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ مستقل توجہ کا متقاضی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے حل نہیں کیا جاتا، ریلوے کو جدید بنانے اور بحال کرنے کی کوششیں محدود رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی 12,400 ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب اور سندھ کا ہے۔ اس مسئلے کی شدت محض انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ یہ دہائیوں پر محیط کمزور نفاذ، ادارہ جاتی غفلت اور کئی معاملات میں سیاسی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نقصان بہت زیادہ ہے کیونکہ ریلوے کی زمین اس ادارے کے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے جس کا زیادہ تر حصہ تجارتی لحاظ سے اہم شہری مراکز میں واقع ہے۔ اس کے مضمرات عوامی جائیداد کے نقصان سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ تجاوزات بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں اور پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیکھ بھال میں مشکلات پیدا کرتی ہیں، حفاظتی خطرات کا باعث بنتی ہیں اور ریل سروسز کی توسیع کو محدود کرتی ہیں۔ یہ تجاوزات پاکستان ریلویز کو غیر کرایہ آمدنی  کے ایک اہم ذریعہ سے بھی محروم کرتی ہیں، ایسے وقت میں جب ادارہ حکومتی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ان کی زمینوں کا تجارتی استعمال کسی بھی قابلِ عمل اصلاحاتی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بشمول ایم ایل ون پروجیکٹ اور پپری سے کراچی تک مجوزہ فریٹ کوریڈور کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے راستوں کا محفوظ ہونا اور ریلوے کی املاک کا مؤثر تحفظ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجاوز شدہ زمین کو بازیاب کرانے میں تاخیر لامحالہ اخراجات میں اضافے اور عمل درآمد کو پیچیدہ بناتی ہے۔ لہذا زمین کے انتظام کو محض ایک ضمنی انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے ریلوے اصلاحات کا ایک لازمی جزو سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان ریلویز نے اپنی زمین کی تمام حدود کی جیو ریفرنسنگ مکمل کر لی ہے اور انہیں ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں ضم کر دیا ہے جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کے تکنیکی اقدامات شفافیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور نئی تجاوزات کی بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹولز صرف حکومتی کارکردگی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ان کی کامیابی کا انحصار بروقت قانونی کارروائی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور تمام غیر قانونی قابضین کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کے سیاسی عزم پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی نفاذِ قانون کا عمل قانونی اور منصفانہ بھی ہونا چاہیے۔ اگرچہ ریلوے کی زمین پر قابض کمزور خاندانوں کی بحالی کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن منظم لینڈ مافیا یا بااثر مفادات کو عوامی اثاثوں پر قابض رہنے دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کو محض ایک معمول کی رپورٹنگ کا مشق نہیں، بلکہ ایک مستقل بازیابی کی کوششوں کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے کی زمین کا تحفظ دراصل عوامی اثاثوں کی حفاظت، ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط کرنے اور ایک جدید، موثر اور تجارتی لحاظ سے پائیدار ریلوے نظام کے لیے درکار جگہ پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ریاست ان اسٹریٹجک اثاثوں کو بازیاب کرانے اور ان کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتی، ریلوے کی اصلاحات کا وسیع تر ایجنڈا پورا کرنا مشکل رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز کے نیٹ ورک پر تجاوزات کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کر کے اچھا اقدام کیا ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ کمیٹی کے غور و خوض میں حالیہ حادثات، تنظیم نو کا منصوبہ اور مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت بھی شامل تھی لیکن ریلوے کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ مستقل توجہ کا متقاضی ہے۔</p>
<p>جب تک اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے حل نہیں کیا جاتا، ریلوے کو جدید بنانے اور بحال کرنے کی کوششیں محدود رہیں گی۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی 12,400 ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب اور سندھ کا ہے۔ اس مسئلے کی شدت محض انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ یہ دہائیوں پر محیط کمزور نفاذ، ادارہ جاتی غفلت اور کئی معاملات میں سیاسی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>یہ نقصان بہت زیادہ ہے کیونکہ ریلوے کی زمین اس ادارے کے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے جس کا زیادہ تر حصہ تجارتی لحاظ سے اہم شہری مراکز میں واقع ہے۔ اس کے مضمرات عوامی جائیداد کے نقصان سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ تجاوزات بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں اور پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p>دیکھ بھال میں مشکلات پیدا کرتی ہیں، حفاظتی خطرات کا باعث بنتی ہیں اور ریل سروسز کی توسیع کو محدود کرتی ہیں۔ یہ تجاوزات پاکستان ریلویز کو غیر کرایہ آمدنی  کے ایک اہم ذریعہ سے بھی محروم کرتی ہیں، ایسے وقت میں جب ادارہ حکومتی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ان کی زمینوں کا تجارتی استعمال کسی بھی قابلِ عمل اصلاحاتی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ مسئلہ اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بشمول ایم ایل ون پروجیکٹ اور پپری سے کراچی تک مجوزہ فریٹ کوریڈور کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے راستوں کا محفوظ ہونا اور ریلوے کی املاک کا مؤثر تحفظ لازمی ہے۔</p>
<p>تجاوز شدہ زمین کو بازیاب کرانے میں تاخیر لامحالہ اخراجات میں اضافے اور عمل درآمد کو پیچیدہ بناتی ہے۔ لہذا زمین کے انتظام کو محض ایک ضمنی انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے ریلوے اصلاحات کا ایک لازمی جزو سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان ریلویز نے اپنی زمین کی تمام حدود کی جیو ریفرنسنگ مکمل کر لی ہے اور انہیں ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں ضم کر دیا ہے جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اس طرح کے تکنیکی اقدامات شفافیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور نئی تجاوزات کی بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹولز صرف حکومتی کارکردگی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ان کی کامیابی کا انحصار بروقت قانونی کارروائی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور تمام غیر قانونی قابضین کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کے سیاسی عزم پر ہوگا۔</p>
<p>ساتھ ہی نفاذِ قانون کا عمل قانونی اور منصفانہ بھی ہونا چاہیے۔ اگرچہ ریلوے کی زمین پر قابض کمزور خاندانوں کی بحالی کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن منظم لینڈ مافیا یا بااثر مفادات کو عوامی اثاثوں پر قابض رہنے دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p>اس لیے پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کو محض ایک معمول کی رپورٹنگ کا مشق نہیں، بلکہ ایک مستقل بازیابی کی کوششوں کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے۔</p>
<p>ریلوے کی زمین کا تحفظ دراصل عوامی اثاثوں کی حفاظت، ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط کرنے اور ایک جدید، موثر اور تجارتی لحاظ سے پائیدار ریلوے نظام کے لیے درکار جگہ پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔</p>
<p>جب تک ریاست ان اسٹریٹجک اثاثوں کو بازیاب کرانے اور ان کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتی، ریلوے کی اصلاحات کا وسیع تر ایجنڈا پورا کرنا مشکل رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288412</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07134552809e3b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07134552809e3b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبادی میں بے قابو اضافہ، ریاستی پالیسیوں میں بڑا تضاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288396/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے آبادی بحران کے بارے میں اب شاید ہی کوئی ایسی بات باقی رہ گئی ہو جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کہی نہ جا چکی ہو۔ وزرائے اعظم، صدور، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرینِ اقتصادیات اور ترقیاتی ماہرین سب بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر آبادی میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو بالآخر یہ ملک کے وسائل پر اس قدر بوجھ ڈال دے گا کہ پائیدار ترقی کو نقصان پہنچے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جہاں ایک طرف انتباہات میں اضافہ ہوتا گیا، وہیں دوسری جانب آبادی بھی بڑھتی رہی، یہاں تک کہ پاکستان خاموشی سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ قومی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہا ہے اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس بلانا بھی اس بات کا ایک تاخیر سے سہی مگر اہم اعتراف ہے کہ آبادی سے متعلق دباؤ اب ایک اسٹریٹجک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اس مقام پر کئی دہائیوں تک سرکاری سطح پر مسئلے کو تسلیم کرنے کے باوجود نہایت محدود اور غیر مؤثر عملی اقدامات کے بعد پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج تقریباً ہر بڑے شعبے میں واضح نظر آتے ہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ فی کس زرعی زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔ شہری انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ اسکول، اسپتال، ٹرانسپورٹ کا نظام اور رہائش کی سہولیات مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہر سال لیبر فورس میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد کے مقابلے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی رفتار مسلسل ناکافی رہتی ہے۔ معاشی ترقی، خواہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث بار بار اپنی مؤثریت کھو دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم شاید اس بحث کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ ہے کہ خود ریاست اب بھی اسی رجحان کی حوصلہ افزائی کرتی دکھائی دیتی ہے، جسے وہ آج قومی خطرہ قرار دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ اگرچہ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں کئی اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے، لیکن صوبوں کے درمیان وسائل کی افقی تقسیم میں آبادی اب بھی 82 فیصد وزن رکھتی ہے، جیسا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اختیار کیے گئے فارمولے میں طے کیا گیا تھا اور بعد ازاں بھی اسے برقرار رکھا گیا۔ مسلسل آنے والی حکومتیں ایک طرف تو یہ کہتی رہی ہیں کہ آبادی میں بے قابو اضافہ ناقابلِ پائیداری ہے، مگر دوسری طرف وہ ایسا مالیاتی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جس میں زیادہ آبادی کو وسائل کی تقسیم میں بدستور سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے اور مختلف انتظامی نظام بھی بڑی حد تک آبادی پر مبنی معیار پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان پالیسیوں کی تاریخی اور آئینی بنیادیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن یہ بار بار آبادی کو مستحکم کرنے کی سرکاری اپیلوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ کوئی بھی عوامی پالیسی ایک ایسے نتیجے کی حوصلہ شکنی قابلِ اعتبار انداز میں نہیں کر سکتی، جبکہ ریاستی اداروں کے اندر موجود ترغیبات اسی نتیجے کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس تضاد پر اس وقت ہونے والی عوامی بحث سے کہیں زیادہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی سے متعلق پالیسی صرف آگاہی مہمات، سرکاری اجلاسوں اور وقتاً فوقتاً تشویش کے اظہار سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کا ہر ادارہ ہم آہنگ اور یکساں مقاصد کے تحت کام کرے۔ مالیاتی انتظامات، ترقیاتی منصوبہ بندی، تعلیم، صحت، لیبر پالیسی اور سماجی بہبود کی پالیسیاں ایک دوسرے کو مضبوط کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے وزیراعظم کی جانب سے آبادی کی منصوبہ بندی کو معاشی ترقی، انسانی ترقی اور وسائل کے انتظام کے ساتھ جوڑنے پر دیا گیا زور بالکل مناسب ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا اس ادراک کو ایسے عملی اصلاحات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو برسوں سے چلے آ رہے ادارہ جاتی رویوں کو بدل سکیں۔ پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر حکمتِ عملیوں، کمیٹیوں اور پالیسی دستاویزات کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن ان سب کی مشترکہ کمزوری ان پر عمل درآمد کا فقدان رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ مسئلہ محض سماجی پالیسی تک محدود نہیں رہا۔ آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ کا اثر مالیاتی پائیداری، غذائی تحفظ، پانی کے انتظام، ماحولیاتی دباؤ، روزگار کی فراہمی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی پر بھی پڑ رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت بھی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آبادی میں اضافہ اب صرف ترقیاتی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے جو ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اب بھی دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو ایک ڈیموگرافک ڈویڈنڈ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ اس انسانی سرمایہ کو مناسب تعلیم، مہارت اور پیداواری روزگار فراہم کیا جائے۔ لیکن اگر یہ شرائط پوری نہ کی گئیں تو آبادی میں مسلسل اضافہ پہلے ہی دباؤ کا شکار وسائل اور اداروں پر ایک بڑھتا ہوا بوجھ بنتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتباہات بارہا دیے جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار متعدد مرتبہ ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اس مسئلے کو برسوں سے سمجھا جا چکا ہے۔ اب جس چیز کی کمی ہے، وہ ان پالیسی تضادات کا سامنا کرنے کے لیے ریاست کی سنجیدگی اور آمادگی ہے، جنہوں نے اس بحران کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کا آبادی بحران اب تشخیص کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ریاست آخرکار ان حقائق پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے جن سے وہ طویل عرصے سے واقف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے آبادی بحران کے بارے میں اب شاید ہی کوئی ایسی بات باقی رہ گئی ہو جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کہی نہ جا چکی ہو۔ وزرائے اعظم، صدور، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرینِ اقتصادیات اور ترقیاتی ماہرین سب بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر آبادی میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو بالآخر یہ ملک کے وسائل پر اس قدر بوجھ ڈال دے گا کہ پائیدار ترقی کو نقصان پہنچے گا۔</strong></p>
<p>لیکن جہاں ایک طرف انتباہات میں اضافہ ہوتا گیا، وہیں دوسری جانب آبادی بھی بڑھتی رہی، یہاں تک کہ پاکستان خاموشی سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا۔</p>
<p>اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ قومی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہا ہے اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس بلانا بھی اس بات کا ایک تاخیر سے سہی مگر اہم اعتراف ہے کہ آبادی سے متعلق دباؤ اب ایک اسٹریٹجک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اس مقام پر کئی دہائیوں تک سرکاری سطح پر مسئلے کو تسلیم کرنے کے باوجود نہایت محدود اور غیر مؤثر عملی اقدامات کے بعد پہنچا ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج تقریباً ہر بڑے شعبے میں واضح نظر آتے ہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ فی کس زرعی زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔ شہری انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ اسکول، اسپتال، ٹرانسپورٹ کا نظام اور رہائش کی سہولیات مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہر سال لیبر فورس میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد کے مقابلے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی رفتار مسلسل ناکافی رہتی ہے۔ معاشی ترقی، خواہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث بار بار اپنی مؤثریت کھو دیتی ہے۔</p>
<p>تاہم شاید اس بحث کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ ہے کہ خود ریاست اب بھی اسی رجحان کی حوصلہ افزائی کرتی دکھائی دیتی ہے، جسے وہ آج قومی خطرہ قرار دے رہی ہے۔</p>
<p>نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ اگرچہ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں کئی اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے، لیکن صوبوں کے درمیان وسائل کی افقی تقسیم میں آبادی اب بھی 82 فیصد وزن رکھتی ہے، جیسا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اختیار کیے گئے فارمولے میں طے کیا گیا تھا اور بعد ازاں بھی اسے برقرار رکھا گیا۔ مسلسل آنے والی حکومتیں ایک طرف تو یہ کہتی رہی ہیں کہ آبادی میں بے قابو اضافہ ناقابلِ پائیداری ہے، مگر دوسری طرف وہ ایسا مالیاتی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جس میں زیادہ آبادی کو وسائل کی تقسیم میں بدستور سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔</p>
<p>یہ تضاد صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے اور مختلف انتظامی نظام بھی بڑی حد تک آبادی پر مبنی معیار پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان پالیسیوں کی تاریخی اور آئینی بنیادیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن یہ بار بار آبادی کو مستحکم کرنے کی سرکاری اپیلوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ کوئی بھی عوامی پالیسی ایک ایسے نتیجے کی حوصلہ شکنی قابلِ اعتبار انداز میں نہیں کر سکتی، جبکہ ریاستی اداروں کے اندر موجود ترغیبات اسی نتیجے کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس تضاد پر اس وقت ہونے والی عوامی بحث سے کہیں زیادہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔</p>
<p>آبادی سے متعلق پالیسی صرف آگاہی مہمات، سرکاری اجلاسوں اور وقتاً فوقتاً تشویش کے اظہار سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کا ہر ادارہ ہم آہنگ اور یکساں مقاصد کے تحت کام کرے۔ مالیاتی انتظامات، ترقیاتی منصوبہ بندی، تعلیم، صحت، لیبر پالیسی اور سماجی بہبود کی پالیسیاں ایک دوسرے کو مضبوط کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔</p>
<p>اسی لیے وزیراعظم کی جانب سے آبادی کی منصوبہ بندی کو معاشی ترقی، انسانی ترقی اور وسائل کے انتظام کے ساتھ جوڑنے پر دیا گیا زور بالکل مناسب ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا اس ادراک کو ایسے عملی اصلاحات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو برسوں سے چلے آ رہے ادارہ جاتی رویوں کو بدل سکیں۔ پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر حکمتِ عملیوں، کمیٹیوں اور پالیسی دستاویزات کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن ان سب کی مشترکہ کمزوری ان پر عمل درآمد کا فقدان رہا ہے۔</p>
<p>اب یہ مسئلہ محض سماجی پالیسی تک محدود نہیں رہا۔ آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ کا اثر مالیاتی پائیداری، غذائی تحفظ، پانی کے انتظام، ماحولیاتی دباؤ، روزگار کی فراہمی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی پر بھی پڑ رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت بھی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آبادی میں اضافہ اب صرف ترقیاتی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے جو ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔</p>
<p>پاکستان اب بھی دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو ایک ڈیموگرافک ڈویڈنڈ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ اس انسانی سرمایہ کو مناسب تعلیم، مہارت اور پیداواری روزگار فراہم کیا جائے۔ لیکن اگر یہ شرائط پوری نہ کی گئیں تو آبادی میں مسلسل اضافہ پہلے ہی دباؤ کا شکار وسائل اور اداروں پر ایک بڑھتا ہوا بوجھ بنتا جائے گا۔</p>
