<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 13:06:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 13:06:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز پر غیر یقینی کا سایہ، معاشی بحالی خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز تکنیکی طور پر تو کھلی ہوئی ہے، لیکن جہازوں کی آمدورفت نہایت محدود ہے۔ اس لیے عملی طور پر اسے بند ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران دونوں جانب سے ہونے والی بمباری نے اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تسلسل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ان ممالک پر جو ادائیگیوں کے توازن کے مسائل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے اور ہمارا مستقبل بھی غیر یقینی سے دوچار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ بے چینی کا شکار ہے، جبکہ شرح سود میں کمی کی غیر حقیقی توقعات بھی مکمل طور پر دم توڑ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان جولائی کے اختتام پر متوقع مانیٹری پالیسی اجلاس میں غالباً موجودہ شرح سود برقرار رکھے گا۔ زیادہ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہوگی کہ دسمبر تک انتظار اور مشاہدے کی پالیسی اپنائی جائے، کیونکہ جنگ کے خدشات مکمل طور پر ختم ہونے تک غیر یقینی کی تلوار ہمارے سروں پر لٹکتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اور اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار گرتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر جیسے بہتر معاشی اشاریوں پر خوش تھے، لیکن اس تمام خوشی پر پانی پھیرنے والا عنصر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ثابت ہوا۔ چند ہی دنوں میں تیل کی قیمتیں اپنی کم ترین سطح سے 15 سے 20 فیصد بڑھ گئیں اور اب خام تیل تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ قیمتیں 90 ڈالر سے نیچے رہیں گی، جبکہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ یہ 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لیے 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر کی ہر قیمت باعثِ تشویش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب جنگ شروع ہوئی تو چند ممالک نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے، جبکہ چین نے جنگ سے پہلے ہی بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی خریداری کم کر دی۔ اب ان اسٹریٹجک ذخائر کی سطح کم ہو چکی ہے اور انہیں مزید حفاظتی بفر کے طور پر استعمال کرنا آسان نہیں رہا۔ بلکہ اب کئی ممالک نسبتاً کم قیمتوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ چین مزید کتنی مدت تک تیل کی کم خریداری جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کا امکان خام تیل کی مارکیٹ کے لیے مثبت نہیں۔ پاکستان کے پاس اس صورتِ حال میں انتظار کے سوا زیادہ آپشن نہیں۔ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہماری سفارتی کوششیں مفاہمتی یادداشت تک تو کامیاب رہیں، لیکن آئندہ ہمارا کردار شاید پہلے جیسا نہ رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو جیو پولیٹیکل اہمیت پاکستان نے حاصل کی، اسے جیو پولیٹیکل فائدے میں کیسے تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت ہر طرف مشکلات ہی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کو پہلے ہی اس بات کا خدشہ تھا کیونکہ مفاہمتی یادداشت کسی حد تک ایران کے حق میں جھکی ہوئی محسوس ہوتی تھی، جبکہ حقیقت پسند لوگ یہ امکان بھی دیکھ رہے تھے کہ امریکا اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ شاید اس صورتِ حال کو مزید 60 دن کی جنگ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت جو بھی ہو، صورتِ حال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور غیر یقینی برقرار ہے۔ اگر پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بچار کی جا رہی ہے تو اسے فی الحال روک دینا چاہیے۔ اس وقت اولین ترجیح معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو اکتوبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس سے یہ اطمینان ضرور حاصل ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے مالی بحران کا خطرہ نہیں اور روپے کی پوزیشن نسبتاً مستحکم ہے، اگرچہ حقیقی مؤثر شرح تبادلہ میں اضافے کے باعث روپے کی قدر میں کچھ کمی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہی ہے کہ غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔ اس لیے تمام تر توجہ معاشی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہنی چاہیے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں اسی وقت سوچنا چاہیے جب بیرونی حالات زیادہ سازگار ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز تکنیکی طور پر تو کھلی ہوئی ہے، لیکن جہازوں کی آمدورفت نہایت محدود ہے۔ اس لیے عملی طور پر اسے بند ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران دونوں جانب سے ہونے والی بمباری نے اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تسلسل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>اس صورتِ حال کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ان ممالک پر جو ادائیگیوں کے توازن کے مسائل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے اور ہمارا مستقبل بھی غیر یقینی سے دوچار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ بے چینی کا شکار ہے، جبکہ شرح سود میں کمی کی غیر حقیقی توقعات بھی مکمل طور پر دم توڑ چکی ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان جولائی کے اختتام پر متوقع مانیٹری پالیسی اجلاس میں غالباً موجودہ شرح سود برقرار رکھے گا۔ زیادہ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہوگی کہ دسمبر تک انتظار اور مشاہدے کی پالیسی اپنائی جائے، کیونکہ جنگ کے خدشات مکمل طور پر ختم ہونے تک غیر یقینی کی تلوار ہمارے سروں پر لٹکتی رہے گی۔</p>
<p>حکومت اور اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار گرتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر جیسے بہتر معاشی اشاریوں پر خوش تھے، لیکن اس تمام خوشی پر پانی پھیرنے والا عنصر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ثابت ہوا۔ چند ہی دنوں میں تیل کی قیمتیں اپنی کم ترین سطح سے 15 سے 20 فیصد بڑھ گئیں اور اب خام تیل تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ قیمتیں 90 ڈالر سے نیچے رہیں گی، جبکہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ یہ 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لیے 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر کی ہر قیمت باعثِ تشویش ہے۔</p>
<p>جب جنگ شروع ہوئی تو چند ممالک نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے، جبکہ چین نے جنگ سے پہلے ہی بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی خریداری کم کر دی۔ اب ان اسٹریٹجک ذخائر کی سطح کم ہو چکی ہے اور انہیں مزید حفاظتی بفر کے طور پر استعمال کرنا آسان نہیں رہا۔ بلکہ اب کئی ممالک نسبتاً کم قیمتوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ چین مزید کتنی مدت تک تیل کی کم خریداری جاری رکھے گا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کا امکان خام تیل کی مارکیٹ کے لیے مثبت نہیں۔ پاکستان کے پاس اس صورتِ حال میں انتظار کے سوا زیادہ آپشن نہیں۔ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہماری سفارتی کوششیں مفاہمتی یادداشت تک تو کامیاب رہیں، لیکن آئندہ ہمارا کردار شاید پہلے جیسا نہ رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو جیو پولیٹیکل اہمیت پاکستان نے حاصل کی، اسے جیو پولیٹیکل فائدے میں کیسے تبدیل کیا جائے۔</p>
<p>فی الوقت ہر طرف مشکلات ہی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کو پہلے ہی اس بات کا خدشہ تھا کیونکہ مفاہمتی یادداشت کسی حد تک ایران کے حق میں جھکی ہوئی محسوس ہوتی تھی، جبکہ حقیقت پسند لوگ یہ امکان بھی دیکھ رہے تھے کہ امریکا اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ شاید اس صورتِ حال کو مزید 60 دن کی جنگ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔</p>
<p>حقیقت جو بھی ہو، صورتِ حال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور غیر یقینی برقرار ہے۔ اگر پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بچار کی جا رہی ہے تو اسے فی الحال روک دینا چاہیے۔ اس وقت اولین ترجیح معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہونی چاہیے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو اکتوبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس سے یہ اطمینان ضرور حاصل ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے مالی بحران کا خطرہ نہیں اور روپے کی پوزیشن نسبتاً مستحکم ہے، اگرچہ حقیقی مؤثر شرح تبادلہ میں اضافے کے باعث روپے کی قدر میں کچھ کمی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہی ہے کہ غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔ اس لیے تمام تر توجہ معاشی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہنی چاہیے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں اسی وقت سوچنا چاہیے جب بیرونی حالات زیادہ سازگار ہو جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288728</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151026325d6811a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151026325d6811a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی منڈی کا عارضی سکون</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288686/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک مختصر لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے بدترین مرحلہ گزر چکا ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی تھی، پھنسے ہوئے آئل ٹینکر دوبارہ سفر شروع کر رہے تھے، اور تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کی جانب واپس آ رہی تھیں۔ جون کے اختتام تک مارکیٹ کی توجہ قلت پر نہیں رہی تھی۔ اس کے بجائے، تاجر اس خدشے میں مبتلا ہونے لگے تھے کہ شاید ایک ہی وقت میں بہت زیادہ تیل مارکیٹ میں آ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل مدت تک سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات فوری طور پر کم ہو رہے تھے۔ 29 جون کو برینٹ خام تیل تقریباً 73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو جنگ کے دوران بننے والی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی کے بعد کی قیمت تھی۔ خلیجی ممالک کی پیداوار بحال ہو رہی تھی، کارگو دوبارہ مارکیٹ میں آ رہے تھے، اور خریدار پہلے ہی متبادل سپلائی کا انتظام کر چکے تھے۔ جولائی کے آغاز میں قیمتوں میں مزید کمی آئی کیونکہ مارکیٹ کی توجہ بڑھتی ہوئی سپلائی اور کمزور طلب کی جانب منتقل ہو گئی۔ تیل کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کے بجائے، تیل کی فراوانی  کا امکان زیادہ قابلِ یقین نظر آنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر جغرافیائی سیاست نے دوبارہ منظر تبدیل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں، اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں نے مارکیٹ کو یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز اگرچہ کھلی ہے، لیکن اب بھی محفوظ نہیں۔ برینٹ خام تیل تیزی سے دوبارہ 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جو 29 جون کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اچانک تبدیلی طلب میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کے باعث رونما ہوئی۔ سپلائی میں ایک اور ممکنہ رکاوٹ کا خطرہ دوبارہ پیدا ہو گیا، اور تاجروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کا وہ اضافی پریمیم دوبارہ قیمتوں میں شامل کر دیا جو کچھ ہی عرصہ پہلے ختم ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ اب اس سادہ سوال سے نہیں نمٹ رہی کہ آیا آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند۔ اب صورتحال ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئل ٹینکر سفر کر رہے ہیں، لیکن جہازوں کے مالکان اب بھی محتاط ہیں۔ انشورنس اور سکیورٹی کے اخراجات بلند ہیں، جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نقل و حمل اب بھی کمزور ہے۔ تیل آبنائے ہرمز سے گزر تو سکتا ہے، لیکن اس رفتار، اعتماد اور پیش گوئی کے ساتھ نہیں جس طرح تنازع سے پہلے گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی کی بحالی بھی یکساں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک میں خام تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے فوری قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ تاہم خام تیل پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ خطے کی ریفائنریاں مکمل بحالی میں زیادہ وقت لے رہی ہیں، جبکہ ڈیزل، جیٹ فیول، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اب بھی معمول سے کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں نسبتاً آرام دہ سطح پر دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن ریفائن شدہ ایندھن کی عالمی منڈی اب بھی دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ وہ صرف خام تیل کی عالمی قیمتوں سے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ریفائننگ مارجن بلند رہیں تو خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا مطلب لازمی طور پر عوام کو پمپ پر اتنا ہی ریلیف ملنا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے تیل کی بڑی فراوانی کی جو توقع پہلے پیدا ہو گئی تھی، وہ اب اتنی یقینی نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر خلیجی ممالک کی پیداوار مسلسل بحال ہوتی رہی، آبنائے ہرمز کھلی رہی، اور عالمی طلب کمزور رہی، تو پھر تیل کی فراوانی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نتیجے کا انحصار خطے کے استحکام پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر آئل ٹینکر پر حملہ، ہر فوجی کارروائی، یا آبنائے ہرمز کے بارے میں ہر نئی دھمکی معمول کی صورتحال کی واپسی میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ حتیٰ کہ جب تیل دستیاب بھی ہو، تب بھی اگر خریدار اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں کہ آیا یہ محفوظ طریقے سے ان تک پہنچ سکے گا یا نہیں، تو قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال اتنی اطمینان بخش نہیں رہی جتنی جون کے اختتام پر دکھائی دے رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی کم قیمتوں نے درآمدی بل، مہنگائی اور مقامی ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف کی امید پیدا کی تھی۔ اگر برینٹ خام تیل کی قیمت مسلسل 70 ڈالر فی بیرل کے قریب رہتی تو یہ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی جب ملک کے بیرونی مالیاتی حالات اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قلت شاید کم ہو گئی ہو، لیکن استحکام ابھی واپس نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ تیل دستیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ تیل محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ بھی سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک مختصر لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے بدترین مرحلہ گزر چکا ہو۔</strong></p>
<p>آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی تھی، پھنسے ہوئے آئل ٹینکر دوبارہ سفر شروع کر رہے تھے، اور تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کی جانب واپس آ رہی تھیں۔ جون کے اختتام تک مارکیٹ کی توجہ قلت پر نہیں رہی تھی۔ اس کے بجائے، تاجر اس خدشے میں مبتلا ہونے لگے تھے کہ شاید ایک ہی وقت میں بہت زیادہ تیل مارکیٹ میں آ جائے۔</p>
<p>لیکن یہ سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔</p>
<p>طویل مدت تک سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات فوری طور پر کم ہو رہے تھے۔ 29 جون کو برینٹ خام تیل تقریباً 73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو جنگ کے دوران بننے والی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی کے بعد کی قیمت تھی۔ خلیجی ممالک کی پیداوار بحال ہو رہی تھی، کارگو دوبارہ مارکیٹ میں آ رہے تھے، اور خریدار پہلے ہی متبادل سپلائی کا انتظام کر چکے تھے۔ جولائی کے آغاز میں قیمتوں میں مزید کمی آئی کیونکہ مارکیٹ کی توجہ بڑھتی ہوئی سپلائی اور کمزور طلب کی جانب منتقل ہو گئی۔ تیل کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کے بجائے، تیل کی فراوانی  کا امکان زیادہ قابلِ یقین نظر آنے لگا۔</p>
<p>پھر جغرافیائی سیاست نے دوبارہ منظر تبدیل کردیا۔</p>
<p>تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں، اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں نے مارکیٹ کو یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز اگرچہ کھلی ہے، لیکن اب بھی محفوظ نہیں۔ برینٹ خام تیل تیزی سے دوبارہ 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جو 29 جون کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد اضافہ تھا۔</p>
<p>یہ اچانک تبدیلی طلب میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کے باعث رونما ہوئی۔ سپلائی میں ایک اور ممکنہ رکاوٹ کا خطرہ دوبارہ پیدا ہو گیا، اور تاجروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کا وہ اضافی پریمیم دوبارہ قیمتوں میں شامل کر دیا جو کچھ ہی عرصہ پہلے ختم ہو گیا تھا۔</p>
<p>مارکیٹ اب اس سادہ سوال سے نہیں نمٹ رہی کہ آیا آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند۔ اب صورتحال ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔</p>
<p>آئل ٹینکر سفر کر رہے ہیں، لیکن جہازوں کے مالکان اب بھی محتاط ہیں۔ انشورنس اور سکیورٹی کے اخراجات بلند ہیں، جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نقل و حمل اب بھی کمزور ہے۔ تیل آبنائے ہرمز سے گزر تو سکتا ہے، لیکن اس رفتار، اعتماد اور پیش گوئی کے ساتھ نہیں جس طرح تنازع سے پہلے گزرتا تھا۔</p>
<p>سپلائی کی بحالی بھی یکساں نہیں ہے۔</p>
<p>خلیجی ممالک میں خام تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے فوری قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ تاہم خام تیل پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ خطے کی ریفائنریاں مکمل بحالی میں زیادہ وقت لے رہی ہیں، جبکہ ڈیزل، جیٹ فیول، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اب بھی معمول سے کم ہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں نسبتاً آرام دہ سطح پر دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن ریفائن شدہ ایندھن کی عالمی منڈی اب بھی دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ وہ صرف خام تیل کی عالمی قیمتوں سے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ریفائننگ مارجن بلند رہیں تو خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا مطلب لازمی طور پر عوام کو پمپ پر اتنا ہی ریلیف ملنا نہیں ہوتا۔</p>
<p>اسی وجہ سے تیل کی بڑی فراوانی کی جو توقع پہلے پیدا ہو گئی تھی، وہ اب اتنی یقینی نہیں رہی۔</p>
<p>اگر خلیجی ممالک کی پیداوار مسلسل بحال ہوتی رہی، آبنائے ہرمز کھلی رہی، اور عالمی طلب کمزور رہی، تو پھر تیل کی فراوانی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نتیجے کا انحصار خطے کے استحکام پر ہے۔</p>
<p>ہر آئل ٹینکر پر حملہ، ہر فوجی کارروائی، یا آبنائے ہرمز کے بارے میں ہر نئی دھمکی معمول کی صورتحال کی واپسی میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ حتیٰ کہ جب تیل دستیاب بھی ہو، تب بھی اگر خریدار اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں کہ آیا یہ محفوظ طریقے سے ان تک پہنچ سکے گا یا نہیں، تو قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال اتنی اطمینان بخش نہیں رہی جتنی جون کے اختتام پر دکھائی دے رہی تھی۔</p>
<p>تیل کی کم قیمتوں نے درآمدی بل، مہنگائی اور مقامی ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف کی امید پیدا کی تھی۔ اگر برینٹ خام تیل کی قیمت مسلسل 70 ڈالر فی بیرل کے قریب رہتی تو یہ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی جب ملک کے بیرونی مالیاتی حالات اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>تیل کی قلت شاید کم ہو گئی ہو، لیکن استحکام ابھی واپس نہیں آیا۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ تیل دستیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ تیل محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ بھی سکتا ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288686</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 10:33:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14103153e7cb51f.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14103153e7cb51f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر، وقتی ریلیف یا دیرپا حل؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288634/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی نے مالی سال 2025-26 کا اختتام ایک مضبوط انداز میں کیا۔ کارکنوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ جون میں موصول ہونے والی ترسیلات 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو عید کے باعث مئی میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے کم تھیں، لیکن تاریخی معیار کے مطابق اب بھی خاصی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ ترسیلات زر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بیرونی کھاتوں  کا سب سے بڑا سہارا فراہم کیا۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر کی مالیت ملک کے اشیا اور خدمات کے خالص تجارتی خسارے  سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ یہ صورتحال مالی سال 2021-22 سے بالکل مختلف ہے، جب تجارتی خسارہ ترسیلات زر کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی رجحان اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ترسیلاتِ زر مالی سال 2016-17 کے 19.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں ان کا حجم دوگنا سے زیادہ ہو گیا۔ اگرچہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم ہو کر 27.3 ارب ڈالر رہ گئی تھیں، تاہم بعد ازاں ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور مالی سال 2025-26 میں ایک نئی بلند ترین سطح قائم ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک بدستور ترسیلات زر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے زیادہ 9.78 ارب ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 8.81 ارب ڈالر آئے۔ برطانیہ سے 6.33 ارب ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 5.23 ارب ڈالر، دیگر خلیجی تعاون کونسل  کے ممالک سے 3.93 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے 3.62 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سب سے نمایاں اضافہ متحدہ عرب امارات سے دیکھنے میں آیا، جہاں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 978 ملین ڈالر زیادہ موصول ہوئے۔ اس کے بعد یورپی یونین کے ممالک، سعودی عرب اور برطانیہ کا نمبر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اصل تصویر کو سمجھنے کے لیے باریک نکات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مئی میں ریکارڈ 4.25 ارب ڈالر کی ترسیلات بڑی حد تک عید کی وجہ سے بروقت بھیجی گئی رقوم کا نتیجہ تھیں، اس لیے اسے مستقبل کے لیے ہر ماہ آنے والی معمول کی سطح نہیں سمجھنا چاہیے۔ جون میں ترسیلات میں آنے والی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایک حد تک معمول کی سطح پر واپسی متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ امکان بھی موجود ہے کہ حالیہ اضافے کا ایک حصہ، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم، صرف ماہانہ آمدنی کی ترسیل نہیں بلکہ بیرونِ ملک جمع شدہ بچتوں یا اثاثوں کو پاکستان منتقل کرنے کا نتیجہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جولائی سے ترسیلات بھیجنے والوں اور انہیں وصول کرنے والے خاندانوں کے لیے ترسیلات بدستور مفت رہیں گی، تاہم اب حکومت اس سہولت کی لاگت برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے بجائے بینکوں کو یہ اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جو ایک مناسب فیصلہ ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر کے بہاؤ سے انہیں پہلے ہی مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا بینک ترسیلات کے نظام کو تیز، آسان اور مسابقتی برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے اس عمل کو مہنگا یا پیچیدہ بنا دیا تو ترسیلات کا ایک حصہ تیزی سے دوبارہ ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی حقیقت اب بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے سب سے مضبوط سہارا ضرور ہیں، لیکن وہ ترقی کا مستقل ماڈل نہیں بن سکتیں۔ یہ زرمبادلہ کے ذخائر، گھریلو آمدنی اور روپے کو سہارا دیتی ہیں، مگر یہ کمزور برآمدات، کم سرمایہ کاری اور محدود گھریلو بچتوں کی کمی کو ہمیشہ پورا نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی قوت کا اظہار کیا۔ مالی سال 2026-27 پاکستان کے ترسیلات زر کے نظام کی مضبوطی کا امتحان ہوگا۔ ریکارڈ ترسیلات نے ملک کو وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ان ترسیلات کو رسمی ذرائع سے برقرار رکھا جائے، ان کے نظام کو قابلِ اعتماد بنایا جائے اور انہیں صرف کھپت کے بجائے پیداواری سرمایہ  میں تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی نے مالی سال 2025-26 کا اختتام ایک مضبوط انداز میں کیا۔ کارکنوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ جون میں موصول ہونے والی ترسیلات 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو عید کے باعث مئی میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے کم تھیں، لیکن تاریخی معیار کے مطابق اب بھی خاصی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ ترسیلات زر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بیرونی کھاتوں  کا سب سے بڑا سہارا فراہم کیا۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر کی مالیت ملک کے اشیا اور خدمات کے خالص تجارتی خسارے  سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ یہ صورتحال مالی سال 2021-22 سے بالکل مختلف ہے، جب تجارتی خسارہ ترسیلات زر کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p>طویل المدتی رجحان اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ترسیلاتِ زر مالی سال 2016-17 کے 19.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں ان کا حجم دوگنا سے زیادہ ہو گیا۔ اگرچہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم ہو کر 27.3 ارب ڈالر رہ گئی تھیں، تاہم بعد ازاں ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور مالی سال 2025-26 میں ایک نئی بلند ترین سطح قائم ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خلیجی ممالک بدستور ترسیلات زر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے زیادہ 9.78 ارب ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 8.81 ارب ڈالر آئے۔ برطانیہ سے 6.33 ارب ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 5.23 ارب ڈالر، دیگر خلیجی تعاون کونسل  کے ممالک سے 3.93 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے 3.62 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔</p>
<p>ان میں سب سے نمایاں اضافہ متحدہ عرب امارات سے دیکھنے میں آیا، جہاں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 978 ملین ڈالر زیادہ موصول ہوئے۔ اس کے بعد یورپی یونین کے ممالک، سعودی عرب اور برطانیہ کا نمبر رہا۔</p>
<p>تاہم، اصل تصویر کو سمجھنے کے لیے باریک نکات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مئی میں ریکارڈ 4.25 ارب ڈالر کی ترسیلات بڑی حد تک عید کی وجہ سے بروقت بھیجی گئی رقوم کا نتیجہ تھیں، اس لیے اسے مستقبل کے لیے ہر ماہ آنے والی معمول کی سطح نہیں سمجھنا چاہیے۔ جون میں ترسیلات میں آنے والی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایک حد تک معمول کی سطح پر واپسی متوقع تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ امکان بھی موجود ہے کہ حالیہ اضافے کا ایک حصہ، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم، صرف ماہانہ آمدنی کی ترسیل نہیں بلکہ بیرونِ ملک جمع شدہ بچتوں یا اثاثوں کو پاکستان منتقل کرنے کا نتیجہ ہو۔</p>
<p>یکم جولائی سے ترسیلات بھیجنے والوں اور انہیں وصول کرنے والے خاندانوں کے لیے ترسیلات بدستور مفت رہیں گی، تاہم اب حکومت اس سہولت کی لاگت برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے بجائے بینکوں کو یہ اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جو ایک مناسب فیصلہ ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر کے بہاؤ سے انہیں پہلے ہی مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا بینک ترسیلات کے نظام کو تیز، آسان اور مسابقتی برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے اس عمل کو مہنگا یا پیچیدہ بنا دیا تو ترسیلات کا ایک حصہ تیزی سے دوبارہ ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>بڑی حقیقت اب بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے سب سے مضبوط سہارا ضرور ہیں، لیکن وہ ترقی کا مستقل ماڈل نہیں بن سکتیں۔ یہ زرمبادلہ کے ذخائر، گھریلو آمدنی اور روپے کو سہارا دیتی ہیں، مگر یہ کمزور برآمدات، کم سرمایہ کاری اور محدود گھریلو بچتوں کی کمی کو ہمیشہ پورا نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی قوت کا اظہار کیا۔ مالی سال 2026-27 پاکستان کے ترسیلات زر کے نظام کی مضبوطی کا امتحان ہوگا۔ ریکارڈ ترسیلات نے ملک کو وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ان ترسیلات کو رسمی ذرائع سے برقرار رکھا جائے، ان کے نظام کو قابلِ اعتماد بنایا جائے اور انہیں صرف کھپت کے بجائے پیداواری سرمایہ  میں تبدیل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288634</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:25:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13101952ee9b3f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13101952ee9b3f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288550/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ای ایم سی او) پاکستان میں 1954 میں ایک جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے طور پر قائم کی گئی۔ ابتدا میں کمپنی کا نام الیکٹرک ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ تھا۔ 1983 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا اور اسی سال اس کا نام بدل کر ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار ہائی اور لو ٹینشن برقی پورسلین انسولیٹرز اور سوئچ گیئر کی تیاری اور فروخت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" href="#حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ کے 3 کروڑ 50 لاکھ جاری شدہ حصص تھے، جو 761 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی میں سب سے بڑا حصہ مقامی عام سرمایہ کاروں کا ہے، جو 54.54 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ان کے اہلِ خانہ کی ملکیت 29.65 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منسلک کمپنیوں، اداروں اور متعلقہ فریقوں کے پاس کمپنی کے 15 فیصد حصص ہیں، جبکہ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تاریخی-مالیاتی-کارکردگی-2021-تا-2025" href="#تاریخی-مالیاتی-کارکردگی-2021-تا-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تاریخی مالیاتی کارکردگی (2021 تا 2025)&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایمکو کی فروخت میں 2024 تک مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم 2025 میں اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، کمپنی کا خالص منافع 2024 اور 2025 میں کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے منافع کے مارجن میں 2021 کے دوران بہتری آئی، تاہم 2022 میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2023 میں کمپنی نے مجموعی منافع (گراس مارجن) اور آپریٹنگ مارجن میں بہتری دکھائی، جبکہ خالص منافع کا مارجن تقریباً گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔ اس کے بعد 2024 اور 2025 میں منافع کے مارجن دوبارہ سکڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مالیاتی رجحانات کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، نظام میں موجود خامیوں کے خاتمے اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے کی کوششوں کے باعث 2021 میں ایمکو کی فروخت میں سال بہ سال 30 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2.077 ارب روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے 2021 میں 4794 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ تھے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 96 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم برآمدی فروخت میں 2021 کے دوران کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.21 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آر ایل این جی کی بلند قیمتیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروخت کے حجم میں نمایاں اضافے اور بہتر قیمتوں کے باعث 2021 میں مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 38.94 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گراس مارجن گزشتہ سال کے 23.75 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 25.40 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں انتظامی اخراجات میں 10.97 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ افرادی قوت میں اضافہ تھا۔ ملازمین کی تعداد 2020 کے 455 سے بڑھ کر 2021 میں 462 ہو گئی، جس کے نتیجے میں تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مارکیٹنگ اخراجات میں 4.64 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ مال برداری کے بڑھتے اخراجات اور سال کے دوران فروخت کے فروغ کے لیے چلائی گئی بھرپور مہمات تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف، ای سی ایل اور متروک ذخائر کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 394.46 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافے کے باعث دیگر آمدن میں 515.25 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 2021 میں سالانہ بنیاد پر 41 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ مارجن 2020 کے 16.30 فیصد سے بڑھ کر 17.70 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث 2021 میں مالیاتی اخراجات میں 10.12 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 71.27 فیصد بڑھ کر 201.93 ملین روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران خالص منافع کا مارجن 9.72 فیصد جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 5.77 روپے رہی، جبکہ 2020 میں ای پی ایس 3.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 7.38 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی و معاشی بے یقینی، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ڈسکاؤنٹ ریٹ اور توانائی کی لاگت میں غیر معمولی اضافے جیسے متعدد چیلنجز کے باوجود 2022 میں بھی ایمکو کی ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 24.50 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2.586 ارب روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں ایمکو نے 5288 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کا استعمال 106 فیصد تک پہنچ گیا۔ ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی، جس سے کمپنی کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سب اسٹیشن آلات کے شعبے میں نئی مصنوعات متعارف کرانے سے بھی فروخت کو تقویت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں آر ایل این جی اور بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.42 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی نے شمسی توانائی پر مبنی قابلِ تجدید توانائی منصوبے میں بروقت سرمایہ کاری کر کے اس لاگت میں اضافے کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 15.90 فیصد بڑھا، البتہ گراس مارجن معمولی کمی کے ساتھ 23.63 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی اخراجات میں 17.58 فیصد اضافہ زیادہ تنخواہوں کے اخراجات کی وجہ سے ہوا، جبکہ مارکیٹنگ اخراجات میں 61.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مال برداری اور سفری اخراجات میں اضافہ، فروخت کے حجم میں وسعت اور سال بھر جاری رہنے والی اشتہاری و تشہیری مہمات تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں کے باعث دیگر اخراجات میں بھی 42.92 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں صرف 3.79 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن کم ہو کر 14.74 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ جاتی منصوبوں کے لیے زیادہ قرض لینے اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 18 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود خالص منافع 7.42 فیصد اضافے کے ساتھ 216.902 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ خالص منافع کا مارجن 8.4 فیصد اور فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.20 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 37 فیصد بڑھ کر 3.546 ارب روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سال کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت 5000 ٹن سے بڑھا کر 6500 ٹن انسولیٹرز سالانہ کر دی، جسے خصوصی طور پر برآمدی منڈی کے لیے مختص کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداوار اور فروخت کا حجم محدود رہا۔ 2023 میں کمپنی نے 5032 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.8 فیصد کم تھے، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 77.42 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود فروخت میں اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں میں اضافے اور کمپنی کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ہائی وولٹیج سوئچ گیئر کی مضبوط فروخت کے باعث ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی مؤثر لاگت پر قابو پانے کی حکمت عملی اور شمسی توانائی کے منصوبے کی بدولت فروختی لاگت میں صرف 30.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 57.78 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور گراس مارجن بڑھ کر 27.20 فیصد ہو گیا، جو زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹنگ اخراجات میں 29.38 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے باعث مال برداری کے بڑھتے اخراجات تھے۔ مہنگائی کے دباؤ نے تنخواہوں کے اخراجات بھی بڑھا دیے، حالانکہ ملازمین کی تعداد 2022 کے 448 سے کم ہو کر 2023 میں 429 رہ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 75.22 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 18.84 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے اور بی ایم آر منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 140.10 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں ایمکو کا گیئرنگ ریشو 2022 کے 23.81 فیصد سے بڑھ کر 35.75 فیصد ہو گیا۔ اس کے ساتھ ٹیکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے خالص منافع کی رفتار کو محدود کر دیا، جس کے نتیجے میں 2023 میں خالص منافع میں سالانہ بنیاد پر 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 292.92 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 8.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.26 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں کمپنی کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 18.25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.192 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات قیمتوں میں اضافہ اور کمپنی کی ہائی وولٹیج سوئچ گیئر مصنوعات کو مارکیٹ میں ملنے والا حوصلہ افزا ردِعمل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی مقامی مارکیٹ میں کمزور طلب کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنی مصنوعات اور جغرافیائی منڈیوں میں تنوع لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سال کے دوران پیداواری حجم میں 34.40 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3300 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جس کے باعث پیداواری صلاحیت کا استعمال کم ہو کر 50.77 فیصد تک محدود رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی ایک بڑی وجہ نئی مشینری اور آلات کی تنصیب تھی، جس سے کمپنی کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم یہ اقدام کمپنی کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ مستقبل میں سوئچ گیئر مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداوار میں کمی کی ایک اور وجہ نقدی کے بہاؤ کے مسائل تھے، کیونکہ کمپنی تیار شدہ مصنوعات کا ذخیرہ فروخت کرنے اور اپنی فروخت کا تناسب زیادہ منافع بخش سوئچ گیئر مصنوعات کی جانب منتقل کرنے میں مشکلات کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتے ہوئے لاگتی دباؤ کے باعث گراس مارجن معمولی کم ہو کر 26.80 فیصد رہ گیا، اگرچہ مجموعی منافع مالیت کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 16.52 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹنگ اخراجات میں 34.71 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں برآمدات میں اضافے کے باعث مال برداری کے زیادہ اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ایکسل لوڈ ضوابط کا نفاذ اور مجاز سرمایہ بڑھانے پر ایس ای سی پی کی یکمشت فیس شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 12.31 فیصد اضافہ ہوا، تاہم آپریٹنگ مارجن معمولی کم ہو کر 17.89 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے، بی ایم آر منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے طویل مدتی قرضوں میں اضافے اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قلیل مدتی قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 58.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں ایمکو کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 25.24 فیصد کم ہو کر 218.998 ملین روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.26 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 5.22 فیصد رہا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں کمپنی کی خالص فروخت میں 13.96 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3.607 ارب روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے مالیاتی اخراجات میں سختی کے باعث انسولیٹرز کی طلب میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مقامی فروخت میں 21.82 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 3.713 ارب روپے تک محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی طلب میں کمی کے ازالے کے لیے کمپنی نے اپنی توجہ بالخصوص امریکی برآمدی منڈی پر مرکوز کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی نے ایمکو کے لیے امریکی منڈی میں رسائی کا ایک اہم موقع پیدا کیا، جس کے باعث کمپنی کی برآمدی فروخت 174 فیصد اضافے کے ساتھ 462.798 ملین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں پیداواری حجم مزید 2.30 فیصد کم ہو کر 3224 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 49.60 فیصد تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی وجہ کمپنی کی جانب سے ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز کے لیے سوئچ گیئر، اپریٹس انسولیٹرز اور برآمدی منڈی کے لیے نئی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروختی لاگت میں صرف 2.68 فیصد کمی آئی، کیونکہ مقررہ اخراجات کی کم تقسیم اور سال کے اختتام پر تیار شدہ مصنوعات کے زیادہ ذخیرے نے لاگت کو بلند رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 44.78 فیصد کمی آئی اور گراس مارجن گھٹ کر 17.20 فیصد رہ گیا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی اخراجات میں 8.93 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مہنگائی کے باعث تنخواہوں کے بڑھتے اخراجات تھے، حالانکہ کمپنی نے ملازمین کی تعداد 2024 کے 463 سے کم کر کے 2025 میں 425 کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 13 فیصد کمی آئی، کیونکہ اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں کمی کی گئی اور سفری اخراجات بھی محدود رکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں دیگر اخراجات میں 79.29 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف اور ای سی ایل کے لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم رقوم مختص کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، 2025 میں نہ تو زرِ مبادلہ کے نقصان کا اندراج ہوا اور نہ ہی کسی واجب الادا رقوم کو ختم کیا گیا۔ سپلائی چین میں بہتری آنے سے تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں پر بھی قابو پا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیگر آمدن میں 65.65 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافہ تھا، جبکہ برآمدی رعایت، زرِ مبادلہ سے منافع اور کرایے کی آمدن نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 51 فیصد کمی آئی اور آپریٹنگ مارجن سکڑ کر 10.19 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 17.12 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کا خالص منافع پھر بھی 74.55 فیصد گھٹ کر صرف 55.74 ملین روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.59 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 1.55 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ایمکو کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 28.36 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 3.758 ارب روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے بجلی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور مالیاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب کے نتیجے میں ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی مالی پوزیشن بہتر ہوئی، جس سے زیرِ جائزہ عرصے میں انسولیٹرز کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ حکومت کی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ نے بھی ایمکو کی مصنوعات کی طلب کو تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 2890 ٹن پورسلین انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے عالمی منڈی میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی، جس کے نتیجے میں برآمدی فروخت 53 فیصد اضافے کے ساتھ 527 ملین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی منڈی میں رسائی بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر سکی، جس کے باعث گراس مارجن مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 17.25 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 18.85 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی اخراجات میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا دباؤ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 43.37 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ مختلف جغرافیائی منڈیوں میں کاروبار کے پھیلاؤ پر زیادہ لاگت آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 130.66 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر آمدن میں 33.57 فیصد کمی آئی، جس کا غالب امکان مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 5.19 فیصد کم ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن گھٹ کر 7.70 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 10.43 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بقایا قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 24.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 64.49 ملین روپے ہو گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 140.86 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.84 روپے اور خالص منافع کا مارجن 1.72 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ای پی ایس 0.77 روپے اور خالص منافع کا مارجن 0.91 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہائی ویلیو سوئچ گیئر مصنوعات کی حوصلہ افزا فروخت اور برآمدی منڈیوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باعث آئندہ عرصے میں ایمکو کی فروخت میں مزید بہتری کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم برآمدی منڈیوں میں سخت مسابقت کے باعث منافع کے مارجن پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود کمپنی لاگت کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں شمسی توانائی پر مبنی بجلی گھر کی تنصیب اور خام مال کی مقامی سطح پر دستیابی (لوکلائزیشن) شامل ہیں، جس سے آئندہ برسوں میں منافع بخش کارکردگی میں بہتری کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ای ایم سی او) پاکستان میں 1954 میں ایک جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے طور پر قائم کی گئی۔ ابتدا میں کمپنی کا نام الیکٹرک ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ تھا۔ 1983 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا اور اسی سال اس کا نام بدل کر ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار ہائی اور لو ٹینشن برقی پورسلین انسولیٹرز اور سوئچ گیئر کی تیاری اور فروخت ہے۔</strong></p>
<h3><a id="حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" href="#حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ</h3>
<p>30 جون 2025 تک ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ کے 3 کروڑ 50 لاکھ جاری شدہ حصص تھے، جو 761 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔</p>
<p>کمپنی میں سب سے بڑا حصہ مقامی عام سرمایہ کاروں کا ہے، جو 54.54 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ان کے اہلِ خانہ کی ملکیت 29.65 فیصد ہے۔</p>
<p>منسلک کمپنیوں، اداروں اور متعلقہ فریقوں کے پاس کمپنی کے 15 فیصد حصص ہیں، جبکہ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہیں۔</p>
<h3><a id="تاریخی-مالیاتی-کارکردگی-2021-تا-2025" href="#تاریخی-مالیاتی-کارکردگی-2021-تا-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تاریخی مالیاتی کارکردگی (2021 تا 2025)</h3>
<p>ایمکو کی فروخت میں 2024 تک مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم 2025 میں اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، کمپنی کا خالص منافع 2024 اور 2025 میں کم ہوا۔</p>
<p>کمپنی کے منافع کے مارجن میں 2021 کے دوران بہتری آئی، تاہم 2022 میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2023 میں کمپنی نے مجموعی منافع (گراس مارجن) اور آپریٹنگ مارجن میں بہتری دکھائی، جبکہ خالص منافع کا مارجن تقریباً گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔ اس کے بعد 2024 اور 2025 میں منافع کے مارجن دوبارہ سکڑ گئے۔</p>
<p>ان مالیاتی رجحانات کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔</p>
<p>ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، نظام میں موجود خامیوں کے خاتمے اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے کی کوششوں کے باعث 2021 میں ایمکو کی فروخت میں سال بہ سال 30 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2.077 ارب روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>کمپنی نے 2021 میں 4794 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ تھے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 96 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>تاہم برآمدی فروخت میں 2021 کے دوران کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔</p>
<p>اسی عرصے میں فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.21 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آر ایل این جی کی بلند قیمتیں تھیں۔</p>
<p>تاہم فروخت کے حجم میں نمایاں اضافے اور بہتر قیمتوں کے باعث 2021 میں مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 38.94 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گراس مارجن گزشتہ سال کے 23.75 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 25.40 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>2021 میں انتظامی اخراجات میں 10.97 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ افرادی قوت میں اضافہ تھا۔ ملازمین کی تعداد 2020 کے 455 سے بڑھ کر 2021 میں 462 ہو گئی، جس کے نتیجے میں تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسی طرح مارکیٹنگ اخراجات میں 4.64 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ مال برداری کے بڑھتے اخراجات اور سال کے دوران فروخت کے فروغ کے لیے چلائی گئی بھرپور مہمات تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف، ای سی ایل اور متروک ذخائر کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 394.46 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافے کے باعث دیگر آمدن میں 515.25 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 2021 میں سالانہ بنیاد پر 41 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ مارجن 2020 کے 16.30 فیصد سے بڑھ کر 17.70 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث 2021 میں مالیاتی اخراجات میں 10.12 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 71.27 فیصد بڑھ کر 201.93 ملین روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس دوران خالص منافع کا مارجن 9.72 فیصد جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 5.77 روپے رہی، جبکہ 2020 میں ای پی ایس 3.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 7.38 فیصد تھا۔</p>
<p>سیاسی و معاشی بے یقینی، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ڈسکاؤنٹ ریٹ اور توانائی کی لاگت میں غیر معمولی اضافے جیسے متعدد چیلنجز کے باوجود 2022 میں بھی ایمکو کی ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 24.50 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2.586 ارب روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>2022 میں ایمکو نے 5288 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کا استعمال 106 فیصد تک پہنچ گیا۔ ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی، جس سے کمپنی کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سب اسٹیشن آلات کے شعبے میں نئی مصنوعات متعارف کرانے سے بھی فروخت کو تقویت ملی۔</p>
<p>2022 میں آر ایل این جی اور بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.42 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی نے شمسی توانائی پر مبنی قابلِ تجدید توانائی منصوبے میں بروقت سرمایہ کاری کر کے اس لاگت میں اضافے کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا۔</p>
<p>اس کے باوجود مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 15.90 فیصد بڑھا، البتہ گراس مارجن معمولی کمی کے ساتھ 23.63 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>انتظامی اخراجات میں 17.58 فیصد اضافہ زیادہ تنخواہوں کے اخراجات کی وجہ سے ہوا، جبکہ مارکیٹنگ اخراجات میں 61.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مال برداری اور سفری اخراجات میں اضافہ، فروخت کے حجم میں وسعت اور سال بھر جاری رہنے والی اشتہاری و تشہیری مہمات تھیں۔</p>
<p>اسی دوران تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں کے باعث دیگر اخراجات میں بھی 42.92 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں صرف 3.79 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن کم ہو کر 14.74 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>سرمایہ جاتی منصوبوں کے لیے زیادہ قرض لینے اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 18 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>اس کے باوجود خالص منافع 7.42 فیصد اضافے کے ساتھ 216.902 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ خالص منافع کا مارجن 8.4 فیصد اور فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.20 روپے رہی۔</p>
<p>2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 37 فیصد بڑھ کر 3.546 ارب روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اسی سال کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت 5000 ٹن سے بڑھا کر 6500 ٹن انسولیٹرز سالانہ کر دی، جسے خصوصی طور پر برآمدی منڈی کے لیے مختص کیا گیا۔</p>
<p>تاہم درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداوار اور فروخت کا حجم محدود رہا۔ 2023 میں کمپنی نے 5032 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.8 فیصد کم تھے، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 77.42 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>اس کے باوجود فروخت میں اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں میں اضافے اور کمپنی کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ہائی وولٹیج سوئچ گیئر کی مضبوط فروخت کے باعث ممکن ہوا۔</p>
<p>کمپنی کی مؤثر لاگت پر قابو پانے کی حکمت عملی اور شمسی توانائی کے منصوبے کی بدولت فروختی لاگت میں صرف 30.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 57.78 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور گراس مارجن بڑھ کر 27.20 فیصد ہو گیا، جو زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح تھی۔</p>
<p>آپریٹنگ اخراجات میں 29.38 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے باعث مال برداری کے بڑھتے اخراجات تھے۔ مہنگائی کے دباؤ نے تنخواہوں کے اخراجات بھی بڑھا دیے، حالانکہ ملازمین کی تعداد 2022 کے 448 سے کم ہو کر 2023 میں 429 رہ گئی تھی۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 75.22 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 18.84 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔</p>
<p>تاہم ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے اور بی ایم آر منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 140.10 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2023 میں ایمکو کا گیئرنگ ریشو 2022 کے 23.81 فیصد سے بڑھ کر 35.75 فیصد ہو گیا۔ اس کے ساتھ ٹیکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے خالص منافع کی رفتار کو محدود کر دیا، جس کے نتیجے میں 2023 میں خالص منافع میں سالانہ بنیاد پر 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔</p>
<p>کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 292.92 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 8.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.26 فیصد رہا۔</p>
<p>2024 میں کمپنی کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 18.25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.192 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات قیمتوں میں اضافہ اور کمپنی کی ہائی وولٹیج سوئچ گیئر مصنوعات کو مارکیٹ میں ملنے والا حوصلہ افزا ردِعمل تھیں۔</p>
<p>کمپنی مقامی مارکیٹ میں کمزور طلب کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنی مصنوعات اور جغرافیائی منڈیوں میں تنوع لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>تاہم سال کے دوران پیداواری حجم میں 34.40 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3300 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جس کے باعث پیداواری صلاحیت کا استعمال کم ہو کر 50.77 فیصد تک محدود رہا۔</p>
<p>پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی ایک بڑی وجہ نئی مشینری اور آلات کی تنصیب تھی، جس سے کمپنی کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم یہ اقدام کمپنی کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ مستقبل میں سوئچ گیئر مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔</p>
<p>پیداوار میں کمی کی ایک اور وجہ نقدی کے بہاؤ کے مسائل تھے، کیونکہ کمپنی تیار شدہ مصنوعات کا ذخیرہ فروخت کرنے اور اپنی فروخت کا تناسب زیادہ منافع بخش سوئچ گیئر مصنوعات کی جانب منتقل کرنے میں مشکلات کا شکار رہی۔</p>
<p>بڑھتے ہوئے لاگتی دباؤ کے باعث گراس مارجن معمولی کم ہو کر 26.80 فیصد رہ گیا، اگرچہ مجموعی منافع مالیت کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 16.52 فیصد بڑھا۔</p>
<p>آپریٹنگ اخراجات میں 34.71 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں برآمدات میں اضافے کے باعث مال برداری کے زیادہ اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ایکسل لوڈ ضوابط کا نفاذ اور مجاز سرمایہ بڑھانے پر ایس ای سی پی کی یکمشت فیس شامل تھیں۔</p>
<p>اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 12.31 فیصد اضافہ ہوا، تاہم آپریٹنگ مارجن معمولی کم ہو کر 17.89 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے، بی ایم آر منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے طویل مدتی قرضوں میں اضافے اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قلیل مدتی قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 58.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2024 میں ایمکو کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 25.24 فیصد کم ہو کر 218.998 ملین روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.26 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 5.22 فیصد رہا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح تھی۔</p>
<p>2025 میں کمپنی کی خالص فروخت میں 13.96 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3.607 ارب روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے مالیاتی اخراجات میں سختی کے باعث انسولیٹرز کی طلب میں کمی تھی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مقامی فروخت میں 21.82 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 3.713 ارب روپے تک محدود رہی۔</p>
<p>مقامی طلب میں کمی کے ازالے کے لیے کمپنی نے اپنی توجہ بالخصوص امریکی برآمدی منڈی پر مرکوز کی۔</p>
<p>امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی نے ایمکو کے لیے امریکی منڈی میں رسائی کا ایک اہم موقع پیدا کیا، جس کے باعث کمپنی کی برآمدی فروخت 174 فیصد اضافے کے ساتھ 462.798 ملین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>2025 میں پیداواری حجم مزید 2.30 فیصد کم ہو کر 3224 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 49.60 فیصد تک آ گیا۔</p>
<p>پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی وجہ کمپنی کی جانب سے ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز کے لیے سوئچ گیئر، اپریٹس انسولیٹرز اور برآمدی منڈی کے لیے نئی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔</p>
<p>فروختی لاگت میں صرف 2.68 فیصد کمی آئی، کیونکہ مقررہ اخراجات کی کم تقسیم اور سال کے اختتام پر تیار شدہ مصنوعات کے زیادہ ذخیرے نے لاگت کو بلند رکھا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 44.78 فیصد کمی آئی اور گراس مارجن گھٹ کر 17.20 فیصد رہ گیا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>انتظامی اخراجات میں 8.93 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مہنگائی کے باعث تنخواہوں کے بڑھتے اخراجات تھے، حالانکہ کمپنی نے ملازمین کی تعداد 2024 کے 463 سے کم کر کے 2025 میں 425 کر دی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 13 فیصد کمی آئی، کیونکہ اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں کمی کی گئی اور سفری اخراجات بھی محدود رکھے گئے۔</p>
<p>2025 میں دیگر اخراجات میں 79.29 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف اور ای سی ایل کے لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم رقوم مختص کی گئیں۔</p>
<p>مزید برآں، 2025 میں نہ تو زرِ مبادلہ کے نقصان کا اندراج ہوا اور نہ ہی کسی واجب الادا رقوم کو ختم کیا گیا۔ سپلائی چین میں بہتری آنے سے تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں پر بھی قابو پا لیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب دیگر آمدن میں 65.65 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافہ تھا، جبکہ برآمدی رعایت، زرِ مبادلہ سے منافع اور کرایے کی آمدن نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 51 فیصد کمی آئی اور آپریٹنگ مارجن سکڑ کر 10.19 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 17.12 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کا خالص منافع پھر بھی 74.55 فیصد گھٹ کر صرف 55.74 ملین روپے رہ گیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.59 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 1.55 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)</h3>
<p>جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ایمکو کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 28.36 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 3.758 ارب روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے بجلی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور مالیاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب کے نتیجے میں ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی مالی پوزیشن بہتر ہوئی، جس سے زیرِ جائزہ عرصے میں انسولیٹرز کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ حکومت کی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ نے بھی ایمکو کی مصنوعات کی طلب کو تقویت دی۔</p>
<p>کمپنی نے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 2890 ٹن پورسلین انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ تھے۔</p>
<p>کمپنی نے عالمی منڈی میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی، جس کے نتیجے میں برآمدی فروخت 53 فیصد اضافے کے ساتھ 527 ملین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>تاہم عالمی منڈی میں رسائی بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر سکی، جس کے باعث گراس مارجن مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 17.25 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 18.85 فیصد تھا۔</p>
<p>انتظامی اخراجات میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا دباؤ تھا۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 43.37 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ مختلف جغرافیائی منڈیوں میں کاروبار کے پھیلاؤ پر زیادہ لاگت آئی۔</p>
<p>اسی طرح ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 130.66 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔</p>
<p>دیگر آمدن میں 33.57 فیصد کمی آئی، جس کا غالب امکان مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی ہے۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 5.19 فیصد کم ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن گھٹ کر 7.70 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 10.43 فیصد تھا۔</p>
<p>اگرچہ بقایا قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 24.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 64.49 ملین روپے ہو گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 140.86 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>اس عرصے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.84 روپے اور خالص منافع کا مارجن 1.72 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ای پی ایس 0.77 روپے اور خالص منافع کا مارجن 0.91 فیصد تھا۔</p>
<h3><a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مستقبل کا منظرنامہ</strong></h3>
<p>ہائی ویلیو سوئچ گیئر مصنوعات کی حوصلہ افزا فروخت اور برآمدی منڈیوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باعث آئندہ عرصے میں ایمکو کی فروخت میں مزید بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم برآمدی منڈیوں میں سخت مسابقت کے باعث منافع کے مارجن پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود کمپنی لاگت کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں شمسی توانائی پر مبنی بجلی گھر کی تنصیب اور خام مال کی مقامی سطح پر دستیابی (لوکلائزیشن) شامل ہیں، جس سے آئندہ برسوں میں منافع بخش کارکردگی میں بہتری کی امید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288550</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 16:45:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1016033366d72ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1016033366d72ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹو پالیسی کی الجھن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ آٹو پالیسی 2021-26 اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔ اب کچھ کمپنیوں کو نئی آٹو پالیسی کا انتظار ہے، جبکہ زیادہ دور اندیش کمپنیاں موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں۔ ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیوں کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ صنعت کے مختلف کھلاڑیوں کے درمیان اندرونی اختلافات بھی جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب کمرشل درآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ میں داخل ہونے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے شوقین افراد کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی میں دی گئی رعایتوں میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ بعض کمپنیاں صرف مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی گاڑیوں (سی بی یوز) پر انحصار کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ وہ یہ حکمت عملی جاری رکھیں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایک سال بعد کیا ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف ان گاڑیوں پر ٹیکسوں کو معمول کے مطابق لانے پر اصرار کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے بعض کمپنیاں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے فیصلے مؤخر کر سکتی ہیں، جبکہ تمام کمپنیاں فی الحال سی بی یوز فروخت کرتی رہیں گی اور توقع ہے کہ مڈ کراس اوور گاڑیوں کے شعبے میں قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو بھی بدستور وہی مراعات حاصل رہیں گی جو وی ویز کو حاصل ہیں، کیونکہ اس شعبے کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے ہی کچھ درآمد شدہ ای ویز اور ایک مقامی طور پر اسمبل ہونے والی آر ای ای وی غیر معمولی تیزی سے فروخت ہو رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید کمپنیاں بھی اس شعبے میں داخل ہوں گی۔ تاہم بعض کمپنیاں اب بھی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای ویز) اور آر ای ای ویز کے لیے یکساں ٹیکس مراعات کے حصول کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے تحت ای ویز اور آر ای ای ویز پر 1 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) برقرار ہے، جبکہ بعض کیٹیگریز میں پی ایچ ای ویز اور ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (ایچ ای ویز) پر 25 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے۔ ای وی اور  آر ای ای وی پالیسی میں تو ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، لیکن ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز کے لیے کم شرح جی ایس ٹی کی سہولت ختم ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان پر جی ایس ٹی بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے، جو اندرونی احتراقی انجن (آئی سی ای) والی مساوی گاڑیوں کے برابر ہے۔ کچھ کمپنیوں کو توقع ہے کہ ایک ایس آر او (ایس آر او) جاری ہوگا جس کے ذریعے یہ شرح کم کر کے 18 فیصد کر دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو اسمبلرز کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ مارکیٹ کے درمیانی حصے میں ریورس کیسکیڈنگ کا آغاز ہے۔ کمرشل درآمدات کے لیے پرزہ جات پر درآمدی ڈیوٹی کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) پر یہ شرح 30 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ دوسری جانب سی کے ڈی کٹس پر ڈیوٹی مقامی پرزہ جات کے تناسب کے مطابق 32 فیصد سے 46 فیصد تک ہے، جبکہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے اوسط مؤثر شرح تقریباً 38 سے 40 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی آٹو اسمبلرز کو امید ہے کہ ایک اور ایس آر او جاری ہوگا، جس کے تحت سی کے ڈی پر ڈیوٹی میں بھی کمی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے چند کمپنیاں دو اہم تبدیلیوں کی منتظر ہیں: پہلی، ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی میں کمی، اور دوسری، سی کے ڈی پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کمپنیوں نے خاص طور پر ایچ ای ویز اورپی ایچ ای ویز کے بعض ماڈلز کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔ ایک جاپانی کمپنی نے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تبدیلی کر کے آرڈرز لینا شروع کر دیے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیاں ابھی انتظار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال زمینی صورتحال یہی ہے۔ حکومت اب بھی آٹو پالیسی کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات سے آراء لے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مشاورت پہلے نہیں ہونی چاہیے تھی؟ بہرحال، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ معاشیات گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف وزارتوں کی جانب سے کیے گئے کمزور تجزیوں پر شدید ناراض ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو پالیسی پر ابتدائی کام، مشاورت اور تیاری کافی پہلے مکمل ہو جانی چاہیے تھی اور اسے بجٹ کے ساتھ یا بجٹ سے پہلے پیش کر دینا چاہیے تھا۔ تاہم نیا مالی سال شروع ہو چکا ہے، مگر پالیسی اب بھی زیر غور ہے اور مختلف کمپنیاں اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے مسلسل لابنگ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران افواہوں کا بازار بھی پوری طرح گرم ہے۔ متوقع ٹیکس تبدیلیوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کے اندازے گردش کر رہے ہیں۔ بظاہر جولائی کا پورا مہینہ اسی غیر یقینی صورتحال میں گزرے گا، جبکہ آٹو صنعت کی پیداوار، جو اوسطاً 25 ہزار گاڑیاں ماہانہ ہے، کم رہنے کا امکان ہے۔ بعض کارخانے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کچھ جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی پالیسی میں وضاحت آئے گی، صنعت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی آٹو صنعت کو حاصل تحفظ میں بتدریج کمی آئے گی۔ سی بی یوز پر درآمدی ٹیرف پہلے ہی کم کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ برسوں میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی  اور ریگولیٹری ڈیوٹیز  بھی ختم کر دی جائیں گی، جس کے بعد بعض کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں ڈمپنگ کا رجحان بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آٹو انڈسٹری میں شامل متعدد نئی کمپنیوں کے لیے مستقبل زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتا۔ جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے آٹو انڈسٹری نئی سیمنٹ انڈسٹری بن چکی ہے؛ ہر کوئی اس کاروبار میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن منافع کی گنجائش محدود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ محفل کب تک قائم رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ آٹو پالیسی 2021-26 اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔ اب کچھ کمپنیوں کو نئی آٹو پالیسی کا انتظار ہے، جبکہ زیادہ دور اندیش کمپنیاں موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں۔ ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیوں کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ صنعت کے مختلف کھلاڑیوں کے درمیان اندرونی اختلافات بھی جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب کمرشل درآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ میں داخل ہونے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے شوقین افراد کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی میں دی گئی رعایتوں میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ بعض کمپنیاں صرف مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی گاڑیوں (سی بی یوز) پر انحصار کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ وہ یہ حکمت عملی جاری رکھیں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایک سال بعد کیا ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف ان گاڑیوں پر ٹیکسوں کو معمول کے مطابق لانے پر اصرار کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے بعض کمپنیاں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے فیصلے مؤخر کر سکتی ہیں، جبکہ تمام کمپنیاں فی الحال سی بی یوز فروخت کرتی رہیں گی اور توقع ہے کہ مڈ کراس اوور گاڑیوں کے شعبے میں قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔</p>
<p>رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو بھی بدستور وہی مراعات حاصل رہیں گی جو وی ویز کو حاصل ہیں، کیونکہ اس شعبے کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے ہی کچھ درآمد شدہ ای ویز اور ایک مقامی طور پر اسمبل ہونے والی آر ای ای وی غیر معمولی تیزی سے فروخت ہو رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید کمپنیاں بھی اس شعبے میں داخل ہوں گی۔ تاہم بعض کمپنیاں اب بھی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای ویز) اور آر ای ای ویز کے لیے یکساں ٹیکس مراعات کے حصول کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔</p>
<p>موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے تحت ای ویز اور آر ای ای ویز پر 1 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) برقرار ہے، جبکہ بعض کیٹیگریز میں پی ایچ ای ویز اور ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (ایچ ای ویز) پر 25 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے۔ ای وی اور  آر ای ای وی پالیسی میں تو ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، لیکن ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز کے لیے کم شرح جی ایس ٹی کی سہولت ختم ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان پر جی ایس ٹی بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے، جو اندرونی احتراقی انجن (آئی سی ای) والی مساوی گاڑیوں کے برابر ہے۔ کچھ کمپنیوں کو توقع ہے کہ ایک ایس آر او (ایس آر او) جاری ہوگا جس کے ذریعے یہ شرح کم کر کے 18 فیصد کر دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔</p>
