<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 04:44:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 04:44:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کی صورتحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ڈویژن نے ستمبر کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا ہے جس میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک ملا جلا منظر پیش کیا گیا ہے۔ کامیابیاں بنیادی طور پر جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد سے متعلق ہیں جبکہ ناکامیاں بڑی حد تک جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے وابستہ ہیں۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں اس آؤٹ لک کے لیے بدستور بنیادی خطرہ ہیں کیونکہ ان کے اثرات قوتِ خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل پر پڑتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیابیوں میں جاری کھاتے کے خسارے میں کمی بھی شامل ہے جو جولائی تا اگست 2026 میں 853 ملین ڈالر کے منفی سے کم ہو کر رواں سال کے انہی دو ماہ میں 543 ملین ڈالر کے منفی تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ کمی تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوئی، کیونکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 5.16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.16 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں صورتِ حال مختلف تھی۔ بلاشبہ اس کی ایک وجہ پاکستان کی بڑی درآمدی اشیا یعنی پٹرولیم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا جو تنازع کے نتیجے میں ہوا جب کہ مشرقِ وسطیٰ کو برآمدات میں 0.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے دو بڑے عوامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولاً ترسیلاتِ زر کی آمد میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا جو زرمبادلہ ذخائر کمانے کا ایک مطلوبہ ذریعہ ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اضافہ تنازع کے باعث ہوا ہے، کیونکہ بعض دیگر ممالک کے شہریوں کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے وطن واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور دوم قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم اس اضافے کی رفتار رواں سال کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں قرضوں کی شرحِ نمو 13 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے مطابق اس کی وجہ مالیاتی استحکام، بنیادی بجٹ میں سرپلس اور سود کی ادائیگیوں میں کمی ہے۔ تاہم آزاد ماہرینِ معاشیات نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی بحران کے باعث سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ نفاذِ قوانین کے ایسے اقدامات ہیں جن کے تحت اب تک تین شعبوں، بالخصوص چینی، سیمنٹ اور کھاد کی فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس وصولیوں کی زیادہ سخت جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بالواسطہ ٹیکسوں کا مجموعی اثر جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، غذائی مہنگائی میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے جس سے غریب اور کمزور طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 44 فیصد کی بلند سطح پر ہونے کے پیش نظر حکومت کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بنیادی بجٹ سرپلس کو قابو میں رکھا ہے، تاہم اس سے مراد آمدنی میں سے اخراجات منہا کرنا ہے لیکن قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ سود کی ادائیگیاں مجموعی جاری اخراجات کا 46 فیصد اور مجموعی بجٹ کا 43 فیصد بنتی ہیں۔ یہ حساب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ متوقع نہیں ،اگرچہ یہ مفروضہ ناکام ہوسکتا ہے کیونکہ تنازع کے باعث مہنگائی اگست 2025 میں 3.1 فیصد سے بڑھ کر اگست 2026 میں 11.1 فیصد ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلے کے تحت لندن اسٹاک ایکسچینج پر 3 ارب ڈالر مالیت کا دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ جاری کیا گیا  جس پر ملٹی لیٹرل/دو طرفہ مالیاتی اداروں سے دستیاب شرح کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سود مقرر کی گئی ہے: 1.75 ارب ڈالر کا بانڈ ساڑھے 5 سال کے لیے 7.5 فیصد اور 1.25 ارب ڈالر کا بانڈ 10 سال کے لیے 7.9 فیصد کی شرح پر جاری کیا گیا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ اسے بجٹ کے تخمینے میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ یہ بانڈ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کیلئے ایک اور تشویش کی بات بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو بھی ہونی چاہیے جو جولائی 2025 میں 8.93 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پورے سال کے 4.98 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ تھی جبکہ جولائی 2026 میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 3.03 فیصد رہ گئی۔ اس کی ایک وجہ یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافہ (آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے باعث) اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ہوسکتی ہے جو جولائی تا اگست 2025 میں منفی 170 ملین روپے سے کم ہو کر جولائی تا اگست 2026 میں منفی 364.5 ملین روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے لیے اپ ڈیٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے: ”ترجیحات میں محصولات میں اضافے کے عمل کو تیز کرنا، ریلیف کے اقدامات کو عارضی اور ہدفی رکھنا اور توانائی اور ٹیکس اصلاحات میں پیشرفت کو برقرار رکھنا شامل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات ملکر معاشی استحکام کو مستحکم کریں گے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھیں گے۔ تاہم یہ امید کی جاسکتی تھی کہ آئندہ کے لیے سفارش یہ ہونی چاہیے تھی کہ ایسا ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دے کر نافذ کیا جائے جو براہِ راست یا استطاعتِ ادائیگی کی بنیاد پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے ذریعے زیادہ محصولات کو یقینی بنائے جب کہ ٹیرف کا مقصد نااہلیوں اور غیر مؤثریتو کو کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کا بوجھ بے بس صارفین پر ڈالنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس ڈویژن نے ستمبر کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا ہے جس میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک ملا جلا منظر پیش کیا گیا ہے۔ کامیابیاں بنیادی طور پر جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد سے متعلق ہیں جبکہ ناکامیاں بڑی حد تک جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے وابستہ ہیں۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں اس آؤٹ لک کے لیے بدستور بنیادی خطرہ ہیں کیونکہ ان کے اثرات قوتِ خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل پر پڑتے ہیں۔</strong></p>
<p>کامیابیوں میں جاری کھاتے کے خسارے میں کمی بھی شامل ہے جو جولائی تا اگست 2026 میں 853 ملین ڈالر کے منفی سے کم ہو کر رواں سال کے انہی دو ماہ میں 543 ملین ڈالر کے منفی تک آ گیا۔</p>
<p>تاہم یہ کمی تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوئی، کیونکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 5.16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.16 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں صورتِ حال مختلف تھی۔ بلاشبہ اس کی ایک وجہ پاکستان کی بڑی درآمدی اشیا یعنی پٹرولیم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا جو تنازع کے نتیجے میں ہوا جب کہ مشرقِ وسطیٰ کو برآمدات میں 0.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے دو بڑے عوامل تھے۔</p>
<p>اولاً ترسیلاتِ زر کی آمد میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا جو زرمبادلہ ذخائر کمانے کا ایک مطلوبہ ذریعہ ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اضافہ تنازع کے باعث ہوا ہے، کیونکہ بعض دیگر ممالک کے شہریوں کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے وطن واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p>اور دوم قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم اس اضافے کی رفتار رواں سال کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں قرضوں کی شرحِ نمو 13 فیصد تھی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے مطابق اس کی وجہ مالیاتی استحکام، بنیادی بجٹ میں سرپلس اور سود کی ادائیگیوں میں کمی ہے۔ تاہم آزاد ماہرینِ معاشیات نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی بحران کے باعث سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ نفاذِ قوانین کے ایسے اقدامات ہیں جن کے تحت اب تک تین شعبوں، بالخصوص چینی، سیمنٹ اور کھاد کی فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس وصولیوں کی زیادہ سخت جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔</p>
<p>ان بالواسطہ ٹیکسوں کا مجموعی اثر جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، غذائی مہنگائی میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے جس سے غریب اور کمزور طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 44 فیصد کی بلند سطح پر ہونے کے پیش نظر حکومت کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بنیادی بجٹ سرپلس کو قابو میں رکھا ہے، تاہم اس سے مراد آمدنی میں سے اخراجات منہا کرنا ہے لیکن قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ سود کی ادائیگیاں مجموعی جاری اخراجات کا 46 فیصد اور مجموعی بجٹ کا 43 فیصد بنتی ہیں۔ یہ حساب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ متوقع نہیں ،اگرچہ یہ مفروضہ ناکام ہوسکتا ہے کیونکہ تنازع کے باعث مہنگائی اگست 2025 میں 3.1 فیصد سے بڑھ کر اگست 2026 میں 11.1 فیصد ہوگئی ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلے کے تحت لندن اسٹاک ایکسچینج پر 3 ارب ڈالر مالیت کا دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ جاری کیا گیا  جس پر ملٹی لیٹرل/دو طرفہ مالیاتی اداروں سے دستیاب شرح کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سود مقرر کی گئی ہے: 1.75 ارب ڈالر کا بانڈ ساڑھے 5 سال کے لیے 7.5 فیصد اور 1.25 ارب ڈالر کا بانڈ 10 سال کے لیے 7.9 فیصد کی شرح پر جاری کیا گیا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ اسے بجٹ کے تخمینے میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ یہ بانڈ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت کیلئے ایک اور تشویش کی بات بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو بھی ہونی چاہیے جو جولائی 2025 میں 8.93 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پورے سال کے 4.98 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ تھی جبکہ جولائی 2026 میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 3.03 فیصد رہ گئی۔ اس کی ایک وجہ یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافہ (آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے باعث) اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ہوسکتی ہے جو جولائی تا اگست 2025 میں منفی 170 ملین روپے سے کم ہو کر جولائی تا اگست 2026 میں منفی 364.5 ملین روپے رہ گئی۔</p>
<p>آئندہ کے لیے اپ ڈیٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے: ”ترجیحات میں محصولات میں اضافے کے عمل کو تیز کرنا، ریلیف کے اقدامات کو عارضی اور ہدفی رکھنا اور توانائی اور ٹیکس اصلاحات میں پیشرفت کو برقرار رکھنا شامل ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ اقدامات ملکر معاشی استحکام کو مستحکم کریں گے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھیں گے۔ تاہم یہ امید کی جاسکتی تھی کہ آئندہ کے لیے سفارش یہ ہونی چاہیے تھی کہ ایسا ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دے کر نافذ کیا جائے جو براہِ راست یا استطاعتِ ادائیگی کی بنیاد پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے ذریعے زیادہ محصولات کو یقینی بنائے جب کہ ٹیرف کا مقصد نااہلیوں اور غیر مؤثریتو کو کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کا بوجھ بے بس صارفین پر ڈالنا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292008</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 11:28:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02111032a130f20.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02111032a130f20.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کا بے قابو اسٹریٹ کرائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292002/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یقین نہیں ہوتا کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب کراچی کے عوام کو اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزارنے کے لیے اس فکر سے آزاد ہو سکیں گے کہ کہیں انہیں لوٹ نہ لیا جائے، ان پر حملہ نہ ہو جائے یا اس سے بھی بدتر، ان کے مال و اسباب کی خاطر انہیں قتل نہ کردیا جائے۔ برسوں سے اسٹریٹ کرائم شہر کی زندگی کا تقریباً لازمی حصہ بن چکا ہے اور اس کے نتیجے میں جان و مال کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا سلسلہ کہیں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک جڑ پکڑ چکا ہے۔ 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران کراچی کے شہریوں سے اسٹریٹ کرمنلز نے ایک اندازے کے مطابق 2.27 ارب روپے مالیت کی اشیا چھین لیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 898 کاریں، 12,200 موٹر سائیکلیں اور 12,846 موبائل فون چھینے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کار کی اوسط قیمت 15 لاکھ روپے، موٹر سائیکل کی 50 ہزار روپے اور موبائل فون کی 25 ہزار روپے کے محتاط اندازے کی بنیاد پر صرف ان تین اقسام کے سامان سے ہونے والا مجموعی نقصان تقریباً اسی رقم تک پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ حقیقی مالی نقصان کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ اس تخمینے میں نقد رقم، زیورات، سونا، گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور دیگر بے شمار قیمتی اشیا شامل نہیں ہیں۔ نہ ہی اس میں متاثرین کو برداشت کرنا پڑنے والے وسیع تر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے، جن میں کام کے ضائع ہونے والے اوقات، روزگار میں خلل، نفسیاتی صدمہ اور چوری شدہ اشیا کو دوبارہ خریدنے کے اخراجات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات انسانی نقصان ہے۔ رواں سال کم از کم 55 افراد ڈکیتی کی کوششوں کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے قتل ہوچکے ہیں۔ ایک موبائل فون یا چند ہزار روپے چند ہی لمحوں میں زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائم میں کمی کے دعوے ان خاندانوں کے لیے کوئی خاص تسلی نہیں بن سکتے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ان کے لیے یہ نقصان مستقل ہے، چاہے حکام اس رجحان کو کسی بھی انداز میں بیان کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریٹ کرائم کے مسلسل پھیلاؤ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی محرومی جرائم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہیں، لیکن غربت ڈکیتی یا قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل ناکامی قانون نافذ کرنے والے ایسے نظام میں ہے جو بارہا جرائم پیشہ افراد کو روکنے، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنے، مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ کراچی کے پولیسنگ سے متعلق مسائل کوئی نئے نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفری، تربیت، وسائل، تحقیقات کی صلاحیت، بدعنوانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق سوالات برسوں سے موجود ہیں۔ کارروائیاں اور گرفتاریاں عارضی ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، لیکن مسلسل انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ، مؤثر استغاثہ اور بامعنی احتساب کے بغیر ایک مجرم کی جگہ دوسرا مجرم لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی مایوس کن بات شہریوں میں پیدا ہونے والی وہ بے بسی ہے جو اب معمول بنتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں نے اپنے موبائل فون چھپا کر رکھنا، مخصوص سڑکوں سے گریز کرنا، ڈاکوؤں کی مزاحمت نہ کرنا اور اپنے سامان سے محروم ہونے کے امکان کو شہری زندگی کے ایک معمول کے خطرے کے طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی فعال شہر کو اپنے رہائشیوں سے اس طرح کی قربانیاں طلب نہیں کرنی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے معاشی اثرات انفرادی متاثرین سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور اس کی بندرگاہیں، مارکیٹیں، کاروبار، مالیاتی ادارے اور خدمات قومی معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کو سہارا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک غیر محفوظ شہر کاروباری اداروں پر سکیورٹی اخراجات، کاروباری سرگرمیوں میں خلل، نقل و حرکت میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمزوری کی صورت میں اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے معیارِ زندگی اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرکے بھی یہ ایک بھاری قیمت وصول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت کراچی میں رہنے کی اس قیمت کو مستقل نہیں بننے دے سکتی۔ روزگار اور معاشی مواقع میں اضافے کے ذریعے معاشی محرومی کا ازالہ طویل المدتی حل کا حصہ ہونا چاہیے، لیکن ایسی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آسکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا فوری ترجیح مؤثر پولیسنگ، ایسی تحقیقات ہونی چاہیے جو ملزمان کو سزا دلانے تک پہنچیں، اور ایسا نفاذی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو مجرموں کو یہ یقین دلائے کہ ان کے اقدامات کے نتائج ضرور بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف 8 ماہ میں 55 جانوں کا ضیاع اور 2.27 ارب روپے سے زائد کے دستاویزی نقصانات اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں کہ یہ عوامی تحفظ، طرزِ حکمرانی اور معیشت سے جڑا ایک ایسا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یقین نہیں ہوتا کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب کراچی کے عوام کو اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزارنے کے لیے اس فکر سے آزاد ہو سکیں گے کہ کہیں انہیں لوٹ نہ لیا جائے، ان پر حملہ نہ ہو جائے یا اس سے بھی بدتر، ان کے مال و اسباب کی خاطر انہیں قتل نہ کردیا جائے۔ برسوں سے اسٹریٹ کرائم شہر کی زندگی کا تقریباً لازمی حصہ بن چکا ہے اور اس کے نتیجے میں جان و مال کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا سلسلہ کہیں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔</strong></p>
<p>تازہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک جڑ پکڑ چکا ہے۔ 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران کراچی کے شہریوں سے اسٹریٹ کرمنلز نے ایک اندازے کے مطابق 2.27 ارب روپے مالیت کی اشیا چھین لیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 898 کاریں، 12,200 موٹر سائیکلیں اور 12,846 موبائل فون چھینے گئے۔</p>
<p>ایک کار کی اوسط قیمت 15 لاکھ روپے، موٹر سائیکل کی 50 ہزار روپے اور موبائل فون کی 25 ہزار روپے کے محتاط اندازے کی بنیاد پر صرف ان تین اقسام کے سامان سے ہونے والا مجموعی نقصان تقریباً اسی رقم تک پہنچتا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ حقیقی مالی نقصان کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ اس تخمینے میں نقد رقم، زیورات، سونا، گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور دیگر بے شمار قیمتی اشیا شامل نہیں ہیں۔ نہ ہی اس میں متاثرین کو برداشت کرنا پڑنے والے وسیع تر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے، جن میں کام کے ضائع ہونے والے اوقات، روزگار میں خلل، نفسیاتی صدمہ اور چوری شدہ اشیا کو دوبارہ خریدنے کے اخراجات شامل ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات انسانی نقصان ہے۔ رواں سال کم از کم 55 افراد ڈکیتی کی کوششوں کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے قتل ہوچکے ہیں۔ ایک موبائل فون یا چند ہزار روپے چند ہی لمحوں میں زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائم میں کمی کے دعوے ان خاندانوں کے لیے کوئی خاص تسلی نہیں بن سکتے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ان کے لیے یہ نقصان مستقل ہے، چاہے حکام اس رجحان کو کسی بھی انداز میں بیان کریں۔</p>
<p>اسٹریٹ کرائم کے مسلسل پھیلاؤ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی محرومی جرائم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہیں، لیکن غربت ڈکیتی یا قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔</p>
<p>اصل ناکامی قانون نافذ کرنے والے ایسے نظام میں ہے جو بارہا جرائم پیشہ افراد کو روکنے، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنے، مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ کراچی کے پولیسنگ سے متعلق مسائل کوئی نئے نہیں ہیں۔</p>
<p>نفری، تربیت، وسائل، تحقیقات کی صلاحیت، بدعنوانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق سوالات برسوں سے موجود ہیں۔ کارروائیاں اور گرفتاریاں عارضی ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، لیکن مسلسل انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ، مؤثر استغاثہ اور بامعنی احتساب کے بغیر ایک مجرم کی جگہ دوسرا مجرم لے سکتا ہے۔</p>
<p>اتنی ہی مایوس کن بات شہریوں میں پیدا ہونے والی وہ بے بسی ہے جو اب معمول بنتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں نے اپنے موبائل فون چھپا کر رکھنا، مخصوص سڑکوں سے گریز کرنا، ڈاکوؤں کی مزاحمت نہ کرنا اور اپنے سامان سے محروم ہونے کے امکان کو شہری زندگی کے ایک معمول کے خطرے کے طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی فعال شہر کو اپنے رہائشیوں سے اس طرح کی قربانیاں طلب نہیں کرنی چاہئیں۔</p>
<p>اس کے معاشی اثرات انفرادی متاثرین سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور اس کی بندرگاہیں، مارکیٹیں، کاروبار، مالیاتی ادارے اور خدمات قومی معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کو سہارا دیتے ہیں۔</p>
<p>ایک غیر محفوظ شہر کاروباری اداروں پر سکیورٹی اخراجات، کاروباری سرگرمیوں میں خلل، نقل و حرکت میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمزوری کی صورت میں اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے معیارِ زندگی اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرکے بھی یہ ایک بھاری قیمت وصول کرتا ہے۔</p>
<p>صوبائی حکومت کراچی میں رہنے کی اس قیمت کو مستقل نہیں بننے دے سکتی۔ روزگار اور معاشی مواقع میں اضافے کے ذریعے معاشی محرومی کا ازالہ طویل المدتی حل کا حصہ ہونا چاہیے، لیکن ایسی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آسکتیں۔</p>
<p>لہٰذا فوری ترجیح مؤثر پولیسنگ، ایسی تحقیقات ہونی چاہیے جو ملزمان کو سزا دلانے تک پہنچیں، اور ایسا نفاذی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو مجرموں کو یہ یقین دلائے کہ ان کے اقدامات کے نتائج ضرور بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>صرف 8 ماہ میں 55 جانوں کا ضیاع اور 2.27 ارب روپے سے زائد کے دستاویزی نقصانات اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں کہ یہ عوامی تحفظ، طرزِ حکمرانی اور معیشت سے جڑا ایک ایسا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292002</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 10:16:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0210144622f0a83.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0210144622f0a83.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا جاری جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291955/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم اور حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کو معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور محصولات کی وصولی پر منفی اثرات کی وجہ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ٹیم اس وقت پاکستان میں 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے سہ ماہی جائزے، 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے اور آرٹیکل IV مشاورت کے لیے موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اثرات کی شدت مختلف ممالک میں مختلف ہے، تاہم پاکستان کے لیے یہ اثر تین وجوہات کی بنا پر نمایاں ہے: (i) درآمدات پر عائد ٹیکسوں، بالخصوص درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں بجٹ میں مقررہ تخمینے سے کم ہیں، تاہم بورڈ نے دعویٰ کیا کہ پہلی سہ ماہی کا 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غیر کارپوریٹ اداروں کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے؛ (ii) شوگر، سیمنٹ اور حال ہی میں کھاد سمیت تین اشیا کے لیے فیکٹری سائٹس پر سیلز ٹیکس وصولی سے متعلق انفورسمنٹ اقدامات فعال طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو عالمی بینک کے مقرر کردہ غربت کے معیار کے مطابق پہلے ہی پاکستان کی 44.2 فیصد آبادی کے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے کے تناظر میں تشویش کا باعث ہونا چاہیے اور آخر میں (iii) پٹرولیم سبسڈی میں اضافے کا فیصلہ مالی گنجائش کو مزید محدود کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) موٹر سائیکلوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے ان مالکان کے لیے سبسڈی اسکیم جاری رکھنے کی حمایت کرے گا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے اہل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں گزشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف پہلے سے طے شدہ 174 قانونی ترامیم چاہتا ہے جن میں سے صرف دو ترامیم قانون کا حصہ بن سکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولاً، رواں منگل کو جاری کیے گئے نئے سرکاری خریداری کے قواعد کے تحت تمام خریداری ای-پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS) کے ذریعے کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے، جبکہ خریداری کرنے والے اداروں کو اپنے سالانہ پروکیورمنٹ پلانز EPADS اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کی ویب سائٹ، دونوں پر شائع کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا واضح مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خریداری کرنے والے ادارے ہنگامی خریداری کی ضرورت کا حوالہ دے کر ان قواعد کو نظرانداز نہ کرسکیں جس کے باعث مقررہ طریقہ کار کو مختصر کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، آئی ایم ایف کے عملے کو بتایا گیا کہ لازمی اثاثہ ڈکلیئریشن نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی ملازمین کو رواں ماہ کے اختتام تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ، ان کے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کو ہر کیلنڈر سال کے آخری روز تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرانا لازم ہے، یہ معلومات ماضی میں عوامی طور پر دستیاب ہوتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ تشویش امر یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے رواں سال جنوری میں الیکشنز ترمیمی بل منظور کیا جس میں ایسی دفعات شامل کی گئیں جو سیکیورٹی خطرے کی صورت میں اثاثوں کی تفصیلات تک عوامی رسائی یا ان کی اشاعت محدود کرتی ہیں جبکہ ایسے خطرے کا تعین بلاشبہ حکومت ہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹیکس چوری اور ٹیکس سے گریز کرنے والوں کے نام ظاہر کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوئی، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ ہمارے منتخب نمائندوں، ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تنخواہیں لینے والے سرکاری افسران اور ان کے خاندانوں، بشمول بالغ اولاد، کے گوشوارے بھی عوامی جانچ پڑتال کے لیے دستیاب ہوں گے، کیونکہ بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اثاثے چھپانے کے لیے اسی سقم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ابھی یہ معلوم نہیں کہ آیا آئی ایم ایف جاری مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث جس نے عالمی کساد بازاری کو جنم دیا ہے، سخت پیشگی شرائط میں نرمی پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تک غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر رواں سال اپریل میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی پٹرولیم سبسڈی آئی ایم ایف کے عملے کی منظوری نہ ملنے کے بعد واپس لینا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں برقرار رہنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ چین اور سعودی عرب کی جانب سے سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی رول اوور سہولت کا انحصار پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام میں شرکت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، غربت میں اضافے کی صورتحال کے پیش نظر، امید کی جانی چاہیے کہ آئی ایم ایف اور حکام کچھ شرائط میں موخر کرنے پر اتفاق کریں گے۔ اس کے لیے حکومت کو اپنے موجودہ اخراجات میں کم از کم 2.5 ٹریلین روپے کی کمی کرنا ہوگی جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم اور حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کو معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور محصولات کی وصولی پر منفی اثرات کی وجہ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کی ٹیم اس وقت پاکستان میں 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے سہ ماہی جائزے، 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے اور آرٹیکل IV مشاورت کے لیے موجود ہے۔</p>
<p>اس کے اثرات کی شدت مختلف ممالک میں مختلف ہے، تاہم پاکستان کے لیے یہ اثر تین وجوہات کی بنا پر نمایاں ہے: (i) درآمدات پر عائد ٹیکسوں، بالخصوص درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں بجٹ میں مقررہ تخمینے سے کم ہیں، تاہم بورڈ نے دعویٰ کیا کہ پہلی سہ ماہی کا 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غیر کارپوریٹ اداروں کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے؛ (ii) شوگر، سیمنٹ اور حال ہی میں کھاد سمیت تین اشیا کے لیے فیکٹری سائٹس پر سیلز ٹیکس وصولی سے متعلق انفورسمنٹ اقدامات فعال طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو عالمی بینک کے مقرر کردہ غربت کے معیار کے مطابق پہلے ہی پاکستان کی 44.2 فیصد آبادی کے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے کے تناظر میں تشویش کا باعث ہونا چاہیے اور آخر میں (iii) پٹرولیم سبسڈی میں اضافے کا فیصلہ مالی گنجائش کو مزید محدود کر دے گا۔</p>
<p>مزید برآں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) موٹر سائیکلوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے ان مالکان کے لیے سبسڈی اسکیم جاری رکھنے کی حمایت کرے گا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے اہل نہیں ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں گزشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف پہلے سے طے شدہ 174 قانونی ترامیم چاہتا ہے جن میں سے صرف دو ترامیم قانون کا حصہ بن سکی ہیں۔</p>
<p>اولاً، رواں منگل کو جاری کیے گئے نئے سرکاری خریداری کے قواعد کے تحت تمام خریداری ای-پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS) کے ذریعے کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے، جبکہ خریداری کرنے والے اداروں کو اپنے سالانہ پروکیورمنٹ پلانز EPADS اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کی ویب سائٹ، دونوں پر شائع کرنا ہوں گے۔</p>
<p>اس اقدام کا واضح مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خریداری کرنے والے ادارے ہنگامی خریداری کی ضرورت کا حوالہ دے کر ان قواعد کو نظرانداز نہ کرسکیں جس کے باعث مقررہ طریقہ کار کو مختصر کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، آئی ایم ایف کے عملے کو بتایا گیا کہ لازمی اثاثہ ڈکلیئریشن نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی ملازمین کو رواں ماہ کے اختتام تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ، ان کے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کو ہر کیلنڈر سال کے آخری روز تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرانا لازم ہے، یہ معلومات ماضی میں عوامی طور پر دستیاب ہوتی تھیں۔</p>
<p>قابلِ تشویش امر یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے رواں سال جنوری میں الیکشنز ترمیمی بل منظور کیا جس میں ایسی دفعات شامل کی گئیں جو سیکیورٹی خطرے کی صورت میں اثاثوں کی تفصیلات تک عوامی رسائی یا ان کی اشاعت محدود کرتی ہیں جبکہ ایسے خطرے کا تعین بلاشبہ حکومت ہی کرتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ٹیکس چوری اور ٹیکس سے گریز کرنے والوں کے نام ظاہر کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوئی، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ ہمارے منتخب نمائندوں، ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تنخواہیں لینے والے سرکاری افسران اور ان کے خاندانوں، بشمول بالغ اولاد، کے گوشوارے بھی عوامی جانچ پڑتال کے لیے دستیاب ہوں گے، کیونکہ بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اثاثے چھپانے کے لیے اسی سقم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ابھی یہ معلوم نہیں کہ آیا آئی ایم ایف جاری مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث جس نے عالمی کساد بازاری کو جنم دیا ہے، سخت پیشگی شرائط میں نرمی پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تک غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر رواں سال اپریل میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی پٹرولیم سبسڈی آئی ایم ایف کے عملے کی منظوری نہ ملنے کے بعد واپس لینا پڑی۔</p>
<p>پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں برقرار رہنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ چین اور سعودی عرب کی جانب سے سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی رول اوور سہولت کا انحصار پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام میں شرکت پر ہے۔</p>
<p>تاہم، غربت میں اضافے کی صورتحال کے پیش نظر، امید کی جانی چاہیے کہ آئی ایم ایف اور حکام کچھ شرائط میں موخر کرنے پر اتفاق کریں گے۔ اس کے لیے حکومت کو اپنے موجودہ اخراجات میں کم از کم 2.5 ٹریلین روپے کی کمی کرنا ہوگی جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291955</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:39:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01113353db2871f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01113353db2871f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسموگ چیلنج، پنجاب میں خوش آئند تبدیلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291948/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے جیسے اسموگ کا موسم قریب آرہا ہے، پنجاب کی تیاریاں موسمی تشویش سے مستقل بنیادوں پر عملدرآمد اور سرمایہ کاری کی جانب ایک خوش آئند تبدیلی ظاہر کر رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کے تازہ ترین اعدادوشمار قابلِ ذکر ہیں، صرف تین دن میں اس کی ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی نے ماحولیاتی قوانین کی 1,038 خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا اور 1,277 ای چالان اور دیگر قانونی و انتظامی کارروائیوں کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بغیر ڈھانپے تعمیراتی سامان، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، باربی کیو اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، بھٹہ خشت، صنعتی آلودگی اور کھلے میں جلانا ان خلاف ورزیوں میں شامل تھے جن کی نشاندہی کی گئی۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق اس مہم میں ڈرون نگرانی اور صنعتوں اور بھٹوں کی سخت نگرانی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کیمروں، ڈرونز اور ویڈیو اینالیٹکس کا استعمال عملدرآمد کو زیادہ منظم بنا سکتا ہے۔ مکمل طور پر فزیکل معائنوں پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کرکے عملدرآمد کرنے والی ٹیموں کو ان کی جانب متوجہ کرسکتی ہے۔ تاہم خلاف ورزی کا سراغ لگانا صرف پہلا قدم ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا خلاف ورزیوں میں اس لیے کمی آتی ہے کہ جرمانے یقینی، متناسب اور مستقل بنیادوں پر عائد کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ خودکار بنیادوں پر ہونے والی کارروائی شفاف ہو، قابلِ اعتماد شواہد پر مبنی ہو اور انسانی نگرانی کے تابع ہو، جبکہ شہریوں کیلئے غلط ای چالان کو چیلنج کرنے کا مؤثر طریقہ کار بھی موجود ہو۔ پنجاب کی جانب سے ڈیجیٹل نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے ساتھ ایسے حفاظتی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ عملدرآمد کے ساتھ قابلِ عمل متبادل بھی فراہم کیے جائیں۔ پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 20 ہزار الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں متعارف کرانے کی مجوزہ منصوبہ بندی اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سستی فنانسنگ، مناسب چارجنگ اور بیٹری تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے، اور بیٹری کے فضلے کے ذمہ دارانہ انتظام سے یہ طے ہوگا کہ برقی گاڑیاں عام مسافروں اور تجارتی آپریٹرز کیلئے عملی متبادل بن پاتی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرک بسوں اور سستی فنانسنگ پروگرام کے ذریعے 1 لاکھ 20 ہزار دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مجوزہ فراہمی بھی صاف ستھری ٹرانسپورٹ کی جانب منتقلی کا ایک اور حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مجوزہ کاربن کریڈٹ کا جزو محتاط غور کا متقاضی ہے۔ کاربن کریڈٹس تصدیق شدہ اخراج میں کمی کو مالی قدر میں تبدیل کرکے اضافی مالی وسائل فراہم کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ خود ایک مقصد نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاربن مارکیٹس سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش سے قبل صوبے کو اخراج میں ہونے والی حقیقی کمی کی پیمائش، رپورٹنگ اور آزادانہ تصدیق کا قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا ہوگا۔ بنیادی اعدادوشمار، طریقہ کار، تصدیقی انتظامات اور کسی بھی کاربن کریڈٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کے سامنے ظاہر کیا جانا چاہیے۔ ترجیح صاف ہوا ہی رہنی چاہیے؛ کاربن فنانس کو اس مقصد کی معاونت کرنی چاہیے، اس کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک وسیع تر سبق بھی موجود ہے۔ اسموگ کسی ایک شعبے کی پیداوار نہیں اور نہ ہی اسے کسی ایک کریک ڈاؤن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ گاڑیوں، تعمیراتی گردوغبار، صنعتی اخراج، بھٹہ خشت، کچرا جلانے اور فصلوں کی باقیات جلانے کیلئے مختلف نوعیت کے اقدامات درکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر حکومت کی جانب سے سپر سیڈرز کی فراہمی اہم ہے کیونکہ اگر فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائی کو پائیدار بنانا ہے تو کسانوں کو عملی اور سستے متبادل فراہم کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس بات کی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے موسم سرما کے سخت ترین ہفتے آنے سے پہلے ہی عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ تاہم کامیابی کا حتمی پیمانہ جاری کیے گئے چالانوں کی تعداد، نصب کیے گئے کیمروں یا منعقد ہونے والے اجلاس نہیں بلکہ پی ایم 2.5 کی زد میں آنے کے واقعات میں مسلسل کمی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کو سال بھر کیلئے صاف ہوا کی ایسی حکمت عملی درکار ہے جو عملدرآمد کو سستے متبادل، قابلِ اعتماد اعدادوشمار، عوامی جوابدہی اور ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت میں طویل مدتی تبدیلیوں کے ساتھ مربوط کرے۔ صرف اسی صورت میں سالانہ اسموگ ایمرجنسی ایک بار بار آنے والے بحران کے بجائے قابلِ انتظام عوامی پالیسی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے جیسے اسموگ کا موسم قریب آرہا ہے، پنجاب کی تیاریاں موسمی تشویش سے مستقل بنیادوں پر عملدرآمد اور سرمایہ کاری کی جانب ایک خوش آئند تبدیلی ظاہر کر رہی ہیں۔</strong></p>
<p>پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کے تازہ ترین اعدادوشمار قابلِ ذکر ہیں، صرف تین دن میں اس کی ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی نے ماحولیاتی قوانین کی 1,038 خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا اور 1,277 ای چالان اور دیگر قانونی و انتظامی کارروائیوں کا باعث بنی۔</p>
<p>بغیر ڈھانپے تعمیراتی سامان، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، باربی کیو اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، بھٹہ خشت، صنعتی آلودگی اور کھلے میں جلانا ان خلاف ورزیوں میں شامل تھے جن کی نشاندہی کی گئی۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق اس مہم میں ڈرون نگرانی اور صنعتوں اور بھٹوں کی سخت نگرانی بھی شامل ہے۔</p>
<p>اے آئی کیمروں، ڈرونز اور ویڈیو اینالیٹکس کا استعمال عملدرآمد کو زیادہ منظم بنا سکتا ہے۔ مکمل طور پر فزیکل معائنوں پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کرکے عملدرآمد کرنے والی ٹیموں کو ان کی جانب متوجہ کرسکتی ہے۔ تاہم خلاف ورزی کا سراغ لگانا صرف پہلا قدم ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا خلاف ورزیوں میں اس لیے کمی آتی ہے کہ جرمانے یقینی، متناسب اور مستقل بنیادوں پر عائد کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ خودکار بنیادوں پر ہونے والی کارروائی شفاف ہو، قابلِ اعتماد شواہد پر مبنی ہو اور انسانی نگرانی کے تابع ہو، جبکہ شہریوں کیلئے غلط ای چالان کو چیلنج کرنے کا مؤثر طریقہ کار بھی موجود ہو۔ پنجاب کی جانب سے ڈیجیٹل نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے ساتھ ایسے حفاظتی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔</p>
<p>اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ عملدرآمد کے ساتھ قابلِ عمل متبادل بھی فراہم کیے جائیں۔ پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 20 ہزار الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں متعارف کرانے کی مجوزہ منصوبہ بندی اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سستی فنانسنگ، مناسب چارجنگ اور بیٹری تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے، اور بیٹری کے فضلے کے ذمہ دارانہ انتظام سے یہ طے ہوگا کہ برقی گاڑیاں عام مسافروں اور تجارتی آپریٹرز کیلئے عملی متبادل بن پاتی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>الیکٹرک بسوں اور سستی فنانسنگ پروگرام کے ذریعے 1 لاکھ 20 ہزار دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مجوزہ فراہمی بھی صاف ستھری ٹرانسپورٹ کی جانب منتقلی کا ایک اور حصہ ہے۔</p>
