<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 11:54:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 11:54:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفائر فائبرز نے یو اے ای میں ذیلی کمپنی قائم کردی، 2 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288735/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) نے اپنی بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینے اور بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ایک نئی ذیلی کمپنی قائم کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹڈ کمپنی نے بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق سفائر فائبرز لمیٹڈ نے متحدہ عرب امارات میں سفیر ہولڈنگ ایل ایل سی-ایف زیڈ کے نام سے اپنی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرلی ہے۔ کمپنی نے اس ذیلی ادارے کے قیام کے لیے تمام ضروری قانونی اور ریگولیٹری تقاضے بھی مکمل کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق ذیلی کمپنی کے قیام کے بعد سفائر فائبرز لمیٹڈ اس میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی مد میں 2 لاکھ امریکی ڈالر منتقل کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفائر فائبرز کے مطابق اس ذیلی ادارے کا قیام بین الاقوامی کاروباری مواقع سے استفادہ کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) کو 1979 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی یارن، فیبرک اور ملبوسات کی تیاری اور فروخت ہے۔ کمپنی تین پیداواری پلانٹس چلاتی ہے جن میں سے دو شیخوپورہ اور ایک لاہور میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں کمپنی روایتی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر اپنے کاروباری پورٹ فولیو کو فعال طور پر وسیع اور متنوع بنارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس سفائر فائبرز لمیٹڈ نے یو سی ایچ پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ جو کہ 586 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے اور یو سی ایچ-II پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جو کہ 404 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے، دونوں میں 50، 50 فیصد حصص حاصل کر لیے تھے۔ یہ دونوں پلانٹس ڈیرہ مراد جمالی، بلوچستان میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کمپنی نے اپنی مکمل ملکیتی امریکی ذیلی کمپنی سفائر یو ایس اے، ایل ایل سی میں 2.5 ملین ڈالر کی اضافی ایکویٹی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا جو مارچ 2025 میں کی گئی 5 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا اور بہتر مارکیٹ رسائی کے ذریعے منافع میں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) نے اپنی بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینے اور بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ایک نئی ذیلی کمپنی قائم کردی ہے۔</strong></p>
<p>لسٹڈ کمپنی نے بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق سفائر فائبرز لمیٹڈ نے متحدہ عرب امارات میں سفیر ہولڈنگ ایل ایل سی-ایف زیڈ کے نام سے اپنی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرلی ہے۔ کمپنی نے اس ذیلی ادارے کے قیام کے لیے تمام ضروری قانونی اور ریگولیٹری تقاضے بھی مکمل کر لیے ہیں۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق ذیلی کمپنی کے قیام کے بعد سفائر فائبرز لمیٹڈ اس میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی مد میں 2 لاکھ امریکی ڈالر منتقل کررہی ہے۔</p>
<p>سفائر فائبرز کے مطابق اس ذیلی ادارے کا قیام بین الاقوامی کاروباری مواقع سے استفادہ کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p>سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) کو 1979 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی یارن، فیبرک اور ملبوسات کی تیاری اور فروخت ہے۔ کمپنی تین پیداواری پلانٹس چلاتی ہے جن میں سے دو شیخوپورہ اور ایک لاہور میں واقع ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں کمپنی روایتی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر اپنے کاروباری پورٹ فولیو کو فعال طور پر وسیع اور متنوع بنارہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ برس سفائر فائبرز لمیٹڈ نے یو سی ایچ پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ جو کہ 586 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے اور یو سی ایچ-II پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جو کہ 404 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے، دونوں میں 50، 50 فیصد حصص حاصل کر لیے تھے۔ یہ دونوں پلانٹس ڈیرہ مراد جمالی، بلوچستان میں واقع ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ کمپنی نے اپنی مکمل ملکیتی امریکی ذیلی کمپنی سفائر یو ایس اے، ایل ایل سی میں 2.5 ملین ڈالر کی اضافی ایکویٹی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا جو مارچ 2025 میں کی گئی 5 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد کی گئی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا اور بہتر مارکیٹ رسائی کے ذریعے منافع میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288735</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 11:43:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151121415099423.webp" type="image/webp" medium="image" height="588" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151121415099423.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی واپسی، 100 انڈیکس 2650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288734/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ روز بدترین تجارتی سیشنز کے بعد بدھ  کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان ایک بار لوٹ گیا، ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 9 بجکر 38 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,674.09 پوائنٹس یا 1.54 فیصد اضافے سے  176,192.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری شعبے میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔  اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو پی ایس ایکس نے اپنے بدترین تجارتی سیشنز میں سے ایک کا سامنا کیا، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 6,408.23 پوائنٹس (3.56  فیصد)  کی گراوٹ سے 173,518.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ میں افراطِ زر توقعات سے زیادہ سست رہنے کے بعد شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مارکیٹ کی توقعات کمزور پڑ گئیں۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں بھی وقفہ آیا کیونکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری جہاز پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ واپس لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کے شاندار مالی نتائج نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی تاہم ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کے شیئرز میں 25 فیصد کمی جو آمدنی کی پیش گوئی تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم رہنے کے باعث ہوئی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص میں حالیہ تیزی ضرورت سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور سرمایہ کار معمولی منفی خبر پر بھی فوری ردِعمل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنیوں پر مشتمل کوسپی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 6 فیصد تک اچھل گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔ اسی طرح جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر جاپانی ین کے سوا دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا جبکہ مسلسل دباؤ کا شکار جاپانی ین بدستور کمزور رہا۔ دوسری جانب قلیل مدتی امریکی سرکاری بانڈز میں خریداری بڑھی جس کے نتیجے میں دو سالہ ٹریژری ییلڈ 11 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.19 فیصد رہ گئی جو منگل کو تقریباً 4.3 فیصد کی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں جون کے دوران ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 0.4 فیصد کم ہوا جو کووڈ 19 وبا کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ دوسری جانب بنیادی (کور) افراطِ زر کی سالانہ شرح 2.6 فیصد رہی جبکہ مارکیٹ کو 2.8 فیصد کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ روز بدترین تجارتی سیشنز کے بعد بدھ  کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان ایک بار لوٹ گیا، ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔</strong></p>
<p>صبح 9 بجکر 38 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,674.09 پوائنٹس یا 1.54 فیصد اضافے سے  176,192.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری شعبے میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔  اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>منگل کو پی ایس ایکس نے اپنے بدترین تجارتی سیشنز میں سے ایک کا سامنا کیا، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 6,408.23 پوائنٹس (3.56  فیصد)  کی گراوٹ سے 173,518.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ میں افراطِ زر توقعات سے زیادہ سست رہنے کے بعد شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مارکیٹ کی توقعات کمزور پڑ گئیں۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں بھی وقفہ آیا کیونکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری جہاز پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ واپس لے لیا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کے شاندار مالی نتائج نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی تاہم ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کے شیئرز میں 25 فیصد کمی جو آمدنی کی پیش گوئی تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم رہنے کے باعث ہوئی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص میں حالیہ تیزی ضرورت سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور سرمایہ کار معمولی منفی خبر پر بھی فوری ردِعمل دے رہے ہیں۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنیوں پر مشتمل کوسپی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 6 فیصد تک اچھل گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔ اسی طرح جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر جاپانی ین کے سوا دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا جبکہ مسلسل دباؤ کا شکار جاپانی ین بدستور کمزور رہا۔ دوسری جانب قلیل مدتی امریکی سرکاری بانڈز میں خریداری بڑھی جس کے نتیجے میں دو سالہ ٹریژری ییلڈ 11 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.19 فیصد رہ گئی جو منگل کو تقریباً 4.3 فیصد کی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>امریکا میں جون کے دوران ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 0.4 فیصد کم ہوا جو کووڈ 19 وبا کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ دوسری جانب بنیادی (کور) افراطِ زر کی سالانہ شرح 2.6 فیصد رہی جبکہ مارکیٹ کو 2.8 فیصد کی توقع تھی۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288734</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 11:20:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151119030b728d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151119030b728d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس اینڈ پی گلوبل نے پروجیکٹ ایلیویٹ کا آغاز کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288726/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان نے دی انڈس انٹرپرینیورز (ٹی آئی ای) اسلام آباد کے اشتراک سے پروجیکٹ ایلیویٹ کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جو تین سالہ منظم رہنمائی (مینٹورشپ) پروگرام ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 600 سے زائد پاکستانی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ مہارتیں اور کیریئر سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ تیزی سے مسابقتی بنتی عالمی معیشت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروجیکٹ ایلیویٹ تین سال تک جاری رہے گا اور ہر سال تقریباً 200 شرکا پر مشتمل ایک گروپ (کوہورٹ) کو ایس اینڈ پی گلوبل اور ٹی آئی ای کے تجربہ کار مینٹورز سے منسلک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام یونیورسٹی طلبہ، کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں موجود پیشہ ور افراد، ابھرتے ہوئے کاروباری افراد (انٹرپرینیورز) اور فری لانسرز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جو پاکستان کی بدلتی ہوئی افرادی قوت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء کو انفرادی اور گروپ مینٹورشپ، کارپوریٹ ماحول میں کام کرنے کی تیاری، کیریئر ڈویلپمنٹ ورکشاپس، اور پاکستان میں ایس اینڈ پی گلوبل کی قیادت اور ٹی آئی ای کی کاروباری برادری کے ساتھ نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر مجیب ظہور نے کہا کہ پروجیکٹ ایلیویٹ ان افراد میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے جنہیں ہم مقامی اور عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کا محرک سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی مہارتیں اس لیے وقف کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں پر مکمل اعتماد ہے، اور ہم ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں انہیں ترقی، رہنمائی اور اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع میسر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کے سینئر ریجنل پیپل ایڈوائزر عطا الرحمن نے کہا کہ ہمارے نزدیک افراد ہی کسی بھی ادارے کی کامیابی کا سب سے اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ پروجیکٹ ایلیویٹ صرف مہارتیں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ شرکا کو اعتماد، پیشہ ورانہ شناخت اور ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک بھی فراہم کرے گا جو پروگرام کے اختتام کے بعد بھی ان کے ساتھ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام ایس اینڈ پی گلوبل کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت ادارہ افراد کی پیشہ ورانہ تربیت، قائدانہ صلاحیتوں، جدید مہارتوں اور ضروری وسائل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ وہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ترقی کر سکیں، نمایاں کارکردگی دکھا سکیں اور مؤثر قیادت کا کردار ادا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان نے دی انڈس انٹرپرینیورز (ٹی آئی ای) اسلام آباد کے اشتراک سے پروجیکٹ ایلیویٹ کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جو تین سالہ منظم رہنمائی (مینٹورشپ) پروگرام ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 600 سے زائد پاکستانی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ مہارتیں اور کیریئر سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ تیزی سے مسابقتی بنتی عالمی معیشت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔</strong></p>
<p>پروجیکٹ ایلیویٹ تین سال تک جاری رہے گا اور ہر سال تقریباً 200 شرکا پر مشتمل ایک گروپ (کوہورٹ) کو ایس اینڈ پی گلوبل اور ٹی آئی ای کے تجربہ کار مینٹورز سے منسلک کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ پروگرام یونیورسٹی طلبہ، کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں موجود پیشہ ور افراد، ابھرتے ہوئے کاروباری افراد (انٹرپرینیورز) اور فری لانسرز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جو پاکستان کی بدلتی ہوئی افرادی قوت کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>شرکاء کو انفرادی اور گروپ مینٹورشپ، کارپوریٹ ماحول میں کام کرنے کی تیاری، کیریئر ڈویلپمنٹ ورکشاپس، اور پاکستان میں ایس اینڈ پی گلوبل کی قیادت اور ٹی آئی ای کی کاروباری برادری کے ساتھ نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>اس موقع پر ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر مجیب ظہور نے کہا کہ پروجیکٹ ایلیویٹ ان افراد میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے جنہیں ہم مقامی اور عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کا محرک سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی مہارتیں اس لیے وقف کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں پر مکمل اعتماد ہے، اور ہم ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں انہیں ترقی، رہنمائی اور اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع میسر آئیں۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کے سینئر ریجنل پیپل ایڈوائزر عطا الرحمن نے کہا کہ ہمارے نزدیک افراد ہی کسی بھی ادارے کی کامیابی کا سب سے اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ پروجیکٹ ایلیویٹ صرف مہارتیں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ شرکا کو اعتماد، پیشہ ورانہ شناخت اور ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک بھی فراہم کرے گا جو پروگرام کے اختتام کے بعد بھی ان کے ساتھ رہے گا۔</p>