<p>آٹو اسمبلرز کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ مارکیٹ کے درمیانی حصے میں ریورس کیسکیڈنگ کا آغاز ہے۔ کمرشل درآمدات کے لیے پرزہ جات پر درآمدی ڈیوٹی کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) پر یہ شرح 30 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ دوسری جانب سی کے ڈی کٹس پر ڈیوٹی مقامی پرزہ جات کے تناسب کے مطابق 32 فیصد سے 46 فیصد تک ہے، جبکہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے اوسط مؤثر شرح تقریباً 38 سے 40 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>مقامی آٹو اسمبلرز کو امید ہے کہ ایک اور ایس آر او جاری ہوگا، جس کے تحت سی کے ڈی پر ڈیوٹی میں بھی کمی کی جائے گی۔</p>
<p>اسی لیے چند کمپنیاں دو اہم تبدیلیوں کی منتظر ہیں: پہلی، ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی میں کمی، اور دوسری، سی کے ڈی پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کمپنیوں نے خاص طور پر ایچ ای ویز اورپی ایچ ای ویز کے بعض ماڈلز کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔ ایک جاپانی کمپنی نے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تبدیلی کر کے آرڈرز لینا شروع کر دیے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیاں ابھی انتظار کر رہی ہیں۔</p>
<p>فی الحال زمینی صورتحال یہی ہے۔ حکومت اب بھی آٹو پالیسی کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات سے آراء لے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مشاورت پہلے نہیں ہونی چاہیے تھی؟ بہرحال، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ معاشیات گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف وزارتوں کی جانب سے کیے گئے کمزور تجزیوں پر شدید ناراض ہیں۔</p>
<p>آٹو پالیسی پر ابتدائی کام، مشاورت اور تیاری کافی پہلے مکمل ہو جانی چاہیے تھی اور اسے بجٹ کے ساتھ یا بجٹ سے پہلے پیش کر دینا چاہیے تھا۔ تاہم نیا مالی سال شروع ہو چکا ہے، مگر پالیسی اب بھی زیر غور ہے اور مختلف کمپنیاں اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے مسلسل لابنگ کر رہی ہیں۔</p>
<p>اس دوران افواہوں کا بازار بھی پوری طرح گرم ہے۔ متوقع ٹیکس تبدیلیوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کے اندازے گردش کر رہے ہیں۔ بظاہر جولائی کا پورا مہینہ اسی غیر یقینی صورتحال میں گزرے گا، جبکہ آٹو صنعت کی پیداوار، جو اوسطاً 25 ہزار گاڑیاں ماہانہ ہے، کم رہنے کا امکان ہے۔ بعض کارخانے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کچھ جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی پالیسی میں وضاحت آئے گی، صنعت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔</p>
<p>مستقبل کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی آٹو صنعت کو حاصل تحفظ میں بتدریج کمی آئے گی۔ سی بی یوز پر درآمدی ٹیرف پہلے ہی کم کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ برسوں میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی  اور ریگولیٹری ڈیوٹیز  بھی ختم کر دی جائیں گی، جس کے بعد بعض کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں ڈمپنگ کا رجحان بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر آٹو انڈسٹری میں شامل متعدد نئی کمپنیوں کے لیے مستقبل زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتا۔ جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے آٹو انڈسٹری نئی سیمنٹ انڈسٹری بن چکی ہے؛ ہر کوئی اس کاروبار میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن منافع کی گنجائش محدود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ محفل کب تک قائم رہتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288530</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 10:36:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10103319741ad68.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10103319741ad68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کا دوسرا مرحلہ زور و شور سے جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288512/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین برس تک شمسی پینلز کی درآمد کے اعداد و شمار خود ہی پوری کہانی بیان کرتے رہے۔ کسٹمز کے ہر نئے اعداد و شمار کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ سامنے آتا تھا؛ کہیں مزید میگاواٹ، کہیں مزید کنٹینرز اور کہیں قومی گرڈ سے منسلک رہنے کے بجائے شمسی توانائی اپنانے والے گھروں کی بڑھتی تعداد۔ تاہم اب یہ رفتار سست پڑ رہی ہے۔ اس کی جگہ ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے، اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز برسوں بعد نہیں بلکہ کئی ماہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی پینلز کی درآمد میں سست روی اب باقاعدہ کمی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جنوری سے مئی 2026 کے دوران پاکستان نے 4 ہزار 574 میگاواٹ صلاحیت کے شمسی پینلز درآمد کیے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ حجم 11 ہزار 781 میگاواٹ تھا، یعنی 61 فیصد کمی واقع ہوئی۔ درآمدات کی مالیت بھی تقریباً اسی تناسب سے گھٹ کر 1.12 ارب ڈالر سے 51 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئی، جو 54 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شمسی توانائی کی مارکیٹ سکڑ رہی ہے۔ مئی 2026 کے اختتام تک پاکستان میں درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی مجموعی صلاحیت 55 ہزار 700 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی تھی اور ہر ماہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ درحقیقت کمی مجموعی حجم میں نہیں بلکہ نئی تنصیبات کے اضافے کی رفتار میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072731e360e5a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072731e360e5a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چار برس قبل پاکستان شمسی پینلز ایک واٹ کی قیمت 30 سینٹ سے بھی کم پر درآمد کر رہا تھا، جبکہ اب یہی قیمت تقریباً اس کے ایک تہائی تک آ چکی ہے۔ 2017 کے بعد سے شمسی پینلز (ماڈیولز) کی عالمی قیمت میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور یہ 0.38 ڈالر فی واٹ سے گھٹ کر 2026 میں تقریباً 0.10 سے 0.12 ڈالر فی واٹ رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں، شمسی پینلز اب مکمل طور پر ایک عام تجارتی شے بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2023-24 جیسی درآمدی لہر، جب ایک ہی مالی سال میں 14 ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت کے پینلز درآمد کیے گئے تھے، دوبارہ دیکھنے کے امکانات اب محدود ہو گئے ہیں۔ قیمتیں اب اس حد تک گر چکی ہیں کہ مزید نمایاں کمی کی گنجائش کم رہ گئی ہے، کیونکہ ایک مرحلے کے بعد مینوفیکچررز کے لیے ان نرخوں پر سپلائی جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر شمسی پینلز کی درآمد میں سست روی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طلب اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، یعنی ابتدائی صارفین اپنی ضرورت پوری کر چکے ہیں، شہری علاقوں کی بیشتر چھتیں سولر پینلز سے آراستہ ہو چکی ہیں اور آسان مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ تاہم درآمدی اعداد و شمار کا اگلا خانہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد اب معمولی سطح سے نکل کر ایک واضح رجحان اختیار کر چکی ہے۔ ان بیٹریوں کی درآمد مالی سال 2023 میں 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی، جو بڑھ کر مالی سال 2026 میں 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ہونے والی بیٹریوں کی درآمد پورے مالی سال کی مجموعی درآمدات کا 50 فیصد رہی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے اگلے مرحلے کے لیے زمین تیزی سے ہموار ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090727417673f49.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090727417673f49.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت یہی تبدیلی اصل کہانی ہے۔ پاکستان کی شمسی توانائی کی مارکیٹ کے پہلے مرحلے کا محور صرف صلاحیت میں اضافہ تھا، یعنی کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ گھروں کی چھتوں پر شمسی پینلز نصب کرنا تاکہ 2023 اور 2024 کے دوران مسلسل بڑھتے ہوئے گرڈ ٹیرف سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اب یہ مرحلہ فطری طور پر سست پڑ رہا ہے، کیونکہ آسانی سے شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زیادہ تر صارفین پہلے ہی یہ تبدیلی اختیار کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مارکیٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں صارفین کی توجہ صرف بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ پیدا کی گئی بجلی کو ذخیرہ کرنے پر مرکوز ہے۔ یعنی رجحان دن کے وقت صرف گرڈ پر انحصار کم کرنے سے آگے بڑھ کر، ممکنہ حد تک گرڈ سے مکمل یا تقریباً مکمل آزادی حاصل کرنے کی طرف جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کی تصدیق شمسی پینلز کی درآمد اور نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹر ہونے والی تنصیبات کے درمیان نمایاں فرق سے بھی ہوتی ہے۔ مالی سال 2025 کے اختتام تک درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی مجموعی صلاحیت تقریباً 47 ہزار 200 میگاواٹ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹر شدہ مجموعی صلاحیت صرف 6 ہزار 485 میگاواٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی کم از کم 86 فیصد صلاحیت ایسی تھی جو باضابطہ طور پر گرڈ سے منسلک نیٹ میٹرنگ نظام کا حصہ نہیں بنی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین یا تو نیٹ میٹرنگ سے ہٹ کر شمسی نظام استعمال کر رہے ہیں یا اب توانائی ذخیرہ کرنے والے نظاموں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072745be51b19.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072745be51b19.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فرق کا ایک حصہ گوداموں میں موجود ذخیرے، کچھ حصہ تنصیب میں تاخیر، لیکن ایک قابلِ ذکر حصہ ایسے شمسی نظاموں پر مشتمل ہے جنہیں ابتدا ہی سے قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ان میں صنعتی و تجارتی اداروں کے خود استعمال کے لیے نصب نظام، بیٹریوں سے منسلک ہائبرڈ اِنورٹرز اور ایسے علاقوں میں قائم آف گرڈ تنصیبات شامل ہیں جہاں نیٹ میٹرنگ کی سہولت دستیاب نہیں۔ لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے نظاموں کا حصہ کم نہیں بلکہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض قیاس آرائی نہیں بلکہ اعداد و شمار سے اخذ ہونے والا واضح رجحان ہے۔ ایک طرف شمسی پینلز کی درآمد میں اضافہ سست پڑ رہا ہے، تو دوسری جانب ایک ایسا شعبہ، جو پہلے تقریباً غیر اہم تھا، یعنی بیٹریوں کی درآمد، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ اجناس کی منڈیوں میں عموماً یہی تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ کوئی مارکیٹ زوال کا شکار نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ پختہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 سے 2024 تک پاکستان میں شمسی توانائی کی کہانی بنیادی طور پر رسائی اور تنصیب کے گرد گھومتی رہی۔ تاہم تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب مارکیٹ ایک دوسرے، نسبتاً خاموش مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون شمسی پینل نصب کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی پیدا کردہ بجلی ذخیرہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی پینلز کی تیز رفتار درآمد نے پاکستان کو دن کے اوقات میں نسبتاً سستی بجلی فراہم کی، مگر بیٹریوں کی درآمد کے اعداد و شمار، اگرچہ مالیت کے لحاظ سے ابھی محدود ہیں، واضح طور پر اشارہ دے رہے ہیں کہ اگلا بڑا مرحلہ سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کی دستیابی کا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین برس تک شمسی پینلز کی درآمد کے اعداد و شمار خود ہی پوری کہانی بیان کرتے رہے۔ کسٹمز کے ہر نئے اعداد و شمار کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ سامنے آتا تھا؛ کہیں مزید میگاواٹ، کہیں مزید کنٹینرز اور کہیں قومی گرڈ سے منسلک رہنے کے بجائے شمسی توانائی اپنانے والے گھروں کی بڑھتی تعداد۔ تاہم اب یہ رفتار سست پڑ رہی ہے۔ اس کی جگہ ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے، اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز برسوں بعد نہیں بلکہ کئی ماہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔</strong></p>
<p>شمسی پینلز کی درآمد میں سست روی اب باقاعدہ کمی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جنوری سے مئی 2026 کے دوران پاکستان نے 4 ہزار 574 میگاواٹ صلاحیت کے شمسی پینلز درآمد کیے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ حجم 11 ہزار 781 میگاواٹ تھا، یعنی 61 فیصد کمی واقع ہوئی۔ درآمدات کی مالیت بھی تقریباً اسی تناسب سے گھٹ کر 1.12 ارب ڈالر سے 51 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئی، جو 54 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شمسی توانائی کی مارکیٹ سکڑ رہی ہے۔ مئی 2026 کے اختتام تک پاکستان میں درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی مجموعی صلاحیت 55 ہزار 700 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی تھی اور ہر ماہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ درحقیقت کمی مجموعی حجم میں نہیں بلکہ نئی تنصیبات کے اضافے کی رفتار میں آئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072731e360e5a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072731e360e5a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>چار برس قبل پاکستان شمسی پینلز ایک واٹ کی قیمت 30 سینٹ سے بھی کم پر درآمد کر رہا تھا، جبکہ اب یہی قیمت تقریباً اس کے ایک تہائی تک آ چکی ہے۔ 2017 کے بعد سے شمسی پینلز (ماڈیولز) کی عالمی قیمت میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور یہ 0.38 ڈالر فی واٹ سے گھٹ کر 2026 میں تقریباً 0.10 سے 0.12 ڈالر فی واٹ رہ گئی ہے۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں، شمسی پینلز اب مکمل طور پر ایک عام تجارتی شے بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2023-24 جیسی درآمدی لہر، جب ایک ہی مالی سال میں 14 ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت کے پینلز درآمد کیے گئے تھے، دوبارہ دیکھنے کے امکانات اب محدود ہو گئے ہیں۔ قیمتیں اب اس حد تک گر چکی ہیں کہ مزید نمایاں کمی کی گنجائش کم رہ گئی ہے، کیونکہ ایک مرحلے کے بعد مینوفیکچررز کے لیے ان نرخوں پر سپلائی جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔</p>
<p>بظاہر شمسی پینلز کی درآمد میں سست روی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طلب اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، یعنی ابتدائی صارفین اپنی ضرورت پوری کر چکے ہیں، شہری علاقوں کی بیشتر چھتیں سولر پینلز سے آراستہ ہو چکی ہیں اور آسان مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ تاہم درآمدی اعداد و شمار کا اگلا خانہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد اب معمولی سطح سے نکل کر ایک واضح رجحان اختیار کر چکی ہے۔ ان بیٹریوں کی درآمد مالی سال 2023 میں 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی، جو بڑھ کر مالی سال 2026 میں 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>مزید اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ہونے والی بیٹریوں کی درآمد پورے مالی سال کی مجموعی درآمدات کا 50 فیصد رہی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے اگلے مرحلے کے لیے زمین تیزی سے ہموار ہو رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090727417673f49.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090727417673f49.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>درحقیقت یہی تبدیلی اصل کہانی ہے۔ پاکستان کی شمسی توانائی کی مارکیٹ کے پہلے مرحلے کا محور صرف صلاحیت میں اضافہ تھا، یعنی کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ گھروں کی چھتوں پر شمسی پینلز نصب کرنا تاکہ 2023 اور 2024 کے دوران مسلسل بڑھتے ہوئے گرڈ ٹیرف سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اب یہ مرحلہ فطری طور پر سست پڑ رہا ہے، کیونکہ آسانی سے شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زیادہ تر صارفین پہلے ہی یہ تبدیلی اختیار کر چکے ہیں۔</p>
<p>اب مارکیٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں صارفین کی توجہ صرف بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ پیدا کی گئی بجلی کو ذخیرہ کرنے پر مرکوز ہے۔ یعنی رجحان دن کے وقت صرف گرڈ پر انحصار کم کرنے سے آگے بڑھ کر، ممکنہ حد تک گرڈ سے مکمل یا تقریباً مکمل آزادی حاصل کرنے کی طرف جا رہا ہے۔</p>
<p>اس رجحان کی تصدیق شمسی پینلز کی درآمد اور نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹر ہونے والی تنصیبات کے درمیان نمایاں فرق سے بھی ہوتی ہے۔ مالی سال 2025 کے اختتام تک درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی مجموعی صلاحیت تقریباً 47 ہزار 200 میگاواٹ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹر شدہ مجموعی صلاحیت صرف 6 ہزار 485 میگاواٹ تھی۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ درآمد کیے گئے شمسی پینلز کی کم از کم 86 فیصد صلاحیت ایسی تھی جو باضابطہ طور پر گرڈ سے منسلک نیٹ میٹرنگ نظام کا حصہ نہیں بنی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین یا تو نیٹ میٹرنگ سے ہٹ کر شمسی نظام استعمال کر رہے ہیں یا اب توانائی ذخیرہ کرنے والے نظاموں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072745be51b19.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/09072745be51b19.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس فرق کا ایک حصہ گوداموں میں موجود ذخیرے، کچھ حصہ تنصیب میں تاخیر، لیکن ایک قابلِ ذکر حصہ ایسے شمسی نظاموں پر مشتمل ہے جنہیں ابتدا ہی سے قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ان میں صنعتی و تجارتی اداروں کے خود استعمال کے لیے نصب نظام، بیٹریوں سے منسلک ہائبرڈ اِنورٹرز اور ایسے علاقوں میں قائم آف گرڈ تنصیبات شامل ہیں جہاں نیٹ میٹرنگ کی سہولت دستیاب نہیں۔ لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے نظاموں کا حصہ کم نہیں بلکہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>یہ محض قیاس آرائی نہیں بلکہ اعداد و شمار سے اخذ ہونے والا واضح رجحان ہے۔ ایک طرف شمسی پینلز کی درآمد میں اضافہ سست پڑ رہا ہے، تو دوسری جانب ایک ایسا شعبہ، جو پہلے تقریباً غیر اہم تھا، یعنی بیٹریوں کی درآمد، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ اجناس کی منڈیوں میں عموماً یہی تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ کوئی مارکیٹ زوال کا شکار نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ پختہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔</p>
<p>2021 سے 2024 تک پاکستان میں شمسی توانائی کی کہانی بنیادی طور پر رسائی اور تنصیب کے گرد گھومتی رہی۔ تاہم تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب مارکیٹ ایک دوسرے، نسبتاً خاموش مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون شمسی پینل نصب کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی پیدا کردہ بجلی ذخیرہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔</p>
<p>شمسی پینلز کی تیز رفتار درآمد نے پاکستان کو دن کے اوقات میں نسبتاً سستی بجلی فراہم کی، مگر بیٹریوں کی درآمد کے اعداد و شمار، اگرچہ مالیت کے لحاظ سے ابھی محدود ہیں، واضح طور پر اشارہ دے رہے ہیں کہ اگلا بڑا مرحلہ سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کی دستیابی کا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288512</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 18:39:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/09182730acc94b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/09182730acc94b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل ترقی کے باوجود ڈیجیٹل رسائی بدستور چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288443/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی تازہ درجہ بندی حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن اسے مکمل کامیابی کی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ بہتر یہ ہوگا کہ اسے ایک کمزور ابتدائی بنیاد سے ہونے والی بہتری کے طور پر دیکھا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کا آئی ڈی آئی اسکور 2025 میں 56.4 سے بڑھ کر 2026 میں 67.7 ہو گیا، جو سالانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ 2023 سے اب تک یہ اسکور 48.7 سے بڑھ کر 67.7 تک پہنچ چکا ہے، جو یقیناً ایک نمایاں پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان اب بھی کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک  کے اوسط 68.9 سے قدرے نیچے، ایشیا پیسیفک کے اوسط سے خاصا پیچھے، اور عالمی اوسط سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین اس انڈیکس میں ممالک کی درجہ بندی جاری نہیں کرتی بلکہ صرف اسکور جاری کرتی ہے تاکہ جامع اور بامعنی رابطہ کاری  کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس پیمانے پر پاکستان کی پیش رفت مثبت ضرور ہے، لیکن اسکور کی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا ڈیجیٹل چیلنج صرف نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق اپنانے ، ملکیت اور استعمال سے بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس کے دو بنیادی ستون، یعنی یونیورسل کنیکٹیویٹی اور میننگ فل کنیکٹیویٹی ، اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا میننگ فل کنیکٹیویٹی اسکور 78.5 ہے، جبکہ  یونیورسل کنیکٹیویٹی کا اسکور صرف 56.8 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو افراد پہلے ہی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، وہ ڈیجیٹل خدمات کو نسبتاً مؤثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں، لیکن آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی ڈیجیٹل معیشت سے باہر ہے۔ یہی پاکستان کی ڈیجیٹل کہانی کی سب سے بڑی خرابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں ڈیٹا نسبتاً سستا ہے اور منسلک صارفین کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، مگر رسائی اب بھی ہمہ گیر  نہیں بن سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سب سے نمایاں طاقت سستی خدمات  ہے۔ موبائل ڈیٹا اور وائس پیکج کی لاگت فی کس مجموعی قومی آمدنی کا صرف 1.4 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ آئی ٹی یو کے مقررہ 1 فیصد ہدف سے ابھی زیادہ ہے، لیکن پھر بھی یہ کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک اور ایشیا پیسیفک کے اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ پاکستان کی ایک پائیدار ڈیجیٹل برتری کی عکاسی کرتا ہے، یعنی ایک انتہائی مسابقتی اور کم قیمت موبائل مارکیٹ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صرف سستی خدمات ڈیجیٹل خلیج  کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ درحقیقت یہ ایک تضاد بھی ہے۔ اگر موبائل انٹرنیٹ اتنا سستا ہے تو پھر ہر 100 افراد میں صرف 55 فعال موبائل براڈبینڈ صارفین کیوں ہیں؟ یہ پاکستان کی ایک بڑی کمزوری ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ صرف قیمت ہی رکاوٹ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس کے مطابق موبائل فون کی قیمت، آلات  کی کم ملکیت، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، مقامی اور مفید آن لائن مواد کی محدود دستیابی، اور خواتین کی رسائی میں صنفی فرق وہ اہم عوامل ہیں جو ڈیجیٹل خدمات کو اپنانے کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر ڈیوائس کی ملکیت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 49.8 فیصد افراد کے پاس ذاتی موبائل فون موجود ہے۔ اگر لوگوں کے پاس مناسب ڈیوائس ہی نہ ہو تو سستا ڈیٹا بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتحال ای کامرس، مالیاتی شمولیت، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدی معیشت کے قیام جیسے اہداف کے لیے بھی رکاوٹ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوریج  بھی ایک تشویشناک پہلو ہے۔ پاکستان میں  تھری جی اور فور جی دونوں کی آبادی کے لحاظ سے کوریج 81 فیصد بتائی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 20 فیصد آبادی اب بھی موبائل براڈبینڈ کی رسائی سے باہر ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ خلا دیہی اور دور دراز علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے، جو پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پیمائش سے متعلق ایک اہم احتیاط بھی موجود ہے۔ آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس ہر اس عنصر کا احاطہ نہیں کرتا جو ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم ہے۔ اس میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی، انٹرنیٹ کی رفتار، ڈیجیٹل مہارتیں، آن لائن تحفظ اور سائبر سکیورٹی شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ یہ بھی خبردار کرتی ہے کہ قومی سطح کے اوسط اعداد و شمار مختلف علاقوں اور آبادی کے مختلف طبقات کے درمیان موجود نمایاں فرق کو چھپا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ممکن ہے کہ پاکستان میں حقیقی ڈیجیٹل خلیج اس سرخی میں نظر آنے والے اسکور سے بھی زیادہ وسیع ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے اعتبار سے نتیجہ بالکل واضح ہے۔ پاکستان نے پیش رفت ضرور کی ہے اور سستی موبائل خدمات اس کی حقیقی طاقت ہیں۔ ڈیٹا سستا ہے، مقامی سطح پر موبائل فون کی اسمبلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن ڈیجیٹل خدمات کے وسیع استعمال کی راہ میں کوریج کی کمی، موبائل فون کی استطاعت، کمزور ڈیجیٹل خواندگی، خواتین کی محدود رسائی، اور روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل خدمات کے محدود استعمال جیسے مسائل اب بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی تازہ درجہ بندی حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن اسے مکمل کامیابی کی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ بہتر یہ ہوگا کہ اسے ایک کمزور ابتدائی بنیاد سے ہونے والی بہتری کے طور پر دیکھا جائے۔</strong></p>
<p>ملک کا آئی ڈی آئی اسکور 2025 میں 56.4 سے بڑھ کر 2026 میں 67.7 ہو گیا، جو سالانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ 2023 سے اب تک یہ اسکور 48.7 سے بڑھ کر 67.7 تک پہنچ چکا ہے، جو یقیناً ایک نمایاں پیش رفت ہے۔</p>
<p>تاہم پاکستان اب بھی کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک  کے اوسط 68.9 سے قدرے نیچے، ایشیا پیسیفک کے اوسط سے خاصا پیچھے، اور عالمی اوسط سے بھی کم ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین اس انڈیکس میں ممالک کی درجہ بندی جاری نہیں کرتی بلکہ صرف اسکور جاری کرتی ہے تاکہ جامع اور بامعنی رابطہ کاری  کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس پیمانے پر پاکستان کی پیش رفت مثبت ضرور ہے، لیکن اسکور کی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا ڈیجیٹل چیلنج صرف نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق اپنانے ، ملکیت اور استعمال سے بھی ہے۔</p>
<p>انڈیکس کے دو بنیادی ستون، یعنی یونیورسل کنیکٹیویٹی اور میننگ فل کنیکٹیویٹی ، اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا میننگ فل کنیکٹیویٹی اسکور 78.5 ہے، جبکہ  یونیورسل کنیکٹیویٹی کا اسکور صرف 56.8 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو افراد پہلے ہی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، وہ ڈیجیٹل خدمات کو نسبتاً مؤثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں، لیکن آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی ڈیجیٹل معیشت سے باہر ہے۔ یہی پاکستان کی ڈیجیٹل کہانی کی سب سے بڑی خرابی ہے۔</p>
<p>ملک میں ڈیٹا نسبتاً سستا ہے اور منسلک صارفین کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، مگر رسائی اب بھی ہمہ گیر  نہیں بن سکی۔</p>
<p>پاکستان کی سب سے نمایاں طاقت سستی خدمات  ہے۔ موبائل ڈیٹا اور وائس پیکج کی لاگت فی کس مجموعی قومی آمدنی کا صرف 1.4 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ آئی ٹی یو کے مقررہ 1 فیصد ہدف سے ابھی زیادہ ہے، لیکن پھر بھی یہ کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک اور ایشیا پیسیفک کے اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ پاکستان کی ایک پائیدار ڈیجیٹل برتری کی عکاسی کرتا ہے، یعنی ایک انتہائی مسابقتی اور کم قیمت موبائل مارکیٹ۔</p>
<p>تاہم صرف سستی خدمات ڈیجیٹل خلیج  کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ درحقیقت یہ ایک تضاد بھی ہے۔ اگر موبائل انٹرنیٹ اتنا سستا ہے تو پھر ہر 100 افراد میں صرف 55 فعال موبائل براڈبینڈ صارفین کیوں ہیں؟ یہ پاکستان کی ایک بڑی کمزوری ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ صرف قیمت ہی رکاوٹ نہیں۔</p>
<p>انڈیکس کے مطابق موبائل فون کی قیمت، آلات  کی کم ملکیت، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، مقامی اور مفید آن لائن مواد کی محدود دستیابی، اور خواتین کی رسائی میں صنفی فرق وہ اہم عوامل ہیں جو ڈیجیٹل خدمات کو اپنانے کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔</p>
<p>خاص طور پر ڈیوائس کی ملکیت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 49.8 فیصد افراد کے پاس ذاتی موبائل فون موجود ہے۔ اگر لوگوں کے پاس مناسب ڈیوائس ہی نہ ہو تو سستا ڈیٹا بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتحال ای کامرس، مالیاتی شمولیت، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدی معیشت کے قیام جیسے اہداف کے لیے بھی رکاوٹ بنتی ہے۔</p>
<p>کوریج  بھی ایک تشویشناک پہلو ہے۔ پاکستان میں  تھری جی اور فور جی دونوں کی آبادی کے لحاظ سے کوریج 81 فیصد بتائی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 20 فیصد آبادی اب بھی موبائل براڈبینڈ کی رسائی سے باہر ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ خلا دیہی اور دور دراز علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے، جو پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ پیمائش سے متعلق ایک اہم احتیاط بھی موجود ہے۔ آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس ہر اس عنصر کا احاطہ نہیں کرتا جو ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم ہے۔ اس میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی، انٹرنیٹ کی رفتار، ڈیجیٹل مہارتیں، آن لائن تحفظ اور سائبر سکیورٹی شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ یہ بھی خبردار کرتی ہے کہ قومی سطح کے اوسط اعداد و شمار مختلف علاقوں اور آبادی کے مختلف طبقات کے درمیان موجود نمایاں فرق کو چھپا سکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا ممکن ہے کہ پاکستان میں حقیقی ڈیجیٹل خلیج اس سرخی میں نظر آنے والے اسکور سے بھی زیادہ وسیع ہو۔</p>
<p>پالیسی کے اعتبار سے نتیجہ بالکل واضح ہے۔ پاکستان نے پیش رفت ضرور کی ہے اور سستی موبائل خدمات اس کی حقیقی طاقت ہیں۔ ڈیٹا سستا ہے، مقامی سطح پر موبائل فون کی اسمبلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن ڈیجیٹل خدمات کے وسیع استعمال کی راہ میں کوریج کی کمی، موبائل فون کی استطاعت، کمزور ڈیجیٹل خواندگی، خواتین کی محدود رسائی، اور روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل خدمات کے محدود استعمال جیسے مسائل اب بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288443</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 10:49:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/08104509395613b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/08104509395613b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288422/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آئی این آئی ایل) کا قیام پاکستان میں 1948 میں عمل میں آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا بنیادی کاروبار گیلوانائزڈ اسٹیل پائپس، اے پی آئی لائن پائپس، پریسیژن اسٹیل ٹیوبز، نیز پولیمر پائپس اور فٹنگز کی تیاری اور فروخت ہے۔ مقامی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آئی این آئی ایل دنیا کے تقریباً 60 ممالک میں بھی اپنی موجودگی رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حصص داری کا ڈھانچہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک آئی این آئی ایل کے مجموعی طور پر 131.882 ملین جاری شدہ حصص تھے، جو 4,499 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔ ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر، اسپانسرز اور ان کے اہلِ خانہ کے پاس کمپنی کے 42.989 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑا حصہ تھا۔ اس کے بعد سرکاری مالیاتی اداروں، این آئی ٹی اور این بی پی سے وابستہ کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر 23.67 فیصد حصص موجود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727237c6c00a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727237c6c00a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقامی عام شہریوں کے پاس آئی این آئی ایل کے 20.70 فیصد حصص ہیں، جبکہ مضاربہ جات اور میوچل فنڈز کی ملکیت میں 3.74 فیصد حصص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری، نجی اور دیگر کمپنیوں کے پاس آئی این آئی ایل کے 3.55 فیصد حصص ہیں، جبکہ بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) کے پاس 2.45 فیصد حصص ہیں۔ تقریباً 1.45 فیصد حصص انشورنس کمپنیوں اور 1.13 فیصد وابستہ کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی کارکردگی (2021 تا 2025)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ جائزہ عرصے کے دوران آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) اور منافع (باٹم لائن) میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ 2021 اور 2022 میں کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا، تاہم 2023 میں اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2024 میں آئی این آئی ایل کی خالص فروخت میں دوبارہ بہتری آئی، لیکن 2025 میں یہ ایک بار پھر نمایاں طور پر گر گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07072723799bb1b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07072723799bb1b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، کمپنی کے خالص منافع (باٹم لائن) میں اضافہ صرف 2021 اور 2023 میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2020 میں کمپنی کو خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ 2020 میں آئی این آئی ایل کے منافع کے مارجنز میں کمی آئی، تاہم 2021 میں ان میں نمایاں بحالی دیکھی گئی۔ 2022 میں مجموعی منافع (گراس مارجن) اور خالص منافع (نیٹ مارجن) سکڑ گئے، جبکہ آپریٹنگ مارجن میں بہتری آئی۔ 2023 میں تمام مارجنز میں نمایاں بحالی ہوئی اور آپریٹنگ و نیٹ مارجن اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں گراس مارجن میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ اور نیٹ مارجنز میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے بعد 2025 میں تمام مارجنز ایک بار پھر تنزلی کا شکار ہوگئے۔ زیرِ جائزہ مدت کی تفصیلی کارکردگی کا جائزہ درج ذیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سال بہ سال 52.60 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور یہ 28,940.10 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس کامیابی کے پیچھے مقامی فروخت کے حجم میں 25 فیصد اور برآمدی فروخت کے حجم میں 71 فیصد اضافہ کارفرما تھا۔ اسی سال مقامی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 8.99 فیصد بہتری آئی، جبکہ مقامی اسٹیل اور آئرن کے شعبوں نے بھی 1.66 فیصد کی بحالی ریکارڈ کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727239e81077.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727239e81077.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2021 میں اسٹیل کی ریکارڈ بلند قیمتوں کے باعث فروخت کی لاگت میں بھی 41.91 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، فروخت کے حجم میں اضافے اور آئی این آئی ایل کی مصنوعات کی بہتر قیمتوں کے نتیجے میں مجموعی منافع میں سال بہ سال 189.76 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی پی مارجن میں نمایاں بحالی آئی اور یہ 2020 کے 7.23 فیصد سے بڑھ کر 2021 میں 13.73 فیصد ہو گیا۔ تقسیمی اخراجات میں 83.78 فیصد اضافہ بلند افراطِ زر اور برآمدات میں اضافے کے باعث سمندری مال برداری کے کرایوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے 2021 میں انتظامی اخراجات میں بھی 28.26 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنے اور فراخدلانہ عطیات کے باعث دیگر اخراجات میں 514.129 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کے باعث زرِ مبادلہ سے حاصل ہونے والا منافع معمولی کم ہوا، تاہم ذیلی کمپنی سے زیادہ ڈیویڈنڈ اور کرایہ کی آمدنی نے صورتحال کو سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں دیگر آمدنی میں سال بہ سال 81.70 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے گزشتہ برسوں میں تجارتی واجبات پر بنائے گئے 52.57 ملین روپے کے متوقع نقصان کے الاؤنس کو بھی 2021 میں واپس لے لیا۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں 272.85 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور او پی مارجن 2020 کے 4.26 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 10.42 فیصد ہو گیا۔ سال کے دوران ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے باعث مالیاتی لاگت بھی 38.97 فیصد کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں آئی این آئی ایل نے 2,314.56 ملین روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ این پی مارجن 8 فیصد اور فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 17.55 روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں 2020 میں کمپنی کو 694.20 ملین روپے کا خالص خسارہ اور فی حصص 5.26 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سال بہ سال 30.82 فیصد کا مضبوط اضافہ ہوا اور یہ 37,857.86 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ مقامی مارکیٹ میں غیر یقینی معاشی و سیاسی صورتحال اور فاٹا/پاٹا کے کاروباری اداروں کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کے غلط استعمال کے باعث فروخت کا حجم سال بہ سال 10 فیصد کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، یورپی منڈیوں تک بہتر رسائی کے باعث 2022 میں برآمدی فروخت کا حجم سال بہ سال 9 فیصد بڑھا، جس نے افغانستان اور سری لنکا میں سیاسی عدم استحکام کے باعث کمزور فروخت کے اثرات کو کافی حد تک متوازن کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیل کی تاریخی بلند قیمتوں اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث 2022 میں فروخت کی لاگت میں سال بہ سال 32.93 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2022 میں مجموعی منافع 17.49 فیصد بڑھا، تاہم جی پی مارجن کم ہو کر 12.33 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کمپنی نے سخت لاگت کنٹرول اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں انتظامی اخراجات میں 9.77 فیصد کمی آئی۔ تاہم برآمدی فروخت کے حجم میں اضافے اور اس کے باعث مال برداری کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے فروخت و تقسیمی اخراجات سال بہ سال 73.17 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمپنی سے موصول ہونے والے ڈیویڈنڈ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث زرِ مبادلہ سے حاصل ہونے والے نمایاں منافع کی بدولت 2022 میں دیگر آمدنی میں سال بہ سال 209.26 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع سے متعلق کم رقوم مختص کرنے، عطیات اور کاروباری ترقی کے اخراجات میں کمی کے باعث 2022 میں دیگر اخراجات 34 فیصد کم ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں 60.52 فیصد اضافہ ہوا جبکہ او پی مارجن بھی بڑھ کر 12.78 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ خوشحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور اضافی قرض گیری کے باعث مالیاتی لاگت میں 56.39 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سپر ٹیکس کے نفاذ سے مؤثر ٹیکس شرح بھی بڑھ گئی۔ ان عوامل کے نتیجے میں 2022 میں خالص منافع سال بہ سال 6.87 فیصد کم ہو کر 2,155.67 ملین روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں این پی مارجن بھی کم ہو کر 5.70 فیصد رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 16.35 روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل دو برس تک آمدنی میں اضافے کے بعد 2023 میں آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) 29.24 فیصد کم ہو کر 26,786.77 ملین روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام، درآمدی پابندیوں کے باعث آٹو صنعت کی بندش، اور تعمیرات و انفراسٹرکچر سے متعلق سرگرمیوں کی سست روی کے باعث 2023 میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 10.26 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ 2022 میں اس شعبے نے 10.6 فیصد نمو ریکارڈ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان کی اسٹیل اور آئرن صنعت بھی 2022 میں 16.6 فیصد نمو کے مقابلے میں 2023 میں 4 فیصد سکڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مقامی فروخت کا حجم 38 فیصد کم ہوگیا۔ برآمدی فروخت بھی متاثر کن نہ رہی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ طلب اور فروخت کے حجم میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت میں سال بہ سال 29.60 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں 2023 میں جی پی مارجن بڑھ کر 12.77 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت و تقسیمی اخراجات کم فروخت کے باعث مال برداری کے اخراجات میں کمی کی وجہ سے 2023 میں 45.75 فیصد گھٹ گئے۔ دوسری جانب افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے انتظامی اخراجات میں معمولی 1.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے کم رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 29.58 فیصد کی نمایاں کمی آئی۔ وابستہ کمپنی سے کم ڈیویڈنڈ آمدنی اور زرِ مبادلہ سے کم منافع کے باعث دیگر آمدنی بھی 2023 میں 5.28 فیصد گھٹ گئی۔ اگرچہ آپریٹنگ منافع سال بہ سال 4.63 فیصد کم ہوا، تاہم او پی مارجن بڑھ کر 17.23 فیصد تک پہنچ گیا۔ مالیاتی لاگت میں 46.54 فیصد اضافہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران کمپنی نے نقد بہاؤ اور ورکنگ کیپیٹل کا مؤثر انداز میں انتظام کیا، جس کے باعث اسے اضافی قرض لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کا اظہار کمپنی کی مضبوط لیکویڈیٹی پوزیشن سے بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا گیئرنگ لیول بھی بہتر ہوا اور گزشتہ چھ برسوں کے دوران تقریباً 60 فیصد رہنے کے بعد 2023 میں کم ہو کر 55 فیصد پر آگیا۔ آئی این آئی ایل کا خالص منافع 2023 میں 5.44 فیصد بڑھ کر 2,272.94 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 17.23 روپے اور این پی مارجن 8.50 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں آئی این آئی ایل کی خالص فروخت میں سالانہ معمولی 9.02 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 29,203.14 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم سال بھر درآمدی پابندیاں برقرار رہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آٹوموبائل صنعت 37.4 فیصد سکڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو اور تعمیراتی شعبوں کی جانب سے کمزور طلب کے باعث 2024 میں مقامی اسٹیل اور آئرن صنعت بھی 2.2 فیصد سکڑ گئی۔ اسی دوران آئی این آئی ایل کی مقامی فروخت کا حجم 2.3 فیصد کم ہوا، تاہم فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی اہم برآمدی منڈیوں میں تعمیراتی شعبے کی سست طلب کے باعث 2024 میں برآمدی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں محض 4 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اور پروسیسنگ لاگت میں اضافے کے باعث 2024 میں فروخت کی لاگت 8.56 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 12.19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جی پی مارجن معمولی بڑھ کر 13.15 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت کے کم حجم کے باعث مال برداری اور فارورڈنگ اخراجات میں کمی آنے سے فروخت و تقسیمی اخراجات 2024 میں 3.39 فیصد کم ہوئے۔ دوسری جانب تنخواہوں، گاڑیوں، سفر و آمدورفت اور قانونی و پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات بڑھنے کے باعث انتظامی اخراجات میں 21.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع سے متعلق کم رقوم مختص کیے جانے اور عطیات میں کمی کے باعث دیگر اخراجات 19.89 فیصد کم ہوئے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ اور آئی آئی ایل آسٹریلیا پرائیویٹ لمیٹڈ سے کم ڈیویڈنڈ آمدنی اور سال کے دوران زرِ مبادلہ کے خسارے کے باعث دیگر آمدنی میں 56.26 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں آپریٹنگ منافع 28.95 فیصد کم ہوا، جس کے نتیجے میں او پی مارجن گھٹ کر 11.23 فیصد رہ گیا۔ بہتر ورکنگ کیپیٹل مینجمنٹ کے باعث مالیاتی لاگت میں 14.97 فیصد کمی آئی، جس سے کمپنی کا گیئرنگ ریشو گزشتہ برسوں کی تاریخی 60 فیصد سطح سے کم ہو کر 2024 میں 42 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں آئی این آئی ایل کا خالص منافع 35.19 فیصد کم ہو کر 1,473.13 ملین روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 11.17 روپے جبکہ این پی مارجن 5.04 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں کمپنی کی خالص فروخت 14 فیصد کم ہو کر 25,096.32 ملین روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ دنیا کی بڑی معیشتوں کی جانب سے نافذ کیے گئے تجارتی تحفظاتی اقدامات تھے، جن کے باعث خام مال کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔ مقامی فروخت بھی 10 فیصد کم ہو کر 22 ارب روپے رہ گئی، جس کی ایک بڑی وجہ فاٹا/پاٹا خطے کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ ٹیکس چھوٹ آئندہ چار برسوں کے دوران مرحلہ وار ختم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کی برآمدی فروخت 36 فیصد کم ہو کر 3.1 ارب روپے رہ گئی۔ اس کی وجہ امریکی حکومت کی جانب سے اسٹیل کی درآمدات پر عائد کیا گیا 50 فیصد ٹیرف تھا، جس سے عالمی منڈی میں رسد کی بہتات اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں فروخت کے حجم میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت 13.46 فیصد کم ہوئی۔ تاہم قیمتوں میں منفی تبدیلیوں کے سبب کمپنی کا مجموعی منافع 18 فیصد گھٹ گیا، جبکہ جی پی مارجن کم ہو کر 12.54 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت کے کم حجم کے باعث مال برداری کے اخراجات میں کمی آئی، تاہم اس کا کچھ اثر اشتہاری اخراجات اور سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافے سے زائل ہوگیا۔ نتیجتاً 2025 میں فروخت و تقسیمی اخراجات میں محض 1.78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے انتظامی اخراجات میں صرف 0.531 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی این آئی ایل نے اپنے افرادی قوت کے ڈھانچے کو مزید مؤثر بناتے ہوئے ملازمین کی تعداد 2024 کے 930 سے کم کر کے 2025 میں 909 کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹرز کے معاوضوں اور منافع سے متعلق زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث 2025 میں دیگر اخراجات 7.45 فیصد بڑھ گئے۔ دوسری جانب ذیلی کمپنیوں، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ اور چنوئے انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن سولیوشنز لمیٹڈ، سے آمدنی میں نمایاں کمی کے باعث دیگر آمدنی 36 فیصد گھٹ گئی۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران تجارتی وصولیوں پر متوقع نقصان کا الاؤنس ریکارڈ کرنے کے برعکس، 2025 میں کمپنی نے 2.12 ملین روپے کے پروویژن کی واپسی ریکارڈ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں آپریٹنگ منافع 33.68 فیصد کم ہوا، جس کے نتیجے میں او پی مارجن گھٹ کر 8.66 فیصد رہ گیا۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی اور بہتر ورکنگ کیپیٹل مینجمنٹ کے باعث مالیاتی لاگت میں 58.63 فیصد کمی آئی۔ آئی این آئی ایل نے 2025 میں 1,104.32 ملین روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو سال بہ سال 25 فیصد کم تھا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 8.37 روپے جبکہ این پی مارجن 4.4 فیصد رہا۔ کمپنی کا او پی مارجن اور این پی مارجن 2025 میں 2021 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی این آئی ایل نے مالی سال 2025-26 میں مضبوط واپسی کے آثار دکھائے ہیں، جس کا اندازہ پہلے نو ماہ کے دوران آمدنی (ٹاپ لائن) میں 16.07 فیصد اضافے سے ہوتا ہے۔ اس عرصے میں کمپنی کی خالص فروخت 21,653.062 ملین روپے ریکارڈ کی گئی۔ مقامی اور برآمدی، دونوں فروخت میں اضافہ ہوا، تاہم ملک میں انفراسٹرکچر پر زیادہ اخراجات اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث مقامی فروخت بدستور نمو کا بنیادی ذریعہ رہی۔ اس عرصے میں فروخت کا حجم 84,529 میٹرک ٹن رہا، جو سال بہ سال 42.50 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے نو ماہ کے دوران فروخت کی لاگت میں 16.54 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی ایک اہم وجہ کیپٹو پاور پلانٹس پر 36.11 ملین روپے کا آف دی گرڈ لیوی عائد کیا جانا تھا۔ علاوہ ازیں، مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی، مال برداری اور خام مال کی بلند لاگت نے بھی اخراجات میں اضافہ کیا۔ اگرچہ مجموعی منافع میں 12.69 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جی پی مارجن 11.96 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 12.32 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سرگرمیوں کے پھیلاؤ، فروخت کے حجم میں اضافے اور افراطِ زر کے دباؤ کے باعث فروخت و تقسیمی اخراجات میں 34.26 فیصد جبکہ انتظامی اخراجات میں 24.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اخراجات میں 4.12 فیصد کمی آئی، جبکہ دیگر آمدنی 70 فیصد اضافے کے ساتھ 1,271.61 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ وابستہ اور ذیلی کمپنیوں سے زیادہ ڈیویڈنڈ آمدنی تھی۔ زیرِ جائزہ گزشتہ تمام برسوں کی طرح اس عرصے میں بھی دیگر آمدنی نے دیگر اخراجات کو مکمل طور پر پورا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی واجبات پر متوقع نقصان کے الاؤنس کی واپسی میں بھی 293.75 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 24.92 فیصد بڑھ گیا اور او پی مارجن 10.10 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 9.34 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی لاگت میں 1.54 فیصد کمی آئی۔ اس کے نتیجے میں خالص منافع 50 فیصد بڑھ کر 1,210.095 ملین روپے تک پہنچ گیا۔ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 9.18 روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.12 روپے تھی۔ اسی طرح این پی مارجن بھی 4.33 فیصد سے بڑھ کر 5.59 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی مارکیٹ میں انفراسٹرکچر سے متعلق سرگرمیوں میں اضافے سے اسٹیل کے شعبے میں طلب بہتر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم عالمی سطح پر چین جیسی اہم منڈیوں میں کمزور طلب کے باعث عالمی طلب کے سست رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثبت پہلو یہ ہے کہ کمپنی اعلیٰ قدر کے حامل اسٹین لیس اسٹیل اور یو پی وی سی مصنوعات کے شعبوں میں قدم رکھ کر اپنی مصنوعات کے تنوع میں اضافہ کر رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ریکوڈک منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے چنوئے انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن سولیوشنز لمیٹڈ میں 34 فیصد حصص بھی حاصل کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنی جغرافیائی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے آئی این آئی ایل یورپ بھی قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پیداواری یونٹس میں شمسی توانائی کے پلانٹس نصب کر کے آپریشنل استعداد بہتر بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سرگرمیوں میں مزید تنوع پیدا کرنے کے لیے کمپنی نے مشترکہ منصوبے کے تحت قائم کنسورشیم کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کان کنی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آئی این آئی ایل) کا قیام پاکستان میں 1948 میں عمل میں آیا۔</strong></p>
<p>کمپنی کا بنیادی کاروبار گیلوانائزڈ اسٹیل پائپس، اے پی آئی لائن پائپس، پریسیژن اسٹیل ٹیوبز، نیز پولیمر پائپس اور فٹنگز کی تیاری اور فروخت ہے۔ مقامی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آئی این آئی ایل دنیا کے تقریباً 60 ممالک میں بھی اپنی موجودگی رکھتی ہے۔</p>
<p><strong>حصص داری کا ڈھانچہ</strong></p>
<p>30 جون 2025 تک آئی این آئی ایل کے مجموعی طور پر 131.882 ملین جاری شدہ حصص تھے، جو 4,499 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔ ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر، اسپانسرز اور ان کے اہلِ خانہ کے پاس کمپنی کے 42.989 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑا حصہ تھا۔ اس کے بعد سرکاری مالیاتی اداروں، این آئی ٹی اور این بی پی سے وابستہ کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر 23.67 فیصد حصص موجود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727237c6c00a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727237c6c00a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مقامی عام شہریوں کے پاس آئی این آئی ایل کے 20.70 فیصد حصص ہیں، جبکہ مضاربہ جات اور میوچل فنڈز کی ملکیت میں 3.74 فیصد حصص ہیں۔</p>
<p>سرکاری، نجی اور دیگر کمپنیوں کے پاس آئی این آئی ایل کے 3.55 فیصد حصص ہیں، جبکہ بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) کے پاس 2.45 فیصد حصص ہیں۔ تقریباً 1.45 فیصد حصص انشورنس کمپنیوں اور 1.13 فیصد وابستہ کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں۔</p>
<p><strong>مالیاتی کارکردگی (2021 تا 2025)</strong></p>
<p>زیرِ جائزہ عرصے کے دوران آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) اور منافع (باٹم لائن) میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ 2021 اور 2022 میں کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا، تاہم 2023 میں اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2024 میں آئی این آئی ایل کی خالص فروخت میں دوبارہ بہتری آئی، لیکن 2025 میں یہ ایک بار پھر نمایاں طور پر گر گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07072723799bb1b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07072723799bb1b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس، کمپنی کے خالص منافع (باٹم لائن) میں اضافہ صرف 2021 اور 2023 میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2020 میں کمپنی کو خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ 2020 میں آئی این آئی ایل کے منافع کے مارجنز میں کمی آئی، تاہم 2021 میں ان میں نمایاں بحالی دیکھی گئی۔ 2022 میں مجموعی منافع (گراس مارجن) اور خالص منافع (نیٹ مارجن) سکڑ گئے، جبکہ آپریٹنگ مارجن میں بہتری آئی۔ 2023 میں تمام مارجنز میں نمایاں بحالی ہوئی اور آپریٹنگ و نیٹ مارجن اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔</p>
<p>2024 میں گراس مارجن میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ اور نیٹ مارجنز میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے بعد 2025 میں تمام مارجنز ایک بار پھر تنزلی کا شکار ہوگئے۔ زیرِ جائزہ مدت کی تفصیلی کارکردگی کا جائزہ درج ذیل ہے۔</p>
<p>2021 میں آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سال بہ سال 52.60 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور یہ 28,940.10 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس کامیابی کے پیچھے مقامی فروخت کے حجم میں 25 فیصد اور برآمدی فروخت کے حجم میں 71 فیصد اضافہ کارفرما تھا۔ اسی سال مقامی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 8.99 فیصد بہتری آئی، جبکہ مقامی اسٹیل اور آئرن کے شعبوں نے بھی 1.66 فیصد کی بحالی ریکارڈ کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727239e81077.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070727239e81077.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2021 میں اسٹیل کی ریکارڈ بلند قیمتوں کے باعث فروخت کی لاگت میں بھی 41.91 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، فروخت کے حجم میں اضافے اور آئی این آئی ایل کی مصنوعات کی بہتر قیمتوں کے نتیجے میں مجموعی منافع میں سال بہ سال 189.76 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>جی پی مارجن میں نمایاں بحالی آئی اور یہ 2020 کے 7.23 فیصد سے بڑھ کر 2021 میں 13.73 فیصد ہو گیا۔ تقسیمی اخراجات میں 83.78 فیصد اضافہ بلند افراطِ زر اور برآمدات میں اضافے کے باعث سمندری مال برداری کے کرایوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے 2021 میں انتظامی اخراجات میں بھی 28.26 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنے اور فراخدلانہ عطیات کے باعث دیگر اخراجات میں 514.129 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا۔</p>
<p>2021 میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کے باعث زرِ مبادلہ سے حاصل ہونے والا منافع معمولی کم ہوا، تاہم ذیلی کمپنی سے زیادہ ڈیویڈنڈ اور کرایہ کی آمدنی نے صورتحال کو سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں دیگر آمدنی میں سال بہ سال 81.70 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>کمپنی نے گزشتہ برسوں میں تجارتی واجبات پر بنائے گئے 52.57 ملین روپے کے متوقع نقصان کے الاؤنس کو بھی 2021 میں واپس لے لیا۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں 272.85 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور او پی مارجن 2020 کے 4.26 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 10.42 فیصد ہو گیا۔ سال کے دوران ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے باعث مالیاتی لاگت بھی 38.97 فیصد کم ہوگئی۔</p>
<p>2021 میں آئی این آئی ایل نے 2,314.56 ملین روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ این پی مارجن 8 فیصد اور فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 17.55 روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں 2020 میں کمپنی کو 694.20 ملین روپے کا خالص خسارہ اور فی حصص 5.26 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>2022 میں کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سال بہ سال 30.82 فیصد کا مضبوط اضافہ ہوا اور یہ 37,857.86 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ مقامی مارکیٹ میں غیر یقینی معاشی و سیاسی صورتحال اور فاٹا/پاٹا کے کاروباری اداروں کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کے غلط استعمال کے باعث فروخت کا حجم سال بہ سال 10 فیصد کم رہا۔</p>
<p>اس کے برعکس، یورپی منڈیوں تک بہتر رسائی کے باعث 2022 میں برآمدی فروخت کا حجم سال بہ سال 9 فیصد بڑھا، جس نے افغانستان اور سری لنکا میں سیاسی عدم استحکام کے باعث کمزور فروخت کے اثرات کو کافی حد تک متوازن کر دیا۔</p>
<p>اسٹیل کی تاریخی بلند قیمتوں اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث 2022 میں فروخت کی لاگت میں سال بہ سال 32.93 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اگرچہ 2022 میں مجموعی منافع 17.49 فیصد بڑھا، تاہم جی پی مارجن کم ہو کر 12.33 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2022 میں کمپنی نے سخت لاگت کنٹرول اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں انتظامی اخراجات میں 9.77 فیصد کمی آئی۔ تاہم برآمدی فروخت کے حجم میں اضافے اور اس کے باعث مال برداری کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے فروخت و تقسیمی اخراجات سال بہ سال 73.17 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>ذیلی کمپنی سے موصول ہونے والے ڈیویڈنڈ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث زرِ مبادلہ سے حاصل ہونے والے نمایاں منافع کی بدولت 2022 میں دیگر آمدنی میں سال بہ سال 209.26 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>منافع سے متعلق کم رقوم مختص کرنے، عطیات اور کاروباری ترقی کے اخراجات میں کمی کے باعث 2022 میں دیگر اخراجات 34 فیصد کم ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں 60.52 فیصد اضافہ ہوا جبکہ او پی مارجن بھی بڑھ کر 12.78 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>تاہم یہ خوشحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور اضافی قرض گیری کے باعث مالیاتی لاگت میں 56.39 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سپر ٹیکس کے نفاذ سے مؤثر ٹیکس شرح بھی بڑھ گئی۔ ان عوامل کے نتیجے میں 2022 میں خالص منافع سال بہ سال 6.87 فیصد کم ہو کر 2,155.67 ملین روپے رہ گیا۔</p>
<p>2022 میں این پی مارجن بھی کم ہو کر 5.70 فیصد رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 16.35 روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مسلسل دو برس تک آمدنی میں اضافے کے بعد 2023 میں آئی این آئی ایل کی آمدنی (ٹاپ لائن) 29.24 فیصد کم ہو کر 26,786.77 ملین روپے رہ گئی۔</p>
<p>ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام، درآمدی پابندیوں کے باعث آٹو صنعت کی بندش، اور تعمیرات و انفراسٹرکچر سے متعلق سرگرمیوں کی سست روی کے باعث 2023 میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 10.26 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ 2022 میں اس شعبے نے 10.6 فیصد نمو ریکارڈ کی تھی۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان کی اسٹیل اور آئرن صنعت بھی 2022 میں 16.6 فیصد نمو کے مقابلے میں 2023 میں 4 فیصد سکڑ گئی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مقامی فروخت کا حجم 38 فیصد کم ہوگیا۔ برآمدی فروخت بھی متاثر کن نہ رہی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ طلب اور فروخت کے حجم میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت میں سال بہ سال 29.60 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں 2023 میں جی پی مارجن بڑھ کر 12.77 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>فروخت و تقسیمی اخراجات کم فروخت کے باعث مال برداری کے اخراجات میں کمی کی وجہ سے 2023 میں 45.75 فیصد گھٹ گئے۔ دوسری جانب افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے انتظامی اخراجات میں معمولی 1.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2023 میں ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے کم رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 29.58 فیصد کی نمایاں کمی آئی۔ وابستہ کمپنی سے کم ڈیویڈنڈ آمدنی اور زرِ مبادلہ سے کم منافع کے باعث دیگر آمدنی بھی 2023 میں 5.28 فیصد گھٹ گئی۔ اگرچہ آپریٹنگ منافع سال بہ سال 4.63 فیصد کم ہوا، تاہم او پی مارجن بڑھ کر 17.23 فیصد تک پہنچ گیا۔ مالیاتی لاگت میں 46.54 فیصد اضافہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>سال کے دوران کمپنی نے نقد بہاؤ اور ورکنگ کیپیٹل کا مؤثر انداز میں انتظام کیا، جس کے باعث اسے اضافی قرض لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کا اظہار کمپنی کی مضبوط لیکویڈیٹی پوزیشن سے بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا گیئرنگ لیول بھی بہتر ہوا اور گزشتہ چھ برسوں کے دوران تقریباً 60 فیصد رہنے کے بعد 2023 میں کم ہو کر 55 فیصد پر آگیا۔ آئی این آئی ایل کا خالص منافع 2023 میں 5.44 فیصد بڑھ کر 2,272.94 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 17.23 روپے اور این پی مارجن 8.50 فیصد رہا۔</p>
<p>2024 میں آئی این آئی ایل کی خالص فروخت میں سالانہ معمولی 9.02 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 29,203.14 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم سال بھر درآمدی پابندیاں برقرار رہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آٹوموبائل صنعت 37.4 فیصد سکڑ گئی۔</p>
<p>آٹو اور تعمیراتی شعبوں کی جانب سے کمزور طلب کے باعث 2024 میں مقامی اسٹیل اور آئرن صنعت بھی 2.2 فیصد سکڑ گئی۔ اسی دوران آئی این آئی ایل کی مقامی فروخت کا حجم 2.3 فیصد کم ہوا، تاہم فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>کمپنی کی اہم برآمدی منڈیوں میں تعمیراتی شعبے کی سست طلب کے باعث 2024 میں برآمدی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں محض 4 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>توانائی اور پروسیسنگ لاگت میں اضافے کے باعث 2024 میں فروخت کی لاگت 8.56 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 12.19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جی پی مارجن معمولی بڑھ کر 13.15 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>فروخت کے کم حجم کے باعث مال برداری اور فارورڈنگ اخراجات میں کمی آنے سے فروخت و تقسیمی اخراجات 2024 میں 3.39 فیصد کم ہوئے۔ دوسری جانب تنخواہوں، گاڑیوں، سفر و آمدورفت اور قانونی و پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات بڑھنے کے باعث انتظامی اخراجات میں 21.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>منافع سے متعلق کم رقوم مختص کیے جانے اور عطیات میں کمی کے باعث دیگر اخراجات 19.89 فیصد کم ہوئے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ اور آئی آئی ایل آسٹریلیا پرائیویٹ لمیٹڈ سے کم ڈیویڈنڈ آمدنی اور سال کے دوران زرِ مبادلہ کے خسارے کے باعث دیگر آمدنی میں 56.26 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>2024 میں آپریٹنگ منافع 28.95 فیصد کم ہوا، جس کے نتیجے میں او پی مارجن گھٹ کر 11.23 فیصد رہ گیا۔ بہتر ورکنگ کیپیٹل مینجمنٹ کے باعث مالیاتی لاگت میں 14.97 فیصد کمی آئی، جس سے کمپنی کا گیئرنگ ریشو گزشتہ برسوں کی تاریخی 60 فیصد سطح سے کم ہو کر 2024 میں 42 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2024 میں آئی این آئی ایل کا خالص منافع 35.19 فیصد کم ہو کر 1,473.13 ملین روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 11.17 روپے جبکہ این پی مارجن 5.04 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2025 میں کمپنی کی خالص فروخت 14 فیصد کم ہو کر 25,096.32 ملین روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ دنیا کی بڑی معیشتوں کی جانب سے نافذ کیے گئے تجارتی تحفظاتی اقدامات تھے، جن کے باعث خام مال کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔ مقامی فروخت بھی 10 فیصد کم ہو کر 22 ارب روپے رہ گئی، جس کی ایک بڑی وجہ فاٹا/پاٹا خطے کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال تھا۔</p>
<p>تاہم، یہ ٹیکس چھوٹ آئندہ چار برسوں کے دوران مرحلہ وار ختم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کی برآمدی فروخت 36 فیصد کم ہو کر 3.1 ارب روپے رہ گئی۔ اس کی وجہ امریکی حکومت کی جانب سے اسٹیل کی درآمدات پر عائد کیا گیا 50 فیصد ٹیرف تھا، جس سے عالمی منڈی میں رسد کی بہتات اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔</p>
<p>2025 میں فروخت کے حجم میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت 13.46 فیصد کم ہوئی۔ تاہم قیمتوں میں منفی تبدیلیوں کے سبب کمپنی کا مجموعی منافع 18 فیصد گھٹ گیا، جبکہ جی پی مارجن کم ہو کر 12.54 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>فروخت کے کم حجم کے باعث مال برداری کے اخراجات میں کمی آئی، تاہم اس کا کچھ اثر اشتہاری اخراجات اور سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافے سے زائل ہوگیا۔ نتیجتاً 2025 میں فروخت و تقسیمی اخراجات میں محض 1.78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ افراطِ زر کے دباؤ کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بڑھنے سے انتظامی اخراجات میں صرف 0.531 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی این آئی ایل نے اپنے افرادی قوت کے ڈھانچے کو مزید مؤثر بناتے ہوئے ملازمین کی تعداد 2024 کے 930 سے کم کر کے 2025 میں 909 کر دی۔</p>
<p>آڈیٹرز کے معاوضوں اور منافع سے متعلق زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث 2025 میں دیگر اخراجات 7.45 فیصد بڑھ گئے۔ دوسری جانب ذیلی کمپنیوں، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ اور چنوئے انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن سولیوشنز لمیٹڈ، سے آمدنی میں نمایاں کمی کے باعث دیگر آمدنی 36 فیصد گھٹ گئی۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران تجارتی وصولیوں پر متوقع نقصان کا الاؤنس ریکارڈ کرنے کے برعکس، 2025 میں کمپنی نے 2.12 ملین روپے کے پروویژن کی واپسی ریکارڈ کی۔</p>
<p>2025 میں آپریٹنگ منافع 33.68 فیصد کم ہوا، جس کے نتیجے میں او پی مارجن گھٹ کر 8.66 فیصد رہ گیا۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی اور بہتر ورکنگ کیپیٹل مینجمنٹ کے باعث مالیاتی لاگت میں 58.63 فیصد کمی آئی۔ آئی این آئی ایل نے 2025 میں 1,104.32 ملین روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو سال بہ سال 25 فیصد کم تھا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 8.37 روپے جبکہ این پی مارجن 4.4 فیصد رہا۔ کمپنی کا او پی مارجن اور این پی مارجن 2025 میں 2021 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p><strong>حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)</strong></p>
<p>آئی این آئی ایل نے مالی سال 2025-26 میں مضبوط واپسی کے آثار دکھائے ہیں، جس کا اندازہ پہلے نو ماہ کے دوران آمدنی (ٹاپ لائن) میں 16.07 فیصد اضافے سے ہوتا ہے۔ اس عرصے میں کمپنی کی خالص فروخت 21,653.062 ملین روپے ریکارڈ کی گئی۔ مقامی اور برآمدی، دونوں فروخت میں اضافہ ہوا، تاہم ملک میں انفراسٹرکچر پر زیادہ اخراجات اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث مقامی فروخت بدستور نمو کا بنیادی ذریعہ رہی۔ اس عرصے میں فروخت کا حجم 84,529 میٹرک ٹن رہا، جو سال بہ سال 42.50 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>پہلے نو ماہ کے دوران فروخت کی لاگت میں 16.54 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی ایک اہم وجہ کیپٹو پاور پلانٹس پر 36.11 ملین روپے کا آف دی گرڈ لیوی عائد کیا جانا تھا۔ علاوہ ازیں، مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی، مال برداری اور خام مال کی بلند لاگت نے بھی اخراجات میں اضافہ کیا۔ اگرچہ مجموعی منافع میں 12.69 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جی پی مارجن 11.96 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 12.32 فیصد تھا۔</p>
<p>کاروباری سرگرمیوں کے پھیلاؤ، فروخت کے حجم میں اضافے اور افراطِ زر کے دباؤ کے باعث فروخت و تقسیمی اخراجات میں 34.26 فیصد جبکہ انتظامی اخراجات میں 24.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>دیگر اخراجات میں 4.12 فیصد کمی آئی، جبکہ دیگر آمدنی 70 فیصد اضافے کے ساتھ 1,271.61 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ وابستہ اور ذیلی کمپنیوں سے زیادہ ڈیویڈنڈ آمدنی تھی۔ زیرِ جائزہ گزشتہ تمام برسوں کی طرح اس عرصے میں بھی دیگر آمدنی نے دیگر اخراجات کو مکمل طور پر پورا کر دیا۔</p>
<p>تجارتی واجبات پر متوقع نقصان کے الاؤنس کی واپسی میں بھی 293.75 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 24.92 فیصد بڑھ گیا اور او پی مارجن 10.10 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 9.34 فیصد تھا۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی لاگت میں 1.54 فیصد کمی آئی۔ اس کے نتیجے میں خالص منافع 50 فیصد بڑھ کر 1,210.095 ملین روپے تک پہنچ گیا۔ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 9.18 روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.12 روپے تھی۔ اسی طرح این پی مارجن بھی 4.33 فیصد سے بڑھ کر 5.59 فیصد ہو گیا۔</p>
<p><strong>مستقبل کا منظرنامہ</strong></p>
<p>مقامی مارکیٹ میں انفراسٹرکچر سے متعلق سرگرمیوں میں اضافے سے اسٹیل کے شعبے میں طلب بہتر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم عالمی سطح پر چین جیسی اہم منڈیوں میں کمزور طلب کے باعث عالمی طلب کے سست رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>مثبت پہلو یہ ہے کہ کمپنی اعلیٰ قدر کے حامل اسٹین لیس اسٹیل اور یو پی وی سی مصنوعات کے شعبوں میں قدم رکھ کر اپنی مصنوعات کے تنوع میں اضافہ کر رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ریکوڈک منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے چنوئے انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن سولیوشنز لمیٹڈ میں 34 فیصد حصص بھی حاصل کیے ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے اپنی جغرافیائی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے آئی این آئی ایل یورپ بھی قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پیداواری یونٹس میں شمسی توانائی کے پلانٹس نصب کر کے آپریشنل استعداد بہتر بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>کاروباری سرگرمیوں میں مزید تنوع پیدا کرنے کے لیے کمپنی نے مشترکہ منصوبے کے تحت قائم کنسورشیم کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کان کنی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288422</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 18:47:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0717185450990a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0717185450990a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس دہندگان پر بڑھتا بوجھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نسبتاً محدود تعداد میں موجود ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈالر کی بنیاد پر ٹیکس وصولیوں میں 86 فیصد اضافے کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے۔ تاہم ٹیکس نیٹ میں کوئی خاطر خواہ توسیع نہیں ہوئی، کیونکہ نہ تو ٹیکس دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور نہ ہی نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ٹیکس کا بوجھ بڑھتے ہوئے انداز میں انہی موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال کے دوران 13 کھرب روپے کی وصولیاں کیں، جو آئی ایم ایف کے تازہ ترین تخمینے سے 500 ارب روپے سے زیادہ کم تھیں اور سابقہ ہدف سے تقریباً ایک کھرب روپے کم رہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے یہ شرح 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ ڈالر کے حساب سے وصولیوں میں اضافہ بظاہر بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں شدید کمی کے باعث بنیاد کم تھی۔ اب یہ اعداد و شمار زیادہ نظر آتے ہیں، جبکہ متعدد ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ پاکستانی کرنسی اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط دکھائی جا رہی ہے۔ اگر مستقبل میں کرنسی اپنی اصل سطح پر آتی ہے تو ڈالر کی بنیاد پر یہ موازنہ کمزور پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے حسبِ روایت جون کے مہینے میں ایڈوانس ٹیکس ادائیگیوں پر زیادہ زور دیا تاکہ ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔ اب اصل چیلنج مالی سال 2026-27 میں 17 فیصد سے زائد نمو حاصل کرتے ہوئے 15.3 کھرب روپے کی وصولیوں کا ہدف پورا کرنا ہے۔ یہ ہدف اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ بعض شعبوں میں ٹیکس شرحوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور مجموعی شرحوں میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ موجودہ ٹیکس بنیاد پر مزید دباؤ کی صورت میں نکلے گا۔ معیشت میں مطلوبہ رفتار پیدا نہیں ہو رہی اور ٹیکس وصولیوں میں قدرتی اضافہ محدود رہے گا۔ ایف بی آر ممکنہ طور پر ریکوری کے اقدامات مزید سخت کرے گا، جس کے آثار پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کاروباری طبقہ خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ آمدنی کے ہدف کے حصول کے لیے کوئی واضح ریونیو حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مسئلہ مختلف اقسام کی آمدنی پر ٹیکس شرحوں کا غیر متوازن نظام ہے۔ بعض آمدنیوں پر صرف 1 فیصد یا اس سے بھی کم ٹیکس عائد ہے، جبکہ بعض صورتوں میں شرح 40 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام ڈالر کی آمد بڑھانے کے لیے ہر ممکن رعایت فراہم کر رہے ہیں، چاہے وہ آئی ٹی برآمدات ہوں، فری لانس آمدنی ہو یا بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر۔ لیکن ڈالر کے حصول کی اس دوڑ میں مقامی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باضابطہ (دستاویزی) مقامی شعبہ ایک حد سے زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ معمولی کمی کے باوجود بڑی فارمل کمپنیاں مؤثر طور پر اپنی آمدنی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کر رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ تشکیل دینے  کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ کم از کم ٹیکس  بعض کاروباروں، خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت، کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور اس سے اشیا کی برآمدات میں اضافے کی رفتار متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی معیشت  کو فروغ دینے کے لیے کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آتی۔ مالیاتی اہداف کا ایک حصہ صوبوں سے تقریباً ایک کھرب روپے کے گرانٹس حاصل کرکے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے صوبوں پر اپنی آمدنی بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا، اور خدمات پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے ان کا دباؤ پہلے ہی بعض کاروباروں کو محسوس ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری برادری شدید دباؤ میں ہے۔ انہیں نہ صرف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں دینا پڑ رہا ہے بلکہ ٹیکس معاملات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت بھی صرف کرنا پڑتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مجموعی کاروباری ماحول منفی ہے اور غیر ضروری دباؤ سرمایہ کاری کو دور رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان یہی ہے کہ رواں مالی سال میں صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئے گی، کیونکہ دسمبر 2026 تک ایف بی آر کے محصولات کا ہدف غالباً آئی ایم ایف کی ایک لازمی اور فیصلہ کن شرط  بن جائے گا۔ اس سال دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انتہائی ضروری سرمایہ کاری کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ ملکی بچتوں کا بڑا حصہ حکومت جذب کرتی رہے گی، جہاں اخراجات کا نظام اب بھی غیر مؤثر سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نسبتاً محدود تعداد میں موجود ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈالر کی بنیاد پر ٹیکس وصولیوں میں 86 فیصد اضافے کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے۔ تاہم ٹیکس نیٹ میں کوئی خاطر خواہ توسیع نہیں ہوئی، کیونکہ نہ تو ٹیکس دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور نہ ہی نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ٹیکس کا بوجھ بڑھتے ہوئے انداز میں انہی موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہوتا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال کے دوران 13 کھرب روپے کی وصولیاں کیں، جو آئی ایم ایف کے تازہ ترین تخمینے سے 500 ارب روپے سے زیادہ کم تھیں اور سابقہ ہدف سے تقریباً ایک کھرب روپے کم رہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے یہ شرح 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ ڈالر کے حساب سے وصولیوں میں اضافہ بظاہر بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں شدید کمی کے باعث بنیاد کم تھی۔ اب یہ اعداد و شمار زیادہ نظر آتے ہیں، جبکہ متعدد ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ پاکستانی کرنسی اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط دکھائی جا رہی ہے۔ اگر مستقبل میں کرنسی اپنی اصل سطح پر آتی ہے تو ڈالر کی بنیاد پر یہ موازنہ کمزور پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>بہت سے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے حسبِ روایت جون کے مہینے میں ایڈوانس ٹیکس ادائیگیوں پر زیادہ زور دیا تاکہ ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔ اب اصل چیلنج مالی سال 2026-27 میں 17 فیصد سے زائد نمو حاصل کرتے ہوئے 15.3 کھرب روپے کی وصولیوں کا ہدف پورا کرنا ہے۔ یہ ہدف اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ بعض شعبوں میں ٹیکس شرحوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور مجموعی شرحوں میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔</p>