<p>تاہم مجوزہ کاربن کریڈٹ کا جزو محتاط غور کا متقاضی ہے۔ کاربن کریڈٹس تصدیق شدہ اخراج میں کمی کو مالی قدر میں تبدیل کرکے اضافی مالی وسائل فراہم کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ خود ایک مقصد نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>کاربن مارکیٹس سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش سے قبل صوبے کو اخراج میں ہونے والی حقیقی کمی کی پیمائش، رپورٹنگ اور آزادانہ تصدیق کا قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا ہوگا۔ بنیادی اعدادوشمار، طریقہ کار، تصدیقی انتظامات اور کسی بھی کاربن کریڈٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کے سامنے ظاہر کیا جانا چاہیے۔ ترجیح صاف ہوا ہی رہنی چاہیے؛ کاربن فنانس کو اس مقصد کی معاونت کرنی چاہیے، اس کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>یہاں ایک وسیع تر سبق بھی موجود ہے۔ اسموگ کسی ایک شعبے کی پیداوار نہیں اور نہ ہی اسے کسی ایک کریک ڈاؤن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ گاڑیوں، تعمیراتی گردوغبار، صنعتی اخراج، بھٹہ خشت، کچرا جلانے اور فصلوں کی باقیات جلانے کیلئے مختلف نوعیت کے اقدامات درکار ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر حکومت کی جانب سے سپر سیڈرز کی فراہمی اہم ہے کیونکہ اگر فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائی کو پائیدار بنانا ہے تو کسانوں کو عملی اور سستے متبادل فراہم کرنا ہوں گے۔</p>
<p>حکومت اس بات کی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے موسم سرما کے سخت ترین ہفتے آنے سے پہلے ہی عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ تاہم کامیابی کا حتمی پیمانہ جاری کیے گئے چالانوں کی تعداد، نصب کیے گئے کیمروں یا منعقد ہونے والے اجلاس نہیں بلکہ پی ایم 2.5 کی زد میں آنے کے واقعات میں مسلسل کمی ہونی چاہیے۔</p>
<p>پنجاب کو سال بھر کیلئے صاف ہوا کی ایسی حکمت عملی درکار ہے جو عملدرآمد کو سستے متبادل، قابلِ اعتماد اعدادوشمار، عوامی جوابدہی اور ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت میں طویل مدتی تبدیلیوں کے ساتھ مربوط کرے۔ صرف اسی صورت میں سالانہ اسموگ ایمرجنسی ایک بار بار آنے والے بحران کے بجائے قابلِ انتظام عوامی پالیسی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291948</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011000236a8ac91.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011000236a8ac91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پانی کی قلت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291896/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ربیع سیزن کے دوران 25 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے جس سے غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں زرعی پیداوار کو اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونی رکاوٹوں کا تعلق یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے میں ناکامی سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال اس لیے مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کہ نسبتاً کم تعداد میں خوشحال کاشتکاروں اور تقریباً 80 فیصد زرعی برادری کی فی ایکڑ پیداوار کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ یہ 80 فیصد کاشتکار 12 ایکڑ سے کم رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں یا اپنی ضروریات پوری کرنے کی سطح پر کام کرتے ہیں اور ایک فصل سے دوسری فصل تک گزر بسر کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی مداخل پر مراعات اور کم شرحِ سود پر دستیاب زرعی قرضوں سے زیادہ تر فائدہ امیر کاشتکاروں نے ہی اٹھایا ہے کیونکہ ان کے غریب ہم منصبوں کے پاس ان مراعات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نہ تو مطلوبہ معلومات ہیں اور نہ ہی ضروری وسائل۔ مزید برآں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنی نمائندگی کے باعث امیر کاشتکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں بہت کم انکم ٹیکس ادا کریں، تاہم جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اب یہ صورتحال تبدیل ہونے کا امکان ہے کیونکہ یہ معاملہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پیداواری لاگت بھی بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک وجہ جزوی طور پر ای ایف ایف پروگرام کو قرار دیا جا سکتا ہے جس نے اکتوبر 2024 میں نشاندہی کی تھی کہ حکومت کی جانب سے زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیاد پر) سمیت قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں مسابقتی ماحول کو جھکا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے 10 سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے جس کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ربیع سیزن کے دوران پانی کی کوئی قلت نہیں تھی، اس کے باوجود ملک کو 20 لاکھ ٹن سے زائد گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زرعی سبسڈیز کے گرین کمپوننٹ کے تحت 21 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ تاہم حکومت نے اس رقم کو بالواسطہ طور پر مفید قرار دیا ہے جبکہ زرعی شعبے پر اس کے متوقع اثرات کی وضاحت نہیں کی۔ اس صورتحال نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ رقم شاید صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 1.6 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت عائد شرائط پوری کرنے کی کوشش ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ کاشت موجودہ فصلوں پر دو وجوہات کی بنا پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اول، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت کو ملک میں دستیاب آبی وسائل کے مطابق ڈھالنا ہوگا جبکہ زرعی پیداوار کو خام مال کے طور پر استعمال کرنے والے بااثر صنعت کاروں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا؛ مثال کے طور پر، شوگر ملز کی جانب سے فاضل پیداوار کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونی چاہیے تاکہ برآمد کی اجازت ملنے کے بعد مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے اور درآمدات کی ضرورت پیش آنے کی صورتِ حال سے بچا جا سکے۔ دوم، کوآپریٹو شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جو اس وقت بڑی حد تک غیر فعال، منتشر اور/یا جاگیردارانہ مفادات کے زیرِ اثر ہے جبکہ بھارت میں یہ شعبہ کامیاب اور ادارہ جاتی شکل اختیار کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درست ہے کہ جاری مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جبکہ دنیا بھر میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ رواں ربیع سیزن میں زرعی پیداوار ہدف سے خاصی کم رہنے کی توقع ہے۔ تاہم ان اصلاحات کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جو بھارت میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک میں زرعی اور موسمیاتی حالات یکساں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ربیع سیزن کے دوران 25 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے جس سے غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں زرعی پیداوار کو اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>اندرونی رکاوٹوں کا تعلق یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے میں ناکامی سے ہے۔</p>
<p>صورتحال اس لیے مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کہ نسبتاً کم تعداد میں خوشحال کاشتکاروں اور تقریباً 80 فیصد زرعی برادری کی فی ایکڑ پیداوار کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ یہ 80 فیصد کاشتکار 12 ایکڑ سے کم رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں یا اپنی ضروریات پوری کرنے کی سطح پر کام کرتے ہیں اور ایک فصل سے دوسری فصل تک گزر بسر کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔</p>
<p>زرعی مداخل پر مراعات اور کم شرحِ سود پر دستیاب زرعی قرضوں سے زیادہ تر فائدہ امیر کاشتکاروں نے ہی اٹھایا ہے کیونکہ ان کے غریب ہم منصبوں کے پاس ان مراعات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نہ تو مطلوبہ معلومات ہیں اور نہ ہی ضروری وسائل۔ مزید برآں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنی نمائندگی کے باعث امیر کاشتکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں بہت کم انکم ٹیکس ادا کریں، تاہم جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اب یہ صورتحال تبدیل ہونے کا امکان ہے کیونکہ یہ معاملہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط بن چکا ہے۔</p>
<p>زرعی پیداواری لاگت بھی بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک وجہ جزوی طور پر ای ایف ایف پروگرام کو قرار دیا جا سکتا ہے جس نے اکتوبر 2024 میں نشاندہی کی تھی کہ حکومت کی جانب سے زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیاد پر) سمیت قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں مسابقتی ماحول کو جھکا دیتی ہے۔</p>
<p>پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے 10 سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے جس کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ربیع سیزن کے دوران پانی کی کوئی قلت نہیں تھی، اس کے باوجود ملک کو 20 لاکھ ٹن سے زائد گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زرعی سبسڈیز کے گرین کمپوننٹ کے تحت 21 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ تاہم حکومت نے اس رقم کو بالواسطہ طور پر مفید قرار دیا ہے جبکہ زرعی شعبے پر اس کے متوقع اثرات کی وضاحت نہیں کی۔ اس صورتحال نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ رقم شاید صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 1.6 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت عائد شرائط پوری کرنے کی کوشش ہو۔</p>
<p>زیرِ کاشت موجودہ فصلوں پر دو وجوہات کی بنا پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اول، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت کو ملک میں دستیاب آبی وسائل کے مطابق ڈھالنا ہوگا جبکہ زرعی پیداوار کو خام مال کے طور پر استعمال کرنے والے بااثر صنعت کاروں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا؛ مثال کے طور پر، شوگر ملز کی جانب سے فاضل پیداوار کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونی چاہیے تاکہ برآمد کی اجازت ملنے کے بعد مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے اور درآمدات کی ضرورت پیش آنے کی صورتِ حال سے بچا جا سکے۔ دوم، کوآپریٹو شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جو اس وقت بڑی حد تک غیر فعال، منتشر اور/یا جاگیردارانہ مفادات کے زیرِ اثر ہے جبکہ بھارت میں یہ شعبہ کامیاب اور ادارہ جاتی شکل اختیار کرچکا ہے۔</p>
<p>یہ درست ہے کہ جاری مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جبکہ دنیا بھر میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ رواں ربیع سیزن میں زرعی پیداوار ہدف سے خاصی کم رہنے کی توقع ہے۔ تاہم ان اصلاحات کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جو بھارت میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک میں زرعی اور موسمیاتی حالات یکساں ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291896</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 11:36:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30113027bd6ca52.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30113027bd6ca52.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشتگردی، بھارتی موقف برقراررکھنا مشکل ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291891/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے یہ الزام کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی پالیسی کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے، ماضی میں نئی دہلی میں اسے دو پرانے حریفوں کے درمیان جاری روایتی مخاصمت کی ایک اور کڑی قرار دے کر باآسانی مسترد کردیا جاتا تھا۔ اب اس مؤقف کو برقرار رکھنا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کئی برسوں سے اپنی سرزمین پر ہونے والے تشدد میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا آیا ہے، لیکن بھارتی روابط رکھنے والی کارروائیوں کے الزامات اب جنوبی ایشیا سے کہیں آگے، امریکا اور کینیڈا جیسے دور اور طاقتور ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی خاص طور پر نریندر مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں نمایاں ہوئی ہے، جو 2014 میں شروع ہوا۔ پاکستان بارہا بھارت پر الزام عائد کرچکا ہے کہ وہ ملک کے اندر حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسند گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، کو مالی معاونت اور حمایت فراہم کرتا ہے۔ نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے مؤقف کو خاص طور پر کلبھوشن جادھو کے معاملے سے نمایاں حیثیت ملی، جو بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے اور پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ ہے۔ بھارت اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ  کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے، تاہم اس نے پاکستان کی جانب سے اس کی سرگرمیوں اور اس کی گرفتاری کے حالات سے متعلق مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔ اس کے بعد عالمی عدالت انصاف نے قونصلر حقوق سے متعلق بھارت کی شکایت پر کارروائی کی، تاہم  کلبھوشن  جادھو کی سرگرمیوں سے متعلق دونوں فریقوں کے متضاد الزامات میں سے کسی کو درست قرار نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا سے کہیں دور پیش آنے والے واقعات نے اس وسیع تر معاملے کو پاکستانی دعووں تک محدود رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ امریکا میں بھارتی شہری نکھیل گپتا نے رواں سال فروری میں نیویارک میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق کرائے کے عوض قتل اور دیگر الزامات میں جرم قبول کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے وکاش یادیو کی ہدایت پر کام کیا، جو بھارتی حکومت کا ایک ملازم ہے۔ وکاش یادیو پر الگ سے فرد جرم عائد کی گئی ہے اور اس پر بھارت سے اس کارروائی کی ہدایت دینے کا الزام ہے۔ بھارت نے حکومتی مداخلت سے انکار کیا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف کچھ بھی ہو، امریکی استغاثہ کی جانب سے ایک مبینہ بھارتی عہدیدار سے منسلک قتل کی سازش کے مقدمے کی پیروی بین الاقوامی سطح پر ایسی سرگرمیوں سے متعلق تشویش میں غیر معمولی اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں بھی 2023 میں برٹش کولمبیا میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے نے اسی نوعیت کے سنگین الزامات کو جنم دیا، جہاں کینیڈین حکام نے بھارتی ایجنٹوں پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ بھارت نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ مجموعی طور پر امریکی اور کینیڈین مقدمات نے اس تناظر کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے جس میں پاکستان کی دیرینہ شکایات کو دیکھا جانا چاہیے۔ اب اسلام آباد کو محض واحد ایسا دارالحکومت قرار دے کر پیش نہیں کیا جاسکتا جو یہ الزام عائد کررہا ہو کہ بھارتی سلامتی کے مفادات بھارت کی سرحدوں سے باہر خفیہ کارروائیوں کے ذریعے آگے بڑھائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اقوام متحدہ میں پاکستان کی بات چیت بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کا یہ دعویٰ کہ رواں صدی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں، اس بڑے دہشت گردی کے خطرے سے وابستہ انسانی نقصان کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پوری ہلاکتوں کی تعداد کی ذمہ داری بھارت پر عائد نہیں کی جاسکتی اور بھارتی سرپرستی سے متعلق پاکستان کے مخصوص الزامات کو شواہد کی بنیاد پر ہی درست یا غلط ثابت ہونا چاہیے۔ تاہم مختلف نیٹ ورکس، کارروائیوں میں ملوث افراد اور مالی معاونت سے متعلق پیش کیے گئے شواہد کی تحقیقات ہونی چاہئیں، بجائے اس کے کہ انہیں صرف اس بنیاد پر خودکار طور پر مسترد کردیا جائے کہ وہ اسلام آباد سے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک وسیع تر اصول بھی داؤ پر ہے۔ ریاستیں اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق اس وقت برقرار نہیں رکھ سکتیں جب وہ کسی مخالف، منحرف شخص یا علیحدگی پسند کے وہاں موجود ہونے کی صورت میں دوسری ریاست کی خودمختاری کو قابلِ گفت و شنید سمجھنے لگیں۔ اگر حکومتیں قتل کی سازشوں، پراکسی تشدد یا خفیہ سرپرستی کو خارجہ پالیسی کے ذرائع کے طور پر معمول بنانا شروع کردیں تو اپنے تحفظ کیلئے جن بین الاقوامی اصولوں کا وہ حوالہ دیتی ہیں، وہ بتدریج بے معنی ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کئی برسوں سے بھارت کے بارے میں یہی مؤقف پیش کرتا آیا ہے۔ نئی دہلی کیلئے پریشان کن تبدیلی یہ ہے کہ اب پاکستان واحد ملک نہیں رہا جو یہ سوالات اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے یہ الزام کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی پالیسی کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے، ماضی میں نئی دہلی میں اسے دو پرانے حریفوں کے درمیان جاری روایتی مخاصمت کی ایک اور کڑی قرار دے کر باآسانی مسترد کردیا جاتا تھا۔ اب اس مؤقف کو برقرار رکھنا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کئی برسوں سے اپنی سرزمین پر ہونے والے تشدد میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا آیا ہے، لیکن بھارتی روابط رکھنے والی کارروائیوں کے الزامات اب جنوبی ایشیا سے کہیں آگے، امریکا اور کینیڈا جیسے دور اور طاقتور ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی خاص طور پر نریندر مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں نمایاں ہوئی ہے، جو 2014 میں شروع ہوا۔ پاکستان بارہا بھارت پر الزام عائد کرچکا ہے کہ وہ ملک کے اندر حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسند گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، کو مالی معاونت اور حمایت فراہم کرتا ہے۔ نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کے مؤقف کو خاص طور پر کلبھوشن جادھو کے معاملے سے نمایاں حیثیت ملی، جو بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے اور پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ ہے۔ بھارت اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ  کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے، تاہم اس نے پاکستان کی جانب سے اس کی سرگرمیوں اور اس کی گرفتاری کے حالات سے متعلق مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔ اس کے بعد عالمی عدالت انصاف نے قونصلر حقوق سے متعلق بھارت کی شکایت پر کارروائی کی، تاہم  کلبھوشن  جادھو کی سرگرمیوں سے متعلق دونوں فریقوں کے متضاد الزامات میں سے کسی کو درست قرار نہیں دیا۔</p>
<p>جنوبی ایشیا سے کہیں دور پیش آنے والے واقعات نے اس وسیع تر معاملے کو پاکستانی دعووں تک محدود رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ امریکا میں بھارتی شہری نکھیل گپتا نے رواں سال فروری میں نیویارک میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق کرائے کے عوض قتل اور دیگر الزامات میں جرم قبول کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے وکاش یادیو کی ہدایت پر کام کیا، جو بھارتی حکومت کا ایک ملازم ہے۔ وکاش یادیو پر الگ سے فرد جرم عائد کی گئی ہے اور اس پر بھارت سے اس کارروائی کی ہدایت دینے کا الزام ہے۔ بھارت نے حکومتی مداخلت سے انکار کیا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف کچھ بھی ہو، امریکی استغاثہ کی جانب سے ایک مبینہ بھارتی عہدیدار سے منسلک قتل کی سازش کے مقدمے کی پیروی بین الاقوامی سطح پر ایسی سرگرمیوں سے متعلق تشویش میں غیر معمولی اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>کینیڈا میں بھی 2023 میں برٹش کولمبیا میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے نے اسی نوعیت کے سنگین الزامات کو جنم دیا، جہاں کینیڈین حکام نے بھارتی ایجنٹوں پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ بھارت نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ مجموعی طور پر امریکی اور کینیڈین مقدمات نے اس تناظر کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے جس میں پاکستان کی دیرینہ شکایات کو دیکھا جانا چاہیے۔ اب اسلام آباد کو محض واحد ایسا دارالحکومت قرار دے کر پیش نہیں کیا جاسکتا جو یہ الزام عائد کررہا ہو کہ بھارتی سلامتی کے مفادات بھارت کی سرحدوں سے باہر خفیہ کارروائیوں کے ذریعے آگے بڑھائے جارہے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا اقوام متحدہ میں پاکستان کی بات چیت بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کا یہ دعویٰ کہ رواں صدی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں، اس بڑے دہشت گردی کے خطرے سے وابستہ انسانی نقصان کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پوری ہلاکتوں کی تعداد کی ذمہ داری بھارت پر عائد نہیں کی جاسکتی اور بھارتی سرپرستی سے متعلق پاکستان کے مخصوص الزامات کو شواہد کی بنیاد پر ہی درست یا غلط ثابت ہونا چاہیے۔ تاہم مختلف نیٹ ورکس، کارروائیوں میں ملوث افراد اور مالی معاونت سے متعلق پیش کیے گئے شواہد کی تحقیقات ہونی چاہئیں، بجائے اس کے کہ انہیں صرف اس بنیاد پر خودکار طور پر مسترد کردیا جائے کہ وہ اسلام آباد سے آئے ہیں۔</p>
<p>یہاں ایک وسیع تر اصول بھی داؤ پر ہے۔ ریاستیں اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق اس وقت برقرار نہیں رکھ سکتیں جب وہ کسی مخالف، منحرف شخص یا علیحدگی پسند کے وہاں موجود ہونے کی صورت میں دوسری ریاست کی خودمختاری کو قابلِ گفت و شنید سمجھنے لگیں۔ اگر حکومتیں قتل کی سازشوں، پراکسی تشدد یا خفیہ سرپرستی کو خارجہ پالیسی کے ذرائع کے طور پر معمول بنانا شروع کردیں تو اپنے تحفظ کیلئے جن بین الاقوامی اصولوں کا وہ حوالہ دیتی ہیں، وہ بتدریج بے معنی ہوجائیں گے۔</p>
<p>پاکستان کئی برسوں سے بھارت کے بارے میں یہی مؤقف پیش کرتا آیا ہے۔ نئی دہلی کیلئے پریشان کن تبدیلی یہ ہے کہ اب پاکستان واحد ملک نہیں رہا جو یہ سوالات اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291891</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 09:58:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3009534909f3451.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3009534909f3451.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درخواست پر معلومات کی فراہمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291840/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب قومی سطح کے جائزے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی صوبائی حکومت بھی اپنی پیشگی معلومات کے افشا سے متعلق صرف 59 فیصد ذمہ داریاں پوری کرتی ہے تو مبارک باد دینے کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی 98 اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ پنجاب اس غیر متاثر کن سطح پر بھی ملک میں سب سے آگے ہے جس کے بعد وفاقی حکومت 47 فیصد، خیبر پختونخوا 41 فیصد، سندھ 31 فیصد اور بلوچستان محض 28 فیصد کے ساتھ بالترتیب موجود ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بنیادی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں، حالانکہ خود حکومتیں قانونی طور پر ان قوانین کی پابندی کرنے کی ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ معلومات تک رسائی محض ایک انتظامی رعایت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد کردہ ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی سطح پر معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین کا مقصد اس آئینی ضمانت کو ایک مؤثر نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ لیکن تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے سرکاری محکمے اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جیسے معلومات افشا کرنا اختیاری ہو جبکہ شہریوں سے ایسی معلومات تلاش کرنے کی توقع کی جاتی ہے جو پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوری خاص طور پر تشویش ناک ہے جہاں عوام کے پیسے کا معاملہ ہو۔ ٹی آئی پی نے پایا کہ مختلف صوبوں اور وفاقی سطح پر بجٹ اور اخراجات سے متعلق معلومات ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں معلومات افشا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ جمہوری احتساب کے لیے اس سے زیادہ بنیادی تقاضے شاید ہی کوئی ہوں کہ ٹیکس دہندگان کو یہ دیکھنے کا حق دیا جائے کہ سرکاری اداروں کو مالی وسائل کیسے فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ رقم کیسے خرچ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی معلومات کو روک لینا یا انہیں ناکافی انداز میں شائع کرنا شہریوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے نگرانی کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور ایسی ہی مبہم صورتِ حال پیدا کرتا ہے جس میں وسائل کا ضیاع، جانب داری اور بدعنوانی پنپ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ وہ نظام بھی جس کے ذریعے شہریوں کو مطلوبہ مگر دستیاب نہ ہونے والی معلومات طلب کرنی ہوتی ہیں، مناسب طور پر نمایاں نہیں ہے۔ پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) آر ٹی آئی درخواستوں کے لیے مقررہ ادارہ جاتی رابطہ ہوتے ہیں لیکن ان کے رابطے کی تفصیلات کی اشاعت کی شرح بلوچستان میں صرف 12 فیصد، سندھ میں 14 فیصد، وفاقی سطح پر 36 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 45 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب نے 72 فیصد کے ساتھ نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود تعمیل میں ایک خاصا بڑا خلا باقی رہتا ہے۔ جب شہریوں کو کسی حق سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑے کہ انہیں کس سے رجوع کرنا ہے تو وہ حق خاصا کم مؤثر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا مسئلہ بظاہر قانون سازی کی عدم موجودگی سے کم اور قانون اور اس پر عمل درآمد کے درمیان پاکستان میں پائے جانے والے معروف فرق سے زیادہ متعلق ہے۔ حکومتوں نے معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین نافذ کیے ہیں، معلوماتی کمیشن قائم کیے ہیں اور متعلقہ افسران مقرر کیے ہیں لیکن بظاہر بہت سے محکمے اب بھی معلومات افشا کرنے کی اس ثقافت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں جسے یہ اقدامات فروغ دینے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس مزاحمت کا ادارہ جاتی سطح پر تدارک ضروری ہے۔ معلوماتی کمیشنوں کو قوانین کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے مناسب اختیارات اور انتظامی صلاحیت دی جانی چاہیے جبکہ محکموں کی واضح طور پر متعین کردہ معلومات افشا کرنے کی ضروریات کے مطابق باقاعدگی سے نگرانی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آئی پی  کی سفارشات اس ضمن میں ایک معقول نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔ معلومات کے افشا کے لیے یکساں فارمیٹس، پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) کے رابطے کی تفصیلات کی لازمی اشاعت، محکمہ جاتی ویب سائٹس پر آر ٹی آئی کے لیے مختص حصے اور بجٹ، اخراجات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کی بہتر فراہمی سے موجودہ عدم یکسانیت بڑی حد تک ختم کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے، تاہم جب محکمے بار بار قانون کے تحت مطلوب معلومات شائع کرنے میں ناکام رہیں تو بالآخر اعلیٰ حکام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قوانین پر ناقص عملدرآمد بھی ایک ایسا انتظامی معمول بن جائے گا جس کا کوئی نتیجہ یا احتساب نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جمہوری حکومت کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے نام پر اور ان کے پیسے سے کیا کچھ کیا جارہا ہے۔ پاکستان آئینی اور قانون سازی کی سطح پر پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کرچکا ہے۔ اب نامکمل کام یہ ہے کہ حکومتیں بھی اسی اصول کے مطابق عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، معلومات کے آئینی حق کی اہمیت اس وقت بڑی حد تک ختم ہو جاتی ہے جب حکومت بار بار یہ معلومات فراہم کرنا ہی بھول جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب قومی سطح کے جائزے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی صوبائی حکومت بھی اپنی پیشگی معلومات کے افشا سے متعلق صرف 59 فیصد ذمہ داریاں پوری کرتی ہے تو مبارک باد دینے کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی۔</strong></p>
<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی 98 اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ پنجاب اس غیر متاثر کن سطح پر بھی ملک میں سب سے آگے ہے جس کے بعد وفاقی حکومت 47 فیصد، خیبر پختونخوا 41 فیصد، سندھ 31 فیصد اور بلوچستان محض 28 فیصد کے ساتھ بالترتیب موجود ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بنیادی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں، حالانکہ خود حکومتیں قانونی طور پر ان قوانین کی پابندی کرنے کی ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>یہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ معلومات تک رسائی محض ایک انتظامی رعایت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد کردہ ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی سطح پر معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین کا مقصد اس آئینی ضمانت کو ایک مؤثر نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ لیکن تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے سرکاری محکمے اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جیسے معلومات افشا کرنا اختیاری ہو جبکہ شہریوں سے ایسی معلومات تلاش کرنے کی توقع کی جاتی ہے جو پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔</p>
<p>یہ کمزوری خاص طور پر تشویش ناک ہے جہاں عوام کے پیسے کا معاملہ ہو۔ ٹی آئی پی نے پایا کہ مختلف صوبوں اور وفاقی سطح پر بجٹ اور اخراجات سے متعلق معلومات ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں معلومات افشا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ جمہوری احتساب کے لیے اس سے زیادہ بنیادی تقاضے شاید ہی کوئی ہوں کہ ٹیکس دہندگان کو یہ دیکھنے کا حق دیا جائے کہ سرکاری اداروں کو مالی وسائل کیسے فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ رقم کیسے خرچ کی جاتی ہے۔</p>
<p>ایسی معلومات کو روک لینا یا انہیں ناکافی انداز میں شائع کرنا شہریوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے نگرانی کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور ایسی ہی مبہم صورتِ حال پیدا کرتا ہے جس میں وسائل کا ضیاع، جانب داری اور بدعنوانی پنپ سکتی ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ وہ نظام بھی جس کے ذریعے شہریوں کو مطلوبہ مگر دستیاب نہ ہونے والی معلومات طلب کرنی ہوتی ہیں، مناسب طور پر نمایاں نہیں ہے۔ پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) آر ٹی آئی درخواستوں کے لیے مقررہ ادارہ جاتی رابطہ ہوتے ہیں لیکن ان کے رابطے کی تفصیلات کی اشاعت کی شرح بلوچستان میں صرف 12 فیصد، سندھ میں 14 فیصد، وفاقی سطح پر 36 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 45 فیصد رہی۔</p>
<p>پنجاب نے 72 فیصد کے ساتھ نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود تعمیل میں ایک خاصا بڑا خلا باقی رہتا ہے۔ جب شہریوں کو کسی حق سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑے کہ انہیں کس سے رجوع کرنا ہے تو وہ حق خاصا کم مؤثر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا مسئلہ بظاہر قانون سازی کی عدم موجودگی سے کم اور قانون اور اس پر عمل درآمد کے درمیان پاکستان میں پائے جانے والے معروف فرق سے زیادہ متعلق ہے۔ حکومتوں نے معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین نافذ کیے ہیں، معلوماتی کمیشن قائم کیے ہیں اور متعلقہ افسران مقرر کیے ہیں لیکن بظاہر بہت سے محکمے اب بھی معلومات افشا کرنے کی اس ثقافت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں جسے یہ اقدامات فروغ دینے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس مزاحمت کا ادارہ جاتی سطح پر تدارک ضروری ہے۔ معلوماتی کمیشنوں کو قوانین کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے مناسب اختیارات اور انتظامی صلاحیت دی جانی چاہیے جبکہ محکموں کی واضح طور پر متعین کردہ معلومات افشا کرنے کی ضروریات کے مطابق باقاعدگی سے نگرانی کی جانی چاہیے۔</p>
<p>ٹی آئی پی  کی سفارشات اس ضمن میں ایک معقول نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔ معلومات کے افشا کے لیے یکساں فارمیٹس، پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) کے رابطے کی تفصیلات کی لازمی اشاعت، محکمہ جاتی ویب سائٹس پر آر ٹی آئی کے لیے مختص حصے اور بجٹ، اخراجات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کی بہتر فراہمی سے موجودہ عدم یکسانیت بڑی حد تک ختم کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے، تاہم جب محکمے بار بار قانون کے تحت مطلوب معلومات شائع کرنے میں ناکام رہیں تو بالآخر اعلیٰ حکام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قوانین پر ناقص عملدرآمد بھی ایک ایسا انتظامی معمول بن جائے گا جس کا کوئی نتیجہ یا احتساب نہیں ہوگا۔</p>
<p>ایک جمہوری حکومت کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے نام پر اور ان کے پیسے سے کیا کچھ کیا جارہا ہے۔ پاکستان آئینی اور قانون سازی کی سطح پر پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کرچکا ہے۔ اب نامکمل کام یہ ہے کہ حکومتیں بھی اسی اصول کے مطابق عمل کریں۔</p>
<p>آخرکار، معلومات کے آئینی حق کی اہمیت اس وقت بڑی حد تک ختم ہو جاتی ہے جب حکومت بار بار یہ معلومات فراہم کرنا ہی بھول جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291840</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 11:26:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29111648537aa79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29111648537aa79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان سے دور کیوں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بہتر ہوتی بیرونی پوزیشن اور بہتر خودمختار کریڈٹ پروفائل ابھی تک اس ایک اہم اشاریے میں تبدیل نہیں ہوئے جو مستقبل کی معاشی نمو کے لیے بہت اہم ہے، مضبوط براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 میں خالص براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی۔ یہ تضاد اس بات پر کچھ مشکل سوالات اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان دراصل خود کو ایک پُرکشش سرمایہ کاری کی منزل بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کو اس ہفتے مزید تقویت ملی جب پاکستان کا دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداران سے ملاقات کی، جو پاکستان میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پیغام واضح تھا، معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کو اب بھی ضابطہ جاتی اور تعمیلی بوجھ، کمزور پالیسی ہم آہنگی، توانائی کی پابندیوں، ٹیکس سے متعلق مسائل اور کاروباری قواعد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کار جس ماحول میں کام کر رہے ہیں، اس کی سب سے نمایاں مثال او آئی سی سی آئی کے ایک اور انکشاف سے سامنے آئی، اگست تک رکن کمپنیوں کے تقریباً 102.8 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا تھے، جن میں 68 ارب روپے انکم ٹیکس اور 34.8 ارب روپے سیلز ٹیکس کے تھے۔ یہ رقم آپریشنز، توسیع اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کو روک رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کو حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی ان یقین دہانیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حقیقت مختلف ہے۔ او آئی سی سی آئی کے ارکان ایسے غیر معروف یا عارضی کاروبار نہیں ہیں جن کے ریفنڈ کے دعووں کو نامکمل دستاویزات یا طریقہ کار کی خامیوں کی بنیاد پر مسترد کیا جاسکے، ان میں پاکستان کے بعض سب سے بڑے اور طویل عرصے سے قائم غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔ اگر ایسی کمپنیوں کے جائز واجب الادا ریفنڈز طویل عرصے تک رکے رہیں تو اس سے ممکنہ سرمایہ کار کو کیا پیغام جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت میں مسئلہ صرف ریفنڈز تک محدود نہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں زرمبادلہ کی پابندیاں شامل ہیں جو منافع اور ڈویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں، اس کے علاوہ غیر مستقل ٹیکس نظام، ضوابط میں تبدیلیاں، تنازعات کے کمزور حل کا نظام، دانشورانہ املاک کا ناکافی تحفظ اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے بعض مسائل کا جواز پیش کرنا خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ انہیں حل کرنا متعلقہ حکام کی صلاحیت میں ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری معمول کی منظوریوں کو طویل عمل میں تبدیل کرسکتی ہے، جس سے کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں کو دور کرنے میں طویل عرصے سے جاری ناکامی بھی یہی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایران امریکا تنازع کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران ایندھن درآمد کرنے کی غیر یقینی صورتحال نے ایک بار پھر اس معیشت کے خطرات کو نمایاں کیا ہے جس نے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے یا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کی جانب سے ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول میں موجود ایک اور تضاد کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ارکان رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں، گوشوارے جمع کراتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، تاہم وہ اربوں روپے کے جائز ریفنڈز کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ معیشت کے بڑے حصے پر یا تو بہت کم ٹیکس عائد ہوتا ہے یا وہ مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی اور ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں پر بار بار بوجھ بڑھانا نہ تو پائیدار محصولات کی حکمت عملی ہے اور نہ ہی رسمی سرمایہ کاری کو زیادہ پُرکشش بنانے کا کوئی طریقہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفنڈز کے مسئلے کا حجم ایک اور مشکل سوال اٹھاتا ہے، اگر صرف چند سو غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے 100 ارب روپے سے زیادہ ریفنڈز میں پھنسے ہوئے ہیں تو ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کے کتنے بڑے ریفنڈز زیر التوا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب ایف بی آر کی انتظامی خامیوں کا ایک تشویشناک پیمانہ پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس وقت اہم ہے جب وزیراعظم اپنے دورہ امریکا کے دوران پاکستانی نژاد امریکی کاروباری افراد سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں سے پاکستان میں پیسہ لگانے کے لیے کہنا آسان ہے، ایسے حالات پیدا کرنا جن کی وجہ سے وہ واقعی ایسا کرنا چاہیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کسی بھی ملک کو یہ فرض کرنے کا حق نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ لازماً اسی ملک کا انتخاب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دیگر سرمایہ کاری کی منزلوں سے مقابلہ کر رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کو محض وعدوں سے زیادہ پُرکشش چیز پیش کرنا ہوگی، قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، مؤثر ادارے، قابلِ اعتماد توانائی، منصفانہ ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر یہ اعتماد کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بہتر ہوتی بیرونی پوزیشن اور بہتر خودمختار کریڈٹ پروفائل ابھی تک اس ایک اہم اشاریے میں تبدیل نہیں ہوئے جو مستقبل کی معاشی نمو کے لیے بہت اہم ہے، مضبوط براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری۔</strong></p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 میں خالص براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی۔ یہ تضاد اس بات پر کچھ مشکل سوالات اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان دراصل خود کو ایک پُرکشش سرمایہ کاری کی منزل بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے۔</p>
<p>ان خدشات کو اس ہفتے مزید تقویت ملی جب پاکستان کا دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداران سے ملاقات کی، جو پاکستان میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پیغام واضح تھا، معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کو اب بھی ضابطہ جاتی اور تعمیلی بوجھ، کمزور پالیسی ہم آہنگی، توانائی کی پابندیوں، ٹیکس سے متعلق مسائل اور کاروباری قواعد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کار جس ماحول میں کام کر رہے ہیں، اس کی سب سے نمایاں مثال او آئی سی سی آئی کے ایک اور انکشاف سے سامنے آئی، اگست تک رکن کمپنیوں کے تقریباً 102.8 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا تھے، جن میں 68 ارب روپے انکم ٹیکس اور 34.8 ارب روپے سیلز ٹیکس کے تھے۔ یہ رقم آپریشنز، توسیع اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کو روک رہی ہے۔</p>
<p>اس حقیقت کو حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی ان یقین دہانیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>تاہم حقیقت مختلف ہے۔ او آئی سی سی آئی کے ارکان ایسے غیر معروف یا عارضی کاروبار نہیں ہیں جن کے ریفنڈ کے دعووں کو نامکمل دستاویزات یا طریقہ کار کی خامیوں کی بنیاد پر مسترد کیا جاسکے، ان میں پاکستان کے بعض سب سے بڑے اور طویل عرصے سے قائم غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔ اگر ایسی کمپنیوں کے جائز واجب الادا ریفنڈز طویل عرصے تک رکے رہیں تو اس سے ممکنہ سرمایہ کار کو کیا پیغام جاتا ہے؟</p>
<p>حقیقت میں مسئلہ صرف ریفنڈز تک محدود نہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں زرمبادلہ کی پابندیاں شامل ہیں جو منافع اور ڈویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں، اس کے علاوہ غیر مستقل ٹیکس نظام، ضوابط میں تبدیلیاں، تنازعات کے کمزور حل کا نظام، دانشورانہ املاک کا ناکافی تحفظ اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری بھی شامل ہے۔</p>
<p>ان میں سے بعض مسائل کا جواز پیش کرنا خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ انہیں حل کرنا متعلقہ حکام کی صلاحیت میں ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری معمول کی منظوریوں کو طویل عمل میں تبدیل کرسکتی ہے، جس سے کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں کو دور کرنے میں طویل عرصے سے جاری ناکامی بھی یہی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ایران امریکا تنازع کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران ایندھن درآمد کرنے کی غیر یقینی صورتحال نے ایک بار پھر اس معیشت کے خطرات کو نمایاں کیا ہے جس نے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے یا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کی جانب سے ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول میں موجود ایک اور تضاد کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ارکان رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں، گوشوارے جمع کراتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، تاہم وہ اربوں روپے کے جائز ریفنڈز کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ معیشت کے بڑے حصے پر یا تو بہت کم ٹیکس عائد ہوتا ہے یا وہ مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔</p>
<p>دستاویزی اور ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں پر بار بار بوجھ بڑھانا نہ تو پائیدار محصولات کی حکمت عملی ہے اور نہ ہی رسمی سرمایہ کاری کو زیادہ پُرکشش بنانے کا کوئی طریقہ۔</p>
<p>ریفنڈز کے مسئلے کا حجم ایک اور مشکل سوال اٹھاتا ہے، اگر صرف چند سو غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے 100 ارب روپے سے زیادہ ریفنڈز میں پھنسے ہوئے ہیں تو ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کے کتنے بڑے ریفنڈز زیر التوا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب ایف بی آر کی انتظامی خامیوں کا ایک تشویشناک پیمانہ پیش کرے گا۔</p>
