<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 21:47:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 21:47:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی، کے ایس ای 100 انڈیکس کمپنیوں کا منافع 609 ارب روپے رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291974/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 609 ارب روپے کا منافع کمایا جو سالانہ  34 فیصد اور سہ ماہی 20 فیصد زیادہ ہے جبکہ پورے مالی سال 26 میں کمپنیوں کا مجموعی منافع 18 فیصد اضافے سے 2.01 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ادارے نے بتایا کہ اس کے تجزیے میں 100 انڈیکس کی 100 میں سے 88 کمپنیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے اپنے مالی نتائج جاری کردیے ہیں۔ یہ کمپنیاں انڈیکس کی مجموعی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا تقریباً 96 فیصد بنتی ہیں۔ ادارے کے مطابق باقی کمپنیوں کو شامل کرنے سے مجموعی منافع میں اضافے کے رجحان پر کوئی نمایاں اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کے لحاظ سے 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کا چوتھی سہ ماہی کے دوران مجموعی منافع 2.0 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) سیکٹر نے بڑے شعبوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جس کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 2.6 گنا اور سہ ماہی  2.3 گنا بڑھ کر 214.2 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ سپر ٹیکس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹیکس کی مد میں ہونے والی نمایاں ریورسل تھی۔ شعبے کا پورے مالی سال 26 کا منافع 32 فیصد اضافے سے 461 ارب روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ  27 فیصد اور سہ ماہی 38 فیصد بڑھ کر 54.3 ارب روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ  اضافے کی وجہ خالص فروخت اور دیگر آمدنی میں اضافہ قرار دیا گیا جبکہ سہ ماہی بنیاد پر نمو مجموعی منافع میں اضافے کے باعث ہوئی۔ مالی سال 26 میں سیمنٹ سیکٹر کا منافع 14 فیصد بڑھ کر 182.8 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ خالص فروخت میں اضافہ تھا جبکہ مقامی ڈسپیچز میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرٹیلائزر سیکٹر کا منافع چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 35 فیصد اور سہ ماہی 70 فیصد بڑھ کر 49.5 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق سالانہ بنیاد پر اضافے کی وجہ یوریا کی فروخت کے حجم میں اضافہ تھا،جبکہ سہ ماہی بنیاد پر اضافے کی بنیادی وجہ ایس آئی ڈی سی سے متعلق ڈسکاؤنٹنگ آمدنی سے حاصل ہونے والے ایک مرتبہ کے منافع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل سیکٹر کی آمدنی سالانہ 42 فیصد اور سہ ماہی  4 فیصد بڑھ کر 31.4 ارب روپے ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ فروخت میں اضافہ اور آٹو فنانسنگ میں بہتری قرار دی گئی۔ پورے مالی سال 26 میں آٹو سیکٹر کا منافع 33 فیصد اضافے سے 108.2 ارب روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوڈ اینڈ پرسنل کیئر کمپنیوں نے 15.8 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا جو سالانہ 7 فیصد زیادہ جبکہ سہ ماہی 13 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہ ماہی  کمی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع تھا جس کے باعث سیکٹر کے مارجنز میں سہ ماہی بنیاد پر 28 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنری سیکٹر کا منافع سالانہ 132 فیصد بڑھ کر 1.1 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ مجموعی ریفائننگ مارجنز میں اضافہ تھا۔ تاہم انوینٹری نقصانات اور ایک مرتبہ کے ایڈجسٹمنٹس کے باعث منافع سہ ماہی بنیاد پر 96 فیصد کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارماسیوٹیکل سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 10 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 37 فیصد کم ہوکر 5.3 ارب روپے رہ گیا۔ سہ ماہی بنیاد پر کمی کی وجہ فروخت کے حجم میں کمی اور دی سیرل کمپنی میں ایک مرتبہ کی ایڈجسٹمنٹ کو قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر شعبوں میں پاور، کیمیکلز اور ٹیکسٹائلز نے بالترتیب سالانہ بنیاد پر 39 فیصد، 108 فیصد اور 132 فیصد منافع میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ دریں اثنا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 21 ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی جس کی بنیادی وجہ پاکستان اسٹیٹ آئل کو ہونے والے انوینٹری نقصانات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی  کے دوران 291.1 ارب روپے کے نقد منافع  کا اعلان کیا جو مالی سال 2025 کی اسی سہ ماہی کے 281.6 ارب روپے کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ سہ ماہی کے دوران منافع کی ادائیگی کا تناسب مجموعی منافع کا تقریباً 48 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ تناسب 62 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہ ماہی بنیاد پر نقد منافع کی ادائیگی میں 93 فیصد اضافہ ہوا جو مالی سال کے اختتام کے قریب کمپنیوں کی جانب سے منافع کی ادائیگی میں معمول کے مطابق ہونے والے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے مالی سال کے دوران کے ایس ای 100 کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ نقد منافع 904.4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو 11 فیصد اضافہ ہے جبکہ منافع کی ادائیگی کا تناسب تقریباً 45 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی سہ ماہی میں بینکنگ سیکٹر نقد منافع کی ادائیگی میں سب سے بڑا حصہ دار رہا، جس نے 92 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد ای اینڈ پی کمپنیوں نے 85 ارب روپے جبکہ فرٹیلائزر کمپنیوں نے 23 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ سیکٹر میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے 20.0 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد میزان بینک نے 14.4 ارب روپے اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان  نے 11.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی) نے سب سے زیادہ 25.8 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ ماری پیٹرولیم نے 22.4 ارب روپے، پاکستان آئل فیلڈز  نے 20.6 ارب روپے جبکہ پاکستان پٹرولیم نے 16.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرٹیلائزر سیکٹر میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے 20.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، جبکہ اینگرو فرٹیلائزرز  نے 2.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل سیکٹر میں ملت ٹریکٹرز نے 4.4 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا اس کے بعد انڈس موٹر کمپنی  نے 3.6 ارب روپے اور سازگار انجینئرنگ ورکس نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوڈ اینڈ پرسنل کیئر سیکٹر میں نیسلے پاکستان نے 9.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد یونی لیور پاکستان فوڈز  نے 2.2 ارب روپے اور نیشنل فوڈز نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ کمپنیوں میں لکی سیمنٹ نے 7.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد بیسٹ وے سیمنٹ  نے 5.9 ارب روپے اور فوجی سیمنٹ نے 3.7 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور سیکٹر میں حب پاور کمپنی  نے 6.5 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا جبکہ کوٹ ادو پاور کمپنی  نے 1.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارماسیوٹیکل سیکٹر نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 4.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان  نے 2.2 ارب روپے، ہیلیون پاکستان نے 1.2 ارب روپے جبکہ اے جی پی لمیٹڈ  نے 560 ملین روپے ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ٹاپ لائن کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران منافع میں بحالی کو ای اینڈ پی کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور آٹو موبائل کمپنیوں کی مضبوط شراکت سے تقویت ملی جبکہ مالی سال کے دوران منافع کی تقسیم میں بھی اضافہ ہوا، جو کئی بڑے شعبوں اور کمپنیوں کی جانب سے زیادہ منافع کی ادائیگی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 609 ارب روپے کا منافع کمایا جو سالانہ  34 فیصد اور سہ ماہی 20 فیصد زیادہ ہے جبکہ پورے مالی سال 26 میں کمپنیوں کا مجموعی منافع 18 فیصد اضافے سے 2.01 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔</strong></p>
<p>تحقیقی ادارے نے بتایا کہ اس کے تجزیے میں 100 انڈیکس کی 100 میں سے 88 کمپنیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے اپنے مالی نتائج جاری کردیے ہیں۔ یہ کمپنیاں انڈیکس کی مجموعی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا تقریباً 96 فیصد بنتی ہیں۔ ادارے کے مطابق باقی کمپنیوں کو شامل کرنے سے مجموعی منافع میں اضافے کے رجحان پر کوئی نمایاں اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔</p>
<p>ڈالر کے لحاظ سے 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کا چوتھی سہ ماہی کے دوران مجموعی منافع 2.0 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) سیکٹر نے بڑے شعبوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جس کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 2.6 گنا اور سہ ماہی  2.3 گنا بڑھ کر 214.2 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ سپر ٹیکس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹیکس کی مد میں ہونے والی نمایاں ریورسل تھی۔ شعبے کا پورے مالی سال 26 کا منافع 32 فیصد اضافے سے 461 ارب روپے ہوگیا۔</p>
<p>سیمنٹ سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ  27 فیصد اور سہ ماہی 38 فیصد بڑھ کر 54.3 ارب روپے ہوگیا۔</p>
<p>سالانہ  اضافے کی وجہ خالص فروخت اور دیگر آمدنی میں اضافہ قرار دیا گیا جبکہ سہ ماہی بنیاد پر نمو مجموعی منافع میں اضافے کے باعث ہوئی۔ مالی سال 26 میں سیمنٹ سیکٹر کا منافع 14 فیصد بڑھ کر 182.8 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ خالص فروخت میں اضافہ تھا جبکہ مقامی ڈسپیچز میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>فرٹیلائزر سیکٹر کا منافع چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 35 فیصد اور سہ ماہی 70 فیصد بڑھ کر 49.5 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق سالانہ بنیاد پر اضافے کی وجہ یوریا کی فروخت کے حجم میں اضافہ تھا،جبکہ سہ ماہی بنیاد پر اضافے کی بنیادی وجہ ایس آئی ڈی سی سے متعلق ڈسکاؤنٹنگ آمدنی سے حاصل ہونے والے ایک مرتبہ کے منافع تھے۔</p>
<p>آٹو موبائل سیکٹر کی آمدنی سالانہ 42 فیصد اور سہ ماہی  4 فیصد بڑھ کر 31.4 ارب روپے ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ فروخت میں اضافہ اور آٹو فنانسنگ میں بہتری قرار دی گئی۔ پورے مالی سال 26 میں آٹو سیکٹر کا منافع 33 فیصد اضافے سے 108.2 ارب روپے ہوگیا۔</p>
<p>فوڈ اینڈ پرسنل کیئر کمپنیوں نے 15.8 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا جو سالانہ 7 فیصد زیادہ جبکہ سہ ماہی 13 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہ ماہی  کمی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع تھا جس کے باعث سیکٹر کے مارجنز میں سہ ماہی بنیاد پر 28 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ریفائنری سیکٹر کا منافع سالانہ 132 فیصد بڑھ کر 1.1 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ مجموعی ریفائننگ مارجنز میں اضافہ تھا۔ تاہم انوینٹری نقصانات اور ایک مرتبہ کے ایڈجسٹمنٹس کے باعث منافع سہ ماہی بنیاد پر 96 فیصد کم ہوگیا۔</p>
<p>فارماسیوٹیکل سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 10 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 37 فیصد کم ہوکر 5.3 ارب روپے رہ گیا۔ سہ ماہی بنیاد پر کمی کی وجہ فروخت کے حجم میں کمی اور دی سیرل کمپنی میں ایک مرتبہ کی ایڈجسٹمنٹ کو قرار دیا گیا۔</p>
<p>دیگر شعبوں میں پاور، کیمیکلز اور ٹیکسٹائلز نے بالترتیب سالانہ بنیاد پر 39 فیصد، 108 فیصد اور 132 فیصد منافع میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ دریں اثنا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 21 ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی جس کی بنیادی وجہ پاکستان اسٹیٹ آئل کو ہونے والے انوینٹری نقصانات تھے۔</p>
<p>100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی  کے دوران 291.1 ارب روپے کے نقد منافع  کا اعلان کیا جو مالی سال 2025 کی اسی سہ ماہی کے 281.6 ارب روپے کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ سہ ماہی کے دوران منافع کی ادائیگی کا تناسب مجموعی منافع کا تقریباً 48 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ تناسب 62 فیصد تھا۔</p>
<p>سہ ماہی بنیاد پر نقد منافع کی ادائیگی میں 93 فیصد اضافہ ہوا جو مالی سال کے اختتام کے قریب کمپنیوں کی جانب سے منافع کی ادائیگی میں معمول کے مطابق ہونے والے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>پورے مالی سال کے دوران کے ایس ای 100 کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ نقد منافع 904.4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو 11 فیصد اضافہ ہے جبکہ منافع کی ادائیگی کا تناسب تقریباً 45 فیصد رہا۔</p>
<p>چوتھی سہ ماہی میں بینکنگ سیکٹر نقد منافع کی ادائیگی میں سب سے بڑا حصہ دار رہا، جس نے 92 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد ای اینڈ پی کمپنیوں نے 85 ارب روپے جبکہ فرٹیلائزر کمپنیوں نے 23 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>بینکنگ سیکٹر میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے 20.0 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد میزان بینک نے 14.4 ارب روپے اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان  نے 11.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی) نے سب سے زیادہ 25.8 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ ماری پیٹرولیم نے 22.4 ارب روپے، پاکستان آئل فیلڈز  نے 20.6 ارب روپے جبکہ پاکستان پٹرولیم نے 16.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>فرٹیلائزر سیکٹر میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے 20.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، جبکہ اینگرو فرٹیلائزرز  نے 2.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>آٹو موبائل سیکٹر میں ملت ٹریکٹرز نے 4.4 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا اس کے بعد انڈس موٹر کمپنی  نے 3.6 ارب روپے اور سازگار انجینئرنگ ورکس نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>فوڈ اینڈ پرسنل کیئر سیکٹر میں نیسلے پاکستان نے 9.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد یونی لیور پاکستان فوڈز  نے 2.2 ارب روپے اور نیشنل فوڈز نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>سیمنٹ کمپنیوں میں لکی سیمنٹ نے 7.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد بیسٹ وے سیمنٹ  نے 5.9 ارب روپے اور فوجی سیمنٹ نے 3.7 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>پاور سیکٹر میں حب پاور کمپنی  نے 6.5 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا جبکہ کوٹ ادو پاور کمپنی  نے 1.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔</p>
<p>فارماسیوٹیکل سیکٹر نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 4.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان  نے 2.2 ارب روپے، ہیلیون پاکستان نے 1.2 ارب روپے جبکہ اے جی پی لمیٹڈ  نے 560 ملین روپے ادا کیے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ٹاپ لائن کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران منافع میں بحالی کو ای اینڈ پی کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور آٹو موبائل کمپنیوں کی مضبوط شراکت سے تقویت ملی جبکہ مالی سال کے دوران منافع کی تقسیم میں بھی اضافہ ہوا، جو کئی بڑے شعبوں اور کمپنیوں کی جانب سے زیادہ منافع کی ادائیگی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291974</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:36:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ثاقب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01143339aaf5650.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01143339aaf5650.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291973/</link>
      <description>&lt;iframe id="raw-html-6abe27f6c294c" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 30000px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html lang=&amp;quot;en&amp;quot;&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;meta charset=&amp;quot;UTF-8&amp;quot;&amp;gt;
    &amp;lt;meta name=&amp;quot;viewport&amp;quot; content=&amp;quot;width=device-width, initial-scale=1.0&amp;quot;&amp;gt;
    &amp;lt;title&amp;gt;Headline Inflation Dashboard&amp;lt;/title&amp;gt;
    &amp;lt;!-- Include Google Fonts --&amp;gt;
    &amp;lt;link href=&amp;quot;https://fonts.googleapis.com/css2?family=Plus+Jakarta+Sans:wght@400;500;600;700;800&amp;amp;display=swap&amp;quot; rel=&amp;quot;stylesheet&amp;quot;&amp;gt;
    &amp;lt;!-- Include Tailwind CSS --&amp;gt;
    &amp;lt;script src=&amp;quot;https://cdn.tailwindcss.com&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;!-- Include Chart.js &amp;amp; Plugins --&amp;gt;
    &amp;lt;script src=&amp;quot;https://cdn.jsdelivr.net/npm/chart.js&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script src=&amp;quot;https://cdn.jsdelivr.net/npm/chartjs-plugin-datalabels&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    
    &amp;lt;style&amp;gt;
        /* 1. Global Reset &amp;amp; Font Overrides */
        *, ::before, ::after {
            box-sizing: border-box;
        }
        
        body {
            font-family: &amp;#039;Plus Jakarta Sans&amp;#039;, sans-serif;
            background-color: #f8fafc;
            min-height: 100vh;
            display: flex;
            align-items: center;
            justify-content: center;
            padding: 1rem;
        }

        /* 2. Main Dashboard Card Container */
        .dashboard-card {
            width: 100%;
            max-width: 1000px;
            height: 720px;
            background-color: #ffffff;
            border-radius: 16px;
            box-shadow: 0 10px 25px -5px rgba(0, 0, 0, 0.05), 0 8px 10px -6px rgba(0, 0, 0, 0.01);
            border: 1px solid #f1f5f9;
            padding: 20px;
            display: flex;
            flex-direction: column;
            justify-content: space-between;
            overflow: hidden;
            transition: all 0.3s ease;
        }

        /* 3. Header Styling */
        .header-row {
            display: flex;
            align-items: center;
            justify-content: space-between;
            gap: 16px;
            padding-bottom: 12px;
            border-bottom: 1px solid #f1f5f9;
            flex-shrink: 0;
        }

        .header-title-container span {
            font-size: 10px;
            font-weight: 700;
            letter-spacing: 0.05em;
            text-transform: uppercase;
            color: #94a3b8;
        }

        .header-title-container h2 {
            margin: 2px 0 0 0;
            font-size: 20px;
            font-weight: 800;
            color: #0f172a;
            letter-spacing: -0.02em;
        }

        /* Controls Area */
        .controls-group {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 10px;
        }

        /* Color Palette Dots */
        .theme-selector {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 6px;
            background-color: #f8fafc;
            padding: 4px;
            border-radius: 8px;
            border: 1px solid #f1f5f9;
        }

        .theme-dot {
            width: 20px;
            height: 20px;
            border-radius: 6px;
            border: 2px solid #ffffff;
            box-shadow: 0 1px 2px rgba(0,0,0,0.1);
            cursor: pointer;
            transition: transform 0.2s, box-shadow 0.2s;
        }

        .theme-dot:hover {
            transform: scale(1.1);
        }

        .theme-dot.active {
            box-shadow: 0 0 0 2px #cbd5e1;
        }

        /* Chart Type Switcher */
        .chart-toggle {
            display: flex;
            background-color: #f8fafc;
            border: 1px solid #f1f5f9;
            padding: 4px;
            border-radius: 8px;
        }

        .toggle-btn {
            background: none;
            border: none;
            padding: 4px 12px;
            font-size: 11px;
            font-weight: 600;
            color: #64748b;
            border-radius: 6px;
            cursor: pointer;
            transition: all 0.2s;
        }

        .toggle-btn.active {
            background-color: #ffffff;
            color: #0f172a;
            box-shadow: 0 1px 3px rgba(0,0,0,0.05);
            font-weight: 700;
        }

        /* 4. KPI Stat Row */
        .stats-grid {
            display: grid;
            grid-template-columns: repeat(3, 1fr);
            gap: 12px;
            margin: 12px 0;
            flex-shrink: 0;
        }

        .stat-card {
            background-color: rgba(248, 250, 252, 0.6);
            border: 1px solid rgba(241, 245, 249, 0.9);
            border-radius: 12px;
            padding: 12px;
            display: flex;
            flex-direction: column;
            justify-content: space-between;
        }