<p>اس کا نتیجہ موجودہ ٹیکس بنیاد پر مزید دباؤ کی صورت میں نکلے گا۔ معیشت میں مطلوبہ رفتار پیدا نہیں ہو رہی اور ٹیکس وصولیوں میں قدرتی اضافہ محدود رہے گا۔ ایف بی آر ممکنہ طور پر ریکوری کے اقدامات مزید سخت کرے گا، جس کے آثار پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کاروباری طبقہ خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ آمدنی کے ہدف کے حصول کے لیے کوئی واضح ریونیو حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p>ایک اور مسئلہ مختلف اقسام کی آمدنی پر ٹیکس شرحوں کا غیر متوازن نظام ہے۔ بعض آمدنیوں پر صرف 1 فیصد یا اس سے بھی کم ٹیکس عائد ہے، جبکہ بعض صورتوں میں شرح 40 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام ڈالر کی آمد بڑھانے کے لیے ہر ممکن رعایت فراہم کر رہے ہیں، چاہے وہ آئی ٹی برآمدات ہوں، فری لانس آمدنی ہو یا بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر۔ لیکن ڈالر کے حصول کی اس دوڑ میں مقامی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>باضابطہ (دستاویزی) مقامی شعبہ ایک حد سے زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ معمولی کمی کے باوجود بڑی فارمل کمپنیاں مؤثر طور پر اپنی آمدنی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کر رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ تشکیل دینے  کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ کم از کم ٹیکس  بعض کاروباروں، خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت، کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور اس سے اشیا کی برآمدات میں اضافے کی رفتار متاثر ہوگی۔</p>
<p>دستاویزی معیشت  کو فروغ دینے کے لیے کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آتی۔ مالیاتی اہداف کا ایک حصہ صوبوں سے تقریباً ایک کھرب روپے کے گرانٹس حاصل کرکے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے صوبوں پر اپنی آمدنی بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا، اور خدمات پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے ان کا دباؤ پہلے ہی بعض کاروباروں کو محسوس ہو رہا ہے۔</p>
<p>کاروباری برادری شدید دباؤ میں ہے۔ انہیں نہ صرف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں دینا پڑ رہا ہے بلکہ ٹیکس معاملات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت بھی صرف کرنا پڑتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مجموعی کاروباری ماحول منفی ہے اور غیر ضروری دباؤ سرمایہ کاری کو دور رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>امکان یہی ہے کہ رواں مالی سال میں صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئے گی، کیونکہ دسمبر 2026 تک ایف بی آر کے محصولات کا ہدف غالباً آئی ایم ایف کی ایک لازمی اور فیصلہ کن شرط  بن جائے گا۔ اس سال دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انتہائی ضروری سرمایہ کاری کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ ملکی بچتوں کا بڑا حصہ حکومت جذب کرتی رہے گی، جہاں اخراجات کا نظام اب بھی غیر مؤثر سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288397</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 10:48:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07103535a3eaa4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07103535a3eaa4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کے امکانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288374/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس ٹی پی ایل) کا قیام 1996 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر عمل میں آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی ٹن پلیٹ، دھاتی ڈبوں (کینز) اور دیگر اسٹیل مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ ہے، جو خوردنی تیل، پھلوں، سبزیوں، سمندری خوراک، لبریکنٹس اور دیگر مصنوعات کی پیکیجنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئر ہولڈنگ کا ڈھانچہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کے جاری کردہ حصص کی تعداد 229.279 ملین تھی، جو 5486 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی میں سب سے بڑا حصہ مقامی عام سرمایہ کاروں (لوکل جنرل پبلک) کا ہے، جو مجموعی حصص کا 41.033 فیصد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز، اسپانسرز، چیف ایگزیکٹو، ان کے اہلِ خانہ اور سینئر انتظامیہ کا حصہ ہے، جو کمپنی کے 37.31 فیصد حصص کے مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی سے وابستہ ادارے، جن میں صدیق سنز لمیٹڈ اور صدیق سنز ڈینم ملز لمیٹڈ شامل ہیں، صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کے 15.65 فیصد حصص رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040553edd3537.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040553edd3537.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے 4.28 فیصد حصص غیر ملکی عام سرمایہ کاروں (فارن جنرل پبلک) کے پاس ہیں، جبکہ باقی حصص دیگر زمروں کے شیئر ہولڈرز کی ملکیت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کارکردگی-کا-جائزہ-2021-تا-2025" href="#کارکردگی-کا-جائزہ-2021-تا-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کارکردگی کا جائزہ (2021 تا 2025)&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) 2021 تک مسلسل بڑھتی رہی، تاہم اس کے بعد کے برسوں میں اس میں مسلسل کمی آتی گئی۔ 2021 کو چھوڑ کر زیرِ جائزہ تمام برسوں میں کمپنی کی خالص آمدنی (باٹم لائن) بھی کمزور رہی، یہاں تک کہ 2024 اور 2025 میں کمپنی کو خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران منافع کے مارجنز کا رجحان بھی یکساں نہیں رہا۔ 2020 میں مارجنز اپنی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 2021 میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے، تاہم اس کے بعد اگلے تین برسوں میں دوبارہ دباؤ کا شکار رہے۔ البتہ 2025 میں ان میں کسی حد تک بہتری دیکھی گئی۔ زیرِ جائزہ مدت کی تفصیلی کارکردگی درج ذیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 کمپنی کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا، جب اس کی آمدنی میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی اور اسے خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ تاہم 2021 میں صورتحال یکسر بدل گئی اور یہ سال کمپنی کے لیے غیر معمولی ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2021 میں کمپنی کی آمدنی میں سال بہ سال 64.43 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا اور مجموعی فروخت 5,847.85 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو کمپنی کی تاریخ کی بلند ترین سالانہ شرح نمو تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شاندار کارکردگی مقامی فروخت میں 37 فیصد اور برآمدی فروخت میں 78 فیصد اضافے کے باعث ممکن ہوئی۔ 2021 میں برآمدات کا حصہ کمپنی کی مجموعی آمدنی کا 25 فیصد رہا، جبکہ 2020 میں یہ تناسب 18 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040603111248e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040603111248e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2021 میں ٹن مل بلیک پلیٹ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروخت کی لاگت (کاسٹ آف سیلز) میں سال بہ سال 49.45 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے اثرات صارفین تک منتقل کرنے میں کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 343.66 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی باعث مجموعی منافع کا مارجن (جی پی مارجن) بھی بڑھ کر 13.74 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران انتظامی اخراجات تقریباً دوگنا ہوگئے، جس کی بنیادی وجہ مجاز سرمایہ میں اضافے کے سلسلے میں قانونی اور ریگولیٹری فیس کی ادائیگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تقسیمی اخراجات میں بھی سال بہ سال 83.51 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ برآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ گئے، جو براہِ راست برآمدی فروخت سے منسلک ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اخراجات میں 1680.35 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کی بنیادی وجوہات خام مال کی درآمد پر روپے کی قدر میں کمی کے باعث زرِ مبادلہ کا نقصان اور 2021 میں زیادہ منافع کے باعث ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، دیگر آمدنی میں 78.85 فیصد کمی واقع ہوئی، کیونکہ کم ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث بینک ڈپازٹس پر حاصل ہونے والا منافع گھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، آپریٹنگ اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافے اور دیگر آمدنی میں کمی کے باوجود، مالی سال 2021 میں آپریٹنگ منافع میں 352.35 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن ( او پی مارجین) 9 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اخراجات میں بھی سالانہ 39.28 فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ اس عرصے میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی گئی تھی، تاہم قرضوں پر ہونے والے زرِ مبادلہ کے نقصان نے مالیاتی اخراجات کو بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040606b13eb9e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040606b13eb9e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2021 میں صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ نے اپنی تاریخ کا بلند ترین خالص منافع 322.16 ملین روپے حاصل کیا، جبکہ خالص منافع کا مارجن (این پی مارجن) 5.51 فیصد رہا۔ اس دوران فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.41 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، مالی سال 2020 میں کمپنی کو 23.14 ملین روپے کا خالص خسارہ ہوا تھا، جبکہ فی حصص خسارہ 0.10 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2021 کی یہ شاندار کارکردگی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور 2022 کمپنی کے لیے متعدد چیلنجز لے کر آیا۔ ریکارڈ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، درآمدی پابندیوں اور عالمی سطح پر اشیائے خام کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے (کموڈٹی سپر سائیکل) نے نہ صرف طلب کو متاثر کیا بلکہ منافع کے مارجنز پر بھی شدید دباؤ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مالی سال 2022 میں کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) سال بہ سال 19.24 فیصد کم ہو کر 4,722.75 ملین روپے رہ گئی، جبکہ فروخت کا حجم 47 فیصد گھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں سال بہ سال 54 فیصد اضافہ کیا، لیکن اس کے باوجود وہ آمدنی میں کمی کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ کمپنی نے اس عرصے میں کم پیداواری صلاحیت (کرٹیلڈ کیپسٹی) پر کام کیا، اس لیے فروخت کی لاگت بھی سال بہ سال 18.65 فیصد کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/060406107f0698a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/060406107f0698a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مالی-سال-2022-اور-2023-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2022-اور-2023-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مالی سال 2022 اور 2023 کی کارکردگی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 میں مجموعی منافع سال بہ سال 22.92 فیصد کم ہوا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 13.11 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات تقریباً نصف رہ گئے، جبکہ قانونی اور ریگولیٹری فیس میں کمی کے سبب انتظامی اخراجات بھی 51.31 فیصد کم ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی نے مشکوک ایڈوانسز کے خلاف بھاری پروویژن قائم کیا، تاہم ڈبلیو پی پی ایف کے لیے کم رقم مختص کرنے اور زرِ مبادلہ کے نقصان میں کمی کے باعث دیگر اخراجات مجموعی طور پر 33.23 فیصد کم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے نتیجے میں برآمدی فروخت پر زرِ مبادلہ کا خاطر خواہ منافع حاصل ہوا، جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث بینک ڈپازٹس پر منافع بھی بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں دیگر آمدنی میں 112.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مختلف اخراجات میں کمی آئی، تاہم آپریٹنگ منافع 19 فیصد کم ہوگیا، البتہ آپریٹنگ منافع کا مارجن 9 فیصد پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اخراجات میں 35 فیصد اضافے اور سپر ٹیکس کے نفاذ کے باعث خالص منافع 37.53 فیصد کم ہو کر 201.27 ملین روپے رہ گیا۔ خالص منافع کا مارجن 4.26 فیصد جبکہ فی حصص آمدنی 0.88 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 میں بھی کمپنی کی آمدنی میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مزید 6.97 فیصد گھٹ کر 4393.77 ملین روپے رہ گئی۔ اس دوران فروخت کا حجم بھی 7 فیصد کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا، تاہم عالمی منڈی میں اشیائے خام کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث بڑھتی ہوئی لاگت مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہ کی جا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مجموعی منافع 35.41 فیصد کم ہوگیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 9.10 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی اخراجات اور تنخواہوں پر آنے والے اخراجات میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات 33.61 فیصد کم ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، مہنگائی کے باعث تنخواہوں میں اضافے اور مشکوک قرضوں کے لیے زیادہ پروویژن رکھنے کی وجہ سے انتظامی اخراجات 14.81 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم منافع سے متعلق پروویژنز میں کمی، ایڈوانسز کے خلاف نئی پروویژن نہ بنانے اور زرِ مبادلہ کے نقصان سے بچنے کے باعث دیگر اخراجات میں 89.62 فیصد کی نمایاں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، بینک ڈپازٹس پر زیادہ منافع اور بیرونی تجارتی وصولیوں پر زرِ مبادلہ کے منافع کے باعث دیگر آمدنی 135.11 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آپریٹنگ منافع 37.56 فیصد کم ہوگیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن سکڑ کر 6.06 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند ترین ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث مالیاتی اخراجات میں 27.85 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع تقریباً ختم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 میں خالص منافع سال بہ سال 98.47 فیصد کم ہو کر محض 3.08 ملین روپے رہ گیا۔ اس دوران فی حصص آمدنی 0.01 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن صرف 0.07 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مالی-سال-2024-اور-2025-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2024-اور-2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مالی سال 2024 اور 2025 کی کارکردگی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 میں کمپنی کی خالص فروخت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مزید 7.24 فیصد گھٹ کر 4075.69 ملین روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناموافق معاشی حالات کے باعث طلب میں کمی کے علاوہ نسبتاً کم قیمت پر سیکنڈری ٹن پلیٹ کی بلا روک ٹوک درآمد نے کمپنی کے لیے اپنی مارکیٹ برقرار رکھنا مزید مشکل بنا دیا۔ دوسری جانب مہنگائی، بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ، خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت، توانائی کے بلند نرخ اور روپے کی قدر میں کمی نے بھی کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاٹا اور پاٹا کے لیے سیلز ٹیکس استثنا بھی کمپنی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا، جبکہ تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والی گیلوالوم شیٹس کو خوراک کی پیکنگ میں استعمال کیے جانے سے بھی کمپنی کی مصنوعات کی طلب متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل سیز کھولنے میں مشکلات کے باعث سپلائی چین متاثر رہی، جبکہ مزدوروں سے متعلق مسائل کے سبب سال کے دوران دو مرتبہ پیداواری سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں پیداواری استعداد کا استعمال کم ہو کر 6.96 فیصد رہ گیا، جو ایک سال قبل 9 فیصد تھا۔ اس دوران پیداوار کا حجم 27 فیصد کم ہوگیا، جبکہ فروخت کا حجم بھی 7 فیصد گھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم پیداواری استعداد پر کام کرنے کے باعث فی یونٹ مقررہ لاگت بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں فروخت کی لاگت 3.44 فیصد بڑھ گئی اور کمپنی کو 55.47 ملین روپے کے مجموعی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات 29.52 فیصد کم ہوگئے، جبکہ افرادی قوت کو 198 سے کم کرکے 132 ملازمین تک محدود کرنے کے نتیجے میں انتظامی اخراجات بھی 18.19 فیصد گھٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ایل سی فیس اور دیگر اخراجات کے لیے ایڈوانسز، ایڈوانس ٹیکس، دیگر ایڈوانسز کی رائٹ آف اور بیرونی تجارتی وصولیوں پر غیر حقیقی زرِ مبادلہ نقصان کے باعث دیگر اخراجات میں 1271.90 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر آمدنی میں 17 فیصد کمی واقع ہوئی کیونکہ گزشتہ سال کے برعکس بیرونی تجارتی وصولیوں پر غیر حقیقی زرِ مبادلہ منافع حاصل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ متوقع قرضہ جاتی نقصان کی مد میں 68.25 ملین روپے، ہنگامی ذمہ داریوں کے لیے 820.968 ملین روپے اور اثاثوں کی قدر میں کمی کی مد میں 306.13 ملین روپے کے اضافی چارجز نے بھی مالی نتائج کو بری طرح متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی کو 1401.11 ملین روپے کا آپریٹنگ خسارہ برداشت کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت مالیاتی پالیسی اور قرضوں میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 177 فیصد بڑھ گئے، جبکہ خالص خسارہ بڑھ کر 2058.499 ملین روپے تک جا پہنچا۔ اس دوران فی حصص خسارہ 8.98 روپے ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مالی-سال-2025" href="#مالی-سال-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مالی سال 2025&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;2022 میں شروع ہونے والی فروخت میں کمی مالی سال 2025 میں بھی جاری رہی اور خالص فروخت میں مزید 50.36 فیصد کمی کے بعد یہ 2023.04 ملین روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس استثنا، کم قیمت پر سیکنڈری ٹن پلیٹ کی درآمد اور خوراک کی پیکنگ میں گیلوالوم شیٹس کے استعمال جیسے مسائل بدستور برقرار رہے۔ کمپنی نے ان معاملات پر عدالت سے رجوع بھی کیا، تاہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران پیداوار کا حجم مزید 32.95 فیصد کم ہو کر 5599 میٹرک ٹن رہ گیا، جبکہ پیداواری استعداد کا استعمال گھٹ کر صرف 4.67 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مہنگائی میں کمی، عالمی منڈی میں اشیائے خام کی قیمتوں میں استحکام اور روپے کی نسبتاً مضبوط پوزیشن کے باعث کمپنی فروخت کی لاگت میں 56.40 فیصد کمی لانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2024 کے 55.47 ملین روپے کے مجموعی خسارے کے مقابلے میں 2025 میں کمپنی نے 221.78 ملین روپے کا مجموعی منافع حاصل کیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن 10.96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیمی اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 18.85 فیصد اور 18.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ کمپنی نے 2025 میں اپنے ملازمین کی تعداد مزید کم کرکے 109 کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ایک مرتبہ ہونے والے غیر معمولی اخراجات کے باعث تقابلی بنیاد بلند ہونے سے 2025 میں دیگر اخراجات 80.24 فیصد کم رہے (ان یک وقتی اخراجات کی تفصیل 2024 کے جائزے میں دی جا چکی ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، مستقل اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع اور دیگر متفرق آمدنی کے باعث دیگر آمدنی میں 31.65 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران نہ تو اثاثوں کی قدر میں کمی کا کوئی نقصان ریکارڈ کیا گیا اور نہ ہی ہنگامی ذمہ داریوں کے لیے کوئی نئی پروویژن قائم کی گئی، جبکہ متوقع قرضہ جاتی نقصان کی مد میں پروویژن بھی 96.85 فیصد کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی، گزشتہ سال کے 1401.11 ملین روپے کے آپریٹنگ خسارے کے مقابلے میں، 2025 میں 153.16 ملین روپے کا آپریٹنگ منافع کمانے میں کامیاب رہی۔ آپریٹنگ منافع کا مارجن 7.57 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی میں نرمی اور واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے باعث مالیاتی اخراجات 35.76 فیصد کم ہوگئے، جبکہ خالص خسارہ 87.61 فیصد کم ہو کر 255.117 ملین روپے رہ گیا۔ اس دوران فی حصص خسارہ 1.11 روپے ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حالیہ مالی کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کی خالص فروخت میں 41.31 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 2158.66 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں بنیادی کردار مقامی فروخت میں نمایاں بہتری کا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں کمپنی نے 83 ملین روپے کی برآمدی فروخت بھی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کوئی برآمد نہیں ہوئی تھی۔ خام مال کی بہتر دستیابی کے باعث کمپنی طلب سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداوار اور فروخت کا حجم بڑھانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ٹیرف کمیشن کی جانب سے سیکنڈری ٹن پلیٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کیے جانے سے مقامی طور پر تیار ہونے والی ٹن پلیٹ کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مجموعی منافع میں 23.43 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن گزشتہ سال کے 15.97 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 13.95 فیصد رہ گیا۔ اس کی وجہ گیلوالوم سمیت متبادل پیکنگ میٹریل سے بڑھتا ہوا مسابقتی دباؤ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت کے حجم میں اضافے اور برآمدی منڈی میں قدم رکھنے کے باعث تقسیمی اخراجات 97 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، آپریشنز میں توسیع کے باوجود انتظامی اخراجات 13.65 فیصد کم رہے، کیونکہ 2025 میں کی جانے والی تنظیمِ نو کے نتیجے میں آپریشنل کارکردگی بہتر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن رکھنے کے باعث دیگر اخراجات میں 310.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، دیگر آمدنی میں 77.76 فیصد کمی آئی، تاہم اس نے اضافی اخراجات کا کافی حد تک ازالہ کر دیا اور خالص دیگر آمدنی 9.59 ملین روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 81.58 فیصد کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر آمدنی میں کمی کی بڑی وجوہات مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث منافع کی آمدنی میں کمی اور کمپنی کی ٹرم ڈپازٹ سرمایہ کاری میں نمایاں کمی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 7.53 فیصد بڑھا، تاہم آپریٹنگ منافع کا مارجن گزشتہ سال کے 14.34 فیصد سے کم ہو کر 10.91 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ قرضوں میں اضافہ ہوا، لیکن مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات 53 فیصد کم ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں کمپنی 33.026 ملین روپے کا خالص منافع کمانے میں کامیاب رہی، جبکہ فی حصص آمدنی 0.14 روپے رہی۔ اس کے برعکس، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کمپنی کو 174.25 ملین روپے کا خالص خسارہ اور فی حصص 0.76 روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ خالص منافع کا مارجن 1.53 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حالیہ عرصے میں معاشی اشاریوں میں استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں طلب میں بھی بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم غیر قانونی ذرائع سے آنے والی مصنوعات کے باعث سخت مسابقت نے کمپنی کو اس بہتر ہوتی ہوئی طلب سے بھرپور فائدہ اٹھانے نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ بڑی حد تک اس وقت حل ہوا جب نیشنل ٹیرف کمیشن نے سیکنڈری ٹن پلیٹ پر 40 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی اور کسٹمز ڈیوٹی 1.56 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی منڈی میں ضائع ہونے والی فروخت کا ازالہ کرنے کے لیے کمپنی خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، یورپ اور امریکا میں برآمدی مواقع تلاش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق مزدوروں اور سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی کافی حد تک حل ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہ نئی جغرافیائی منڈیوں میں داخل ہو کر اپنی مالی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس ٹی پی ایل) کا قیام 1996 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر عمل میں آیا۔</strong></p>
<p>کمپنی ٹن پلیٹ، دھاتی ڈبوں (کینز) اور دیگر اسٹیل مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ ہے، جو خوردنی تیل، پھلوں، سبزیوں، سمندری خوراک، لبریکنٹس اور دیگر مصنوعات کی پیکیجنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔</p>
<p>شیئر ہولڈنگ کا ڈھانچہ</p>
<p>30 جون 2025 تک صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کے جاری کردہ حصص کی تعداد 229.279 ملین تھی، جو 5486 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔</p>
<p>کمپنی میں سب سے بڑا حصہ مقامی عام سرمایہ کاروں (لوکل جنرل پبلک) کا ہے، جو مجموعی حصص کا 41.033 فیصد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز، اسپانسرز، چیف ایگزیکٹو، ان کے اہلِ خانہ اور سینئر انتظامیہ کا حصہ ہے، جو کمپنی کے 37.31 فیصد حصص کے مالک ہیں۔</p>
<p>کمپنی سے وابستہ ادارے، جن میں صدیق سنز لمیٹڈ اور صدیق سنز ڈینم ملز لمیٹڈ شامل ہیں، صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کے 15.65 فیصد حصص رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040553edd3537.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040553edd3537.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے 4.28 فیصد حصص غیر ملکی عام سرمایہ کاروں (فارن جنرل پبلک) کے پاس ہیں، جبکہ باقی حصص دیگر زمروں کے شیئر ہولڈرز کی ملکیت ہیں۔</p>
<h3><a id="کارکردگی-کا-جائزہ-2021-تا-2025" href="#کارکردگی-کا-جائزہ-2021-تا-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کارکردگی کا جائزہ (2021 تا 2025)</h3>
<p>صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) 2021 تک مسلسل بڑھتی رہی، تاہم اس کے بعد کے برسوں میں اس میں مسلسل کمی آتی گئی۔ 2021 کو چھوڑ کر زیرِ جائزہ تمام برسوں میں کمپنی کی خالص آمدنی (باٹم لائن) بھی کمزور رہی، یہاں تک کہ 2024 اور 2025 میں کمپنی کو خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران منافع کے مارجنز کا رجحان بھی یکساں نہیں رہا۔ 2020 میں مارجنز اپنی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 2021 میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے، تاہم اس کے بعد اگلے تین برسوں میں دوبارہ دباؤ کا شکار رہے۔ البتہ 2025 میں ان میں کسی حد تک بہتری دیکھی گئی۔ زیرِ جائزہ مدت کی تفصیلی کارکردگی درج ذیل ہے۔</p>
<p>2020 کمپنی کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا، جب اس کی آمدنی میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی اور اسے خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ تاہم 2021 میں صورتحال یکسر بدل گئی اور یہ سال کمپنی کے لیے غیر معمولی ثابت ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2021 میں کمپنی کی آمدنی میں سال بہ سال 64.43 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا اور مجموعی فروخت 5,847.85 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو کمپنی کی تاریخ کی بلند ترین سالانہ شرح نمو تھی۔</p>
<p>یہ شاندار کارکردگی مقامی فروخت میں 37 فیصد اور برآمدی فروخت میں 78 فیصد اضافے کے باعث ممکن ہوئی۔ 2021 میں برآمدات کا حصہ کمپنی کی مجموعی آمدنی کا 25 فیصد رہا، جبکہ 2020 میں یہ تناسب 18 فیصد تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040603111248e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040603111248e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالی سال 2021 میں ٹن مل بلیک پلیٹ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروخت کی لاگت (کاسٹ آف سیلز) میں سال بہ سال 49.45 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے اثرات صارفین تک منتقل کرنے میں کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 343.66 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسی باعث مجموعی منافع کا مارجن (جی پی مارجن) بھی بڑھ کر 13.74 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>سال کے دوران انتظامی اخراجات تقریباً دوگنا ہوگئے، جس کی بنیادی وجہ مجاز سرمایہ میں اضافے کے سلسلے میں قانونی اور ریگولیٹری فیس کی ادائیگی تھی۔</p>
<p>اسی طرح تقسیمی اخراجات میں بھی سال بہ سال 83.51 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ برآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ گئے، جو براہِ راست برآمدی فروخت سے منسلک ہوتے ہیں۔</p>
<p>دیگر اخراجات میں 1680.35 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کی بنیادی وجوہات خام مال کی درآمد پر روپے کی قدر میں کمی کے باعث زرِ مبادلہ کا نقصان اور 2021 میں زیادہ منافع کے باعث ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب، دیگر آمدنی میں 78.85 فیصد کمی واقع ہوئی، کیونکہ کم ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث بینک ڈپازٹس پر حاصل ہونے والا منافع گھٹ گیا۔</p>
<p>اس کے باوجود، آپریٹنگ اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافے اور دیگر آمدنی میں کمی کے باوجود، مالی سال 2021 میں آپریٹنگ منافع میں 352.35 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن ( او پی مارجین) 9 فیصد رہا۔</p>
<p>مالیاتی اخراجات میں بھی سالانہ 39.28 فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ اس عرصے میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی گئی تھی، تاہم قرضوں پر ہونے والے زرِ مبادلہ کے نقصان نے مالیاتی اخراجات کو بڑھا دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040606b13eb9e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/06040606b13eb9e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالی سال 2021 میں صدیق سنز ٹن پلیٹ لمیٹڈ نے اپنی تاریخ کا بلند ترین خالص منافع 322.16 ملین روپے حاصل کیا، جبکہ خالص منافع کا مارجن (این پی مارجن) 5.51 فیصد رہا۔ اس دوران فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.41 روپے رہی۔</p>
<p>اس کے برعکس، مالی سال 2020 میں کمپنی کو 23.14 ملین روپے کا خالص خسارہ ہوا تھا، جبکہ فی حصص خسارہ 0.10 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم 2021 کی یہ شاندار کارکردگی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور 2022 کمپنی کے لیے متعدد چیلنجز لے کر آیا۔ ریکارڈ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، درآمدی پابندیوں اور عالمی سطح پر اشیائے خام کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے (کموڈٹی سپر سائیکل) نے نہ صرف طلب کو متاثر کیا بلکہ منافع کے مارجنز پر بھی شدید دباؤ ڈالا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مالی سال 2022 میں کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) سال بہ سال 19.24 فیصد کم ہو کر 4,722.75 ملین روپے رہ گئی، جبکہ فروخت کا حجم 47 فیصد گھٹ گیا۔</p>
<p>اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں سال بہ سال 54 فیصد اضافہ کیا، لیکن اس کے باوجود وہ آمدنی میں کمی کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔</p>
<p>چونکہ کمپنی نے اس عرصے میں کم پیداواری صلاحیت (کرٹیلڈ کیپسٹی) پر کام کیا، اس لیے فروخت کی لاگت بھی سال بہ سال 18.65 فیصد کم ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/060406107f0698a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/060406107f0698a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h3><a id="مالی-سال-2022-اور-2023-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2022-اور-2023-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مالی سال 2022 اور 2023 کی کارکردگی</h3>
<p>مالی سال 2022 میں مجموعی منافع سال بہ سال 22.92 فیصد کم ہوا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 13.11 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>برآمدات میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات تقریباً نصف رہ گئے، جبکہ قانونی اور ریگولیٹری فیس میں کمی کے سبب انتظامی اخراجات بھی 51.31 فیصد کم ہوگئے۔</p>
<p>اگرچہ کمپنی نے مشکوک ایڈوانسز کے خلاف بھاری پروویژن قائم کیا، تاہم ڈبلیو پی پی ایف کے لیے کم رقم مختص کرنے اور زرِ مبادلہ کے نقصان میں کمی کے باعث دیگر اخراجات مجموعی طور پر 33.23 فیصد کم رہے۔</p>
<p>دوسری جانب، روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے نتیجے میں برآمدی فروخت پر زرِ مبادلہ کا خاطر خواہ منافع حاصل ہوا، جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث بینک ڈپازٹس پر منافع بھی بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں دیگر آمدنی میں 112.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اگرچہ مختلف اخراجات میں کمی آئی، تاہم آپریٹنگ منافع 19 فیصد کم ہوگیا، البتہ آپریٹنگ منافع کا مارجن 9 فیصد پر برقرار رہا۔</p>
<p>مالیاتی اخراجات میں 35 فیصد اضافے اور سپر ٹیکس کے نفاذ کے باعث خالص منافع 37.53 فیصد کم ہو کر 201.27 ملین روپے رہ گیا۔ خالص منافع کا مارجن 4.26 فیصد جبکہ فی حصص آمدنی 0.88 روپے رہی۔</p>
<p>مالی سال 2023 میں بھی کمپنی کی آمدنی میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مزید 6.97 فیصد گھٹ کر 4393.77 ملین روپے رہ گئی۔ اس دوران فروخت کا حجم بھی 7 فیصد کم ہوگیا۔</p>
<p>اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا، تاہم عالمی منڈی میں اشیائے خام کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث بڑھتی ہوئی لاگت مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہ کی جا سکی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مجموعی منافع 35.41 فیصد کم ہوگیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 9.10 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>برآمدی اخراجات اور تنخواہوں پر آنے والے اخراجات میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات 33.61 فیصد کم ہوگئے۔</p>
<p>اس کے برعکس، مہنگائی کے باعث تنخواہوں میں اضافے اور مشکوک قرضوں کے لیے زیادہ پروویژن رکھنے کی وجہ سے انتظامی اخراجات 14.81 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>تاہم منافع سے متعلق پروویژنز میں کمی، ایڈوانسز کے خلاف نئی پروویژن نہ بنانے اور زرِ مبادلہ کے نقصان سے بچنے کے باعث دیگر اخراجات میں 89.62 فیصد کی نمایاں کمی آئی۔</p>
<p>دوسری جانب، بینک ڈپازٹس پر زیادہ منافع اور بیرونی تجارتی وصولیوں پر زرِ مبادلہ کے منافع کے باعث دیگر آمدنی 135.11 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>اس کے باوجود آپریٹنگ منافع 37.56 فیصد کم ہوگیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن سکڑ کر 6.06 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>بلند ترین ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث مالیاتی اخراجات میں 27.85 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع تقریباً ختم ہوگیا۔</p>
<p>مالی سال 2023 میں خالص منافع سال بہ سال 98.47 فیصد کم ہو کر محض 3.08 ملین روپے رہ گیا۔ اس دوران فی حصص آمدنی 0.01 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن صرف 0.07 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="مالی-سال-2024-اور-2025-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2024-اور-2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مالی سال 2024 اور 2025 کی کارکردگی</h3>
