<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 22:58:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 22:58:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرمایہ کاری کا اعتماد، پختہ عزم کا اب بھی انتظار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291949/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سرمایہ کاری ملے جلے اشارے دے رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی مہینوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بہتری آئی ہے، منافع کی وطن واپسی معمول کی جانب آ رہی ہے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگز بہتر ہوئی ہیں اور گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پائپ لائن بھی زیادہ سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ اب بھی سرمایہ کاری کی بحالی سے بہت دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں خالص ایف ڈی آئی بڑھ کر 315.9 ملین ڈالر ہوگئی، جس کے بعد مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی آمد 494.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.1 فیصد زیادہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ ایک کمزور مالی سال 2026 کے بعد ہوا ہے، جب ایف ڈی آئی کم ہو کر صرف تقریباً 1.6 سے 1.7 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ صرف دو بہتر مہینے مسلسل سرمایہ کاری کے دور کی نشاندہی کیلئے کافی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی صورتحال بھی یکساں نہیں ہے۔ مالیاتی کاروبار اور بجلی کے شعبوں نے سرمایہ کاری کا خاصا حصہ حاصل کیا، جبکہ تجارت اور الیکٹرانکس میں بھی بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ہی کان کنی، مواصلات اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کا اخراج دیکھا گیا۔ یہ اب بھی ایک محدود اور منتخب نوعیت کی صورتحال ہے۔ ابھی تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کی جانب منتقل ہونے کے شواہد بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع کی وطن واپسی ایک اور اشارہ فراہم کرتی ہے۔ مالی سال 2023 کے بحران کے دوران منافع اور ڈیویڈنڈ کی ادائیگیوں میں تاخیر کا سبب بننے والی زرمبادلہ پابندیاں اب نرم ہوگئی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ایک اہم تشویش دور ہوگئی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 557.6 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13.4 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن منافع کی آسان وطن واپسی صرف اس سہولت کو بحال کرتی ہے جو سرمایہ کاروں کو دستیاب ہونی چاہیے تھی۔ یہ اپنے طور پر نیا سرمایہ نہیں لاتی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 میں منافع کی بیرون ملک منتقلی نئی ایف ڈی آئی سے زیادہ رہی۔ موجودہ سرمایہ کار رقم باہر لے جانے میں کامیاب رہے، جبکہ نسبتاً کم نیا سرمایہ ملک میں آیا۔ لہٰذا بڑا سوال یہ نہیں کہ سرمایہ کار منافع واپس لے سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا انہیں دوبارہ سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے کافی وجوہات نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری ماحول اس ہچکچاہٹ کی وضاحت میں مدد کرتا ہے۔ ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، ضابطہ جاتی غیر یقینی، تعمیل کے بلند اخراجات اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات رسمی کاروباروں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کا ورکنگ کیپیٹل بھی پھنسا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معمولی نوعیت کی مشکلات نہیں ہیں۔ یہ براہ راست نئی سرمایہ کاری کی بنیاد کو متاثر کرتی ہیں اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلئے حکومت کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین فیلڈ سرمایہ کاری کی پائپ لائن بھی اسی طرح کی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ میں اعلانات کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اعلانات سرمایہ کاری نہیں ہوتے۔ مفاہمتی یادداشتیں، منظوریوں اور تجاویز کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ فنانسنگ، تعمیرات اور حقیقی سرمایہ کاری تک پہنچیں۔ جب تک مزید منصوبے اس مرحلے تک نہیں پہنچتے، پائپ لائن پختہ اعتماد کے بجائے دلچسپی کی علامت ہی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خودمختار سطح پر صورتحال زیادہ واضح طور پر بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری آئی ہے، بیرونی مالیاتی ذخائر مضبوط ہوئے ہیں اور ملک دوبارہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آچکا ہے۔ اس سے خودمختار خطرات میں کمی آتی ہے، لیکن اسے نجی سرمایہ کاری کی بحالی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خودمختار بانڈ خریدنا اور ایک فیکٹری لگانا دو بالکل مختلف فیصلے ہیں۔ بانڈ سرمایہ کار بنیادی طور پر منافع کی شرح اور رقم کی واپسی کے خطرے کو دیکھتا ہے۔ ایک طویل مدتی سرمایہ کار کو توانائی کے اخراجات، ٹیکس، ضوابط، معاہدوں کے نفاذ، منافع کی وطن واپسی اور اس بات پر بھی غور کرنا ہوتا ہے کہ آیا قواعد وقت کے ساتھ مستحکم رہیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پیمانوں پر پاکستان کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تضاد واضح ہے۔ ملک نیا غیر ملکی سرمایہ چاہتا ہے، لیکن موجودہ سرمایہ کاروں کو اب بھی ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، بلند اخراجات اور غیر یقینی قواعد کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ایف ڈی آئی میں حالیہ بہتری کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار دوبارہ پاکستان پر نظر ڈال رہے ہیں اور کچھ منتخب شعبوں میں سرمایہ بھی لگا رہے ہیں۔ منافع کی وطن واپسی آسان ہوئی ہے اور بحران کے برسوں کے مقابلے میں خودمختار خطرہ بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ اب بھی ایک کم سطح کا معیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل امتحان یہ ہے کہ آیا سرمایہ کار بڑے، طویل مدتی اور ناقابلِ واپسی نوعیت کے وعدے کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی کے شواہد بہت کم ہیں۔ فی الحال اشارہ بڑھتے ہوئے اعتماد کے بجائے اس بات کا زیادہ ہے کہ سرمایہ کار اپنے اختیارات کھلے رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سرمایہ کاری ملے جلے اشارے دے رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی مہینوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بہتری آئی ہے، منافع کی وطن واپسی معمول کی جانب آ رہی ہے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگز بہتر ہوئی ہیں اور گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پائپ لائن بھی زیادہ سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>لیکن یہ اب بھی سرمایہ کاری کی بحالی سے بہت دور ہے۔</p>
<p>اگست میں خالص ایف ڈی آئی بڑھ کر 315.9 ملین ڈالر ہوگئی، جس کے بعد مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی آمد 494.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.1 فیصد زیادہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ ایک کمزور مالی سال 2026 کے بعد ہوا ہے، جب ایف ڈی آئی کم ہو کر صرف تقریباً 1.6 سے 1.7 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ صرف دو بہتر مہینے مسلسل سرمایہ کاری کے دور کی نشاندہی کیلئے کافی نہیں ہیں۔</p>
<p>شعبہ جاتی صورتحال بھی یکساں نہیں ہے۔ مالیاتی کاروبار اور بجلی کے شعبوں نے سرمایہ کاری کا خاصا حصہ حاصل کیا، جبکہ تجارت اور الیکٹرانکس میں بھی بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ہی کان کنی، مواصلات اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کا اخراج دیکھا گیا۔ یہ اب بھی ایک محدود اور منتخب نوعیت کی صورتحال ہے۔ ابھی تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کی جانب منتقل ہونے کے شواہد بہت کم ہیں۔</p>
<p>منافع کی وطن واپسی ایک اور اشارہ فراہم کرتی ہے۔ مالی سال 2023 کے بحران کے دوران منافع اور ڈیویڈنڈ کی ادائیگیوں میں تاخیر کا سبب بننے والی زرمبادلہ پابندیاں اب نرم ہوگئی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ایک اہم تشویش دور ہوگئی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 557.6 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13.4 فیصد کم ہے۔</p>
<p>لیکن منافع کی آسان وطن واپسی صرف اس سہولت کو بحال کرتی ہے جو سرمایہ کاروں کو دستیاب ہونی چاہیے تھی۔ یہ اپنے طور پر نیا سرمایہ نہیں لاتی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 میں منافع کی بیرون ملک منتقلی نئی ایف ڈی آئی سے زیادہ رہی۔ موجودہ سرمایہ کار رقم باہر لے جانے میں کامیاب رہے، جبکہ نسبتاً کم نیا سرمایہ ملک میں آیا۔ لہٰذا بڑا سوال یہ نہیں کہ سرمایہ کار منافع واپس لے سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا انہیں دوبارہ سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے کافی وجوہات نظر آتی ہیں۔</p>
<p>کاروباری ماحول اس ہچکچاہٹ کی وضاحت میں مدد کرتا ہے۔ ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، ضابطہ جاتی غیر یقینی، تعمیل کے بلند اخراجات اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات رسمی کاروباروں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کا ورکنگ کیپیٹل بھی پھنسا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ معمولی نوعیت کی مشکلات نہیں ہیں۔ یہ براہ راست نئی سرمایہ کاری کی بنیاد کو متاثر کرتی ہیں اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلئے حکومت کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔</p>
<p>گرین فیلڈ سرمایہ کاری کی پائپ لائن بھی اسی طرح کی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ میں اعلانات کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اعلانات سرمایہ کاری نہیں ہوتے۔ مفاہمتی یادداشتیں، منظوریوں اور تجاویز کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ فنانسنگ، تعمیرات اور حقیقی سرمایہ کاری تک پہنچیں۔ جب تک مزید منصوبے اس مرحلے تک نہیں پہنچتے، پائپ لائن پختہ اعتماد کے بجائے دلچسپی کی علامت ہی رہتی ہے۔</p>
<p>خودمختار سطح پر صورتحال زیادہ واضح طور پر بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری آئی ہے، بیرونی مالیاتی ذخائر مضبوط ہوئے ہیں اور ملک دوبارہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آچکا ہے۔ اس سے خودمختار خطرات میں کمی آتی ہے، لیکن اسے نجی سرمایہ کاری کی بحالی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔</p>
<p>خودمختار بانڈ خریدنا اور ایک فیکٹری لگانا دو بالکل مختلف فیصلے ہیں۔ بانڈ سرمایہ کار بنیادی طور پر منافع کی شرح اور رقم کی واپسی کے خطرے کو دیکھتا ہے۔ ایک طویل مدتی سرمایہ کار کو توانائی کے اخراجات، ٹیکس، ضوابط، معاہدوں کے نفاذ، منافع کی وطن واپسی اور اس بات پر بھی غور کرنا ہوتا ہے کہ آیا قواعد وقت کے ساتھ مستحکم رہیں گے یا نہیں۔</p>
<p>ان پیمانوں پر پاکستان کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تضاد واضح ہے۔ ملک نیا غیر ملکی سرمایہ چاہتا ہے، لیکن موجودہ سرمایہ کاروں کو اب بھی ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، بلند اخراجات اور غیر یقینی قواعد کا سامنا ہے۔</p>
<p>لہٰذا ایف ڈی آئی میں حالیہ بہتری کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار دوبارہ پاکستان پر نظر ڈال رہے ہیں اور کچھ منتخب شعبوں میں سرمایہ بھی لگا رہے ہیں۔ منافع کی وطن واپسی آسان ہوئی ہے اور بحران کے برسوں کے مقابلے میں خودمختار خطرہ بھی کم ہے۔</p>
<p>لیکن یہ اب بھی ایک کم سطح کا معیار ہے۔</p>
<p>اصل امتحان یہ ہے کہ آیا سرمایہ کار بڑے، طویل مدتی اور ناقابلِ واپسی نوعیت کے وعدے کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔</p>
<p>اب تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی کے شواہد بہت کم ہیں۔ فی الحال اشارہ بڑھتے ہوئے اعتماد کے بجائے اس بات کا زیادہ ہے کہ سرمایہ کار اپنے اختیارات کھلے رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291949</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:14:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011012530a6e0e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011012530a6e0e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگے تیل کی قیمتوں میں استحکام بڑا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی منڈیوں کا جغرافیائی سیاست کے ساتھ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ تعلق رہا ہے۔ کسی اہم خبر پر قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں، تاجر انتظار کرتے ہیں کہ آیا واقعی بیرل مارکیٹ سے غائب ہوتے ہیں یا نہیں، اور خطرے کی اضافی قیمت عموماً وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ تاہم اس بار زیادہ تشویشناک اشارہ کسی اور سمت سے آرہا ہے: منڈی اب بحران کے دورانیے کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو ایران جنگ سے قبل تقریباً 72 ڈالر کی سطح سے نمایاں اضافہ ہے۔ فوری محرک وہی ہے جو پہلے بھی دیکھا گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان فوری مفاہمت کی امیدیں ایک بار پھر حقیقت سے ٹکرا گئی ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تہران کی تازہ سات روزہ تجویز مسترد کردی ہے۔ تاہم منڈی کا ردعمل اب اگلے میزائل کے بجائے اس بات پر زیادہ مرکوز ہوتا جارہا ہے کہ رسد میں خلل کتنے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس میں ایک اہم پہلو بھی ہے۔ فزیکل رسد قیمتوں کے ساتھ اسی سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مرمت کے بعد ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے، جبکہ پائپ لائن کے ذریعے اس وقت تقریباً 2.65 ملین بیرل یومیہ تیل منتقل ہورہا ہے اور اس میں مزید بحالی کی گنجائش موجود ہے۔ نتیجتاً مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 80 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظری طور پر یہ خام تیل کی قیمتوں کے لیے مندی کا باعث ہونا چاہیے۔ لیکن ایسا ہونا کافی ثابت نہیں ہورہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ منڈی اب اس فرق کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے کہ تکنیکی طور پر کتنی رسد منتقل کی جاسکتی ہے اور قابلِ اعتماد طریقے سے کتنی رسد منتقل ہوسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز اب بھی محدود ہے، متبادل راستے زیادہ مہنگے اور خطرات سے دوچار ہیں، ٹینکروں کی دستیابی اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ بحیرہ احمر بھی کسی خطرے سے پاک متبادل نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، تیل کے بیرل برآمد ہونے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، لیکن بہت زیادہ جغرافیائی سیاسی اور لاجسٹک لاگت کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی فزیکل قلت کو پیداوار بحال ہونے کے بعد دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن طویل عرصے تک برقرار رہنے والے خطرے کے پریمیم کو ختم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ جہاز رانی سے متعلق فیصلوں، ذخائر، انشورنس اور مستقبل کے معاہدوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ فیوچرز کی قیمتوں کی ساخت سے ملنے والا اشارہ خاص طور پر اہم ہے۔ ڈوئچے بینک کے مطابق دسمبر 2027 کے برینٹ فیوچرز نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب موجودہ قیمتوں میں اضافے کو محض قلیل مدتی معاملہ نہیں سمجھ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شاید بحران کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ کتنا تیل ضائع ہورہا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ منڈی کو اس سطح کی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ کتنے عرصے تک کام کرنا پڑے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ فرق 107 ڈالر کی سرخی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی طور پر 100 ڈالر کی سطح کی جانب قیمتوں کا جانا تکلیف دہ ضرور ہے لیکن اسے سنبھالا جاسکتا ہے۔ تاہم 100 ڈالر سے زائد کی قیمت کا مسلسل برقرار رہنا درآمدی بل، مہنگائی، نقل و حمل کے اخراجات اور بیرونی کھاتے پر زیادہ طویل عرصے تک اثر ڈالے گا۔ اس سے حکومت کے پیٹرولیم لیوی سے متعلق اہداف بھی مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا صرف ایک محدود حصہ ہی صارفین تک منتقل کیا جاسکتا ہے، اس سے پہلے کہ مقامی قیمتیں سیاسی اور معاشی طور پر برداشت کرنا مشکل ہوجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس صورتحال میں 2022 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر حفاظتی گنجائش کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ زیادہ بہتر حالت میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ مضبوط ہیں، مقامی طلب نسبتاً کم ہے اور روپے کی قدر بھی زیادہ مستحکم رہی ہے۔ لیکن یہ عوامل صدمے کو جذب کرنے والے حفاظتی وسائل ہیں، صدمے کو ختم کرنے والے ذرائع نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ایک اور ناخوشگوار نکتہ بھی ہے۔ منڈی کو بے چین رہنے کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر بند ہونا ضروری نہیں۔ صرف یہ کافی ہے کہ تاجروں کو یقین ہو کہ یہ آبی گزرگاہ اتنے عرصے تک ناقابلِ اعتبار رہ سکتی ہے کہ جہاز رانی، انشورنس اور ذخیرہ کاری کے اخراجات بلند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے آج خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی، اگر برقرار رہتی ہے، کو معمول کی صورتحال کی واپسی سمجھنا نہیں چاہیے۔ منڈی دو متضاد امکانات کے درمیان جھول رہی ہے: ایک جانب فزیکل رسد کے بہاؤ میں بحالی ہے اور دوسری جانب سفارتی کوششوں کا تعطل۔ جب تک ان میں سے کوئی ایک امکان فیصلہ کن طور پر غالب نہیں آجاتا، تیل اگلی بڑی خبر کے رحم و کرم پر رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے فوری مسئلہ اس لیے یہ نہیں ہے کہ تیل کی قیمت 120 ڈالر تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا 100 ڈالر سے زائد کا تیل نئی معمول کی سطح بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی منڈیوں کا جغرافیائی سیاست کے ساتھ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ تعلق رہا ہے۔ کسی اہم خبر پر قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں، تاجر انتظار کرتے ہیں کہ آیا واقعی بیرل مارکیٹ سے غائب ہوتے ہیں یا نہیں، اور خطرے کی اضافی قیمت عموماً وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ تاہم اس بار زیادہ تشویشناک اشارہ کسی اور سمت سے آرہا ہے: منڈی اب بحران کے دورانیے کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو ایران جنگ سے قبل تقریباً 72 ڈالر کی سطح سے نمایاں اضافہ ہے۔ فوری محرک وہی ہے جو پہلے بھی دیکھا گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان فوری مفاہمت کی امیدیں ایک بار پھر حقیقت سے ٹکرا گئی ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تہران کی تازہ سات روزہ تجویز مسترد کردی ہے۔ تاہم منڈی کا ردعمل اب اگلے میزائل کے بجائے اس بات پر زیادہ مرکوز ہوتا جارہا ہے کہ رسد میں خلل کتنے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس میں ایک اہم پہلو بھی ہے۔ فزیکل رسد قیمتوں کے ساتھ اسی سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مرمت کے بعد ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے، جبکہ پائپ لائن کے ذریعے اس وقت تقریباً 2.65 ملین بیرل یومیہ تیل منتقل ہورہا ہے اور اس میں مزید بحالی کی گنجائش موجود ہے۔ نتیجتاً مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 80 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہیں۔</p>
<p>نظری طور پر یہ خام تیل کی قیمتوں کے لیے مندی کا باعث ہونا چاہیے۔ لیکن ایسا ہونا کافی ثابت نہیں ہورہا۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ منڈی اب اس فرق کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے کہ تکنیکی طور پر کتنی رسد منتقل کی جاسکتی ہے اور قابلِ اعتماد طریقے سے کتنی رسد منتقل ہوسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز اب بھی محدود ہے، متبادل راستے زیادہ مہنگے اور خطرات سے دوچار ہیں، ٹینکروں کی دستیابی اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ بحیرہ احمر بھی کسی خطرے سے پاک متبادل نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، تیل کے بیرل برآمد ہونے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، لیکن بہت زیادہ جغرافیائی سیاسی اور لاجسٹک لاگت کے ساتھ۔</p>
<p>یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>عارضی فزیکل قلت کو پیداوار بحال ہونے کے بعد دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن طویل عرصے تک برقرار رہنے والے خطرے کے پریمیم کو ختم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ جہاز رانی سے متعلق فیصلوں، ذخائر، انشورنس اور مستقبل کے معاہدوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ فیوچرز کی قیمتوں کی ساخت سے ملنے والا اشارہ خاص طور پر اہم ہے۔ ڈوئچے بینک کے مطابق دسمبر 2027 کے برینٹ فیوچرز نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب موجودہ قیمتوں میں اضافے کو محض قلیل مدتی معاملہ نہیں سمجھ رہے۔</p>
<p>یہ شاید بحران کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ کتنا تیل ضائع ہورہا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ منڈی کو اس سطح کی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ کتنے عرصے تک کام کرنا پڑے گا؟</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ فرق 107 ڈالر کی سرخی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>عارضی طور پر 100 ڈالر کی سطح کی جانب قیمتوں کا جانا تکلیف دہ ضرور ہے لیکن اسے سنبھالا جاسکتا ہے۔ تاہم 100 ڈالر سے زائد کی قیمت کا مسلسل برقرار رہنا درآمدی بل، مہنگائی، نقل و حمل کے اخراجات اور بیرونی کھاتے پر زیادہ طویل عرصے تک اثر ڈالے گا۔ اس سے حکومت کے پیٹرولیم لیوی سے متعلق اہداف بھی مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا صرف ایک محدود حصہ ہی صارفین تک منتقل کیا جاسکتا ہے، اس سے پہلے کہ مقامی قیمتیں سیاسی اور معاشی طور پر برداشت کرنا مشکل ہوجائیں۔</p>
<p>پاکستان اس صورتحال میں 2022 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر حفاظتی گنجائش کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ زیادہ بہتر حالت میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ مضبوط ہیں، مقامی طلب نسبتاً کم ہے اور روپے کی قدر بھی زیادہ مستحکم رہی ہے۔ لیکن یہ عوامل صدمے کو جذب کرنے والے حفاظتی وسائل ہیں، صدمے کو ختم کرنے والے ذرائع نہیں۔</p>
<p>اور ایک اور ناخوشگوار نکتہ بھی ہے۔ منڈی کو بے چین رہنے کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر بند ہونا ضروری نہیں۔ صرف یہ کافی ہے کہ تاجروں کو یقین ہو کہ یہ آبی گزرگاہ اتنے عرصے تک ناقابلِ اعتبار رہ سکتی ہے کہ جہاز رانی، انشورنس اور ذخیرہ کاری کے اخراجات بلند رہیں۔</p>
<p>اسی لیے آج خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی، اگر برقرار رہتی ہے، کو معمول کی صورتحال کی واپسی سمجھنا نہیں چاہیے۔ منڈی دو متضاد امکانات کے درمیان جھول رہی ہے: ایک جانب فزیکل رسد کے بہاؤ میں بحالی ہے اور دوسری جانب سفارتی کوششوں کا تعطل۔ جب تک ان میں سے کوئی ایک امکان فیصلہ کن طور پر غالب نہیں آجاتا، تیل اگلی بڑی خبر کے رحم و کرم پر رہے گا۔</p>
<p>پاکستان کے لیے فوری مسئلہ اس لیے یہ نہیں ہے کہ تیل کی قیمت 120 ڈالر تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا 100 ڈالر سے زائد کا تیل نئی معمول کی سطح بن جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291892</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 10:07:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30100543c10663c.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30100543c10663c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس او، کمزور آخری سہ ماہی نے نتائج متاثر کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291838/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: پی ایس او) کی مالی سال 2026 کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ کمپنی نے ایک غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور سال کے دوران آپریشنل طور پر لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم ایندھن کی کم فروخت، ایل این جی کی سرگرمیوں میں کمی اور آخری سہ ماہی میں بھاری انوینٹری نقصانات نے منافع کو کم کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالص فروخت 3 فیصد کم ہوکر 3.05 ٹریلین روپے رہی، جس کی وجہ موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی کم فروخت اور ایل این جی کی کم شراکت تھی۔ پی ایس او کی موٹر اسپرٹ اور  ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب تقریباً 5 فیصد اور 6 فیصد کم رہی، جبکہ کمپنی کا مارکیٹ شیئر کم ہوکر تقریباً 42 سے 43 فیصد رہ گیا، کیونکہ چھوٹی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم فروخت کے باوجود مجموعی منافع 3 فیصد بڑھا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 میں مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 3.07 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.28 فیصد ہوگیا۔ تاہم یہ بہتری حتمی منافع تک منتقل نہ ہوسکی، اور خالص منافع کا مارجن 0.66 فیصد سے کم ہوکر 0.49 فیصد رہ گیا، جبکہ ٹیکس کے بعد منافع سالانہ بنیادوں پر 28 فیصد کم ہوگیا۔ مالی اخراجات میں بھی 24 فیصد کمی ہوئی، جس میں کم شرح سود اور لیکویڈیٹی میں کچھ بہتری نے مدد دی۔ مالی سال 2026 کے اختتام تک تجارتی وصولیاں بھی کم ہوئیں، جس سے پی ایس او کو طویل عرصے سے درپیش ورکنگ کیپیٹل کے دباؤ میں کچھ کمی آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/2906201828bc1b4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/2906201828bc1b4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا نقصان چوتھی سہ ماہی میں ہوا۔ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باعث انوینٹری کو ہونے والے بڑے نقصانات کے نتیجے میں پی ایس او نے مجموعی نقصان ریکارڈ کیا۔ سہ ماہی کا اختتام تقریباً 23 ارب روپے کے خالص نقصان پر ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 5.6 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ایل این جی کی سرگرمیاں بھی نمایاں طور پر کمزور ہوئیں، مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں صرف 6 کارگو نمٹائے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 28 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً پورے سال کا ٹیکس کے بعد منافع سالانہ بنیادوں پر 28 فیصد کم ہوگیا۔ آمدنی میں کمی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کیونکہ ٹیکس سے قبل منافع دراصل سالانہ بنیادوں پر معمولی طور پر زیادہ رہا؛ تاہم زیادہ ٹیکس کے بوجھ نے حتمی منافع کو متاثر کیا اور معمولی آمدنی میں اضافے کو سال کے لیے کمی میں تبدیل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشنل اعتبار سے پی ایس او نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی نے ایک مشکل جغرافیائی سیاسی دور کے دوران ایندھن کی فراہمی برقرار رکھی اور اپنے ریٹیل اور نان فیول کاروبار کو وسعت دینا جاری رکھا۔ تاہم، زیادہ بڑا خدشہ کمپنی کے بنیادی ایندھن کے کاروبار میں مارکیٹ شیئر کا کم ہونا ہے، کیونکہ پی ایس او کی فروخت میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2026 پی ایس او کے لیے آپریشنل لچک کا سال رہا۔ کم مالی اخراجات اور وصولیوں میں بہتری مثبت پہلو رہے، تاہم فروخت میں کمی، مارکیٹ شیئر میں کمی، ایل این جی کی کمزور سرگرمیوں اور چوتھی سہ ماہی میں انوینٹری نقصانات نے ان فوائد کو پس پشت ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس او کے لیے مالی سال 2027 مالی سال 2026 کے مقابلے میں بہتر ہوسکتا ہے، اگر ایندھن کی فروخت بحال ہوتی ہے، انوینٹری نقصانات معمول پر آتے ہیں اور مالی اخراجات میں مزید کمی جاری رہتی ہے۔ کم شرح سود اور وصولیوں میں بہتری سے حتمی منافع کو مزید سہارا مل سکتا ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز میں کسی بھی نظرثانی اور گردشی قرضے کے حوالے سے پیش رفت سے نقد بہاؤ مضبوط ہوگا۔ سب سے بڑا آپریشنل کام مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبے کے لیے منظرنامہ محتاط طور پر مثبت ہے۔ مالی سال 2026 میں صنعت کی مجموعی فروخت بڑی حد تک مستحکم رہی، تاہم مالی سال 2027 میں نقل و حرکت، صنعتی سرگرمیوں اور معاشی نمو میں بہتری طلب کو سہارا دے سکتی ہے۔ کم مالی اخراجات بدستور معاون رہنے چاہئیں، جبکہ ریگولیٹڈ مارجنز میں اضافہ منافع کے معیار کو بہتر بنائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: پی ایس او) کی مالی سال 2026 کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ کمپنی نے ایک غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور سال کے دوران آپریشنل طور پر لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم ایندھن کی کم فروخت، ایل این جی کی سرگرمیوں میں کمی اور آخری سہ ماہی میں بھاری انوینٹری نقصانات نے منافع کو کم کردیا۔</strong></p>
<p>خالص فروخت 3 فیصد کم ہوکر 3.05 ٹریلین روپے رہی، جس کی وجہ موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی کم فروخت اور ایل این جی کی کم شراکت تھی۔ پی ایس او کی موٹر اسپرٹ اور  ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب تقریباً 5 فیصد اور 6 فیصد کم رہی، جبکہ کمپنی کا مارکیٹ شیئر کم ہوکر تقریباً 42 سے 43 فیصد رہ گیا، کیونکہ چھوٹی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی۔</p>
<p>کم فروخت کے باوجود مجموعی منافع 3 فیصد بڑھا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 میں مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 3.07 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.28 فیصد ہوگیا۔ تاہم یہ بہتری حتمی منافع تک منتقل نہ ہوسکی، اور خالص منافع کا مارجن 0.66 فیصد سے کم ہوکر 0.49 فیصد رہ گیا، جبکہ ٹیکس کے بعد منافع سالانہ بنیادوں پر 28 فیصد کم ہوگیا۔ مالی اخراجات میں بھی 24 فیصد کمی ہوئی، جس میں کم شرح سود اور لیکویڈیٹی میں کچھ بہتری نے مدد دی۔ مالی سال 2026 کے اختتام تک تجارتی وصولیاں بھی کم ہوئیں، جس سے پی ایس او کو طویل عرصے سے درپیش ورکنگ کیپیٹل کے دباؤ میں کچھ کمی آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/2906201828bc1b4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/2906201828bc1b4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سب سے بڑا نقصان چوتھی سہ ماہی میں ہوا۔ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باعث انوینٹری کو ہونے والے بڑے نقصانات کے نتیجے میں پی ایس او نے مجموعی نقصان ریکارڈ کیا۔ سہ ماہی کا اختتام تقریباً 23 ارب روپے کے خالص نقصان پر ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 5.6 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ایل این جی کی سرگرمیاں بھی نمایاں طور پر کمزور ہوئیں، مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں صرف 6 کارگو نمٹائے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 28 تھی۔</p>
<p>نتیجتاً پورے سال کا ٹیکس کے بعد منافع سالانہ بنیادوں پر 28 فیصد کم ہوگیا۔ آمدنی میں کمی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کیونکہ ٹیکس سے قبل منافع دراصل سالانہ بنیادوں پر معمولی طور پر زیادہ رہا؛ تاہم زیادہ ٹیکس کے بوجھ نے حتمی منافع کو متاثر کیا اور معمولی آمدنی میں اضافے کو سال کے لیے کمی میں تبدیل کردیا۔</p>
<p>آپریشنل اعتبار سے پی ایس او نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی نے ایک مشکل جغرافیائی سیاسی دور کے دوران ایندھن کی فراہمی برقرار رکھی اور اپنے ریٹیل اور نان فیول کاروبار کو وسعت دینا جاری رکھا۔ تاہم، زیادہ بڑا خدشہ کمپنی کے بنیادی ایندھن کے کاروبار میں مارکیٹ شیئر کا کم ہونا ہے، کیونکہ پی ایس او کی فروخت میں کمی آئی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2026 پی ایس او کے لیے آپریشنل لچک کا سال رہا۔ کم مالی اخراجات اور وصولیوں میں بہتری مثبت پہلو رہے، تاہم فروخت میں کمی، مارکیٹ شیئر میں کمی، ایل این جی کی کمزور سرگرمیوں اور چوتھی سہ ماہی میں انوینٹری نقصانات نے ان فوائد کو پس پشت ڈال دیا۔</p>
<p>پی ایس او کے لیے مالی سال 2027 مالی سال 2026 کے مقابلے میں بہتر ہوسکتا ہے، اگر ایندھن کی فروخت بحال ہوتی ہے، انوینٹری نقصانات معمول پر آتے ہیں اور مالی اخراجات میں مزید کمی جاری رہتی ہے۔ کم شرح سود اور وصولیوں میں بہتری سے حتمی منافع کو مزید سہارا مل سکتا ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز میں کسی بھی نظرثانی اور گردشی قرضے کے حوالے سے پیش رفت سے نقد بہاؤ مضبوط ہوگا۔ سب سے بڑا آپریشنل کام مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔</p>
<p>آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبے کے لیے منظرنامہ محتاط طور پر مثبت ہے۔ مالی سال 2026 میں صنعت کی مجموعی فروخت بڑی حد تک مستحکم رہی، تاہم مالی سال 2027 میں نقل و حرکت، صنعتی سرگرمیوں اور معاشی نمو میں بہتری طلب کو سہارا دے سکتی ہے۔ کم مالی اخراجات بدستور معاون رہنے چاہئیں، جبکہ ریگولیٹڈ مارجنز میں اضافہ منافع کے معیار کو بہتر بنائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291838</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 09:57:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29095541d3464da.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29095541d3464da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑی صنعتوں نے بلند پیداواری بنیاد حاصل کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291789/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگرچہ بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) کی نمو جولائی میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد تک سست پڑ گئی ہے، لیکن سرخی کے یہ اعداد اس سے کہیں زیادہ اہم پیش رفت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کا ایل ایس ایم انڈیکس 119.13 تک پہنچ گیا، جو اس ماہ کے لیے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا بلند ترین انڈیکس ہے اور مالی سال 2026 کے جولائی میں ریکارڈ کیے گئے 115.62 کے سابقہ بلند ترین انڈیکس سے بھی واضح طور پر زیادہ ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اب یہ انڈیکس مالی سال 2022 کی سطح سے خاصا اوپر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی شعبہ اب صرف طویل عرصے تک جاری رہنے والی مندی کے دوران کھوئی ہوئی سطح دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے ماہ میں مجموعی ایل ایس ایم نمو میں ملبوسات کا شعبہ سب سے بڑا معاون بن کر سامنے آیا، جس میں سالانہ بنیادوں پر 22 فیصد اضافہ ہوا۔ ایل ایس ایم باسکٹ میں تقریباً 6 فیصد وزن رکھنے کے باوجود، اس شعبے نے انڈیکس میں ہونے والے مجموعی اضافے کا تقریباً دو تہائی حصہ فراہم کیا۔ نسبتاً کم وزن رکھنے والے شعبے کی جانب سے یہ ایک نمایاں حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/280405564d390da.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/280405564d390da.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے اعداد و شمار کو ریڈی میڈ گارمنٹس (آر ایم جی) کی برآمدی مقدار کے غیر معمولی طور پر مضبوط بنیادی اثر سے بھی مدد ملی۔ ماہ کے دوران برآمد کیے گئے ملبوسات 87.4 لاکھ درجن ٹکڑوں تک پہنچ گئے، جو ایک ماہ کے دوران اب تک کی بلند ترین مقدار ہے اور شعبے کی تاریخی اوسط رفتار سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ تاہم یہ رفتار اگست تک برقرار نہیں رہ سکی۔ اگست میں برآمدی مقدار دوبارہ اپنی اوسط کے قریب آ گئی، جس کے نتیجے میں مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں آر ایم جی کی برآمدی مقدار میں سالانہ بنیادوں پر 10.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ صرف اگست میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس لیے اگست کے ایل ایس ایم کے اعداد و شمار میں بھی یہ سست روی نظر آنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل کا شعبہ صنعتی بحالی کا دوسرا بڑا ستون ہے۔ جولائی میں اس شعبے نے ایل ایس ایم کی نمو میں دوسری سب سے بڑی شراکت کی، جبکہ پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 57 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اعداد و شمار کو مزید اہم بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ اضافہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ہونے والی مضبوط نمو کے اوپر ہوا ہے۔ اب یہ محض کم بنیادی سطح سے بحالی کی کہانی نہیں رہی۔ پیداوار پہلے ہی بلند سطح پر مزید بڑھ رہی ہے، جو آٹو موبائل کی طلب اور صنعتی سرگرمی میں نسبتاً وسیع البنیاد بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم مصنوعات بھی خاموشی سے صنعتی بحالی کے لیے معاونت کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔ زیادہ طلب اور مقامی خام تیل کی بہتر ترسیل کے باعث اس شعبے میں بحالی ہوئی ہے، تاہم ریفائنریوں کی پیداوار اس سے بھی بڑی پیش رفت رہی ہے۔ مقامی ریفائنریوں نے گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ صلاحیت پر کام کیا ہے، جبکہ مقامی پیداوار نے تقریباً ملک کی ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ضرورت پوری کر دی ہے۔ اگر ریفائنریوں کی استعدادِ کار بلند سطح پر برقرار رہتی ہے تو یہ بہتری آنے والے مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو مثبت کردار ادا کرنے میں مدد دیتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غذائی شعبہ منفی علاقے میں داخل ہو گیا ہے، حالانکہ مالی سال 2026 کے دوسرے نصف میں یہ ایل ایس ایم کو سب سے مضبوط سہارا دینے والے شعبوں میں شامل تھا۔ اس سے قبل ہونے والا اضافہ بڑی حد تک چینی کی پیداوار کی وجہ سے تھا، جہاں تقریباً ریکارڈ سطح کی شوگر سیزن پیداوار نے پورے غذائی گروپ کو اوپر اٹھا دیا تھا۔ اب جبکہ چینی کا دور ختم ہو چکا ہے، گھی اور خوردنی تیل کی پیداوار میں معمولی کمی بھی مجموعی غذائی شعبے کو منفی علاقے میں لے جانے کے لیے کافی رہی ہے۔ یہ غذائی مصنوعات کی وسیع البنیاد کمزوری سے زیادہ غیر معمولی طور پر مضبوط چینی کی بنیاد کے قدرتی طور پر ختم ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی منظرنامے کا کمزور پہلو نسبتاً محدود ہے۔ دواسازی اور کیمیکلز ان نمایاں شعبوں میں شامل ہیں جو منفی علاقے میں ہیں، جبکہ ایل ایس ایم باسکٹ میں سب سے زیادہ وزن رکھنے والا ٹیکسٹائل شعبہ بھی معمولی کمی کا شکار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کمی کا شکار کسی بھی شعبے میں خاصی شدید گراوٹ ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس لیے مجموعی انڈیکس پر منفی اثر محدود ہے، جبکہ توسیع پذیر شعبے مجموعی انڈیکس کو نسبتاً مضبوط سہارا دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ جولائی میں 3 فیصد نمو کی شرح اس سطح کے مقابلے میں کم اہم ہے جس پر ایل ایس ایم اب کام کر رہا ہے۔ 119.13 کی سطح پر جولائی کا انڈیکس اس ماہ کے لیے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا بلند ترین انڈیکس ہے اور سابقہ صنعتی عروج کے دوران دیکھی جانے والی سطحوں سے بھی خاصا بلند ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے بیشتر عرصے میں کھوئی ہوئی سطح دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد مینوفیکچرنگ اب بالآخر نمایاں طور پر بلند بنیادی سطح سے کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے کا سفر مکمل طور پر ہموار رہنے کا امکان نہیں۔ مقامی افراطِ زر دوبارہ بڑھ گیا ہے، جبکہ شرح سود میں تیزی سے کمی کی توقعات بھی اس کے نتیجے میں مؤخر ہو گئی ہیں۔ طویل عرصے تک بلند رہنے والی قرض لینے کی لاگت بحالی کی رفتار کو شرح سود سے حساس شعبوں میں متاثر کر سکتی ہے، بالخصوص تعمیرات سے متعلق صنعتوں، گھریلو برقی آلات اور کسی حد تک مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی میں آٹوموبائل کے شعبے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، صنعتی سرگرمی کے حوالے سے پہلے کے دور کے مقابلے میں اہم فرق یہ ہے کہ سب سے بڑی ساختی رکاوٹوں میں سے ایک کم ہو گئی ہے۔ صنعتی بجلی کے ٹیرف اپنی سابقہ سطحوں سے نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں اور اب عمومی طور پر مسابقتی سطح پر ہیں، جس سے گرڈ سے فیکٹریاں چلانے کی معاشی افادیت بہتر ہوئی ہے۔ پائیدار صنعتی بحالی کے لیے یہ کسی ایک شعبے میں ایک ماہ کے دوران دو ہندسوں کی نمو سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ایل ایس ایم مالی سال 2027 میں سرخی میں کم نمو کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے، لیکن ایک کہیں زیادہ صحت مند ابتدائی سطح سے۔ صنعتی معیشت اب صرف گزشتہ چند برسوں کے دھچکے سے بحالی کی کوشش نہیں کر رہی۔ اس نے ایک بلند بنیادی سطح قائم کر لی ہے، جبکہ کئی بڑے شعبے اب حقیقی پیداواری رفتار پیدا کر رہے ہیں۔ مالی سال 2027 کا امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ رفتار چند نمایاں شعبوں سے آگے پھیل سکتی ہے یا نہیں، اور کیا اسے دوبارہ بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور سخت مالی حالات سے نقصان پہنچے بغیر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگرچہ بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) کی نمو جولائی میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد تک سست پڑ گئی ہے، لیکن سرخی کے یہ اعداد اس سے کہیں زیادہ اہم پیش رفت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔</strong></p>
<p>جولائی کا ایل ایس ایم انڈیکس 119.13 تک پہنچ گیا، جو اس ماہ کے لیے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا بلند ترین انڈیکس ہے اور مالی سال 2026 کے جولائی میں ریکارڈ کیے گئے 115.62 کے سابقہ بلند ترین انڈیکس سے بھی واضح طور پر زیادہ ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اب یہ انڈیکس مالی سال 2022 کی سطح سے خاصا اوپر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی شعبہ اب صرف طویل عرصے تک جاری رہنے والی مندی کے دوران کھوئی ہوئی سطح دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔</p>
<p>تاہم، اس کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے ماہ میں مجموعی ایل ایس ایم نمو میں ملبوسات کا شعبہ سب سے بڑا معاون بن کر سامنے آیا، جس میں سالانہ بنیادوں پر 22 فیصد اضافہ ہوا۔ ایل ایس ایم باسکٹ میں تقریباً 6 فیصد وزن رکھنے کے باوجود، اس شعبے نے انڈیکس میں ہونے والے مجموعی اضافے کا تقریباً دو تہائی حصہ فراہم کیا۔ نسبتاً کم وزن رکھنے والے شعبے کی جانب سے یہ ایک نمایاں حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/280405564d390da.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/280405564d390da.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جولائی کے اعداد و شمار کو ریڈی میڈ گارمنٹس (آر ایم جی) کی برآمدی مقدار کے غیر معمولی طور پر مضبوط بنیادی اثر سے بھی مدد ملی۔ ماہ کے دوران برآمد کیے گئے ملبوسات 87.4 لاکھ درجن ٹکڑوں تک پہنچ گئے، جو ایک ماہ کے دوران اب تک کی بلند ترین مقدار ہے اور شعبے کی تاریخی اوسط رفتار سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ تاہم یہ رفتار اگست تک برقرار نہیں رہ سکی۔ اگست میں برآمدی مقدار دوبارہ اپنی اوسط کے قریب آ گئی، جس کے نتیجے میں مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں آر ایم جی کی برآمدی مقدار میں سالانہ بنیادوں پر 10.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ صرف اگست میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس لیے اگست کے ایل ایس ایم کے اعداد و شمار میں بھی یہ سست روی نظر آنی چاہیے۔</p>
<p>آٹوموبائل کا شعبہ صنعتی بحالی کا دوسرا بڑا ستون ہے۔ جولائی میں اس شعبے نے ایل ایس ایم کی نمو میں دوسری سب سے بڑی شراکت کی، جبکہ پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 57 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اعداد و شمار کو مزید اہم بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ اضافہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ہونے والی مضبوط نمو کے اوپر ہوا ہے۔ اب یہ محض کم بنیادی سطح سے بحالی کی کہانی نہیں رہی۔ پیداوار پہلے ہی بلند سطح پر مزید بڑھ رہی ہے، جو آٹو موبائل کی طلب اور صنعتی سرگرمی میں نسبتاً وسیع البنیاد بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>پٹرولیم مصنوعات بھی خاموشی سے صنعتی بحالی کے لیے معاونت کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔ زیادہ طلب اور مقامی خام تیل کی بہتر ترسیل کے باعث اس شعبے میں بحالی ہوئی ہے، تاہم ریفائنریوں کی پیداوار اس سے بھی بڑی پیش رفت رہی ہے۔ مقامی ریفائنریوں نے گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ صلاحیت پر کام کیا ہے، جبکہ مقامی پیداوار نے تقریباً ملک کی ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ضرورت پوری کر دی ہے۔ اگر ریفائنریوں کی استعدادِ کار بلند سطح پر برقرار رہتی ہے تو یہ بہتری آنے والے مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو مثبت کردار ادا کرنے میں مدد دیتی رہے گی۔</p>
<p>دوسری جانب غذائی شعبہ منفی علاقے میں داخل ہو گیا ہے، حالانکہ مالی سال 2026 کے دوسرے نصف میں یہ ایل ایس ایم کو سب سے مضبوط سہارا دینے والے شعبوں میں شامل تھا۔ اس سے قبل ہونے والا اضافہ بڑی حد تک چینی کی پیداوار کی وجہ سے تھا، جہاں تقریباً ریکارڈ سطح کی شوگر سیزن پیداوار نے پورے غذائی گروپ کو اوپر اٹھا دیا تھا۔ اب جبکہ چینی کا دور ختم ہو چکا ہے، گھی اور خوردنی تیل کی پیداوار میں معمولی کمی بھی مجموعی غذائی شعبے کو منفی علاقے میں لے جانے کے لیے کافی رہی ہے۔ یہ غذائی مصنوعات کی وسیع البنیاد کمزوری سے زیادہ غیر معمولی طور پر مضبوط چینی کی بنیاد کے قدرتی طور پر ختم ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>صنعتی منظرنامے کا کمزور پہلو نسبتاً محدود ہے۔ دواسازی اور کیمیکلز ان نمایاں شعبوں میں شامل ہیں جو منفی علاقے میں ہیں، جبکہ ایل ایس ایم باسکٹ میں سب سے زیادہ وزن رکھنے والا ٹیکسٹائل شعبہ بھی معمولی کمی کا شکار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کمی کا شکار کسی بھی شعبے میں خاصی شدید گراوٹ ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس لیے مجموعی انڈیکس پر منفی اثر محدود ہے، جبکہ توسیع پذیر شعبے مجموعی انڈیکس کو نسبتاً مضبوط سہارا دے رہے ہیں۔</p>
<p>چنانچہ جولائی میں 3 فیصد نمو کی شرح اس سطح کے مقابلے میں کم اہم ہے جس پر ایل ایس ایم اب کام کر رہا ہے۔ 119.13 کی سطح پر جولائی کا انڈیکس اس ماہ کے لیے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا بلند ترین انڈیکس ہے اور سابقہ صنعتی عروج کے دوران دیکھی جانے والی سطحوں سے بھی خاصا بلند ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے بیشتر عرصے میں کھوئی ہوئی سطح دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد مینوفیکچرنگ اب بالآخر نمایاں طور پر بلند بنیادی سطح سے کام کر رہی ہے۔</p>
<p>آگے کا سفر مکمل طور پر ہموار رہنے کا امکان نہیں۔ مقامی افراطِ زر دوبارہ بڑھ گیا ہے، جبکہ شرح سود میں تیزی سے کمی کی توقعات بھی اس کے نتیجے میں مؤخر ہو گئی ہیں۔ طویل عرصے تک بلند رہنے والی قرض لینے کی لاگت بحالی کی رفتار کو شرح سود سے حساس شعبوں میں متاثر کر سکتی ہے، بالخصوص تعمیرات سے متعلق صنعتوں، گھریلو برقی آلات اور کسی حد تک مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی میں آٹوموبائل کے شعبے میں۔</p>
<p>اس کے باوجود، صنعتی سرگرمی کے حوالے سے پہلے کے دور کے مقابلے میں اہم فرق یہ ہے کہ سب سے بڑی ساختی رکاوٹوں میں سے ایک کم ہو گئی ہے۔ صنعتی بجلی کے ٹیرف اپنی سابقہ سطحوں سے نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں اور اب عمومی طور پر مسابقتی سطح پر ہیں، جس سے گرڈ سے فیکٹریاں چلانے کی معاشی افادیت بہتر ہوئی ہے۔ پائیدار صنعتی بحالی کے لیے یہ کسی ایک شعبے میں ایک ماہ کے دوران دو ہندسوں کی نمو سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>چنانچہ ایل ایس ایم مالی سال 2027 میں سرخی میں کم نمو کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے، لیکن ایک کہیں زیادہ صحت مند ابتدائی سطح سے۔ صنعتی معیشت اب صرف گزشتہ چند برسوں کے دھچکے سے بحالی کی کوشش نہیں کر رہی۔ اس نے ایک بلند بنیادی سطح قائم کر لی ہے، جبکہ کئی بڑے شعبے اب حقیقی پیداواری رفتار پیدا کر رہے ہیں۔ مالی سال 2027 کا امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ رفتار چند نمایاں شعبوں سے آگے پھیل سکتی ہے یا نہیں، اور کیا اسے دوبارہ بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور سخت مالی حالات سے نقصان پہنچے بغیر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291789</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 10:11:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28100930404b9b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28100930404b9b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک یونیکورن سے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم تشکیل نہیں پاتا، گوبی پارٹنرز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوبی پارٹنرز پاکستان کے مینیجنگ پارٹنر اور فاطمہ گوبی وینچر (ایف جی وی) کے پارٹنر نائل اوبرائے اکرام نے کہا ہے کہ پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم میں اگرچہ بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم اسے پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے ملکی سطح پر مزید سرمایہ، فالو آن سرمایہ کاری اور مضبوط ادارہ جاتی شمولیت درکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام وینچر کیپیٹل، سرمایہ کاری مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ ایڈوائزری کے شعبوں میں 15 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں۔ گوبی پارٹنرز پاکستان میں وہ سرمایہ کاری کمیٹی کے رکن ہونے کے ساتھ سرمایہ کاری ٹیم کی نگرانی، ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش اور جائزے، پورٹ فولیو معاونت اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے فاطمہ گوبی وینچرز، فاسٹ کی ایک ارب ڈالر کی قدر تک رسائی، پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم کی موجودہ صورتحال، مقامی سرمایہ کی کمی اور پاکستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں درپیش مشکلات پر اظہار خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر ریسرچ: 2022 میں ایف جی وی نے فاسٹ میں ایسی کیا بات دیکھی جو دیگر سرمایہ کاروں کی نظر سے اوجھل رہی؟ اس کے بعد کاروبار میں کیا تبدیلی آئی؟ ایف جی وی نے کتنی سرمایہ کاری کی، اس کے پاس کتنے حصص ہیں اور کیا اب تک کوئی منافع حاصل کیا گیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: جب ہم نے 2022 میں فاسٹ میں سرمایہ کاری کی تو ہمارے سامنے محض ایک اور ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارم کا موقع نہیں تھا، بلکہ اس سے کہیں وسیع امکان موجود تھا۔ اس کے بانیان رافی اور ڈینیئل اس بات پر غور کر رہے تھے کہ نئے مالیاتی ذرائع ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بالخصوص مالیاتی مصنوعات تک رسائی اور سرحد پار رقوم کی منتقلی سے متعلق موجودہ ناکاریاں کس طرح دور کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اصل امتیاز اس بات میں تھا کہ وہ اسے کس انداز میں تشکیل دینا چاہتے تھے۔ اس وقت ڈیجیٹل اثاثوں کی بیشتر صنعت پہلے صارفین حاصل کرنے اور بعد میں ضوابط سے نمٹنے پر توجہ دے رہی تھی، جبکہ ان کا طریقہ اس کے برعکس تھا۔ وہ لائسنسنگ کو ترجیح دے رہے تھے، ابتدا ہی میں تعمیلی نظام قائم کرنا چاہتے تھے اور ضابطہ کاری کو رکاوٹ کے بجائے مسابقتی برتری سمجھتے تھے۔ ہمیں یہ حکمت عملی بہت پسند آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی خدمات میں اعتماد اور ضابطہ کارانہ اعتبار کسی پائیدار کاروبار کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ ابتدا ہی میں نسبتاً مشکل راستہ اختیار کرنے سے ہمیں بانیان کی سوچ اور صلاحیتوں کے بارے میں بھی بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا، بلکہ کاروبار کا حجم بڑھا ہے۔ فاسٹ اب 125 ممالک میں صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے، اس کے والیٹس کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے، ادارہ جاتی صارفین ایک ہزار سے زائد ہیں جبکہ سالانہ بنیاد پر لین دین کا حجم 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ آمدنی میں سال بہ سال تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور کمپنی منافع کما رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک ہماری سرمایہ کاری کا تعلق ہے، ہم سرمایہ کاری کی رقم، ملکیتی حصص یا فنڈ کی سطح پر حاصل ہونے والے منافع کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے۔ البتہ یہ بتا سکتا ہوں کہ ایف جی وی نے سیریز اے کی مشترکہ قیادت کی تھی، ہم اب بھی خاطر خواہ اقلیتی حصص رکھتے ہیں اور ہم نے اس میں سے کوئی حصہ فروخت نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: ایک ارب ڈالر کی قدر ایک بڑی خبر ہے۔ اس قدر کی بنیاد کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: میرے خیال میں زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ ایک ارب ڈالر کی قدر کو کیا چیز درست ثابت کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر قدرِ تخمینہ کو بحث سے نکال دیا جائے تو فاسٹ کے بارے میں کون سی بنیادی باتیں برقرار رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ کے معاملے میں تین چیزیں نمایاں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی محض جذبات یا مارکیٹ کے رجحان کی بنیاد پر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی چیز حجم ہے۔ پلیٹ فارم سالانہ بنیاد پر 40 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے لین دین کر رہا ہے اور آمدنی میں سال بہ سال تقریباً چھ گنا اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری چیز منافع بخش ہونا ہے۔ فاسٹ پہلے ہی منافع کما رہی ہے، جو اس رفتار سے ترقی کرنے والی کمپنی کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ اس سے تیز رفتار ترقی کے باعث پیدا ہونے والے مالی وسائل کے خطرے میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری چیز اس کاروبار کا مضبوط دفاعی ڈھانچہ ہے۔ کمپنی 125 ممالک میں صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے، اس کے ایک ہزار سے زائد ادارہ جاتی صارفین ہیں اور متعدد ممالک میں لائسنس، ضابطہ کارانہ منظوریوں اور تعمیلی نظام کا ایک مضبوط ڈھانچہ قائم کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ہمارے لیے کمپنی کی قدرِ تخمینہ بالآخر ایک نتیجہ ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا بنیادی کاروبار حجم، منافع اور نقل کیے جانے میں دشواری کے اعتبار سے مسلسل بہتر ہو رہا ہے، اور ہماری توجہ انہی بنیادی عوامل پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: چونکہ فاسٹ کی سرگرمیاں اور مارکیٹ کی رسائی زیادہ تر بین الاقوامی ہے، کیا اس کی کامیابی واقعی پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: یہاں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ فاسٹ ایک عالمی کمپنی ہے۔ اس کے صارفین، آمدنی اور ضابطہ کارانہ دائرۂ کار بین الاقوامی ہیں اور یہ بنیادی طور پر پاکستان میں فروخت کے ذریعے ایک ارب ڈالر کی کمپنی نہیں بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس کی کامیابی میں پاکستان کا ایک اہم پہلو ضرور موجود ہے۔ فاسٹ کے بانیوں میں سے ایک پاکستانی ہے، کمپنی کو پاکستانی باصلاحیت افراد سے بھی فائدہ پہنچا ہے، جبکہ اس کی سیریز اے کی مشترکہ قیادت پاکستان میں قائم ایک وینچر فنڈ نے کی تھی، یعنی یونیکورن کا درجہ حاصل کرنے سے چار سال پہلے۔ وینچر ویلیو چین کے اس ابتدائی، غیر آزمودہ اور بلند اعتماد والے مرحلے میں پاکستان کی تاریخی شرکت محدود رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا فاسٹ کی اہمیت صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ کمپنی کہاں کاروبار کرتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے بانی اور تکنیکی صلاحیت رکھنے والے افراد فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ایسے سرمایہ کار بھی پیدا کر سکتا ہے جو ابتدائی مرحلے میں ان کاروباروں کی صلاحیت کو پہچان کر ان پر اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں یہ نہیں کہوں گا کہ صرف ایک کامیابی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان کا وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم مکمل طور پر مستحکم ہو چکا ہے۔ کسی ایکو سسٹم کی اصل جانچ اس کی گہرائی اور کامیابیوں کو بار بار پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہوتی ہے، اور ان دونوں شعبوں میں ہمیں اب بھی خاصا کام کرنا ہے۔ فاسٹ نے البتہ یہ قابلِ اعتبار ثبوت ضرور فراہم کیا ہے کہ مطلوبہ اجزا پاکستان میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا چیلنج یہ ہے کہ ان نتائج کو بار بار حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس کے لیے ملکی سرمایہ کے مزید گہرے ذخائر درکار ہیں، جو ابتدائی مرحلے میں بانیوں کی پشت پناہی کر سکیں، کمپنیوں کو بعد کے سرمایہ کاری ادوار میں بھی سہارا دے سکیں اور بالآخر حاصل شدہ منافع کو کمپنیوں اور فنڈز کی اگلی نسل میں دوبارہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک یونیکورن سے پورا ایکو سسٹم تشکیل نہیں پاتا، لیکن یہ ضرور ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ ایکو سسٹم کیا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حقیقی پختگی کی علامت اس وقت ہوگی جب دوسری، تیسری اور چوتھی ایسی کامیابیاں غیر معمولی نہیں رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: سیریز اے کے بعد ایف جی وی نے سرمائے کے علاوہ فاسٹ کو عملی طور پر کیا فراہم کیا؟ کیا اس میں مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ کارانہ معاونت، افرادی قوت کی بھرتی یا بعد کے سرمایہ کاری ادوار کے لیے فنڈنگ شامل تھی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: سرمایہ کسی بانی کی ضروریات کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ موجود تزویراتی قدر، یعنی تعلقات، ادارہ جاتی معلومات، گورننس، باصلاحیت افرادی قوت اور مختلف ماحول میں کمپنیوں کو وسعت پاتے دیکھنے کا تجربہ، بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری ذمہ داری کمپنیوں کو چلانا نہیں، بلکہ باصلاحیت بانیوں کو وہ معاونت اور نقطۂ نظر فراہم کرنا ہے جس سے وہ ایسے کاروبار تشکیل دے سکیں جو تجارتی، ادارہ جاتی اور جغرافیائی سطح پر وسعت کے لیے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدر پیدا کرنے پر یہی توجہ بطور سرمایہ کار ہمارے کردار کے تصور کا بنیادی حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ کی ترقی بنیادی طور پر رافی اور ڈینیئل کی عملی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنی مارکیٹوں اور ضابطہ کارانہ نظام کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ہمارا کردار یہ تھا کہ ابتدائی مرحلے میں ان کی صلاحیت کو پہچانیں، پورے اعتماد کے ساتھ ان کی پشت پناہی کریں اور کاروبار کے پھیلاؤ کے دوران طویل مدتی شراکت دار کے طور پر ان کے ساتھ رہیں۔ ہم نے تزویراتی گورننس کے ذریعے ان کی معاونت کی اور مشاورت کے لیے دستیاب رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے پورٹ فولیو میں ہم بانیوں کے ساتھ مل کر کمپنیوں کو اگلے مرحلے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہم انہیں ممکنہ صارفین اور کاروباری شراکت داروں سے متعارف کراتے ہیں، بعد کے سرمایہ کاروں سے رابطے میں مدد دیتے ہیں، اعلیٰ سطح کی باصلاحیت افرادی قوت کی تلاش اور بھرتی میں معاونت کرتے ہیں اور بانیوں کے ساتھ مل کر گورننس کے ڈھانچے، رپورٹنگ کے نظام اور ادارہ جاتی طریقۂ کار قائم کرتے ہیں، جن کی بڑے سرمایہ کار توقع کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایشیا بھر میں گوبی کی دو دہائیوں سے زائد عرصے کی سرمایہ کاری کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب کوئی بانی نئی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہو، تقسیم کے نظام پر غور کر رہا ہو، ضابطہ کاری سے نمٹ رہا ہو یا بڑی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہا ہو تو ہم ان کمپنیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں دیگر مارکیٹوں میں ایسے ہی سوالات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ امتزاج خاص طور پر مؤثر ہے۔ ہم گوبی کے علاقائی نیٹ ورک اور سرمایہ کاری کے تجربے کو فاطمہ گروپ کے پاکستان میں گہرے تعلقات اور کاروباری تجربے کے ساتھ یکجا کرتے ہیں۔ اس طرح بانیوں کو مقامی کارپوریٹ ایکو سسٹم تک رسائی کے ساتھ ساتھ ایشیا بھر میں سرمایہ، تزویراتی شراکت داروں اور مارکیٹوں تک رسائی بھی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان میں اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری عروج کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ کیا مارکیٹ اب بحالی کی جانب گامزن ہے یا سرمایہ اب بھی صرف محدود تعداد میں کمپنیوں کو دستیاب ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: استحکام کے کچھ آثار ضرور موجود ہیں، لیکن میں اسے ابھی وسیع البنیاد بحالی نہیں کہوں گا۔ ہمارے اندرونی جائزے کے مطابق اسٹارٹ اپس کے لیے مجموعی سرمایہ کاری 2024 کے 32 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے معمولی اضافے کے ساتھ 2025 میں 38 کروڑ ڈالر رہی۔ تاہم یہ 2021 کی 3 ارب 47 کروڑ ڈالر اور 2022 کی 3 ارب 31 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح سے اب بھی بہت کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2025 میں بہتری بنیادی طور پر بڑے حجم کی سرمایہ کاری کے باعث آئی، نہ کہ سودوں کی مجموعی تعداد میں وسیع اضافے کے نتیجے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ محدود ہے، لیکن سرمایہ کاری کے مرحلے اور شعبے دونوں اعتبار سے اس میں نمایاں حد تک انتخابی رویہ پیدا ہو گیا ہے۔ بعض لحاظ سے یہ نظم و ضبط صحت مند ہے۔ مارکیٹ ’ہر قیمت پر ترقی‘ کے تصور سے دور ہو چکی ہے اور سرمایہ کار یونٹ اکنامکس، گورننس اور منافع تک پہنچنے کے قابلِ اعتبار راستے پر کہیں زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن کمپنیوں نے عملی پیش رفت ثابت کی ہے وہ اب بھی سرمایہ حاصل کر سکتی ہیں، لیکن یہ سرمایہ تیزی سے محدود کمپنیوں میں مرتکز ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے فن ٹیک اور کاروبار تا کاروبار بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی دیکھی ہے، جبکہ صارفین اور ای کامرس کے کاروباروں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مجھے جس بات کی زیادہ تشویش ہے وہ ترقی کے مرحلے میں سرمایہ کاری کا نظم و ضبط نہیں بلکہ انتہائی ابتدائی مرحلے میں سرمائے کی کمی ہے۔ ایک مضبوط خیال اور باصلاحیت ٹیم رکھنے والے بانی کے لیے پاکستان میں اب بھی ادارہ جاتی سرمائے کے ذرائع بہت محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحت مند وینچر ایکو سسٹم کو کاروباری زندگی کے تمام مراحل میں سرمایہ درکار ہوتا ہے، یعنی ایسے سرمایہ کاروں سے جو حقیقی ابتدائی مرحلے کے خطرات مول لینے پر آمادہ ہوں، ان اداروں تک جو کمپنیوں کے بڑے ہونے کے ساتھ انہیں سرمایہ فراہم کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحالی کے اگلے مرحلے کو زیادہ وسیع ہونا ہوگا: مزید ابتدائی سرمایہ کاری، مزید فالو آن سرمایہ اور مختلف مراحل میں سرمایہ کاروں کا زیادہ گہرا حلقہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: اسٹارٹ اپ شعبے میں زیادہ تر دلچسپی غیر ملکی وینچر کیپیٹل فرموں کی جانب سے رہی ہے۔ مقامی وینچر کیپیٹل کو کیا چیز روکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: یہ بنیادی طور پر ایک ساختی مسئلہ ہے، اعتماد یا عزم کی کمی نہیں۔ مسئلہ اتنا ہی وینچر فنڈز میں سرمائے کی فراہمی کا ہے جتنا ان فنڈز کی جانب سے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ لگانے کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں وینچر کیپیٹل کے لیے ملکی سطح پر ادارہ جاتی محدود شراکت دار سرمایہ کاروں کی بنیاد موجود ہے۔ ہمارے پاس ابھی پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں، بڑے کارپوریٹس اور فیملی آفسز پر مشتمل وہ گہرا ملکی سرمایہ کار حلقہ موجود نہیں جو زیادہ پختہ ایکو سسٹمز میں نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی سرمایہ کے ذخائر کے سامنے بنیادی سوال سرمایہ مختص کرنے کا ہے۔ جب سرکاری سیکیورٹیز طویل عرصے تک دو ہندسوں میں خطرے سے پاک روپے کی شرح منافع فراہم کرتی رہی ہوں تو غیر منقولہ اور دس سالہ مدت رکھنے والے وینچر کیپیٹل کے لیے ملکی سرمایہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بیشتر مقامی فنڈز نسبتاً چھوٹے رہتے ہیں، جس سے ان کی فالو آن سرمایہ کاری کرنے اور کمپنی کے حجم میں اضافے کے ساتھ اپنی ملکیت برقرار رکھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کمپنیوں کے بڑے سرمایہ کاری ادوار تک پہنچنے کے وقت غیر ملکی سرمائے پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ سرمایہ کاری سے اخراج کے محدود تجربے نے بھی مسئلہ بڑھایا ہے، کیونکہ محدود شراکت دار عموماً صرف کاغذی منافع کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی تقسیم شدہ منافع کے ثابت شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر دوبارہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کچھ چیزیں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہیں، لیکن پائیدار حل یہ ہے کہ وینچر کیپیٹل کو ایک اثاثہ جاتی شعبے کے طور پر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی بنیاد وسیع کی جائے۔ جب طویل مدتی سرمائے کا ایک چھوٹا حصہ پیشہ ورانہ انتظام والے پاکستانی وینچر فنڈز میں مختص کرنا معمول بن جائے گا، نہ کہ ایک غیر معمولی اقدام، تو مقامی سرمایہ کار بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرنے کے زیادہ بہتر قابل ہوں گے، بجائے اس کے کہ رفتار طے کرنے کے لیے اسی پر انحصار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بھی کچھ ساختی مسائل ہیں۔ وینچر فنڈز کے لیے فنڈ کے قیام، زرمبادلہ، سرمائے کی نقل و حرکت، ٹیکس اور سرمایہ کاری سے اخراج کے حوالے سے قابلِ پیش گوئی قواعد ضروری ہیں۔ اگر کوئی شراکت دار سرمایہ کار دس سال کے لیے سرمایہ فراہم کر رہا ہے تو ان شعبوں میں غیر یقینی صورت حال انفرادی اسٹارٹ اپس پر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان سے منسلک مزید اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر وسعت حاصل کرنے سے روکنے والی سب سے بڑی کمزوریاں کیا ہیں؟ پاکستان اپنے ملک میں تیار ہونے والا یونیکورن پیدا کرنے میں کیوں مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب بھی کیا چیز درکار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: میرے خیال میں فالو آن سرمائے کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ابتدائی مرحلے کے سرمایہ کاروں کی ایک مناسب بنیاد ضرور قائم کی ہے، لیکن جب کوئی کمپنی سیریز اے اور اس کے بعد کے مرحلے میں پہنچتی ہے تو سرمایہ کا دائرہ بہت تیزی سے محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بانیوں کو ان مارکیٹوں کی کمپنیوں کے مقابلے میں بین الاقوامی سرمائے کے لیے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جنہیں سرمایہ کار پہلے سے جانتے اور سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اچھے کاروبار بھی اس لیے وسعت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں کہ بنیادی کمپنی کمزور ہے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اگلا سرمایہ حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری سے اخراج کا محدود عمل اس مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔ وینچر کیپیٹل بنیادی طور پر سرمائے کی گردش کا ایک نظام ہے؛ محدود شراکت داروں کو حاصل ہونے والا منافع اگلے فنڈز میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کا اس حوالے سے تاریخی ریکارڈ محدود رہا ہے، اگرچہ حالیہ عرصے میں پی ایس ایکس کی مضبوطی اور آئی پی اوز کی ابھرتی ہوئی پائپ لائن اس بات کے حوصلہ افزا اشارے ہیں کہ وقت کے ساتھ ملکی کیپیٹل مارکیٹس سرمایہ کاری سے اخراج کا ایک قابلِ اعتبار راستہ بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں تقابلی مارکیٹوں کے مقابلے میں بہت کم سرمایہ گردش کرتا رہا ہے۔ اربوں ڈالر مالیت کی کمپنیوں کے بننے کی تعداد کو انہیں پیدا کرنے کے لیے دستیاب خطرہ مول لینے والے سرمائے کی مقدار اور گہرائی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اربوں ڈالر مالیت کی کمپنیوں کا سلسلہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس چیز کی کمی ہے وہ کوئی وسیلہ نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے: مناسب حجم کا ایک گروتھ اسٹیج فنڈ، جو پاکستان میں قائم ہو اور 2 سے 3 کروڑ ڈالر کے سرمایہ کاری دور کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں درپیش باقی تمام مسائل اسی کمی کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ یہی چیز بانی کو کمپنی کی وسعت کے دوران ملک میں رہنے کا موقع دیتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قیمت کے تعین میں ایک قابلِ اعتبار مقامی شریکِ قیادت فراہم کرتی ہے اور بالآخر ایسے اخراج کے مواقع پیدا کرتی ہے جو سرمایہ کو دوبارہ نظام میں لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے ایک دہائی وینچر مارکیٹ کے ابتدائی حصے کی تعمیر میں صرف کی ہے۔ اگلی دہائی اس مارکیٹ کے درمیانی حصے کو مضبوط بنانے کے بارے میں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ ایک اہم ثبوت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاحیت موجود ہے: پاکستانی سرمایہ اور افرادی قوت عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی اربوں ڈالر کی کمپنی کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس کامیابی کو بار بار حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے، جس کے لیے فالو آن سرمائے کو گہرا کرنا، سرمایہ کاری سے اخراج کے قابلِ اعتبار مواقع پیدا کرنا اور بانیوں کی اگلی نسل کو کاروبار وسعت دینے کے لیے درکار مالیاتی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: کیا ملک کے خطرے کے باعث پاکستانی اسٹارٹ اپس کی قدر اب بھی رعایتی سطح پر متعین کی جاتی ہے؟ اگر ان کے صارفین اور آمدنی بین الاقوامی ہوں تو کیا صورت حال مختلف ہوتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: جی ہاں، اور یہ رعایت کمپنی تک پہنچنے سے پہلے ہی فنڈ کی سطح پر لاگو ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں قائم کاروبار کا جائزہ لینے والا سرمایہ کار زرمبادلہ کے خطرے، سرمائے کی واپسی پر عائد پابندیوں کے خطرے، سیاسی اتار چڑھاؤ اور سب سے بڑھ کر قابلِ اعتبار اخراج کے راستے کی عدم موجودگی کو مدنظر رکھتا ہے۔ یہ حقیقی خطرات ہیں اور ان کی قیمت مقرر کرنا غیر منطقی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً پاکستانی کمپنی اکثر انہی مالی اشاریوں رکھنے والی علاقائی کمپنی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ضربِ قدر پر سرمایہ حاصل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ میں اس مفروضے سے اختلاف کروں گا کہ ملک کے خطرے کی رعایت صرف کمپنی کے پاسپورٹ کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ بالآخر سرمایہ کار بنیادی خطرے کی قیمت لگاتے ہیں۔ جب کوئی کمپنی بین الاقوامی مارکیٹوں میں صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہو، غیر ملکی کرنسی میں آمدنی حاصل کرتی ہو اور کسی معتبر دائرۂ اختیار میں قائم اور ضابطہ کارانہ نگرانی میں ہو تو پاکستان سے وابستہ بہت سے معمول کے خطرات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ کی قدر ایک عالمی فن ٹیک بنیادی ڈھانچے کی کمپنی کے طور پر عالمی تقابلی کمپنیوں کی بنیاد پر کی گئی، پاکستان کی رعایتی قدر کے اصول پر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کاروبار قائم کرنے والے بانیوں کے لیے عملی سبق یہی ہے کہ آمدنی کہاں سے حاصل ہوتی ہے، آمدنی کا معیار اور تنوع کیا ہے، ضابطہ کارانہ اور کارپوریٹ ڈھانچہ کیسا ہے اور کمپنی یہ ثابت کر سکتی ہے یا نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: ایف جی وی پاکستان پر توجہ مرکوز رکھنے والے کاروباروں اور علاقائی یا عالمی مارکیٹوں کے لیے کاروبار کرنے والے پاکستان سے منسلک بانیوں میں سرمایہ کاری کے درمیان فیصلہ کیسے کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: ہمارا مینڈیٹ پاکستان پر مرکوز ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کمپنی پائیدار قدر کہاں پیدا کر سکتی ہے اور کیا ایف جی وی کے پاس اس کا درست سرمایہ کار بننے کی حقیقی وجہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز نے اپنی مقامی مارکیٹ کی خدمت اور دنیا کی خدمت میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا؛ انہوں نے مقامی مارکیٹ کی افرادی قوت، لاگت کے فوائد اور تجربے کو عالمی مقابلے میں استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے پاس انجینئرنگ کا مضبوط شعبہ، بڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اور خلیجی ممالک، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی جغرافیائی محل وقوع موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے والے کاروبار کے لیے مواقع بہت بڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ بہت سے روایتی شعبے اب بھی ڈیجیٹلائزیشن سے محروم ہیں جبکہ صارفین اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ کاروباروں کے لیے پاکستان خود ایک بڑی اور کم خدمات یافتہ مارکیٹ ہے، جبکہ بعض دیگر کے لیے یہ افرادی قوت، مصنوعات کی تیاری یا ابتدائی صارفین کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ فاسٹ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے لیے یہ ایک دوسرے سے متصادم سرمایہ کاری کی حکمت عملیاں نہیں ہیں۔ ہم ایسے بانیوں کو تلاش کرتے ہیں جو بڑے مسائل حل کر رہے ہوں، ان کے پاس قابلِ دفاع مسابقتی برتری ہو اور وہ بڑی کمپنی بنانے کا عزم رکھتے ہوں۔ بطور سرمایہ کار ہمارا کام یہ پہچاننا ہے کہ کن کاروباروں میں یہ صلاحیت موجود ہے اور انہیں مطلوبہ سرمائے، نقطۂ نظر اور نیٹ ورک فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اس صلاحیت کو عملی جامہ پہنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان میں خاندانی کاروباروں، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور دیگر اداروں کے پاس سرمایہ کے بڑے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس میں سے نسبتاً کم حصہ وینچر کیپیٹل کے لیے مختص ہوتا ہے۔ مزید ملکی سرمایہ اس اثاثہ جاتی شعبے میں لانے کے لیے کیا ضروری ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل اوبرائے اکرام: پاکستان میں لازماً سرمائے کی کمی نہیں، بلکہ وینچر کیپیٹل کے اثاثہ جاتی شعبے کے لیے مختص ملکی سرمائے کی کمی ہے۔ فیملی آفسز، مالیاتی اداروں، پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیوں کے پاس سرمائے کے نمایاں ذخائر موجود ہیں، لیکن تاریخی طور پر وینچر کیپیٹل ان کے پورٹ فولیو کا بہت چھوٹا حصہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک وجہ مارکیٹ کی پختگی بھی ہے۔ پاکستان میں وینچر کیپیٹل اب بھی نسبتاً نیا اثاثہ جاتی شعبہ ہے۔ بہت سے ملکی سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ، لسٹڈ حصص، فکسڈ انکم یا پہلے سے قائم کاروباروں میں براہِ راست سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینچر کیپیٹل کے لیے مختلف ذہنیت درکار ہوتی ہے۔ آپ پورٹ فولیو کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں، منافع طویل مدتی مدت میں حاصل ہوتا ہے، انفرادی کمپنیوں کا ناکام ہونا لازمی طور پر ممکن ہے اور کامیاب سرمایہ کاریوں کی نسبتاً کم تعداد فنڈ کے مجموعی منافع کا بڑا حصہ پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں ضابطہ کاری کا پہلو بھی شامل ہے۔ وسیع تر پالیسی بحث کو محض سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے آگے بڑھ کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ضابطہ کارانہ، ٹیکس اور فنڈ کے ڈھانچے طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے ایسی سرمایہ کاری کو عملی طور پر قابلِ عمل بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کے بڑے فیملی آفسز کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ سرمائے کے علاوہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا کاروباری تجربہ، شعبہ جاتی معلومات، تقسیم کے نیٹ ورک اور تعلقات موجود ہیں، جو نئی کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے لیے انفرادی اسٹارٹ اپس میں براہِ راست سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر پیشہ ورانہ انتظام والے وینچر فنڈز میں بھی سرمایہ مختص کرنے کا موقع موجود ہے، جس سے تنوع اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا نظم و ضبط حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر ہمیں ایسا چکر تشکیل دینا ہوگا جس میں ملکی سرمایہ پیشہ ور فنڈ مینیجرز کی پشت پناہی کرے، یہ مینیجرز معیاری کمپنیوں میں سرمایہ لگائیں، کامیاب کمپنیاں اخراج اور منافع پیدا کریں اور یہ سرمایہ فنڈز اور کاروباری افراد کی اگلی نسل میں دوبارہ گردش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ نظام مؤثر انداز میں کام کرنا شروع کر دے گا تو وینچر کیپیٹل غیر ملکی سرمائے کے ادوار پر کم انحصار کرے گا اور پاکستان کی اپنی کیپیٹل مارکیٹس کا زیادہ مستقل حصہ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوبی پارٹنرز پاکستان کے مینیجنگ پارٹنر اور فاطمہ گوبی وینچر (ایف جی وی) کے پارٹنر نائل اوبرائے اکرام نے کہا ہے کہ پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم میں اگرچہ بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم اسے پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے ملکی سطح پر مزید سرمایہ، فالو آن سرمایہ کاری اور مضبوط ادارہ جاتی شمولیت درکار ہے۔</strong></p>
<p>نائل اوبرائے اکرام وینچر کیپیٹل، سرمایہ کاری مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ ایڈوائزری کے شعبوں میں 15 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں۔ گوبی پارٹنرز پاکستان میں وہ سرمایہ کاری کمیٹی کے رکن ہونے کے ساتھ سرمایہ کاری ٹیم کی نگرانی، ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش اور جائزے، پورٹ فولیو معاونت اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے فاطمہ گوبی وینچرز، فاسٹ کی ایک ارب ڈالر کی قدر تک رسائی، پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم کی موجودہ صورتحال، مقامی سرمایہ کی کمی اور پاکستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں درپیش مشکلات پر اظہار خیال کیا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر ریسرچ: 2022 میں ایف جی وی نے فاسٹ میں ایسی کیا بات دیکھی جو دیگر سرمایہ کاروں کی نظر سے اوجھل رہی؟ اس کے بعد کاروبار میں کیا تبدیلی آئی؟ ایف جی وی نے کتنی سرمایہ کاری کی، اس کے پاس کتنے حصص ہیں اور کیا اب تک کوئی منافع حاصل کیا گیا ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: جب ہم نے 2022 میں فاسٹ میں سرمایہ کاری کی تو ہمارے سامنے محض ایک اور ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارم کا موقع نہیں تھا، بلکہ اس سے کہیں وسیع امکان موجود تھا۔ اس کے بانیان رافی اور ڈینیئل اس بات پر غور کر رہے تھے کہ نئے مالیاتی ذرائع ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بالخصوص مالیاتی مصنوعات تک رسائی اور سرحد پار رقوم کی منتقلی سے متعلق موجودہ ناکاریاں کس طرح دور کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، اصل امتیاز اس بات میں تھا کہ وہ اسے کس انداز میں تشکیل دینا چاہتے تھے۔ اس وقت ڈیجیٹل اثاثوں کی بیشتر صنعت پہلے صارفین حاصل کرنے اور بعد میں ضوابط سے نمٹنے پر توجہ دے رہی تھی، جبکہ ان کا طریقہ اس کے برعکس تھا۔ وہ لائسنسنگ کو ترجیح دے رہے تھے، ابتدا ہی میں تعمیلی نظام قائم کرنا چاہتے تھے اور ضابطہ کاری کو رکاوٹ کے بجائے مسابقتی برتری سمجھتے تھے۔ ہمیں یہ حکمت عملی بہت پسند آئی۔</p>
<p>مالیاتی خدمات میں اعتماد اور ضابطہ کارانہ اعتبار کسی پائیدار کاروبار کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ ابتدا ہی میں نسبتاً مشکل راستہ اختیار کرنے سے ہمیں بانیان کی سوچ اور صلاحیتوں کے بارے میں بھی بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>اس کے بعد بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا، بلکہ کاروبار کا حجم بڑھا ہے۔ فاسٹ اب 125 ممالک میں صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے، اس کے والیٹس کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے، ادارہ جاتی صارفین ایک ہزار سے زائد ہیں جبکہ سالانہ بنیاد پر لین دین کا حجم 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ آمدنی میں سال بہ سال تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور کمپنی منافع کما رہی ہے۔</p>
<p>جہاں تک ہماری سرمایہ کاری کا تعلق ہے، ہم سرمایہ کاری کی رقم، ملکیتی حصص یا فنڈ کی سطح پر حاصل ہونے والے منافع کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے۔ البتہ یہ بتا سکتا ہوں کہ ایف جی وی نے سیریز اے کی مشترکہ قیادت کی تھی، ہم اب بھی خاطر خواہ اقلیتی حصص رکھتے ہیں اور ہم نے اس میں سے کوئی حصہ فروخت نہیں کیا۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: ایک ارب ڈالر کی قدر ایک بڑی خبر ہے۔ اس قدر کی بنیاد کیا ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: میرے خیال میں زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ ایک ارب ڈالر کی قدر کو کیا چیز درست ثابت کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر قدرِ تخمینہ کو بحث سے نکال دیا جائے تو فاسٹ کے بارے میں کون سی بنیادی باتیں برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p>فاسٹ کے معاملے میں تین چیزیں نمایاں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی محض جذبات یا مارکیٹ کے رجحان کی بنیاد پر نہیں ہے۔</p>
<p>پہلی چیز حجم ہے۔ پلیٹ فارم سالانہ بنیاد پر 40 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے لین دین کر رہا ہے اور آمدنی میں سال بہ سال تقریباً چھ گنا اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>دوسری چیز منافع بخش ہونا ہے۔ فاسٹ پہلے ہی منافع کما رہی ہے، جو اس رفتار سے ترقی کرنے والی کمپنی کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ اس سے تیز رفتار ترقی کے باعث پیدا ہونے والے مالی وسائل کے خطرے میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔</p>
<p>تیسری چیز اس کاروبار کا مضبوط دفاعی ڈھانچہ ہے۔ کمپنی 125 ممالک میں صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے، اس کے ایک ہزار سے زائد ادارہ جاتی صارفین ہیں اور متعدد ممالک میں لائسنس، ضابطہ کارانہ منظوریوں اور تعمیلی نظام کا ایک مضبوط ڈھانچہ قائم کر چکی ہے۔</p>
<p>چنانچہ ہمارے لیے کمپنی کی قدرِ تخمینہ بالآخر ایک نتیجہ ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا بنیادی کاروبار حجم، منافع اور نقل کیے جانے میں دشواری کے اعتبار سے مسلسل بہتر ہو رہا ہے، اور ہماری توجہ انہی بنیادی عوامل پر ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: چونکہ فاسٹ کی سرگرمیاں اور مارکیٹ کی رسائی زیادہ تر بین الاقوامی ہے، کیا اس کی کامیابی واقعی پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: یہاں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ فاسٹ ایک عالمی کمپنی ہے۔ اس کے صارفین، آمدنی اور ضابطہ کارانہ دائرۂ کار بین الاقوامی ہیں اور یہ بنیادی طور پر پاکستان میں فروخت کے ذریعے ایک ارب ڈالر کی کمپنی نہیں بنی۔</p>
<p>تاہم، اس کی کامیابی میں پاکستان کا ایک اہم پہلو ضرور موجود ہے۔ فاسٹ کے بانیوں میں سے ایک پاکستانی ہے، کمپنی کو پاکستانی باصلاحیت افراد سے بھی فائدہ پہنچا ہے، جبکہ اس کی سیریز اے کی مشترکہ قیادت پاکستان میں قائم ایک وینچر فنڈ نے کی تھی، یعنی یونیکورن کا درجہ حاصل کرنے سے چار سال پہلے۔ وینچر ویلیو چین کے اس ابتدائی، غیر آزمودہ اور بلند اعتماد والے مرحلے میں پاکستان کی تاریخی شرکت محدود رہی ہے۔</p>
<p>لہٰذا فاسٹ کی اہمیت صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ کمپنی کہاں کاروبار کرتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے بانی اور تکنیکی صلاحیت رکھنے والے افراد فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ایسے سرمایہ کار بھی پیدا کر سکتا ہے جو ابتدائی مرحلے میں ان کاروباروں کی صلاحیت کو پہچان کر ان پر اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں۔</p>
<p>میں یہ نہیں کہوں گا کہ صرف ایک کامیابی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان کا وینچر کیپیٹل ایکو سسٹم مکمل طور پر مستحکم ہو چکا ہے۔ کسی ایکو سسٹم کی اصل جانچ اس کی گہرائی اور کامیابیوں کو بار بار پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہوتی ہے، اور ان دونوں شعبوں میں ہمیں اب بھی خاصا کام کرنا ہے۔ فاسٹ نے البتہ یہ قابلِ اعتبار ثبوت ضرور فراہم کیا ہے کہ مطلوبہ اجزا پاکستان میں موجود ہیں۔</p>
<p>اگلا چیلنج یہ ہے کہ ان نتائج کو بار بار حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس کے لیے ملکی سرمایہ کے مزید گہرے ذخائر درکار ہیں، جو ابتدائی مرحلے میں بانیوں کی پشت پناہی کر سکیں، کمپنیوں کو بعد کے سرمایہ کاری ادوار میں بھی سہارا دے سکیں اور بالآخر حاصل شدہ منافع کو کمپنیوں اور فنڈز کی اگلی نسل میں دوبارہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>ایک یونیکورن سے پورا ایکو سسٹم تشکیل نہیں پاتا، لیکن یہ ضرور ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ ایکو سسٹم کیا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حقیقی پختگی کی علامت اس وقت ہوگی جب دوسری، تیسری اور چوتھی ایسی کامیابیاں غیر معمولی نہیں رہیں گی۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: سیریز اے کے بعد ایف جی وی نے سرمائے کے علاوہ فاسٹ کو عملی طور پر کیا فراہم کیا؟ کیا اس میں مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ کارانہ معاونت، افرادی قوت کی بھرتی یا بعد کے سرمایہ کاری ادوار کے لیے فنڈنگ شامل تھی؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: سرمایہ کسی بانی کی ضروریات کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ موجود تزویراتی قدر، یعنی تعلقات، ادارہ جاتی معلومات، گورننس، باصلاحیت افرادی قوت اور مختلف ماحول میں کمپنیوں کو وسعت پاتے دیکھنے کا تجربہ، بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ہماری ذمہ داری کمپنیوں کو چلانا نہیں، بلکہ باصلاحیت بانیوں کو وہ معاونت اور نقطۂ نظر فراہم کرنا ہے جس سے وہ ایسے کاروبار تشکیل دے سکیں جو تجارتی، ادارہ جاتی اور جغرافیائی سطح پر وسعت کے لیے تیار ہوں۔</p>
<p>قدر پیدا کرنے پر یہی توجہ بطور سرمایہ کار ہمارے کردار کے تصور کا بنیادی حصہ ہے۔</p>
<p>فاسٹ کی ترقی بنیادی طور پر رافی اور ڈینیئل کی عملی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنی مارکیٹوں اور ضابطہ کارانہ نظام کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ہمارا کردار یہ تھا کہ ابتدائی مرحلے میں ان کی صلاحیت کو پہچانیں، پورے اعتماد کے ساتھ ان کی پشت پناہی کریں اور کاروبار کے پھیلاؤ کے دوران طویل مدتی شراکت دار کے طور پر ان کے ساتھ رہیں۔ ہم نے تزویراتی گورننس کے ذریعے ان کی معاونت کی اور مشاورت کے لیے دستیاب رہے۔</p>
<p>اپنے پورٹ فولیو میں ہم بانیوں کے ساتھ مل کر کمپنیوں کو اگلے مرحلے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہم انہیں ممکنہ صارفین اور کاروباری شراکت داروں سے متعارف کراتے ہیں، بعد کے سرمایہ کاروں سے رابطے میں مدد دیتے ہیں، اعلیٰ سطح کی باصلاحیت افرادی قوت کی تلاش اور بھرتی میں معاونت کرتے ہیں اور بانیوں کے ساتھ مل کر گورننس کے ڈھانچے، رپورٹنگ کے نظام اور ادارہ جاتی طریقۂ کار قائم کرتے ہیں، جن کی بڑے سرمایہ کار توقع کرتے ہیں۔</p>
<p>ہم ایشیا بھر میں گوبی کی دو دہائیوں سے زائد عرصے کی سرمایہ کاری کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب کوئی بانی نئی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہو، تقسیم کے نظام پر غور کر رہا ہو، ضابطہ کاری سے نمٹ رہا ہو یا بڑی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہا ہو تو ہم ان کمپنیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں دیگر مارکیٹوں میں ایسے ہی سوالات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ امتزاج خاص طور پر مؤثر ہے۔ ہم گوبی کے علاقائی نیٹ ورک اور سرمایہ کاری کے تجربے کو فاطمہ گروپ کے پاکستان میں گہرے تعلقات اور کاروباری تجربے کے ساتھ یکجا کرتے ہیں۔ اس طرح بانیوں کو مقامی کارپوریٹ ایکو سسٹم تک رسائی کے ساتھ ساتھ ایشیا بھر میں سرمایہ، تزویراتی شراکت داروں اور مارکیٹوں تک رسائی بھی ملتی ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان میں اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری عروج کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ کیا مارکیٹ اب بحالی کی جانب گامزن ہے یا سرمایہ اب بھی صرف محدود تعداد میں کمپنیوں کو دستیاب ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: استحکام کے کچھ آثار ضرور موجود ہیں، لیکن میں اسے ابھی وسیع البنیاد بحالی نہیں کہوں گا۔ ہمارے اندرونی جائزے کے مطابق اسٹارٹ اپس کے لیے مجموعی سرمایہ کاری 2024 کے 32 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے معمولی اضافے کے ساتھ 2025 میں 38 کروڑ ڈالر رہی۔ تاہم یہ 2021 کی 3 ارب 47 کروڑ ڈالر اور 2022 کی 3 ارب 31 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح سے اب بھی بہت کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2025 میں بہتری بنیادی طور پر بڑے حجم کی سرمایہ کاری کے باعث آئی، نہ کہ سودوں کی مجموعی تعداد میں وسیع اضافے کے نتیجے میں۔</p>
<p>سرمایہ محدود ہے، لیکن سرمایہ کاری کے مرحلے اور شعبے دونوں اعتبار سے اس میں نمایاں حد تک انتخابی رویہ پیدا ہو گیا ہے۔ بعض لحاظ سے یہ نظم و ضبط صحت مند ہے۔ مارکیٹ ’ہر قیمت پر ترقی‘ کے تصور سے دور ہو چکی ہے اور سرمایہ کار یونٹ اکنامکس، گورننس اور منافع تک پہنچنے کے قابلِ اعتبار راستے پر کہیں زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔</p>
<p>جن کمپنیوں نے عملی پیش رفت ثابت کی ہے وہ اب بھی سرمایہ حاصل کر سکتی ہیں، لیکن یہ سرمایہ تیزی سے محدود کمپنیوں میں مرتکز ہو رہا ہے۔</p>
<p>ہم نے فن ٹیک اور کاروبار تا کاروبار بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی دیکھی ہے، جبکہ صارفین اور ای کامرس کے کاروباروں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>تاہم، مجھے جس بات کی زیادہ تشویش ہے وہ ترقی کے مرحلے میں سرمایہ کاری کا نظم و ضبط نہیں بلکہ انتہائی ابتدائی مرحلے میں سرمائے کی کمی ہے۔ ایک مضبوط خیال اور باصلاحیت ٹیم رکھنے والے بانی کے لیے پاکستان میں اب بھی ادارہ جاتی سرمائے کے ذرائع بہت محدود ہیں۔</p>
<p>ایک صحت مند وینچر ایکو سسٹم کو کاروباری زندگی کے تمام مراحل میں سرمایہ درکار ہوتا ہے، یعنی ایسے سرمایہ کاروں سے جو حقیقی ابتدائی مرحلے کے خطرات مول لینے پر آمادہ ہوں، ان اداروں تک جو کمپنیوں کے بڑے ہونے کے ساتھ انہیں سرمایہ فراہم کر سکیں۔</p>
<p>بحالی کے اگلے مرحلے کو زیادہ وسیع ہونا ہوگا: مزید ابتدائی سرمایہ کاری، مزید فالو آن سرمایہ اور مختلف مراحل میں سرمایہ کاروں کا زیادہ گہرا حلقہ۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: اسٹارٹ اپ شعبے میں زیادہ تر دلچسپی غیر ملکی وینچر کیپیٹل فرموں کی جانب سے رہی ہے۔ مقامی وینچر کیپیٹل کو کیا چیز روکتی ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: یہ بنیادی طور پر ایک ساختی مسئلہ ہے، اعتماد یا عزم کی کمی نہیں۔ مسئلہ اتنا ہی وینچر فنڈز میں سرمائے کی فراہمی کا ہے جتنا ان فنڈز کی جانب سے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ لگانے کا۔</p>
<p>پاکستان میں وینچر کیپیٹل کے لیے ملکی سطح پر ادارہ جاتی محدود شراکت دار سرمایہ کاروں کی بنیاد موجود ہے۔ ہمارے پاس ابھی پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں، بڑے کارپوریٹس اور فیملی آفسز پر مشتمل وہ گہرا ملکی سرمایہ کار حلقہ موجود نہیں جو زیادہ پختہ ایکو سسٹمز میں نظر آتا ہے۔</p>
<p>ملکی سرمایہ کے ذخائر کے سامنے بنیادی سوال سرمایہ مختص کرنے کا ہے۔ جب سرکاری سیکیورٹیز طویل عرصے تک دو ہندسوں میں خطرے سے پاک روپے کی شرح منافع فراہم کرتی رہی ہوں تو غیر منقولہ اور دس سالہ مدت رکھنے والے وینچر کیپیٹل کے لیے ملکی سرمایہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بیشتر مقامی فنڈز نسبتاً چھوٹے رہتے ہیں، جس سے ان کی فالو آن سرمایہ کاری کرنے اور کمپنی کے حجم میں اضافے کے ساتھ اپنی ملکیت برقرار رکھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کمپنیوں کے بڑے سرمایہ کاری ادوار تک پہنچنے کے وقت غیر ملکی سرمائے پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ سرمایہ کاری سے اخراج کے محدود تجربے نے بھی مسئلہ بڑھایا ہے، کیونکہ محدود شراکت دار عموماً صرف کاغذی منافع کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی تقسیم شدہ منافع کے ثابت شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر دوبارہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کچھ چیزیں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہیں، لیکن پائیدار حل یہ ہے کہ وینچر کیپیٹل کو ایک اثاثہ جاتی شعبے کے طور پر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی بنیاد وسیع کی جائے۔ جب طویل مدتی سرمائے کا ایک چھوٹا حصہ پیشہ ورانہ انتظام والے پاکستانی وینچر فنڈز میں مختص کرنا معمول بن جائے گا، نہ کہ ایک غیر معمولی اقدام، تو مقامی سرمایہ کار بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرنے کے زیادہ بہتر قابل ہوں گے، بجائے اس کے کہ رفتار طے کرنے کے لیے اسی پر انحصار کریں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بھی کچھ ساختی مسائل ہیں۔ وینچر فنڈز کے لیے فنڈ کے قیام، زرمبادلہ، سرمائے کی نقل و حرکت، ٹیکس اور سرمایہ کاری سے اخراج کے حوالے سے قابلِ پیش گوئی قواعد ضروری ہیں۔ اگر کوئی شراکت دار سرمایہ کار دس سال کے لیے سرمایہ فراہم کر رہا ہے تو ان شعبوں میں غیر یقینی صورت حال انفرادی اسٹارٹ اپس پر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان سے منسلک مزید اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر وسعت حاصل کرنے سے روکنے والی سب سے بڑی کمزوریاں کیا ہیں؟ پاکستان اپنے ملک میں تیار ہونے والا یونیکورن پیدا کرنے میں کیوں مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب بھی کیا چیز درکار ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: میرے خیال میں فالو آن سرمائے کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ابتدائی مرحلے کے سرمایہ کاروں کی ایک مناسب بنیاد ضرور قائم کی ہے، لیکن جب کوئی کمپنی سیریز اے اور اس کے بعد کے مرحلے میں پہنچتی ہے تو سرمایہ کا دائرہ بہت تیزی سے محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بانیوں کو ان مارکیٹوں کی کمپنیوں کے مقابلے میں بین الاقوامی سرمائے کے لیے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جنہیں سرمایہ کار پہلے سے جانتے اور سمجھتے ہیں۔</p>
<p>چنانچہ اچھے کاروبار بھی اس لیے وسعت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں کہ بنیادی کمپنی کمزور ہے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اگلا سرمایہ حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری سے اخراج کا محدود عمل اس مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔ وینچر کیپیٹل بنیادی طور پر سرمائے کی گردش کا ایک نظام ہے؛ محدود شراکت داروں کو حاصل ہونے والا منافع اگلے فنڈز میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کا اس حوالے سے تاریخی ریکارڈ محدود رہا ہے، اگرچہ حالیہ عرصے میں پی ایس ایکس کی مضبوطی اور آئی پی اوز کی ابھرتی ہوئی پائپ لائن اس بات کے حوصلہ افزا اشارے ہیں کہ وقت کے ساتھ ملکی کیپیٹل مارکیٹس سرمایہ کاری سے اخراج کا ایک قابلِ اعتبار راستہ بن سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں تقابلی مارکیٹوں کے مقابلے میں بہت کم سرمایہ گردش کرتا رہا ہے۔ اربوں ڈالر مالیت کی کمپنیوں کے بننے کی تعداد کو انہیں پیدا کرنے کے لیے دستیاب خطرہ مول لینے والے سرمائے کی مقدار اور گہرائی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اربوں ڈالر مالیت کی کمپنیوں کا سلسلہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>جس چیز کی کمی ہے وہ کوئی وسیلہ نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے: مناسب حجم کا ایک گروتھ اسٹیج فنڈ، جو پاکستان میں قائم ہو اور 2 سے 3 کروڑ ڈالر کے سرمایہ کاری دور کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔</p>
<p>ہمیں درپیش باقی تمام مسائل اسی کمی کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ یہی چیز بانی کو کمپنی کی وسعت کے دوران ملک میں رہنے کا موقع دیتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قیمت کے تعین میں ایک قابلِ اعتبار مقامی شریکِ قیادت فراہم کرتی ہے اور بالآخر ایسے اخراج کے مواقع پیدا کرتی ہے جو سرمایہ کو دوبارہ نظام میں لاتے ہیں۔</p>
<p>ہم نے ایک دہائی وینچر مارکیٹ کے ابتدائی حصے کی تعمیر میں صرف کی ہے۔ اگلی دہائی اس مارکیٹ کے درمیانی حصے کو مضبوط بنانے کے بارے میں ہونی چاہیے۔</p>
<p>فاسٹ ایک اہم ثبوت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاحیت موجود ہے: پاکستانی سرمایہ اور افرادی قوت عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی اربوں ڈالر کی کمپنی کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس کامیابی کو بار بار حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے، جس کے لیے فالو آن سرمائے کو گہرا کرنا، سرمایہ کاری سے اخراج کے قابلِ اعتبار مواقع پیدا کرنا اور بانیوں کی اگلی نسل کو کاروبار وسعت دینے کے لیے درکار مالیاتی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوگا۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: کیا ملک کے خطرے کے باعث پاکستانی اسٹارٹ اپس کی قدر اب بھی رعایتی سطح پر متعین کی جاتی ہے؟ اگر ان کے صارفین اور آمدنی بین الاقوامی ہوں تو کیا صورت حال مختلف ہوتی ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: جی ہاں، اور یہ رعایت کمپنی تک پہنچنے سے پہلے ہی فنڈ کی سطح پر لاگو ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں قائم کاروبار کا جائزہ لینے والا سرمایہ کار زرمبادلہ کے خطرے، سرمائے کی واپسی پر عائد پابندیوں کے خطرے، سیاسی اتار چڑھاؤ اور سب سے بڑھ کر قابلِ اعتبار اخراج کے راستے کی عدم موجودگی کو مدنظر رکھتا ہے۔ یہ حقیقی خطرات ہیں اور ان کی قیمت مقرر کرنا غیر منطقی نہیں۔</p>
<p>نتیجتاً پاکستانی کمپنی اکثر انہی مالی اشاریوں رکھنے والی علاقائی کمپنی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ضربِ قدر پر سرمایہ حاصل کرتی ہے۔</p>
<p>البتہ میں اس مفروضے سے اختلاف کروں گا کہ ملک کے خطرے کی رعایت صرف کمپنی کے پاسپورٹ کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ بالآخر سرمایہ کار بنیادی خطرے کی قیمت لگاتے ہیں۔ جب کوئی کمپنی بین الاقوامی مارکیٹوں میں صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہو، غیر ملکی کرنسی میں آمدنی حاصل کرتی ہو اور کسی معتبر دائرۂ اختیار میں قائم اور ضابطہ کارانہ نگرانی میں ہو تو پاکستان سے وابستہ بہت سے معمول کے خطرات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>فاسٹ کی قدر ایک عالمی فن ٹیک بنیادی ڈھانچے کی کمپنی کے طور پر عالمی تقابلی کمپنیوں کی بنیاد پر کی گئی، پاکستان کی رعایتی قدر کے اصول پر نہیں۔</p>
<p>پاکستان میں کاروبار قائم کرنے والے بانیوں کے لیے عملی سبق یہی ہے کہ آمدنی کہاں سے حاصل ہوتی ہے، آمدنی کا معیار اور تنوع کیا ہے، ضابطہ کارانہ اور کارپوریٹ ڈھانچہ کیسا ہے اور کمپنی یہ ثابت کر سکتی ہے یا نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر رہی ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: ایف جی وی پاکستان پر توجہ مرکوز رکھنے والے کاروباروں اور علاقائی یا عالمی مارکیٹوں کے لیے کاروبار کرنے والے پاکستان سے منسلک بانیوں میں سرمایہ کاری کے درمیان فیصلہ کیسے کرتا ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: ہمارا مینڈیٹ پاکستان پر مرکوز ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کمپنی پائیدار قدر کہاں پیدا کر سکتی ہے اور کیا ایف جی وی کے پاس اس کا درست سرمایہ کار بننے کی حقیقی وجہ موجود ہے۔</p>
<p>مضبوط ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز نے اپنی مقامی مارکیٹ کی خدمت اور دنیا کی خدمت میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا؛ انہوں نے مقامی مارکیٹ کی افرادی قوت، لاگت کے فوائد اور تجربے کو عالمی مقابلے میں استعمال کیا۔</p>
<p>پاکستان بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے پاس انجینئرنگ کا مضبوط شعبہ، بڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اور خلیجی ممالک، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی جغرافیائی محل وقوع موجود ہے۔</p>
<p>پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے والے کاروبار کے لیے مواقع بہت بڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ بہت سے روایتی شعبے اب بھی ڈیجیٹلائزیشن سے محروم ہیں جبکہ صارفین اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>کچھ کاروباروں کے لیے پاکستان خود ایک بڑی اور کم خدمات یافتہ مارکیٹ ہے، جبکہ بعض دیگر کے لیے یہ افرادی قوت، مصنوعات کی تیاری یا ابتدائی صارفین کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ فاسٹ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔</p>
<p>ہمارے لیے یہ ایک دوسرے سے متصادم سرمایہ کاری کی حکمت عملیاں نہیں ہیں۔ ہم ایسے بانیوں کو تلاش کرتے ہیں جو بڑے مسائل حل کر رہے ہوں، ان کے پاس قابلِ دفاع مسابقتی برتری ہو اور وہ بڑی کمپنی بنانے کا عزم رکھتے ہوں۔ بطور سرمایہ کار ہمارا کام یہ پہچاننا ہے کہ کن کاروباروں میں یہ صلاحیت موجود ہے اور انہیں مطلوبہ سرمائے، نقطۂ نظر اور نیٹ ورک فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اس صلاحیت کو عملی جامہ پہنا سکیں۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان میں خاندانی کاروباروں، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور دیگر اداروں کے پاس سرمایہ کے بڑے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس میں سے نسبتاً کم حصہ وینچر کیپیٹل کے لیے مختص ہوتا ہے۔ مزید ملکی سرمایہ اس اثاثہ جاتی شعبے میں لانے کے لیے کیا ضروری ہے؟</p>
<p>نائل اوبرائے اکرام: پاکستان میں لازماً سرمائے کی کمی نہیں، بلکہ وینچر کیپیٹل کے اثاثہ جاتی شعبے کے لیے مختص ملکی سرمائے کی کمی ہے۔ فیملی آفسز، مالیاتی اداروں، پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیوں کے پاس سرمائے کے نمایاں ذخائر موجود ہیں، لیکن تاریخی طور پر وینچر کیپیٹل ان کے پورٹ فولیو کا بہت چھوٹا حصہ رہا ہے۔</p>
<p>اس کی ایک وجہ مارکیٹ کی پختگی بھی ہے۔ پاکستان میں وینچر کیپیٹل اب بھی نسبتاً نیا اثاثہ جاتی شعبہ ہے۔ بہت سے ملکی سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ، لسٹڈ حصص، فکسڈ انکم یا پہلے سے قائم کاروباروں میں براہِ راست سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ واقف ہیں۔</p>
<p>وینچر کیپیٹل کے لیے مختلف ذہنیت درکار ہوتی ہے۔ آپ پورٹ فولیو کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں، منافع طویل مدتی مدت میں حاصل ہوتا ہے، انفرادی کمپنیوں کا ناکام ہونا لازمی طور پر ممکن ہے اور کامیاب سرمایہ کاریوں کی نسبتاً کم تعداد فنڈ کے مجموعی منافع کا بڑا حصہ پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس میں ضابطہ کاری کا پہلو بھی شامل ہے۔ وسیع تر پالیسی بحث کو محض سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے آگے بڑھ کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ضابطہ کارانہ، ٹیکس اور فنڈ کے ڈھانچے طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے ایسی سرمایہ کاری کو عملی طور پر قابلِ عمل بنائیں۔</p>
<p>میرا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کے بڑے فیملی آفسز کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ سرمائے کے علاوہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا کاروباری تجربہ، شعبہ جاتی معلومات، تقسیم کے نیٹ ورک اور تعلقات موجود ہیں، جو نئی کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کے لیے انفرادی اسٹارٹ اپس میں براہِ راست سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر پیشہ ورانہ انتظام والے وینچر فنڈز میں بھی سرمایہ مختص کرنے کا موقع موجود ہے، جس سے تنوع اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا نظم و ضبط حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>بالآخر ہمیں ایسا چکر تشکیل دینا ہوگا جس میں ملکی سرمایہ پیشہ ور فنڈ مینیجرز کی پشت پناہی کرے، یہ مینیجرز معیاری کمپنیوں میں سرمایہ لگائیں، کامیاب کمپنیاں اخراج اور منافع پیدا کریں اور یہ سرمایہ فنڈز اور کاروباری افراد کی اگلی نسل میں دوبارہ گردش کرے۔</p>
<p>جب یہ نظام مؤثر انداز میں کام کرنا شروع کر دے گا تو وینچر کیپیٹل غیر ملکی سرمائے کے ادوار پر کم انحصار کرے گا اور پاکستان کی اپنی کیپیٹل مارکیٹس کا زیادہ مستقل حصہ بن جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291698</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 16:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155905e3df959.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25155905e3df959.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کا عالمی بحران ڈاؤن اسٹریم شعبے میں منتقل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291674/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کے عالمی بحران کی صورتحال اب مختلف شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خام تیل اب بھی مہنگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، لیکن بڑا دباؤ اب تیل کی پیداوار کے اگلے مرحلے میں، یعنی ڈیزل، ریفائننگ مارجنز اور ان ایندھنوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے جو دراصل سامان، زراعت اور کارخانوں کو چلاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ امریکا ایران تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور رہیں۔ اسی دوران خام تیل کی مارکیٹ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے، عراق برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے بعض اوقات خام تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی بلند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کے لیے حالات کو معمول پر لانا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ڈیزل سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ ایران تنازع اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹوں نے دو اہم برآمدی خطوں سے سپلائی کم کردی ہے۔ ذخائر کم ہوگئے ہیں، ریفائنریوں کی بندش نے قلت میں مزید اضافہ کردیا ہے، اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجنز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق نمایاں ہوچکا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کا فرق تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ یورپ میں حال ہی میں ڈیزل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت ہو رہا تھا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کا پریمیم حال ہی میں ریکارڈ 119 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا۔ ایشیا میں بھی ڈیزل کے مارجنز ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرکوں، زراعت اور تعمیرات کو چلانے والا ایندھن خام تیل نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ڈیزل کی بلند قیمتیں فوری طور پر مال برداری، زرعی اور صنعتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر صارفین کی قیمتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برینٹ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے دباؤ میں فوری ریلیف نہیں لا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر عالمی ڈیزل مارجنز بلند سطح پر برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی لاگت کا دباؤ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی کا یہ مسئلہ خام تیل کی قلت کے مقابلے میں حل کرنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں تیل پیدا کرنے والے اضافی گنجائش موجود ہونے کی صورت میں کارگو کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں یا مزید تیل پمپ کرسکتے ہیں، وہیں ریفائننگ کی گنجائش کہیں کم لچکدار ہے۔ متاثرہ ریفائنریوں کو مکمل پیداوار پر واپس آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ریفائنریاں بھی پیداوار میں ایک محدود حد تک ہی اضافہ کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ذخائر بھی زیادہ اطمینان فراہم نہیں کر رہے۔ امریکا میں ڈیزل کے ذخائر سال کے اس وقت کے معمول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہیں، جبکہ یورپ میں بھی ذخائر تاریخی اوسط سے کم ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق ڈیزل کی سخت سپلائی کی صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے ڈیزل سمیت ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ بلند ریفائننگ مارجنز سے دیگر خطوں کی ریفائنریوں کو بھی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان دونوں اقدامات میں سے کوئی بھی فوری حل فراہم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحران کے آغاز میں بنیادی سوال یہ تھا کہ خام تیل کی سپلائی میں کتنی کمی واقع ہوگی اور برینٹ کی قیمت کتنی بلند ہوسکتی ہے۔ اب خام تیل کی کچھ سپلائی کے بہاؤ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم ڈاؤن اسٹریم نظام نے تقریباً اتنی تیزی سے خود کو حالات کے مطابق نہیں ڈھالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا توانائی کے بحران کا اگلا مرحلہ اس بات سے کم متعلق ہوسکتا ہے کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر یا 110 ڈالر فی بیرل ہے، اور اس بات سے زیادہ متعلق ہوسکتا ہے کہ ریفائنرز ان بیرل کو ان ایندھنوں میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی قیمت وصول کر رہے ہیں جنہیں عالمی معیشت حقیقتاً استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کا بحران ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ڈاؤن اسٹریم مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کے عالمی بحران کی صورتحال اب مختلف شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خام تیل اب بھی مہنگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، لیکن بڑا دباؤ اب تیل کی پیداوار کے اگلے مرحلے میں، یعنی ڈیزل، ریفائننگ مارجنز اور ان ایندھنوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے جو دراصل سامان، زراعت اور کارخانوں کو چلاتے ہیں۔</strong></p>
<p>جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ امریکا ایران تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور رہیں۔ اسی دوران خام تیل کی مارکیٹ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے، عراق برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے بعض اوقات خام تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی بلند ہیں۔</p>
<p>تاہم ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کے لیے حالات کو معمول پر لانا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>عالمی ڈیزل سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ ایران تنازع اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹوں نے دو اہم برآمدی خطوں سے سپلائی کم کردی ہے۔ ذخائر کم ہوگئے ہیں، ریفائنریوں کی بندش نے قلت میں مزید اضافہ کردیا ہے، اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجنز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>اب خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق نمایاں ہوچکا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کا فرق تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ یورپ میں حال ہی میں ڈیزل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت ہو رہا تھا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کا پریمیم حال ہی میں ریکارڈ 119 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا۔ ایشیا میں بھی ڈیزل کے مارجنز ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرکوں، زراعت اور تعمیرات کو چلانے والا ایندھن خام تیل نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ڈیزل کی بلند قیمتیں فوری طور پر مال برداری، زرعی اور صنعتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر صارفین کی قیمتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برینٹ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے دباؤ میں فوری ریلیف نہیں لا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر عالمی ڈیزل مارجنز بلند سطح پر برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی لاگت کا دباؤ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>سپلائی کا یہ مسئلہ خام تیل کی قلت کے مقابلے میں حل کرنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں تیل پیدا کرنے والے اضافی گنجائش موجود ہونے کی صورت میں کارگو کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں یا مزید تیل پمپ کرسکتے ہیں، وہیں ریفائننگ کی گنجائش کہیں کم لچکدار ہے۔ متاثرہ ریفائنریوں کو مکمل پیداوار پر واپس آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ریفائنریاں بھی پیداوار میں ایک محدود حد تک ہی اضافہ کرسکتی ہیں۔</p>
<p>اور ذخائر بھی زیادہ اطمینان فراہم نہیں کر رہے۔ امریکا میں ڈیزل کے ذخائر سال کے اس وقت کے معمول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہیں، جبکہ یورپ میں بھی ذخائر تاریخی اوسط سے کم ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق ڈیزل کی سخت سپلائی کی صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔</p>
<p>چین نے ڈیزل سمیت ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ بلند ریفائننگ مارجنز سے دیگر خطوں کی ریفائنریوں کو بھی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان دونوں اقدامات میں سے کوئی بھی فوری حل فراہم نہیں کرتا۔</p>
<p>بحران کے آغاز میں بنیادی سوال یہ تھا کہ خام تیل کی سپلائی میں کتنی کمی واقع ہوگی اور برینٹ کی قیمت کتنی بلند ہوسکتی ہے۔ اب خام تیل کی کچھ سپلائی کے بہاؤ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم ڈاؤن اسٹریم نظام نے تقریباً اتنی تیزی سے خود کو حالات کے مطابق نہیں ڈھالا۔</p>
<p>لہٰذا توانائی کے بحران کا اگلا مرحلہ اس بات سے کم متعلق ہوسکتا ہے کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر یا 110 ڈالر فی بیرل ہے، اور اس بات سے زیادہ متعلق ہوسکتا ہے کہ ریفائنرز ان بیرل کو ان ایندھنوں میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی قیمت وصول کر رہے ہیں جنہیں عالمی معیشت حقیقتاً استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>تیل کا بحران ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ڈاؤن اسٹریم مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291674</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 10:09:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/251007178f52f6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="648" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/251007178f52f6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکوز کی نجکاری، کے الیکٹرک سے کیا سبق سیکھا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291624/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کافی عرصے سے زیر التوا نجکاری کا ایجنڈا اب رفتار پکڑ رہا ہے۔ خسارے میں جانے والی ایئرلائن پی آئی اے کا معاملہ بالآخر نمٹا دیا گیا ہے۔ اب وہ عملے کی یونیفارم کو حتمی شکل دینے کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند منظر ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اب بھی اظہارِ دلچسپی کے مرحلے پر ہیں اور پیش رفت کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نجکاری کے عمل پر بات کرتے ہوئے کے الیکٹرک (کے ای) کے معاملے میں حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی، کیونکہ ریگولیٹر کے اپیلیٹ ٹریبونل نے کمپنی کی کثیر سالہ ٹیرف درخواست مسترد کردی ہے۔ کئی تجزیہ کار پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کے الیکٹرک کو تقریباً 32 روپے کے ٹیرف پر برقرار رکھنے کا فیصلہ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز جو ملک بھر میں اپنے مقررہ علاقوں میں کام کرتی ہیں، ان کا کم خوش آئند کام عوام کا سامنا کرنا، بل وصول کرنا، شکایات اور بجلی کی بندش سے نمٹنا، اور نیٹ ورک کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ تاہم جب ان کی نجکاری اور فروخت کی بات آتی ہے تو ذمہ داری کہیں زیادہ بڑی ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجی کاری کے لیے مختص ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں کہ نجکاری کس طریقہ کار کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ فیصلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے کے الیکٹرک میں شنگھائی الیکٹرک کی دلچسپی موجودہ نجکاری مہم کے لیے بھی ایک معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تقریباً نو سال کی تاخیر کے بعد شنگھائی الیکٹرک پاور نے ستمبر 2025 میں کے الیکٹرک میں اکثریتی حصص حاصل کرنے کے لیے اپنی 1.77 ارب ڈالر کی پیشکش ختم کردی۔ کمپنی نے اس کی وجہ مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونا اور پاکستان کے کاروباری اور ضابطہ جاتی ماحول میں منفی تبدیلی کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ معاہدہ مکمل ہوجاتا تو 1.77 ارب ڈالر کی یہ خریداری ایک فیصلہ کن تبدیلی کا باعث بنتی۔ یہ 2007 سے 2009 کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی دلچسپی کی نمائندگی کرتی۔ مالی اثرات کے علاوہ، علم اور مہارت کی منتقلی پاکستان کے بجلی کے شعبے کو اس ضروری اصلاحات کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی تھی جو اس کی تبدیلی کے لیے درکار ہیں۔ چین کے آٹو سیکٹر کی بڑی کمپنیوں کی شمولیت  پاکستان کی گاڑیوں کی کمپنیوں میں نمایاں ہل چل مچا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ قبضہ یا حصول کامیاب ہوجاتا تو اس سے ایسی نجکاری کے ماڈل کو عملی اعتبار حاصل ہوتا جو محض مالیاتی مقاصد کے بجائے اسٹریٹجک آپریٹرز اور ان کی کاروباری محرکات پر مبنی ہوتا۔ موجودہ نجکاری مہم کے پاس فروخت کے لیے ایک عملی نمونہ موجود ہوتا اور کارکردگی پر مبنی ضابطہ کاری کے لیے ایک حقیقی معیار بھی قائم ہوجاتا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہوتی کہ پاکستان خود کو ایسے ملک کے طور پر منوا لیتا جہاں گردشی قرضے اور پالیسی خطرات کے باوجود بجلی کے شعبے میں پیچیدہ اور بلند مالیت کے معاملات سے نمٹنے کی عملی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ معاملہ بالآخر اس بات کی محض ایک مثال بن کر رہ گیا کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کس طرح ایسی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتی ہے جس میں نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی الیکٹرک کے دستبردار ہونے کے فیصلے میں ایک اور اہم عنصر نیپرا کی جانب سے 2018 میں جاری کیا گیا ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) تھا۔ اس نے منافع میں نمایاں کمی کی اور کے الیکٹرک کی قدر میں کمی کردی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی قدر کا دوبارہ جائزہ لینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی یوٹیلیٹی کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف اس کے کاروبار چلانے کی لاگت کا تعین کرتا ہے اور صارفین کے ٹیرف سے الگ ہوتا ہے، جو یکساں اور علیحدہ طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی غیر متوقع کمی یا نظرثانی سے سرمایہ کاروں کے لیے کسی حصول کا معاملہ ناقابل عمل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً معاہدہ ختم ہوسکتا ہے، جیسا کہ اس معاملے میں دیکھنے کو ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب 2026 میں کے الیکٹرک کو مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 کے کنٹرول پیریڈ کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کا سامنا ہے، جس کا فیصلہ 2023 میں جاری ہوجانا چاہیے تھا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کمپنی خود اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے کہ وہ روزمرہ کے آپریشنز کیسے چلائے گی، مزید سرمایہ کاری کرنا تو دور کی بات ہے۔ کراچی میں کام کرنے والی ایک یوٹیلیٹی کے لیے، جو پاکستان کا سب سے اہم اقتصادی اور سماجی مرکز ہے، یہ صورتحال بہت کچھ بیان کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن پہلے بنیادی بات: حکومت کا نجکاری ایجنڈا۔ وزارتِ نجکاری کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق نجکاری کمیشن ممکنہ سرمایہ کاروں اور بجلی کے شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کرے گا تاکہ موجودہ ڈسکو ٹیرف اسٹرکچر، ملٹی ایئر ٹیرف نظام، کاروباری ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے لیے فریم ورک کو بہتر بنایا جاسکے۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد کارکردگی اور استعداد پر مبنی منافع کا نظام تشکیل دینا ہے، جبکہ نجی شعبے کے خریداروں کو اضافی کاروباری مواقع کے لیے ڈسکو کے بنیادی ڈھانچے اور صارفین کے وسیع حلقے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں کارکردگی اور استعداد کو بڑی حد تک دو پیمانوں سے ناپا جاتا ہے: ترسیل اور تقسیم کے نقصانات (ٹی اینڈ ڈی لاسز) اور وصولی کے تناسب۔ فروخت کے لیے پیش کی جانے والی تینوں ڈسکوز کے ان پیمانوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں تاریخی طور پر ایک ہندسے میں ٹی اینڈ ڈی نقصانات اور اوسطاً 98 فیصد سے زیادہ وصولی کا تناسب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز خراب نہیں ہے تو ہم اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ضابطہ جاتی شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ایک قابل پیش گوئی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے پاس نجکاری کی جو واحد کہانی بیان کرنے کے لیے موجود ہے، وہ اس کے برعکس ثابت ہوتی ہے۔ شنگھائی الیکٹرک اور کے الیکٹرک کا معاملہ واضح کرتا ہے کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال، ٹیرف میں ازسرنو تبدیلی اور گردشی قرضہ بجلی کی تقسیم کار یوٹیلیٹیز میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور اور بڑی  براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ٹریبونل کا تازہ ترین فیصلہ ایک اور سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے ضابطہ جاتی یقین دہانی کلیدی حیثیت رکھے گی۔ یہ یقین دہانی مضبوط ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) مختص کرنے میں مضمر ہے۔ کاروبار چلانے کی لاگت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو سرمایہ کاروں کی جانب سے سرد ردعمل کا سامنا کرنا متوقع ہے، جبکہ منافع میں نمایاں تبدیلیاں، جیسا کہ 2018 میں دیکھنے کو ملیں، اس بات کے ازسرنو جائزے کا باعث بن سکتی ہیں کہ کمپنی دراصل ان کے لیے کتنی مالیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا موجودہ نجکاری کے مقاصد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پالیسی کے راستوں اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کا مقصد بار بار ہونے والے مالیاتی اخراجات کا خاتمہ، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور آپریشنل نظم و ضبط متعارف کرانا ہونا چاہیے۔ اگر خریدار کے منافع کی ضمانت دے کر، اسے کاروباری خطرات سے محفوظ رکھ کر اور ہر قسم کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر منتقل کرکے زیادہ فروختی قیمت حاصل کرلی جائے تو یہ حساب کتاب کے اعتبار سے کامیابی ضرور ہوگی، لیکن پالیسی کے اعتبار سے ناکامی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص آئی پی پی معاہدوں اور 20 سال بعد شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی صورتحال کو دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ بجلی کا شعبہ اور اس کے صارفین پہلے ہی بہت کچھ برداشت کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید شنگھائی الیکٹرک کا معاملہ حکومت کے لیے سیکھنے کے لیے ایک ضروری سبق تھا۔ آخرکار، تجربہ بہترین استاد ہوتا ہے۔ تاہم، اگر کوئی شخص ہماری طرح طویل عرصے تک پاکستان میں رہ چکا ہو اور اس کی معیشت کو دیکھتا رہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کافی عرصے سے زیر التوا نجکاری کا ایجنڈا اب رفتار پکڑ رہا ہے۔ خسارے میں جانے والی ایئرلائن پی آئی اے کا معاملہ بالآخر نمٹا دیا گیا ہے۔ اب وہ عملے کی یونیفارم کو حتمی شکل دینے کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند منظر ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اب بھی اظہارِ دلچسپی کے مرحلے پر ہیں اور پیش رفت کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔</strong></p>