<p>انتباہات بارہا دیے جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار متعدد مرتبہ ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اس مسئلے کو برسوں سے سمجھا جا چکا ہے۔ اب جس چیز کی کمی ہے، وہ ان پالیسی تضادات کا سامنا کرنے کے لیے ریاست کی سنجیدگی اور آمادگی ہے، جنہوں نے اس بحران کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کا آبادی بحران اب تشخیص کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ریاست آخرکار ان حقائق پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے جن سے وہ طویل عرصے سے واقف ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288396</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 10:17:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0710152387800f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="668" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0710152387800f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دو اقتصادی اپ ڈیٹس اور آؤٹ لک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288362/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے آخری روز مئی اور جون کی اقتصادی تازہ صورتحال اور معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امید کی جاتی ہے کہ مئی کی رپورٹ اپ لوڈ کرنے میں ایک ماہ کی تاخیر جس کی وجہ فنانس ڈویژن کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ پر توجہ مرکوز کرنا بتائی گئی ہے، مقامی (وزارت خزانہ اور اس کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے ادارے بشمول فیڈرل بورڈ آف ریونیو) اور غیر ملکی اسٹیک ہولڈرز (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جس نے 13 سے 20 مئی تک ملک میں ایک مشن بھیجا تھا اور 20 مئی کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں نوٹ کیا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ پر بات چیت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی) کیلئے دستیاب رہی ہوگی۔ بہر کیف حسب معمول فنانس ڈویژن کی طرف سے اپ لوڈ کردہ زیادہ تر ڈیٹا دو ماہ کی تاخیر کا شکار ہے، اگرچہ بعض معلومات نسبتاً تازہ ہیں، مثلاً اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن جو غیر معمولی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اعداد و شمار بھی تازہ نہیں، حالانکہ یہ معلومات عموماً ایف بی آر کے پاس بروقت دستیاب ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح سوال یہ ہے کہ مئی سے جون کے دوران ملکی معیشت میں کون سی اہم تبدیلیاں آئیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث 28 فروری سے پہلے والی سطح کے مطابق تیل کی ترسیل اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ مالی گنجائش  بھی بدستور محدود ہے، جس کے باعث ایک طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے زیادہ ٹیکس وصولی کے اہداف مقرر کرنا ناگزیر ہو گیا ہے جبکہ دوسری جانب اگر محصولات میں کمی رہتی ہے تو حکومت کو پٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بالائی حد ایک آرڈیننس کے تحت مقرر نہیں ہے۔ چونکہ پٹرولیم لیوی کو دیگر ٹیکسوں کے کھاتے میں شامل کیا جاتا ہے اس لیے یہ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل  کا حصہ نہیں بنتی۔ اس لیے حکومت اسے مالیاتی خسارے کو کم سے کم رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق بڑھا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے اعداد و شمار میں مئی کے مقابلے میں تین اہم شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔پہلا ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا جو جولائی تا مارچ  33.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا اپریل  38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ترسیلاتِ زر میں اس اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ترسیلاتِ زر میں کمی آ سکتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی نظام اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کرنے سے پہلے انتظار کرنا ہی بہتر ہوگا۔ اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا اپریل 252 ملین ڈالر کے خسارے میں تھا جبکہ جولائی تا مئی یہ 255 ملین ڈالر کے سرپلس (مثبت) میں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ کہ جون کے اعداد و شمار میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے  جو جولائی تا مارچ کے 4426.9 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی تا اپریل میں 4621.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کی وجہ 14 اپریل کا صدارتی آرڈیننس ہے جس نے لیوی کی بالائی حد کو ختم کردیا اور حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ جب چاہے اس میں اضافہ کرسکے۔ یہ سیلز ٹیکس کی ایک ایسی قسم ہے جسے جمع کرنا آسان ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ گھرانوں کی جیب پر منفی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کا بوجھ امیروں کی نسبت غریب طبقوں پر زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں جون کے اعدادوشمار میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے منفی رجحان میں بھی کمی دیکھی گئی جو جولائی تا اپریل کے منفی 1.377 ارب ڈالر سے بہتر ہوکر جولائی تا مئی میں منفی 1.145 ارب ڈالر رہ گئی جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی معمولی اضافہ ہوا  جو جولائی تا اپریل کے 1.409 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا مئی میں 1.623 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو دیے گئے قرضوں میں جولائی تا 15 مئی کے 880.6 ارب روپے کے مقابلے میں جولائی تا 12 جون کے دوران معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ 873.3 ارب روپے رہ گئے جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جون میں کریڈٹ میں یہ کمی کیوں اور کیسے ہوئی؟ تاہم اس کا استعمال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شرح نمو میں 0.1 فیصد کی کمی یعنی جولائی تا مارچ کے 6.5 فیصد سے کم ہو کر جولائی تا اپریل میں 6.4 فیصد ہونے کی توجیہ پیش کرنے کیلئے کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں رپورٹس کا تعارف ضرورت سے زیادہ پرامید ہے، مئی کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جاری مالی سال علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی سے متعلق جھٹکوں کے باوجود ملکی معیشت مسلسل بہتری اور اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن رہی جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت بہتر میکرو اکنامک استحکام اور اقتصادی سرگرمیوں میں پائیدار بحالی کے ساتھ مالی سال 2026 کو ایک مضبوط بنیاد پر ختم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں رپورٹس کے نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں، مئی کی اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں مجموعی طور پر رجحان کے مطابق ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جغرافیائی سیاسی خطرات سے مشروط بیرونی طلب مددگار ثابت ہو سکتی ہے جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں اس بات کو برقرار رکھا گیا کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں ان کی طویل مدتی صلاحیت کے مطابق ہیں جو کہ معاون بیرونی طلب کا اشارہ دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے آزاد ماہرینِ معاشیات نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 22 فیصد بتایا ہے اور نہ ہی اس میں غربت کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر ہے جسے عالمی بینک نے کیلوریز (خوراک) کے پیمانے کی بنیاد پر 44 فیصد کی بلند سطح پر تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جاتی ہے کہ یہ اپ ڈیٹس، اگر غربت کی سطح اور بے روزگاری کے اعدادوشمار کو نمایاں نہیں کرسکتیں تو کم از کم ان کی رپورٹنگ ضرور شروع کریں گی تاکہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے تحت سخت انقباضی مالی اور مانیٹری پالیسیوں (بشمول یوٹیلیٹی ریٹس بڑھانے کے انتظامی اقدامات) کے عام عوام پر پڑنے والے اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ رپورٹس محض کامیابیوں کا ایسا مجموعہ نہ بنیں جن کا اثر نچلی سطح پر کہیں محسوس ہی نہیں کیا جارہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے آخری روز مئی اور جون کی اقتصادی تازہ صورتحال اور معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی۔</strong></p>
<p>یہ امید کی جاتی ہے کہ مئی کی رپورٹ اپ لوڈ کرنے میں ایک ماہ کی تاخیر جس کی وجہ فنانس ڈویژن کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ پر توجہ مرکوز کرنا بتائی گئی ہے، مقامی (وزارت خزانہ اور اس کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے ادارے بشمول فیڈرل بورڈ آف ریونیو) اور غیر ملکی اسٹیک ہولڈرز (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جس نے 13 سے 20 مئی تک ملک میں ایک مشن بھیجا تھا اور 20 مئی کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں نوٹ کیا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ پر بات چیت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی) کیلئے دستیاب رہی ہوگی۔ بہر کیف حسب معمول فنانس ڈویژن کی طرف سے اپ لوڈ کردہ زیادہ تر ڈیٹا دو ماہ کی تاخیر کا شکار ہے، اگرچہ بعض معلومات نسبتاً تازہ ہیں، مثلاً اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن جو غیر معمولی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اعداد و شمار بھی تازہ نہیں، حالانکہ یہ معلومات عموماً ایف بی آر کے پاس بروقت دستیاب ہوتی ہیں۔</p>
<p>واضح سوال یہ ہے کہ مئی سے جون کے دوران ملکی معیشت میں کون سی اہم تبدیلیاں آئیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث 28 فروری سے پہلے والی سطح کے مطابق تیل کی ترسیل اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ مالی گنجائش  بھی بدستور محدود ہے، جس کے باعث ایک طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے زیادہ ٹیکس وصولی کے اہداف مقرر کرنا ناگزیر ہو گیا ہے جبکہ دوسری جانب اگر محصولات میں کمی رہتی ہے تو حکومت کو پٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بالائی حد ایک آرڈیننس کے تحت مقرر نہیں ہے۔ چونکہ پٹرولیم لیوی کو دیگر ٹیکسوں کے کھاتے میں شامل کیا جاتا ہے اس لیے یہ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل  کا حصہ نہیں بنتی۔ اس لیے حکومت اسے مالیاتی خسارے کو کم سے کم رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق بڑھا سکتی ہے۔</p>
<p>جون کے اعداد و شمار میں مئی کے مقابلے میں تین اہم شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔پہلا ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا جو جولائی تا مارچ  33.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا اپریل  38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ترسیلاتِ زر میں اس اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>اگرچہ ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ترسیلاتِ زر میں کمی آ سکتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی نظام اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کرنے سے پہلے انتظار کرنا ہی بہتر ہوگا۔ اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا اپریل 252 ملین ڈالر کے خسارے میں تھا جبکہ جولائی تا مئی یہ 255 ملین ڈالر کے سرپلس (مثبت) میں رہا۔</p>
<p>دوسری بات یہ کہ جون کے اعداد و شمار میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے  جو جولائی تا مارچ کے 4426.9 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی تا اپریل میں 4621.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کی وجہ 14 اپریل کا صدارتی آرڈیننس ہے جس نے لیوی کی بالائی حد کو ختم کردیا اور حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ جب چاہے اس میں اضافہ کرسکے۔ یہ سیلز ٹیکس کی ایک ایسی قسم ہے جسے جمع کرنا آسان ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ گھرانوں کی جیب پر منفی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کا بوجھ امیروں کی نسبت غریب طبقوں پر زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں جون کے اعدادوشمار میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے منفی رجحان میں بھی کمی دیکھی گئی جو جولائی تا اپریل کے منفی 1.377 ارب ڈالر سے بہتر ہوکر جولائی تا مئی میں منفی 1.145 ارب ڈالر رہ گئی جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی معمولی اضافہ ہوا  جو جولائی تا اپریل کے 1.409 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا مئی میں 1.623 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اور نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو دیے گئے قرضوں میں جولائی تا 15 مئی کے 880.6 ارب روپے کے مقابلے میں جولائی تا 12 جون کے دوران معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ 873.3 ارب روپے رہ گئے جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جون میں کریڈٹ میں یہ کمی کیوں اور کیسے ہوئی؟ تاہم اس کا استعمال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شرح نمو میں 0.1 فیصد کی کمی یعنی جولائی تا مارچ کے 6.5 فیصد سے کم ہو کر جولائی تا اپریل میں 6.4 فیصد ہونے کی توجیہ پیش کرنے کیلئے کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ان دونوں رپورٹس کا تعارف ضرورت سے زیادہ پرامید ہے، مئی کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جاری مالی سال علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی سے متعلق جھٹکوں کے باوجود ملکی معیشت مسلسل بہتری اور اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن رہی جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت بہتر میکرو اکنامک استحکام اور اقتصادی سرگرمیوں میں پائیدار بحالی کے ساتھ مالی سال 2026 کو ایک مضبوط بنیاد پر ختم کر رہی ہے۔</p>
<p>ان دونوں رپورٹس کے نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں، مئی کی اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں مجموعی طور پر رجحان کے مطابق ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جغرافیائی سیاسی خطرات سے مشروط بیرونی طلب مددگار ثابت ہو سکتی ہے جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں اس بات کو برقرار رکھا گیا کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں ان کی طویل مدتی صلاحیت کے مطابق ہیں جو کہ معاون بیرونی طلب کا اشارہ دیتی ہیں۔</p>
<p>افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے آزاد ماہرینِ معاشیات نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 22 فیصد بتایا ہے اور نہ ہی اس میں غربت کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر ہے جسے عالمی بینک نے کیلوریز (خوراک) کے پیمانے کی بنیاد پر 44 فیصد کی بلند سطح پر تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>امید کی جاتی ہے کہ یہ اپ ڈیٹس، اگر غربت کی سطح اور بے روزگاری کے اعدادوشمار کو نمایاں نہیں کرسکتیں تو کم از کم ان کی رپورٹنگ ضرور شروع کریں گی تاکہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے تحت سخت انقباضی مالی اور مانیٹری پالیسیوں (بشمول یوٹیلیٹی ریٹس بڑھانے کے انتظامی اقدامات) کے عام عوام پر پڑنے والے اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ رپورٹس محض کامیابیوں کا ایسا مجموعہ نہ بنیں جن کا اثر نچلی سطح پر کہیں محسوس ہی نہیں کیا جارہا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288362</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 13:58:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0612565114c7ca2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0612565114c7ca2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کا تحفظ والدین کے سمجھوتے سے بڑھ کر ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بچے کے نان و نفقہ سے متعلق ایک مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایک ایسے اصول کی توثیق کرتا ہے جس پر کبھی بھی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے: بچے کے حقوق والدین کی باہمی رضامندی یا سمجھوتے کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیے جا سکتے۔ یہ قرار دے کر کہ والدین کی رضامندی کسی ایسے انتظام کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی جو نابالغ بچے کی فلاح و بہبود کے منافی ہو، عدالت نے نہ صرف بچوں کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے بلکہ اس ذمہ داری کی بھی توثیق کی ہے کہ فیملی کورٹس بچوں کے مفادات کی محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ والدین کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے سے قطع نظر، بچے کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقدمے کے حقائق نہایت تشویش ناک ہیں۔ ایک باپ اور ماں نے باہمی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ماں نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ اپنی نابالغ بیٹی کے لیے مستقبل میں نان و نفقے کا کوئی دعویٰ نہیں کرے گی، اور مزید یہ بھی تسلیم کیا کہ بچی اپنے والد کی جائیداد میں وراثت کا حق بھی طلب نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نوعیت کا معاہدہ درحقیقت بچے کو ایسے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش تھا جو صرف اور صرف بچے کے اپنے حقوق ہیں اور جنہیں قانون اور اسلامی اصول دونوں مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا، ماں اپنے بچے کی جانب سے نان و نفقے کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے، لیکن وہ کسی ایسے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی جو اس کا اپنا حق ہی نہیں کہ وہ اسے معاف یا ترک کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اسلامی قانون کے تحت مقرر کردہ وراثت کے حقوق لازمی اور قطعی نوعیت کے حامل ہیں اور والدین کے درمیان نجی معاہدوں کے ذریعے انہیں کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسے سمجھوتوں کی اجازت دے دی جائے تو اس سے نہایت خطرناک نظائر قائم ہوں گے، جن کے نتیجے میں بے شمار بچے مالی اعتبار سے غیر محفوظ اور سماجی طور پر محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہم عدالت کی جانب سے فیملی کورٹس کے کردار کی وضاحت بھی ہے۔ اکثر خاندانی تنازعات میں مصالحت کو تنازع ختم کرنے کا تیز ترین ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ تاہم جہاں نابالغ بچوں کے مفادات وابستہ ہوں، وہاں عدالتیں محض معاہدوں کو ریکارڈ کرنے والے اداروں کا کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ قانون کے تحت ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر یہ جائزہ لیں کہ آیا کوئی بھی سمجھوتہ واقعی بچے کی فلاح و بہبود کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کی یہ ہدایت کہ ایسا کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا جائے جو بچے کے نان و نفقے یا وراثت کے حق سے مستقل دستبرداری پر مبنی ہو، اور یہ کہ جج ہر ایسے سمجھوتے کی منظوری دیتے وقت واضح اور مخصوص وجوہات ریکارڈ کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ مفاہمت نابالغ کے مفاد میں ہے، عدالتی جوابدہی کا ایک نہایت ضروری معیار متعارف کراتی ہے۔ یہ فیصلہ آئینی فریم ورک، فیملی کورٹس ایکٹ، گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ اور بچوں سے متعلق معاملات میں نافذ شدہ اس مسلمہ اصولِ فلاح و بہبود کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے، جس کے مطابق ہر فیصلے کا بنیادی معیار بچے کا بہترین مفاد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ عوامی شعور میں اضافے کا بھی باعث بننا چاہیے۔ بہت سے والدین شاید اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے کہ کسی خاندانی تنازعے کے آسان یا فوری تصفیے کی خاطر بچے کے قانونی حقوق کو سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح وکلا اور ثالثوں پر بھی ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے تمام معاہدے قانون کی حدود کے اندر ہوں اور کمزور و بے بس بچوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کی سہولت یا باہمی رضامندی پر بچے کی فلاح و بہبود کو فوقیت دے کر لاہور ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے کہ خاندانی معاملات میں انصاف کا معیار یہ نہیں کہ سمجھوتہ کتنی جلدی ہو گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان افراد کو کتنا مؤثر تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنی حفاظت خود کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بچے کے نان و نفقہ سے متعلق ایک مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایک ایسے اصول کی توثیق کرتا ہے جس پر کبھی بھی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے: بچے کے حقوق والدین کی باہمی رضامندی یا سمجھوتے کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیے جا سکتے۔ یہ قرار دے کر کہ والدین کی رضامندی کسی ایسے انتظام کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی جو نابالغ بچے کی فلاح و بہبود کے منافی ہو، عدالت نے نہ صرف بچوں کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے بلکہ اس ذمہ داری کی بھی توثیق کی ہے کہ فیملی کورٹس بچوں کے مفادات کی محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ والدین کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے سے قطع نظر، بچے کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس مقدمے کے حقائق نہایت تشویش ناک ہیں۔ ایک باپ اور ماں نے باہمی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ماں نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ اپنی نابالغ بیٹی کے لیے مستقبل میں نان و نفقے کا کوئی دعویٰ نہیں کرے گی، اور مزید یہ بھی تسلیم کیا کہ بچی اپنے والد کی جائیداد میں وراثت کا حق بھی طلب نہیں کرے گی۔</p>
<p>اس نوعیت کا معاہدہ درحقیقت بچے کو ایسے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش تھا جو صرف اور صرف بچے کے اپنے حقوق ہیں اور جنہیں قانون اور اسلامی اصول دونوں مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا، ماں اپنے بچے کی جانب سے نان و نفقے کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے، لیکن وہ کسی ایسے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی جو اس کا اپنا حق ہی نہیں کہ وہ اسے معاف یا ترک کر سکے۔</p>
<p>اسی طرح اسلامی قانون کے تحت مقرر کردہ وراثت کے حقوق لازمی اور قطعی نوعیت کے حامل ہیں اور والدین کے درمیان نجی معاہدوں کے ذریعے انہیں کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسے سمجھوتوں کی اجازت دے دی جائے تو اس سے نہایت خطرناک نظائر قائم ہوں گے، جن کے نتیجے میں بے شمار بچے مالی اعتبار سے غیر محفوظ اور سماجی طور پر محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اتنی ہی اہم عدالت کی جانب سے فیملی کورٹس کے کردار کی وضاحت بھی ہے۔ اکثر خاندانی تنازعات میں مصالحت کو تنازع ختم کرنے کا تیز ترین ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ تاہم جہاں نابالغ بچوں کے مفادات وابستہ ہوں، وہاں عدالتیں محض معاہدوں کو ریکارڈ کرنے والے اداروں کا کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ قانون کے تحت ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر یہ جائزہ لیں کہ آیا کوئی بھی سمجھوتہ واقعی بچے کی فلاح و بہبود کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>عدالت کی یہ ہدایت کہ ایسا کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا جائے جو بچے کے نان و نفقے یا وراثت کے حق سے مستقل دستبرداری پر مبنی ہو، اور یہ کہ جج ہر ایسے سمجھوتے کی منظوری دیتے وقت واضح اور مخصوص وجوہات ریکارڈ کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ مفاہمت نابالغ کے مفاد میں ہے، عدالتی جوابدہی کا ایک نہایت ضروری معیار متعارف کراتی ہے۔ یہ فیصلہ آئینی فریم ورک، فیملی کورٹس ایکٹ، گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ اور بچوں سے متعلق معاملات میں نافذ شدہ اس مسلمہ اصولِ فلاح و بہبود کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے، جس کے مطابق ہر فیصلے کا بنیادی معیار بچے کا بہترین مفاد ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ فیصلہ عوامی شعور میں اضافے کا بھی باعث بننا چاہیے۔ بہت سے والدین شاید اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے کہ کسی خاندانی تنازعے کے آسان یا فوری تصفیے کی خاطر بچے کے قانونی حقوق کو سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح وکلا اور ثالثوں پر بھی ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے تمام معاہدے قانون کی حدود کے اندر ہوں اور کمزور و بے بس بچوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کریں۔</p>