<p>یہ پروگرام ایس اینڈ پی گلوبل کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت ادارہ افراد کی پیشہ ورانہ تربیت، قائدانہ صلاحیتوں، جدید مہارتوں اور ضروری وسائل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ وہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ترقی کر سکیں، نمایاں کارکردگی دکھا سکیں اور مؤثر قیادت کا کردار ادا کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288726</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:57:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150955474d5e1b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150955474d5e1b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات رپورٹ، پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے بدلے پیٹرولیم لیوی کی وصولی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288725/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات  استعمال کرنے والے صارفین سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے باعث سیلز ٹیکس کے بجائے پیٹرولیم لیوی (پی ڈی ایل) ادا کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق سیلز ٹیکس سے متعلق ٹیکس اخراجات میں پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہے، جن پر اس وقت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی نافذ ہے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا کیونکہ صارفین پہلے ہی پی ڈی ایل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیلز ٹیکس اخراجات کا تخمینہ لگاتے وقت پیٹرولیم لیوی والے حصے کو الگ کر کے باقی زمروں کی بنیاد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی لاگت کا حساب لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، پیٹرولیم لیوی سے متعلق حصہ منہا کرنے کے بعد مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی سیلز ٹیکس اخراجات 1,273.98 ارب روپے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس چھوٹ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں صحت و طبی خدمات، کھاد و زراعت، خوراک، مینوفیکچرنگ، توانائی، اسٹیشنری اور گوادر/ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق، انکم ٹیکس میں دی گئی مختلف چھوٹ کے باعث 11 بڑے شعبوں کو مجموعی طور پر 580 ارب روپے کی ٹیکس رعایت حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اسی مالیت کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے والے نمایاں شعبوں میں سوشل سکیورٹی، پنشن، توانائی و کان کنی، مالیاتی شعبہ، صحت و ادویات، تعلیم، قبائلی علاقے، اور عطیات و فلاحی ادارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات  استعمال کرنے والے صارفین سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے باعث سیلز ٹیکس کے بجائے پیٹرولیم لیوی (پی ڈی ایل) ادا کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق سیلز ٹیکس سے متعلق ٹیکس اخراجات میں پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہے، جن پر اس وقت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی نافذ ہے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا کیونکہ صارفین پہلے ہی پی ڈی ایل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیلز ٹیکس اخراجات کا تخمینہ لگاتے وقت پیٹرولیم لیوی والے حصے کو الگ کر کے باقی زمروں کی بنیاد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی لاگت کا حساب لگایا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، پیٹرولیم لیوی سے متعلق حصہ منہا کرنے کے بعد مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی سیلز ٹیکس اخراجات 1,273.98 ارب روپے رہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس چھوٹ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں صحت و طبی خدمات، کھاد و زراعت، خوراک، مینوفیکچرنگ، توانائی، اسٹیشنری اور گوادر/ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق، انکم ٹیکس میں دی گئی مختلف چھوٹ کے باعث 11 بڑے شعبوں کو مجموعی طور پر 580 ارب روپے کی ٹیکس رعایت حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اسی مالیت کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے والے نمایاں شعبوں میں سوشل سکیورٹی، پنشن، توانائی و کان کنی، مالیاتی شعبہ، صحت و ادویات، تعلیم، قبائلی علاقے، اور عطیات و فلاحی ادارے شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288725</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:49:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150948164631b97.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150948164631b97.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹو پالیسی 2025-30 پر وزارتوں میں اختلاف برقرار، وزیراعظم سے رہنمائی لینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288724/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹو موبائل اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی (اے آئی ڈی پی) 2025-30 کے مجوزہ ٹیرف ڈھانچے پر وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باعث وزیر توانائی کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی نے وزیراعظم سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کمیٹی نے آٹو سیکٹر کے لیے ٹیرف تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے متعدد اجلاس کیے، تاہم اب تک تعطل ختم نہیں ہو سکا۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) پر عمل کرنا ہے یا آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی (اے آئی ڈی پی) پر، کیونکہ دونوں پالیسیوں کو بیک وقت نافذ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سی کے ڈی کٹس، خام مال، پرزہ جات اور اسمبلیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کا تعین ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزارت نے سفارش کی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کی منظوری تک ڈیوٹی اسٹرکچر کے لیے عبوری طریقہ کار طے کرنے کی غرض سے ٹیرف پالیسی بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیر توانائی اس وقت سعودی عرب جبکہ سیکریٹری تجارت جواد پال امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے سلسلے میں واشنگٹن میں موجود ہیں، جس کے باعث آٹو سیکٹر کے ٹیرف سے متعلق پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کا خطے میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) مینوفیکچرنگ ہب بننے کا منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے، کیونکہ آٹو پالیسی اور نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025-30 پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای وی پالیسی کے تحت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے، سالانہ تقریباً دو ارب لیٹر ایندھن کی درآمدات کم کرنے، ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے اور مقامی مینوفیکچرنگ و برآمدات کے فروغ جیسے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوکلائزیشن، برآمدی شرائط، ٹیرف نظام اور آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر سے متعلق ضوابط کی منظوری میں بھی تاخیر ہو رہی ہے، کیونکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نییکا) کے درمیان رابطہ کاری مکمل نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو نئی مینوفیکچرنگ، بیٹری اسمبلی، جدید پرزہ جات کی مقامی تیاری اور چارجنگ نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کے لیے واضح اور مستحکم پالیسی درکار ہے۔ ان کے مطابق اگر پالیسی سازی میں تاخیر برقرار رہی تو پاکستان میں الیکٹرک وہیکل صنعت کی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ چینی کمپنی بی وائی ڈی ، جیلی  اور مقامی کمپنیاں سازگار انجینئرنگ اور نشاط موٹرز پہلے ہی اس شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کے منصوبے بنا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹو موبائل اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی (اے آئی ڈی پی) 2025-30 کے مجوزہ ٹیرف ڈھانچے پر وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باعث وزیر توانائی کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی نے وزیراعظم سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق کمیٹی نے آٹو سیکٹر کے لیے ٹیرف تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے متعدد اجلاس کیے، تاہم اب تک تعطل ختم نہیں ہو سکا۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) پر عمل کرنا ہے یا آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی (اے آئی ڈی پی) پر، کیونکہ دونوں پالیسیوں کو بیک وقت نافذ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سی کے ڈی کٹس، خام مال، پرزہ جات اور اسمبلیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کا تعین ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزارت نے سفارش کی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کی منظوری تک ڈیوٹی اسٹرکچر کے لیے عبوری طریقہ کار طے کرنے کی غرض سے ٹیرف پالیسی بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیر توانائی اس وقت سعودی عرب جبکہ سیکریٹری تجارت جواد پال امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے سلسلے میں واشنگٹن میں موجود ہیں، جس کے باعث آٹو سیکٹر کے ٹیرف سے متعلق پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کا خطے میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) مینوفیکچرنگ ہب بننے کا منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے، کیونکہ آٹو پالیسی اور نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025-30 پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔</p>
<p>این ای وی پالیسی کے تحت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے، سالانہ تقریباً دو ارب لیٹر ایندھن کی درآمدات کم کرنے، ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے اور مقامی مینوفیکچرنگ و برآمدات کے فروغ جیسے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔</p>
<p>صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوکلائزیشن، برآمدی شرائط، ٹیرف نظام اور آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر سے متعلق ضوابط کی منظوری میں بھی تاخیر ہو رہی ہے، کیونکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نییکا) کے درمیان رابطہ کاری مکمل نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو نئی مینوفیکچرنگ، بیٹری اسمبلی، جدید پرزہ جات کی مقامی تیاری اور چارجنگ نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کے لیے واضح اور مستحکم پالیسی درکار ہے۔ ان کے مطابق اگر پالیسی سازی میں تاخیر برقرار رہی تو پاکستان میں الیکٹرک وہیکل صنعت کی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ چینی کمپنی بی وائی ڈی ، جیلی  اور مقامی کمپنیاں سازگار انجینئرنگ اور نشاط موٹرز پہلے ہی اس شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کے منصوبے بنا چکی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288724</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:43:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150941493439feb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150941493439feb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھر کوئلے کی ریل کے ذریعے ترسیل کیلئے 10 ارب روپے کی گرانٹ منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288723/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی تھر کوئلے کی بجلی گھروں اور صنعتی صارفین تک ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ ریلوے، حکومت سندھ کے تعاون سے، مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) معاہدے کے تحت اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ ریلوے کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) پہلے ہی موجودہ ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ تھر کول ریل کنیکٹیویٹی، بشمول پورٹ قاسم تک آخری مرحلے کی ریل رابطہ کاری کے منصوبے کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظوری دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف درآمدی کوئلے پر چلنے والے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو مقامی کوئلہ فراہم کیا جا سکے بلکہ ملک بھر کی سیمنٹ، کھاد اور اسٹیل صنعتوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت منصوبے کی لاگت وفاقی حکومت اور حکومت سندھ برابر برابر برداشت کریں گی۔ وفاقی حکومت کا حصہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت بروقت اور مساوی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی تاکہ منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور ٹھیکیداروں کے دعوؤں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ ریلوے نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ پہلے ہی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ- ون میں 10 ارب روپے منتقل کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارت نے وضاحت کی کہ ان فنڈز کے استعمال کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کرنے کی خاطر 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ درکار تھی۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس گرانٹ سے وفاقی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ یہ رقم پہلے ہی حکومت سندھ فراہم کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت اور فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ ریلوے نے ای سی سی سے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی تھر کوئلے کی بجلی گھروں اور صنعتی صارفین تک ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ ریلوے، حکومت سندھ کے تعاون سے، مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) معاہدے کے تحت اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔</p>
<p>وزارتِ ریلوے کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) پہلے ہی موجودہ ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ تھر کول ریل کنیکٹیویٹی، بشمول پورٹ قاسم تک آخری مرحلے کی ریل رابطہ کاری کے منصوبے کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظوری دے چکی ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف درآمدی کوئلے پر چلنے والے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو مقامی کوئلہ فراہم کیا جا سکے بلکہ ملک بھر کی سیمنٹ، کھاد اور اسٹیل صنعتوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔</p>
<p>جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت منصوبے کی لاگت وفاقی حکومت اور حکومت سندھ برابر برابر برداشت کریں گی۔ وفاقی حکومت کا حصہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت بروقت اور مساوی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی تاکہ منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور ٹھیکیداروں کے دعوؤں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>وزارتِ ریلوے نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ پہلے ہی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ- ون میں 10 ارب روپے منتقل کر چکی ہے۔</p>
<p>تاہم وزارت نے وضاحت کی کہ ان فنڈز کے استعمال کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کرنے کی خاطر 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ درکار تھی۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس گرانٹ سے وفاقی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ یہ رقم پہلے ہی حکومت سندھ فراہم کر چکی ہے۔</p>
<p>منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت اور فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ ریلوے نے ای سی سی سے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288723</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:33:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150932179fc96ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="520" width="780">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150932179fc96ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود بڑھنے کے خدشات، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288721/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی، ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد گر کر 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور تہران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی، ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد گر کر 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>منگل کو امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور تہران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288721</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:22:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1509200218c9add.webp" type="image/webp" medium="image" height="307" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1509200218c9add.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی مہنگائی میں غیرمتوقع کمی سے ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p>مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔</p>
<p>تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288722</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:27:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/150926328e03fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/150926328e03fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو افسران کے چھوٹی دکانوں میں داخلے پر پابندی لگا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288719/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ایسے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کی دکانوں میں ان لینڈ ریونیو افسران ٹیکس معاملات کے سلسلے میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جو ایف بی آر کی جاری کردہ دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے ایس آر او 1109(I)/2026 کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے مجوزہ خصوصی طریقہ کار (اسپیشل پروسیجر) کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق دکاندار آئیرس ویب پورٹل یا دکانداروں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ایک سادہ ریٹرن جمع کرائیں گے، جس میں مجموعی فروخت، مجموعی خریداری، دیگر اخراجات اور خالص منافع کی تفصیلات درج ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سادہ فارم میں دکانداروں کو اپنے جائز اثاثے ظاہر کرنے کا بھی آسان طریقہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ فارم اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خصوصی طریقہ کار کے تحت مجموعی کاروباری حجم (گراس ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار قابلِ ادائیگی ٹیکس میں سے ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی رقم منہا کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے کہا کہ اس خصوصی طریقہ کار کے لیے اہل اور رجسٹرڈ ہر حقیقی (بونا فائیڈ) دکاندار کو ایک تعمیلی دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) جاری کی جائے گی، جس پر ایف بی آر کا مخصوص کیو آر کوڈ، دکاندار کا نام، این ٹی این اور دکان کا پتہ درج ہوگا، اور اسے دکان کے باہر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیو آر کوڈ میں دکان کے مقام اور ملکیت سے متعلق معلومات بھی موجود ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق جس دکان پر گرین پلیٹ آویزاں ہوگی، وہاں کسی بھی حقیقی دکاندار کے ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایف بی آر کا کوئی افسر یا اہلکار دکان میں داخل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خصوصی طریقہ کار ان افراد پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی بنیادی طور پر ریٹیل دکانوں سے حاصل ہوتی ہو اور جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ طریقہ کار ان افراد پر لاگو نہیں ہوگا جن کا گزشتہ تین برسوں میں کسی ایک سال کے دوران کاروباری حجم 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہو، یا جو ایک سے زیادہ دکانوں کے مالک ہوں، یا ٹیئر ون ریٹیلرز، زیورات فروخت کرنے والے، یا پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے (جیسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکلا) ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ریٹیلرز جنہوں نے ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن جمع کرایا تھا، وہ بھی اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قابلِ ادائیگی ٹیکس 2025 کے مقابلے میں کم نہ ہو اور انہوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے کاروبار کو تقسیم یا اس کا نام تبدیل نہ کیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار آئیرس ویب پورٹل، دکانداروں کی موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر سے رجوع کرکے ایف بی آر میں رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار اختیاری ہوگا، یعنی دکاندار چاہیں تو اس اسکیم کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے لیے دکانداروں کو انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس جمع کرانا ہوگا، خواہ ان کے ٹیکس کی کٹوتی یا وصولی پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت کی جا چکی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے مزید واضح کیا کہ قابلِ ادائیگی ٹیکس (ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنے کے بعد) یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، وہی دکاندار کا قابلِ ادائیگی ٹیکس تصور کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ایسے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کی دکانوں میں ان لینڈ ریونیو افسران ٹیکس معاملات کے سلسلے میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جو ایف بی آر کی جاری کردہ دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کریں گے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے ایس آر او 1109(I)/2026 کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے مجوزہ خصوصی طریقہ کار (اسپیشل پروسیجر) کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق دکاندار آئیرس ویب پورٹل یا دکانداروں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ایک سادہ ریٹرن جمع کرائیں گے، جس میں مجموعی فروخت، مجموعی خریداری، دیگر اخراجات اور خالص منافع کی تفصیلات درج ہوں گی۔</p>