<p>تاہم نجکاری کے عمل پر بات کرتے ہوئے کے الیکٹرک (کے ای) کے معاملے میں حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی، کیونکہ ریگولیٹر کے اپیلیٹ ٹریبونل نے کمپنی کی کثیر سالہ ٹیرف درخواست مسترد کردی ہے۔ کئی تجزیہ کار پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کے الیکٹرک کو تقریباً 32 روپے کے ٹیرف پر برقرار رکھنے کا فیصلہ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔</p>
<p>ڈسکوز جو ملک بھر میں اپنے مقررہ علاقوں میں کام کرتی ہیں، ان کا کم خوش آئند کام عوام کا سامنا کرنا، بل وصول کرنا، شکایات اور بجلی کی بندش سے نمٹنا، اور نیٹ ورک کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ تاہم جب ان کی نجکاری اور فروخت کی بات آتی ہے تو ذمہ داری کہیں زیادہ بڑی ہوجاتی ہے۔</p>
<p>معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجی کاری کے لیے مختص ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں کہ نجکاری کس طریقہ کار کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔</p>
<p>حالیہ فیصلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے کے الیکٹرک میں شنگھائی الیکٹرک کی دلچسپی موجودہ نجکاری مہم کے لیے بھی ایک معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تقریباً نو سال کی تاخیر کے بعد شنگھائی الیکٹرک پاور نے ستمبر 2025 میں کے الیکٹرک میں اکثریتی حصص حاصل کرنے کے لیے اپنی 1.77 ارب ڈالر کی پیشکش ختم کردی۔ کمپنی نے اس کی وجہ مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونا اور پاکستان کے کاروباری اور ضابطہ جاتی ماحول میں منفی تبدیلی کو قرار دیا۔</p>
<p>اگر یہ معاہدہ مکمل ہوجاتا تو 1.77 ارب ڈالر کی یہ خریداری ایک فیصلہ کن تبدیلی کا باعث بنتی۔ یہ 2007 سے 2009 کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی دلچسپی کی نمائندگی کرتی۔ مالی اثرات کے علاوہ، علم اور مہارت کی منتقلی پاکستان کے بجلی کے شعبے کو اس ضروری اصلاحات کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی تھی جو اس کی تبدیلی کے لیے درکار ہیں۔ چین کے آٹو سیکٹر کی بڑی کمپنیوں کی شمولیت  پاکستان کی گاڑیوں کی کمپنیوں میں نمایاں ہل چل مچا چکی ہے۔</p>
<p>اگر یہ قبضہ یا حصول کامیاب ہوجاتا تو اس سے ایسی نجکاری کے ماڈل کو عملی اعتبار حاصل ہوتا جو محض مالیاتی مقاصد کے بجائے اسٹریٹجک آپریٹرز اور ان کی کاروباری محرکات پر مبنی ہوتا۔ موجودہ نجکاری مہم کے پاس فروخت کے لیے ایک عملی نمونہ موجود ہوتا اور کارکردگی پر مبنی ضابطہ کاری کے لیے ایک حقیقی معیار بھی قائم ہوجاتا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہوتی کہ پاکستان خود کو ایسے ملک کے طور پر منوا لیتا جہاں گردشی قرضے اور پالیسی خطرات کے باوجود بجلی کے شعبے میں پیچیدہ اور بلند مالیت کے معاملات سے نمٹنے کی عملی صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>تاہم، یہ معاملہ بالآخر اس بات کی محض ایک مثال بن کر رہ گیا کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کس طرح ایسی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتی ہے جس میں نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔</p>
<p>شنگھائی الیکٹرک کے دستبردار ہونے کے فیصلے میں ایک اور اہم عنصر نیپرا کی جانب سے 2018 میں جاری کیا گیا ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) تھا۔ اس نے منافع میں نمایاں کمی کی اور کے الیکٹرک کی قدر میں کمی کردی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی قدر کا دوبارہ جائزہ لینا پڑا۔</p>
<p>بجلی کی یوٹیلیٹی کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف اس کے کاروبار چلانے کی لاگت کا تعین کرتا ہے اور صارفین کے ٹیرف سے الگ ہوتا ہے، جو یکساں اور علیحدہ طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی غیر متوقع کمی یا نظرثانی سے سرمایہ کاروں کے لیے کسی حصول کا معاملہ ناقابل عمل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً معاہدہ ختم ہوسکتا ہے، جیسا کہ اس معاملے میں دیکھنے کو ملا۔</p>
<p>اب 2026 میں کے الیکٹرک کو مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 کے کنٹرول پیریڈ کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کا سامنا ہے، جس کا فیصلہ 2023 میں جاری ہوجانا چاہیے تھا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کمپنی خود اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے کہ وہ روزمرہ کے آپریشنز کیسے چلائے گی، مزید سرمایہ کاری کرنا تو دور کی بات ہے۔ کراچی میں کام کرنے والی ایک یوٹیلیٹی کے لیے، جو پاکستان کا سب سے اہم اقتصادی اور سماجی مرکز ہے، یہ صورتحال بہت کچھ بیان کرتی ہے۔</p>
<p>لیکن پہلے بنیادی بات: حکومت کا نجکاری ایجنڈا۔ وزارتِ نجکاری کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق نجکاری کمیشن ممکنہ سرمایہ کاروں اور بجلی کے شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کرے گا تاکہ موجودہ ڈسکو ٹیرف اسٹرکچر، ملٹی ایئر ٹیرف نظام، کاروباری ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے لیے فریم ورک کو بہتر بنایا جاسکے۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد کارکردگی اور استعداد پر مبنی منافع کا نظام تشکیل دینا ہے، جبکہ نجی شعبے کے خریداروں کو اضافی کاروباری مواقع کے لیے ڈسکو کے بنیادی ڈھانچے اور صارفین کے وسیع حلقے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں کارکردگی اور استعداد کو بڑی حد تک دو پیمانوں سے ناپا جاتا ہے: ترسیل اور تقسیم کے نقصانات (ٹی اینڈ ڈی لاسز) اور وصولی کے تناسب۔ فروخت کے لیے پیش کی جانے والی تینوں ڈسکوز کے ان پیمانوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں تاریخی طور پر ایک ہندسے میں ٹی اینڈ ڈی نقصانات اور اوسطاً 98 فیصد سے زیادہ وصولی کا تناسب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز خراب نہیں ہے تو ہم اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟</p>
<p>اسی ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ضابطہ جاتی شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ایک قابل پیش گوئی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔</p>
<p>ہمارے پاس نجکاری کی جو واحد کہانی بیان کرنے کے لیے موجود ہے، وہ اس کے برعکس ثابت ہوتی ہے۔ شنگھائی الیکٹرک اور کے الیکٹرک کا معاملہ واضح کرتا ہے کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال، ٹیرف میں ازسرنو تبدیلی اور گردشی قرضہ بجلی کی تقسیم کار یوٹیلیٹیز میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور اور بڑی  براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ٹریبونل کا تازہ ترین فیصلہ ایک اور سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>نجکاری کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے ضابطہ جاتی یقین دہانی کلیدی حیثیت رکھے گی۔ یہ یقین دہانی مضبوط ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) مختص کرنے میں مضمر ہے۔ کاروبار چلانے کی لاگت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو سرمایہ کاروں کی جانب سے سرد ردعمل کا سامنا کرنا متوقع ہے، جبکہ منافع میں نمایاں تبدیلیاں، جیسا کہ 2018 میں دیکھنے کو ملیں، اس بات کے ازسرنو جائزے کا باعث بن سکتی ہیں کہ کمپنی دراصل ان کے لیے کتنی مالیت رکھتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا موجودہ نجکاری کے مقاصد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پالیسی کے راستوں اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کا مقصد بار بار ہونے والے مالیاتی اخراجات کا خاتمہ، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور آپریشنل نظم و ضبط متعارف کرانا ہونا چاہیے۔ اگر خریدار کے منافع کی ضمانت دے کر، اسے کاروباری خطرات سے محفوظ رکھ کر اور ہر قسم کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر منتقل کرکے زیادہ فروختی قیمت حاصل کرلی جائے تو یہ حساب کتاب کے اعتبار سے کامیابی ضرور ہوگی، لیکن پالیسی کے اعتبار سے ناکامی ہوگی۔</p>
<p>کوئی بھی شخص آئی پی پی معاہدوں اور 20 سال بعد شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی صورتحال کو دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ بجلی کا شعبہ اور اس کے صارفین پہلے ہی بہت کچھ برداشت کرچکے ہیں۔</p>
<p>شاید شنگھائی الیکٹرک کا معاملہ حکومت کے لیے سیکھنے کے لیے ایک ضروری سبق تھا۔ آخرکار، تجربہ بہترین استاد ہوتا ہے۔ تاہم، اگر کوئی شخص ہماری طرح طویل عرصے تک پاکستان میں رہ چکا ہو اور اس کی معیشت کو دیکھتا رہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291624</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 10:11:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2410083258aa91a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2410083258aa91a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاول برآمدات، مال برداری کے بجائے تجارت کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291582/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مالی سال 2026 میں 4.29 ملین میٹرک ٹن چاول برآمد کیے، جن کی مالیت 2.29 ارب ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال کی منزلوں کی تقسیم کو موجودہ برآمدی بنیاد پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً 36.5 فیصد، یعنی 836 ملین ڈالر کی تجارت، آبنائے ہرمز، خلیج عدن یا کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد طویل راستے میں جاری رکاوٹوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجارت میں تقریباً 390 ملین ڈالر کی برآمدات ان منڈیوں سے متعلق ہیں جو براہِ راست آبنائے ہرمز یا باب المندب پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ مزید 356 ملین ڈالر برطانیہ اور براعظم یورپ سے منسلک ہیں۔ عمان کا حصہ تقریباً 92 ملین ڈالر ہے اور یہ ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی بندرگاہیں اضافی تجارت کو لامحدود حد تک منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، کیونکہ اس سے بندرگاہوں پر بھیڑ، اضافی ہینڈلنگ اور اندرونِ ملک نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین بحری نقل و حمل کے بحران سے پہلے ہی صنعت پیچھے جا رہی تھی۔ مالی سال 2025 میں چاول کی برآمدات 5.82 ملین میٹرک ٹن تھیں، جن کی مالیت 3.35 ارب ڈالر تھی، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 4.29 ملین میٹرک ٹن اور 2.29 ارب ڈالر رہ گئیں۔ یوں حجم میں 26.2 فیصد اور برآمدی آمدنی میں 31.7 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوسط حاصل شدہ قیمت 576 ڈالر سے کم ہو کر 534 ڈالر فی میٹرک ٹن رہ گئی۔ سالانہ برآمدی آمدنی میں 1.06 ارب ڈالر کی کمی کی وجہ اس لیے کم ترسیلات اور کمزور قیمتیں، دونوں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم میں تقریباً پوری کمی نان باسمتی چاول سے آئی۔ اس کی برآمدات 30.2 فیصد کم ہو کر 3.50 ملین میٹرک ٹن رہ گئیں، جبکہ آمدنی 42.6 فیصد گر کر 1.45 ارب ڈالر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نان باسمتی چاول کی اوسط حاصل شدہ قیمت 17.8 فیصد کم ہو کر 504 ڈالر سے 414 ڈالر فی میٹرک ٹن رہ گئی۔ باسمتی چاول کی برآمدی مقدار صرف 1.7 فیصد کم ہو کر 795,000 میٹرک ٹن رہی، جبکہ آمدنی 1.5 فیصد بڑھ کر 843 ملین ڈالر ہوگئی اور اوسط حاصل شدہ قیمت 1,028 ڈالر سے بڑھ کر 1,061 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس بات کا تعین کرتا ہے کہ شپنگ اخراجات میں ایک اور اضافے کی صورت میں صنعت کا کون سا حصہ برقرار رہ سکتا ہے۔ 25 میٹرک ٹن کے ایک کنٹینر پر مال برداری، انشورنس اور ہینڈلنگ کے اضافی 2,500 ڈالر، فی میٹرک ٹن 100 ڈالر کے اضافی خرچ کا باعث بنتے ہیں، جو موجودہ نان باسمتی قیمت کا 24 فیصد ہے، جبکہ باسمتی کی قیمت کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ اضافہ 150 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوجائے تو یہ نان باسمتی کی برآمدی مالیت کے 36 فیصد سے زیادہ حصے کو ختم کردیتا ہے۔ شپنگ کا راستہ تکنیکی طور پر دستیاب رہ سکتا ہے، تاہم جنگی خطرے کے پریمیم، اضافی سفری وقت اور اندرونِ ملک نقل و حمل کے اخراجات شامل ہونے کے بعد کارگو تجارتی لحاظ سے بے فائدہ ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری برآمدی خطرہ خاصا بڑا ہے۔ چھ ماہ کی رکاوٹ کی صورت میں تقریباً 195 ملین ڈالر کی براہِ راست اہم بحری راستوں پر منحصر تجارت اور 178 ملین ڈالر کی یورپی تجارت متاثرہ مدت کے دائرے میں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر براہِ راست راستوں سے ہونے والی نصف برآمدی ترسیلات منسوخ یا مؤخر ہوجائیں اور یورپ کو برآمدات میں 10 فیصد کمی آئے تو ابتدائی برآمدی آمدنی کا خسارہ تقریباً 115 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ افریقہ اور ایشیا کی جانب منتقل کیے جانے والے چاول پر قیمتوں میں رعایت کی صورت میں چھ ماہ کا نقصان 115 سے 190 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ شدید نوعیت کے پورے سال کے منظرنامے میں تقریباً 334 ملین ڈالر خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے زیادہ خطرناک اثر بندرگاہوں سے دور پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2026 میں مالی سال 2025 کے مقابلے میں 1.53 ملین میٹرک ٹن کم چاول برآمد کیے، جس کے نتیجے میں چاول کی ایک نمایاں زیادہ مقدار مقامی ملوں، گوداموں اور اجناس کی منڈیوں کو جذب کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملنگ ریکوری کی 67 فیصد شرح پر برآمدات میں یہ کمی تقریباً 2.28 ملین میٹرک ٹن دھان کے برابر ہے۔ یہ اضافی دباؤ اکتوبر سے دسمبر کے دوران فصل کی کٹائی کے عرصے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جب منڈی میں آمد عروج پر ہوتی ہے اور کسانوں کے پاس پیداوار روک کر رکھنے کی صلاحیت سب سے کم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب ناخوشگوار ہے۔ 40 کلوگرام پر 500 روپے کی کمی، جو صرف 12.50 روپے فی کلوگرام کے برابر ہے، 2.28 ملین میٹرک ٹن دھان کی مجموعی مالیت میں تقریباً 28.5 ارب روپے کی کمی کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;40 کلوگرام پر 1,000 روپے کی کمی تقریباً 57 ارب روپے ختم کردیتی ہے۔ ان حسابات میں قیمت میں کمی صرف برآمدی کمی کے برابر دھان کی مقدار پر لاگو کی گئی ہے؛ جب کمزور منڈی قیمتیں پوری فصل کے لیے معیار بن جائیں تو دیہی آمدنی کو لاحق خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان چاول سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیر استعمال شدہ بچت کے طور پر نہیں رکھتے۔ حاصل شدہ رقم کمیشن ایجنٹوں اور زرعی مداخل فراہم کرنے والے ڈیلروں کے قرضے چکانے، گھریلو اخراجات پورے کرنے اور گندم کی بوائی کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو چاول کی کٹائی اور اس کی مارکیٹنگ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارم گیٹ قیمتوں میں کمی اس لیے غیر رسمی قرضوں کے پورے سلسلے میں وصولیوں کو کمزور کرتی ہے، کھاد اور تصدیق شدہ بیج کی خریداری گھٹاتی ہے اور ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور دیہی خوردہ فروشوں پر دباؤ بڑھاتی ہے۔ جو مسئلہ برآمدات سے شروع ہوتا ہے، آخرکار وسیع تر دیہی معیشت سے نقدی کو نکال دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کی کمی اکتوبر سے دسمبر 2025 کی فصل کو کمزور انداز میں جذب کیے جانے کی عکاسی کرتی ہے۔ موجودہ رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں اب خطرہ ہے کہ باقی ماندہ اسٹاک اگلی فصل تک منتقل ہوجائیں گے، جس سے مل مالکان کے پاس نئے دھان کی خریداری کے لیے محتاط بولی لگانے کی ہر وجہ ہوگی اور کسانوں کے پاس قیمتیں مزید گرنے سے پہلے اپنی پیداوار فروخت کرنے کی ہر وجہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے مداخلت فوری ہوگئی ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ کسی بھی قیمت پر برآمد کنندگان کے منافع کو برقرار رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بحری نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو اضافی ذخائر، فارم گیٹ قیمتوں میں شدید جھٹکے اور بالآخر دیہی قرضوں کے مسئلے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوقع پالیسی ردعمل مال برداری پر سبسڈی ہوگا۔ مالی سال 2026 کی چاول کی برآمدات پر 50 ڈالر فی میٹرک ٹن کی سبسڈی دینے کی صورت میں تقریباً 215 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ 100 ڈالر فی میٹرک ٹن کی سبسڈی کی لاگت 429 ملین ڈالر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رقم ہر اہل برآمدی ترسیل پر ادا کی جائے گی، جس میں وہ برآمدات بھی شامل ہوں گی جو امداد کے بغیر بھی کی جاتیں۔ یہ رقم غیر متناسب طور پر ان کمپنیوں کی جانب بھی جائے گی جو پہلے ہی جہاز حاصل کرنے اور رقم کی واپسی کے طریقہ کار سے نمٹنے کے لیے کافی بڑی ہیں، اور یوں عارضی ریلیف خاموشی سے مراعات کے مستقل سلسلے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس پہلے ہی اس حقیقی مالی پابندی سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ موجود ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 2022 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور یہ ملک کا ریاستی پشت پناہی رکھنے والا برآمدی قرضہ فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی قرض بیمہ مال برداری کی شرح کم نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی جہاز کو فزیکل نقصان سے محفوظ رکھے گا۔ تاہم یہ خریدار کی عدم ادائیگی، ادائیگی میں تاخیر اور قابلِ قبول سیاسی یا رقوم کی منتقلی سے متعلق خطرات کا احاطہ کرسکتا ہے، جس سے بینک ایسے برآمدی واجبات کی مالی معاونت کرسکتے ہیں جن کی وصولی کی مدت غیر یقینی ہوگئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹ امپورٹ بینک کو متاثرہ خلیجی، بحیرہ احمر اور یورپی منڈیوں کے لیے تصدیق شدہ ترسیلات کی خاطر چھ ماہ کی رائس ایکسپورٹ کنٹینیوٹی ونڈو قائم کرنی چاہیے۔ 200 ملین ڈالر کے پائلٹ پورٹ فولیو پر 80 فیصد کوریج کے ذریعے 160 ملین ڈالر کی بیمہ شدہ ایکسپوژر پیدا ہوگی، جبکہ برآمد کنندگان باقی 20 فیصد خطرہ خود برقرار رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 3 فیصد کی مثالی پریمیم شرح پر مکمل مالیاتی پریمیم خریدنے کی لاگت 3.2 سے 4.8 ملین ڈالر ہوگی۔ حتیٰ کہ 5 فیصد کلیم کی شرح سے مجموعی کلیمز 8 ملین ڈالر ہوں گے، جبکہ 10 فیصد کلیم کی شرح سے وصولیوں سے پہلے 16 ملین ڈالر کے کلیمز بنیں گے۔ اس کے مقابلے میں کم ترین مال برداری سبسڈی کے آپشن پر 215 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بیمہ نقصان ہونے سے پہلے نقدی کی دستیابی ممکن بناتا ہے۔ اگر کمرشل بینک 160 ملین ڈالر کے بیمہ شدہ پورٹ فولیو کے مقابلے میں 80 فیصد ایڈوانس فراہم کریں تو برآمد کنندگان کو دھان خریدنے، اسٹاک رکھنے اور ادائیگی کے طویل ادوار سے نمٹنے کے لیے 128 ملین ڈالر تک حاصل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے کے مستفیدین کے لیے صفر یا معمولی پریمیم قابلِ دفاع ہوگا، بشرطیکہ یہ سہولت عارضی، محدود اور مناسب طریقے سے خطرے کا جائزہ لے کر چلائی جائے۔ ایک ایسا برآمدی قرضہ ادارہ جو تجارتی خطرہ ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد ہی بیمہ فراہم کرے، مہنگے لیٹر ہیڈ سے زیادہ کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان کو ہر ایکسپوژر کا کم از کم 10 سے 20 فیصد خطرہ اپنے پاس رکھنا چاہیے، جبکہ ارتکاز کو روکنے کے لیے کمپنی، خریدار اور منزل کے حوالے سے حدود مقرر کی جانی چاہئیں۔ قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی، اجناس کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والے نقصانات، متعلقہ فریقوں کے درمیان لین دین اور برآمد کنندگان کی جانب سے معاہدے کی عدم تکمیل کو اس سہولت سے باہر رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آپریشنل اقدامات بھی ضروری ہیں، جن میں عمان اور متحدہ عرب امارات کی مشرقی بندرگاہوں کے لیے گنجائش، متبادل اندرونِ ملک راستے اور ایسے معاہدے شامل ہیں جو سامان اتارنے کی جگہ تبدیل کرنے کی اجازت دیتے ہوں۔ بیمہ سامان کو منتقل نہیں کرسکتا، لیکن یہ قابلِ عمل آرڈرز کو اس وجہ سے منسوخ ہونے سے روک سکتا ہے کہ برآمد کنندگان اور ان کے بینک مزید 60 یا 90 دن کی غیر یقینی صورتحال برداشت کرنے کے قابل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مال برداری کی مد میں 215 سے 429 ملین ڈالر کی ادائیگی کرسکتا ہے اور اس امید پر رہ سکتا ہے کہ سبسڈی کا بل سیاسی طور پر ناقابلِ واپسی بننے سے پہلے اہم بحری راستوں کی رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ یا پھر وہ محدود اور رعایتی مالی وسائل استعمال کرکے تجارتی قرض بیمہ فعال کرسکتا ہے، بینکوں کی مالی معاونت متحرک کرسکتا ہے اور شپنگ کے بحران کو دیہی آمدنی کے بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مالی سال 2026 میں 4.29 ملین میٹرک ٹن چاول برآمد کیے، جن کی مالیت 2.29 ارب ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال کی منزلوں کی تقسیم کو موجودہ برآمدی بنیاد پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً 36.5 فیصد، یعنی 836 ملین ڈالر کی تجارت، آبنائے ہرمز، خلیج عدن یا کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد طویل راستے میں جاری رکاوٹوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔</strong></p>
<p>اس تجارت میں تقریباً 390 ملین ڈالر کی برآمدات ان منڈیوں سے متعلق ہیں جو براہِ راست آبنائے ہرمز یا باب المندب پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ مزید 356 ملین ڈالر برطانیہ اور براعظم یورپ سے منسلک ہیں۔ عمان کا حصہ تقریباً 92 ملین ڈالر ہے اور یہ ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی بندرگاہیں اضافی تجارت کو لامحدود حد تک منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، کیونکہ اس سے بندرگاہوں پر بھیڑ، اضافی ہینڈلنگ اور اندرونِ ملک نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>تازہ ترین بحری نقل و حمل کے بحران سے پہلے ہی صنعت پیچھے جا رہی تھی۔ مالی سال 2025 میں چاول کی برآمدات 5.82 ملین میٹرک ٹن تھیں، جن کی مالیت 3.35 ارب ڈالر تھی، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 4.29 ملین میٹرک ٹن اور 2.29 ارب ڈالر رہ گئیں۔ یوں حجم میں 26.2 فیصد اور برآمدی آمدنی میں 31.7 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>اوسط حاصل شدہ قیمت 576 ڈالر سے کم ہو کر 534 ڈالر فی میٹرک ٹن رہ گئی۔ سالانہ برآمدی آمدنی میں 1.06 ارب ڈالر کی کمی کی وجہ اس لیے کم ترسیلات اور کمزور قیمتیں، دونوں تھیں۔</p>
<p>حجم میں تقریباً پوری کمی نان باسمتی چاول سے آئی۔ اس کی برآمدات 30.2 فیصد کم ہو کر 3.50 ملین میٹرک ٹن رہ گئیں، جبکہ آمدنی 42.6 فیصد گر کر 1.45 ارب ڈالر ہوگئی۔</p>
<p>نان باسمتی چاول کی اوسط حاصل شدہ قیمت 17.8 فیصد کم ہو کر 504 ڈالر سے 414 ڈالر فی میٹرک ٹن رہ گئی۔ باسمتی چاول کی برآمدی مقدار صرف 1.7 فیصد کم ہو کر 795,000 میٹرک ٹن رہی، جبکہ آمدنی 1.5 فیصد بڑھ کر 843 ملین ڈالر ہوگئی اور اوسط حاصل شدہ قیمت 1,028 ڈالر سے بڑھ کر 1,061 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوگئی۔</p>
<p>یہ فرق اس بات کا تعین کرتا ہے کہ شپنگ اخراجات میں ایک اور اضافے کی صورت میں صنعت کا کون سا حصہ برقرار رہ سکتا ہے۔ 25 میٹرک ٹن کے ایک کنٹینر پر مال برداری، انشورنس اور ہینڈلنگ کے اضافی 2,500 ڈالر، فی میٹرک ٹن 100 ڈالر کے اضافی خرچ کا باعث بنتے ہیں، جو موجودہ نان باسمتی قیمت کا 24 فیصد ہے، جبکہ باسمتی کی قیمت کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔</p>
<p>اگر یہ اضافہ 150 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوجائے تو یہ نان باسمتی کی برآمدی مالیت کے 36 فیصد سے زیادہ حصے کو ختم کردیتا ہے۔ شپنگ کا راستہ تکنیکی طور پر دستیاب رہ سکتا ہے، تاہم جنگی خطرے کے پریمیم، اضافی سفری وقت اور اندرونِ ملک نقل و حمل کے اخراجات شامل ہونے کے بعد کارگو تجارتی لحاظ سے بے فائدہ ہوجاتا ہے۔</p>
<p>فوری برآمدی خطرہ خاصا بڑا ہے۔ چھ ماہ کی رکاوٹ کی صورت میں تقریباً 195 ملین ڈالر کی براہِ راست اہم بحری راستوں پر منحصر تجارت اور 178 ملین ڈالر کی یورپی تجارت متاثرہ مدت کے دائرے میں آئے گی۔</p>
<p>اگر براہِ راست راستوں سے ہونے والی نصف برآمدی ترسیلات منسوخ یا مؤخر ہوجائیں اور یورپ کو برآمدات میں 10 فیصد کمی آئے تو ابتدائی برآمدی آمدنی کا خسارہ تقریباً 115 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ افریقہ اور ایشیا کی جانب منتقل کیے جانے والے چاول پر قیمتوں میں رعایت کی صورت میں چھ ماہ کا نقصان 115 سے 190 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ شدید نوعیت کے پورے سال کے منظرنامے میں تقریباً 334 ملین ڈالر خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے زیادہ خطرناک اثر بندرگاہوں سے دور پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2026 میں مالی سال 2025 کے مقابلے میں 1.53 ملین میٹرک ٹن کم چاول برآمد کیے، جس کے نتیجے میں چاول کی ایک نمایاں زیادہ مقدار مقامی ملوں، گوداموں اور اجناس کی منڈیوں کو جذب کرنا ہوگی۔</p>
<p>ملنگ ریکوری کی 67 فیصد شرح پر برآمدات میں یہ کمی تقریباً 2.28 ملین میٹرک ٹن دھان کے برابر ہے۔ یہ اضافی دباؤ اکتوبر سے دسمبر کے دوران فصل کی کٹائی کے عرصے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جب منڈی میں آمد عروج پر ہوتی ہے اور کسانوں کے پاس پیداوار روک کر رکھنے کی صلاحیت سب سے کم ہوتی ہے۔</p>
<p>حساب کتاب ناخوشگوار ہے۔ 40 کلوگرام پر 500 روپے کی کمی، جو صرف 12.50 روپے فی کلوگرام کے برابر ہے، 2.28 ملین میٹرک ٹن دھان کی مجموعی مالیت میں تقریباً 28.5 ارب روپے کی کمی کردیتی ہے۔</p>
<p>40 کلوگرام پر 1,000 روپے کی کمی تقریباً 57 ارب روپے ختم کردیتی ہے۔ ان حسابات میں قیمت میں کمی صرف برآمدی کمی کے برابر دھان کی مقدار پر لاگو کی گئی ہے؛ جب کمزور منڈی قیمتیں پوری فصل کے لیے معیار بن جائیں تو دیہی آمدنی کو لاحق خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>کسان چاول سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیر استعمال شدہ بچت کے طور پر نہیں رکھتے۔ حاصل شدہ رقم کمیشن ایجنٹوں اور زرعی مداخل فراہم کرنے والے ڈیلروں کے قرضے چکانے، گھریلو اخراجات پورے کرنے اور گندم کی بوائی کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو چاول کی کٹائی اور اس کی مارکیٹنگ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔</p>
<p>فارم گیٹ قیمتوں میں کمی اس لیے غیر رسمی قرضوں کے پورے سلسلے میں وصولیوں کو کمزور کرتی ہے، کھاد اور تصدیق شدہ بیج کی خریداری گھٹاتی ہے اور ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور دیہی خوردہ فروشوں پر دباؤ بڑھاتی ہے۔ جو مسئلہ برآمدات سے شروع ہوتا ہے، آخرکار وسیع تر دیہی معیشت سے نقدی کو نکال دیتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 کی کمی اکتوبر سے دسمبر 2025 کی فصل کو کمزور انداز میں جذب کیے جانے کی عکاسی کرتی ہے۔ موجودہ رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں اب خطرہ ہے کہ باقی ماندہ اسٹاک اگلی فصل تک منتقل ہوجائیں گے، جس سے مل مالکان کے پاس نئے دھان کی خریداری کے لیے محتاط بولی لگانے کی ہر وجہ ہوگی اور کسانوں کے پاس قیمتیں مزید گرنے سے پہلے اپنی پیداوار فروخت کرنے کی ہر وجہ ہوگی۔</p>
<p>اسی لیے مداخلت فوری ہوگئی ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ کسی بھی قیمت پر برآمد کنندگان کے منافع کو برقرار رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بحری نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو اضافی ذخائر، فارم گیٹ قیمتوں میں شدید جھٹکے اور بالآخر دیہی قرضوں کے مسئلے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔</p>
<p>متوقع پالیسی ردعمل مال برداری پر سبسڈی ہوگا۔ مالی سال 2026 کی چاول کی برآمدات پر 50 ڈالر فی میٹرک ٹن کی سبسڈی دینے کی صورت میں تقریباً 215 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ 100 ڈالر فی میٹرک ٹن کی سبسڈی کی لاگت 429 ملین ڈالر ہوگی۔</p>
<p>یہ رقم ہر اہل برآمدی ترسیل پر ادا کی جائے گی، جس میں وہ برآمدات بھی شامل ہوں گی جو امداد کے بغیر بھی کی جاتیں۔ یہ رقم غیر متناسب طور پر ان کمپنیوں کی جانب بھی جائے گی جو پہلے ہی جہاز حاصل کرنے اور رقم کی واپسی کے طریقہ کار سے نمٹنے کے لیے کافی بڑی ہیں، اور یوں عارضی ریلیف خاموشی سے مراعات کے مستقل سلسلے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس پہلے ہی اس حقیقی مالی پابندی سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ موجود ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 2022 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور یہ ملک کا ریاستی پشت پناہی رکھنے والا برآمدی قرضہ فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔</p>
<p>تجارتی قرض بیمہ مال برداری کی شرح کم نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی جہاز کو فزیکل نقصان سے محفوظ رکھے گا۔ تاہم یہ خریدار کی عدم ادائیگی، ادائیگی میں تاخیر اور قابلِ قبول سیاسی یا رقوم کی منتقلی سے متعلق خطرات کا احاطہ کرسکتا ہے، جس سے بینک ایسے برآمدی واجبات کی مالی معاونت کرسکتے ہیں جن کی وصولی کی مدت غیر یقینی ہوگئی ہو۔</p>
<p>ایکسپورٹ امپورٹ بینک کو متاثرہ خلیجی، بحیرہ احمر اور یورپی منڈیوں کے لیے تصدیق شدہ ترسیلات کی خاطر چھ ماہ کی رائس ایکسپورٹ کنٹینیوٹی ونڈو قائم کرنی چاہیے۔ 200 ملین ڈالر کے پائلٹ پورٹ فولیو پر 80 فیصد کوریج کے ذریعے 160 ملین ڈالر کی بیمہ شدہ ایکسپوژر پیدا ہوگی، جبکہ برآمد کنندگان باقی 20 فیصد خطرہ خود برقرار رکھیں گے۔</p>
<p>2 سے 3 فیصد کی مثالی پریمیم شرح پر مکمل مالیاتی پریمیم خریدنے کی لاگت 3.2 سے 4.8 ملین ڈالر ہوگی۔ حتیٰ کہ 5 فیصد کلیم کی شرح سے مجموعی کلیمز 8 ملین ڈالر ہوں گے، جبکہ 10 فیصد کلیم کی شرح سے وصولیوں سے پہلے 16 ملین ڈالر کے کلیمز بنیں گے۔ اس کے مقابلے میں کم ترین مال برداری سبسڈی کے آپشن پر 215 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔</p>
<p>اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بیمہ نقصان ہونے سے پہلے نقدی کی دستیابی ممکن بناتا ہے۔ اگر کمرشل بینک 160 ملین ڈالر کے بیمہ شدہ پورٹ فولیو کے مقابلے میں 80 فیصد ایڈوانس فراہم کریں تو برآمد کنندگان کو دھان خریدنے، اسٹاک رکھنے اور ادائیگی کے طویل ادوار سے نمٹنے کے لیے 128 ملین ڈالر تک حاصل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>پہلے مرحلے کے مستفیدین کے لیے صفر یا معمولی پریمیم قابلِ دفاع ہوگا، بشرطیکہ یہ سہولت عارضی، محدود اور مناسب طریقے سے خطرے کا جائزہ لے کر چلائی جائے۔ ایک ایسا برآمدی قرضہ ادارہ جو تجارتی خطرہ ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد ہی بیمہ فراہم کرے، مہنگے لیٹر ہیڈ سے زیادہ کچھ نہیں۔</p>
<p>برآمد کنندگان کو ہر ایکسپوژر کا کم از کم 10 سے 20 فیصد خطرہ اپنے پاس رکھنا چاہیے، جبکہ ارتکاز کو روکنے کے لیے کمپنی، خریدار اور منزل کے حوالے سے حدود مقرر کی جانی چاہئیں۔ قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی، اجناس کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والے نقصانات، متعلقہ فریقوں کے درمیان لین دین اور برآمد کنندگان کی جانب سے معاہدے کی عدم تکمیل کو اس سہولت سے باہر رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس کے باوجود آپریشنل اقدامات بھی ضروری ہیں، جن میں عمان اور متحدہ عرب امارات کی مشرقی بندرگاہوں کے لیے گنجائش، متبادل اندرونِ ملک راستے اور ایسے معاہدے شامل ہیں جو سامان اتارنے کی جگہ تبدیل کرنے کی اجازت دیتے ہوں۔ بیمہ سامان کو منتقل نہیں کرسکتا، لیکن یہ قابلِ عمل آرڈرز کو اس وجہ سے منسوخ ہونے سے روک سکتا ہے کہ برآمد کنندگان اور ان کے بینک مزید 60 یا 90 دن کی غیر یقینی صورتحال برداشت کرنے کے قابل نہیں۔</p>
<p>پاکستان مال برداری کی مد میں 215 سے 429 ملین ڈالر کی ادائیگی کرسکتا ہے اور اس امید پر رہ سکتا ہے کہ سبسڈی کا بل سیاسی طور پر ناقابلِ واپسی بننے سے پہلے اہم بحری راستوں کی رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ یا پھر وہ محدود اور رعایتی مالی وسائل استعمال کرکے تجارتی قرض بیمہ فعال کرسکتا ہے، بینکوں کی مالی معاونت متحرک کرسکتا ہے اور شپنگ کے بحران کو دیہی آمدنی کے بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291582</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 10:11:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2310075097f32b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2310075097f32b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگی ہوتی بجلی کی پیداوار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291528/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگست پاکستان کے پاور سیکٹر کی ایک زیادہ تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، لیکن اس اضافے کی لاگت اور ساخت کو نظر انداز کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار اگست میں 14.9 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ریفرنس سے 3 فیصد زیادہ اور سالانہ 5.5 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، 12 ماہ کی متحرک اوسط ایک نسبتاً مدھم تصویر پیش کرتی ہے، جس میں پیداوار میں اضافہ صرف 2.6 فیصد رہا جبکہ اوسط ماہانہ پیداوار تقریباً 10.5 ارب یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ماہانہ پیداوار میں زیادہ اضافہ طلب میں کسی وسیع پیمانے پر تیزی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی شام کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نظام کے بجلی فراہم کرنے کے طریقہ کار سے زیادہ متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل بجلی تقریباً 5.6 ارب یونٹس پر مستحکم رہی، جس نے مجموعی پیداوار میں 38 فیصد حصہ ڈالا۔ اصل تبدیلی کہیں اور ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی کا حصہ کم ہو کر صرف 9 فیصد رہ گیا، جبکہ اس سے 1.3 ارب یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو ریفرنس سے 26 فیصد کم ہے۔ اگست مسلسل چھٹا مہینہ تھا جب آر ایل این جی سے حقیقی پیداوار منصوبہ بندی کی گئی سطح سے کم رہی، اور یہ سلسلہ جنگ شروع ہونے کے وقت سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان راستے میں ایک یا دو کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اتنے نہیں کہ آر ایل این جی پلانٹس کو پوری صلاحیت کے قریب چلایا جاسکے۔ ایل این جی مارکیٹوں میں طویل عرصے سے جاری خلل نے سستے کارگو کی دستیابی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث نظام مہنگی اسپاٹ خریداریوں پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا اثر پہلے ہی بجلی کی پیداوار کی لاگت پر نظر آ رہا ہے۔ مسلسل دوسرے ماہ آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت 45 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خلا ایک بار پھر درآمدی کوئلے نے پُر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کی بجلی کی پیداوار میں درآمدی کوئلے کا حصہ 16 فیصد رہا، جو ریکارڈ میں اس کا سب سے زیادہ ماہانہ حصہ ہے۔ اس سے پیداوار 2.3 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ایک ہی ماہ میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی اب تک کی سب سے زیادہ مقدار بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک مانوس ہوتا ہوا رجحان ہے۔ جیسے جیسے دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ زیادہ تیز ہوتا جا رہا ہے، نظام کو ایسی تھرمل بجلی کی ضرورت پڑتی ہے جسے طلب واپس آنے پر فوری طور پر شامل کیا جاسکے۔ آر ایل این جی محدود اور مہنگی ہونے کے باعث درآمدی کوئلہ اس بوجھ کو تیزی سے اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس چوٹی کی طلب کو پورا کرنے کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں طلب کے عروج کے دوران بجلی کی پیداوار کی  مارجنل کاسٹ 55 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں دیکھے گئے اعداد و شمار سے خاصی زیادہ ہے اور اوسط بجلی کی پیداوار کی لاگت اور شام کے وقت طلب کی آخری یونٹ کو پورا کرنے کی لاگت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ایک اور مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سامنے آیا ہے۔ بجلی کی پیداوار کی مجموعی لاگت ریفرنس سطح سے زیادہ رہی، جس کے باعث ایف سی اے کے تحت تقریباً 1.7 روپے فی یونٹ مانگے گئے۔ حتمی منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے قریب رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مقامی کوئلے کی لاگت میں ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی کوئلے سے بجلی کی رپورٹ شدہ پیداواری لاگت کم ہو کر تقریباً 5.5 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ اس سے قبل کے تین ماہ کی اوسط تقریباً 12.5 روپے فی یونٹ رہی تھی۔ اس نمایاں کمی کا تعلق تقریباً 10 ارب روپے کی ایسی ایڈجسٹمنٹ سے معلوم ہوتا ہے جسے تقریباً مکمل طور پر تھر کول بلاک-ون کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے کھاتے میں درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے فیول چارج میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلی وجوہات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ جب تک یہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوتیں، تازہ ترین مقامی کوئلے کی لاگت کو ایک نئے ساختی معیار کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کے مجموعی مکس میں موجود صورتحال زیادہ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ جوہری بجلی کا حصہ بھی کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا ہے، جو تقریباً چار برسوں میں اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ دیکھ بھال میں تاخیر نے ایسے وقت میں نظام پر ایک اور دباؤ ڈال دیا ہے جب زیادہ طلب کا موسم شروع ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، دن کے وقت بجلی کی طلب کا منحنی گراف مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی بجلی دن کے درمیانی حصے میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کر رہی ہے، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد طلب ایک بار پھر تیزی سے واپس آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسا نظام تشکیل پا رہا ہے جہاں چیلنج اب پورے دن کے دوران کافی بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست وقت پر درست نوعیت کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دستیاب رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال نظام کو بجلی کی فراہمی برقرار رکھنا ترجیح ہے۔ لیکن یہ کام زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ قریبی مدت میں ایل این جی کے جہاز باآسانی دستیاب ہونے کا امکان کم ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر مسلسل انحصار نظام کو بلند ایندھن لاگت کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بجلی کی پیداوار میں اضافے کی سرخی کے باوجود اگست سے بہت کم اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ہائیڈل بجلی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ طلب بحال ہو رہی ہے۔ لیکن آر ایل این جی کی دستیابی محدود ہے، جوہری بجلی کی دستیابی کمزور ہوئی ہے، اور درآمدی کوئلہ بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف جتنا گرتا جائے گا، شام کے وقت طلب میں اضافہ اتنا ہی تیز ہوتا جائے گا۔ اور بجلی کی آخری یونٹ جتنی مہنگی ہوتی جائے گی، صارفین ایف سی اے کے ذریعے اس کی لاگت اتنی ہی زیادہ محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگست پاکستان کے پاور سیکٹر کی ایک زیادہ تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، لیکن اس اضافے کی لاگت اور ساخت کو نظر انداز کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار اگست میں 14.9 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ریفرنس سے 3 فیصد زیادہ اور سالانہ 5.5 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، 12 ماہ کی متحرک اوسط ایک نسبتاً مدھم تصویر پیش کرتی ہے، جس میں پیداوار میں اضافہ صرف 2.6 فیصد رہا جبکہ اوسط ماہانہ پیداوار تقریباً 10.5 ارب یونٹس رہی۔</p>
<p>لہٰذا ماہانہ پیداوار میں زیادہ اضافہ طلب میں کسی وسیع پیمانے پر تیزی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی شام کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نظام کے بجلی فراہم کرنے کے طریقہ کار سے زیادہ متعلق ہے۔</p>
<p>ہائیڈل بجلی تقریباً 5.6 ارب یونٹس پر مستحکم رہی، جس نے مجموعی پیداوار میں 38 فیصد حصہ ڈالا۔ اصل تبدیلی کہیں اور ہوئی۔</p>
<p>آر ایل این جی کا حصہ کم ہو کر صرف 9 فیصد رہ گیا، جبکہ اس سے 1.3 ارب یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو ریفرنس سے 26 فیصد کم ہے۔ اگست مسلسل چھٹا مہینہ تھا جب آر ایل این جی سے حقیقی پیداوار منصوبہ بندی کی گئی سطح سے کم رہی، اور یہ سلسلہ جنگ شروع ہونے کے وقت سے جاری ہے۔</p>
<p>پاکستان راستے میں ایک یا دو کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اتنے نہیں کہ آر ایل این جی پلانٹس کو پوری صلاحیت کے قریب چلایا جاسکے۔ ایل این جی مارکیٹوں میں طویل عرصے سے جاری خلل نے سستے کارگو کی دستیابی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث نظام مہنگی اسپاٹ خریداریوں پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔</p>
<p>اس کا اثر پہلے ہی بجلی کی پیداوار کی لاگت پر نظر آ رہا ہے۔ مسلسل دوسرے ماہ آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت 45 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہی۔</p>
<p>یہ خلا ایک بار پھر درآمدی کوئلے نے پُر کیا۔</p>
<p>اگست کی بجلی کی پیداوار میں درآمدی کوئلے کا حصہ 16 فیصد رہا، جو ریکارڈ میں اس کا سب سے زیادہ ماہانہ حصہ ہے۔ اس سے پیداوار 2.3 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ایک ہی ماہ میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی اب تک کی سب سے زیادہ مقدار بھی ہے۔</p>
<p>یہ ایک مانوس ہوتا ہوا رجحان ہے۔ جیسے جیسے دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ زیادہ تیز ہوتا جا رہا ہے، نظام کو ایسی تھرمل بجلی کی ضرورت پڑتی ہے جسے طلب واپس آنے پر فوری طور پر شامل کیا جاسکے۔ آر ایل این جی محدود اور مہنگی ہونے کے باعث درآمدی کوئلہ اس بوجھ کو تیزی سے اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>اور اس چوٹی کی طلب کو پورا کرنے کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اگست میں طلب کے عروج کے دوران بجلی کی پیداوار کی  مارجنل کاسٹ 55 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں دیکھے گئے اعداد و شمار سے خاصی زیادہ ہے اور اوسط بجلی کی پیداوار کی لاگت اور شام کے وقت طلب کی آخری یونٹ کو پورا کرنے کی لاگت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً ایک اور مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سامنے آیا ہے۔ بجلی کی پیداوار کی مجموعی لاگت ریفرنس سطح سے زیادہ رہی، جس کے باعث ایف سی اے کے تحت تقریباً 1.7 روپے فی یونٹ مانگے گئے۔ حتمی منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے قریب رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم، مقامی کوئلے کی لاگت میں ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا ہے۔</p>
<p>مقامی کوئلے سے بجلی کی رپورٹ شدہ پیداواری لاگت کم ہو کر تقریباً 5.5 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ اس سے قبل کے تین ماہ کی اوسط تقریباً 12.5 روپے فی یونٹ رہی تھی۔ اس نمایاں کمی کا تعلق تقریباً 10 ارب روپے کی ایسی ایڈجسٹمنٹ سے معلوم ہوتا ہے جسے تقریباً مکمل طور پر تھر کول بلاک-ون کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے کھاتے میں درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے فیول چارج میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلی وجوہات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ جب تک یہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوتیں، تازہ ترین مقامی کوئلے کی لاگت کو ایک نئے ساختی معیار کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔</p>
<p>ایندھن کے مجموعی مکس میں موجود صورتحال زیادہ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ جوہری بجلی کا حصہ بھی کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا ہے، جو تقریباً چار برسوں میں اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ دیکھ بھال میں تاخیر نے ایسے وقت میں نظام پر ایک اور دباؤ ڈال دیا ہے جب زیادہ طلب کا موسم شروع ہو رہا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، دن کے وقت بجلی کی طلب کا منحنی گراف مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>شمسی بجلی دن کے درمیانی حصے میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کر رہی ہے، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد طلب ایک بار پھر تیزی سے واپس آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسا نظام تشکیل پا رہا ہے جہاں چیلنج اب پورے دن کے دوران کافی بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست وقت پر درست نوعیت کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دستیاب رکھنا ہے۔</p>
<p>فی الحال نظام کو بجلی کی فراہمی برقرار رکھنا ترجیح ہے۔ لیکن یہ کام زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ قریبی مدت میں ایل این جی کے جہاز باآسانی دستیاب ہونے کا امکان کم ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر مسلسل انحصار نظام کو بلند ایندھن لاگت کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا بجلی کی پیداوار میں اضافے کی سرخی کے باوجود اگست سے بہت کم اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ہائیڈل بجلی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ طلب بحال ہو رہی ہے۔ لیکن آر ایل این جی کی دستیابی محدود ہے، جوہری بجلی کی دستیابی کمزور ہوئی ہے، اور درآمدی کوئلہ بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔</p>
<p>دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف جتنا گرتا جائے گا، شام کے وقت طلب میں اضافہ اتنا ہی تیز ہوتا جائے گا۔ اور بجلی کی آخری یونٹ جتنی مہنگی ہوتی جائے گی، صارفین ایف سی اے کے ذریعے اس کی لاگت اتنی ہی زیادہ محسوس کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291528</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 10:11:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22100910544f39c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22100910544f39c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی سرمای کاری میں تیزی، اصل امتحان باقی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291483/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) نے اگست 2026 میں رفتار پکڑی، جس کے دوران خالص سرمایہ کاری کا حجم 31 کروڑ 59 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو دو سال کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ اور جولائی کے مقابلے میں 77 فیصد زائد ہے، جس کی مدد زیادہ مضبوط آمد اور ماہ کے دوران کم اخراج سے ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں ہونے والے اضافے کے باعث مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 49 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 39 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 24.1 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی سرمایہ کاری کی آمد سالانہ بنیاد پر 18.4 فیصد اضافے سے 70 کروڑ 59 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ سرمایہ کاری کا اخراج تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ 21 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ دوسرے الفاظ میں، اب تک بہتری بنیادی طور پر زیادہ سرمایہ آنے کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ کہ کم سرمایہ باہر جانے کی وجہ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اگست 2026 اور مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ، دونوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ متحدہ عرب امارات بھی مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران ایک اہم سرمایہ کار رہا۔ کینیڈا بھی ماہ کے دوران سرمایہ کاری کا ایک نمایاں ذریعہ رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142d6cc600.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142d6cc600.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;معمول کے بڑے سرمایہ کاروں سے ہٹ کر بھی کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں برطانیہ سے خالص سرمایہ کاری تقریباً دگنی ہوگئی، جبکہ کویت کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 63 فیصد بڑھ گئی۔ دوسری جانب ہانگ کانگ اور سوئٹزرلینڈ سے سرمایہ کاری میں کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی رجحان اب بھی یکساں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی صورتحال بھی اسی طرح کی تصویر پیش کرتی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران مالیاتی کاروبار نے سب سے زیادہ خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے بعد بجلی کا شعبہ رہا، اگرچہ اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ نمایاں اضافہ تجارت اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں ہوا۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں تجارت کے شعبے میں خالص ایف ڈی آئی آٹھ گنا سے زیادہ بڑھ کر 8 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ الیکٹرانکس کے شعبے نے 4 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 27 گنا زیادہ ہے۔ ان اضافوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی بنیاد کو وسیع کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142af9a7dc.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142af9a7dc.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم مجموعی صورتحال یکساں طور پر مضبوط نہیں ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں کان کنی اور کھدائی، مواصلات، اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کاری کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر خالص اخراج والے شعبوں سے مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں 9 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا سرمایہ باہر گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ رقم 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ ایف ڈی آئی کے تازہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بہتری کے آثار بھی دیکھے جارہے ہیں۔ جہاں سرکاری شعبے کے اثاثوں میں غیر ملکی شمولیت بتدریج دوبارہ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جسے پی آئی اے کے لین دین اور فیسکو کی نجکاری کے عمل میں دلچسپی سے مدد مل رہی ہے، وہیں اسے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی آئی اب بھی چند ممالک اور شعبوں تک محدود ہے، جبکہ مجموعی حجم معیشت کے حجم کے مقابلے میں اب بھی معمولی ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں مختصر مدت کے لیے تیزی دیکھ چکا ہے؛ اصل چیلنج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ان اضافوں کو ایک مستقل سرمایہ کاری کے چکر میں کیسے تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142ef53fac.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142ef53fac.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فی الحال سمت حوصلہ افزا ہے۔ اگست میں دو سال کی بلند ترین ماہانہ ایف ڈی آئی ریکارڈ ہوئی، مجموعی سرمایہ کاری کی آمد میں اضافہ ہوا اور کچھ نئے شعبے زیادہ مقدار میں غیر ملکی سرمایہ حاصل کررہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ ایک وقتی اضافہ ثابت ہوگا یا اس رفتار کو برقرار رکھا جاسکے گا، اور آیا یہ سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ، برآمدات، ٹیکنالوجی اور معیشت کے دیگر پیداواری شعبوں تک بھی پھیل سکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) نے اگست 2026 میں رفتار پکڑی، جس کے دوران خالص سرمایہ کاری کا حجم 31 کروڑ 59 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو دو سال کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ اور جولائی کے مقابلے میں 77 فیصد زائد ہے، جس کی مدد زیادہ مضبوط آمد اور ماہ کے دوران کم اخراج سے ہوئی۔</strong></p>
<p>اگست میں ہونے والے اضافے کے باعث مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 49 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 39 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 24.1 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>مجموعی سرمایہ کاری کی آمد سالانہ بنیاد پر 18.4 فیصد اضافے سے 70 کروڑ 59 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ سرمایہ کاری کا اخراج تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ 21 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ دوسرے الفاظ میں، اب تک بہتری بنیادی طور پر زیادہ سرمایہ آنے کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ کہ کم سرمایہ باہر جانے کی وجہ سے۔</p>
<p>چین اگست 2026 اور مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ، دونوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ متحدہ عرب امارات بھی مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران ایک اہم سرمایہ کار رہا۔ کینیڈا بھی ماہ کے دوران سرمایہ کاری کا ایک نمایاں ذریعہ رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142d6cc600.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142d6cc600.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>معمول کے بڑے سرمایہ کاروں سے ہٹ کر بھی کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں برطانیہ سے خالص سرمایہ کاری تقریباً دگنی ہوگئی، جبکہ کویت کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 63 فیصد بڑھ گئی۔ دوسری جانب ہانگ کانگ اور سوئٹزرلینڈ سے سرمایہ کاری میں کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی رجحان اب بھی یکساں نہیں ہے۔</p>
<p>شعبہ جاتی صورتحال بھی اسی طرح کی تصویر پیش کرتی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران مالیاتی کاروبار نے سب سے زیادہ خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے بعد بجلی کا شعبہ رہا، اگرچہ اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی ہوئی۔</p>
<p>زیادہ نمایاں اضافہ تجارت اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں ہوا۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں تجارت کے شعبے میں خالص ایف ڈی آئی آٹھ گنا سے زیادہ بڑھ کر 8 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ الیکٹرانکس کے شعبے نے 4 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 27 گنا زیادہ ہے۔ ان اضافوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی بنیاد کو وسیع کرنے میں مدد دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142af9a7dc.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142af9a7dc.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم مجموعی صورتحال یکساں طور پر مضبوط نہیں ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں کان کنی اور کھدائی، مواصلات، اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کاری کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر خالص اخراج والے شعبوں سے مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں 9 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا سرمایہ باہر گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ رقم 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔</p>
<p>یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ ایف ڈی آئی کے تازہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بہتری کے آثار بھی دیکھے جارہے ہیں۔ جہاں سرکاری شعبے کے اثاثوں میں غیر ملکی شمولیت بتدریج دوبارہ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جسے پی آئی اے کے لین دین اور فیسکو کی نجکاری کے عمل میں دلچسپی سے مدد مل رہی ہے، وہیں اسے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔</p>