        .stat-card span.label {
            font-size: 9px;
            font-weight: 700;
            color: #94a3b8;
            text-transform: uppercase;
            letter-spacing: 0.05em;
        }

        .stat-card .value-container {
            display: flex;
            align-items: baseline;
            gap: 6px;
            margin-top: 6px;
        }

        .stat-card span.value {
            font-size: 20px;
            font-weight: 800;
            color: #0f172a;
            line-height: 1;
        }

        .stat-card span.badge {
            font-size: 9px;
            font-weight: 700;
            padding: 2px 6px;
            border-radius: 4px;
            line-height: 1;
        }

        .badge-red { background-color: #fff1f2; color: #f43f5e; }
        .badge-green { background-color: #f0fdf4; color: #16a34a; }
        .badge-gray { background-color: #f1f5f9; color: #64748b; }

        /* 5. Filters Tabs Row */
        .filters-row {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 6px;
            padding-bottom: 8px;
            border-bottom: 1px solid #f1f5f9;
            overflow-x: auto;
            flex-shrink: 0;
        }

        .filters-row::-webkit-scrollbar {
            display: none;
        }

        .filter-btn {
            background: none;
            border: none;
            padding: 4px 12px;
            font-size: 11px;
            font-weight: 600;
            color: #64748b;
            border-radius: 6px;
            cursor: pointer;
            white-space: nowrap;
            transition: all 0.2s;
        }

        .filter-btn:hover {
            background-color: #f1f5f9;
            color: #0f172a;
        }

        .filter-btn.active {
            background-color: #0f172a;
            color: #ffffff;
            font-weight: 700;
        }

        /* 6. Elastic Chart Area */
        .chart-wrapper {
            position: relative;
            width: 100%;
            flex-grow: 1;
            min-height: 0;
            margin-top: 10px;
        }

        .chart-canvas {
            position: absolute;
            top: 0;
            left: 0;
            width: 100% !important;
            height: 100% !important;
        }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;

    &amp;lt;!-- Main Card Container --&amp;gt;
    &amp;lt;div class=&amp;quot;dashboard-card&amp;quot;&amp;gt;
        
        &amp;lt;!-- Header Section --&amp;gt;
        &amp;lt;div class=&amp;quot;header-row&amp;quot;&amp;gt;
            &amp;lt;div class=&amp;quot;header-title-container&amp;quot;&amp;gt;
                &amp;lt;span&amp;gt;Macroeconomic Indicators&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;h2&amp;gt;Headline Inflation YoY&amp;lt;/h2&amp;gt;
            &amp;lt;/div&amp;gt;
            
            &amp;lt;div class=&amp;quot;controls-group&amp;quot;&amp;gt;
                &amp;lt;!-- Theme Selectors --&amp;gt;
                &amp;lt;div class=&amp;quot;theme-selector&amp;quot;&amp;gt;
                    &amp;lt;button onclick=&amp;quot;changeTheme(&amp;#039;orange&amp;#039;, &amp;#039;#ea580c&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;btn-theme-orange&amp;quot; class=&amp;quot;theme-dot active&amp;quot; style=&amp;quot;background-color: #ea580c;&amp;quot; title=&amp;quot;Orange Theme&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/button&amp;gt;
                    &amp;lt;button onclick=&amp;quot;changeTheme(&amp;#039;indigo&amp;#039;, &amp;#039;#4f46e5&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;btn-theme-indigo&amp;quot; class=&amp;quot;theme-dot&amp;quot; style=&amp;quot;background-color: #4f46e5;&amp;quot; title=&amp;quot;Indigo Theme&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/button&amp;gt;
                    &amp;lt;button onclick=&amp;quot;changeTheme(&amp;#039;emerald&amp;#039;, &amp;#039;#059669&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;btn-theme-emerald&amp;quot; class=&amp;quot;theme-dot&amp;quot; style=&amp;quot;background-color: #059669;&amp;quot; title=&amp;quot;Emerald Theme&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/button&amp;gt;
                    &amp;lt;button onclick=&amp;quot;changeTheme(&amp;#039;rose&amp;#039;, &amp;#039;#e11d48&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;btn-theme-rose&amp;quot; class=&amp;quot;theme-dot&amp;quot; style=&amp;quot;background-color: #e11d48;&amp;quot; title=&amp;quot;Rose Theme&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/button&amp;gt;
                &amp;lt;/div&amp;gt;

                &amp;lt;!-- Bar / Line Switches --&amp;gt;
                &amp;lt;div class=&amp;quot;chart-toggle&amp;quot;&amp;gt;
                    &amp;lt;button id=&amp;quot;btn-type-bar&amp;quot; onclick=&amp;quot;setChartType(&amp;#039;bar&amp;#039;)&amp;quot; class=&amp;quot;toggle-btn active&amp;quot;&amp;gt;Bar&amp;lt;/button&amp;gt;
                    &amp;lt;button id=&amp;quot;btn-type-line&amp;quot; onclick=&amp;quot;setChartType(&amp;#039;line&amp;#039;)&amp;quot; class=&amp;quot;toggle-btn&amp;quot;&amp;gt;Line&amp;lt;/button&amp;gt;
                &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;/div&amp;gt;
        &amp;lt;/div&amp;gt;

        &amp;lt;!-- Metric Summaries --&amp;gt;
        &amp;lt;div class=&amp;quot;stats-grid&amp;quot;&amp;gt;
            &amp;lt;div class=&amp;quot;stat-card&amp;quot;&amp;gt;
                &amp;lt;span class=&amp;quot;label&amp;quot;&amp;gt;Peak Inflation&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;div class=&amp;quot;value-container&amp;quot;&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-peak-val&amp;quot; class=&amp;quot;value&amp;quot;&amp;gt;28.3%&amp;lt;/span&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-peak-date&amp;quot; class=&amp;quot;badge badge-red&amp;quot;&amp;gt;Jan-24&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;div class=&amp;quot;stat-card&amp;quot;&amp;gt;
                &amp;lt;span class=&amp;quot;label&amp;quot;&amp;gt;Lowest Point&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;div class=&amp;quot;value-container&amp;quot;&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-low-val&amp;quot; class=&amp;quot;value&amp;quot;&amp;gt;0.3%&amp;lt;/span&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-low-date&amp;quot; class=&amp;quot;badge badge-green&amp;quot;&amp;gt;Apr-25&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;div class=&amp;quot;stat-card&amp;quot;&amp;gt;
                &amp;lt;span class=&amp;quot;label&amp;quot;&amp;gt;Latest Rate&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;div class=&amp;quot;value-container&amp;quot;&amp;gt;
                    &amp;lt;!-- Updated with Sep-26 Data Point here in HTML as default fallback --&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-latest-val&amp;quot; class=&amp;quot;value&amp;quot;&amp;gt;10.3%&amp;lt;/span&amp;gt;
                    &amp;lt;span id=&amp;quot;stat-latest-date&amp;quot; class=&amp;quot;badge badge-gray&amp;quot;&amp;gt;Sep-26&amp;lt;/span&amp;gt;
                &amp;lt;/div&amp;gt;
            &amp;lt;/div&amp;gt;
        &amp;lt;/div&amp;gt;

        &amp;lt;!-- Filters Tabs --&amp;gt;
        &amp;lt;div class=&amp;quot;filters-row&amp;quot;&amp;gt;
            &amp;lt;button onclick=&amp;quot;filterByYear(&amp;#039;all&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;filter-all&amp;quot; class=&amp;quot;filter-btn active&amp;quot;&amp;gt;All Months&amp;lt;/button&amp;gt;
            &amp;lt;button onclick=&amp;quot;filterByYear(&amp;#039;2024&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;filter-2024&amp;quot; class=&amp;quot;filter-btn&amp;quot;&amp;gt;2024&amp;lt;/button&amp;gt;
            &amp;lt;button onclick=&amp;quot;filterByYear(&amp;#039;2025&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;filter-2025&amp;quot; class=&amp;quot;filter-btn&amp;quot;&amp;gt;2025&amp;lt;/button&amp;gt;
            &amp;lt;button onclick=&amp;quot;filterByYear(&amp;#039;2026&amp;#039;)&amp;quot; id=&amp;quot;filter-2026&amp;quot; class=&amp;quot;filter-btn&amp;quot;&amp;gt;2026&amp;lt;/button&amp;gt;
        &amp;lt;/div&amp;gt;

        &amp;lt;!-- Absolute Protected Chart Canvas Area --&amp;gt;
        &amp;lt;div class=&amp;quot;chart-wrapper&amp;quot;&amp;gt;
            &amp;lt;canvas id=&amp;quot;inflationChart&amp;quot; class=&amp;quot;chart-canvas&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/canvas&amp;gt;
        &amp;lt;/div&amp;gt;
        
    &amp;lt;/div&amp;gt;

    &amp;lt;script&amp;gt;
        // Register the DataLabels plugin
        Chart.register(ChartDataLabels);

        const ctx = document.getElementById(&amp;#039;inflationChart&amp;#039;).getContext(&amp;#039;2d&amp;#039;);

        // Core State
        let currentThemeColor = &amp;#039;#ea580c&amp;#039;; 
        let currentThemeName = &amp;#039;orange&amp;#039;;
        let currentChartType = &amp;#039;bar&amp;#039;;
        let currentYearFilter = &amp;#039;all&amp;#039;;

        // Full Data Sets - Updated with September 2026 (Sep-26: 10.3%)
        const allLabels = [
            &amp;quot;Jan-24&amp;quot;, &amp;quot;Feb-24&amp;quot;, &amp;quot;Mar-24&amp;quot;, &amp;quot;Apr-24&amp;quot;, &amp;quot;May-24&amp;quot;, &amp;quot;Jun-24&amp;quot;, &amp;quot;Jul-24&amp;quot;, &amp;quot;Aug-24&amp;quot;, &amp;quot;Sep-24&amp;quot;, &amp;quot;Oct-24&amp;quot;, &amp;quot;Nov-24&amp;quot;, &amp;quot;Dec-24&amp;quot;,
            &amp;quot;Jan-25&amp;quot;, &amp;quot;Feb-25&amp;quot;, &amp;quot;Mar-25&amp;quot;, &amp;quot;Apr-25&amp;quot;, &amp;quot;May-25&amp;quot;, &amp;quot;Jun-25&amp;quot;, &amp;quot;Jul-25&amp;quot;, &amp;quot;Aug-25&amp;quot;, &amp;quot;Sep-25&amp;quot;, &amp;quot;Oct-25&amp;quot;, &amp;quot;Nov-25&amp;quot;, &amp;quot;Dec-25&amp;quot;,
            &amp;quot;Jan-26&amp;quot;, &amp;quot;Feb-26&amp;quot;, &amp;quot;Mar-26&amp;quot;, &amp;quot;Apr-26&amp;quot;, &amp;quot;May-26&amp;quot;, &amp;quot;Jun-26&amp;quot;, &amp;quot;Jul-26&amp;quot;, &amp;quot;Aug-26&amp;quot;, &amp;quot;Sep-26&amp;quot;
        ];
        const allDataValues = [
            28.3, 23.1, 20.7, 17.3, 11.8, 12.6, 11.1, 9.6, 6.9, 7.2, 4.9, 4.1,
            2.4, 1.5, 0.7, 0.3, 3.5, 3.2, 4.1, 3.0, 5.6, 6.2, 6.1, 5.6,
            5.8, 7.0, 7.3, 10.9, 11.7, 11.1, 9.2, 11.1, 10.3
        ];

        // Chart defaults
        Chart.defaults.font.family = &amp;quot;&amp;#039;Plus Jakarta Sans&amp;#039;, sans-serif&amp;quot;;
        Chart.defaults.color = &amp;#039;#94a3b8&amp;#039;;

        // Initialize Chart.js
        let inflationChart = new Chart(ctx, {
            type: currentChartType,
            data: {
                labels: [...allLabels],
                datasets: [{
                    label: &amp;#039;Inflation (%)&amp;#039;,
                    data: [...allDataValues],
                    backgroundColor: currentThemeColor,
                    borderColor: currentThemeColor,
                    borderWidth: currentChartType === &amp;#039;line&amp;#039; ? 3 : 0,
                    fill: currentChartType === &amp;#039;line&amp;#039; ? { target: &amp;#039;origin&amp;#039;, above: &amp;#039;rgba(234, 88, 12, 0.05)&amp;#039; } : false,
                    borderRadius: 5,
                    borderSkipped: false,
                    barPercentage: 0.7,
                    categoryPercentage: 0.85,
                    tension: 0.35, 
                    pointBackgroundColor: &amp;#039;#ffffff&amp;#039;,
                    pointBorderColor: currentThemeColor,
                    pointBorderWidth: 2,
                    pointRadius: 3,
                    pointHoverRadius: 5
                }]
            },
            options: {
                responsive: true,
                maintainAspectRatio: false,
                plugins: {
                    legend: {
                        display: false
                    },
                    tooltip: {
                        backgroundColor: &amp;#039;rgba(15, 23, 42, 0.95)&amp;#039;,
                        titleFont: { size: 10, weight: &amp;#039;700&amp;#039; },
                        bodyFont: { size: 11, weight: &amp;#039;700&amp;#039; },
                        padding: 8,
                        cornerRadius: 8,
                        displayColors: false,
                        callbacks: {
                            label: function(context) {
                                return `Rate: ${context.parsed.y}%`;
                            }
                        }
                    },
                    datalabels: {
                        display: function() {
                            return currentYearFilter !== &amp;#039;all&amp;#039;;
                        },
                        anchor: &amp;#039;end&amp;#039;,
                        align: &amp;#039;top&amp;#039;,
                        offset: 2,
                        formatter: function(value) {
                            return value.toFixed(1) + &amp;#039;%&amp;#039;;
                        },
                        font: {
                            weight: &amp;#039;700&amp;#039;,
                            size: 9
                        },
                        color: function() {
                            return currentThemeColor;
                        }
                    }
                },
                scales: {
                    x: {
                        grid: {
                            display: false,
                            drawBorder: false
                        },
                        ticks: {
                            font: { size: 8, weight: &amp;#039;600&amp;#039; },
                            maxRotation: 0,
                            autoSkip: true,
                            maxTicksLimit: 12
                        }
                    },
                    y: {
                        beginAtZero: true,
                        grid: {
                            color: &amp;#039;#f1f5f9&amp;#039;,
                            drawBorder: false,
                            borderDash: [5, 5]
                        },
                        ticks: {
                            padding: 6,
                            font: { size: 8.5, weight: &amp;#039;500&amp;#039; },
                            callback: function(value) {
                                return value + &amp;#039;%&amp;#039;;
                            }
                        },
                        border: {
                            display: false
                        }
                    }
                },
                animation: {
                    duration: 1200,
                    easing: &amp;#039;easeOutQuart&amp;#039;
                }
            }
        });

        // Function to update summary metrics box
        function updateStats(filteredLabels, filteredData) {
            if (!filteredData || filteredData.length === 0) return;

            let maxVal = filteredData[0];
            let maxIndex = 0;
            let minVal = filteredData[0];
            let minIndex = 0;

            for (let i = 1; i &amp;lt; filteredData.length; i++) {
                if (filteredData[i] &amp;gt; maxVal) {
                    maxVal = filteredData[i];
                    maxIndex = i;
                }
                if (filteredData[i] &amp;lt; minVal) {
                    minVal = filteredData[i];
                    minIndex = i;
                }
            }

            const latestVal = filteredData[filteredData.length - 1];
            const latestLabel = filteredLabels[filteredLabels.length - 1];

            document.getElementById(&amp;#039;stat-peak-val&amp;#039;).innerText = maxVal.toFixed(1) + &amp;#039;%&amp;#039;;
            document.getElementById(&amp;#039;stat-peak-date&amp;#039;).innerText = filteredLabels[maxIndex];

            document.getElementById(&amp;#039;stat-low-val&amp;#039;).innerText = minVal.toFixed(1) + &amp;#039;%&amp;#039;;
            document.getElementById(&amp;#039;stat-low-date&amp;#039;).innerText = filteredLabels[minIndex];

            document.getElementById(&amp;#039;stat-latest-val&amp;#039;).innerText = latestVal.toFixed(1) + &amp;#039;%&amp;#039;;
            document.getElementById(&amp;#039;stat-latest-date&amp;#039;).innerText = latestLabel;
        }

        // Initialize initial metrics calculate on page load
        updateStats(allLabels, allDataValues);

        // Function to filter data by year tab
        function filterByYear(year) {
            currentYearFilter = year;
            
            [&amp;#039;all&amp;#039;, &amp;#039;2024&amp;#039;, &amp;#039;2025&amp;#039;, &amp;#039;2026&amp;#039;].forEach(y =&amp;gt; {
                const btn = document.getElementById(`filter-${y}`);
                if (y === year) {
                    btn.classList.add(&amp;#039;active&amp;#039;);
                } else {
                    btn.classList.remove(&amp;#039;active&amp;#039;);
                }
            });

            let newLabels = [];
            let newData = [];

            if (year === &amp;#039;all&amp;#039;) {
                newLabels = [...allLabels];
                newData = [...allDataValues];
            } else {
                const yearSuffix = year.substring(2); // Get &amp;quot;24&amp;quot;, &amp;quot;25&amp;quot;, &amp;quot;26&amp;quot;
                for (let i = 0; i &amp;lt; allLabels.length; i++) {
                    if (allLabels[i].endsWith(yearSuffix)) {
                        newLabels.push(allLabels[i]);
                        newData.push(allDataValues[i]);
                    }
                }
            }

            inflationChart.data.labels = newLabels;
            inflationChart.data.datasets[0].data = newData;
            
            updateStats(newLabels, newData);
            inflationChart.update();
        }

        // Function to change color themes
        function changeTheme(themeName, colorHex) {
            currentThemeColor = colorHex;
            currentThemeName = themeName;