<p>اسی سادہ فارم میں دکانداروں کو اپنے جائز اثاثے ظاہر کرنے کا بھی آسان طریقہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ فارم اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔</p>
<p>اس خصوصی طریقہ کار کے تحت مجموعی کاروباری حجم (گراس ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>دکاندار قابلِ ادائیگی ٹیکس میں سے ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی رقم منہا کر سکیں گے۔</p>
<p>ایف بی آر نے کہا کہ اس خصوصی طریقہ کار کے لیے اہل اور رجسٹرڈ ہر حقیقی (بونا فائیڈ) دکاندار کو ایک تعمیلی دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) جاری کی جائے گی، جس پر ایف بی آر کا مخصوص کیو آر کوڈ، دکاندار کا نام، این ٹی این اور دکان کا پتہ درج ہوگا، اور اسے دکان کے باہر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔</p>
<p>اس کیو آر کوڈ میں دکان کے مقام اور ملکیت سے متعلق معلومات بھی موجود ہوں گی۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق جس دکان پر گرین پلیٹ آویزاں ہوگی، وہاں کسی بھی حقیقی دکاندار کے ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایف بی آر کا کوئی افسر یا اہلکار دکان میں داخل نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہ خصوصی طریقہ کار ان افراد پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی بنیادی طور پر ریٹیل دکانوں سے حاصل ہوتی ہو اور جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہو۔</p>
<p>یہ طریقہ کار ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا۔</p>
<p>تاہم، یہ طریقہ کار ان افراد پر لاگو نہیں ہوگا جن کا گزشتہ تین برسوں میں کسی ایک سال کے دوران کاروباری حجم 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہو، یا جو ایک سے زیادہ دکانوں کے مالک ہوں، یا ٹیئر ون ریٹیلرز، زیورات فروخت کرنے والے، یا پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے (جیسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکلا) ہوں۔</p>
<p>وہ ریٹیلرز جنہوں نے ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن جمع کرایا تھا، وہ بھی اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قابلِ ادائیگی ٹیکس 2025 کے مقابلے میں کم نہ ہو اور انہوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے کاروبار کو تقسیم یا اس کا نام تبدیل نہ کیا ہو۔</p>
<p>دکاندار آئیرس ویب پورٹل، دکانداروں کی موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر سے رجوع کرکے ایف بی آر میں رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ طریقہ کار اختیاری ہوگا، یعنی دکاندار چاہیں تو اس اسکیم کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔</p>
<p>اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے لیے دکانداروں کو انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس جمع کرانا ہوگا، خواہ ان کے ٹیکس کی کٹوتی یا وصولی پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت کی جا چکی ہو۔</p>
<p>ایف بی آر نے مزید واضح کیا کہ قابلِ ادائیگی ٹیکس (ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنے کے بعد) یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، وہی دکاندار کا قابلِ ادائیگی ٹیکس تصور کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288719</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:08:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15090728484426f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15090728484426f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے مقررہ مدت سے قبل 4.7 کھرب روپے سے زائد کا قرضہ واپس دیا، خرم شہزاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288710/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قرضوں کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) کے مختلف مراحل کے ذریعے وقت سے پہلے 4.7 کھرب روپے سے زائد کا سرکاری قرضہ واپس کر دیا ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں اپنے واجبات کو فعال طریقے سے نمٹانے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں 279 ارب روپے (تقریباً 1 ارب ڈالر) مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) سے اب تک مقررہ وقت سے پہلے ادا کیے گئے مجموعی قرضے کا حجم 4.722 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں واجبات کی قبل از وقت ادائیگی کا سب سے بڑا اور طویل ترین آپریشن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026ء کے دوران مقررہ وقت سے پہلے 2.9 ٹریلین روپے کا قرضہ واپس کیا، جو مالی سال 2025ء میں ادا کیے گئے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2026ء میں واپس کیے گئے مجموعی قرضے کا 51 فیصد مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کا قرضہ تھا جبکہ بقیہ 49 فیصد مارکیٹ کا قرضہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ قرضوں کی یہ قبل از وقت ادائیگی کسی روایتی ادائیگی کا حصہ نہیں، بلکہ واجبات کے فعال انتظام (ایکٹو لائبلٹی مینجمنٹ) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ری فنانسنگ (قرض کی نئی شرائط پر منتقلی) اور رول اوور کے خطرات کو کم کرنا، سود اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات (ڈیٹ سروسنگ) میں کمی لانا، کیش فلو اور لیکویڈیٹی کے نظام کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے بتایا کہ ان اقدامات سے حکومت کے قرضوں کے پروفائل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور قرض کی واپسی کی اوسط مدت مالی سال 2024ء کے 2.7 سال سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 3.8 سال سے زائد ہو چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان میں قرضوں کی جی ڈی پی سے شرح جو مالی سال 2023ء میں 75 فیصد تھی وہ مالی سال 2026ء میں کم ہو کر تقریباً 68.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی واپسی کا یہ عمل متعدد مراحل میں انجام دیا گیا جس کی شروعات اکتوبر 2024ء میں 826 ارب روپے کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد نومبر 2024ء، مارچ 2025ء، جون 2025ء، اگست 2025ء، نومبر 2025ء، دسمبر 2025ء، جنوری 2026ء اور اپریل 2026ء میں کامیاب ٹرانزیکشنز کی گئیں، جبکہ حالیہ ترین آپریشن مئی 2026ء میں 279 ارب روپے کی واپسی کے ساتھ مکمل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کے انتظام کی یہ حکمتِ عملی ان وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کے عمومی مالیات کو مضبوط بنانا، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی لانا، مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر بنانا اور مجموعی ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب قلیل مدتی قرضے لینے کے بجائے فعال طور پر بیلنس شیٹ کو منظم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی توجہ مالیاتی خطرات کو کم کرنے، قرضوں کی لاگت گھٹانے اور طویل مدتی معاشی استحکام کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قرضوں کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) کے مختلف مراحل کے ذریعے وقت سے پہلے 4.7 کھرب روپے سے زائد کا سرکاری قرضہ واپس کر دیا ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں اپنے واجبات کو فعال طریقے سے نمٹانے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں 279 ارب روپے (تقریباً 1 ارب ڈالر) مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) سے اب تک مقررہ وقت سے پہلے ادا کیے گئے مجموعی قرضے کا حجم 4.722 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں واجبات کی قبل از وقت ادائیگی کا سب سے بڑا اور طویل ترین آپریشن قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026ء کے دوران مقررہ وقت سے پہلے 2.9 ٹریلین روپے کا قرضہ واپس کیا، جو مالی سال 2025ء میں ادا کیے گئے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2026ء میں واپس کیے گئے مجموعی قرضے کا 51 فیصد مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کا قرضہ تھا جبکہ بقیہ 49 فیصد مارکیٹ کا قرضہ تھا۔</p>
<p>مشیرِ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ قرضوں کی یہ قبل از وقت ادائیگی کسی روایتی ادائیگی کا حصہ نہیں، بلکہ واجبات کے فعال انتظام (ایکٹو لائبلٹی مینجمنٹ) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ری فنانسنگ (قرض کی نئی شرائط پر منتقلی) اور رول اوور کے خطرات کو کم کرنا، سود اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات (ڈیٹ سروسنگ) میں کمی لانا، کیش فلو اور لیکویڈیٹی کے نظام کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے بتایا کہ ان اقدامات سے حکومت کے قرضوں کے پروفائل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور قرض کی واپسی کی اوسط مدت مالی سال 2024ء کے 2.7 سال سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 3.8 سال سے زائد ہو چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان میں قرضوں کی جی ڈی پی سے شرح جو مالی سال 2023ء میں 75 فیصد تھی وہ مالی سال 2026ء میں کم ہو کر تقریباً 68.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>قرضوں کی واپسی کا یہ عمل متعدد مراحل میں انجام دیا گیا جس کی شروعات اکتوبر 2024ء میں 826 ارب روپے کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد نومبر 2024ء، مارچ 2025ء، جون 2025ء، اگست 2025ء، نومبر 2025ء، دسمبر 2025ء، جنوری 2026ء اور اپریل 2026ء میں کامیاب ٹرانزیکشنز کی گئیں، جبکہ حالیہ ترین آپریشن مئی 2026ء میں 279 ارب روپے کی واپسی کے ساتھ مکمل ہوا۔</p>
<p>مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کے انتظام کی یہ حکمتِ عملی ان وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کے عمومی مالیات کو مضبوط بنانا، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی لانا، مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر بنانا اور مجموعی ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب قلیل مدتی قرضے لینے کے بجائے فعال طور پر بیلنس شیٹ کو منظم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی توجہ مالیاتی خطرات کو کم کرنے، قرضوں کی لاگت گھٹانے اور طویل مدتی معاشی استحکام کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288710</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 19:49:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14193212453dc2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14193212453dc2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ میں پاکستان کا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے وسیع تر عالمی یکجہتی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288709/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پائیدار ترقی پر منعقدہ  ہائی لیول پولیٹیکل فورم 2026 کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مضبوط عالمی تعاون، موسمیاتی انصاف اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری  سرکاری بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2030 تک صرف پانچ سال باقی رہ گئے ہیں اور دنیا کو معاشی جھٹکوں، موسمیاتی آفات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جنہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی پیش رفت کو سست کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی تبدیلی کے منصوبے اُڑان پاکستان  کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی توجہ معاشی ترقی کو تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے، موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے، توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسی جامع ترقی کو فروغ دینے پر ہے جس میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی گزشتہ دو سالوں کی معاشی اصلاحات نے ملکی معیشت کو استحکام بخشا  اور معاشی اعتماد بحال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) کی فوری ضرورت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کی بحالی، پانی کے تحفظ، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ترقی کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اس کی یکطرفہ معطلی 24 کروڑ پاکستانیوں کے پانی کے تحفظ اور روزگار کو خطرے میں ڈالتی ہے اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی شراکت داری کی تجدید پر زور دیتے ہوئے احسن اقبال نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات، آسان شرائط پر قرضوں تک بہتر رسائی، موسمیاتی مالیاتی وعدوں کی تکمیل اور ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اختراعی مالیاتی میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس بات پر کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے فوری، اجتماعی عمل اور مضبوط عالمی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پائیدار ترقی پر منعقدہ  ہائی لیول پولیٹیکل فورم 2026 کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کیا۔</strong></p>
<p>اس موقع پر انہوں نے پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مضبوط عالمی تعاون، موسمیاتی انصاف اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>منگل کو جاری  سرکاری بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2030 تک صرف پانچ سال باقی رہ گئے ہیں اور دنیا کو معاشی جھٹکوں، موسمیاتی آفات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جنہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی پیش رفت کو سست کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی تبدیلی کے منصوبے اُڑان پاکستان  کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی توجہ معاشی ترقی کو تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے، موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے، توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسی جامع ترقی کو فروغ دینے پر ہے جس میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی گزشتہ دو سالوں کی معاشی اصلاحات نے ملکی معیشت کو استحکام بخشا  اور معاشی اعتماد بحال کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) کی فوری ضرورت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کی بحالی، پانی کے تحفظ، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ترقی کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اس کی یکطرفہ معطلی 24 کروڑ پاکستانیوں کے پانی کے تحفظ اور روزگار کو خطرے میں ڈالتی ہے اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>عالمی شراکت داری کی تجدید پر زور دیتے ہوئے احسن اقبال نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات، آسان شرائط پر قرضوں تک بہتر رسائی، موسمیاتی مالیاتی وعدوں کی تکمیل اور ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اختراعی مالیاتی میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس بات پر کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے فوری، اجتماعی عمل اور مضبوط عالمی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288709</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 17:10:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14170209f01c16d.