<p>والدین کی سہولت یا باہمی رضامندی پر بچے کی فلاح و بہبود کو فوقیت دے کر لاہور ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے کہ خاندانی معاملات میں انصاف کا معیار یہ نہیں کہ سمجھوتہ کتنی جلدی ہو گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان افراد کو کتنا مؤثر تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنی حفاظت خود کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288350</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 10:15:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0610124781a6654.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0610124781a6654.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مارگلہ ہلز نیشنل پارک، ماحول کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288323/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ دنوں مارگلہ ہلز نیشنل پارک پر منعقدہ ایک ویبینار میں ہونے والی بحث نے ایک بار پھر ایک ایسے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے جو ماحولیاتی اور قانونی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس قومی پارک — جو اس ملک کے نہایت قیمتی ماحولیاتی اثاثوں میں سے ایک ہے — سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس وقت وفاقی آئینی عدالت کے روبرو زیرِ سماعت نظرثانی کی درخواست محض زمین کے استعمال سے متعلق تنازع نہیں ہیں۔ درحقیقت، داؤ پر پاکستان کا ماحولیاتی تحفظ سے وابستگی کا عزم، قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کے اصول لگے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارگلہ ہلز نیشنل پارک محض وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک دلکش قدرتی منظر نہیں ہے۔ اس کی ماحولیاتی اہمیت اس کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے اور براہِ راست لاکھوں شہریوں کے معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ منفرد قدرتی مناظر پر مشتمل یہ پارک جنگلی حیات اور نباتاتی انواع کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بے حد قیمتی ماحولیاتی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک قدرتی کاربن سنک  کے طور پر یہ مقامی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، آبی ذخائر کے قدرتی نظام  کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع  کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ اور موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں ایسے قدرتی اثاثے ناگزیر ہیں اور ان کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ، جس میں غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور ماحول کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا گیا ہے، غیر مبہم اور مکمل حمایت کا مستحق ہے۔ تحفظ کے مقاصد کے لیے قائم کیے گئے محفوظ قدرتی علاقوں کو تجارتی مفادات یا انتظامی سہولت پسندی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ قومی پارک کے اندر ماحولیاتی تحفظ کے ضوابط میں کسی بھی قسم کی نرمی ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے، جو ملک بھر میں ماحول کے  تحفظ کی کوششوں کو کمزور کر دے گی۔ تاہم چیلنج صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں۔ جیسا کہ ویبینار میں متعدد ماہرین نے نشاندہی کی، پاکستان کا ماحولیاتی نظم و نسق کا نظام اکثر کمزور عمل درآمد کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہو پاتا۔ قوانین، ضوابط اور عدالتی احکامات صرف اسی صورت اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں جب متعلقہ اداروں کے پاس نہ صرف ان پر عمل درآمد کی صلاحیت موجود ہو بلکہ ایسا کرنے کا پختہ عزم بھی ہو۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیاں ناکافی نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری اور احتساب کے مسلسل فقدان کے باعث جاری رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی قدر اہم زمین کے استعمال کے ضابطہ بندی  کا سوال بھی ہے۔ پارک کے اندر ریستورانوں، سیاحتی سہولیات اور دیگر تعمیرات سے متعلق تمام مباحث سائنسی بنیادوں پر منظور شدہ ماسٹر پلانز اور تحفظِ ماحول کے مقاصد کی روشنی میں ہونے چاہییں، نہ کہ قلیل مدتی تجارتی مفادات کی بنیاد پر۔ ترقی کو کسی بھی صورت ماحولیاتی سالمیت  کی قیمت پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ ذمہ دارانہ سیاحت ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم پارک کے اندر ہونے والی ہر سرگرمی کو اس کے بنیادی مقصد، یعنی ایک محفوظ قدرتی علاقے کے تحفظ، کے تابع رہنا چاہیے۔ آلودگی اور فضلہ  کے انتظام سے متعلق اٹھائے گئے خدشات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں کی توسیع ایک ایسی جامع حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے جو ماحولیاتی بگاڑ کو روکے اور پارک کے پائیدار انتظام کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ محض قانونی موشگافیوں یا ادارہ جاتی تنازعات تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے قومی ورثے کے تحفظ کا معاملہ ہے جو ایک بار ضائع ہو جائے تو دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی سازوں، نگران اداروں اور شہریوں، سب کو اس صورتحال کے تقاضے کے مطابق فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماحولیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور اس بنیادی اصول کی دوبارہ توثیق کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقوں کے انتظام میں ماحول کا تحفظ ہی مرکزی حیثیت رکھنا چاہیے۔ یہ ایسا موقع ہے جسے کسی بھی صورت ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ دنوں مارگلہ ہلز نیشنل پارک پر منعقدہ ایک ویبینار میں ہونے والی بحث نے ایک بار پھر ایک ایسے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے جو ماحولیاتی اور قانونی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس قومی پارک — جو اس ملک کے نہایت قیمتی ماحولیاتی اثاثوں میں سے ایک ہے — سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس وقت وفاقی آئینی عدالت کے روبرو زیرِ سماعت نظرثانی کی درخواست محض زمین کے استعمال سے متعلق تنازع نہیں ہیں۔ درحقیقت، داؤ پر پاکستان کا ماحولیاتی تحفظ سے وابستگی کا عزم، قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کے اصول لگے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>مارگلہ ہلز نیشنل پارک محض وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک دلکش قدرتی منظر نہیں ہے۔ اس کی ماحولیاتی اہمیت اس کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے اور براہِ راست لاکھوں شہریوں کے معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ منفرد قدرتی مناظر پر مشتمل یہ پارک جنگلی حیات اور نباتاتی انواع کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بے حد قیمتی ماحولیاتی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک قدرتی کاربن سنک  کے طور پر یہ مقامی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، آبی ذخائر کے قدرتی نظام  کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع  کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ اور موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں ایسے قدرتی اثاثے ناگزیر ہیں اور ان کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ، جس میں غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور ماحول کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا گیا ہے، غیر مبہم اور مکمل حمایت کا مستحق ہے۔ تحفظ کے مقاصد کے لیے قائم کیے گئے محفوظ قدرتی علاقوں کو تجارتی مفادات یا انتظامی سہولت پسندی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ قومی پارک کے اندر ماحولیاتی تحفظ کے ضوابط میں کسی بھی قسم کی نرمی ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے، جو ملک بھر میں ماحول کے  تحفظ کی کوششوں کو کمزور کر دے گی۔ تاہم چیلنج صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں۔ جیسا کہ ویبینار میں متعدد ماہرین نے نشاندہی کی، پاکستان کا ماحولیاتی نظم و نسق کا نظام اکثر کمزور عمل درآمد کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہو پاتا۔ قوانین، ضوابط اور عدالتی احکامات صرف اسی صورت اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں جب متعلقہ اداروں کے پاس نہ صرف ان پر عمل درآمد کی صلاحیت موجود ہو بلکہ ایسا کرنے کا پختہ عزم بھی ہو۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیاں ناکافی نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری اور احتساب کے مسلسل فقدان کے باعث جاری رہتی ہیں۔</p>
<p>اسی قدر اہم زمین کے استعمال کے ضابطہ بندی  کا سوال بھی ہے۔ پارک کے اندر ریستورانوں، سیاحتی سہولیات اور دیگر تعمیرات سے متعلق تمام مباحث سائنسی بنیادوں پر منظور شدہ ماسٹر پلانز اور تحفظِ ماحول کے مقاصد کی روشنی میں ہونے چاہییں، نہ کہ قلیل مدتی تجارتی مفادات کی بنیاد پر۔ ترقی کو کسی بھی صورت ماحولیاتی سالمیت  کی قیمت پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ ذمہ دارانہ سیاحت ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم پارک کے اندر ہونے والی ہر سرگرمی کو اس کے بنیادی مقصد، یعنی ایک محفوظ قدرتی علاقے کے تحفظ، کے تابع رہنا چاہیے۔ آلودگی اور فضلہ  کے انتظام سے متعلق اٹھائے گئے خدشات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں کی توسیع ایک ایسی جامع حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے جو ماحولیاتی بگاڑ کو روکے اور پارک کے پائیدار انتظام کو یقینی بنائے۔</p>
<p>یہ معاملہ محض قانونی موشگافیوں یا ادارہ جاتی تنازعات تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے قومی ورثے کے تحفظ کا معاملہ ہے جو ایک بار ضائع ہو جائے تو دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی سازوں، نگران اداروں اور شہریوں، سب کو اس صورتحال کے تقاضے کے مطابق فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماحولیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور اس بنیادی اصول کی دوبارہ توثیق کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقوں کے انتظام میں ماحول کا تحفظ ہی مرکزی حیثیت رکھنا چاہیے۔ یہ ایسا موقع ہے جسے کسی بھی صورت ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288323</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 12:02:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/05120049d366689.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/05120049d366689.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی آبادکاری کا بے لگام پھیلاؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288324/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں حالیہ بحث نے ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے جسے اب نظر انداز کرنا دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی سرگرمیاں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل  کے پہلے ہی محدود امکانات کو بتدریج ختم کر رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے تحت اس مسلمہ مؤقف کو دہرایا کہ 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی آبادیاں کسی بھی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے  میں ان بستیوں کی توسیع کئی دہائیوں کی بین الاقوامی تنقید کے باوجود مسلسل جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی تشویش کا باعث اسرائیل کا ای-ون راہداری  کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جو مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل  کو منقطع کر دے گا اور ایک قابلِ عمل اور باہم منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ اسی دوران غزہ میں انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ وسیع پیمانے پر بھوک، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کے نظام کے انہدام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات شہری آبادی کی تکالیف کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سلامتی سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل میں پاکستان کی مداخلت ان خدشات کی عکاسی کرتی تھی جن کا اظہار اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی ایک وسیع تعداد، بشمول سلامتی کونسل کے بعض یورپی اراکین، نے بھی کیا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 4,750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا ان کی پیش رفت اور اسرائیلی کابینہ کی جانب سے 34 نئی آبادکاریوں کی منظوری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارہ حالیہ تاریخ میں آبادکاری کی توسیع کی سب سے بڑی اور مہلک ترین لہر کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسی نوعیت کے خیالات کئی دیگر وفود نے بھی پیش کیے، جس سے واضح ہوا کہ آبادکاری کی توسیع کی مخالفت صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کی بازگشت دنیا کے مختلف حصوں میں سنائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ کو بے لگام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ 1967 کے بعد مغربی کنارے میں بدترین نقل مکانی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کی نئی چوکیوں میں اضافے نے تشدد کو ہوا دی ہے، فلسطینیوں کی اپنی زمینوں تک رسائی محدود کر دی ہے اور امن کے لیے سازگار حالات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ ای-ون علاقے کی ترقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کے لیے نہایت سنگین نتائج پیدا کرے گی اور دو ریاستی حل کے لیے، ان کے الفاظ میں، وجودی خطرہ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل کی یہ بحث ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم تشویش کے بار بار اظہار کے باوجود نہ تو آبادکاری کی توسیع کو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی انسانی بحران میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ اگر اسرائیل کی موجودہ پالیسی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہی تو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کا امکان مزید معدوم ہوتا جائے گا، جس کے اثرات صرف اسرائیل فلسطین تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی استحکام اور پہلے ہی دباؤ کا شکار قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام  کی ساکھ کو بھی متاثر کریں گے۔ اس لیے سلامتی کونسل کے سامنے اصل چیلنج اصولوں کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں حالیہ بحث نے ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے جسے اب نظر انداز کرنا دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی سرگرمیاں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل  کے پہلے ہی محدود امکانات کو بتدریج ختم کر رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے تحت اس مسلمہ مؤقف کو دہرایا کہ 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی آبادیاں کسی بھی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے  میں ان بستیوں کی توسیع کئی دہائیوں کی بین الاقوامی تنقید کے باوجود مسلسل جاری ہے۔</strong></p>
<p>خصوصی تشویش کا باعث اسرائیل کا ای-ون راہداری  کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جو مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل  کو منقطع کر دے گا اور ایک قابلِ عمل اور باہم منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ اسی دوران غزہ میں انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ وسیع پیمانے پر بھوک، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کے نظام کے انہدام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات شہری آبادی کی تکالیف کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سلامتی سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔</p>
<p>سلامتی کونسل میں پاکستان کی مداخلت ان خدشات کی عکاسی کرتی تھی جن کا اظہار اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی ایک وسیع تعداد، بشمول سلامتی کونسل کے بعض یورپی اراکین، نے بھی کیا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 4,750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا ان کی پیش رفت اور اسرائیلی کابینہ کی جانب سے 34 نئی آبادکاریوں کی منظوری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارہ حالیہ تاریخ میں آبادکاری کی توسیع کی سب سے بڑی اور مہلک ترین لہر کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسی نوعیت کے خیالات کئی دیگر وفود نے بھی پیش کیے، جس سے واضح ہوا کہ آبادکاری کی توسیع کی مخالفت صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کی بازگشت دنیا کے مختلف حصوں میں سنائی دے رہی ہے۔</p>
<p>مغربی کنارے سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ کو بے لگام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ 1967 کے بعد مغربی کنارے میں بدترین نقل مکانی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کی نئی چوکیوں میں اضافے نے تشدد کو ہوا دی ہے، فلسطینیوں کی اپنی زمینوں تک رسائی محدود کر دی ہے اور امن کے لیے سازگار حالات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ ای-ون علاقے کی ترقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کے لیے نہایت سنگین نتائج پیدا کرے گی اور دو ریاستی حل کے لیے، ان کے الفاظ میں، وجودی خطرہ ثابت ہوگی۔</p>
<p>سلامتی کونسل کی یہ بحث ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم تشویش کے بار بار اظہار کے باوجود نہ تو آبادکاری کی توسیع کو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی انسانی بحران میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ اگر اسرائیل کی موجودہ پالیسی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہی تو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کا امکان مزید معدوم ہوتا جائے گا، جس کے اثرات صرف اسرائیل فلسطین تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی استحکام اور پہلے ہی دباؤ کا شکار قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام  کی ساکھ کو بھی متاثر کریں گے۔ اس لیے سلامتی کونسل کے سامنے اصل چیلنج اصولوں کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288324</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 12:12:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/05120953b9a35cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/05120953b9a35cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈٹ رپورٹ کے باوجود ذمہ داروں کا احتساب نہ ہو سکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288292/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر چند ہفتوں بعد آڈٹ کی ایک نئی رپورٹ پاکستان کے سرکاری شعبے کے کسی نہ کسی ادارے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اداروں کے نام بدل جاتے ہیں، محکمے تبدیل ہو جاتے ہیں اور اعداد و شمار میں فرق آ جاتا ہے، مگر بنیادی کہانی تقریباً ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ مالی بدانتظامی، داخلی نگرانی کے کمزور نظام، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، قوانین پر ناقص عملدرآمد اور احتساب کا واضح فقدان ملک کے انتظامی ڈھانچے کی مستقل خصوصیات بنتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کی تازہ آڈٹ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں میں موجود ایک گہرے اور وسیع ادارہ جاتی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ کے نتائج بذاتِ خود انتہائی تشویشناک ہیں۔ 3.656 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ، قانونی تقاضوں کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنے، مالی نگرانی کے کمزور نظام، سرکاری فنڈز کے مشتبہ استعمال، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر بار بار عمل نہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض انفرادی یا انتظامی غلطیاں نہیں بلکہ گورننس کے نظام میں موجود گہرے اور منظم نقائص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے وقت میں جب برآمدات میں اضافہ پاکستان کی اہم ترین معاشی ترجیحات میں شامل ہے، ملک کی برآمدات کے فروغ کی ذمہ دار ادارے میں اس نوعیت کی کوتاہیوں اور بے ضابطگیوں کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹڈاپ پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں نہایت اہم اور تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے ادارے کی ساکھ، مؤثر کارکردگی اور سرکاری وسائل کا نظم و نسق انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ ہونا ضروری ہے، مگر آڈٹ رپورٹ ایک ایسے ادارے کی تصویر پیش کرتی ہے جو کسی بھی سرکاری ادارے سے متوقع بنیادی قانونی اور مالیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صرف ٹڈاپ تک اس معاملے کو محدود رکھنا اصل اور زیادہ اہم مسئلے سے نظریں ہٹانے کے مترجم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو بھی شخص پاکستان کی آڈٹ رپورٹس کو معمولی باقاعدگی کے ساتھ بھی پڑھتا ہے وہ بخوبی پہچان لے گا کہ یہی نمونہ متعدد وزارتوں، محکموں، اتھارٹیز اور سرکاری اداروں میں دہرایا جا رہا ہے۔ ایک ادارے کو خریداری میں بے ضابطگیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرے ادارے میں داخلی کنٹرول کی کمزوریوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تیسرا ادارہ قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے۔ چوتھا ادارہ سرکاری فنڈز کی ریکوری میں ناکام رہتا ہے۔ رپورٹس الگ الگ، مگر نتائج حیران کن حد تک ایک جیسے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان  سے متعلق بعض آڈٹ مشاہدات خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ٹڈاپ ایکٹ کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنا مالیاتی نظم و نسق میں ایک بنیادی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئی بھی سرکاری ادارہ اس وقت تک شفافیت کا مؤثر دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک وہ وہی بنیادی مالیاتی دستاویزات تیار نہ کرے جن کی بنیاد پر اس کی شفافیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح داخلی نگرانی کے نظام میں مسلسل کمزوریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بے ضابطگیوں کی بروقت روک تھام کے بجائے بعد میں ان کی وضاحت پیش کرنا گویا ادارہ جاتی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات پاکستان کے زیادہ بنیادی طرزِ حکمرانی کے مسئلے کی طرف لے جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں آڈٹ کی کمی نہیں ہے۔ اس کے برعکس آڈٹ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، مالی نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہیں، اصلاحی اقدامات تجویز کرتے ہیں اور ذمہ دار افسران کی شناخت کرتے ہیں۔ اصل کمزوری کہیں اور ہے۔ جب سرخیاں ماند پڑجاتی ہیں تو یہ رپورٹس رفتہ رفتہ عوامی بحث سے غائب ہو جاتی ہیں۔ مہینوں بعد انہی میں سے بہت سی مشاہدات دوبارہ بعد کے آڈٹ میں سامنے آتے ہیں جن میں اکثر وہی ادارے اور کبھی کبھی وہی خامیاں ملوث ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسا احتساب کا نظام جو بار بار مسائل کی نشاندہی تو کرے مگر مستقل بنیادوں پر انہیں حل نہ کرے، بالآخر اپنی بہت سی تادیبی اہمیت کھو دیتا ہے۔ سرکاری افسران منفی آڈٹ مشاہدات کو سنگین پیشہ ورانہ نتائج کے بجائے محض انتظامی رکاوٹیں سمجھنے لگتے ہیں۔ دریں اثنا، شہریوں کا یہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے کہ نگران ادارے کسی بامعنی اصلاح کا باعث بنتے ہیں، انہیں یہ صرف جانی پہچانی ناکامیوں کی وقتاً فوقتاً دستاویزی کارروائی محسوس ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ سلسلہ اب ختم ہونا ضروری ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ایک ایسے شفاف اور ادارہ جاتی طریقہ کار کی ضرورت ہے جس کے تحت بڑی منفی آڈٹ رپورٹس کا سامنا کرنے والے ہر سرکاری ادارے کے لیے یہ لازمی ہو کہ وہ وقتاً فوقتاً عملدرآمد کی رپورٹس شائع کرے۔ پارلیمنٹ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور عوام کو اس بات کی نگرانی کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کن سفارشات پر عمل ہوا ہے، کون سی تاحال التوا میں ہیں، کس کا احتساب کیا گیا ہے اور حل نہ ہونے والے معاملات کیوں برقرار ہیں۔ احتساب کا عمل آڈٹ رپورٹ کی اشاعت پر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو وہ مقام ہے جہاں سے اسے شروع ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹڈاپ آڈٹ میں دی گئی سفارشات مکمل طور پر معقول ہیں۔ مالی گوشوارے وقت پر تیار ہونے چاہئیں۔ محصولات کا انتظام سختی سے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ خریداری کے قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ زیر التوا آڈٹ مشاہدات کو دوبارہ استعمال کرنے کے بجائے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چیلنج کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گورننس کا مسئلہ نہ تو ٹڈاپ تک محدود ہے اور نہ ہی کسی ایک وزارت یا محکمے تک۔ یہ ایک ایسے کلچر کی عکاسی کرتا ہے جہاں آڈٹ تو متاثر کن باقاعدگی کے ساتھ کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد حیران کن لاتعلقی کے ساتھ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک نتائج  اتنے ہی معمول بن جائیں جتنے خود آڈٹ کے نتائج ہوتے ہیں، تب تک اس جیسی رپورٹس اس بیماری کی علامات کو دستاویزی شکل دیتی رہیں گی جسے ہر کوئی تسلیم تو کرتا ہے مگر بہت کم لوگ ہی اس کے علاج کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر چند ہفتوں بعد آڈٹ کی ایک نئی رپورٹ پاکستان کے سرکاری شعبے کے کسی نہ کسی ادارے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اداروں کے نام بدل جاتے ہیں، محکمے تبدیل ہو جاتے ہیں اور اعداد و شمار میں فرق آ جاتا ہے، مگر بنیادی کہانی تقریباً ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ مالی بدانتظامی، داخلی نگرانی کے کمزور نظام، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، قوانین پر ناقص عملدرآمد اور احتساب کا واضح فقدان ملک کے انتظامی ڈھانچے کی مستقل خصوصیات بنتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کی تازہ آڈٹ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں میں موجود ایک گہرے اور وسیع ادارہ جاتی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔</strong></p>
<p>اور یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>آڈٹ کے نتائج بذاتِ خود انتہائی تشویشناک ہیں۔ 3.656 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ، قانونی تقاضوں کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنے، مالی نگرانی کے کمزور نظام، سرکاری فنڈز کے مشتبہ استعمال، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر بار بار عمل نہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض انفرادی یا انتظامی غلطیاں نہیں بلکہ گورننس کے نظام میں موجود گہرے اور منظم نقائص ہیں۔</p>