<p>یہ معاملہ اس وقت اہم ہے جب وزیراعظم اپنے دورہ امریکا کے دوران پاکستانی نژاد امریکی کاروباری افراد سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں سے پاکستان میں پیسہ لگانے کے لیے کہنا آسان ہے، ایسے حالات پیدا کرنا جن کی وجہ سے وہ واقعی ایسا کرنا چاہیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کسی بھی ملک کو یہ فرض کرنے کا حق نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ لازماً اسی ملک کا انتخاب کرے گا۔</p>
<p>پاکستان دیگر سرمایہ کاری کی منزلوں سے مقابلہ کر رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کو محض وعدوں سے زیادہ پُرکشش چیز پیش کرنا ہوگی، قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، مؤثر ادارے، قابلِ اعتماد توانائی، منصفانہ ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر یہ اعتماد کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291837</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 09:49:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/290948043afdfdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/290948043afdfdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سول سروس کا چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291794/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سول سروس اصلاحات کے لیے خیالات کی کمی نہیں؛ تاہم طویل عرصے سے جس چیز کا فقدان رہا ہے، وہ ایسے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سیاسی عزم ہے جو اصلاحات کی مزاحمت کرتا چلا آرہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 ستمبر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے پیش کیے گئے سول سروس اصلاحات کے تازہ پیکیج میں کئی قابلِ غور تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں جن میں خصوصی پیشہ ورانہ کیڈرز کا قیام اور ترقیِ ملازمت و مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اصل امتحان ان ساختی تبدیلیوں سے آگے ہے: آیا حکومت اس سیاسی مداخلت اور سرپرستی کے نظام کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں جس نے برسوں سے بیوروکریسی کے ڈھانچے کو مسخ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سول سروس اصلاحات کی کوششیں کی ہیں، تاہم ان کے دیرپا اثرات بہت کم رہے ہیں۔ بیوروکریسی کی مزاحمت، اسے درپیش مسائل کی نامکمل تشخیص اور مفادات کے قائم شدہ نظام کو متاثر کرنے کی سیاسی قیمت نے بارہا ایسی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ سول سروس طرزِ حکمرانی کا ایک بنیادی ستون ہے اور ایک غیر مؤثر بیوروکریسی لازماً ریاست کی پالیسی سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اصلاحاتی پیکیج میں طویل عرصے سے موجود بعض کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں قانون، انجینئرنگ، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت &lt;strong&gt;11 پیشہ ورانہ کیڈرز&lt;/strong&gt; کی تجویز پیش کی گئی ہے جو تخصص کی جانب ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان کو ان شعبوں میں حقیقی مہارت رکھنے والے افسران کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے نظام کی جس میں جنرل کیڈر کے افسران انتہائی تخصصی نوعیت کے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھرتی، ملازمت میں ترقی اور مالی مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا بھی خوش آئند ہے جبکہ سی ایس ایس امتحان اور بھرتی کے عمل میں ایسی تبدیلیاں بھی قابلِ تحسین ہیں جن کا مقصد انتخاب کے عمل کے معیار اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ اقدامات اہم ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ وسیع تر ادارہ جاتی ماحول اور طرزِ کارکردگی میرٹ، احتساب اور پیشہ ورانہ خودمختاری کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں مسئلہ محض یہ نہیں کہ سیاست دان بعض اوقات انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ایک ایسا نظام تشکیل پا گیا ہے جس میں تعیناتیاں، تبادلے اور ترقیاں سیاسی سرپرستی کے ذرائع بن چکی ہیں، جبکہ سیکریٹریٹ کی اہم عہدوں اور بیرونِ ملک تعیناتیوں کو ان افسران کے لیے مراعات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہیں سیاسی طور پر قابلِ اعتماد یا ذاتی طور پر پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ملازمت میں ترقی کا انحصار، خواہ جزوی طور پر ہی سہی، سیاسی روابط استوار کرنے پر ہو تو پیشہ ورانہ خودمختاری لازماً متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خوشامد اور تابعداری کا ایک ایسا کلچر جڑ پکڑ لیتا ہے جہاں کسی وزیر کو وہ بات بتانا جو وہ سننا چاہتا ہے، اس بات کے بجائے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جو اسے سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً میرٹ، سینیارٹی اور اہلیت پسِ پشت چلے جاتے ہیں جس سے یس مین افسران کا ایک طبقہ ابھر آتا ہے اور بیوروکریسی اپنی ذمہ داریاں غیر جانبداری سے ادا کرنے کے بجائے سیاسی سرپرستوں کے لیے زیادہ جواب دہ بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مقام بھی ہے جہاں مجوزہ کارکردگی پر مبنی نظام مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ کارکردگی سے منسلک تنخواہوں اور ترقیوں سے احتساب کا نظام اسی صورت مضبوط ہوسکتا ہے جب کارکردگی کا جائزہ آزادانہ طور پر اور معروضی معیار کے تحت لیا جائے۔ اگر سیاسی اثر و رسوخ اہم عہدوں پر تعیناتیوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے عمل کو متاثر کرتا رہا تو نیا نظام بھی محض ان افراد کو نوازنے کا ایک اور ذریعہ بن سکتا ہے جن کے درست سیاسی روابط ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھرتی کے عمل میں بھی میرٹ کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ سول سروس کا بڑا حصہ علاقائی کوٹے کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے جس میں آبادی کے حجم اور مختلف علاقوں کی نسبتاً پسماندگی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم ترقی یافتہ علاقوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے علاقائی کوٹے کی ایک جائز بنیاد موجود ہے لیکن اس کا مطلب ان زمروں کے اندر میرٹ کو نظر انداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی مخصوص علاقے کے لیے مختص آسامیوں پر مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے درمیان بھی شفاف اور میرٹ پر مبنی معیار کے تحت مسابقت ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اس پیکیج کو محض ایک داخلی انتظامی معاملہ سمجھنے کے رجحان سے بھی گریز کرنا چاہیے، صرف اس لیے کہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں ہے۔ طرزِ حکمرانی پر اس کے اثرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پارلیمان میں اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور میڈیا، علمی حلقوں، تھنک ٹینکس اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بھی وسیع بحث کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان اصولوں کو نافذ بھی کرے گی جن کی وہ تجویز دے رہی ہے۔ میرٹ کو منتخب طور پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور پیشہ ورانہ خودمختاری سیاسی سرپرستی کے ساتھ بیک وقت قائم نہیں رہ سکتی۔ جب تک حکومت سیاسی مداخلت اور بیوروکریسی کی مزاحمت، دونوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اصلاحات بیوروکریسی کے ڈھانچے میں تبدیلی تو لے آئیں گی، لیکن اس کے اندر موجود سیاسی مداخلت کے کلچر کو برقرار رکھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سول سروس اصلاحات کے لیے خیالات کی کمی نہیں؛ تاہم طویل عرصے سے جس چیز کا فقدان رہا ہے، وہ ایسے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سیاسی عزم ہے جو اصلاحات کی مزاحمت کرتا چلا آرہا ہے۔</strong></p>
<p>19 ستمبر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے پیش کیے گئے سول سروس اصلاحات کے تازہ پیکیج میں کئی قابلِ غور تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں جن میں خصوصی پیشہ ورانہ کیڈرز کا قیام اور ترقیِ ملازمت و مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا شامل ہے۔</p>
<p>لیکن اصل امتحان ان ساختی تبدیلیوں سے آگے ہے: آیا حکومت اس سیاسی مداخلت اور سرپرستی کے نظام کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں جس نے برسوں سے بیوروکریسی کے ڈھانچے کو مسخ کر رکھا ہے۔</p>
<p>یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سول سروس اصلاحات کی کوششیں کی ہیں، تاہم ان کے دیرپا اثرات بہت کم رہے ہیں۔ بیوروکریسی کی مزاحمت، اسے درپیش مسائل کی نامکمل تشخیص اور مفادات کے قائم شدہ نظام کو متاثر کرنے کی سیاسی قیمت نے بارہا ایسی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔</p>
<p>تاہم اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ سول سروس طرزِ حکمرانی کا ایک بنیادی ستون ہے اور ایک غیر مؤثر بیوروکریسی لازماً ریاست کی پالیسی سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔</p>
<p>تازہ اصلاحاتی پیکیج میں طویل عرصے سے موجود بعض کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں قانون، انجینئرنگ، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت <strong>11 پیشہ ورانہ کیڈرز</strong> کی تجویز پیش کی گئی ہے جو تخصص کی جانب ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان کو ان شعبوں میں حقیقی مہارت رکھنے والے افسران کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے نظام کی جس میں جنرل کیڈر کے افسران انتہائی تخصصی نوعیت کے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہیں۔</p>
<p>بھرتی، ملازمت میں ترقی اور مالی مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا بھی خوش آئند ہے جبکہ سی ایس ایس امتحان اور بھرتی کے عمل میں ایسی تبدیلیاں بھی قابلِ تحسین ہیں جن کا مقصد انتخاب کے عمل کے معیار اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ اقدامات اہم ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ وسیع تر ادارہ جاتی ماحول اور طرزِ کارکردگی میرٹ، احتساب اور پیشہ ورانہ خودمختاری کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔</p>
<p>یہاں مسئلہ محض یہ نہیں کہ سیاست دان بعض اوقات انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ایک ایسا نظام تشکیل پا گیا ہے جس میں تعیناتیاں، تبادلے اور ترقیاں سیاسی سرپرستی کے ذرائع بن چکی ہیں، جبکہ سیکریٹریٹ کی اہم عہدوں اور بیرونِ ملک تعیناتیوں کو ان افسران کے لیے مراعات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہیں سیاسی طور پر قابلِ اعتماد یا ذاتی طور پر پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>جب ملازمت میں ترقی کا انحصار، خواہ جزوی طور پر ہی سہی، سیاسی روابط استوار کرنے پر ہو تو پیشہ ورانہ خودمختاری لازماً متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خوشامد اور تابعداری کا ایک ایسا کلچر جڑ پکڑ لیتا ہے جہاں کسی وزیر کو وہ بات بتانا جو وہ سننا چاہتا ہے، اس بات کے بجائے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جو اسے سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً میرٹ، سینیارٹی اور اہلیت پسِ پشت چلے جاتے ہیں جس سے یس مین افسران کا ایک طبقہ ابھر آتا ہے اور بیوروکریسی اپنی ذمہ داریاں غیر جانبداری سے ادا کرنے کے بجائے سیاسی سرپرستوں کے لیے زیادہ جواب دہ بن جاتی ہے۔</p>
<p>یہ وہ مقام بھی ہے جہاں مجوزہ کارکردگی پر مبنی نظام مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ کارکردگی سے منسلک تنخواہوں اور ترقیوں سے احتساب کا نظام اسی صورت مضبوط ہوسکتا ہے جب کارکردگی کا جائزہ آزادانہ طور پر اور معروضی معیار کے تحت لیا جائے۔ اگر سیاسی اثر و رسوخ اہم عہدوں پر تعیناتیوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے عمل کو متاثر کرتا رہا تو نیا نظام بھی محض ان افراد کو نوازنے کا ایک اور ذریعہ بن سکتا ہے جن کے درست سیاسی روابط ہوں۔</p>
<p>بھرتی کے عمل میں بھی میرٹ کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ سول سروس کا بڑا حصہ علاقائی کوٹے کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے جس میں آبادی کے حجم اور مختلف علاقوں کی نسبتاً پسماندگی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>کم ترقی یافتہ علاقوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے علاقائی کوٹے کی ایک جائز بنیاد موجود ہے لیکن اس کا مطلب ان زمروں کے اندر میرٹ کو نظر انداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی مخصوص علاقے کے لیے مختص آسامیوں پر مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے درمیان بھی شفاف اور میرٹ پر مبنی معیار کے تحت مسابقت ہونی چاہیے۔</p>
<p>حکومت کو اس پیکیج کو محض ایک داخلی انتظامی معاملہ سمجھنے کے رجحان سے بھی گریز کرنا چاہیے، صرف اس لیے کہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں ہے۔ طرزِ حکمرانی پر اس کے اثرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پارلیمان میں اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور میڈیا، علمی حلقوں، تھنک ٹینکس اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بھی وسیع بحث کی جائے۔</p>
<p>تاہم، زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان اصولوں کو نافذ بھی کرے گی جن کی وہ تجویز دے رہی ہے۔ میرٹ کو منتخب طور پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور پیشہ ورانہ خودمختاری سیاسی سرپرستی کے ساتھ بیک وقت قائم نہیں رہ سکتی۔ جب تک حکومت سیاسی مداخلت اور بیوروکریسی کی مزاحمت، دونوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اصلاحات بیوروکریسی کے ڈھانچے میں تبدیلی تو لے آئیں گی، لیکن اس کے اندر موجود سیاسی مداخلت کے کلچر کو برقرار رکھیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291794</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 12:08:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2812015227ac91d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2812015227ac91d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ایل این جی درآمدات میں عارضی ریلیف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291787/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جاری جنگ کے باعث  بین الاقوامی تیل کی حالیہ قیمتوں کے بحران نے خوش قسمتی سے پاکستان کی معیشت کے لیے وہ تباہی نہیں مچائی جو 2022 اور 2008 کے بحرانوں کے دوران ہوئی تھی۔ مالیاتی محاذ کو تحفظ حاصل ہے کیونکہ حکومت زیادہ قیمتوں کے اثرات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کر رہی ہے اور مکمل لیوی بھی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ قطر سے آر ایل این جی کی فراہمی نہ ہونا بھی ایک طرح سے نعمت ثابت ہو رہا ہے۔ تجارتی خسارے میں جو بھی اضافہ ہوا ہے، اسے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے بخوبی سہارا دیا ہے، جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال آرام دہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ اشیا کی برآمدات میں جمود کا ہے، جہاں کوئی نیا شعبہ نمایاں طور پر ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ برآمدات میں جو بھی اضافہ ہو رہا ہے وہ حکومت کی جانب سے مالیاتی اور زری مراعات فراہم کیے جانے کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکسٹائل ہو یا دیگر شعبے، برآمدات سہارا دیے بغیر بڑھانے میں ناکام ہیں۔ یہ اچھی علامت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر مارچ سے اگست 2026 تک جنگ کے چھ ماہ کا جائزہ لیا جائے تو حیران کن طور پر برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 99 ڈالر فی بیرل رہنے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہونے کے باوجود، کرنٹ اکاؤنٹ نے مجموعی طور پر 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا معمولی سرپلس ظاہر کیا۔ اس کے مقابلے میں 2025 کے اسی عرصے میں 58 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا، جب تیل کی اوسط قیمت 69 ڈالر فی بیرل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ تا اگست 2026 کے دوران اشیا کی درآمدات 34.3 ارب ڈالر رہیں، جن کی ماہانہ اوسط 5.7 ارب ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 9 فیصد زیادہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 43 فیصد اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ زیادہ تشویشناک نہیں۔ درآمدات میں کم اضافے کی ایک وجہ آر ایل این جی کی درآمدات میں کمی ہے، جو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود نصف رہ گئی ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کنندہ قطر انرجی (جسے پہلے قطر پیٹرولیم کہا جاتا تھا) کی جانب سے فورس میجر کا اعلان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک طرح سے نعمت ثابت ہوئی ہے، کیونکہ ہمارے معاہدے کے تحت ہر ماہ 10 کارگو خریدنا لازم ہے جبکہ طلب اس سطح کے تقریباً نصف کے قریب ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں ہمیں ایک تہائی سے بھی کم کارگو موصول ہوئے، جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم رہا۔ کم سپلائی کے اثرات محدود رہے، کیونکہ گرمیوں کے عروج کے مہینوں میں پنجاب میں صرف دو سے تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوئی۔ اگر سپلائی معمول کے مطابق ہوتی تو بلند قیمتوں کی بنیاد پر درآمدی بل 1.5 ارب ڈالر زیادہ ہوسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ 1.5 ارب ڈالر کی یہ بچت محض آر ایل این جی کی محدود سپلائی کی وجہ سے ہوئی۔ دوسری جانب مارچ تا اگست کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم درآمدی بل اب بھی 2022 کے بحران کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ اس کی ایک وجہ زیادہ تیل کی قیمتوں کو صارفین تک منتقل کیے جانے کے باعث طلب میں کمی ہے۔ دوسری وجہ گزشتہ چار برسوں کے دوران شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کے وسیع پیمانے پر استعمال کے باعث زراعت اور متبادل بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیزل کی طلب میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی بحران کے بعد درمیانی سے طویل مدت میں تشویش کا باعث ان معیشتوں میں ممکنہ سست روی اور اس کے نتیجے میں افرادی قوت کی طلب میں کمی ہوسکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان کی ترسیلات زر پر پڑ سکتا ہے، جن میں نصف سے زیادہ رقم خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے آتی ہے۔ تاہم ترسیلات زر بلند بنیاد کے باوجود مسلسل بڑھ رہی ہیں اور مارچ تا اگست 2026 میں ان میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور طرح سے فائدہ مند ثابت ہونے والی صورتحال خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات سے واپس آنے والی یا وہاں سے مزید باہر نہ جانے والی رقوم ہیں۔ اس کا اندازہ ہنڈی حوالہ مارکیٹ میں منفی فرق سے ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر رسمی مارکیٹ میں خالص آمدن ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگ خلیجی ممالک میں رکھی ہوئی اپنی بچتیں بھی واپس ملک بھیج رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا عنصر خدمات کی برآمدات کی بہتر کارکردگی ہے، جو مارچ تا اگست میں 23 فیصد بڑھ گئی ہیں، جبکہ خدمات کا تجارتی خسارہ ایک تہائی رہ گیا ہے۔ بہتر ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات کی ایک وجہ کم ٹیکس بھی ہے۔ پاکستان میں مقیم پیشہ ور افراد کو فری لانسرز کے طور پر کام کرنے کی ترغیب مل رہی ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ٹیکس کا فائدہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ بعض معاملات میں اشیا کی برآمدات کو کم ٹیکس کی وجہ سے خدمات کی برآمدات یا ترسیلات زر ظاہر کیا جا رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے اور ان آمدنیوں پر معمولی ٹیکس عائد کرنا شروع کرنا چاہیے تاکہ باضابطہ طور پر ملکی سطح پر کام کرنے والے افراد اور فری لانسرز کے درمیان ٹیکس کے فرق کو کم کیا جاسکے۔ بہرحال، بنیادی بات یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کے باعث معیشت کی کمزوری کم ہو رہی ہے اور قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث توانائی کے مسائل کسی نہ کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بحران کو ٹال سکتی ہے، لیکن اقتصادی ترقی کا پہیہ دوبارہ تیز کرنے کے لیے شاید کافی نہ ہو، کیونکہ بنیادی خلا ٹیکس اصلاحات کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جاری جنگ کے باعث  بین الاقوامی تیل کی حالیہ قیمتوں کے بحران نے خوش قسمتی سے پاکستان کی معیشت کے لیے وہ تباہی نہیں مچائی جو 2022 اور 2008 کے بحرانوں کے دوران ہوئی تھی۔ مالیاتی محاذ کو تحفظ حاصل ہے کیونکہ حکومت زیادہ قیمتوں کے اثرات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کر رہی ہے اور مکمل لیوی بھی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ قطر سے آر ایل این جی کی فراہمی نہ ہونا بھی ایک طرح سے نعمت ثابت ہو رہا ہے۔ تجارتی خسارے میں جو بھی اضافہ ہوا ہے، اسے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے بخوبی سہارا دیا ہے، جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال آرام دہ ہے۔</strong></p>
<p>مسئلہ اشیا کی برآمدات میں جمود کا ہے، جہاں کوئی نیا شعبہ نمایاں طور پر ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ برآمدات میں جو بھی اضافہ ہو رہا ہے وہ حکومت کی جانب سے مالیاتی اور زری مراعات فراہم کیے جانے کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکسٹائل ہو یا دیگر شعبے، برآمدات سہارا دیے بغیر بڑھانے میں ناکام ہیں۔ یہ اچھی علامت نہیں ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر مارچ سے اگست 2026 تک جنگ کے چھ ماہ کا جائزہ لیا جائے تو حیران کن طور پر برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 99 ڈالر فی بیرل رہنے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہونے کے باوجود، کرنٹ اکاؤنٹ نے مجموعی طور پر 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا معمولی سرپلس ظاہر کیا۔ اس کے مقابلے میں 2025 کے اسی عرصے میں 58 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا، جب تیل کی اوسط قیمت 69 ڈالر فی بیرل تھی۔</p>
<p>مارچ تا اگست 2026 کے دوران اشیا کی درآمدات 34.3 ارب ڈالر رہیں، جن کی ماہانہ اوسط 5.7 ارب ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 9 فیصد زیادہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 43 فیصد اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ زیادہ تشویشناک نہیں۔ درآمدات میں کم اضافے کی ایک وجہ آر ایل این جی کی درآمدات میں کمی ہے، جو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود نصف رہ گئی ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کنندہ قطر انرجی (جسے پہلے قطر پیٹرولیم کہا جاتا تھا) کی جانب سے فورس میجر کا اعلان ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک طرح سے نعمت ثابت ہوئی ہے، کیونکہ ہمارے معاہدے کے تحت ہر ماہ 10 کارگو خریدنا لازم ہے جبکہ طلب اس سطح کے تقریباً نصف کے قریب ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں ہمیں ایک تہائی سے بھی کم کارگو موصول ہوئے، جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم رہا۔ کم سپلائی کے اثرات محدود رہے، کیونکہ گرمیوں کے عروج کے مہینوں میں پنجاب میں صرف دو سے تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوئی۔ اگر سپلائی معمول کے مطابق ہوتی تو بلند قیمتوں کی بنیاد پر درآمدی بل 1.5 ارب ڈالر زیادہ ہوسکتا تھا۔</p>
<p>چنانچہ 1.5 ارب ڈالر کی یہ بچت محض آر ایل این جی کی محدود سپلائی کی وجہ سے ہوئی۔ دوسری جانب مارچ تا اگست کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم درآمدی بل اب بھی 2022 کے بحران کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ اس کی ایک وجہ زیادہ تیل کی قیمتوں کو صارفین تک منتقل کیے جانے کے باعث طلب میں کمی ہے۔ دوسری وجہ گزشتہ چار برسوں کے دوران شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کے وسیع پیمانے پر استعمال کے باعث زراعت اور متبادل بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیزل کی طلب میں کمی ہے۔</p>
<p>خلیجی بحران کے بعد درمیانی سے طویل مدت میں تشویش کا باعث ان معیشتوں میں ممکنہ سست روی اور اس کے نتیجے میں افرادی قوت کی طلب میں کمی ہوسکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان کی ترسیلات زر پر پڑ سکتا ہے، جن میں نصف سے زیادہ رقم خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے آتی ہے۔ تاہم ترسیلات زر بلند بنیاد کے باوجود مسلسل بڑھ رہی ہیں اور مارچ تا اگست 2026 میں ان میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ایک اور طرح سے فائدہ مند ثابت ہونے والی صورتحال خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات سے واپس آنے والی یا وہاں سے مزید باہر نہ جانے والی رقوم ہیں۔ اس کا اندازہ ہنڈی حوالہ مارکیٹ میں منفی فرق سے ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر رسمی مارکیٹ میں خالص آمدن ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگ خلیجی ممالک میں رکھی ہوئی اپنی بچتیں بھی واپس ملک بھیج رہے ہوں۔</p>
<p>تیسرا عنصر خدمات کی برآمدات کی بہتر کارکردگی ہے، جو مارچ تا اگست میں 23 فیصد بڑھ گئی ہیں، جبکہ خدمات کا تجارتی خسارہ ایک تہائی رہ گیا ہے۔ بہتر ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات کی ایک وجہ کم ٹیکس بھی ہے۔ پاکستان میں مقیم پیشہ ور افراد کو فری لانسرز کے طور پر کام کرنے کی ترغیب مل رہی ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ٹیکس کا فائدہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ بعض معاملات میں اشیا کی برآمدات کو کم ٹیکس کی وجہ سے خدمات کی برآمدات یا ترسیلات زر ظاہر کیا جا رہا ہو۔</p>
<p>ایف بی آر کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے اور ان آمدنیوں پر معمولی ٹیکس عائد کرنا شروع کرنا چاہیے تاکہ باضابطہ طور پر ملکی سطح پر کام کرنے والے افراد اور فری لانسرز کے درمیان ٹیکس کے فرق کو کم کیا جاسکے۔ بہرحال، بنیادی بات یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کے باعث معیشت کی کمزوری کم ہو رہی ہے اور قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث توانائی کے مسائل کسی نہ کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بحران کو ٹال سکتی ہے، لیکن اقتصادی ترقی کا پہیہ دوبارہ تیز کرنے کے لیے شاید کافی نہ ہو، کیونکہ بنیادی خلا ٹیکس اصلاحات کا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291787</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 09:48:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28094656c1054fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28094656c1054fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کھدائی ابھی، ڈوبنا بعد میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291758/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ الزام کہ بڑی تیل کمپنیوں نے کرۂ ارض کے ماحول کو کھلے گٹر کے طور پر استعمال کیا ہے، سفارتی زبان میں غیر معمولی طور پر دوٹوک ضرور ہے، لیکن اس الزام کی بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنا اب دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا یہ موازنہ ایسے وقت میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جب عالمی حدت کے اثرات کو روزمرہ کی معاشی زندگی سے الگ کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم، دنیا کی جانب سے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو بیک وقت ایک طاقتور ردعمل کا سامنا ہے، جس کی قیادت ایک ایسی امریکی انتظامیہ کر رہی ہے جس نے لفظی طور پر ڈرل، بے بی، ڈرل یعنی مزید کھدائی کرو، کھدائی کرو کو اپنی حکمرانی کے فلسفے کا حصہ بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کے اثرات امریکا سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ واشنگٹن پیرس معاہدے سے الگ ہو چکا ہے، تیل اور گیس کی ترقی کے لیے وسیع علاقوں کو دوبارہ کھول چکا ہے، ڈرلنگ کی منظوریوں کے عمل کو تیز کر چکا ہے اور فوسل ایندھن کی پیداوار میں توسیع کو اپنی توانائی حکمت عملی کا واضح حصہ بنا چکا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لیے جو بھی پیش رفت شروع کی تھی، اسے برقرار رکھنا لازماً زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت اپنی سیاسی اور اقتصادی طاقت کو اس کے بالکل برعکس سمت میں بھرپور انداز سے استعمال کر رہی ہو۔ پیداوار کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ اشارہ بھی اتنا ہی اہم ہے: فوسل ایندھن کو ایسے وقت میں ایک طاقتور نیا سیاسی حامی مل گیا ہے جب موسمیاتی سائنس ان سے تیزی سے دور ہونے کا تقاضا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتونیو گوتریس نے موسمیاتی بحران کی غیر آرام دہ معاشیات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے پانچ بڑی مغربی تیل کمپنیوں نے تقریباً نصف ٹریلین ڈالر کا منافع کمایا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے صرف 34 ارب ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ فرق موسمیاتی انصاف کے اس حل طلب سوال کی براہِ راست نشاندہی کرتا ہے۔ جن ممالک کے پاس شدید موسمی حالات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے مالی گنجائش سب سے کم ہے، اکثر وہی ممالک اس مسئلے کو پیدا کرنے میں سب سے کم حصہ دار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس تضاد کے مرکز کے انتہائی قریب واقع ہے۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اسے سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئرز کے عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر خطرات کا شدید سامنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی یہ حقیقت جان چکا ہے کہ کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہونا اس وقت کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا جب موسمیاتی نظام مجموعی عالمی اخراج پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی ذمہ داری تباہ شدہ گھروں، متاثرہ فصلوں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے یا اگلی آفت سے نمٹنے کے لیے مضبوطی پیدا کرنے کی بھاری لاگت ادا نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایک مشکل حقیقت ایسی بھی ہے جس سے پاکستان خود بھی فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کی معیشت براہِ راست اور بالواسطہ طور پر اب بھی فوسل ایندھن پر منحصر ہے، جبکہ توانائی کا تحفظ اور قابلِ استطاعت توانائی کی فراہمی معاشی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹیں ہیں۔ ترقی پذیر ممالک محض اس لیے روایتی توانائی کے ذرائع کو یکدم بند نہیں کر سکتے کہ دولت مند معیشتوں نے صنعتی ترقی کے لیے نسلوں تک انہی ذرائع کا استعمال کیا ہے۔ ایک بے ترتیب توانائی منتقلی ایسے اخراجات مسلط کرے گی جنہیں پاکستان جیسا ملک، جو پہلے ہی مالی اور بیرونی شعبے کی کمزوریوں سے دوچار ہے، برداشت کرنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال موسمیاتی بحث کو زیادہ پیچیدہ، لیکن اس سے بھی زیادہ فوری نوعیت کی بنا دیتی ہے۔ پاکستان کو قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں تیزی لانا ہوگی، توانائی کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور جہاں اقتصادی طور پر ممکن ہو، درآمدی ایندھن پر غیر ضروری انحصار کم کرنا ہوگا۔ اسی وقت ترقی یافتہ معیشتیں، جنہوں نے فوسل ایندھن کے دور میں دولت اور خوشحالی حاصل کی، اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری رکھتی ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کریں اور غریب ممالک کو ایسی منتقلی میں مدد دیں جس سے ان کی ترقی متاثر نہ ہو۔ موسمیاتی مالی معاونت بڑھتی ہوئی تشویش ناک موسمیاتی کانفرنسوں کے ساتھ محض رسمی طور پر پیش کیا جانے والا وعدہ نہیں رہ سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا انتونیو گوتریس کی جانب سے آلودگی پھیلانے والوں اور ان کے منافع، دونوں کی جانب توجہ دلانا اہم ہے۔ دنیا پہلے ہی جانتی ہے کہ فوسل ایندھن پر مسلسل انحصار اسے کس سمت لے جا رہا ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا حکومتوں کے پاس سمت تبدیل کرنے کی سیاسی خواہش موجود ہے، اس سے پہلے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کی لاگت ہی ناقابلِ برداشت ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے ڈرل، بے بی، ڈرل کے نعرے کا ایک خاصا تلخ پہلو بھی ہے: کوئی اور کھدائی کرے گا، لیکن موسمیاتی تبدیلی کا اثر سب کو برداشت کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ الزام کہ بڑی تیل کمپنیوں نے کرۂ ارض کے ماحول کو کھلے گٹر کے طور پر استعمال کیا ہے، سفارتی زبان میں غیر معمولی طور پر دوٹوک ضرور ہے، لیکن اس الزام کی بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنا اب دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا یہ موازنہ ایسے وقت میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جب عالمی حدت کے اثرات کو روزمرہ کی معاشی زندگی سے الگ کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم، دنیا کی جانب سے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو بیک وقت ایک طاقتور ردعمل کا سامنا ہے، جس کی قیادت ایک ایسی امریکی انتظامیہ کر رہی ہے جس نے لفظی طور پر ڈرل، بے بی، ڈرل یعنی مزید کھدائی کرو، کھدائی کرو کو اپنی حکمرانی کے فلسفے کا حصہ بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>اس تبدیلی کے اثرات امریکا سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ واشنگٹن پیرس معاہدے سے الگ ہو چکا ہے، تیل اور گیس کی ترقی کے لیے وسیع علاقوں کو دوبارہ کھول چکا ہے، ڈرلنگ کی منظوریوں کے عمل کو تیز کر چکا ہے اور فوسل ایندھن کی پیداوار میں توسیع کو اپنی توانائی حکمت عملی کا واضح حصہ بنا چکا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لیے جو بھی پیش رفت شروع کی تھی، اسے برقرار رکھنا لازماً زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت اپنی سیاسی اور اقتصادی طاقت کو اس کے بالکل برعکس سمت میں بھرپور انداز سے استعمال کر رہی ہو۔ پیداوار کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ اشارہ بھی اتنا ہی اہم ہے: فوسل ایندھن کو ایسے وقت میں ایک طاقتور نیا سیاسی حامی مل گیا ہے جب موسمیاتی سائنس ان سے تیزی سے دور ہونے کا تقاضا کر رہی ہے۔</p>
<p>انتونیو گوتریس نے موسمیاتی بحران کی غیر آرام دہ معاشیات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے پانچ بڑی مغربی تیل کمپنیوں نے تقریباً نصف ٹریلین ڈالر کا منافع کمایا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے صرف 34 ارب ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ فرق موسمیاتی انصاف کے اس حل طلب سوال کی براہِ راست نشاندہی کرتا ہے۔ جن ممالک کے پاس شدید موسمی حالات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے مالی گنجائش سب سے کم ہے، اکثر وہی ممالک اس مسئلے کو پیدا کرنے میں سب سے کم حصہ دار رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اس تضاد کے مرکز کے انتہائی قریب واقع ہے۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اسے سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئرز کے عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر خطرات کا شدید سامنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی یہ حقیقت جان چکا ہے کہ کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہونا اس وقت کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا جب موسمیاتی نظام مجموعی عالمی اخراج پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی ذمہ داری تباہ شدہ گھروں، متاثرہ فصلوں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے یا اگلی آفت سے نمٹنے کے لیے مضبوطی پیدا کرنے کی بھاری لاگت ادا نہیں کرتی۔</p>
<p>تاہم، ایک مشکل حقیقت ایسی بھی ہے جس سے پاکستان خود بھی فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کی معیشت براہِ راست اور بالواسطہ طور پر اب بھی فوسل ایندھن پر منحصر ہے، جبکہ توانائی کا تحفظ اور قابلِ استطاعت توانائی کی فراہمی معاشی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹیں ہیں۔ ترقی پذیر ممالک محض اس لیے روایتی توانائی کے ذرائع کو یکدم بند نہیں کر سکتے کہ دولت مند معیشتوں نے صنعتی ترقی کے لیے نسلوں تک انہی ذرائع کا استعمال کیا ہے۔ ایک بے ترتیب توانائی منتقلی ایسے اخراجات مسلط کرے گی جنہیں پاکستان جیسا ملک، جو پہلے ہی مالی اور بیرونی شعبے کی کمزوریوں سے دوچار ہے، برداشت کرنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال موسمیاتی بحث کو زیادہ پیچیدہ، لیکن اس سے بھی زیادہ فوری نوعیت کی بنا دیتی ہے۔ پاکستان کو قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں تیزی لانا ہوگی، توانائی کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور جہاں اقتصادی طور پر ممکن ہو، درآمدی ایندھن پر غیر ضروری انحصار کم کرنا ہوگا۔ اسی وقت ترقی یافتہ معیشتیں، جنہوں نے فوسل ایندھن کے دور میں دولت اور خوشحالی حاصل کی، اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری رکھتی ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کریں اور غریب ممالک کو ایسی منتقلی میں مدد دیں جس سے ان کی ترقی متاثر نہ ہو۔ موسمیاتی مالی معاونت بڑھتی ہوئی تشویش ناک موسمیاتی کانفرنسوں کے ساتھ محض رسمی طور پر پیش کیا جانے والا وعدہ نہیں رہ سکتی۔</p>
<p>لہٰذا انتونیو گوتریس کی جانب سے آلودگی پھیلانے والوں اور ان کے منافع، دونوں کی جانب توجہ دلانا اہم ہے۔ دنیا پہلے ہی جانتی ہے کہ فوسل ایندھن پر مسلسل انحصار اسے کس سمت لے جا رہا ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا حکومتوں کے پاس سمت تبدیل کرنے کی سیاسی خواہش موجود ہے، اس سے پہلے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کی لاگت ہی ناقابلِ برداشت ہو جائے۔</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے ڈرل، بے بی، ڈرل کے نعرے کا ایک خاصا تلخ پہلو بھی ہے: کوئی اور کھدائی کرے گا، لیکن موسمیاتی تبدیلی کا اثر سب کو برداشت کرنا ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291758</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Sep 2026 12:26:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/27122439238906c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/27122439238906c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنفی فرق میں کمی، پاکستان اب بھی آخری نمبروں میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291759/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنفی مساوات میں ایک دہائی کے دوران پاکستان کی سالانہ بنیادوں پر ہونے والی سب سے نمایاں بہتری معمول کے مطابق اطمینان کا باعث ہونی چاہیے۔ تاہم، اصل چیلنج یہ سمجھنا ہے کہ آخر کس بات پر جشن منایا جائے، جب ملک اب بھی ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی صنفی فرق رپورٹ 2026 میں تیسرے آخری نمبر پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 میں صنفی مساوات کا مجموعی اسکور بڑھ کر 59.5 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین فیصد پوائنٹس زیادہ اور 2006 کے 54.3 فیصد کے اسکور سے 5.2 فیصد پوائنٹس بلند ہے۔ پیش رفت کو یقیناً تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن جب پاکستان اب بھی رپورٹ میں شامل 38 کم متوسط آمدنی والی معیشتوں اور جنوبی ایشیا کے تمام سات ممالک میں سب سے نچلے درجے پر ہے، تو یہ بہتری زیادہ تر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ابھی کتنا طویل سفر باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعداد و شمار خاص طور پر مایوس کن ہیں۔ تین درجے بہتری کے باوجود پاکستان اقتصادی شمولیت اور مواقع کے معاملے میں 144ویں نمبر پر ہے۔ افرادی قوت میں مردوں کی شرکت 81.46 فیصد جبکہ خواتین کی صرف 28.21 فیصد ہے۔ افرادی قوت میں قانون سازوں، اعلیٰ حکام اور مینیجرز کے عہدوں پر خواتین کا حصہ صرف 6.13 فیصد ہے، جبکہ صرف 3.4 فیصد اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدے پر خواتین موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنے انسانی سرمائے کے ایک بہت بڑے حصے کو مسلسل پوری طرح بروئے کار لانے سے محروم ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک ایسا نقصان ہے جسے وہ بمشکل برداشت کر سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ملک پہلے ہی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور پائیدار معاشی نمو پیدا کرنے کی مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم رپورٹ کا سب سے حوصلہ افزا پہلو اور رواں سال کی بہتری کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان نے تعلیمی حصول کے شعبے میں نمایاں بہتری حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے معاملے میں بلند صنفی مساوات حاصل کی، جہاں خواتین اور مردوں کی داخلہ شرح بالترتیب 10.71 اور 11.01 فیصد رپورٹ کی گئی ہے۔ تاہم، مجموعی صورت حال اب بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی 48.52 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 69.14 فیصد ہے، جب کہ پرائمری اور سیکنڈری دونوں سطحوں پر شرکت کی شرح بدستور کم ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان قریب قریب مساوات اس وقت خاص متاثر کن نہیں رہتی جب دونوں جنسوں کے بہت سے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہوں یا تعلیم کا سلسلہ مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی صورت حال بھی زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارلیمان کے ارکان میں خواتین کا حصہ 21.69 فیصد ہے، تاہم وزارتی عہدے رکھنے والوں میں ان کا حصہ صرف 3.45 فیصد ہے۔ سیاسی اختیارات کے معاملے میں پاکستان 107ویں نمبر پر ہے۔ نمائندگی کے معاملے سے آگے بنیادی سوال حقوق کا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ بیواؤں اور بیٹیوں کے لیے غیر مساوی وراثتی حقوق، انصاف تک محدود رسائی اور طلاق کے غیر مساوی حقوق کی نشاندہی کرتی ہے۔ یوں صنفی عدم مساوات خواتین کا گھریلو زندگی اور کام کی جگہ سے لے کر ان قانونی، مالی اور سیاسی ڈھانچوں تک پیچھا کرتی ہے جو حقیقی معاشی اور سماجی خودمختاری کے استعمال کی ان کی صلاحیت کا تعین کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں بتدریج ہونے والی بہتری کو اس کے درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایک انتہائی پست سطح سے اوپر اٹھنا اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تعلیم، روزگار یا نمائندگی میں ہر بہتری حقیقی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن بنیادی محرومی کی وسیع سطح کا سامنا کیے بغیر درجہ بندی میں بہتری پر جشن منانا خطرناک حد تک خود اطمینانی کے مترادف ہوگا۔ ایک ملک سنجیدگی سے زیادہ پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا جب اس کی زیادہ تر خواتین افرادی قوت سے باہر ہوں۔ اسی طرح تعلیمی کامیابیاں اپنا مکمل معاشی فائدہ اس وقت تک فراہم نہیں کر سکتیں جب تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمت حاصل کرنے یا اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کی کوشش میں رکاوٹوں کا سامنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اس مسئلے کا حل تعلیم، روزگار، قانون اور اس کے نفاذ تک وسیع ہونا چاہیے۔ لڑکیوں کو اسکول میں برقرار رکھنا، خواتین کی شرح خواندگی بہتر بنانا، محفوظ کام کی جگہیں اور نقل و حمل فراہم کرنا، مالی وسائل تک رسائی میں اضافہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ قانونی حقوق صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی حاصل ہوں، اسی چیلنج کے باہم مربوط حصے ہیں۔ آجر اداروں اور سرکاری اداروں کو بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ فیصلہ سازی اور اختیار رکھنے والے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی اب بھی اتنی کم کیوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بہتری حاصل کی ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن تیسرے آخری نمبر پر ہونا ایسی جگہ ہے جہاں کامیابی کا جشن منانے سے پہلے خاصا سوچنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنفی مساوات میں ایک دہائی کے دوران پاکستان کی سالانہ بنیادوں پر ہونے والی سب سے نمایاں بہتری معمول کے مطابق اطمینان کا باعث ہونی چاہیے۔ تاہم، اصل چیلنج یہ سمجھنا ہے کہ آخر کس بات پر جشن منایا جائے، جب ملک اب بھی ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی صنفی فرق رپورٹ 2026 میں تیسرے آخری نمبر پر ہے۔</strong></p>