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14170209f01c16d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی سی ڈی ایم اے کا ایف بی آر سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامع اصلاحات نافذ کریں جن میں درآمدی مرحلے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ، صنعتی مراعات کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے موثر ریگولیٹری نگرانی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق کے مطابق مینوفیکچررز کودرآمد شدہ خام مال کا 50 فیصد بغیر پروسیسنگ فروخت کرنے کی اجازت دینا درحقیقت صنعتی مراعات کے غلط استعمال کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خام مال صرف برآمدی مقاصد اور ویلیو ایڈیشن کے لیے رعایتی شرائط پر درآمد کیا گیا ہے تو اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے بلکہ اس سے مکمل ٹیکس، ڈیوٹیز اور لیویز ادا کرکے درآمدات کرنے والے کمرشل درآمدکنندگان کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر جس مقصد کے لیے خام مال درآمد کیا جائے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اضافی مقدار منگوا کر اس کا بڑا حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے، غیر منصفانہ مسابقت جنم لیتی ہے اور قومی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے صنعتی مراعات کی آڑ میں تجارت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کیمیکلز اور ڈائز کے شعبے میں کئی برسوں سے جاری غیر مساوی ٹیکس نظام نے کمرشل امپورٹرز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عناصر نے صنعتی یونٹس کے لیے مختص رعایتی ٹیکس سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمرشل امپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے درمیان تفریق کیمیکلز اینڈ ڈائز کے شعبے میں غیر منصفانہ مسابقتی ماحول پیدا کررہاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو خام مال فراہم کرنے والے کمرشل امپورٹرز سے درآمد کے وقت زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) وصول کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ادارے رعایتی شرح پر خام مال درآمد کرکے بعض اوقات اسے بغیر کسی پراسیسنگ کے براہِ راست اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز بلکہ قومی خزانے کو بھی خطیر نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خام مال کی فروخت پر 50 فیصد حد مقرر کرنا کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمد کے مرحلے پر تمام درآمدکنندگان کے لیے بلاامتیاز یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں موجود ٹیکس امتیاز کا خاتمہ ہو، جائز کمرشل امپورٹرز کو مساوی مواقع میسر آئیں، ایس ایم ایز کی سپلائی چین مضبوط ہو اور کیمیکلز و ڈائز کی تجارت میں شفاف اور منصفانہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ صنعتی مراعات کے ناجائز استعمال کے مکمل خاتمے، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ سمیت تمام ضروری اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامع اصلاحات نافذ کریں جن میں درآمدی مرحلے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ، صنعتی مراعات کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے موثر ریگولیٹری نگرانی شامل ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق کے مطابق مینوفیکچررز کودرآمد شدہ خام مال کا 50 فیصد بغیر پروسیسنگ فروخت کرنے کی اجازت دینا درحقیقت صنعتی مراعات کے غلط استعمال کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خام مال صرف برآمدی مقاصد اور ویلیو ایڈیشن کے لیے رعایتی شرائط پر درآمد کیا گیا ہے تو اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے بلکہ اس سے مکمل ٹیکس، ڈیوٹیز اور لیویز ادا کرکے درآمدات کرنے والے کمرشل درآمدکنندگان کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر جس مقصد کے لیے خام مال درآمد کیا جائے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اضافی مقدار منگوا کر اس کا بڑا حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے، غیر منصفانہ مسابقت جنم لیتی ہے اور قومی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے صنعتی مراعات کی آڑ میں تجارت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کیمیکلز اور ڈائز کے شعبے میں کئی برسوں سے جاری غیر مساوی ٹیکس نظام نے کمرشل امپورٹرز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عناصر نے صنعتی یونٹس کے لیے مختص رعایتی ٹیکس سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمرشل امپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے درمیان تفریق کیمیکلز اینڈ ڈائز کے شعبے میں غیر منصفانہ مسابقتی ماحول پیدا کررہاہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو خام مال فراہم کرنے والے کمرشل امپورٹرز سے درآمد کے وقت زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) وصول کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ادارے رعایتی شرح پر خام مال درآمد کرکے بعض اوقات اسے بغیر کسی پراسیسنگ کے براہِ راست اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز بلکہ قومی خزانے کو بھی خطیر نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خام مال کی فروخت پر 50 فیصد حد مقرر کرنا کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمد کے مرحلے پر تمام درآمدکنندگان کے لیے بلاامتیاز یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں موجود ٹیکس امتیاز کا خاتمہ ہو، جائز کمرشل امپورٹرز کو مساوی مواقع میسر آئیں، ایس ایم ایز کی سپلائی چین مضبوط ہو اور کیمیکلز و ڈائز کی تجارت میں شفاف اور منصفانہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ صنعتی مراعات کے ناجائز استعمال کے مکمل خاتمے، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ سمیت تمام ضروری اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288703</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 15:46:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141538054c60820.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141538054c60820.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاز نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصول کا عمل مکمل کرلیا، کنٹرول سنبھال لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288689/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس لمیٹڈ میں 76.33 فیصد حصص حاصل کرتے ہوئے کمپنی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 13 جولائی 2026 کو حصص کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد یہ خریداری باضابطہ طور پر مکمل ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل انشورنس نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ لین دین اب کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ چنانچہ 13 جولائی 2026 سے خریدار اور ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے شیئر پرچیز معاہدے اور متعلقہ قوانین کے تحت لازمی ٹینڈر آفر کے مطابق، خریدار نے کمپنی کے جاری شدہ شیئر سرمایہ کا 76.33 فیصد حصہ اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ متعلقہ حصص باقاعدہ طور پر خریدار کے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل انشورنس نے کہا کہ اس لین دین کی کامیاب تکمیل کمپنی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کمپنی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ جاز اور ویون  کے ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے بعد توقع ہے کہ کمپنی کو بہتر ڈیجیٹل صلاحیتوں،  وسیع تر ڈسٹری بیوشن چینلز اور پاکستان  میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی انشورنس حل مزید لوگوں تک پہنچانے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویون  اور جاز ورلڈ  نے ٹی پی ایل انشورنس کو اپنے گروپ میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خریداری کے ذریعے ویون نے پاکستان میں اپنے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے تحت جاز کیش  اور موبی لنک بینک  کے ساتھ انشورنس کو بھی شامل کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل مالی خدمات کے پورٹ فولیو کو مزید وسعت دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور جاز ورلڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کان ترزی اوغلو نے کہا کہ انشورنس ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کا اگلا اہم مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ خریداری مربوط ڈیجیٹل آپریٹر ایکو سسٹمز کی تعمیر کی ہماری حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتی ہے جس کے ذریعے ہم صارفین کو روزمرہ زندگی میں حقیقی اور مؤثر سہولیات فراہم کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈرز کے لیے پائیدار طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ اس خریداری کی تکمیل کے ساتھ ہی جاز ورلڈ نے پاکستان کا سب سے جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا ایکو سسٹم قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پاکستان دنیا کی ان مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں انشورنس کی سہولت سب سے کم ہے اور یہاں انشورنس کا پھیلاؤ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کی انڈر رائٹنگ کی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو اپنے ایکو سسٹم کی پہنچ، ڈیٹا بصیرت اور ڈسٹری بیوشن کے وسیع پیمانے کے ساتھ ملا کر ہم ایمبیڈڈ انشورنس میں جدت لانے اور ملک بھر کے صارفین اور کاروبار کے لیے سستی انشورنس مصنوعات تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی پی ایل کارپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی جمیل نے کہا کہ ٹی پی ایل انشورنس ایک ہی یقین کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے ہر شہری کے لیے، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کی آمدنی کا ذریعہ کچھ بھی ہو، انشورنس کو قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی ٹیم کی ان کامیابیوں پر فخر ہے جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جدید مصنوعات اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں جو اس کاروبار کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ستمبر میں ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصص اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دسمبر 2025 میں جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کو باضابطہ طور پر نیا خریدار قرار دیا گیا جس نے ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس سے منسلک اداروں کی جگہ لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ نے جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کے ساتھ ٹی پی ایل انشورنس کے حصص کی فروخت اور کمپنی کا کنٹرول منتقل کرنے کے لیے شیئر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے تقریباً 4.15 ارب روپے کے عوض ٹی پی ایل انشورنس میں کنٹرولنگ حصص خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے فروری 2026 میں اس خریداری کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل انشورنس کمپنی اور ایک بڑے ڈیجیٹل آپریٹر کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان میں انشورنس کی رسائی بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بننے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس لمیٹڈ میں 76.33 فیصد حصص حاصل کرتے ہوئے کمپنی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 13 جولائی 2026 کو حصص کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد یہ خریداری باضابطہ طور پر مکمل ہوگئی۔</strong></p>
<p>ٹی پی ایل انشورنس نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ لین دین اب کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ چنانچہ 13 جولائی 2026 سے خریدار اور ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے شیئر پرچیز معاہدے اور متعلقہ قوانین کے تحت لازمی ٹینڈر آفر کے مطابق، خریدار نے کمپنی کے جاری شدہ شیئر سرمایہ کا 76.33 فیصد حصہ اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ متعلقہ حصص باقاعدہ طور پر خریدار کے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>ٹی پی ایل انشورنس نے کہا کہ اس لین دین کی کامیاب تکمیل کمپنی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کمپنی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ جاز اور ویون  کے ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے بعد توقع ہے کہ کمپنی کو بہتر ڈیجیٹل صلاحیتوں،  وسیع تر ڈسٹری بیوشن چینلز اور پاکستان  میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی انشورنس حل مزید لوگوں تک پہنچانے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔</p>
<p>ویون  اور جاز ورلڈ  نے ٹی پی ایل انشورنس کو اپنے گروپ میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>اس خریداری کے ذریعے ویون نے پاکستان میں اپنے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے تحت جاز کیش  اور موبی لنک بینک  کے ساتھ انشورنس کو بھی شامل کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل مالی خدمات کے پورٹ فولیو کو مزید وسعت دے دی ہے۔</p>
<p>ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور جاز ورلڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کان ترزی اوغلو نے کہا کہ انشورنس ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کا اگلا اہم مرحلہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ خریداری مربوط ڈیجیٹل آپریٹر ایکو سسٹمز کی تعمیر کی ہماری حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتی ہے جس کے ذریعے ہم صارفین کو روزمرہ زندگی میں حقیقی اور مؤثر سہولیات فراہم کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈرز کے لیے پائیدار طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ اس خریداری کی تکمیل کے ساتھ ہی جاز ورلڈ نے پاکستان کا سب سے جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا ایکو سسٹم قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔</p>
<p>“پاکستان دنیا کی ان مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں انشورنس کی سہولت سب سے کم ہے اور یہاں انشورنس کا پھیلاؤ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کی انڈر رائٹنگ کی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو اپنے ایکو سسٹم کی پہنچ، ڈیٹا بصیرت اور ڈسٹری بیوشن کے وسیع پیمانے کے ساتھ ملا کر ہم ایمبیڈڈ انشورنس میں جدت لانے اور ملک بھر کے صارفین اور کاروبار کے لیے سستی انشورنس مصنوعات تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔</p>
<p>ٹی پی ایل کارپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی جمیل نے کہا کہ ٹی پی ایل انشورنس ایک ہی یقین کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے ہر شہری کے لیے، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کی آمدنی کا ذریعہ کچھ بھی ہو، انشورنس کو قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی ٹیم کی ان کامیابیوں پر فخر ہے جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جدید مصنوعات اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں جو اس کاروبار کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>گزشتہ سال ستمبر میں ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے ٹی پی ایل انشورنس کے حصص اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں دسمبر 2025 میں جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کو باضابطہ طور پر نیا خریدار قرار دیا گیا جس نے ویون گروپ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس سے منسلک اداروں کی جگہ لے لی۔</p>
<p>مارچ میں ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ نے جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ کے ساتھ ٹی پی ایل انشورنس کے حصص کی فروخت اور کمپنی کا کنٹرول منتقل کرنے کے لیے شیئر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت جاز انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ نے تقریباً 4.15 ارب روپے کے عوض ٹی پی ایل انشورنس میں کنٹرولنگ حصص خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے فروری 2026 میں اس خریداری کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل انشورنس کمپنی اور ایک بڑے ڈیجیٹل آپریٹر کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان میں انشورنس کی رسائی بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بننے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288689</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:15:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141158182f63e1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="597" width="896">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141158182f63e1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288702/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 56 ڈالر کی کمی سے 4017 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 5600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 24 ہزار 136 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 4801 روپے کی نمایاں کمی سے 3 لاکھ 63 ہزار 628 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو سونے کی فی تولہ قیمت 3800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 29 ہزار 736 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 50 روپے کی کمی سے 6289 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/sbmTSPeca0U'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/sbmTSPeca0U?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 56 ڈالر کی کمی سے 4017 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 5600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 24 ہزار 136 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 4801 روپے کی نمایاں کمی سے 3 لاکھ 63 ہزار 628 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو سونے کی فی تولہ قیمت 3800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 29 ہزار 736 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 50 روپے کی کمی سے 6289 روپے ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/sbmTSPeca0U'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/sbmTSPeca0U?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288702</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 18:35:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141504048658bb7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141504048658bb7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد ندیم خان پی ٹی سی ایل کے نئے چیف ایگزیکٹو مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288701/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے محمد ندیم خان کو اپنا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست شدہ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں اس تقرری سے آگاہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد ندیم خان کو بطور عبوری چیف ایگزیکٹو 14 روز خدمات انجام دینے کے بعد مستقل طور پر کمپنی کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پی ٹی سی ایل گروپ سے وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2003 میں یوفون میں چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی اور تقریباً دس سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد ندیم خان کو 2017 میں پی ٹی سی ایل اور یوفون کا گروپ چیف فنانشل آفیسر (گروپ سی ایف او) مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے کمپنی کی مالیاتی حکمت عملی کی قیادت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تبدیلی کے عمل کی نگرانی کی، جس میں ٹیلینور پاکستان کا حصول بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یو مائیکرو فنانس بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں۔ محمد ندیم خان انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اِن انگلینڈ اینڈ ویلز کے رکن ہیں، جبکہ اس وقت انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ محمد ندیم خان کمپنی کے وائر لائن نیٹ ورک کی توسیع اور جدیدکاری کی قیادت کریں گے، جس میں فائبرائزیشن اور ملک بھر میں نئی نسل کی ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ کاروباری اداروں (بی ٹو بی) کے شعبے میں کمپنی کی قائدانہ پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی مربوط آئی سی ٹی کمپنی ہونے کے ناطے پی ٹی سی ایل براڈبینڈ، فائبر انفرااسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور سب میرین کیبلز میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی مرکزی حیثیت مزید مستحکم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقرری حاتم بامتراف کے پی ٹی سی ایل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے پی ٹی سی ایل اور یوفون کی قیادت کر رہے تھے اور اب پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کے دوران پی ٹی سی ایل کی مجموعی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ فکسڈ براڈبینڈ، انٹرپرائز، ہول سیل اور موبائل سروسز کی مضبوط کارکردگی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں کمپنی کا مجموعی آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 216 فیصد بڑھ گیا، جو آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔ تاہم سال بھر میں کمپنی کو 9.7 ارب روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا، جس کی بنیادی وجہ یوبینک میں پروویژننگ برائے متوقع کریڈٹ نقصانات (ای سی ایل) میں اضافہ تھا، جو پروڈینشل ریگولیشنز میں ترمیم کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ 31 دسمبر 1995 کو پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور یکم جنوری 1996 سے اس نے باقاعدہ کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کمپنی ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کی مالک اور آپریٹر ہے اور مقامی و بین الاقوامی ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 2006 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.6 ارب ڈالر میں اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو فروخت کر کے کمپنی کی نجکاری کی تھی۔ اگرچہ اس معاہدے کو ابتدا میں ایک اہم اصلاحاتی اقدام قرار دیا گیا، تاہم جائیدادوں کی منتقلی سے متعلق تنازع طویل عرصے سے برقرار ہے، جس کے باعث اتصالات اب بھی تقریباً 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی روک کر بیٹھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے محمد ندیم خان کو اپنا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>فہرست شدہ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں اس تقرری سے آگاہ کیا ہے۔</p>