            [&amp;#039;orange&amp;#039;, &amp;#039;indigo&amp;#039;, &amp;#039;emerald&amp;#039;, &amp;#039;rose&amp;#039;].forEach(t =&amp;gt; {
                const btn = document.getElementById(`btn-theme-${t}`);
                if (t === themeName) {
                    btn.classList.add(&amp;#039;active&amp;#039;);
                } else {
                    btn.classList.remove(&amp;#039;active&amp;#039;);
                }
            });

            inflationChart.data.datasets[0].backgroundColor = currentThemeColor;
            inflationChart.data.datasets[0].borderColor = currentThemeColor;
            inflationChart.data.datasets[0].pointBorderColor = currentThemeColor;

            if (currentChartType === &amp;#039;line&amp;#039;) {
                inflationChart.data.datasets[0].fill = {
                    target: &amp;#039;origin&amp;#039;,
                    above: `${currentThemeColor}0D`
                };
            }

            inflationChart.update();
        }

        // Function to switch Chart type (Bar vs Line)
        function setChartType(type) {
            currentChartType = type;

            const barBtn = document.getElementById(&amp;#039;btn-type-bar&amp;#039;);
            const lineBtn = document.getElementById(&amp;#039;btn-type-line&amp;#039;);

            if (type === &amp;#039;bar&amp;#039;) {
                barBtn.classList.add(&amp;#039;active&amp;#039;);
                lineBtn.classList.remove(&amp;#039;active&amp;#039;);
            } else {
                lineBtn.classList.add(&amp;#039;active&amp;#039;);
                barBtn.classList.remove(&amp;#039;active&amp;#039;);
            }

            inflationChart.destroy();
            
            const datasetConfig = {
                label: &amp;#039;Inflation (%)&amp;#039;,
                data: inflationChart.data.datasets[0].data,
                backgroundColor: currentThemeColor,
                borderColor: currentThemeColor,
                borderWidth: type === &amp;#039;line&amp;#039; ? 3 : 0,
                fill: type === &amp;#039;line&amp;#039; ? { target: &amp;#039;origin&amp;#039;, above: `${currentThemeColor}0D` } : false,
                borderRadius: type === &amp;#039;bar&amp;#039; ? 5 : 0,
                borderSkipped: false,
                barPercentage: 0.7,
                categoryPercentage: 0.85,
                tension: 0.35,
                pointBackgroundColor: &amp;#039;#ffffff&amp;#039;,
                pointBorderColor: currentThemeColor,
                pointBorderWidth: 2,
                pointRadius: type === &amp;#039;line&amp;#039; ? 3 : 0,
                pointHoverRadius: type === &amp;#039;line&amp;#039; ? 5 : 0
            };

            inflationChart = new Chart(ctx, {
                type: type,
                data: {
                    labels: inflationChart.data.labels,
                    datasets: [datasetConfig]
                },
                options: {
                    responsive: true,
                    maintainAspectRatio: false,
                    plugins: {
                        legend: { display: false },
                        tooltip: {
                            backgroundColor: &amp;#039;rgba(15, 23, 42, 0.95)&amp;#039;,
                            titleFont: { size: 10, weight: &amp;#039;700&amp;#039; },
                            bodyFont: { size: 11, weight: &amp;#039;700&amp;#039; },
                            padding: 8,
                            cornerRadius: 8,
                            displayColors: false,
                            callbacks: {
                                label: function(context) {
                                    return `Rate: ${context.parsed.y}%`;
                                }
                            }
                        },
                        datalabels: {
                            display: function() {
                                return currentYearFilter !== &amp;#039;all&amp;#039;;
                            },
                            anchor: &amp;#039;end&amp;#039;,
                            align: &amp;#039;top&amp;#039;,
                            offset: 2,
                            formatter: function(value) {
                                return value.toFixed(1) + &amp;#039;%&amp;#039;;
                            },
                            font: { weight: &amp;#039;700&amp;#039;, size: 9 },
                            color: function() { return currentThemeColor; }
                        }
                    },
                    scales: {
                        x: {
                            grid: { display: false },
                            ticks: { font: { size: 8, weight: &amp;#039;600&amp;#039; }, maxRotation: 0, autoSkip: true, maxTicksLimit: 12 }
                        },
                        y: {
                            beginAtZero: true,
                            grid: { color: &amp;#039;#f1f5f9&amp;#039;, borderDash: [5, 5] },
                            ticks: {
                                padding: 6,
                                font: { size: 8.5, weight: &amp;#039;500&amp;#039; },
                                callback: function(value) { return value + &amp;#039;%&amp;#039;; }
                            },
                            border: { display: false }
                        }
                    }
                }
            });
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6abe27f6c294c&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 30000);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستمبر 2026 کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اگست کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات  کے مطابق ستمبر 2025 میں صارف قیمتوں کا اشاریہ (سی پی آئی) 5.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026  کے دوران سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ ماہ اس میں 1.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ 10.1 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 10.4 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پرستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 0.9 فیصد اور ستمبر 2025 میں 1.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 12.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 1.6 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027  کی پہلی سہ ماہی کے دوران سی پی آئی پر مبنی افراطِ زر کی شرح 10.2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.3 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی توقعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل وزارتِ خزانہ  نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ قلیل مدت میں افراطِ زر کی شرح بلند رہے گی جبکہ ہیڈ لائن صارف قیمتوں کے اشاریے پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں 10 سے 11 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد افراطِ زر کی سمت کا انحصار بڑی حد تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کے جاری اخراجات اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث جولائی 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ 596.6 ارب روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں معاشی منظرنامے کے لیے بدستور سب سے بڑا خطرہ ہیں جو قوت خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل کو متاثر کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ وزیرِ اعظم کا فیول ریلیف اسکیم پیٹرولیم لیوی میں کٹوتی کیے بغیر ایک ڈیجیٹل ترسیلی نظام کے ذریعے نچلے طبقے کے گھرانوں کو ریلیف فراہم کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے قوتِ خرید کا تحفظ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین کی توقعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں متعدد بروکریج ہاؤسز نے توقع ظاہر کی تھی کہ ستمبر کے دوران صارف قیمتوں میں افراطِ زر کم ہوکر تقریباً 10 فیصد رہ جائے گا، تاہم ایندھن اور بجلی کی بڑھتی لاگت سے قیمتوں پر دباؤ بلند رہنے کا امکان ہے جس سے مرکزی بینک کی زری پالیسی کے منظرنامے میں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز، اسماعیل اقبال سیکیورٹیز، عباسی اینڈ کمپنی اور گروتھ سیکیورٹیز کے اندازوں کے مطابق، ستمبر میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.9 فیصد سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<iframe id="raw-html-6abe27f6c294c" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 30000px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html lang=&quot;en&quot;&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;meta charset=&quot;UTF-8&quot;&gt;
    &lt;meta name=&quot;viewport&quot; content=&quot;width=device-width, initial-scale=1.0&quot;&gt;
    &lt;title&gt;Headline Inflation Dashboard&lt;/title&gt;
    &lt;!-- Include Google Fonts --&gt;
    &lt;link href=&quot;https://fonts.googleapis.com/css2?family=Plus+Jakarta+Sans:wght@400;500;600;700;800&amp;display=swap&quot; rel=&quot;stylesheet&quot;&gt;
    &lt;!-- Include Tailwind CSS --&gt;
    &lt;script src=&quot;https://cdn.tailwindcss.com&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;!-- Include Chart.js &amp; Plugins --&gt;
    &lt;script src=&quot;https://cdn.jsdelivr.net/npm/chart.js&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script src=&quot;https://cdn.jsdelivr.net/npm/chartjs-plugin-datalabels&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    
    &lt;style&gt;
        /* 1. Global Reset &amp; Font Overrides */
        *, ::before, ::after {
            box-sizing: border-box;
        }
        
        body {
            font-family: &#039;Plus Jakarta Sans&#039;, sans-serif;
            background-color: #f8fafc;
            min-height: 100vh;
            display: flex;
            align-items: center;
            justify-content: center;
            padding: 1rem;
        }

        /* 2. Main Dashboard Card Container */
        .dashboard-card {
            width: 100%;
            max-width: 1000px;
            height: 720px;
            background-color: #ffffff;
            border-radius: 16px;
            box-shadow: 0 10px 25px -5px rgba(0, 0, 0, 0.05), 0 8px 10px -6px rgba(0, 0, 0, 0.01);
            border: 1px solid #f1f5f9;
            padding: 20px;
            display: flex;
            flex-direction: column;
            justify-content: space-between;
            overflow: hidden;
            transition: all 0.3s ease;
        }

        /* 3. Header Styling */
        .header-row {
            display: flex;
            align-items: center;
            justify-content: space-between;
            gap: 16px;
            padding-bottom: 12px;
            border-bottom: 1px solid #f1f5f9;
            flex-shrink: 0;
        }

        .header-title-container span {
            font-size: 10px;
            font-weight: 700;
            letter-spacing: 0.05em;
            text-transform: uppercase;
            color: #94a3b8;
        }

        .header-title-container h2 {
            margin: 2px 0 0 0;
            font-size: 20px;
            font-weight: 800;
            color: #0f172a;
            letter-spacing: -0.02em;
        }

        /* Controls Area */
        .controls-group {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 10px;
        }

        /* Color Palette Dots */
        .theme-selector {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 6px;
            background-color: #f8fafc;
            padding: 4px;
            border-radius: 8px;
            border: 1px solid #f1f5f9;
        }

        .theme-dot {
            width: 20px;
            height: 20px;
            border-radius: 6px;
            border: 2px solid #ffffff;
            box-shadow: 0 1px 2px rgba(0,0,0,0.1);
            cursor: pointer;
            transition: transform 0.2s, box-shadow 0.2s;
        }

        .theme-dot:hover {
            transform: scale(1.1);
        }

        .theme-dot.active {
            box-shadow: 0 0 0 2px #cbd5e1;
        }

        /* Chart Type Switcher */
        .chart-toggle {
            display: flex;
            background-color: #f8fafc;
            border: 1px solid #f1f5f9;
            padding: 4px;
            border-radius: 8px;
        }

        .toggle-btn {
            background: none;
            border: none;
            padding: 4px 12px;
            font-size: 11px;
            font-weight: 600;
            color: #64748b;
            border-radius: 6px;
            cursor: pointer;
            transition: all 0.2s;
        }

        .toggle-btn.active {
            background-color: #ffffff;
            color: #0f172a;
            box-shadow: 0 1px 3px rgba(0,0,0,0.05);
            font-weight: 700;
        }

        /* 4. KPI Stat Row */
        .stats-grid {
            display: grid;
            grid-template-columns: repeat(3, 1fr);
            gap: 12px;
            margin: 12px 0;
            flex-shrink: 0;
        }

        .stat-card {
            background-color: rgba(248, 250, 252, 0.6);
            border: 1px solid rgba(241, 245, 249, 0.9);
            border-radius: 12px;
            padding: 12px;
            display: flex;
            flex-direction: column;
            justify-content: space-between;
        }

        .stat-card span.label {
            font-size: 9px;
            font-weight: 700;
            color: #94a3b8;
            text-transform: uppercase;
            letter-spacing: 0.05em;
        }

        .stat-card .value-container {
            display: flex;
            align-items: baseline;
            gap: 6px;
            margin-top: 6px;
        }

        .stat-card span.value {
            font-size: 20px;
            font-weight: 800;
            color: #0f172a;
            line-height: 1;
        }

        .stat-card span.badge {
            font-size: 9px;
            font-weight: 700;
            padding: 2px 6px;
            border-radius: 4px;
            line-height: 1;
        }

        .badge-red { background-color: #fff1f2; color: #f43f5e; }
        .badge-green { background-color: #f0fdf4; color: #16a34a; }
        .badge-gray { background-color: #f1f5f9; color: #64748b; }

        /* 5. Filters Tabs Row */
        .filters-row {
            display: flex;
            align-items: center;
            gap: 6px;
            padding-bottom: 8px;
            border-bottom: 1px solid #f1f5f9;
            overflow-x: auto;
            flex-shrink: 0;
        }

        .filters-row::-webkit-scrollbar {
            display: none;
        }

        .filter-btn {
            background: none;
            border: none;
            padding: 4px 12px;
            font-size: 11px;
            font-weight: 600;
            color: #64748b;
            border-radius: 6px;
            cursor: pointer;
            white-space: nowrap;
            transition: all 0.2s;
        }

        .filter-btn:hover {
            background-color: #f1f5f9;
            color: #0f172a;
        }

        .filter-btn.active {
            background-color: #0f172a;
            color: #ffffff;
            font-weight: 700;
        }

        /* 6. Elastic Chart Area */
        .chart-wrapper {
            position: relative;
            width: 100%;
            flex-grow: 1;
            min-height: 0;
            margin-top: 10px;
        }

        .chart-canvas {
            position: absolute;
            top: 0;
            left: 0;
            width: 100% !important;
            height: 100% !important;
        }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;

    &lt;!-- Main Card Container --&gt;
    &lt;div class=&quot;dashboard-card&quot;&gt;
        
        &lt;!-- Header Section --&gt;
        &lt;div class=&quot;header-row&quot;&gt;
            &lt;div class=&quot;header-title-container&quot;&gt;
                &lt;span&gt;Macroeconomic Indicators&lt;/span&gt;
                &lt;h2&gt;Headline Inflation YoY&lt;/h2&gt;
            &lt;/div&gt;
            
            &lt;div class=&quot;controls-group&quot;&gt;
                &lt;!-- Theme Selectors --&gt;
                &lt;div class=&quot;theme-selector&quot;&gt;
                    &lt;button onclick=&quot;changeTheme(&#039;orange&#039;, &#039;#ea580c&#039;)&quot; id=&quot;btn-theme-orange&quot; class=&quot;theme-dot active&quot; style=&quot;background-color: #ea580c;&quot; title=&quot;Orange Theme&quot;&gt;&lt;/button&gt;
                    &lt;button onclick=&quot;changeTheme(&#039;indigo&#039;, &#039;#4f46e5&#039;)&quot; id=&quot;btn-theme-indigo&quot; class=&quot;theme-dot&quot; style=&quot;background-color: #4f46e5;&quot; title=&quot;Indigo Theme&quot;&gt;&lt;/button&gt;
                    &lt;button onclick=&quot;changeTheme(&#039;emerald&#039;, &#039;#059669&#039;)&quot; id=&quot;btn-theme-emerald&quot; class=&quot;theme-dot&quot; style=&quot;background-color: #059669;&quot; title=&quot;Emerald Theme&quot;&gt;&lt;/button&gt;
                    &lt;button onclick=&quot;changeTheme(&#039;rose&#039;, &#039;#e11d48&#039;)&quot; id=&quot;btn-theme-rose&quot; class=&quot;theme-dot&quot; style=&quot;background-color: #e11d48;&quot; title=&quot;Rose Theme&quot;&gt;&lt;/button&gt;
                &lt;/div&gt;

                &lt;!-- Bar / Line Switches --&gt;
                &lt;div class=&quot;chart-toggle&quot;&gt;
                    &lt;button id=&quot;btn-type-bar&quot; onclick=&quot;setChartType(&#039;bar&#039;)&quot; class=&quot;toggle-btn active&quot;&gt;Bar&lt;/button&gt;
                    &lt;button id=&quot;btn-type-line&quot; onclick=&quot;setChartType(&#039;line&#039;)&quot; class=&quot;toggle-btn&quot;&gt;Line&lt;/button&gt;
                &lt;/div&gt;
            &lt;/div&gt;
        &lt;/div&gt;

        &lt;!-- Metric Summaries --&gt;
        &lt;div class=&quot;stats-grid&quot;&gt;
            &lt;div class=&quot;stat-card&quot;&gt;
                &lt;span class=&quot;label&quot;&gt;Peak Inflation&lt;/span&gt;
                &lt;div class=&quot;value-container&quot;&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-peak-val&quot; class=&quot;value&quot;&gt;28.3%&lt;/span&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-peak-date&quot; class=&quot;badge badge-red&quot;&gt;Jan-24&lt;/span&gt;
                &lt;/div&gt;
            &lt;/div&gt;
            &lt;div class=&quot;stat-card&quot;&gt;
                &lt;span class=&quot;label&quot;&gt;Lowest Point&lt;/span&gt;
                &lt;div class=&quot;value-container&quot;&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-low-val&quot; class=&quot;value&quot;&gt;0.3%&lt;/span&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-low-date&quot; class=&quot;badge badge-green&quot;&gt;Apr-25&lt;/span&gt;
                &lt;/div&gt;
            &lt;/div&gt;
            &lt;div class=&quot;stat-card&quot;&gt;
                &lt;span class=&quot;label&quot;&gt;Latest Rate&lt;/span&gt;
                &lt;div class=&quot;value-container&quot;&gt;
                    &lt;!-- Updated with Sep-26 Data Point here in HTML as default fallback --&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-latest-val&quot; class=&quot;value&quot;&gt;10.3%&lt;/span&gt;
                    &lt;span id=&quot;stat-latest-date&quot; class=&quot;badge badge-gray&quot;&gt;Sep-26&lt;/span&gt;
                &lt;/div&gt;
            &lt;/div&gt;
        &lt;/div&gt;

        &lt;!-- Filters Tabs --&gt;
        &lt;div class=&quot;filters-row&quot;&gt;
            &lt;button onclick=&quot;filterByYear(&#039;all&#039;)&quot; id=&quot;filter-all&quot; class=&quot;filter-btn active&quot;&gt;All Months&lt;/button&gt;
            &lt;button onclick=&quot;filterByYear(&#039;2024&#039;)&quot; id=&quot;filter-2024&quot; class=&quot;filter-btn&quot;&gt;2024&lt;/button&gt;
            &lt;button onclick=&quot;filterByYear(&#039;2025&#039;)&quot; id=&quot;filter-2025&quot; class=&quot;filter-btn&quot;&gt;2025&lt;/button&gt;
            &lt;button onclick=&quot;filterByYear(&#039;2026&#039;)&quot; id=&quot;filter-2026&quot; class=&quot;filter-btn&quot;&gt;2026&lt;/button&gt;
        &lt;/div&gt;

        &lt;!-- Absolute Protected Chart Canvas Area --&gt;
        &lt;div class=&quot;chart-wrapper&quot;&gt;
            &lt;canvas id=&quot;inflationChart&quot; class=&quot;chart-canvas&quot;&gt;&lt;/canvas&gt;
        &lt;/div&gt;
        
    &lt;/div&gt;

    &lt;script&gt;
        // Register the DataLabels plugin
        Chart.register(ChartDataLabels);

        const ctx = document.getElementById(&#039;inflationChart&#039;).getContext(&#039;2d&#039;);

        // Core State
        let currentThemeColor = &#039;#ea580c&#039;; 
        let currentThemeName = &#039;orange&#039;;
        let currentChartType = &#039;bar&#039;;
        let currentYearFilter = &#039;all&#039;;

        // Full Data Sets - Updated with September 2026 (Sep-26: 10.3%)
        const allLabels = [
            &quot;Jan-24&quot;, &quot;Feb-24&quot;, &quot;Mar-24&quot;, &quot;Apr-24&quot;, &quot;May-24&quot;, &quot;Jun-24&quot;, &quot;Jul-24&quot;, &quot;Aug-24&quot;, &quot;Sep-24&quot;, &quot;Oct-24&quot;, &quot;Nov-24&quot;, &quot;Dec-24&quot;,
            &quot;Jan-25&quot;, &quot;Feb-25&quot;, &quot;Mar-25&quot;, &quot;Apr-25&quot;, &quot;May-25&quot;, &quot;Jun-25&quot;, &quot;Jul-25&quot;, &quot;Aug-25&quot;, &quot;Sep-25&quot;, &quot;Oct-25&quot;, &quot;Nov-25&quot;, &quot;Dec-25&quot;,
            &quot;Jan-26&quot;, &quot;Feb-26&quot;, &quot;Mar-26&quot;, &quot;Apr-26&quot;, &quot;May-26&quot;, &quot;Jun-26&quot;, &quot;Jul-26&quot;, &quot;Aug-26&quot;, &quot;Sep-26&quot;
        ];
        const allDataValues = [
            28.3, 23.1, 20.7, 17.3, 11.8, 12.6, 11.1, 9.6, 6.9, 7.2, 4.9, 4.1,
            2.4, 1.5, 0.7, 0.3, 3.5, 3.2, 4.1, 3.0, 5.6, 6.2, 6.1, 5.6,
            5.8, 7.0, 7.3, 10.9, 11.7, 11.1, 9.2, 11.1, 10.3
        ];

        // Chart defaults
        Chart.defaults.font.family = &quot;&#039;Plus Jakarta Sans&#039;, sans-serif&quot;;
        Chart.defaults.color = &#039;#94a3b8&#039;;