<p>ایف ڈی آئی اب بھی چند ممالک اور شعبوں تک محدود ہے، جبکہ مجموعی حجم معیشت کے حجم کے مقابلے میں اب بھی معمولی ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں مختصر مدت کے لیے تیزی دیکھ چکا ہے؛ اصل چیلنج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ان اضافوں کو ایک مستقل سرمایہ کاری کے چکر میں کیسے تبدیل کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142ef53fac.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/21065142ef53fac.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فی الحال سمت حوصلہ افزا ہے۔ اگست میں دو سال کی بلند ترین ماہانہ ایف ڈی آئی ریکارڈ ہوئی، مجموعی سرمایہ کاری کی آمد میں اضافہ ہوا اور کچھ نئے شعبے زیادہ مقدار میں غیر ملکی سرمایہ حاصل کررہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ ایک وقتی اضافہ ثابت ہوگا یا اس رفتار کو برقرار رکھا جاسکے گا، اور آیا یہ سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ، برآمدات، ٹیکنالوجی اور معیشت کے دیگر پیداواری شعبوں تک بھی پھیل سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291483</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 10:13:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/21100852e9e76a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/21100852e9e76a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر کرنٹ اکائونٹ کا سہارا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291381/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 کے ابتدائی مہینوں میں کرنٹ اکائونٹ کی پوزیشن اطمینان بخش حد تک مستحکم ہے۔ اگست کا خسارہ معمولی رہا، جبکہ مجموعی پوزیشن اب بھی وسیع پیمانے پر سالانہ ہدف سے ہم آہنگ ہے۔ اس مرحلے پر زیادہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اشیا اور خدمات کا کھاتہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے دو ماہ میں اشیا کی تجارت کا خسارہ سالانہ تقریباً 11 فیصد بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ اگست میں درآمدی بل میں کچھ کمی کے باوجود ہوا ہے۔ برآمدات کا پہلو بدستور نسبتاً کمزور ہے۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ بدستور سرفہرست ہے، لیکن اس کی نمو اب بھی کم سنگل ڈیجٹ میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خدمات کی کارکردگی کسی حد تک بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328ce711d3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328ce711d3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خدمات کی برآمدات میں سالانہ  تقریباً 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خدمات کی برآمدات اب اشیا کی برآمدات میں کمزوری کی ایک خاصی بڑی حد تک تلافی کر رہی ہیں۔ اگست میں ماہانہ بنیاد پر معمولی کمی ضرور آئی، لیکن اس مرحلے پر یہ تشویش کی بات نہیں۔ طویل مدتی رجحان بدستور حوصلہ افزا ہے، بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں مسلسل بہتری کے باعث۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل کہانی ترسیلاتِ زر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکرز کی ترسیلاتِ زر بدستور غیر معمولی طور پر مضبوط سطح پر آ رہی ہیں۔ اگست میں ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر سے زائد رہیں، جو مجموعی طور پر جولائی میں دیکھے گئے رجحان کو برقرار رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر میں معمول کے مطابق موسمی اضافے کا اثر اب ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود آمدنی کی یہ ترسیلات بلند سطح پر برقرار رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا جا رہا ہے کہ رسمی ذرائع سے آنے والی ترسیلات اب ساختی طور پر بلند سطح پر مستحکم ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328c11127c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328c11127c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ غیر رسمی ذرائع پر مزید دباؤ آیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو، بیرونی کھاتے پر اس کے اثرات واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سب سے بڑی برآمد افرادی قوت ہے۔ اور اس وقت یہی برآمد کرنٹ اکائونٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے درکار زیادہ تر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرتبہ درآمدی پہلو بھی کچھ ریلیف فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درآمدی اعداد و شمار کے درمیان فرق نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ مسلسل دو ماہ تک دوہرے ہندسے میں رہنے کے بعد یہ فرق اب تقریباً 4 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ طویل مدتی معمول کے زیادہ قریب ہے اور بیرونی کھاتے کے حوالے سے غیر یقینی کی ایک فوری وجہ کو ختم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/180723283f2dc75.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/180723283f2dc75.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ادائیگیوں میں سست روی کی جزوی وضاحت بھی بعض مخصوص عوامل سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وجہ یہ ہے کہ ایل این جی کی ترسیلات پہلے کی رفتار سے نہیں آئیں۔ اس نے درآمدی بل کے لیے عارضی سہارا فراہم کیا ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت مقامی ریفائنریوں کی کارکردگی ہے۔ ریفائنریوں کے پوری صلاحیت سے چلنے کے باعث ڈیزل کی درآمد تقریباً ختم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ کے دوران پام آئل کی درآمدات میں بھی کمی آئی ہے، جس سے درآمدی بل میں کمی میں ایک اور حصہ پڑا ہے۔ یہ عوامل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات میں ہونے والی تمام کمی لازماً ملکی طلب میں وسیع پیمانے پر کمزوری کی عکاسی نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اہم ہے۔ اگر درآمدات محدود رہتی ہیں تو بیرونی کھاتے کی پوزیشن اطمینان بخش رہنی چاہیے۔ لیکن اگر درآمدی بل دوبارہ تیزی سے بڑھتا ہے تو صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکائونٹ کو بنیادی طور پر تین عوامل کا سہارا حاصل ہے۔ قابل انتظام درآمدی بل، نسبتاً مضبوط خدمات کی برآمدات اور سب سے بڑھ کر ترسیلاتِ زر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مساوات میں برآمدات کا پہلو اب بھی کمزور کڑی ہے۔ اشیا کی برآمدات میں نمو کم ہے، جبکہ جب توانائی کی طلب، مشینری یا ملکی معاشی سرگرمی میں تیزی آتی ہے تو درآمدات کی رفتار تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کوئی فوری دباؤ نہیں ہے۔ لیکن بڑا ساختی سوال اب بھی جواب طلب ہے۔ کیا اشیا کی برآمدات بالآخر اتنی نمو پیدا کر سکتی ہیں کہ بڑھتی ہوئی درآمدی طلب کا مقابلہ کر سکیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال ترسیلاتِ زر اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ یہ سوال فوری مسئلہ نہ بنے۔ اگر درآمدات محدود رہتی ہیں تو کرنٹ اکائونٹ کی پوزیشن مجموعی طور پر قابو میں رہنی چاہیے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب درآمدی بل بے قابو ہو جائے اور ایک طویل مدت تک اوسطاً تقریباً 6.5 ارب ڈالر ماہانہ کی سطح پر پہنچ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت میں بوجھ مزید ترسیلاتِ زر پر پڑے گا۔ اور پاکستان کے لیے یہ کوئی معمولی سہارا نہیں ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی برآمد ہے، صرف انسانی شکل میں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 کے ابتدائی مہینوں میں کرنٹ اکائونٹ کی پوزیشن اطمینان بخش حد تک مستحکم ہے۔ اگست کا خسارہ معمولی رہا، جبکہ مجموعی پوزیشن اب بھی وسیع پیمانے پر سالانہ ہدف سے ہم آہنگ ہے۔ اس مرحلے پر زیادہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔</strong></p>
<p>تاہم اشیا اور خدمات کا کھاتہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>پہلے دو ماہ میں اشیا کی تجارت کا خسارہ سالانہ تقریباً 11 فیصد بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ اگست میں درآمدی بل میں کچھ کمی کے باوجود ہوا ہے۔ برآمدات کا پہلو بدستور نسبتاً کمزور ہے۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ بدستور سرفہرست ہے، لیکن اس کی نمو اب بھی کم سنگل ڈیجٹ میں ہے۔</p>
<p>دوسری جانب خدمات کی کارکردگی کسی حد تک بہتر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328ce711d3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328ce711d3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خدمات کی برآمدات میں سالانہ  تقریباً 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خدمات کی برآمدات اب اشیا کی برآمدات میں کمزوری کی ایک خاصی بڑی حد تک تلافی کر رہی ہیں۔ اگست میں ماہانہ بنیاد پر معمولی کمی ضرور آئی، لیکن اس مرحلے پر یہ تشویش کی بات نہیں۔ طویل مدتی رجحان بدستور حوصلہ افزا ہے، بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں مسلسل بہتری کے باعث۔</p>
<p>تاہم اصل کہانی ترسیلاتِ زر کی ہے۔</p>
<p>ورکرز کی ترسیلاتِ زر بدستور غیر معمولی طور پر مضبوط سطح پر آ رہی ہیں۔ اگست میں ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر سے زائد رہیں، جو مجموعی طور پر جولائی میں دیکھے گئے رجحان کو برقرار رکھتی ہیں۔</p>
<p>یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر میں معمول کے مطابق موسمی اضافے کا اثر اب ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود آمدنی کی یہ ترسیلات بلند سطح پر برقرار رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا جا رہا ہے کہ رسمی ذرائع سے آنے والی ترسیلات اب ساختی طور پر بلند سطح پر مستحکم ہو رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328c11127c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/18072328c11127c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ غیر رسمی ذرائع پر مزید دباؤ آیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو، بیرونی کھاتے پر اس کے اثرات واضح ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی سب سے بڑی برآمد افرادی قوت ہے۔ اور اس وقت یہی برآمد کرنٹ اکائونٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے درکار زیادہ تر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>اس مرتبہ درآمدی پہلو بھی کچھ ریلیف فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درآمدی اعداد و شمار کے درمیان فرق نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ مسلسل دو ماہ تک دوہرے ہندسے میں رہنے کے بعد یہ فرق اب تقریباً 4 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ طویل مدتی معمول کے زیادہ قریب ہے اور بیرونی کھاتے کے حوالے سے غیر یقینی کی ایک فوری وجہ کو ختم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/180723283f2dc75.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/180723283f2dc75.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>درآمدی ادائیگیوں میں سست روی کی جزوی وضاحت بھی بعض مخصوص عوامل سے ہوتی ہے۔</p>
<p>ایک وجہ یہ ہے کہ ایل این جی کی ترسیلات پہلے کی رفتار سے نہیں آئیں۔ اس نے درآمدی بل کے لیے عارضی سہارا فراہم کیا ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت مقامی ریفائنریوں کی کارکردگی ہے۔ ریفائنریوں کے پوری صلاحیت سے چلنے کے باعث ڈیزل کی درآمد تقریباً ختم ہو گئی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ کے دوران پام آئل کی درآمدات میں بھی کمی آئی ہے، جس سے درآمدی بل میں کمی میں ایک اور حصہ پڑا ہے۔ یہ عوامل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات میں ہونے والی تمام کمی لازماً ملکی طلب میں وسیع پیمانے پر کمزوری کی عکاسی نہیں کرتی۔</p>
<p>یہ فرق اہم ہے۔ اگر درآمدات محدود رہتی ہیں تو بیرونی کھاتے کی پوزیشن اطمینان بخش رہنی چاہیے۔ لیکن اگر درآمدی بل دوبارہ تیزی سے بڑھتا ہے تو صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>کرنٹ اکائونٹ کو بنیادی طور پر تین عوامل کا سہارا حاصل ہے۔ قابل انتظام درآمدی بل، نسبتاً مضبوط خدمات کی برآمدات اور سب سے بڑھ کر ترسیلاتِ زر۔</p>
<p>اس مساوات میں برآمدات کا پہلو اب بھی کمزور کڑی ہے۔ اشیا کی برآمدات میں نمو کم ہے، جبکہ جب توانائی کی طلب، مشینری یا ملکی معاشی سرگرمی میں تیزی آتی ہے تو درآمدات کی رفتار تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>فی الحال کوئی فوری دباؤ نہیں ہے۔ لیکن بڑا ساختی سوال اب بھی جواب طلب ہے۔ کیا اشیا کی برآمدات بالآخر اتنی نمو پیدا کر سکتی ہیں کہ بڑھتی ہوئی درآمدی طلب کا مقابلہ کر سکیں؟</p>
<p>فی الحال ترسیلاتِ زر اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ یہ سوال فوری مسئلہ نہ بنے۔ اگر درآمدات محدود رہتی ہیں تو کرنٹ اکائونٹ کی پوزیشن مجموعی طور پر قابو میں رہنی چاہیے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب درآمدی بل بے قابو ہو جائے اور ایک طویل مدت تک اوسطاً تقریباً 6.5 ارب ڈالر ماہانہ کی سطح پر پہنچ جائے۔</p>
<p>اس صورت میں بوجھ مزید ترسیلاتِ زر پر پڑے گا۔ اور پاکستان کے لیے یہ کوئی معمولی سہارا نہیں ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی برآمد ہے، صرف انسانی شکل میں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291381</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 10:47:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18104350d03bfdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18104350d03bfdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عارضی مہنگائی کے نام پر سب کچھ داؤ پر لگانا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291255/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے گزشتہ تقریباً تین سال کا بیشتر عرصہ بڑی محنت سے اپنے مالی  ذخائر دوبارہ بنانے میں صرف کیا ہے۔ 2023 کے بحران کی شدت کے دوران 3 ارب ڈالر سے بھی کم کے مائع زرمبادلہ ذخائر سے اب مرکزی بینک کے پاس تقریباً 21 ارب ڈالر موجود ہیں۔ اس دوران اس نے اپنے فارورڈ بک میں کمی کی، بیرونی قرضوں کی میچورٹیز میں توسیع کی، عالمی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی بحال کی اور اتنی لیکویڈیٹی دوبارہ جمع کرلی کہ ادائیگیوں کے توازن کا ایک اور بحران اب نسبتاً کم قریب دکھائی دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اب جب کہ آخرکار اس کے پاس اضافی وسائل بھی موجود ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی بظاہر یہ جانچنے کے لیے تیار نظر آتی ہے کہ اس کی خوش قسمتی کب تک ساتھ دیتی ہے۔ پیر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بذاتِ خود کوئی غیر محتاط اقدام نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس فیصلے کے پیچھے موجود یہ پُراعتماد مفروضہ کہ مہنگائی کا تازہ جھٹکا عارضی ہے، شرح مبادلہ اسی طرح مستحکم رہ سکتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک مفروضہ غلط ثابت ہو تو زیادہ بڑے زرمبادلہ ذخائر ہی کافی تحفظ فراہم کردیں گے، اب اس کا دفاع کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/1507230437f9094.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/1507230437f9094.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خود ووٹنگ کا نتیجہ بھی مشکل صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ فیصلہ کسی صورت متفقہ نہیں تھا، بلکہ اختلاف کرنے والی آوازوں نے شرح سود میں نمایاں اضافے پر زور دیا۔ بڑھتی ہوئی ہیڈ لائن مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل ہوچکی ہے، مہنگائی کی توقعات بڑھ رہی ہیں اور مرکزی بینک خود تسلیم کررہا ہے کہ معاشی منظرنامے کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اختلاف کرنے والی اقلیت کی تشویش کو بے بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظار کرنا لازماً غلط فیصلہ نہیں ہے۔ قیمتوں میں حالیہ تیزی کا بڑا حصہ واقعی خوراک اور توانائی کے ذریعے آیا ہے، جبکہ معیشت اس حد تک گرم بھی نہیں ہوئی جس طرح پاکستان ماضی میں حد سے زیادہ طلب کے ادوار سے گزرا ہے۔ جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھیں، شرح سود میں اضافہ کرتے رہنا یہ دریافت کرنے کا ایک مہنگا طریقہ ہوگا کہ زری پالیسی نہ تو خام تیل پیدا کرسکتی ہے، نہ بحری راستے کھول سکتی ہے اور نہ جنگوں کو ختم کرسکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عارضی کا لفظ مزید کتنے عرصے تک معقول طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسدی جھٹکے کی تعریف اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کہاں سے پیدا ہوا ہے، اس بات سے نہیں کہ وہ کتنی تیزی سے ختم ہوتا ہے۔ تیل، مال برداری، انشورنس اور خوراک کی مہنگائی 12 ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک رسد کے پہلو سے پیدا ہونے والی مہنگائی رہ سکتی ہے، لیکن جب کمپنیاں اپنے معاہدوں پر نظرثانی شروع کردیں، حکومتیں انتظامی قیمتوں میں تبدیلی کریں، گھرانے اجرتوں سے متعلق اپنی توقعات تبدیل کریں اور کاروبار قیمتیں مقرر کرنے کے اپنے رویے میں تبدیلی لائیں تو پیدا ہونے والی مہنگائی کو صرف اس بنیاد پر عارضی قرار دینا بے معنی ہوتا جاتا ہے کہ ابتدائی خلل کی وجہ مقامی طلب میں غیر معمولی اضافہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اب محض نظری بحث نہیں رہا۔ مشرق وسطیٰ کا تنازع پہلے ہی اتنا طویل ہوچکا ہے کہ توانائی کی منڈیوں، مال برداری کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور توقعات پر اثر انداز ہورہا ہے، اور یہ فرض کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں کہ یہ تنازع سہولت کے ساتھ ایسے وقت پر ختم ہوجائے گا جو اسٹیٹ بینک کے مہنگائی کے فین چارٹ سے مطابقت رکھتا ہو۔ اگر جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات تک اور ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جاری رہتی ہے تو پاکستان کو تین ماہ کی قیمتوں میں تیزی کے بعد فوری بہتری کی صورتحال کا سامنا نہیں ہوگا، بلکہ اسے لاگت کے ماحول میں مسلسل بگاڑ سے نمٹنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا مانیٹری پالیسی کمیٹی ایک شرط لگا رہی ہے۔ وہ یہ توقع کررہی ہے کہ یہ جھٹکا اتنی مختصر مدت تک رہے گا کہ اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات نمایاں طور پر پیدا نہیں ہوں گے، مہنگائی کی توقعات قابو میں رہیں گی اور مجموعی معیشت اتنی تیزی سے نہیں بڑھے گی کہ رسد کے دباؤ کو زیادہ مستقل قیمتوں کے مسئلے میں تبدیل کردے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلب اب غیر فعال نہیں رہی۔ مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا، پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) بدستور توسیع کی حد سے اوپر ہے، پیداواری صلاحیت کا استعمال طویل مدتی اوسط کے قریب ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں مضبوط اضافہ ہورہا ہے، صارفین کے لیے فنانسنگ میں تیزی آئی ہے اور اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معاشی نمو بڑھ کر 3.5 سے 4.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ان میں سے کسی بھی عنصر کو معیشت کا حد سے زیادہ گرم ہونا قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن معیشت واضح طور پر ان محدود طلب کے حالات سے دور ہورہی ہے جنہوں نے ابتدا میں بیرونی کھاتے کو مستحکم کرنے میں مدد دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ جب رسد کی جانب سے مہنگائی اور طلب کی جانب سے مہنگائی کے درمیان فرق کو پالیسی جواز کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ فرق ضرورت سے زیادہ سہل بن سکتا ہے۔ پاکستان کا حالیہ تجربہ پالیسی سازوں کو خاص طور پر محتاط رہنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ اگست 2023 سے اگست 2026 کے درمیان ملکی قیمتوں کی سطح میں تقریباً 8 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ آج کی برائے نام شرح مبادلہ تقریباً وہیں ہے جہاں تین سال قبل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ معاشی بے قاعدگی ہے جو موجودہ استحکام کے نیچے خاموشی سے موجود ہے۔ پاکستان نے ملکی قیمتوں میں نمایاں اضافے کو اس طرح جذب کرلیا ہے کہ برائے نام شرح مبادلہ میں اس نوعیت کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جو تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں مسلسل مہنگائی کے فرق کے ساتھ عموماً ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں افراط زر کے تناسب سے لازماً اور میکانکی انداز میں کمی ہونا ضروری نہیں، اور قوتِ خرید کی برابری (پرچیزنگ پاور پیریٹی) بھی کوئی ایسا فطری قانون نہیں جو ماہانہ بنیاد پر خودکار طور پر کام کرتا ہو۔ ترسیلات زر، سرمائے کی آمد و رفت، زرمبادلہ ذخائر کا جمع ہونا، شرح سود میں فرق، درآمدات میں کمی، انتظامی اقدامات اور توقعات، سب اہمیت رکھتے ہیں، اور یہ عوامل طویل عرصے تک برائے نام شرح مبادلہ کو اس کی طویل مدتی نسبتی قیمت کے بنیادی معیار سے دور رکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ عوامل نسبتی قیمتوں کو غیر اہم نہیں بنا سکتے۔ اگر ملکی قیمتیں ہمارے تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں مسلسل نمایاں تیزی سے بڑھتی رہیں جبکہ برائے نام شرح مبادلہ بڑی حد تک مستحکم رہے تو حقیقی شرح مبادلہ میں مسلسل قدر میں اضافہ ہوتا رہے گا، الا یہ کہ پیداواری صلاحیت، شرائطِ تجارت یا برآمدی کارکردگی میں اتنی بہتری آئے جو اس کی توجیہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ پیداواری صلاحیت میں کوئی ایسا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو اس ایڈجسٹمنٹ کی وضاحت کرسکے۔ صنعتی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں، کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی، برآمدات بحال ہورہی ہیں، ان میں غیر معمولی تیزی نہیں آرہی، اور معاشی نمو اب صرف ان شرحوں کی جانب واپس آرہی ہے جنہیں پاکستان ماضی میں بھی حاصل کرتا رہا ہے، لیکن کسی نے انہیں مشرقی ایشیا میں پیداواری صلاحیت کے غیر معمولی عروج سے تعبیر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں 21 ارب ڈالر کے مائع زرمبادلہ ذخائر پر اسٹیٹ بینک کا اطمینان، ذخائر کی کامیاب تعمیرِ نو کی محض خوشی منانے سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ یہ ذخائر حقیقی، قیمتی اور بڑی محنت سے حاصل کیے گئے ہیں، اور 2023 کی بحرانی سطح سے انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ خطرہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب جمع شدہ وسائل کو اس بات کا ثبوت سمجھ لیا جائے کہ خود مشکلات اور خطرات کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق انتہائی اہم ہے کیونکہ زرمبادلہ ذخائر کی کفایت اور شرح مبادلہ کا توازن ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ذخائر کا بڑا ذخیرہ مرکزی بینک کو دباؤ جذب کرنے، ایڈجسٹمنٹ کو ہموار کرنے اور وقت خریدنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، لیکن کسی ایڈجسٹمنٹ کو مؤخر کرنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ بنیادی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے بھی یہ منظر دیکھ چکا ہے۔ بیرونی فنانسنگ بہتر ہوتی ہے، زرمبادلہ ذخائر بڑھتے ہیں، شرح مبادلہ مستحکم ہوتی ہے، اعتماد بحال ہوتا ہے اور خود کرنسی کا استحکام آہستہ آہستہ اس بات کا ثبوت سمجھا جانے لگتا ہے کہ معاشی نظام میں بنیادی طور پر تبدیلی آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبق شاذ ہی یہ رہا ہے کہ ذخائر فرضی تھے۔ ذخائر بالکل حقیقی تھے، مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے پالیسی سازوں کو اتنا وقت فراہم کردیا کہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ نسبتی قیمتوں میں جمع ہوتا ہوا عدم توازن کسی طرح غیر اہم ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم ظریفی یہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کا بڑا حفاظتی ذخیرہ بالآخر پالیسی کی غلطی کرنا مزید آسان بناسکتا ہے۔ بینک میں 3 ارب ڈالر موجود ہوں تو پالیسی سازوں کے پاس تجربات کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، لیکن 21 ارب ڈالر کی موجودگی میں ناموافق تیل کے جھٹکے کو برداشت کرنے، حقیقی شرح مبادلہ کو زیادہ مضبوط ہونے دینے اور دنیا کے سازگار ہونے کا انتظار کرنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ مضبوط تنقید یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک بظاہر اس بات پر بہت زیادہ مطمئن دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت کتنی چیزوں کا بیک وقت درست سمت میں ہونا ضروری ہے۔ مشرق وسطیٰ کا جھٹکا ختم ہونا چاہیے، خوراک کی مہنگائی معمول پر آنی چاہیے، دوسرے مرحلے کے اثرات قابو میں رہنے چاہئیں، مہنگائی کی توقعات میں اضافہ رکنا چاہیے، ترسیلات زر غیر معمولی طور پر مضبوط رہنی چاہئیں، بیرونی فنانسنگ دستیاب رہنی چاہیے، معاشی نمو میں بہتری کے ساتھ درآمدی طلب قابل انتظام رہنی چاہیے اور روپے کو کسی نمایاں برائے نام ایڈجسٹمنٹ کے بغیر بڑھتے ہوئے مہنگائی کے فرق کو مسلسل جذب کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کسی ایک مفروضے پر یقین کرنا قابل فہم ہے۔ لیکن ان تمام مفروضوں پر بیک وقت شرط لگانا وہ مقام ہے جہاں پالیسی محتاط حکمت عملی سے کم اور نیواڈا کے جوئے خانے کے دورے سے زیادہ مشابہ دکھائی دینے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے گزشتہ تقریباً تین سال کا بیشتر عرصہ بڑی محنت سے اپنے مالی  ذخائر دوبارہ بنانے میں صرف کیا ہے۔ 2023 کے بحران کی شدت کے دوران 3 ارب ڈالر سے بھی کم کے مائع زرمبادلہ ذخائر سے اب مرکزی بینک کے پاس تقریباً 21 ارب ڈالر موجود ہیں۔ اس دوران اس نے اپنے فارورڈ بک میں کمی کی، بیرونی قرضوں کی میچورٹیز میں توسیع کی، عالمی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی بحال کی اور اتنی لیکویڈیٹی دوبارہ جمع کرلی کہ ادائیگیوں کے توازن کا ایک اور بحران اب نسبتاً کم قریب دکھائی دیتا ہے۔</strong></p>
<p>اور اب جب کہ آخرکار اس کے پاس اضافی وسائل بھی موجود ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی بظاہر یہ جانچنے کے لیے تیار نظر آتی ہے کہ اس کی خوش قسمتی کب تک ساتھ دیتی ہے۔ پیر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بذاتِ خود کوئی غیر محتاط اقدام نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم، اس فیصلے کے پیچھے موجود یہ پُراعتماد مفروضہ کہ مہنگائی کا تازہ جھٹکا عارضی ہے، شرح مبادلہ اسی طرح مستحکم رہ سکتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک مفروضہ غلط ثابت ہو تو زیادہ بڑے زرمبادلہ ذخائر ہی کافی تحفظ فراہم کردیں گے، اب اس کا دفاع کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/1507230437f9094.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/1507230437f9094.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خود ووٹنگ کا نتیجہ بھی مشکل صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ فیصلہ کسی صورت متفقہ نہیں تھا، بلکہ اختلاف کرنے والی آوازوں نے شرح سود میں نمایاں اضافے پر زور دیا۔ بڑھتی ہوئی ہیڈ لائن مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل ہوچکی ہے، مہنگائی کی توقعات بڑھ رہی ہیں اور مرکزی بینک خود تسلیم کررہا ہے کہ معاشی منظرنامے کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اختلاف کرنے والی اقلیت کی تشویش کو بے بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔</p>
<p>انتظار کرنا لازماً غلط فیصلہ نہیں ہے۔ قیمتوں میں حالیہ تیزی کا بڑا حصہ واقعی خوراک اور توانائی کے ذریعے آیا ہے، جبکہ معیشت اس حد تک گرم بھی نہیں ہوئی جس طرح پاکستان ماضی میں حد سے زیادہ طلب کے ادوار سے گزرا ہے۔ جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھیں، شرح سود میں اضافہ کرتے رہنا یہ دریافت کرنے کا ایک مہنگا طریقہ ہوگا کہ زری پالیسی نہ تو خام تیل پیدا کرسکتی ہے، نہ بحری راستے کھول سکتی ہے اور نہ جنگوں کو ختم کرسکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عارضی کا لفظ مزید کتنے عرصے تک معقول طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رسدی جھٹکے کی تعریف اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کہاں سے پیدا ہوا ہے، اس بات سے نہیں کہ وہ کتنی تیزی سے ختم ہوتا ہے۔ تیل، مال برداری، انشورنس اور خوراک کی مہنگائی 12 ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک رسد کے پہلو سے پیدا ہونے والی مہنگائی رہ سکتی ہے، لیکن جب کمپنیاں اپنے معاہدوں پر نظرثانی شروع کردیں، حکومتیں انتظامی قیمتوں میں تبدیلی کریں، گھرانے اجرتوں سے متعلق اپنی توقعات تبدیل کریں اور کاروبار قیمتیں مقرر کرنے کے اپنے رویے میں تبدیلی لائیں تو پیدا ہونے والی مہنگائی کو صرف اس بنیاد پر عارضی قرار دینا بے معنی ہوتا جاتا ہے کہ ابتدائی خلل کی وجہ مقامی طلب میں غیر معمولی اضافہ نہیں تھا۔</p>
<p>یہ فرق اب محض نظری بحث نہیں رہا۔ مشرق وسطیٰ کا تنازع پہلے ہی اتنا طویل ہوچکا ہے کہ توانائی کی منڈیوں، مال برداری کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور توقعات پر اثر انداز ہورہا ہے، اور یہ فرض کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں کہ یہ تنازع سہولت کے ساتھ ایسے وقت پر ختم ہوجائے گا جو اسٹیٹ بینک کے مہنگائی کے فین چارٹ سے مطابقت رکھتا ہو۔ اگر جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات تک اور ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جاری رہتی ہے تو پاکستان کو تین ماہ کی قیمتوں میں تیزی کے بعد فوری بہتری کی صورتحال کا سامنا نہیں ہوگا، بلکہ اسے لاگت کے ماحول میں مسلسل بگاڑ سے نمٹنا ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا مانیٹری پالیسی کمیٹی ایک شرط لگا رہی ہے۔ وہ یہ توقع کررہی ہے کہ یہ جھٹکا اتنی مختصر مدت تک رہے گا کہ اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات نمایاں طور پر پیدا نہیں ہوں گے، مہنگائی کی توقعات قابو میں رہیں گی اور مجموعی معیشت اتنی تیزی سے نہیں بڑھے گی کہ رسد کے دباؤ کو زیادہ مستقل قیمتوں کے مسئلے میں تبدیل کردے۔</p>
<p>طلب اب غیر فعال نہیں رہی۔ مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا، پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) بدستور توسیع کی حد سے اوپر ہے، پیداواری صلاحیت کا استعمال طویل مدتی اوسط کے قریب ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں مضبوط اضافہ ہورہا ہے، صارفین کے لیے فنانسنگ میں تیزی آئی ہے اور اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معاشی نمو بڑھ کر 3.5 سے 4.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ان میں سے کسی بھی عنصر کو معیشت کا حد سے زیادہ گرم ہونا قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن معیشت واضح طور پر ان محدود طلب کے حالات سے دور ہورہی ہے جنہوں نے ابتدا میں بیرونی کھاتے کو مستحکم کرنے میں مدد دی تھی۔</p>
<p>یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ جب رسد کی جانب سے مہنگائی اور طلب کی جانب سے مہنگائی کے درمیان فرق کو پالیسی جواز کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ فرق ضرورت سے زیادہ سہل بن سکتا ہے۔ پاکستان کا حالیہ تجربہ پالیسی سازوں کو خاص طور پر محتاط رہنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ اگست 2023 سے اگست 2026 کے درمیان ملکی قیمتوں کی سطح میں تقریباً 8 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ آج کی برائے نام شرح مبادلہ تقریباً وہیں ہے جہاں تین سال قبل تھی۔</p>
<p>یہی وہ معاشی بے قاعدگی ہے جو موجودہ استحکام کے نیچے خاموشی سے موجود ہے۔ پاکستان نے ملکی قیمتوں میں نمایاں اضافے کو اس طرح جذب کرلیا ہے کہ برائے نام شرح مبادلہ میں اس نوعیت کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جو تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں مسلسل مہنگائی کے فرق کے ساتھ عموماً ہونی چاہیے۔</p>
<p>روپے کی قدر میں افراط زر کے تناسب سے لازماً اور میکانکی انداز میں کمی ہونا ضروری نہیں، اور قوتِ خرید کی برابری (پرچیزنگ پاور پیریٹی) بھی کوئی ایسا فطری قانون نہیں جو ماہانہ بنیاد پر خودکار طور پر کام کرتا ہو۔ ترسیلات زر، سرمائے کی آمد و رفت، زرمبادلہ ذخائر کا جمع ہونا، شرح سود میں فرق، درآمدات میں کمی، انتظامی اقدامات اور توقعات، سب اہمیت رکھتے ہیں، اور یہ عوامل طویل عرصے تک برائے نام شرح مبادلہ کو اس کی طویل مدتی نسبتی قیمت کے بنیادی معیار سے دور رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ عوامل نسبتی قیمتوں کو غیر اہم نہیں بنا سکتے۔ اگر ملکی قیمتیں ہمارے تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں مسلسل نمایاں تیزی سے بڑھتی رہیں جبکہ برائے نام شرح مبادلہ بڑی حد تک مستحکم رہے تو حقیقی شرح مبادلہ میں مسلسل قدر میں اضافہ ہوتا رہے گا، الا یہ کہ پیداواری صلاحیت، شرائطِ تجارت یا برآمدی کارکردگی میں اتنی بہتری آئے جو اس کی توجیہ کرسکے۔</p>
<p>اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ پیداواری صلاحیت میں کوئی ایسا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو اس ایڈجسٹمنٹ کی وضاحت کرسکے۔ صنعتی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں، کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی، برآمدات بحال ہورہی ہیں، ان میں غیر معمولی تیزی نہیں آرہی، اور معاشی نمو اب صرف ان شرحوں کی جانب واپس آرہی ہے جنہیں پاکستان ماضی میں بھی حاصل کرتا رہا ہے، لیکن کسی نے انہیں مشرقی ایشیا میں پیداواری صلاحیت کے غیر معمولی عروج سے تعبیر نہیں کیا۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں 21 ارب ڈالر کے مائع زرمبادلہ ذخائر پر اسٹیٹ بینک کا اطمینان، ذخائر کی کامیاب تعمیرِ نو کی محض خوشی منانے سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ یہ ذخائر حقیقی، قیمتی اور بڑی محنت سے حاصل کیے گئے ہیں، اور 2023 کی بحرانی سطح سے انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ خطرہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب جمع شدہ وسائل کو اس بات کا ثبوت سمجھ لیا جائے کہ خود مشکلات اور خطرات کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔</p>
<p>یہ فرق انتہائی اہم ہے کیونکہ زرمبادلہ ذخائر کی کفایت اور شرح مبادلہ کا توازن ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ذخائر کا بڑا ذخیرہ مرکزی بینک کو دباؤ جذب کرنے، ایڈجسٹمنٹ کو ہموار کرنے اور وقت خریدنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، لیکن کسی ایڈجسٹمنٹ کو مؤخر کرنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ بنیادی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔</p>
<p>پاکستان پہلے بھی یہ منظر دیکھ چکا ہے۔ بیرونی فنانسنگ بہتر ہوتی ہے، زرمبادلہ ذخائر بڑھتے ہیں، شرح مبادلہ مستحکم ہوتی ہے، اعتماد بحال ہوتا ہے اور خود کرنسی کا استحکام آہستہ آہستہ اس بات کا ثبوت سمجھا جانے لگتا ہے کہ معاشی نظام میں بنیادی طور پر تبدیلی آچکی ہے۔</p>
<p>سبق شاذ ہی یہ رہا ہے کہ ذخائر فرضی تھے۔ ذخائر بالکل حقیقی تھے، مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے پالیسی سازوں کو اتنا وقت فراہم کردیا کہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ نسبتی قیمتوں میں جمع ہوتا ہوا عدم توازن کسی طرح غیر اہم ہوگیا ہے۔</p>
<p>ستم ظریفی یہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کا بڑا حفاظتی ذخیرہ بالآخر پالیسی کی غلطی کرنا مزید آسان بناسکتا ہے۔ بینک میں 3 ارب ڈالر موجود ہوں تو پالیسی سازوں کے پاس تجربات کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، لیکن 21 ارب ڈالر کی موجودگی میں ناموافق تیل کے جھٹکے کو برداشت کرنے، حقیقی شرح مبادلہ کو زیادہ مضبوط ہونے دینے اور دنیا کے سازگار ہونے کا انتظار کرنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>زیادہ مضبوط تنقید یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک بظاہر اس بات پر بہت زیادہ مطمئن دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت کتنی چیزوں کا بیک وقت درست سمت میں ہونا ضروری ہے۔ مشرق وسطیٰ کا جھٹکا ختم ہونا چاہیے، خوراک کی مہنگائی معمول پر آنی چاہیے، دوسرے مرحلے کے اثرات قابو میں رہنے چاہئیں، مہنگائی کی توقعات میں اضافہ رکنا چاہیے، ترسیلات زر غیر معمولی طور پر مضبوط رہنی چاہئیں، بیرونی فنانسنگ دستیاب رہنی چاہیے، معاشی نمو میں بہتری کے ساتھ درآمدی طلب قابل انتظام رہنی چاہیے اور روپے کو کسی نمایاں برائے نام ایڈجسٹمنٹ کے بغیر بڑھتے ہوئے مہنگائی کے فرق کو مسلسل جذب کرنا ہوگا۔</p>
<p>ان میں سے کسی ایک مفروضے پر یقین کرنا قابل فہم ہے۔ لیکن ان تمام مفروضوں پر بیک وقت شرط لگانا وہ مقام ہے جہاں پالیسی محتاط حکمت عملی سے کم اور نیواڈا کے جوئے خانے کے دورے سے زیادہ مشابہ دکھائی دینے لگتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291255</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 11:25:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1511214539020cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1511214539020cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی، ٹیکس ریورسل نے ریکارڈ منافع کو تقویت دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291203/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: او جی ڈی سی) نے مالی سال 2026 کا اختتام ریکارڈ آمدنی کے ساتھ کیا، تاہم منافع میں نمایاں اضافے کے اعداد و شمار کمپنی کے بنیادی آپریشنز پر موجود دباؤ کو چھپا دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از ٹیکس منافع سالانہ بنیاد پر 42.7 فیصد بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 56.35 روپے رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 39.50 روپے تھی۔ تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ آپریٹنگ منافع میں اسی تناسب سے بہتری کے بجائے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں صارفین کے ساتھ معاہدوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ بنیاد پر 12 فیصد بڑھ گئی، جسے آخری سہ ماہی میں تیل کی بلند قیمتوں اور پیداوار میں بہتری سے سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14064740cf7c1ef.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14064740cf7c1ef.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوسط یومیہ تیل کی پیداوار 6.3 فیصد اضافے سے 32,861 بیرل ہوگئی، جبکہ گیس کی پیداوار 2.3 فیصد بڑھ کر 667 ملین مکعب فٹ یومیہ ہوگئی، جو بالترتیب پاکستان کی مجموعی تیل اور گیس پیداوار کا 51 فیصد اور 28 فیصد بنتی ہے۔ او جی ڈی سی نے 23 کنوؤں کی کھدائی شروع کی، جو پانچ سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ ریکارڈ 58,333 میٹر ڈرلنگ کی اور 9 دریافتوں کی اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثابت شدہ ذخائر 728 ملین بیرل آئل ایکوئی ولنٹ کی مضبوط سطح پر برقرار رہے، تاہم مستقبل میں مزید اضافے کا انحصار بروقت ترقی اور تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع کرنے پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ آمدنی کا کچھ حصہ اخراجات میں نمایاں اضافے کی وجہ سے متاثر ہوا۔ رائلٹی کے اخراجات 11.6 فیصد بڑھے، جبکہ مالی سال 2026 میں آپریٹنگ اخراجات سالانہ بنیاد پر 22.9 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخراجات میں یہ اضافہ اضافی ڈرلنگ اور ورک اوور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آخری سہ ماہی میں پنشن اور گریجویٹی کے یک وقتی اخراجات کی وجہ سے ہوا۔ ایکسپلوریشن اور پراسپیکٹنگ کے اخراجات 53.4 فیصد بڑھ گئے، جس کی بنیادی وجہ زلزلہ جاتی سرگرمیوں میں اضافہ اور 2 خشک کنوؤں کی کھدائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، مالی سال 2026 میں مجموعی منافع معمولی 6.5 فیصد بڑھا، جو آمدنی میں اضافے کی رفتار سے نمایاں طور پر کم تھا۔ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 57.7 فیصد سے کم ہوکر 54.9 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی کے عمومی اور انتظامی اخراجات بھی مالی سال 2026 میں سالانہ بنیاد پر نمایاں 47.2 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور منفی عنصر مالیاتی اور دیگر آمدنی رہی، جو 33.5 فیصد کم ہوگئی۔ اگرچہ کمپنی کو ایسوسی ایٹس سے حاصل ہونے والے منافع میں 30.9 فیصد اضافے اور مالیاتی اخراجات میں 12.2 فیصد کمی سے فائدہ ہوا، تاہم یہ بہتریاں قبل از ٹیکس آمدنی کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئیں۔ انکم ٹیکس اور حتمی ٹیکسوں سے قبل منافع 7.2 فیصد کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلہ کن بہتری قبل از ٹیکس منافع کے بعد سامنے آئی۔ او جی ڈی سی نے پہلے سے تسلیم شدہ سپر ٹیکس کی مد میں تقریباً 50 ارب روپے کی پروویژنز واپس لے لیں، جس سے مالی سال 2026 میں مؤثر ٹیکس کی شرح کم ہوگئی۔ نتیجتاً ٹیکسوں میں 84.7 فیصد کمی ہوئی، جس سے خالص منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 42.4 فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد رقم کی بہتر صورتحال نے شیئر ہولڈرز کے منافع کو بھی سہارا دیا۔ او جی ڈی سی نے 6 روپے فی حصص حتمی منافع کا اعلان کیا، جس کے بعد پورے مالی سال کی مجموعی ادائیگی ریکارڈ 17 روپے فی حصص ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے حوالے سے انتظامیہ مالی سال 2027 میں پیداوار میں مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کی سطح کے مقابلے میں 6 سے 8 فیصد اضافے کا ہدف رکھتی ہے۔ نئے کنوؤں اور ترقیاتی منصوبوں سے پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم بڑی تجارتی وصولیاں، سیکیورٹی سے متعلق پائپ لائن میں رکاوٹیں اور ایکسپلوریشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات بدستور اہم خطرات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: او جی ڈی سی) نے مالی سال 2026 کا اختتام ریکارڈ آمدنی کے ساتھ کیا، تاہم منافع میں نمایاں اضافے کے اعداد و شمار کمپنی کے بنیادی آپریشنز پر موجود دباؤ کو چھپا دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>بعد از ٹیکس منافع سالانہ بنیاد پر 42.7 فیصد بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 56.35 روپے رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 39.50 روپے تھی۔ تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ آپریٹنگ منافع میں اسی تناسب سے بہتری کے بجائے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے سامنے آیا۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں صارفین کے ساتھ معاہدوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ بنیاد پر 12 فیصد بڑھ گئی، جسے آخری سہ ماہی میں تیل کی بلند قیمتوں اور پیداوار میں بہتری سے سہارا ملا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14064740cf7c1ef.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14064740cf7c1ef.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اوسط یومیہ تیل کی پیداوار 6.3 فیصد اضافے سے 32,861 بیرل ہوگئی، جبکہ گیس کی پیداوار 2.3 فیصد بڑھ کر 667 ملین مکعب فٹ یومیہ ہوگئی، جو بالترتیب پاکستان کی مجموعی تیل اور گیس پیداوار کا 51 فیصد اور 28 فیصد بنتی ہے۔ او جی ڈی سی نے 23 کنوؤں کی کھدائی شروع کی، جو پانچ سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ ریکارڈ 58,333 میٹر ڈرلنگ کی اور 9 دریافتوں کی اطلاع دی۔</p>
<p>ثابت شدہ ذخائر 728 ملین بیرل آئل ایکوئی ولنٹ کی مضبوط سطح پر برقرار رہے، تاہم مستقبل میں مزید اضافے کا انحصار بروقت ترقی اور تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع کرنے پر ہوگا۔</p>
<p>زیادہ آمدنی کا کچھ حصہ اخراجات میں نمایاں اضافے کی وجہ سے متاثر ہوا۔ رائلٹی کے اخراجات 11.6 فیصد بڑھے، جبکہ مالی سال 2026 میں آپریٹنگ اخراجات سالانہ بنیاد پر 22.9 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>اخراجات میں یہ اضافہ اضافی ڈرلنگ اور ورک اوور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آخری سہ ماہی میں پنشن اور گریجویٹی کے یک وقتی اخراجات کی وجہ سے ہوا۔ ایکسپلوریشن اور پراسپیکٹنگ کے اخراجات 53.4 فیصد بڑھ گئے، جس کی بنیادی وجہ زلزلہ جاتی سرگرمیوں میں اضافہ اور 2 خشک کنوؤں کی کھدائی تھی۔</p>
<p>نتیجتاً، مالی سال 2026 میں مجموعی منافع معمولی 6.5 فیصد بڑھا، جو آمدنی میں اضافے کی رفتار سے نمایاں طور پر کم تھا۔ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 57.7 فیصد سے کم ہوکر 54.9 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>او جی ڈی سی کے عمومی اور انتظامی اخراجات بھی مالی سال 2026 میں سالانہ بنیاد پر نمایاں 47.2 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>ایک اور منفی عنصر مالیاتی اور دیگر آمدنی رہی، جو 33.5 فیصد کم ہوگئی۔ اگرچہ کمپنی کو ایسوسی ایٹس سے حاصل ہونے والے منافع میں 30.9 فیصد اضافے اور مالیاتی اخراجات میں 12.2 فیصد کمی سے فائدہ ہوا، تاہم یہ بہتریاں قبل از ٹیکس آمدنی کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئیں۔ انکم ٹیکس اور حتمی ٹیکسوں سے قبل منافع 7.2 فیصد کم ہوگیا۔</p>
<p>فیصلہ کن بہتری قبل از ٹیکس منافع کے بعد سامنے آئی۔ او جی ڈی سی نے پہلے سے تسلیم شدہ سپر ٹیکس کی مد میں تقریباً 50 ارب روپے کی پروویژنز واپس لے لیں، جس سے مالی سال 2026 میں مؤثر ٹیکس کی شرح کم ہوگئی۔ نتیجتاً ٹیکسوں میں 84.7 فیصد کمی ہوئی، جس سے خالص منافع کا مارجن مالی سال 2025 کے 42.4 فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد ہوگیا۔</p>
<p>نقد رقم کی بہتر صورتحال نے شیئر ہولڈرز کے منافع کو بھی سہارا دیا۔ او جی ڈی سی نے 6 روپے فی حصص حتمی منافع کا اعلان کیا، جس کے بعد پورے مالی سال کی مجموعی ادائیگی ریکارڈ 17 روپے فی حصص ہوگئی۔</p>
<p>مستقبل کے حوالے سے انتظامیہ مالی سال 2027 میں پیداوار میں مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کی سطح کے مقابلے میں 6 سے 8 فیصد اضافے کا ہدف رکھتی ہے۔ نئے کنوؤں اور ترقیاتی منصوبوں سے پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم بڑی تجارتی وصولیاں، سیکیورٹی سے متعلق پائپ لائن میں رکاوٹیں اور ایکسپلوریشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات بدستور اہم خطرات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291203</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 10:22:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/14102053ff7ed50.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/14102053ff7ed50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم قیمتیں، صرف مشکل انتخاب ہی باقی رہ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر گرم ہورہی ہے اور پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی واپسی کے بعد نسبتاً پُرسکون عرصہ گزرا تھا، تاہم گزشتہ چند دن ہرگز پُرسکون نہیں رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کی جانب بڑھ گئی ہے، جبکہ حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں کئی دنوں کے دوران دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور بعض مواقع پر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ غیر معمولی طور پر طویل رہا ہے۔ پمپس پر قیمتوں کا دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام واپس لانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسی نوعیت کے اتار چڑھاؤ کو زیادہ قابلِ انتظام بنایا جائے۔ چونکہ قیمتوں کا فارمولا سات روزہ متحرک اوسط کی بنیاد پر ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اچانک ہونے والی تبدیلیاں قدرتی طور پر کسی حد تک متوازن ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب بنیادی مارکیٹ مسلسل کئی دن تک تیزی سے اور شدت کے ساتھ حرکت کرے تو متحرک اوسط بھی صرف ایک حد تک ہی اثر کو کم کرسکتی ہے۔ بالآخر حساب کتاب اپنا اثر دکھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی وہ مقام ہے جہاں صورتحال دلچسپ ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افواہوں کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ زیر گردش ایک تجویز یہ ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت کے تعین کے لیے معیار کو دوبارہ تقریباً 30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر لایا جائے، بظاہر اس مقصد کے لیے کہ ملکی قیمتوں پر پڑنے والے اثر کو محدود کیا جاسکے۔ ریفائنریوں نے ظاہر ہے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ ادھر اسلام آباد نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ فی الحال یہ صرف ایک افواہ ہے۔ لیکن ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بڑی رکاوٹ شاید کہیں اور موجود ہے: ٹیکسوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی ملا کر پیٹرول اور ایچ ایس ڈی دونوں پر 85 روپے فی لیٹر عائد ہیں۔ ایسے وقت میں جب عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہوں، قدرتی سیاسی ردعمل یہی ہوگا کہ لیوی میں کمی کی جائے اور اضافے کا کچھ حصہ برداشت کیا جائے۔ لیکن مالیاتی اور پروگرام سے متعلق پابندیاں اس اقدام کو اتنا آسان نہیں رہنے دیتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاملے پر بات کرچکا ہے اور ماضی کے ایسے واقعات خاص طور پر اچھے نتائج کے ساتھ ختم نہیں ہوئے۔ پروگرام کے جائزے سے قبل آئی ایم ایف کے نمائندے اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، اس لیے ہائیڈروکاربن سے متعلق ٹیکسوں میں کمی ایک ایسا اقدام نہیں ہوگا جسے آسانی سے کیا جاسکے۔ پیچیدگی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت پاکستان کے وعدے بھی موجود ہیں، جو واضح طور پر موسمیاتی پالیسی اور فوسل فیول کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے مراعات کو بتدریج مضبوط بنانے سے منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں، اسلام آباد بیک وقت دونوں فوائد حاصل نہیں کرسکتا۔ وہ آر ایس ایف کے تحت فوسل فیول پر زیادہ مضبوط ٹیکس عائد کرنے کا عہد بھی نہیں کرسکتا اور پھر جب بھی عالمی تیل کی قیمتیں بڑھیں تو معمول کے مطابق ان ٹیکسوں کو ختم بھی نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں ایک اور مانوس راستہ باقی رہ جاتا ہے: لیوی کو برقرار رکھا جائے اور پرائس ڈفرینشل کلیم متعارف کرایا جائے، جس کے ذریعے پیٹرولیم ڈفرینشل کلیم کے طریقہ کار کے تحت عملاً دوبارہ سبسڈی فراہم کی جائے۔ پاکستان ماضی میں ایسا کرچکا ہے، جس میں 2022 کا تیل کی قیمتوں کا بحران اور حالیہ تنازع کے آغاز کا زیادہ حالیہ عرصہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ بھی بمشکل کوئی حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع پیمانے پر دی جانے والی پیٹرولیم سبسڈی مالی لحاظ سے مہنگی، ہدف کے اعتبار سے ناقص اور بالآخر ہر صارف کو فائدہ پہنچاتی ہے، چاہے وہ ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ مثالی طور پر حکومت کو عالمی قیمتوں میں اضافے کو صارفین تک منتقل ہونے دینا چاہیے اور مالی گنجائش کو براہِ راست سب سے زیادہ کمزور طبقات کی معاونت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس فی الحال حقیقی ایندھن کے استعمال کی بنیاد پر پیٹرولیم معاونت کو ہدف بنانے کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کمزور گھرانوں کو نقد امداد فراہم کرسکتا ہے، لیکن یہ ہدفی ایندھن سبسڈی کے برابر نہیں ہے، اور ایسا کوئی واضح طریقہ کار بھی موجود نہیں جس کے ذریعے دونوں کو باقاعدہ طور پر مربوط کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اسلام آباد کے سامنے تین نامکمل انتخاب رہ جاتے ہیں۔ عالمی قیمتوں کے مکمل جھٹکے کو صارفین تک منتقل ہونے دیا جائے۔ پیٹرولیم ٹیکسوں میں کمی کرکے پہلے سے کیے گئے مالیاتی اور موسمیاتی وعدوں کو کمزور کیا جائے۔ یا ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے سبسڈی کے ذریعے قیمت کے فرق کو برداشت کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی خاص طور پر پرکشش راستہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہ اس حقیقت کا ناگزیر نتیجہ ہے کہ پیٹرولیم ٹیکسوں کو مالیاتی ڈھانچے کا اتنا اہم ستون بنا دیا گیا ہے۔ جب ایک شعبے سے اتنی زیادہ آمدنی فراہم کرنے کی توقع کی جائے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران پالیسی میں لچک شدید طور پر محدود ہوجاتی ہے۔ وہی ٹیکس جو معمول کے حالات میں مالیاتی خلا کو پُر کرنے میں مدد دیتا ہے، بنیادی اجناس کی قیمت میں تیزی آنے پر سیاسی اور اقتصادی طور پر دفاع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مالیاتی استحکام صرف یہ نہیں کہ جہاں سے ممکن ہو مزید ایک ارب ڈالر حاصل کرلیے جائیں۔ آمدنی میں اضافے کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اضافی اقدام مراعات کے ڈھانچے میں تبدیلی پیدا کرتا ہے، مستقبل میں پابندیاں عائد کرتا ہے اور حالات کے پلٹ جانے پر ایک بوجھ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) اس کی ایک مثال ہے۔ اضافی بیرونی مالی اعانت حاصل کرنا اس وقت بلاشبہ پرکشش تھا جب پاکستان ہر ممکن ڈالر کی تلاش میں تھا۔ لیکن اس سے وابستہ وعدے بھی پالیسی کی گنجائش کو محدود کردیتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سہولت ایک غلطی تھی۔ تاہم، یہ اس بات کو ضرور واضح کرتی ہے کہ فوری نقدی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اضافی مالی اعانت حاصل کرتے وقت اس سے وابستہ طویل مدتی اخراجات اور پابندیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، کسی نہ کسی چیز کو قربانی دینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں کہیں کوئی تکنیکی ایڈجسٹمنٹ مل سکتی ہے، عالمی قیمتیں دوبارہ نیچے آسکتی ہیں، یا شاید قریب ہی کوئی ٹیکٹیکل ایڈجسٹمنٹ یعنی ٹیکو موجود ہو۔ لیکن ان میں سے کسی پر انحصار کو شاید ہی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی قرار دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ واضح اور صاف حل اب بھی وہی ہے: قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق حرکت کرنے دیا جائے اور مالیاتی معاونت صرف ان لوگوں کے لیے مختص رکھی جائے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔ تاہم، جب تک پاکستان ایسا طریقہ کار تیار نہیں کرلیتا جو یہ کام مؤثر انداز میں انجام دے سکے، تیل کی قیمتوں میں ہر بڑے جھٹکے کے بعد اسلام آباد کو اسی ناخوشگوار انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا: صارفین کو نقصان پہنچایا جائے، مالیاتی پوزیشن کو نقصان پہنچایا جائے، یا پہلے سے کیے گئے وعدوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال شاید جلد ہی اس انتخاب کو کھل کر سامنے لانے پر مجبور کردے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر گرم ہورہی ہے اور پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی واپسی کے بعد نسبتاً پُرسکون عرصہ گزرا تھا، تاہم گزشتہ چند دن ہرگز پُرسکون نہیں رہے۔</strong></p>
<p>خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کی جانب بڑھ گئی ہے، جبکہ حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں کئی دنوں کے دوران دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور بعض مواقع پر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ غیر معمولی طور پر طویل رہا ہے۔ پمپس پر قیمتوں کا دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام واپس لانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسی نوعیت کے اتار چڑھاؤ کو زیادہ قابلِ انتظام بنایا جائے۔ چونکہ قیمتوں کا فارمولا سات روزہ متحرک اوسط کی بنیاد پر ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اچانک ہونے والی تبدیلیاں قدرتی طور پر کسی حد تک متوازن ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب بنیادی مارکیٹ مسلسل کئی دن تک تیزی سے اور شدت کے ساتھ حرکت کرے تو متحرک اوسط بھی صرف ایک حد تک ہی اثر کو کم کرسکتی ہے۔ بالآخر حساب کتاب اپنا اثر دکھا دیتا ہے۔</p>
<p>اور یہی وہ مقام ہے جہاں صورتحال دلچسپ ہوجاتی ہے۔</p>
<p>افواہوں کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ زیر گردش ایک تجویز یہ ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت کے تعین کے لیے معیار کو دوبارہ تقریباً 30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر لایا جائے، بظاہر اس مقصد کے لیے کہ ملکی قیمتوں پر پڑنے والے اثر کو محدود کیا جاسکے۔ ریفائنریوں نے ظاہر ہے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ ادھر اسلام آباد نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ فی الحال یہ صرف ایک افواہ ہے۔ لیکن ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔</p>
<p>تاہم، بڑی رکاوٹ شاید کہیں اور موجود ہے: ٹیکسوں میں۔</p>
<p>اس وقت پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی ملا کر پیٹرول اور ایچ ایس ڈی دونوں پر 85 روپے فی لیٹر عائد ہیں۔ ایسے وقت میں جب عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہوں، قدرتی سیاسی ردعمل یہی ہوگا کہ لیوی میں کمی کی جائے اور اضافے کا کچھ حصہ برداشت کیا جائے۔ لیکن مالیاتی اور پروگرام سے متعلق پابندیاں اس اقدام کو اتنا آسان نہیں رہنے دیتیں۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاملے پر بات کرچکا ہے اور ماضی کے ایسے واقعات خاص طور پر اچھے نتائج کے ساتھ ختم نہیں ہوئے۔ پروگرام کے جائزے سے قبل آئی ایم ایف کے نمائندے اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، اس لیے ہائیڈروکاربن سے متعلق ٹیکسوں میں کمی ایک ایسا اقدام نہیں ہوگا جسے آسانی سے کیا جاسکے۔ پیچیدگی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت پاکستان کے وعدے بھی موجود ہیں، جو واضح طور پر موسمیاتی پالیسی اور فوسل فیول کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے مراعات کو بتدریج مضبوط بنانے سے منسلک ہیں۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں، اسلام آباد بیک وقت دونوں فوائد حاصل نہیں کرسکتا۔ وہ آر ایس ایف کے تحت فوسل فیول پر زیادہ مضبوط ٹیکس عائد کرنے کا عہد بھی نہیں کرسکتا اور پھر جب بھی عالمی تیل کی قیمتیں بڑھیں تو معمول کے مطابق ان ٹیکسوں کو ختم بھی نہیں کرسکتا۔</p>
<p>اس صورتحال میں ایک اور مانوس راستہ باقی رہ جاتا ہے: لیوی کو برقرار رکھا جائے اور پرائس ڈفرینشل کلیم متعارف کرایا جائے، جس کے ذریعے پیٹرولیم ڈفرینشل کلیم کے طریقہ کار کے تحت عملاً دوبارہ سبسڈی فراہم کی جائے۔ پاکستان ماضی میں ایسا کرچکا ہے، جس میں 2022 کا تیل کی قیمتوں کا بحران اور حالیہ تنازع کے آغاز کا زیادہ حالیہ عرصہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>لیکن یہ بھی بمشکل کوئی حل ہے۔</p>
<p>وسیع پیمانے پر دی جانے والی پیٹرولیم سبسڈی مالی لحاظ سے مہنگی، ہدف کے اعتبار سے ناقص اور بالآخر ہر صارف کو فائدہ پہنچاتی ہے، چاہے وہ ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ مثالی طور پر حکومت کو عالمی قیمتوں میں اضافے کو صارفین تک منتقل ہونے دینا چاہیے اور مالی گنجائش کو براہِ راست سب سے زیادہ کمزور طبقات کی معاونت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس فی الحال حقیقی ایندھن کے استعمال کی بنیاد پر پیٹرولیم معاونت کو ہدف بنانے کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کمزور گھرانوں کو نقد امداد فراہم کرسکتا ہے، لیکن یہ ہدفی ایندھن سبسڈی کے برابر نہیں ہے، اور ایسا کوئی واضح طریقہ کار بھی موجود نہیں جس کے ذریعے دونوں کو باقاعدہ طور پر مربوط کیا جاسکے۔</p>
<p>چنانچہ اسلام آباد کے سامنے تین نامکمل انتخاب رہ جاتے ہیں۔ عالمی قیمتوں کے مکمل جھٹکے کو صارفین تک منتقل ہونے دیا جائے۔ پیٹرولیم ٹیکسوں میں کمی کرکے پہلے سے کیے گئے مالیاتی اور موسمیاتی وعدوں کو کمزور کیا جائے۔ یا ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے سبسڈی کے ذریعے قیمت کے فرق کو برداشت کیا جائے۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی خاص طور پر پرکشش راستہ نہیں ہے۔</p>
<p>شاید یہ اس حقیقت کا ناگزیر نتیجہ ہے کہ پیٹرولیم ٹیکسوں کو مالیاتی ڈھانچے کا اتنا اہم ستون بنا دیا گیا ہے۔ جب ایک شعبے سے اتنی زیادہ آمدنی فراہم کرنے کی توقع کی جائے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران پالیسی میں لچک شدید طور پر محدود ہوجاتی ہے۔ وہی ٹیکس جو معمول کے حالات میں مالیاتی خلا کو پُر کرنے میں مدد دیتا ہے، بنیادی اجناس کی قیمت میں تیزی آنے پر سیاسی اور اقتصادی طور پر دفاع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مالیاتی استحکام صرف یہ نہیں کہ جہاں سے ممکن ہو مزید ایک ارب ڈالر حاصل کرلیے جائیں۔ آمدنی میں اضافے کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اضافی اقدام مراعات کے ڈھانچے میں تبدیلی پیدا کرتا ہے، مستقبل میں پابندیاں عائد کرتا ہے اور حالات کے پلٹ جانے پر ایک بوجھ بن سکتا ہے۔</p>
<p>ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) اس کی ایک مثال ہے۔ اضافی بیرونی مالی اعانت حاصل کرنا اس وقت بلاشبہ پرکشش تھا جب پاکستان ہر ممکن ڈالر کی تلاش میں تھا۔ لیکن اس سے وابستہ وعدے بھی پالیسی کی گنجائش کو محدود کردیتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سہولت ایک غلطی تھی۔ تاہم، یہ اس بات کو ضرور واضح کرتی ہے کہ فوری نقدی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اضافی مالی اعانت حاصل کرتے وقت اس سے وابستہ طویل مدتی اخراجات اور پابندیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>فی الحال، کسی نہ کسی چیز کو قربانی دینا ہوگی۔</p>
<p>حکومت کو قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں کہیں کوئی تکنیکی ایڈجسٹمنٹ مل سکتی ہے، عالمی قیمتیں دوبارہ نیچے آسکتی ہیں، یا شاید قریب ہی کوئی ٹیکٹیکل ایڈجسٹمنٹ یعنی ٹیکو موجود ہو۔ لیکن ان میں سے کسی پر انحصار کو شاید ہی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی قرار دیا جاسکے۔</p>
<p>زیادہ واضح اور صاف حل اب بھی وہی ہے: قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق حرکت کرنے دیا جائے اور مالیاتی معاونت صرف ان لوگوں کے لیے مختص رکھی جائے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔ تاہم، جب تک پاکستان ایسا طریقہ کار تیار نہیں کرلیتا جو یہ کام مؤثر انداز میں انجام دے سکے، تیل کی قیمتوں میں ہر بڑے جھٹکے کے بعد اسلام آباد کو اسی ناخوشگوار انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا: صارفین کو نقصان پہنچایا جائے، مالیاتی پوزیشن کو نقصان پہنچایا جائے، یا پہلے سے کیے گئے وعدوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔</p>