<p>مالی سال 2024 میں کمپنی کی خالص فروخت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مزید 7.24 فیصد گھٹ کر 4075.69 ملین روپے رہ گئی۔</p>
<p>ناموافق معاشی حالات کے باعث طلب میں کمی کے علاوہ نسبتاً کم قیمت پر سیکنڈری ٹن پلیٹ کی بلا روک ٹوک درآمد نے کمپنی کے لیے اپنی مارکیٹ برقرار رکھنا مزید مشکل بنا دیا۔ دوسری جانب مہنگائی، بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ، خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت، توانائی کے بلند نرخ اور روپے کی قدر میں کمی نے بھی کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔</p>
<p>فاٹا اور پاٹا کے لیے سیلز ٹیکس استثنا بھی کمپنی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا، جبکہ تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والی گیلوالوم شیٹس کو خوراک کی پیکنگ میں استعمال کیے جانے سے بھی کمپنی کی مصنوعات کی طلب متاثر ہوئی۔</p>
<p>ایل سیز کھولنے میں مشکلات کے باعث سپلائی چین متاثر رہی، جبکہ مزدوروں سے متعلق مسائل کے سبب سال کے دوران دو مرتبہ پیداواری سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔</p>
<p>2024 میں پیداواری استعداد کا استعمال کم ہو کر 6.96 فیصد رہ گیا، جو ایک سال قبل 9 فیصد تھا۔ اس دوران پیداوار کا حجم 27 فیصد کم ہوگیا، جبکہ فروخت کا حجم بھی 7 فیصد گھٹ گیا۔</p>
<p>کم پیداواری استعداد پر کام کرنے کے باعث فی یونٹ مقررہ لاگت بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں فروخت کی لاگت 3.44 فیصد بڑھ گئی اور کمپنی کو 55.47 ملین روپے کے مجموعی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>فروخت میں کمی کے باعث تقسیمی اخراجات 29.52 فیصد کم ہوگئے، جبکہ افرادی قوت کو 198 سے کم کرکے 132 ملازمین تک محدود کرنے کے نتیجے میں انتظامی اخراجات بھی 18.19 فیصد گھٹ گئے۔</p>
<p>اس کے برعکس، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ایل سی فیس اور دیگر اخراجات کے لیے ایڈوانسز، ایڈوانس ٹیکس، دیگر ایڈوانسز کی رائٹ آف اور بیرونی تجارتی وصولیوں پر غیر حقیقی زرِ مبادلہ نقصان کے باعث دیگر اخراجات میں 1271.90 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>دیگر آمدنی میں 17 فیصد کمی واقع ہوئی کیونکہ گزشتہ سال کے برعکس بیرونی تجارتی وصولیوں پر غیر حقیقی زرِ مبادلہ منافع حاصل نہیں ہوا۔</p>
<p>اس کے علاوہ متوقع قرضہ جاتی نقصان کی مد میں 68.25 ملین روپے، ہنگامی ذمہ داریوں کے لیے 820.968 ملین روپے اور اثاثوں کی قدر میں کمی کی مد میں 306.13 ملین روپے کے اضافی چارجز نے بھی مالی نتائج کو بری طرح متاثر کیا۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی کو 1401.11 ملین روپے کا آپریٹنگ خسارہ برداشت کرنا پڑا۔</p>
<p>سخت مالیاتی پالیسی اور قرضوں میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 177 فیصد بڑھ گئے، جبکہ خالص خسارہ بڑھ کر 2058.499 ملین روپے تک جا پہنچا۔ اس دوران فی حصص خسارہ 8.98 روپے ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="مالی-سال-2025" href="#مالی-سال-2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مالی سال 2025</h3>
<p>2022 میں شروع ہونے والی فروخت میں کمی مالی سال 2025 میں بھی جاری رہی اور خالص فروخت میں مزید 50.36 فیصد کمی کے بعد یہ 2023.04 ملین روپے رہ گئی۔</p>
<p>فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس استثنا، کم قیمت پر سیکنڈری ٹن پلیٹ کی درآمد اور خوراک کی پیکنگ میں گیلوالوم شیٹس کے استعمال جیسے مسائل بدستور برقرار رہے۔ کمپنی نے ان معاملات پر عدالت سے رجوع بھی کیا، تاہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔</p>
<p>اس دوران پیداوار کا حجم مزید 32.95 فیصد کم ہو کر 5599 میٹرک ٹن رہ گیا، جبکہ پیداواری استعداد کا استعمال گھٹ کر صرف 4.67 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب مہنگائی میں کمی، عالمی منڈی میں اشیائے خام کی قیمتوں میں استحکام اور روپے کی نسبتاً مضبوط پوزیشن کے باعث کمپنی فروخت کی لاگت میں 56.40 فیصد کمی لانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2024 کے 55.47 ملین روپے کے مجموعی خسارے کے مقابلے میں 2025 میں کمپنی نے 221.78 ملین روپے کا مجموعی منافع حاصل کیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن 10.96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>تقسیمی اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 18.85 فیصد اور 18.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ کمپنی نے 2025 میں اپنے ملازمین کی تعداد مزید کم کرکے 109 کر دی۔</p>
<p>گزشتہ سال ایک مرتبہ ہونے والے غیر معمولی اخراجات کے باعث تقابلی بنیاد بلند ہونے سے 2025 میں دیگر اخراجات 80.24 فیصد کم رہے (ان یک وقتی اخراجات کی تفصیل 2024 کے جائزے میں دی جا چکی ہے)۔</p>
<p>دوسری جانب، مستقل اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع اور دیگر متفرق آمدنی کے باعث دیگر آمدنی میں 31.65 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>سال کے دوران نہ تو اثاثوں کی قدر میں کمی کا کوئی نقصان ریکارڈ کیا گیا اور نہ ہی ہنگامی ذمہ داریوں کے لیے کوئی نئی پروویژن قائم کی گئی، جبکہ متوقع قرضہ جاتی نقصان کی مد میں پروویژن بھی 96.85 فیصد کم ہوگئی۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی، گزشتہ سال کے 1401.11 ملین روپے کے آپریٹنگ خسارے کے مقابلے میں، 2025 میں 153.16 ملین روپے کا آپریٹنگ منافع کمانے میں کامیاب رہی۔ آپریٹنگ منافع کا مارجن 7.57 فیصد رہا۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی میں نرمی اور واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے باعث مالیاتی اخراجات 35.76 فیصد کم ہوگئے، جبکہ خالص خسارہ 87.61 فیصد کم ہو کر 255.117 ملین روپے رہ گیا۔ اس دوران فی حصص خسارہ 1.11 روپے ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حالیہ مالی کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)</h3>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کی خالص فروخت میں 41.31 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 2158.66 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں بنیادی کردار مقامی فروخت میں نمایاں بہتری کا رہا۔</p>
<p>اس عرصے میں کمپنی نے 83 ملین روپے کی برآمدی فروخت بھی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کوئی برآمد نہیں ہوئی تھی۔ خام مال کی بہتر دستیابی کے باعث کمپنی طلب سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداوار اور فروخت کا حجم بڑھانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>نیشنل ٹیرف کمیشن کی جانب سے سیکنڈری ٹن پلیٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کیے جانے سے مقامی طور پر تیار ہونے والی ٹن پلیٹ کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اگرچہ مجموعی منافع میں 23.43 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن گزشتہ سال کے 15.97 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 13.95 فیصد رہ گیا۔ اس کی وجہ گیلوالوم سمیت متبادل پیکنگ میٹریل سے بڑھتا ہوا مسابقتی دباؤ تھا۔</p>
<p>فروخت کے حجم میں اضافے اور برآمدی منڈی میں قدم رکھنے کے باعث تقسیمی اخراجات 97 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>اس کے برعکس، آپریشنز میں توسیع کے باوجود انتظامی اخراجات 13.65 فیصد کم رہے، کیونکہ 2025 میں کی جانے والی تنظیمِ نو کے نتیجے میں آپریشنل کارکردگی بہتر ہوئی۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن رکھنے کے باعث دیگر اخراجات میں 310.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب، دیگر آمدنی میں 77.76 فیصد کمی آئی، تاہم اس نے اضافی اخراجات کا کافی حد تک ازالہ کر دیا اور خالص دیگر آمدنی 9.59 ملین روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 81.58 فیصد کم تھی۔</p>
<p>دیگر آمدنی میں کمی کی بڑی وجوہات مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث منافع کی آمدنی میں کمی اور کمپنی کی ٹرم ڈپازٹ سرمایہ کاری میں نمایاں کمی تھیں۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 7.53 فیصد بڑھا، تاہم آپریٹنگ منافع کا مارجن گزشتہ سال کے 14.34 فیصد سے کم ہو کر 10.91 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>اگرچہ قرضوں میں اضافہ ہوا، لیکن مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات 53 فیصد کم ہوگئے۔</p>
<p>اس عرصے میں کمپنی 33.026 ملین روپے کا خالص منافع کمانے میں کامیاب رہی، جبکہ فی حصص آمدنی 0.14 روپے رہی۔ اس کے برعکس، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کمپنی کو 174.25 ملین روپے کا خالص خسارہ اور فی حصص 0.76 روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ خالص منافع کا مارجن 1.53 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مستقبل کا منظرنامہ</h3>
<p>حالیہ عرصے میں معاشی اشاریوں میں استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں طلب میں بھی بہتری آئی ہے۔</p>
<p>تاہم غیر قانونی ذرائع سے آنے والی مصنوعات کے باعث سخت مسابقت نے کمپنی کو اس بہتر ہوتی ہوئی طلب سے بھرپور فائدہ اٹھانے نہیں دیا۔</p>
<p>یہ مسئلہ بڑی حد تک اس وقت حل ہوا جب نیشنل ٹیرف کمیشن نے سیکنڈری ٹن پلیٹ پر 40 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی اور کسٹمز ڈیوٹی 1.56 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی۔</p>
<p>مقامی منڈی میں ضائع ہونے والی فروخت کا ازالہ کرنے کے لیے کمپنی خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، یورپ اور امریکا میں برآمدی مواقع تلاش کر رہی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق مزدوروں اور سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی کافی حد تک حل ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہ نئی جغرافیائی منڈیوں میں داخل ہو کر اپنی مالی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288374</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 17:45:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0616345420fcdd4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0616345420fcdd4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے مالی سال کا آغاز پیٹرولیم قیمتوں پر دفاعی حکمت عملی کے ساتھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288351/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 میں ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پہلی سرکاری اطلاع (نوٹیفکیشن) سے توقع تھی کہ وہ پورے سال کی سمت کا تعین کرے گی، لیکن اس کے بجائے اس نے جواب دینے سے زیادہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاغذی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اب بھی مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی کے ایک پرعزم ہدف پر قائم ہے۔ اس ہدف کے پیچھے موجود حساب کتاب بظاہر سادہ ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی سالانہ کھپت میں گزشتہ برسوں کے دوران فروخت ہونے والے تقریباً 17 ارب لیٹر کے مقابلے میں زیادہ فرق آنے کا امکان نہیں۔ دیگر پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی شامل کر لیا جائے، تب بھی اس ریونیو ہدف کے حصول کے لیے اوسطاً ایسی پیٹرولیم لیوی درکار ہوگی جو موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے بعد اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے حکومت کی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی غیر مربوط اور متضاد دکھائی دینے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف دو ہفتے قبل صارفین کو ایندھن کی خوردہ قیمتوں میں نمایاں کمی دی گئی تھی۔ یہ کمی صرف عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کو صارفین تک منتقل کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں بھی کمی کر دی گئی تھی، یعنی حکومت نے اپنی مالی گنجائش  کا ایک حصہ خود ہی چھوڑ دیا، حالانکہ اگر مالی سال 2026-27 کا ہدف حاصل کرنا ہے تو یہی گنجائش مستقبل میں دوبارہ پیدا کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا وقت اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ مالی سال کے آغاز پر حکومتوں کے پاس بتدریج اضافی ریونیو حاصل کرنے اور مالیاتی تحفظ کا ذخیرہ بنانے کا سب سے زیادہ موقع ہوتا ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمتیں اس حد تک نرم پڑ چکی تھیں کہ حکومت اس فائدے کا کچھ حصہ زیادہ پیٹرولیم لیوی کی صورت میں اپنے پاس رکھ سکتی تھی اور اس کے باوجود صارفین کو پمپ پر قیمتوں میں نمایاں ریلیف بھی فراہم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے خوردہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی بھی کم کر دی، اور یوں مالی سال 2026-27 کا آغاز ایسی لیوی سے کیا جو اب خود حکومت کے بجٹ کے حساب کتاب کے مطابق بھی مطلوبہ سطح سے کافی کم دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ ایک شعبہ ایسا ضرور ہے جہاں حکومت نے بالکل ویسا ہی قدم اٹھایا جیسا متوقع تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کو اب 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس ترمیم نے بزنس ریکارڈر ریسرچ کی ان تشویشات کو بھی درست ثابت کر دیا ہے، جو مالی سال 2026-27 کی بجٹ دستاویزات کے اجرا کے بعد سامنے آئی تھیں، کیونکہ ان دستاویزات میں بظاہر وصولیوں کا تخمینہ پرانی یعنی کم شرح پر لگایا گیا تھا، حالانکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اس لیوی کو دوگنا کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل ریونیو چیلنج کلائمیٹ سپورٹ لیوی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح میں اضافے کے باوجود سی ایس ایل مجموعی ریونیو ضرورت کا صرف ایک معمولی حصہ ہی فراہم کرتی ہے۔ اصل بوجھ اب بھی پیٹرولیم لیوی ہی کو اٹھانا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اعداد و شمار تشویش پیدا کرتے ہیں۔ موجودہ کھپت کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے، تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی ہدف کا مطلب یہ ہے کہ مؤثر لیوی موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہونی چاہیے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر کی شرح ایک نمایاں خلا چھوڑتی ہے، جسے بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر پُر کرنا ہی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ پالیسی ساز صرف اس مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہوں جو نئے مالی سال کے آغاز پر دستیاب ہوتی ہے۔ ریونیو وصولیوں پر فوری دباؤ محدود ہے، سہ ماہی کارکردگی کے اہداف ابھی کچھ فاصلے پر ہیں، اور آئی ایم ایف کا اگلا جائزہ بھی فوری طور پر متوقع نہیں۔ اس لیے اس وقت وصولیوں کو زیادہ سے زیادہ سطح تک لے جانے کی کوئی فوری ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ اطمینان عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت جتنی زیادہ دیر تک پیٹرولیم لیوی میں ضروری ردوبدل مؤخر کرے گی، بعد میں اتنا ہی بڑا اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ بتدریج اور مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ تقریباً ہمیشہ بڑے اور اچانک اضافوں کے مقابلے میں آسان ہوتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائیں۔ خام تیل کی موجودہ نسبتاً سازگار صورتحال درحقیقت وہی موقع فراہم کرتی ہے جس سے حکومتیں عموماً اپنے مالیاتی تحفظ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ اٹھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس موقع کو ضائع کر دیا گیا تو حکومت کو ممکنہ طور پر مستقبل میں پیٹرولیم لیوی ایسے وقت بڑھانا پڑے گی جب عالمی منڈی کے حالات کہیں زیادہ ناموافق ہوں گے، جس سے پہلے ہی مشکل مالیاتی ایڈجسٹمنٹ مزید تکلیف دہ اور پیچیدہ بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 میں ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پہلی سرکاری اطلاع (نوٹیفکیشن) سے توقع تھی کہ وہ پورے سال کی سمت کا تعین کرے گی، لیکن اس کے بجائے اس نے جواب دینے سے زیادہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>کاغذی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اب بھی مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی کے ایک پرعزم ہدف پر قائم ہے۔ اس ہدف کے پیچھے موجود حساب کتاب بظاہر سادہ ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی سالانہ کھپت میں گزشتہ برسوں کے دوران فروخت ہونے والے تقریباً 17 ارب لیٹر کے مقابلے میں زیادہ فرق آنے کا امکان نہیں۔ دیگر پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی شامل کر لیا جائے، تب بھی اس ریونیو ہدف کے حصول کے لیے اوسطاً ایسی پیٹرولیم لیوی درکار ہوگی جو موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہو۔</p>
<p>تازہ ترین قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے بعد اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔</p>
<p>یہیں سے حکومت کی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی غیر مربوط اور متضاد دکھائی دینے لگتی ہے۔</p>
<p>صرف دو ہفتے قبل صارفین کو ایندھن کی خوردہ قیمتوں میں نمایاں کمی دی گئی تھی۔ یہ کمی صرف عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کو صارفین تک منتقل کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں بھی کمی کر دی گئی تھی، یعنی حکومت نے اپنی مالی گنجائش  کا ایک حصہ خود ہی چھوڑ دیا، حالانکہ اگر مالی سال 2026-27 کا ہدف حاصل کرنا ہے تو یہی گنجائش مستقبل میں دوبارہ پیدا کرنا پڑے گی۔</p>
<p>اس فیصلے کا وقت اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ مالی سال کے آغاز پر حکومتوں کے پاس بتدریج اضافی ریونیو حاصل کرنے اور مالیاتی تحفظ کا ذخیرہ بنانے کا سب سے زیادہ موقع ہوتا ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمتیں اس حد تک نرم پڑ چکی تھیں کہ حکومت اس فائدے کا کچھ حصہ زیادہ پیٹرولیم لیوی کی صورت میں اپنے پاس رکھ سکتی تھی اور اس کے باوجود صارفین کو پمپ پر قیمتوں میں نمایاں ریلیف بھی فراہم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے خوردہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی بھی کم کر دی، اور یوں مالی سال 2026-27 کا آغاز ایسی لیوی سے کیا جو اب خود حکومت کے بجٹ کے حساب کتاب کے مطابق بھی مطلوبہ سطح سے کافی کم دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>البتہ ایک شعبہ ایسا ضرور ہے جہاں حکومت نے بالکل ویسا ہی قدم اٹھایا جیسا متوقع تھا۔</p>
<p>کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کو اب 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس ترمیم نے بزنس ریکارڈر ریسرچ کی ان تشویشات کو بھی درست ثابت کر دیا ہے، جو مالی سال 2026-27 کی بجٹ دستاویزات کے اجرا کے بعد سامنے آئی تھیں، کیونکہ ان دستاویزات میں بظاہر وصولیوں کا تخمینہ پرانی یعنی کم شرح پر لگایا گیا تھا، حالانکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اس لیوی کو دوگنا کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔</p>
<p>تاہم اصل ریونیو چیلنج کلائمیٹ سپورٹ لیوی نہیں ہے۔</p>
<p>شرح میں اضافے کے باوجود سی ایس ایل مجموعی ریونیو ضرورت کا صرف ایک معمولی حصہ ہی فراہم کرتی ہے۔ اصل بوجھ اب بھی پیٹرولیم لیوی ہی کو اٹھانا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اعداد و شمار تشویش پیدا کرتے ہیں۔ موجودہ کھپت کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے، تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی ہدف کا مطلب یہ ہے کہ مؤثر لیوی موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہونی چاہیے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر کی شرح ایک نمایاں خلا چھوڑتی ہے، جسے بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر پُر کرنا ہی پڑے گا۔</p>
<p>ممکن ہے کہ پالیسی ساز صرف اس مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہوں جو نئے مالی سال کے آغاز پر دستیاب ہوتی ہے۔ ریونیو وصولیوں پر فوری دباؤ محدود ہے، سہ ماہی کارکردگی کے اہداف ابھی کچھ فاصلے پر ہیں، اور آئی ایم ایف کا اگلا جائزہ بھی فوری طور پر متوقع نہیں۔ اس لیے اس وقت وصولیوں کو زیادہ سے زیادہ سطح تک لے جانے کی کوئی فوری ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔</p>
<p>لیکن یہ اطمینان عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت جتنی زیادہ دیر تک پیٹرولیم لیوی میں ضروری ردوبدل مؤخر کرے گی، بعد میں اتنا ہی بڑا اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ بتدریج اور مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ تقریباً ہمیشہ بڑے اور اچانک اضافوں کے مقابلے میں آسان ہوتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائیں۔ خام تیل کی موجودہ نسبتاً سازگار صورتحال درحقیقت وہی موقع فراہم کرتی ہے جس سے حکومتیں عموماً اپنے مالیاتی تحفظ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ اٹھاتی ہیں۔</p>
<p>اگر اس موقع کو ضائع کر دیا گیا تو حکومت کو ممکنہ طور پر مستقبل میں پیٹرولیم لیوی ایسے وقت بڑھانا پڑے گی جب عالمی منڈی کے حالات کہیں زیادہ ناموافق ہوں گے، جس سے پہلے ہی مشکل مالیاتی ایڈجسٹمنٹ مزید تکلیف دہ اور پیچیدہ بن جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288351</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 10:30:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/061025383a6dc18.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/061025383a6dc18.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، منجمد فروخت کمزور اختتام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288239/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مالی سال 2025-26 کا اختتام بظاہر استحکام، مگر اندرونی طور پر کمزوری کی عکاسی کرنے والی صورتحال کے ساتھ کیا۔ مالی سال کے دوران مجموعی پیٹرولیم فروخت 16.2 ملین ٹن رہی، جو مالی سال 2024-25 کی 16.3 ملین ٹن فروخت کے مقابلے میں تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی اور تقریباً ایک فیصد معمولی کمی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم پورے سال کا یہ مجموعی ہندسہ ان دباؤ کو چھپا دیتا ہے جو سال کے اختتامی حصے میں نمایاں ہوئے، خصوصاً آخری سہ ماہی میں ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے تیز اضافے کے بعد۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے اعداد و شمار نے اس کمزوری کو واضح طور پر نمایاں کیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کا حجم سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد کم ہو گیا۔ اگر فرنس آئل کو نکال دیا جائے تو فروخت میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جب ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت اب بھی محدود قوتِ خرید کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے تو ایندھن کی طلب کتنی تیزی سے کمزور پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت اس سے کہیں زیادہ، یعنی 20 فیصد گر گئی۔ فرنس آئل بدستور سب سے کمزور مصنوعات میں شامل رہا، جس کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/0307451651d42e7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/0307451651d42e7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جون کے دوران واحد حوصلہ افزا پہلو ماہانہ بنیاد پر بہتری تھی۔ مئی کے مقابلے میں مجموعی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت 7 فیصد بڑھی۔ پیٹرول کی فروخت میں 5 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 9 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا۔ اس بہتری کی ایک وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ میں کمی کے باعث ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملنا تھا۔ تاہم، اس ماہانہ بہتری کو حقیقی معنوں میں طلب کی بحالی نہیں سمجھنا چاہیے۔ فروخت کا حجم اب بھی گزشتہ سال کی سطح سے کافی کم تھا، جبکہ قیمتوں کے جھٹکے نے طلب کو پہلے ہی نمایاں نقصان پہنچا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرول مارکیٹ کا سب سے زیادہ مضبوط حصہ ثابت ہوا اور اس کی فروخت میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شہری نقل و حرکت کی طلب کے نسبتاً مستقل رہنے کی عکاسی کرتا ہے۔ قیمتیں بڑھنے پر صارفین غیر ضروری سفر ضرور کم کرتے ہیں، لیکن روزمرہ آمدورفت سے مکمل طور پر گریز نہیں کر سکتے۔ موٹر سائیکلیں، رائیڈ ہیلنگ سروسز، چھوٹی گاڑیاں اور شہری ٹرانسپورٹ کی ضروریات پیٹرول کی طلب کو بہت زیادہ گرنے سے روکے رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ڈیزل کی فروخت پورے سال کے دوران تقریباً جمود کا شکار رہی اور جون میں مزید کمزور نظر آئی۔ مالی سال 2025-26 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم رہی۔ جون میں اس کی گراوٹ کہیں زیادہ شدید تھی کیونکہ ڈیزل کی طلب کا براہِ راست تعلق مال برداری، زراعت، تعمیرات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ملکی سطح پر ڈیزل کی بلند قیمتوں نے بظاہر سرحد پار اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی بھی دوبارہ بڑھا دی، جو بدستور باضابطہ مارکیٹ کی طلب کو متاثر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/030745166ec5d8a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/030745166ec5d8a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرنس آئل مسلسل ساختی زوال کا شکار رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کی فروخت 26 فیصد کم ہوئی۔ یہ محض ایک عارضی یا کاروباری سائیکل سے متعلق کمی نہیں، بلکہ فرنس آئل بجلی کی پیداوار کے شعبے میں اپنی اہمیت مسلسل کھو رہا ہے کیونکہ اس کی جگہ پن بجلی، جوہری توانائی، درآمدی ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے جون میں سالانہ بنیاد پر اس کی فروخت میں نمایاں کمی حیران کن نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر فرنس آئل کی فروخت میں اضافہ زیادہ تر موسمی نوعیت کا تھا، جس کا تعلق گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے تھا، نہ کہ اس کی طلب میں کسی پائیدار بحالی سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ منظرنامے کے حوالے سے اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نرم رہتی ہیں اور ملک میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر مزید بہتری آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/03074516f64392b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/03074516f64392b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بحالی کے بہت زیادہ مضبوط ہونے کا امکان کم ہے، جب تک ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ آئے اور وہ طویل عرصے تک کم سطح پر برقرار نہ رہیں۔ عوام کی حقیقی آمدن اب بھی دباؤ کا شکار ہے، مال برداری کی سرگرمیاں غیر معمولی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں، جبکہ حکومت کی محصولات کی ضروریات بھی پمپ پر صارفین کو مستقل ریلیف دینے کی گنجائش محدود رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں مالی سال 2025-26 بظاہر استحکام، مگر کمزور طلب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مجموعی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت تقریباً جمود کا شکار رہی، لیکن سال کے آخری مہینے نے واضح کر دیا کہ صارفین اور کاروباری ادارے قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں، ڈیزل کی طلب کمزور ہے اور فرنس آئل کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2026-27 میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کی سمت کا انحصار مارکیٹ شیئر سے زیادہ تین بنیادی عوامل پر ہوگا: عالمی خام تیل کی قیمتیں، پٹرولیم لیوی سے متعلق حکومتی پالیسی، اور حقیقی اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مالی سال 2025-26 کا اختتام بظاہر استحکام، مگر اندرونی طور پر کمزوری کی عکاسی کرنے والی صورتحال کے ساتھ کیا۔ مالی سال کے دوران مجموعی پیٹرولیم فروخت 16.2 ملین ٹن رہی، جو مالی سال 2024-25 کی 16.3 ملین ٹن فروخت کے مقابلے میں تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی اور تقریباً ایک فیصد معمولی کمی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم پورے سال کا یہ مجموعی ہندسہ ان دباؤ کو چھپا دیتا ہے جو سال کے اختتامی حصے میں نمایاں ہوئے، خصوصاً آخری سہ ماہی میں ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے تیز اضافے کے بعد۔</strong></p>
<p>جون کے اعداد و شمار نے اس کمزوری کو واضح طور پر نمایاں کیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کا حجم سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد کم ہو گیا۔ اگر فرنس آئل کو نکال دیا جائے تو فروخت میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جب ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت اب بھی محدود قوتِ خرید کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے تو ایندھن کی طلب کتنی تیزی سے کمزور پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت اس سے کہیں زیادہ، یعنی 20 فیصد گر گئی۔ فرنس آئل بدستور سب سے کمزور مصنوعات میں شامل رہا، جس کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/0307451651d42e7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/0307451651d42e7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جون کے دوران واحد حوصلہ افزا پہلو ماہانہ بنیاد پر بہتری تھی۔ مئی کے مقابلے میں مجموعی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت 7 فیصد بڑھی۔ پیٹرول کی فروخت میں 5 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 9 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا۔ اس بہتری کی ایک وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ میں کمی کے باعث ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملنا تھا۔ تاہم، اس ماہانہ بہتری کو حقیقی معنوں میں طلب کی بحالی نہیں سمجھنا چاہیے۔ فروخت کا حجم اب بھی گزشتہ سال کی سطح سے کافی کم تھا، جبکہ قیمتوں کے جھٹکے نے طلب کو پہلے ہی نمایاں نقصان پہنچا دیا تھا۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرول مارکیٹ کا سب سے زیادہ مضبوط حصہ ثابت ہوا اور اس کی فروخت میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شہری نقل و حرکت کی طلب کے نسبتاً مستقل رہنے کی عکاسی کرتا ہے۔ قیمتیں بڑھنے پر صارفین غیر ضروری سفر ضرور کم کرتے ہیں، لیکن روزمرہ آمدورفت سے مکمل طور پر گریز نہیں کر سکتے۔ موٹر سائیکلیں، رائیڈ ہیلنگ سروسز، چھوٹی گاڑیاں اور شہری ٹرانسپورٹ کی ضروریات پیٹرول کی طلب کو بہت زیادہ گرنے سے روکے رکھتی ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، ڈیزل کی فروخت پورے سال کے دوران تقریباً جمود کا شکار رہی اور جون میں مزید کمزور نظر آئی۔ مالی سال 2025-26 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم رہی۔ جون میں اس کی گراوٹ کہیں زیادہ شدید تھی کیونکہ ڈیزل کی طلب کا براہِ راست تعلق مال برداری، زراعت، تعمیرات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ملکی سطح پر ڈیزل کی بلند قیمتوں نے بظاہر سرحد پار اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی بھی دوبارہ بڑھا دی، جو بدستور باضابطہ مارکیٹ کی طلب کو متاثر کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/030745166ec5d8a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/030745166ec5d8a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فرنس آئل مسلسل ساختی زوال کا شکار رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کی فروخت 26 فیصد کم ہوئی۔ یہ محض ایک عارضی یا کاروباری سائیکل سے متعلق کمی نہیں، بلکہ فرنس آئل بجلی کی پیداوار کے شعبے میں اپنی اہمیت مسلسل کھو رہا ہے کیونکہ اس کی جگہ پن بجلی، جوہری توانائی، درآمدی ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے جون میں سالانہ بنیاد پر اس کی فروخت میں نمایاں کمی حیران کن نہیں تھی۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر فرنس آئل کی فروخت میں اضافہ زیادہ تر موسمی نوعیت کا تھا، جس کا تعلق گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے تھا، نہ کہ اس کی طلب میں کسی پائیدار بحالی سے تھا۔</p>
<p>آئندہ منظرنامے کے حوالے سے اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نرم رہتی ہیں اور ملک میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر مزید بہتری آ سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/03074516f64392b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/03074516f64392b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اس بحالی کے بہت زیادہ مضبوط ہونے کا امکان کم ہے، جب تک ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ آئے اور وہ طویل عرصے تک کم سطح پر برقرار نہ رہیں۔ عوام کی حقیقی آمدن اب بھی دباؤ کا شکار ہے، مال برداری کی سرگرمیاں غیر معمولی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں، جبکہ حکومت کی محصولات کی ضروریات بھی پمپ پر صارفین کو مستقل ریلیف دینے کی گنجائش محدود رکھتی ہیں۔</p>
<p>یوں مالی سال 2025-26 بظاہر استحکام، مگر کمزور طلب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مجموعی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت تقریباً جمود کا شکار رہی، لیکن سال کے آخری مہینے نے واضح کر دیا کہ صارفین اور کاروباری ادارے قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں، ڈیزل کی طلب کمزور ہے اور فرنس آئل کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2026-27 میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کی سمت کا انحصار مارکیٹ شیئر سے زیادہ تین بنیادی عوامل پر ہوگا: عالمی خام تیل کی قیمتیں، پٹرولیم لیوی سے متعلق حکومتی پالیسی، اور حقیقی اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288239</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 09:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/03095612df60008.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/03095612df60008.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا دوہندسوں کی مہنگائی کا دور ختم ہوگیا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جون میں ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 11.07 فیصد رہ گئی، جو ایک ماہ قبل 11.66 فیصد تھی۔ یہ اس بات کا پہلا واضح اشارہ ہے کہ حالیہ مہنگائی کے شدید ترین دور کا بڑا حصہ شاید اب گزر چکا ہے۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی منفی 0.3 فیصد رہی، جو دسمبر 2025 کے بعد شہری سی پی آئی میں پہلی ماہانہ کمی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے اوسط مہنگائی 7.05 فیصد پر رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے اعداد و شمار مجموعی طور پر مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھے، اگرچہ چند اندرونی عوامل نے مہنگائی کو مارکیٹ کے عمومی اندازوں سے معمولی حد تک کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔ سب سے زیادہ مثبت اثر ٹرانسپورٹ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رہا۔ اس کے نتیجے میں، اگر کوئی بڑا جغرافیائی سیاسی  یا موسمیاتی جھٹکا پیش نہ آیا تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو ہندسوں والی مہنگائی کا دور شاید اب اختتام کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ کے شعبے نے سب سے زیادہ ریلیف فراہم کیا۔ گزشتہ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں موٹر فیولز ذیلی اشاریے میں تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ کمی ریکارڈ کی گئی، سوائے اپریل 2020 میں کورونا وبا کے عروج کے دوران دیکھے گئے غیر معمولی گراوٹ کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئندہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اضافی پیٹرولیم لیوی صارفین پر منتقل کی گئی، تاہم اس اضافے کا حجم اتنا بڑا نہیں ہوگا کہ مجموعی طور پر مہنگائی میں کمی کے موجودہ رجحان کو تبدیل کر سکے، الا یہ کہ عالمی تیل منڈی کسی نئے بڑے بحران کا شکار ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائش اور یوٹیلیٹیز کے شعبے نے بھی مہنگائی میں کمی کے رجحان کو سہارا دیا۔ بجلی کے نرخ ماہانہ بنیاد پر 4.3 فیصد کم ہوئے کیونکہ فی یونٹ 1.98 روپے کی منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے فی یونٹ 1.19 روپے کے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 25.57 روپے فی یونٹ ہے، جو مارچ 2024 میں ریکارڈ کی گئی 31.69 روپے فی یونٹ کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔ چونکہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ مزید دو ماہ تک برقرار رہے گی اور جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بھی محدود رہنے کی توقع ہے، اس لیے اگلے ماہ کے سی پی آئی میں بجلی کی قیمتوں میں مزید تقریباً 1.2 فیصد کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال اب بھی واحد اہم غیر یقینی عنصر ہے، تاہم اگر نرخوں میں کوئی نظرثانی کی گئی بھی تو توقع ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے بڑے اضافوں کے مقابلے میں کہیں کم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈ لائن مہنگائی میں کمی اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی کہ غذائی مہنگائی خاموشی سے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ خوراک کی سالانہ مہنگائی 9 فیصد سے کم رہی، تاہم اس میں گزشتہ 27 ماہ کی تیز ترین رفتار سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ گندم کے آٹے کی قیمتیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹے کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 30 ماہ کی بلند ترین شرح ہے۔ چونکہ آٹا غذائی اشیا کی ٹوکری میں دوسرا سب سے بڑا جزو ہے، اس لیے اس کا اثر بھی نمایاں رہا۔ تاہم حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ جون میں اس اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی اور ماہانہ بنیاد پر اضافہ مئی کے 11 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ مہنگائی کی ٹوکری کے سب سے زیادہ غیر مستحکم اجزا میں شامل ہیں۔ سبزیوں، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں موسمی اتار چڑھاؤ کے باعث ماہ بھر کے دوران نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، تاہم یہ تبدیلیاں عموماً عارضی نوعیت کی ہیں اور جب تک موسمی حالات شدید خراب نہ ہوں، ان سے درمیانی مدت میں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کے علاوہ سگریٹ کی قیمتوں میں گزشتہ دو برس کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی گئی، جو ٹیکسوں کی بنیاد پر قیمتوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب ذاتی استعمال کی اشیا کے زمرے میں بین الاقوامی منڈی میں سونے اور چاندی کی نرم قیمتوں نے اشاریے کو نیچے رکھنے میں مدد دی، کیونکہ اس زمرے میں قیمتی دھاتوں کا وزن نسبتاً زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے اعداد و شمار کی ایک غیر معمولی خصوصیت شادی ہالوں کے کرایوں میں ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کمی تھی۔ گزشتہ کم از کم سات برسوں میں ایسا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اسی غیر معمولی عنصر نے بھی مجموعی مہنگائی کو مارکیٹ کی توقعات سے معمولی کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر کور مہنگائی بھی درست سمت میں گامزن رہی۔ شہری کور مہنگائی کم ہو کر 8.7 فیصد جبکہ دیہی کور مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکے کے دوسرے مرحلے کے اثرات بتدریج کمزور پڑ رہے ہیں۔ اس تشریح کو ہول سیل قیمتوں کے اشاریے میں ہونے والی پیش رفت بھی تقویت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں ماہانہ بنیاد پر 1.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2025 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی چین میں موجود قیمتوں کا دباؤ بڑھنے کے بجائے کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کے لیے مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار یقیناً خوش آئند ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی، کور مہنگائی میں اعتدال اور ہول سیل قیمتوں میں گراوٹ اس مؤقف کو مزید مضبوط بناتے ہیں کہ حالیہ مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر لاگت میں اضافے کا نتیجہ تھا، نہ کہ مجموعی طلب میں وسیع پیمانے پر اضافے کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب معاشی منظرنامہ چند ماہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار دکھائی دیتا ہے۔ اگر عالمی توانائی کی منڈیاں مستحکم رہیں اور کوئی بڑا موسمیاتی واقعہ ملک میں غذائی رسد کو متاثر نہ کرے تو امکان ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی 9 فیصد سے کم رہے گی اور اس کے بعد مزید کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک خطرہ اب بھی دیگر تمام خدشات پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ایل نینو کے رونما ہونے کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور اس کے ساتھ خوراک کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ فی الحال مہنگائی واضح طور پر نیچے کی جانب گامزن ہے، لیکن یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار شاید ملکی پالیسیوں سے زیادہ موسم اور عالمی اجناس کی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جون میں ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 11.07 فیصد رہ گئی، جو ایک ماہ قبل 11.66 فیصد تھی۔ یہ اس بات کا پہلا واضح اشارہ ہے کہ حالیہ مہنگائی کے شدید ترین دور کا بڑا حصہ شاید اب گزر چکا ہے۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی منفی 0.3 فیصد رہی، جو دسمبر 2025 کے بعد شہری سی پی آئی میں پہلی ماہانہ کمی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے اوسط مہنگائی 7.05 فیصد پر رہی۔</strong></p>