        // Initialize Chart.js
        let inflationChart = new Chart(ctx, {
            type: currentChartType,
            data: {
                labels: [...allLabels],
                datasets: [{
                    label: &#039;Inflation (%)&#039;,
                    data: [...allDataValues],
                    backgroundColor: currentThemeColor,
                    borderColor: currentThemeColor,
                    borderWidth: currentChartType === &#039;line&#039; ? 3 : 0,
                    fill: currentChartType === &#039;line&#039; ? { target: &#039;origin&#039;, above: &#039;rgba(234, 88, 12, 0.05)&#039; } : false,
                    borderRadius: 5,
                    borderSkipped: false,
                    barPercentage: 0.7,
                    categoryPercentage: 0.85,
                    tension: 0.35, 
                    pointBackgroundColor: &#039;#ffffff&#039;,
                    pointBorderColor: currentThemeColor,
                    pointBorderWidth: 2,
                    pointRadius: 3,
                    pointHoverRadius: 5
                }]
            },
            options: {
                responsive: true,
                maintainAspectRatio: false,
                plugins: {
                    legend: {
                        display: false
                    },
                    tooltip: {
                        backgroundColor: &#039;rgba(15, 23, 42, 0.95)&#039;,
                        titleFont: { size: 10, weight: &#039;700&#039; },
                        bodyFont: { size: 11, weight: &#039;700&#039; },
                        padding: 8,
                        cornerRadius: 8,
                        displayColors: false,
                        callbacks: {
                            label: function(context) {
                                return `Rate: ${context.parsed.y}%`;
                            }
                        }
                    },
                    datalabels: {
                        display: function() {
                            return currentYearFilter !== &#039;all&#039;;
                        },
                        anchor: &#039;end&#039;,
                        align: &#039;top&#039;,
                        offset: 2,
                        formatter: function(value) {
                            return value.toFixed(1) + &#039;%&#039;;
                        },
                        font: {
                            weight: &#039;700&#039;,
                            size: 9
                        },
                        color: function() {
                            return currentThemeColor;
                        }
                    }
                },
                scales: {
                    x: {
                        grid: {
                            display: false,
                            drawBorder: false
                        },
                        ticks: {
                            font: { size: 8, weight: &#039;600&#039; },
                            maxRotation: 0,
                            autoSkip: true,
                            maxTicksLimit: 12
                        }
                    },
                    y: {
                        beginAtZero: true,
                        grid: {
                            color: &#039;#f1f5f9&#039;,
                            drawBorder: false,
                            borderDash: [5, 5]
                        },
                        ticks: {
                            padding: 6,
                            font: { size: 8.5, weight: &#039;500&#039; },
                            callback: function(value) {
                                return value + &#039;%&#039;;
                            }
                        },
                        border: {
                            display: false
                        }
                    }
                },
                animation: {
                    duration: 1200,
                    easing: &#039;easeOutQuart&#039;
                }
            }
        });

        // Function to update summary metrics box
        function updateStats(filteredLabels, filteredData) {
            if (!filteredData || filteredData.length === 0) return;

            let maxVal = filteredData[0];
            let maxIndex = 0;
            let minVal = filteredData[0];
            let minIndex = 0;

            for (let i = 1; i &lt; filteredData.length; i++) {
                if (filteredData[i] &gt; maxVal) {
                    maxVal = filteredData[i];
                    maxIndex = i;
                }
                if (filteredData[i] &lt; minVal) {
                    minVal = filteredData[i];
                    minIndex = i;
                }
            }

            const latestVal = filteredData[filteredData.length - 1];
            const latestLabel = filteredLabels[filteredLabels.length - 1];

            document.getElementById(&#039;stat-peak-val&#039;).innerText = maxVal.toFixed(1) + &#039;%&#039;;
            document.getElementById(&#039;stat-peak-date&#039;).innerText = filteredLabels[maxIndex];

            document.getElementById(&#039;stat-low-val&#039;).innerText = minVal.toFixed(1) + &#039;%&#039;;
            document.getElementById(&#039;stat-low-date&#039;).innerText = filteredLabels[minIndex];

            document.getElementById(&#039;stat-latest-val&#039;).innerText = latestVal.toFixed(1) + &#039;%&#039;;
            document.getElementById(&#039;stat-latest-date&#039;).innerText = latestLabel;
        }

        // Initialize initial metrics calculate on page load
        updateStats(allLabels, allDataValues);

        // Function to filter data by year tab
        function filterByYear(year) {
            currentYearFilter = year;
            
            [&#039;all&#039;, &#039;2024&#039;, &#039;2025&#039;, &#039;2026&#039;].forEach(y =&gt; {
                const btn = document.getElementById(`filter-${y}`);
                if (y === year) {
                    btn.classList.add(&#039;active&#039;);
                } else {
                    btn.classList.remove(&#039;active&#039;);
                }
            });

            let newLabels = [];
            let newData = [];

            if (year === &#039;all&#039;) {
                newLabels = [...allLabels];
                newData = [...allDataValues];
            } else {
                const yearSuffix = year.substring(2); // Get &quot;24&quot;, &quot;25&quot;, &quot;26&quot;
                for (let i = 0; i &lt; allLabels.length; i++) {
                    if (allLabels[i].endsWith(yearSuffix)) {
                        newLabels.push(allLabels[i]);
                        newData.push(allDataValues[i]);
                    }
                }
            }

            inflationChart.data.labels = newLabels;
            inflationChart.data.datasets[0].data = newData;
            
            updateStats(newLabels, newData);
            inflationChart.update();
        }

        // Function to change color themes
        function changeTheme(themeName, colorHex) {
            currentThemeColor = colorHex;
            currentThemeName = themeName;

            [&#039;orange&#039;, &#039;indigo&#039;, &#039;emerald&#039;, &#039;rose&#039;].forEach(t =&gt; {
                const btn = document.getElementById(`btn-theme-${t}`);
                if (t === themeName) {
                    btn.classList.add(&#039;active&#039;);
                } else {
                    btn.classList.remove(&#039;active&#039;);
                }
            });

            inflationChart.data.datasets[0].backgroundColor = currentThemeColor;
            inflationChart.data.datasets[0].borderColor = currentThemeColor;
            inflationChart.data.datasets[0].pointBorderColor = currentThemeColor;

            if (currentChartType === &#039;line&#039;) {
                inflationChart.data.datasets[0].fill = {
                    target: &#039;origin&#039;,
                    above: `${currentThemeColor}0D`
                };
            }

            inflationChart.update();
        }

        // Function to switch Chart type (Bar vs Line)
        function setChartType(type) {
            currentChartType = type;

            const barBtn = document.getElementById(&#039;btn-type-bar&#039;);
            const lineBtn = document.getElementById(&#039;btn-type-line&#039;);

            if (type === &#039;bar&#039;) {
                barBtn.classList.add(&#039;active&#039;);
                lineBtn.classList.remove(&#039;active&#039;);
            } else {
                lineBtn.classList.add(&#039;active&#039;);
                barBtn.classList.remove(&#039;active&#039;);
            }

            inflationChart.destroy();
            
            const datasetConfig = {
                label: &#039;Inflation (%)&#039;,
                data: inflationChart.data.datasets[0].data,
                backgroundColor: currentThemeColor,
                borderColor: currentThemeColor,
                borderWidth: type === &#039;line&#039; ? 3 : 0,
                fill: type === &#039;line&#039; ? { target: &#039;origin&#039;, above: `${currentThemeColor}0D` } : false,
                borderRadius: type === &#039;bar&#039; ? 5 : 0,
                borderSkipped: false,
                barPercentage: 0.7,
                categoryPercentage: 0.85,
                tension: 0.35,
                pointBackgroundColor: &#039;#ffffff&#039;,
                pointBorderColor: currentThemeColor,
                pointBorderWidth: 2,
                pointRadius: type === &#039;line&#039; ? 3 : 0,
                pointHoverRadius: type === &#039;line&#039; ? 5 : 0
            };