<p>2026 میں صنفی مساوات کا مجموعی اسکور بڑھ کر 59.5 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین فیصد پوائنٹس زیادہ اور 2006 کے 54.3 فیصد کے اسکور سے 5.2 فیصد پوائنٹس بلند ہے۔ پیش رفت کو یقیناً تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن جب پاکستان اب بھی رپورٹ میں شامل 38 کم متوسط آمدنی والی معیشتوں اور جنوبی ایشیا کے تمام سات ممالک میں سب سے نچلے درجے پر ہے، تو یہ بہتری زیادہ تر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ابھی کتنا طویل سفر باقی ہے۔</p>
<p>معاشی اعداد و شمار خاص طور پر مایوس کن ہیں۔ تین درجے بہتری کے باوجود پاکستان اقتصادی شمولیت اور مواقع کے معاملے میں 144ویں نمبر پر ہے۔ افرادی قوت میں مردوں کی شرکت 81.46 فیصد جبکہ خواتین کی صرف 28.21 فیصد ہے۔ افرادی قوت میں قانون سازوں، اعلیٰ حکام اور مینیجرز کے عہدوں پر خواتین کا حصہ صرف 6.13 فیصد ہے، جبکہ صرف 3.4 فیصد اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدے پر خواتین موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنے انسانی سرمائے کے ایک بہت بڑے حصے کو مسلسل پوری طرح بروئے کار لانے سے محروم ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک ایسا نقصان ہے جسے وہ بمشکل برداشت کر سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ملک پہلے ہی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور پائیدار معاشی نمو پیدا کرنے کی مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔</p>
<p>تعلیم رپورٹ کا سب سے حوصلہ افزا پہلو اور رواں سال کی بہتری کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان نے تعلیمی حصول کے شعبے میں نمایاں بہتری حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے معاملے میں بلند صنفی مساوات حاصل کی، جہاں خواتین اور مردوں کی داخلہ شرح بالترتیب 10.71 اور 11.01 فیصد رپورٹ کی گئی ہے۔ تاہم، مجموعی صورت حال اب بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی 48.52 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 69.14 فیصد ہے، جب کہ پرائمری اور سیکنڈری دونوں سطحوں پر شرکت کی شرح بدستور کم ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان قریب قریب مساوات اس وقت خاص متاثر کن نہیں رہتی جب دونوں جنسوں کے بہت سے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہوں یا تعلیم کا سلسلہ مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دیں۔</p>
<p>سیاسی صورت حال بھی زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارلیمان کے ارکان میں خواتین کا حصہ 21.69 فیصد ہے، تاہم وزارتی عہدے رکھنے والوں میں ان کا حصہ صرف 3.45 فیصد ہے۔ سیاسی اختیارات کے معاملے میں پاکستان 107ویں نمبر پر ہے۔ نمائندگی کے معاملے سے آگے بنیادی سوال حقوق کا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ بیواؤں اور بیٹیوں کے لیے غیر مساوی وراثتی حقوق، انصاف تک محدود رسائی اور طلاق کے غیر مساوی حقوق کی نشاندہی کرتی ہے۔ یوں صنفی عدم مساوات خواتین کا گھریلو زندگی اور کام کی جگہ سے لے کر ان قانونی، مالی اور سیاسی ڈھانچوں تک پیچھا کرتی ہے جو حقیقی معاشی اور سماجی خودمختاری کے استعمال کی ان کی صلاحیت کا تعین کرتے ہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں بتدریج ہونے والی بہتری کو اس کے درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایک انتہائی پست سطح سے اوپر اٹھنا اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تعلیم، روزگار یا نمائندگی میں ہر بہتری حقیقی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن بنیادی محرومی کی وسیع سطح کا سامنا کیے بغیر درجہ بندی میں بہتری پر جشن منانا خطرناک حد تک خود اطمینانی کے مترادف ہوگا۔ ایک ملک سنجیدگی سے زیادہ پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا جب اس کی زیادہ تر خواتین افرادی قوت سے باہر ہوں۔ اسی طرح تعلیمی کامیابیاں اپنا مکمل معاشی فائدہ اس وقت تک فراہم نہیں کر سکتیں جب تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمت حاصل کرنے یا اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کی کوشش میں رکاوٹوں کا سامنا ہو۔</p>
<p>چنانچہ اس مسئلے کا حل تعلیم، روزگار، قانون اور اس کے نفاذ تک وسیع ہونا چاہیے۔ لڑکیوں کو اسکول میں برقرار رکھنا، خواتین کی شرح خواندگی بہتر بنانا، محفوظ کام کی جگہیں اور نقل و حمل فراہم کرنا، مالی وسائل تک رسائی میں اضافہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ قانونی حقوق صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی حاصل ہوں، اسی چیلنج کے باہم مربوط حصے ہیں۔ آجر اداروں اور سرکاری اداروں کو بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ فیصلہ سازی اور اختیار رکھنے والے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی اب بھی اتنی کم کیوں ہے۔</p>
<p>پاکستان نے بہتری حاصل کی ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن تیسرے آخری نمبر پر ہونا ایسی جگہ ہے جہاں کامیابی کا جشن منانے سے پہلے خاصا سوچنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291759</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Sep 2026 12:36:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/27123438674a3b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/27123438674a3b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی تجارت کو بڑھتی رکاوٹوں کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291727/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی 2026 کی رپورٹ اے کریٹیکل جنکچر آف دی ورلڈ ٹریڈنگ سسٹم میں کہا گیا ہے کہ عالمی تجارتی پالیسی اور ڈبلیو ٹی او کو کثیر الجہتی تجارتی نظام کے 80 سال قبل قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین اور مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے، کیونکہ بالخصوص تین بڑے عوامل اس کی وجہ ہیں: (i) صدر ٹرمپ کی جانب سے قواعد پر مبنی عالمی معیشت کی خلاف ورزی جس میں ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی شامل ہے؛ (ii) بیشتر پیداواری سرگرمیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھنے والی اشیا یعنی بجلی، گیس/ایل این جی، پٹرولیم اور پٹرولیم مصنوعات کو روسی ایندھن کی برآمدات پر مغرب کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد بھی رسد کی شدید کمی کا سامنا ہے؛ اور (iii) 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد یہ قلت مزید بڑھ گئی جس کے نتیجے میں بالآخر دنیا کی 20 سے 25 فیصد ایندھن کی رسد متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد باب المندب کی بندش سے یہ خلل مزید شدت اختیار کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ نے اگرچہ ان جغرافیائی سیاسی عوامل کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے عالمی تجارت کو متاثر کیا لیکن اس نے دیگر زیادہ بنیادی نوعیت کے مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسائل اس نظام کی اپنی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔ تاہم رپورٹ نے زور دیا کہ اس نظام کے قیام کی بنیادی منطق اب بھی اہم اقتصادی فوائد فراہم کر رہی ہے اور یہ نظام بدستور قدر و افادیت رکھتا ہے۔ لیکن مستقبل میں اس کی مؤثریت کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ یہ اس زیادہ مربوط، کثیر قطبی اور متنوع عالمی معیشت کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے جس کے وجود میں آنے میں اس نظام نے بھی کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے لیے اس کے قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار میں ترمیم درکار ہوگی کیونکہ موجودہ نظام واضح طور پر عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلی کی رفتار اور پیمانے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت کی بات نہیں کہ ڈبلیو ٹی او نے اس کے خاتمے کی سفارش نہیں کی بلکہ اس کے بجائے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں: جو کچھ خراب ہے اسے درست کیا جائے، جو فرسودہ ہوچکا  اسے جدید بنایا جائے، جو مؤثر ہے اسے برقرار رکھا جائے اور نئی پالیسیوں کے اثرات کے مطابق باہمی تعاون کو ڈھالا جائے۔ ڈبلیو ٹی او کو ماضی میں بھی دباؤ کے مراحل کا سامنا رہا اور اس کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام جمود کا شکار رہنے کے بجائے ان قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار کی تجدید کے ذریعے برقرار رہا ہے جن کے ذریعے اس کے بنیادی اصولوں کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور کثیر الجہتی تجارتی قواعد کے کمزور ہونے کے درمیان فرق بڑھتا جائے گا جسے رپورٹ کے مطابق مختلف منظرناموں کی بنیاد پر عالمی حقیقی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 5 سے 10 فیصد کے مساوی مواقع کی لاگت قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی او کے ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مضبوط کثیر الجہتی تجارتی نظام 2050 تک عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 3 فیصد یا 3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرسکتا ہے جبکہ تجارتی نظام کو جدید بنانے میں ناکامی عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت دوسری جنگِ عظیم کے بعد جی اے ٹی ٹی کے معماروں یا حتیٰ کہ یوراگوئے راؤنڈ کے مذاکرات کاروں کو درپیش عالمی معیشت سے بنیادی طور پر مختلف ہے، اس حقیقت پر 3 ایسی وجوہات کی بنا پر کوئی سوال نہیں اٹھتا جنہیں رپورٹ میں اجاگر نہیں کیا گیا۔ اول امریکا، مغربی یورپی ممالک، جاپان اور آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک کی اقتصادی طاقت کو حریف ممالک، بالخصوص چین کی معاشی مضبوطی نے چیلنج کیا ہے جس نے امریکی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ دوم چین نے نایاب ارضی عناصر (ریئر ارتھز) کی ریفائننگ کی ایسی صلاحیت پیدا کرلی جو عالمی رسد کا 90 فیصد فراہم کرتی ہے۔ ان میں سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم شامل ہیں جو دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس صورتحال نے چین کو غیر معمولی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور امریکی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کا موقع دیا۔ سوم جغرافیہ ایسے ممالک کو بھی غلبہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے جو عسکری اعتبار سے کم طاقتور ہیں۔ سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، جیسا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ناکہ بندی کی صورت میں جغرافیائی محلِ وقوع اہم کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی ممالک اس وقت بھی اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، خواہ امریکا انفرادی طور پر یا یورپی یونین اجتماعی طور پر اور ملکی صنعت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے ایک آلے کے طور پر ٹیرف اور پابندیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں انہیں واضح طور پر شدید قلت کا سامنا ہے اور جہاں متبادل رسد دستیاب ہے وہاں اس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صنعت کی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی اشیا کی 72 فیصد تجارت اب بھی ڈبلیو ٹی او کی موسٹ فیورڈ نیشن (ایم ایف این) شرائط کے تحت ہوتی ہے تاہم پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ یہ حیثیت نہیں رکھتا، اگرچہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی پلس) کے ذریعے یورپی یونین کی منڈیوں تک پاکستان کو ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی 2026 کی رپورٹ اے کریٹیکل جنکچر آف دی ورلڈ ٹریڈنگ سسٹم میں کہا گیا ہے کہ عالمی تجارتی پالیسی اور ڈبلیو ٹی او کو کثیر الجہتی تجارتی نظام کے 80 سال قبل قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین اور مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>اس بیان سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے، کیونکہ بالخصوص تین بڑے عوامل اس کی وجہ ہیں: (i) صدر ٹرمپ کی جانب سے قواعد پر مبنی عالمی معیشت کی خلاف ورزی جس میں ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی شامل ہے؛ (ii) بیشتر پیداواری سرگرمیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھنے والی اشیا یعنی بجلی، گیس/ایل این جی، پٹرولیم اور پٹرولیم مصنوعات کو روسی ایندھن کی برآمدات پر مغرب کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد بھی رسد کی شدید کمی کا سامنا ہے؛ اور (iii) 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد یہ قلت مزید بڑھ گئی جس کے نتیجے میں بالآخر دنیا کی 20 سے 25 فیصد ایندھن کی رسد متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد باب المندب کی بندش سے یہ خلل مزید شدت اختیار کرگیا۔</p>
<p>تاہم رپورٹ نے اگرچہ ان جغرافیائی سیاسی عوامل کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے عالمی تجارت کو متاثر کیا لیکن اس نے دیگر زیادہ بنیادی نوعیت کے مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسائل اس نظام کی اپنی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔ تاہم رپورٹ نے زور دیا کہ اس نظام کے قیام کی بنیادی منطق اب بھی اہم اقتصادی فوائد فراہم کر رہی ہے اور یہ نظام بدستور قدر و افادیت رکھتا ہے۔ لیکن مستقبل میں اس کی مؤثریت کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ یہ اس زیادہ مربوط، کثیر قطبی اور متنوع عالمی معیشت کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے جس کے وجود میں آنے میں اس نظام نے بھی کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے لیے اس کے قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار میں ترمیم درکار ہوگی کیونکہ موجودہ نظام واضح طور پر عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلی کی رفتار اور پیمانے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔</p>
<p>حیرت کی بات نہیں کہ ڈبلیو ٹی او نے اس کے خاتمے کی سفارش نہیں کی بلکہ اس کے بجائے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں: جو کچھ خراب ہے اسے درست کیا جائے، جو فرسودہ ہوچکا  اسے جدید بنایا جائے، جو مؤثر ہے اسے برقرار رکھا جائے اور نئی پالیسیوں کے اثرات کے مطابق باہمی تعاون کو ڈھالا جائے۔ ڈبلیو ٹی او کو ماضی میں بھی دباؤ کے مراحل کا سامنا رہا اور اس کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام جمود کا شکار رہنے کے بجائے ان قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار کی تجدید کے ذریعے برقرار رہا ہے جن کے ذریعے اس کے بنیادی اصولوں کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور کثیر الجہتی تجارتی قواعد کے کمزور ہونے کے درمیان فرق بڑھتا جائے گا جسے رپورٹ کے مطابق مختلف منظرناموں کی بنیاد پر عالمی حقیقی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 5 سے 10 فیصد کے مساوی مواقع کی لاگت قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی او کے ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مضبوط کثیر الجہتی تجارتی نظام 2050 تک عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 3 فیصد یا 3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرسکتا ہے جبکہ تجارتی نظام کو جدید بنانے میں ناکامی عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت دوسری جنگِ عظیم کے بعد جی اے ٹی ٹی کے معماروں یا حتیٰ کہ یوراگوئے راؤنڈ کے مذاکرات کاروں کو درپیش عالمی معیشت سے بنیادی طور پر مختلف ہے، اس حقیقت پر 3 ایسی وجوہات کی بنا پر کوئی سوال نہیں اٹھتا جنہیں رپورٹ میں اجاگر نہیں کیا گیا۔ اول امریکا، مغربی یورپی ممالک، جاپان اور آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک کی اقتصادی طاقت کو حریف ممالک، بالخصوص چین کی معاشی مضبوطی نے چیلنج کیا ہے جس نے امریکی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ دوم چین نے نایاب ارضی عناصر (ریئر ارتھز) کی ریفائننگ کی ایسی صلاحیت پیدا کرلی جو عالمی رسد کا 90 فیصد فراہم کرتی ہے۔ ان میں سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم شامل ہیں جو دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس صورتحال نے چین کو غیر معمولی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور امریکی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کا موقع دیا۔ سوم جغرافیہ ایسے ممالک کو بھی غلبہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے جو عسکری اعتبار سے کم طاقتور ہیں۔ سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، جیسا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ناکہ بندی کی صورت میں جغرافیائی محلِ وقوع اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>مغربی ممالک اس وقت بھی اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، خواہ امریکا انفرادی طور پر یا یورپی یونین اجتماعی طور پر اور ملکی صنعت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے ایک آلے کے طور پر ٹیرف اور پابندیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں انہیں واضح طور پر شدید قلت کا سامنا ہے اور جہاں متبادل رسد دستیاب ہے وہاں اس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صنعت کی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی اشیا کی 72 فیصد تجارت اب بھی ڈبلیو ٹی او کی موسٹ فیورڈ نیشن (ایم ایف این) شرائط کے تحت ہوتی ہے تاہم پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ یہ حیثیت نہیں رکھتا، اگرچہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی پلس) کے ذریعے یورپی یونین کی منڈیوں تک پاکستان کو ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291727</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 14:31:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/26142037a472f4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="338" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/26142037a472f4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اسکیم مشکلات کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291680/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے تازہ ترین اعدادوشمار پاکستان کے مسلسل کم ٹیکس ادا کرنے والے ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ایک اور کوشش کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے لیکن اب تک صرف دو ایسے تاجروں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا انتخاب کیا ہے جو پہلے ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ نہیں تھے جبکہ مزید 315 شرکا پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعدادوشمار ایک ایسی حکومت کے لیے بلاشبہ باعثِ شرمندگی ہیں جس نے تاجروں کے دیرینہ تحفظات دور کرنے کے لیے آسان ٹیکس نظام اور وسیع مراعات کی پیشکش کی تھی، تاہم اب تک کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مراعات کے ذریعے اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعدادوشمار اس منصوبے کے بڑے پیمانے پر مقرر کیے گئے ہدف کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہیں۔ سالانہ 50 ارب روپے کی آمدن کے ہدف کے مقابلے میں اس اسکیم سے اب تک صرف تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہوئے ہیں یعنی فی شریک تاجر اوسطاً تقریباً 81,944 روپے۔ یہ حکومت کی اس توقع سے بہت دور ہے کہ اندازاً 35 لاکھ اہل تاجروں میں سے ایک بڑی تعداد اس اسکیم میں شامل ہوگی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس اسکیم نے پہلے سے غیر دستاویزی ریٹیل کاروبار کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں تاحال معمولی پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم میں انتہائی کم شمولیت کے پیش نظر حکومت کا فوری ردِعمل یعنی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنا اور تاجروں کی رجسٹریشن میں مدد کے لیے مقامی ٹیکس بارز کو زیادہ فعال کرنا بھی ناکافی دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اہل دکانداروں کو اسکیم کے بارے میں معلومات اور معاونت فراہم کی جائے لیکن کئی ماہ تک تشہیر کے بعد اسے محض آگاہی کا مسئلہ قرار دینا مشکل ہے۔ نہ ہی اس کم شمولیت کو مراعات کی کمی سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے پہلے ہی اس اسکیم کو خاصا پرکشش بنا دیا تھا۔ سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت کرنے والے تاجروں کے لیے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ٹیکس ریٹرن اور ٹرن اوور پر صرف ایک فیصد ٹیکس کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں ایف بی آر کی معمول کی کارروائی اور آڈٹ سے تحفظ، لازمی پوائنٹ آف سیل  نظام اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت سے رجسٹریشن کی شرائط سے بھی استثنیٰ حاصل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکام مراعات اور قائل کرنے کی کوششوں کی حدود کو تسلیم کریں اور اس بنیادی حقیقت کا سامنا کریں کہ ایک ایسا شعبہ جس کا معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ خاصا زیادہ ہو، رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کے لیے زیادہ ترغیب نہیں رکھتا۔ کئی دہائیوں سے تاجروں کی مزاحمت نے ہڑتالوں، شٹر ڈاؤن اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنی احتجاجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ حکومتیں اکثر وسیع تر عوامی مفاد میں ایسی رکاوٹوں سے نمٹنے کے بجائے انہیں ٹالنے کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ ایک ایسے گہرے غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی صورت میں نکلتا ہے جس میں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر مالی بوجھ غیر متناسب طور پر زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤثر اور قابلِ اعتماد ٹیکس نفاذ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے لیے جو جرمانے تجویز کیے جارہے ہیں وہ شاید ہی کوئی مؤثر روک ثابت ہوں۔ پہلے ماہ 10 ہزار روپے، پھر 25 ہزار روپے اور اس کے بعد 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنا ایسے کاروبار کے لیے شاید ہی کوئی بڑا مالی بوجھ ہو جو ماہانہ لاکھوں روپے کی فروخت کررہا ہو۔ جرمانے کاروبار کے حجم کے تناسب سے ہونے چاہییں، خودکار طور پر عائد کیے جائیں اور حقیقتاً وصول بھی کیے جائیں؛ بصورتِ دیگر یہ خطرہ ہے کہ وہ بھی ایسی ہی ایک اور غیر مؤثر شق بن جائیں جو صرف کاغذوں تک محدود رہے اور کاروباری رویوں میں تبدیلی لانے میں کوئی خاص کردار ادا نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو رضاکارانہ گوشوارے جمع کرانے کے عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اعداد و شمار اور معلومات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے جو تجارتی سرگرمیوں کی نشاندہی میں مدد دے سکیں جن میں بجلی بلوں اور جائیداد کے ریکارڈ سے لے کر بینکاری، درآمدات اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ ان معلومات کو خطرے کی بنیاد پر پروفائلز تیار کرنے اور مسلسل ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رجسٹریشن مہمات کے بعد منظم انداز میں تصدیق کا عمل بھی ہونا چاہیے جبکہ بار بار تعمیل سے انکار کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن مؤثر ٹیکس نفاذ کے لیے سیاسی حمایت ضروری ہے۔ اگر جب بھی تاجر احتجاج یا کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کی دھمکی دیں تو مؤثر کارروائی کو نرم کردیا جائے تو کوئی بھی ٹیکس نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے اس شعبے کو ٹیکس نظام میں شامل ہونے کے لیے غیر معمولی طور پر سہل راستہ فراہم کیا ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی خاطر خواہ شمولیت نہیں ہوتی تو اگلا قدم مزید کوئی رعایت نہیں ہونا چاہیے بلکہ مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ ٹیکس قوانین کا سخت نفاذ ہونا چاہیے۔آسان ٹیکس اسکیم کو اب بھی مؤثر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی دی گئی مراعات کے ساتھ سخت ٹیکس نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے تازہ ترین اعدادوشمار پاکستان کے مسلسل کم ٹیکس ادا کرنے والے ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ایک اور کوشش کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے لیکن اب تک صرف دو ایسے تاجروں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا انتخاب کیا ہے جو پہلے ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ نہیں تھے جبکہ مزید 315 شرکا پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔</strong></p>
<p>یہ اعدادوشمار ایک ایسی حکومت کے لیے بلاشبہ باعثِ شرمندگی ہیں جس نے تاجروں کے دیرینہ تحفظات دور کرنے کے لیے آسان ٹیکس نظام اور وسیع مراعات کی پیشکش کی تھی، تاہم اب تک کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مراعات کے ذریعے اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہ اعدادوشمار اس منصوبے کے بڑے پیمانے پر مقرر کیے گئے ہدف کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہیں۔ سالانہ 50 ارب روپے کی آمدن کے ہدف کے مقابلے میں اس اسکیم سے اب تک صرف تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہوئے ہیں یعنی فی شریک تاجر اوسطاً تقریباً 81,944 روپے۔ یہ حکومت کی اس توقع سے بہت دور ہے کہ اندازاً 35 لاکھ اہل تاجروں میں سے ایک بڑی تعداد اس اسکیم میں شامل ہوگی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس اسکیم نے پہلے سے غیر دستاویزی ریٹیل کاروبار کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں تاحال معمولی پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>اسکیم میں انتہائی کم شمولیت کے پیش نظر حکومت کا فوری ردِعمل یعنی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنا اور تاجروں کی رجسٹریشن میں مدد کے لیے مقامی ٹیکس بارز کو زیادہ فعال کرنا بھی ناکافی دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اہل دکانداروں کو اسکیم کے بارے میں معلومات اور معاونت فراہم کی جائے لیکن کئی ماہ تک تشہیر کے بعد اسے محض آگاہی کا مسئلہ قرار دینا مشکل ہے۔ نہ ہی اس کم شمولیت کو مراعات کی کمی سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>حکومت نے پہلے ہی اس اسکیم کو خاصا پرکشش بنا دیا تھا۔ سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت کرنے والے تاجروں کے لیے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ٹیکس ریٹرن اور ٹرن اوور پر صرف ایک فیصد ٹیکس کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں ایف بی آر کی معمول کی کارروائی اور آڈٹ سے تحفظ، لازمی پوائنٹ آف سیل  نظام اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت سے رجسٹریشن کی شرائط سے بھی استثنیٰ حاصل تھا۔</p>
<p>لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکام مراعات اور قائل کرنے کی کوششوں کی حدود کو تسلیم کریں اور اس بنیادی حقیقت کا سامنا کریں کہ ایک ایسا شعبہ جس کا معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ خاصا زیادہ ہو، رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کے لیے زیادہ ترغیب نہیں رکھتا۔ کئی دہائیوں سے تاجروں کی مزاحمت نے ہڑتالوں، شٹر ڈاؤن اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنی احتجاجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ حکومتیں اکثر وسیع تر عوامی مفاد میں ایسی رکاوٹوں سے نمٹنے کے بجائے انہیں ٹالنے کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ ایک ایسے گہرے غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی صورت میں نکلتا ہے جس میں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر مالی بوجھ غیر متناسب طور پر زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤثر اور قابلِ اعتماد ٹیکس نفاذ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے لیے جو جرمانے تجویز کیے جارہے ہیں وہ شاید ہی کوئی مؤثر روک ثابت ہوں۔ پہلے ماہ 10 ہزار روپے، پھر 25 ہزار روپے اور اس کے بعد 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنا ایسے کاروبار کے لیے شاید ہی کوئی بڑا مالی بوجھ ہو جو ماہانہ لاکھوں روپے کی فروخت کررہا ہو۔ جرمانے کاروبار کے حجم کے تناسب سے ہونے چاہییں، خودکار طور پر عائد کیے جائیں اور حقیقتاً وصول بھی کیے جائیں؛ بصورتِ دیگر یہ خطرہ ہے کہ وہ بھی ایسی ہی ایک اور غیر مؤثر شق بن جائیں جو صرف کاغذوں تک محدود رہے اور کاروباری رویوں میں تبدیلی لانے میں کوئی خاص کردار ادا نہ کرے۔</p>
<p>حکومت کو رضاکارانہ گوشوارے جمع کرانے کے عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اعداد و شمار اور معلومات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے جو تجارتی سرگرمیوں کی نشاندہی میں مدد دے سکیں جن میں بجلی بلوں اور جائیداد کے ریکارڈ سے لے کر بینکاری، درآمدات اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ ان معلومات کو خطرے کی بنیاد پر پروفائلز تیار کرنے اور مسلسل ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رجسٹریشن مہمات کے بعد منظم انداز میں تصدیق کا عمل بھی ہونا چاہیے جبکہ بار بار تعمیل سے انکار کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے۔</p>
<p>لیکن مؤثر ٹیکس نفاذ کے لیے سیاسی حمایت ضروری ہے۔ اگر جب بھی تاجر احتجاج یا کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کی دھمکی دیں تو مؤثر کارروائی کو نرم کردیا جائے تو کوئی بھی ٹیکس نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے اس شعبے کو ٹیکس نظام میں شامل ہونے کے لیے غیر معمولی طور پر سہل راستہ فراہم کیا ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی خاطر خواہ شمولیت نہیں ہوتی تو اگلا قدم مزید کوئی رعایت نہیں ہونا چاہیے بلکہ مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ ٹیکس قوانین کا سخت نفاذ ہونا چاہیے۔آسان ٹیکس اسکیم کو اب بھی مؤثر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی دی گئی مراعات کے ساتھ سخت ٹیکس نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291680</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 12:38:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25123005a16c29e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25123005a16c29e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات پر مبنی معاشی ترقی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291673/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی اور کاروباری برادری کو درپیش زیر التوا مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ انکم ٹیکس وضاحتی سرکلر نمبر 2 کے مطابق 50 کروڑ روپے آمدن کمانے والوں سمیت تمام افراد کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا گیا، تاہم ان افراد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جنہیں ایک فہرست میں مخصوص کیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے کم آمدن رکھنے والے ان افراد کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ سیکنڈ شیڈول میں ایک نئی شق بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت برآمدی آمدنی پر سپر ٹیکس مکمل طور پر عائد نہیں ہوگا، بشرطیکہ وہ سال کے دوران برآمد کنندگان کے مجموعی کاروباری حجم کے 80 فیصد سے زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات پر جس رفتار سے عمل درآمد کیا گیا وہ قابل ذکر ہے، جو ملک کی برآمدی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ برآمدی آمدنی متعدد وجوہات کے باعث متاثر ہوئی ہے، جن میں علاقائی حریف ممالک، خصوصاً بھارت اور چین کے مقابلے میں یوٹیلیٹی یعنی پیداواری لاگت زیادہ ہونا، اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع شامل ہیں۔ اس تنازع کے باعث خلیجی ممالک کو برآمدات کم ہوئی ہیں جبکہ نقل و حمل کی لاگت بھی زیادہ ہوگئی ہے، کیونکہ برآمدی سامان کو سستی سمندری ترسیل کے بجائے ہوائی راستے سے منتقل کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سابقہ مالی اور زری مراعات واپس لی جارہی ہیں، کیونکہ جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کی وجہ سے ان مراعات کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جارہا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی قرض سے متعلق دستاویزات میں دیے گئے اس مشاہدے کی بنیاد پر تھا کہ ریاست کی جانب سے سبسڈیز، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباروں کی حمایت نے ایک متحرک اور بیرونی منڈیوں پر مرکوز معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیکس نظام کو مراعات یافتہ شعبوں، جیسے رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی کے لیے غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس، جن کی قیمتوں کا سال میں دو مرتبہ تعین کیا جاتا ہے، سمیت قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بلند ٹیرف اور نان ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر، مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں میدان کو ہموار کرنے کے بجائے ان کے حق میں جھکا دیتی رہی ہے۔ اس تمام حمایت کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا ہے، جبکہ مراعات نے بالآخر مسابقت کو کمزور کیا اور وسائل کو مستقل طور پر غیر مؤثر صنعتوں، جن میں ہمیشہ نوزائیدہ رہنے والی صنعتیں بھی شامل ہیں، میں پھنسا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو نکات انتہائی اہم ہیں۔ اول، مراعات یافتہ شعبوں کا حوالہ زرعی آمدنی ٹیکس کی کم وصولیوں سے سب سے بہتر طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس آئی ایم ایف کے اصرار پر نافذ کیا گیا تھا، تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کی ممکنہ سطح یا توقعات سے کہیں کم ہے، جو امیر کسانوں کے سیاسی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، اور یہ بات آئی ایم ایف کے تجزیے میں شامل نہیں ہے، پاکستان بڑی حد تک اپنی اضافی پیداوار برآمد کرتا ہے، بجائے اس کے کہ خصوصی طور پر برآمدات کے لیے صنعتیں قائم کرے۔ اس کے برعکس جاپان اور جرمنی نے جنگ کے بعد اس حکمت عملی کو انتہائی کامیابی سے نافذ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات کی قیادت میں معاشی ترقی کا تصور شاید اب کچھ پرانا ہوچکا ہے، کیونکہ ترسیلات زر کی آمد اب برآمدات سے زیادہ ہو رہی ہے۔ ترسیلات زر میں ابتدائی اضافے کی وجہ سرکاری ذرائع کے استعمال کے لیے دی جانے والی مراعات کو قرار دیا گیا تھا، بجائے اس کے کہ رقوم غیر قانونی ہنڈی یا حوالہ نظام کے ذریعے بھیجی جاتیں۔ تاہم یہ مراعات حال ہی میں واپس لے لی گئی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان رقوم کی آمد پر محتاط نظر رکھے تاکہ یہ سلسلہ مسلسل بڑھتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سپر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی آئی ایم ایف کے لیے اس تشویش کا باعث بنے گی یا نہیں کہ اس کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے، خاص طور پر رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے متوقع چوتھے جائزے کے دوران، یا پھر اس اقدام کی منظوری پہلے ہی حاصل کرلی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایسا ہوتا ہے تو اس اقدام کو واپس لینا ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف نے قسطوں کی فراہمی معطل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی اور کاروباری برادری کو درپیش زیر التوا مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔</strong></p>
<p>اسی روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ انکم ٹیکس وضاحتی سرکلر نمبر 2 کے مطابق 50 کروڑ روپے آمدن کمانے والوں سمیت تمام افراد کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا گیا، تاہم ان افراد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جنہیں ایک فہرست میں مخصوص کیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے کم آمدن رکھنے والے ان افراد کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ سیکنڈ شیڈول میں ایک نئی شق بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت برآمدی آمدنی پر سپر ٹیکس مکمل طور پر عائد نہیں ہوگا، بشرطیکہ وہ سال کے دوران برآمد کنندگان کے مجموعی کاروباری حجم کے 80 فیصد سے زیادہ ہو۔</p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات پر جس رفتار سے عمل درآمد کیا گیا وہ قابل ذکر ہے، جو ملک کی برآمدی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ برآمدی آمدنی متعدد وجوہات کے باعث متاثر ہوئی ہے، جن میں علاقائی حریف ممالک، خصوصاً بھارت اور چین کے مقابلے میں یوٹیلیٹی یعنی پیداواری لاگت زیادہ ہونا، اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع شامل ہیں۔ اس تنازع کے باعث خلیجی ممالک کو برآمدات کم ہوئی ہیں جبکہ نقل و حمل کی لاگت بھی زیادہ ہوگئی ہے، کیونکہ برآمدی سامان کو سستی سمندری ترسیل کے بجائے ہوائی راستے سے منتقل کیا جارہا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سابقہ مالی اور زری مراعات واپس لی جارہی ہیں، کیونکہ جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کی وجہ سے ان مراعات کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جارہا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی قرض سے متعلق دستاویزات میں دیے گئے اس مشاہدے کی بنیاد پر تھا کہ ریاست کی جانب سے سبسڈیز، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباروں کی حمایت نے ایک متحرک اور بیرونی منڈیوں پر مرکوز معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیکس نظام کو مراعات یافتہ شعبوں، جیسے رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی کے لیے غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس، جن کی قیمتوں کا سال میں دو مرتبہ تعین کیا جاتا ہے، سمیت قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بلند ٹیرف اور نان ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر، مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں میدان کو ہموار کرنے کے بجائے ان کے حق میں جھکا دیتی رہی ہے۔ اس تمام حمایت کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا ہے، جبکہ مراعات نے بالآخر مسابقت کو کمزور کیا اور وسائل کو مستقل طور پر غیر مؤثر صنعتوں، جن میں ہمیشہ نوزائیدہ رہنے والی صنعتیں بھی شامل ہیں، میں پھنسا دیا۔</p>
<p>دو نکات انتہائی اہم ہیں۔ اول، مراعات یافتہ شعبوں کا حوالہ زرعی آمدنی ٹیکس کی کم وصولیوں سے سب سے بہتر طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس آئی ایم ایف کے اصرار پر نافذ کیا گیا تھا، تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کی ممکنہ سطح یا توقعات سے کہیں کم ہے، جو امیر کسانوں کے سیاسی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>دوم، اور یہ بات آئی ایم ایف کے تجزیے میں شامل نہیں ہے، پاکستان بڑی حد تک اپنی اضافی پیداوار برآمد کرتا ہے، بجائے اس کے کہ خصوصی طور پر برآمدات کے لیے صنعتیں قائم کرے۔ اس کے برعکس جاپان اور جرمنی نے جنگ کے بعد اس حکمت عملی کو انتہائی کامیابی سے نافذ کیا تھا۔</p>
<p>بہرحال ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات کی قیادت میں معاشی ترقی کا تصور شاید اب کچھ پرانا ہوچکا ہے، کیونکہ ترسیلات زر کی آمد اب برآمدات سے زیادہ ہو رہی ہے۔ ترسیلات زر میں ابتدائی اضافے کی وجہ سرکاری ذرائع کے استعمال کے لیے دی جانے والی مراعات کو قرار دیا گیا تھا، بجائے اس کے کہ رقوم غیر قانونی ہنڈی یا حوالہ نظام کے ذریعے بھیجی جاتیں۔ تاہم یہ مراعات حال ہی میں واپس لے لی گئی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان رقوم کی آمد پر محتاط نظر رکھے تاکہ یہ سلسلہ مسلسل بڑھتا رہے۔</p>
<p>آخر میں ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سپر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی آئی ایم ایف کے لیے اس تشویش کا باعث بنے گی یا نہیں کہ اس کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے، خاص طور پر رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے متوقع چوتھے جائزے کے دوران، یا پھر اس اقدام کی منظوری پہلے ہی حاصل کرلی گئی تھی۔</p>