<p>موجودہ صورتحال شاید جلد ہی اس انتخاب کو کھل کر سامنے لانے پر مجبور کردے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291107</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Sep 2026 10:20:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/11101818b7ab705.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/11101818b7ab705.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر میں اضافہ، انحصار مزید بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ترسیلاتِ زر کی رفتار مالی سال 2027 میں بھی برقرار رہی ہے۔ اگست 2026 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 3.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 16.5 فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران مجموعی آمدن 7.29 ارب ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 14.7 فیصد اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت مالی سال 2026 میں ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں اضافہ وسیع بنیادوں پر رہا۔ سعودی عرب بدستور ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے آنے والی رقم میں سالانہ بنیاد پر 18.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جولائی کے مقابلے میں یہ 4.4 فیصد کم رہی۔ متحدہ عرب امارات سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 16.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برطانیہ سے آنے والی رقوم میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 14.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکا سے آنے والی ترسیلاتِ زر 15.6 فیصد بڑھ گئیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کی بہتر کارکردگی حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے روایتی خلیجی ذرائع سے آگے ترسیلاتِ زر کے ذرائع میں کچھ تنوع پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100841546d30184.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100841546d30184.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود خلیج پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک نے مل کر اگست 2026 میں تقریباً 1.95 ارب ڈالر، یعنی تمام ترسیلاتِ زر کے نصف سے زیادہ، فراہم کیے۔ چار سب سے بڑے انفرادی ذرائع — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا — نے ماہانہ مجموعے کے دو تہائی سے زیادہ حصے میں حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ارتکاز طاقت بھی ہے اور خطرہ بھی۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی بڑی تعداد زرمبادلہ کی ایک قابلِ اعتماد آمد فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے باعث ملک تیل کی قیمتوں کے چکروں، مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینے کی پالیسیوں، ویزا پابندیوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کے خطرات سے بھی دوچار رہتا ہے۔ 2025 میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے پاکستانی کارکنوں میں سے 96 فیصد سے زیادہ خلیجی ممالک گئے، جن میں سے بہت سے کم اور نیم ہنر مند شعبوں سے وابستہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال ترسیلاتِ زر ایک بار پھر بیرونی کھاتے کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100842030c7d2f6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100842030c7d2f6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم تازہ ترین اعداد و شمار اس لیے بھی اطمینان بخش ہیں کہ یہ ترسیلاتِ زر کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ جولائی 2026 سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے ترسیلاتِ زر کے لیے دو مراعاتی اسکیمیں ختم کر دی ہیں، جن میں اہل منتقلی کی فیس کی واپسی بھی شامل تھی۔ رسمی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں اور وصول کرنے والوں کے لیے بدستور مفت ہیں، جبکہ بینکوں سے توقع ہے کہ وہ اس لاگت کو خود برداشت کریں گے۔ پہلے دو ماہ کے دوران مضبوط آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منتقلی کے باعث فوری طور پر کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔ تاہم بینکوں کو رقوم کی منتقلی کو تیز، آسان اور مسابقتی رکھنا ہوگا۔ خدمات کے معیار میں کسی بھی خرابی یا پوشیدہ اخراجات میں اضافے سے ترسیلاتِ زر کا کچھ حصہ دوبارہ ہنڈی اور حوالہ کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اضافے کا کچھ حصہ تارکینِ وطن کی آمدنی میں مساوی اضافے کے بجائے غیر رسمی ذرائع سے رسمی ذرائع کی جانب مسلسل منتقلی کی عکاسی کر سکتا ہے، تاہم ترسیلاتِ زر اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہیں کہ برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی رفتار کمزور رہی ہے۔ یہ ملکی معیشت کی ساختی کمزوریوں کا تیزی سے ازالہ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے بیرونی شعبے کا سب سے مضبوط سہارا برقرار ہیں، لیکن یہ برآمدات، سرمایہ کاری یا پیداواری صلاحیت کا متبادل نہیں ہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہوگی کہ ان رقوم کے بہاؤ کو رسمی اور قابلِ اعتماد رکھا جائے، جبکہ بتدریج ملک کی بیرونِ ملک مقیم آبادی کی دولت کے ایک حصے کو پیداواری سرمائے میں تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ترسیلاتِ زر کی رفتار مالی سال 2027 میں بھی برقرار رہی ہے۔ اگست 2026 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 3.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 16.5 فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران مجموعی آمدن 7.29 ارب ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 14.7 فیصد اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت مالی سال 2026 میں ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>اگست میں اضافہ وسیع بنیادوں پر رہا۔ سعودی عرب بدستور ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے آنے والی رقم میں سالانہ بنیاد پر 18.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جولائی کے مقابلے میں یہ 4.4 فیصد کم رہی۔ متحدہ عرب امارات سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 16.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برطانیہ سے آنے والی رقوم میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>یورپی یونین سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 14.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکا سے آنے والی ترسیلاتِ زر 15.6 فیصد بڑھ گئیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کی بہتر کارکردگی حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے روایتی خلیجی ذرائع سے آگے ترسیلاتِ زر کے ذرائع میں کچھ تنوع پیدا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100841546d30184.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100841546d30184.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے باوجود خلیج پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک نے مل کر اگست 2026 میں تقریباً 1.95 ارب ڈالر، یعنی تمام ترسیلاتِ زر کے نصف سے زیادہ، فراہم کیے۔ چار سب سے بڑے انفرادی ذرائع — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا — نے ماہانہ مجموعے کے دو تہائی سے زیادہ حصے میں حصہ ڈالا۔</p>
<p>یہ ارتکاز طاقت بھی ہے اور خطرہ بھی۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی بڑی تعداد زرمبادلہ کی ایک قابلِ اعتماد آمد فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے باعث ملک تیل کی قیمتوں کے چکروں، مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینے کی پالیسیوں، ویزا پابندیوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کے خطرات سے بھی دوچار رہتا ہے۔ 2025 میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے پاکستانی کارکنوں میں سے 96 فیصد سے زیادہ خلیجی ممالک گئے، جن میں سے بہت سے کم اور نیم ہنر مند شعبوں سے وابستہ تھے۔</p>
<p>فی الحال ترسیلاتِ زر ایک بار پھر بیرونی کھاتے کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100842030c7d2f6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/100842030c7d2f6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم تازہ ترین اعداد و شمار اس لیے بھی اطمینان بخش ہیں کہ یہ ترسیلاتِ زر کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ جولائی 2026 سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے ترسیلاتِ زر کے لیے دو مراعاتی اسکیمیں ختم کر دی ہیں، جن میں اہل منتقلی کی فیس کی واپسی بھی شامل تھی۔ رسمی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں اور وصول کرنے والوں کے لیے بدستور مفت ہیں، جبکہ بینکوں سے توقع ہے کہ وہ اس لاگت کو خود برداشت کریں گے۔ پہلے دو ماہ کے دوران مضبوط آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منتقلی کے باعث فوری طور پر کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔ تاہم بینکوں کو رقوم کی منتقلی کو تیز، آسان اور مسابقتی رکھنا ہوگا۔ خدمات کے معیار میں کسی بھی خرابی یا پوشیدہ اخراجات میں اضافے سے ترسیلاتِ زر کا کچھ حصہ دوبارہ ہنڈی اور حوالہ کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ اضافے کا کچھ حصہ تارکینِ وطن کی آمدنی میں مساوی اضافے کے بجائے غیر رسمی ذرائع سے رسمی ذرائع کی جانب مسلسل منتقلی کی عکاسی کر سکتا ہے، تاہم ترسیلاتِ زر اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہیں کہ برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی رفتار کمزور رہی ہے۔ یہ ملکی معیشت کی ساختی کمزوریوں کا تیزی سے ازالہ کر رہی ہیں۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے بیرونی شعبے کا سب سے مضبوط سہارا برقرار ہیں، لیکن یہ برآمدات، سرمایہ کاری یا پیداواری صلاحیت کا متبادل نہیں ہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہوگی کہ ان رقوم کے بہاؤ کو رسمی اور قابلِ اعتماد رکھا جائے، جبکہ بتدریج ملک کی بیرونِ ملک مقیم آبادی کی دولت کے ایک حصے کو پیداواری سرمائے میں تبدیل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291060</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 10:10:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/10100841d03bfdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/10100841d03bfdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر کے بجلی بل، ایڈجسٹمنٹس کا بوجھ بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستمبر 2026 کے بجلی کے بل مختلف کیٹیگریز میں گزشتہ دو سال کے دوران سب سے زیادہ ہونے جا رہے ہیں، کیونکہ مختلف ایڈجسٹمنٹس نافذ العمل ہو رہی ہیں۔ بجلی کے ریگولیٹر کے حالیہ دو فیصلوں کے نتیجے میں ستمبر کی ایڈجسٹمنٹس 2.5 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کے باعث اوسط گھریلو صارف کا ٹیرف 28.23 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جیسا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے سی پی آئی طریقہ کار کے مطابق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر یہ 29 فیصد اضافہ ہے اور ستمبر کے سی پی آئی کو ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رکھنے میں یہ ایک اہم عنصر ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا ایڈجسٹمنٹ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو 24 ماہ کے دوران سب سے بڑی مثبت ایڈجسٹمنٹ ہے اور 2.06 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ایف سی اے محض 10 پیسے تھا، جبکہ گزشتہ ماہ یہ 75 پیسے فی یونٹ تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714092295fc1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714092295fc1.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ایف سی اے سابقہ مدت پر لاگو ہوتا ہے اور جولائی کے یونٹس کی کھپت پر عائد کیا جاتا ہے، جس کی بلنگ ستمبر میں ہوگی، اس لیے خاص طور پر گھریلو صارفین کو اس کا شدید اثر محسوس ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطلق اعداد و شمار میں جولائی 2026 کے فیول چارجز 139 ارب روپے کے ساتھ 49 ماہ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اتفاقاً نہیں، بلکہ آر ایل این جی کا فیول بل بھی 77 ارب روپے کے ساتھ اتنے ہی عرصے کی بلند ترین سطح پر ہے۔ صرف جون 2022 میں، جب آر ایل این جی کا فیول بل جولائی 2026 سے زیادہ تھا، بجلی کی پیداوار جولائی 2026 کے مقابلے میں تقریباً دگنی تھی۔ فی یونٹ بنیاد پر آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 47 روپے فی یونٹ ہے، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور 35 روپے فی یونٹ کی سابقہ بلند ترین سطح کو بھی عبور کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی کے مالیکیولز اب بھی مشکل سے دستیاب ہونے اور نرخ غیر معمولی حد تک بلند ہونے کے باعث گزشتہ ماہ اور موجودہ ماہ میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ہائیڈل بجلی کے بہاؤ اس صورتحال میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم نیوکلیئر پاور پلانٹس کے تاخیر کا شکار مینٹیننس پلانز صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714179f42f2b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714179f42f2b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) ہے، جو نسبتاً معمولی یعنی 52 پیسے فی یونٹ ہے اور ستمبر سے نومبر تک نافذ رہے گی۔ تاہم، یہ تقریباً 2 روپے فی یونٹ کی سب سے بڑی منفی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ لے رہی ہے، اور اس کے نتیجے میں مجموعی اثر کہیں زیادہ ہوگا۔ اگرچہ یہ معمولی ہے، لیکن یہ مالی سال 24 کی آخری سہ ماہی کے بعد سب سے زیادہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی کا بڑا حصہ اضافی یونٹس پر پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کی ریکوری سے مسلسل حاصل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا بڑا حصہ صنعتی یونٹس کی کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی سے سامنے آ رہا ہے، جس نے کیپیسٹی چارجز کے اوور رن کو روکنے میں مدد دی، جو تقریباً 44 ارب روپے کے قریب تھا۔ اگر اضافی یونٹس کے اثرات نہ ہوتے تو صرف کیپیسٹی کمپوننٹ ہی تقریباً 1.7 سے 1.8 روپے فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ کا باعث بنتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0907142124d65b7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0907142124d65b7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صنعتی صارفین کی جانب سے کیپٹو استعمال پر ریلیف کا مطالبہ بدستور جاری ہے۔ تاہم، اب یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ یہ ریلیف نہیں مل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے آئی ایم ایف کی آر ایس ایف سہولت کے تحت کیپٹو بیسڈ جنریشن ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ فرنس آئل پر لیوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی ایک شرط ہے اور پروگرام کے دوران اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، چاہے کسی مرحلے پر آر ایل این جی کے مقابلے میں فرنس آئل پر بجلی پیدا کرنا زیادہ موزوں دکھائی دینے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جولائی 2026 میں اس میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.6 گنا اضافہ ہوا، جبکہ دو سال قبل کے مقابلے میں یہ تقریباً چار گنا ہوگئی ہے۔ دن اور رات کے دوران بجلی کی طلب کے رجحانات طویل عرصے سے یہی کہانی بیان کر رہے ہیں، اور میٹرڈ اور نان میٹرڈ سولر جنریشن میں اضافے کے نتیجے میں اضافی لاگت میں بہت زیادہ فرق اور گرڈ کے استحکام سے متعلق ضروریات پیدا ہوئی ہیں، جس کے باعث زیادہ مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنا پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں صنعتی طلب کی صورتحال گرڈ کے مجموعی ڈیمانڈ پروفائل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور آئندہ ایڈجسٹمنٹس پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی کے باعث طلب کا بنیادی حجم محدود ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستمبر 2026 کے بجلی کے بل مختلف کیٹیگریز میں گزشتہ دو سال کے دوران سب سے زیادہ ہونے جا رہے ہیں، کیونکہ مختلف ایڈجسٹمنٹس نافذ العمل ہو رہی ہیں۔ بجلی کے ریگولیٹر کے حالیہ دو فیصلوں کے نتیجے میں ستمبر کی ایڈجسٹمنٹس 2.5 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کے باعث اوسط گھریلو صارف کا ٹیرف 28.23 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جیسا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے سی پی آئی طریقہ کار کے مطابق ہے۔</strong></p>
<p>سالانہ بنیاد پر یہ 29 فیصد اضافہ ہے اور ستمبر کے سی پی آئی کو ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رکھنے میں یہ ایک اہم عنصر ثابت ہوگا۔</p>
<p>سب سے بڑا ایڈجسٹمنٹ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو 24 ماہ کے دوران سب سے بڑی مثبت ایڈجسٹمنٹ ہے اور 2.06 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ایف سی اے محض 10 پیسے تھا، جبکہ گزشتہ ماہ یہ 75 پیسے فی یونٹ تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714092295fc1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714092295fc1.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>چونکہ ایف سی اے سابقہ مدت پر لاگو ہوتا ہے اور جولائی کے یونٹس کی کھپت پر عائد کیا جاتا ہے، جس کی بلنگ ستمبر میں ہوگی، اس لیے خاص طور پر گھریلو صارفین کو اس کا شدید اثر محسوس ہوگا۔</p>
<p>مطلق اعداد و شمار میں جولائی 2026 کے فیول چارجز 139 ارب روپے کے ساتھ 49 ماہ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اتفاقاً نہیں، بلکہ آر ایل این جی کا فیول بل بھی 77 ارب روپے کے ساتھ اتنے ہی عرصے کی بلند ترین سطح پر ہے۔ صرف جون 2022 میں، جب آر ایل این جی کا فیول بل جولائی 2026 سے زیادہ تھا، بجلی کی پیداوار جولائی 2026 کے مقابلے میں تقریباً دگنی تھی۔ فی یونٹ بنیاد پر آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 47 روپے فی یونٹ ہے، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور 35 روپے فی یونٹ کی سابقہ بلند ترین سطح کو بھی عبور کر چکی ہے۔</p>
<p>آر ایل این جی کے مالیکیولز اب بھی مشکل سے دستیاب ہونے اور نرخ غیر معمولی حد تک بلند ہونے کے باعث گزشتہ ماہ اور موجودہ ماہ میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ہائیڈل بجلی کے بہاؤ اس صورتحال میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم نیوکلیئر پاور پلانٹس کے تاخیر کا شکار مینٹیننس پلانز صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714179f42f2b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/090714179f42f2b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) ہے، جو نسبتاً معمولی یعنی 52 پیسے فی یونٹ ہے اور ستمبر سے نومبر تک نافذ رہے گی۔ تاہم، یہ تقریباً 2 روپے فی یونٹ کی سب سے بڑی منفی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ لے رہی ہے، اور اس کے نتیجے میں مجموعی اثر کہیں زیادہ ہوگا۔ اگرچہ یہ معمولی ہے، لیکن یہ مالی سال 24 کی آخری سہ ماہی کے بعد سب سے زیادہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی ہے۔</p>
<p>اس کمی کا بڑا حصہ اضافی یونٹس پر پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کی ریکوری سے مسلسل حاصل ہو رہا ہے۔</p>
<p>اس کا بڑا حصہ صنعتی یونٹس کی کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی سے سامنے آ رہا ہے، جس نے کیپیسٹی چارجز کے اوور رن کو روکنے میں مدد دی، جو تقریباً 44 ارب روپے کے قریب تھا۔ اگر اضافی یونٹس کے اثرات نہ ہوتے تو صرف کیپیسٹی کمپوننٹ ہی تقریباً 1.7 سے 1.8 روپے فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ کا باعث بنتا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0907142124d65b7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0907142124d65b7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>صنعتی صارفین کی جانب سے کیپٹو استعمال پر ریلیف کا مطالبہ بدستور جاری ہے۔ تاہم، اب یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ یہ ریلیف نہیں مل رہا۔</p>
<p>پاکستان نے آئی ایم ایف کی آر ایس ایف سہولت کے تحت کیپٹو بیسڈ جنریشن ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ فرنس آئل پر لیوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی ایک شرط ہے اور پروگرام کے دوران اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، چاہے کسی مرحلے پر آر ایل این جی کے مقابلے میں فرنس آئل پر بجلی پیدا کرنا زیادہ موزوں دکھائی دینے لگے۔</p>
<p>اس دوران نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جولائی 2026 میں اس میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.6 گنا اضافہ ہوا، جبکہ دو سال قبل کے مقابلے میں یہ تقریباً چار گنا ہوگئی ہے۔ دن اور رات کے دوران بجلی کی طلب کے رجحانات طویل عرصے سے یہی کہانی بیان کر رہے ہیں، اور میٹرڈ اور نان میٹرڈ سولر جنریشن میں اضافے کے نتیجے میں اضافی لاگت میں بہت زیادہ فرق اور گرڈ کے استحکام سے متعلق ضروریات پیدا ہوئی ہیں، جس کے باعث زیادہ مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنا پڑ رہی ہے۔</p>
<p>اس پس منظر میں صنعتی طلب کی صورتحال گرڈ کے مجموعی ڈیمانڈ پروفائل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور آئندہ ایڈجسٹمنٹس پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی کے باعث طلب کا بنیادی حجم محدود ہوتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291022</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 10:12:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0910092562c0160.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0910092562c0160.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما میں توانائی بحران کا خطرہ منڈلانے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290975/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آر ایل این جی کی درآمدات بدستور مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں۔ جب پاکستان کو مکمل سپلائی دستیاب ہو تو چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے خاطر خواہ طلب پیدا کی جائے۔ تاہم اب جبکہ جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے، آر ایل این جی طلب سے کم پڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب میں رات گئے شدید لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو آنے والے موسم سرما میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان مارچ سے اگست کے دوران 15 کارگوز حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جو اس کی معمول کی سپلائی کا صرف تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ ان میں سے 7 کارگوز اسپاٹ کارگوز تھے، جن کی قیمت 16 امریکی ڈالر سے 22 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی، جبکہ باقی 8 کارگوز قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت فراہم کیے گئے، جن کی قیمت 7 امریکی ڈالر سے 14 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حال ہی میں 25 سے 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکشیں مسترد کردی ہیں، کیونکہ ٹیکسز اور دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد صارفین کے لیے ان کی مؤثر لاگت 34 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے۔ تحریر کے وقت پاکستان طویل مدتی معاہدوں کے تحت 2 کارگوز پر انحصار کررہا ہے جو آبنائے ہرمز کے دہانے پر انتظار کر رہے ہیں۔ اگر یہ گزرنے میں کامیاب ہوگئے تو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ بصورت دیگر شدید لوڈشیڈنگ جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاور ڈویژن سوئی ناردرن کے نیٹ ورک سے 250 سے 300 ایم ایم سی ایف ڈی کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ دستیاب سپلائی صرف تقریباً 100 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اس میں سستے اور پرانے مقامی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے مختص 120 سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فرق قلت کا سبب بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل زیادہ ہائیڈرو پاور پیداوار نے اس فرق کو کم کرنے میں مدد دی تھی۔ تاہم بارشوں کے باعث زرعی پانی کی طلب میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا اخراج کم ہوا اور ہائیڈرو پاور پیداوار بھی گھٹ گئی۔ حالیہ جوہری بجلی گھر کی بندش نے بھی دباؤ میں اضافہ کیا، اگرچہ اس مسئلے کو اب حل کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال ستمبر، اکتوبر اور نومبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایئر کنڈیشننگ کی طلب میں کمی آنے کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے اوقات کی مدت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم موسم سرما میں صورتحال نمایاں طور پر بدتر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ایل این جی مارکیٹ پہلے ہی تیزی کا رجحان رکھتی ہے، کیونکہ ممالک موسم سرما کے لیے ذخائر بنا رہے ہیں۔ اسپاٹ قیمتیں اگست میں تقریباً 19 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر اب 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہیں، جو حکومت کی جانب سے کارگوز خریدنے میں ہچکچاہٹ کی وضاحت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر جنگ جاری رہتی ہے تو موسم سرما میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے باعث پاکستان اسپاٹ ایل این جی خریدنے سے گریز کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ایس این جی پی ایل کو محدود سپلائی بجلی، گھریلو اور کھاد کے شعبوں کے درمیان تقسیم کرنا ہوگی۔ امکان ہے کہ بجلی کے شعبے کو اس کی مختص مقامی گیس کی سپلائی کے علاوہ بہت کم یا شاید کچھ بھی نہ ملے۔ اس کے بعد بجلی کی کمی کو فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلنے والے مہنگے اور غیر مؤثر پاور پلانٹس کے ذریعے پورا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں موسم سرما کے بعض مہینوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی تشویش گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہے۔ منصوبہ ساز گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی صرف کھانے کے اوقات تک محدود کرنے پر غور کررہے ہیں، جبکہ پانی گرم کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس بہت کم یا بالکل دستیاب نہیں ہوسکتی۔ موسم سرما میں بجلی اور گیس دونوں کی بیک وقت لوڈشیڈنگ کا امکان کسی طور بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال، بالخصوص اس کے سیاسی مضمرات، رمضان کے دوران مزید مشکل ہوسکتی ہے، جو فروری میں شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدت میں پاکستان بہت کم اقدامات کرسکتا ہے، کیونکہ موجودہ اسپاٹ مارکیٹ قیمتوں پر آر ایل این جی خریدنے کی اس میں استطاعت نہیں ہے۔ قطر بظاہر سپلائی جزوی طور پر برقرار رکھنے پر آمادہ ہے، تاہم کارگوز کو آبنائے ہرمز سے گزارنا پاکستان کا بدستور مسئلہ ہے۔ علاقے میں تعینات ایرانی افواج بعض بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہی ہیں جبکہ دیگر کو روک رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر سے کم سپلائی دراصل ایک نعمت ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس تمام 10 معاہدہ شدہ کارگوز ہر ماہ جذب کرنے کے لیے نہ تو کافی طلب ہے اور نہ ہی مالی استعداد۔ تاہم سپلائی مکمل طور پر بند ہوجانے کی صورت میں زندگی انتہائی مشکل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثالی طور پر پاکستان کو ماہانہ 3 سے 5 کارگوز کی ضرورت ہے۔ اسے قطر کے ساتھ اپنے 2 طویل مدتی معاہدوں میں سے ایک سے دستبرداری کے لیے مذاکرات کی کوشش بھی کرنی چاہیے، جب قطری ٹیم آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آر ایل این جی کی درآمدات بدستور مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں۔ جب پاکستان کو مکمل سپلائی دستیاب ہو تو چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے خاطر خواہ طلب پیدا کی جائے۔ تاہم اب جبکہ جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے، آر ایل این جی طلب سے کم پڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب میں رات گئے شدید لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو آنے والے موسم سرما میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان مارچ سے اگست کے دوران 15 کارگوز حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جو اس کی معمول کی سپلائی کا صرف تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ ان میں سے 7 کارگوز اسپاٹ کارگوز تھے، جن کی قیمت 16 امریکی ڈالر سے 22 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی، جبکہ باقی 8 کارگوز قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت فراہم کیے گئے، جن کی قیمت 7 امریکی ڈالر سے 14 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی۔</p>
<p>حکومت نے حال ہی میں 25 سے 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکشیں مسترد کردی ہیں، کیونکہ ٹیکسز اور دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد صارفین کے لیے ان کی مؤثر لاگت 34 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے۔ تحریر کے وقت پاکستان طویل مدتی معاہدوں کے تحت 2 کارگوز پر انحصار کررہا ہے جو آبنائے ہرمز کے دہانے پر انتظار کر رہے ہیں۔ اگر یہ گزرنے میں کامیاب ہوگئے تو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ بصورت دیگر شدید لوڈشیڈنگ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اس وقت پاور ڈویژن سوئی ناردرن کے نیٹ ورک سے 250 سے 300 ایم ایم سی ایف ڈی کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ دستیاب سپلائی صرف تقریباً 100 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اس میں سستے اور پرانے مقامی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے مختص 120 سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فرق قلت کا سبب بن رہا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل زیادہ ہائیڈرو پاور پیداوار نے اس فرق کو کم کرنے میں مدد دی تھی۔ تاہم بارشوں کے باعث زرعی پانی کی طلب میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا اخراج کم ہوا اور ہائیڈرو پاور پیداوار بھی گھٹ گئی۔ حالیہ جوہری بجلی گھر کی بندش نے بھی دباؤ میں اضافہ کیا، اگرچہ اس مسئلے کو اب حل کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال ستمبر، اکتوبر اور نومبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایئر کنڈیشننگ کی طلب میں کمی آنے کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے اوقات کی مدت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم موسم سرما میں صورتحال نمایاں طور پر بدتر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>عالمی ایل این جی مارکیٹ پہلے ہی تیزی کا رجحان رکھتی ہے، کیونکہ ممالک موسم سرما کے لیے ذخائر بنا رہے ہیں۔ اسپاٹ قیمتیں اگست میں تقریباً 19 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر اب 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہیں، جو حکومت کی جانب سے کارگوز خریدنے میں ہچکچاہٹ کی وضاحت کرتی ہیں۔</p>
<p>اگر جنگ جاری رہتی ہے تو موسم سرما میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے باعث پاکستان اسپاٹ ایل این جی خریدنے سے گریز کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ایس این جی پی ایل کو محدود سپلائی بجلی، گھریلو اور کھاد کے شعبوں کے درمیان تقسیم کرنا ہوگی۔ امکان ہے کہ بجلی کے شعبے کو اس کی مختص مقامی گیس کی سپلائی کے علاوہ بہت کم یا شاید کچھ بھی نہ ملے۔ اس کے بعد بجلی کی کمی کو فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلنے والے مہنگے اور غیر مؤثر پاور پلانٹس کے ذریعے پورا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں موسم سرما کے بعض مہینوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ایک اور بڑی تشویش گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہے۔ منصوبہ ساز گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی صرف کھانے کے اوقات تک محدود کرنے پر غور کررہے ہیں، جبکہ پانی گرم کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس بہت کم یا بالکل دستیاب نہیں ہوسکتی۔ موسم سرما میں بجلی اور گیس دونوں کی بیک وقت لوڈشیڈنگ کا امکان کسی طور بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال، بالخصوص اس کے سیاسی مضمرات، رمضان کے دوران مزید مشکل ہوسکتی ہے، جو فروری میں شروع ہوگا۔</p>
<p>قلیل مدت میں پاکستان بہت کم اقدامات کرسکتا ہے، کیونکہ موجودہ اسپاٹ مارکیٹ قیمتوں پر آر ایل این جی خریدنے کی اس میں استطاعت نہیں ہے۔ قطر بظاہر سپلائی جزوی طور پر برقرار رکھنے پر آمادہ ہے، تاہم کارگوز کو آبنائے ہرمز سے گزارنا پاکستان کا بدستور مسئلہ ہے۔ علاقے میں تعینات ایرانی افواج بعض بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہی ہیں جبکہ دیگر کو روک رہی ہیں۔</p>
<p>کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر سے کم سپلائی دراصل ایک نعمت ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس تمام 10 معاہدہ شدہ کارگوز ہر ماہ جذب کرنے کے لیے نہ تو کافی طلب ہے اور نہ ہی مالی استعداد۔ تاہم سپلائی مکمل طور پر بند ہوجانے کی صورت میں زندگی انتہائی مشکل ہوجائے گی۔</p>
<p>مثالی طور پر پاکستان کو ماہانہ 3 سے 5 کارگوز کی ضرورت ہے۔ اسے قطر کے ساتھ اپنے 2 طویل مدتی معاہدوں میں سے ایک سے دستبرداری کے لیے مذاکرات کی کوشش بھی کرنی چاہیے، جب قطری ٹیم آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290975</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 10:19:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/08101703837a125.webp" type="image/webp" medium="image" height="1202" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/08101703837a125.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی کی تجارت، حکومت راستے سے ہٹ جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایک سال کے عرصے میں چینی کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک بڑے فاضل ذخیرے سے نمٹنے کی صورتحال میں آچکا ہے۔ مالی سال 26 میں پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 32 فیصد زیادہ ہے، خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں، ذخائر بھاری ہیں، جبکہ گنے کی ایک اور بڑی فصل بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسبِ توقع بحث اب اس بات پر منتقل ہوگئی ہے کہ حکومت شوگر ملوں کو کتنی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق جولائی کے اختتام پر ذخائر 3 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) سے زیادہ تھے، جبکہ اگلے کرشنگ سیزن سے قبل بھی ایک بڑا ذخیرہ منتقل ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران ملز اور کاشتکار دونوں برآمدات کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ ذخائر کے بڑھتے بوجھ کو روکا جاسکے، کیونکہ بصورتِ دیگر اس کے نتیجے میں گنے کی کمزور خریداری اور کسانوں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دور میں جو کچھ ہوا، اسے دیکھتے ہوئے حکومت کی ہچکچاہٹ قابلِ فہم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064137762e2ed.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064137762e2ed.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اور بالآخر حکومت کو تقریباً 0.3 ملین میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا انتظام کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں کو اس وقت ایک اور مرتبہ برآمدات کی اجازت دینے سے گریزاں کردیا ہے، جب چند ماہ قبل ہی انہیں مارکیٹ کے بالکل مخالف سمت میں مداخلت کرنا پڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ تجربہ، حسبِ معمول، مسلسل غلط انداز میں سمجھا جارہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ چینی برآمد کی گئی اور اس کے بعد قیمتیں بڑھ گئیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی ساز اب بھی چینی کی قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو ایسی چیز سمجھتے ہیں جسے انتظامی طور پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی فیصلے تاخیر سے کیے جاتے ہیں، ترغیبات بگڑتی ہیں، اور ایک مداخلت بالآخر اگلی مداخلت کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان زیادہ تر دیگر قابلِ تجارت اشیا کے معاملے میں یہی منطق اختیار نہیں کرتا۔ جب بھی ملک میں چاول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو چاول کی برآمدات معطل نہیں کی جاتیں، مقامی قیمتوں میں برآمدات کے باعث ردوبدل ہونے پر سیمنٹ بنانے والوں سے اجازت لینے کا تقاضا نہیں کیا جاتا، اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان سے یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ وہ بیرونِ ملک سے آرڈر قبول کرنے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ مقامی صارفین کے لیے کپڑے کی وافر مقدار محفوظ کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064139631bd1d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064139631bd1d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایسی کوئی مضبوط معاشی وجہ موجود نہیں کہ چینی کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے۔ یہ نجی شعبے میں پیدا ہونے والی اور بین الاقوامی سطح پر تجارت کی جانے والی ایک جنس ہے، اور اس کی مقامی قیمت کو مقامی پیداوار، کھپت اور بین الاقوامی قیمتوں کے باہمی تعامل کی عکاسی کرنی چاہیے، نہ کہ اس انتظامی فیصلے کی کہ کسی مخصوص مہینے میں کتنے ٹن چینی برآمد یا درآمد کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر برآمدات سے مقامی دستیابی محدود ہوتی ہے اور ملکی قیمتیں درآمدی برابری کی قیمت سے اوپر چلی جاتی ہیں تو تجارتی بنیادوں پر چینی درآمد کرنا زیادہ پرکشش ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، جب مقامی پیداوار مضبوط ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں ملکی قیمتیں کمزور پڑ جائیں تو برآمدات منافع بخش ہونی چاہئیں، جس سے تجارتی توازن خود بخود ایڈجسٹ ہوسکے، بغیر اس انتظار کے کہ ای سی سی کی منظوری حاصل ہو، کسی وزارت کی سفارش آئے یا حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان ایک اور مذاکرات کا دور ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال موجودہ نظام کی خامیوں کو خاصی واضح انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ سال مقامی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد پاکستان نے چینی درآمد کی، تاہم اس کے بعد پیداوار تاریخی بلند سطحوں کے قریب واپس آگئی،  سال 26 کے بیشتر عرصے کے دوران خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم رہی ہیں، اور اب ملز ایک اور بڑے کرشنگ سیزن میں داخل ہونے سے قبل چینی کے ذخائر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود نجی پیدا کنندگان کو اس اضافی چینی کو برآمد کرنے کے لیے اب بھی اجازت درکار ہے، جبکہ حکومت خود بھی گزشتہ قلت کے دوران ٹی سی پی کے ذریعے درآمد کی گئی چینی کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی چینی کی برآمدات محدود کرنا، جبکہ اسی دوران حکومت کی ملکیت میں موجود درآمد شدہ چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کی کوشش کرنا، ایک واضح پالیسی تضاد ہے۔ یہ وہ چینی ہے جو اس لیے اضافی ہوگئی کیونکہ ملکی رسد کی صورتحال انتظامی ردِعمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ بہتر انداز میں وضع کیے گئے برآمدی کوٹے یا ذخائر کی زیادہ پیچیدہ حد بندیوں کی تجاویز بھی اصل بڑے مسئلے کو نظر انداز کرتی ہیں۔ صوابدیدی کنٹرولز کی جگہ قدرے زیادہ ذہانت سے تیار کیے گئے صوابدیدی کنٹرولز نافذ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر بھی بیوروکریٹس ہی یہ فیصلہ کررہے ہوں گے کہ 0.3 ایم ایم ٹی، 0.6ایم ایم ٹی یا 1 ایم ایم ٹی چینی ملک سے باہر جانی چاہیے، حالانکہ یہ تقسیم مارکیٹ کی قیمتیں زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اس کے بجائے غیر محدود تجارتی بنیادوں پر درآمدات اور برآمدات کی اجازت دینے کی جانب بڑھنا چاہیے، تاکہ تجارت سیاسی دباؤ کے تحت وقفے وقفے سے ردِعمل دینے کے بجائے نسبتی قیمتوں کے مطابق مسلسل ایڈجسٹ ہوتی رہے۔ اگر برآمدات میں اضافے کے بعد مقامی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو اسے خودکار طور پر پالیسی کی ناکامی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بلند قیمتیں ہی دراصل وہ اشارہ ہیں جو اضافی پیداوار کی حوصلہ افزائی، معمولی یا اضافی کھپت کی حوصلہ شکنی اور بالآخر درآمدات کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانے میں مدد دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے تحفظ کو اکثر موجودہ نظام کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس دلیل کا بھی زیادہ باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو غذائی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہے تو اس کا مناسب طریقہ ہدفی آمدنی کی معاونت یا سماجی تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ پوری معیشت میں چینی کی قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھنا، جس کا فائدہ ایسے صارفین کو بھی پہنچتا ہے جنہیں کسی سبسڈی کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارت کو آزاد کرنے کے بعد ایک وسیع تر زرعی پالیسی کا مسئلہ بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ مالی سال 26 میں گنے کی پیداوار تقریباً 89 ایم ایم ٹی تک پہنچ گئی، جبکہ زیرِکاشت رقبہ ان علاقوں تک مسلسل پھیل رہا ہے جہاں گنا آبپاشی والے رقبے کے لیے کپاس اور دیگر فصلوں کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں پیداوار میں اضافے کا انحصار تیزی سے بہتر اقسام، گنے سے بہتر اور زیادہ سکروز حاصل کرنے اور زمین و پانی کی فی یونٹ زیادہ پیداوار پر ہونا چاہیے، نہ کہ زیرِکاشت رقبے میں مسلسل توسیع پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا وسیع تر ڈی ریگولیشن ایجنڈا بھی تجارتی آزادی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے گنے کی مقررہ قیمت کے انتظام سے دستبرداری اختیار کرلی ہے، لیکن لائسنسنگ کی پابندیاں اور زوننگ کے قواعد اب بھی برقرار ہیں۔ حکومت کو اس کے بجائے کسانوں کو بروقت ادائیگی، مسابقتی قانون، معاہدے کی ذمہ داریوں اور مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ جائز ریگولیٹری ذمہ داریاں ہیں، نہ کہ تجارتی قیمتوں کا تعین کرنے کی کوشش۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ڈی ریگولیشن کا مطلب ضابطوں کی عدم موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مارکیٹ میں ناجائز فائدہ اٹھانے، ملی بھگت یا معاہدے کی خلاف ورزی موجود ہو وہاں مارکیٹ کے طرزِ عمل کو منظم کیا جائے، بجائے اس کے کہ محض اس لیے تجارت کو کنٹرول کیا جائے کہ قیمتیں ایسی سمت میں حرکت کررہی ہیں جو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی شوگر پالیسی بارہا برآمدی اجازت ناموں، برآمدی پابندیوں، ہنگامی درآمدات، رعایتی درآمدی سہولت اور اس کے بعد اضافی ذخائر کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کے درمیان گردش کرتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ اس لیے جاری ہے کہ قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو مداخلت کی وجہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ خود یہی مداخلتیں ان قیمتوں کے اشاروں کو کمزور کردیتی ہیں جو رسد اور طلب کو دوبارہ توازن میں لانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ فاضل ذخیرہ نسبتاً سازگار مارکیٹ کی صورتحال میں پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کرتا ہے۔ پیداوار مضبوط ہے، ذخائر وافر ہیں، قیمتیں نرم ہیں اور اگلا کرشنگ سیزن قریب آرہا ہے۔ اس لیے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ کسی اور عارضی برآمدی اجازت پر مذاکرات کرنے کے بجائے صوابدیدی تجارتی کنٹرولز ختم کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ طے کیا جائے کہ اس سال کتنی چینی محفوظ طریقے سے برآمد کی جاسکتی ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مقام تک پہنچیں جہاں کسی کو چینی برآمد یا درآمد کرنے کے لیے اسلام آباد سے اجازت لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایک سال کے عرصے میں چینی کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک بڑے فاضل ذخیرے سے نمٹنے کی صورتحال میں آچکا ہے۔ مالی سال 26 میں پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 32 فیصد زیادہ ہے، خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں، ذخائر بھاری ہیں، جبکہ گنے کی ایک اور بڑی فصل بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔</strong></p>
<p>حسبِ توقع بحث اب اس بات پر منتقل ہوگئی ہے کہ حکومت شوگر ملوں کو کتنی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق جولائی کے اختتام پر ذخائر 3 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) سے زیادہ تھے، جبکہ اگلے کرشنگ سیزن سے قبل بھی ایک بڑا ذخیرہ منتقل ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران ملز اور کاشتکار دونوں برآمدات کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ ذخائر کے بڑھتے بوجھ کو روکا جاسکے، کیونکہ بصورتِ دیگر اس کے نتیجے میں گنے کی کمزور خریداری اور کسانوں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ دور میں جو کچھ ہوا، اسے دیکھتے ہوئے حکومت کی ہچکچاہٹ قابلِ فہم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064137762e2ed.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064137762e2ed.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اور بالآخر حکومت کو تقریباً 0.3 ملین میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا انتظام کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں کو اس وقت ایک اور مرتبہ برآمدات کی اجازت دینے سے گریزاں کردیا ہے، جب چند ماہ قبل ہی انہیں مارکیٹ کے بالکل مخالف سمت میں مداخلت کرنا پڑی تھی۔</p>
<p>وہ تجربہ، حسبِ معمول، مسلسل غلط انداز میں سمجھا جارہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ چینی برآمد کی گئی اور اس کے بعد قیمتیں بڑھ گئیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی ساز اب بھی چینی کی قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو ایسی چیز سمجھتے ہیں جسے انتظامی طور پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی فیصلے تاخیر سے کیے جاتے ہیں، ترغیبات بگڑتی ہیں، اور ایک مداخلت بالآخر اگلی مداخلت کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان زیادہ تر دیگر قابلِ تجارت اشیا کے معاملے میں یہی منطق اختیار نہیں کرتا۔ جب بھی ملک میں چاول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو چاول کی برآمدات معطل نہیں کی جاتیں، مقامی قیمتوں میں برآمدات کے باعث ردوبدل ہونے پر سیمنٹ بنانے والوں سے اجازت لینے کا تقاضا نہیں کیا جاتا، اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان سے یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ وہ بیرونِ ملک سے آرڈر قبول کرنے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ مقامی صارفین کے لیے کپڑے کی وافر مقدار محفوظ کردی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064139631bd1d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/07064139631bd1d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایسی کوئی مضبوط معاشی وجہ موجود نہیں کہ چینی کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے۔ یہ نجی شعبے میں پیدا ہونے والی اور بین الاقوامی سطح پر تجارت کی جانے والی ایک جنس ہے، اور اس کی مقامی قیمت کو مقامی پیداوار، کھپت اور بین الاقوامی قیمتوں کے باہمی تعامل کی عکاسی کرنی چاہیے، نہ کہ اس انتظامی فیصلے کی کہ کسی مخصوص مہینے میں کتنے ٹن چینی برآمد یا درآمد کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>اگر برآمدات سے مقامی دستیابی محدود ہوتی ہے اور ملکی قیمتیں درآمدی برابری کی قیمت سے اوپر چلی جاتی ہیں تو تجارتی بنیادوں پر چینی درآمد کرنا زیادہ پرکشش ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، جب مقامی پیداوار مضبوط ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں ملکی قیمتیں کمزور پڑ جائیں تو برآمدات منافع بخش ہونی چاہئیں، جس سے تجارتی توازن خود بخود ایڈجسٹ ہوسکے، بغیر اس انتظار کے کہ ای سی سی کی منظوری حاصل ہو، کسی وزارت کی سفارش آئے یا حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان ایک اور مذاکرات کا دور ہو۔</p>
<p>موجودہ صورتحال موجودہ نظام کی خامیوں کو خاصی واضح انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ سال مقامی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد پاکستان نے چینی درآمد کی، تاہم اس کے بعد پیداوار تاریخی بلند سطحوں کے قریب واپس آگئی،  سال 26 کے بیشتر عرصے کے دوران خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم رہی ہیں، اور اب ملز ایک اور بڑے کرشنگ سیزن میں داخل ہونے سے قبل چینی کے ذخائر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود نجی پیدا کنندگان کو اس اضافی چینی کو برآمد کرنے کے لیے اب بھی اجازت درکار ہے، جبکہ حکومت خود بھی گزشتہ قلت کے دوران ٹی سی پی کے ذریعے درآمد کی گئی چینی کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی چینی کی برآمدات محدود کرنا، جبکہ اسی دوران حکومت کی ملکیت میں موجود درآمد شدہ چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کی کوشش کرنا، ایک واضح پالیسی تضاد ہے۔ یہ وہ چینی ہے جو اس لیے اضافی ہوگئی کیونکہ ملکی رسد کی صورتحال انتظامی ردِعمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہوگئی تھی۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ بہتر انداز میں وضع کیے گئے برآمدی کوٹے یا ذخائر کی زیادہ پیچیدہ حد بندیوں کی تجاویز بھی اصل بڑے مسئلے کو نظر انداز کرتی ہیں۔ صوابدیدی کنٹرولز کی جگہ قدرے زیادہ ذہانت سے تیار کیے گئے صوابدیدی کنٹرولز نافذ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر بھی بیوروکریٹس ہی یہ فیصلہ کررہے ہوں گے کہ 0.3 ایم ایم ٹی، 0.6ایم ایم ٹی یا 1 ایم ایم ٹی چینی ملک سے باہر جانی چاہیے، حالانکہ یہ تقسیم مارکیٹ کی قیمتیں زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔</p>
<p>حکومت کو اس کے بجائے غیر محدود تجارتی بنیادوں پر درآمدات اور برآمدات کی اجازت دینے کی جانب بڑھنا چاہیے، تاکہ تجارت سیاسی دباؤ کے تحت وقفے وقفے سے ردِعمل دینے کے بجائے نسبتی قیمتوں کے مطابق مسلسل ایڈجسٹ ہوتی رہے۔ اگر برآمدات میں اضافے کے بعد مقامی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو اسے خودکار طور پر پالیسی کی ناکامی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بلند قیمتیں ہی دراصل وہ اشارہ ہیں جو اضافی پیداوار کی حوصلہ افزائی، معمولی یا اضافی کھپت کی حوصلہ شکنی اور بالآخر درآمدات کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانے میں مدد دیتی ہیں۔</p>
<p>صارفین کے تحفظ کو اکثر موجودہ نظام کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس دلیل کا بھی زیادہ باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو غذائی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہے تو اس کا مناسب طریقہ ہدفی آمدنی کی معاونت یا سماجی تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ پوری معیشت میں چینی کی قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھنا، جس کا فائدہ ایسے صارفین کو بھی پہنچتا ہے جنہیں کسی سبسڈی کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>تجارت کو آزاد کرنے کے بعد ایک وسیع تر زرعی پالیسی کا مسئلہ بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ مالی سال 26 میں گنے کی پیداوار تقریباً 89 ایم ایم ٹی تک پہنچ گئی، جبکہ زیرِکاشت رقبہ ان علاقوں تک مسلسل پھیل رہا ہے جہاں گنا آبپاشی والے رقبے کے لیے کپاس اور دیگر فصلوں کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں پیداوار میں اضافے کا انحصار تیزی سے بہتر اقسام، گنے سے بہتر اور زیادہ سکروز حاصل کرنے اور زمین و پانی کی فی یونٹ زیادہ پیداوار پر ہونا چاہیے، نہ کہ زیرِکاشت رقبے میں مسلسل توسیع پر۔</p>
<p>لہٰذا وسیع تر ڈی ریگولیشن ایجنڈا بھی تجارتی آزادی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے گنے کی مقررہ قیمت کے انتظام سے دستبرداری اختیار کرلی ہے، لیکن لائسنسنگ کی پابندیاں اور زوننگ کے قواعد اب بھی برقرار ہیں۔ حکومت کو اس کے بجائے کسانوں کو بروقت ادائیگی، مسابقتی قانون، معاہدے کی ذمہ داریوں اور مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ جائز ریگولیٹری ذمہ داریاں ہیں، نہ کہ تجارتی قیمتوں کا تعین کرنے کی کوشش۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ڈی ریگولیشن کا مطلب ضابطوں کی عدم موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مارکیٹ میں ناجائز فائدہ اٹھانے، ملی بھگت یا معاہدے کی خلاف ورزی موجود ہو وہاں مارکیٹ کے طرزِ عمل کو منظم کیا جائے، بجائے اس کے کہ محض اس لیے تجارت کو کنٹرول کیا جائے کہ قیمتیں ایسی سمت میں حرکت کررہی ہیں جو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول بن جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی شوگر پالیسی بارہا برآمدی اجازت ناموں، برآمدی پابندیوں، ہنگامی درآمدات، رعایتی درآمدی سہولت اور اس کے بعد اضافی ذخائر کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کے درمیان گردش کرتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ اس لیے جاری ہے کہ قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو مداخلت کی وجہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ خود یہی مداخلتیں ان قیمتوں کے اشاروں کو کمزور کردیتی ہیں جو رسد اور طلب کو دوبارہ توازن میں لانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ فاضل ذخیرہ نسبتاً سازگار مارکیٹ کی صورتحال میں پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کرتا ہے۔ پیداوار مضبوط ہے، ذخائر وافر ہیں، قیمتیں نرم ہیں اور اگلا کرشنگ سیزن قریب آرہا ہے۔ اس لیے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ کسی اور عارضی برآمدی اجازت پر مذاکرات کرنے کے بجائے صوابدیدی تجارتی کنٹرولز ختم کیے جائیں۔</p>