<p>ایسے وقت میں جب برآمدات میں اضافہ پاکستان کی اہم ترین معاشی ترجیحات میں شامل ہے، ملک کی برآمدات کے فروغ کی ذمہ دار ادارے میں اس نوعیت کی کوتاہیوں اور بے ضابطگیوں کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہے۔</p>
<p>ٹڈاپ پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں نہایت اہم اور تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے ادارے کی ساکھ، مؤثر کارکردگی اور سرکاری وسائل کا نظم و نسق انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ ہونا ضروری ہے، مگر آڈٹ رپورٹ ایک ایسے ادارے کی تصویر پیش کرتی ہے جو کسی بھی سرکاری ادارے سے متوقع بنیادی قانونی اور مالیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>تاہم صرف ٹڈاپ تک اس معاملے کو محدود رکھنا اصل اور زیادہ اہم مسئلے سے نظریں ہٹانے کے مترجم ہوگا۔</p>
<p>جو بھی شخص پاکستان کی آڈٹ رپورٹس کو معمولی باقاعدگی کے ساتھ بھی پڑھتا ہے وہ بخوبی پہچان لے گا کہ یہی نمونہ متعدد وزارتوں، محکموں، اتھارٹیز اور سرکاری اداروں میں دہرایا جا رہا ہے۔ ایک ادارے کو خریداری میں بے ضابطگیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرے ادارے میں داخلی کنٹرول کی کمزوریوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تیسرا ادارہ قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے۔ چوتھا ادارہ سرکاری فنڈز کی ریکوری میں ناکام رہتا ہے۔ رپورٹس الگ الگ، مگر نتائج حیران کن حد تک ایک جیسے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان  سے متعلق بعض آڈٹ مشاہدات خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ٹڈاپ ایکٹ کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنا مالیاتی نظم و نسق میں ایک بنیادی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئی بھی سرکاری ادارہ اس وقت تک شفافیت کا مؤثر دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک وہ وہی بنیادی مالیاتی دستاویزات تیار نہ کرے جن کی بنیاد پر اس کی شفافیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح داخلی نگرانی کے نظام میں مسلسل کمزوریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بے ضابطگیوں کی بروقت روک تھام کے بجائے بعد میں ان کی وضاحت پیش کرنا گویا ادارہ جاتی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ بات پاکستان کے زیادہ بنیادی طرزِ حکمرانی کے مسئلے کی طرف لے جاتی ہے۔</p>
<p>ملک میں آڈٹ کی کمی نہیں ہے۔ اس کے برعکس آڈٹ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، مالی نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہیں، اصلاحی اقدامات تجویز کرتے ہیں اور ذمہ دار افسران کی شناخت کرتے ہیں۔ اصل کمزوری کہیں اور ہے۔ جب سرخیاں ماند پڑجاتی ہیں تو یہ رپورٹس رفتہ رفتہ عوامی بحث سے غائب ہو جاتی ہیں۔ مہینوں بعد انہی میں سے بہت سی مشاہدات دوبارہ بعد کے آڈٹ میں سامنے آتے ہیں جن میں اکثر وہی ادارے اور کبھی کبھی وہی خامیاں ملوث ہوتی ہیں۔</p>
<p>ایک ایسا احتساب کا نظام جو بار بار مسائل کی نشاندہی تو کرے مگر مستقل بنیادوں پر انہیں حل نہ کرے، بالآخر اپنی بہت سی تادیبی اہمیت کھو دیتا ہے۔ سرکاری افسران منفی آڈٹ مشاہدات کو سنگین پیشہ ورانہ نتائج کے بجائے محض انتظامی رکاوٹیں سمجھنے لگتے ہیں۔ دریں اثنا، شہریوں کا یہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے کہ نگران ادارے کسی بامعنی اصلاح کا باعث بنتے ہیں، انہیں یہ صرف جانی پہچانی ناکامیوں کی وقتاً فوقتاً دستاویزی کارروائی محسوس ہونے لگتی ہے۔</p>
<p><strong>یہ سلسلہ اب ختم ہونا ضروری ہے</strong></p>
<p>پاکستان کو ایک ایسے شفاف اور ادارہ جاتی طریقہ کار کی ضرورت ہے جس کے تحت بڑی منفی آڈٹ رپورٹس کا سامنا کرنے والے ہر سرکاری ادارے کے لیے یہ لازمی ہو کہ وہ وقتاً فوقتاً عملدرآمد کی رپورٹس شائع کرے۔ پارلیمنٹ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور عوام کو اس بات کی نگرانی کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کن سفارشات پر عمل ہوا ہے، کون سی تاحال التوا میں ہیں، کس کا احتساب کیا گیا ہے اور حل نہ ہونے والے معاملات کیوں برقرار ہیں۔ احتساب کا عمل آڈٹ رپورٹ کی اشاعت پر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو وہ مقام ہے جہاں سے اسے شروع ہونا چاہیے۔</p>
<p>ٹڈاپ آڈٹ میں دی گئی سفارشات مکمل طور پر معقول ہیں۔ مالی گوشوارے وقت پر تیار ہونے چاہئیں۔ محصولات کا انتظام سختی سے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ خریداری کے قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ زیر التوا آڈٹ مشاہدات کو دوبارہ استعمال کرنے کے بجائے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>تاہم چیلنج کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>پاکستان میں گورننس کا مسئلہ نہ تو ٹڈاپ تک محدود ہے اور نہ ہی کسی ایک وزارت یا محکمے تک۔ یہ ایک ایسے کلچر کی عکاسی کرتا ہے جہاں آڈٹ تو متاثر کن باقاعدگی کے ساتھ کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد حیران کن لاتعلقی کے ساتھ ہوتا ہے۔</p>
<p>جب تک نتائج  اتنے ہی معمول بن جائیں جتنے خود آڈٹ کے نتائج ہوتے ہیں، تب تک اس جیسی رپورٹس اس بیماری کی علامات کو دستاویزی شکل دیتی رہیں گی جسے ہر کوئی تسلیم تو کرتا ہے مگر بہت کم لوگ ہی اس کے علاج کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288292</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 15:24:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/041459304f7217c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/041459304f7217c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئینی تحفظات کو کمزور کرنے کے خطرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288310/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ دنوں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے منشیات سے متعلق مقدمات میں فرانزک ماہرین کی رپورٹس کے قابلِ قبول ہونے سے متعلق دیا گیا فیصلہ مؤثر قانون نافذ کرنے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اکثریتی فیصلے میں چار کے مقابلے میں ایک کی رائے سے قرار دیا گیا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ٹیسٹوں کی صرف نشاندہی کرنا ہی کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز رولز 2001 کے رول 6 کی تعمیل کے لیے کافی ہے۔ تاہم جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ خصوصی توجہ کا مستحق ہے، کیونکہ اس میں انہوں نے قانونی طریقۂ کار کے تحفظات کو کمزور کرنے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مشاہدات پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جہاں جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کا یہ خدشہ کہ منشیات سے متعلق قوانین کو اکثر سیاسی مخالفین یا بااثر شخصیات کے ناپسندیدہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کی اصلاح ناگزیر ہے۔ چونکہ پاکستان کے انسدادِ منشیات قوانین کے تحت سزا کی صورت میں طویل قید، بھاری جرمانے اور عمر بھر کا سماجی داغ لگ سکتا ہے، اس لیے قانونی تحفظات محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ انصاف کی ممکنہ پامالی سے بچانے کے لیے بنیادی ضمانت ہیں۔ جیسا کہ جسٹس ملک شہزاد نے نشاندہی کی، اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ اصول واضح کر چکی ہیں کہ ”جتنی سخت سزا، اتنا ہی مضبوط معیارِ ثبوت“۔ موجودہ معاملے میں یہ اصول اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ غلط سزا کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقاضا کہ سرکاری تجزیہ کار اپنی رپورٹس میں مکمل جانچ کا طریقۂ کار (ٹیسٹنگ پروٹوکولز) فراہم کریں، ایک اہم مقصد رکھتا ہے۔ اس سے عدالتوں، وکلاے صفائی اور آزاد ماہرین کو فرانزک نتائج کی بنیاد بننے والے طریقوں اور مراحل کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ سائنسی شواہد کی ساکھ صرف تجزیہ کار کی اہلیت پر نہیں بلکہ اس پورے عمل کی شفافیت اور تصدیق پذیری پر قائم ہوتی ہے۔ اگر رپورٹ محض کیے گئے ٹیسٹوں کی فہرست تک محدود ہو جائے تو اس کا مؤثر جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف شواہد بلکہ عدالتی کارروائی کی شفافیت پر بھی عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے جسٹس ملک شہزاد کا آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-اے پر انحصار نہایت مؤثر معلوم ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق سلوک کیے جانے کا حق اور منصفانہ ٹرائل کا حق محض نظریاتی اصول نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کے من مانی استعمال کے خلاف عملی ضمانتیں ہیں۔ لہٰذا قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد میں درج طریقۂ کار کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ انصاف کو یقینی بنانے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، کیونکہ یہ عوامی صحت اور معاشرتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، مگر مؤثر کارروائی کے نام پر قانونی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف کو غلط سزاؤں کے خطرے سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ کسی بھی فوجداری مقدمے کی قانونی و اخلاقی حیثیت صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ مجرم کو سزا ملے، بلکہ اس پر بھی کہ بے گناہ افراد کو ریاستی اختیارات کے غلط استعمال سے محفوظ رکھا جائے۔ ایسے مقدمات میں، جہاں کسی شخص کی آزادی، ساکھ اور مستقبل داؤ پر لگا ہو، شواہد سے متعلق قانونی تحفظات پر سختی سے عمل کرنا نہ صرف اخلاقی تقاضا ہے بلکہ آئینی ذمہ داری بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ دنوں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے منشیات سے متعلق مقدمات میں فرانزک ماہرین کی رپورٹس کے قابلِ قبول ہونے سے متعلق دیا گیا فیصلہ مؤثر قانون نافذ کرنے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اکثریتی فیصلے میں چار کے مقابلے میں ایک کی رائے سے قرار دیا گیا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ٹیسٹوں کی صرف نشاندہی کرنا ہی کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز رولز 2001 کے رول 6 کی تعمیل کے لیے کافی ہے۔ تاہم جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ خصوصی توجہ کا مستحق ہے، کیونکہ اس میں انہوں نے قانونی طریقۂ کار کے تحفظات کو کمزور کرنے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے۔</strong></p>
<p>ان کے مشاہدات پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جہاں جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کا یہ خدشہ کہ منشیات سے متعلق قوانین کو اکثر سیاسی مخالفین یا بااثر شخصیات کے ناپسندیدہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کی اصلاح ناگزیر ہے۔ چونکہ پاکستان کے انسدادِ منشیات قوانین کے تحت سزا کی صورت میں طویل قید، بھاری جرمانے اور عمر بھر کا سماجی داغ لگ سکتا ہے، اس لیے قانونی تحفظات محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ انصاف کی ممکنہ پامالی سے بچانے کے لیے بنیادی ضمانت ہیں۔ جیسا کہ جسٹس ملک شہزاد نے نشاندہی کی، اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ اصول واضح کر چکی ہیں کہ ”جتنی سخت سزا، اتنا ہی مضبوط معیارِ ثبوت“۔ موجودہ معاملے میں یہ اصول اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ غلط سزا کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ تقاضا کہ سرکاری تجزیہ کار اپنی رپورٹس میں مکمل جانچ کا طریقۂ کار (ٹیسٹنگ پروٹوکولز) فراہم کریں، ایک اہم مقصد رکھتا ہے۔ اس سے عدالتوں، وکلاے صفائی اور آزاد ماہرین کو فرانزک نتائج کی بنیاد بننے والے طریقوں اور مراحل کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ سائنسی شواہد کی ساکھ صرف تجزیہ کار کی اہلیت پر نہیں بلکہ اس پورے عمل کی شفافیت اور تصدیق پذیری پر قائم ہوتی ہے۔ اگر رپورٹ محض کیے گئے ٹیسٹوں کی فہرست تک محدود ہو جائے تو اس کا مؤثر جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف شواہد بلکہ عدالتی کارروائی کی شفافیت پر بھی عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے جسٹس ملک شہزاد کا آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-اے پر انحصار نہایت مؤثر معلوم ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق سلوک کیے جانے کا حق اور منصفانہ ٹرائل کا حق محض نظریاتی اصول نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کے من مانی استعمال کے خلاف عملی ضمانتیں ہیں۔ لہٰذا قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد میں درج طریقۂ کار کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ انصاف کو یقینی بنانے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، کیونکہ یہ عوامی صحت اور معاشرتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، مگر مؤثر کارروائی کے نام پر قانونی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف کو غلط سزاؤں کے خطرے سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ کسی بھی فوجداری مقدمے کی قانونی و اخلاقی حیثیت صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ مجرم کو سزا ملے، بلکہ اس پر بھی کہ بے گناہ افراد کو ریاستی اختیارات کے غلط استعمال سے محفوظ رکھا جائے۔ ایسے مقدمات میں، جہاں کسی شخص کی آزادی، ساکھ اور مستقبل داؤ پر لگا ہو، شواہد سے متعلق قانونی تحفظات پر سختی سے عمل کرنا نہ صرف اخلاقی تقاضا ہے بلکہ آئینی ذمہ داری بھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288310</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 22:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/042224430587db9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/042224430587db9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمزور ہوتی مانیٹری پالیسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288245/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر یقینی حالات میں استحکام کا انتظام: پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا کردار کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبینار میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض حسین نے بجا طور پر اس امر پر تنقید کی کہ حکومت کی جانب سے بینکاری شعبے سے حد سے زیادہ قرض لینا، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور غیر دستاویزی معیشت سخت مانیٹری پالیسی کی مؤثریت کو کمزور کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض حسین نے کہا کہ حکومت کی بھاری قرض گیری کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی محدود ہو جاتی ہے کیونکہ بینک زیادہ خطرات والے نجی کاروباری منصوبوں کو قرض دینے کے بجائے کم خطرے والی سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے دعوے کے خلاف کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی، تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومتی قرضوں کے منفی اثرات میں اس حالیہ رپورٹ شدہ کامیاب کوشش کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ہے جس میں کمرشل بینکنگ سیکٹر (14 بینکوں) کو پاور سیکٹر کے لیے 1.25 ٹریلین روپے کا قرض دینے پر مجبور کیا گیا حالانکہ بینک اس شعبے میں پہلے ہی اپنی حد سے زیادہ سرمایہ کاری اور قرض کے باعث مزید قرض دینے سے گریزاں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر حسین نے مزید کہا کہ انتظامی اقدامات کے ذریعے یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافہ جو کہ آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط کا حصہ ہے اور ایندھن کی بلند قیمتیں (جس میں پیٹرولیم لیوی پر انحصار وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے، نہ صرف اس لیے کہ اسے ’آسانی سے حاصل ہونے والا پھل سمجھا جاتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ریونیو پیدا کرنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو ڈیویزیبل پول کا حصہ نہیں ہے)  ایسی پالیسی فیصلے ہیں جو طلب  کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار پھر اس مؤقف سے اختلاف کی گنجائش نہیں، تاہم یہ انتظامی اقدامات ڈونرز کے کہنے پر کیے جاتے ہیں کیونکہ پاور سیکٹر اپنی لاگت کی مکمل وصولی یقینی بنانے سے قاصر ہے جس سے لاگت اور آمدنی کے درمیان خلیج بڑھتی ہے اور یہ صورتحال گردشی قرضوں کو ہوا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اوسطاً 750 ارب روپے کی خطیر ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی پالیسی ترک کرنے کے بجائے مالی سال 2026-27 کے لیے کے الیکٹرک کو 163 ارب روپے کی سبسڈی سمیت یہ رقم بجٹ میں مختص کررہی ہے جبکہ اس کے لیے زیادہ قرض لینے پر انحصار کیا جا رہا ہے اور اس قرض پر ادا کیے جانے والے سود کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر آپشن یہ ہوگا کہ حکومت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ایسی قیمتیں وصول کرنے کی اجازت دے جو ان کی لاگت کی عکاسی کرتی ہوں جس سے وہ نقصانات (ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن) کو کم کرنے کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر حسین نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ بالواسطہ ٹیکس افراطِ زر (مہنگائی) کو بڑھاتے ہیں جس پر مانیٹری پالیسی کا سخت ہونا قابو پانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ اگرچہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے دلیل دی کہ یہ اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ قیمتوں کے ایسے جھٹکے ’کور انفلیشن‘ (بنیادی افراطِ زر) میں سرایت نہ کریں جسے ہدف کی حد تک واپس لانا بہت مشکل ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں صارف قیمت انڈیکس  میں مسلسل اضافہ بالآخر کاروبار کے روزمرہ اخراجات کو بڑھا دے گا، یعنی ٹرانسپورٹ، یوٹیلیٹیز اور عمومی آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ جو بدلے میں کور انفلیشن میں شامل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالواسطہ ٹیکس حکومتی محصولات کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور اگلے سال کے لیے ان کا بجٹ 7.6 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ اگرچہ تمام براہ راست ٹیکسوں کا 70 فیصد سیلز ٹیکس (جو کہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے) کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے، جس کا مطلب اضافی 5.3 ٹریلین روپے ہے۔ پیٹرولیم لیوی جس کا بجٹ 1.675 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے اور جسے دیگر ٹیکسوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہ بھی ایک اور بالواسطہ ٹیکس ہے۔ اس طرح اگلے سال حکومت کا بالواسطہ ٹیکسوں پر کل انحصار 14.975 ٹریلین روپے تک پہنچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیز معیشت کا بڑا غیر دستاویزی شعبہ جو کہ 20 سے 30 فیصد پر محیط ہے نظام کے لیے ایک اور بڑا نقصان ہے اور مانیٹری پالیسی کے اثرات کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ڈاکٹر فیاض حسین نے کہا کہ اگر مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ نافذ کی جائیں تو معاشی ترقی کی رفتار زیادہ بہتر ہو سکتی ہے اور متعدد تجرباتی مطالعات بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک  نے اپنی فارورڈ واجبات کو جنوری 2023 میں 5.7 ارب ڈالر سے کم کر کے موجودہ وقت میں 1.9 ارب ڈالر تک محدود کردیا ہے جس سے حکومت کو بنیادی مالیاتی سرپلس کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر فیاض حسین کے اٹھائے گئے نکات یقیناً درست اور قابلِ توجہ ہیں اور ان پر نہ صرف ان کالموں میں بارہا زور دیا جاتا رہا ہے بلکہ آزاد معاشی تجزیہ کار بھی مسلسل ان کی نشاندہی کرتے رہے ہیں، تاہم یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ آیا ایسے ٹیکس اصلاحات، جن کا مقصد ادائیگی کی استطاعت کے اصول کی بنیاد پر براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کو مضبوط بنانا ہے، ان مسائل کا مؤثر حل ثابت ہو سکیں گی یا نہیں۔ اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں کیا پرائمری سرپلس کا ہدف جاری اخراجات میں کٹوتی اور اس کے نتیجے میں قرضوں پر انحصار کم کرکے حاصل کیا جاسکے گا؟ یہ فی الحال ایک دیوانے کا خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور آخر کار مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے مابین ہم آہنگی قائم کرنے کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اب اپنی اندرونی مہارت پر انحصار کرے گی یا پھر موجودہ صورتحال کی طرح آئی ایم ایف کی سخت پیشگی شرائط کے نفاذ کا ہی سہارا لیا جاتا رہے گا؟ یہ بھی بعید از امکان ہی لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غیر یقینی حالات میں استحکام کا انتظام: پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا کردار کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبینار میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض حسین نے بجا طور پر اس امر پر تنقید کی کہ حکومت کی جانب سے بینکاری شعبے سے حد سے زیادہ قرض لینا، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور غیر دستاویزی معیشت سخت مانیٹری پالیسی کی مؤثریت کو کمزور کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض حسین نے کہا کہ حکومت کی بھاری قرض گیری کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی محدود ہو جاتی ہے کیونکہ بینک زیادہ خطرات والے نجی کاروباری منصوبوں کو قرض دینے کے بجائے کم خطرے والی سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>اس کے دعوے کے خلاف کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی، تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومتی قرضوں کے منفی اثرات میں اس حالیہ رپورٹ شدہ کامیاب کوشش کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ہے جس میں کمرشل بینکنگ سیکٹر (14 بینکوں) کو پاور سیکٹر کے لیے 1.25 ٹریلین روپے کا قرض دینے پر مجبور کیا گیا حالانکہ بینک اس شعبے میں پہلے ہی اپنی حد سے زیادہ سرمایہ کاری اور قرض کے باعث مزید قرض دینے سے گریزاں تھے۔</p>
<p>ڈاکٹر حسین نے مزید کہا کہ انتظامی اقدامات کے ذریعے یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافہ جو کہ آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط کا حصہ ہے اور ایندھن کی بلند قیمتیں (جس میں پیٹرولیم لیوی پر انحصار وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے، نہ صرف اس لیے کہ اسے ’آسانی سے حاصل ہونے والا پھل سمجھا جاتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ریونیو پیدا کرنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو ڈیویزیبل پول کا حصہ نہیں ہے)  ایسی پالیسی فیصلے ہیں جو طلب  کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>ایک بار پھر اس مؤقف سے اختلاف کی گنجائش نہیں، تاہم یہ انتظامی اقدامات ڈونرز کے کہنے پر کیے جاتے ہیں کیونکہ پاور سیکٹر اپنی لاگت کی مکمل وصولی یقینی بنانے سے قاصر ہے جس سے لاگت اور آمدنی کے درمیان خلیج بڑھتی ہے اور یہ صورتحال گردشی قرضوں کو ہوا دیتی ہے۔</p>
<p>حکومت اوسطاً 750 ارب روپے کی خطیر ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی پالیسی ترک کرنے کے بجائے مالی سال 2026-27 کے لیے کے الیکٹرک کو 163 ارب روپے کی سبسڈی سمیت یہ رقم بجٹ میں مختص کررہی ہے جبکہ اس کے لیے زیادہ قرض لینے پر انحصار کیا جا رہا ہے اور اس قرض پر ادا کیے جانے والے سود کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>بہتر آپشن یہ ہوگا کہ حکومت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ایسی قیمتیں وصول کرنے کی اجازت دے جو ان کی لاگت کی عکاسی کرتی ہوں جس سے وہ نقصانات (ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن) کو کم کرنے کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور ہوں گی۔</p>