<p>محمد ندیم خان کو بطور عبوری چیف ایگزیکٹو 14 روز خدمات انجام دینے کے بعد مستقل طور پر کمپنی کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پی ٹی سی ایل گروپ سے وابستہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے 2003 میں یوفون میں چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی اور تقریباً دس سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔</p>
<p>محمد ندیم خان کو 2017 میں پی ٹی سی ایل اور یوفون کا گروپ چیف فنانشل آفیسر (گروپ سی ایف او) مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے کمپنی کی مالیاتی حکمت عملی کی قیادت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تبدیلی کے عمل کی نگرانی کی، جس میں ٹیلینور پاکستان کا حصول بھی شامل تھا۔</p>
<p>وہ یو مائیکرو فنانس بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں۔ محمد ندیم خان انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اِن انگلینڈ اینڈ ویلز کے رکن ہیں، جبکہ اس وقت انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی سی ایل نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ محمد ندیم خان کمپنی کے وائر لائن نیٹ ورک کی توسیع اور جدیدکاری کی قیادت کریں گے، جس میں فائبرائزیشن اور ملک بھر میں نئی نسل کی ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ کاروباری اداروں (بی ٹو بی) کے شعبے میں کمپنی کی قائدانہ پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کریں گے۔</p>
<p>بیان کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی مربوط آئی سی ٹی کمپنی ہونے کے ناطے پی ٹی سی ایل براڈبینڈ، فائبر انفرااسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور سب میرین کیبلز میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی مرکزی حیثیت مزید مستحکم کی جا سکے۔</p>
<p>یہ تقرری حاتم بامتراف کے پی ٹی سی ایل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے پی ٹی سی ایل اور یوفون کی قیادت کر رہے تھے اور اب پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔</p>
<p>مالی سال 2025 کے دوران پی ٹی سی ایل کی مجموعی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ فکسڈ براڈبینڈ، انٹرپرائز، ہول سیل اور موبائل سروسز کی مضبوط کارکردگی رہی۔</p>
<p>اسی عرصے میں کمپنی کا مجموعی آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 216 فیصد بڑھ گیا، جو آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔ تاہم سال بھر میں کمپنی کو 9.7 ارب روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا، جس کی بنیادی وجہ یوبینک میں پروویژننگ برائے متوقع کریڈٹ نقصانات (ای سی ایل) میں اضافہ تھا، جو پروڈینشل ریگولیشنز میں ترمیم کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ 31 دسمبر 1995 کو پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور یکم جنوری 1996 سے اس نے باقاعدہ کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کمپنی ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کی مالک اور آپریٹر ہے اور مقامی و بین الاقوامی ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے 2006 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.6 ارب ڈالر میں اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو فروخت کر کے کمپنی کی نجکاری کی تھی۔ اگرچہ اس معاہدے کو ابتدا میں ایک اہم اصلاحاتی اقدام قرار دیا گیا، تاہم جائیدادوں کی منتقلی سے متعلق تنازع طویل عرصے سے برقرار ہے، جس کے باعث اتصالات اب بھی تقریباً 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی روک کر بیٹھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288701</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 00:04:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14144305042bb4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14144305042bb4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس 17 جولائی سے شروع ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288697/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انوسٹمنٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد 17 اور 18 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (یس آئی ایف سی)، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری  اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی مشترکہ قیادت میں منعقد ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق یہ کانفرنس ادویہ سازی، صحتِ عامہ اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، جدت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کانفرنس غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس ایک ممتاز بزنس ٹو بزنس  پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے اور یہ پاکستان کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کو چینی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقریب شرکاء کو تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سرحد پار کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء بی ٹو بی ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیں گے جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیقی تعاون اور مقامی پیداوار کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انوسٹمنٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد 17 اور 18 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (یس آئی ایف سی)، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری  اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی مشترکہ قیادت میں منعقد ہوگی۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق یہ کانفرنس ادویہ سازی، صحتِ عامہ اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، جدت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوگی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کانفرنس غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>یہ کانفرنس ایک ممتاز بزنس ٹو بزنس  پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے اور یہ پاکستان کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کو چینی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقریب شرکاء کو تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سرحد پار کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گی۔</p>
<p>شرکاء بی ٹو بی ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیں گے جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیقی تعاون اور مقامی پیداوار کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288697</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 14:08:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141407113b56146.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141407113b56146.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشین پام آئل کے نرخ مزید بڑھ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ شکاگو اور دالیان کی منڈیوں میں متبادل خوردنی تیل کی قیمتوں میں مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا جس نے پام آئل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر ستمبر میں ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل کا معاہدہ ابتدائی تجارت کے دوران 41 رنگٹ یعنی 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,574 رنگٹ (1,121.63 ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ شکاگو اور دالیان کی منڈیوں میں متبادل خوردنی تیل کی قیمتوں میں مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا جس نے پام آئل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔</strong></p>
<p>بورسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج پر ستمبر میں ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل کا معاہدہ ابتدائی تجارت کے دوران 41 رنگٹ یعنی 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,574 رنگٹ (1,121.63 ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288700</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 14:35:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141432231cf1304.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141432231cf1304.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹربینک مارکیٹ: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288707/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پرڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 278.01 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 278.02 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار سے قبل ڈالر مستحکم رہا جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب ممکنہ حکومتی مداخلت کے خدشات اور ریاستی پنشن فنڈ کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پالیسی سازوں کے بیانات کے بعد ین کی قدر دباؤ کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 1.1388 ڈالر پر رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3355 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا کہ اگر اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ افراطِ زر مرکزی بینک کے 2 فیصد کے ہدف سے کافی اوپر ہے تو شرحِ سود میں قریب مستقبل میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پرڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 278.01 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 278.02 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>علاوہ ازیں امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار سے قبل ڈالر مستحکم رہا جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب ممکنہ حکومتی مداخلت کے خدشات اور ریاستی پنشن فنڈ کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پالیسی سازوں کے بیانات کے بعد ین کی قدر دباؤ کا شکار رہی۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آ گیا۔</p>
<p>یورو ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 1.1388 ڈالر پر رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3355 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>دریں اثنا فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا کہ اگر اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ افراطِ زر مرکزی بینک کے 2 فیصد کے ہدف سے کافی اوپر ہے تو شرحِ سود میں قریب مستقبل میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288707</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 16:29:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14162341c644775.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14162341c644775.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>74 ہزار ڈیوائسز متاثر، فورٹی نیٹ صارفین کو فوری احتیاط کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ایک اہم سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں، بینکوں، ٹیلی کام آپریٹرز، توانائی کمپنیوں اور دیگر حساس انفرااسٹرکچر کے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی نیٹ  فائر وال اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سسٹمز کو فوری محفوظ بنائیں۔ یہ انتباہ ایک بڑے عالمی سائبر حملے کے پیش نظر جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں 194 ممالک میں انٹرنیٹ سے منسلک تقریباً 74 ہزار ڈیوائسز متاثر ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی ایڈوائزری میں نیشنل سرٹ نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی محققین نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر وال کے تقریباً 73,932 انسٹینسز بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا شکار ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایڈمنسٹریٹو اسناد افشا ہو گئی ہیں اور دنیا بھر میں اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر کے نیٹ ورکس تک غیر مجاز رسائی ممکن ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سائبر مہم پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان اداروں کیلئے جو انٹرنیٹ سے منسلک فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر والز اور ایس ایس ایل وی پی این  گیٹ ویز استعمال کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ کے مطابق جاری سائبر مہم کے پیچھے منظم سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جو وسیع پیمانے پر کریڈنشلز چوری کرنے، بروٹ فورس اٹیکس ، وی پی این اسناد کریک کرنے اور نیٹ ورک میں کامیابی سے داخل ہونے کے بعد اندرونی نیٹ ورکس میں رسائی حاصل کرنے  جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری کے مطابق حملہ آوروں نے عوامی سطح پر قابلِ رسائی فورٹی گیٹ مینجمنٹ انٹرفیسز اور پرانے طرز کے کریڈینشل اسٹوریج نظام میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامی (ایڈمنسٹریٹو) رسائی حاصل کی اور متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس میں مستقل موجودگی  قائم کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس سائبر مہم کے وسیع پیمانے، پیچیدگی اور مسلسل فعال استحصال کے پیش نظر فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ  انفرااسٹرکچر استعمال کرنے والے تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹمز کے خطرات کا جائزہ لیں، ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کریں اور ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی کے لیے تھریٹ ہنٹنگ سرگرمیاں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے متاثرہ سسٹمز کی بروقت جانچ اور ضروری اصلاحی اقدامات نہیں کرتے تو انہیں غیر مجاز ایڈمنسٹریٹو رسائی، وی پی این گیٹ ویز کے متاثر ہونے، حساس لاگ اِن اسناد کی چوری، ایکٹو ڈائریکٹری میں دراندازی، مستقل بیک ڈور کی تنصیب، ڈیٹا کے غیر قانونی اخراج  اور فائر وال کی سیکیورٹی پالیسیوں میں غیر مجاز تبدیلی جیسے سنگین سائبر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ نیٹ ورکس کے باعث سرکاری اور نجی اداروں کی حساس معلومات افشا ہونے، اہم خدمات میں خلل پڑنے اور تیسرے فریق کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے سپلائی چین سے متعلق سائبر خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ادارے، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں، مالیاتی ادارے، آئی ٹی کمپنیاں، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، صنعتی و پیداواری یونٹس، صنعتی آٹومیشن آپریٹرز، لاجسٹکس کمپنیاں اور دیگر حساس قومی انفرااسٹرکچر سے وابستہ ادارے اس سائبر مہم سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شعبوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ سائبر دراندازی کا سراغ لگانے کے لیے نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر معمولی جغرافیائی مقامات سے ہونے والے ایڈمنسٹریٹر لاگ اِن، دفتری اوقات کے بعد رسائی، نئے ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کی تخلیق، مشتبہ وی پی این لاگ اِن، فائر وال رولز میں غیر متوقع تبدیلیاں، بلاجواز اختیارات میں اضافہ، غیر معمولی آؤٹ باؤنڈ نیٹ ورک ٹریفک اور ایکٹو ڈائریکٹری ماحول میں اندرونی نقل و حرکت کی علامات کا فوری جائزہ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی گیٹ  مینجمنٹ انٹرفیسز کو فوری طور پر عوامی انٹرنیٹ رسائی سے ہٹا دیں، فورٹی او ایس  کے تازہ ترین معاونت یافتہ ورژن پر اپ گریڈ کریں، تمام ایڈمنسٹریٹر پاس ورڈز دوبارہ ترتیب دیں اور انتظامی و وی پی این اکاؤنٹس کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن  لازمی نافذ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں مینجمنٹ تک رسائی کو صرف قابل اعتماد نیٹ ورکس تک محدود کرنے، فائر وال پالیسیوں اور ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کا جائزہ لینے، بہتر لاگنگ  کو فعال کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کے لیے سسٹمز کی مسلسل نگرانی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ایک اہم سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں، بینکوں، ٹیلی کام آپریٹرز، توانائی کمپنیوں اور دیگر حساس انفرااسٹرکچر کے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی نیٹ  فائر وال اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سسٹمز کو فوری محفوظ بنائیں۔ یہ انتباہ ایک بڑے عالمی سائبر حملے کے پیش نظر جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں 194 ممالک میں انٹرنیٹ سے منسلک تقریباً 74 ہزار ڈیوائسز متاثر ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>اپنی ایڈوائزری میں نیشنل سرٹ نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی محققین نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر وال کے تقریباً 73,932 انسٹینسز بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا شکار ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایڈمنسٹریٹو اسناد افشا ہو گئی ہیں اور دنیا بھر میں اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر کے نیٹ ورکس تک غیر مجاز رسائی ممکن ہو گئی ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سائبر مہم پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان اداروں کیلئے جو انٹرنیٹ سے منسلک فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر والز اور ایس ایس ایل وی پی این  گیٹ ویز استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ کے مطابق جاری سائبر مہم کے پیچھے منظم سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جو وسیع پیمانے پر کریڈنشلز چوری کرنے، بروٹ فورس اٹیکس ، وی پی این اسناد کریک کرنے اور نیٹ ورک میں کامیابی سے داخل ہونے کے بعد اندرونی نیٹ ورکس میں رسائی حاصل کرنے  جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایڈوائزری کے مطابق حملہ آوروں نے عوامی سطح پر قابلِ رسائی فورٹی گیٹ مینجمنٹ انٹرفیسز اور پرانے طرز کے کریڈینشل اسٹوریج نظام میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامی (ایڈمنسٹریٹو) رسائی حاصل کی اور متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس میں مستقل موجودگی  قائم کرلی۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس سائبر مہم کے وسیع پیمانے، پیچیدگی اور مسلسل فعال استحصال کے پیش نظر فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ  انفرااسٹرکچر استعمال کرنے والے تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹمز کے خطرات کا جائزہ لیں، ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کریں اور ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی کے لیے تھریٹ ہنٹنگ سرگرمیاں انجام دیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے متاثرہ سسٹمز کی بروقت جانچ اور ضروری اصلاحی اقدامات نہیں کرتے تو انہیں غیر مجاز ایڈمنسٹریٹو رسائی، وی پی این گیٹ ویز کے متاثر ہونے، حساس لاگ اِن اسناد کی چوری، ایکٹو ڈائریکٹری میں دراندازی، مستقل بیک ڈور کی تنصیب، ڈیٹا کے غیر قانونی اخراج  اور فائر وال کی سیکیورٹی پالیسیوں میں غیر مجاز تبدیلی جیسے سنگین سائبر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ نیٹ ورکس کے باعث سرکاری اور نجی اداروں کی حساس معلومات افشا ہونے، اہم خدمات میں خلل پڑنے اور تیسرے فریق کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے سپلائی چین سے متعلق سائبر خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ادارے، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں، مالیاتی ادارے، آئی ٹی کمپنیاں، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، صنعتی و پیداواری یونٹس، صنعتی آٹومیشن آپریٹرز، لاجسٹکس کمپنیاں اور دیگر حساس قومی انفرااسٹرکچر سے وابستہ ادارے اس سائبر مہم سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شعبوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>ممکنہ سائبر دراندازی کا سراغ لگانے کے لیے نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر معمولی جغرافیائی مقامات سے ہونے والے ایڈمنسٹریٹر لاگ اِن، دفتری اوقات کے بعد رسائی، نئے ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کی تخلیق، مشتبہ وی پی این لاگ اِن، فائر وال رولز میں غیر متوقع تبدیلیاں، بلاجواز اختیارات میں اضافہ، غیر معمولی آؤٹ باؤنڈ نیٹ ورک ٹریفک اور ایکٹو ڈائریکٹری ماحول میں اندرونی نقل و حرکت کی علامات کا فوری جائزہ لیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی گیٹ  مینجمنٹ انٹرفیسز کو فوری طور پر عوامی انٹرنیٹ رسائی سے ہٹا دیں، فورٹی او ایس  کے تازہ ترین معاونت یافتہ ورژن پر اپ گریڈ کریں، تمام ایڈمنسٹریٹر پاس ورڈز دوبارہ ترتیب دیں اور انتظامی و وی پی این اکاؤنٹس کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن  لازمی نافذ کریں۔</p>
<p>ایڈوائزری میں مینجمنٹ تک رسائی کو صرف قابل اعتماد نیٹ ورکس تک محدود کرنے، فائر وال پالیسیوں اور ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کا جائزہ لینے، بہتر لاگنگ  کو فعال کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کے لیے سسٹمز کی مسلسل نگرانی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288690</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:58:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141216059ff3203.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141216059ff3203.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران کشیدگی : اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 3.5 فیصد سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288687/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (ہی ایس ایکس) میں شدید فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں منگل کے کاروباری سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3 فیصد سے زائد گر گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق آغاز پر ہی مارکیٹ شدید مندی کے ساتھ کھلی اور کاروبار کے دوران ایک وقت میں بلند ترین سطح (انٹرا ڈے ہائی) 178,112.04 پوائنٹس کو چھوا، تاہم اہم شعبوں میں مسلسل ہونے والی فروخت نے ابتدائی تیزی کو زائل کر دیا۔ بینچ مارک انڈیکس میں دن بھر بتدریج گراوٹ کا رجحان رہا اور دوپہر کے وقت بحالی کی مختصر کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آخری گھنٹوں میں شیئرز کی فروخت میں مزید تیزی آئی، جس نے انڈیکس کو روزانہ کی کم ترین سطح (انٹرا ڈے لو) 173,349.41 پوائنٹس تک گرا دیا، جو سیشن کی کم ترین سطح کے بالکل قریب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,408.23 پوائنٹس یا 3.56 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 173,518.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں شیئرز کی تیز فروخت  اور شدید مندی کی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن معاہدہ مبینہ طور پر ناکام ہونے کے بعد بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بنی۔رپورٹ کے مطابق ان اطلاعات کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا کہ امریکہ نے دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرکے فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید تیل بردار بحری جہازوں (آئل ٹینکرز) کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کشیدگی نے علاقائی استحکام، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل اور مالیاتی منڈیوں میں خطرات سے بچنے کے رجحان کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں چوہ مکھی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ ٹاپ لائن کا کہنا ہے کہ انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثرات یو بی ایل، اینگرو ہولڈنگز ، ایف ایف سی، لک سیلانی  اور میب  کی جانب سے مرتب ہوئے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے 2,057 پوائنٹس کم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی کے رجحان سے ہوا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور وسیع پیمانے پر فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کو 180,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز 100 انڈیکس 2,314.73 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کی کمی سے 179,927 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بھی منگل کو ایشیائی ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں حصص بازار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جبکہ خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کررہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن کے آغاز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایس ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جن میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.2 فیصد اوپر رہا جب کہ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہونے پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 85.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جو جون کے وسط کے بعد ان کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے سخت مؤقف پر مبنی بیانات نے بھی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ آنے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ افراطِ زر بدستور 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے تو امریکی مرکزی بینک کو قریب مستقبل میں شرحِ سود مزید بڑھانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات بھر وال اسٹریٹ میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے بعد تیل کے فیوچرز کی قیمتیں 9 فیصد سے زائد بڑھ گئیں کیونکہ اس تنازع نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے سامان کی ترسیل کو متاثر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز اس بات کا 43.3 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو 28 اور 29 جولائی کو ہونے والے اپنے آئندہ دو روزہ اجلاس میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس (0.25 فیصد) اضافہ کرے گا۔ جمعہ کو یہی امکان 34.2 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.01 روپے پر بند ہوئی۔آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 845.28 ملین شیئرز سے بڑھ کر 912.61 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.55 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 45.61 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔کاروباری حجم کے لحاظ سے  سائنرجیکو پی کے 84.54 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہا، جس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 43.53 ملین شیئرز اورورلڈ کال ٹیلی کام 43.31 ملین شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔منگل کومجموعی طور پر 498 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے صرف 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 439 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گریں، جبکہ 19 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/141817277234afc.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/141817277234afc.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (ہی ایس ایکس) میں شدید فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں منگل کے کاروباری سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3 فیصد سے زائد گر گیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق آغاز پر ہی مارکیٹ شدید مندی کے ساتھ کھلی اور کاروبار کے دوران ایک وقت میں بلند ترین سطح (انٹرا ڈے ہائی) 178,112.04 پوائنٹس کو چھوا، تاہم اہم شعبوں میں مسلسل ہونے والی فروخت نے ابتدائی تیزی کو زائل کر دیا۔ بینچ مارک انڈیکس میں دن بھر بتدریج گراوٹ کا رجحان رہا اور دوپہر کے وقت بحالی کی مختصر کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔</p>
<p>کاروبار کے آخری گھنٹوں میں شیئرز کی فروخت میں مزید تیزی آئی، جس نے انڈیکس کو روزانہ کی کم ترین سطح (انٹرا ڈے لو) 173,349.41 پوائنٹس تک گرا دیا، جو سیشن کی کم ترین سطح کے بالکل قریب تھا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,408.23 پوائنٹس یا 3.56 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 173,518.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں شیئرز کی تیز فروخت  اور شدید مندی کی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن معاہدہ مبینہ طور پر ناکام ہونے کے بعد بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بنی۔رپورٹ کے مطابق ان اطلاعات کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا کہ امریکہ نے دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرکے فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید تیل بردار بحری جہازوں (آئل ٹینکرز) کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کشیدگی نے علاقائی استحکام، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل اور مالیاتی منڈیوں میں خطرات سے بچنے کے رجحان کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں چوہ مکھی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ ٹاپ لائن کا کہنا ہے کہ انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثرات یو بی ایل، اینگرو ہولڈنگز ، ایف ایف سی، لک سیلانی  اور میب  کی جانب سے مرتب ہوئے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے 2,057 پوائنٹس کم کیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی کے رجحان سے ہوا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور وسیع پیمانے پر فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کو 180,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے دھکیل دیا۔</p>
<p>گزشتہ روز 100 انڈیکس 2,314.73 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کی کمی سے 179,927 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر بھی منگل کو ایشیائی ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں حصص بازار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جبکہ خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کررہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کرے گا۔</p>
<p>سیشن کے آغاز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایس ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جن میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.2 فیصد اوپر رہا جب کہ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>ایشیا میں ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہونے پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 85.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جو جون کے وسط کے بعد ان کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>پیر کو امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے سخت مؤقف پر مبنی بیانات نے بھی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ آنے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ افراطِ زر بدستور 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے تو امریکی مرکزی بینک کو قریب مستقبل میں شرحِ سود مزید بڑھانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔</p>
<p>رات بھر وال اسٹریٹ میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے بعد تیل کے فیوچرز کی قیمتیں 9 فیصد سے زائد بڑھ گئیں کیونکہ اس تنازع نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے سامان کی ترسیل کو متاثر کردیا۔</p>
<p>دوسری جانب سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز اس بات کا 43.3 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو 28 اور 29 جولائی کو ہونے والے اپنے آئندہ دو روزہ اجلاس میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس (0.25 فیصد) اضافہ کرے گا۔ جمعہ کو یہی امکان 34.2 فیصد تھا۔</p>
<p>دوسری جانب منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.01 روپے پر بند ہوئی۔آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 845.28 ملین شیئرز سے بڑھ کر 912.61 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.55 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 45.61 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔کاروباری حجم کے لحاظ سے  سائنرجیکو پی کے 84.54 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہا، جس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 43.53 ملین شیئرز اورورلڈ کال ٹیلی کام 43.31 ملین شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔منگل کومجموعی طور پر 498 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے صرف 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 439 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گریں، جبکہ 19 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/141817277234afc.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/141817277234afc.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288687</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 19:24:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14111343e065429.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14111343e065429.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس ایم او نے بجلی کی نیلامی کے فریم ورک میں ترامیم نیپرا کو بھجوا دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288684/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے بجلی کی موجودہ نیلامی (آکشن) کے طریقہ کار میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے ضروری منظوری کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کر لیا ہے۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او نے تجویز دی ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کے لیے لازم ہو کہ وہ اپنی پیداواری تنصیبات کے ساتھ کم از کم 10 فیصد فرْم صلاحیت کے مساوی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم  بھی نصب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او کے مطابق اس تجویز کا مقصد صرف گرڈ کو درپیش مسائل، جیسے کرٹیلمنٹ اور ڈک کرو سے نمٹنا ہی نہیں بلکہ نیلامی میں حصہ لینے والوں کے مالی منافع میں بھی اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ موجودہ طریقہ کار کے تحت تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ مقرر ہے اور اس میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم آئی ایس ایم او نے ایک اور ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت ممکنہ شرکاء کی درخواست پر تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ تک توسیع دی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آئی ایس ایم او نے نیلامی کے شرکاء کی شکایات کے ازالے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی  قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس میں آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ارکان اور ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری مراسلے کے مطابق یہ مجوزہ ترامیم بجلی کی مارکیٹ میں مسابقتی خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کے طریقہ کار کے بعض انتظامی اور ساختی پہلوؤں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شرکت ممکن ہوگی اور نیلامی کا عمل مزید مسابقتی اور شفاف بن سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ ان ترامیم کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر بروقت ریگولیٹری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ نظرثانی شدہ نیلامی فریم ورک کو جلد نافذ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نیپرا نے 13 جولائی 2026 سے ایک ہفتے کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز، دلچسپی رکھنے والے فریقین اور عوام سے تحریری تجاویز اور آرا طلب کر لی ہیں۔ ریگولیٹر متعلقہ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد عوامی سماعت منعقد کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے بجلی کی موجودہ نیلامی (آکشن) کے طریقہ کار میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے ضروری منظوری کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کر لیا ہے۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس ایم او نے تجویز دی ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کے لیے لازم ہو کہ وہ اپنی پیداواری تنصیبات کے ساتھ کم از کم 10 فیصد فرْم صلاحیت کے مساوی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم  بھی نصب کریں۔</p>