<p>اگر ایسا ہوتا ہے تو اس اقدام کو واپس لینا ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف نے قسطوں کی فراہمی معطل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291673</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 10:00:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25095833985cb7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25095833985cb7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کو شامل کیا جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام پوری حکومت کی سطح پر جاری رہنے والا پروگرام ہے جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ ساتھ پلاننگ کمیشن/وزارتِ منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ یہ بات ایک پریس ریلیز میں کہی گئی جو وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کے اس بیان کے ایک روز بعد جاری کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران مشاورت کی میز پر اپنی وزارت کے لیے نشست کی درخواست کی ہے کیونکہ معیشت سے متعلق وسیع تر معاملات جن میں شرحِ نمو، مہنگائی، غربت اور دیگر امور شامل ہیں ان کی وزارت کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ اپنے سہ ماہی پروگرام جائزوں کے دوران معمول کے مطابق تکنیکی اور پالیسی سے متعلق مذاکرات کرتا ہے۔ جہاں تکنیکی مذاکرات میں تمام شعبوں، صوبوں اور وزارتوں کو شامل کیا جاتا ہے، وہیں پالیسی سے متعلق مذاکرات میں صرف ان نمائندوں کو شامل کیا جاتا ہے جو لیٹر آف انٹینٹ  پر دستخط کرنے والے دو عہدیدار یعنی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ تو پریس ریلیز اور نہ ہی احسن اقبال کے بیان میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آیا پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کی نمائندگی موجود ہے یا نہیں۔ ان مذاکرات میں تکنیکی سطح کے مباحث کے دوران زیرِ بحث آنے والی وقت کی پابندیوں سے مشروط شرائط اور ساختی اصلاحات کی باضابطہ طور پر دونوں دستخط کنندگان کی جانب سے منظوری دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر احسن اقبال کا اشارہ پالیسی سطح کے مذاکرات میں نمائندگی نہ ہونے کی جانب تھا تو ان کا خط اس بات کی عکاسی کرسکتا ہے کہ بجٹ سے قبل وزارتِ خزانہ کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام  کے لیے مختص رقم پر عائد پابندیوں کے باعث ان کی مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ انتہائی محدود مالی گنجائش ہے۔ یہ خط وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے دی جانے والی منظوری اور سال کے دوران وزارتِ خزانہ کی جانب سے حقیقی طور پر مختص یا جاری کی جانے والی رقوم کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس حوالے سے اعداد و شمار وزارتِ منصوبہ بندی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں اور ہر ماہ اپ ڈیٹ بھی کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات میں اس وقت مسلسل کٹوتی کی جاتی ہے جب بھی بجٹ خسارہ تشویش کا باعث بننے لگتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وزارتِ منصوبہ بندی کو مخصوص ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزارتِ خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں کی جانے والی کمی کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے جبکہ اس کمی کے معاشی نمو اور روزگار پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ چونکہ بالآخر معاشی استحکام حاصل کر لیا گیا ہے، اس لیے حکومت اب اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے صنعتی شعبے کے فروغ پر مبنی پالیسیوں، بالخصوص برآمدات پر مبنی شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موجودہ اخراجات کی تمام مدت میں اضافہ ہوا ہے، خواہ وہ خریداری کے اخراجات ہوں، تنخواہیں یا پنشن — یہ ایسے اخراجات ہیں جنہیں منجمد کیا جانا چاہیے تھا تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ زیادہ مؤثر مذاکراتی پوزیشن حاصل کی جا سکے اور زیادہ جامع اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس سے متعلق اقدامات، خصوصاً ٹیکس قوانین کے نفاذ سے متعلق اقدامات، اب تک صرف تین اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی تک محدود ہیں؛ بالخصوص چینی، سیمنٹ اور اب کھاد۔ اس ٹیکس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی پالیسیوں نے انتہائی تشویشناک سطح پر غربت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے جو ورلڈ بینک کے مطابق 44.7 فیصد ہے۔ اس کی وجہ انتہائی سخت نوعیت کی سکڑاؤ پر مبنی مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ایسے انتظامی اقدامات بھی ہیں جن کے ذریعے ادائیگیوں کے توازن کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک آئی ایم ایف نے تقریباً مکمل طور پر ان پالیسیوں کے کمزور اور مستحق طبقات پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس مقصد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ کیا گیا ہے اور مستحقین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے سہ ماہی نقد رقوم کی ادائیگی بھی بڑھائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک امر یہ ہے کہ بی ائی ایس پی کے لیے مختص کی جانے والی مجموعی رقم کل جاری اخراجات کے صرف 4 سے 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ نقد امداد کی یہ ادائیگیاں تین ماہ کے عرصے میں چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے راشن کے اخراجات کے برابر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان 2019 سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی چار حکومتوں جن میں نگران حکومتیں بھی شامل ہیں میں وزارتِ خزانہ کی توجہ فنڈ کی پالیسیوں کو تقریباً خاموشی سے قبول کرنے تک محدود رہی، اطلاعات کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے کوئی اندرونی یا روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر پالیسیاں آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ نہ تو شیئر کی گئیں اور نہ ہی ان پر بحث کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جانی چاہیے کہ وزارتِ منصوبہ بندی کو فنڈ کے ساتھ اپنی مہارت اور تجربہ شیئر کرنے اور آئی ایم ایف کے عملے کو زیادہ مرحلہ وار اور عوام دوست طریقۂ کار اپنانے پر قائل کرنے کا موقع دیا جائے گا، کیونکہ وزارت کے مطابق اس کے تین بنیادی مقاصد ہیں:(1) قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کی قیادت کرنا: ایسے منصوبہ بندی کے طریقۂ کار وضع کرنا اور نافذ کرنا جو اقتصادی اور سماجی ترقی کے پروگراموں کی رہنمائی کریں، قومی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنائیں اور معیشت کے لیے واضح سمت متعین کریں۔(2) مؤثر شراکت داریوں کو فروغ دینا: سرکاری اداروں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا تاکہ کوششوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے، مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔(3) سرکاری اداروں کو مضبوط بنانا: سرکاری اداروں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی صلاحیت کو بہتر بنانا تاکہ وہ مؤثر حکمتِ عملیاں تشکیل دے سکیں، پروگراموں کا انتظام کر سکیں اور ترقیاتی ترجیحات کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ وزارتِ منصوبہ بندی کے اندر موجود مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھائے، بجائے اس کے کہ اس کی ٹھوس اور تحقیق پر مبنی سفارشات کو نظر انداز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام پوری حکومت کی سطح پر جاری رہنے والا پروگرام ہے جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ ساتھ پلاننگ کمیشن/وزارتِ منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ یہ بات ایک پریس ریلیز میں کہی گئی جو وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کے اس بیان کے ایک روز بعد جاری کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران مشاورت کی میز پر اپنی وزارت کے لیے نشست کی درخواست کی ہے کیونکہ معیشت سے متعلق وسیع تر معاملات جن میں شرحِ نمو، مہنگائی، غربت اور دیگر امور شامل ہیں ان کی وزارت کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔</strong></p>
<p>فنڈ اپنے سہ ماہی پروگرام جائزوں کے دوران معمول کے مطابق تکنیکی اور پالیسی سے متعلق مذاکرات کرتا ہے۔ جہاں تکنیکی مذاکرات میں تمام شعبوں، صوبوں اور وزارتوں کو شامل کیا جاتا ہے، وہیں پالیسی سے متعلق مذاکرات میں صرف ان نمائندوں کو شامل کیا جاتا ہے جو لیٹر آف انٹینٹ  پر دستخط کرنے والے دو عہدیدار یعنی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں ہوتے ہیں۔</p>
<p>نہ تو پریس ریلیز اور نہ ہی احسن اقبال کے بیان میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آیا پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کی نمائندگی موجود ہے یا نہیں۔ ان مذاکرات میں تکنیکی سطح کے مباحث کے دوران زیرِ بحث آنے والی وقت کی پابندیوں سے مشروط شرائط اور ساختی اصلاحات کی باضابطہ طور پر دونوں دستخط کنندگان کی جانب سے منظوری دی جاتی ہے۔</p>
<p>اگر احسن اقبال کا اشارہ پالیسی سطح کے مذاکرات میں نمائندگی نہ ہونے کی جانب تھا تو ان کا خط اس بات کی عکاسی کرسکتا ہے کہ بجٹ سے قبل وزارتِ خزانہ کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام  کے لیے مختص رقم پر عائد پابندیوں کے باعث ان کی مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ انتہائی محدود مالی گنجائش ہے۔ یہ خط وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے دی جانے والی منظوری اور سال کے دوران وزارتِ خزانہ کی جانب سے حقیقی طور پر مختص یا جاری کی جانے والی رقوم کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس حوالے سے اعداد و شمار وزارتِ منصوبہ بندی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں اور ہر ماہ اپ ڈیٹ بھی کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات میں اس وقت مسلسل کٹوتی کی جاتی ہے جب بھی بجٹ خسارہ تشویش کا باعث بننے لگتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وزارتِ منصوبہ بندی کو مخصوص ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزارتِ خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں کی جانے والی کمی کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے جبکہ اس کمی کے معاشی نمو اور روزگار پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ چونکہ بالآخر معاشی استحکام حاصل کر لیا گیا ہے، اس لیے حکومت اب اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>موجودہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے صنعتی شعبے کے فروغ پر مبنی پالیسیوں، بالخصوص برآمدات پر مبنی شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم موجودہ اخراجات کی تمام مدت میں اضافہ ہوا ہے، خواہ وہ خریداری کے اخراجات ہوں، تنخواہیں یا پنشن — یہ ایسے اخراجات ہیں جنہیں منجمد کیا جانا چاہیے تھا تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ زیادہ مؤثر مذاکراتی پوزیشن حاصل کی جا سکے اور زیادہ جامع اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>ٹیکس سے متعلق اقدامات، خصوصاً ٹیکس قوانین کے نفاذ سے متعلق اقدامات، اب تک صرف تین اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی تک محدود ہیں؛ بالخصوص چینی، سیمنٹ اور اب کھاد۔ اس ٹیکس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>ایسی پالیسیوں نے انتہائی تشویشناک سطح پر غربت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے جو ورلڈ بینک کے مطابق 44.7 فیصد ہے۔ اس کی وجہ انتہائی سخت نوعیت کی سکڑاؤ پر مبنی مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ایسے انتظامی اقدامات بھی ہیں جن کے ذریعے ادائیگیوں کے توازن کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کی گئی۔</p>
<p>اب تک آئی ایم ایف نے تقریباً مکمل طور پر ان پالیسیوں کے کمزور اور مستحق طبقات پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس مقصد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ کیا گیا ہے اور مستحقین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے سہ ماہی نقد رقوم کی ادائیگی بھی بڑھائی گئی ہے۔</p>
<p>تشویشناک امر یہ ہے کہ بی ائی ایس پی کے لیے مختص کی جانے والی مجموعی رقم کل جاری اخراجات کے صرف 4 سے 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ نقد امداد کی یہ ادائیگیاں تین ماہ کے عرصے میں چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے راشن کے اخراجات کے برابر ہوتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان 2019 سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی چار حکومتوں جن میں نگران حکومتیں بھی شامل ہیں میں وزارتِ خزانہ کی توجہ فنڈ کی پالیسیوں کو تقریباً خاموشی سے قبول کرنے تک محدود رہی، اطلاعات کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے کوئی اندرونی یا روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر پالیسیاں آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ نہ تو شیئر کی گئیں اور نہ ہی ان پر بحث کی گئی۔</p>
<p>امید کی جانی چاہیے کہ وزارتِ منصوبہ بندی کو فنڈ کے ساتھ اپنی مہارت اور تجربہ شیئر کرنے اور آئی ایم ایف کے عملے کو زیادہ مرحلہ وار اور عوام دوست طریقۂ کار اپنانے پر قائل کرنے کا موقع دیا جائے گا، کیونکہ وزارت کے مطابق اس کے تین بنیادی مقاصد ہیں:(1) قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کی قیادت کرنا: ایسے منصوبہ بندی کے طریقۂ کار وضع کرنا اور نافذ کرنا جو اقتصادی اور سماجی ترقی کے پروگراموں کی رہنمائی کریں، قومی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنائیں اور معیشت کے لیے واضح سمت متعین کریں۔(2) مؤثر شراکت داریوں کو فروغ دینا: سرکاری اداروں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا تاکہ کوششوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے، مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔(3) سرکاری اداروں کو مضبوط بنانا: سرکاری اداروں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی صلاحیت کو بہتر بنانا تاکہ وہ مؤثر حکمتِ عملیاں تشکیل دے سکیں، پروگراموں کا انتظام کر سکیں اور ترقیاتی ترجیحات کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنا سکیں۔</p>
<p>ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ وزارتِ منصوبہ بندی کے اندر موجود مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھائے، بجائے اس کے کہ اس کی ٹھوس اور تحقیق پر مبنی سفارشات کو نظر انداز کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291628</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 11:45:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24113509042759f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24113509042759f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں کاروبار کرنا کتنا مشکل؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291623/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب 91 فیصد جواب دہندگان یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے تو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے حوالے سے سرکاری سطح پر پیش کی جانے والی وضاحتوں کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ تازہ ترین نیشنل سٹیزن سروے، جو ملک بھر میں 5,000 سے زائد افراد کے جوابات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، نے کاروباری ماحول کے بارے میں نہایت واضح رائے پیش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً نصف جواب دہندگان نے پیچیدہ ٹیکس نظام کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ مالیات تک رسائی، بدعنوانی اور رشوت ستانی، توانائی کی بلند قیمتیں اور حکومتی ضوابط بھی دیگر رکاوٹوں میں شامل رہے۔ یہ بالکل وہی حالات ہیں جن کے بارے میں ملکی کاروباری ادارے برسوں سے شکایات کرتے رہے ہیں، اور بظاہر ان شکایات کی ٹھوس وجوہات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اثرات پہلے سے موجود کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ پاکستان براہ راست غیر ملکی  سرمایہ کاری حاصل کرنے، بیرون ملک وفود بھیجنے، سرمایہ کاری کے اقدامات کا اعلان کرنے اور ملک کو بین الاقوامی سرمایہ کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر پیش کرنے میں بہت وقت صرف کرتا ہے۔ تاہم پاکستان میں سرمایہ کاری پر غور کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کار لازماً یہ سوال کریں گے کہ یہاں پہلے سے کام کرنے والے کاروباری ادارے کس حال میں ہیں۔ اگر مقامی جواب دہندگان میں سے دس میں سے نو افراد کاروباری ماحول کو مشکل قرار دیتے ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو اسی ماحول میں اپنا سرمایہ لگانے پر آمادہ کرنا ایک خاصا بلند دعویٰ محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال پہلے ہی اپنی کہانی بیان کر رہی ہے۔ پاکستان اب بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اس سطح سے بہت کم حاصل کر رہا ہے جو ایک ایسی معیشت کے لیے درکار ہے جسے بیرونی مالی معاونت کی خاطر خواہ ضرورت ہے اور جسے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ یہ کمزوری اس لیے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہے کیونکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بیرونی مالی معاونت کا نسبتاً پائیدار ذریعہ ہے، جو ملک کے قرضوں میں اضافہ کیے بغیر کاروباری اداروں اور پیداواری اثاثوں میں سرمایہ لاتی ہے۔ اس لیے ایسا ماحول پیدا کرنا جو نمایاں طور پر زیادہ اور مسلسل سرمایہ کاری کے بہاؤ کو راغب کرنے کے قابل ہو، اقتصادی ترجیح بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے یہ وضاحت کرنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ اعداد و شمار اتنے کمزور کیوں ہیں۔ 46 فیصد جواب دہندگان نے پیچیدہ ٹیکس نظام کو کاروبار کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ مزید 19 فیصد نے قرضوں اور مالی وسائل تک ناکافی رسائی، 12 فیصد نے بدعنوانی اور رشوت ستانی، جبکہ 10 فیصد نے بجلی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی نشاندہی کی۔ مجموعی طور پر یہ عوامل ہر اس شخص کے لیے ایک مشکل رکاوٹوں کا سلسلہ تشکیل دیتے ہیں جو سرمایہ کاری، کاروبار میں توسیع، کارکنوں کی بھرتی یا مسابقت کی کوشش کر رہا ہو۔ کاروباری اداروں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس وقت ترقی کریں گے جب انہیں بیک وقت غیر متوقع ٹیکس نظام، مہنگی مالی معاونت، مہنگی توانائی، افسر شاہی کی مداخلت اور بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ 76 فیصد افراد کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے مزید قانون سازی چاہتے ہیں، تاہم پہلے سے پیچیدہ ضابطہ جاتی ماحول میں محض مزید قوانین کا اضافہ اس وقت تک بہت کم فائدہ دے گا جب تک موجودہ قانونی تحفظات پر عملدرآمد نہ ہو۔ کاروباری اداروں کو قابل پیش گوئی قواعد، قابل نفاذ معاہدوں، جائیداد کے تحفظ، مناسب ٹیکس نظام، قابل اعتماد توانائی، مالیات تک رسائی اور ایسی سرکاری ایجنسیوں کی ضرورت ہے جو جائز تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کریں، نہ کہ ان میں رکاوٹ ڈالیں۔ سب سے بڑھ کر، سرمایہ کاروں کو اس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے کہ قواعد و ضوابط اتنے مستحکم رہیں گے کہ وہ کئی سالوں پر محیط اپنے فیصلے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو ایک اقتصادی ہنگامی حالت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان کے پاس مسلسل ناکامی کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ ملک بدستور قرضوں، کمزور سرمایہ کاری اور بیرونی مالی معاونت کے مسلسل دباؤ میں ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی ہمیشہ کے لیے کھپت، ترسیلات زر اور بار بار بیرونی قرض دہندگان سے رجوع کرنے پر انحصار نہیں کرسکتی۔ بالآخر نجی سرمایہ کاری کو اقتصادی سرگرمی میں کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا، اور اس کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں کاروباری ادارے حقیقتاً منافع بخش انداز میں اور معقول یقین کے ساتھ کام کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت کو اس سروے کو محض ایک اور مایوس کن رائے شماری کے طور پر نہیں بلکہ اس سے زیادہ مفید چیز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی جانب سے صارفین کا جائزہ ہے جو پہلے ہی ملک میں کاروبار کر رہے ہیں۔ اور جب 91 فیصد افراد کاروبار کرنے میں مشکلات کی نشاندہی کر رہے ہوں تو پاکستان کی موجودہ سرمایہ کاری کی تشہیری پیشکش بظاہر ان صارفین سے مشورہ کیے بغیر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب 91 فیصد جواب دہندگان یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے تو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے حوالے سے سرکاری سطح پر پیش کی جانے والی وضاحتوں کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ تازہ ترین نیشنل سٹیزن سروے، جو ملک بھر میں 5,000 سے زائد افراد کے جوابات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، نے کاروباری ماحول کے بارے میں نہایت واضح رائے پیش کی ہے۔</strong></p>
<p>تقریباً نصف جواب دہندگان نے پیچیدہ ٹیکس نظام کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ مالیات تک رسائی، بدعنوانی اور رشوت ستانی، توانائی کی بلند قیمتیں اور حکومتی ضوابط بھی دیگر رکاوٹوں میں شامل رہے۔ یہ بالکل وہی حالات ہیں جن کے بارے میں ملکی کاروباری ادارے برسوں سے شکایات کرتے رہے ہیں، اور بظاہر ان شکایات کی ٹھوس وجوہات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>اس کے اثرات پہلے سے موجود کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ پاکستان براہ راست غیر ملکی  سرمایہ کاری حاصل کرنے، بیرون ملک وفود بھیجنے، سرمایہ کاری کے اقدامات کا اعلان کرنے اور ملک کو بین الاقوامی سرمایہ کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر پیش کرنے میں بہت وقت صرف کرتا ہے۔ تاہم پاکستان میں سرمایہ کاری پر غور کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کار لازماً یہ سوال کریں گے کہ یہاں پہلے سے کام کرنے والے کاروباری ادارے کس حال میں ہیں۔ اگر مقامی جواب دہندگان میں سے دس میں سے نو افراد کاروباری ماحول کو مشکل قرار دیتے ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو اسی ماحول میں اپنا سرمایہ لگانے پر آمادہ کرنا ایک خاصا بلند دعویٰ محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال پہلے ہی اپنی کہانی بیان کر رہی ہے۔ پاکستان اب بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اس سطح سے بہت کم حاصل کر رہا ہے جو ایک ایسی معیشت کے لیے درکار ہے جسے بیرونی مالی معاونت کی خاطر خواہ ضرورت ہے اور جسے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ یہ کمزوری اس لیے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہے کیونکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بیرونی مالی معاونت کا نسبتاً پائیدار ذریعہ ہے، جو ملک کے قرضوں میں اضافہ کیے بغیر کاروباری اداروں اور پیداواری اثاثوں میں سرمایہ لاتی ہے۔ اس لیے ایسا ماحول پیدا کرنا جو نمایاں طور پر زیادہ اور مسلسل سرمایہ کاری کے بہاؤ کو راغب کرنے کے قابل ہو، اقتصادی ترجیح بننا چاہیے۔</p>
<p>سروے یہ وضاحت کرنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ اعداد و شمار اتنے کمزور کیوں ہیں۔ 46 فیصد جواب دہندگان نے پیچیدہ ٹیکس نظام کو کاروبار کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ مزید 19 فیصد نے قرضوں اور مالی وسائل تک ناکافی رسائی، 12 فیصد نے بدعنوانی اور رشوت ستانی، جبکہ 10 فیصد نے بجلی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی نشاندہی کی۔ مجموعی طور پر یہ عوامل ہر اس شخص کے لیے ایک مشکل رکاوٹوں کا سلسلہ تشکیل دیتے ہیں جو سرمایہ کاری، کاروبار میں توسیع، کارکنوں کی بھرتی یا مسابقت کی کوشش کر رہا ہو۔ کاروباری اداروں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس وقت ترقی کریں گے جب انہیں بیک وقت غیر متوقع ٹیکس نظام، مہنگی مالی معاونت، مہنگی توانائی، افسر شاہی کی مداخلت اور بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑے۔</p>
<p>یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ 76 فیصد افراد کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے مزید قانون سازی چاہتے ہیں، تاہم پہلے سے پیچیدہ ضابطہ جاتی ماحول میں محض مزید قوانین کا اضافہ اس وقت تک بہت کم فائدہ دے گا جب تک موجودہ قانونی تحفظات پر عملدرآمد نہ ہو۔ کاروباری اداروں کو قابل پیش گوئی قواعد، قابل نفاذ معاہدوں، جائیداد کے تحفظ، مناسب ٹیکس نظام، قابل اعتماد توانائی، مالیات تک رسائی اور ایسی سرکاری ایجنسیوں کی ضرورت ہے جو جائز تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کریں، نہ کہ ان میں رکاوٹ ڈالیں۔ سب سے بڑھ کر، سرمایہ کاروں کو اس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے کہ قواعد و ضوابط اتنے مستحکم رہیں گے کہ وہ کئی سالوں پر محیط اپنے فیصلے کر سکیں۔</p>
<p>اس صورتحال کو ایک اقتصادی ہنگامی حالت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان کے پاس مسلسل ناکامی کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ ملک بدستور قرضوں، کمزور سرمایہ کاری اور بیرونی مالی معاونت کے مسلسل دباؤ میں ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی ہمیشہ کے لیے کھپت، ترسیلات زر اور بار بار بیرونی قرض دہندگان سے رجوع کرنے پر انحصار نہیں کرسکتی۔ بالآخر نجی سرمایہ کاری کو اقتصادی سرگرمی میں کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا، اور اس کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں کاروباری ادارے حقیقتاً منافع بخش انداز میں اور معقول یقین کے ساتھ کام کرسکیں۔</p>
<p>لہٰذا حکومت کو اس سروے کو محض ایک اور مایوس کن رائے شماری کے طور پر نہیں بلکہ اس سے زیادہ مفید چیز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی جانب سے صارفین کا جائزہ ہے جو پہلے ہی ملک میں کاروبار کر رہے ہیں۔ اور جب 91 فیصد افراد کاروبار کرنے میں مشکلات کی نشاندہی کر رہے ہوں تو پاکستان کی موجودہ سرمایہ کاری کی تشہیری پیشکش بظاہر ان صارفین سے مشورہ کیے بغیر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291623</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 09:54:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2409522327ac91d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2409522327ac91d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد اورنگزیب کی پریس بریفنگ، کوئی سوال نہیں پوچھا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس بریفنگ کی جس کے دوران انہوں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش کے باعث روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس نوعیت کی رکاوٹوں کو خود اپنے لیے پیدا کی گئی تکلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت استحکام حاصل کرچکی ہے اور اب ترقی کی جانب گامزن ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں دانشمندانہ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وفاقی وزیر نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومتوں، بشمول موجودہ حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے تدارکی اقدامات کے نتیجے میں معیشت کو ہونے والے نقصانات کا کوئی تخمینہ پیش نہیں کیا۔ ان اقدامات میں نجی شعبے کے کنٹینرز اور ٹرکوں کو سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حمل یا سڑکیں بند کرنے کے لیے اپنے قبضے میں لینا بھی شامل ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکومتیں اکثر سڑکیں بند کردیتی ہیں اور حساس علاقوں میں صرف ایک راستے سے داخلے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے جس سے ایندھن کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور سرکاری امور بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرکاری دفاتر کی جانب جانے والی سڑکیں اکثر سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ پیشگی اقدامات اصل ہڑتالوں سے چار سے سات روز قبل ہی شروع کردیئے جاتے ہیں، اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ وفاقی وزیر اپنے عملے کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے ہونے والے نقصانات کا بھی تخمینہ لگانے کی ہدایت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرو اکنامک اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کی تجویز کردہ پالیسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں معیشت میں استحکام حاصل ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 ستمبر تک زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال بہتر ہوکر 21 ارب 389 ملین ڈالر ہوگئی ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھاد سمیت دیگر درآمدی اشیا، بالخصوص خلیجی ممالک سے ہونے والی درآمدات، کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر یہ ذخائر زیادہ سے زیادہ ڈھائی سے تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جبکہ ڈونر اداروں کی جانب سے زرمبادلہ  ذخائر کے لیے کم از کم مطلوبہ سطح تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جو جولائی تا اگست 2025 کے دوران 5 ارب 964 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2026 کی اسی مدت میں 6 ارب 752 ملین ڈالر ہوگیا، یعنی اس میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے جاری تنازع کے باعث مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کے بجائے وہیں رہنے کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اپنی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر بتدریج زیادہ انحصار کررہی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں دو مرحلوں میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا اور امریکا سے 10 ارب ڈالر قرض لینے کی درخواست ہے جو تاحال زیرِ التوا ہے۔ مزید برآں معیشت کو متاثر کرنے والے بیرونی عوامل کے باعث حکومتی موجودہ اخراجات میں کوئی نمایاں کمی بھی دکھائی نہیں دیتی جبکہ رواں سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے مجموعی بجٹ کا بلند ترین 93 فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان اشاریوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں جو براہِ راست عام عوام کے معیارِ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر 10.64 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سبزی و غذائی اشیا، جن میں لہسن، انڈے اور مٹن شامل ہیں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ڈیزل، پیٹرول، ایل پی جی اور لکڑی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں جبکہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ملک کے بالائی علاقوں میں لکڑی کی کھپت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل جو گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے دی جانے والی 75 ارب روپے کی سبسڈی کے لیے اہل نہیں ہے، نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، جس سے وہ افراد سفر کرتے ہیں جن کے پاس اپنی سواری نہیں، بلکہ کھیتوں سے منڈیوں تک جلد خراب ہونے والی اشیا کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا تشویش ناک اشاریہ یہ ہے کہ آبادی کا 44.7 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جہاں یومیہ آمدنی 4.20 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کی حد یومیہ 3 ڈالر ہے۔ دوسری جانب، قومی خطِ غربت 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے، یعنی ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اس دائرے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کو درپیش وسیع پیمانے کی مشکلات موجودہ سال کا بجٹ تشکیل دیتے وقت وزیر خزانہ کے لیے انتہائی سنجیدہ تشویش کا باعث ہونی چاہئیں تھیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے امیر اور بااثر طبقے کے لیے مالی مراعات میں اضافہ کیا جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بالواسطہ ٹیکسوں سے آئی جن میں چینی، سیمنٹ اور کھاد پر فیکٹری گیٹ پر عائد سیلز ٹیکس شامل ہے۔ یہ تمام اخراجات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کردیئے گئے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درست ہے کہ وفاقی وزیر غالباً جون میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد اضافے اور ماہانہ بنیاد پر 9.51 فیصد اضافے کا حوالہ دے رہے تھے، تاہم بڑے صنعتی شعبے اس اعداد و شمار کو چیلنج کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں 150 یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ اس دعوے کو آئی ایم ایف کی ہدایات کے تحت حکومت کی جانب سے سخت مالیاتی اور زری پالیسیوں کے مسلسل نفاذ سے تقویت ملتی ہے جن کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اور مقامی مصنوعات بیرونی اور اندرونِ ملک دونوں منڈیوں میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحد پار اسمگلنگ زیادہ منافع بخش ہوتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اختراعی اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر پالیسیاں مرتب کرے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ان پالیسیوں کی افادیت پر قائل کرے اور خیرسگالی کے اقدام کے طور پر موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی کمی کرے۔ ایسا کرنے سے مطلوبہ مالی گنجائش پیدا ہوگی جس کے ذریعے فنڈ کو ان پالیسیوں پر عملدرآمد کی حمایت پر آمادہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس بریفنگ کی جس کے دوران انہوں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش کے باعث روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے اس نوعیت کی رکاوٹوں کو خود اپنے لیے پیدا کی گئی تکلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت استحکام حاصل کرچکی ہے اور اب ترقی کی جانب گامزن ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں دانشمندانہ نہیں ہیں۔</p>
<p>تاہم وفاقی وزیر نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومتوں، بشمول موجودہ حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے تدارکی اقدامات کے نتیجے میں معیشت کو ہونے والے نقصانات کا کوئی تخمینہ پیش نہیں کیا۔ ان اقدامات میں نجی شعبے کے کنٹینرز اور ٹرکوں کو سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حمل یا سڑکیں بند کرنے کے لیے اپنے قبضے میں لینا بھی شامل ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>مزید برآں حکومتیں اکثر سڑکیں بند کردیتی ہیں اور حساس علاقوں میں صرف ایک راستے سے داخلے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے جس سے ایندھن کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور سرکاری امور بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرکاری دفاتر کی جانب جانے والی سڑکیں اکثر سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>چونکہ یہ پیشگی اقدامات اصل ہڑتالوں سے چار سے سات روز قبل ہی شروع کردیئے جاتے ہیں، اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ وفاقی وزیر اپنے عملے کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے ہونے والے نقصانات کا بھی تخمینہ لگانے کی ہدایت کریں گے۔</p>
<p>میکرو اکنامک اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کی تجویز کردہ پالیسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں معیشت میں استحکام حاصل ہوا ہے۔</p>
<p>11 ستمبر تک زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال بہتر ہوکر 21 ارب 389 ملین ڈالر ہوگئی ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھاد سمیت دیگر درآمدی اشیا، بالخصوص خلیجی ممالک سے ہونے والی درآمدات، کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر یہ ذخائر زیادہ سے زیادہ ڈھائی سے تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جبکہ ڈونر اداروں کی جانب سے زرمبادلہ  ذخائر کے لیے کم از کم مطلوبہ سطح تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہے۔</p>
<p>نتیجتاً تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جو جولائی تا اگست 2025 کے دوران 5 ارب 964 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2026 کی اسی مدت میں 6 ارب 752 ملین ڈالر ہوگیا، یعنی اس میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے جاری تنازع کے باعث مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کے بجائے وہیں رہنے کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>حکومت اپنی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر بتدریج زیادہ انحصار کررہی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں دو مرحلوں میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا اور امریکا سے 10 ارب ڈالر قرض لینے کی درخواست ہے جو تاحال زیرِ التوا ہے۔ مزید برآں معیشت کو متاثر کرنے والے بیرونی عوامل کے باعث حکومتی موجودہ اخراجات میں کوئی نمایاں کمی بھی دکھائی نہیں دیتی جبکہ رواں سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے مجموعی بجٹ کا بلند ترین 93 فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان اشاریوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں جو براہِ راست عام عوام کے معیارِ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر 10.64 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سبزی و غذائی اشیا، جن میں لہسن، انڈے اور مٹن شامل ہیں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ڈیزل، پیٹرول، ایل پی جی اور لکڑی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں جبکہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ملک کے بالائی علاقوں میں لکڑی کی کھپت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>ڈیزل جو گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے دی جانے والی 75 ارب روپے کی سبسڈی کے لیے اہل نہیں ہے، نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، جس سے وہ افراد سفر کرتے ہیں جن کے پاس اپنی سواری نہیں، بلکہ کھیتوں سے منڈیوں تک جلد خراب ہونے والی اشیا کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>دوسرا تشویش ناک اشاریہ یہ ہے کہ آبادی کا 44.7 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جہاں یومیہ آمدنی 4.20 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کی حد یومیہ 3 ڈالر ہے۔ دوسری جانب، قومی خطِ غربت 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے، یعنی ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اس دائرے میں آتی ہے۔</p>
<p>عوام کو درپیش وسیع پیمانے کی مشکلات موجودہ سال کا بجٹ تشکیل دیتے وقت وزیر خزانہ کے لیے انتہائی سنجیدہ تشویش کا باعث ہونی چاہئیں تھیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے امیر اور بااثر طبقے کے لیے مالی مراعات میں اضافہ کیا جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بالواسطہ ٹیکسوں سے آئی جن میں چینی، سیمنٹ اور کھاد پر فیکٹری گیٹ پر عائد سیلز ٹیکس شامل ہے۔ یہ تمام اخراجات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کردیئے گئے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>یہ درست ہے کہ وفاقی وزیر غالباً جون میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد اضافے اور ماہانہ بنیاد پر 9.51 فیصد اضافے کا حوالہ دے رہے تھے، تاہم بڑے صنعتی شعبے اس اعداد و شمار کو چیلنج کررہے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں 150 یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ اس دعوے کو آئی ایم ایف کی ہدایات کے تحت حکومت کی جانب سے سخت مالیاتی اور زری پالیسیوں کے مسلسل نفاذ سے تقویت ملتی ہے جن کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اور مقامی مصنوعات بیرونی اور اندرونِ ملک دونوں منڈیوں میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحد پار اسمگلنگ زیادہ منافع بخش ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اختراعی اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر پالیسیاں مرتب کرے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ان پالیسیوں کی افادیت پر قائل کرے اور خیرسگالی کے اقدام کے طور پر موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی کمی کرے۔ ایسا کرنے سے مطلوبہ مالی گنجائش پیدا ہوگی جس کے ذریعے فنڈ کو ان پالیسیوں پر عملدرآمد کی حمایت پر آمادہ کیا جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291590</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 14:13:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/23123900c857bda.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/23123900c857bda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر قانونی ہجرت، یورپ کا ٹکٹ دستیاب نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سے یورپ غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی ایک ایسی کامیابی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے، بالخصوص اس مسئلے کی وسعت اور حکام کو دستیاب محدود وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ یہ کمی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ہوئی ہے، جبکہ انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسے ملک کے لیے، جس نے بارہا غیر قانونی ہجرت سے وابستہ انسانی المیے، مجرمانہ استحصال اور بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کیا ہے، قابلِ پیمائش پیش رفت خوش آئند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ ہمیشہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ وسیع رہا ہے جو غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ اور انسانوں کی غیر قانونی منتقلی کے نیٹ ورک مایوسی کا شکار لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں، خاندانوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اور لوگوں کو خطرناک زمینی اور سمندری راستوں سے روانہ کرتے ہیں، اس بات کی انہیں معمولی پروا ہوتی ہے کہ وہ زندہ اپنی منزل تک پہنچیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بارہا اس کے نتائج دیکھے ہیں، جب تارکین وطن کو لے جانے والی کشتیاں الٹ گئیں اور خاندانوں کو، اکثر کئی ہفتوں بعد، معلوم ہوا کہ یورپ جانے والے راستے پر ان کے رشتہ دار لاپتا ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہر وہ غیر قانونی سفر جسے روکا جائے، ممکنہ طور پر ایک اور فرد کو مجرمانہ نیٹ ورک کا شکار بننے سے محفوظ رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ایک اہم ساکھ کی قیمت بھی وابستہ ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد ناگزیر طور پر منزل کے ممالک میں پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچاتی ہے اور ان پاکستانیوں کے لیے معاملات پیچیدہ بناتی ہے جو قانونی طور پر بیرون ملک سفر، تعلیم یا ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ امیگریشن حکام غیر قانونی سرگرمیوں کے ردعمل میں جانچ پڑتال سخت کرتے ہیں، اضافی تقاضے عائد کرتے ہیں اور عمومی طور پر درخواست گزاروں کو زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور غیر قانونی تارکین وطن کی کارروائیاں ان لاکھوں شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں جو قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ مسلسل کمی سے پاکستان یہ ظاہر کرنے میں مدد حاصل کرسکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی ہجرت کے نظام کے غلط استعمال کو روکنے کی ذمہ داری سنجیدگی سے لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت کا انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور فرنٹیکس کے ساتھ تعاون مضبوط کرنا اور امیگریشن و سرحدی انتظام کی ذمہ دار ایجنسیوں کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا درست اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ہوائی اڈوں پر تمام 500 امیگریشن کاؤنٹرز پر جدید کیمرے نصب کرنے کے منصوبے سے شناخت اور قانون کے نفاذ میں بہتری آسکتی ہے، بشرطیکہ اس اقدام کو مناسب تربیت یافتہ عملے، مربوط ڈیٹا بیسز اور مؤثر انٹیلی جنس کی معاونت حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹیکنالوجی اتنی ہی مؤثر ہوگی جتنے مؤثر وہ ادارے ہوں گے جو اسے استعمال کریں گے۔ انسانی اسمگلر تیزی سے اپنے طریقے بدلتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان سے زیادہ تیزی سے خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مرحلے میں ان نیٹ ورکس پر بھرپور توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جو غیر قانونی ہجرت کو ممکن بناتے ہیں۔ بھرتی کرنے والوں، سہولت کاروں، جعلی دستاویزات بنانے والوں، نقل و حمل فراہم کرنے والوں اور اس کاروبار سے منافع کمانے والے منتظمین کے خلاف تحقیقات، مقدمات اور مؤثر سزاؤں کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ کاروباری ماڈل کو ختم کرنا بار بار ان افراد کو پکڑنے سے زیادہ مؤثر ہے جو اس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے کسی بھی اہلکار کے خلاف بھی اسی قدر سخت کارروائی ہونی چاہیے جو ان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتے ہوئے پایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کا اضافی قانونی ہجرت کے مواقع پیدا کرنے پر زور دینا بھی درست ہے۔ قانون کا نفاذ غیر قانونی راستوں کو محدود کرسکتا ہے، لیکن ہجرت کے لیے معاشی محرکات بدستور طاقتور ہیں۔ مناسب طریقے سے طے پانے والے افرادی قوت کے معاہدے، قابلِ اعتماد مہارتوں کی تصدیق اور شفاف قانونی راستے اس طلب کے ایک حصے کو بیرون ملک جائز روزگار کی جانب منتقل کرسکتے ہیں، جبکہ کارکنوں کو استحصال سے تحفظ بھی فراہم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی آگاہی بھی اتنی ہی اہم ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک بڑے پیمانے پر لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اور خطرناک سفر کو خوشحالی تک پہنچنے کے قابلِ اعتماد راستوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا 64 فیصد کمی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ پُرعزم قانون کا نفاذ اور بین الاقوامی تعاون نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے، مسلسل بنیادوں پر پیش رفت کی تصدیق کی جائے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو محض اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عرصے بعد، کم پاکستانیوں کا یورپ پہنچنے کا راستہ تلاش کرنا واقعی اچھی خبر ہے۔ جو لوگ وہاں جائیں، وہ مناسب ویزا، محفوظ سفر اور ایسا ملک کا نام لے کر جائیں  جس کے ساتھ امیگریشن سے متعلق کوئی انتباہ منسلک نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سے یورپ غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی ایک ایسی کامیابی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے، بالخصوص اس مسئلے کی وسعت اور حکام کو دستیاب محدود وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ یہ کمی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ہوئی ہے، جبکہ انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔</strong></p>