<p>ڈاکٹر حسین نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ بالواسطہ ٹیکس افراطِ زر (مہنگائی) کو بڑھاتے ہیں جس پر مانیٹری پالیسی کا سخت ہونا قابو پانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ اگرچہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے دلیل دی کہ یہ اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ قیمتوں کے ایسے جھٹکے ’کور انفلیشن‘ (بنیادی افراطِ زر) میں سرایت نہ کریں جسے ہدف کی حد تک واپس لانا بہت مشکل ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں صارف قیمت انڈیکس  میں مسلسل اضافہ بالآخر کاروبار کے روزمرہ اخراجات کو بڑھا دے گا، یعنی ٹرانسپورٹ، یوٹیلیٹیز اور عمومی آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ جو بدلے میں کور انفلیشن میں شامل ہو جائے گا۔</p>
<p>بالواسطہ ٹیکس حکومتی محصولات کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور اگلے سال کے لیے ان کا بجٹ 7.6 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ اگرچہ تمام براہ راست ٹیکسوں کا 70 فیصد سیلز ٹیکس (جو کہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے) کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے، جس کا مطلب اضافی 5.3 ٹریلین روپے ہے۔ پیٹرولیم لیوی جس کا بجٹ 1.675 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے اور جسے دیگر ٹیکسوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہ بھی ایک اور بالواسطہ ٹیکس ہے۔ اس طرح اگلے سال حکومت کا بالواسطہ ٹیکسوں پر کل انحصار 14.975 ٹریلین روپے تک پہنچ جاتا ہے۔</p>
<p>نیز معیشت کا بڑا غیر دستاویزی شعبہ جو کہ 20 سے 30 فیصد پر محیط ہے نظام کے لیے ایک اور بڑا نقصان ہے اور مانیٹری پالیسی کے اثرات کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>آخر میں ڈاکٹر فیاض حسین نے کہا کہ اگر مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ نافذ کی جائیں تو معاشی ترقی کی رفتار زیادہ بہتر ہو سکتی ہے اور متعدد تجرباتی مطالعات بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک  نے اپنی فارورڈ واجبات کو جنوری 2023 میں 5.7 ارب ڈالر سے کم کر کے موجودہ وقت میں 1.9 ارب ڈالر تک محدود کردیا ہے جس سے حکومت کو بنیادی مالیاتی سرپلس کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملی۔</p>
<p>ڈاکٹر فیاض حسین کے اٹھائے گئے نکات یقیناً درست اور قابلِ توجہ ہیں اور ان پر نہ صرف ان کالموں میں بارہا زور دیا جاتا رہا ہے بلکہ آزاد معاشی تجزیہ کار بھی مسلسل ان کی نشاندہی کرتے رہے ہیں، تاہم یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ آیا ایسے ٹیکس اصلاحات، جن کا مقصد ادائیگی کی استطاعت کے اصول کی بنیاد پر براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کو مضبوط بنانا ہے، ان مسائل کا مؤثر حل ثابت ہو سکیں گی یا نہیں۔ اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p>مزید برآں کیا پرائمری سرپلس کا ہدف جاری اخراجات میں کٹوتی اور اس کے نتیجے میں قرضوں پر انحصار کم کرکے حاصل کیا جاسکے گا؟ یہ فی الحال ایک دیوانے کا خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور آخر کار مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے مابین ہم آہنگی قائم کرنے کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اب اپنی اندرونی مہارت پر انحصار کرے گی یا پھر موجودہ صورتحال کی طرح آئی ایم ایف کی سخت پیشگی شرائط کے نفاذ کا ہی سہارا لیا جاتا رہے گا؟ یہ بھی بعید از امکان ہی لگتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288245</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 12:18:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0311542658d7a9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0311542658d7a9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غفلت کی المناک داستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، جس میں کم از کم 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد دیگر زخمی ہوئے، محض ایک افسوسناک حادثہ نہیں۔ یہ سرکاری غفلت، کمزور ریگولیٹری عملدرآمد اور ریاست کی جانب سے تمام بچوں کو محفوظ، قابلِ رسائی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مسلسل ناکامی پر ایک تباہ کن فردِ جرم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں سے معمول کے مطابق افسوس اور تعزیت کے اظہار مناسب ہیں، لیکن وہ نہ تو جوابدہی کا متبادل بن سکتے ہیں اور نہ ہی بامعنی اصلاحات کا۔ جب تک ایسے سانحات کے پس پردہ موجود ساختی وجوہات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، قابلِ تدارک آفات کے بعد تعزیت کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے فوری اور تشویش ناک سوال یہ ہے کہ بچوں کو ایسی عمارت میں تعلیم کیوں دی جا رہی تھی جہاں تعمیراتی کام ابھی جاری تھا۔ اگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھت گرنے کے وقت عمارت میں مزدور کام کر رہے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار افراد نے کمسن جانوں کے تحفظ کے حوالے سے حیران کن حد تک بے حسی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی تشویش ناک بات یہ ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس قدر خطرناک صورتِ حال کا نہ تو بروقت سراغ لگا سکے اور نہ ہی اسے روک سکے۔ تعمیراتی ضوابط کسی وجہ سے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد غیر مستقل، کمزور یا بعض اوقات مکمل طور پر غائب رہتا ہے، جس کے باعث غیر محفوظ عمارتیں اس وقت تک زیر استعمال رہتی ہیں جب تک کوئی سانحہ رونما نہ ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سانحہ گورننس کے ایک وسیع تر بحران کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ خصوصاً مون سون کے موسم میں چھتوں کا گر جانا پاکستان کی خبروں میں بار بار دہرایا جانے والا حصہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات بارہا ناقص تعمیراتی معیار، ناکافی معائنوں اور اس رویے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں جس میں قوانین کو لازمی تقاضا سمجھنے کے بجائے اختیاری ہدایت تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے میں مجرمانہ غفلت ثابت ہو جاتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلااستثنا قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکام کو پورے صوبے میں رہائشی عمارتوں میں قائم نجی اسکولوں، ٹیوشن سینٹروں اور دیگر تعلیمی اداروں کا جامع آڈٹ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیراتی تحفظ سے متعلق سوالات سے آگے ایک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے، جو ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق ہے۔ اس سانحے کا شکار ہونے والے بچے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے تھے، جن کے والدین نے محدود مالی وسائل کے باوجود انہیں اضافی تعلیم دلانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ عزم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اب بھی تعلیم کو بہتر مستقبل کی راہ سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ لاکھوں والدین آج بھی وہ ذمہ داریاں خود اٹھا رہے ہیں جو آئین واضح طور پر ریاست پر عائد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کا آرٹیکل 25-اے پانچ سے 16 سال کی عمر کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن غیر رسمی ٹیوشن سینٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، جو اکثر غیر موزوں عمارتوں میں قائم ہیں، بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کے معیار اور رسائی میں سنگین خلا موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف آئین اسکولی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتِ پنجاب نے ہزاروں سرکاری اسکولوں کے انتظامی امور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، نجی آپریٹرز اور تعلیمی فاؤنڈیشنز کے سپرد کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ شراکت داری اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن ذمہ داری کی منتقلی ریاستی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ تعلیم محض ایک ایسی خدمت نہیں جسے کسی دوسرے کے سپرد کر دیا جائے؛ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مسلسل سرکاری سرمایہ کاری، مؤثر ضابطہ بندی اور غیر متزلزل نگرانی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاہنہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے بچوں کو چھت گرنے سے بہت پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا تھا۔ انہیں غیر محفوظ تعمیراتی طریقوں، کمزور عملدرآمد، اور ایسے تعلیمی نظام نے ناکام بنایا جس نے ان کے خاندانوں کے پاس قابلِ عمل متبادل تقریباً ختم کر دیے تھے۔ ان بچوں کی اموات کو ایسی اصلاحات کا نقطۂ آغاز بننا چاہیے جو بچوں کے تحفظ اور معیاری تعلیم کے ان کے بنیادی حق کو انتظامی سہولت اور سرکاری بے حسی پر ہمیشہ ترجیح دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، جس میں کم از کم 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد دیگر زخمی ہوئے، محض ایک افسوسناک حادثہ نہیں۔ یہ سرکاری غفلت، کمزور ریگولیٹری عملدرآمد اور ریاست کی جانب سے تمام بچوں کو محفوظ، قابلِ رسائی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مسلسل ناکامی پر ایک تباہ کن فردِ جرم ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں سے معمول کے مطابق افسوس اور تعزیت کے اظہار مناسب ہیں، لیکن وہ نہ تو جوابدہی کا متبادل بن سکتے ہیں اور نہ ہی بامعنی اصلاحات کا۔ جب تک ایسے سانحات کے پس پردہ موجود ساختی وجوہات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، قابلِ تدارک آفات کے بعد تعزیت کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔</p>
<p>سب سے فوری اور تشویش ناک سوال یہ ہے کہ بچوں کو ایسی عمارت میں تعلیم کیوں دی جا رہی تھی جہاں تعمیراتی کام ابھی جاری تھا۔ اگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھت گرنے کے وقت عمارت میں مزدور کام کر رہے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار افراد نے کمسن جانوں کے تحفظ کے حوالے سے حیران کن حد تک بے حسی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>اتنی ہی تشویش ناک بات یہ ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس قدر خطرناک صورتِ حال کا نہ تو بروقت سراغ لگا سکے اور نہ ہی اسے روک سکے۔ تعمیراتی ضوابط کسی وجہ سے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد غیر مستقل، کمزور یا بعض اوقات مکمل طور پر غائب رہتا ہے، جس کے باعث غیر محفوظ عمارتیں اس وقت تک زیر استعمال رہتی ہیں جب تک کوئی سانحہ رونما نہ ہو جائے۔</p>
<p>یہ سانحہ گورننس کے ایک وسیع تر بحران کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ خصوصاً مون سون کے موسم میں چھتوں کا گر جانا پاکستان کی خبروں میں بار بار دہرایا جانے والا حصہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات بارہا ناقص تعمیراتی معیار، ناکافی معائنوں اور اس رویے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں جس میں قوانین کو لازمی تقاضا سمجھنے کے بجائے اختیاری ہدایت تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے میں مجرمانہ غفلت ثابت ہو جاتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلااستثنا قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکام کو پورے صوبے میں رہائشی عمارتوں میں قائم نجی اسکولوں، ٹیوشن سینٹروں اور دیگر تعلیمی اداروں کا جامع آڈٹ کرنا چاہیے۔</p>
<p>تعمیراتی تحفظ سے متعلق سوالات سے آگے ایک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے، جو ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق ہے۔ اس سانحے کا شکار ہونے والے بچے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے تھے، جن کے والدین نے محدود مالی وسائل کے باوجود انہیں اضافی تعلیم دلانے کی کوشش کی۔</p>
<p>ان کا یہ عزم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اب بھی تعلیم کو بہتر مستقبل کی راہ سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ لاکھوں والدین آج بھی وہ ذمہ داریاں خود اٹھا رہے ہیں جو آئین واضح طور پر ریاست پر عائد کرتا ہے۔</p>
<p>آئین کا آرٹیکل 25-اے پانچ سے 16 سال کی عمر کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن غیر رسمی ٹیوشن سینٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، جو اکثر غیر موزوں عمارتوں میں قائم ہیں، بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کے معیار اور رسائی میں سنگین خلا موجود ہیں۔</p>
<p>ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف آئین اسکولی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتِ پنجاب نے ہزاروں سرکاری اسکولوں کے انتظامی امور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، نجی آپریٹرز اور تعلیمی فاؤنڈیشنز کے سپرد کر دیے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ شراکت داری اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن ذمہ داری کی منتقلی ریاستی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ تعلیم محض ایک ایسی خدمت نہیں جسے کسی دوسرے کے سپرد کر دیا جائے؛ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مسلسل سرکاری سرمایہ کاری، مؤثر ضابطہ بندی اور غیر متزلزل نگرانی ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاہنہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے بچوں کو چھت گرنے سے بہت پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا تھا۔ انہیں غیر محفوظ تعمیراتی طریقوں، کمزور عملدرآمد، اور ایسے تعلیمی نظام نے ناکام بنایا جس نے ان کے خاندانوں کے پاس قابلِ عمل متبادل تقریباً ختم کر دیے تھے۔ ان بچوں کی اموات کو ایسی اصلاحات کا نقطۂ آغاز بننا چاہیے جو بچوں کے تحفظ اور معیاری تعلیم کے ان کے بنیادی حق کو انتظامی سہولت اور سرکاری بے حسی پر ہمیشہ ترجیح دیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288238</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 09:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0309462508aadd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0309462508aadd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دو دفعہ کمی کے باوجود ٹیکس وصولی ہدف حاصل نہ ہوسکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288202/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ مالی سال (یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026) کے دوران 12.957 کھرب روپے محصولات جمع کیے، جو مالی سال 2026-27 کی بجٹ دستاویزات میں پیش کیے گئے 12.983 کھرب روپے کے تخمینے سے 26 ارب روپے کم ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر کے محصولات کا بجٹ ہدف دو مرتبہ کمی کی طرف نظرثانی کیا گیا، جو ایک ایسا رجحان ہے جو گزشتہ کئی مالی سالوں سے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر اہم معاشی اشاریوں، جن میں بجٹ خسارہ اور قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ شامل ہے، میں بھی ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی  محصولات کا تخمینہ 13 کھرب روپے سے زائد لگایا گیا، تاہم چونکہ ایف بی آر نے 40 ارب روپے سے زیادہ کے ریفنڈز جاری کیے، جو کاروباری برادری خصوصاً برآمد کنندگان کا ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ تھا، اس لیے خالص  محصولات کو مناسب طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔ مالی سال کے اختتام پر خالص وصولیاں سال کے لیے مقررہ 14.131 کھرب روپے کے بجٹ ہدف کا 92 فیصد رہیں۔ یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مشترکہ طور پر مقرر کیا گیا ہدف حد سے زیادہ پرامید تھا، خاص طور پر اس لیے کہ بجٹ کی آئی ایم ایف سے منظوری جاری قرض پروگرام کی ایک لازمی شرط تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا بجٹ ہدف 15.2643 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے گزشتہ سال کی حقیقی وصولیوں کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافے کی ضرورت ہوگی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو اور فنانس بل 2026 کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد بھی ضروری ہوگا۔ تاہم موجودہ حالات میں، جب آئی ایم ایف سے طے شدہ سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں پر عمل کیا جا رہا ہے، یہ شرائط انتہائی چیلنجنگ دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد ماہرینِ معاشیات اور ٹیکس کنسلٹنٹس پہلے ہی اس ہدف کے حصول کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں کا تسلسل نئے مالی سال میں معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا، جس کے باعث ایف بی آر کے لیے مقررہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بجٹ میں عمومی طور پر ایف بی آر کے لیے غیر حقیقی محصولات کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ بجٹ خسارے کو پائیدار ظاہر کیا جا سکے۔ بعد ازاں جب یہ حد سے زیادہ پرامید اہداف حاصل نہیں ہو پاتے تو عموماً تین طریقوں سے صورتحال کو سنبھالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ یہ رجحان ان برسوں میں مزید نمایاں ہوتا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہوتا ہے، جیسا کہ بدقسمتی سے ملک کی 79 سالہ تاریخ کے بیشتر عرصے میں ہوتا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے 24ویں پروگرام میں شامل ہے، جس کی اوسط مدت تین سال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، ایف بی آر کو سخت اور تعزیری نوعیت کے اقدامات پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بورڈ کے مقدمات  کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ متاثرہ فریق عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال سرمائے کے بیرونِ ملک انخلا  کو بھی فروغ دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، حکومت بجٹ میں طے شدہ مقدار سے زیادہ قرض لیتی ہے، جو ایک نہایت افراطِ زر پیدا کرنے والی پالیسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی بجٹ میں قرضوں پر سود کی مد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں پر سود کی مد میں مختص رقم موجودہ اخراجات  کا 46 فیصد ہے، جو گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے کے برابر ہے، حالانکہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کے باعث سودی ادائیگیوں میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، حقیقت پسندانہ محصولات کے اہداف کا تعین ملک کے اہم معاشی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے، تاہم پاکستان مسلسل ان بنیادی معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ مالی سال (یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026) کے دوران 12.957 کھرب روپے محصولات جمع کیے، جو مالی سال 2026-27 کی بجٹ دستاویزات میں پیش کیے گئے 12.983 کھرب روپے کے تخمینے سے 26 ارب روپے کم ہیں۔</strong></p>
<p>گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر کے محصولات کا بجٹ ہدف دو مرتبہ کمی کی طرف نظرثانی کیا گیا، جو ایک ایسا رجحان ہے جو گزشتہ کئی مالی سالوں سے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر اہم معاشی اشاریوں، جن میں بجٹ خسارہ اور قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ شامل ہے، میں بھی ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی  محصولات کا تخمینہ 13 کھرب روپے سے زائد لگایا گیا، تاہم چونکہ ایف بی آر نے 40 ارب روپے سے زیادہ کے ریفنڈز جاری کیے، جو کاروباری برادری خصوصاً برآمد کنندگان کا ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ تھا، اس لیے خالص  محصولات کو مناسب طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔ مالی سال کے اختتام پر خالص وصولیاں سال کے لیے مقررہ 14.131 کھرب روپے کے بجٹ ہدف کا 92 فیصد رہیں۔ یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مشترکہ طور پر مقرر کیا گیا ہدف حد سے زیادہ پرامید تھا، خاص طور پر اس لیے کہ بجٹ کی آئی ایم ایف سے منظوری جاری قرض پروگرام کی ایک لازمی شرط تھی۔</p>
<p>رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا بجٹ ہدف 15.2643 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے گزشتہ سال کی حقیقی وصولیوں کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافے کی ضرورت ہوگی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو اور فنانس بل 2026 کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد بھی ضروری ہوگا۔ تاہم موجودہ حالات میں، جب آئی ایم ایف سے طے شدہ سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں پر عمل کیا جا رہا ہے، یہ شرائط انتہائی چیلنجنگ دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>آزاد ماہرینِ معاشیات اور ٹیکس کنسلٹنٹس پہلے ہی اس ہدف کے حصول کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں کا تسلسل نئے مالی سال میں معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا، جس کے باعث ایف بی آر کے لیے مقررہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بجٹ میں عمومی طور پر ایف بی آر کے لیے غیر حقیقی محصولات کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ بجٹ خسارے کو پائیدار ظاہر کیا جا سکے۔ بعد ازاں جب یہ حد سے زیادہ پرامید اہداف حاصل نہیں ہو پاتے تو عموماً تین طریقوں سے صورتحال کو سنبھالا جاتا ہے۔</p>
<p>اول، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ یہ رجحان ان برسوں میں مزید نمایاں ہوتا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہوتا ہے، جیسا کہ بدقسمتی سے ملک کی 79 سالہ تاریخ کے بیشتر عرصے میں ہوتا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے 24ویں پروگرام میں شامل ہے، جس کی اوسط مدت تین سال رہی ہے۔</p>
<p>دوم، ایف بی آر کو سخت اور تعزیری نوعیت کے اقدامات پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بورڈ کے مقدمات  کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ متاثرہ فریق عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال سرمائے کے بیرونِ ملک انخلا  کو بھی فروغ دیتی ہے۔</p>
<p>سوم، حکومت بجٹ میں طے شدہ مقدار سے زیادہ قرض لیتی ہے، جو ایک نہایت افراطِ زر پیدا کرنے والی پالیسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی بجٹ میں قرضوں پر سود کی مد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں پر سود کی مد میں مختص رقم موجودہ اخراجات  کا 46 فیصد ہے، جو گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے کے برابر ہے، حالانکہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کے باعث سودی ادائیگیوں میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔</p>