<p>مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ طے کیا جائے کہ اس سال کتنی چینی محفوظ طریقے سے برآمد کی جاسکتی ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مقام تک پہنچیں جہاں کسی کو چینی برآمد یا درآمد کرنے کے لیے اسلام آباد سے اجازت لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290932</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 10:45:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/07104242d157f85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/07104242d157f85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکٹرک موٹر سائیکلیں معاشی اور توانائی کے تحفظ کی ترجیح ہیں، ہما یحییٰ خٹک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290949/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک ای وی ٹیکنالوجیز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو الیکٹرک موبیلیٹی کے شعبے میں کام کرنے والی پاکستانی کمپنی ہے اور ایلفا الیکٹرک برانڈ کے تحت مصنوعات پیش کرتی ہے۔ وہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای وی ٹیکنالوجیز، پاکستانی ٹیکنالوجی گروپ ویوٹیک کے تحت کام کرتی ہے، جسے تحقیق، مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کے شعبے میں چار دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ نے حال ہی میں ہما یحییٰ خٹک سے پاکستان میں ابھرتی ہوئی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کو درپیش مواقع اور چیلنجز پر گفتگو کی۔ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات پیش خدمت ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ :&lt;/strong&gt; دو پہیہ گاڑیوں کے شعبے میں بڑے پیمانے پر برقی منتقلی سے ایندھن کی درآمدات، گھریلو سفری اخراجات اور مجموعی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; پاکستان میں دو پہیہ گاڑیوں کے معاملے کو کاربن اخراج سے زیادہ معاشی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 3 کروڑ 90 لاکھ 90 ہزار ہے، جن میں 3 کروڑ 4 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل پر ایندھن کی لاگت تقریباً 8 روپے فی کلومیٹر آتی ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکل پر بجلی کی لاگت تقریباً 1 سے 1.5 روپے فی کلومیٹر ہے۔ تاہم اصل لاگت ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں اور ڈرائیونگ کے حالات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے مسافروں، ڈیلیوری رائیڈرز اور موٹر سائیکل پر انحصار کرنے والے دیگر گھرانوں کے لیے یہ فرق ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت اور قابلِ استعمال آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی سطح پر اس کے معاشی اثرات مزید اہم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اب بھی ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے، جبکہ ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد پیٹرول کی کھپت دو اور تین پہیہ گاڑیوں میں ہوتی ہے۔ اس لیے اس شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا صرف ٹرانسپورٹ کی ترجیح نہیں بلکہ معاشی اور توانائی کے تحفظ کی بھی اہم ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو محدود طبقے کی مارکیٹ سے نکال کر بڑے پیمانے پر مقبول بنانے میں بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; میں رکاوٹوں کو تین باہم جڑے ہوئے شعبوں میں تقسیم کروں گی: ابتدائی خریداری کی لاگت، فنانسنگ کا نظام اور صارفین کا اعتماد۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طلب کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انہیں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے درکار پورے نظام میں رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی رکاوٹ ابتدائی قیمت ہے۔ عام طور پر الیکٹرک موٹر سائیکل کی قیمت روایتی 70 سی سی موٹر سائیکل سے زیادہ ہوتی ہے، حالانکہ اس کے چلانے کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ ایسے صارفین، خصوصاً وہ افراد جو اپنی ماہانہ تنخواہ سے موٹر سائیکل خریدتے ہیں، ان کے لیے تین یا چار سال کے مجموعی اخراجات کے مقابلے میں ابتدائی قیمت اور ایڈوانس رقم زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے صنعت کو صرف الیکٹرک گاڑی فروخت کرنے کے بجائے اسے عام صارف کی مالی استطاعت کے مطابق قابلِ رسائی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی رکاوٹ فنانسنگ ہے اور پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام (پی اے وی ای) کا تجربہ اس حوالے سے بہت کچھ واضح کرتا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 41 ہزار گاڑیوں کے ہدف کے مقابلے میں 2 لاکھ 69 ہزار 149 درخواستیں موصول ہوئیں، جو صارفین کی مضبوط دلچسپی کا واضح ثبوت ہے، مگر بینکوں کو بھیجی گئی  44 ہزار 689 درخواستوں میں سے صرف 4 ہزار 75 درخواستیں منظور ہوئیں، جبکہ مئی کے آغاز تک صرف 5 ہزار 409 الیکٹرک دو اور تین پہیہ گاڑیاں فراہم کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ صارفین الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے لیے تیار ہیں لیکن روایتی ریٹیل فنانسنگ کا نظام ابھی بڑے پیمانے پر اس شعبے کو قرض فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے وی ای کے پہلے مرحلے میں ایلفا کا تجربہ بھی اسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صارفین کی طلب کے لحاظ سے یہ برانڈ شریک کمپنیوں میں سرفہرست تین سے چار کمپنیوں میں شامل رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب معیاری مصنوعات اور مؤثر مالی معاونت دستیاب ہو تو صارفین الیکٹرک موٹر سائیکلیں اپنانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری رکاوٹ صارفین کا اعتماد ہے، بالخصوص بیٹری کے حوالے سے نمایاں ہے۔ صارفین بیٹری کی عمر، تبدیلی کی لاگت، ایک چارج پر طے ہونے والے فاصلے، دوبارہ فروخت کی قدر، وارنٹی اور فروخت کے بعد خدمات کے بارے میں زیادہ یقین دہانی چاہتے ہیں۔ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر پذیرائی صرف سبسڈی سے حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے معیاری مصنوعات، قابلِ اعتماد وارنٹی، بیٹری کے مناسب معیار، مؤثر بعد از فروخت سروس نیٹ ورک اور ایسی فنانسنگ درکار ہے جو الیکٹرک گاڑی کے کم سفری اخراجات کو مدنظر رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; خریداری کی قیمت، فنانسنگ، بجلی، دیکھ بھال، بیٹری کی تبدیلی اور دوبارہ فروخت کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایلفا الیکٹرک موٹر سائیکل کی ملکیت کی مجموعی لاگت پیٹرول موٹر سائیکل کے مقابلے میں کتنی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; درست موازنہ صرف خریداری کی قیمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ موٹر سائیکل کی پوری مدتِ استعمال کے دوران ملکیت کی مجموعی لاگت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے صارفین کے لیے یہ حساب تیزی سے الیکٹرک موٹر سائیکل کے حق میں جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر ایلفا ای وی 125 کی قیمت ٹیکس کے علاوہ 3 لاکھ 45 ہزار روپے ہے، جس میں 72 وولٹ/32 ایمپیئر آور کی لائف پی او 4 بیٹری نصب ہے اور یہ 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرسکتی ہے۔ بیٹری پر تین سال یا 50 ہزار کلومیٹر، جو بھی پہلے مکمل ہو، کی وارنٹی بھی دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ 40 کلومیٹر سفر کی صورت میں ہمارے سیونگ کیلکولیٹر کے مطابق پیٹرول  موٹر سائیکل پر سالانہ ایندھن کا خرچ تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار 720 روپے جبکہ EV125 پر بجلی کا خرچ تقریباً 16 ہزار 60 روپے بنتا ہے۔ یوں سالانہ تقریباً 1 لاکھ 4 ہزار روپے کی ممکنہ بچت ہوسکتی ہے۔ تاہم حقیقی بچت سفر کی مسافت، ایندھن کی قیمت اور بجلی کے نرخوں کے مطابق مختلف ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیکھ بھال کے اخراجات بھی الیکٹرک گاڑی کے حق میں ہیں کیونکہ اس میں انجن آئل، آئل فلٹر اور انجن ٹیوننگ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ طویل مدت میں بیٹری اس لاگت کا اہم حصہ ہے جسے مدنظر رکھنا ہوگا۔ فنانسنگ کی شرائط اور دوبارہ فروخت کی قیمت بھی سرمایہ واپس آنے کی مدت پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے میں کسی ایک عمومی مدت کا دعویٰ کرنے کے بجائے ہر صارف کے استعمال اور فنانسنگ پروفائل کا الگ جائزہ لینے کو ترجیح دوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی بات سادہ ہے : الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر ابتدائی لاگت زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن باقاعدگی سے موٹر سائیکل چلانے والے صارف کے لیے اسے رکھنا اور چلانا مجموعی طور پر کہیں کم خرچ ہوسکتا ہے۔ یہی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی اصل معاشی افادیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; بیٹری کی قیمت، ایک چارج پر فاصلہ، چارجنگ کا وقت، حفاظت اور مفید عمر کے حوالے سے کون سی پیش رفت پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; پاکستان کی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے میں چار چیزوں پر توجہ دوں گی: قیمت، قابلِ استعمال سفری فاصلہ، بیٹری کی عمر اور حفاظت۔ چارجنگ کی رفتار بھی اہم ہے، لیکن ایسی موٹر سائیکل جسے رات بھر چارج کیا جاسکتا ہو، اس کے لیے قابلِ اعتماد کارکردگی اور بیٹری کی طویل عمر زیادہ اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بیٹری کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کے مطابق 2025 میں لیتھیم آئن بیٹری پیک کی اوسط قیمت 108 ڈالر فی کلو واٹ آور کی ریکارڈ کم سطح پر آگئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہے۔ ایل ایف پی بیٹری پیک کی اوسط قیمت 81 ڈالر فی کلو واٹ آور رہی، جبکہ این ایم سی بیٹری پیک کی قیمت 128 ڈالر فی کلو واٹ آور تھی، جس سے ایل ایف پی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی لاگت کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایف پی بیٹری ٹیکنالوجی عالمی سطح پر مارکیٹ میں اپنا حصہ بھی بڑھا رہی ہے، خصوصاً بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں میں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق 2025 میں ایل ایف پی بیٹری پیک اوسطاً این ایم سی بیٹریوں کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ سستے تھے اور اب الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں میں ان کا حصہ نصف سے زیادہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ بیٹری پیک کی مقامی اسمبلنگ، بیٹری مینجمنٹ، ٹیسٹنگ اور کوالٹی کنٹرول میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کا موقع ہے۔ اس سے لاگت کم کرنے کے ساتھ ساتھ مینوفیکچررز کو حفاظت اور بیٹری کی پوری مدتِ استعمال کی کارکردگی پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی پیش رفت صرف سستی یا تیزی سے چارج ہونے والی بیٹری نہیں بلکہ ایسی بیٹری کی تیاری ہے جو قابلِ استطاعت، محفوظ، پائیدار اور پوری مدتِ استعمال کے دوران قابلِ اعتماد کارکردگی فراہم کرے۔ یہی چیز الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو ابتدائی صارفین کے مرحلے سے نکال کر بڑے پیمانے کی مارکیٹ تک پہنچائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; صنعت کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے سے قبل چارجنگ، فروخت کے بعد خدمات، اسپیئر پارٹس، تکنیکی مہارت، سپلائی چین اور دوبارہ فروخت کی مارکیٹ میں کن خلا کو دور کرنے کی ضرورت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے حوالے سے انفرااسٹرکچر کی کمی کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار گھر یا کام کی جگہ پر اپنی گاڑی چارج کرسکتے ہیں، اس لیے فوری ترجیح اپارٹمنٹس میں رہنے والے اور ایسے افراد کے لیے محفوظ اور آسان چارجنگ سہولت فراہم کرنا ہے جن کے پاس مخصوص پارکنگ کی جگہ نہیں ہوتی۔ حکومت کی نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی میں بھی اس ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے، جس کے تحت نئے بلڈنگ کوڈز میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کی سہولت کی گنجائش لازمی قرار دینے اور 2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بڑا چیلنج فروخت کے بعد خدمات کے نظام کا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی موٹر سائیکلوں کی مرمت کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، تاہم الیکٹرک پاور ٹرین کے لیے موٹرز، کنٹرولرز، تشخیصی نظام اور بیٹری مینجمنٹ سے متعلق نئی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔این ای وی پالیسی میں بھی افرادی قوت کی تربیت، معیار و حفاظتی معیارات اور مقامی مینوفیکچرنگ کو منتقلی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ ای ایل ایف اے میں ہمارا طریقہ کار موجودہ موٹر سائیکل مرمت کے نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ہم مکینکس کی تربیت کا نظام تیار کر رہے ہیں ، تاکہ ٹیکنیشنز اعتماد کے ساتھ الیکٹرک پاور ٹرین کی سروس کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر&lt;/strong&gt; : گزشتہ آٹو پالیسی ختم ہوچکی ، نئی پالیسی میں تاخیر ہورہی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات بھی صرف ایک سال کے لیے بڑھائی گئی ہیں، ایسی صورت حال صنعت میں قیمتوں، سرمایہ کاری اور مصنوعات کی منصوبہ بندی کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; پالیسی کی سمت واضح ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے زیادہ طویل مدتی یقین دہانی درکار ہے۔ پاکستان کی این ای وی  پالیسی 2025-30 کا ہدف ہے کہ 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچایا جائے، اس طرح حکومت نے مستقبل کی سمت واضح کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری مسئلہ یہ ہے کہ وسیع تر آٹو پالیسی 2026-31 کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی جاری ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (اے آئی ڈی ای پی) 2021-26 جون 2026 کے اختتام پر ختم ہوگئی، جبکہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے تحت بعض الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس مراعات جون 2027 تک بڑھا دی ہیں۔ اس سے قلیل مدت میں تسلسل ضرور ملتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے صرف ایک سال کی یقین دہانی کافی نہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے بعد پانچ سالہ آٹو پالیسی کے مسودے کو مزید نظرثانی کے لیے واپس کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ مقامی پیداوار سے متعلق فیصلے سالانہ بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔ مشینری، بیٹری پیک کی اسمبلنگ، مقامی سپلائرز کی تیاری، تکنیکی تربیت اور ڈیلر نیٹ ورک کے لیے کئی سال کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ جب مالیاتی فریم ورک صرف 12 ماہ کے لیے واضح ہو اور طویل مدتی پالیسی ابھی تشکیل کے مراحل میں ہو تو کمپنیاں فطری طور پر سرمایہ کاری مرحلہ وار کرتی اور خطرات سے زیادہ محتاط انداز میں نمٹتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر&lt;/strong&gt; :  مستقل طور پر سبسڈی یا تحفظ پر انحصار پیدا کیے بغیر الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس، ٹیرف، معیارات اور ضوابط میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے فوری ترجیح بیٹریوں، چارجرز، کنٹرولرز اور برقی حفاظتی نظام کے یکساں اور مستقل معیارات کا نفاذ ہے۔ حکومت پہلے ہی ایک اہم قدم اٹھا چکی ہے، وزارت صنعت و پیداوار نے پی ایس کیو سی اے  کو لیتھیم آئن گاڑیوں کی بیٹریوں کے لیے معیارات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں حفاظت، پائیداری، حرارتی کارکردگی اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اور ٹیرف کے معاملے میں مراعات کو بتدریج مقامی ویلیو ایڈیشن سے جوڑنا چاہیے۔ درآمد شدہ پرزوں کو صرف اسمبل کرنے اور بیٹری پیک، الیکٹرانکس، پرزہ جات، ٹیسٹنگ اور انجینئرنگ میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے میں فرق ہے۔ ٹیرف کا نظام اس فرق کو تسلیم کرے اور مینوفیکچررز کو ویلیو چین میں بتدریج اوپر جانے کی ترغیب دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; آئندہ پانچ برس میں الیکٹرک موٹر سائیکل کے کون سے پرزے حقیقتاً مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں اور مقامی پیداوار کی راہ میں اس وقت کیا رکاوٹیں ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; پاکستان میں پہلے ہی دو پہیہ گاڑیوں کے پرزہ سازوں کا مضبوط نظام موجود ہے، جو ہمارے لیے ایک اہم ابتدائی فائدہ ہے۔ فریم، باڈی پینلز، سیٹیں، وائرنگ ہارنسز اور متعدد مکینیکل پرزے مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ موٹرز، کنٹرولرز، چارجرز اور بیٹری پیک کی اسمبلنگ آئندہ پانچ برس میں مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ شعبے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بڑا موقع صرف اسمبلنگ تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والے الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور صلاحیتوں کی تیاری کی طرف بڑھنا ہے۔ حکومتی بیانات کے مطابق پاکستان کی روایتی موٹر سائیکل صنعت میں مقامی مواد کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیوں میں مقامی پیداوار کا اندازہ صرف مقامی طور پر حاصل کیے جانے والے پرزوں کی تعداد کے بجائے ان کی مجموعی مالیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ مالیت رکھنے والے پرزے، خصوصاً بیٹری سیلز اور بعض الیکٹرانک اجزا، اب بھی بڑی حد تک درآمد کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایل ایف اے میں ہمارا مقصد صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انجینئرنگ  الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں مقامی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ یہی صلاحیتیں طویل مدت میں زیادہ قدر پیدا کرتی ہیں اور بالآخر پاکستان کو صرف مقامی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; ای ایل ایف اے کی موجودہ پیداواری صلاحیت، فروخت کا حجم اور مقامی پیداوار کی سطح کیا ہے اور آئندہ تین سے پانچ برس کے لیے کمپنی نے کیا اہداف مقرر کیے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; ہم پیداواری صلاحیت، مقامی پیداوار اور فروخت کے بعد خدمات کی صلاحیت کو ساتھ ساتھ بڑھاتے ہوئے ذمہ دارانہ انداز میں کاروبار کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ای ایل ایف اے  کے پاس اس وقت ماہانہ ایک ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، جسے بڑھا کر ماہانہ 2 ہزار سے زائد یونٹس کیا جارہا ہے۔ ہم اب تک 2 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں فروخت کرچکے ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار مزید یونٹس کے آرڈرز موجود ہیں، جن کی فراہمی دسمبر 2026 تک مکمل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم 2027 میں ہی 25 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار اور فراہم کرنے کی تیاری کررہے ہیں، جبکہ اس کے بعد بھی مزید توسیع کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، وسیع تر سیلز اور آفٹر سیلز نیٹ ورک، سپلائرز کی ترقی اور مقامی تکنیکی صلاحیت میں بہتری شامل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹر سائیکل کے مکینیکل پرزوں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی مقامی طور پر حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ بیٹری سیلز اور بعض اعلیٰ مالیت والے برقی اجزا درآمد کیے جاتے ہیں۔ ہماری مقامی پیداوار کی حکمت عملی صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ بیٹری پیک اسمبلنگ، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں اعلیٰ قدر کی مقامی صلاحیت پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے فنانسنگ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ وسل موبیلیٹی مضاربہ کے ساتھ ہماری شراکت داری شریعہ سے ہم آہنگ فنانسنگ کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے ابتدائی قیمت کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر آر :&lt;/strong&gt; مزید مقامی اسمبلرز اور درآمد شدہ الیکٹرک موٹر سائیکل برانڈز پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہورہے ہیں، ایسے میں ای ایل ایف اے ان کا مقابلہ کیسے کرے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہما یحییٰ خٹک :&lt;/strong&gt; کسی بھی شعبے میں مسابقت صحت مند ہوتی ہے۔ زیادہ قابلِ اعتماد مینوفیکچررز کی آمد سے صارفین میں آگاہی بڑھتی ہے، سپلائرز کے لیے کاروباری مواقع بہتر ہوتے ہیں اور پوری صنعت تیزی سے سیکھتی ہے۔ مارکیٹ پہلے ہی مضبوط رفتار کا مظاہرہ کررہی ہے۔ 2025 میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ 2026 کے ابتدائی اعداد و شمار بھی مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس لیے اب چیلنج یہ ثابت کرنا نہیں کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ موجود ہے، بلکہ ایسی کیٹیگری تشکیل دینا ہے جس پر صارفین اعتماد کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ صنعت میں مسابقت صرف قیمت کی بنیاد پر ہونے لگے۔ کم قیمت والی ایسی موٹر سائیکل جس کی بیٹری ناقص ہو، سروس نیٹ ورک محدود ہو یا وارنٹی کی سہولت کمزور ہو، خریداری کی لاگت تو کم کرسکتی ہے، لیکن صارف کے مجموعی اخراجات بڑھا دیتی ہے اور پوری کیٹیگری پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہماری حکمت عملی ملکیت کے مجموعی تجربے کی بنیاد پر مسابقت کرنا ہے، جس میں مقامی انجینئرنگ، بیٹری اور گاڑی کا معیار، آسان فنانسنگ، فروخت کے بعد خدمات اور قابلِ اعتماد سروس شامل ہیں۔ویوٹیک کے ذریعے ہماری ٹیکنالوجی کی بنیاد ہمیں انجینئرنگ اور مصنوعات کی تیاری میں اضافی برتری فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہما یحییٰ خٹک ای وی ٹیکنالوجیز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو الیکٹرک موبیلیٹی کے شعبے میں کام کرنے والی پاکستانی کمپنی ہے اور ایلفا الیکٹرک برانڈ کے تحت مصنوعات پیش کرتی ہے۔ وہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔</strong></p>
<p>ای وی ٹیکنالوجیز، پاکستانی ٹیکنالوجی گروپ ویوٹیک کے تحت کام کرتی ہے، جسے تحقیق، مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کے شعبے میں چار دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ نے حال ہی میں ہما یحییٰ خٹک سے پاکستان میں ابھرتی ہوئی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کو درپیش مواقع اور چیلنجز پر گفتگو کی۔ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات پیش خدمت ہیں:</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ :</strong> دو پہیہ گاڑیوں کے شعبے میں بڑے پیمانے پر برقی منتقلی سے ایندھن کی درآمدات، گھریلو سفری اخراجات اور مجموعی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> پاکستان میں دو پہیہ گاڑیوں کے معاملے کو کاربن اخراج سے زیادہ معاشی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 3 کروڑ 90 لاکھ 90 ہزار ہے، جن میں 3 کروڑ 4 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔</p>
<p>پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل پر ایندھن کی لاگت تقریباً 8 روپے فی کلومیٹر آتی ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکل پر بجلی کی لاگت تقریباً 1 سے 1.5 روپے فی کلومیٹر ہے۔ تاہم اصل لاگت ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں اور ڈرائیونگ کے حالات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے مسافروں، ڈیلیوری رائیڈرز اور موٹر سائیکل پر انحصار کرنے والے دیگر گھرانوں کے لیے یہ فرق ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت اور قابلِ استعمال آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>قومی سطح پر اس کے معاشی اثرات مزید اہم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اب بھی ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے، جبکہ ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد پیٹرول کی کھپت دو اور تین پہیہ گاڑیوں میں ہوتی ہے۔ اس لیے اس شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا صرف ٹرانسپورٹ کی ترجیح نہیں بلکہ معاشی اور توانائی کے تحفظ کی بھی اہم ترجیح ہے۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو محدود طبقے کی مارکیٹ سے نکال کر بڑے پیمانے پر مقبول بنانے میں بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> میں رکاوٹوں کو تین باہم جڑے ہوئے شعبوں میں تقسیم کروں گی: ابتدائی خریداری کی لاگت، فنانسنگ کا نظام اور صارفین کا اعتماد۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طلب کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انہیں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے درکار پورے نظام میں رکاوٹ ہے۔</p>
<p>پہلی رکاوٹ ابتدائی قیمت ہے۔ عام طور پر الیکٹرک موٹر سائیکل کی قیمت روایتی 70 سی سی موٹر سائیکل سے زیادہ ہوتی ہے، حالانکہ اس کے چلانے کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ ایسے صارفین، خصوصاً وہ افراد جو اپنی ماہانہ تنخواہ سے موٹر سائیکل خریدتے ہیں، ان کے لیے تین یا چار سال کے مجموعی اخراجات کے مقابلے میں ابتدائی قیمت اور ایڈوانس رقم زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے صنعت کو صرف الیکٹرک گاڑی فروخت کرنے کے بجائے اسے عام صارف کی مالی استطاعت کے مطابق قابلِ رسائی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>دوسری بڑی رکاوٹ فنانسنگ ہے اور پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام (پی اے وی ای) کا تجربہ اس حوالے سے بہت کچھ واضح کرتا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 41 ہزار گاڑیوں کے ہدف کے مقابلے میں 2 لاکھ 69 ہزار 149 درخواستیں موصول ہوئیں، جو صارفین کی مضبوط دلچسپی کا واضح ثبوت ہے، مگر بینکوں کو بھیجی گئی  44 ہزار 689 درخواستوں میں سے صرف 4 ہزار 75 درخواستیں منظور ہوئیں، جبکہ مئی کے آغاز تک صرف 5 ہزار 409 الیکٹرک دو اور تین پہیہ گاڑیاں فراہم کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ صارفین الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے لیے تیار ہیں لیکن روایتی ریٹیل فنانسنگ کا نظام ابھی بڑے پیمانے پر اس شعبے کو قرض فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>پی اے وی ای کے پہلے مرحلے میں ایلفا کا تجربہ بھی اسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صارفین کی طلب کے لحاظ سے یہ برانڈ شریک کمپنیوں میں سرفہرست تین سے چار کمپنیوں میں شامل رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب معیاری مصنوعات اور مؤثر مالی معاونت دستیاب ہو تو صارفین الیکٹرک موٹر سائیکلیں اپنانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>تیسری رکاوٹ صارفین کا اعتماد ہے، بالخصوص بیٹری کے حوالے سے نمایاں ہے۔ صارفین بیٹری کی عمر، تبدیلی کی لاگت، ایک چارج پر طے ہونے والے فاصلے، دوبارہ فروخت کی قدر، وارنٹی اور فروخت کے بعد خدمات کے بارے میں زیادہ یقین دہانی چاہتے ہیں۔ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر پذیرائی صرف سبسڈی سے حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے معیاری مصنوعات، قابلِ اعتماد وارنٹی، بیٹری کے مناسب معیار، مؤثر بعد از فروخت سروس نیٹ ورک اور ایسی فنانسنگ درکار ہے جو الیکٹرک گاڑی کے کم سفری اخراجات کو مدنظر رکھے۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> خریداری کی قیمت، فنانسنگ، بجلی، دیکھ بھال، بیٹری کی تبدیلی اور دوبارہ فروخت کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایلفا الیکٹرک موٹر سائیکل کی ملکیت کی مجموعی لاگت پیٹرول موٹر سائیکل کے مقابلے میں کتنی ہے؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> درست موازنہ صرف خریداری کی قیمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ موٹر سائیکل کی پوری مدتِ استعمال کے دوران ملکیت کی مجموعی لاگت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے صارفین کے لیے یہ حساب تیزی سے الیکٹرک موٹر سائیکل کے حق میں جاتا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر ایلفا ای وی 125 کی قیمت ٹیکس کے علاوہ 3 لاکھ 45 ہزار روپے ہے، جس میں 72 وولٹ/32 ایمپیئر آور کی لائف پی او 4 بیٹری نصب ہے اور یہ 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرسکتی ہے۔ بیٹری پر تین سال یا 50 ہزار کلومیٹر، جو بھی پہلے مکمل ہو، کی وارنٹی بھی دی جاتی ہے۔</p>
<p>روزانہ 40 کلومیٹر سفر کی صورت میں ہمارے سیونگ کیلکولیٹر کے مطابق پیٹرول  موٹر سائیکل پر سالانہ ایندھن کا خرچ تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار 720 روپے جبکہ EV125 پر بجلی کا خرچ تقریباً 16 ہزار 60 روپے بنتا ہے۔ یوں سالانہ تقریباً 1 لاکھ 4 ہزار روپے کی ممکنہ بچت ہوسکتی ہے۔ تاہم حقیقی بچت سفر کی مسافت، ایندھن کی قیمت اور بجلی کے نرخوں کے مطابق مختلف ہوگی۔</p>
<p>دیکھ بھال کے اخراجات بھی الیکٹرک گاڑی کے حق میں ہیں کیونکہ اس میں انجن آئل، آئل فلٹر اور انجن ٹیوننگ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ طویل مدت میں بیٹری اس لاگت کا اہم حصہ ہے جسے مدنظر رکھنا ہوگا۔ فنانسنگ کی شرائط اور دوبارہ فروخت کی قیمت بھی سرمایہ واپس آنے کی مدت پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے میں کسی ایک عمومی مدت کا دعویٰ کرنے کے بجائے ہر صارف کے استعمال اور فنانسنگ پروفائل کا الگ جائزہ لینے کو ترجیح دوں گی۔</p>
<p>بنیادی بات سادہ ہے : الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر ابتدائی لاگت زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن باقاعدگی سے موٹر سائیکل چلانے والے صارف کے لیے اسے رکھنا اور چلانا مجموعی طور پر کہیں کم خرچ ہوسکتا ہے۔ یہی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی اصل معاشی افادیت ہے۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> بیٹری کی قیمت، ایک چارج پر فاصلہ، چارجنگ کا وقت، حفاظت اور مفید عمر کے حوالے سے کون سی پیش رفت پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتی ہے؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> پاکستان کی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے میں چار چیزوں پر توجہ دوں گی: قیمت، قابلِ استعمال سفری فاصلہ، بیٹری کی عمر اور حفاظت۔ چارجنگ کی رفتار بھی اہم ہے، لیکن ایسی موٹر سائیکل جسے رات بھر چارج کیا جاسکتا ہو، اس کے لیے قابلِ اعتماد کارکردگی اور بیٹری کی طویل عمر زیادہ اہم ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بیٹری کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کے مطابق 2025 میں لیتھیم آئن بیٹری پیک کی اوسط قیمت 108 ڈالر فی کلو واٹ آور کی ریکارڈ کم سطح پر آگئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہے۔ ایل ایف پی بیٹری پیک کی اوسط قیمت 81 ڈالر فی کلو واٹ آور رہی، جبکہ این ایم سی بیٹری پیک کی قیمت 128 ڈالر فی کلو واٹ آور تھی، جس سے ایل ایف پی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی لاگت کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>ایل ایف پی بیٹری ٹیکنالوجی عالمی سطح پر مارکیٹ میں اپنا حصہ بھی بڑھا رہی ہے، خصوصاً بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں میں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق 2025 میں ایل ایف پی بیٹری پیک اوسطاً این ایم سی بیٹریوں کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ سستے تھے اور اب الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں میں ان کا حصہ نصف سے زیادہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ بیٹری پیک کی مقامی اسمبلنگ، بیٹری مینجمنٹ، ٹیسٹنگ اور کوالٹی کنٹرول میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کا موقع ہے۔ اس سے لاگت کم کرنے کے ساتھ ساتھ مینوفیکچررز کو حفاظت اور بیٹری کی پوری مدتِ استعمال کی کارکردگی پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔</p>
<p>حقیقی پیش رفت صرف سستی یا تیزی سے چارج ہونے والی بیٹری نہیں بلکہ ایسی بیٹری کی تیاری ہے جو قابلِ استطاعت، محفوظ، پائیدار اور پوری مدتِ استعمال کے دوران قابلِ اعتماد کارکردگی فراہم کرے۔ یہی چیز الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو ابتدائی صارفین کے مرحلے سے نکال کر بڑے پیمانے کی مارکیٹ تک پہنچائے گی۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> صنعت کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے سے قبل چارجنگ، فروخت کے بعد خدمات، اسپیئر پارٹس، تکنیکی مہارت، سپلائی چین اور دوبارہ فروخت کی مارکیٹ میں کن خلا کو دور کرنے کی ضرورت ہے؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے حوالے سے انفرااسٹرکچر کی کمی کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار گھر یا کام کی جگہ پر اپنی گاڑی چارج کرسکتے ہیں، اس لیے فوری ترجیح اپارٹمنٹس میں رہنے والے اور ایسے افراد کے لیے محفوظ اور آسان چارجنگ سہولت فراہم کرنا ہے جن کے پاس مخصوص پارکنگ کی جگہ نہیں ہوتی۔ حکومت کی نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی میں بھی اس ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے، جس کے تحت نئے بلڈنگ کوڈز میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کی سہولت کی گنجائش لازمی قرار دینے اور 2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس سے بڑا چیلنج فروخت کے بعد خدمات کے نظام کا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی موٹر سائیکلوں کی مرمت کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، تاہم الیکٹرک پاور ٹرین کے لیے موٹرز، کنٹرولرز، تشخیصی نظام اور بیٹری مینجمنٹ سے متعلق نئی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔این ای وی پالیسی میں بھی افرادی قوت کی تربیت، معیار و حفاظتی معیارات اور مقامی مینوفیکچرنگ کو منتقلی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ ای ایل ایف اے میں ہمارا طریقہ کار موجودہ موٹر سائیکل مرمت کے نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ہم مکینکس کی تربیت کا نظام تیار کر رہے ہیں ، تاکہ ٹیکنیشنز اعتماد کے ساتھ الیکٹرک پاور ٹرین کی سروس کرسکیں۔</p>
<p><strong>بی آر آر</strong> : گزشتہ آٹو پالیسی ختم ہوچکی ، نئی پالیسی میں تاخیر ہورہی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات بھی صرف ایک سال کے لیے بڑھائی گئی ہیں، ایسی صورت حال صنعت میں قیمتوں، سرمایہ کاری اور مصنوعات کی منصوبہ بندی کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> پالیسی کی سمت واضح ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے زیادہ طویل مدتی یقین دہانی درکار ہے۔ پاکستان کی این ای وی  پالیسی 2025-30 کا ہدف ہے کہ 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچایا جائے، اس طرح حکومت نے مستقبل کی سمت واضح کردی ہے۔</p>
<p>فوری مسئلہ یہ ہے کہ وسیع تر آٹو پالیسی 2026-31 کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی جاری ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (اے آئی ڈی ای پی) 2021-26 جون 2026 کے اختتام پر ختم ہوگئی، جبکہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے تحت بعض الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس مراعات جون 2027 تک بڑھا دی ہیں۔ اس سے قلیل مدت میں تسلسل ضرور ملتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے صرف ایک سال کی یقین دہانی کافی نہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے بعد پانچ سالہ آٹو پالیسی کے مسودے کو مزید نظرثانی کے لیے واپس کردیا گیا ہے۔</p>
<p>الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ مقامی پیداوار سے متعلق فیصلے سالانہ بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔ مشینری، بیٹری پیک کی اسمبلنگ، مقامی سپلائرز کی تیاری، تکنیکی تربیت اور ڈیلر نیٹ ورک کے لیے کئی سال کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ جب مالیاتی فریم ورک صرف 12 ماہ کے لیے واضح ہو اور طویل مدتی پالیسی ابھی تشکیل کے مراحل میں ہو تو کمپنیاں فطری طور پر سرمایہ کاری مرحلہ وار کرتی اور خطرات سے زیادہ محتاط انداز میں نمٹتی ہیں۔</p>
<p><strong>بی آر آر</strong> :  مستقل طور پر سبسڈی یا تحفظ پر انحصار پیدا کیے بغیر الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس، ٹیرف، معیارات اور ضوابط میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے فوری ترجیح بیٹریوں، چارجرز، کنٹرولرز اور برقی حفاظتی نظام کے یکساں اور مستقل معیارات کا نفاذ ہے۔ حکومت پہلے ہی ایک اہم قدم اٹھا چکی ہے، وزارت صنعت و پیداوار نے پی ایس کیو سی اے  کو لیتھیم آئن گاڑیوں کی بیٹریوں کے لیے معیارات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں حفاظت، پائیداری، حرارتی کارکردگی اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز شامل ہیں۔</p>
<p>ٹیکس اور ٹیرف کے معاملے میں مراعات کو بتدریج مقامی ویلیو ایڈیشن سے جوڑنا چاہیے۔ درآمد شدہ پرزوں کو صرف اسمبل کرنے اور بیٹری پیک، الیکٹرانکس، پرزہ جات، ٹیسٹنگ اور انجینئرنگ میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے میں فرق ہے۔ ٹیرف کا نظام اس فرق کو تسلیم کرے اور مینوفیکچررز کو ویلیو چین میں بتدریج اوپر جانے کی ترغیب دے۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> آئندہ پانچ برس میں الیکٹرک موٹر سائیکل کے کون سے پرزے حقیقتاً مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں اور مقامی پیداوار کی راہ میں اس وقت کیا رکاوٹیں ہیں؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> پاکستان میں پہلے ہی دو پہیہ گاڑیوں کے پرزہ سازوں کا مضبوط نظام موجود ہے، جو ہمارے لیے ایک اہم ابتدائی فائدہ ہے۔ فریم، باڈی پینلز، سیٹیں، وائرنگ ہارنسز اور متعدد مکینیکل پرزے مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ موٹرز، کنٹرولرز، چارجرز اور بیٹری پیک کی اسمبلنگ آئندہ پانچ برس میں مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ شعبے ہیں۔</p>
<p>اس سے بڑا موقع صرف اسمبلنگ تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والے الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور صلاحیتوں کی تیاری کی طرف بڑھنا ہے۔ حکومتی بیانات کے مطابق پاکستان کی روایتی موٹر سائیکل صنعت میں مقامی مواد کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیوں میں مقامی پیداوار کا اندازہ صرف مقامی طور پر حاصل کیے جانے والے پرزوں کی تعداد کے بجائے ان کی مجموعی مالیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ مالیت رکھنے والے پرزے، خصوصاً بیٹری سیلز اور بعض الیکٹرانک اجزا، اب بھی بڑی حد تک درآمد کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ای ایل ایف اے میں ہمارا مقصد صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انجینئرنگ  الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں مقامی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ یہی صلاحیتیں طویل مدت میں زیادہ قدر پیدا کرتی ہیں اور بالآخر پاکستان کو صرف مقامی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> ای ایل ایف اے کی موجودہ پیداواری صلاحیت، فروخت کا حجم اور مقامی پیداوار کی سطح کیا ہے اور آئندہ تین سے پانچ برس کے لیے کمپنی نے کیا اہداف مقرر کیے ہیں؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> ہم پیداواری صلاحیت، مقامی پیداوار اور فروخت کے بعد خدمات کی صلاحیت کو ساتھ ساتھ بڑھاتے ہوئے ذمہ دارانہ انداز میں کاروبار کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ای ایل ایف اے  کے پاس اس وقت ماہانہ ایک ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، جسے بڑھا کر ماہانہ 2 ہزار سے زائد یونٹس کیا جارہا ہے۔ ہم اب تک 2 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں فروخت کرچکے ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار مزید یونٹس کے آرڈرز موجود ہیں، جن کی فراہمی دسمبر 2026 تک مکمل کی جائے گی۔</p>
<p>اب ہم 2027 میں ہی 25 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار اور فراہم کرنے کی تیاری کررہے ہیں، جبکہ اس کے بعد بھی مزید توسیع کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، وسیع تر سیلز اور آفٹر سیلز نیٹ ورک، سپلائرز کی ترقی اور مقامی تکنیکی صلاحیت میں بہتری شامل ہوگی۔</p>
<p>موٹر سائیکل کے مکینیکل پرزوں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی مقامی طور پر حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ بیٹری سیلز اور بعض اعلیٰ مالیت والے برقی اجزا درآمد کیے جاتے ہیں۔ ہماری مقامی پیداوار کی حکمت عملی صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ بیٹری پیک اسمبلنگ، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں اعلیٰ قدر کی مقامی صلاحیت پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔</p>
<p>الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے فنانسنگ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ وسل موبیلیٹی مضاربہ کے ساتھ ہماری شراکت داری شریعہ سے ہم آہنگ فنانسنگ کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے ابتدائی قیمت کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p><strong>بی آر آر :</strong> مزید مقامی اسمبلرز اور درآمد شدہ الیکٹرک موٹر سائیکل برانڈز پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہورہے ہیں، ایسے میں ای ایل ایف اے ان کا مقابلہ کیسے کرے گی؟</p>
<p><strong>ہما یحییٰ خٹک :</strong> کسی بھی شعبے میں مسابقت صحت مند ہوتی ہے۔ زیادہ قابلِ اعتماد مینوفیکچررز کی آمد سے صارفین میں آگاہی بڑھتی ہے، سپلائرز کے لیے کاروباری مواقع بہتر ہوتے ہیں اور پوری صنعت تیزی سے سیکھتی ہے۔ مارکیٹ پہلے ہی مضبوط رفتار کا مظاہرہ کررہی ہے۔ 2025 میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ 2026 کے ابتدائی اعداد و شمار بھی مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس لیے اب چیلنج یہ ثابت کرنا نہیں کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ موجود ہے، بلکہ ایسی کیٹیگری تشکیل دینا ہے جس پر صارفین اعتماد کرسکیں۔</p>
<p>سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ صنعت میں مسابقت صرف قیمت کی بنیاد پر ہونے لگے۔ کم قیمت والی ایسی موٹر سائیکل جس کی بیٹری ناقص ہو، سروس نیٹ ورک محدود ہو یا وارنٹی کی سہولت کمزور ہو، خریداری کی لاگت تو کم کرسکتی ہے، لیکن صارف کے مجموعی اخراجات بڑھا دیتی ہے اور پوری کیٹیگری پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہماری حکمت عملی ملکیت کے مجموعی تجربے کی بنیاد پر مسابقت کرنا ہے، جس میں مقامی انجینئرنگ، بیٹری اور گاڑی کا معیار، آسان فنانسنگ، فروخت کے بعد خدمات اور قابلِ اعتماد سروس شامل ہیں۔ویوٹیک کے ذریعے ہماری ٹیکنالوجی کی بنیاد ہمیں انجینئرنگ اور مصنوعات کی تیاری میں اضافی برتری فراہم کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290949</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 15:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/071355530568778.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/071355530568778.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلند قیمتیں پٹرولیم مصنوعات کی طلب متاثر کرنے لگیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290828/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت نے اگست میں رفتار کھو دی، جس سے جولائی میں ہونے والی مضبوط شروعات کی کمزوری نمایاں ہوگئی۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی فروخت سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 16 فیصد کم ہوگئی۔ فرنس آئل کو نکال کر دیکھا جائے تو اگست 2026 میں فروخت کا حجم سالانہ بنیاد پر 9.3 فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد سکڑ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی کا سب سے زیادہ اثر ڈیزل پر پڑا۔ اگست 2026 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سالانہ بنیاد پر 19 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 32 فیصد کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252d536186.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252d536186.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پٹرول کی فروخت نسبتاً بہتر رہی، جو سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں 9 فیصد کم ہوئی۔ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی زیادہ نمایاں کمی توجہ طلب ہے۔ تاہم او ایم سیز کی ایک ماہ کی ترسیلات سے معاشی سرگرمی میں کسی بھی سست روی کی حد کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداری کی استطاعت اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگست 2026 میں پٹرول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر تقریباً 26 فیصد زیادہ تھیں، جبکہ ڈیزل تقریباً 36 فیصد مہنگا تھا۔ قیمتوں میں اس اضافے سے گھریلو سفری بجٹ متاثر ہوتے ہیں اور اشیا کی نقل و حمل اور مشینری چلانے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252b486b29.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252b486b29.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پٹرول کی نسبتاً بہتر طلب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روزمرہ نقل و حرکت بہتر طور پر برقرار رہی ہے، جبکہ ڈیزل کی طلب قیمتوں کے جھٹکے سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرنس آئل کی صورتحال اس کے برعکس رہی۔ اگست 2026 میں فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیاد پر 429 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 26 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی اضافے کی ایک وجہ گزشتہ سال کی کم بنیاد بھی ہے، تاہم آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل پر زیادہ انحصار بھی اس میں شامل ہے۔ فرنس آئل کی فروخت میں اضافہ مضبوط معاشی سرگرمی کے بجائے گیس کی قلت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252781a529.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252781a529.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود مجموعی صورتحال اب بھی زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی 2 ماہ  کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کے ابتدائی 2 ماہ  کے دوران پٹرول کی فروخت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی فروخت میں معمولی سا اضافہ ہوا جو ایک فیصد سے کچھ زیادہ رہا۔ دو ماہ کے دوران فرنس آئل کی فروخت 5 گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0407525210d078c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0407525210d078c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم ایندھن کی بلند قیمتیں طلب پر دباؤ برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتیں اور روپے کی مستحکم قدر کچھ ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، اگرچہ پٹرولیم لیوی صارفین کو ملنے والے فائدے کو محدود کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمی زرعی سرگرمیاں ڈیزل کی فروخت میں اضافہ کرسکتی ہیں، تاہم سیلاب معاشی سرگرمی میں سست روی کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ گیس کی قلت فرنس آئل کی طلب کو بلند رکھ سکتی ہے۔ تاہم پائیدار بحالی کا انحصار پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں مسلسل اضافے پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت نے اگست میں رفتار کھو دی، جس سے جولائی میں ہونے والی مضبوط شروعات کی کمزوری نمایاں ہوگئی۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی فروخت سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 16 فیصد کم ہوگئی۔ فرنس آئل کو نکال کر دیکھا جائے تو اگست 2026 میں فروخت کا حجم سالانہ بنیاد پر 9.3 فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد سکڑ گیا۔</strong></p>
<p>اس کمی کا سب سے زیادہ اثر ڈیزل پر پڑا۔ اگست 2026 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سالانہ بنیاد پر 19 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 32 فیصد کم ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252d536186.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252d536186.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پٹرول کی فروخت نسبتاً بہتر رہی، جو سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں 9 فیصد کم ہوئی۔ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی زیادہ نمایاں کمی توجہ طلب ہے۔ تاہم او ایم سیز کی ایک ماہ کی ترسیلات سے معاشی سرگرمی میں کسی بھی سست روی کی حد کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>خریداری کی استطاعت اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگست 2026 میں پٹرول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر تقریباً 26 فیصد زیادہ تھیں، جبکہ ڈیزل تقریباً 36 فیصد مہنگا تھا۔ قیمتوں میں اس اضافے سے گھریلو سفری بجٹ متاثر ہوتے ہیں اور اشیا کی نقل و حمل اور مشینری چلانے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252b486b29.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252b486b29.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پٹرول کی نسبتاً بہتر طلب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روزمرہ نقل و حرکت بہتر طور پر برقرار رہی ہے، جبکہ ڈیزل کی طلب قیمتوں کے جھٹکے سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>فرنس آئل کی صورتحال اس کے برعکس رہی۔ اگست 2026 میں فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیاد پر 429 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 26 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>اس غیر معمولی اضافے کی ایک وجہ گزشتہ سال کی کم بنیاد بھی ہے، تاہم آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل پر زیادہ انحصار بھی اس میں شامل ہے۔ فرنس آئل کی فروخت میں اضافہ مضبوط معاشی سرگرمی کے بجائے گیس کی قلت کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252781a529.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/04075252781a529.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے باوجود مجموعی صورتحال اب بھی زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی 2 ماہ  کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2027 کے ابتدائی 2 ماہ  کے دوران پٹرول کی فروخت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی فروخت میں معمولی سا اضافہ ہوا جو ایک فیصد سے کچھ زیادہ رہا۔ دو ماہ کے دوران فرنس آئل کی فروخت 5 گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0407525210d078c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/0407525210d078c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالی سال 2027 میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم ایندھن کی بلند قیمتیں طلب پر دباؤ برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتیں اور روپے کی مستحکم قدر کچھ ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، اگرچہ پٹرولیم لیوی صارفین کو ملنے والے فائدے کو محدود کرسکتی ہے۔</p>
<p>موسمی زرعی سرگرمیاں ڈیزل کی فروخت میں اضافہ کرسکتی ہیں، تاہم سیلاب معاشی سرگرمی میں سست روی کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ گیس کی قلت فرنس آئل کی طلب کو بلند رکھ سکتی ہے۔ تاہم پائیدار بحالی کا انحصار پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں مسلسل اضافے پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290828</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 10:44:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/04104133df60008.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/04104133df60008.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کرکٹ، مذاق بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290780/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ اب محض خراب دور سے نہیں گزر رہی۔ یہ زوال کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کافی عرصے سے پاکستان ایسے نتائج دے رہا ہے جن کی بنیاد پر اس کے برعکس دلیل دینا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ مبصرین نے اسے کم از کم گزشتہ 50 سال کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم قرار دینا شروع کردیا ہے۔ میدان میں جو کچھ ہورہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس رائے سے اختلاف کرنا بھی دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نتائج، خواہ وہ کتنے ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہوں، اصل کہانی نہیں ہیں۔ اصل کہانی یہ ہے کہ ٹیم کے اردگرد کیا کچھ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین واقعہ شاید اب تک کا سب سے حیران کن واقعہ ہے۔ ملک سے ہزاروں میل دور، ٹیسٹ سیریز کے دوران، پہلے دو ٹیسٹ بری طرح ہارنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فیصلہ کیا کہ بہترین راستہ یہ ہے کہ اسکواڈ کو تقریباً نصف تک کم کردیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کھلاڑی جس نے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی، دوسرے ٹیسٹ کے لیے ڈراپ کردیا گیا اور پھر کسی طرح تیسرے ٹیسٹ سے قبل خود کو دوبارہ ہوائی جہاز میں پایا۔ ایک اور کھلاڑی، جو تقریباً دو سال سے پاکستان کے نمایاں رنز بنانے والوں میں شامل تھا اور وکٹوں کے پیچھے بھی ایک قابلِ احترام کارکردگی دکھا رہا تھا، اسے وطن واپس بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نوجوان بولر، جو ابھی اپنے بین الاقوامی کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں ہے، اسی مقام پر اپنی بولنگ کیٹیگری سے گزشتہ 5 دہائیوں سے زائد عرصے میں 5 وکٹیں لینے والا پہلا کھلاڑی بنا تھا۔ اسے بھی بتا دیا گیا کہ اب اس کی خدمات درکار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور بھی کئی کھلاڑی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی تقریباً اتنا ہی حیران کن ہے۔ طلب کیے گئے 7 کھلاڑیوں میں سے 5 نے ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا ڈیبیو نہیں کیا۔ ان میں سے بعض کو کھلے عام ٹی20 اسپیشلسٹ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹیسٹ ٹیم جو بظاہر میچوں کو 3 دن سے آگے لے جانے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے، نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایسے کھلاڑیوں کو، جو عرصے سے منظر سے باہر ہیں، کھیل کی خالص ترین طرز یعنی ٹیسٹ کرکٹ کے اعلیٰ ترین درجے میں کھلایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ صورتحال اتنی افسوسناک نہ ہوتی تو شاید اس پر ہنسا جاسکتا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پی سی بی غیر فعال اور بدنظمی کا شکار دکھائی دیا ہو۔ لیکن پی سی بی کے معیار کے لحاظ سے بھی یہ ایک غیر معمولی حد تک برا مذاق ہے۔ ایسا مذاق جو بدقسمتی سے پاکستان کی قیمت پر کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پھر بھی مسئلہ دراصل کھلاڑی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر یہی ملک میں دستیاب بہترین کھلاڑی ہیں۔ کسی ایک کھلاڑی کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے، کسی ایک انتخاب یا کسی ایک کھلاڑی کو مزید موقع دیے جانے کے بارے میں ہمیشہ بحث ہوسکتی ہے۔ یہی کرکٹ ہے۔ انتخاب کبھی بھی ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ میں انتظامی ثقافت ایسی بن چکی ہے جو بظاہر یہ سمجھنے سے تقریباً قاصر ہے کہ کھیلوں کی ٹیمیں کیسے تشکیل دی جاتی ہیں۔ مسلسل کھلاڑیوں کو تبدیل کیا جاتا ہے، فیصلے بدلے جاتے ہیں، فوری ردعمل دیا جاتا ہے اور پھر وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ نتائج آتے ہیں، عہدوں سے سروں کو ہٹایا جاتا ہے۔ ایک نیا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے۔ چند ماہ بعد ایک اور منصوبہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ پھر یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدہ سنبھالنے کے بمشکل ایک ماہ بعد خراب نتائج پر شوکاز نوٹس جاری کرنا شاید اس ذہنیت کی سب سے واضح مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقتی کھیل اس طرح نہیں چلتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھبراہٹ کے ذریعے ٹیم تشکیل نہیں دی جاسکتی۔ عدم تحفظ کے ماحول میں کسی کھلاڑی کی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ کسی کوچ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کوئی بامعنی کام انجام دے، جب ہر خراب نتیجہ انتظامی ہنگامی صورت حال بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیر نو میں وقت لگتا ہے۔ اس کے لیے تسلسل، صبر اور سب سے بڑھ کر اس بات کا ایک نسبتاً مستحکم تصور درکار ہوتا ہے کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس اس وقت ان میں سے کوئی چیز نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کو خاص طور پر افسردہ کن بنانے والی بات یہ ہے کہ بظاہر کوئی سنجیدہ تنظیم نو بھی جاری نہیں ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں طویل مدتی اصلاحات کا کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ٹیلنٹ کی ایک پائیدار کھیپ تیار کرنے کے لیے کوئی واضح کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ کرکٹ کے نظام کو جدید بنانے کی کوئی قابلِ یقین کوشش بھی نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ کھیل کو چلانے والوں میں اس بات کا احساس بھی بہت کم دکھائی دیتا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصل مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے جسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کچھ عرصے سے گڑھا کھود رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنی ہی قبر کھودنا شروع کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج اسکور بورڈ سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی کرکٹ نسبتاً محدود حلقہ ہے۔ بہترین ٹیمیں ایسے حریفوں کے خلاف کھیلنا چاہتی ہیں جو انہیں سخت مقابلہ دے سکیں۔ اگر پاکستان مسلسل کمزور ہوتا گیا تو ملک کے لیے حریف کی حیثیت سے اپنی کشش برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان ٹیموں کے لیے جن کے پاس زیادہ منافع بخش اور زیادہ مسابقتی متبادل موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تباہ کن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم بین الاقوامی کرکٹ کا مطلب کم تجربہ ہوگا۔ کم تجربے کا مطلب کم تجارتی قدر ہوگا۔ کم تجارتی قدر ڈومیسٹک کرکٹ پر مزید دباؤ ڈالے گی۔ اور کمزور ڈومیسٹک ڈھانچہ معیاری کھلاڑی کم پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ طریقہ ہے جس سے کھیلوں کا زوال ایک ایسی پیش گوئی بن جاتا ہے جو خود ہی درست ثابت ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تلخ حقیقت ہے جسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ کا انتظام ایک تخصصی کام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی عارضی تدریسی عہدہ نہیں ہے۔ اسے ایسی ذمہ داری نہیں سمجھا جاسکتا جسے بس سنبھالا جائے، کچھ عرصہ چلایا جائے اور پھر اگلے شخص کے حوالے کردیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جدید کرکٹ بورڈ چلانے میں ٹیلنٹ کی ترقی، اعلیٰ کارکردگی کے نظام، اسپورٹس سائنس، ڈیٹا اینالیٹکس، کوچنگ کے ڈھانچے، شیڈولنگ، تجارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی تعلقات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ادارہ جاتی تجربہ اور مہارت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یقیناً یہ سمجھ بھی ضروری ہے کہ کرکٹ ٹیم کوئی سرکاری محکمہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں ذمہ دار ہوں، اس لیے میں ہی بہتر جانتا ہوں کی ذہنیت انتظامی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ محض اختیار ہے جو ٹائی پہن کر سامنے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہیں سے نقصان کرکٹ سے کہیں بڑا ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی سیاست، معیشت، نظریات اور تقریباً ہر دوسرے معاملے پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ کرکٹ ان چند چیزوں میں سے ایک ہے جو اب بھی لوگوں کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی تمام خامیوں اور تمام مایوسیوں کے باوجود، کرکٹ نے تاریخی طور پر پاکستانیوں کو مل کر خوشی منانے، شکایت کرنے اور اس کے جنون میں مبتلا ہونے کے لیے ایک مشترکہ موضوع دیا ہے۔ یہ ایک نایاب مشترکہ زبان رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وہ بھی مدھم پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان مزید چند ٹیسٹ میچ ہار جائے گا۔ خطرہ یہ ہے کہ لوگ محض اس سے بہتر کی توقع رکھنا چھوڑ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب زوال معمول بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کبھی غیر متوقع ہوا کرتی تھی۔ یہی اس کی کشش کا ایک حصہ تھا۔ وہ اپنے دن پر کسی کو بھی شکست دے سکتی تھی اور کسی دوسرے دن کسی سے بھی ہار سکتی تھی۔ بدنظمی تھی، لیکن اس کے ساتھ غیر معمولی صلاحیت اور شاندار کارکردگی بھی موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بدنظمی برقرار ہے۔ شاندار کارکردگی تلاش کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اور سب سے بری بات یہ ہے کہ بظاہر کوئی بھی اس صورتحال کو بدلنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کررہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ایک اور نعرے، ایک اور کمیٹی، ایک اور 5 سالہ منصوبے یا ایک بار پھر عہدوں کی موسیقی کی کرسیوں کے کھیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ادارہ جاتی سطح پر سنجیدہ بنیادوں پر ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے ڈومیسٹک کرکٹ میں استحکام، میرٹ کی بنیاد پر انتخاب، کھلاڑیوں کی مناسب تربیت و نشوونما، فٹنس اور کارکردگی کے ایسے معیار جن پر واقعی عمل درآمد ہو، جدید کوچنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس، قیادت میں تسلسل اور شاید سب سے بڑھ کر ایسی انتظامیہ جو یہ سمجھے کہ اس کا کام نظام کی تعمیر کرنا ہے، ٹیم میں مسلسل مداخلت کرنا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج بہتر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہ قابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو چیز قابل قبول نہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ بحران پیدا کرنے والے وہی کام مسلسل کیے جائیں اور پھر مختلف نتیجے کی توقع رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لیکن یہ تیزی سے ماند پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور واقعی خوفناک بات یہ ہے کہ جب مریض روز بروز کمزور ہورہا ہے تو ذمہ دار لوگ اب بھی بظاہر اس بات پر بحث کررہے ہیں کہ بستر کی چادریں کون بدلے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ اب محض خراب دور سے نہیں گزر رہی۔ یہ زوال کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>کافی عرصے سے پاکستان ایسے نتائج دے رہا ہے جن کی بنیاد پر اس کے برعکس دلیل دینا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ مبصرین نے اسے کم از کم گزشتہ 50 سال کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم قرار دینا شروع کردیا ہے۔ میدان میں جو کچھ ہورہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس رائے سے اختلاف کرنا بھی دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>لیکن نتائج، خواہ وہ کتنے ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہوں، اصل کہانی نہیں ہیں۔ اصل کہانی یہ ہے کہ ٹیم کے اردگرد کیا کچھ ہورہا ہے۔</p>
<p>تازہ ترین واقعہ شاید اب تک کا سب سے حیران کن واقعہ ہے۔ ملک سے ہزاروں میل دور، ٹیسٹ سیریز کے دوران، پہلے دو ٹیسٹ بری طرح ہارنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فیصلہ کیا کہ بہترین راستہ یہ ہے کہ اسکواڈ کو تقریباً نصف تک کم کردیا جائے۔</p>
<p>ایک کھلاڑی جس نے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی، دوسرے ٹیسٹ کے لیے ڈراپ کردیا گیا اور پھر کسی طرح تیسرے ٹیسٹ سے قبل خود کو دوبارہ ہوائی جہاز میں پایا۔ ایک اور کھلاڑی، جو تقریباً دو سال سے پاکستان کے نمایاں رنز بنانے والوں میں شامل تھا اور وکٹوں کے پیچھے بھی ایک قابلِ احترام کارکردگی دکھا رہا تھا، اسے وطن واپس بھیج دیا گیا۔</p>
<p>ایک نوجوان بولر، جو ابھی اپنے بین الاقوامی کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں ہے، اسی مقام پر اپنی بولنگ کیٹیگری سے گزشتہ 5 دہائیوں سے زائد عرصے میں 5 وکٹیں لینے والا پہلا کھلاڑی بنا تھا۔ اسے بھی بتا دیا گیا کہ اب اس کی خدمات درکار نہیں ہیں۔</p>
<p>اور بھی کئی کھلاڑی تھے۔</p>
<p>متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی تقریباً اتنا ہی حیران کن ہے۔ طلب کیے گئے 7 کھلاڑیوں میں سے 5 نے ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا ڈیبیو نہیں کیا۔ ان میں سے بعض کو کھلے عام ٹی20 اسپیشلسٹ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایک ٹیسٹ ٹیم جو بظاہر میچوں کو 3 دن سے آگے لے جانے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے، نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایسے کھلاڑیوں کو، جو عرصے سے منظر سے باہر ہیں، کھیل کی خالص ترین طرز یعنی ٹیسٹ کرکٹ کے اعلیٰ ترین درجے میں کھلایا جائے۔</p>
<p>اگر یہ صورتحال اتنی افسوسناک نہ ہوتی تو شاید اس پر ہنسا جاسکتا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پی سی بی غیر فعال اور بدنظمی کا شکار دکھائی دیا ہو۔ لیکن پی سی بی کے معیار کے لحاظ سے بھی یہ ایک غیر معمولی حد تک برا مذاق ہے۔ ایسا مذاق جو بدقسمتی سے پاکستان کی قیمت پر کیا جارہا ہے۔</p>
<p>اور پھر بھی مسئلہ دراصل کھلاڑی نہیں ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر یہی ملک میں دستیاب بہترین کھلاڑی ہیں۔ کسی ایک کھلاڑی کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے، کسی ایک انتخاب یا کسی ایک کھلاڑی کو مزید موقع دیے جانے کے بارے میں ہمیشہ بحث ہوسکتی ہے۔ یہی کرکٹ ہے۔ انتخاب کبھی بھی ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکتا۔</p>
<p>اصل مسئلہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ میں انتظامی ثقافت ایسی بن چکی ہے جو بظاہر یہ سمجھنے سے تقریباً قاصر ہے کہ کھیلوں کی ٹیمیں کیسے تشکیل دی جاتی ہیں۔ مسلسل کھلاڑیوں کو تبدیل کیا جاتا ہے، فیصلے بدلے جاتے ہیں، فوری ردعمل دیا جاتا ہے اور پھر وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ نتائج آتے ہیں، عہدوں سے سروں کو ہٹایا جاتا ہے۔ ایک نیا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے۔ چند ماہ بعد ایک اور منصوبہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ پھر یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔</p>
<p>عہدہ سنبھالنے کے بمشکل ایک ماہ بعد خراب نتائج پر شوکاز نوٹس جاری کرنا شاید اس ذہنیت کی سب سے واضح مثال ہے۔</p>
<p>مسابقتی کھیل اس طرح نہیں چلتے۔</p>
<p>گھبراہٹ کے ذریعے ٹیم تشکیل نہیں دی جاسکتی۔ عدم تحفظ کے ماحول میں کسی کھلاڑی کی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ کسی کوچ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کوئی بامعنی کام انجام دے، جب ہر خراب نتیجہ انتظامی ہنگامی صورت حال بن جائے۔</p>
<p>تعمیر نو میں وقت لگتا ہے۔ اس کے لیے تسلسل، صبر اور سب سے بڑھ کر اس بات کا ایک نسبتاً مستحکم تصور درکار ہوتا ہے کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس اس وقت ان میں سے کوئی چیز نہیں ہے۔</p>
<p>صورتحال کو خاص طور پر افسردہ کن بنانے والی بات یہ ہے کہ بظاہر کوئی سنجیدہ تنظیم نو بھی جاری نہیں ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں طویل مدتی اصلاحات کا کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ٹیلنٹ کی ایک پائیدار کھیپ تیار کرنے کے لیے کوئی واضح کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ کرکٹ کے نظام کو جدید بنانے کی کوئی قابلِ یقین کوشش بھی نظر نہیں آتی۔</p>
<p>اور شاید سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ کھیل کو چلانے والوں میں اس بات کا احساس بھی بہت کم دکھائی دیتا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے۔</p>
<p>یہی اصل مسئلہ ہے۔</p>
<p>آپ اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے جسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیں۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ کچھ عرصے سے گڑھا کھود رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنی ہی قبر کھودنا شروع کردی ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج اسکور بورڈ سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی کرکٹ نسبتاً محدود حلقہ ہے۔ بہترین ٹیمیں ایسے حریفوں کے خلاف کھیلنا چاہتی ہیں جو انہیں سخت مقابلہ دے سکیں۔ اگر پاکستان مسلسل کمزور ہوتا گیا تو ملک کے لیے حریف کی حیثیت سے اپنی کشش برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان ٹیموں کے لیے جن کے پاس زیادہ منافع بخش اور زیادہ مسابقتی متبادل موجود ہیں۔</p>
<p>یہ تباہ کن ہوگا۔</p>
<p>کم بین الاقوامی کرکٹ کا مطلب کم تجربہ ہوگا۔ کم تجربے کا مطلب کم تجارتی قدر ہوگا۔ کم تجارتی قدر ڈومیسٹک کرکٹ پر مزید دباؤ ڈالے گی۔ اور کمزور ڈومیسٹک ڈھانچہ معیاری کھلاڑی کم پیدا کرے گا۔</p>