<p>جون کے اعداد و شمار مجموعی طور پر مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھے، اگرچہ چند اندرونی عوامل نے مہنگائی کو مارکیٹ کے عمومی اندازوں سے معمولی حد تک کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔ سب سے زیادہ مثبت اثر ٹرانسپورٹ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رہا۔ اس کے نتیجے میں، اگر کوئی بڑا جغرافیائی سیاسی  یا موسمیاتی جھٹکا پیش نہ آیا تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو ہندسوں والی مہنگائی کا دور شاید اب اختتام کے قریب ہے۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ کے شعبے نے سب سے زیادہ ریلیف فراہم کیا۔ گزشتہ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں موٹر فیولز ذیلی اشاریے میں تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ کمی ریکارڈ کی گئی، سوائے اپریل 2020 میں کورونا وبا کے عروج کے دوران دیکھے گئے غیر معمولی گراوٹ کے۔</p>
<p>اگرچہ آئندہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اضافی پیٹرولیم لیوی صارفین پر منتقل کی گئی، تاہم اس اضافے کا حجم اتنا بڑا نہیں ہوگا کہ مجموعی طور پر مہنگائی میں کمی کے موجودہ رجحان کو تبدیل کر سکے، الا یہ کہ عالمی تیل منڈی کسی نئے بڑے بحران کا شکار ہو جائے۔</p>
<p>رہائش اور یوٹیلیٹیز کے شعبے نے بھی مہنگائی میں کمی کے رجحان کو سہارا دیا۔ بجلی کے نرخ ماہانہ بنیاد پر 4.3 فیصد کم ہوئے کیونکہ فی یونٹ 1.98 روپے کی منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے فی یونٹ 1.19 روپے کے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کر دیا۔</p>
<p>اس وقت ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 25.57 روپے فی یونٹ ہے، جو مارچ 2024 میں ریکارڈ کی گئی 31.69 روپے فی یونٹ کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔ چونکہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ مزید دو ماہ تک برقرار رہے گی اور جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بھی محدود رہنے کی توقع ہے، اس لیے اگلے ماہ کے سی پی آئی میں بجلی کی قیمتوں میں مزید تقریباً 1.2 فیصد کمی متوقع ہے۔</p>
<p>گیس کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال اب بھی واحد اہم غیر یقینی عنصر ہے، تاہم اگر نرخوں میں کوئی نظرثانی کی گئی بھی تو توقع ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے بڑے اضافوں کے مقابلے میں کہیں کم ہوگی۔</p>
<p>ہیڈ لائن مہنگائی میں کمی اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی کہ غذائی مہنگائی خاموشی سے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ خوراک کی سالانہ مہنگائی 9 فیصد سے کم رہی، تاہم اس میں گزشتہ 27 ماہ کی تیز ترین رفتار سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ گندم کے آٹے کی قیمتیں ہیں۔</p>
<p>آٹے کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 30 ماہ کی بلند ترین شرح ہے۔ چونکہ آٹا غذائی اشیا کی ٹوکری میں دوسرا سب سے بڑا جزو ہے، اس لیے اس کا اثر بھی نمایاں رہا۔ تاہم حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ جون میں اس اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی اور ماہانہ بنیاد پر اضافہ مئی کے 11 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ مہنگائی کی ٹوکری کے سب سے زیادہ غیر مستحکم اجزا میں شامل ہیں۔ سبزیوں، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں موسمی اتار چڑھاؤ کے باعث ماہ بھر کے دوران نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، تاہم یہ تبدیلیاں عموماً عارضی نوعیت کی ہیں اور جب تک موسمی حالات شدید خراب نہ ہوں، ان سے درمیانی مدت میں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں۔</p>
<p>خوراک کے علاوہ سگریٹ کی قیمتوں میں گزشتہ دو برس کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی گئی، جو ٹیکسوں کی بنیاد پر قیمتوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب ذاتی استعمال کی اشیا کے زمرے میں بین الاقوامی منڈی میں سونے اور چاندی کی نرم قیمتوں نے اشاریے کو نیچے رکھنے میں مدد دی، کیونکہ اس زمرے میں قیمتی دھاتوں کا وزن نسبتاً زیادہ ہے۔</p>
<p>جون کے اعداد و شمار کی ایک غیر معمولی خصوصیت شادی ہالوں کے کرایوں میں ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کمی تھی۔ گزشتہ کم از کم سات برسوں میں ایسا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اسی غیر معمولی عنصر نے بھی مجموعی مہنگائی کو مارکیٹ کی توقعات سے معمولی کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>ادھر کور مہنگائی بھی درست سمت میں گامزن رہی۔ شہری کور مہنگائی کم ہو کر 8.7 فیصد جبکہ دیہی کور مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکے کے دوسرے مرحلے کے اثرات بتدریج کمزور پڑ رہے ہیں۔ اس تشریح کو ہول سیل قیمتوں کے اشاریے میں ہونے والی پیش رفت بھی تقویت دیتی ہے۔</p>
<p>ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں ماہانہ بنیاد پر 1.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2025 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی چین میں موجود قیمتوں کا دباؤ بڑھنے کے بجائے کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں کے لیے مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار یقیناً خوش آئند ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی، کور مہنگائی میں اعتدال اور ہول سیل قیمتوں میں گراوٹ اس مؤقف کو مزید مضبوط بناتے ہیں کہ حالیہ مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر لاگت میں اضافے کا نتیجہ تھا، نہ کہ مجموعی طلب میں وسیع پیمانے پر اضافے کا۔</p>
<p>اب معاشی منظرنامہ چند ماہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار دکھائی دیتا ہے۔ اگر عالمی توانائی کی منڈیاں مستحکم رہیں اور کوئی بڑا موسمیاتی واقعہ ملک میں غذائی رسد کو متاثر نہ کرے تو امکان ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی 9 فیصد سے کم رہے گی اور اس کے بعد مزید کمی آئے گی۔</p>
<p>تاہم ایک خطرہ اب بھی دیگر تمام خدشات پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ایل نینو کے رونما ہونے کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور اس کے ساتھ خوراک کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ فی الحال مہنگائی واضح طور پر نیچے کی جانب گامزن ہے، لیکن یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار شاید ملکی پالیسیوں سے زیادہ موسم اور عالمی اجناس کی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288205</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:44:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/021141449b60ce6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/021141449b60ce6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288186/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایف آر سی ایل) 1982 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی۔  کمپنی دیواروں اور فرش کے لیے سیرامک ٹائلز، سینیٹری ویئر اور دیگر متعلقہ مصنوعات تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کے جاری کردہ حصص کی تعداد 3 کروڑ 78 لاکھ 74 ہزار تھی، جو 980 حصص یافتگان کی ملکیت تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ڈائریکٹرز، ان کی شریک حیات اور کم عمر بچوں کے پاس تقریباً 96 فیصد حصص ہیں، جبکہ مقامی عام سرمایہ کار کمپنی کے 3.15 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے حصص یافتگان کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی کارکردگی (2019 تا 2025)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزہ مدت کے دوران 2024 میں سالانہ بنیاد پر ریکارڈ کی جانے والی کمی کے علاوہ کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم خالص منافع (باٹم لائن) کے لحاظ سے کمپنی کو 2019، 2023 اور 2024 میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے منافع کے مارجن 2019 میں نمایاں طور پر کم ہوئے، تاہم اس کے بعد اگلے دو برسوں میں ان میں بہتری آئی۔ اس کے بعد 2022 اور 2023 میں مارجنز میں دوبارہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072038663a207.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072038663a207.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2024 میں مجموعی منافع کا مارجن ( جی پی مارجن) مزید کم ہوا، تاہم آپریٹنگ منافع کے مارجن (او پی مارجن) اور خالص منافع کے مارجن (این پی مارجن) میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی (تفصیلات کے لیے منافع کے تناسب کے گراف کا جائزہ لیا جا سکتا ہے)۔ زیرِ جائزہ عرصے کی مالی کارکردگی کی تفصیل درج ذیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر 17.57 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی بڑھ کر 78 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فروخت کے حجم میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسی سال فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 36.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ایل پی جی کا زیادہ استعمال تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ گیس کے نرخوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے بھی فروختی لاگت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث 2019 میں مجموعی منافع 84 فیصد کم ہو گیا۔ نتیجتاً مجموعی منافع کا مارجن (جی پی مارجن) گھٹ کر 2.16 فیصد رہ گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ 15.89 فیصد تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں اور اثاثوں کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کے اخراجات بڑھنے کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی منافع بخشی مزید دباؤ کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072039558d977.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072039558d977.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد 203 سے بڑھا کر 242 کر دی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کو 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ 2018 میں اسے 5 کروڑ 46 لاکھ 50 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2019 میں دیگر اخراجات میں 92 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی نے اس سال ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی۔ اس کے علاوہ، گزشتہ سال کے برعکس 2019 میں ذخائر (انوینٹری) کی مالیت میں کمی کے باعث کوئی تحریری کٹوتی (رائٹ آف) بھی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیگر آمدنی بھی کمپنی کو سہارا نہ دے سکی اور 2019 میں سالانہ بنیاد پر 90.40 فیصد کم ہو گئی۔ اس کی بنیادی وجہ بلند تقابلی بنیاد ( ہائی بیس ایفیکٹ) تھی، کیونکہ 2018 میں کمپنی نے 1 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی واجبات ختم کرکے انہیں آمدنی میں شامل کیا تھا۔ ادھر مالیاتی اخراجات میں بھی سالانہ بنیاد پر 240 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے کمپنی کے خالص منافع پر مزید منفی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اضافے کی وجہ صرف شرحِ سود میں اضافہ نہیں تھا بلکہ سال کے دوران کمپنی کے قلیل مدتی اور طویل مدتی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کو 2019 میں 8 کروڑ 84 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ 2018 میں کمپنی نے 3 کروڑ 94 لاکھ 30 ہزار روپے کا خالص منافع کمایا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/010720385996143.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/010720385996143.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2019 میں کمپنی کا فی حصص خسارہ ( ایل پی ایس) 2.34 روپے رہا، جبکہ 2018 میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.04 روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کے دو سال، یعنی 2020 اور 2021، کمپنی کے لیے غیرمعمولی مالی بہتری کے سال ثابت ہوئے، جن کے دوران آمدنی، خالص منافع اور منافع کے مارجنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروخت میں یہ اضافہ نہ صرف فروخت کے حجم میں بہتری بلکہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں، کووڈ-19 کی وبا پھیلنے سے قبل کمپنی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مالی سال کے دوسرے نصف حصے میں کاروباری سست روی کے باوجود خالص فروخت میں 42.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 2021 میں کووڈ کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی میں 153.67 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین شرح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں برس فروختی لاگت کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا گیا، جس کے باعث 2020 اور 2021 میں مجموعی منافع بالترتیب 566.40 فیصد اور 162.81 فیصد بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن 2020 میں 10.11 فیصد اور 2021 میں 10.47 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروخت میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث ان دونوں برسوں میں آپریٹنگ اخراجات بھی بڑھے۔ کمپنی نے اپنے افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد 2020 میں 546 اور 2021 میں 764 کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ مال برداری کے اخراجات اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات بڑھنے سے بھی آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 116.83 فیصد اور 336.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا، نیز قانونی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں کمپنی نے 6 کروڑ 78 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ 2019 میں اسے 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔ اس طرح آپریٹنگ منافع کا مارجن 6.10 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں آپریٹنگ منافع مزید 243.81 فیصد بڑھ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔ اس دوران دیگر آمدنی میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 43.24 فیصد اور 33.06 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالیاتی اخراجات میں کمی نے بھی خالص منافع میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں اگرچہ شرحِ سود سال کے بیشتر حصے میں بلند رہی، تاہم کمپنی نے اپنے طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کی، جس سے مالیاتی اخراجات 13.60 فیصد کم ہو گئے۔ 2021 میں مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں مزید 12.40 فیصد کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً 2020 میں کمپنی نے 4 کروڑ 38 لاکھ 50 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.16 روپے رہی۔ 2021 میں خالص منافع 266.50 فیصد اضافے کے ساتھ 16 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور فی حصص آمدنی 4.24 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں خالص منافع کا مارجن بالترتیب 3.93 فیصد اور 5.68 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم لگاتار دو برس کی مضبوط کارکردگی کے بعد 2022 میں کمپنی کی مالی صورتحال دوبارہ دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اگرچہ اس سال خالص فروخت میں 32.85 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 375 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی، لیکن خالص منافع میں نمایاں کمی اور منافع کے مارجنز میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث سرکاری اور نجی شعبے کی تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی نے اپنی فروختی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر توجہ مرکوز کی، جس سے فروخت میں اضافہ ممکن ہوا۔ دوسری جانب فروختی لاگت مسلسل بڑھتی رہی کیونکہ کمپنی نے اپنے پلانٹ کو قدرتی گیس کے بجائے آر ایل این جی پر منتقل کر دیا، جو نسبتاً زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی منافع پر منفی اثر ڈالا، جو 2022 میں 18.52 فیصد کم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن بھی کم ہو کر 6.42 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے دباؤ نے آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ کیا۔ اس دوران کمپنی نے مزید 22 ملازمین بھرتی کیے، جس سے ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 786 ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سال کے دوران ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے کم رقوم مختص کی گئیں، جس کے باعث دیگر اخراجات میں 29.47 فیصد کمی آئی، تاہم اس کے باوجود آپریٹنگ منافع 26.68 فیصد گھٹ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد سے کم ہو کر 4.55 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں مالیاتی اخراجات میں 20.79 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں اضافہ تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے سال کے دوران جنریٹر کی خریداری کے لیے 7 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار روپے کا نیا طویل مدتی قرض بھی حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں 2022 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 76 فیصد کم ہو کر 3 کروڑ 85 لاکھ 10 ہزار روپے رہ گیا۔ اس عرصے میں فی حصص آمدنی 1.02 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن صرف ایک فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں شروع ہونے والا خالص منافع میں کمی اور منافع کے مارجنز کے سکڑنے کا رجحان 2023 میں بھی جاری رہا، کیونکہ ملک کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود 2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 9.51 فیصد بڑھ کر 411 کروڑ 45 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ مصنوعات کے پورٹ فولیو اور فروختی ذرائع (سیلز چینل مکس) میں تبدیلیاں تھیں، جن کی بدولت کمپنی گزشتہ سال کے برابر فروختی حجم برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروختی لاگت میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ روس۔یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی تھی۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ملک میں بلند افراطِ زر، توانائی کے نرخوں میں اضافہ، گیس کی غیر مستقل فراہمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداواری لاگت مزید بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں مجموعی منافع 57.18 فیصد کم ہو گیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 2.51 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں تنخواہوں، اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات کے لیے مختص رقوم کے باعث تقسیمی اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 33.58 فیصد اور 29.13 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران کمپنی کے ملازمین کی تعداد بڑھ کر 813 ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیگر اخراجات میں 459.58 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 7 کروڑ 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ زرِ مبادلہ کے بھاری نقصان (ایکسچینج لاس) کا سامنا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے باعث کمپنی کو 2023 میں 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دیگر آمدنی میں زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث 344 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بلند شرحِ سود کے باعث مالیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو 15 کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ فی حصص خسارہ 4.05 روپے ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں کمپنی کی مالی کارکردگی مزید دباؤ کا شکار رہی اور خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 16.91 فیصد کم ہو کر 341 کروڑ 93 لاکھ 50 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی تھی، جس سے ٹائلز اور سیرامکس کی طلب بری طرح متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی کے محاذ پر لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے پر عائد پابندیوں کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں کمپنی سال بھر اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل استعمال نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم پیداواری استعداد، گیس اور بجلی کے بلند نرخ، اجرتوں میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مجموعی منافع 29.76 فیصد کم ہو گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مزید گھٹ کر 2.12 فیصد پر آ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی کم ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں تقسیمی اخراجات میں 2.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مال برداری کے اخراجات اور تقسیمی نظام سے وابستہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس انتظامی اخراجات میں 21.64 فیصد کمی آئی، کیونکہ کمپنی نے مشکوک قرضوں کے خلاف کوئی رقم مختص نہیں کی، جبکہ افرادی قوت 813 سے کم کر کے 765 کرنے کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بھی کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر اخراجات میں 94.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سال کے دوران کمپنی کو زرِ مبادلہ کے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے 61 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال کمپنی کو 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث دیگر آمدنی میں 77.77 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ پراویڈنٹ فنڈ پر ادا کیے گئے مارک اپ کے باعث بلند شرحِ سود کا اثر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کمپنی کا گیئرنگ ریشو 2023 کے 32 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 24 فیصد رہ گیا، جو قرضوں پر انحصار میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ خالص خسارے میں سالانہ بنیاد پر 28.38 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کو 2024 میں 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2025-کی-کارکردگی" href="#2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2025 کی کارکردگی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;2025 میں کمپنی کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 28.40 فیصد بڑھ کر 439 کروڑ 4 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تعمیراتی شعبہ، جو کمپنی کی مصنوعات کی طلب کا بنیادی ذریعہ ہے، بلند افراطِ زر، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت سست اخراجات اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث سال بھر دباؤ کا شکار رہا، تاہم کمپنی زیادہ منافع بخش اور ڈیزائن پر مبنی مصنوعات پر توجہ دے کر اپنی فروخت بڑھانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران کمپنی نے اپنے ”فورٹے (FORTE)“ برانڈ کی تشہیر اور مارکیٹ میں اس کی شناخت مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور توانائی کے استعمال کے طریقہ کار (انرجی مکس) کو مؤثر بنا کر پیداواری لاگت کو بھی قابو میں رکھا۔ اس کے نتیجے میں 2025 میں فروختی لاگت میں 19.21 فیصد اضافہ ہوا، جو فروخت میں ہونے والے اضافے سے خاصا کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مثبت اثر مجموعی منافع پر پڑا، جو 452.28 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 9.13 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں مواصلاتی، سفری اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات کم ہونے کے باعث تقسیمی اخراجات میں 6.12 فیصد کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ڈائریکٹرز کے معاوضوں میں اضافے اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات (ای سی ایل) کے لیے زیادہ رقم مختص کیے جانے کے باعث انتظامی اخراجات 3.41 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنی افرادی قوت 765 سے کم کر کے 732 ملازمین تک محدود کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 611 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 4907.34 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 7 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2025 میں دیگر آمدنی میں 84.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی کو کرایے کی مد میں کوئی آمدنی حاصل نہیں ہوئی اور مارک اپ آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف مانیٹری پالیسی میں نرمی اور طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کے باعث مالیاتی اخراجات 79.68 فیصد کم ہو گئے۔ اسی دوران گیئرنگ ریشو بھی 24 فیصد سے گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی نے 2025 میں 14 کروڑ 74 لاکھ 95 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ 2024 میں اسے 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح فی حصص آمدنی 2025 میں 3.89 روپے رہی، جبکہ 2024 میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حالیہ مالی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 10.29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 359 کروڑ 36 لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات فروخت کے حجم میں اضافہ، مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی اور زیادہ منافع بخش مصنوعات پر مشتمل متوازن فروختی حکمت عملی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں طلب کا زیادہ تر انحصار گھروں اور عمارتوں کی تزئین و مرمت اور سرکاری شعبے کے بحالی منصوبوں پر رہا، جبکہ نجی شعبے کی طلب نسبتاً کمزور رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ عرصے میں کمپنی نے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی۔ اس حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی، پاکستانی روپے کے استحکام اور توانائی کے ذرائع کے مؤثر امتزاج کے باعث پیداواری لاگت میں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی منافع میں 42.82 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 8.26 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.38 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداوار اور فروخت کے حجم میں اضافے کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ کے باعث 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقسیمی اخراجات 7 فیصد اور انتظامی اخراجات 13.60 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر اخراجات میں 2.58 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ممکنہ وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 59.46 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.29 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 6.20 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیگر آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 46 لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 کروڑ 83 لاکھ 30 ہزار روپے ہو گئی، یعنی سالانہ بنیاد پر 1151.13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ متعلقہ فریقوں ( کو دیے گئے قرضوں میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں مارک اپ آمدنی میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی، تاہم کمپنی کے قلیل مدتی واجبات میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 3.78 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود کمپنی گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے قرضوں میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 126.19 فیصد بڑھ کر 18 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں فی حصص آمدنی 4.90 روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 2.17 روپے تھی۔ اسی طرح خالص منافع کا مارجن 2.52 فیصد سے بڑھ کر 5.17 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حالیہ عرصے میں تعمیراتی سرگرمیوں میں مسلسل سست روی کے باعث ٹائلز کی مقامی مارکیٹ نمایاں طور پر سکڑ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات معاشی اور سیاسی عدم استحکام، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ، بلند شرحِ سود، صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل کمزوری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حالیہ مہینوں میں بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا۔ اس وقت تعمیراتی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار تزئین و مرمت اور سرکاری منصوبوں پر ہے، جبکہ ان منصوبوں کے لیے بھی فنڈز کا اجرا سست روی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں کمپنی فی الحال اپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، برانڈ کی شناخت مضبوط کرنے، ڈیلرز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور اپنی فروخت میں زیادہ منافع بخش مصنوعات کا تناسب بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایف آر سی ایل) 1982 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی۔  کمپنی دیواروں اور فرش کے لیے سیرامک ٹائلز، سینیٹری ویئر اور دیگر متعلقہ مصنوعات تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔</strong></p>
<p><strong>حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ</strong></p>
<p>30 جون 2025 تک فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کے جاری کردہ حصص کی تعداد 3 کروڑ 78 لاکھ 74 ہزار تھی، جو 980 حصص یافتگان کی ملکیت تھے۔</p>
<p>کمپنی کے ڈائریکٹرز، ان کی شریک حیات اور کم عمر بچوں کے پاس تقریباً 96 فیصد حصص ہیں، جبکہ مقامی عام سرمایہ کار کمپنی کے 3.15 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے حصص یافتگان کے پاس ہیں۔</p>
<p><strong>مالی کارکردگی (2019 تا 2025)</strong></p>
<p>جائزہ مدت کے دوران 2024 میں سالانہ بنیاد پر ریکارڈ کی جانے والی کمی کے علاوہ کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم خالص منافع (باٹم لائن) کے لحاظ سے کمپنی کو 2019، 2023 اور 2024 میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>کمپنی کے منافع کے مارجن 2019 میں نمایاں طور پر کم ہوئے، تاہم اس کے بعد اگلے دو برسوں میں ان میں بہتری آئی۔ اس کے بعد 2022 اور 2023 میں مارجنز میں دوبارہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072038663a207.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072038663a207.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2024 میں مجموعی منافع کا مارجن ( جی پی مارجن) مزید کم ہوا، تاہم آپریٹنگ منافع کے مارجن (او پی مارجن) اور خالص منافع کے مارجن (این پی مارجن) میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>2025 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی (تفصیلات کے لیے منافع کے تناسب کے گراف کا جائزہ لیا جا سکتا ہے)۔ زیرِ جائزہ عرصے کی مالی کارکردگی کی تفصیل درج ذیل ہے۔</p>
<p>2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر 17.57 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی بڑھ کر 78 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فروخت کے حجم میں اضافہ تھا۔</p>
<p>تاہم اسی سال فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 36.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ایل پی جی کا زیادہ استعمال تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ گیس کے نرخوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے بھی فروختی لاگت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث 2019 میں مجموعی منافع 84 فیصد کم ہو گیا۔ نتیجتاً مجموعی منافع کا مارجن (جی پی مارجن) گھٹ کر 2.16 فیصد رہ گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ 15.89 فیصد تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں اور اثاثوں کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کے اخراجات بڑھنے کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی منافع بخشی مزید دباؤ کا شکار رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072039558d977.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/01072039558d977.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد 203 سے بڑھا کر 242 کر دی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کو 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ 2018 میں اسے 5 کروڑ 46 لاکھ 50 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل ہوا تھا۔</p>
<p>تاہم 2019 میں دیگر اخراجات میں 92 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی نے اس سال ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی۔ اس کے علاوہ، گزشتہ سال کے برعکس 2019 میں ذخائر (انوینٹری) کی مالیت میں کمی کے باعث کوئی تحریری کٹوتی (رائٹ آف) بھی نہیں کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب دیگر آمدنی بھی کمپنی کو سہارا نہ دے سکی اور 2019 میں سالانہ بنیاد پر 90.40 فیصد کم ہو گئی۔ اس کی بنیادی وجہ بلند تقابلی بنیاد ( ہائی بیس ایفیکٹ) تھی، کیونکہ 2018 میں کمپنی نے 1 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی واجبات ختم کرکے انہیں آمدنی میں شامل کیا تھا۔ ادھر مالیاتی اخراجات میں بھی سالانہ بنیاد پر 240 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے کمپنی کے خالص منافع پر مزید منفی اثر ڈالا۔</p>
<p>اس اضافے کی وجہ صرف شرحِ سود میں اضافہ نہیں تھا بلکہ سال کے دوران کمپنی کے قلیل مدتی اور طویل مدتی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کو 2019 میں 8 کروڑ 84 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ 2018 میں کمپنی نے 3 کروڑ 94 لاکھ 30 ہزار روپے کا خالص منافع کمایا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/010720385996143.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/010720385996143.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2019 میں کمپنی کا فی حصص خسارہ ( ایل پی ایس) 2.34 روپے رہا، جبکہ 2018 میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.04 روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد کے دو سال، یعنی 2020 اور 2021، کمپنی کے لیے غیرمعمولی مالی بہتری کے سال ثابت ہوئے، جن کے دوران آمدنی، خالص منافع اور منافع کے مارجنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروخت میں یہ اضافہ نہ صرف فروخت کے حجم میں بہتری بلکہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نتیجہ تھا۔</p>
<p>2020 میں، کووڈ-19 کی وبا پھیلنے سے قبل کمپنی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مالی سال کے دوسرے نصف حصے میں کاروباری سست روی کے باوجود خالص فروخت میں 42.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 2021 میں کووڈ کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی میں 153.67 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین شرح تھی۔</p>
<p>دونوں برس فروختی لاگت کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا گیا، جس کے باعث 2020 اور 2021 میں مجموعی منافع بالترتیب 566.40 فیصد اور 162.81 فیصد بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن 2020 میں 10.11 فیصد اور 2021 میں 10.47 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>تاہم فروخت میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث ان دونوں برسوں میں آپریٹنگ اخراجات بھی بڑھے۔ کمپنی نے اپنے افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد 2020 میں 546 اور 2021 میں 764 کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ مال برداری کے اخراجات اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات بڑھنے سے بھی آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 116.83 فیصد اور 336.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا، نیز قانونی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات میں اضافہ تھا۔</p>
<p>2020 میں کمپنی نے 6 کروڑ 78 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ 2019 میں اسے 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔ اس طرح آپریٹنگ منافع کا مارجن 6.10 فیصد رہا۔</p>
<p>2021 میں آپریٹنگ منافع مزید 243.81 فیصد بڑھ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔ اس دوران دیگر آمدنی میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 43.24 فیصد اور 33.06 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالیاتی اخراجات میں کمی نے بھی خالص منافع میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>2020 میں اگرچہ شرحِ سود سال کے بیشتر حصے میں بلند رہی، تاہم کمپنی نے اپنے طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کی، جس سے مالیاتی اخراجات 13.60 فیصد کم ہو گئے۔ 2021 میں مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں مزید 12.40 فیصد کمی آئی۔</p>