<p>ایک ایسے ملک کے لیے، جس نے بارہا غیر قانونی ہجرت سے وابستہ انسانی المیے، مجرمانہ استحصال اور بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کیا ہے، قابلِ پیمائش پیش رفت خوش آئند ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ ہمیشہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ وسیع رہا ہے جو غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ اور انسانوں کی غیر قانونی منتقلی کے نیٹ ورک مایوسی کا شکار لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں، خاندانوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اور لوگوں کو خطرناک زمینی اور سمندری راستوں سے روانہ کرتے ہیں، اس بات کی انہیں معمولی پروا ہوتی ہے کہ وہ زندہ اپنی منزل تک پہنچیں گے یا نہیں۔</p>
<p>پاکستان نے بارہا اس کے نتائج دیکھے ہیں، جب تارکین وطن کو لے جانے والی کشتیاں الٹ گئیں اور خاندانوں کو، اکثر کئی ہفتوں بعد، معلوم ہوا کہ یورپ جانے والے راستے پر ان کے رشتہ دار لاپتا ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہر وہ غیر قانونی سفر جسے روکا جائے، ممکنہ طور پر ایک اور فرد کو مجرمانہ نیٹ ورک کا شکار بننے سے محفوظ رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ایک اہم ساکھ کی قیمت بھی وابستہ ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد ناگزیر طور پر منزل کے ممالک میں پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچاتی ہے اور ان پاکستانیوں کے لیے معاملات پیچیدہ بناتی ہے جو قانونی طور پر بیرون ملک سفر، تعلیم یا ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ امیگریشن حکام غیر قانونی سرگرمیوں کے ردعمل میں جانچ پڑتال سخت کرتے ہیں، اضافی تقاضے عائد کرتے ہیں اور عمومی طور پر درخواست گزاروں کو زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔</p>
<p>چنانچہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور غیر قانونی تارکین وطن کی کارروائیاں ان لاکھوں شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں جو قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ مسلسل کمی سے پاکستان یہ ظاہر کرنے میں مدد حاصل کرسکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی ہجرت کے نظام کے غلط استعمال کو روکنے کی ذمہ داری سنجیدگی سے لیتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا حکومت کا انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور فرنٹیکس کے ساتھ تعاون مضبوط کرنا اور امیگریشن و سرحدی انتظام کی ذمہ دار ایجنسیوں کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا درست اقدام ہے۔</p>
<p>پاکستانی ہوائی اڈوں پر تمام 500 امیگریشن کاؤنٹرز پر جدید کیمرے نصب کرنے کے منصوبے سے شناخت اور قانون کے نفاذ میں بہتری آسکتی ہے، بشرطیکہ اس اقدام کو مناسب تربیت یافتہ عملے، مربوط ڈیٹا بیسز اور مؤثر انٹیلی جنس کی معاونت حاصل ہو۔</p>
<p>تاہم ٹیکنالوجی اتنی ہی مؤثر ہوگی جتنے مؤثر وہ ادارے ہوں گے جو اسے استعمال کریں گے۔ انسانی اسمگلر تیزی سے اپنے طریقے بدلتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان سے زیادہ تیزی سے خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنا ہوگی۔</p>
<p>اگلے مرحلے میں ان نیٹ ورکس پر بھرپور توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جو غیر قانونی ہجرت کو ممکن بناتے ہیں۔ بھرتی کرنے والوں، سہولت کاروں، جعلی دستاویزات بنانے والوں، نقل و حمل فراہم کرنے والوں اور اس کاروبار سے منافع کمانے والے منتظمین کے خلاف تحقیقات، مقدمات اور مؤثر سزاؤں کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ کاروباری ماڈل کو ختم کرنا بار بار ان افراد کو پکڑنے سے زیادہ مؤثر ہے جو اس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔</p>
<p>ایسے کسی بھی اہلکار کے خلاف بھی اسی قدر سخت کارروائی ہونی چاہیے جو ان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتے ہوئے پایا جائے۔</p>
<p>محسن نقوی کا اضافی قانونی ہجرت کے مواقع پیدا کرنے پر زور دینا بھی درست ہے۔ قانون کا نفاذ غیر قانونی راستوں کو محدود کرسکتا ہے، لیکن ہجرت کے لیے معاشی محرکات بدستور طاقتور ہیں۔ مناسب طریقے سے طے پانے والے افرادی قوت کے معاہدے، قابلِ اعتماد مہارتوں کی تصدیق اور شفاف قانونی راستے اس طلب کے ایک حصے کو بیرون ملک جائز روزگار کی جانب منتقل کرسکتے ہیں، جبکہ کارکنوں کو استحصال سے تحفظ بھی فراہم کرسکتے ہیں۔</p>
<p>عوامی آگاہی بھی اتنی ہی اہم ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک بڑے پیمانے پر لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اور خطرناک سفر کو خوشحالی تک پہنچنے کے قابلِ اعتماد راستوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا 64 فیصد کمی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ پُرعزم قانون کا نفاذ اور بین الاقوامی تعاون نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے، مسلسل بنیادوں پر پیش رفت کی تصدیق کی جائے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو محض اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔</p>
<p>ایک عرصے بعد، کم پاکستانیوں کا یورپ پہنچنے کا راستہ تلاش کرنا واقعی اچھی خبر ہے۔ جو لوگ وہاں جائیں، وہ مناسب ویزا، محفوظ سفر اور ایسا ملک کا نام لے کر جائیں  جس کے ساتھ امیگریشن سے متعلق کوئی انتباہ منسلک نہ ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291581</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 09:47:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/230943428e97479.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/230943428e97479.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مؤثر طرزِ حکمرانی: پائیدار ترقی کی کلید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291531/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب میں کابینہ کے دو اہم ارکان کے متضاد مؤقف نے ایک ایسی بحث کو نمایاں کردیا جس میں پاکستان غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا: آیا ترقی کو ترجیح دی جائے یا استحکام اور ساختی اصلاحات کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری کے مشیر محمد علی نے کہا کہ جب تک ہم ترقی نہیں کریں گے، ہم گورننس کو بہتر نہیں بنا سکتے جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنانے اور ساختی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں مؤقف لازماً ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس نوعیت کی ترقی کی راہ اپنانا چاہیے اور آیا اسے برقرار رکھنے کے لیے ضروری بنیادیں موجود ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شرحِ نمو کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں: جو معیشت اپنی آبادی کی شرحِ نمو سے معمولی زیادہ رفتار سے ہی وسعت اختیار کرے، وہ روزگار کے لیے خاطر خواہ مواقع پیدا نہیں کرسکتی اور نہ ہی عوام کے معیارِ زندگی میں بامعنی بہتری لاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ مؤقف اختیار کرنا کہ ترقی کے بغیر گورننس بہتر نہیں ہوسکتی، گورننس کو محض معاشی کارکردگی تک محدود کرنے کے مترادف ہے حالانکہ گورننس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ اس میں میرٹ کی پاسداری، بدعنوانی میں کمی، جڑے ہوئے مراعاتی اور استحقاقی نظام کا خاتمہ، مؤثر احتساب، مضبوط ادارے اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کا خاتمہ شامل ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ معاشی ترقی پیداواری، منصفانہ اور پائیدار ہوگی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ میکرو اکنامک استحکام اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بہتر گورننس کے لیے بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کرنے کے لیے ضروری گنجائش اور نظم و ضبط فراہم کرتا ہے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی بحران سے نمٹنا، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا، اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ، رینٹ سیکنگ اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کی حوصلہ افزائی کرنے والی مراعات کا خاتمہ محض معاشی اقدامات نہیں بلکہ اچھی گورننس کے بنیادی عناصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے سمٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے بیان کردہ پانچ ترجیحات اہم ہیں: معاشی استحکام کو مستقل بنانا؛ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے ذریعے پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کا حصول؛ ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنا؛ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی اور پاکستان کو نئی معیشت  میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کے قابل بنانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بحال ہونے والے معاشی استحکام کو بے لگام ترقی کی راہ اختیار کرنے کی اجازت سمجھنے کی غلطی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ جب مشکل نوعیت کی معاشی ایڈجسٹمنٹ کے بعد میکرو اکنامک توازن کسی حد تک بحال ہوجاتا ہے تو حکومتیں حد سے زیادہ پُراعتماد ہوجاتی ہیں، مالیاتی اور زری پالیسی میں سختی کم کردیتی ہیں اور کھپت، سرکاری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے ذریعے تیز تر ترقی کے حصول کی کوشش کرتی ہیں۔ ابتدائی فوائد کے بعد جلد ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے، قرضوں میں اضافے اور مالی اعانت کے دباؤ، زرمبادلہ  ذخائر میں کمی اور بالآخر ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی صورت میں مسائل سامنے آجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکمرانوں کو یہ دانش مندی دکھانا ہوگی کہ وہ ماضی کے اس طرزِ عمل کو دوبارہ نہ دہرائیں۔ پاکستان نے قبل از وقت اور کھپت پر مبنی معاشی توسیع کے مسلسل ادوار کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اس لیے محض تازہ بحران کے گزر جانے کی وجہ سے ایک اور ایسے دور کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی ترقی جو اگلے بحرانِ توازنِ ادائیگی کے حالات دوبارہ پیدا کردے، درحقیقت کوئی حل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان غیر معینہ مدت تک معاشی استحکام کے مرحلے میں رہ سکتا ہے۔ بالآخر ترقی کی راہ اپنانا ہوگی لیکن ترقی کی نوعیت درست ہونی چاہیے۔ درحقیقت دونوں عہدیدار اس مؤقف کے ایک اہم پہلو پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے پرانے کھپت پر مبنی معاشی ماڈل کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے لیے معیشت کی جڑوں میں موجود بعض گہری کمزوریوں کا سامنا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثلاً پاکستانی صنعت اب بھی بڑی حد تک درآمدی متبادل  پر مبنی ہے جبکہ برآمدات اکثر اس چیز کی عکاسی کرتی ہیں جو ملکی معیشت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نہ کہ اس کی جو عالمی منڈیوں میں طلب ہے۔ حقیقی معنوں میں برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری ادارے عالمی منڈیوں کے لیے مسابقتی بنیادوں پر مصنوعات تیار کریں، نہ کہ محض ملکی فاضل پیداوار کو بیرونِ ملک برآمد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ترقی منزل ہونی چاہیے لیکن ساختی اصلاحات اس منزل تک پہنچنے کا راستہ متعین کریں۔ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور بہتر گورننس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اور معاشی بنیادیں استوار کرنے میں استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے پاس اب اس پرانے چکر کو توڑنے کا موقع ہے۔ اس موقع کو ایک بار پھر کھپت پر مبنی معاشی ترقی کے حصول میں ضائع کرنا ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، خاص طور پر اس سے پہلے کہ اسے پائیدار بنانے کے لیے ضروری اصلاحات، ادارے اور گورننس کا نظام قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بار بار آنے والے معاشی عروج و زوال کے ادوار سے سبق اب بالکل واضح ہوجانا چاہیے: مضبوط گورننس اور ساختی بنیادوں کے بغیر معاشی ترقی صرف اگلے بحران کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب میں کابینہ کے دو اہم ارکان کے متضاد مؤقف نے ایک ایسی بحث کو نمایاں کردیا جس میں پاکستان غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا: آیا ترقی کو ترجیح دی جائے یا استحکام اور ساختی اصلاحات کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔</strong></p>
<p>لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری کے مشیر محمد علی نے کہا کہ جب تک ہم ترقی نہیں کریں گے، ہم گورننس کو بہتر نہیں بنا سکتے جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنانے اور ساختی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>یہ دونوں مؤقف لازماً ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس نوعیت کی ترقی کی راہ اپنانا چاہیے اور آیا اسے برقرار رکھنے کے لیے ضروری بنیادیں موجود ہیں یا نہیں۔</p>
<p>زیادہ شرحِ نمو کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں: جو معیشت اپنی آبادی کی شرحِ نمو سے معمولی زیادہ رفتار سے ہی وسعت اختیار کرے، وہ روزگار کے لیے خاطر خواہ مواقع پیدا نہیں کرسکتی اور نہ ہی عوام کے معیارِ زندگی میں بامعنی بہتری لاسکتی ہے۔</p>
<p>لیکن یہ مؤقف اختیار کرنا کہ ترقی کے بغیر گورننس بہتر نہیں ہوسکتی، گورننس کو محض معاشی کارکردگی تک محدود کرنے کے مترادف ہے حالانکہ گورننس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ اس میں میرٹ کی پاسداری، بدعنوانی میں کمی، جڑے ہوئے مراعاتی اور استحقاقی نظام کا خاتمہ، مؤثر احتساب، مضبوط ادارے اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کا خاتمہ شامل ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ معاشی ترقی پیداواری، منصفانہ اور پائیدار ہوگی یا نہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ میکرو اکنامک استحکام اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بہتر گورننس کے لیے بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کرنے کے لیے ضروری گنجائش اور نظم و ضبط فراہم کرتا ہے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی بحران سے نمٹنا، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا، اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ، رینٹ سیکنگ اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کی حوصلہ افزائی کرنے والی مراعات کا خاتمہ محض معاشی اقدامات نہیں بلکہ اچھی گورننس کے بنیادی عناصر ہیں۔</p>
<p>اس لیے سمٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے بیان کردہ پانچ ترجیحات اہم ہیں: معاشی استحکام کو مستقل بنانا؛ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے ذریعے پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کا حصول؛ ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنا؛ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی اور پاکستان کو نئی معیشت  میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کے قابل بنانا۔</p>
<p>خطرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بحال ہونے والے معاشی استحکام کو بے لگام ترقی کی راہ اختیار کرنے کی اجازت سمجھنے کی غلطی کرے۔</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ جب مشکل نوعیت کی معاشی ایڈجسٹمنٹ کے بعد میکرو اکنامک توازن کسی حد تک بحال ہوجاتا ہے تو حکومتیں حد سے زیادہ پُراعتماد ہوجاتی ہیں، مالیاتی اور زری پالیسی میں سختی کم کردیتی ہیں اور کھپت، سرکاری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے ذریعے تیز تر ترقی کے حصول کی کوشش کرتی ہیں۔ ابتدائی فوائد کے بعد جلد ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے، قرضوں میں اضافے اور مالی اعانت کے دباؤ، زرمبادلہ  ذخائر میں کمی اور بالآخر ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی صورت میں مسائل سامنے آجاتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا حکمرانوں کو یہ دانش مندی دکھانا ہوگی کہ وہ ماضی کے اس طرزِ عمل کو دوبارہ نہ دہرائیں۔ پاکستان نے قبل از وقت اور کھپت پر مبنی معاشی توسیع کے مسلسل ادوار کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اس لیے محض تازہ بحران کے گزر جانے کی وجہ سے ایک اور ایسے دور کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی ترقی جو اگلے بحرانِ توازنِ ادائیگی کے حالات دوبارہ پیدا کردے، درحقیقت کوئی حل نہیں ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان غیر معینہ مدت تک معاشی استحکام کے مرحلے میں رہ سکتا ہے۔ بالآخر ترقی کی راہ اپنانا ہوگی لیکن ترقی کی نوعیت درست ہونی چاہیے۔ درحقیقت دونوں عہدیدار اس مؤقف کے ایک اہم پہلو پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے پرانے کھپت پر مبنی معاشی ماڈل کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے لیے معیشت کی جڑوں میں موجود بعض گہری کمزوریوں کا سامنا کرنا ہوگا۔</p>
<p>مثلاً پاکستانی صنعت اب بھی بڑی حد تک درآمدی متبادل  پر مبنی ہے جبکہ برآمدات اکثر اس چیز کی عکاسی کرتی ہیں جو ملکی معیشت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نہ کہ اس کی جو عالمی منڈیوں میں طلب ہے۔ حقیقی معنوں میں برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری ادارے عالمی منڈیوں کے لیے مسابقتی بنیادوں پر مصنوعات تیار کریں، نہ کہ محض ملکی فاضل پیداوار کو بیرونِ ملک برآمد کریں۔</p>
<p>لہٰذا ترقی منزل ہونی چاہیے لیکن ساختی اصلاحات اس منزل تک پہنچنے کا راستہ متعین کریں۔ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور بہتر گورننس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اور معاشی بنیادیں استوار کرنے میں استعمال کیا جائے۔</p>
<p>حکومت کے پاس اب اس پرانے چکر کو توڑنے کا موقع ہے۔ اس موقع کو ایک بار پھر کھپت پر مبنی معاشی ترقی کے حصول میں ضائع کرنا ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، خاص طور پر اس سے پہلے کہ اسے پائیدار بنانے کے لیے ضروری اصلاحات، ادارے اور گورننس کا نظام قائم کیا جائے۔</p>
<p>پاکستان میں بار بار آنے والے معاشی عروج و زوال کے ادوار سے سبق اب بالکل واضح ہوجانا چاہیے: مضبوط گورننس اور ساختی بنیادوں کے بغیر معاشی ترقی صرف اگلے بحران کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291531</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 11:35:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2211214997a12ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2211214997a12ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں 3 ہزار پٹواریوں کے تبادلے خوش آئند اقدام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291527/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک ہی دن میں پنجاب بھر میں 3,000 سے زائد پٹواریوں کے تبادلے اس نوعیت کی انتظامی مداخلت ہے جسے سراہا جانا چاہیے، خصوصاً حکومت کے اس شعبے میں جہاں واقفیت بعض اوقات کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹواری نسبتاً جونیئر عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تاہم اراضی ریکارڈ، انتقالات، ملکیت کی دستاویزات اور دیگر محصولات سے متعلق معاملات پر ان کا اختیار انہیں شہریوں اور جائیداد کے حوالے سے خاصا اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پنجاب حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی یہ تبدیلیاں نظام کی ایک واضح کمزوری کو نشانہ بناتی ہیں: ایسے افسران کا ایک ہی مقام پر اتنا طویل عرصہ تعینات رہنا کہ وہ اثر و رسوخ کے ایسے نیٹ ورک قائم کرلیں جنہیں بعد ازاں ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررہ وقفے سے تبادلے کے پیچھے ایک مضبوط انتظامی اصول موجود ہے۔ کسی ایک مقام پر اوسط تعیناتی کی مدت عام طور پر تقریباً تین سال تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ اس میں استثنیٰ حقیقی انتظامی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ تعلقات یا سہولت کی بنیاد پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر تعیناتی سے زمینداروں، پراپرٹی ڈیلروں، مقامی سیاست دانوں اور دیگر مفاد رکھنے والے افراد کے ساتھ تعلقات مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ایک ایسے محکمہ مال کے نظام میں جس میں قیمتی زمین اور سرکاری صوابدید کے وسیع اختیارات شامل ہوں، یہ تعلقات سرپرستی، جوڑ توڑ اور بدعنوانی کو جنم دے سکتے ہیں۔ باقاعدہ تبادلے ایسے رویے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتے، تاہم وہ مضبوط مقامی نیٹ ورکس کے قیام اور انہیں برقرار رکھنا زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ کارروائی کا حجم یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ مسئلہ صرف چند مشکل افسران تک محدود نہیں ہے۔ اس کی وسیع تر انسداد بدعنوانی مہم میں پولیس، محکمہ خوراک، بورڈ آف ریونیو، محکمہ ایکسائز اور دیگر سرکاری محکموں کے سیکڑوں اہلکار شامل رہے ہیں، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مزید 176 افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی مداخلتیں قابلِ تحسین ہیں اگر یہ حکمرانی کو بہتر بنانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہوں، نہ کہ کبھی کبھار کی جانے والی ایسی انتظامی صفائی جس سے متاثر کن اعداد و شمار تو سامنے آئیں لیکن دیرپا تبدیلی پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق انتہائی اہم ہے کیونکہ کسی افسر کا تبادلہ محض اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ اگر کسی پٹواری کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن منتقل کردیا جائے تو وہ بدعنوان پٹواری ہی رہتا ہے، جب تک کہ بدعنوانی کی تحقیقات کرکے اسے قانون کے مطابق سزا نہ دی جائے۔ جہاں بدعنوانی کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں، وہاں قانون کے مطابق محکمانہ اور فوجداری کارروائی ہونی چاہیے۔ جہاں مسئلہ طویل تعیناتی یا مقامی سطح پر غیر صحت مند اثر و رسوخ سے متعلق ہو، وہاں تبادلہ کافی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں معاملات کو ایک دوسرے میں ضم کرنا اس مشق کو کمزور کردے گا، کیونکہ اس سے سنگین بدعنوانی تبادلوں کے احکامات کے پیچھے چھپ سکتی ہے، جبکہ بے قصور افسران کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہوسکتا ہے جیسے محض تبادلہ ہی ان کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب 3,000 تبادلوں کے احکامات کا شور ختم ہونے کے بعد حکومت کے اقدامات سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو ایسے قابلِ پیمائش معیارات مقرر کرنے چاہئیں جن میں انتقالات اور زمین سے متعلق دیگر خدمات کی تکمیل میں لگنے والا وقت، ریکارڈ کی درستگی اور اس تک رسائی، عوامی شکایات کی تعداد اور نوعیت، محکمانہ کارروائی اور غیر قانونی ادائیگیوں کے مطالبات کی رپورٹس شامل ہوں۔ اس پیمائش کے بغیر یہ جاننے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہوگا کہ آیا بدعنوانی واقعی کم ہوئی ہے یا محض اس نے اپنا نیا ڈاک کا پتہ حاصل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کو بھی ان مواقع کو کم کرنا چاہیے جو روایتی پٹواری نظام کو بدعنوانی کے لیے اتنا حساس بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل اراضی ریکارڈ، قابلِ سراغ درخواستیں، واضح طور پر متعین کردہ کارروائی کی مدت اور سرکاری فیصلوں کا الیکٹرانک ریکارڈ غیر ضروری ذاتی صوابدید کو کم کرسکتے ہیں اور جب کچھ غلط ہو تو ایک آڈٹ ٹریل فراہم کرسکتے ہیں۔ تبادلے اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ہوں جو اگلے افسر کو بالکل وہی نیٹ ورک دوبارہ قائم کرنے سے روکیں جو اس کے پیش رو نے پیچھے چھوڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پنجاب کا یہ اقدام ایک مناسب آغاز ہے اور دیگر ایسے عوامی خدمات سے متعلق محکموں کے لیے ایک مفید نمونہ ثابت ہوسکتا ہے جہاں افسران اتنے طویل عرصے تک تعینات رہتے ہیں کہ وہ مقامی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم انتظامی سطح پر اچانک اور سخت کارروائی کا اثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، جب تک اس کے بعد عمل درآمد، نگرانی اور ساختی اصلاحات نہ کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ہزار تبادلے ایک متاثر کن سرخی ضرور بناتے ہیں۔ لیکن اس اخبار کی نظر میں تین ہزار زیادہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک دفاتر اس سے کہیں بہتر نتیجہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک ہی دن میں پنجاب بھر میں 3,000 سے زائد پٹواریوں کے تبادلے اس نوعیت کی انتظامی مداخلت ہے جسے سراہا جانا چاہیے، خصوصاً حکومت کے اس شعبے میں جہاں واقفیت بعض اوقات کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>پٹواری نسبتاً جونیئر عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تاہم اراضی ریکارڈ، انتقالات، ملکیت کی دستاویزات اور دیگر محصولات سے متعلق معاملات پر ان کا اختیار انہیں شہریوں اور جائیداد کے حوالے سے خاصا اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا پنجاب حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی یہ تبدیلیاں نظام کی ایک واضح کمزوری کو نشانہ بناتی ہیں: ایسے افسران کا ایک ہی مقام پر اتنا طویل عرصہ تعینات رہنا کہ وہ اثر و رسوخ کے ایسے نیٹ ورک قائم کرلیں جنہیں بعد ازاں ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جائے۔</p>
<p>مقررہ وقفے سے تبادلے کے پیچھے ایک مضبوط انتظامی اصول موجود ہے۔ کسی ایک مقام پر اوسط تعیناتی کی مدت عام طور پر تقریباً تین سال تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ اس میں استثنیٰ حقیقی انتظامی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ تعلقات یا سہولت کی بنیاد پر۔</p>
<p>طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر تعیناتی سے زمینداروں، پراپرٹی ڈیلروں، مقامی سیاست دانوں اور دیگر مفاد رکھنے والے افراد کے ساتھ تعلقات مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ایک ایسے محکمہ مال کے نظام میں جس میں قیمتی زمین اور سرکاری صوابدید کے وسیع اختیارات شامل ہوں، یہ تعلقات سرپرستی، جوڑ توڑ اور بدعنوانی کو جنم دے سکتے ہیں۔ باقاعدہ تبادلے ایسے رویے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتے، تاہم وہ مضبوط مقامی نیٹ ورکس کے قیام اور انہیں برقرار رکھنا زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>اس تازہ کارروائی کا حجم یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ مسئلہ صرف چند مشکل افسران تک محدود نہیں ہے۔ اس کی وسیع تر انسداد بدعنوانی مہم میں پولیس، محکمہ خوراک، بورڈ آف ریونیو، محکمہ ایکسائز اور دیگر سرکاری محکموں کے سیکڑوں اہلکار شامل رہے ہیں، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مزید 176 افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔</p>
<p>ایسی مداخلتیں قابلِ تحسین ہیں اگر یہ حکمرانی کو بہتر بنانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہوں، نہ کہ کبھی کبھار کی جانے والی ایسی انتظامی صفائی جس سے متاثر کن اعداد و شمار تو سامنے آئیں لیکن دیرپا تبدیلی پیدا نہ ہو۔</p>
<p>یہ فرق انتہائی اہم ہے کیونکہ کسی افسر کا تبادلہ محض اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ اگر کسی پٹواری کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن منتقل کردیا جائے تو وہ بدعنوان پٹواری ہی رہتا ہے، جب تک کہ بدعنوانی کی تحقیقات کرکے اسے قانون کے مطابق سزا نہ دی جائے۔ جہاں بدعنوانی کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں، وہاں قانون کے مطابق محکمانہ اور فوجداری کارروائی ہونی چاہیے۔ جہاں مسئلہ طویل تعیناتی یا مقامی سطح پر غیر صحت مند اثر و رسوخ سے متعلق ہو، وہاں تبادلہ کافی ہوسکتا ہے۔</p>
<p>دونوں معاملات کو ایک دوسرے میں ضم کرنا اس مشق کو کمزور کردے گا، کیونکہ اس سے سنگین بدعنوانی تبادلوں کے احکامات کے پیچھے چھپ سکتی ہے، جبکہ بے قصور افسران کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہوسکتا ہے جیسے محض تبادلہ ہی ان کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہو۔</p>
<p>لہٰذا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب 3,000 تبادلوں کے احکامات کا شور ختم ہونے کے بعد حکومت کے اقدامات سامنے آئیں گے۔</p>
<p>حکومت کو ایسے قابلِ پیمائش معیارات مقرر کرنے چاہئیں جن میں انتقالات اور زمین سے متعلق دیگر خدمات کی تکمیل میں لگنے والا وقت، ریکارڈ کی درستگی اور اس تک رسائی، عوامی شکایات کی تعداد اور نوعیت، محکمانہ کارروائی اور غیر قانونی ادائیگیوں کے مطالبات کی رپورٹس شامل ہوں۔ اس پیمائش کے بغیر یہ جاننے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہوگا کہ آیا بدعنوانی واقعی کم ہوئی ہے یا محض اس نے اپنا نیا ڈاک کا پتہ حاصل کرلیا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کو بھی ان مواقع کو کم کرنا چاہیے جو روایتی پٹواری نظام کو بدعنوانی کے لیے اتنا حساس بناتے ہیں۔</p>
<p>ڈیجیٹل اراضی ریکارڈ، قابلِ سراغ درخواستیں، واضح طور پر متعین کردہ کارروائی کی مدت اور سرکاری فیصلوں کا الیکٹرانک ریکارڈ غیر ضروری ذاتی صوابدید کو کم کرسکتے ہیں اور جب کچھ غلط ہو تو ایک آڈٹ ٹریل فراہم کرسکتے ہیں۔ تبادلے اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ہوں جو اگلے افسر کو بالکل وہی نیٹ ورک دوبارہ قائم کرنے سے روکیں جو اس کے پیش رو نے پیچھے چھوڑا تھا۔</p>
<p>لہٰذا پنجاب کا یہ اقدام ایک مناسب آغاز ہے اور دیگر ایسے عوامی خدمات سے متعلق محکموں کے لیے ایک مفید نمونہ ثابت ہوسکتا ہے جہاں افسران اتنے طویل عرصے تک تعینات رہتے ہیں کہ وہ مقامی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم انتظامی سطح پر اچانک اور سخت کارروائی کا اثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، جب تک اس کے بعد عمل درآمد، نگرانی اور ساختی اصلاحات نہ کی جائیں۔</p>
<p>تین ہزار تبادلے ایک متاثر کن سرخی ضرور بناتے ہیں۔ لیکن اس اخبار کی نظر میں تین ہزار زیادہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک دفاتر اس سے کہیں بہتر نتیجہ ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291527</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 10:00:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22095759b166f19.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22095759b166f19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری ادارے: حکومت کو اپنا کردار محدود کرنا ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291498/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اطلاعات کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی مالی حالت تیزی سے خراب ہورہی ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایس او ایز سے حاصل ہونے والی خالص مالی آمدن کم ہو کر دسویں حصے تک رہ گئی۔ یہ صورتحال خاص طور پر خوش آئند نہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب وزیر خزانہ ایس او ایز کے نقصانات کم کرنے پر بھرپور زور دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی چند وجوہات ہیں جن میں ایک اہم وجہ تاریخی طور پر کم رہنے والی تیل کی قیمتیں ہیں جنہوں نے تیل و گیس کی پوری سپلائی چین میں منافع کو دبائے رکھا۔ اب جبکہ قیمتوں میں بہتری آئی ہے، بڑھتا ہوا گردشی قرضہ ان فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ایس او ایز سے کارکردگی میں بہتری لانا بدستور مشکل ہے، یہ ادارے مسلسل محدود مالی وسائل پر بوجھ بن رہے ہیں جس کا بالآخر بوجھ بھاری پٹرولیم لیوی جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا بہترین حل یہ ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کے کردار کو محدود کیا جائے ۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ حکومت کو کاروبار چلانے کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ حتمی حل نجکاری کے عمل کو تیز کرنے میں مضمر ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کے تعطل کے بعد حکومت کی پہلی بڑی کامیابی پی آئی اے کی نجکاری تھی۔ ناقدین یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نقصانات بدستور بڑھ رہے ہیں جو ممکن ہے درست ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر پی آئی اے کے آپریشنز بدستور حکومتی کنٹرول میں رہتے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر آپریشنل نقصانات اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتے۔ اب جبکہ انتظامی امور نجی شعبے کے ہاتھ میں ہیں، حکومت ان ذمہ داریوں سے بری ہوگئی ہے۔ اپنے نقصانات مزید کم کرنے کے لیے حکومت کو نجکاری کے پروگرام میں تیزی لانی چاہیے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی کامیابی اور عدالتی نظام میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد عوامی اثاثوں کی خریداری میں سرمایہ کاروں، خصوصاً غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب انہیں آخرکار یکساں مواقع میسر آرہے ہیں، اور کوئی عدالت 2000 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی کوششوں کے دوران پیش آنے والے واقعے کو دوبارہ نہیں دہرائے گی۔ ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو غلط طریقے سے نمٹنے کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں جن میں ریکوڈک اور رینٹل پاور پلانٹ کے مقدمات شامل ہیں، تاہم آج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملنے والی قانونی مشاورت نجکاری کے عمل میں شرکت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کسی معاہدے کے بعد عدالتی یا ریاستی مداخلت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔ اس تبدیلی کا اندازہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت سے ہوتا ہے جو نجکاری کے لیے پیش کی جانے والی پہلی بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے۔اعتماد بحال ہونے میں وقت اور نظیر دونوں درکار ہوتے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری میں کوئی غیر ملکی کمپنی شریک نہیں ہوئی تھی، تاہم فیسکو ایک کامیاب مثال بنتی جارہی ہے جو دیگر سرمایہ کاروں کو بھی نجکاری کے عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتہائی اہم ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں تیزی لائی جائے، کیونکہ فیسکو کے بعد آئیسکو اور گیپکو اگلی دو کمپنیاں ہیں جن کی نجکاری کی جانی ہے۔ نجکاری کمیشن کو طے شدہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا چاہیے اور تاخیر سے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے میں ہوا۔ نجکاری جتنی جلد ہوگی، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات میں اتنی ہی جلد کمی آئے گی۔ ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہونے کے بعد ممکن ہے کہ یہ حکومت کو ٹیکس ادا کرنا شروع کردیں اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ مزید برآں، نجی کاروباری سرگرمیوں کے لیے نئے شعبے کھل سکتے ہیں، جبکہ ان شعبوں میں کارکردگی میں بہتری کے معیشت کے دیگر حصوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اصل ضرورت توانائی کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری اور مارکیٹ کو نجی شعبے کے لیے کھولنے کے بعد صنعتی سرگرمیوں میں توسیع ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی کام کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی تھی۔آج ٹیلی کام کمپنیاں ٹیکسوں کی ادائیگی اور روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ بینکاری شعبے میں بھی ایسی ہی تبدیلی آئی جو اب ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا شعبہ بن چکا ہے۔اگلا بڑا انقلاب توانائی  شعبے میں بھی آ سکتا ہے، حکومت کو صرف اس شعبے میں اپنا کردار محدود کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اطلاعات کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی مالی حالت تیزی سے خراب ہورہی ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایس او ایز سے حاصل ہونے والی خالص مالی آمدن کم ہو کر دسویں حصے تک رہ گئی۔ یہ صورتحال خاص طور پر خوش آئند نہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب وزیر خزانہ ایس او ایز کے نقصانات کم کرنے پر بھرپور زور دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس کی چند وجوہات ہیں جن میں ایک اہم وجہ تاریخی طور پر کم رہنے والی تیل کی قیمتیں ہیں جنہوں نے تیل و گیس کی پوری سپلائی چین میں منافع کو دبائے رکھا۔ اب جبکہ قیمتوں میں بہتری آئی ہے، بڑھتا ہوا گردشی قرضہ ان فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ایس او ایز سے کارکردگی میں بہتری لانا بدستور مشکل ہے، یہ ادارے مسلسل محدود مالی وسائل پر بوجھ بن رہے ہیں جس کا بالآخر بوجھ بھاری پٹرولیم لیوی جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کا بہترین حل یہ ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کے کردار کو محدود کیا جائے ۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ حکومت کو کاروبار چلانے کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>چنانچہ حتمی حل نجکاری کے عمل کو تیز کرنے میں مضمر ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کے تعطل کے بعد حکومت کی پہلی بڑی کامیابی پی آئی اے کی نجکاری تھی۔ ناقدین یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نقصانات بدستور بڑھ رہے ہیں جو ممکن ہے درست ہو۔</p>
<p>تاہم اگر پی آئی اے کے آپریشنز بدستور حکومتی کنٹرول میں رہتے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر آپریشنل نقصانات اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتے۔ اب جبکہ انتظامی امور نجی شعبے کے ہاتھ میں ہیں، حکومت ان ذمہ داریوں سے بری ہوگئی ہے۔ اپنے نقصانات مزید کم کرنے کے لیے حکومت کو نجکاری کے پروگرام میں تیزی لانی چاہیے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی کامیابی اور عدالتی نظام میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد عوامی اثاثوں کی خریداری میں سرمایہ کاروں، خصوصاً غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔</p>
<p>اب انہیں آخرکار یکساں مواقع میسر آرہے ہیں، اور کوئی عدالت 2000 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی کوششوں کے دوران پیش آنے والے واقعے کو دوبارہ نہیں دہرائے گی۔ ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو غلط طریقے سے نمٹنے کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں جن میں ریکوڈک اور رینٹل پاور پلانٹ کے مقدمات شامل ہیں، تاہم آج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملنے والی قانونی مشاورت نجکاری کے عمل میں شرکت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کسی معاہدے کے بعد عدالتی یا ریاستی مداخلت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔ اس تبدیلی کا اندازہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت سے ہوتا ہے جو نجکاری کے لیے پیش کی جانے والی پہلی بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے۔اعتماد بحال ہونے میں وقت اور نظیر دونوں درکار ہوتے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری میں کوئی غیر ملکی کمپنی شریک نہیں ہوئی تھی، تاہم فیسکو ایک کامیاب مثال بنتی جارہی ہے جو دیگر سرمایہ کاروں کو بھی نجکاری کے عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔</p>