<p>یہی وہ طریقہ ہے جس سے کھیلوں کا زوال ایک ایسی پیش گوئی بن جاتا ہے جو خود ہی درست ثابت ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>ایک اور تلخ حقیقت ہے جسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ کا انتظام ایک تخصصی کام ہے۔</p>
<p>یہ کوئی عارضی تدریسی عہدہ نہیں ہے۔ اسے ایسی ذمہ داری نہیں سمجھا جاسکتا جسے بس سنبھالا جائے، کچھ عرصہ چلایا جائے اور پھر اگلے شخص کے حوالے کردیا جائے۔</p>
<p>ایک جدید کرکٹ بورڈ چلانے میں ٹیلنٹ کی ترقی، اعلیٰ کارکردگی کے نظام، اسپورٹس سائنس، ڈیٹا اینالیٹکس، کوچنگ کے ڈھانچے، شیڈولنگ، تجارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی تعلقات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ادارہ جاتی تجربہ اور مہارت ضروری ہے۔</p>
<p>اور یقیناً یہ سمجھ بھی ضروری ہے کہ کرکٹ ٹیم کوئی سرکاری محکمہ نہیں ہے۔</p>
<p>میں ذمہ دار ہوں، اس لیے میں ہی بہتر جانتا ہوں کی ذہنیت انتظامی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ محض اختیار ہے جو ٹائی پہن کر سامنے آتا ہے۔</p>
<p>اور یہیں سے نقصان کرکٹ سے کہیں بڑا ہوجاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی سیاست، معیشت، نظریات اور تقریباً ہر دوسرے معاملے پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ کرکٹ ان چند چیزوں میں سے ایک ہے جو اب بھی لوگوں کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اپنی تمام خامیوں اور تمام مایوسیوں کے باوجود، کرکٹ نے تاریخی طور پر پاکستانیوں کو مل کر خوشی منانے، شکایت کرنے اور اس کے جنون میں مبتلا ہونے کے لیے ایک مشترکہ موضوع دیا ہے۔ یہ ایک نایاب مشترکہ زبان رہی ہے۔</p>
<p>اب وہ بھی مدھم پڑ رہی ہے۔</p>
<p>خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان مزید چند ٹیسٹ میچ ہار جائے گا۔ خطرہ یہ ہے کہ لوگ محض اس سے بہتر کی توقع رکھنا چھوڑ دیں گے۔</p>
<p>یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب زوال معمول بن جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ کبھی غیر متوقع ہوا کرتی تھی۔ یہی اس کی کشش کا ایک حصہ تھا۔ وہ اپنے دن پر کسی کو بھی شکست دے سکتی تھی اور کسی دوسرے دن کسی سے بھی ہار سکتی تھی۔ بدنظمی تھی، لیکن اس کے ساتھ غیر معمولی صلاحیت اور شاندار کارکردگی بھی موجود تھی۔</p>
<p>اب بدنظمی برقرار ہے۔ شاندار کارکردگی تلاش کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اور سب سے بری بات یہ ہے کہ بظاہر کوئی بھی اس صورتحال کو بدلنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کررہا۔</p>
<p>پاکستان کو ایک اور نعرے، ایک اور کمیٹی، ایک اور 5 سالہ منصوبے یا ایک بار پھر عہدوں کی موسیقی کی کرسیوں کے کھیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ادارہ جاتی سطح پر سنجیدہ بنیادوں پر ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے ڈومیسٹک کرکٹ میں استحکام، میرٹ کی بنیاد پر انتخاب، کھلاڑیوں کی مناسب تربیت و نشوونما، فٹنس اور کارکردگی کے ایسے معیار جن پر واقعی عمل درآمد ہو، جدید کوچنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس، قیادت میں تسلسل اور شاید سب سے بڑھ کر ایسی انتظامیہ جو یہ سمجھے کہ اس کا کام نظام کی تعمیر کرنا ہے، ٹیم میں مسلسل مداخلت کرنا نہیں۔</p>
<p>نتائج بہتر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہ قابل قبول ہے۔</p>
<p>جو چیز قابل قبول نہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ بحران پیدا کرنے والے وہی کام مسلسل کیے جائیں اور پھر مختلف نتیجے کی توقع رکھی جائے۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لیکن یہ تیزی سے ماند پڑ رہی ہے۔</p>
<p>اور واقعی خوفناک بات یہ ہے کہ جب مریض روز بروز کمزور ہورہا ہے تو ذمہ دار لوگ اب بھی بظاہر اس بات پر بحث کررہے ہیں کہ بستر کی چادریں کون بدلے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290780</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2026 10:39:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/03103900cbfcdd4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/03103900cbfcdd4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں دوبارہ اضافہ، شرح سود میں کمی کی گنجائش محدود</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290742/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسا کہ توقع تھی کنزیومر پرائس انفلیشن ایک بار پھر بتدریج بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ان کے بالواسطہ اثرات ہیں، جبکہ گندم کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ہیڈ لائن انفلیشن ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں آگئی اور اگست میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی میں یہ 9.2 فیصد تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر بھی مہنگائی مسلسل دوسرے ماہ 1 فیصد سے زیادہ رہی اور اس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی سے متعلق محتاط مؤقف کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ توقع ہے کہ مالی سال 27 کے دوران مہنگائی اپنے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے اوپر رہے گی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جاری امریکا ایران جنگ اور عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث خطرات میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کور انفلیشن بھی بدستور مستحکم ہے اور مسلسل پانچویں ماہ 8 سے 9 فیصد کی رینج میں رہی ہے۔ شہری صارفین کے لیے یہ 8.8 فیصد جبکہ دیہی صارفین کے لیے 8.5 فیصد رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی قیمتوں کا دباؤ ابھی نمایاں طور پر کم نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/020658507ff99c4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/020658507ff99c4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فوڈ انفلیشن میں ماہانہ 1.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں خراب نہ ہونے والی اشیا کی قیمتیں 1.2 فیصد جبکہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتیں 4.4 فیصد بڑھیں۔ دیہی علاقوں میں دباؤ زیادہ نمایاں رہا، جہاں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں فوڈ پرائسز 2.3 فیصد بڑھیں۔ پیاز کی قیمت میں 48.4 فیصد، آلو کی قیمت میں 10.6 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 10.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کا کچھ حصہ موسمی نوعیت کا ہے اور ممکن ہے کہ قیمتیں دوبارہ اپنے اوسط کی جانب واپس آجائیں، جبکہ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ میں اضافہ بھی فوڈ پرائسز پر اثر انداز ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم زیادہ مستقل تشویش گندم کی ہے۔ دیہی علاقوں میں گندم کی قیمتوں میں ماہانہ 7.7 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیاد پر گندم کی قیمتیں شہری صارفین کے لیے حیران کن طور پر 87 فیصد جبکہ دیہی صارفین کے لیے 73 فیصد بڑھ چکی ہیں۔  عالمی سطح پر بلند قیمتیں اور حکومت کے کم اسٹاک مل کر گندم کی قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ یہ مجموعی فوڈ انفلیشن کو مزید متاثر کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹیشن میں ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 3.4 فیصد رہا، جبکہ سالانہ اضافہ 20.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ عالمی سطح پرپیٹرولیم  کی مسلسل بلند قیمتیں اس کی بنیادی وجہ ہیں۔ صرف کروڈ پرائسز کو دیکھنے سے اس کا مکمل اثر سامنے نہیں آتا، کیونکہ ریفائننگ کریک مارجنز، خصوصاً ایچ ایس ڈی کے لیے، بدستور بلند ہیں۔ اس کے باعث مقامی پیٹرولیم پرائسز بلند ہیں، جبکہ حکومت بنیادی کاسٹس میں کسی بھی کمی کو مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کلیکشنز برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/02065850d513836.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/02065850d513836.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ دباؤ بتدریج مہنگائی کی توقعات کو تبدیل کر رہے ہیں اور وسیع تر بنیادوں پر مہنگائی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس وقت سب سے نمایاں اثر خراب ہونے والی اشیا پر ہے، تاہم دیگر شعبوں میں بھی دباؤ ابھر رہا ہے۔ واٹر سپلائی چارجز میں ماہانہ 4.2 فیصد جبکہ الیکٹریسٹی چارجز میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ بلند فیول کاسٹس ایف سی اے کو بلند رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آئل اور گیس پرائسز اس صورتحال میں مشترکہ عنصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر ایل پی جی کی قیمتوں میں 56 فیصد جبکہ موٹر فیول پرائسز میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر توانائی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات انفلیشن باسکٹ کے مزید شعبوں تک پھیلنے کا امکان ہے۔ بہت کچھ  امریکا ایران تنازع کی سمت پر منحصر ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد رکاوٹیں اور متبادل سپلائی روٹس عالمی توانائی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی اکاؤنٹ بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہا ہے۔ بلند امپورٹ پرائسز ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) کو اوپر دھکیل رہی ہیں، جس کا انڈیکس اب تقریباً 108 کے قریب ہے، جو بڑی حد تک حالیہ ڈومیسٹک انفلیشن میں تیزی کی عکاسی کرتا ہے۔ ریئر کو دوبارہ 100 کے قریب لانے کے لیے، دیگر عوامل میں بڑی تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں، پی کے آر/یو ایس ڈی ایکسچینج ریٹ کا 300 کی سطح عبور کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کرنسی کی قدر میں بامعنی کمی کی اجازت دینے سے بدستور گریزاں ہے۔ اس کے بجائے نومینل ایکسچینج ریٹ میں بتدریج اضافہ ہونے دینے سے اسٹیٹ بینک کے پاس بیرونی اکاؤنٹ پر دوبارہ دباؤ کے خطرے کے بغیر مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اگست کی مہنگائی کی سطح پر ریئل پالیسی ریٹ بمشکل 0.4 فیصد مثبت ہے۔ مالی سال 27 کی متوقع مہنگائی کی بنیاد پر ریئل ریٹ اس وقت تقریباً 2 سے 3 فیصد ہے، اور امکان نہیں کہ اسٹیٹ بینک اسے ان سطحوں سے نمایاں طور پر نیچے جانے دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں، آئندہ چند ریویوز کے دوران ریٹ کٹس کا جواز پیش کرنا بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مہنگائی اور بیرونی دبائو برقرار رہتے ہیں تو خطرہ اس کے برعکس ایک اور ریٹ ہائیک کی جانب بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسا کہ توقع تھی کنزیومر پرائس انفلیشن ایک بار پھر بتدریج بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ان کے بالواسطہ اثرات ہیں، جبکہ گندم کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ہیڈ لائن انفلیشن ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں آگئی اور اگست میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی میں یہ 9.2 فیصد تھی۔</strong></p>
<p>ماہانہ بنیاد پر بھی مہنگائی مسلسل دوسرے ماہ 1 فیصد سے زیادہ رہی اور اس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی سے متعلق محتاط مؤقف کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ توقع ہے کہ مالی سال 27 کے دوران مہنگائی اپنے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے اوپر رہے گی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جاری امریکا ایران جنگ اور عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث خطرات میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔</p>
<p>کور انفلیشن بھی بدستور مستحکم ہے اور مسلسل پانچویں ماہ 8 سے 9 فیصد کی رینج میں رہی ہے۔ شہری صارفین کے لیے یہ 8.8 فیصد جبکہ دیہی صارفین کے لیے 8.5 فیصد رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی قیمتوں کا دباؤ ابھی نمایاں طور پر کم نہیں ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/020658507ff99c4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/020658507ff99c4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فوڈ انفلیشن میں ماہانہ 1.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں خراب نہ ہونے والی اشیا کی قیمتیں 1.2 فیصد جبکہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتیں 4.4 فیصد بڑھیں۔ دیہی علاقوں میں دباؤ زیادہ نمایاں رہا، جہاں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں فوڈ پرائسز 2.3 فیصد بڑھیں۔ پیاز کی قیمت میں 48.4 فیصد، آلو کی قیمت میں 10.6 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 10.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کا کچھ حصہ موسمی نوعیت کا ہے اور ممکن ہے کہ قیمتیں دوبارہ اپنے اوسط کی جانب واپس آجائیں، جبکہ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ میں اضافہ بھی فوڈ پرائسز پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p>تاہم زیادہ مستقل تشویش گندم کی ہے۔ دیہی علاقوں میں گندم کی قیمتوں میں ماہانہ 7.7 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیاد پر گندم کی قیمتیں شہری صارفین کے لیے حیران کن طور پر 87 فیصد جبکہ دیہی صارفین کے لیے 73 فیصد بڑھ چکی ہیں۔  عالمی سطح پر بلند قیمتیں اور حکومت کے کم اسٹاک مل کر گندم کی قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ یہ مجموعی فوڈ انفلیشن کو مزید متاثر کرتی رہیں گی۔</p>
<p>ٹرانسپورٹیشن میں ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 3.4 فیصد رہا، جبکہ سالانہ اضافہ 20.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ عالمی سطح پرپیٹرولیم  کی مسلسل بلند قیمتیں اس کی بنیادی وجہ ہیں۔ صرف کروڈ پرائسز کو دیکھنے سے اس کا مکمل اثر سامنے نہیں آتا، کیونکہ ریفائننگ کریک مارجنز، خصوصاً ایچ ایس ڈی کے لیے، بدستور بلند ہیں۔ اس کے باعث مقامی پیٹرولیم پرائسز بلند ہیں، جبکہ حکومت بنیادی کاسٹس میں کسی بھی کمی کو مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کلیکشنز برقرار رکھے ہوئے ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/02065850d513836.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/02065850d513836.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ دباؤ بتدریج مہنگائی کی توقعات کو تبدیل کر رہے ہیں اور وسیع تر بنیادوں پر مہنگائی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس وقت سب سے نمایاں اثر خراب ہونے والی اشیا پر ہے، تاہم دیگر شعبوں میں بھی دباؤ ابھر رہا ہے۔ واٹر سپلائی چارجز میں ماہانہ 4.2 فیصد جبکہ الیکٹریسٹی چارجز میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ بلند فیول کاسٹس ایف سی اے کو بلند رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آئل اور گیس پرائسز اس صورتحال میں مشترکہ عنصر ہیں۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر ایل پی جی کی قیمتوں میں 56 فیصد جبکہ موٹر فیول پرائسز میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر توانائی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات انفلیشن باسکٹ کے مزید شعبوں تک پھیلنے کا امکان ہے۔ بہت کچھ  امریکا ایران تنازع کی سمت پر منحصر ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد رکاوٹیں اور متبادل سپلائی روٹس عالمی توانائی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>بیرونی اکاؤنٹ بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہا ہے۔ بلند امپورٹ پرائسز ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) کو اوپر دھکیل رہی ہیں، جس کا انڈیکس اب تقریباً 108 کے قریب ہے، جو بڑی حد تک حالیہ ڈومیسٹک انفلیشن میں تیزی کی عکاسی کرتا ہے۔ ریئر کو دوبارہ 100 کے قریب لانے کے لیے، دیگر عوامل میں بڑی تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں، پی کے آر/یو ایس ڈی ایکسچینج ریٹ کا 300 کی سطح عبور کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔</p>
<p>حکومت کرنسی کی قدر میں بامعنی کمی کی اجازت دینے سے بدستور گریزاں ہے۔ اس کے بجائے نومینل ایکسچینج ریٹ میں بتدریج اضافہ ہونے دینے سے اسٹیٹ بینک کے پاس بیرونی اکاؤنٹ پر دوبارہ دباؤ کے خطرے کے بغیر مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اگست کی مہنگائی کی سطح پر ریئل پالیسی ریٹ بمشکل 0.4 فیصد مثبت ہے۔ مالی سال 27 کی متوقع مہنگائی کی بنیاد پر ریئل ریٹ اس وقت تقریباً 2 سے 3 فیصد ہے، اور امکان نہیں کہ اسٹیٹ بینک اسے ان سطحوں سے نمایاں طور پر نیچے جانے دے گا۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں، آئندہ چند ریویوز کے دوران ریٹ کٹس کا جواز پیش کرنا بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مہنگائی اور بیرونی دبائو برقرار رہتے ہیں تو خطرہ اس کے برعکس ایک اور ریٹ ہائیک کی جانب بڑھ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290742</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Sep 2026 10:36:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/021032359edce65.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/021032359edce65.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرپلس بجلی کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290692/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب، خصوصاً لاہور اور اس کے گردونواح میں رات گئے اور صبح سویرے کے اوقات میں شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ رہائشیوں کو رات 9 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان 2 سے 4 گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جبکہ دن کے باقی اوقات میں بجلی بلا تعطل دستیاب رہتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب ملک میں بجلی اضافی مقدار میں موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں جاری ہے اور بجلی کی بندش انتہائی ناموزوں اوقات میں ہی کیوں ہوتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی جانب سے بجلی کی پیداوار پر غیر متوازن توجہ میں پوشیدہ ہے، جبکہ ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بہت کم کام کیا گیا۔ اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں موجود ہے، جبکہ طلب شمالی علاقوں میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال میں بجلی کی بلند طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھر چلائے جاتے ہیں، لیکن اس وقت مناسب نرخوں پر ایل این جی کی فراہمی محدود ہے۔ شدید بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار گھٹ گئی ہے، جبکہ انتہائی مرطوب موسم نے بجلی کی طلب میں اضافہ کردیا ہے۔ چنانچہ حکام طلب اور رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے رات کے اوقات میں بجلی کی کھپت کم کرنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے پیمانے پر سولرائزیشن کی بدولت دن کے وقت، جب سورج چمک رہا ہوتا ہے، بجلی کی کمی بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ بیٹری سے چلنے والے نظام بھی شام کے ابتدائی اوقات میں بجلی کی طلب کا کچھ حصہ پورا کرلیتے ہیں۔ تاہم رات کے وقت صارفین تقریباً مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں، جب ایئر کنڈیشننگ کی طلب عروج پر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اس وقت قطر سے طویل مدت کے لیے معاہدہ شدہ آر ایل این جی کی وہ فراہمی شدید طور پر درکار ہے جو اس طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کارگو دستیاب ہیں، لیکن ان کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہیں اور ملک انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ سے قبل پاکستان کو اضافی آر ایل این جی درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا، جب قطر نے طویل مدتی معاہدوں کے تحت اپنی سپلائی کے لیے فورس میجر کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ایل این جی کی فراہمی ضرورت سے زیادہ تھی اور اس صورت حال سے حکومت کو مالی نقصان ہورہا تھا۔ اس وقت حکومت نے گرڈ کی طلب میں کمی کا الزام سولر بجلی پیدا کرنے والوں پر عائد کیا تھا۔ اب یہی شمسی بجلی دن کے وقت ایک نعمت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حالیہ عرصے میں شدید بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔ بجلی کی کمی کا ایک حصہ مہنگے فرنس آئل کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے۔ یہ بجلی گھر تقریباً مکمل صلاحیت پر چل رہے ہیں اور انتہائی مہنگی بجلی پیدا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں بجلی کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ سی پی پی اے-جی نے جولائی کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ  کی مد میں 2.52 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے، جو حالیہ مہینوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اگست میں بھی یہ ایڈجسٹمنٹ بلند رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کمزور جواز پیش کرتے ہوئے بجلی کی قلت کا الزام پٹرولیم ڈویژن پر عائد کررہا ہے کہ اس نے مناسب مقدار میں آر ایل این جی درآمد نہیں کی، جبکہ اس کا بیشتر وقت تنقید کا جواب دینے میں صرف ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا وسیع تر مؤقف یہ ہے کہ امریکا ایران جنگ کے باعث قطر نے ایل این جی کی فراہمی معطل کردی، جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان کو 2022 میں بھی اسی نوعیت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب اس نے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے کی غلطی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ملک نے اس مخصوص غلطی کو دوبارہ نہ دہرانا سیکھ لیا، لیکن بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 سے بجلی کے شعبے کی منصوبہ بندی میں عدم توازن برقرار ہے۔ زیادہ تر توجہ بجلی کی پیداوار پر دی گئی جبکہ ترسیل اور تقسیم کے نظام پر بہت کم توجہ دی گئی۔ جنوبی علاقوں میں مزید بجلی گھر منصوبہ بندی کا حصہ بنائے گئے، لیکن شمالی علاقوں میں بجلی کی ترسیل ممکن بنانے کے لیے ری ایکٹو پاور سپورٹ کی ضرورت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ گرڈ کے نظام کے تحت سولر تنصیبات روایتی ٹربائن پر مبنی بجلی پیداوار کی طرح نظام کو معاونت فراہم نہیں کرسکتیں۔ اس لیے صرف نجی سطح پر چھوٹے پیمانے کے حل وسیع تر مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو بڑے ٹرانسمیشن منصوبے، مٹیاری لاہور اور مٹیاری فیصل آباد، منصوبہ بندی میں شامل کیے گئے تھے۔ تاہم صرف ایک مکمل ہوسکا، جبکہ ایک اور بڑے ٹرانسمیشن منصوبے ایم ایم آر کی تعمیر میں تاخیر کا سامنا ہے۔ جنوبی حصے میں موجود اضافی بجلی کو استعمال میں لانے کے لیے اب تک کوئی معاشی طور پر قابل عمل حل تیار نہیں کیا جاسکا، جس کی ایک وجہ یکساں بجلی نرخوں پر حد سے زیادہ اصرار بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسمیشن کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بدستور موجود نہیں، جبکہ حکومتی منصوبہ بندی میں بھی جامع نقطۂ نظر کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بجلی کی ایسی شدید قلت کے واقعات بیرونی اور ملکی دونوں عوامل کے باعث مستقبل میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل ضرورت ٹرانسمیشن اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی سرمایہ کاری لانے کی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو بھی سنجیدگی سے آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کو ویلیو چین کے اس حصے میں شرکت کی اجازت دینے سے ان علاقوں میں سرمایہ کاری حاصل کی جاسکتی ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جہاں تجارتی منافع کے امکانات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بصورت دیگر تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور ہم انہی مسائل کے بارے میں بار بار لکھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب، خصوصاً لاہور اور اس کے گردونواح میں رات گئے اور صبح سویرے کے اوقات میں شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ رہائشیوں کو رات 9 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان 2 سے 4 گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جبکہ دن کے باقی اوقات میں بجلی بلا تعطل دستیاب رہتی ہے۔</strong></p>
<p>بعض لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب ملک میں بجلی اضافی مقدار میں موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں جاری ہے اور بجلی کی بندش انتہائی ناموزوں اوقات میں ہی کیوں ہوتی ہے؟</p>
<p>اس کا جواب یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی جانب سے بجلی کی پیداوار پر غیر متوازن توجہ میں پوشیدہ ہے، جبکہ ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بہت کم کام کیا گیا۔ اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں موجود ہے، جبکہ طلب شمالی علاقوں میں زیادہ ہے۔</p>
<p>شمال میں بجلی کی بلند طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھر چلائے جاتے ہیں، لیکن اس وقت مناسب نرخوں پر ایل این جی کی فراہمی محدود ہے۔ شدید بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار گھٹ گئی ہے، جبکہ انتہائی مرطوب موسم نے بجلی کی طلب میں اضافہ کردیا ہے۔ چنانچہ حکام طلب اور رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے رات کے اوقات میں بجلی کی کھپت کم کرنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔</p>
<p>بڑے پیمانے پر سولرائزیشن کی بدولت دن کے وقت، جب سورج چمک رہا ہوتا ہے، بجلی کی کمی بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ بیٹری سے چلنے والے نظام بھی شام کے ابتدائی اوقات میں بجلی کی طلب کا کچھ حصہ پورا کرلیتے ہیں۔ تاہم رات کے وقت صارفین تقریباً مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں، جب ایئر کنڈیشننگ کی طلب عروج پر ہوتی ہے۔</p>
<p>حکومت کو اس وقت قطر سے طویل مدت کے لیے معاہدہ شدہ آر ایل این جی کی وہ فراہمی شدید طور پر درکار ہے جو اس طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کارگو دستیاب ہیں، لیکن ان کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہیں اور ملک انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ سے قبل پاکستان کو اضافی آر ایل این جی درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا، جب قطر نے طویل مدتی معاہدوں کے تحت اپنی سپلائی کے لیے فورس میجر کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ایل این جی کی فراہمی ضرورت سے زیادہ تھی اور اس صورت حال سے حکومت کو مالی نقصان ہورہا تھا۔ اس وقت حکومت نے گرڈ کی طلب میں کمی کا الزام سولر بجلی پیدا کرنے والوں پر عائد کیا تھا۔ اب یہی شمسی بجلی دن کے وقت ایک نعمت بن چکی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حالیہ عرصے میں شدید بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔ بجلی کی کمی کا ایک حصہ مہنگے فرنس آئل کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے۔ یہ بجلی گھر تقریباً مکمل صلاحیت پر چل رہے ہیں اور انتہائی مہنگی بجلی پیدا کررہے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں بجلی کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ سی پی پی اے-جی نے جولائی کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ  کی مد میں 2.52 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے، جو حالیہ مہینوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اگست میں بھی یہ ایڈجسٹمنٹ بلند رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کمزور جواز پیش کرتے ہوئے بجلی کی قلت کا الزام پٹرولیم ڈویژن پر عائد کررہا ہے کہ اس نے مناسب مقدار میں آر ایل این جی درآمد نہیں کی، جبکہ اس کا بیشتر وقت تنقید کا جواب دینے میں صرف ہورہا ہے۔</p>
<p>حکومت کا وسیع تر مؤقف یہ ہے کہ امریکا ایران جنگ کے باعث قطر نے ایل این جی کی فراہمی معطل کردی، جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان کو 2022 میں بھی اسی نوعیت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب اس نے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے کی غلطی کی تھی۔</p>
<p>اگرچہ ملک نے اس مخصوص غلطی کو دوبارہ نہ دہرانا سیکھ لیا، لیکن بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا۔</p>
<p>2015 سے بجلی کے شعبے کی منصوبہ بندی میں عدم توازن برقرار ہے۔ زیادہ تر توجہ بجلی کی پیداوار پر دی گئی جبکہ ترسیل اور تقسیم کے نظام پر بہت کم توجہ دی گئی۔ جنوبی علاقوں میں مزید بجلی گھر منصوبہ بندی کا حصہ بنائے گئے، لیکن شمالی علاقوں میں بجلی کی ترسیل ممکن بنانے کے لیے ری ایکٹو پاور سپورٹ کی ضرورت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔</p>
<p>موجودہ گرڈ کے نظام کے تحت سولر تنصیبات روایتی ٹربائن پر مبنی بجلی پیداوار کی طرح نظام کو معاونت فراہم نہیں کرسکتیں۔ اس لیے صرف نجی سطح پر چھوٹے پیمانے کے حل وسیع تر مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔</p>
<p>دو بڑے ٹرانسمیشن منصوبے، مٹیاری لاہور اور مٹیاری فیصل آباد، منصوبہ بندی میں شامل کیے گئے تھے۔ تاہم صرف ایک مکمل ہوسکا، جبکہ ایک اور بڑے ٹرانسمیشن منصوبے ایم ایم آر کی تعمیر میں تاخیر کا سامنا ہے۔ جنوبی حصے میں موجود اضافی بجلی کو استعمال میں لانے کے لیے اب تک کوئی معاشی طور پر قابل عمل حل تیار نہیں کیا جاسکا، جس کی ایک وجہ یکساں بجلی نرخوں پر حد سے زیادہ اصرار بھی ہے۔</p>
<p>ٹرانسمیشن کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بدستور موجود نہیں، جبکہ حکومتی منصوبہ بندی میں بھی جامع نقطۂ نظر کا فقدان ہے۔</p>
<p>لہٰذا بجلی کی ایسی شدید قلت کے واقعات بیرونی اور ملکی دونوں عوامل کے باعث مستقبل میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اصل ضرورت ٹرانسمیشن اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی سرمایہ کاری لانے کی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو بھی سنجیدگی سے آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>نجی شعبے کو ویلیو چین کے اس حصے میں شرکت کی اجازت دینے سے ان علاقوں میں سرمایہ کاری حاصل کی جاسکتی ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جہاں تجارتی منافع کے امکانات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>بصورت دیگر تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور ہم انہی مسائل کے بارے میں بار بار لکھتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290692</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 10:34:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0110322394b0d02.webp" type="image/webp" medium="image" height="388" width="690">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0110322394b0d02.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری مکس میں تبدیلی کا اثر، حب پاور کے منافع میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290638/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حب پاور کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: حبکو) نے  مالی سال 26 کا اختتام زیادہ مجموعی آمدنی کے ساتھ کیا، حالانکہ اس کی بنیادی آمدنی اور مجموعی منافع کی مد میں نمایاں کمزوری نظر آئی۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ کی آمدنی کی بنیاد بتدریج براہِ راست پاور جنریشن کے ٹرن اوور سے ہٹ کر ایسوسی ایٹس، جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے وسیع تر پورٹ فولیو کی جانب منتقل ہورہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی آمدنی سالانہ 15 فیصد کم ہوئی۔ آمدنی کی لاگت (آپریٹنگ لاگت) میں نسبتاً معمولی 5 فیصد سالانہ کمی ہوئی۔ نتیجتاً مجموعی منافع 25 فیصد کم ہوگیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کے 47.8 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 26 میں 41.7 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی دیگر عوامل کے علاوہ حب پلانٹ کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کی قبل از وقت تکمیل کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ نتیجتاً، کمپنی کا تاریخی ٹرن اوور اب گروپ کی مجموعی کارکردگی کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رجحان جاری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308788d0f4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308788d0f4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26 میں دیگر آمدنی میں اضافے نے آپریٹنگ منافع کو کچھ سہارا دیا، جو سال بہ سال 84 فیصد بڑھ گئی، جبکہ دیگر آپریٹنگ اخراجات میں سال کے دوران تقریباً 75 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل آمدنی کو آپریٹنگ لائن سے نیچے موجود عوامل نے سہارا دیا۔ ایسوسی ایٹس اور جوائنٹ وینچرز سے حبکو کے منافع میں حصہ 10 فیصد بڑھا اور مسلسل آپریشنز سے لیوی اور ٹیکس سے قبل مجموعی منافع میں تقریباً 65 فیصد کا حصہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس کاسٹ میں بھی 40 فیصد کمی ہوئی، جس کی وجہ کم شرح سود اور منصوبوں سے متعلق قرضوں کی مسلسل ادائیگی تھی۔ ان دونوں عوامل نے مجموعی منافع میں کمی کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کردیا، جس کے نتیجے میں لیوی اور ٹیکس سے قبل منافع میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308021efee.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308021efee.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اور حتمی ٹیکس لیوی کی ادائیگی کے بعد مالی سال 26 میں حبکو کا مجموعی مجموعی منافع سالانہ 9 فیصد بڑھ گیا۔ اس میں سے 88 فیصد منافع حبکو کے شیئر ہولڈرز سے منسوب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشنل اعتبار سے پاور پورٹ فولیو کا سال بہتر رہا۔ حبکو کے ذیلی اداروں اور ایسوسی ایٹس نے مجموعی طور پر قومی گرڈ کو 5,363 جی ڈبلیو ایچ بجلی فراہم کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 21 فیصد زیادہ ہے۔ چائنا پاور حب جنریشن کمپنی سے بجلی کی پیداوار میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ نارووال کی پیداوار میں بھی بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھر میں قائم دونوں پاور پلانٹس بدستور سب سے بڑے معاون رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 3,646 جی ڈبلیو ایچ بجلی پیدا کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308d0b17dd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308d0b17dd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حبکو کی آمدنی کی کہانی تیزی سے تنوع کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا پورٹ فولیو اب تھر کے کوئلے کی کان کنی اور بجلی کی پیداوار، تیل و گیس کی تلاش، معدنی وسائل کی ترقی، بی وائی ڈی کی معاونت سے نئی توانائی پر مبنی گاڑیوں اور چارجنگ انفرااسٹرکچر تک پھیل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے 5 روپے فی شیئر کے حتمی نقد منافع کا اعلان کیا، جس کے بعد پورے سال کی ادائیگی 20 روپے فی شیئر ہوگئی، جبکہ مالی سال 25 میں یہ 15 روپے فی شیئر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 26 ٹرن اوور میں اضافے کا سال نہیں تھا، تاہم اس سال حبکو کے بڑھتے ہوئے متنوع پورٹ فولیو کی مسلسل ترقی نمایاں رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حب پاور کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: حبکو) نے  مالی سال 26 کا اختتام زیادہ مجموعی آمدنی کے ساتھ کیا، حالانکہ اس کی بنیادی آمدنی اور مجموعی منافع کی مد میں نمایاں کمزوری نظر آئی۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ کی آمدنی کی بنیاد بتدریج براہِ راست پاور جنریشن کے ٹرن اوور سے ہٹ کر ایسوسی ایٹس، جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے وسیع تر پورٹ فولیو کی جانب منتقل ہورہی ہے۔</strong></p>
<p>مجموعی آمدنی سالانہ 15 فیصد کم ہوئی۔ آمدنی کی لاگت (آپریٹنگ لاگت) میں نسبتاً معمولی 5 فیصد سالانہ کمی ہوئی۔ نتیجتاً مجموعی منافع 25 فیصد کم ہوگیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کے 47.8 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 26 میں 41.7 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>یہ کمی دیگر عوامل کے علاوہ حب پلانٹ کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کی قبل از وقت تکمیل کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ نتیجتاً، کمپنی کا تاریخی ٹرن اوور اب گروپ کی مجموعی کارکردگی کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رجحان جاری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308788d0f4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308788d0f4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالی سال 26 میں دیگر آمدنی میں اضافے نے آپریٹنگ منافع کو کچھ سہارا دیا، جو سال بہ سال 84 فیصد بڑھ گئی، جبکہ دیگر آپریٹنگ اخراجات میں سال کے دوران تقریباً 75 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی۔</p>
<p>اصل آمدنی کو آپریٹنگ لائن سے نیچے موجود عوامل نے سہارا دیا۔ ایسوسی ایٹس اور جوائنٹ وینچرز سے حبکو کے منافع میں حصہ 10 فیصد بڑھا اور مسلسل آپریشنز سے لیوی اور ٹیکس سے قبل مجموعی منافع میں تقریباً 65 فیصد کا حصہ رہا۔</p>
<p>فنانس کاسٹ میں بھی 40 فیصد کمی ہوئی، جس کی وجہ کم شرح سود اور منصوبوں سے متعلق قرضوں کی مسلسل ادائیگی تھی۔ ان دونوں عوامل نے مجموعی منافع میں کمی کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کردیا، جس کے نتیجے میں لیوی اور ٹیکس سے قبل منافع میں اضافہ ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308021efee.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308021efee.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹیکس اور حتمی ٹیکس لیوی کی ادائیگی کے بعد مالی سال 26 میں حبکو کا مجموعی مجموعی منافع سالانہ 9 فیصد بڑھ گیا۔ اس میں سے 88 فیصد منافع حبکو کے شیئر ہولڈرز سے منسوب تھا۔</p>
<p>آپریشنل اعتبار سے پاور پورٹ فولیو کا سال بہتر رہا۔ حبکو کے ذیلی اداروں اور ایسوسی ایٹس نے مجموعی طور پر قومی گرڈ کو 5,363 جی ڈبلیو ایچ بجلی فراہم کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 21 فیصد زیادہ ہے۔ چائنا پاور حب جنریشن کمپنی سے بجلی کی پیداوار میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ نارووال کی پیداوار میں بھی بہتری آئی۔</p>
<p>تھر میں قائم دونوں پاور پلانٹس بدستور سب سے بڑے معاون رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 3,646 جی ڈبلیو ایچ بجلی پیدا کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308d0b17dd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/31064308d0b17dd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>حبکو کی آمدنی کی کہانی تیزی سے تنوع کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا پورٹ فولیو اب تھر کے کوئلے کی کان کنی اور بجلی کی پیداوار، تیل و گیس کی تلاش، معدنی وسائل کی ترقی، بی وائی ڈی کی معاونت سے نئی توانائی پر مبنی گاڑیوں اور چارجنگ انفرااسٹرکچر تک پھیل چکا ہے۔</p>
<p>بورڈ نے 5 روپے فی شیئر کے حتمی نقد منافع کا اعلان کیا، جس کے بعد پورے سال کی ادائیگی 20 روپے فی شیئر ہوگئی، جبکہ مالی سال 25 میں یہ 15 روپے فی شیئر تھی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 26 ٹرن اوور میں اضافے کا سال نہیں تھا، تاہم اس سال حبکو کے بڑھتے ہوئے متنوع پورٹ فولیو کی مسلسل ترقی نمایاں رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290638</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2026 10:18:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/3110163871f899f.webp" type="image/webp" medium="image" height="714" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/3110163871f899f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیک اوقات کی مہنگی بجلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290535/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں بجلی کی طلب واپس آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس طلب کو پورا کرنے کی لاگت میں ڈرامائی طور پر تبدیلی آچکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار جولائی میں 14.5 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو سالانہ 6 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم گزشتہ 12 ماہ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو شرح نمو اب بھی معمولی، یعنی 2.8 فیصد ہے۔ اس لیے ماہانہ بنیاد پر زیادہ مضبوط اعداد و شمار بجلی کی کھپت میں وسیع پیمانے پر تیزی کے بجائے طلب میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی بجلی کی طلب کے فی گھنٹہ پروفائل میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ جولائی میں دن کے بیشتر اوقات قومی گرڈ کی طلب اب 2025 اور 2024 دونوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ شام کے پیک میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دو سال پہلے کی طلب کا کریو اب تقریباً ایک مختلف نظام جیسا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/280827479cd64c6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/280827479cd64c6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیپٹو جنریشن سے صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی اس صورتحال کا ایک بڑا حصہ ہے۔ کیپٹو پاور کی قیمت مسلسل ناقابلِ مقابلہ ہونے کے باعث صنعتی طلب گرڈ پر واپس آگئی ہے۔ اسی دوران سولر نے دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کیا ہے۔ اس صورتحال نے زیادہ نمایاں ڈک کریو پیدا کردی ہے۔ دھوپ کے اوقات میں گرڈ کی طلب تیزی سے گرتی ہے، پھر سورج غروب ہوتے ہی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شام کے وقت طلب میں تیز اضافہ اب پاور سسٹم کے لیے اصل امتحان بنتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں بجلی کی پیداوار مجموعی طور پر ریفرنس سطح کے مطابق رہی، جو آر ایل این جی میں شدید رکاوٹ کے بدترین دور میں پیدا ہونے والی کمی کے مقابلے میں ایک خوش آئند بہتری ہے۔ تاہم ایندھن کا مکس ظاہر کرتا ہے کہ بدلتے ہوئے طلب کے پروفائل کو پورا کرنے کے لیے نظام کو کس حد تک دباؤ برداشت کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082750772ee05.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082750772ee05.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل واضح طور پر سب سے نمایاں رہا۔ پیداوار تقریباً 6 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو مجموعی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ یہ ماہانہ ہائیڈل پیداوار کی ریکارڈ بلند سطح تھی اور گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے میں بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ پیداوار ریفرنس سطح سے بھی تقریباً 8 فیصد زیادہ رہی، جس سے سسٹم کو پیک ڈیمانڈ سیزن کے آغاز میں کم لاگت والی بجلی کا ایک بڑا حصہ دستیاب ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی کی بحالی کا عمل بھی جاری رہا۔ مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 11 فیصد رہا، جبکہ حقیقی پیداوار ریفرنس سطح سے تقریباً 12 فیصد کم رہی۔ یہ فرق تنازع کے ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں کافی کم ہوا ہے، کیونکہ عالمی گیس مارکیٹ میں رکاوٹ کے باوجود پاکستان ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم جولائی مسلسل پانچواں مہینہ تھا جس میں آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سطح سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082753bc4880f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082753bc4880f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن آر ایل این جی کی کمی واحد مسئلہ نہیں تھی۔ امپورٹڈ کول اس سے بڑا معاملہ بن کر سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امپورٹڈ کول سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سطح سے حیران کن طور پر 144 فیصد زیادہ رہی، جبکہ مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گیا۔ سسٹم نے امپورٹڈ کول سے توقع کے مقابلے میں 1.2 ارب سے زائد اضافی یونٹس پیدا کیے۔ جولائی میں امپورٹڈ کول سے ماہانہ بنیاد پر بجلی کی پیداوار کی بلند ترین ریکارڈ سطح بھی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض ناکافی بجلی پیداوار کی کہانی نہیں ہے۔ یہ وقت اور طلب کی مناسبت کی کہانی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082756fa05945.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082756fa05945.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دن کے درمیانی حصے میں سسٹم کے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود ہے۔ سولر نے اس صورتحال کو مستقل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ لیکن جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، سسٹم کو روایتی ذرائع سے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے تاکہ انہیں تیزی سے آن لائن لایا جاسکے۔ آر ایل این جی کی پیداوار اب بھی ریفرنس سطح سے کم ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ تیزی سے ہورہا ہے، اس لیے بوجھ تیزی سے تھرمل یونٹس، بشمول امپورٹڈ کول، پر منتقل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس کی ایک قیمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں پیک ڈیمانڈ کے دوران بجلی پیدا کرنے کی مارجنل کاسٹ 46 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ 2 سال میں اسی عرصے کے دوران دیکھی گئی سطح کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر زیادہ ہے۔ آر ایل این جی خاص طور پر مہنگی رہی، جس سے بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت تقریباً 47 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند درآمدی قیمتوں پر اسپاٹ ایل این جی کارگو کے استعمال کا اثر اب پیک ڈیمانڈ پوری کرنے کی لاگت میں براہ راست ظاہر ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طلب میں بحالی کا وہ پہلو ہے جو قدرے غیر آرام دہ ہے۔ بجلی کی زیادہ کھپت گرڈ کے لیے اچھی ہے۔ اس سے اثاثوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے، صنعتی صارفین واپس آتے ہیں اور مقررہ اخراجات زیادہ تعداد میں یونٹس پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر اضافی یونٹس شام کے پیک کے دوران مہنگی تھرمل جنریشن کے ذریعے فراہم کیے جارہے ہوں تو یہ بحالی ایندھن کی ایک خاصی بڑی لاگت کے ساتھ بھی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 2 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس سے صارفین پر دباؤ کی ایک اور تہہ بڑھ جائے گی، خاص طور پر کئی ماہ کی معتدل ایڈجسٹمنٹس کے بعد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ فوری طور پر کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگست اور ستمبر میں عموماً سال کی سب سے زیادہ بجلی کی طلب سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایل این جی کی سپلائی اور قیمتوں کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاسی رکاوٹ کا بھی کوئی واضح اختتام نظر نہیں آرہا۔ اگر آر ایل این جی کی دستیابی محدود یا مہنگی رہی تو شام کے وقت طلب میں تیزی سے اضافے کے دوران نظام متبادل تھرمل ذرائع پر مزید انحصار کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سولر کی کہانی رکی نہیں ہے۔ مزید روف ٹاپ اور بیہائنڈ دی میٹر سولر بدستور دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کو کم کررہی ہے، جبکہ بیٹریاں بھی اب اس صورتحال میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرنا شروع ہوگئی ہیں۔ اسٹوریج ممکنہ طور پر شام کے وقت طلب میں تیزی سے اضافے کو کسی حد تک متوازن کرسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بجلی کی روایتی طلب کا پروفائل پیش گوئی کرنا مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ پاکستان کا پاور سیکٹر ایک غیر معمولی مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ بجلی کی طلب بحال ہورہی ہے، لیکن اس طلب کی ساخت جنریشن سسٹم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل دستیاب ہونے کی صورت میں سستی توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ سولر دن کے وقت گرڈ پر بوجھ کم کرسکتا ہے۔ لیکن سورج غروب ہونے کے بعد سسٹم کو اب بھی لچکدار تھرمل جنریشن کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ لچک تیزی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مسئلہ یہ نہیں رہا کہ پاکستان کے پاس کافی بجلی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس وقت ملک کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس وقت اسے پیدا کرنے کی لاگت کتنی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں بجلی کی طلب واپس آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس طلب کو پورا کرنے کی لاگت میں ڈرامائی طور پر تبدیلی آچکی ہے۔</strong></p>
<p>قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار جولائی میں 14.5 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو سالانہ 6 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم گزشتہ 12 ماہ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو شرح نمو اب بھی معمولی، یعنی 2.8 فیصد ہے۔ اس لیے ماہانہ بنیاد پر زیادہ مضبوط اعداد و شمار بجلی کی کھپت میں وسیع پیمانے پر تیزی کے بجائے طلب میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی بجلی کی طلب کے فی گھنٹہ پروفائل میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ جولائی میں دن کے بیشتر اوقات قومی گرڈ کی طلب اب 2025 اور 2024 دونوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ شام کے پیک میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دو سال پہلے کی طلب کا کریو اب تقریباً ایک مختلف نظام جیسا دکھائی دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/280827479cd64c6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/280827479cd64c6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کیپٹو جنریشن سے صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی اس صورتحال کا ایک بڑا حصہ ہے۔ کیپٹو پاور کی قیمت مسلسل ناقابلِ مقابلہ ہونے کے باعث صنعتی طلب گرڈ پر واپس آگئی ہے۔ اسی دوران سولر نے دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کیا ہے۔ اس صورتحال نے زیادہ نمایاں ڈک کریو پیدا کردی ہے۔ دھوپ کے اوقات میں گرڈ کی طلب تیزی سے گرتی ہے، پھر سورج غروب ہوتے ہی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>یہ شام کے وقت طلب میں تیز اضافہ اب پاور سسٹم کے لیے اصل امتحان بنتا جارہا ہے۔</p>
<p>جولائی میں بجلی کی پیداوار مجموعی طور پر ریفرنس سطح کے مطابق رہی، جو آر ایل این جی میں شدید رکاوٹ کے بدترین دور میں پیدا ہونے والی کمی کے مقابلے میں ایک خوش آئند بہتری ہے۔ تاہم ایندھن کا مکس ظاہر کرتا ہے کہ بدلتے ہوئے طلب کے پروفائل کو پورا کرنے کے لیے نظام کو کس حد تک دباؤ برداشت کرنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082750772ee05.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082750772ee05.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ہائیڈل واضح طور پر سب سے نمایاں رہا۔ پیداوار تقریباً 6 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو مجموعی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ یہ ماہانہ ہائیڈل پیداوار کی ریکارڈ بلند سطح تھی اور گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے میں بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ پیداوار ریفرنس سطح سے بھی تقریباً 8 فیصد زیادہ رہی، جس سے سسٹم کو پیک ڈیمانڈ سیزن کے آغاز میں کم لاگت والی بجلی کا ایک بڑا حصہ دستیاب ہوا۔</p>
<p>آر ایل این جی کی بحالی کا عمل بھی جاری رہا۔ مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 11 فیصد رہا، جبکہ حقیقی پیداوار ریفرنس سطح سے تقریباً 12 فیصد کم رہی۔ یہ فرق تنازع کے ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں کافی کم ہوا ہے، کیونکہ عالمی گیس مارکیٹ میں رکاوٹ کے باوجود پاکستان ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم جولائی مسلسل پانچواں مہینہ تھا جس میں آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سطح سے کم رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082753bc4880f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082753bc4880f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>لیکن آر ایل این جی کی کمی واحد مسئلہ نہیں تھی۔ امپورٹڈ کول اس سے بڑا معاملہ بن کر سامنے آیا۔</p>
<p>امپورٹڈ کول سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سطح سے حیران کن طور پر 144 فیصد زیادہ رہی، جبکہ مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گیا۔ سسٹم نے امپورٹڈ کول سے توقع کے مقابلے میں 1.2 ارب سے زائد اضافی یونٹس پیدا کیے۔ جولائی میں امپورٹڈ کول سے ماہانہ بنیاد پر بجلی کی پیداوار کی بلند ترین ریکارڈ سطح بھی دیکھی گئی۔</p>
<p>یہ محض ناکافی بجلی پیداوار کی کہانی نہیں ہے۔ یہ وقت اور طلب کی مناسبت کی کہانی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082756fa05945.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/28082756fa05945.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دن کے درمیانی حصے میں سسٹم کے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود ہے۔ سولر نے اس صورتحال کو مستقل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ لیکن جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، سسٹم کو روایتی ذرائع سے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے تاکہ انہیں تیزی سے آن لائن لایا جاسکے۔ آر ایل این جی کی پیداوار اب بھی ریفرنس سطح سے کم ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ تیزی سے ہورہا ہے، اس لیے بوجھ تیزی سے تھرمل یونٹس، بشمول امپورٹڈ کول، پر منتقل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>اور اس کی ایک قیمت ہے۔</p>
<p>جولائی میں پیک ڈیمانڈ کے دوران بجلی پیدا کرنے کی مارجنل کاسٹ 46 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ 2 سال میں اسی عرصے کے دوران دیکھی گئی سطح کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر زیادہ ہے۔ آر ایل این جی خاص طور پر مہنگی رہی، جس سے بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت تقریباً 47 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>بلند درآمدی قیمتوں پر اسپاٹ ایل این جی کارگو کے استعمال کا اثر اب پیک ڈیمانڈ پوری کرنے کی لاگت میں براہ راست ظاہر ہورہا ہے۔</p>
<p>یہ طلب میں بحالی کا وہ پہلو ہے جو قدرے غیر آرام دہ ہے۔ بجلی کی زیادہ کھپت گرڈ کے لیے اچھی ہے۔ اس سے اثاثوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے، صنعتی صارفین واپس آتے ہیں اور مقررہ اخراجات زیادہ تعداد میں یونٹس پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر اضافی یونٹس شام کے پیک کے دوران مہنگی تھرمل جنریشن کے ذریعے فراہم کیے جارہے ہوں تو یہ بحالی ایندھن کی ایک خاصی بڑی لاگت کے ساتھ بھی آتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 2 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس سے صارفین پر دباؤ کی ایک اور تہہ بڑھ جائے گی، خاص طور پر کئی ماہ کی معتدل ایڈجسٹمنٹس کے بعد۔</p>
<p>یہ مسئلہ فوری طور پر کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگست اور ستمبر میں عموماً سال کی سب سے زیادہ بجلی کی طلب سامنے آتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران ایل این جی کی سپلائی اور قیمتوں کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاسی رکاوٹ کا بھی کوئی واضح اختتام نظر نہیں آرہا۔ اگر آر ایل این جی کی دستیابی محدود یا مہنگی رہی تو شام کے وقت طلب میں تیزی سے اضافے کے دوران نظام متبادل تھرمل ذرائع پر مزید انحصار کرتا رہے گا۔</p>
<p>دریں اثنا، سولر کی کہانی رکی نہیں ہے۔ مزید روف ٹاپ اور بیہائنڈ دی میٹر سولر بدستور دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کو کم کررہی ہے، جبکہ بیٹریاں بھی اب اس صورتحال میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرنا شروع ہوگئی ہیں۔ اسٹوریج ممکنہ طور پر شام کے وقت طلب میں تیزی سے اضافے کو کسی حد تک متوازن کرسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بجلی کی روایتی طلب کا پروفائل پیش گوئی کرنا مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>چنانچہ پاکستان کا پاور سیکٹر ایک غیر معمولی مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ بجلی کی طلب بحال ہورہی ہے، لیکن اس طلب کی ساخت جنریشن سسٹم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔</p>
<p>ہائیڈل دستیاب ہونے کی صورت میں سستی توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ سولر دن کے وقت گرڈ پر بوجھ کم کرسکتا ہے۔ لیکن سورج غروب ہونے کے بعد سسٹم کو اب بھی لچکدار تھرمل جنریشن کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ لچک تیزی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>اب مسئلہ یہ نہیں رہا کہ پاکستان کے پاس کافی بجلی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس وقت ملک کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس وقت اسے پیدا کرنے کی لاگت کتنی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290535</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Aug 2026 10:04:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2810011597a4b47.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2810011597a4b47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی برآمدات میں اگلی بڑی چھلانگ کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے مالی سال 2026-27 کا آغاز مضبوط بنیادوں پر کیا ہے اور گزشتہ سال بننے والی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ جولائی 2026 میں برآمدی وصولیاں 417 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 18 فیصد زیادہ اور جون کے 416 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً مستحکم ہیں۔ یہ حالیہ اعداد و شمار کی سیریز میں دوسرا بلند ترین ماہانہ برآمدی حجم بھی ہے، جو دسمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 437 ملین ڈالر کے بعد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بڑی بات یہ نہیں رہی کہ کسی ایک ماہ میں کبھی کبھار برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو جائے۔ آئی ٹی برآمدات اب مسلسل ایک سال پہلے کی سطح سے بلند رہ رہی ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ کی بنیاد پر برآمدات 4.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 3.87 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ ٹیکنالوجی ان چند برآمدی شعبوں میں شامل ہوگئی ہے جہاں پاکستان درآمدی بل میں بڑے اضافے کے بغیر اپنا حجم بڑھا رہا ہے۔ ایسی معیشت کے لیے، جو بار بار زرمبادلہ کی دستیابی کی کمی سے دوچار رہتی ہے، شعبے کا بلند نیٹ ایکسپورٹ مواد اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ مجموعی ترقی کی شرح۔ اشیائے تجارت کی برآمدات کے برعکس، جہاں درآمد شدہ خام مال اور توانائی مجموعی برآمدی آمدنی کا ایک بڑا حصہ واپس لے سکتے ہیں، آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات بیرونی کھاتے میں کہیں زیادہ خالص اضافہ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/2506253630e0f04.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/2506253630e0f04.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ترقی کی اہمیت سروسز بیلنس میں بھی نظر آتی ہے، جہاں مضبوط آئی سی ٹی اور دیگر بزنس سروسز کی برآمدات اشیا کی تجارت کے بڑھتے ہوئے خسارے کے ایک حصے کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 نے پہلے ہی ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی تھی۔ آئی سی ٹی ایکسپورٹ ریمیٹنس تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 کے 3.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سہولت کاری نے بھی مدد فراہم کی ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان اپنی برآمدی آمدنی کا 50 فیصد تک فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھ سکتے ہیں، جبکہ ایکسپورٹ ریمیٹنس اور انٹرنیشنل پیمنٹس کے لیے بینکنگ طریقہ کار کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص بینکنگ ڈیسک، آسان دستاویزات اور ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی تیز تر پروسیسنگ نے ان رکاوٹوں میں سے کچھ کو کم کیا ہے، جن کی وجہ سے ماضی میں ایکسپورٹرز اور فری لانسرز اپنی آمدنی کو رسمی نظام سے باہر رکھنے پر مجبور ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس شعبے کے حوالے سے اس سے بھی زیادہ بڑا پالیسی ہدف سامنے آ رہا ہے۔ مختلف سرکاری اہداف زیر گردش ہیں۔ اڑان پاکستان فریم ورک نے مالی سال 2028-29 تک 10 ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے موجودہ سطح سے تقریباً 30 فیصد سالانہ ترقی درکار ہوگی، جبکہ حکومت کے حالیہ بیانات میں اس سے کہیں بڑے آئی سی ٹی ایکسپورٹ بیس، یعنی 30 ارب ڈالر، کا تصور پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت آئی ٹی نے بھی 2030 تک 25 ارب ڈالر کا آئی سی ٹی ہدف الگ سے مقرر کیا ہے، جس میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات سے 15.3 ارب ڈالر اور ٹیلی کمیونیکیشنز سے 9.8 ارب ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ بنیاد کے مقابلے میں یہ اہداف بلند دکھائی دیتے ہیں، تاہم عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس ایکو سسٹم پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ اگست 2026 میں گوگل کا پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرنے کا فیصلہ اس حوالے سے ایک اہم اشارہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک کی پاکستان میں زیادہ باقاعدہ موجودگی قائم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی توسیع کو پاکستان کے ڈیجیٹل ایکسپورٹ کے عزائم سے بھی جوڑا گیا ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل اسکلز، اے آئی، انوویشن اور ایکسپورٹ مسابقت سے متعلق معاہدہ شامل ہے۔ اس میں گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس، اے آئی ٹولز تک زیادہ رسائی اور اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے منصوبے شامل ہیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹس اور مسابقت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک مشترکہ ٹاسک فورس بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اب چیلنج کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد سالانہ اضافہ ممکن ہے۔ تاہم تقریباً 4.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر دہرے ہندسے کے اربوں ڈالر تک پہنچنے کے لیے صرف مزید فری لانسرز اور کم درجے کی آؤٹ سورسنگ کافی نہیں ہوگی۔ اگلا مرحلہ زیادہ قدر رکھنے والی سافٹ ویئر انجینئرنگ، اے آئی سروسز، کلاؤڈ اور سائبر سیکیورٹی، گیمنگ، پروڈکٹ کمپنیوں اور قابل توسیع ٹیکنالوجی کاروباروں سے آنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی ترقی مالی سال 2026-27 میں بھی جاری رہی ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنا ممکن ہے۔ تاہم حکومت کے کہیں بڑے اہداف کی جانب رفتار تیز کرنے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان ویلیو چین میں اوپر جانے میں کامیاب ہوتا ہے یا محض وہی خدمات زیادہ مقدار میں فروخت کرتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے مالی سال 2026-27 کا آغاز مضبوط بنیادوں پر کیا ہے اور گزشتہ سال بننے والی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ جولائی 2026 میں برآمدی وصولیاں 417 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 18 فیصد زیادہ اور جون کے 416 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً مستحکم ہیں۔ یہ حالیہ اعداد و شمار کی سیریز میں دوسرا بلند ترین ماہانہ برآمدی حجم بھی ہے، جو دسمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 437 ملین ڈالر کے بعد ہے۔</strong></p>