            inflationChart = new Chart(ctx, {
                type: type,
                data: {
                    labels: inflationChart.data.labels,
                    datasets: [datasetConfig]
                },
                options: {
                    responsive: true,
                    maintainAspectRatio: false,
                    plugins: {
                        legend: { display: false },
                        tooltip: {
                            backgroundColor: &#039;rgba(15, 23, 42, 0.95)&#039;,
                            titleFont: { size: 10, weight: &#039;700&#039; },
                            bodyFont: { size: 11, weight: &#039;700&#039; },
                            padding: 8,
                            cornerRadius: 8,
                            displayColors: false,
                            callbacks: {
                                label: function(context) {
                                    return `Rate: ${context.parsed.y}%`;
                                }
                            }
                        },
                        datalabels: {
                            display: function() {
                                return currentYearFilter !== &#039;all&#039;;
                            },
                            anchor: &#039;end&#039;,
                            align: &#039;top&#039;,
                            offset: 2,
                            formatter: function(value) {
                                return value.toFixed(1) + &#039;%&#039;;
                            },
                            font: { weight: &#039;700&#039;, size: 9 },
                            color: function() { return currentThemeColor; }
                        }
                    },
                    scales: {
                        x: {
                            grid: { display: false },
                            ticks: { font: { size: 8, weight: &#039;600&#039; }, maxRotation: 0, autoSkip: true, maxTicksLimit: 12 }
                        },
                        y: {
                            beginAtZero: true,
                            grid: { color: &#039;#f1f5f9&#039;, borderDash: [5, 5] },
                            ticks: {
                                padding: 6,
                                font: { size: 8.5, weight: &#039;500&#039; },
                                callback: function(value) { return value + &#039;%&#039;; }
                            },
                            border: { display: false }
                        }
                    }
                }
            });
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6abe27f6c294c&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 30000);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p><strong>ستمبر 2026 کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اگست کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات  کے مطابق ستمبر 2025 میں صارف قیمتوں کا اشاریہ (سی پی آئی) 5.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026  کے دوران سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ ماہ اس میں 1.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>شہری علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ 10.1 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 10.4 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پرستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 0.9 فیصد اور ستمبر 2025 میں 1.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>دیہی علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 12.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 1.6 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>مالی سال 2027  کی پہلی سہ ماہی کے دوران سی پی آئی پر مبنی افراطِ زر کی شرح 10.2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.3 فیصد تھی۔</p>
<p><strong>حکومت کی توقعات</strong></p>
<p>ایک روز قبل وزارتِ خزانہ  نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ قلیل مدت میں افراطِ زر کی شرح بلند رہے گی جبکہ ہیڈ لائن صارف قیمتوں کے اشاریے پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں 10 سے 11 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد افراطِ زر کی سمت کا انحصار بڑی حد تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کے جاری اخراجات اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث جولائی 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ 596.6 ارب روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں معاشی منظرنامے کے لیے بدستور سب سے بڑا خطرہ ہیں جو قوت خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل کو متاثر کررہی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ وزیرِ اعظم کا فیول ریلیف اسکیم پیٹرولیم لیوی میں کٹوتی کیے بغیر ایک ڈیجیٹل ترسیلی نظام کے ذریعے نچلے طبقے کے گھرانوں کو ریلیف فراہم کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے قوتِ خرید کا تحفظ کیا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>ماہرین کی توقعات</strong></p>
<p>قبل ازیں متعدد بروکریج ہاؤسز نے توقع ظاہر کی تھی کہ ستمبر کے دوران صارف قیمتوں میں افراطِ زر کم ہوکر تقریباً 10 فیصد رہ جائے گا، تاہم ایندھن اور بجلی کی بڑھتی لاگت سے قیمتوں پر دباؤ بلند رہنے کا امکان ہے جس سے مرکزی بینک کی زری پالیسی کے منظرنامے میں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز، اسماعیل اقبال سیکیورٹیز، عباسی اینڈ کمپنی اور گروتھ سیکیورٹیز کے اندازوں کے مطابق، ستمبر میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.9 فیصد سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291973</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:29:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01142918a037e76.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01142918a037e76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپٹما کا خطے میں مسابقتی کاروباری ماحول بحال کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291960/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کے نرخوں، ٹیکسز اور کاروباری اخراجات سمیت دیگر عوامل کے حوالے سے خطے کے مقابلے میں مسابقتی کاروباری ماحول بحال کیا جائے، ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر ٹیکسٹائل برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما کے 67ویں سالانہ اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا کہ اگر صنعت کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تو یہ ایک سال کے اندر برآمدات میں 10 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ اس وقت پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور تقریباً ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلند توانائی نرخ، بھاری ٹیکسز اور کاروباری اخراجات میں اضافے کے باعث برآمدات جمود کا شکار ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے گروپ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے برآمدی شعبوں کے لیے خطے میں مسابقتی بجلی اور گیس کے نرخ منظور کیے تھے تاہم بعد میں یہ سہولت واپس لے لی گئی جس سے برآمدات کو نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ کے لیے ایک اقدام کا بھی اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومنتخب عہدیداران اور مرکزی و زونل منیجنگ کمیٹیوں کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں سطح پر یہ ان کے گروپ کی مسلسل 17ویں انتخابی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت ویلیو چین کے مختلف مراحل کی نمائندگی کرتی ہے جو فائبر سے فیشن تک پھیلی ہوئی ہے۔ شمالی زون کے چیئرمین کا تعلق گارمنٹس شعبے سے ہے اور وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبکدوش چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ جب تک کاروباری لاگت کو عالمی سطح پر مسابقتی نہیں بنایا جاتا، صنعت کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ انہوں نے مسابقتی توانائی نرخوں، ایسے ٹیکس نظام کا مطالبہ کیا جو برآمد کنندگان کو سزا دینے کے بجائے سرمایہ کاری اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومنتخب چیئرمین اسد شفیع نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کم ہوکر تقریباً 450 ارب ڈالر رہ گئی ہے جبکہ زرعی اور صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ 60 سے 70 لاکھ بچوں کی پیدائش کے باوجود برآمدات 30 ارب ڈالر سے کم ہیں۔ان کے مطابق یہ بڑھتا ہوا فرق نوجوان پاکستانیوں کو بیرون ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ انہوں نے مسابقتی صلاحیت میں کمی کی وجہ کپاس کی پیداوار میں کمی اور برآمدات میں جمود کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت 11 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹے سے زیادہ ہے جبکہ ہمسایہ ممالک میں یہ تقریباً 6 سینٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کے نرخوں، ٹیکسز اور کاروباری اخراجات سمیت دیگر عوامل کے حوالے سے خطے کے مقابلے میں مسابقتی کاروباری ماحول بحال کیا جائے، ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر ٹیکسٹائل برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔</strong></p>
<p>اپٹما کے 67ویں سالانہ اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا کہ اگر صنعت کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تو یہ ایک سال کے اندر برآمدات میں 10 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ اس وقت پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور تقریباً ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بلند توانائی نرخ، بھاری ٹیکسز اور کاروباری اخراجات میں اضافے کے باعث برآمدات جمود کا شکار ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے گروپ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے برآمدی شعبوں کے لیے خطے میں مسابقتی بجلی اور گیس کے نرخ منظور کیے تھے تاہم بعد میں یہ سہولت واپس لے لی گئی جس سے برآمدات کو نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ کے لیے ایک اقدام کا بھی اعلان کیا۔</p>
<p>نومنتخب عہدیداران اور مرکزی و زونل منیجنگ کمیٹیوں کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں سطح پر یہ ان کے گروپ کی مسلسل 17ویں انتخابی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت ویلیو چین کے مختلف مراحل کی نمائندگی کرتی ہے جو فائبر سے فیشن تک پھیلی ہوئی ہے۔ شمالی زون کے چیئرمین کا تعلق گارمنٹس شعبے سے ہے اور وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔</p>
<p>سبکدوش چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ جب تک کاروباری لاگت کو عالمی سطح پر مسابقتی نہیں بنایا جاتا، صنعت کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ انہوں نے مسابقتی توانائی نرخوں، ایسے ٹیکس نظام کا مطالبہ کیا جو برآمد کنندگان کو سزا دینے کے بجائے سرمایہ کاری اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے۔</p>
<p>نومنتخب چیئرمین اسد شفیع نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کم ہوکر تقریباً 450 ارب ڈالر رہ گئی ہے جبکہ زرعی اور صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ 60 سے 70 لاکھ بچوں کی پیدائش کے باوجود برآمدات 30 ارب ڈالر سے کم ہیں۔ان کے مطابق یہ بڑھتا ہوا فرق نوجوان پاکستانیوں کو بیرون ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ انہوں نے مسابقتی صلاحیت میں کمی کی وجہ کپاس کی پیداوار میں کمی اور برآمدات میں جمود کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت 11 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹے سے زیادہ ہے جبکہ ہمسایہ ممالک میں یہ تقریباً 6 سینٹ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291960</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01125750189fe30.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01125750189fe30.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طلعت محمود کراچی چیمبر کے صدر منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291957/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے 65ویں سالانہ اجلاس عام میں سال 2026-28 کے لیے نئے عہدیداران  کا انتخاب کرلیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلعت محمود کو صدر، اسلم پکھالی کو سینئر نائب صدر اور عاطف جمیل الرحمٰن کو نائب صدر منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا، محمد جاوید بلوانی، جنید میکڈا اور دیگر رہنماؤں نے نومنتخب عہدیداران اور منیجنگ کمیٹی کے ارکان کو مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے 65ویں سالانہ اجلاس عام میں سال 2026-28 کے لیے نئے عہدیداران  کا انتخاب کرلیا گیا۔</strong></p>
<p>طلعت محمود کو صدر، اسلم پکھالی کو سینئر نائب صدر اور عاطف جمیل الرحمٰن کو نائب صدر منتخب کیا گیا۔</p>
<p>چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا، محمد جاوید بلوانی، جنید میکڈا اور دیگر رہنماؤں نے نومنتخب عہدیداران اور منیجنگ کمیٹی کے ارکان کو مبارکباد دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291957</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 12:03:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01120312cabcfe6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01120312cabcfe6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کھاڈی کا آئندہ ماہ آئی پی او لانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291991/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کھاڈی پاکستان لمیٹڈ، جو فیشن ریٹیل کا کاروبار کرنے والی کمپنی ہے، آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کے ذریعے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے نیٹ ورک میں توسیع کے لیے سرمایہ حاصل کیا جائے گا۔یہ بات بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کمپنی 6.2 ارب روپے سے 8.3 ارب روپے تک سرمایہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھاڈی، ویوز کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ہے، جس میں عالمی بینک گروپ کے رکن انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی اقلیتی شراکت داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھاڈی کی اہم مارکیٹ پاکستان ہے، جبکہ کمپنی متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا میں بھی کاروبار کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ اس آئی پی او کے لیے مالیاتی مشیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2024 میں کھاڈی کو ہم اسٹائل ایوارڈز 2024 میں ’ریٹیل برانڈ آف دی ایئر‘ کا اعزاز دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں بھی حالیہ عرصے کے دوران نمایاں سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حالیہ نئی لسٹنگز نے نمایاں منافع فراہم کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس نے جون 2026 میں جاری بیان میں کہا تھا کہ 13 نئی لسٹنگز اور اوسطاً 47 فیصد منافع کے ساتھ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں مضبوط ترقی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد نمایاں ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کھاڈی پاکستان لمیٹڈ، جو فیشن ریٹیل کا کاروبار کرنے والی کمپنی ہے، آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کے ذریعے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے نیٹ ورک میں توسیع کے لیے سرمایہ حاصل کیا جائے گا۔یہ بات بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کی۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق کمپنی 6.2 ارب روپے سے 8.3 ارب روپے تک سرمایہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کھاڈی، ویوز کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ہے، جس میں عالمی بینک گروپ کے رکن انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی اقلیتی شراکت داری ہے۔</p>
<p>کھاڈی کی اہم مارکیٹ پاکستان ہے، جبکہ کمپنی متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا میں بھی کاروبار کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ اس آئی پی او کے لیے مالیاتی مشیر ہے۔</p>
<p>مئی 2024 میں کھاڈی کو ہم اسٹائل ایوارڈز 2024 میں ’ریٹیل برانڈ آف دی ایئر‘ کا اعزاز دیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں بھی حالیہ عرصے کے دوران نمایاں سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حالیہ نئی لسٹنگز نے نمایاں منافع فراہم کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>پی ایس ایکس نے جون 2026 میں جاری بیان میں کہا تھا کہ 13 نئی لسٹنگز اور اوسطاً 47 فیصد منافع کے ساتھ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں مضبوط ترقی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد نمایاں ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291991</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01202456aa114e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01202456aa114e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی پیکیجز گروپ کو فروخت کا عمل مکمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291962/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایکزو نوبل نے ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی آئی جی آئی انوسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کوفروخت مکمل کرلی ہے جو پاکستان کے مختلف کاروباری شعبوں میں کام کرنے والے معروف پیکیجز گروپ کا حصہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فروخت کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو تقریباً 50 ملین یورو (16.2 ارب پاکستانی روپے) ہے جبکہ اس کی EV/EBITDA ویلیو14 گنامقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں پاکستان میں   ایکزو نوبل کے ڈیکوریٹو پینٹس اور لیکوئڈ کوٹنگز کے کاروبار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکزو نوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرGreg Poux-Guillaume نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیل کی تکمیل ہماری جاری اسٹریٹجک پورٹ فولیو ریویو پر عمل درآمد میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ہم پاکستان میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے دکھائے گئے جذبے اور عزم کے شکر گزار ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ پیکیجز گروپ، پاکستان کی صارفین اور صنعتی مارکیٹوں میں اپنی مضبوط موجودگی کے باعث، اس کاروبار کو ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکیجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی نے کہا کہ ہم   ایکزو نوبل پاکستان کو پیکیجز گروپ کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ ڈیل پاکستان میں اعلیٰ معیار کے کاروبار، مضبوط مارکیٹ پوزیشن رکھنے والے معتبر برانڈز اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت رکھنے والے اداروں کی تعمیر اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے ہمارے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایکزو نوبل نے ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ کی آئی جی آئی انوسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کوفروخت مکمل کرلی ہے جو پاکستان کے مختلف کاروباری شعبوں میں کام کرنے والے معروف پیکیجز گروپ کا حصہ ہے۔</strong></p>
<p>اس فروخت کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو تقریباً 50 ملین یورو (16.2 ارب پاکستانی روپے) ہے جبکہ اس کی EV/EBITDA ویلیو14 گنامقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اس معاہدے میں پاکستان میں   ایکزو نوبل کے ڈیکوریٹو پینٹس اور لیکوئڈ کوٹنگز کے کاروبار شامل ہیں۔</p>
<p>ایکزو نوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرGreg Poux-Guillaume نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیل کی تکمیل ہماری جاری اسٹریٹجک پورٹ فولیو ریویو پر عمل درآمد میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ہم پاکستان میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے دکھائے گئے جذبے اور عزم کے شکر گزار ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ پیکیجز گروپ، پاکستان کی صارفین اور صنعتی مارکیٹوں میں اپنی مضبوط موجودگی کے باعث، اس کاروبار کو ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>پیکیجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی نے کہا کہ ہم   ایکزو نوبل پاکستان کو پیکیجز گروپ کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ ڈیل پاکستان میں اعلیٰ معیار کے کاروبار، مضبوط مارکیٹ پوزیشن رکھنے والے معتبر برانڈز اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت رکھنے والے اداروں کی تعمیر اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے ہمارے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291962</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:09:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01130841033fb71.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01130841033fb71.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی فی تولہ قیمت میں 3000 روپے کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291976/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو  چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 30 ڈالر کی کمی سے 4161 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 3 ہزار روپے کی کمی سے 4 لاکھ 38 ہزار636 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 76 ہزار 59 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 4300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 636 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 50 روپے کی کمی سے 6528 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو  چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 30 ڈالر کی کمی سے 4161 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 3 ہزار روپے کی کمی سے 4 لاکھ 38 ہزار636 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 76 ہزار 59 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 4300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 636 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 50 روپے کی کمی سے 6528 روپے ہوگئی۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291976</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:41:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01145553d558ec6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01145553d558ec6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291977/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.10 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کومقامی کرنسی 277.11 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.10 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کومقامی کرنسی 277.11 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔</p>
<p>ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291977</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:11:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01144744699e87b.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01144744699e87b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عاصم غنی عثمان پی ایس ایم اے کے چیئرمین منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291980/</link>
      <description>&lt;p&gt;شوگر ملرز  نے عاصم غنی عثمان کو چیئرمین، محمد رفیق کو سینئر وائس چیئرمین، اسلم فاروق کو چیئرمین ساؤتھ زون اور خان محمد اشرف کو چیئرمین نارتھ زون کے طور پر آئندہ مدت کے لیے بلا مقابلہ منتخب کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات کے نتائج کا اعلان  پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے سالانہ جنرل اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایم اے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی منتخب کر لیے گئے ہیں۔ ساؤتھ زون کے لیے عاصم غنی عثمان، اسلم فاروق، احمد بوانی، ڈاکٹر تارا چند اور زید زکریا جبکہ نارتھ زون کے لیے محمد رفیق، خان محمد اشرف، احمد علی طارق، حسن احمد اور احمد جہانزیب خان منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رخصت ہونے والے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں شوگر انڈسٹری کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا، انہوں نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کو صنعت کے مسائل کا واحد حل قرار دیا۔ انہوں نے نومنتخب چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نومنتخب ارکان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شوگر انڈسٹری کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب چیئرمین عاصم غنی عثمان نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شوگر ملرز  نے عاصم غنی عثمان کو چیئرمین، محمد رفیق کو سینئر وائس چیئرمین، اسلم فاروق کو چیئرمین ساؤتھ زون اور خان محمد اشرف کو چیئرمین نارتھ زون کے طور پر آئندہ مدت کے لیے بلا مقابلہ منتخب کرلیا ہے۔</p>
<p>انتخابات کے نتائج کا اعلان  پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے سالانہ جنرل اجلاس میں کیا گیا۔</p>
<p>پی ایس ایم اے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی منتخب کر لیے گئے ہیں۔ ساؤتھ زون کے لیے عاصم غنی عثمان، اسلم فاروق، احمد بوانی، ڈاکٹر تارا چند اور زید زکریا جبکہ نارتھ زون کے لیے محمد رفیق، خان محمد اشرف، احمد علی طارق، حسن احمد اور احمد جہانزیب خان منتخب ہوئے۔</p>
<p>رخصت ہونے والے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں شوگر انڈسٹری کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا، انہوں نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کو صنعت کے مسائل کا واحد حل قرار دیا۔ انہوں نے نومنتخب چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نومنتخب ارکان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شوگر انڈسٹری کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب چیئرمین عاصم غنی عثمان نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291980</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:52:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0115513932fede6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0115513932fede6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وناسپتی مینوفیکچرز نے عہدیداران کا انتخاب کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291979/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان وناسپتی مینوفیکچرز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) میں نوید احمد بلامقابلہ چیئرمین، فاد وحید سینئر وائس چیئرمین جبکہ شیخ آصف سعید وائس چیئرمین منتخب ہوگئے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومنتخب عہدیداروں کا اعلان چیئرمین شیخ عمر ریحان اور پیٹرن عبد الرزاق کی زیر صدارت 81 ویں اجلاس عام میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین شیخ عمر ریحان نے اس موقع پر سال 2026-28 کی دو سالہ مدت کیلئے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے 21 رکنی ایگزیکٹیو ممبران کا بھی اعلان کیا جن میں نارتھ زون سے فاد وحید، محمد ثمین جان، سلمان خان، کاشف اسلام شیخ، شیخ امجد رشید، ارحم اکرام۔ سینٹرل زون سے ظفر اقبال، عماد الدین، منیب منوں، ناصر ابراہیم، حمزہ طارق صوفی، نوید احمد، زین محمود فواد اکرم۔ جبکہ ساؤتھ زون سے شیخ آصف سعید، معروف مولوی، حسیب الرحمان شیخ، محمد ارشد حئی، رافع رزاق، شیخ انجم رحمت اور عادل وحید بطور ایگزیکٹو ممبران منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ خواتین کی خصوصی نشست پر ثناء شعیب اور ماروا شعیب کامیاب قرار پائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی وی ایم اے شیخ عمر ریحان نے اعلی خدمات کے اعتراف میں خالد اسلام اور کاشف رزاق کو گولڈ میڈل پیش کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان وناسپتی مینوفیکچرز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) میں نوید احمد بلامقابلہ چیئرمین، فاد وحید سینئر وائس چیئرمین جبکہ شیخ آصف سعید وائس چیئرمین منتخب ہوگئے</p>
<p>نومنتخب عہدیداروں کا اعلان چیئرمین شیخ عمر ریحان اور پیٹرن عبد الرزاق کی زیر صدارت 81 ویں اجلاس عام میں کیا گیا۔</p>
<p>چیئرمین شیخ عمر ریحان نے اس موقع پر سال 2026-28 کی دو سالہ مدت کیلئے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے 21 رکنی ایگزیکٹیو ممبران کا بھی اعلان کیا جن میں نارتھ زون سے فاد وحید، محمد ثمین جان، سلمان خان، کاشف اسلام شیخ، شیخ امجد رشید، ارحم اکرام۔ سینٹرل زون سے ظفر اقبال، عماد الدین، منیب منوں، ناصر ابراہیم، حمزہ طارق صوفی، نوید احمد، زین محمود فواد اکرم۔ جبکہ ساؤتھ زون سے شیخ آصف سعید، معروف مولوی، حسیب الرحمان شیخ، محمد ارشد حئی، رافع رزاق، شیخ انجم رحمت اور عادل وحید بطور ایگزیکٹو ممبران منتخب ہوئے۔</p>
<p>جبکہ خواتین کی خصوصی نشست پر ثناء شعیب اور ماروا شعیب کامیاب قرار پائیں۔</p>