<p>یہ انتہائی اہم ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں تیزی لائی جائے، کیونکہ فیسکو کے بعد آئیسکو اور گیپکو اگلی دو کمپنیاں ہیں جن کی نجکاری کی جانی ہے۔ نجکاری کمیشن کو طے شدہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا چاہیے اور تاخیر سے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے میں ہوا۔ نجکاری جتنی جلد ہوگی، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات میں اتنی ہی جلد کمی آئے گی۔ ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہونے کے بعد ممکن ہے کہ یہ حکومت کو ٹیکس ادا کرنا شروع کردیں اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ مزید برآں، نجی کاروباری سرگرمیوں کے لیے نئے شعبے کھل سکتے ہیں، جبکہ ان شعبوں میں کارکردگی میں بہتری کے معیشت کے دیگر حصوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>چنانچہ اصل ضرورت توانائی کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری اور مارکیٹ کو نجی شعبے کے لیے کھولنے کے بعد صنعتی سرگرمیوں میں توسیع ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی کام کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی تھی۔آج ٹیلی کام کمپنیاں ٹیکسوں کی ادائیگی اور روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ بینکاری شعبے میں بھی ایسی ہی تبدیلی آئی جو اب ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا شعبہ بن چکا ہے۔اگلا بڑا انقلاب توانائی  شعبے میں بھی آ سکتا ہے، حکومت کو صرف اس شعبے میں اپنا کردار محدود کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291498</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 13:28:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/211319091c681b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/211319091c681b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت کیلئے ضوابط ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291482/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کی جانب سے مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کے معیارات کا ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ انتہائی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ یہ حقیقت کہ اس غیر معمولی دوڑ کو آگے بڑھانے والی تین بڑی کمپنیاں اب مشترکہ حفاظتی معیارات کی ضرورت محسوس کررہی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جن خدشات کو کبھی دور کا معاملہ سمجھا جاتا تھا، اب انہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بہت وسیع ہے، لیکن اگر اس کی صلاحیتیں انسانوں کی جانب سے انہیں قابو میں رکھنے اور منظم کرنے کی صلاحیت سے آگے نکل جائیں تو اس کے نتائج بھی اتنے ہی سنگین ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے دوران سامنے آیا ہے۔ اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسون، جو اوپن اے آئی میں بھی کام کرچکے ہیں، نے حال ہی میں استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں ہماری زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق محقق بلال چغتائی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ممکنہ طور پر انسانیت کو ختم کرسکتی ہے، جبکہ اینتھروپک کے سربراہ داریو اموڈی نے ترقی کی رفتار سست کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ انتہائی سنگین پیش گوئیاں حقیقت کا روپ دھارتی ہیں یا نہیں، انہیں محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ خدشات ایسے افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس صنعت کے اندر رہ کر کام کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرات صرف اس تباہ کن امکان تک محدود نہیں کہ مصنوعی ذہانت قابو سے باہر ہوجائے، اہم نظاموں کو تباہ کردے یا اسے جوہری تباہی شروع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ زیادہ فوری نوعیت کا خلل معاشی اور سماجی ہوگا۔ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے ایک بڑھتے ہوئے دائرے سے کارکنوں کو بے دخل کرنے، مہارتوں کی قدر تبدیل کرنے اور دولت و ٹیکنالوجی کی طاقت کو چند کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت سے متعلق تنازعات پہلے ہی یہ بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کے نظام تخلیق کاروں کی رضامندی یا انہیں معاوضہ دیے بغیر ان کے کام پر تربیت حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار وسیع وسائل بھی ایک اور ابھرتا ہوا مسئلہ ہیں۔ ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بجلی کی کھپت بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ مخصوص علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز کا ارتکاز مقامی بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اور یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ آخر مصنوعی ذہانت کی توسیع کے ماحولیاتی اور معاشی قیمت کون برداشت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ضابطہ کاری کے سوال کو ناگزیر بناتی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے معیارات کا ایسا ادارہ جسے بنیادی طور پر وہی کمپنیاں قائم کریں جو یہ ٹیکنالوجی تیار کررہی ہیں، مفادات کے ایک فطری ٹکراؤ کا حامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ عمل حفاظتی معیارات تیار کرنے کے لیے صنعتی ماہرین کی مہارت ناگزیر ہے، لیکن اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ جب یہی کمپنیاں قواعد بنانے میں بھی شریک ہوں گی تو مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کے مفادات وسیع تر عوامی مفاد پر ترجیح حاصل کرسکتے ہیں۔ کینیڈین مصنوعی ذہانت کمپنی کوہیئر کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو حفاظتی حدود کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ حدود کون طے کرتا ہے اور وہ کن مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومتیں یہاں اپنی ضابطہ کاری کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتیں۔ آزادانہ جانچ، شفافیت کے تقاضے، ذمہ داری سے متعلق قواعد اور خاص طور پر خطرناک استعمالات کے خلاف حفاظتی اقدامات کے لیے ریاستی اختیار اور نگرانی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطہ کاری کو بھی ایسی ٹیکنالوجی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنا ہوگی جو قومی سرحدوں کی پابند نہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدہ کریں جس کے تحت جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری کو روک دیا جائے۔ یہ تجویز بالآخر عملی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں، یہ الگ معاملہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کی ضرورت تیزی سے زیادہ اہم ہوتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں تیار اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے لیے کوئی ایک ملک مؤثر عالمی حفاظتی ضوابط قائم نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے متعلق انتباہات کو جھوٹے دعوے قرار دینا ایک انتہائی نامناسب ردعمل ہے۔ انسانیت کے فوری خاتمے سے متعلق پیش گوئیوں کو تسلیم کیے بغیر بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ تکنیکی ترقی لازماً مثبت نتائج پیدا نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت طب، سائنسی تحقیق، تعلیم اور پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی فوائد فراہم کرسکتی ہے۔ بالکل اسی لیے کہ اس کے فوائد اتنے وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس سے وابستہ خطرات کو قابو میں لانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد جدت طرازی کو روکنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو آگے بڑھانے والے افراد اور کمپنیاں اس کے قواعد کی واحد فیصلہ ساز نہ بن جائیں۔ لہٰذا یہ یقینی بنانا ناگزیر ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات انسانوں کی جانب سے انہیں سنبھالنے اور قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے آگے نہ نکل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کی جانب سے مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کے معیارات کا ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ انتہائی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ یہ حقیقت کہ اس غیر معمولی دوڑ کو آگے بڑھانے والی تین بڑی کمپنیاں اب مشترکہ حفاظتی معیارات کی ضرورت محسوس کررہی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جن خدشات کو کبھی دور کا معاملہ سمجھا جاتا تھا، اب انہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بہت وسیع ہے، لیکن اگر اس کی صلاحیتیں انسانوں کی جانب سے انہیں قابو میں رکھنے اور منظم کرنے کی صلاحیت سے آگے نکل جائیں تو اس کے نتائج بھی اتنے ہی سنگین ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے دوران سامنے آیا ہے۔ اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسون، جو اوپن اے آئی میں بھی کام کرچکے ہیں، نے حال ہی میں استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں ہماری زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق محقق بلال چغتائی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ممکنہ طور پر انسانیت کو ختم کرسکتی ہے، جبکہ اینتھروپک کے سربراہ داریو اموڈی نے ترقی کی رفتار سست کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ انتہائی سنگین پیش گوئیاں حقیقت کا روپ دھارتی ہیں یا نہیں، انہیں محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ خدشات ایسے افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس صنعت کے اندر رہ کر کام کیا ہے۔</p>
<p>خطرات صرف اس تباہ کن امکان تک محدود نہیں کہ مصنوعی ذہانت قابو سے باہر ہوجائے، اہم نظاموں کو تباہ کردے یا اسے جوہری تباہی شروع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ زیادہ فوری نوعیت کا خلل معاشی اور سماجی ہوگا۔ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے ایک بڑھتے ہوئے دائرے سے کارکنوں کو بے دخل کرنے، مہارتوں کی قدر تبدیل کرنے اور دولت و ٹیکنالوجی کی طاقت کو چند کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت سے متعلق تنازعات پہلے ہی یہ بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کے نظام تخلیق کاروں کی رضامندی یا انہیں معاوضہ دیے بغیر ان کے کام پر تربیت حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار وسیع وسائل بھی ایک اور ابھرتا ہوا مسئلہ ہیں۔ ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بجلی کی کھپت بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ مخصوص علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز کا ارتکاز مقامی بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اور یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ آخر مصنوعی ذہانت کی توسیع کے ماحولیاتی اور معاشی قیمت کون برداشت کرے گا۔</p>
<p>یہ صورتحال ضابطہ کاری کے سوال کو ناگزیر بناتی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے معیارات کا ایسا ادارہ جسے بنیادی طور پر وہی کمپنیاں قائم کریں جو یہ ٹیکنالوجی تیار کررہی ہیں، مفادات کے ایک فطری ٹکراؤ کا حامل ہوگا۔</p>
<p>قابلِ عمل حفاظتی معیارات تیار کرنے کے لیے صنعتی ماہرین کی مہارت ناگزیر ہے، لیکن اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ جب یہی کمپنیاں قواعد بنانے میں بھی شریک ہوں گی تو مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کے مفادات وسیع تر عوامی مفاد پر ترجیح حاصل کرسکتے ہیں۔ کینیڈین مصنوعی ذہانت کمپنی کوہیئر کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو حفاظتی حدود کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ حدود کون طے کرتا ہے اور وہ کن مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا حکومتیں یہاں اپنی ضابطہ کاری کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتیں۔ آزادانہ جانچ، شفافیت کے تقاضے، ذمہ داری سے متعلق قواعد اور خاص طور پر خطرناک استعمالات کے خلاف حفاظتی اقدامات کے لیے ریاستی اختیار اور نگرانی ضروری ہے۔</p>
<p>ضابطہ کاری کو بھی ایسی ٹیکنالوجی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنا ہوگی جو قومی سرحدوں کی پابند نہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدہ کریں جس کے تحت جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری کو روک دیا جائے۔ یہ تجویز بالآخر عملی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں، یہ الگ معاملہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کی ضرورت تیزی سے زیادہ اہم ہوتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں تیار اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے لیے کوئی ایک ملک مؤثر عالمی حفاظتی ضوابط قائم نہیں کرسکتا۔</p>
<p>اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے متعلق انتباہات کو جھوٹے دعوے قرار دینا ایک انتہائی نامناسب ردعمل ہے۔ انسانیت کے فوری خاتمے سے متعلق پیش گوئیوں کو تسلیم کیے بغیر بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ تکنیکی ترقی لازماً مثبت نتائج پیدا نہیں کرتی۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت طب، سائنسی تحقیق، تعلیم اور پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی فوائد فراہم کرسکتی ہے۔ بالکل اسی لیے کہ اس کے فوائد اتنے وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس سے وابستہ خطرات کو قابو میں لانا ضروری ہے۔</p>
<p>مقصد جدت طرازی کو روکنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو آگے بڑھانے والے افراد اور کمپنیاں اس کے قواعد کی واحد فیصلہ ساز نہ بن جائیں۔ لہٰذا یہ یقینی بنانا ناگزیر ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات انسانوں کی جانب سے انہیں سنبھالنے اور قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے آگے نہ نکل جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291482</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 10:01:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/21095851028645b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/21095851028645b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمزور ہوتی ریڑھ کی ہڈی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ضلعی عدلیہ کو پاکستان کے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دینا بالکل موزوں ہے، کیونکہ یہی وہ سطح ہے جہاں زیادہ تر شہریوں کا عدالتوں سے واسطہ پڑتا ہے اور جہاں انصاف پر اعتماد بالآخر قائم یا ختم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے عدالتی افسران کے لیے بہتر کام کے حالات، پیشہ ورانہ وسائل اور ادارہ جاتی معاونت پر زور دینا اسی لیے خوش آئند ہے۔ لیکن ضلعی عدالتوں کی موجودہ صورتحال پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس ریڑھ کی ہڈی کو کس قدر بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ حد سے زیادہ رش، ناکافی وسائل، محدود تخصص، طریقہ کار میں تاخیر، بڑی حد تک غیر صحت بخش عمارتیں اور بدعنوانی کئی دہائیوں سے جمع ہوتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے سب سے قریب موجود عدالتی سطح پر انتہائی کم ادارہ جاتی معاونت کے ساتھ بہت بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بعض اقدامات مسئلے کے کچھ پہلوؤں کو تسلیم کرتے ہیں۔ عدالتی کمپلیکسز میں شمسی توانائی کی تنصیب، ای-لائبریریاں، انٹرنیٹ کی سہولیات، صاف پینے کا پانی اور خواتین کے لیے سہولت مراکز قابلِ قدر بہتریاں ہیں، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں سہولیات ناکافی ہیں۔ مقدمات نمٹانے کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، ستمبر 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان مقررہ مدت کے تحت 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جبکہ ماڈل فوجداری اور دیوانی عدالتوں نے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔ یہ اعداد و شمار قابلِ اعتراف ہیں، جیسا کہ عدالتی افسران کی وہ خدمات بھی قابلِ قدر ہیں جو مشکل حالات میں سخت ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مقدمات نمٹانے کے اعداد و شمار اور بہتر سہولیات صرف تصویر کا ایک حصہ پیش کرسکتے ہیں۔ نظامِ انصاف کا بنیادی پیمانہ اب بھی اس انصاف کا معیار، رسائی اور بروقت فراہمی ہے جو وہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اس معاملے میں اب بھی بہت پیچھے ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025 کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کو 143 دائرہ ہائے اختیار میں دیوانی انصاف کے حوالے سے 129ویں اور فوجداری انصاف کے حوالے سے 101ویں نمبر پر رکھا گیا۔ ان اعداد و شمار پر کم از کم اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی عدالتی کارکردگی کے اعتراف پر دی جاتی ہے، کیونکہ یہ عدالتوں کو درپیش کہیں بڑے ادارہ جاتی چیلنج کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدعنوانی کا بھی کہیں زیادہ براہِ راست انداز میں سامنا کیا جانا چاہیے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں ملک کے نظامِ انصاف میں بدعنوانی کو وسیع پیمانے پر موجود اور نظامی قرار دیا گیا۔ ضلعی سطح پر یہ مسئلہ صرف ججوں یا وکلا سے متعلق الزامات تک محدود نہیں۔ سائلین کا واسطہ عدالت کے عہدیداروں اور نچلے درجے کے عملے کی ایک وسیع مشینری سے بھی پڑتا ہے، جہاں فائلوں تک رسائی، کارروائی کو آگے بڑھانا اور معمول کے انتظامی امور معمولی بدعنوانی اور اثر و رسوخ کے لیے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے یہ معاملات بھی نظامِ انصاف کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا کہ بالآخر کسی جج کے سامنے پیش ہونا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ادارہ جاتی بہبود کو اصلاحات کا ایک اہم مقصد بنانا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ کہیں زیادہ مضبوط احتساب بھی ہونا چاہیے۔ عدالتی افسران کو مناسب تنخواہوں، قابلِ انتظام کام کے بوجھ، جدید بنیادی ڈھانچے، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی اور قانونی وسائل تک رسائی کی ضرورت ہے۔ عدالتوں کو مقدمات کے بہتر انتظام اور زیادہ تخصص کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ تجارتی، مالی، تکنیکی اور دیگر تنازعات مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد شکایتی نظام، شفاف کارکردگی کے معیارات اور عدالتی نظام کے پورے ڈھانچے میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ عدلیہ پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ضلعی عدالتوں کو متاثر کرنے والی بہت سی اصلاحات، وسائل اور انتظامی ترجیحات بالآخر اوپر سے ہی طے ہوتی ہیں۔ اس لیے ضلعی ججوں کو نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دینے کا مطلب محض کبھی کبھار توجہ دینے کے بجائے مسلسل ادارہ جاتی سرمایہ کاری ہونا چاہیے۔ جن حالات میں جج کام کرتے ہیں وہ لازماً ان کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، لیکن وہ حالات بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جن میں سائلین انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ بہتر سہولیات سے آراستہ عدالت بھی اپنے بنیادی مقصد میں ناکام رہتی ہے اگر کسی شہری کو برسوں انتظار کرنا پڑے، بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑے یا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس کا ضلعی عدلیہ کو اصلاحات کے معاملے کے مرکز میں رکھنا درست سمت میں ایک قدم ہے۔ اب اس اعتراف کو اس بات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا چاہیے کہ آخر اس اہم عدالتی سطح کو پہلی جگہ اتنا بوجھل اور کم سہولیات کا شکار کیوں ہونے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڑھ کی ہڈی کو سہارا ملنا چاہیے۔ پاکستان کے نظامِ انصاف میں اسے فوری طور پر مرمت کی بھی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ضلعی عدلیہ کو پاکستان کے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دینا بالکل موزوں ہے، کیونکہ یہی وہ سطح ہے جہاں زیادہ تر شہریوں کا عدالتوں سے واسطہ پڑتا ہے اور جہاں انصاف پر اعتماد بالآخر قائم یا ختم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے عدالتی افسران کے لیے بہتر کام کے حالات، پیشہ ورانہ وسائل اور ادارہ جاتی معاونت پر زور دینا اسی لیے خوش آئند ہے۔ لیکن ضلعی عدالتوں کی موجودہ صورتحال پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس ریڑھ کی ہڈی کو کس قدر بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ حد سے زیادہ رش، ناکافی وسائل، محدود تخصص، طریقہ کار میں تاخیر، بڑی حد تک غیر صحت بخش عمارتیں اور بدعنوانی کئی دہائیوں سے جمع ہوتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے سب سے قریب موجود عدالتی سطح پر انتہائی کم ادارہ جاتی معاونت کے ساتھ بہت بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>حالیہ بعض اقدامات مسئلے کے کچھ پہلوؤں کو تسلیم کرتے ہیں۔ عدالتی کمپلیکسز میں شمسی توانائی کی تنصیب، ای-لائبریریاں، انٹرنیٹ کی سہولیات، صاف پینے کا پانی اور خواتین کے لیے سہولت مراکز قابلِ قدر بہتریاں ہیں، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں سہولیات ناکافی ہیں۔ مقدمات نمٹانے کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، ستمبر 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان مقررہ مدت کے تحت 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جبکہ ماڈل فوجداری اور دیوانی عدالتوں نے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔ یہ اعداد و شمار قابلِ اعتراف ہیں، جیسا کہ عدالتی افسران کی وہ خدمات بھی قابلِ قدر ہیں جو مشکل حالات میں سخت ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم مقدمات نمٹانے کے اعداد و شمار اور بہتر سہولیات صرف تصویر کا ایک حصہ پیش کرسکتے ہیں۔ نظامِ انصاف کا بنیادی پیمانہ اب بھی اس انصاف کا معیار، رسائی اور بروقت فراہمی ہے جو وہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اس معاملے میں اب بھی بہت پیچھے ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025 کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کو 143 دائرہ ہائے اختیار میں دیوانی انصاف کے حوالے سے 129ویں اور فوجداری انصاف کے حوالے سے 101ویں نمبر پر رکھا گیا۔ ان اعداد و شمار پر کم از کم اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی عدالتی کارکردگی کے اعتراف پر دی جاتی ہے، کیونکہ یہ عدالتوں کو درپیش کہیں بڑے ادارہ جاتی چیلنج کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>بدعنوانی کا بھی کہیں زیادہ براہِ راست انداز میں سامنا کیا جانا چاہیے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں ملک کے نظامِ انصاف میں بدعنوانی کو وسیع پیمانے پر موجود اور نظامی قرار دیا گیا۔ ضلعی سطح پر یہ مسئلہ صرف ججوں یا وکلا سے متعلق الزامات تک محدود نہیں۔ سائلین کا واسطہ عدالت کے عہدیداروں اور نچلے درجے کے عملے کی ایک وسیع مشینری سے بھی پڑتا ہے، جہاں فائلوں تک رسائی، کارروائی کو آگے بڑھانا اور معمول کے انتظامی امور معمولی بدعنوانی اور اثر و رسوخ کے لیے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے یہ معاملات بھی نظامِ انصاف کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا کہ بالآخر کسی جج کے سامنے پیش ہونا۔</p>
<p>اس لیے ادارہ جاتی بہبود کو اصلاحات کا ایک اہم مقصد بنانا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ کہیں زیادہ مضبوط احتساب بھی ہونا چاہیے۔ عدالتی افسران کو مناسب تنخواہوں، قابلِ انتظام کام کے بوجھ، جدید بنیادی ڈھانچے، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی اور قانونی وسائل تک رسائی کی ضرورت ہے۔ عدالتوں کو مقدمات کے بہتر انتظام اور زیادہ تخصص کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ تجارتی، مالی، تکنیکی اور دیگر تنازعات مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد شکایتی نظام، شفاف کارکردگی کے معیارات اور عدالتی نظام کے پورے ڈھانچے میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>اعلیٰ عدلیہ پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ضلعی عدالتوں کو متاثر کرنے والی بہت سی اصلاحات، وسائل اور انتظامی ترجیحات بالآخر اوپر سے ہی طے ہوتی ہیں۔ اس لیے ضلعی ججوں کو نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دینے کا مطلب محض کبھی کبھار توجہ دینے کے بجائے مسلسل ادارہ جاتی سرمایہ کاری ہونا چاہیے۔ جن حالات میں جج کام کرتے ہیں وہ لازماً ان کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، لیکن وہ حالات بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جن میں سائلین انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ بہتر سہولیات سے آراستہ عدالت بھی اپنے بنیادی مقصد میں ناکام رہتی ہے اگر کسی شہری کو برسوں انتظار کرنا پڑے، بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑے یا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے۔</p>
<p>چیف جسٹس کا ضلعی عدلیہ کو اصلاحات کے معاملے کے مرکز میں رکھنا درست سمت میں ایک قدم ہے۔ اب اس اعتراف کو اس بات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا چاہیے کہ آخر اس اہم عدالتی سطح کو پہلی جگہ اتنا بوجھل اور کم سہولیات کا شکار کیوں ہونے دیا گیا۔</p>
<p>ریڑھ کی ہڈی کو سہارا ملنا چاہیے۔ پاکستان کے نظامِ انصاف میں اسے فوری طور پر مرمت کی بھی ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291457</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Sep 2026 12:36:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/201234543a67b34.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/201234543a67b34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کے تحفظ میں ریاستی ناکامی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291458/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے 1,914 واقعات کا رپورٹ ہونا محض ایک مرتبہ پھر تشویش اور مذمت کے اظہار سے کہیں زیادہ ردعمل کا متقاضی ہونا چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ کے اس بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اس کی سنگینی کے بار بار سامنے آنے کے باوجود بہت طویل عرصے سے برقرار رہنے دیا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران روزانہ تقریباً چار واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتی ہے، اس کے لیے اپنے سب سے زیادہ کمزور شہریوں کے تحفظ میں مسلسل ناکامی کا دفاع ممکن نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہیں۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے گھروں کے اندر پیش آئے۔ رپورٹ شدہ واقعات میں 80 فیصد پنجاب سے سامنے آئے، جبکہ 57 فیصد واقعات شہری علاقوں اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ اس طرح بدسلوکی ان حدود سے ماورا ہے جنہیں حکومتیں بعض اوقات سماجی مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے وقت سہولت کے لیے قائم کرتی ہیں۔ اور جب مبینہ بدسلوکی کرنے والا بچے کا جاننے والا ہو یا بدسلوکی گھر کے اندر ہو رہی ہو تو اس بارے میں روایتی تصورات کہ تحفظ کہاں سے شروع ہوتا ہے، خطرناک حد تک ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی انتہائی ہولناک نوعیت کے واقعات قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے، تو شدید غم و غصے کی کوئی کمی نہیں رہی۔ حکومتیں کارروائی کا وعدہ کرتی ہیں، سیاست دان ملزمان کی مذمت کرتے ہیں، کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور بالآخر توجہ کسی دوسرے معاملے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ مسئلے کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی غم و غصہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی کے طور پر بری طرح ناکام رہا ہے۔ پاکستان کو ایسے فعال نظام کی ضرورت ہے جو کمزور بچوں کی نشاندہی کریں، شکایت درج کرانے کو محفوظ بنائیں، الزامات کی پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کریں، پورے عمل کے دوران متاثرین کا تحفظ کریں اور ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کریں۔ یہ نظام ہر روز مؤثر انداز میں کام کرنے چاہئیں، اس وقت بھی جب ٹیلی ویژن کے کیمرے کسی اور طرف منتقل ہوچکے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے پاس 89 فیصد مقدمات کا اندراج حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن یہ صرف ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کتنی شکایات کے نتیجے میں قابل اور مؤثر تحقیقات ہوتی ہیں؟ کتنی جلدی مقدمات سماعت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں؟ جہاں شواہد جرم ثابت کرتے ہیں، وہاں کتنے مقدمات میں استغاثہ سزا دلوانے میں کامیاب ہوتا ہے؟ متاثرین کو دھمکیوں اور مزید صدمے سے کتنے مؤثر طریقے سے محفوظ رکھا جاتا ہے؟ اور ایسے بچے کے لیے کیا معاونت دستیاب ہے جسے بدسلوکی کا شکار ہونے کے بعد پولیس اسٹیشنوں، طبی معائنے اور عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے بغیر ایف آئی آر اس بات کی سرکاری تصدیق سے زیادہ کچھ نہیں بن سکتی کہ کوئی خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ذمہ داری ریاستی مشینری کے پورے ڈھانچے تک پھیلی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچوں کے تحفظ کے اداروں کے پاس مناسب عملہ، فنڈز اور مؤثر رسائی موجود ہو۔ پولیس کو بچوں سے متاثرہ افراد کے ساتھ معاملہ کرنے اور شواہد محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی تربیت درکار ہے۔ استغاثہ کے اداروں کو ان مقدمات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں، جبکہ عدالتوں کو کارروائی کو اس قدر طویل ہونے سے روکنا چاہیے کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ اس عمل سے ہی تھک کر رہ جائیں۔ اسکولوں، صحت کے اداروں اور سماجی بہبود کے محکموں کو بھی قابلِ اعتماد رپورٹنگ اور متعلقہ اداروں تک متاثرین کی رسائی کے نظام کی ضرورت ہے۔ جہاں ادارے غفلت کے باعث ناکام ہوں، وہاں اس ناکامی کے بھی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانوں اور معاشروں کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے، خصوصاً اس لیے کہ مبینہ طور پر بہت سے ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ تاہم والدین کی جانب سے زیادہ نگرانی کی اپیلیں ریاستی تحفظ کے کمزور نظام کا بہانہ نہیں بننی چاہئیں۔ بچوں میں اکثر بدسلوکی کی اطلاع دینے کی صلاحیت، اعتماد یا موقع موجود نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب ملزم ان پر اختیار رکھتا ہو۔ لہٰذا تحفظ کے نظام اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیے جانے چاہئیں کہ ایک خوف زدہ اور کمزور بچہ کس صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے، نہ کہ اس ادارے کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو شکایت وصول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کئی برسوں سے بچوں سے بدسلوکی کے معاملے پر بحث کرتا آرہا ہے۔ صدمے، تشویش اور زیرو ٹالرنس کی اصطلاحات اب تک بہت اچھی طرح دہرائی جاچکی ہیں۔ لیکن جو چیز نمایاں طور پر کم متاثر کن ہے، وہ روک تھام، قانونی کارروائی، تحفظ اور انصاف کے حوالے سے ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو قابلِ پیمائش نتائج کی ضرورت ہے: بدسلوکی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی، زیادہ متاثرین کا تحفظ، تیز تر تحقیقات، مؤثر قانونی کارروائی اور جہاں جرم ثابت ہو وہاں سزا۔ اس سے کم کوئی بھی نتیجہ بچوں کے تحفظ کو ریاست کے ایک اور وعدے میں تبدیل کردے گا، جسے ریاست ہر مرتبہ اس وقت یاد کرتی ہے جب تازہ ترین اعداد و شمار کو مزید نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے 1,914 واقعات کا رپورٹ ہونا محض ایک مرتبہ پھر تشویش اور مذمت کے اظہار سے کہیں زیادہ ردعمل کا متقاضی ہونا چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ کے اس بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اس کی سنگینی کے بار بار سامنے آنے کے باوجود بہت طویل عرصے سے برقرار رہنے دیا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران روزانہ تقریباً چار واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتی ہے، اس کے لیے اپنے سب سے زیادہ کمزور شہریوں کے تحفظ میں مسلسل ناکامی کا دفاع ممکن نہیں۔</strong></p>
<p>تفصیلات صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہیں۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے گھروں کے اندر پیش آئے۔ رپورٹ شدہ واقعات میں 80 فیصد پنجاب سے سامنے آئے، جبکہ 57 فیصد واقعات شہری علاقوں اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ اس طرح بدسلوکی ان حدود سے ماورا ہے جنہیں حکومتیں بعض اوقات سماجی مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے وقت سہولت کے لیے قائم کرتی ہیں۔ اور جب مبینہ بدسلوکی کرنے والا بچے کا جاننے والا ہو یا بدسلوکی گھر کے اندر ہو رہی ہو تو اس بارے میں روایتی تصورات کہ تحفظ کہاں سے شروع ہوتا ہے، خطرناک حد تک ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>جب بھی انتہائی ہولناک نوعیت کے واقعات قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے، تو شدید غم و غصے کی کوئی کمی نہیں رہی۔ حکومتیں کارروائی کا وعدہ کرتی ہیں، سیاست دان ملزمان کی مذمت کرتے ہیں، کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور بالآخر توجہ کسی دوسرے معاملے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ مسئلے کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی غم و غصہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی کے طور پر بری طرح ناکام رہا ہے۔ پاکستان کو ایسے فعال نظام کی ضرورت ہے جو کمزور بچوں کی نشاندہی کریں، شکایت درج کرانے کو محفوظ بنائیں، الزامات کی پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کریں، پورے عمل کے دوران متاثرین کا تحفظ کریں اور ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کریں۔ یہ نظام ہر روز مؤثر انداز میں کام کرنے چاہئیں، اس وقت بھی جب ٹیلی ویژن کے کیمرے کسی اور طرف منتقل ہوچکے ہوں۔</p>
<p>پولیس کے پاس 89 فیصد مقدمات کا اندراج حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن یہ صرف ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کتنی شکایات کے نتیجے میں قابل اور مؤثر تحقیقات ہوتی ہیں؟ کتنی جلدی مقدمات سماعت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں؟ جہاں شواہد جرم ثابت کرتے ہیں، وہاں کتنے مقدمات میں استغاثہ سزا دلوانے میں کامیاب ہوتا ہے؟ متاثرین کو دھمکیوں اور مزید صدمے سے کتنے مؤثر طریقے سے محفوظ رکھا جاتا ہے؟ اور ایسے بچے کے لیے کیا معاونت دستیاب ہے جسے بدسلوکی کا شکار ہونے کے بعد پولیس اسٹیشنوں، طبی معائنے اور عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے بغیر ایف آئی آر اس بات کی سرکاری تصدیق سے زیادہ کچھ نہیں بن سکتی کہ کوئی خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔</p>
<p>چنانچہ ذمہ داری ریاستی مشینری کے پورے ڈھانچے تک پھیلی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچوں کے تحفظ کے اداروں کے پاس مناسب عملہ، فنڈز اور مؤثر رسائی موجود ہو۔ پولیس کو بچوں سے متاثرہ افراد کے ساتھ معاملہ کرنے اور شواہد محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی تربیت درکار ہے۔ استغاثہ کے اداروں کو ان مقدمات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں، جبکہ عدالتوں کو کارروائی کو اس قدر طویل ہونے سے روکنا چاہیے کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ اس عمل سے ہی تھک کر رہ جائیں۔ اسکولوں، صحت کے اداروں اور سماجی بہبود کے محکموں کو بھی قابلِ اعتماد رپورٹنگ اور متعلقہ اداروں تک متاثرین کی رسائی کے نظام کی ضرورت ہے۔ جہاں ادارے غفلت کے باعث ناکام ہوں، وہاں اس ناکامی کے بھی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔</p>
<p>خاندانوں اور معاشروں کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے، خصوصاً اس لیے کہ مبینہ طور پر بہت سے ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ تاہم والدین کی جانب سے زیادہ نگرانی کی اپیلیں ریاستی تحفظ کے کمزور نظام کا بہانہ نہیں بننی چاہئیں۔ بچوں میں اکثر بدسلوکی کی اطلاع دینے کی صلاحیت، اعتماد یا موقع موجود نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب ملزم ان پر اختیار رکھتا ہو۔ لہٰذا تحفظ کے نظام اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیے جانے چاہئیں کہ ایک خوف زدہ اور کمزور بچہ کس صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے، نہ کہ اس ادارے کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو شکایت وصول کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کئی برسوں سے بچوں سے بدسلوکی کے معاملے پر بحث کرتا آرہا ہے۔ صدمے، تشویش اور زیرو ٹالرنس کی اصطلاحات اب تک بہت اچھی طرح دہرائی جاچکی ہیں۔ لیکن جو چیز نمایاں طور پر کم متاثر کن ہے، وہ روک تھام، قانونی کارروائی، تحفظ اور انصاف کے حوالے سے ریکارڈ ہے۔</p>
<p>ملک کو قابلِ پیمائش نتائج کی ضرورت ہے: بدسلوکی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی، زیادہ متاثرین کا تحفظ، تیز تر تحقیقات، مؤثر قانونی کارروائی اور جہاں جرم ثابت ہو وہاں سزا۔ اس سے کم کوئی بھی نتیجہ بچوں کے تحفظ کو ریاست کے ایک اور وعدے میں تبدیل کردے گا، جسے ریاست ہر مرتبہ اس وقت یاد کرتی ہے جب تازہ ترین اعداد و شمار کو مزید نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291458</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Sep 2026 12:47:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/20124547cc7cc79.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/20124547cc7cc79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کی صورتحال: ملے جلے رجحانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291419/</link>
      <description>&lt;p&gt;حالیہ جاری ہونے والے اعداد و شمار اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں جو حکومت کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ معاشی استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 34 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ کم ہوا ہے جس کی عکاسی ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ہوتی ہے۔ یہ اضافہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں متوقع نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ جزوی طور پر جنگ کے باعث دیگر ممالک کے تارکین وطن کی خلیجی ریاستوں سے واپسی جبکہ پاکستانیوں کی خطے میں بدستور موجودگی اور ترسیلاتِ زر بھیجنے کے لیے سرکاری ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تنازع ختم ہونے کے بعد یہ صورتحال برقرار نہیں رہے گی۔ اس کے باوجود کشیدگی نہ صرف وسیع ہوئی ہے بلکہ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کو تقویت ملی جبکہ اس پر شرح سود ملکی قرض گیری کی شرح سے کم رہی۔ اس میں 1.75 ارب ڈالر مالیت کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ شامل ہے جس کی کوپن شرح 7.5 فیصد ہے جبکہ 1.25 ارب ڈالر مالیت کے 10 سالہ بانڈ کی کوپن شرح 7.9 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان بانڈز کی ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے گی جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں سالانہ اوسطاً 3 سے 4 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اگست 2026 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی سالانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافہ ہوا جسے اگست میں آنے والی زیادہ سرمایہ کاری سے تقویت ملی۔ اگست کی ماہانہ اقتصادی صورتحال اور جائزہ رپورٹ میں جولائی 2025 کی ایف ڈی آئی 178.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 کی ایف ڈی آئی 223.6 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، یعنی اس عرصے میں 45 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا اگست 2026 کی مجموعی رقم 495 ملین ڈالر رہی، جبکہ اگست 2026 میں یہ رقم 316.4 ملین ڈالر رہی، جو 2025 کی اسی مدت میں 398.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم، اس اعداد و شمار میں وزارت خزانہ کے 364.3 ملین ڈالر کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 34.3 ملین ڈالر کا فرق موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اطمینان کی کوئی خاص گنجائش نہیں کیونکہ دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ اضافے کا یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر 3.03 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.51 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے لیے یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زیادہ شرح نمو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے ٹیکسٹائل شعبہ خود اس بہتری کو کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ ان پٹ لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث 100 سے زائد یونٹس بند ہوچکے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت کیے گئے انتظامی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس دعوے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق نجی شعبے کو قرضوں کا بہاؤ جولائی تا اگست 2025 میں منفی 232.1 ملین روپے سے بڑھ کر اسی عرصے میں 2026 میں منفی 393.4 ملین روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ شرح نمو آٹو موبائلز کے شعبے میں 57 فیصد رہی جس کے بعد گارمنٹس کا شعبہ 22 فیصد اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی معیشت کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ روس، یوکرین تنازع کے باعث بھی سپلائی میں بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا ہے اور مستقبل قریب میں دونوں میں سے کسی بھی تنازع کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں آگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ فوری نوعیت کے اقدامات، خصوصاً سبسڈیز میں توسیع کی جاتی رہے، کیونکہ اس سے مالی گنجائش مزید محدود ہوجاتی ہے۔ توانائی کے شعبے کے لیے ایسا منصوبہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر ایندھن کی قلت سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے۔ دستیاب ہونے کی صورت میں بھی ایندھن انتہائی بلند قیمت پر ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر اخراجات میں کمی لانا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے یا موجودہ ٹیکسوں کا دائرہ کار وسیع کرنے جیسے روایتی ذرائع سے محصولات بڑھانے کی ضرورت بھی کم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام شہری پہلے ہی تقریباً روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب تک اس صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے، بالخصوص پٹرول اور بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی طلب کم کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا جاتا، صورتحال مزید سنگین ہوتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حالیہ جاری ہونے والے اعداد و شمار اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں جو حکومت کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ معاشی استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 34 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ کم ہوا ہے جس کی عکاسی ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ہوتی ہے۔ یہ اضافہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں متوقع نہیں تھا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ جزوی طور پر جنگ کے باعث دیگر ممالک کے تارکین وطن کی خلیجی ریاستوں سے واپسی جبکہ پاکستانیوں کی خطے میں بدستور موجودگی اور ترسیلاتِ زر بھیجنے کے لیے سرکاری ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔</p>
<p>تاہم تنازع ختم ہونے کے بعد یہ صورتحال برقرار نہیں رہے گی۔ اس کے باوجود کشیدگی نہ صرف وسیع ہوئی ہے بلکہ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کو تقویت ملی جبکہ اس پر شرح سود ملکی قرض گیری کی شرح سے کم رہی۔ اس میں 1.75 ارب ڈالر مالیت کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ شامل ہے جس کی کوپن شرح 7.5 فیصد ہے جبکہ 1.25 ارب ڈالر مالیت کے 10 سالہ بانڈ کی کوپن شرح 7.9 فیصد ہے۔</p>
<p>قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان بانڈز کی ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے گی جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں سالانہ اوسطاً 3 سے 4 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔</p>
<p>جولائی تا اگست 2026 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی سالانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافہ ہوا جسے اگست میں آنے والی زیادہ سرمایہ کاری سے تقویت ملی۔ اگست کی ماہانہ اقتصادی صورتحال اور جائزہ رپورٹ میں جولائی 2025 کی ایف ڈی آئی 178.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 کی ایف ڈی آئی 223.6 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، یعنی اس عرصے میں 45 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا اگست 2026 کی مجموعی رقم 495 ملین ڈالر رہی، جبکہ اگست 2026 میں یہ رقم 316.4 ملین ڈالر رہی، جو 2025 کی اسی مدت میں 398.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم، اس اعداد و شمار میں وزارت خزانہ کے 364.3 ملین ڈالر کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 34.3 ملین ڈالر کا فرق موجود ہے۔</p>
<p>اگرچہ اطمینان کی کوئی خاص گنجائش نہیں کیونکہ دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ اضافے کا یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔</p>
<p>بڑی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر 3.03 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.51 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے لیے یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زیادہ شرح نمو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔</p>
<p>بدقسمتی سے ٹیکسٹائل شعبہ خود اس بہتری کو کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ ان پٹ لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث 100 سے زائد یونٹس بند ہوچکے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت کیے گئے انتظامی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس دعوے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق نجی شعبے کو قرضوں کا بہاؤ جولائی تا اگست 2025 میں منفی 232.1 ملین روپے سے بڑھ کر اسی عرصے میں 2026 میں منفی 393.4 ملین روپے ہوگیا۔</p>
<p>سب سے زیادہ شرح نمو آٹو موبائلز کے شعبے میں 57 فیصد رہی جس کے بعد گارمنٹس کا شعبہ 22 فیصد اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی معیشت کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ روس، یوکرین تنازع کے باعث بھی سپلائی میں بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا ہے اور مستقبل قریب میں دونوں میں سے کسی بھی تنازع کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال میں آگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ فوری نوعیت کے اقدامات، خصوصاً سبسڈیز میں توسیع کی جاتی رہے، کیونکہ اس سے مالی گنجائش مزید محدود ہوجاتی ہے۔ توانائی کے شعبے کے لیے ایسا منصوبہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر ایندھن کی قلت سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے۔ دستیاب ہونے کی صورت میں بھی ایندھن انتہائی بلند قیمت پر ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر اخراجات میں کمی لانا بھی ضروری ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے یا موجودہ ٹیکسوں کا دائرہ کار وسیع کرنے جیسے روایتی ذرائع سے محصولات بڑھانے کی ضرورت بھی کم ہوجائے گی۔</p>