<p>اب بڑی بات یہ نہیں رہی کہ کسی ایک ماہ میں کبھی کبھار برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو جائے۔ آئی ٹی برآمدات اب مسلسل ایک سال پہلے کی سطح سے بلند رہ رہی ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ کی بنیاد پر برآمدات 4.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 3.87 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ ٹیکنالوجی ان چند برآمدی شعبوں میں شامل ہوگئی ہے جہاں پاکستان درآمدی بل میں بڑے اضافے کے بغیر اپنا حجم بڑھا رہا ہے۔ ایسی معیشت کے لیے، جو بار بار زرمبادلہ کی دستیابی کی کمی سے دوچار رہتی ہے، شعبے کا بلند نیٹ ایکسپورٹ مواد اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ مجموعی ترقی کی شرح۔ اشیائے تجارت کی برآمدات کے برعکس، جہاں درآمد شدہ خام مال اور توانائی مجموعی برآمدی آمدنی کا ایک بڑا حصہ واپس لے سکتے ہیں، آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات بیرونی کھاتے میں کہیں زیادہ خالص اضافہ کرتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/2506253630e0f04.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/2506253630e0f04.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس ترقی کی اہمیت سروسز بیلنس میں بھی نظر آتی ہے، جہاں مضبوط آئی سی ٹی اور دیگر بزنس سروسز کی برآمدات اشیا کی تجارت کے بڑھتے ہوئے خسارے کے ایک حصے کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 نے پہلے ہی ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی تھی۔ آئی سی ٹی ایکسپورٹ ریمیٹنس تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 کے 3.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>پالیسی سہولت کاری نے بھی مدد فراہم کی ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان اپنی برآمدی آمدنی کا 50 فیصد تک فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھ سکتے ہیں، جبکہ ایکسپورٹ ریمیٹنس اور انٹرنیشنل پیمنٹس کے لیے بینکنگ طریقہ کار کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔</p>
<p>مخصوص بینکنگ ڈیسک، آسان دستاویزات اور ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی تیز تر پروسیسنگ نے ان رکاوٹوں میں سے کچھ کو کم کیا ہے، جن کی وجہ سے ماضی میں ایکسپورٹرز اور فری لانسرز اپنی آمدنی کو رسمی نظام سے باہر رکھنے پر مجبور ہوتے تھے۔</p>
<p>اب اس شعبے کے حوالے سے اس سے بھی زیادہ بڑا پالیسی ہدف سامنے آ رہا ہے۔ مختلف سرکاری اہداف زیر گردش ہیں۔ اڑان پاکستان فریم ورک نے مالی سال 2028-29 تک 10 ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے موجودہ سطح سے تقریباً 30 فیصد سالانہ ترقی درکار ہوگی، جبکہ حکومت کے حالیہ بیانات میں اس سے کہیں بڑے آئی سی ٹی ایکسپورٹ بیس، یعنی 30 ارب ڈالر، کا تصور پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزارت آئی ٹی نے بھی 2030 تک 25 ارب ڈالر کا آئی سی ٹی ہدف الگ سے مقرر کیا ہے، جس میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات سے 15.3 ارب ڈالر اور ٹیلی کمیونیکیشنز سے 9.8 ارب ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>موجودہ بنیاد کے مقابلے میں یہ اہداف بلند دکھائی دیتے ہیں، تاہم عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس ایکو سسٹم پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ اگست 2026 میں گوگل کا پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرنے کا فیصلہ اس حوالے سے ایک اہم اشارہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک کی پاکستان میں زیادہ باقاعدہ موجودگی قائم ہوگی۔</p>
<p>گوگل کی توسیع کو پاکستان کے ڈیجیٹل ایکسپورٹ کے عزائم سے بھی جوڑا گیا ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل اسکلز، اے آئی، انوویشن اور ایکسپورٹ مسابقت سے متعلق معاہدہ شامل ہے۔ اس میں گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس، اے آئی ٹولز تک زیادہ رسائی اور اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے منصوبے شامل ہیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹس اور مسابقت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک مشترکہ ٹاسک فورس بھی متوقع ہے۔</p>
<p>لہٰذا اب چیلنج کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد سالانہ اضافہ ممکن ہے۔ تاہم تقریباً 4.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر دہرے ہندسے کے اربوں ڈالر تک پہنچنے کے لیے صرف مزید فری لانسرز اور کم درجے کی آؤٹ سورسنگ کافی نہیں ہوگی۔ اگلا مرحلہ زیادہ قدر رکھنے والی سافٹ ویئر انجینئرنگ، اے آئی سروسز، کلاؤڈ اور سائبر سیکیورٹی، گیمنگ، پروڈکٹ کمپنیوں اور قابل توسیع ٹیکنالوجی کاروباروں سے آنا ہوگا۔</p>
<p>جولائی کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی ترقی مالی سال 2026-27 میں بھی جاری رہی ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنا ممکن ہے۔ تاہم حکومت کے کہیں بڑے اہداف کی جانب رفتار تیز کرنے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان ویلیو چین میں اوپر جانے میں کامیاب ہوتا ہے یا محض وہی خدمات زیادہ مقدار میں فروخت کرتا رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290408</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Aug 2026 10:36:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/25103402ffb4e2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/25103402ffb4e2f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جعلی مصنوعات کا بناوٹی فائدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ تجارت معطل ہونے کے باوجود بھارتی کنزیومر برانڈز مقامی مارکیٹوں سے مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ہیں۔ کچھ مصنوعات اب بھی غیر رسمی ذرائع سے ملک میں پہنچ رہی ہیں، جبکہ ان کی نقلی مصنوعات مقامی سطح پر تیار کرکے بڑے ہول سیل مراکز میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو صرف نظر آنے والا مسئلہ ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ وہ فائدہ ہے جو نظام سے باہر رہنے کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقلی مصنوعات تیار کرنے والا شخص ٹریڈ مارک، پروڈکٹ ڈویلپمنٹ یا کوالٹی کنٹرول کے اخراجات برداشت نہیں کرتا۔ اسمگل شدہ مصنوعات درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں سے بچ جاتی ہیں۔ دونوں ہی ایسے کئی سیفٹی، لیبر اور ریگولیٹری اخراجات سے بچ سکتے ہیں جو ایک دستاویزی کاروبار کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح غیر قانونی مصنوعات کے لیے اسی صارف کو ہدف بناتے ہوئے کم قیمت پر فروخت کرنا کہیں آسان ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں، قوانین کی پابندی خود ایک نقصان بننا شروع ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے جوڑیا بازار اور لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ جیسی ہول سیل مارکیٹوں میں مبینہ طور پر پرسنل کیئر، ہیئر کلر، چائے اور کنفیکشنری سمیت مختلف مصنوعات ایسی پیکیجنگ کے ساتھ فروخت ہورہی ہیں جو معروف بھارتی برانڈز سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ ایسی مصنوعات جو براہِ راست جلد یا بالوں پر استعمال ہوتی ہیں، ان میں تشویش صرف ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہتی۔ جب پیداوار ریگولیٹڈ معیشت سے باہر چلی جائے تو یہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ مصنوعات میں دراصل کیا شامل کیا گیا ہے اور انہیں کس طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ معیشت کا کوئی معمولی حصہ نہیں ہے۔ ایک حالیہ جائزے میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق پانچ غیر قانونی شعبوں سے حکومت کو سالانہ تقریباً 751 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سب سے بڑا حصہ تمباکو اور پٹرولیم مصنوعات کا ہے، جس کے بعد ٹائرز اور لبریکنٹس، فارماسیوٹیکلز اور چائے کا نمبر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 2025 الیسٹ ٹریڈ انڈیکس میں 158 ممالک میں 101ویں پوزیشن حاصل کی۔ یہ انڈیکس پرائم انسٹی ٹیوٹ اینڈ ٹرانس نیشنل الائنس ٹو کامبیٹ الیسٹ ٹریڈ (ٹریسِٹ) نے مرتب کیا ہے۔ یہ درجہ بندی انفورسمنٹ، کسٹمز کنٹرولز اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کے تحفظ میں مسلسل کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعتبار سے معاملہ پیچیدہ نہیں۔ جب فارمل کاروباروں کے لیے ٹیکسز اور کمپلائنس کاسٹس مسلسل بڑھتے رہیں، لیکن انفورسمنٹ اسی رفتار سے بہتر نہ ہو تو قانونی اور غیر قانونی مصنوعات کے درمیان قیمت کا فرق بڑھ جاتا ہے۔ پہلے ہی کمزور قوتِ خرید کے دباؤ کا شکار صارف کے لیے سستا آپشن نظر انداز کرنا مشکل ہوجاتا ہے، خواہ یہ رعایت بہتر کارکردگی کے نتیجے میں ہو یا ٹیکس اور قوانین سے بچنے کے باعث۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں الیسٹ ٹریڈ محض پولیسنگ کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ انڈسٹریل پالیسی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اکثر زیادہ ٹیکسیشن، کمزور سرمایہ کاری اور ناقص مینوفیکچرنگ کمپٹٹیونیس کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ الگ نہیں ہیں۔ ایک قانونی مینوفیکچرر کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس، ڈیوٹیز اور ملازمین سے متعلق اخراجات ادا کرتا ہے، جبکہ برانڈنگ، ڈسٹری بیوشن اور پروڈکٹ اسٹینڈرڈز پر بھی خرچ کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غیر قانونی حریف ان اخراجات کے بڑے حصے سے بچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ریاست درحقیقت معیشت کے ایک حصے سے کہہ رہی ہے کہ وہ مکمل کاسٹ اسٹرکچر کے تحت کام کرے، جبکہ دوسرے حصے کو اس کے بغیر مقابلہ کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال سرمایہ کاری کے لیے بھی اہم ہے۔ ملٹی نیشنل کنزیومر کمپنیوں کے لیے خود برانڈ ایک بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ اگر ٹریڈ مارکس آسانی سے کاپی کیے جاسکیں اور غیر قانونی فروخت کنندگان مجاز مصنوعات سے کم قیمت پر مال فروخت کرسکیں تو اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متوقع منافع کم ہوجاتا ہے۔ ایک آدھ ٹیکس انسینٹیو ایسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا جہاں انٹلیکچوئل پراپرٹی کا مناسب تحفظ ممکن نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں انفورسمنٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ کسٹمز حکام نے انٹلیکچوئل پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے اور تیسرے ممالک کے ذریعے لائی جانے والی بھارتی نژاد مصنوعات بھی پکڑی ہیں۔ تاہم بارڈر پر کارروائی مسئلے کا صرف ایک حصہ حل کرتی ہے۔ اگر نقلی مصنوعات مقامی سطح پر تیار ہوکر پہلے سے قائم ہول سیل نیٹ ورکس کے ذریعے تقسیم ہوسکتی ہیں تو سخت کسٹمز چیکس مسئلے کو سپلائی چین میں صرف مزید آگے منتقل کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کبھی کبھار کیے جانے والے چھاپے بھی زیادہ تبدیلی نہیں لاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پوری سپلائی چین میں غیر قانونی تجارت کو حقیقی طور پر زیادہ مہنگا اور زیادہ خطرناک بنایا جائے۔ اس کے لیے صرف ریٹیلرز سے اسٹاک ضبط کرنے کے بجائے مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کا سراغ لگانا، کسٹمز، صوبائی حکام اور انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے درمیان رابطہ بہتر بنانا، ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیوں کے مقدمات کی کارروائی تیز کرنا اور ان آن لائن مارکیٹ پلیسز کو زیادہ ذمہ دار بنانا ضروری ہے جہاں بار بار نقلی مصنوعات فروخت کرنے والے موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جس میں پروڈکٹ سیریلائزیشن، ڈیجیٹل ویری فکیشن اور مضبوط کسٹمز ڈیٹا بیس شامل ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی اکیلے ایسے مسئلے کو حل نہیں کرسکتی جو پہلے ہی واضح طور پر موجود ہے۔ اصل کمی مستقل اور مؤثر انفورسمنٹ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر پالیسی کے حوالے سے بھی اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کے فارمل سیکٹر سے بار بار زیادہ ٹیکس ادا کرنے، زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور زیادہ مسابقتی بننے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ادارے صرف ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کررہے۔ انہیں ایسے کاروباروں کا بھی سامنا ہے جو ریاست کی جانب سے عائد کیے گئے کئی اخراجات سے بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ انتہائی منفی نکلتا ہے۔ اگر انفورسمنٹ کمزور رہے تو فارمل مصنوعات پر عائد ہر اضافی ٹیکس یا کمپلائنس کاسٹ اسمگل شدہ یا نقلی متبادل کو مزید پرکشش بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا کاؤنٹر فِٹنگ صرف آئی پی یا صارفین کے تحفظ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے بڑے فارملائزیشن کے مسئلے کا ایک اور اظہار ہے۔ قوانین زیادہ تر موجود ہیں۔ اصل خلا یہ ہے کہ ان قوانین کی خلاف ورزی اب بھی اتنی مہنگی دکھائی نہیں دیتی کہ لوگ اس سے باز رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ تجارت معطل ہونے کے باوجود بھارتی کنزیومر برانڈز مقامی مارکیٹوں سے مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ہیں۔ کچھ مصنوعات اب بھی غیر رسمی ذرائع سے ملک میں پہنچ رہی ہیں، جبکہ ان کی نقلی مصنوعات مقامی سطح پر تیار کرکے بڑے ہول سیل مراکز میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تو صرف نظر آنے والا مسئلہ ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ وہ فائدہ ہے جو نظام سے باہر رہنے کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>نقلی مصنوعات تیار کرنے والا شخص ٹریڈ مارک، پروڈکٹ ڈویلپمنٹ یا کوالٹی کنٹرول کے اخراجات برداشت نہیں کرتا۔ اسمگل شدہ مصنوعات درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں سے بچ جاتی ہیں۔ دونوں ہی ایسے کئی سیفٹی، لیبر اور ریگولیٹری اخراجات سے بچ سکتے ہیں جو ایک دستاویزی کاروبار کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح غیر قانونی مصنوعات کے لیے اسی صارف کو ہدف بناتے ہوئے کم قیمت پر فروخت کرنا کہیں آسان ہوجاتا ہے۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں، قوانین کی پابندی خود ایک نقصان بننا شروع ہوجاتی ہے۔</p>
<p>کراچی کے جوڑیا بازار اور لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ جیسی ہول سیل مارکیٹوں میں مبینہ طور پر پرسنل کیئر، ہیئر کلر، چائے اور کنفیکشنری سمیت مختلف مصنوعات ایسی پیکیجنگ کے ساتھ فروخت ہورہی ہیں جو معروف بھارتی برانڈز سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ ایسی مصنوعات جو براہِ راست جلد یا بالوں پر استعمال ہوتی ہیں، ان میں تشویش صرف ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہتی۔ جب پیداوار ریگولیٹڈ معیشت سے باہر چلی جائے تو یہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ مصنوعات میں دراصل کیا شامل کیا گیا ہے اور انہیں کس طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>اور یہ معیشت کا کوئی معمولی حصہ نہیں ہے۔ ایک حالیہ جائزے میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق پانچ غیر قانونی شعبوں سے حکومت کو سالانہ تقریباً 751 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سب سے بڑا حصہ تمباکو اور پٹرولیم مصنوعات کا ہے، جس کے بعد ٹائرز اور لبریکنٹس، فارماسیوٹیکلز اور چائے کا نمبر آتا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے 2025 الیسٹ ٹریڈ انڈیکس میں 158 ممالک میں 101ویں پوزیشن حاصل کی۔ یہ انڈیکس پرائم انسٹی ٹیوٹ اینڈ ٹرانس نیشنل الائنس ٹو کامبیٹ الیسٹ ٹریڈ (ٹریسِٹ) نے مرتب کیا ہے۔ یہ درجہ بندی انفورسمنٹ، کسٹمز کنٹرولز اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کے تحفظ میں مسلسل کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>معاشی اعتبار سے معاملہ پیچیدہ نہیں۔ جب فارمل کاروباروں کے لیے ٹیکسز اور کمپلائنس کاسٹس مسلسل بڑھتے رہیں، لیکن انفورسمنٹ اسی رفتار سے بہتر نہ ہو تو قانونی اور غیر قانونی مصنوعات کے درمیان قیمت کا فرق بڑھ جاتا ہے۔ پہلے ہی کمزور قوتِ خرید کے دباؤ کا شکار صارف کے لیے سستا آپشن نظر انداز کرنا مشکل ہوجاتا ہے، خواہ یہ رعایت بہتر کارکردگی کے نتیجے میں ہو یا ٹیکس اور قوانین سے بچنے کے باعث۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں الیسٹ ٹریڈ محض پولیسنگ کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ انڈسٹریل پالیسی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اکثر زیادہ ٹیکسیشن، کمزور سرمایہ کاری اور ناقص مینوفیکچرنگ کمپٹٹیونیس کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ الگ نہیں ہیں۔ ایک قانونی مینوفیکچرر کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس، ڈیوٹیز اور ملازمین سے متعلق اخراجات ادا کرتا ہے، جبکہ برانڈنگ، ڈسٹری بیوشن اور پروڈکٹ اسٹینڈرڈز پر بھی خرچ کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غیر قانونی حریف ان اخراجات کے بڑے حصے سے بچ سکتا ہے۔</p>
<p>یوں ریاست درحقیقت معیشت کے ایک حصے سے کہہ رہی ہے کہ وہ مکمل کاسٹ اسٹرکچر کے تحت کام کرے، جبکہ دوسرے حصے کو اس کے بغیر مقابلہ کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال سرمایہ کاری کے لیے بھی اہم ہے۔ ملٹی نیشنل کنزیومر کمپنیوں کے لیے خود برانڈ ایک بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ اگر ٹریڈ مارکس آسانی سے کاپی کیے جاسکیں اور غیر قانونی فروخت کنندگان مجاز مصنوعات سے کم قیمت پر مال فروخت کرسکیں تو اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متوقع منافع کم ہوجاتا ہے۔ ایک آدھ ٹیکس انسینٹیو ایسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا جہاں انٹلیکچوئل پراپرٹی کا مناسب تحفظ ممکن نہ ہو۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں انفورسمنٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ کسٹمز حکام نے انٹلیکچوئل پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے اور تیسرے ممالک کے ذریعے لائی جانے والی بھارتی نژاد مصنوعات بھی پکڑی ہیں۔ تاہم بارڈر پر کارروائی مسئلے کا صرف ایک حصہ حل کرتی ہے۔ اگر نقلی مصنوعات مقامی سطح پر تیار ہوکر پہلے سے قائم ہول سیل نیٹ ورکس کے ذریعے تقسیم ہوسکتی ہیں تو سخت کسٹمز چیکس مسئلے کو سپلائی چین میں صرف مزید آگے منتقل کردیتے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے کبھی کبھار کیے جانے والے چھاپے بھی زیادہ تبدیلی نہیں لاتے۔</p>
<p>اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پوری سپلائی چین میں غیر قانونی تجارت کو حقیقی طور پر زیادہ مہنگا اور زیادہ خطرناک بنایا جائے۔ اس کے لیے صرف ریٹیلرز سے اسٹاک ضبط کرنے کے بجائے مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کا سراغ لگانا، کسٹمز، صوبائی حکام اور انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے درمیان رابطہ بہتر بنانا، ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیوں کے مقدمات کی کارروائی تیز کرنا اور ان آن لائن مارکیٹ پلیسز کو زیادہ ذمہ دار بنانا ضروری ہے جہاں بار بار نقلی مصنوعات فروخت کرنے والے موجود ہوں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جس میں پروڈکٹ سیریلائزیشن، ڈیجیٹل ویری فکیشن اور مضبوط کسٹمز ڈیٹا بیس شامل ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی اکیلے ایسے مسئلے کو حل نہیں کرسکتی جو پہلے ہی واضح طور پر موجود ہے۔ اصل کمی مستقل اور مؤثر انفورسمنٹ کی ہے۔</p>
<p>وسیع تر پالیسی کے حوالے سے بھی اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کے فارمل سیکٹر سے بار بار زیادہ ٹیکس ادا کرنے، زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور زیادہ مسابقتی بننے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ادارے صرف ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کررہے۔ انہیں ایسے کاروباروں کا بھی سامنا ہے جو ریاست کی جانب سے عائد کیے گئے کئی اخراجات سے بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ انتہائی منفی نکلتا ہے۔ اگر انفورسمنٹ کمزور رہے تو فارمل مصنوعات پر عائد ہر اضافی ٹیکس یا کمپلائنس کاسٹ اسمگل شدہ یا نقلی متبادل کو مزید پرکشش بنا سکتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا کاؤنٹر فِٹنگ صرف آئی پی یا صارفین کے تحفظ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے بڑے فارملائزیشن کے مسئلے کا ایک اور اظہار ہے۔ قوانین زیادہ تر موجود ہیں۔ اصل خلا یہ ہے کہ ان قوانین کی خلاف ورزی اب بھی اتنی مہنگی دکھائی نہیں دیتی کہ لوگ اس سے باز رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290368</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Aug 2026 11:25:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/241124268e45139.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/241124268e45139.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی سرمایہ کاری کی مشکل صورتحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290251/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مالی سال 2027 کا آغاز مالی سال 2026 کے اختتام کے مقابلے میں بہتر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے اعداد و شمار کے ساتھ کیا ہے، لیکن یہ اتنی مضبوط نہیں کہ اس بات کی نشاندہی کرے کہ سرمایہ کاری کی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جولائی 2026 میں نیٹ ایف ڈی آئی 178.6 ملین ڈالر رہی، جو جون میں محض 13.5 ملین ڈالر تھی۔ پہلی نظر میں یہ بحالی حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے، لیکن جون غیر معمولی طور پر کمزور مہینہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں ایف ڈی آئی سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم رہی، جبکہ پاور اور مالیاتی خدمات سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل رہے۔ پاور سیکٹر نے 57.5 ملین ڈالر جبکہ مالیاتی خدمات نے 62.3 ملین ڈالر حاصل کیے۔ پورے ماہ کے دوران چین اور کینیڈا سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی تقسیم بھی جانی پہچانی نظر آتی ہے۔ پاور اور مالیاتی خدمات ایک بار پھر سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل رہے، جبکہ چین بیرونی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ رہا۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان کا ایف ڈی آئی مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کتنا سرمایہ آتا ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/21074839bf77966.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/21074839bf77966.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے پاکستان کی ایف ڈی آئی کی صورتحال خطے سے تیزی سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ عالمی سرمایہ ڈیٹا سینٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر، سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کی جانب منتقل ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت ٹیکنالوجی اور سروسز میں سرمایہ کاری حاصل کررہا ہے، ویتنام ایکسپورٹ مینوفیکچرنگ کے ساتھ گہرے طور پر مربوط ہے، ملائیشیا نے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز کے مضبوط کلسٹرز قائم کیے ہیں، جبکہ انڈونیشیا اپنی معدنی بنیاد کو استعمال کرتے ہوئے ڈاؤن اسٹریم پروسیسنگ میں سرمایہ کاری حاصل کررہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان بدستور بڑی حد تک مقامی طلب، ریگولیٹڈ شعبوں اور حکومتی حمایت یافتہ فریم ورک سے منسلک سرمایہ کاری پر انحصار کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے جولائی کے اعداد و شمار ایک وسیع تر رجحان، یعنی تبدیلی کے بغیر استحکام، کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال حاصل ہونے والا استحکام ابھی تک طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بامعنی اضافے میں تبدیل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/210748392647264.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/210748392647264.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ایف ڈی آئی ماڈل میں ایک کم زیر بحث کمزوری بھی ہے: مقامی نجی شعبہ پیداواری کاروباروں میں غیر ملکی سرمایہ لانے کے لیے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کررہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط سرمایہ کاری کے مقامات میں مقامی کمپنیاں اکثر مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، سپلائر تعلقات اور برآمدات میں توسیع کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے غیر ملکی سرمایہ وسیع تر معیشت میں شامل ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف چند بڑے منصوبوں کے ذریعے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یہ صورتحال بہت کم نظر آتی ہے۔ ایف ڈی آئی کا بڑا حصہ اب بھی ایسے شعبوں میں جاتا ہے جو سخت ریگولیٹڈ، ریاست سے منسلک یا حکومتی پالیسی پر انحصار کرتے ہیں، بالخصوص پاور اور فنانس۔ مضبوط مقامی نجی شعبے کی معاونت کے بغیر ایف ڈی آئی کے محدود، منصوبہ جاتی اور چند بڑے لین دین کے وقت پر منحصر رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نجی شعبے کو درپیش چیلنجز بنیادی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں اور ان میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں آئی: غیر متوقع ٹیکس اور ریگولیشن، مہنگی توانائی، سکیورٹی خدشات، معاہدوں پر کمزور عمل درآمد اور طویل مدتی پالیسی ماحول کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں قلیل مدتی منظرنامہ محتاط انداز میں جمود کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ماہانہ ایف ڈی آئی میں بہتری آسکتی ہے، لیکن پاکستان نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ مستقل بنیادوں پر ایسی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے جو برآمدات پیدا کرے، ٹیکنالوجی کی صلاحیت پیدا کرے، مقامی کمپنیوں کو عالمی سپلائی چینز سے منسلک کرے اور ہنرمند روزگار پیدا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ ایف ڈی آئی گزشتہ سال کی کمزور بنیاد سے بڑھتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی ساخت محدود انحصار سے نکل کر مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہونا شروع ہوتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مالی سال 2027 کا آغاز مالی سال 2026 کے اختتام کے مقابلے میں بہتر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے اعداد و شمار کے ساتھ کیا ہے، لیکن یہ اتنی مضبوط نہیں کہ اس بات کی نشاندہی کرے کہ سرمایہ کاری کی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جولائی 2026 میں نیٹ ایف ڈی آئی 178.6 ملین ڈالر رہی، جو جون میں محض 13.5 ملین ڈالر تھی۔ پہلی نظر میں یہ بحالی حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے، لیکن جون غیر معمولی طور پر کمزور مہینہ تھا۔</strong></p>
<p>جولائی میں ایف ڈی آئی سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم رہی، جبکہ پاور اور مالیاتی خدمات سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل رہے۔ پاور سیکٹر نے 57.5 ملین ڈالر جبکہ مالیاتی خدمات نے 62.3 ملین ڈالر حاصل کیے۔ پورے ماہ کے دوران چین اور کینیڈا سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع رہے۔</p>
<p>شعبہ جاتی تقسیم بھی جانی پہچانی نظر آتی ہے۔ پاور اور مالیاتی خدمات ایک بار پھر سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل رہے، جبکہ چین بیرونی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ رہا۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان کا ایف ڈی آئی مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کتنا سرمایہ آتا ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/21074839bf77966.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/21074839bf77966.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہیں سے پاکستان کی ایف ڈی آئی کی صورتحال خطے سے تیزی سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ عالمی سرمایہ ڈیٹا سینٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر، سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کی جانب منتقل ہورہا ہے۔</p>
<p>بھارت ٹیکنالوجی اور سروسز میں سرمایہ کاری حاصل کررہا ہے، ویتنام ایکسپورٹ مینوفیکچرنگ کے ساتھ گہرے طور پر مربوط ہے، ملائیشیا نے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز کے مضبوط کلسٹرز قائم کیے ہیں، جبکہ انڈونیشیا اپنی معدنی بنیاد کو استعمال کرتے ہوئے ڈاؤن اسٹریم پروسیسنگ میں سرمایہ کاری حاصل کررہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان بدستور بڑی حد تک مقامی طلب، ریگولیٹڈ شعبوں اور حکومتی حمایت یافتہ فریم ورک سے منسلک سرمایہ کاری پر انحصار کررہا ہے۔</p>
<p>اس لیے جولائی کے اعداد و شمار ایک وسیع تر رجحان، یعنی تبدیلی کے بغیر استحکام، کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال حاصل ہونے والا استحکام ابھی تک طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بامعنی اضافے میں تبدیل نہیں ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/210748392647264.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/210748392647264.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان کے ایف ڈی آئی ماڈل میں ایک کم زیر بحث کمزوری بھی ہے: مقامی نجی شعبہ پیداواری کاروباروں میں غیر ملکی سرمایہ لانے کے لیے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کررہا۔</p>
<p>مضبوط سرمایہ کاری کے مقامات میں مقامی کمپنیاں اکثر مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، سپلائر تعلقات اور برآمدات میں توسیع کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے غیر ملکی سرمایہ وسیع تر معیشت میں شامل ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف چند بڑے منصوبوں کے ذریعے آئے۔</p>
<p>پاکستان میں یہ صورتحال بہت کم نظر آتی ہے۔ ایف ڈی آئی کا بڑا حصہ اب بھی ایسے شعبوں میں جاتا ہے جو سخت ریگولیٹڈ، ریاست سے منسلک یا حکومتی پالیسی پر انحصار کرتے ہیں، بالخصوص پاور اور فنانس۔ مضبوط مقامی نجی شعبے کی معاونت کے بغیر ایف ڈی آئی کے محدود، منصوبہ جاتی اور چند بڑے لین دین کے وقت پر منحصر رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>تاہم، نجی شعبے کو درپیش چیلنجز بنیادی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں اور ان میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں آئی: غیر متوقع ٹیکس اور ریگولیشن، مہنگی توانائی، سکیورٹی خدشات، معاہدوں پر کمزور عمل درآمد اور طویل مدتی پالیسی ماحول کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال۔</p>
<p>اس صورتحال میں قلیل مدتی منظرنامہ محتاط انداز میں جمود کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ماہانہ ایف ڈی آئی میں بہتری آسکتی ہے، لیکن پاکستان نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ مستقل بنیادوں پر ایسی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے جو برآمدات پیدا کرے، ٹیکنالوجی کی صلاحیت پیدا کرے، مقامی کمپنیوں کو عالمی سپلائی چینز سے منسلک کرے اور ہنرمند روزگار پیدا کرے۔</p>
<p>مالی سال 2027 کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ ایف ڈی آئی گزشتہ سال کی کمزور بنیاد سے بڑھتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی ساخت محدود انحصار سے نکل کر مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہونا شروع ہوتی ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290251</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 10:48:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/21104447efe1612.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/21104447efe1612.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر سے کرنٹ اکاؤنٹ کو سہارا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بیرونی کھاتے نے نئے مالی سال کا آغاز ایک قابلِ انتظام صورتحال کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا، جو مجموعی طور پر توقعات کے مطابق ہے اور معیشت کے حجم کے مقابلے میں اب بھی معمولی ہے۔ اگر درآمدات میں نمایاں تیزی نہ آئی تو اس رفتار سے پورے سال کی کرنٹ اکاؤنٹ پوزیشن سرکاری ہدف کے آس پاس رہنی چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کی ساخت کا قریب سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں اشیائے تجارت کا خسارہ 3.1 ارب ڈالر رہا، جبکہ خدمات کے خسارے نے مزید 228 ملین ڈالر کا اضافہ کیا۔ اس طرح اشیا اور خدمات کا مجموعی خسارہ تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ خدمات کے توازن میں کچھ خرابی آئی ہے، تاہم یہ صورتحال فوری تشویش کا باعث بننے کے لیے کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر ایک بار پھر سہارا بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر 3.63 ارب ڈالر رہیں۔ یہ رقم اشیا اور خدمات کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کافی سے زیادہ تھی، جس کے باعث بنیادی آمدنی کے خسارے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نسبتاً محدود رہا۔ ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد بیرونی کھاتے کے لیے بدستور اہم حفاظتی سہارا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس سہولت کو مستقل نہیں سمجھا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ فوری تشویش اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے درآمدات کے اعداد و شمار کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی ہے۔ یہ فرق مسلسل دوسرے ماہ بھی برقرار رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی میں اشیائے تجارت کی درآمدات 6.15 ارب ڈالر رہیں، جبکہ پی بی ایس نے یہ رقم 6.89 ارب ڈالر بتائی۔ یعنی فرق 13 فیصد سے زیادہ ہے۔ جون میں بھی یہی نمایاں فرق موجود تھا، جب اسٹیٹ بینک کے مطابق درآمدات 6.15 ارب ڈالر جبکہ پی بی ایس کے اعداد و شمار میں 6.93 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں اس نوعیت کے اختلافات عموماً وقت کے ساتھ کم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مسلسل دوسرے ماہ دوہرے ہندسے کا فرق اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ آنے والے ماہ میں اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں کچھ تلافی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو کرنٹ اکاؤنٹ پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ بنیادی طور پر درآمدات کی طلب کمزور دکھائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدات 6.89 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد زیادہ ہیں۔ دوسری جانب برآمدات 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2.94 ارب ڈالر ہوگئیں۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ 3.95 ارب ڈالر رہا، جو سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اپنے درآمدی ادائیگیوں کے اعداد و شمار بھی توانائی کے نمایاں حصے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جولائی میں معدنی ایندھن، تیل اور ان کی کشید سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی درآمدات کی ادائیگیاں تقریباً 1.2 ارب ڈالر رہیں، تاہم یہ جون کی نظرثانی شدہ 1.66 ارب ڈالر کی رقم سے کم تھیں۔ مشینری اور برقی آلات کی درآمدات بھی خاصی زیادہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بڑا خطرہ خود جولائی نہیں بلکہ اس صورتحال کا برقرار رہنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر درآمدات طویل عرصے تک ماہانہ تقریباً 6.5 ارب ڈالر کی سطح پر رہتی ہیں تو بیرونی کھاتے کی صورتحال خاصی مشکل ہوسکتی ہے۔ یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب توانائی کی درآمدات کا بل بلند رہے۔ پاکستان کی درآمدی طلب پہلے ہی برآمدات کی شرح نمو سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ برآمدات کا محاذ ابھی اتنا مضبوط دکھائی نہیں دیتا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو جذب کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ترسیلاتِ زر پر مزید دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچھی خبر یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر کی رفتار مضبوط ہے۔ جولائی میں 3.63 ارب ڈالر کی آمد نے نئے مالی سال کے آغاز پر بیرونی کھاتے کو ایک مفید سہارا فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اشیا اور خدمات کے ساختی طور پر بڑھتے ہوئے خسارے کی مالی اعانت کے لیے ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار کوئی پائیدار بیرونی شعبے کی حکمت عملی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کرنٹ اکاؤنٹ قابو میں ہے اور اعداد و شمار تشویش ناک نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل نظر اس بات پر ہونی چاہیے کہ آیا درآمدی بل موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتا ہے یا پی بی ایس اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے درمیان حالیہ فرق صرف ناگزیر ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کررہا ہے۔ اگر درآمدات ماہانہ 6.5 ارب ڈالر کے قریب رہیں اور برآمدات کمزور رہیں تو ترسیلاتِ زر پر بوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بیرونی کھاتے نے نئے مالی سال کا آغاز ایک قابلِ انتظام صورتحال کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا، جو مجموعی طور پر توقعات کے مطابق ہے اور معیشت کے حجم کے مقابلے میں اب بھی معمولی ہے۔ اگر درآمدات میں نمایاں تیزی نہ آئی تو اس رفتار سے پورے سال کی کرنٹ اکاؤنٹ پوزیشن سرکاری ہدف کے آس پاس رہنی چاہیے۔</strong></p>
<p>تاہم اس کی ساخت کا قریب سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>جولائی میں اشیائے تجارت کا خسارہ 3.1 ارب ڈالر رہا، جبکہ خدمات کے خسارے نے مزید 228 ملین ڈالر کا اضافہ کیا۔ اس طرح اشیا اور خدمات کا مجموعی خسارہ تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ خدمات کے توازن میں کچھ خرابی آئی ہے، تاہم یہ صورتحال فوری تشویش کا باعث بننے کے لیے کافی نہیں۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر ایک بار پھر سہارا بن رہی ہیں۔</p>
<p>جولائی کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر 3.63 ارب ڈالر رہیں۔ یہ رقم اشیا اور خدمات کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کافی سے زیادہ تھی، جس کے باعث بنیادی آمدنی کے خسارے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نسبتاً محدود رہا۔ ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد بیرونی کھاتے کے لیے بدستور اہم حفاظتی سہارا ہے۔</p>
<p>لیکن اس سہولت کو مستقل نہیں سمجھا جاسکتا۔</p>
<p>زیادہ فوری تشویش اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے درآمدات کے اعداد و شمار کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی ہے۔ یہ فرق مسلسل دوسرے ماہ بھی برقرار رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی میں اشیائے تجارت کی درآمدات 6.15 ارب ڈالر رہیں، جبکہ پی بی ایس نے یہ رقم 6.89 ارب ڈالر بتائی۔ یعنی فرق 13 فیصد سے زیادہ ہے۔ جون میں بھی یہی نمایاں فرق موجود تھا، جب اسٹیٹ بینک کے مطابق درآمدات 6.15 ارب ڈالر جبکہ پی بی ایس کے اعداد و شمار میں 6.93 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>ماضی میں اس نوعیت کے اختلافات عموماً وقت کے ساتھ کم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مسلسل دوسرے ماہ دوہرے ہندسے کا فرق اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ آنے والے ماہ میں اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں کچھ تلافی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو کرنٹ اکاؤنٹ پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔</p>
<p>یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ بنیادی طور پر درآمدات کی طلب کمزور دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p>پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدات 6.89 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد زیادہ ہیں۔ دوسری جانب برآمدات 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2.94 ارب ڈالر ہوگئیں۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ 3.95 ارب ڈالر رہا، جو سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اپنے درآمدی ادائیگیوں کے اعداد و شمار بھی توانائی کے نمایاں حصے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جولائی میں معدنی ایندھن، تیل اور ان کی کشید سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی درآمدات کی ادائیگیاں تقریباً 1.2 ارب ڈالر رہیں، تاہم یہ جون کی نظرثانی شدہ 1.66 ارب ڈالر کی رقم سے کم تھیں۔ مشینری اور برقی آلات کی درآمدات بھی خاصی زیادہ رہیں۔</p>
<p>لہٰذا بڑا خطرہ خود جولائی نہیں بلکہ اس صورتحال کا برقرار رہنا ہے۔</p>
<p>اگر درآمدات طویل عرصے تک ماہانہ تقریباً 6.5 ارب ڈالر کی سطح پر رہتی ہیں تو بیرونی کھاتے کی صورتحال خاصی مشکل ہوسکتی ہے۔ یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب توانائی کی درآمدات کا بل بلند رہے۔ پاکستان کی درآمدی طلب پہلے ہی برآمدات کی شرح نمو سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ برآمدات کا محاذ ابھی اتنا مضبوط دکھائی نہیں دیتا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو جذب کرسکے۔</p>
<p>اس سے ترسیلاتِ زر پر مزید دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>اچھی خبر یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر کی رفتار مضبوط ہے۔ جولائی میں 3.63 ارب ڈالر کی آمد نے نئے مالی سال کے آغاز پر بیرونی کھاتے کو ایک مفید سہارا فراہم کیا ہے۔</p>
<p>لیکن اشیا اور خدمات کے ساختی طور پر بڑھتے ہوئے خسارے کی مالی اعانت کے لیے ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار کوئی پائیدار بیرونی شعبے کی حکمت عملی نہیں ہے۔</p>
<p>فی الحال کرنٹ اکاؤنٹ قابو میں ہے اور اعداد و شمار تشویش ناک نہیں۔</p>
<p>اصل نظر اس بات پر ہونی چاہیے کہ آیا درآمدی بل موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتا ہے یا پی بی ایس اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے درمیان حالیہ فرق صرف ناگزیر ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کررہا ہے۔ اگر درآمدات ماہانہ 6.5 ارب ڈالر کے قریب رہیں اور برآمدات کمزور رہیں تو ترسیلاتِ زر پر بوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290204</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2026 10:09:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/20100602d03bfdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/20100602d03bfdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹو پالیسی، صنعتی تحفظ دوراہے پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290163/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بالآخر مختلف حکومتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان آٹو پالیسی پر اتفاقِ رائے قائم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ سابقہ پالیسی 30 جون کو ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد سے صنعت اور صارفین کسی واضح سمت کے منتظر ہیں تاکہ اپنے فیصلے کرسکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختلاف صنعتوں اور تجارت کی وزارتوں کے درمیان ہے، کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ صنعتوں کی وزارت اسمبلرز کو تحفظ برقرار رکھ کر موجودہ صورتحال کا دفاع کر رہی ہے، جبکہ تجارت کی وزارت قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے مطابق اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان ہے کہ جلد وزیراعظم کو ایک بریفنگ دی جائے گی اور اس کے بعد اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہانی کا آغاز مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یو) پر ڈیوٹی میں کمی سے ہوتا ہے۔ مختلف انجن سائز کے لیے کسٹمز ڈیوٹی 50 سے 60 فیصد کم کرکے 30 سے 40 فیصد کردی گئی ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ تاہم مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کے لیے ڈیوٹی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں اسمبلرز کو حاصل تحفظ جزوی طور پر ختم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کے بجٹ میں شامل ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ صنعت اپنے حصے کے لیے ہونے والی کشمکش میں اتنی مصروف تھی کہ اصل پالیسی بحث پسِ پشت چلی گئی۔ آئی سی ای پر توجہ مرکوز رکھنے والے کھلاڑی نئی توانائی کی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے معاونت کے مخالف تھے، جبکہ این ای وی شعبے کے اندر بھی برقی گاڑیوں (ای ویز) اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات کے معاملے پر شدید بحث جاری رہی۔ای ویز اور ری-ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو کم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی شرح پر ایک سال کی توسیع مل گئی۔ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز ( پی ایچ ای ویز) اور ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ایچ ای ویز) کو یہ سہولت حاصل نہ ہوسکی، کیونکہ ان کے لیے سیلز ٹیکس کی رعایت ختم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں اسمبلرز کو احساس ہوا کہ سی کے ڈی اور سی بی یو ڈیوٹی کے درمیان کم ہوتا ہوا فرق درآمد کنندگان کو مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اس صورتحال نے انہیں محتاط کردیا، جس کے نتیجے میں متعدد کمپنیوں نے پیداوار کم کردی اور قیمتوں کے اعلان میں تاخیر شروع کردی، خصوصاً پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں صنعتوں کی وزارت کی حمایت حاصل ہے، جس نے تجارت کی وزارت اور ماہرین اقتصادیات کی ایک ٹیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے مضبوط آزاد منڈی کے دلائل کی مزاحمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابل مؤقف یہ ہے کہ تقریباً 4 دہائیوں کے تحفظ کے باوجود جو صنعت مسابقت اور پیداواری حجم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو، اسے اسی سطح کی مسلسل معاونت نہیں ملنی چاہیے۔ گزشتہ 3 آٹو پالیسیوں میں سالانہ 500,000 گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن صنعت زیادہ سے زیادہ اس ہدف کے تقریباً دو تہائی تک ہی پہنچ سکی ہے۔ اس عمل کی قیمت صارفین اور قومی خزانے نے ادا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا فریق مؤقف اختیار کرتا ہے کہ مجموعی معاشی عوامل اور پیداواری سلسلے کے پچھلے مراحل کی ترقی نہ ہونے نے پیداواری حجم اور عالمی مسابقت حاصل کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ ان کے مطابق بلند شرح سود اور بھاری ٹیکسوں کے ادوار نے طلب کو محدود رکھا ہے۔ مزید یہ کہ پرزہ جات اور پیداوار اس وقت تک بڑے پیمانے پر نہیں ہوسکتے جب تک اسٹیل، شیشے اور دیگر شعبوں میں پچھلے مرحلے کی صنعتی پیداوار موجود نہ ہو، کیونکہ تمام خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت اپنے نقطۂ نظر سے درست ہوسکتی ہے، لیکن بڑی تصویر یہ ہے کہ وجہ جو بھی ہو، نتیجہ یہ ہے کہ صنعت کو تحفظ کے بغیر زندہ رہنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس صورتحال میں مستقبل قریب میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ تو پھر ایسے وقت میں مالی وسائل مسلسل اسی شعبے کی جانب منتقل کرنے کا کیا فائدہ، جبکہ یہی وسائل دیگر شعبوں کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ آٹو اسمبلرز اور پرزہ جات بنانے والے ادارے براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتے ہیں، جس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ 10 برس کے دوران نئے آنے والے اداروں نے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جو ضائع شدہ سرمایہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت بغیر کسی معاون اعداد و شمار کے دعویٰ کرتی ہے کہ وہ 1.8 سے 2.5 ملین ملازمتیں پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمیٹی کی تفصیلی غور و خوض کے بعد سامنے آنے والا اصل تخمینہ تقریباً 300,000 ملازمتوں کا معلوم ہوتا ہے، جو مجموعی منظرنامے میں نسبتاً کم تعداد ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزارت کے پاس صنعت کے مجموعی کردار کا کوئی باقاعدہ دستاویزی تخمینہ موجود نہیں، جس میں روزگار، مجموعی قومی پیداوار میں حصہ، زرمبادلہ کی بچت اور انجینئرنگ کے شعبے کی بنیاد مضبوط بنانے میں صنعت کا کردار شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آٹوموبائل لابیز تحفظ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ان کی بات سننے والے بااثر حلقے موجود ہیں جو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے طاقتور حلقے بھی برقی گاڑیوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ چنانچہ امکان ہے کہ اتفاقِ رائے سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور اس کے منفی مالیاتی اثرات کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرکے غیر مؤثر بنانے کے گرد قائم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت این ای ویز اور چھوٹی گاڑیوں کی حمایت کے لیے ایف ای ڈی میں مرحلہ وار اضافہ بھی کرسکتی ہے۔ دریں اثنا پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی موجودہ 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں ای وی پرزہ جات کی سی کے ڈی اسمبلی کو کچھ تحفظ بھی برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مرتبہ پالیسی وزیراعظم کے سامنے پیش کردی جائے اور وزیراعظم ہاؤس سے منظوری حاصل ہوجائے تو اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوگا، جو عمومی طور پر آٹوموبائلز اور خصوصاً برقی گاڑیوں کے لیے کسی بھی قسم کے تحفظ کے خلاف ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پالیسی کو حتمی شکل کیا دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آٹوموبائل اور پرزہ جات کی تیاری مجموعی قومی پیداوار کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے اس شعبے میں کسی بھی خلل کا وسیع تر معیشت پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ اس شعبے کی جانب سے پیدا کی جانے والی ہر ملازمت کی مالی قیمت ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں، جبکہ اس کا بڑا فائدہ آٹو اسمبلرز اور ان کے بین الاقوامی شراکت دار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کی مفاد پرستانہ معاشی سرگرمی بدستور جاری رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بالآخر مختلف حکومتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان آٹو پالیسی پر اتفاقِ رائے قائم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ سابقہ پالیسی 30 جون کو ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد سے صنعت اور صارفین کسی واضح سمت کے منتظر ہیں تاکہ اپنے فیصلے کرسکیں۔</strong></p>
<p>اختلاف صنعتوں اور تجارت کی وزارتوں کے درمیان ہے، کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ صنعتوں کی وزارت اسمبلرز کو تحفظ برقرار رکھ کر موجودہ صورتحال کا دفاع کر رہی ہے، جبکہ تجارت کی وزارت قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے مطابق اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔</p>
<p>امکان ہے کہ جلد وزیراعظم کو ایک بریفنگ دی جائے گی اور اس کے بعد اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔</p>
<p>کہانی کا آغاز مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یو) پر ڈیوٹی میں کمی سے ہوتا ہے۔ مختلف انجن سائز کے لیے کسٹمز ڈیوٹی 50 سے 60 فیصد کم کرکے 30 سے 40 فیصد کردی گئی ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ تاہم مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کے لیے ڈیوٹی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں اسمبلرز کو حاصل تحفظ جزوی طور پر ختم ہوگیا۔</p>
<p>اس معاملے کے بجٹ میں شامل ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ صنعت اپنے حصے کے لیے ہونے والی کشمکش میں اتنی مصروف تھی کہ اصل پالیسی بحث پسِ پشت چلی گئی۔ آئی سی ای پر توجہ مرکوز رکھنے والے کھلاڑی نئی توانائی کی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے معاونت کے مخالف تھے، جبکہ این ای وی شعبے کے اندر بھی برقی گاڑیوں (ای ویز) اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات کے معاملے پر شدید بحث جاری رہی۔ای ویز اور ری-ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو کم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی شرح پر ایک سال کی توسیع مل گئی۔ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز ( پی ایچ ای ویز) اور ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ایچ ای ویز) کو یہ سہولت حاصل نہ ہوسکی، کیونکہ ان کے لیے سیلز ٹیکس کی رعایت ختم ہوگئی۔</p>
<p>بعدازاں اسمبلرز کو احساس ہوا کہ سی کے ڈی اور سی بی یو ڈیوٹی کے درمیان کم ہوتا ہوا فرق درآمد کنندگان کو مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اس صورتحال نے انہیں محتاط کردیا، جس کے نتیجے میں متعدد کمپنیوں نے پیداوار کم کردی اور قیمتوں کے اعلان میں تاخیر شروع کردی، خصوصاً پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز کے حوالے سے۔</p>
<p>انہیں صنعتوں کی وزارت کی حمایت حاصل ہے، جس نے تجارت کی وزارت اور ماہرین اقتصادیات کی ایک ٹیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے مضبوط آزاد منڈی کے دلائل کی مزاحمت کی ہے۔</p>
<p>اس کے مقابل مؤقف یہ ہے کہ تقریباً 4 دہائیوں کے تحفظ کے باوجود جو صنعت مسابقت اور پیداواری حجم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو، اسے اسی سطح کی مسلسل معاونت نہیں ملنی چاہیے۔ گزشتہ 3 آٹو پالیسیوں میں سالانہ 500,000 گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن صنعت زیادہ سے زیادہ اس ہدف کے تقریباً دو تہائی تک ہی پہنچ سکی ہے۔ اس عمل کی قیمت صارفین اور قومی خزانے نے ادا کی ہے۔</p>
<p>دوسرا فریق مؤقف اختیار کرتا ہے کہ مجموعی معاشی عوامل اور پیداواری سلسلے کے پچھلے مراحل کی ترقی نہ ہونے نے پیداواری حجم اور عالمی مسابقت حاصل کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ ان کے مطابق بلند شرح سود اور بھاری ٹیکسوں کے ادوار نے طلب کو محدود رکھا ہے۔ مزید یہ کہ پرزہ جات اور پیداوار اس وقت تک بڑے پیمانے پر نہیں ہوسکتے جب تک اسٹیل، شیشے اور دیگر شعبوں میں پچھلے مرحلے کی صنعتی پیداوار موجود نہ ہو، کیونکہ تمام خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>صنعت اپنے نقطۂ نظر سے درست ہوسکتی ہے، لیکن بڑی تصویر یہ ہے کہ وجہ جو بھی ہو، نتیجہ یہ ہے کہ صنعت کو تحفظ کے بغیر زندہ رہنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔</p>
<p>اور اس صورتحال میں مستقبل قریب میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ تو پھر ایسے وقت میں مالی وسائل مسلسل اسی شعبے کی جانب منتقل کرنے کا کیا فائدہ، جبکہ یہی وسائل دیگر شعبوں کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں؟</p>
<p>تاہم موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ آٹو اسمبلرز اور پرزہ جات بنانے والے ادارے براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتے ہیں، جس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ 10 برس کے دوران نئے آنے والے اداروں نے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جو ضائع شدہ سرمایہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>صنعت بغیر کسی معاون اعداد و شمار کے دعویٰ کرتی ہے کہ وہ 1.8 سے 2.5 ملین ملازمتیں پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم کمیٹی کی تفصیلی غور و خوض کے بعد سامنے آنے والا اصل تخمینہ تقریباً 300,000 ملازمتوں کا معلوم ہوتا ہے، جو مجموعی منظرنامے میں نسبتاً کم تعداد ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزارت کے پاس صنعت کے مجموعی کردار کا کوئی باقاعدہ دستاویزی تخمینہ موجود نہیں، جس میں روزگار، مجموعی قومی پیداوار میں حصہ، زرمبادلہ کی بچت اور انجینئرنگ کے شعبے کی بنیاد مضبوط بنانے میں صنعت کا کردار شامل ہو۔</p>
<p>اس کے باوجود آٹوموبائل لابیز تحفظ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ان کی بات سننے والے بااثر حلقے موجود ہیں جو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے طاقتور حلقے بھی برقی گاڑیوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ چنانچہ امکان ہے کہ اتفاقِ رائے سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور اس کے منفی مالیاتی اثرات کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرکے غیر مؤثر بنانے کے گرد قائم ہوگا۔</p>
<p>حکومت این ای ویز اور چھوٹی گاڑیوں کی حمایت کے لیے ایف ای ڈی میں مرحلہ وار اضافہ بھی کرسکتی ہے۔ دریں اثنا پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی موجودہ 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں ای وی پرزہ جات کی سی کے ڈی اسمبلی کو کچھ تحفظ بھی برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>ایک مرتبہ پالیسی وزیراعظم کے سامنے پیش کردی جائے اور وزیراعظم ہاؤس سے منظوری حاصل ہوجائے تو اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوگا، جو عمومی طور پر آٹوموبائلز اور خصوصاً برقی گاڑیوں کے لیے کسی بھی قسم کے تحفظ کے خلاف ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پالیسی کو حتمی شکل کیا دی جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آٹوموبائل اور پرزہ جات کی تیاری مجموعی قومی پیداوار کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے اس شعبے میں کسی بھی خلل کا وسیع تر معیشت پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ اس شعبے کی جانب سے پیدا کی جانے والی ہر ملازمت کی مالی قیمت ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں، جبکہ اس کا بڑا فائدہ آٹو اسمبلرز اور ان کے بین الاقوامی شراکت دار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کی مفاد پرستانہ معاشی سرگرمی بدستور جاری رہ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290163</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Aug 2026 10:10:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/19100721a931b36.webp" type="image/webp" medium="image" height="716" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/19100721a931b36.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