<p>آئی ایس ایم او کے مطابق اس تجویز کا مقصد صرف گرڈ کو درپیش مسائل، جیسے کرٹیلمنٹ اور ڈک کرو سے نمٹنا ہی نہیں بلکہ نیلامی میں حصہ لینے والوں کے مالی منافع میں بھی اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>منظور شدہ موجودہ طریقہ کار کے تحت تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ مقرر ہے اور اس میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم آئی ایس ایم او نے ایک اور ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت ممکنہ شرکاء کی درخواست پر تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ تک توسیع دی جا سکے گی۔</p>
<p>مزید برآں، آئی ایس ایم او نے نیلامی کے شرکاء کی شکایات کے ازالے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی  قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس میں آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ارکان اور ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل ہوں گے۔</p>
<p>سرکاری مراسلے کے مطابق یہ مجوزہ ترامیم بجلی کی مارکیٹ میں مسابقتی خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کے طریقہ کار کے بعض انتظامی اور ساختی پہلوؤں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شرکت ممکن ہوگی اور نیلامی کا عمل مزید مسابقتی اور شفاف بن سکے گا۔</p>
<p>آئی ایس ایم او نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ ان ترامیم کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر بروقت ریگولیٹری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ نظرثانی شدہ نیلامی فریم ورک کو جلد نافذ کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب نیپرا نے 13 جولائی 2026 سے ایک ہفتے کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز، دلچسپی رکھنے والے فریقین اور عوام سے تحریری تجاویز اور آرا طلب کر لی ہیں۔ ریگولیٹر متعلقہ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد عوامی سماعت منعقد کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288684</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 10:12:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14101015c886413.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14101015c886413.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026-27: ایف بی آر نے بجٹ فنڈز کے اجرا کیلئے سخت طریقہ کار جاری کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288683/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے جاری اخراجات اور بجٹ فنڈز کے اجرا کے لیے فیلڈ فارمیشنز کے سربراہان (ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز) کے لیے سخت طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ایڈمن ونگ نے پیر کو جاری کردہ ہدایات میں بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران فیلڈ دفاتر کے جاری بجٹ کے حوالے سے چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس آفیسر (سی ایف اے اوز) اور ڈپٹی سیکریٹری (اخراجات)، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بجٹ آرڈرز  کا حوالہ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے وزارت خزانہ کی یکم جولائی 2026 کی جانب سے جاری فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی اور 2 جولائی 2025 کے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق دفترِ یادداشت  پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق تمام محکموں اور فیلڈ دفاتر کے سربراہان منظور شدہ بجٹ کے مؤثر استعمال، اس پر عمل درآمد اور مقررہ اہداف کے حصول کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ انہیں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019، جنرل فنانشل رولز، فنانشل ریگولیشنز، ٹریژری رولز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں و ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کی ہدایات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی ایس اے پی/بجٹ ایگزیکیوشن رپورٹ کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ بعض دفاتر نے مختلف مدات میں بجٹ سے زائد اور غیر مجاز اخراجات کیے، جس کے نتیجے میں مختص بجٹ کے مقابلے میں اوور ڈرافٹ پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے واضح کیا کہ کسی بھی قانونی یا مالیاتی ضابطے کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دفتر کے سربراہ، کنٹرولنگ آفیسر اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او) ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے اور ان کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈٰ) رولز کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ جن دفاتر نے بجٹ سے زائد ادائیگیاں کی ہیں، ان کی ریکوری یا ایڈجسٹمنٹ ہونے تک ان کی جانب سے ری اپروپریشن یا اضافی فنڈز کی کوئی درخواست زیر غور نہیں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے اخراجات کی نگرانی اور مفاہمت کے لیے ہدایت کی ہے کہ ہر دفتر میں ماہانہ اخراجات اور بجٹ مختص کرنے کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ مفاہمتی عمل میں صرف اخراجات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ اصل بجٹ، منظور شدہ ری اپروپریشن، سرینڈر، ضمنی گرانٹس، ماہانہ و مجموعی اخراجات اور دستیاب بجٹ بیلنس کو بھی بورڈ کو رپورٹ کرنے سے قبل لازماً جانچا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے جاری اخراجات اور بجٹ فنڈز کے اجرا کے لیے فیلڈ فارمیشنز کے سربراہان (ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز) کے لیے سخت طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کے ایڈمن ونگ نے پیر کو جاری کردہ ہدایات میں بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران فیلڈ دفاتر کے جاری بجٹ کے حوالے سے چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس آفیسر (سی ایف اے اوز) اور ڈپٹی سیکریٹری (اخراجات)، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بجٹ آرڈرز  کا حوالہ دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے وزارت خزانہ کی یکم جولائی 2026 کی جانب سے جاری فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی اور 2 جولائی 2025 کے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق دفترِ یادداشت  پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق تمام محکموں اور فیلڈ دفاتر کے سربراہان منظور شدہ بجٹ کے مؤثر استعمال، اس پر عمل درآمد اور مقررہ اہداف کے حصول کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ انہیں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019، جنرل فنانشل رولز، فنانشل ریگولیشنز، ٹریژری رولز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں و ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کی ہدایات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔</p>
<p>ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی ایس اے پی/بجٹ ایگزیکیوشن رپورٹ کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ بعض دفاتر نے مختلف مدات میں بجٹ سے زائد اور غیر مجاز اخراجات کیے، جس کے نتیجے میں مختص بجٹ کے مقابلے میں اوور ڈرافٹ پیدا ہوا۔</p>
<p>ایف بی آر نے واضح کیا کہ کسی بھی قانونی یا مالیاتی ضابطے کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دفتر کے سربراہ، کنٹرولنگ آفیسر اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او) ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے اور ان کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈٰ) رولز کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ جن دفاتر نے بجٹ سے زائد ادائیگیاں کی ہیں، ان کی ریکوری یا ایڈجسٹمنٹ ہونے تک ان کی جانب سے ری اپروپریشن یا اضافی فنڈز کی کوئی درخواست زیر غور نہیں لائی جائے گی۔</p>
<p>ایف بی آر نے اخراجات کی نگرانی اور مفاہمت کے لیے ہدایت کی ہے کہ ہر دفتر میں ماہانہ اخراجات اور بجٹ مختص کرنے کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ مفاہمتی عمل میں صرف اخراجات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ اصل بجٹ، منظور شدہ ری اپروپریشن، سرینڈر، ضمنی گرانٹس، ماہانہ و مجموعی اخراجات اور دستیاب بجٹ بیلنس کو بھی بورڈ کو رپورٹ کرنے سے قبل لازماً جانچا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288683</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 10:04:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14095955992c7b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14095955992c7b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کے امریکی اعدادوشمار سے قبل سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سیشن کے آغاز میں قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا میں مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,013.93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,020.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔ اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں کا ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلند شرح سود غیر منافع بخش دھات کی کشش کو کم کر دیتی ہے کیونکہ سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو شعبے کے سربراہ ایلیا اسپیواک نے کہا کہ سرمایہ کار فی الحال بڑے معاشی واقعات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈ چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں گواہی، امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فیڈ گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود مزید بڑھانا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 57.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 1,597.52 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,254.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سیشن کے آغاز میں قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا میں مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,013.93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,020.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>پیر کے روز سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔ اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں کا ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تھا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلند شرح سود غیر منافع بخش دھات کی کشش کو کم کر دیتی ہے کیونکہ سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو شعبے کے سربراہ ایلیا اسپیواک نے کہا کہ سرمایہ کار فی الحال بڑے معاشی واقعات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈ چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں گواہی، امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔</p>
<p>ادھر فیڈ گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود مزید بڑھانا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 57.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 1,597.52 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,254.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288678</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:22:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/140915120647893.webp" type="image/webp" medium="image" height="307" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/140915120647893.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈالر مستحکم، ین دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288679</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:32:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/140930369212f06.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/140930369212f06.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 26ء میں پاکستان میں کاروں کی فروخت 39 فیصد بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288671/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے دوران کاروں کی فروخت میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات صارفین کی قوتِ خرید میں بہتری، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں سہولت اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے مختلف نئے ماڈلز متعارف کرانا قرار دی جا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26ء کے دوران کاروں کی فروخت 39 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 55 ہزار 631 یونٹس تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت 41 فیصد بڑھ کر 50 ہزار 814 یونٹس، جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 67 فیصد اضافے سے 7 ہزار 439 یونٹس رہی۔ رکشوں کی فروخت بھی 25 فیصد اضافے کے ساتھ 985 یونٹس تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے سے 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں ایک فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 28 ہزار 791 یونٹس رہی۔ اس کی وجہ کسانوں کی جانب سے گزشتہ چند برسوں سے کم منافع کے باعث زرعی شعبے میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کو قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو اور موٹر سائیکل شعبے کے تجزیہ کار محمد صابر شیخ نے کہا کہ مالی سال 26ء میں کاروں کی فروخت میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے۔ ان کے مطابق کار خریداروں کی قوتِ خرید میں اضافہ، بینکوں کی جانب سے آسان آٹو فنانسنگ اسکیمیں اور گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فیول، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت مختلف اقسام اور ماڈلز کی دستیابی نے فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکلوں کی فروخت ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ان کے بقول، کووڈ-19 سے قبل 2016 میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں شعبوں کو ملا کر سالانہ موٹر سائیکل فروخت تقریباً 30 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس کے باعث بہت سے افراد تقریباً 3 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس کاروں کے شعبے میں صارفین ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جو اس طبقے کی بہتر ہوتی قوتِ خرید کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد صابر شیخ نے کہا کہ پاکستان، خصوصاً سندھ میں، عوامی نقل و حمل کا نظام انتہائی ناکافی ہے اور کراچی میں بھی سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کی توسیع پر فوری سرمایہ کاری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آج متوسط طبقے کے لیے موٹر سائیکل خریدنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ اب ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث رکشوں اور آن لائن سفری خدمات کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے موٹر سائیکل کی ملکیت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے دوران کاروں کی فروخت میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات صارفین کی قوتِ خرید میں بہتری، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں سہولت اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے مختلف نئے ماڈلز متعارف کرانا قرار دی جا رہی ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26ء کے دوران کاروں کی فروخت 39 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 55 ہزار 631 یونٹس تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اسی عرصے میں جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت 41 فیصد بڑھ کر 50 ہزار 814 یونٹس، جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 67 فیصد اضافے سے 7 ہزار 439 یونٹس رہی۔ رکشوں کی فروخت بھی 25 فیصد اضافے کے ساتھ 985 یونٹس تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ادھر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے سے 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے برعکس زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں ایک فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 28 ہزار 791 یونٹس رہی۔ اس کی وجہ کسانوں کی جانب سے گزشتہ چند برسوں سے کم منافع کے باعث زرعی شعبے میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کو قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو اور موٹر سائیکل شعبے کے تجزیہ کار محمد صابر شیخ نے کہا کہ مالی سال 26ء میں کاروں کی فروخت میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے۔ ان کے مطابق کار خریداروں کی قوتِ خرید میں اضافہ، بینکوں کی جانب سے آسان آٹو فنانسنگ اسکیمیں اور گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فیول، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت مختلف اقسام اور ماڈلز کی دستیابی نے فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکلوں کی فروخت ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ان کے بقول، کووڈ-19 سے قبل 2016 میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں شعبوں کو ملا کر سالانہ موٹر سائیکل فروخت تقریباً 30 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس کے باعث بہت سے افراد تقریباً 3 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس کاروں کے شعبے میں صارفین ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جو اس طبقے کی بہتر ہوتی قوتِ خرید کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>محمد صابر شیخ نے کہا کہ پاکستان، خصوصاً سندھ میں، عوامی نقل و حمل کا نظام انتہائی ناکافی ہے اور کراچی میں بھی سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کی توسیع پر فوری سرمایہ کاری کریں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آج متوسط طبقے کے لیے موٹر سائیکل خریدنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ اب ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث رکشوں اور آن لائن سفری خدمات کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے موٹر سائیکل کی ملکیت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288671</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 22:28:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13222239f9ccc74.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13222239f9ccc74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال، پیٹرولیم قیمتوں میں شفافیت کے لیے اصلاحات کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تیل کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شفافیت، مارکیٹ کے استحکام اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی سفارش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی کا چوتھا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس سے کمیٹی کی سفارشات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کے پی ایم جی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بنگلہ دیش، سری لنکا اور ترکیے کے مقابلے میں کم جبکہ بھارت کے برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ریفائنری پالیسی میں ترامیم کی تجویز دی ہے تاکہ ملک میں ڈیزل کی مقامی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور درآمدی ڈیزل پر انحصار کم ہو، جس سے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے فوری اقدام کے طور پر سفارش کی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اپنی ویب سائٹ پر روزانہ پلیٹس بینچ مارک قیمتیں جاری کرے، تاکہ عوام کو ان عالمی قیمتوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے جن کی بنیاد پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ حال ہی میں قائم کیے گئے پیٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کو مکمل طور پر قواعد پر مبنی نظام کے تحت چلایا جائے، جس میں فنڈ میں رقوم جمع کرنے اور ان کے اجراء کا طریقہ کار واضح طور پر متعین ہو تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور صوابدیدی فیصلوں کی گنجائش نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تیل کی سپلائی چین کو ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ نظام کی کارکردگی بہتر ہو اور نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ہدایت کی کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس اس کا آخری اجلاس ہوگا، جس کے بعد سفارشات وزیراعظم کو منظوری اور غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اوگرا کے چیئرمین نبیل اعوان، کے پی ایم جی، وزارت خزانہ، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، وزارت قانون و انصاف، پیٹرولیم ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تیل کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شفافیت، مارکیٹ کے استحکام اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی سفارش کی ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی کا چوتھا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس سے کمیٹی کی سفارشات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کے پی ایم جی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بنگلہ دیش، سری لنکا اور ترکیے کے مقابلے میں کم جبکہ بھارت کے برابر ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ریفائنری پالیسی میں ترامیم کی تجویز دی ہے تاکہ ملک میں ڈیزل کی مقامی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور درآمدی ڈیزل پر انحصار کم ہو، جس سے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔</p>