<p>چیئرمین پی وی ایم اے شیخ عمر ریحان نے اعلی خدمات کے اعتراف میں خالد اسلام اور کاشف رزاق کو گولڈ میڈل پیش کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291979</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:38:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01153826ba6a357.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01153826ba6a357.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شپنگ اخراجات کم کرنے کیلئے پی این ایس سی کنٹینر جہاز لیز یا خرید سکتی ہے، وفاقی وزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291954/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) پاکستانی برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور شپنگ اخراجات کم کرنے کیلئے کنٹینر جہاز لیز پر لینے یا خریدنے پر غور کرسکتی ہے، بشرطیکہ آپریشن کو تجارتی طور پر قابل عمل بنانے کے لیے مطلوبہ مال برداری کا حجم یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت برآمد کنندگان کے تین رکنی وفد اور  جنید انور چوہدری  کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر کو خطے میں شپنگ روٹس میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طویل راستوں کے باعث یورپی اور امریکی منڈیوں تک مال کی ترسیل کے اخراجات اور دورانیے میں اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد میں اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شہزاد اصغر علی، گلوبل ایڈیڈاس کے نائب صدر بینیڈکٹ برنر اور ایڈیڈاس میں سورسنگ آپریشنز کے سینئر ڈائریکٹر ثاقب رفیق شامل تھے۔ بیان کے مطابق پی این ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جرار حیدر کاظمی نے بھی آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے کہا کہ طویل شپنگ روٹس کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ دیگر ممالک کے برآمد کنندگان کو اہم عالمی منڈیوں تک نسبتاً آسان اور براہِ راست رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چوہدری نے شپنگ رابطوں کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزارتِ بحری امور، پی این ایس سی اور برآمد کنندگان کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور برآمدی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے مختص کنٹینر جہاز کی تجویز سمیت دیگر اقدامات کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے کہا کہ وہ دیگر برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد اپنی تجاویز غور کے لیے ورکنگ گروپ کے سامنے پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکنگ گروپ شپنگ رابطوں کو بہتر بنانے، نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ممکنہ انتظامات کا بھی جائزہ لے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) پاکستانی برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور شپنگ اخراجات کم کرنے کیلئے کنٹینر جہاز لیز پر لینے یا خریدنے پر غور کرسکتی ہے، بشرطیکہ آپریشن کو تجارتی طور پر قابل عمل بنانے کے لیے مطلوبہ مال برداری کا حجم یقینی بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت برآمد کنندگان کے تین رکنی وفد اور  جنید انور چوہدری  کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر کو خطے میں شپنگ روٹس میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طویل راستوں کے باعث یورپی اور امریکی منڈیوں تک مال کی ترسیل کے اخراجات اور دورانیے میں اضافہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>وفد میں اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شہزاد اصغر علی، گلوبل ایڈیڈاس کے نائب صدر بینیڈکٹ برنر اور ایڈیڈاس میں سورسنگ آپریشنز کے سینئر ڈائریکٹر ثاقب رفیق شامل تھے۔ بیان کے مطابق پی این ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جرار حیدر کاظمی نے بھی آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے کہا کہ طویل شپنگ روٹس کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ دیگر ممالک کے برآمد کنندگان کو اہم عالمی منڈیوں تک نسبتاً آسان اور براہِ راست رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>جنید انور چوہدری نے شپنگ رابطوں کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزارتِ بحری امور، پی این ایس سی اور برآمد کنندگان کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا۔</p>
<p>شرکاء نے نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور برآمدی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے مختص کنٹینر جہاز کی تجویز سمیت دیگر اقدامات کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>وفد نے کہا کہ وہ دیگر برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد اپنی تجاویز غور کے لیے ورکنگ گروپ کے سامنے پیش کرے گا۔</p>
<p>ورکنگ گروپ شپنگ رابطوں کو بہتر بنانے، نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ممکنہ انتظامات کا بھی جائزہ لے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291954</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0111275075289ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="414" width="738">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0111275075289ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں سولر بوم، چینی تعاون سے چلنے والے کوئلے کے بجلی گھروں پر دباؤ بڑھ گیا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں شمسی توانائی کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان ملک کے پہلے ہی مشکلات سے دوچار بجلی کے شعبے کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا کررہا ہے۔ بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ کم لاگت والی تقسیم شدہ بجلی پیداوار کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہورہی ہے جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی معاملات پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور چین کی معاونت سے قائم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے قرضوں کی ادائیگی کا معاشی ماڈل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ملک کے معاشی مرکز کراچی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر مشرق میں واقع پورٹ قاسم کے صنعتی زون میں جہاں تقریباً 400 کمپنیاں قائم ہیں، اب عمارتوں کی چھتوں پر شمسی پینلز نصب ہیں۔ اسی صنعتی علاقے میں کوئلے سے چلنے والا ایک بجلی گھر بھی موجود ہے جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکیجنگ فیکٹری کے مالک ظہیر علانہ نے بلومبرگ کو بتایا کہ جہاں تک نظر جاتی ہے، تقریباً ہر جگہ سولر پینلز نظر آتے ہیں۔ ان کی فیکٹری کی چھت فوٹو وولٹک ماڈیولز سے بھری ہوئی ہے جو فیکٹری کی بجلی کی ضروریات کا تقریباً پانچواں حصہ پورا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دستیاب تقریباً تمام جگہ استعمال کرلی ہے، اگر ہمارے پاس مزید جگہ ہوتی تو ہم اسے 100 فیصد تک لے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت عام بجلی کے نرخ کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ ظہیرعلانہ نے کہا کہ اگر ہم بجلی اخراجات میں بچت کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ہماری مجموعی مالی کارکردگی پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں توانائی سے متعلق تھنک ٹینک ایمبر کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2025 میں پاکستان کی مجموعی بجلی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ تقریباً 20 فیصد تھا جو دہائی کے آغاز میں تقریباً 3 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں،  ناقابلِ اعتماد گرڈ اور سستے سولر پینلز کی دستیابیجنہیں  ٹک ٹاک پر DIY تنصیب کے طریقۂ کار سے مقبولیت ملی نے گزشتہ سال اس ملک کو چین کی تیسری سب سے بڑی سولر برآمدی منڈی بنا دیا اور یہ آلات اس قدر عام ہو گئے ہیں کہ اب انہیں شادی کے جہیز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے کسٹمز کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی چین سے بیٹریوں کی درآمدات میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت تقریباً 392 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں قائم کلین ٹیکنالوجی درآمد کرنے والی کمپنی Innovo Corp. کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مجاہد جنہوں نے بیٹریاں، انورٹرز اور سولر پینلز فراہم کیے ہیں نے کہا کہ ہر وہ صارف جو بجلی کے قومی گرڈ سے کنارہ کشی اختیار کرکے سولر کی طرف جا رہا ہے، اس بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ایک طرح کا ڈیتھ اسپائرل ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بلومبرگ کے مطابق اس تبدیلی کے باعث گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کی طلب میں کمی آرہی ہے جس سے سرکاری ملکیت والی بجلی کی کمپنیوں اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو چلانے والی چینی کمپنیوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 تک کے 12 ماہ کے دوران پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی کی کھپت تین سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد مجاہد نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنی ڈرامائی اور بڑی خلل ڈالنے والی تبدیلی اتنی تیزی سے رونما ہوگی۔ میرے خیال میں پالیسی ساز اس صورتِ حال کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس صورتِ حال کے اثرات خاص طور پر چین کی حمایت سے چلنے والے بجلی کے منصوبوں کے لیے نمایاں ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق اگست تک چینی بجلی گھروں کو واجب الادا رقوم بڑھ کر 1.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں جبکہ چین کی مالی معاونت سے چلنے والے کوئلے کے منصوبوں سے متعلق بقایا قرض گزشتہ سال 3.1 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق پورٹ قاسم کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کو واجب الادا رقم جون میں تقریباً 300 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ بجلی گھر ان 7 کوئلے سے چلنے والے منصوبوں میں شامل ہے جو چین نے 2017 سے پاکستان میں تقریباً 9.6 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کرکے فراہم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوسٹن یونیورسٹی میں گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی کے پروفیسر اور ائنا اینڈ دی گلوبل اکنامک آرڈ کے مصنفین میں سے ایک کیون گالاگھر نے بلومبرگ کو بتایا کہ جب چین کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی برآمد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، تو “پاکستان اس کا سب سے چہیتا (ڈارلنگ) تھا، اب وہ گرین انرجی کے چہیتے بن گئے ہیں، لیکن یہ دونوں چیزیں آپس میں میل نہیں کھاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اسلام آباد بجلی کے شعبے کے قرضے میں کمی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس کی ادائیگی کی مدت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے بلومبرگ کو بتایا کہ ہم ان شرائط و ضوابط میں کسی قسم کی قرض معافی یا کٹوتی کی توقع نہیں کررہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی کو طویل مدت پر پھیلا دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت سے واقف افراد کے مطابق چینی حکام اب تک بجلی کے شعبے کے بقایا قرضوں پر بڑی رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہوئے کیونکہ اس سے چینی سرکاری ملکیتی کمپنیوں اور بینکوں کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیرِ غور ممکنہ حل میں قرض کی ری فنانسنگ اور کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کو نئے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں شمسی توانائی کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان ملک کے پہلے ہی مشکلات سے دوچار بجلی کے شعبے کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا کررہا ہے۔ بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ کم لاگت والی تقسیم شدہ بجلی پیداوار کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہورہی ہے جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی معاملات پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور چین کی معاونت سے قائم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے قرضوں کی ادائیگی کا معاشی ماڈل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق ملک کے معاشی مرکز کراچی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر مشرق میں واقع پورٹ قاسم کے صنعتی زون میں جہاں تقریباً 400 کمپنیاں قائم ہیں، اب عمارتوں کی چھتوں پر شمسی پینلز نصب ہیں۔ اسی صنعتی علاقے میں کوئلے سے چلنے والا ایک بجلی گھر بھی موجود ہے جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔</p>
<p>پیکیجنگ فیکٹری کے مالک ظہیر علانہ نے بلومبرگ کو بتایا کہ جہاں تک نظر جاتی ہے، تقریباً ہر جگہ سولر پینلز نظر آتے ہیں۔ ان کی فیکٹری کی چھت فوٹو وولٹک ماڈیولز سے بھری ہوئی ہے جو فیکٹری کی بجلی کی ضروریات کا تقریباً پانچواں حصہ پورا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دستیاب تقریباً تمام جگہ استعمال کرلی ہے، اگر ہمارے پاس مزید جگہ ہوتی تو ہم اسے 100 فیصد تک لے جاتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت عام بجلی کے نرخ کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ ظہیرعلانہ نے کہا کہ اگر ہم بجلی اخراجات میں بچت کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ہماری مجموعی مالی کارکردگی پر پڑتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں توانائی سے متعلق تھنک ٹینک ایمبر کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2025 میں پاکستان کی مجموعی بجلی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ تقریباً 20 فیصد تھا جو دہائی کے آغاز میں تقریباً 3 فیصد تھا۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں،  ناقابلِ اعتماد گرڈ اور سستے سولر پینلز کی دستیابیجنہیں  ٹک ٹاک پر DIY تنصیب کے طریقۂ کار سے مقبولیت ملی نے گزشتہ سال اس ملک کو چین کی تیسری سب سے بڑی سولر برآمدی منڈی بنا دیا اور یہ آلات اس قدر عام ہو گئے ہیں کہ اب انہیں شادی کے جہیز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ نے کسٹمز کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی چین سے بیٹریوں کی درآمدات میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت تقریباً 392 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>لاہور میں قائم کلین ٹیکنالوجی درآمد کرنے والی کمپنی Innovo Corp. کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مجاہد جنہوں نے بیٹریاں، انورٹرز اور سولر پینلز فراہم کیے ہیں نے کہا کہ ہر وہ صارف جو بجلی کے قومی گرڈ سے کنارہ کشی اختیار کرکے سولر کی طرف جا رہا ہے، اس بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ایک طرح کا ڈیتھ اسپائرل ہے</p>
<p>تاہم بلومبرگ کے مطابق اس تبدیلی کے باعث گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کی طلب میں کمی آرہی ہے جس سے سرکاری ملکیت والی بجلی کی کمپنیوں اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو چلانے والی چینی کمپنیوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔</p>
<p>نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 تک کے 12 ماہ کے دوران پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی کی کھپت تین سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد کم رہی۔</p>
<p>محمد مجاہد نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنی ڈرامائی اور بڑی خلل ڈالنے والی تبدیلی اتنی تیزی سے رونما ہوگی۔ میرے خیال میں پالیسی ساز اس صورتِ حال کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس صورتِ حال کے اثرات خاص طور پر چین کی حمایت سے چلنے والے بجلی کے منصوبوں کے لیے نمایاں ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق اگست تک چینی بجلی گھروں کو واجب الادا رقوم بڑھ کر 1.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں جبکہ چین کی مالی معاونت سے چلنے والے کوئلے کے منصوبوں سے متعلق بقایا قرض گزشتہ سال 3.1 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>معاملے سے واقف ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق پورٹ قاسم کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کو واجب الادا رقم جون میں تقریباً 300 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ بجلی گھر ان 7 کوئلے سے چلنے والے منصوبوں میں شامل ہے جو چین نے 2017 سے پاکستان میں تقریباً 9.6 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کرکے فراہم کیے ہیں۔</p>
<p>بوسٹن یونیورسٹی میں گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی کے پروفیسر اور ائنا اینڈ دی گلوبل اکنامک آرڈ کے مصنفین میں سے ایک کیون گالاگھر نے بلومبرگ کو بتایا کہ جب چین کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی برآمد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، تو “پاکستان اس کا سب سے چہیتا (ڈارلنگ) تھا، اب وہ گرین انرجی کے چہیتے بن گئے ہیں، لیکن یہ دونوں چیزیں آپس میں میل نہیں کھاتیں۔</p>
<p>وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اسلام آباد بجلی کے شعبے کے قرضے میں کمی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس کی ادائیگی کی مدت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے بلومبرگ کو بتایا کہ ہم ان شرائط و ضوابط میں کسی قسم کی قرض معافی یا کٹوتی کی توقع نہیں کررہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی کو طویل مدت پر پھیلا دیا جائے۔</p>
<p>بات چیت سے واقف افراد کے مطابق چینی حکام اب تک بجلی کے شعبے کے بقایا قرضوں پر بڑی رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہوئے کیونکہ اس سے چینی سرکاری ملکیتی کمپنیوں اور بینکوں کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیرِ غور ممکنہ حل میں قرض کی ری فنانسنگ اور کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کو نئے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291966</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:39:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011339438d0c371.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011339438d0c371.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا شدید دباؤ، انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔</p>
<p>تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔</p>
<p>پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔</p>
<p>نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔</p>
<p>بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔</p>
<p>سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291953</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:47:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116462699f151d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116462699f151d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116464167212e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116464167212e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فوڈ ایئر 2026-27، ٹی سی پی کو گندم درآمد کا عمل تیز کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291947/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے بدھ کو گندم کی درآمدات تیز کرنے کیلئے کوششیں بڑھاتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو ہدایت کی ہے کہ فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے سندھ کی جانب سے درکار مزید ایک لاکھ 85 ہزار ٹن گندم کی خریداری کا عمل آگے بڑھایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے گندم کی درآمد کے انتظامات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ سندھ کیلئے درکار باقی مقدار کی خریداری کیلئے کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ مطلوبہ ادائیگیوں کا فوری انتظام کیا جائے اور گندم کی درآمد کے عمل پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے مکمل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے مطابق گندم کی درآمد کا مقصد ملک میں گندم کی مناسب فراہمی یقینی بنانا اور قیمتوں کو مناسب سطح پر برقرار رکھنا ہے تاکہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سندھ کے وزیر خوراک، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے مینیجنگ ڈائریکٹر، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ٹی سی پی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کی ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے گندم کی درآمد کے انتظامات مکمل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں صوبوں کی ضروریات پوری کرنے، بروقت خریداری اور گندم کی فراہمی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے بدھ کو گندم کی درآمدات تیز کرنے کیلئے کوششیں بڑھاتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو ہدایت کی ہے کہ فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے سندھ کی جانب سے درکار مزید ایک لاکھ 85 ہزار ٹن گندم کی خریداری کا عمل آگے بڑھایا جائے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔</p>
<p>کمیٹی نے گندم کی درآمد کے انتظامات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ سندھ کیلئے درکار باقی مقدار کی خریداری کیلئے کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کیا جائے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ مطلوبہ ادائیگیوں کا فوری انتظام کیا جائے اور گندم کی درآمد کے عمل پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے مکمل کیے جائیں۔</p>
<p>حکومت کے مطابق گندم کی درآمد کا مقصد ملک میں گندم کی مناسب فراہمی یقینی بنانا اور قیمتوں کو مناسب سطح پر برقرار رکھنا ہے تاکہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔</p>
<p>اجلاس میں وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سندھ کے وزیر خوراک، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے مینیجنگ ڈائریکٹر، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ٹی سی پی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کمیٹی کی ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت فوڈ ایئر 2026-27 کیلئے گندم کی درآمد کے انتظامات مکمل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں صوبوں کی ضروریات پوری کرنے، بروقت خریداری اور گندم کی فراہمی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291947</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:51:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01094944ee0cf41.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01094944ee0cf41.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ کے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم، سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ امریکا میں مہنگائی کے توقعات سے کم اعدادوشمار ہیں، جس سے رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے، جبکہ سرمایہ کار اب پالیسی کے حوالے سے مزید اشاروں کیلئے آئندہ روزگار کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے نے اکتوبر کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم ستمبر میں اس کی قیمت 6 فیصد سے زیادہ کم ہوئی تھی۔ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 0.4 فیصد اضافے سے 4,204.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اگست کے دوران مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ کے قیمتوں کے دباؤ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے اور مارکیٹ میں اس کے امکانات 38 فیصد تک آگئے، جو رپورٹ جاری ہونے سے قبل 45 فیصد تھے۔ تاہم، ٹریڈرز اب بھی دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 97 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شرح سود سونے کی کشش کم کرتی ہے کیونکہ اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ آنے والے اعدادوشمار اہم ہوں گے تاکہ دیکھا جاسکے کہ مارکیٹ ان سے کیسے نمٹتی ہے اور شرح سود میں اضافے سے متعلق توقعات کیسے تشکیل پاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نان فارم پے رولز کی ستمبر کی اہم رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ ادھر ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب برقرار رہنے سے سونے کی قیمت میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ڈی سیکیورٹیز کے عالمی سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹیجی بارٹ میلیک نے کہا کہ ستمبر میں سونے کی قیمت میں ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ اصلاح کا بدترین مرحلہ گزر جانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی محاذ پر ایران نے کہا کہ اسے خلیج میں ختم ہونے والی جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سلور 1.2 فیصد اضافے سے 61.11 ڈالر، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,717.35 ڈالر اور پیلاڈیم 0.3 فیصد اضافے سے 1,207.12 ڈالر فی اونس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ امریکا میں مہنگائی کے توقعات سے کم اعدادوشمار ہیں، جس سے رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے، جبکہ سرمایہ کار اب پالیسی کے حوالے سے مزید اشاروں کیلئے آئندہ روزگار کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے نے اکتوبر کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم ستمبر میں اس کی قیمت 6 فیصد سے زیادہ کم ہوئی تھی۔ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 0.4 فیصد اضافے سے 4,204.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔</p>
<p>بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اگست کے دوران مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ کے قیمتوں کے دباؤ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی گئی۔</p>
<p>اعدادوشمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے اور مارکیٹ میں اس کے امکانات 38 فیصد تک آگئے، جو رپورٹ جاری ہونے سے قبل 45 فیصد تھے۔ تاہم، ٹریڈرز اب بھی دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 97 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>زیادہ شرح سود سونے کی کشش کم کرتی ہے کیونکہ اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ آنے والے اعدادوشمار اہم ہوں گے تاکہ دیکھا جاسکے کہ مارکیٹ ان سے کیسے نمٹتی ہے اور شرح سود میں اضافے سے متعلق توقعات کیسے تشکیل پاتی ہیں۔</p>
<p>امریکی نان فارم پے رولز کی ستمبر کی اہم رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ ادھر ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب برقرار رہنے سے سونے کی قیمت میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔</p>
<p>ٹی ڈی سیکیورٹیز کے عالمی سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹیجی بارٹ میلیک نے کہا کہ ستمبر میں سونے کی قیمت میں ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ اصلاح کا بدترین مرحلہ گزر جانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی محاذ پر ایران نے کہا کہ اسے خلیج میں ختم ہونے والی جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔</p>
<p>اسپاٹ سلور 1.2 فیصد اضافے سے 61.11 ڈالر، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,717.35 ڈالر اور پیلاڈیم 0.3 فیصد اضافے سے 1,207.12 ڈالر فی اونس ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291951</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01104306a5adc0f.webp" type="image/webp" medium="image" height="650" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01104306a5adc0f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی بینک کا ایم ایل ون منصوبے کیلئے مکمل تعاون کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان کے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے کی جدید کاری کے منصوبے کیلئے بینک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے ممکنہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماسے تو کانڈا نے منگولیا کے شہر اولان باتر میں 25ویں کیئرک وزارتی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے ملاقات کے دوران یہ یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں علاقائی رابطوں، برآمدات، موسمیاتی فنانسنگ اور اہم معدنیات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچاتے ہوئے ایم ایل ون سے متعلق ضابطہ جاتی کارروائیاں جلد مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ منصوبے کا سنگ بنیاد جلد رکھا جاسکے۔ انہوں نے ایم ایل ون کو پاکستان کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کیلئے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے مربوط ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے علاقائی روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان روابط بہتر بنانے کی تجویز بھی دی تاکہ کیئرک کے رکن ممالک کو گوادر بندرگاہ تک زیادہ رسائی فراہم کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے پاکستان کی برآمدات 2035 تک 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کیلئے مصنوعات اور مارکیٹوں میں موجود خلا کی نشاندہی اور معاونت کیلئے ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر پروگرام پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔ سیلابی پانی کے ذخیرے اور بہتر استعمال سے متعلق الگ مطالعہ کرانے کی تجویز بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی صدر نے مجوزہ مطالعات کرانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مسلسل اصلاحات اہم ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر اور انسانی سرمائے کو بینک کی ترجیحی شعبوں میں شامل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں اہم معدنیات کے شعبے پر بھی بات ہوئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان تانبے، اینٹی منی، کرومائٹ اور نایاب ارضی عناصر سمیت معدنیات میں ویلیو ایڈیشن اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے کان سے مصنوعات تک کا سفر طے کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کیئرک کریٹیکل منرلز انویسٹمنٹ اینڈ ویلیو چین پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی اور 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں کیئرک ممالک کے کاروباری اداروں کو شرکت کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان کے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے کی جدید کاری کے منصوبے کیلئے بینک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے ممکنہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>ماسے تو کانڈا نے منگولیا کے شہر اولان باتر میں 25ویں کیئرک وزارتی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے ملاقات کے دوران یہ یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں علاقائی رابطوں، برآمدات، موسمیاتی فنانسنگ اور اہم معدنیات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچاتے ہوئے ایم ایل ون سے متعلق ضابطہ جاتی کارروائیاں جلد مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ منصوبے کا سنگ بنیاد جلد رکھا جاسکے۔ انہوں نے ایم ایل ون کو پاکستان کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کیلئے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے مربوط ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے علاقائی روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان روابط بہتر بنانے کی تجویز بھی دی تاکہ کیئرک کے رکن ممالک کو گوادر بندرگاہ تک زیادہ رسائی فراہم کی جاسکے۔</p>