<p>عام شہری پہلے ہی تقریباً روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب تک اس صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے، بالخصوص پٹرول اور بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی طلب کم کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا جاتا، صورتحال مزید سنگین ہوتی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291419</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Sep 2026 12:07:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/19120236a380620.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/19120236a380620.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترغیب کافی نہیں، قانون پر عملدرآمد ضروری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب ملک کے ٹیکس ادارے کے سربراہ کو کاروباری رہنماؤں سے یہ درخواست کرنا پڑے کہ وہ ریٹیلرز کو قانون کی پابندی پر آمادہ کریں تو یہ بات واضح ہے کہ ٹیکس نظام میں کوئی سنگین خرابی موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رواں ہفتے ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے عین یہی اقدام کیا اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سے کہا کہ وہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی ریٹیلرز اسکیم کو فعال طور پر فروغ دے تاکہ پہلے ہی ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرزِ عمل سے جو پیغام جاتا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ٹیکس ادا کرنا کوئی اختیاری عمل نہیں اور نہ ہی یہ ریاست پر کوئی احسان ہے۔ یہ ایک قانونی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت سے کہ پاکستان کا اعلیٰ ترین ٹیکس عہدیدار عملاً ایک تجارتی ادارے سے ٹیکس اسکیم میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کی ترغیب دینے کی درخواست کر رہا ہے، ایف بی آر کی طویل عرصے سے ایک ایسے سیاسی طور پر حساس شعبے میں ٹیکس قوانین کے نفاذ میں ناکامی یا عدم دلچسپی عیاں ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا سیاسی عزم نہ ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ کوئی راز نہیں۔ ریٹیلرز اور ہول سیلرز ایک بااثر سیاسی حلقہ تشکیل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی انہیں مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ احتجاج، دکانیں بند کرنے اور ہڑتالوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں جبکہ حکومتیں اکثر ایک طاقتور ووٹر گروپ سے محاذ آرائی کا خطرہ مول لینے کے بجائے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں یا انہیں محدود کردیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس شعبے سے غیر معمولی احتیاط کے ساتھ نمٹا اور مسلسل قانون پر عملدرآمد کے بجائے مذاکرات، مراعات اور آسان تر اسکیموں کو ترجیح دی۔ نتیجتاً ایک انتہائی غیر منصفانہ ٹیکس نظام وجود میں آیا جس میں قانون کی پابندی کرنے والے شہری اور کاروباری ادارے ٹیکس کے بڑھتے بوجھ کا بڑا حصہ اٹھا رہے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑا حصہ ناکافی ٹیکس ادا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ریٹیلرز اسکیم اس مسئلے کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل انفرادی ریٹیلرز جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہے مجموعی کاروباری حجم کے صرف ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرسکتے ہیں، تاہم کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے عوض انہیں آسان ٹیکس تعمیل، معمول کے آڈٹ سے استثنیٰ اور بعض ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داریوں سے ریلیف حاصل ہوگا جبکہ پی او ایس اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرائط بھی لاگو نہیں ہوں گی۔ اگر اس آسان طریقہ کار کے ذریعے واقعی چھوٹے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو یہ قابلِ دفاع اقدام ہے۔ تاہم ٹیکس تعمیل کو آسان بنانے اور مؤثر ٹیکس وصولی سے دستبردار ہونے میں بنیادی فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس عام طور پر آمدن پر عائد کیا جاتا ہے، فروخت پر نہیں۔ کسی ریٹیلر کی حقیقی ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت کا تعین جائز کاروباری اخراجات منہا کرنے کے بعد حاصل ہونے والی خالص آمدن سے ہوتا ہے۔ تاہم نئے انتظام کے تحت عملاً اس جائزے کے بجائے کاروباری حجم پر یکساں شرح سے ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ریٹیلرز کو جو آسان ٹیکس ریٹرن جمع کرانا ہوتا ہے، اس میں سالانہ فروخت، خریداری، کاروباری اخراجات، خالص منافع اور اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تو پھر انہیں ٹیکس دہندہ کی حقیقی ٹیکس ذمہ داری کے تعین کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟ کاروباری حجم کی بنیاد پر اختیار کیا گیا یہ مختصر طریقہ قابلِ ٹیکس آمدن اور قابلِ ادا ٹیکس کے درمیان تعلق کو کمزور کرتا ہے، مختلف منافع کی شرح رکھنے والے کاروبار کے درمیان عدم توازن پیدا کرتا ہے اور کم آمدن ظاہر کرنے یا غیر واضح دولت کو جائز قرار دینے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں سے جاری اس نرمی کے نتائج محصولات کے اعدادوشمار میں واضح  نظر آتے ہیں۔ خوردہ اور تھوک کاروبار نے اپنی معاشی اہمیت کے باوجود تاریخی طور پر ٹیکس وصولیوں میں انتہائی کم حصہ ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں اندازاً 35 لاکھ ریٹیلرز میں سے صرف تقریباً 3 لاکھ فعال طور پر ٹیکس ریٹرنز جمع کرارہے تھے۔ تازہ ترین ودہولڈنگ ٹیکس کے اعدادوشمار بھی اس تفاوت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ریٹیلرز اور ہول سیلرز نے صرف 12 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جو سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد کم ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے نے اس سے 79 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا، یعنی حیران کن طور پر 658 فیصد زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پائیدار ٹیکس پالیسی نہیں ہے۔ ایف بی آر کو بلاشبہ چھوٹے کاروبارں کے لیے ٹیکس قوانین کی تعمیل آسان بنانی چاہیے لیکن سہولت کاری کا مطلب ترجیحی سلوک نہیں ہوسکتا۔ اگر ریاست سیاسی طور پر بااثر ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نظام کی مکمل سختیوں سے مسلسل تحفظ فراہم کرتی رہی تو وہ پہلے ہی ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے شہریوں سے یہ توقع نہیں کرسکتی کہ وہ مزید بڑھتے ہوئے مطالبات کو قبول کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حل یہ نہیں کہ ریٹیلرز کو ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور مہم شروع کی جائے۔ ضرورت ایسی ٹیکس انتظامیہ کی ہے جو متعلقہ سیاسی حلقے سے قطع نظر قانون کا یکساں طور پر نفاذ یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب ملک کے ٹیکس ادارے کے سربراہ کو کاروباری رہنماؤں سے یہ درخواست کرنا پڑے کہ وہ ریٹیلرز کو قانون کی پابندی پر آمادہ کریں تو یہ بات واضح ہے کہ ٹیکس نظام میں کوئی سنگین خرابی موجود ہے۔</strong></p>
<p>تاہم رواں ہفتے ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے عین یہی اقدام کیا اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سے کہا کہ وہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی ریٹیلرز اسکیم کو فعال طور پر فروغ دے تاکہ پہلے ہی ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جاسکے۔</p>
<p>اس طرزِ عمل سے جو پیغام جاتا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ٹیکس ادا کرنا کوئی اختیاری عمل نہیں اور نہ ہی یہ ریاست پر کوئی احسان ہے۔ یہ ایک قانونی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>اس حقیقت سے کہ پاکستان کا اعلیٰ ترین ٹیکس عہدیدار عملاً ایک تجارتی ادارے سے ٹیکس اسکیم میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کی ترغیب دینے کی درخواست کر رہا ہے، ایف بی آر کی طویل عرصے سے ایک ایسے سیاسی طور پر حساس شعبے میں ٹیکس قوانین کے نفاذ میں ناکامی یا عدم دلچسپی عیاں ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا سیاسی عزم نہ ہونا ہے۔</p>
<p>اس کی وجہ کوئی راز نہیں۔ ریٹیلرز اور ہول سیلرز ایک بااثر سیاسی حلقہ تشکیل دیتے ہیں۔</p>
<p>جب بھی انہیں مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ احتجاج، دکانیں بند کرنے اور ہڑتالوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں جبکہ حکومتیں اکثر ایک طاقتور ووٹر گروپ سے محاذ آرائی کا خطرہ مول لینے کے بجائے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں یا انہیں محدود کردیتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس شعبے سے غیر معمولی احتیاط کے ساتھ نمٹا اور مسلسل قانون پر عملدرآمد کے بجائے مذاکرات، مراعات اور آسان تر اسکیموں کو ترجیح دی۔ نتیجتاً ایک انتہائی غیر منصفانہ ٹیکس نظام وجود میں آیا جس میں قانون کی پابندی کرنے والے شہری اور کاروباری ادارے ٹیکس کے بڑھتے بوجھ کا بڑا حصہ اٹھا رہے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑا حصہ ناکافی ٹیکس ادا کررہا ہے۔</p>
<p>حالیہ ریٹیلرز اسکیم اس مسئلے کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل انفرادی ریٹیلرز جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہے مجموعی کاروباری حجم کے صرف ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرسکتے ہیں، تاہم کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔</p>
<p>اس کے عوض انہیں آسان ٹیکس تعمیل، معمول کے آڈٹ سے استثنیٰ اور بعض ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داریوں سے ریلیف حاصل ہوگا جبکہ پی او ایس اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرائط بھی لاگو نہیں ہوں گی۔ اگر اس آسان طریقہ کار کے ذریعے واقعی چھوٹے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو یہ قابلِ دفاع اقدام ہے۔ تاہم ٹیکس تعمیل کو آسان بنانے اور مؤثر ٹیکس وصولی سے دستبردار ہونے میں بنیادی فرق ہے۔</p>
<p>انکم ٹیکس عام طور پر آمدن پر عائد کیا جاتا ہے، فروخت پر نہیں۔ کسی ریٹیلر کی حقیقی ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت کا تعین جائز کاروباری اخراجات منہا کرنے کے بعد حاصل ہونے والی خالص آمدن سے ہوتا ہے۔ تاہم نئے انتظام کے تحت عملاً اس جائزے کے بجائے کاروباری حجم پر یکساں شرح سے ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ریٹیلرز کو جو آسان ٹیکس ریٹرن جمع کرانا ہوتا ہے، اس میں سالانہ فروخت، خریداری، کاروباری اخراجات، خالص منافع اور اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں۔</p>
<p>اگر یہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تو پھر انہیں ٹیکس دہندہ کی حقیقی ٹیکس ذمہ داری کے تعین کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟ کاروباری حجم کی بنیاد پر اختیار کیا گیا یہ مختصر طریقہ قابلِ ٹیکس آمدن اور قابلِ ادا ٹیکس کے درمیان تعلق کو کمزور کرتا ہے، مختلف منافع کی شرح رکھنے والے کاروبار کے درمیان عدم توازن پیدا کرتا ہے اور کم آمدن ظاہر کرنے یا غیر واضح دولت کو جائز قرار دینے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔</p>
<p>برسوں سے جاری اس نرمی کے نتائج محصولات کے اعدادوشمار میں واضح  نظر آتے ہیں۔ خوردہ اور تھوک کاروبار نے اپنی معاشی اہمیت کے باوجود تاریخی طور پر ٹیکس وصولیوں میں انتہائی کم حصہ ڈالا ہے۔</p>
<p>2024 میں اندازاً 35 لاکھ ریٹیلرز میں سے صرف تقریباً 3 لاکھ فعال طور پر ٹیکس ریٹرنز جمع کرارہے تھے۔ تازہ ترین ودہولڈنگ ٹیکس کے اعدادوشمار بھی اس تفاوت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ریٹیلرز اور ہول سیلرز نے صرف 12 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جو سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد کم ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے نے اس سے 79 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا، یعنی حیران کن طور پر 658 فیصد زیادہ۔</p>
<p>یہ پائیدار ٹیکس پالیسی نہیں ہے۔ ایف بی آر کو بلاشبہ چھوٹے کاروبارں کے لیے ٹیکس قوانین کی تعمیل آسان بنانی چاہیے لیکن سہولت کاری کا مطلب ترجیحی سلوک نہیں ہوسکتا۔ اگر ریاست سیاسی طور پر بااثر ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نظام کی مکمل سختیوں سے مسلسل تحفظ فراہم کرتی رہی تو وہ پہلے ہی ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے شہریوں سے یہ توقع نہیں کرسکتی کہ وہ مزید بڑھتے ہوئے مطالبات کو قبول کرتے رہیں گے۔</p>
<p>حل یہ نہیں کہ ریٹیلرز کو ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور مہم شروع کی جائے۔ ضرورت ایسی ٹیکس انتظامیہ کی ہے جو متعلقہ سیاسی حلقے سے قطع نظر قانون کا یکساں طور پر نفاذ یقینی بنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291386</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 11:45:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18113524a16c29e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18113524a16c29e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>18ویں ترمیم، اختیارات کی منتقلی صرف کاغذوں تک محدود؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291380/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بڑے پیمانے پر ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کیے جانے کے 16 سال بعد بھی وفاقی حکومت ان شعبوں میں 17 وزارتیں چلا رہی ہے جو صوبوں کو منتقل کیے جا چکے تھے۔ اس غیر معمولی ناکامی نے اب سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کو حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دینے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ صحت، تعلیم، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، صنعت، ثقافت اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت ان شعبوں سے متعلق وزارتوں کو ختم کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے عدم تعمیل پر وزیراعظم شہباز شریف کو طلب کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ کسی ایسے معاملے کا، جو اتنے عرصے پہلے آئینی طور پر طے ہو چکا تھا، آج بھی انتظامی طور پر غیر حل شدہ رہنا اس طریقے پر ایک فردِ جرم ہے جس کے تحت حکومت کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18ویں ترمیم اپریل 2010 میں آئین کا حصہ بنی، اس کے باوجود ان شعبوں سے متعلق وفاقی بیوروکریٹک ڈھانچے برقرار رہے جنہیں صوبوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض وزارتیں بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم سینیٹ کی کمیٹی نے آئینی بنیادوں پر اس وضاحت کو بجا طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سولہ سال یقیناً اتنا عرصہ ہونا چاہیے تھا کہ ضروری سمجھے جانے والے رابطہ کاری کے جو بھی جائز طریقہ کار درکار تھے، انہیں وفاقی ڈھانچے کو ان شعبوں میں برقرار رکھے بغیر قائم کیا جا سکتا، جو صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ان شعبوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کا معاملہ ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور صنعت براہِ راست معاشی کارکردگی، انسانی ترقی اور روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے شعبوں میں ذمہ داریوں کی تقسیم یا باہمی مداخلت لازماً پالیسی سازی اور جوابدہی کو پیچیدہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اختیارات اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم یا باہم متداخل ہوں تو اخراجات  دہرے ہو جاتے ہیں، انتظامی حدود دھندلا جاتی ہیں اور حکومتوں کو یہ آسان راستہ مل جاتا ہے کہ جب نتائج خراب ہوں تو وہ ذمہ داری حکومت کی دوسری سطح پر ڈال دیں۔ پاکستان پہلے ہی کمزور عمل درآمد کا شکار ہے؛ اس میں ادارہ جاتی ابہام کا اضافہ صورتحال کو مزید خراب ہی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک مانوس بیوروکریٹک مسئلہ بھی کارفرما ہے۔ سرکاری محکمے اور وزارتیں شاذ و نادر ہی رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بجٹ، عہدے، اثر و رسوخ اور وسائل پر کنٹرول وابستہ ہوتا ہے، اور یہ سب کسی ادارے کے اصل جواز ختم ہو جانے کے طویل عرصے بعد بھی اس کے برقرار رہنے کے لیے مضبوط ترغیبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی نااہلی اس سرپرستی اور بدعنوانی سے مل جاتی ہے جس نے کئی دہائیوں سے طرز حکمرانی کو متاثر کر رکھا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اکثر حجم میں کمی، ادارہ جاتی معقولیت اور اخراجات میں کمی کے وعدے کرتی رہی ہیں، لیکن ایسے ڈھانچے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل مکمل ہونے والی آئینی اصلاح کے تحت ختم ہو جانے چاہیے تھے، اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کے بارے میں اچانک مقبول ہونے والی بحث کے حوالے سے بھی ایک مفید تناظر فراہم کرتا ہے۔ ایسی تجاویز یقیناً غور کی مستحق ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی حکومت کا 2010 میں طے کی گئی آئینی تنظیم نو مکمل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہونا بڑے نئے منصوبوں پر اعتماد کو کم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی انتظامی ڈھانچے تشکیل دینے سے پہلے پالیسی سازوں کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ موجودہ آئینی انتظامات پر عمل درآمد اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا ہے۔ اس معاملے سے سبق صرف سیاسی ارادے ہی نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت سے بھی متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر بھی موجودہ صورتحال کو مزید طول دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے حکومت کو کارروائی کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے نتیجے میں ایک واضح تفصیل سامنے آنی چاہیے کہ کون سے اختیارات وفاقی سطح پر باقی ہیں، وہ وہاں کیوں باقی ہیں، ان کے برقرار رہنے کی قانونی بنیاد کیا ہے اور حکومت زیر التوا اختیارات کی منتقلی مکمل کرنے کا ارادہ کیسے رکھتی ہے۔ اگر حقیقی آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں تو ان کی شفاف انداز میں نشاندہی کی جانی چاہیے اور مناسب طریقہ کار کے ذریعے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بڑی ناکامی طرز حکمرانی کی ہے۔ پاکستان اصلاحات منظور کرتا ہے، عمل درآمد کے طریقہ کار تشکیل دیتا ہے، اقدامات کی تکمیل کا اعلان کرتا ہے اور پھر برسوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ پرانے نظام کا ایک بڑا حصہ اب بھی کام کر رہا ہے۔ نااہلی، ادارہ جاتی جمود اور مفاداتی گروہوں نے بارہا اصلاحات کو ایسے عمل میں تبدیل کر دیا ہے جو بڑی حد تک صرف کاغذوں پر ہی مکمل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18ویں ترمیم کے 16 سال بعد اب مزید وقت مانگنے کی کوئی قابلِ قبول گنجائش نہیں ہو سکتی۔ آئین نے بہت پہلے ہی سمت کا تعین کر دیا تھا۔ اب حکومت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ بظاہر 17 وزارتیں اس خاتمے سے کیوں رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بڑے پیمانے پر ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کیے جانے کے 16 سال بعد بھی وفاقی حکومت ان شعبوں میں 17 وزارتیں چلا رہی ہے جو صوبوں کو منتقل کیے جا چکے تھے۔ اس غیر معمولی ناکامی نے اب سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کو حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دینے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ صحت، تعلیم، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، صنعت، ثقافت اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت ان شعبوں سے متعلق وزارتوں کو ختم کرے۔</strong></p>
<p>کمیٹی نے عدم تعمیل پر وزیراعظم شہباز شریف کو طلب کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ کسی ایسے معاملے کا، جو اتنے عرصے پہلے آئینی طور پر طے ہو چکا تھا، آج بھی انتظامی طور پر غیر حل شدہ رہنا اس طریقے پر ایک فردِ جرم ہے جس کے تحت حکومت کام کرتی ہے۔</p>
<p>18ویں ترمیم اپریل 2010 میں آئین کا حصہ بنی، اس کے باوجود ان شعبوں سے متعلق وفاقی بیوروکریٹک ڈھانچے برقرار رہے جنہیں صوبوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض وزارتیں بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم سینیٹ کی کمیٹی نے آئینی بنیادوں پر اس وضاحت کو بجا طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سولہ سال یقیناً اتنا عرصہ ہونا چاہیے تھا کہ ضروری سمجھے جانے والے رابطہ کاری کے جو بھی جائز طریقہ کار درکار تھے، انہیں وفاقی ڈھانچے کو ان شعبوں میں برقرار رکھے بغیر قائم کیا جا سکتا، جو صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔</p>
<p>یہ صورتحال ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ان شعبوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کا معاملہ ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور صنعت براہِ راست معاشی کارکردگی، انسانی ترقی اور روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے شعبوں میں ذمہ داریوں کی تقسیم یا باہمی مداخلت لازماً پالیسی سازی اور جوابدہی کو پیچیدہ بناتا ہے۔</p>
<p>جب اختیارات اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم یا باہم متداخل ہوں تو اخراجات  دہرے ہو جاتے ہیں، انتظامی حدود دھندلا جاتی ہیں اور حکومتوں کو یہ آسان راستہ مل جاتا ہے کہ جب نتائج خراب ہوں تو وہ ذمہ داری حکومت کی دوسری سطح پر ڈال دیں۔ پاکستان پہلے ہی کمزور عمل درآمد کا شکار ہے؛ اس میں ادارہ جاتی ابہام کا اضافہ صورتحال کو مزید خراب ہی کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہاں ایک مانوس بیوروکریٹک مسئلہ بھی کارفرما ہے۔ سرکاری محکمے اور وزارتیں شاذ و نادر ہی رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بجٹ، عہدے، اثر و رسوخ اور وسائل پر کنٹرول وابستہ ہوتا ہے، اور یہ سب کسی ادارے کے اصل جواز ختم ہو جانے کے طویل عرصے بعد بھی اس کے برقرار رہنے کے لیے مضبوط ترغیبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی نااہلی اس سرپرستی اور بدعنوانی سے مل جاتی ہے جس نے کئی دہائیوں سے طرز حکمرانی کو متاثر کر رکھا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اکثر حجم میں کمی، ادارہ جاتی معقولیت اور اخراجات میں کمی کے وعدے کرتی رہی ہیں، لیکن ایسے ڈھانچے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل مکمل ہونے والی آئینی اصلاح کے تحت ختم ہو جانے چاہیے تھے، اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔</p>
<p>یہ معاملہ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کے بارے میں اچانک مقبول ہونے والی بحث کے حوالے سے بھی ایک مفید تناظر فراہم کرتا ہے۔ ایسی تجاویز یقیناً غور کی مستحق ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی حکومت کا 2010 میں طے کی گئی آئینی تنظیم نو مکمل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہونا بڑے نئے منصوبوں پر اعتماد کو کم کرنا چاہیے۔</p>
<p>اضافی انتظامی ڈھانچے تشکیل دینے سے پہلے پالیسی سازوں کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ موجودہ آئینی انتظامات پر عمل درآمد اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا ہے۔ اس معاملے سے سبق صرف سیاسی ارادے ہی نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت سے بھی متعلق ہے۔</p>
<p>فوری طور پر بھی موجودہ صورتحال کو مزید طول دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے حکومت کو کارروائی کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے نتیجے میں ایک واضح تفصیل سامنے آنی چاہیے کہ کون سے اختیارات وفاقی سطح پر باقی ہیں، وہ وہاں کیوں باقی ہیں، ان کے برقرار رہنے کی قانونی بنیاد کیا ہے اور حکومت زیر التوا اختیارات کی منتقلی مکمل کرنے کا ارادہ کیسے رکھتی ہے۔ اگر حقیقی آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں تو ان کی شفاف انداز میں نشاندہی کی جانی چاہیے اور مناسب طریقہ کار کے ذریعے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس سے بڑی ناکامی طرز حکمرانی کی ہے۔ پاکستان اصلاحات منظور کرتا ہے، عمل درآمد کے طریقہ کار تشکیل دیتا ہے، اقدامات کی تکمیل کا اعلان کرتا ہے اور پھر برسوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ پرانے نظام کا ایک بڑا حصہ اب بھی کام کر رہا ہے۔ نااہلی، ادارہ جاتی جمود اور مفاداتی گروہوں نے بارہا اصلاحات کو ایسے عمل میں تبدیل کر دیا ہے جو بڑی حد تک صرف کاغذوں پر ہی مکمل ہوتا ہے۔</p>
<p>18ویں ترمیم کے 16 سال بعد اب مزید وقت مانگنے کی کوئی قابلِ قبول گنجائش نہیں ہو سکتی۔ آئین نے بہت پہلے ہی سمت کا تعین کر دیا تھا۔ اب حکومت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ بظاہر 17 وزارتیں اس خاتمے سے کیوں رہ گئیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291380</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 10:25:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/181023412de8f92.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/181023412de8f92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول کی قیمت میں ریلیف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291346/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تجویز کردہ تین ماہ کے لیے 75 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ماہانہ 24.6 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس پیکیج کے تحت 1 کروڑ 18 لاکھ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو فی لٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ زیادہ سے زیادہ ریلیف 2 ہزار روپے رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 20 لیٹر تک اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 30 لیٹر تک ریلیف کے اہل ہوں گے۔ پٹرولیم کے وزیر پرویز ملک کے مطابق یہ تجویز وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے اور یہ جماعت اسلامی کی جانب سے 11 ستمبر کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو تجاویز پیش کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز میں موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 1.67 کھرب روپے آمدن کا ہدف رکھنے والی پیٹرولیم لیوی کو کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کرنے اور اس کے متبادل کے طور پر درج ذیل اقدامات تجویز کیے تھے: درآمدی پرتعیش اشیا پر موجودہ ٹیکسز میں اضافہ، ایک ارب روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ انکم ٹیکس، شرحِ سود میں کمی، مراعات کا خاتمہ، زرعی انکم ٹیکس، کارپوریشنز اور کاروبار پر کاربن لیوی میں اضافہ، ویلتھ ٹیکس اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اپنے مجوزہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کے ساتھ جماعت اسلامی کی تجاویز پر عملدرآمد میں بھی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اور پھیلتے تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی قلت روز بروز بڑھ رہی ہے، بالخصوص سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے تناظر میں۔ یہی صورتحال حکومت کو رواں سال 17 جولائی کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کرچکی ہے کہ اس نے پٹرولیم  قیمتوں کے تعین کے لیے پندرہ روزہ قیمتوں کے نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار اختیار کرلیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعات کے بھی جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے، اس لیے خدشہ ہے کہ تین ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ ریلیف پیکیج ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیکیج اگرچہ نیک نیتی پر مبنی دکھائی دیتا ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے محض تاثر کے لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کے حوالے سے حکومت کی تشویش کا اظہار کیا جاسکے۔ تاہم، اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت موٹر سائیکل تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ یہ طبقہ بڑی حد تک پبلک ٹرانسپورٹ، یعنی ایچ ایس ڈی پر چلنے والی بسوں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کی قیمت میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ اگر پٹرول اور ایچ ایس ڈی پر پیٹرولیم لیوی کم کرکے اس کی وصولی کا ہدف 75 ارب روپے کم کردیا جاتا تو یہ اقدام کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے لیے اپنے لیے مالی گنجائش پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے جاری اخراجات میں کمی کرے، جو بدستور مجموعی بجٹ حجم کا 93 فیصد ہیں۔ اس میں مارک اپ ادائیگیوں میں کمی بھی شامل ہوسکتی ہے جو شرح سود میں کمی کے ذریعے ممکن ہے، تاہم افراط زر میں اضافے کے پیش نظر اس بات پر شبہ ہے کہ آئی ایم ایف اس کی منظوری دے گا۔ اس کے علاوہ پنشن کے لیے مختص رقم بڑھ کر 1.16 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے جو اس شعبے میں اصلاحات کے تاحال زیر التوا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ ایسے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جن کی اجرتیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کی ملک میں ترقی کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی کا انحصار دوست ممالک سے زیادہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے پر تھا۔ اس تناظر میں یہ امر اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے خلیجی ممالک کے مالی فاضل وسائل کو شدید متاثر کیا ہے۔سعودی عرب کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 9.1 ارب ڈالر سے زائد کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وہ ایران کے ساتھ علاقائی تنازع کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کم از کم 8 ارب ڈالر کے نئے بینک قرض کے حصول کے لیے ابتدائی مذاکرات کررہا ہے۔ سعودی آرامکو بھی الگ سے ابتدائی مرحلے میں قرض کے حصول کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی تنازع کے باعث تیل کی فروخت میں نمایاں کمی کے بعد امریکا سے مالی معاونت کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تجویز کردہ تین ماہ کے لیے 75 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ماہانہ 24.6 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس پیکیج کے تحت 1 کروڑ 18 لاکھ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو فی لٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ماہانہ زیادہ سے زیادہ ریلیف 2 ہزار روپے رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 20 لیٹر تک اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 30 لیٹر تک ریلیف کے اہل ہوں گے۔ پٹرولیم کے وزیر پرویز ملک کے مطابق یہ تجویز وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے اور یہ جماعت اسلامی کی جانب سے 11 ستمبر کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو تجاویز پیش کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز میں موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 1.67 کھرب روپے آمدن کا ہدف رکھنے والی پیٹرولیم لیوی کو کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کرنے اور اس کے متبادل کے طور پر درج ذیل اقدامات تجویز کیے تھے: درآمدی پرتعیش اشیا پر موجودہ ٹیکسز میں اضافہ، ایک ارب روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ انکم ٹیکس، شرحِ سود میں کمی، مراعات کا خاتمہ، زرعی انکم ٹیکس، کارپوریشنز اور کاروبار پر کاربن لیوی میں اضافہ، ویلتھ ٹیکس اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔</p>
<p>حکومت کو اپنے مجوزہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کے ساتھ جماعت اسلامی کی تجاویز پر عملدرآمد میں بھی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اور پھیلتے تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی قلت روز بروز بڑھ رہی ہے، بالخصوص سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے تناظر میں۔ یہی صورتحال حکومت کو رواں سال 17 جولائی کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کرچکی ہے کہ اس نے پٹرولیم  قیمتوں کے تعین کے لیے پندرہ روزہ قیمتوں کے نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار اختیار کرلیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعات کے بھی جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے، اس لیے خدشہ ہے کہ تین ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ ریلیف پیکیج ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<p>یہ پیکیج اگرچہ نیک نیتی پر مبنی دکھائی دیتا ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے محض تاثر کے لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کے حوالے سے حکومت کی تشویش کا اظہار کیا جاسکے۔ تاہم، اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت موٹر سائیکل تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ یہ طبقہ بڑی حد تک پبلک ٹرانسپورٹ، یعنی ایچ ایس ڈی پر چلنے والی بسوں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کی قیمت میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ اگر پٹرول اور ایچ ایس ڈی پر پیٹرولیم لیوی کم کرکے اس کی وصولی کا ہدف 75 ارب روپے کم کردیا جاتا تو یہ اقدام کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا تھا۔</p>
<p>حکومت کے لیے اپنے لیے مالی گنجائش پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے جاری اخراجات میں کمی کرے، جو بدستور مجموعی بجٹ حجم کا 93 فیصد ہیں۔ اس میں مارک اپ ادائیگیوں میں کمی بھی شامل ہوسکتی ہے جو شرح سود میں کمی کے ذریعے ممکن ہے، تاہم افراط زر میں اضافے کے پیش نظر اس بات پر شبہ ہے کہ آئی ایم ایف اس کی منظوری دے گا۔ اس کے علاوہ پنشن کے لیے مختص رقم بڑھ کر 1.16 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے جو اس شعبے میں اصلاحات کے تاحال زیر التوا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ ایسے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جن کی اجرتیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی جاتی ہیں۔</p>
<p>یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کی ملک میں ترقی کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی کا انحصار دوست ممالک سے زیادہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے پر تھا۔ اس تناظر میں یہ امر اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے خلیجی ممالک کے مالی فاضل وسائل کو شدید متاثر کیا ہے۔سعودی عرب کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 9.1 ارب ڈالر سے زائد کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وہ ایران کے ساتھ علاقائی تنازع کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کم از کم 8 ارب ڈالر کے نئے بینک قرض کے حصول کے لیے ابتدائی مذاکرات کررہا ہے۔ سعودی آرامکو بھی الگ سے ابتدائی مرحلے میں قرض کے حصول کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی تنازع کے باعث تیل کی فروخت میں نمایاں کمی کے بعد امریکا سے مالی معاونت کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291346</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Sep 2026 13:21:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1713082751aaed2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="639">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1713082751aaed2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پالیسی ریٹ برقرار رکھنا درست فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود میں کوئی بھی اضافہ حکومت (جو سب سے بڑا قرض لینے والا فریق ہے) کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیتا جس کے نتیجے میں شرحِ نمو پر منفی اثر پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شرحِ سود میں کمی کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا جس نے 20 مئی کو تیسرے سہ ماہی جائزہ مشن کے اختتام پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی مؤقف برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ ثانوی اثرات کی مسلسل قریبی نگرانی جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ کے جاری اور پھیلتے ہوئے تنازع کے ساتھ ساتھ روس-یوکرین تنازع کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کے تخمینے بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر قیمتوں کا استحکام حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے جس کا تعین ایس بی پی او ایکٹ 1956 کی دفعہ 4 (بی) میں کیا گیا ہے جس میں جنوری 2022 تک ترامیم کی گئی تھیں۔ یہ ترمیم آئی ایم ایف کی ایک قسط کے اجرا کی شرط تھی جس کا مقصد مرکزی بینک اور اس کے اعلیٰ حکام کو حکومت کی انتظامیہ یعنی ایگزیکٹو برانچ کے کسی بھی اثر و رسوخ سے آزاد بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کی ویب سائٹ پر وضاحت کی گئی ہے کہ قیمتوں کا استحکام کم اور مستحکم افراطِ زر کو برقرار رکھنے سے عبارت ہے جس کے لیے حکومت کے درمیانی مدت کے افراطِ زر کے ہدف کو رہنما اصول بنایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد گزشتہ ایک سال کے دوران جاری کیے گئے بیشتر مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں برقرار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ بات حیران کن نہیں کہ 14 ستمبر کے مانیٹری پالیسی بیان (ایم پی ایس) میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر مالی سال 2027 کے لیے افراطِ زر کا منظرنامہ گزشتہ جائزے کے مقابلے میں بڑی حد تک برقرار ہے اور توقع ہے کہ جون 2027 تک افراطِ زر بتدریج 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد کی بالائی سطح کی جانب کم ہوگا تاہم اس منظرنامے کو لاحق خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں جن خطرات کی نشاندہی کی گئی ان میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل کی شدت، رسد میں تعطل اور ایل نینو کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا مشن جو چوتھی سہ ماہی کے جائزے کے لیے اس ماہ کی 23 تاریخ کو آنے والا ہے (جس کی کامیابی سے اگلی قسط جاری ہوگی) پالیسی ریٹ میں اضافے پر زور دے سکتا ہے اگر جغرافیائی سیاسی صورتحال ایندھن کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کرتی رہی اور پاکستان جیسے ملک کے لیے جو اس وقت ایک سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے اور جیسا کہ ایم پی ایس میں ذکر کیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے درجے کے اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں مہنگائی زیادہ تیزی سے بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ممالک میں افراطِ زر کی شرح پاکستان کے مقابلے میں کم ہے۔ اگست میں بھارت میں یہ شرح 4.82 فیصد، بنگلہ دیش میں 8.2 فیصد، سری لنکا میں 8 فیصد اور چین میں 0.8 فیصد رہی جو ان ممالک کی متعلقہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد ہوگیا یعنی 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 27 اپریل کو پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 10.5 فیصد سے بڑھایا گیا تھا کیونکہ افراطِ زر اپریل کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 11.7 فیصد ہوگیا تھا یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ آج افراطِ زر میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے 17 جولائی سے پٹرولیم قیمتوں میں ہر 24 گھنٹے بعد ردوبدل کا فیصلہ ہے جو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں اگلا مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس 26 اکتوبر کو ہوگا، لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ افراطِ زر میں کمی آئے گی اور جغرافیائی سیاسی عوامل مزید اثرانداز نہیں ہوں گے جس سے ایم پی سی کو پالیسی ریٹ میں کمی کا موقع ملے گا، جو معاشی نمو کے فروغ کے لیے ایک اقدام ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیے۔</strong></p>
<p>شرحِ سود میں کوئی بھی اضافہ حکومت (جو سب سے بڑا قرض لینے والا فریق ہے) کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیتا جس کے نتیجے میں شرحِ نمو پر منفی اثر پڑتا۔</p>
<p>اور شرحِ سود میں کمی کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا جس نے 20 مئی کو تیسرے سہ ماہی جائزہ مشن کے اختتام پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی مؤقف برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ ثانوی اثرات کی مسلسل قریبی نگرانی جاری رکھے گا۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ کے جاری اور پھیلتے ہوئے تنازع کے ساتھ ساتھ روس-یوکرین تنازع کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کے تخمینے بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر قیمتوں کا استحکام حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے جس کا تعین ایس بی پی او ایکٹ 1956 کی دفعہ 4 (بی) میں کیا گیا ہے جس میں جنوری 2022 تک ترامیم کی گئی تھیں۔ یہ ترمیم آئی ایم ایف کی ایک قسط کے اجرا کی شرط تھی جس کا مقصد مرکزی بینک اور اس کے اعلیٰ حکام کو حکومت کی انتظامیہ یعنی ایگزیکٹو برانچ کے کسی بھی اثر و رسوخ سے آزاد بنانا تھا۔</p>
<p>ایس بی پی کی ویب سائٹ پر وضاحت کی گئی ہے کہ قیمتوں کا استحکام کم اور مستحکم افراطِ زر کو برقرار رکھنے سے عبارت ہے جس کے لیے حکومت کے درمیانی مدت کے افراطِ زر کے ہدف کو رہنما اصول بنایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد گزشتہ ایک سال کے دوران جاری کیے گئے بیشتر مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں برقرار رہی ہے۔</p>
<p>لہٰذا یہ بات حیران کن نہیں کہ 14 ستمبر کے مانیٹری پالیسی بیان (ایم پی ایس) میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر مالی سال 2027 کے لیے افراطِ زر کا منظرنامہ گزشتہ جائزے کے مقابلے میں بڑی حد تک برقرار ہے اور توقع ہے کہ جون 2027 تک افراطِ زر بتدریج 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد کی بالائی سطح کی جانب کم ہوگا تاہم اس منظرنامے کو لاحق خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں جن خطرات کی نشاندہی کی گئی ان میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل کی شدت، رسد میں تعطل اور ایل نینو کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا مشن جو چوتھی سہ ماہی کے جائزے کے لیے اس ماہ کی 23 تاریخ کو آنے والا ہے (جس کی کامیابی سے اگلی قسط جاری ہوگی) پالیسی ریٹ میں اضافے پر زور دے سکتا ہے اگر جغرافیائی سیاسی صورتحال ایندھن کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کرتی رہی اور پاکستان جیسے ملک کے لیے جو اس وقت ایک سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے اور جیسا کہ ایم پی ایس میں ذکر کیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے درجے کے اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں مہنگائی زیادہ تیزی سے بڑھے گی۔</p>
<p>علاقائی ممالک میں افراطِ زر کی شرح پاکستان کے مقابلے میں کم ہے۔ اگست میں بھارت میں یہ شرح 4.82 فیصد، بنگلہ دیش میں 8.2 فیصد، سری لنکا میں 8 فیصد اور چین میں 0.8 فیصد رہی جو ان ممالک کی متعلقہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد ہوگیا یعنی 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 27 اپریل کو پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 10.5 فیصد سے بڑھایا گیا تھا کیونکہ افراطِ زر اپریل کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 11.7 فیصد ہوگیا تھا یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ آج افراطِ زر میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے 17 جولائی سے پٹرولیم قیمتوں میں ہر 24 گھنٹے بعد ردوبدل کا فیصلہ ہے جو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں اگلا مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس 26 اکتوبر کو ہوگا، لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ افراطِ زر میں کمی آئے گی اور جغرافیائی سیاسی عوامل مزید اثرانداز نہیں ہوں گے جس سے ایم پی سی کو پالیسی ریٹ میں کمی کا موقع ملے گا، جو معاشی نمو کے فروغ کے لیے ایک اقدام ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291297</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2026 12:29:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/161220405b4c9b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/161220405b4c9b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