<p>آخر میں، حقیقت پسندانہ محصولات کے اہداف کا تعین ملک کے اہم معاشی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے، تاہم پاکستان مسلسل ان بنیادی معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288202</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:01:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/021048104c07de1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/021048104c07de1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشت گردی کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288203/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرحد پار دہشت گردی پاکستان کے سکیورٹی ماحول کا ایک قابلِ قبول حصہ نہیں بن سکتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پاکستان رینجرز کی ایک چوکی پر حالیہ حملہ، اور اس کے بعد افغان سرحد کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے حملے، ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا اب دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گرد تنظیمیں کئی برسوں سے جاری مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود اب بھی خود کو منظم کرنے، نئی بھرتیاں کرنے، تربیت فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی صلاحیتیں بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر محفوظ پناہ گاہوں کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے پاکستان کا مؤقف نہ صرف معقول ہے بلکہ بین الاقوامی قانون سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے، بلکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے، کہ وہ اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو منظم دہشت گردی سے محفوظ رکھے۔ سفارت کاری ہمیشہ ریاستی معاملات چلانے کا اولین ذریعہ ہونی چاہیے، لیکن جب بین الاقوامی سرحد کے اُس پار سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہوں تو سفارت کاری کو غیر معینہ مدت تک صرف صبر و تحمل کی مشق نہیں بن جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ آیا افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ہے یا نہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اپنے خدشات پیش کر چکا ہے۔ حملوں کا مسلسل سلسلہ، سرحد پار روابط رکھنے والے مشتبہ افراد کی گرفتاریاں اور کابل کے سامنے بار بار سفارتی احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برسوں کی بات چیت کے باوجود یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں افغان طالبان حکومت پر ایک واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر حکومت اپنی سرزمین پر اختیار رکھتی ہے اور اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ اس کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ خودمختار ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے والے بنیادی ترین اصولوں میں سے ایک ہے۔ اگر افغانستان کے اندر دہشت گرد تنظیمیں اب بھی آزادانہ طور پر سرگرم ہیں تو اس کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری اُن حکام پر عائد ہوتی ہے جو وہاں اقتدار اور اختیار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج صرف پاکستان کی فوری سکیورٹی تشویشات تک محدود نہیں ہیں۔ افغانستان اب بھی سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی برادری کے بڑے حصے کی جانب سے اسے تاحال باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ ملک کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا انحصار بھی عالمی تعاون میں اضافے پر ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیموں کو سرگرم رہنے کی اجازت دینا نہ صرف اس سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کرتا ہے بلکہ معمول کے تعلقات کی بحالی کے امکانات کو بھی مزید کمزور بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکمتِ عملی بالآخر خود افغانستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ جو ریاستیں شدت پسند گروہوں کو برداشت کرتی ہیں، وہ اکثر یہ دیکھتی ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی تنظیمیں اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتی ہیں۔ انتہا پسند نیٹ ورک شاذ و نادر ہی کسی ایک مقصد یا ایک سرحد تک محدود رہتے ہیں۔ وہ عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ریاستی رٹ کو کمزور کرتے ہیں اور بالآخر انہی حکومتوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جو کبھی یہ سمجھتی تھیں کہ وہ انہیں قابو میں رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں پاکستان کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کو دیکھا جانا چاہیے۔ کوئی بھی ذمہ دار حکومت اپنے علاقے پر بار بار ہونے والے حملوں کو محض اس امید پر برداشت نہیں کر سکتی کہ حالات کسی وقت خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ جب سفارتی کوششیں بارہا قابلِ پیمائش نتائج دینے میں ناکام رہیں تو حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف دفاعی کارروائی ناگزیر ہوتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ردعمل میں یہ امتیاز بھی برقرار رہنا چاہیے کہ دہشت گرد عناصر اور عام افغان شہریوں میں واضح فرق رکھا جائے۔ لاکھوں افغان خود کئی دہائیوں سے جنگ، بے گھر ہونے اور تشدد کا شکار رہے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی تمام کوششوں کا ہدف صرف دہشت گرد نیٹ ورکس اور انہیں پناہ دینے والے عناصر ہونے چاہییں، نہ کہ وہ بے گناہ شہری جن کی زندگی پہلے ہی انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم طویل المدتی حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن دہشت گرد نیٹ ورکس کو منتشر کر سکتے ہیں اور فوری خطرات کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن اگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برقرار رہیں تو وہ سرحد کو مستقل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتے۔ دیرپا استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے درمیان حقیقی تعاون اور اس بات کے غیر مبہم عزم کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کو کہیں بھی سرگرم ہونے کی جگہ نہیں دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا افغان طالبان حکومت کے سامنے ایک ایسا انتخاب موجود ہے جو خطے کے مستقبل کے امن و سلامتی کا تعین کرے گا۔ وہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر سکتی ہے، پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کا ازالہ کر سکتی ہے اور یہ ثابت کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کی خواہاں ہے۔ یا پھر وہ اسی راستے پر چلتی رہ سکتی ہے جو اسے مزید سفارتی تنہائی، معاشی مشکلات اور اپنے دفاع پر مجبور ممالک کی جانب سے مزید مؤثر اور سخت سکیورٹی اقدامات کی طرف لے جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خون کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردی کی مسلسل برآمد کو برداشت کرتا رہے۔ اور نہ ہی دنیا کی کسی خودمختار حکومت سے ایسی توقع کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرحد پار دہشت گردی پاکستان کے سکیورٹی ماحول کا ایک قابلِ قبول حصہ نہیں بن سکتی۔</strong></p>
<p>کراچی میں پاکستان رینجرز کی ایک چوکی پر حالیہ حملہ، اور اس کے بعد افغان سرحد کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے حملے، ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا اب دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>دہشت گرد تنظیمیں کئی برسوں سے جاری مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود اب بھی خود کو منظم کرنے، نئی بھرتیاں کرنے، تربیت فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی صلاحیتیں بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر محفوظ پناہ گاہوں کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتیں۔</p>
<p>اس لیے پاکستان کا مؤقف نہ صرف معقول ہے بلکہ بین الاقوامی قانون سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے، بلکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے، کہ وہ اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو منظم دہشت گردی سے محفوظ رکھے۔ سفارت کاری ہمیشہ ریاستی معاملات چلانے کا اولین ذریعہ ہونی چاہیے، لیکن جب بین الاقوامی سرحد کے اُس پار سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہوں تو سفارت کاری کو غیر معینہ مدت تک صرف صبر و تحمل کی مشق نہیں بن جانا چاہیے۔</p>
<p>اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ آیا افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ہے یا نہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اپنے خدشات پیش کر چکا ہے۔ حملوں کا مسلسل سلسلہ، سرحد پار روابط رکھنے والے مشتبہ افراد کی گرفتاریاں اور کابل کے سامنے بار بار سفارتی احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برسوں کی بات چیت کے باوجود یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>اس صورتحال میں افغان طالبان حکومت پر ایک واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>ہر حکومت اپنی سرزمین پر اختیار رکھتی ہے اور اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ اس کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ خودمختار ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے والے بنیادی ترین اصولوں میں سے ایک ہے۔ اگر افغانستان کے اندر دہشت گرد تنظیمیں اب بھی آزادانہ طور پر سرگرم ہیں تو اس کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری اُن حکام پر عائد ہوتی ہے جو وہاں اقتدار اور اختیار رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتائج صرف پاکستان کی فوری سکیورٹی تشویشات تک محدود نہیں ہیں۔ افغانستان اب بھی سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی برادری کے بڑے حصے کی جانب سے اسے تاحال باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ ملک کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا انحصار بھی عالمی تعاون میں اضافے پر ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیموں کو سرگرم رہنے کی اجازت دینا نہ صرف اس سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کرتا ہے بلکہ معمول کے تعلقات کی بحالی کے امکانات کو بھی مزید کمزور بناتا ہے۔</p>
<p>یہ حکمتِ عملی بالآخر خود افغانستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ جو ریاستیں شدت پسند گروہوں کو برداشت کرتی ہیں، وہ اکثر یہ دیکھتی ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی تنظیمیں اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتی ہیں۔ انتہا پسند نیٹ ورک شاذ و نادر ہی کسی ایک مقصد یا ایک سرحد تک محدود رہتے ہیں۔ وہ عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ریاستی رٹ کو کمزور کرتے ہیں اور بالآخر انہی حکومتوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جو کبھی یہ سمجھتی تھیں کہ وہ انہیں قابو میں رکھ سکتی ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں پاکستان کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کو دیکھا جانا چاہیے۔ کوئی بھی ذمہ دار حکومت اپنے علاقے پر بار بار ہونے والے حملوں کو محض اس امید پر برداشت نہیں کر سکتی کہ حالات کسی وقت خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ جب سفارتی کوششیں بارہا قابلِ پیمائش نتائج دینے میں ناکام رہیں تو حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف دفاعی کارروائی ناگزیر ہوتی جاتی ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ردعمل میں یہ امتیاز بھی برقرار رہنا چاہیے کہ دہشت گرد عناصر اور عام افغان شہریوں میں واضح فرق رکھا جائے۔ لاکھوں افغان خود کئی دہائیوں سے جنگ، بے گھر ہونے اور تشدد کا شکار رہے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی تمام کوششوں کا ہدف صرف دہشت گرد نیٹ ورکس اور انہیں پناہ دینے والے عناصر ہونے چاہییں، نہ کہ وہ بے گناہ شہری جن کی زندگی پہلے ہی انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہے۔</p>
<p>تاہم طویل المدتی حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن دہشت گرد نیٹ ورکس کو منتشر کر سکتے ہیں اور فوری خطرات کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن اگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برقرار رہیں تو وہ سرحد کو مستقل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتے۔ دیرپا استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے درمیان حقیقی تعاون اور اس بات کے غیر مبہم عزم کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کو کہیں بھی سرگرم ہونے کی جگہ نہیں دی جائے۔</p>
<p>لہٰذا افغان طالبان حکومت کے سامنے ایک ایسا انتخاب موجود ہے جو خطے کے مستقبل کے امن و سلامتی کا تعین کرے گا۔ وہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر سکتی ہے، پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کا ازالہ کر سکتی ہے اور یہ ثابت کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کی خواہاں ہے۔ یا پھر وہ اسی راستے پر چلتی رہ سکتی ہے جو اسے مزید سفارتی تنہائی، معاشی مشکلات اور اپنے دفاع پر مجبور ممالک کی جانب سے مزید مؤثر اور سخت سکیورٹی اقدامات کی طرف لے جائے گا۔</p>
<p>پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خون کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردی کی مسلسل برآمد کو برداشت کرتا رہے۔ اور نہ ہی دنیا کی کسی خودمختار حکومت سے ایسی توقع کی جانی چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288203</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:14:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/02111136101bf89.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/02111136101bf89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلدیاتی خلا، عوامی مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے جمہوری ارتقا کی داستان کئی حوالوں سے اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکامی کی عکاس ہے جس کے گورننس اور ترقی دونوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی نمایاں منتقلی کی گئی اور مقامی حکومتوں کو عوامی شمولیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی بنیاد قرار دیا گیا، تاہم مختلف ادوار میں صوبوں میں برسراقتدار رہنے والی جماعتوں نے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کیا۔ اس طرزِ عمل نے ان کے جمہوریت مخالف اور مرکزیت پسند رجحانات کو بے نقاب کیا جس کے نتیجے میں جمہوری عمل کے استحکام اور جامع ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے یہی گریز وسائل کی تقسیم میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2026-27 میں وفاق سے صوبوں کو متوقع 9.2 کھرب روپے کی منتقلی میں سے صرف 1.8 کھرب روپے ہی مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وسائل کی اتنی قلیل فراہمی اُن مسائل سے نمٹنے کے لیے ہرگز کافی نہیں جو براہِ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں جن میں خستہ حال بلدیاتی انفرااسٹرکچر، ناقص صفائی و نکاسیٔ آب، کمزور بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیم کا غیر مؤثر نظام شامل ہیں۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ  نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی وہ سطح جو عوام کے سب سے زیادہ قریب ہے، وہی سرکاری وسائل سے سب سے زیادہ محروم ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ نقصان دہ ہے کہ حکمرانی کے تینوں درجوں میں مقامی حکومت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ عوام کے قریب ہونے اور مقامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پورا کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث یہی سطح ریاست اور شہریوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وسائل کا سب سے کم حصہ دیا جاتا ہے اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے درکار اختیارات اور خودمختاری بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ اس کا نتیجہ پاکستان میں ترقیاتی پسماندگی، شہری انتظامیہ کی زبوں حالی، عوامی خدمات کی ناقص فراہمی، انسانی ترقی کے کمزور اشاریوں اور مجموعی معیارِ زندگی کی مسلسل گراوٹ کی صورت میں نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ خود آئینی ڈھانچہ ہے۔ اگرچہ آئین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق مفصل ابواب موجود ہیں مگر مقامی حکومتوں کا ذکر نہایت محدود انداز میں کیا گیا ہے اور یہ کمی اتنی نمایاں ہے کہ گویا دانستہ محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اختیارات کس طریقۂ کار کے تحت منتقل ہوں گے یا کون سے اختیارات لازماً مقامی حکومتوں کے پاس ہوں گے۔ یوں یہ اہم فیصلے صوبائی اسمبلیوں پر چھوڑ دیے گئے جس سے سیاسی مصلحتوں اور اختیارات کے ارتکاز کی گنجائش پیدا ہوگئی۔وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی واضح آئینی تقسیم کے برعکس مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جانے والے اختیارات کی کوئی یکساں فہرست موجود نہیں۔ اسی طرح آئین نہ تو مقامی حکومتوں کے لیے صوبائی آمدنی میں کم از کم حصے کی ضمانت دیتا ہے نہ ان کی آئینی مدت کا واضح تعین کرتا ہے، نہ مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت میں انتخابات کرانے کو لازمی قرار دیتا ہے اور نہ ہی انہیں صوبائی حکومتوں کی من مانی تحلیل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔نتیجتاً صوبائی حکومتیں بتدریج وہ اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں سمیٹتی چلی گئی ہیں جو دراصل مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں تھے اور ان اختیارات کو یا تو غیر منتخب بیوروکریسی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے منتخب نمائندوں کے ذریعے جن کی صوبائی سرپرستی پر انحصار عوام کے سامنے جوابدہی سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں مقامی طرزِ حکمرانی پر برسوں سے طاری اس جمود کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ کسی طور قابلِ دفاع نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کرائے گئے جبکہ دیگر صوبوں نے بھی زیادہ تر صرف آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے بلدیاتی ادارے تو قائم کیے مگر انہیں حقیقی اختیارات اور وسائل دینے سے گریز کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع آئینی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو مقامی حکومتوں کے اختیارات، ذمہ داریوں، مدتِ کار اور مالی خودمختاری کو واضح طور پر متعین کرے اور مقررہ مدت کے اندر باقاعدگی سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بلدیاتی انتخابات کی آئینی ضمانت فراہم کرے۔بلدیاتی اداروں کو منتقل کیے گئے شعبوں پر واضح اختیار، اپنے محصولات جمع کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق، نیز صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کے ذریعے صوبائی وسائل میں ایک یقینی حصہ دیا جانا چاہیے۔مختصراً، اب اقتدار میں موجود حلقوں کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہا کہ وہ آئینی ابہام کو بہانہ بنا کر اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کے نامکمل جمہوری عمل کو مزید التوا کا شکار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے جمہوری ارتقا کی داستان کئی حوالوں سے اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکامی کی عکاس ہے جس کے گورننس اور ترقی دونوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی نمایاں منتقلی کی گئی اور مقامی حکومتوں کو عوامی شمولیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی بنیاد قرار دیا گیا، تاہم مختلف ادوار میں صوبوں میں برسراقتدار رہنے والی جماعتوں نے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کیا۔ اس طرزِ عمل نے ان کے جمہوریت مخالف اور مرکزیت پسند رجحانات کو بے نقاب کیا جس کے نتیجے میں جمہوری عمل کے استحکام اور جامع ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے یہی گریز وسائل کی تقسیم میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2026-27 میں وفاق سے صوبوں کو متوقع 9.2 کھرب روپے کی منتقلی میں سے صرف 1.8 کھرب روپے ہی مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وسائل کی اتنی قلیل فراہمی اُن مسائل سے نمٹنے کے لیے ہرگز کافی نہیں جو براہِ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں جن میں خستہ حال بلدیاتی انفرااسٹرکچر، ناقص صفائی و نکاسیٔ آب، کمزور بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیم کا غیر مؤثر نظام شامل ہیں۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ  نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی وہ سطح جو عوام کے سب سے زیادہ قریب ہے، وہی سرکاری وسائل سے سب سے زیادہ محروم ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ نقصان دہ ہے کہ حکمرانی کے تینوں درجوں میں مقامی حکومت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ عوام کے قریب ہونے اور مقامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پورا کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث یہی سطح ریاست اور شہریوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وسائل کا سب سے کم حصہ دیا جاتا ہے اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے درکار اختیارات اور خودمختاری بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ اس کا نتیجہ پاکستان میں ترقیاتی پسماندگی، شہری انتظامیہ کی زبوں حالی، عوامی خدمات کی ناقص فراہمی، انسانی ترقی کے کمزور اشاریوں اور مجموعی معیارِ زندگی کی مسلسل گراوٹ کی صورت میں نمایاں ہے۔</p>
<p>اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ خود آئینی ڈھانچہ ہے۔ اگرچہ آئین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق مفصل ابواب موجود ہیں مگر مقامی حکومتوں کا ذکر نہایت محدود انداز میں کیا گیا ہے اور یہ کمی اتنی نمایاں ہے کہ گویا دانستہ محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اختیارات کس طریقۂ کار کے تحت منتقل ہوں گے یا کون سے اختیارات لازماً مقامی حکومتوں کے پاس ہوں گے۔ یوں یہ اہم فیصلے صوبائی اسمبلیوں پر چھوڑ دیے گئے جس سے سیاسی مصلحتوں اور اختیارات کے ارتکاز کی گنجائش پیدا ہوگئی۔وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی واضح آئینی تقسیم کے برعکس مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جانے والے اختیارات کی کوئی یکساں فہرست موجود نہیں۔ اسی طرح آئین نہ تو مقامی حکومتوں کے لیے صوبائی آمدنی میں کم از کم حصے کی ضمانت دیتا ہے نہ ان کی آئینی مدت کا واضح تعین کرتا ہے، نہ مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت میں انتخابات کرانے کو لازمی قرار دیتا ہے اور نہ ہی انہیں صوبائی حکومتوں کی من مانی تحلیل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔نتیجتاً صوبائی حکومتیں بتدریج وہ اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں سمیٹتی چلی گئی ہیں جو دراصل مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں تھے اور ان اختیارات کو یا تو غیر منتخب بیوروکریسی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے منتخب نمائندوں کے ذریعے جن کی صوبائی سرپرستی پر انحصار عوام کے سامنے جوابدہی سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔</p>