<p>فریقین نے پاکستان کی برآمدات 2035 تک 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کیلئے مصنوعات اور مارکیٹوں میں موجود خلا کی نشاندہی اور معاونت کیلئے ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر پروگرام پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔ سیلابی پانی کے ذخیرے اور بہتر استعمال سے متعلق الگ مطالعہ کرانے کی تجویز بھی دی گئی۔</p>
<p>اے ڈی بی صدر نے مجوزہ مطالعات کرانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مسلسل اصلاحات اہم ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر اور انسانی سرمائے کو بینک کی ترجیحی شعبوں میں شامل قرار دیا۔</p>
<p>ملاقات میں اہم معدنیات کے شعبے پر بھی بات ہوئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان تانبے، اینٹی منی، کرومائٹ اور نایاب ارضی عناصر سمیت معدنیات میں ویلیو ایڈیشن اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے کان سے مصنوعات تک کا سفر طے کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کیئرک کریٹیکل منرلز انویسٹمنٹ اینڈ ویلیو چین پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی اور 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں کیئرک ممالک کے کاروباری اداروں کو شرکت کی دعوت دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291946</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:44:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01094215f533093.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01094215f533093.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہواوے نے میٹ 90 فونز متعارف کرا دیے، امریکی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے مقامی چِپ ڈیزائن پر انحصار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291944/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے جمعرات کو اپنی نئی میٹ 90 اسمارٹ فون سیریز متعارف کرا دی، جس میں کمپنی نے امریکی پابندیوں کے باعث جدید سیمی کنڈکٹرز کی محدود دستیابی کے باوجود کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنی تیار کردہ چِپ آرکیٹیکچر اور آپریٹنگ سسٹم پر انحصار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہواوے کے کنزیومر بزنس چیف رچرڈ یو نے لانچ سے قبل بتایا کہ چین میں جدید سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت اب بھی انتہائی محدود ہے، جس کے باعث اسمارٹ فون چِپس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو بڑھتی ہوئی میموری اور دیگر اجزا کی قیمتوں کے باعث فونز کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم یہ اضافہ نسبتاً کم رفتار سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹ 90 سیریز گزشتہ سال نومبر میں پیش کی گئی میٹ 80 سیریز کی جانشین ہے۔ اس کے پریمیم ماڈلز، جن میں میٹ 90 پرو میکس شامل ہے، ہواوے کی تیار کردہ کیرن 9050 پرو سسٹم آن چِپ استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس چِپ میں لاجک فولڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں چِپ کی اندرونی وائرنگ کو روایتی دو جہتی ترتیب کے بجائے تین جہتی انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہواوے نے کیرن 9050 پرو تیار کرنے والی کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم چین کی معروف چِپ ساز کمپنی ایس ایم آئی سی کو اس کا ممکنہ تیار کنندہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فونز میں ہواوے کا اینڈرائیڈ سے آزاد ہارمنی او ایس 7 آپریٹنگ سسٹم موجود ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد ایپس اور خدمات کو سپورٹ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ڈی سی کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران چین میں اسمارٹ فونز کی مجموعی فروخت 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہواوے کی ترسیلات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ہواوے کے مطابق چین کی فولڈ ایبل فون مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 75 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے جمعرات کو اپنی نئی میٹ 90 اسمارٹ فون سیریز متعارف کرا دی، جس میں کمپنی نے امریکی پابندیوں کے باعث جدید سیمی کنڈکٹرز کی محدود دستیابی کے باوجود کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنی تیار کردہ چِپ آرکیٹیکچر اور آپریٹنگ سسٹم پر انحصار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ہواوے کے کنزیومر بزنس چیف رچرڈ یو نے لانچ سے قبل بتایا کہ چین میں جدید سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت اب بھی انتہائی محدود ہے، جس کے باعث اسمارٹ فون چِپس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو بڑھتی ہوئی میموری اور دیگر اجزا کی قیمتوں کے باعث فونز کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم یہ اضافہ نسبتاً کم رفتار سے کیا جائے گا۔</p>
<p>میٹ 90 سیریز گزشتہ سال نومبر میں پیش کی گئی میٹ 80 سیریز کی جانشین ہے۔ اس کے پریمیم ماڈلز، جن میں میٹ 90 پرو میکس شامل ہے، ہواوے کی تیار کردہ کیرن 9050 پرو سسٹم آن چِپ استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس چِپ میں لاجک فولڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں چِپ کی اندرونی وائرنگ کو روایتی دو جہتی ترتیب کے بجائے تین جہتی انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ہواوے نے کیرن 9050 پرو تیار کرنے والی کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم چین کی معروف چِپ ساز کمپنی ایس ایم آئی سی کو اس کا ممکنہ تیار کنندہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>نئے فونز میں ہواوے کا اینڈرائیڈ سے آزاد ہارمنی او ایس 7 آپریٹنگ سسٹم موجود ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد ایپس اور خدمات کو سپورٹ کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ڈی سی کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران چین میں اسمارٹ فونز کی مجموعی فروخت 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہواوے کی ترسیلات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ہواوے کے مطابق چین کی فولڈ ایبل فون مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 75 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291944</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:29:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01092827abf022d.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01092827abf022d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوہِ نور انرجی اور چینی کمپنی کا پاکستان میں بیٹری مینوفیکچرنگ کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291978/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہِ نور انرجی لمیٹڈ (کے ای ایل) اور چین کی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ نے پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اسمبلی اور تیاری کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک نان بائنڈنگ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو بھیجے گئے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ یکم اکتوبر 2026 کو کے ایس ایل اور چین میں رجسٹرڈ کمپنی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ  نے ایک مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت میں فریقین کے اس ارادے کو درج کیا گیا کہ وہ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، متعلقہ مصنوعات اور منسلک برقی آلات کی اسمبلنگ، تیاری، مارکیٹنگ اور فروخت کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کے قیام پر غور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہِ نور لاہور میں 124 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا ایک بجلی گھر چلاتی ہے اور وہاں پیدا ہونے والی بجلی اپنے واحد صارف، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو فروخت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اس منصوبے کو فی الحال مختلف مراحل میں مکمل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے: ابتدائی طور پر سالانہ تقریباً 50 سے 100 میگاواٹ گھنٹہ  کی پیداواری صلاحیت، بعد ازاں تقریباً 300 سے 500 میگاواٹ گھنٹہ اور پھر تقریباً 700 سے 1,000 میگاواٹ گھنٹہ تک توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم یہ مارکیٹ کی طلب، کاروباری کارکردگی اور ذیل میں بیان کردہ شرائط سے مشروط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ای ایل نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت غیر پابند نوعیت کی ہے جبکہ اس کے تحت زیرِ غور لین دین مزید جائزے اور ڈیو ڈیلیجنس، متعلقہ منظوریوں اور حتمی معاہدوں سے مشروط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں خاموش انقلاب سے گزر رہا ہے جہاں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مارکیٹ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخمینوں کے مطابق 2030 تک پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس کی درآمدات 8.75 گیگاواٹ گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ جولائی 2026 میں لیتھیم بیٹریوں کی ماہانہ درآمدات کی مالیت ریکارڈ بلند ترین سطح 88 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ بجلی کی بلند قیمتیں، سولر توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں اور نیٹ بلنگ کے نظام میں ہونے والی تبدیلیاں قرار دی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہِ نور انرجی لمیٹڈ (کے ای ایل) اور چین کی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ نے پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اسمبلی اور تیاری کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک نان بائنڈنگ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔</strong></p>
<p>کمپنی نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو بھیجے گئے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ یکم اکتوبر 2026 کو کے ایس ایل اور چین میں رجسٹرڈ کمپنی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ  نے ایک مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کیے۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت میں فریقین کے اس ارادے کو درج کیا گیا کہ وہ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، متعلقہ مصنوعات اور منسلک برقی آلات کی اسمبلنگ، تیاری، مارکیٹنگ اور فروخت کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کے قیام پر غور کریں۔</p>
<p>کوہِ نور لاہور میں 124 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا ایک بجلی گھر چلاتی ہے اور وہاں پیدا ہونے والی بجلی اپنے واحد صارف، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو فروخت کرتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا اس منصوبے کو فی الحال مختلف مراحل میں مکمل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے: ابتدائی طور پر سالانہ تقریباً 50 سے 100 میگاواٹ گھنٹہ  کی پیداواری صلاحیت، بعد ازاں تقریباً 300 سے 500 میگاواٹ گھنٹہ اور پھر تقریباً 700 سے 1,000 میگاواٹ گھنٹہ تک توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم یہ مارکیٹ کی طلب، کاروباری کارکردگی اور ذیل میں بیان کردہ شرائط سے مشروط ہوگی۔</p>
<p>کے ای ایل نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت غیر پابند نوعیت کی ہے جبکہ اس کے تحت زیرِ غور لین دین مزید جائزے اور ڈیو ڈیلیجنس، متعلقہ منظوریوں اور حتمی معاہدوں سے مشروط ہیں۔</p>
<p>پاکستان قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں خاموش انقلاب سے گزر رہا ہے جہاں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مارکیٹ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔</p>
<p>تخمینوں کے مطابق 2030 تک پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس کی درآمدات 8.75 گیگاواٹ گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ جولائی 2026 میں لیتھیم بیٹریوں کی ماہانہ درآمدات کی مالیت ریکارڈ بلند ترین سطح 88 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ بجلی کی بلند قیمتیں، سولر توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں اور نیٹ بلنگ کے نظام میں ہونے والی تبدیلیاں قرار دی جارہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291978</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:35:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0115324993b17a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0115324993b17a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع سے ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291943/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔</strong></p>
<p>رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</p>
<p>ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291943</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:24:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01092307ce05d91.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01092307ce05d91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول کی قیمت 14 پیسے، ڈیزل کی ایک روپے 89 پیسے فی لیٹر کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291939/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے بدھ کو یکم اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 0.14 روپے فی لیٹر کمی کر کے 387.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1.89 روپے فی لیٹر کمی کر کے 400.35 روپے کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول 387.54 روپے سے کم ہو گیا، جبکہ HSD کی قیمت 402.24 روپے سے کم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/302257451ae6e6f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/302257451ae6e6f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی منظور کردہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت مقرر کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرثانی شدہ قیمتیں وفاقی حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت یکم اکتوبر 2026 کے لیے مؤثر رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت، بالخصوص پلیٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلیوں کے باعث کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو حکومت نے ڈیزل کی قیمت 2 روپے 73 پیسے کمی سے 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت ایک روپے 49 پیسے کمی سے 387 روپے 54 پیسے فی لیٹر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے بدھ کو یکم اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 0.14 روپے فی لیٹر کمی کر کے 387.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1.89 روپے فی لیٹر کمی کر کے 400.35 روپے کر دی۔</strong></p>
<p>پٹرول 387.54 روپے سے کم ہو گیا، جبکہ HSD کی قیمت 402.24 روپے سے کم ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/302257451ae6e6f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/302257451ae6e6f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی منظور کردہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت مقرر کی ہیں۔</p>
<p>نظرثانی شدہ قیمتیں وفاقی حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت یکم اکتوبر 2026 کے لیے مؤثر رہیں گی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت، بالخصوص پلیٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلیوں کے باعث کیا گیا۔</p>
<p>منگل کو حکومت نے ڈیزل کی قیمت 2 روپے 73 پیسے کمی سے 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت ایک روپے 49 پیسے کمی سے 387 روپے 54 پیسے فی لیٹر کردی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291939</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 23:32:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30232451e520fa1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30232451e520fa1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291938/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توسیع کے بعد ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتے مل جائیں گے۔ گوشوارے جمع کرانے کی سابقہ آخری تاریخ 30 ستمبر تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/302207211eb8a8f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/302207211eb8a8f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا، ’’انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214 اے کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی بورڈ آف ریونیو یہ اعلان کرتا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ، ان افراد کے لیے جنہیں 30 ستمبر 2026 تک گوشوارے جمع کرانا لازم ہے، مختلف تجارتی اداروں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواستوں کے پیش نظر بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کردی گئی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔</strong></p>
<p>اس توسیع کے بعد ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتے مل جائیں گے۔ گوشوارے جمع کرانے کی سابقہ آخری تاریخ 30 ستمبر تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/302207211eb8a8f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/302207211eb8a8f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایف بی آر نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا، ’’انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214 اے کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی بورڈ آف ریونیو یہ اعلان کرتا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ، ان افراد کے لیے جنہیں 30 ستمبر 2026 تک گوشوارے جمع کرانا لازم ہے، مختلف تجارتی اداروں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواستوں کے پیش نظر بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کردی گئی ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291938</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 22:38:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3022330145cc470.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3022330145cc470.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس ریٹرنز کی تاریخ میں توسیع سے متعلق سرکلر جعلی ہے، ایف بی آر کی وضاحت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291928/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع سے متعلق سرکلر کو جعلی قرار دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’’ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع سے متعلق زیرِ گردش سرکلر جعلی ہے۔ ایف بی آر نے ایسا کوئی سرکلر جاری نہیں کیا۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FBRSpokesperson/status/2105254508624298331'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FBRSpokesperson/status/2105254508624298331"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا تھا کہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ٹیکس عرصے کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ ایسوسی ایشن نے اس مطالبے کی وجہ آئی آر آئی ایس پورٹل کی مسلسل خرابی اور غیر مستحکم کارکردگی کو قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کے نام خط میں پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ آئی آر آئی ایس پورٹل میں مسلسل تکنیکی مسائل کے باعث ٹیکس ماہرین اور ٹیکس دہندگان کو مقررہ مدت میں انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کو اب تک ٹیکس سال 2026 کے لیے تقریباً 47 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول ہوچکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 32 لاکھ ریٹرنز جمع کرائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک جمع کرائے گئے ریٹرنز کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 لاکھ 20 ہزار زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع سے متعلق سرکلر کو جعلی قرار دے دیا۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’’ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع سے متعلق زیرِ گردش سرکلر جعلی ہے۔ ایف بی آر نے ایسا کوئی سرکلر جاری نہیں کیا۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FBRSpokesperson/status/2105254508624298331'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FBRSpokesperson/status/2105254508624298331"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک روز قبل پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا تھا کہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ٹیکس عرصے کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ ایسوسی ایشن نے اس مطالبے کی وجہ آئی آر آئی ایس پورٹل کی مسلسل خرابی اور غیر مستحکم کارکردگی کو قرار دیا تھا۔</p>
<p>ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کے نام خط میں پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ آئی آر آئی ایس پورٹل میں مسلسل تکنیکی مسائل کے باعث ٹیکس ماہرین اور ٹیکس دہندگان کو مقررہ مدت میں انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کو اب تک ٹیکس سال 2026 کے لیے تقریباً 47 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول ہوچکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 32 لاکھ ریٹرنز جمع کرائے گئے تھے۔</p>
<p>اب تک جمع کرائے گئے ریٹرنز کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 لاکھ 20 ہزار زیادہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291928</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 18:21:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30164918a92a259.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30164918a92a259.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول ریلیف اسکیم: 76 لاکھ رجسٹریشنز مکمل، 77 لاکھ 10 ہزار ٹوکن کیش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291897/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کی پٹرول ریلیف اسکیم نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا، ملک بھر میں تقریباً 76 لاکھ رجسٹریشنز مکمل ہوچکی ہیں جبکہ 77 لاکھ 10 ہزار پٹرول ریلیف ٹوکنز پہلے ہی کیش کرائے جاچکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پٹرولیم سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیراعظم ٹرول ریلیف اسکیم  پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کمیٹی نے رجسٹریشن، ٹوکن کیش کرانے، ادائیگیوں اور شکایات کے ازالے سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک تقریباً 76 لاکھ رجسٹریشنز کامیابی سے مکمل ہوچکی ہیں اور ٹوکن کیش کرانے کا عمل دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب تک 77 لاکھ 10 ہزار ٹوکن کیش کرائے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسکیم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی کا عکاس ہے جس کے تحت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، اسٹیٹ بینک اور صوبوں نے مشترکہ اور مربوط کوششیں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے مستحقین کو سہولت فراہم کرنے اور ملک بھر میں خدمات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کفایت شعاری اور اضافی بچت کے اقدامات کی نگرانی اور عمل درآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی بھی صدارت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے اور سرکاری وسائل کے محتاط استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی کہ گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کی پٹرول ریلیف اسکیم نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا، ملک بھر میں تقریباً 76 لاکھ رجسٹریشنز مکمل ہوچکی ہیں جبکہ 77 لاکھ 10 ہزار پٹرول ریلیف ٹوکنز پہلے ہی کیش کرائے جاچکے ہیں۔</strong></p>
<p>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پٹرولیم سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیراعظم ٹرول ریلیف اسکیم  پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>نائب وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کمیٹی نے رجسٹریشن، ٹوکن کیش کرانے، ادائیگیوں اور شکایات کے ازالے سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک تقریباً 76 لاکھ رجسٹریشنز کامیابی سے مکمل ہوچکی ہیں اور ٹوکن کیش کرانے کا عمل دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب تک 77 لاکھ 10 ہزار ٹوکن کیش کرائے جاچکے ہیں۔</p>
<p>نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسکیم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی کا عکاس ہے جس کے تحت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، اسٹیٹ بینک اور صوبوں نے مشترکہ اور مربوط کوششیں کی ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے مستحقین کو سہولت فراہم کرنے اور ملک بھر میں خدمات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کفایت شعاری اور اضافی بچت کے اقدامات کی نگرانی اور عمل درآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی بھی صدارت کی۔</p>
<p>کمیٹی نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے اور سرکاری وسائل کے محتاط استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی کہ گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291897</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 11:56:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30114353aad0bf3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30114353aad0bf3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمر احسن خان اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291903/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاؤلینس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر عمر احسن خان  کو 2026-28کیلئے اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا اعلان او آئی سی سی کے غیر معمولی اجلاس میں کیا گیا۔ شیورون لبریکینٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کنٹری چیئرمین اور جنرل منیجر احمد زاہد ظہیر سینئر نائب صدراور  میزان بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی کو نائب صدر منتخب کیا گیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر او آئی سی سی کی منیجنگ کمیٹی کا بھی انتخاب کیا گیا جس میں صدر عمر احسن خان  ڈاؤلینس پرائیویٹ لمیٹڈ، سینئر نائب صدر احمد زاہد ظہیر شیورون پاکستان لبریکینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ  اور نائب صدر ڈاکٹر سید عامر علی میزان بینک لمیٹڈ  کے علاوہ احسن ظفر سید  اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ ، امین محمدخواجہ جے پی مورگن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ، ارم شاکر رحیم  گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان لمیٹڈ ، خرم شہزاد خان حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ ، سمیع اے وحید  کوکا کولا ایکسپورٹ کارپوریشن ، سید انیس احمد  ایبٹ لیبارٹریز پاکستان لمیٹڈ اور سید کاشان حسن  فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ  شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر سبکدوش ہونے والے صدر یوسف حسین نے معاشی استحکام میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں، بلکہ اسے معاشی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے میں تبدیل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب صدر عمر احسن خان نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کی پالیسی قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مرتب کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق چیمبر کا کردار صرف ان امور کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونا چاہیے جہاں بہتری کی ضرورت ہےبلکہ جہاں ممکن ہو وہاں عملی حل بھی پیش کیے جائیں اور حکومت و دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ان پر عمل درآمد کے لیے کام کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر احسن خان نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری   34 فیصد کم ہوکر 1.65 ارب ڈالر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلے کا انحصار مجموعی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے مواقعوں پر ہوتاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نئی مینجنگ کمیٹی حکومت،ریگولیٹری اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے ساتھ او آئی سی سی آئی کی ڈیٹا پر مبنی تحقیق کو فروغ دے گی اور موسمیاتی تبدیلی، تنوع و شمولیت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پلیٹ فارمز پر کام جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈاؤلینس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر عمر احسن خان  کو 2026-28کیلئے اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس بات کا اعلان او آئی سی سی کے غیر معمولی اجلاس میں کیا گیا۔ شیورون لبریکینٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کنٹری چیئرمین اور جنرل منیجر احمد زاہد ظہیر سینئر نائب صدراور  میزان بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی کو نائب صدر منتخب کیا گیاہے۔</p>