<p>اجلاس میں پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے فوری اقدام کے طور پر سفارش کی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اپنی ویب سائٹ پر روزانہ پلیٹس بینچ مارک قیمتیں جاری کرے، تاکہ عوام کو ان عالمی قیمتوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے جن کی بنیاد پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ حال ہی میں قائم کیے گئے پیٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کو مکمل طور پر قواعد پر مبنی نظام کے تحت چلایا جائے، جس میں فنڈ میں رقوم جمع کرنے اور ان کے اجراء کا طریقہ کار واضح طور پر متعین ہو تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور صوابدیدی فیصلوں کی گنجائش نہ رہے۔</p>
<p>اجلاس میں تیل کی سپلائی چین کو ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ نظام کی کارکردگی بہتر ہو اور نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ہدایت کی کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس اس کا آخری اجلاس ہوگا، جس کے بعد سفارشات وزیراعظم کو منظوری اور غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اوگرا کے چیئرمین نبیل اعوان، کے پی ایم جی، وزارت خزانہ، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، وزارت قانون و انصاف، پیٹرولیم ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288668</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 20:30:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13202511994d172.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13202511994d172.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سویا سپریم بنانے والی کمپنی جولائی میں ابتدائی عوامی حصص فروخت (آئی پی او) لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بڑے کوکنگ آئل برانڈز میں شمار ہونے والے سویا سپریم کی تیار کنندہ کمپنی رواں ماہ (جولائی) اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کے لیے ابتدائی عوامی حصص کی فروخت (آئی پی او) لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بات بلومبرگ نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں بتائی  ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایگرو پروسیسرز اینڈ ایٹموسفیرک گیسز (اے پی اے جی)، جو سویا سپریم کی مالک کمپنی ہے، آئی پی او کے ذریعے 2.6 ارب روپے تک جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد عزیز غلام حسین نے اس کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حاصل ہونے والی رقم کا تقریباً 40 فیصد ریفائننگ کی استعداد میں ایک تہائی اضافے پر خرچ کیا جائے گا، جس کے بعد سالانہ پیداواری صلاحیت بڑھ کر ایک لاکھ 20 ہزار ٹن ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ رقم کا ایک بڑا حصہ ذخیرہ کرنے کی نئی سہولت (اسٹوریج فیسلٹی) کی تعمیر، بایوماس اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد عزیز غلام حسین نے کہا، ”ہمیں ان منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور اپنی ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ان فنڈز کی ضرورت ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں تیزی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق 2026 میں اب تک 10 آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں، جس سے یہ سال ملک کی تاریخ میں آئی پی اوز کے اعتبار سے مصروف ترین سال بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں ابتدائی عوامی حصص کی فروخت کی سرگرمیوں میں 2024 سے نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی، جو 2026 میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ نئی لسٹنگز نے عمومی طور پر مارکیٹ میں آنے کے بعد مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 2026 میں آئی پی اوز کی یہ تیز رفتار سرگرمی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بہتر ہوتی معاشی صورتحال، سرمایہ کاروں کے مثبت اعتماد، مارکیٹ میں وافر لیکویڈیٹی اور سیاسی استحکام کے باعث برقرار ہے، جنہوں نے ایکویٹی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بڑے کوکنگ آئل برانڈز میں شمار ہونے والے سویا سپریم کی تیار کنندہ کمپنی رواں ماہ (جولائی) اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کے لیے ابتدائی عوامی حصص کی فروخت (آئی پی او) لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بات بلومبرگ نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں بتائی  ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایگرو پروسیسرز اینڈ ایٹموسفیرک گیسز (اے پی اے جی)، جو سویا سپریم کی مالک کمپنی ہے، آئی پی او کے ذریعے 2.6 ارب روپے تک جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد عزیز غلام حسین نے اس کی تصدیق کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حاصل ہونے والی رقم کا تقریباً 40 فیصد ریفائننگ کی استعداد میں ایک تہائی اضافے پر خرچ کیا جائے گا، جس کے بعد سالانہ پیداواری صلاحیت بڑھ کر ایک لاکھ 20 ہزار ٹن ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ رقم کا ایک بڑا حصہ ذخیرہ کرنے کی نئی سہولت (اسٹوریج فیسلٹی) کی تعمیر، بایوماس اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔</p>
<p>احمد عزیز غلام حسین نے کہا، ”ہمیں ان منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور اپنی ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ان فنڈز کی ضرورت ہے۔“</p>
<p>یہ آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں تیزی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق 2026 میں اب تک 10 آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں، جس سے یہ سال ملک کی تاریخ میں آئی پی اوز کے اعتبار سے مصروف ترین سال بن گیا ہے۔</p>
<p>پی ایس ایکس میں ابتدائی عوامی حصص کی فروخت کی سرگرمیوں میں 2024 سے نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی، جو 2026 میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ نئی لسٹنگز نے عمومی طور پر مارکیٹ میں آنے کے بعد مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 2026 میں آئی پی اوز کی یہ تیز رفتار سرگرمی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بہتر ہوتی معاشی صورتحال، سرمایہ کاروں کے مثبت اعتماد، مارکیٹ میں وافر لیکویڈیٹی اور سیاسی استحکام کے باعث برقرار ہے، جنہوں نے ایکویٹی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288662</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 17:28:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13172220b75bc5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13172220b75bc5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کے نئے سی ای او تیوولڈے گیبریمریم کے بارے میں 5 اہم باتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے ایتھوپین ائرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو تیوولڈے گیبریمریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) منتخب کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئے مالکان کی اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کریں گے جس کا مقصد پی آئی اے کی آپریشنل کارکردگی بحال کرنا اور اسے علاقائی و بین الاقوامی ایوی ایشن مارکیٹوں میں مزید مضبوط مقام دلانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم ٹیسفائے کون ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 1985 میں ایتھوپین ایئرلائنز میں شمولیت اختیار کی اور کارگو ڈویژن میں مختلف عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے کارگو ٹریفک ہینڈلنگ کے منیجر کے منصب تک پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے بھارت، سعودی عرب اور امریکہ میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2004 میں انہیں ایگزیکٹو آفیسر مارکیٹنگ اینڈ سیلز اور 2006 میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) مقرر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جنوری 2011 سے انہوں نے ایتھوپین ایئرلائنز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ اس دوران وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے معاشیات میں بیچلر (بی اے) اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جبکہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہیں متعدد ممتاز اور باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیوولڈے گیبریمریم کو ایتھوپین ایئرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بنانے اور ادیس ابابا کو ایک اہم علاقائی و بین الاقوامی فضائی مرکز (ایوی ایشن ہب) کے طور پر مستحکم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی تقرری پی آئی اے کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عمل میں آئی جس کے تحت شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کی تمام شرائط پوری ہونے کے بعد انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے ایتھوپین ائرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو تیوولڈے گیبریمریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) منتخب کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئے مالکان کی اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کریں گے جس کا مقصد پی آئی اے کی آپریشنل کارکردگی بحال کرنا اور اسے علاقائی و بین الاقوامی ایوی ایشن مارکیٹوں میں مزید مضبوط مقام دلانا ہے۔</p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم ٹیسفائے کون ہیں؟</p>
<p>انہوں نے 1985 میں ایتھوپین ایئرلائنز میں شمولیت اختیار کی اور کارگو ڈویژن میں مختلف عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے کارگو ٹریفک ہینڈلنگ کے منیجر کے منصب تک پہنچے۔</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے بھارت، سعودی عرب اور امریکہ میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2004 میں انہیں ایگزیکٹو آفیسر مارکیٹنگ اینڈ سیلز اور 2006 میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) مقرر کیا گیا۔</p>
<p>یکم جنوری 2011 سے انہوں نے ایتھوپین ایئرلائنز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ اس دوران وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔</p>
<p>انہوں نے معاشیات میں بیچلر (بی اے) اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جبکہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہیں متعدد ممتاز اور باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا۔</p>
<p>تیوولڈے گیبریمریم کو ایتھوپین ایئرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بنانے اور ادیس ابابا کو ایک اہم علاقائی و بین الاقوامی فضائی مرکز (ایوی ایشن ہب) کے طور پر مستحکم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کی تقرری پی آئی اے کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عمل میں آئی جس کے تحت شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کی تمام شرائط پوری ہونے کے بعد انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288659</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 16:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13155649b7d871c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13155649b7d871c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میزان بینک نے جی ایچ ٹی اے پروگرام میں 2 ارب روپے کے قرضے تقسیم کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میزان بینک نے حکومتِ پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ منصوبے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام  گھر ہو تو اپنا (جی ایچ ٹی اے) کے تحت 2 ارب روپے کی قرضہ فراہمی مکمل کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے ماہانہ ہاؤسنگ فنانس کی مد میں بھی اب تک کی سب سے زیادہ 1.3 ارب روپے کی قرضہ فراہمی ریکارڈ کی جو اس کی شریعہ کمپلائنٹ (اسلامی اصولوں کے مطابق) ہاؤسنگ فنانسنگ سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس شعبے میں اس کی قیادت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سستے ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان نے میرا گھر  میرا آشیانہ کے نام سے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت بینک 20 سال تک کی مدت کے لیے فکسڈ ٹرم کی بنیاد پر 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کا قرض فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ یہ کامیابیاں حکومت کے سستے ہاؤسنگ پروگرام اور مجموعی ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کی معاونت کے لیے میزان بینک کے مسلسل عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک اخلاقی اصولوں اور شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سلوشنز کے ذریعے افراد اور خاندانوں کو اپنے گھر کے خواب کی تکمیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میزان بینک نے حکومتِ پاکستان کے فلیگ شپ سستے ہاؤسنگ منصوبے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام  گھر ہو تو اپنا (جی ایچ ٹی اے) کے تحت 2 ارب روپے کی قرضہ فراہمی مکمل کرنے کا سنگِ میل عبور کرلیا۔</strong></p>
<p>بینک نے ماہانہ ہاؤسنگ فنانس کی مد میں بھی اب تک کی سب سے زیادہ 1.3 ارب روپے کی قرضہ فراہمی ریکارڈ کی جو اس کی شریعہ کمپلائنٹ (اسلامی اصولوں کے مطابق) ہاؤسنگ فنانسنگ سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس شعبے میں اس کی قیادت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔</p>
<p>سستے ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان نے میرا گھر  میرا آشیانہ کے نام سے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔</p>
<p>سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت بینک 20 سال تک کی مدت کے لیے فکسڈ ٹرم کی بنیاد پر 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کا قرض فراہم کررہے ہیں۔</p>
<p>میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہا کہ یہ کامیابیاں حکومت کے سستے ہاؤسنگ پروگرام اور مجموعی ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کی معاونت کے لیے میزان بینک کے مسلسل عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک اخلاقی اصولوں اور شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سلوشنز کے ذریعے افراد اور خاندانوں کو اپنے گھر کے خواب کی تکمیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288655</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 15:14:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13150400b057a66.webp" type="image/webp" medium="image" height="367" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13150400b057a66.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی فی تولہ قیمت میں 3800 روپے کی کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288656/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں پیر کو چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 38 ڈالر کی کمی سے 4073 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 3800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 29 ہزار 736 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3258 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 68 ہزار 429 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ہفتہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 1100 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 33 ہزار 536 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 123 روپے کی کمی سے 6339 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں پیر کو چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 38 ڈالر کی کمی سے 4073 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 3800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 29 ہزار 736 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3258 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 68 ہزار 429 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ ہفتہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 1100 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 33 ہزار 536 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 123 روپے کی کمی سے 6339 روپے ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288656</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 15:28:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131524015a3f524.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131524015a3f524.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