<p>اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں مقامی طرزِ حکمرانی پر برسوں سے طاری اس جمود کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ کسی طور قابلِ دفاع نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کرائے گئے جبکہ دیگر صوبوں نے بھی زیادہ تر صرف آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے بلدیاتی ادارے تو قائم کیے مگر انہیں حقیقی اختیارات اور وسائل دینے سے گریز کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع آئینی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو مقامی حکومتوں کے اختیارات، ذمہ داریوں، مدتِ کار اور مالی خودمختاری کو واضح طور پر متعین کرے اور مقررہ مدت کے اندر باقاعدگی سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بلدیاتی انتخابات کی آئینی ضمانت فراہم کرے۔بلدیاتی اداروں کو منتقل کیے گئے شعبوں پر واضح اختیار، اپنے محصولات جمع کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق، نیز صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کے ذریعے صوبائی وسائل میں ایک یقینی حصہ دیا جانا چاہیے۔مختصراً، اب اقتدار میں موجود حلقوں کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہا کہ وہ آئینی ابہام کو بہانہ بنا کر اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کے نامکمل جمہوری عمل کو مزید التوا کا شکار رکھیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288164</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 12:57:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/01124437513482c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/01124437513482c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل کنیکٹویٹی یا نجی ملکیت کے حقوق کو خطرہ؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288155/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل کنیکٹویٹی کو تیز تر بنانے اور ٹیلی کمیونی کیشن کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کا عزم مکمل طور پر قابلِ فہم ہے۔ پاکستان کو بہتر براڈ بینڈ کوریج، فائبر نیٹ ورک کی زیادہ وسیع تنصیب اور جدید ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی جانب تیز تر پیش رفت کی ضرورت ہے۔ تاہم، جب ان مقاصد کے فروغ کے لیے بنائی جانے والی قانون سازی ایسی حدود میں داخل ہونے لگے جہاں شہریوں کے ان بنیادی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو، جن کے تحفظ کی وہ بجا طور پر ریاست سے توقع رکھتے ہیں، تو معاملہ تشویش ناک ہو جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل کے گرد پیدا ہونے والا تنازع صرف ٹیلی کام ٹاورز اور فائبر آپٹک کیبلز تک محدود نہیں ہے۔ اس کے مرکز میں ایک ایسا اصول موجود ہے جسے کبھی بھی معمولی یا غیر اہم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، اور وہ ہے نجی ملکیت کے تقدس کا اصول۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیاں یقیناً خوش آئند ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کا نہ تو نجی املاک پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے، نہ شہریوں کے حقِ رازداری کو مجروح کرنے کا، اور نہ ہی جائیداد کے مالکان کی رضامندی کے بغیر ٹیلی کام تنصیبات لگانے کی اجازت دینے کا۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی قانون کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ وہ کیا اختیار دیتا ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وزرا یہ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ قانون سازوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات، خصوصاً رسائی کے حقوق، ازخود منظور شدہ منظوریوں اور تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے متعلق دفعات پر اعتراضات، مکمل طور پر جائز ہیں۔ اگر کسی قانون کی زبان ایسی ابہام پیدا کرتی ہے جو ملکیتی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرے یا نجی آپریٹرز یا حکومتی اداروں کو حد سے زیادہ اختیارات عطا کرے، تو ایسے خدشات کو قانون سازی کے اگلے مرحلے میں جانے سے پہلے ضرور دور کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ اس بل نے خود حکومتی اتحاد کے اندر بھی مزاحمت پیدا کر دی ہے، حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہونا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتراضات فائبر نیٹ ورک یا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی مخالفت پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ان شقوں پر ہیں جو بظاہر نجی ملکیت اور قانونی تقاضوں  سے متعلق قائم شدہ تحفظات کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ایسے خدشات ہیں جن پر عجلت میں انہیں مسترد کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی فعال معاشرے میں ملکیتی حقوق کو ایک خصوصی مقام حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی حقوق یقین اور قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ شہری اپنے گھروں، کاروباروں اور زمینوں میں اس یقین کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ ان کی ملکیت کو قانون کے تحت حقیقی اور مؤثر تحفظ حاصل ہوگا۔ جب یہ یقین متزلزل ہونا شروع ہو جائے تو اس کے اثرات صرف زیرِ بحث مسئلے تک محدود نہیں رہتے بلکہ کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے ناقدین کو بالخصوص ان شقوں پر شدید تشویش ہے جن کے تحت مقررہ مدت گزرنے کے بعد منظوری کو ازخود منظور شدہ تصور کیا جا سکتا ہے، نیز ایسے طریقۂ کار پر بھی اعتراض ہے جس کے ذریعے تنازعات کو حل کے لیے انتظامی حکام  کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ ایسی دفعات انتظامی اعتبار سے بلاشبہ سہولت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن محض سہولت کسی بھی صورت میں نجی ملکیت کے تحفظات کو کمزور کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ وہ حقوق جو صرف اس وقت تک برقرار رہیں جب تک بیوروکریسی کی مقررہ مدت ختم نہ ہو جائے، درحقیقت زیادہ مضبوط یا مؤثر حقوق نہیں کہلا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے میں ایک وسیع تر اصول بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حکومتیں اکثر غیر معمولی اختیارات کو جائز قرار دینے کے لیے ایسے مقاصد کا حوالہ دیتی ہیں جو بلاشبہ قابلِ تحسین ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل کنیکٹویٹی یقیناً ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔ معاشی ترقی بھی ایسا ہی ایک مقصد ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع ایک اور اہم ہدف ہے۔ لیکن جمہوری نظام اس اصول پر قائم ہوتے ہیں کہ عوامی مفاد کے حصول کی کوششیں ہمیشہ ان قانونی حدود کے اندر رہ کر کی جائیں جو انفرادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حالیہ قانون سازی کا تجربہ بھی محتاط رہنے کی مزید وجوہات فراہم کرتا ہے۔ انتظامیہ کے اختیارات میں غیر ضروری وسعت، نگرانی کے کمزور نظام اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے فقدان سے متعلق خدشات متعدد قوانین پر ہونے والی بحث کا نمایاں حصہ رہے ہیں۔ ایسے پس منظر میں قانون سازوں کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ قانون کی زبان واضح ہو، طریقۂ کار شفاف ہو اور متاثرہ فریقین کے لیے مؤثر قانونی داد رسی کے راستے موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے حکومت کی جانب سے اس بل پر دوبارہ غور کرنے اور اس میں ترامیم پر آمادگی ظاہر کرنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ قانون سازی کو مزید جانچ پڑتال کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب خدشات کو مؤثر انداز میں اٹھایا جائے تو پارلیمانی نگرانی کا نظام اب بھی اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک تمام ابہامات دور نہ ہو جائیں اور آئینی تحفظات کو قانون میں واضح طور پر محفوظ نہ کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام نکات کو کسی بھی صورت ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کی ترقی کی مخالفت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کے خاتمے سے وابستہ ہے۔ تاہم، رسائی کو آسان بنانے اور ملکیتی حقوق کو کمزور کرنے کے درمیان ایک واضح اور بنیادی فرق موجود ہے۔ کامیاب ممالک بیک وقت ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ جس قانونی یقین اور استحکام کی سرمایہ کار اپنے سرمائے کی سرمایہ کاری سے پہلے توقع رکھتے ہیں، اسی قسم کے یقین اور تحفظ کی توقع جائیداد کے مالکان بھی اس وقت رکھتے ہیں جب ان سے ان کی زمین پر کسی بھی حق سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔ اعتماد ہمیشہ واضح قوانین اور قابلِ پیش گوئی قانونی تحفظات پر قائم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے حکومت کا مقصد بہتر ڈیجیٹل رابطہ کاری ہو، لیکن اب اس کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ ایسے بنیادی اصولوں سے ہو کر نہ گزرے جنہیں شہری بجا طور پر ناقابلِ سمجھوتہ تصور کرتے ہیں۔ نجی ملکیت کے حقوق صرف وزرا کی زبانی یقین دہانیوں سے زیادہ مضبوط تحفظ کے مستحق ہیں؛ ان کا تحفظ خود قانون کے متن میں واضح اور غیر مبہم طور پر موجود ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیجیٹل کنیکٹویٹی کو تیز تر بنانے اور ٹیلی کمیونی کیشن کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کا عزم مکمل طور پر قابلِ فہم ہے۔ پاکستان کو بہتر براڈ بینڈ کوریج، فائبر نیٹ ورک کی زیادہ وسیع تنصیب اور جدید ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی جانب تیز تر پیش رفت کی ضرورت ہے۔ تاہم، جب ان مقاصد کے فروغ کے لیے بنائی جانے والی قانون سازی ایسی حدود میں داخل ہونے لگے جہاں شہریوں کے ان بنیادی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو، جن کے تحفظ کی وہ بجا طور پر ریاست سے توقع رکھتے ہیں، تو معاملہ تشویش ناک ہو جاتا ہے۔</strong></p>
<p>اسی لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل کے گرد پیدا ہونے والا تنازع صرف ٹیلی کام ٹاورز اور فائبر آپٹک کیبلز تک محدود نہیں ہے۔ اس کے مرکز میں ایک ایسا اصول موجود ہے جسے کبھی بھی معمولی یا غیر اہم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، اور وہ ہے نجی ملکیت کے تقدس کا اصول۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیاں یقیناً خوش آئند ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کا نہ تو نجی املاک پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے، نہ شہریوں کے حقِ رازداری کو مجروح کرنے کا، اور نہ ہی جائیداد کے مالکان کی رضامندی کے بغیر ٹیلی کام تنصیبات لگانے کی اجازت دینے کا۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی قانون کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ وہ کیا اختیار دیتا ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وزرا یہ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔</p>
<p>چنانچہ قانون سازوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات، خصوصاً رسائی کے حقوق، ازخود منظور شدہ منظوریوں اور تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے متعلق دفعات پر اعتراضات، مکمل طور پر جائز ہیں۔ اگر کسی قانون کی زبان ایسی ابہام پیدا کرتی ہے جو ملکیتی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرے یا نجی آپریٹرز یا حکومتی اداروں کو حد سے زیادہ اختیارات عطا کرے، تو ایسے خدشات کو قانون سازی کے اگلے مرحلے میں جانے سے پہلے ضرور دور کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>یہ حقیقت کہ اس بل نے خود حکومتی اتحاد کے اندر بھی مزاحمت پیدا کر دی ہے، حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہونا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتراضات فائبر نیٹ ورک یا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی مخالفت پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ان شقوں پر ہیں جو بظاہر نجی ملکیت اور قانونی تقاضوں  سے متعلق قائم شدہ تحفظات کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ایسے خدشات ہیں جن پر عجلت میں انہیں مسترد کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>کسی بھی فعال معاشرے میں ملکیتی حقوق کو ایک خصوصی مقام حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی حقوق یقین اور قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ شہری اپنے گھروں، کاروباروں اور زمینوں میں اس یقین کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ ان کی ملکیت کو قانون کے تحت حقیقی اور مؤثر تحفظ حاصل ہوگا۔ جب یہ یقین متزلزل ہونا شروع ہو جائے تو اس کے اثرات صرف زیرِ بحث مسئلے تک محدود نہیں رہتے بلکہ کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔</p>
<p>بل کے ناقدین کو بالخصوص ان شقوں پر شدید تشویش ہے جن کے تحت مقررہ مدت گزرنے کے بعد منظوری کو ازخود منظور شدہ تصور کیا جا سکتا ہے، نیز ایسے طریقۂ کار پر بھی اعتراض ہے جس کے ذریعے تنازعات کو حل کے لیے انتظامی حکام  کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ ایسی دفعات انتظامی اعتبار سے بلاشبہ سہولت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن محض سہولت کسی بھی صورت میں نجی ملکیت کے تحفظات کو کمزور کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ وہ حقوق جو صرف اس وقت تک برقرار رہیں جب تک بیوروکریسی کی مقررہ مدت ختم نہ ہو جائے، درحقیقت زیادہ مضبوط یا مؤثر حقوق نہیں کہلا سکتے۔</p>
<p>اس معاملے میں ایک وسیع تر اصول بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حکومتیں اکثر غیر معمولی اختیارات کو جائز قرار دینے کے لیے ایسے مقاصد کا حوالہ دیتی ہیں جو بلاشبہ قابلِ تحسین ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل کنیکٹویٹی یقیناً ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔ معاشی ترقی بھی ایسا ہی ایک مقصد ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع ایک اور اہم ہدف ہے۔ لیکن جمہوری نظام اس اصول پر قائم ہوتے ہیں کہ عوامی مفاد کے حصول کی کوششیں ہمیشہ ان قانونی حدود کے اندر رہ کر کی جائیں جو انفرادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں حالیہ قانون سازی کا تجربہ بھی محتاط رہنے کی مزید وجوہات فراہم کرتا ہے۔ انتظامیہ کے اختیارات میں غیر ضروری وسعت، نگرانی کے کمزور نظام اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے فقدان سے متعلق خدشات متعدد قوانین پر ہونے والی بحث کا نمایاں حصہ رہے ہیں۔ ایسے پس منظر میں قانون سازوں کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ قانون کی زبان واضح ہو، طریقۂ کار شفاف ہو اور متاثرہ فریقین کے لیے مؤثر قانونی داد رسی کے راستے موجود ہوں۔</p>
<p>اسی لیے حکومت کی جانب سے اس بل پر دوبارہ غور کرنے اور اس میں ترامیم پر آمادگی ظاہر کرنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ قانون سازی کو مزید جانچ پڑتال کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب خدشات کو مؤثر انداز میں اٹھایا جائے تو پارلیمانی نگرانی کا نظام اب بھی اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک تمام ابہامات دور نہ ہو جائیں اور آئینی تحفظات کو قانون میں واضح طور پر محفوظ نہ کر دیا جائے۔</p>
<p>ان تمام نکات کو کسی بھی صورت ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کی ترقی کی مخالفت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کے خاتمے سے وابستہ ہے۔ تاہم، رسائی کو آسان بنانے اور ملکیتی حقوق کو کمزور کرنے کے درمیان ایک واضح اور بنیادی فرق موجود ہے۔ کامیاب ممالک بیک وقت ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ جس قانونی یقین اور استحکام کی سرمایہ کار اپنے سرمائے کی سرمایہ کاری سے پہلے توقع رکھتے ہیں، اسی قسم کے یقین اور تحفظ کی توقع جائیداد کے مالکان بھی اس وقت رکھتے ہیں جب ان سے ان کی زمین پر کسی بھی حق سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔ اعتماد ہمیشہ واضح قوانین اور قابلِ پیش گوئی قانونی تحفظات پر قائم ہوتا ہے۔</p>
<p>ممکن ہے حکومت کا مقصد بہتر ڈیجیٹل رابطہ کاری ہو، لیکن اب اس کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ ایسے بنیادی اصولوں سے ہو کر نہ گزرے جنہیں شہری بجا طور پر ناقابلِ سمجھوتہ تصور کرتے ہیں۔ نجی ملکیت کے حقوق صرف وزرا کی زبانی یقین دہانیوں سے زیادہ مضبوط تحفظ کے مستحق ہیں؛ ان کا تحفظ خود قانون کے متن میں واضح اور غیر مبہم طور پر موجود ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288155</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 10:34:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/011032545bd29c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/011032545bd29c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسنگ معاشی رپورٹس اور بجٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ تاحال مئی 2026 کی اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کر سکی حالانکہ یہ دستاویز بجٹ 2026-27 کی تیاری میں معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کر سکتی تھی۔ اس اخبار نے دو ہفتے قبل اس رپورٹ کی ایک نقل طلب کی تھی تاہم حیران کن طور پر بتایا گیا کہ وزارت بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے اور رپورٹ مناسب وقت پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی جائے گی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کل یکم جولائی کو جون کی ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ بھی جاری ہونا متوقع ہے جو مئی کی رپورٹ کے ساتھ ہی واجب الادا ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک نے معیشت کے محدود پہلوؤں سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کرنا جاری رکھا ہے، خاص طور پر تجارتی توازن (برآمدات اور درآمدات)، ترسیلاتِ زر کی آمد، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اور کنزیومر پرائس انڈیکس (صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مئی 2026 کی اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپ لوڈ نہ کیے جانے کا اقدام شاید دانستہ تھا، کیونکہ ان دونوں اداروں نے تاحال مئی 2026 کے بعض اہم اعداد و شمار بھی جاری نہیں کیے جن میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم)، نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے، زرعی قرضہ جات اور غیر ٹیکس محصولات سے متعلق اعداد و شمار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ایف بی آر کی مئی کی حقیقی وصولیوں کو بھی تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 30 جون 2026 تک ایف بی آر کو اپنے نظرثانی شدہ ہدف 13.979 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا رہا جبکہ یہ ہدف بجٹ میں مقرر کردہ 14.307 کھرب روپے سے پہلے ہی کم کیا جاچکا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس کمی کو سبکدوش ہونے والے مالی سال کے بنیادی اور مالیاتی خسارے کے تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کے 2026-27 کے بجٹ تخمینوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی عنصر ممکنہ طور پر حکومت کے اس حالیہ فیصلے میں بھی اہم کردار کا حامل رہا جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تاکہ غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے عائد سخت پیشگی شرائط پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے کہ بجٹ ممکنہ طور پر اپریل تک کے پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا جب ملک کی معاشی کارکردگی ابھی تک 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے منفی اثرات کو مکمل طور پر جذب نہیں کر سکی تھی اور نہ ہی معیشت میں بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامات نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں متعدد محکمے اور ڈویژن کام کررہے ہیں جن کے ٹرز آف ریفرنس (اختیارات اور ذمہ داریوں کا دائرہ کار) کسی بھی ایک وقت میں صرف ایک ہی کام تک محدود نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں یہ عذر کہ وزارتِ خزانہ کی ڈویژن رپورٹ لکھنے اور اپ لوڈ کرنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ بجٹ کی تشکیل میں مصروف تھی، ناقابلِ قبول ہے اور کابینہ کو اسے ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا کابینہ کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ اس سنگین کوتاہی کا نوٹس لے اور اسے دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ حکومت بجٹ سازی میں مصروف عمل افراد کو ان کی تنخواہ کے علاوہ خصوصی انعامات  سے نوازتی ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ بجٹ تیار کرنا ان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی انعام دینے کے عمل کو مزید ناقابلِ فہم بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ کا آئی ایم ایف کے عملے نے انتہائی تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو کہ جاری پروگرام قرض کی ایک شرط بھی ہے۔ اس صورتحال میں مقامی ماہرین کا کردار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں، جب ملک کسی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ نہیں تھا، کہیں زیادہ محدود ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جاتی ہے کہ کسی بھی فرد یا افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہونے والے کاموں کے لیے اضافی مالی انعامات دینے کی پالیسی کو ختم کیا جانا چاہیے اور تنخواہ میں میرٹ پر مبنی اضافہ صرف اور صرف ان کی غیر جانبدارانہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ تاحال مئی 2026 کی اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کر سکی حالانکہ یہ دستاویز بجٹ 2026-27 کی تیاری میں معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کر سکتی تھی۔ اس اخبار نے دو ہفتے قبل اس رپورٹ کی ایک نقل طلب کی تھی تاہم حیران کن طور پر بتایا گیا کہ وزارت بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے اور رپورٹ مناسب وقت پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی جائے گی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کل یکم جولائی کو جون کی ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ بھی جاری ہونا متوقع ہے جو مئی کی رپورٹ کے ساتھ ہی واجب الادا ہوگی۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک نے معیشت کے محدود پہلوؤں سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کرنا جاری رکھا ہے، خاص طور پر تجارتی توازن (برآمدات اور درآمدات)، ترسیلاتِ زر کی آمد، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اور کنزیومر پرائس انڈیکس (صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ)۔</p>
<p>تاہم، بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مئی 2026 کی اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپ لوڈ نہ کیے جانے کا اقدام شاید دانستہ تھا، کیونکہ ان دونوں اداروں نے تاحال مئی 2026 کے بعض اہم اعداد و شمار بھی جاری نہیں کیے جن میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم)، نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے، زرعی قرضہ جات اور غیر ٹیکس محصولات سے متعلق اعداد و شمار شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں ایف بی آر کی مئی کی حقیقی وصولیوں کو بھی تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 30 جون 2026 تک ایف بی آر کو اپنے نظرثانی شدہ ہدف 13.979 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا رہا جبکہ یہ ہدف بجٹ میں مقرر کردہ 14.307 کھرب روپے سے پہلے ہی کم کیا جاچکا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس کمی کو سبکدوش ہونے والے مالی سال کے بنیادی اور مالیاتی خسارے کے تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کے 2026-27 کے بجٹ تخمینوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی عنصر ممکنہ طور پر حکومت کے اس حالیہ فیصلے میں بھی اہم کردار کا حامل رہا جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تاکہ غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے عائد سخت پیشگی شرائط پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>لہٰذا یہ ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے کہ بجٹ ممکنہ طور پر اپریل تک کے پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا جب ملک کی معاشی کارکردگی ابھی تک 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے منفی اثرات کو مکمل طور پر جذب نہیں کر سکی تھی اور نہ ہی معیشت میں بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامات نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں متعدد محکمے اور ڈویژن کام کررہے ہیں جن کے ٹرز آف ریفرنس (اختیارات اور ذمہ داریوں کا دائرہ کار) کسی بھی ایک وقت میں صرف ایک ہی کام تک محدود نہیں ہوتے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں یہ عذر کہ وزارتِ خزانہ کی ڈویژن رپورٹ لکھنے اور اپ لوڈ کرنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ بجٹ کی تشکیل میں مصروف تھی، ناقابلِ قبول ہے اور کابینہ کو اسے ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا کابینہ کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ اس سنگین کوتاہی کا نوٹس لے اور اسے دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔</p>
<p>تاہم اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ حکومت بجٹ سازی میں مصروف عمل افراد کو ان کی تنخواہ کے علاوہ خصوصی انعامات  سے نوازتی ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ بجٹ تیار کرنا ان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتا ہے۔</p>
<p>مالی انعام دینے کے عمل کو مزید ناقابلِ فہم بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ کا آئی ایم ایف کے عملے نے انتہائی تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو کہ جاری پروگرام قرض کی ایک شرط بھی ہے۔ اس صورتحال میں مقامی ماہرین کا کردار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں، جب ملک کسی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ نہیں تھا، کہیں زیادہ محدود ہو چکا ہے۔</p>