<p>اس موقع پر او آئی سی سی کی منیجنگ کمیٹی کا بھی انتخاب کیا گیا جس میں صدر عمر احسن خان  ڈاؤلینس پرائیویٹ لمیٹڈ، سینئر نائب صدر احمد زاہد ظہیر شیورون پاکستان لبریکینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ  اور نائب صدر ڈاکٹر سید عامر علی میزان بینک لمیٹڈ  کے علاوہ احسن ظفر سید  اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ ، امین محمدخواجہ جے پی مورگن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ، ارم شاکر رحیم  گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان لمیٹڈ ، خرم شہزاد خان حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ ، سمیع اے وحید  کوکا کولا ایکسپورٹ کارپوریشن ، سید انیس احمد  ایبٹ لیبارٹریز پاکستان لمیٹڈ اور سید کاشان حسن  فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ  شامل ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر سبکدوش ہونے والے صدر یوسف حسین نے معاشی استحکام میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں، بلکہ اسے معاشی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے میں تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p>نو منتخب صدر عمر احسن خان نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کی پالیسی قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مرتب کی جائے گی۔</p>
<p>ان کے مطابق چیمبر کا کردار صرف ان امور کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونا چاہیے جہاں بہتری کی ضرورت ہےبلکہ جہاں ممکن ہو وہاں عملی حل بھی پیش کیے جائیں اور حکومت و دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ان پر عمل درآمد کے لیے کام کیا جائے۔</p>
<p>عمر احسن خان نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری   34 فیصد کم ہوکر 1.65 ارب ڈالر رہ گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلے کا انحصار مجموعی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے مواقعوں پر ہوتاہے۔</p>
<p>دوسری جانب نئی مینجنگ کمیٹی حکومت،ریگولیٹری اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے ساتھ او آئی سی سی آئی کی ڈیٹا پر مبنی تحقیق کو فروغ دے گی اور موسمیاتی تبدیلی، تنوع و شمولیت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پلیٹ فارمز پر کام جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291903</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:34:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301228156bb05f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301228156bb05f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی، جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کیلئے فوری ریلیف کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر سرکاری محکمے کپاس کے جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے جدید بیجوں تک رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو دیگر ممالک عالمی منڈی میں پاکستان کا باقی ماندہ حصہ بھی چھین لیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کپاس ملکی زرعی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ اس کی پیداوار میں شدید کمی نے پاکستانی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں قائم تمام شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے، کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس مکمل  ختم کیا جائے، بجلی بلوں میں شامل مقررہ ٹیکس ختم کیے جائیں اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سال 2026-27 کے لیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ محض 49 لاکھ گانٹھیں ہے جبکہ پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا۔ ملک کی اسپننگ صنعت کی سالانہ ضرورت ایک کروڑ گانٹھیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے فرق کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا ہوں گی جن کی مالیت تقریباً 2 ارب ڈالر یا 600 ارب روپے بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی کاشت کے رقبے میں تقریباً 33 فیصد کمی ہے جس کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی 452 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے جب کہ ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے جس نے ملک کی جننگ، اسپننگ اور ٹیکسٹائل صنعتوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے مخصوص کپاس زونز میں شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں کپاس کی کاشت کا رقبہ اور پیداواری صلاحیت سکڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پی سی جی اے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ کپاس زونز میں قائم شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد کپاس زونز کو دیگر فصلوں اور غیر متعلقہ صنعتوں کی تجاوزات سے محفوظ رکھنا، مارکیٹ میں معیاری اور خالص بیجوں کی فراہمی کو قانونی تحفظ دینا، اور کپاس کی فصل کو بیماریوں اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات سے محفوظ بنانا ہے تاکہ اس کا معیار دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بحال کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر سرکاری محکمے کپاس کے جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے جدید بیجوں تک رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو دیگر ممالک عالمی منڈی میں پاکستان کا باقی ماندہ حصہ بھی چھین لیں گے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ کپاس ملکی زرعی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ اس کی پیداوار میں شدید کمی نے پاکستانی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں قائم تمام شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے، کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس مکمل  ختم کیا جائے، بجلی بلوں میں شامل مقررہ ٹیکس ختم کیے جائیں اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سال 2026-27 کے لیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ محض 49 لاکھ گانٹھیں ہے جبکہ پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا۔ ملک کی اسپننگ صنعت کی سالانہ ضرورت ایک کروڑ گانٹھیں ہے۔</p>
<p>اس بڑے فرق کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا ہوں گی جن کی مالیت تقریباً 2 ارب ڈالر یا 600 ارب روپے بنتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی کاشت کے رقبے میں تقریباً 33 فیصد کمی ہے جس کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی 452 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے جب کہ ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے جس نے ملک کی جننگ، اسپننگ اور ٹیکسٹائل صنعتوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے مخصوص کپاس زونز میں شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں کپاس کی کاشت کا رقبہ اور پیداواری صلاحیت سکڑ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پی سی جی اے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ کپاس زونز میں قائم شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد کپاس زونز کو دیگر فصلوں اور غیر متعلقہ صنعتوں کی تجاوزات سے محفوظ رکھنا، مارکیٹ میں معیاری اور خالص بیجوں کی فراہمی کو قانونی تحفظ دینا، اور کپاس کی فصل کو بیماریوں اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات سے محفوظ بنانا ہے تاکہ اس کا معیار دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بحال کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291902</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:25:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301222308ef0647.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301222308ef0647.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے 9.41 ارب روپے کے اثاثہ جات گوشواروں میں فراڈ پکڑ لیا، منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291933/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اثاثہ جات کے گوشواروں میں غیر قانونی ترمیم کے ذریعے 9.41 ارب روپے مالیت کے غیر واضح اثاثے ظاہر کرنے کا فراڈ پکڑ لیا، جس پر اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اعلامیے کے مطابق فراڈ کا سراغ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے تعاون سے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے تجزیے کے ذریعے لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے کے دوران 85 ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران ٹیکس سال 2014 سے 2019 کے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ترمیم کرتے ہوئے پہلے ظاہر نہ کی گئی نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ شامل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 116(3) کی وضاحت کے تحت اصل ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ کے 5 سال بعد اثاثہ جات کے گوشوارے میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ فراڈ میں سامنے آنے والی تمام ترامیم قانونی طور پر مقررہ مدت گزرنے کے بعد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کی جانب سے درج ایک مقدمے میں ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کے اثاثہ جات کے گوشوارے میں ترمیم کرتے ہوئے 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ٹیکس دہندہ نے اس رقم کو ٹیکس سال 2025 تک اثاثہ جات کے گوشواروں میں منتقل کیا اور مئی و جون 2026 میں خریدی گئی 6 کروڑ 44 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کی 7 جائیدادوں کی خریداری کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ٹیکس دہندہ رقم کے ذرائع کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ اس کیس میں مبینہ طور پر بچائے جانے والے ٹیکس کی رقم 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں ریجنل ڈائریکٹوریٹس آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے 48 فوجداری تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ باقی کیسز میں کارروائی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیکس دہندہ اور فراڈ میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی معاون کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید مقدمات پر کارروائی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اتھارٹی نے کہا کہ ٹیکس نظام میں ردوبدل کا سراغ لگانے کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا عمل جاری رہے گا۔ ایف بی آر نے خبردار کیا کہ غیر واضح دولت چھپانے میں ملوث افراد کو جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اثاثہ جات کے گوشواروں میں غیر قانونی ترمیم کے ذریعے 9.41 ارب روپے مالیت کے غیر واضح اثاثے ظاہر کرنے کا فراڈ پکڑ لیا، جس پر اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا۔</strong></p>
<p>جاری اعلامیے کے مطابق فراڈ کا سراغ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے تعاون سے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے تجزیے کے ذریعے لگایا۔</p>
<p>تجزیے کے دوران 85 ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران ٹیکس سال 2014 سے 2019 کے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ترمیم کرتے ہوئے پہلے ظاہر نہ کی گئی نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ شامل کیا۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 116(3) کی وضاحت کے تحت اصل ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ کے 5 سال بعد اثاثہ جات کے گوشوارے میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ فراڈ میں سامنے آنے والی تمام ترامیم قانونی طور پر مقررہ مدت گزرنے کے بعد کی گئیں۔</p>
<p>لاہور کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کی جانب سے درج ایک مقدمے میں ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کے اثاثہ جات کے گوشوارے میں ترمیم کرتے ہوئے 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے۔</p>
<p>بعد ازاں ٹیکس دہندہ نے اس رقم کو ٹیکس سال 2025 تک اثاثہ جات کے گوشواروں میں منتقل کیا اور مئی و جون 2026 میں خریدی گئی 6 کروڑ 44 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کی 7 جائیدادوں کی خریداری کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ٹیکس دہندہ رقم کے ذرائع کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ اس کیس میں مبینہ طور پر بچائے جانے والے ٹیکس کی رقم 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ہے۔</p>
<p>ملک بھر میں ریجنل ڈائریکٹوریٹس آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے 48 فوجداری تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ باقی کیسز میں کارروائی جاری ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیکس دہندہ اور فراڈ میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی معاون کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید مقدمات پر کارروائی جاری ہے۔</p>
<p>ٹیکس اتھارٹی نے کہا کہ ٹیکس نظام میں ردوبدل کا سراغ لگانے کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا عمل جاری رہے گا۔ ایف بی آر نے خبردار کیا کہ غیر واضح دولت چھپانے میں ملوث افراد کو جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291933</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 19:38:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301933164cf6e7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301933164cf6e7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی آر آئی ایس پورٹل کی خرابی، پی سی ڈی ایم اے کا ٹیکس ریٹرن کی تاریخ بڑھانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291901/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ٹیکس سال کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے کیونکہ آئی آر آئی ایس پورٹل مسلسل خرابی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے نام خط میں پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ آئی آر آئی ایس پورٹل میں مسلسل تکنیکی مسائل کے باعث ٹیکس کنسلٹنٹس اور ٹیکس دہندگان کو مقررہ آخری تاریخ کے اندر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ انفرادی شکایات کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر پیش کی گئی درخواستوں کے ذریعے بھی بارہا پی آر اے ایل کی ٹیم کے علم میں لایا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق آئی آر آئی ایس پورٹل ایک ہفتے سے زائد عرصے سے غیر فعال اور غیر مستحکم ہے جس کے باعث ٹیکس کنسلٹنٹس کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریاں مقررہ وقت پر مکمل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولی محمد نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے بارہا درخواستیں کیے جانے کے باوجود صورتحال بدستور برقرار ہے جس کے باعث ٹیکس برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ٹیکس سال کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے کیونکہ آئی آر آئی ایس پورٹل مسلسل خرابی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے نام خط میں پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ آئی آر آئی ایس پورٹل میں مسلسل تکنیکی مسائل کے باعث ٹیکس کنسلٹنٹس اور ٹیکس دہندگان کو مقررہ آخری تاریخ کے اندر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ انفرادی شکایات کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر پیش کی گئی درخواستوں کے ذریعے بھی بارہا پی آر اے ایل کی ٹیم کے علم میں لایا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق آئی آر آئی ایس پورٹل ایک ہفتے سے زائد عرصے سے غیر فعال اور غیر مستحکم ہے جس کے باعث ٹیکس کنسلٹنٹس کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریاں مقررہ وقت پر مکمل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔</p>
<p>ولی محمد نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے بارہا درخواستیں کیے جانے کے باوجود صورتحال بدستور برقرار ہے جس کے باعث ٹیکس برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291901</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:18:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30121705a92a259.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30121705a92a259.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف پی سی سی آئی کا آسان ٹیکس اسکیم کی حمایت کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حکومت کی آسان ٹیکس اسکیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اسکیم کے تحت تاجروں کو سالانہ صرف 25 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن ہاؤس میں منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اسکیم میں رجسٹرڈ دکاندار اپنی دکانوں کے باہر ٹیکس دہندہ پلیٹ آویزاں کریں گے جس کے بعد کوئی انہیں ہراساں نہیں کرسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ 25 ہزار روپے کا مقررہ ٹیکس تاجروں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ رقم کے علاوہ تاجروں کو اپنے کاروباری ٹرن اوور کا صرف ایک فیصد ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ تاجر معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ یہ اسکیم اس سے قبل پیش کی گئی تمام اسکیموں کے مقابلے میں بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے کنوینر عبدالرحمن خان نے تاجروں پر زور دیا کہ انہیں مزید کسی سہولت کی ضرورت ہو تو وہ سامنے آئیں اور بلا جھجھک فیڈریشن کو آگاہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف کمشنر آر ٹی او ون کراچی قاضی حفیظ الرحمٰن نے بھی اسکیم کے فوائد پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حکومت کی آسان ٹیکس اسکیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اسکیم کے تحت تاجروں کو سالانہ صرف 25 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p>فیڈریشن ہاؤس میں منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اسکیم میں رجسٹرڈ دکاندار اپنی دکانوں کے باہر ٹیکس دہندہ پلیٹ آویزاں کریں گے جس کے بعد کوئی انہیں ہراساں نہیں کرسکے گا۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ 25 ہزار روپے کا مقررہ ٹیکس تاجروں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ رقم کے علاوہ تاجروں کو اپنے کاروباری ٹرن اوور کا صرف ایک فیصد ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ تاجر معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ یہ اسکیم اس سے قبل پیش کی گئی تمام اسکیموں کے مقابلے میں بہتر ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے کنوینر عبدالرحمن خان نے تاجروں پر زور دیا کہ انہیں مزید کسی سہولت کی ضرورت ہو تو وہ سامنے آئیں اور بلا جھجھک فیڈریشن کو آگاہ کریں۔</p>
<p>چیف کمشنر آر ٹی او ون کراچی قاضی حفیظ الرحمٰن نے بھی اسکیم کے فوائد پر روشنی ڈالی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291900</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:13:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3012101673ca626.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3012101673ca626.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے انتخابات، اسماعیل ستار بلامقابلہ چیئرمین منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291899/</link>
      <description>&lt;p&gt;سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے 2026-28 کی مدت کے لیے نئے عہدیداران بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ ایسوسی ایشن اعلامیے کے مطابق اسماعیل ستار چیئرمین، قاسم یعقوب پراچہ سینئر وائس چیئرمین اور شاہ شمس العارفین وائس چیئرمین کی نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے 20 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی کی حتمی فہرست بھی جاری کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹیو کمیٹی میں اسماعیل ستار، قاسم یعقوب پراچہ، شاہ شمس العارفین، محمد علی شاہد، ذیشان عبدالعزیز، خالد محمود پراچہ، محمد اسلم، طارق محمود، طلحٰہ حسین خان اور شکیل احمد سموں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نعیم اقبال، جواد انور خان شیروانی، محمد سہیل، فیضان عبدالرزاق، زوہیب جاوید اختر، شیخ عماد مگوں، شان محمد، بشریٰ سلیمان، طارق محمود اختر اور سعد عمران بھی ایگزیکٹیو کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نومنتخب چیئرمین اسماعیل ستار نے ممبران کے بھرپور اعتمادپر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ نمک کے برآمدکنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور حکومت کے سامنے اپنے ممبران کی مضبوط آواز بن کر نمک کی برآمدات کو فروغ دینے اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نئی مارکیٹوں تک رسائی کی بھرپور کوششیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے 2026-28 کی مدت کے لیے نئے عہدیداران بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ ایسوسی ایشن اعلامیے کے مطابق اسماعیل ستار چیئرمین، قاسم یعقوب پراچہ سینئر وائس چیئرمین اور شاہ شمس العارفین وائس چیئرمین کی نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں۔</p>
<p>سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے 20 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی کی حتمی فہرست بھی جاری کردی ہے۔</p>
<p>ایگزیکٹیو کمیٹی میں اسماعیل ستار، قاسم یعقوب پراچہ، شاہ شمس العارفین، محمد علی شاہد، ذیشان عبدالعزیز، خالد محمود پراچہ، محمد اسلم، طارق محمود، طلحٰہ حسین خان اور شکیل احمد سموں شامل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح نعیم اقبال، جواد انور خان شیروانی، محمد سہیل، فیضان عبدالرزاق، زوہیب جاوید اختر، شیخ عماد مگوں، شان محمد، بشریٰ سلیمان، طارق محمود اختر اور سعد عمران بھی ایگزیکٹیو کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔</p>
<p>سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نومنتخب چیئرمین اسماعیل ستار نے ممبران کے بھرپور اعتمادپر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ نمک کے برآمدکنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور حکومت کے سامنے اپنے ممبران کی مضبوط آواز بن کر نمک کی برآمدات کو فروغ دینے اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نئی مارکیٹوں تک رسائی کی بھرپور کوششیں کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291899</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:08:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301205011ee82df.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301205011ee82df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس پی ایل نے اہم اپ گریڈیشن کے بعد معمول کے آپریشنز بحال کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291923/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (ایس پی ایل) جو کرنسی نوٹوں کے کاغذ اور دیگر سیکیورٹی دستاویزات تیار کرتی ہے نے بینک نوٹ پیپر کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اسٹریٹجک اپ گریڈ مکمل کرنے کے بعد معمول کے آپریشنز اور پیداوار دوبارہ شروع کردی ہے۔ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو آگاہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ نے اپنی پیپر مشین 2 (پی ایم-2) کے اپ گریڈیشن منصوبے کو مکمل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ پلانٹ کے معمول کے آپریشنز اور پیداوار 30 ستمبر 2026 سے دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ پی ایم-2 مشین میں جدید پرزہ جات کی تنصیب اور انضمام کے لیے 25 جولائی 2026 کو پیداوار عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ اس اپ گریڈیشن سے بینک نوٹ پیپر کی تیاری میں جدید اور جدید ترین سیکیورٹی خصوصیات شامل کرنے کی اس کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال مارچ میں ایس پی ایل نے سیکیورٹی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر معروف کمپنی گیزیک اینڈ ڈیویرینٹ (G+D) کے ساتھ پی ایم-2 کی اپ گریڈیشن کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اس وقت بتایا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد ایس پی ایل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ بینک نوٹ پیپر میں عالمی سطح پر رائج جدید رجحانات کو اپناتے ہوئے جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کی جاسکیں اور اسٹیٹ بینک کی بدلتی ضروریات پوری کی جاسکیں جس نے حال ہی میں بینک نوٹوں کی نئی سیریز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کی تخمینی لاگت 3.4 ارب روپے تھی جس میں جرمنی کی گیزیک اینڈ ڈیویرینٹ (جی پلس ڈی) کو دیا گیا 82 لاکھ 97 ہزار یورو مالیت کا بین الاقوامی ٹینڈر بھی شامل تھا۔ اپ گریڈیشن کا کام 18 ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ایس پی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران قریشی نے کہا تھا کہ نئے بینک نوٹوں کی سیریز کے لیے اسٹیٹ بینک کی ضروریات پوری کرنے میں یہ اپ گریڈیشن انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (ایس پی ایل) 1965 میں ایک نجی کمپنی کے طور پر قائم ہوئی تھی جسے 1967 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی بینک نوٹوں کے کاغذ کے علاوہ دیگر سیکیورٹی دستاویزات بھی تیار کرتی ہے، جن میں پرائز بانڈز، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس، نان جوڈیشل اسٹامپ پیپرز، پاسپورٹ پیپرز اور چیک بکس، تعلیمی بورڈز کے سرٹیفکیٹس اور جامعات کی ڈگریاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (ایس پی ایل) جو کرنسی نوٹوں کے کاغذ اور دیگر سیکیورٹی دستاویزات تیار کرتی ہے نے بینک نوٹ پیپر کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اسٹریٹجک اپ گریڈ مکمل کرنے کے بعد معمول کے آپریشنز اور پیداوار دوبارہ شروع کردی ہے۔ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو آگاہ کیا۔</strong></p>
<p>نوٹس کے مطابق سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ نے اپنی پیپر مشین 2 (پی ایم-2) کے اپ گریڈیشن منصوبے کو مکمل کرلیا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ پلانٹ کے معمول کے آپریشنز اور پیداوار 30 ستمبر 2026 سے دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ پی ایم-2 مشین میں جدید پرزہ جات کی تنصیب اور انضمام کے لیے 25 جولائی 2026 کو پیداوار عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ اس اپ گریڈیشن سے بینک نوٹ پیپر کی تیاری میں جدید اور جدید ترین سیکیورٹی خصوصیات شامل کرنے کی اس کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>گزشتہ سال مارچ میں ایس پی ایل نے سیکیورٹی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر معروف کمپنی گیزیک اینڈ ڈیویرینٹ (G+D) کے ساتھ پی ایم-2 کی اپ گریڈیشن کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>کمپنی نے اس وقت بتایا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد ایس پی ایل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ بینک نوٹ پیپر میں عالمی سطح پر رائج جدید رجحانات کو اپناتے ہوئے جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کی جاسکیں اور اسٹیٹ بینک کی بدلتی ضروریات پوری کی جاسکیں جس نے حال ہی میں بینک نوٹوں کی نئی سیریز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>منصوبے کی تخمینی لاگت 3.4 ارب روپے تھی جس میں جرمنی کی گیزیک اینڈ ڈیویرینٹ (جی پلس ڈی) کو دیا گیا 82 لاکھ 97 ہزار یورو مالیت کا بین الاقوامی ٹینڈر بھی شامل تھا۔ اپ گریڈیشن کا کام 18 ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع تھی۔</p>
<p>اس وقت ایس پی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران قریشی نے کہا تھا کہ نئے بینک نوٹوں کی سیریز کے لیے اسٹیٹ بینک کی ضروریات پوری کرنے میں یہ اپ گریڈیشن انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (ایس پی ایل) 1965 میں ایک نجی کمپنی کے طور پر قائم ہوئی تھی جسے 1967 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔</p>
<p>کمپنی بینک نوٹوں کے کاغذ کے علاوہ دیگر سیکیورٹی دستاویزات بھی تیار کرتی ہے، جن میں پرائز بانڈز، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس، نان جوڈیشل اسٹامپ پیپرز، پاسپورٹ پیپرز اور چیک بکس، تعلیمی بورڈز کے سرٹیفکیٹس اور جامعات کی ڈگریاں شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291923</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:59:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30154838f7e6acd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30154838f7e6acd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