<p>امید کی جاتی ہے کہ کسی بھی فرد یا افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہونے والے کاموں کے لیے اضافی مالی انعامات دینے کی پالیسی کو ختم کیا جانا چاہیے اور تنخواہ میں میرٹ پر مبنی اضافہ صرف اور صرف ان کی غیر جانبدارانہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288107</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 13:34:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/301326367b299ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/301326367b299ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب معاہدے صرف سہولت کے مطابق نبھائے جائیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسا معاہدہ جو جنگوں، بحرانوں اور کئی دہائیوں پر محیط سیاسی مخاصمت کے باوجود برقرار رہے، لیکن صرف اس لیے یکطرفہ طور پر ایک طرف رکھ دیا جائے کہ وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہو گیا ہے، بین الاقوامی معاہدوں کے مستقبل کے بارے میں کئی بے چین کر دینے والے سوالات کو جنم دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی بھارت کی مسلسل کوشش نے اس معاملے کو، جو کبھی ایک دوطرفہ تنازع سمجھا جاتا تھا، ایک کہیں بڑے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کا تعلق معاہدوں کی حرمت، مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور خود بین الاقوامی قانونی نظام کے استحکام سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خدشات فرضی نہیں ہیں۔ وہ صرف بیانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر بھی مبنی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یہ تنبیہ کہ بھارت کم از کم 17 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد دریائے سندھ کے نظام میں تبدیلی لانا ہے، سنجیدہ بین الاقوامی توجہ کی مستحق ہے، کیونکہ اس کے مضمرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی محض ایک اور اسٹرٹیجک وسیلہ نہیں ہے۔ کروڑوں انسانوں کے لیے یہ بقا، زراعت، معاشی سرگرمی اور صحتِ عامہ کی بنیادی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدہ خاص طور پر اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ پانی سے متعلق تعاون کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگوں، شدید کشیدگی کے ادوار اور بے شمار سیاسی بحرانوں کے باوجود قائم رہا۔ یہ ان چند پائیدار ادارہ جاتی انتظامات میں شامل تھا جو دوطرفہ تعلقات کے دیگر شعبوں میں گہرے اختلافات کے باوجود مؤثر انداز میں کام کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی تاریخی پس منظر موجودہ صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔ بھارت کا معاہدے کے فریم ورک میں اپنی شرکت معطل کرنا اور ایسے منصوبوں پر عمل کرنا جنہیں پاکستان دریائی نظام کی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، نہ صرف خود اس معاہدے بلکہ اس بنیادی اصول کے لیے بھی چیلنج ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں سیاسی حالات کی تبدیلی سے قطع نظر برقرار رہنی چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی مثال کے نتائج نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں متعدد مشترکہ دریائی نظام موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریاؤں کے بالائی اور زیریں بہاؤ والے ممالک معمول کے مطابق پانی کی تقسیم، ذخیرہ، سیلابی انتظام اور تنازعات کے حل کے لیے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر معاہداتی ذمہ داریوں کو جب چاہا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر دوبارہ تعبیر کیا جا سکے یا معطل کیا جا سکے تو اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صرف دریائے سندھ کے طاس تک محدود نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر معقول ہے۔ ملک تصادم کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ وہ اب بھی مذاکرات، سفارت کاری اور قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ یہی وہ طریقۂ کار ہے جس کا تصور خود معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اختلافات پیدا ہونا ہمیشہ متوقع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں ان اختلافات کے حل کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ یکطرفہ اقدام ان طریقوں میں کبھی شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے کا ایک نہایت گہرا انسانی پہلو بھی ہے۔ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے روزگار کا ذریعہ ہے اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک کی بنیاد بھی ہے۔ پانی کے بہاؤ کو دانستہ طور پر تبدیل کرنے، محدود کرنے یا اسٹرٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش لازماً غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور انسانی فلاح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی پانی کی شدید قلت موجود ہو، پانی کی کمی کے نتائج دریا کے انتظام سے متعلق تکنیکی تنازعات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کا انتخاب بھی اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی فی کس پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی، موسمیاتی دباؤ میں اضافے اور پانی کے بہاؤ میں بڑھتے ہوئے تغیر کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرحد پار آبی انتظامات کے بارے میں غیر یقینی ایسے خطرات پیدا کرتی ہے جنہیں کوئی بھی ذمہ دار حکومت نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے اقدامات اس کی وسیع تر بین الاقوامی امنگوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ عالمی امور میں زیادہ مؤثر کردار کے خواہاں ممالک سے عمومی طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کو مضبوط کریں گے، نہ کہ انہیں کمزور کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام ہمیشہ سے ایک قابلِ پیش گوئی بین الاقوامی نظام کی بنیادی اساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ معاہدوں پر منتخب انداز میں عمل درآمد نہ صرف مخصوص معاہدوں بلکہ ان وسیع تر اصولوں اور قوانین پر بھی اعتماد کو مجروح کرتا ہے جن پر بین الاقوامی تعاون کا پورا نظام قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے بین الاقوامی برادری کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو معمول بنانے کی مزاحمت کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج یہ تنازع سندھ طاس سے متعلق ہے، کل دنیا کے کسی بھی سرحد پار دریائی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ اصول قائم ہو جاتا ہے تو اس کا اطلاق عموماً صرف ایک ہی معاملے تک محدود نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار یہ بحث پاکستان اور بھارت سے کہیں بڑی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا معاہدے اس وقت بھی پابند رہتے ہیں جب وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہو جائیں، یا پھر صرف طاقت ہی نتائج کا تعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان درست طور پر اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریوں کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔ اس کے برعکس صورت دنیا کے بہت سے خطوں میں ایسی غیر یقینی پیدا کر دے گی جس کا متحمل بہت کم علاقے ہو سکتے ہیں، اور جسے کوئی بھی ذمہ دار بین الاقوامی نظام قبول نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسا معاہدہ جو جنگوں، بحرانوں اور کئی دہائیوں پر محیط سیاسی مخاصمت کے باوجود برقرار رہے، لیکن صرف اس لیے یکطرفہ طور پر ایک طرف رکھ دیا جائے کہ وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہو گیا ہے، بین الاقوامی معاہدوں کے مستقبل کے بارے میں کئی بے چین کر دینے والے سوالات کو جنم دیتا ہے۔</strong></p>
<p>سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی بھارت کی مسلسل کوشش نے اس معاملے کو، جو کبھی ایک دوطرفہ تنازع سمجھا جاتا تھا، ایک کہیں بڑے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کا تعلق معاہدوں کی حرمت، مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور خود بین الاقوامی قانونی نظام کے استحکام سے ہے۔</p>
<p>پاکستان کے خدشات فرضی نہیں ہیں۔ وہ صرف بیانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر بھی مبنی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یہ تنبیہ کہ بھارت کم از کم 17 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد دریائے سندھ کے نظام میں تبدیلی لانا ہے، سنجیدہ بین الاقوامی توجہ کی مستحق ہے، کیونکہ اس کے مضمرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔</p>
<p>پانی محض ایک اور اسٹرٹیجک وسیلہ نہیں ہے۔ کروڑوں انسانوں کے لیے یہ بقا، زراعت، معاشی سرگرمی اور صحتِ عامہ کی بنیادی ضرورت ہے۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدہ خاص طور پر اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ پانی سے متعلق تعاون کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔</p>
<p>یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگوں، شدید کشیدگی کے ادوار اور بے شمار سیاسی بحرانوں کے باوجود قائم رہا۔ یہ ان چند پائیدار ادارہ جاتی انتظامات میں شامل تھا جو دوطرفہ تعلقات کے دیگر شعبوں میں گہرے اختلافات کے باوجود مؤثر انداز میں کام کرتے رہے۔</p>
<p>یہی تاریخی پس منظر موجودہ صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔ بھارت کا معاہدے کے فریم ورک میں اپنی شرکت معطل کرنا اور ایسے منصوبوں پر عمل کرنا جنہیں پاکستان دریائی نظام کی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، نہ صرف خود اس معاہدے بلکہ اس بنیادی اصول کے لیے بھی چیلنج ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں سیاسی حالات کی تبدیلی سے قطع نظر برقرار رہنی چاہییں۔</p>
<p>ایسی مثال کے نتائج نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں متعدد مشترکہ دریائی نظام موجود ہیں۔</p>
<p>دریاؤں کے بالائی اور زیریں بہاؤ والے ممالک معمول کے مطابق پانی کی تقسیم، ذخیرہ، سیلابی انتظام اور تنازعات کے حل کے لیے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر معاہداتی ذمہ داریوں کو جب چاہا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر دوبارہ تعبیر کیا جا سکے یا معطل کیا جا سکے تو اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صرف دریائے سندھ کے طاس تک محدود نہیں رہے گی۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر معقول ہے۔ ملک تصادم کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ وہ اب بھی مذاکرات، سفارت کاری اور قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ یہی وہ طریقۂ کار ہے جس کا تصور خود معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اختلافات پیدا ہونا ہمیشہ متوقع تھے۔</p>
<p>معاہدے میں ان اختلافات کے حل کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ یکطرفہ اقدام ان طریقوں میں کبھی شامل نہیں تھا۔</p>
<p>اس مسئلے کا ایک نہایت گہرا انسانی پہلو بھی ہے۔ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے روزگار کا ذریعہ ہے اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک کی بنیاد بھی ہے۔ پانی کے بہاؤ کو دانستہ طور پر تبدیل کرنے، محدود کرنے یا اسٹرٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش لازماً غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور انسانی فلاح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی پانی کی شدید قلت موجود ہو، پانی کی کمی کے نتائج دریا کے انتظام سے متعلق تکنیکی تنازعات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔</p>
<p>وقت کا انتخاب بھی اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی فی کس پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی، موسمیاتی دباؤ میں اضافے اور پانی کے بہاؤ میں بڑھتے ہوئے تغیر کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرحد پار آبی انتظامات کے بارے میں غیر یقینی ایسے خطرات پیدا کرتی ہے جنہیں کوئی بھی ذمہ دار حکومت نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>بھارت کے اقدامات اس کی وسیع تر بین الاقوامی امنگوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ عالمی امور میں زیادہ مؤثر کردار کے خواہاں ممالک سے عمومی طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کو مضبوط کریں گے، نہ کہ انہیں کمزور کریں گے۔</p>
<p>معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام ہمیشہ سے ایک قابلِ پیش گوئی بین الاقوامی نظام کی بنیادی اساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ معاہدوں پر منتخب انداز میں عمل درآمد نہ صرف مخصوص معاہدوں بلکہ ان وسیع تر اصولوں اور قوانین پر بھی اعتماد کو مجروح کرتا ہے جن پر بین الاقوامی تعاون کا پورا نظام قائم ہے۔</p>
<p>اسی لیے بین الاقوامی برادری کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو معمول بنانے کی مزاحمت کرنی چاہیے۔</p>
<p>آج یہ تنازع سندھ طاس سے متعلق ہے، کل دنیا کے کسی بھی سرحد پار دریائی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ اصول قائم ہو جاتا ہے تو اس کا اطلاق عموماً صرف ایک ہی معاملے تک محدود نہیں رہتا۔</p>
<p>آخرکار یہ بحث پاکستان اور بھارت سے کہیں بڑی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا معاہدے اس وقت بھی پابند رہتے ہیں جب وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہو جائیں، یا پھر صرف طاقت ہی نتائج کا تعین کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان درست طور پر اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریوں کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔ اس کے برعکس صورت دنیا کے بہت سے خطوں میں ایسی غیر یقینی پیدا کر دے گی جس کا متحمل بہت کم علاقے ہو سکتے ہیں، اور جسے کوئی بھی ذمہ دار بین الاقوامی نظام قبول نہیں کر سکتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288095</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 10:36:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30103353bc75393.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30103353bc75393.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خون کی کمی کا چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دستیاب شواہد، خون کی کمی، زچگی کے بعد خون کا بہاؤ اور ماؤں کی اموات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آنے والے  ویمن 2 تحقیق کے نتائج ترقی پذیر ممالک اور بالخصوص پاکستان کے پالیسی سازوں، ماہرینِ صحتِ عامہ اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں سے زچگی کے بعد ہونے والے شدید خون کے بہاؤ (پوسٹ پارٹم ہیمرج) کو زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تاریخی اور کثیر الملکی تحقیق نے اس مفروضے کو چیلنج کیا ہے اور ایسے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ماؤں کی اموات کی ایک بہت بڑی تعداد کے پیچھے اصل وجہ اینیمیا (خون کی کمی) ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کی اہمیت نہ صرف اس کے بڑے پیمانے پر ہونے میں ہے، بلکہ ان ممالک کے لیے اس کی افادیت میں بھی ہے جہاں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اس تحقیق میں شامل 15,000 خواتین میں سے 11,000 سے زائد کا تعلق پاکستان سے تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج صحتِ عامہ کے ایک ایسے سنگین بحران کی گہری عکاسی کرتے ہیں جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ نتیجہ کہ عالمی سطح پر ماؤں کی زیادہ تر اموات کا سبب اینیمیا ہو سکتا ہے، زچگی کے دوران صحت کی ترجیحات پر نئے سرے سے بنیادی غور و خوض کا تقاضا کرتا ہے۔ اینیمیا کی وجہ سے عورت کے جسم میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ وہ زچگی کے دوران عام سے خون کے بہاؤ کو بھی برداشت کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خون کا وہ بہاؤ جو ایک صحت مند عورت کے لیے قابلِ گرفت ہوتا ہے، شدید اینیمیا کی شکار خاتون کے لیے جان لیوا ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے (ترقی یافتہ) ممالک میں زچگی کے بعد خون کا بہاؤ شاذ و نادر ہی جان لیوا ثابت ہوتا ہے لیکن جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ میں یہ اب بھی ہزاروں جانیں لے رہا ہے۔ یہ تحقیق ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اینیمیا کے بنیادی مرض کو حل کیے بغیر صرف خون کے بہاؤ کا علاج کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیماری کو نظر انداز کرکے صرف اس کی علامات کا علاج کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ 2024 کی ایک مقامی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں 70 فیصد تک حاملہ خواتین اینیمیا کا شکار ہیں۔ غربت، غذائی قلت، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، پیٹ کے کیڑوں کے انفیکشن، یکے بعد دیگرے حمل اور تولیدی صحت کی ناقص سہولیات اس وبائی صورتحال کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتائج صرف ماؤں کی اموات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ تحقیق اینیمیا کو قبل از وقت زچگی (پری میچور برتھ)، مردہ بچوں کی پیدائش (اسٹل برتھ)، نوزائیدہ بچوں کی اموات اور ماؤں و بچوں دونوں کے لیے طویل مدتی طبی پچیدگیوں سے بھی جوڑتی ہے۔ تحقیق کا یہ انکشاف کہ شدید اینیمیا کی شکار 17 فیصد خواتین کو مردہ بچوں کی پیدائش کا سامنا کرنا پڑا، فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینیمیا کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ بارآور عمر کی تمام خواتین کے لیے آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس تک رسائی کو ممکن بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذائیت کے حوالے سے آگاہی مہم، پیٹ کے کیڑے مارنے کے پروگرام، صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ متواتر حمل سے جڑے صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کی خدمات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو زچگی کے دوران روایتی طور پر دیے جانے والے کٹ (روٹین ایپیسی اوٹومی) جیسے طریقوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، کیونکہ تحقیق کے مطابق یہ عمل کسی بڑے فائدے کے بغیر ماں میں اینیمیا کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ زچگی کے وقت ٹرانیکسامک ایسڈ (ٹی ایکس اے) کے استعمال کے حق میں ملنے والے شواہد پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا وسیع استعمال ماؤں کی اموات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصل کلام یہ ہے کہ ویمن 2 اسٹڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماؤں کی اموات محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ وسیع تر سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا عکس بھی ہے۔ ماؤں کی جانیں بچانے کے لیے صرف ہنگامی طبی امداد ہی کافی نہیں بلکہ خواتین کی غذائیت، تعلیم اور صحت کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان نتائج کے بعد حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اینیمیا کی روک تھام اور اس کے علاج کو ماؤں کی صحت کی حکمتِ عملیوں کے مرکز میں رکھیں۔ اگر پالیسی ساز ان شواہد پر عمل کرتے ہیں تو بے شمار ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو بقا کا ایک بہتر موقع اور صحت مند مستقبل دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دستیاب شواہد، خون کی کمی، زچگی کے بعد خون کا بہاؤ اور ماؤں کی اموات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آنے والے  ویمن 2 تحقیق کے نتائج ترقی پذیر ممالک اور بالخصوص پاکستان کے پالیسی سازوں، ماہرینِ صحتِ عامہ اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔</strong></p>
<p>کئی دہائیوں سے زچگی کے بعد ہونے والے شدید خون کے بہاؤ (پوسٹ پارٹم ہیمرج) کو زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تاریخی اور کثیر الملکی تحقیق نے اس مفروضے کو چیلنج کیا ہے اور ایسے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ماؤں کی اموات کی ایک بہت بڑی تعداد کے پیچھے اصل وجہ اینیمیا (خون کی کمی) ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس تحقیق کی اہمیت نہ صرف اس کے بڑے پیمانے پر ہونے میں ہے، بلکہ ان ممالک کے لیے اس کی افادیت میں بھی ہے جہاں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اس تحقیق میں شامل 15,000 خواتین میں سے 11,000 سے زائد کا تعلق پاکستان سے تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج صحتِ عامہ کے ایک ایسے سنگین بحران کی گہری عکاسی کرتے ہیں جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ نتیجہ کہ عالمی سطح پر ماؤں کی زیادہ تر اموات کا سبب اینیمیا ہو سکتا ہے، زچگی کے دوران صحت کی ترجیحات پر نئے سرے سے بنیادی غور و خوض کا تقاضا کرتا ہے۔ اینیمیا کی وجہ سے عورت کے جسم میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ وہ زچگی کے دوران عام سے خون کے بہاؤ کو بھی برداشت کر سکے۔</p>
<p>اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خون کا وہ بہاؤ جو ایک صحت مند عورت کے لیے قابلِ گرفت ہوتا ہے، شدید اینیمیا کی شکار خاتون کے لیے جان لیوا ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے (ترقی یافتہ) ممالک میں زچگی کے بعد خون کا بہاؤ شاذ و نادر ہی جان لیوا ثابت ہوتا ہے لیکن جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ میں یہ اب بھی ہزاروں جانیں لے رہا ہے۔ یہ تحقیق ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اینیمیا کے بنیادی مرض کو حل کیے بغیر صرف خون کے بہاؤ کا علاج کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیماری کو نظر انداز کرکے صرف اس کی علامات کا علاج کیا جائے۔</p>
<p>پاکستان کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ 2024 کی ایک مقامی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں 70 فیصد تک حاملہ خواتین اینیمیا کا شکار ہیں۔ غربت، غذائی قلت، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، پیٹ کے کیڑوں کے انفیکشن، یکے بعد دیگرے حمل اور تولیدی صحت کی ناقص سہولیات اس وبائی صورتحال کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتائج صرف ماؤں کی اموات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ تحقیق اینیمیا کو قبل از وقت زچگی (پری میچور برتھ)، مردہ بچوں کی پیدائش (اسٹل برتھ)، نوزائیدہ بچوں کی اموات اور ماؤں و بچوں دونوں کے لیے طویل مدتی طبی پچیدگیوں سے بھی جوڑتی ہے۔ تحقیق کا یہ انکشاف کہ شدید اینیمیا کی شکار 17 فیصد خواتین کو مردہ بچوں کی پیدائش کا سامنا کرنا پڑا، فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>اینیمیا کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ بارآور عمر کی تمام خواتین کے لیے آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس تک رسائی کو ممکن بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذائیت کے حوالے سے آگاہی مہم، پیٹ کے کیڑے مارنے کے پروگرام، صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ متواتر حمل سے جڑے صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کی خدمات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو زچگی کے دوران روایتی طور پر دیے جانے والے کٹ (روٹین ایپیسی اوٹومی) جیسے طریقوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، کیونکہ تحقیق کے مطابق یہ عمل کسی بڑے فائدے کے بغیر ماں میں اینیمیا کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ زچگی کے وقت ٹرانیکسامک ایسڈ (ٹی ایکس اے) کے استعمال کے حق میں ملنے والے شواہد پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا وسیع استعمال ماؤں کی اموات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حاصل کلام یہ ہے کہ ویمن 2 اسٹڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماؤں کی اموات محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ وسیع تر سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا عکس بھی ہے۔ ماؤں کی جانیں بچانے کے لیے صرف ہنگامی طبی امداد ہی کافی نہیں بلکہ خواتین کی غذائیت، تعلیم اور صحت کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان نتائج کے بعد حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اینیمیا کی روک تھام اور اس کے علاج کو ماؤں کی صحت کی حکمتِ عملیوں کے مرکز میں رکھیں۔ اگر پالیسی ساز ان شواہد پر عمل کرتے ہیں تو بے شمار ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو بقا کا ایک بہتر موقع اور صحت مند مستقبل دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288066</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 16:54:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/29164220067f637.webp" type="image/webp" medium="image" height="562" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/29164220067f637.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