<p>نتیجتاً 2020 میں کمپنی نے 4 کروڑ 38 لاکھ 50 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.16 روپے رہی۔ 2021 میں خالص منافع 266.50 فیصد اضافے کے ساتھ 16 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور فی حصص آمدنی 4.24 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں خالص منافع کا مارجن بالترتیب 3.93 فیصد اور 5.68 فیصد رہا۔</p>
<p>تاہم لگاتار دو برس کی مضبوط کارکردگی کے بعد 2022 میں کمپنی کی مالی صورتحال دوبارہ دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اگرچہ اس سال خالص فروخت میں 32.85 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 375 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی، لیکن خالص منافع میں نمایاں کمی اور منافع کے مارجنز میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>سال کے دوران صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث سرکاری اور نجی شعبے کی تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی نے اپنی فروختی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر توجہ مرکوز کی، جس سے فروخت میں اضافہ ممکن ہوا۔ دوسری جانب فروختی لاگت مسلسل بڑھتی رہی کیونکہ کمپنی نے اپنے پلانٹ کو قدرتی گیس کے بجائے آر ایل این جی پر منتقل کر دیا، جو نسبتاً زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی منافع پر منفی اثر ڈالا، جو 2022 میں 18.52 فیصد کم ہو گیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن بھی کم ہو کر 6.42 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>مہنگائی کے دباؤ نے آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ کیا۔ اس دوران کمپنی نے مزید 22 ملازمین بھرتی کیے، جس سے ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 786 ہو گئی۔</p>
<p>اگرچہ سال کے دوران ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے کم رقوم مختص کی گئیں، جس کے باعث دیگر اخراجات میں 29.47 فیصد کمی آئی، تاہم اس کے باوجود آپریٹنگ منافع 26.68 فیصد گھٹ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد سے کم ہو کر 4.55 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2022 میں مالیاتی اخراجات میں 20.79 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں اضافہ تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے سال کے دوران جنریٹر کی خریداری کے لیے 7 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار روپے کا نیا طویل مدتی قرض بھی حاصل کیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں 2022 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 76 فیصد کم ہو کر 3 کروڑ 85 لاکھ 10 ہزار روپے رہ گیا۔ اس عرصے میں فی حصص آمدنی 1.02 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن صرف ایک فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2022 میں شروع ہونے والا خالص منافع میں کمی اور منافع کے مارجنز کے سکڑنے کا رجحان 2023 میں بھی جاری رہا، کیونکہ ملک کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔</p>
<p>اس کے باوجود 2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 9.51 فیصد بڑھ کر 411 کروڑ 45 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ مصنوعات کے پورٹ فولیو اور فروختی ذرائع (سیلز چینل مکس) میں تبدیلیاں تھیں، جن کی بدولت کمپنی گزشتہ سال کے برابر فروختی حجم برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>تاہم فروختی لاگت میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ روس۔یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی تھی۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ملک میں بلند افراطِ زر، توانائی کے نرخوں میں اضافہ، گیس کی غیر مستقل فراہمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداواری لاگت مزید بڑھ گئی۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں مجموعی منافع 57.18 فیصد کم ہو گیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 2.51 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2023 میں تنخواہوں، اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات کے لیے مختص رقوم کے باعث تقسیمی اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 33.58 فیصد اور 29.13 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>سال کے دوران کمپنی کے ملازمین کی تعداد بڑھ کر 813 ہو گئی۔</p>
<p>دوسری جانب دیگر اخراجات میں 459.58 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 7 کروڑ 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ زرِ مبادلہ کے بھاری نقصان (ایکسچینج لاس) کا سامنا کرنا تھا۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے باعث کمپنی کو 2023 میں 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا۔</p>
<p>اگرچہ دیگر آمدنی میں زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث 344 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بلند شرحِ سود کے باعث مالیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو 15 کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ فی حصص خسارہ 4.05 روپے ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2024 میں کمپنی کی مالی کارکردگی مزید دباؤ کا شکار رہی اور خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 16.91 فیصد کم ہو کر 341 کروڑ 93 لاکھ 50 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی تھی، جس سے ٹائلز اور سیرامکس کی طلب بری طرح متاثر ہوئی۔</p>
<p>سپلائی کے محاذ پر لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے پر عائد پابندیوں کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں کمپنی سال بھر اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل استعمال نہ کر سکی۔</p>
<p>کم پیداواری استعداد، گیس اور بجلی کے بلند نرخ، اجرتوں میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مجموعی منافع 29.76 فیصد کم ہو گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مزید گھٹ کر 2.12 فیصد پر آ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی کم ترین سطح تھی۔</p>
<p>2024 میں تقسیمی اخراجات میں 2.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مال برداری کے اخراجات اور تقسیمی نظام سے وابستہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس انتظامی اخراجات میں 21.64 فیصد کمی آئی، کیونکہ کمپنی نے مشکوک قرضوں کے خلاف کوئی رقم مختص نہیں کی، جبکہ افرادی قوت 813 سے کم کر کے 765 کرنے کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بھی کم ہوئے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر اخراجات میں 94.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سال کے دوران کمپنی کو زرِ مبادلہ کے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p>2024 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے 61 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال کمپنی کو 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔</p>
<p>اسی دوران زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث دیگر آمدنی میں 77.77 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ پراویڈنٹ فنڈ پر ادا کیے گئے مارک اپ کے باعث بلند شرحِ سود کا اثر تھا۔</p>
<p>دوسری جانب کمپنی کا گیئرنگ ریشو 2023 کے 32 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 24 فیصد رہ گیا، جو قرضوں پر انحصار میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ خالص خسارے میں سالانہ بنیاد پر 28.38 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کو 2024 میں 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے رہا۔</p>
<h3><a id="2025-کی-کارکردگی" href="#2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2025 کی کارکردگی</h3>
<p>2025 میں کمپنی کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 28.40 فیصد بڑھ کر 439 کروڑ 4 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اگرچہ تعمیراتی شعبہ، جو کمپنی کی مصنوعات کی طلب کا بنیادی ذریعہ ہے، بلند افراطِ زر، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت سست اخراجات اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث سال بھر دباؤ کا شکار رہا، تاہم کمپنی زیادہ منافع بخش اور ڈیزائن پر مبنی مصنوعات پر توجہ دے کر اپنی فروخت بڑھانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>اس دوران کمپنی نے اپنے ”فورٹے (FORTE)“ برانڈ کی تشہیر اور مارکیٹ میں اس کی شناخت مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی۔</p>
<p>کمپنی نے آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور توانائی کے استعمال کے طریقہ کار (انرجی مکس) کو مؤثر بنا کر پیداواری لاگت کو بھی قابو میں رکھا۔ اس کے نتیجے میں 2025 میں فروختی لاگت میں 19.21 فیصد اضافہ ہوا، جو فروخت میں ہونے والے اضافے سے خاصا کم تھا۔</p>
<p>اس کا مثبت اثر مجموعی منافع پر پڑا، جو 452.28 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 9.13 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>2025 میں مواصلاتی، سفری اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات کم ہونے کے باعث تقسیمی اخراجات میں 6.12 فیصد کمی آئی۔</p>
<p>اس کے برعکس ڈائریکٹرز کے معاوضوں میں اضافے اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات (ای سی ایل) کے لیے زیادہ رقم مختص کیے جانے کے باعث انتظامی اخراجات 3.41 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>کمپنی نے اپنی افرادی قوت 765 سے کم کر کے 732 ملازمین تک محدود کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں کمی آئی۔</p>
<p>دوسری جانب ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 611 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 4907.34 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 7 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>تاہم 2025 میں دیگر آمدنی میں 84.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی کو کرایے کی مد میں کوئی آمدنی حاصل نہیں ہوئی اور مارک اپ آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی۔</p>
<p>دوسری طرف مانیٹری پالیسی میں نرمی اور طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کے باعث مالیاتی اخراجات 79.68 فیصد کم ہو گئے۔ اسی دوران گیئرنگ ریشو بھی 24 فیصد سے گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی نے 2025 میں 14 کروڑ 74 لاکھ 95 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ 2024 میں اسے 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا تھا۔</p>
<p>اسی طرح فی حصص آمدنی 2025 میں 3.89 روپے رہی، جبکہ 2024 میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<h3><a id="حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالی-کارکردگی-مالی-سال-2025-26-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حالیہ مالی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)</h3>
<p>جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 10.29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 359 کروڑ 36 لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات فروخت کے حجم میں اضافہ، مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی اور زیادہ منافع بخش مصنوعات پر مشتمل متوازن فروختی حکمت عملی تھیں۔</p>
<p>اس عرصے میں طلب کا زیادہ تر انحصار گھروں اور عمارتوں کی تزئین و مرمت اور سرکاری شعبے کے بحالی منصوبوں پر رہا، جبکہ نجی شعبے کی طلب نسبتاً کمزور رہی۔</p>
<p>حالیہ عرصے میں کمپنی نے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی۔ اس حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی، پاکستانی روپے کے استحکام اور توانائی کے ذرائع کے مؤثر امتزاج کے باعث پیداواری لاگت میں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی منافع میں 42.82 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس عرصے میں مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 8.26 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.38 فیصد تھا۔</p>
<p>پیداوار اور فروخت کے حجم میں اضافے کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ کے باعث 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقسیمی اخراجات 7 فیصد اور انتظامی اخراجات 13.60 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر اخراجات میں 2.58 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ممکنہ وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا تھی۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 59.46 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.29 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 6.20 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>دوسری جانب دیگر آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 46 لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 کروڑ 83 لاکھ 30 ہزار روپے ہو گئی، یعنی سالانہ بنیاد پر 1151.13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ متعلقہ فریقوں ( کو دیے گئے قرضوں میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں مارک اپ آمدنی میں اضافہ تھا۔</p>
<p>اگرچہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی، تاہم کمپنی کے قلیل مدتی واجبات میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 3.78 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود کمپنی گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے قرضوں میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 126.19 فیصد بڑھ کر 18 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس عرصے میں فی حصص آمدنی 4.90 روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 2.17 روپے تھی۔ اسی طرح خالص منافع کا مارجن 2.52 فیصد سے بڑھ کر 5.17 فیصد ہو گیا۔</p>
<h3><a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مستقبل کا منظرنامہ</h3>
<p>حالیہ عرصے میں تعمیراتی سرگرمیوں میں مسلسل سست روی کے باعث ٹائلز کی مقامی مارکیٹ نمایاں طور پر سکڑ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات معاشی اور سیاسی عدم استحکام، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ، بلند شرحِ سود، صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل کمزوری ہیں۔</p>
<p>اگرچہ حالیہ مہینوں میں بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا۔ اس وقت تعمیراتی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار تزئین و مرمت اور سرکاری منصوبوں پر ہے، جبکہ ان منصوبوں کے لیے بھی فنڈز کا اجرا سست روی کا شکار ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں کمپنی فی الحال اپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، برانڈ کی شناخت مضبوط کرنے، ڈیلرز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور اپنی فروخت میں زیادہ منافع بخش مصنوعات کا تناسب بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288186</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 20:44:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/011920381c6939c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/011920381c6939c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیمنٹ صنعت مستحکم، مگر ترقی کی رفتار اب بھی محدود</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288156/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سیمنٹ صنعت مالی سال 2025-26  کا اختتام نسبتاً مضبوط بنیادوں پر کر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ سال بھر کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 5 کروڑ ٹن سے کچھ زیادہ رہیں گی، جو مالی سال 2024-25 (مالی سال 25) کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔ یوں طویل جمود کے بعد بحالی کا یہ مسلسل دوسرا سال ہوگا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ تقریباً مکمل طور پر ملکی طلب ہے، جہاں مقامی ترسیلات میں 9 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ برآمدات میں 3 فیصد کمی آنے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں تعمیرات کا شعبہ بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی میں کمی، شرحِ سود میں کمی اور کاروباری اعتماد میں بہتری نے نجی تعمیراتی سرگرمیوں کو دوبارہ متحرک کیا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران انتہائی کمزور رہنے والی مقامی سیمنٹ طلب میں بحالی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود مجموعی ترسیلات اب بھی ان سطحوں سے خاصی کم ہیں جن کی سیمنٹ ساز کمپنیوں نے توقع کی تھی، جب انہوں نے چند سال قبل پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر توسیع کا جارحانہ منصوبہ شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پیداواری صلاحیت مسلسل بڑھتی رہی، جبکہ کھپت اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی، جس کے نتیجے میں صنعت کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اضافی پیداواری صلاحیت کے بوجھ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال پیداواری صلاحیت کے استعمال  کی شرح گزشتہ سال کے 56 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 59 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم یہ اب بھی 65 فیصد کی اس سطح سے کم ہے جسے ایک معقول اور صحت مند شرح سمجھا جاتا ہے۔ یہ عدم توازن کئی برسوں کے دوران پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ تعمیراتی سرگرمیوں کے عروج اور مالی سال 2021 میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت دی گئی ہاؤسنگ مراعات کے دوران سیمنٹ کمپنیوں نے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی تعمیرات میں مسلسل اضافے کی توقع کرتے ہوئے اپنی پیداواری لائنوں میں تیزی سے توسیع کی۔ لیکن اس کے برعکس، معاشی عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بار بار کے معاشی استحکام کے پروگراموں نے نئی پیداواری صلاحیت جذب ہونے سے پہلے ہی تعمیراتی سرگرمیوں کو شدید سست کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں تک برآمدات نے اس صورتحال کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی۔ بیرونِ ملک سیمنٹ کی ترسیلات نے مقامی طلب کی کمزوری کا کچھ بوجھ اٹھایا، لیکن اب یہ سہارا پہلے کے مقابلے میں خاصا محدود ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال برآمدی ترسیلات میں کمی متوقع ہے کیونکہ علاقائی سطح پر مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مال برداری کی لاگت اور معاشی عوامل پہلے کی نسبت کم سازگار ہوتے جا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی پاکستان کے ان سیمنٹ ساز اداروں کے لیے جو اپنی برآمدات سمندری راستوں کے ذریعے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی علاقوں سے سمندری راستے کے ذریعے ہونے والی برآمدات، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر مجموعی برآمدی ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ مقامی منڈی کی جانب توجہ مرکوز ہونا تجارتی اعتبار سے سیمنٹ ساز کمپنیوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ مقامی مارکیٹ میں عموماً قیمتوں پر بہتر اختیار حاصل ہوتا ہے اور برآمدات کے مقابلے میں نقل و حمل اور لاجسٹکس کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب صنعت کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ پاکستان کے اپنے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہو گئی ہے، جہاں طلب کا بڑا انحصار حکومتی ترقیاتی اخراجات اور ہاؤسنگ سرگرمیوں پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے کے لیے متعدد ٹیکس اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ رعایتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے بھی گھروں کی ملکیت کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اخراجات میں کمی  سے توقع کی جا رہی ہے کہ نجی تعمیراتی کمپنیاں بتدریج ان منصوبوں کو دوبارہ شروع کریں گی جو بلند شرحِ سود کے دور میں مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ اقدامات ایک مرتبہ پھر تعمیراتی شعبے میں تیزی پیدا کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائش کی استطاعت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ گھریلو آمدن میں اضافہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ دوسری جانب مالیاتی نظم و ضبط کی ضروریات کے باعث سرکاری ترقیاتی اخراجات بھی محدود ہیں، جس سے حکومت کی اس صلاحیت پر بھی قدغن لگتی ہے کہ وہ ماضی کی طرح بنیادی ڈھانچے پر مبنی ایسے بڑے منصوبے شروع کر سکے جو سیمنٹ کی کھپت میں نمایاں اضافہ کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی طلب میں اضافے کی رفتار مستقبل قریب میں اتنی تیز دکھائی نہیں دیتی کہ پاکستان کی موجودہ بڑی اضافی پیداواری صلاحیت کو جذب کر سکے۔ جب تک بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں مستقل سرمایہ کاری، رہائشی تعمیرات میں حقیقی تیزی یا برآمدات کی مسابقت میں نمایاں بحالی نہیں آتی، اس وقت تک آئندہ چند برسوں میں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح میں صرف بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سیمنٹ ساز اداروں کے لیے شاید یہ کوئی منفی صورتحال نہ ہو۔ ملک کی بڑی سیمنٹ کمپنیوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی مالی پوزیشن کو مضبوط بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور جہاں ممکن ہو وہاں اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے پر توجہ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے اب انہیں منافع بخش رہنے کے لیے مالی سال 2021 جیسی غیر معمولی طلب میں اچانک اضافے کی ضرورت نہ ہو۔ ان کے لیے زیادہ اہم چیز ایک مستحکم ملکی معیشت ہے، جو ہر سال مسلسل چند ملین ٹن اضافی مقامی طلب پیدا کرتی رہے، نہ کہ ایک اور عارضی تعمیراتی جنون  پیدا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہی صورتحال اس صنعت کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو سکتی ہے، خواہ اس کا مطلب یہ ہی کیوں نہ ہو کہ پاکستان کی سیمنٹ کی بڑی اضافی پیداواری صلاحیت ابھی بھی طویل عرصے تک مارکیٹ پر اپنا سایہ ڈالے رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی سیمنٹ صنعت مالی سال 2025-26  کا اختتام نسبتاً مضبوط بنیادوں پر کر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ سال بھر کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 5 کروڑ ٹن سے کچھ زیادہ رہیں گی، جو مالی سال 2024-25 (مالی سال 25) کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔ یوں طویل جمود کے بعد بحالی کا یہ مسلسل دوسرا سال ہوگا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ تقریباً مکمل طور پر ملکی طلب ہے، جہاں مقامی ترسیلات میں 9 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ برآمدات میں 3 فیصد کمی آنے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں تعمیرات کا شعبہ بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی میں کمی، شرحِ سود میں کمی اور کاروباری اعتماد میں بہتری نے نجی تعمیراتی سرگرمیوں کو دوبارہ متحرک کیا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران انتہائی کمزور رہنے والی مقامی سیمنٹ طلب میں بحالی دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>اس کے باوجود مجموعی ترسیلات اب بھی ان سطحوں سے خاصی کم ہیں جن کی سیمنٹ ساز کمپنیوں نے توقع کی تھی، جب انہوں نے چند سال قبل پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر توسیع کا جارحانہ منصوبہ شروع کیا تھا۔</p>
<p>ادھر پیداواری صلاحیت مسلسل بڑھتی رہی، جبکہ کھپت اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی، جس کے نتیجے میں صنعت کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اضافی پیداواری صلاحیت کے بوجھ کا سامنا ہے۔</p>
<p>رواں سال پیداواری صلاحیت کے استعمال  کی شرح گزشتہ سال کے 56 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 59 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم یہ اب بھی 65 فیصد کی اس سطح سے کم ہے جسے ایک معقول اور صحت مند شرح سمجھا جاتا ہے۔ یہ عدم توازن کئی برسوں کے دوران پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ تعمیراتی سرگرمیوں کے عروج اور مالی سال 2021 میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت دی گئی ہاؤسنگ مراعات کے دوران سیمنٹ کمپنیوں نے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی تعمیرات میں مسلسل اضافے کی توقع کرتے ہوئے اپنی پیداواری لائنوں میں تیزی سے توسیع کی۔ لیکن اس کے برعکس، معاشی عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بار بار کے معاشی استحکام کے پروگراموں نے نئی پیداواری صلاحیت جذب ہونے سے پہلے ہی تعمیراتی سرگرمیوں کو شدید سست کر دیا۔</p>
<p>کئی برسوں تک برآمدات نے اس صورتحال کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی۔ بیرونِ ملک سیمنٹ کی ترسیلات نے مقامی طلب کی کمزوری کا کچھ بوجھ اٹھایا، لیکن اب یہ سہارا پہلے کے مقابلے میں خاصا محدود ہو چکا ہے۔</p>
<p>رواں سال برآمدی ترسیلات میں کمی متوقع ہے کیونکہ علاقائی سطح پر مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مال برداری کی لاگت اور معاشی عوامل پہلے کی نسبت کم سازگار ہوتے جا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی پاکستان کے ان سیمنٹ ساز اداروں کے لیے جو اپنی برآمدات سمندری راستوں کے ذریعے کرتے ہیں۔</p>
<p>جون کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی علاقوں سے سمندری راستے کے ذریعے ہونے والی برآمدات، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر مجموعی برآمدی ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور رہی ہیں۔</p>
<p>دوبارہ مقامی منڈی کی جانب توجہ مرکوز ہونا تجارتی اعتبار سے سیمنٹ ساز کمپنیوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ مقامی مارکیٹ میں عموماً قیمتوں پر بہتر اختیار حاصل ہوتا ہے اور برآمدات کے مقابلے میں نقل و حمل اور لاجسٹکس کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب صنعت کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ پاکستان کے اپنے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہو گئی ہے، جہاں طلب کا بڑا انحصار حکومتی ترقیاتی اخراجات اور ہاؤسنگ سرگرمیوں پر ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے کے لیے متعدد ٹیکس اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ رعایتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے بھی گھروں کی ملکیت کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>مالیاتی اخراجات میں کمی  سے توقع کی جا رہی ہے کہ نجی تعمیراتی کمپنیاں بتدریج ان منصوبوں کو دوبارہ شروع کریں گی جو بلند شرحِ سود کے دور میں مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو گئے تھے۔</p>
<p>تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ اقدامات ایک مرتبہ پھر تعمیراتی شعبے میں تیزی پیدا کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔</p>
<p>رہائش کی استطاعت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ گھریلو آمدن میں اضافہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ دوسری جانب مالیاتی نظم و ضبط کی ضروریات کے باعث سرکاری ترقیاتی اخراجات بھی محدود ہیں، جس سے حکومت کی اس صلاحیت پر بھی قدغن لگتی ہے کہ وہ ماضی کی طرح بنیادی ڈھانچے پر مبنی ایسے بڑے منصوبے شروع کر سکے جو سیمنٹ کی کھپت میں نمایاں اضافہ کرتے تھے۔</p>
<p>مقامی طلب میں اضافے کی رفتار مستقبل قریب میں اتنی تیز دکھائی نہیں دیتی کہ پاکستان کی موجودہ بڑی اضافی پیداواری صلاحیت کو جذب کر سکے۔ جب تک بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں مستقل سرمایہ کاری، رہائشی تعمیرات میں حقیقی تیزی یا برآمدات کی مسابقت میں نمایاں بحالی نہیں آتی، اس وقت تک آئندہ چند برسوں میں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح میں صرف بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم سیمنٹ ساز اداروں کے لیے شاید یہ کوئی منفی صورتحال نہ ہو۔ ملک کی بڑی سیمنٹ کمپنیوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی مالی پوزیشن کو مضبوط بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور جہاں ممکن ہو وہاں اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے پر توجہ دی ہے۔</p>
<p>ممکن ہے اب انہیں منافع بخش رہنے کے لیے مالی سال 2021 جیسی غیر معمولی طلب میں اچانک اضافے کی ضرورت نہ ہو۔ ان کے لیے زیادہ اہم چیز ایک مستحکم ملکی معیشت ہے، جو ہر سال مسلسل چند ملین ٹن اضافی مقامی طلب پیدا کرتی رہے، نہ کہ ایک اور عارضی تعمیراتی جنون  پیدا ہو۔</p>
<p>بالآخر یہی صورتحال اس صنعت کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو سکتی ہے، خواہ اس کا مطلب یہ ہی کیوں نہ ہو کہ پاکستان کی سیمنٹ کی بڑی اضافی پیداواری صلاحیت ابھی بھی طویل عرصے تک مارکیٹ پر اپنا سایہ ڈالے رکھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288156</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 10:51:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/011040559a9608a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/011040559a9608a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم قیمتیں، اچانک فیصلوں کے بجائے مالی تحفظ بہتر حکمت عملی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے تازہ ترین ہفتہ وار جائزے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ ناقدین جن میں حکومتی اتحاد کے بعض ارکان بھی شامل تھے، نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ صارفین کے مفادات کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوردہ قیمتوں میں ایک ہفتہ قبل ہی نمایاں کمی کی جا چکی تھی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے مزید ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش چھوڑی۔ اسی دوران بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر عائد پٹرولیم لیوی حکومت کے مطلوبہ ہدف سے اب بھی کم تھی۔ معمولی کمی کا اعلان کرنے اور پھر جلد ہی اس فیصلے کو واپس لینے کے بجائے، حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی بڑھا کر اس فرق کو کم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ تازہ ترین نظرثانی کے بعد بھی پٹرول پر عائد لیوی ماضی کے کئی قیمتوں کے ادوار کے مقابلے میں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل کہانی آگے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ مالی سال 2025-26  کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف عملی طور پر حاصل ہونے کے قریب ہے، توجہ مالی سال 2026-27 پر مرکوز ہو گئی ہے، جہاں ریونیو کا ہدف نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ موجودہ کھپت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور یہ فرض کرتے ہوئے کہ طلب میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئے گی، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر تقریباً 180 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی درکار ہوگی۔ اس سے اس بات میں بہت کم شبہ رہ جاتا ہے کہ قانونی طور پر مقررہ پٹرولیم لیوی کی بالائی حد میں اضافہ کرنا پڑے گا، اور غالب امکان ہے کہ یہ اضافہ جولائی سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک واضح سوال جنم لیتا ہے۔ اگر زیادہ پٹرولیم لیوی ناگزیر تھی تو پھر صرف ایک ہفتہ پہلے خوردہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی کیوں کی گئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے پاس اس سے پہلے ہونے والی بڑی کمی کو معتدل رکھنے کی پوری گنجائش موجود تھی، اور اس کے لیے لیوی میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ایسا کرنے سے بعد میں لیوی کی حد میں اضافے کے اثرات نسبتاً نرم رہتے اور عوام میں مستقل طور پر کم ایندھن قیمتوں کی توقعات پیدا نہ ہوتیں، جنہیں اگلے ہی ہفتے واپس لینا پڑا۔ ہفتہ وار قیمتوں کا نظام پالیسی سازوں کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ قیمتوں میں بتدریج اور ہموار انداز میں ردوبدل کریں، نہ کہ ایک ہفتے بڑی کمی اور اگلے ہفتے اچانک توقف جیسی صورتحال پیدا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال پاکستان کے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے نظام کی ایک وسیع تر کمزوری کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ بہ ہفتہ سوچ کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے تو حکومتوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مناسب اور متوازن ٹیکس پالیسی کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کریں، جبکہ خوردہ قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھیں۔ بعد ازاں یہی مالی گنجائش خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، بجائے اس کے کہ عارضی سبسڈیز یا اچانک ٹیکس ردوبدل کا سہارا لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر بہترین حل یہی ہے کہ حکومت خوردہ سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے براہِ راست انتظام سے بتدریج دستبردار ہو جائے۔ عالمی منڈی کی قیمتوں کو شفاف انداز میں صارفین تک منتقل ہونے دیا جائے، جبکہ مالیاتی پالیسی کا بنیادی ذریعہ ٹیکس کو بنایا جائے۔ ٹیکس ایک مؤثر پالیسی اشارہ  ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب انہیں ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ پیش گوئی کے قابل، مستقل اور حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے تازہ ترین ہفتہ وار جائزے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ ناقدین جن میں حکومتی اتحاد کے بعض ارکان بھی شامل تھے، نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ صارفین کے مفادات کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>خوردہ قیمتوں میں ایک ہفتہ قبل ہی نمایاں کمی کی جا چکی تھی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے مزید ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش چھوڑی۔ اسی دوران بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر عائد پٹرولیم لیوی حکومت کے مطلوبہ ہدف سے اب بھی کم تھی۔ معمولی کمی کا اعلان کرنے اور پھر جلد ہی اس فیصلے کو واپس لینے کے بجائے، حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی بڑھا کر اس فرق کو کم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ تازہ ترین نظرثانی کے بعد بھی پٹرول پر عائد لیوی ماضی کے کئی قیمتوں کے ادوار کے مقابلے میں کم ہے۔</p>
<p>تاہم اصل کہانی آگے کی ہے۔</p>
<p>اب جبکہ مالی سال 2025-26  کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف عملی طور پر حاصل ہونے کے قریب ہے، توجہ مالی سال 2026-27 پر مرکوز ہو گئی ہے، جہاں ریونیو کا ہدف نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ موجودہ کھپت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور یہ فرض کرتے ہوئے کہ طلب میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئے گی، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر تقریباً 180 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی درکار ہوگی۔ اس سے اس بات میں بہت کم شبہ رہ جاتا ہے کہ قانونی طور پر مقررہ پٹرولیم لیوی کی بالائی حد میں اضافہ کرنا پڑے گا، اور غالب امکان ہے کہ یہ اضافہ جولائی سے کیا جائے گا۔</p>
<p>اس سے ایک واضح سوال جنم لیتا ہے۔ اگر زیادہ پٹرولیم لیوی ناگزیر تھی تو پھر صرف ایک ہفتہ پہلے خوردہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی کیوں کی گئی؟</p>
<p>حکومت کے پاس اس سے پہلے ہونے والی بڑی کمی کو معتدل رکھنے کی پوری گنجائش موجود تھی، اور اس کے لیے لیوی میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ایسا کرنے سے بعد میں لیوی کی حد میں اضافے کے اثرات نسبتاً نرم رہتے اور عوام میں مستقل طور پر کم ایندھن قیمتوں کی توقعات پیدا نہ ہوتیں، جنہیں اگلے ہی ہفتے واپس لینا پڑا۔ ہفتہ وار قیمتوں کا نظام پالیسی سازوں کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ قیمتوں میں بتدریج اور ہموار انداز میں ردوبدل کریں، نہ کہ ایک ہفتے بڑی کمی اور اگلے ہفتے اچانک توقف جیسی صورتحال پیدا کریں۔</p>
<p>یہ صورتِ حال پاکستان کے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے نظام کی ایک وسیع تر کمزوری کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ بہ ہفتہ سوچ کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے تو حکومتوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مناسب اور متوازن ٹیکس پالیسی کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کریں، جبکہ خوردہ قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھیں۔ بعد ازاں یہی مالی گنجائش خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، بجائے اس کے کہ عارضی سبسڈیز یا اچانک ٹیکس ردوبدل کا سہارا لیا جائے۔</p>
<p>بالآخر بہترین حل یہی ہے کہ حکومت خوردہ سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے براہِ راست انتظام سے بتدریج دستبردار ہو جائے۔ عالمی منڈی کی قیمتوں کو شفاف انداز میں صارفین تک منتقل ہونے دیا جائے، جبکہ مالیاتی پالیسی کا بنیادی ذریعہ ٹیکس کو بنایا جائے۔ ٹیکس ایک مؤثر پالیسی اشارہ  ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب انہیں ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ پیش گوئی کے قابل، مستقل اور حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288096</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 11:00:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/301055260ab6a1c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/301055260ab6a1c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کھل گئی، مگر خطرات اب بھی برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288097/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ایک ایسی منڈی کے لیے جو طویل عرصے تک سپلائی کے شدید بحران کے خدشے کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی، یہ یقیناً ایک بڑی راحت ہے۔ قیمتوں میں کمی آ چکی ہے، تاجر نسبتاً پرسکون ہیں اور درآمد کنندگان کو بالآخر کچھ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ مگر اسے مکمل معمول پر واپسی نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے نے اپنے ساتھ نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ وہ آئل ٹینکر جو کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے پھنسے ہوئے تھے، اب دوبارہ حرکت میں آ رہے ہیں، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس سے ایک غیر منظم اور مشکل ایڈجسٹمنٹ بھی جنم لے رہی ہے۔ بہت زیادہ کارگو ایک ہی وقت میں روانہ ہونے کی کوشش کریں گے۔ کویت، عراق، بحرین اور قطر اپنی برآمدات کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ جب آبنائے ہرمز میں خلل آیا تو صرف تیل کی نقل و حمل ہی نہیں رکی تھی؛ ریفائنریوں نے اپنی رفتار کم کر دی، ذخائر استعمال کیے گئے، ہنگامی ذخائر جاری کیے گئے اور خریداروں نے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اب ان تمام اقدامات کو مرحلہ وار واپس لینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو کیا یہ صورتحال تیل کی قلت سے بڑھ کر تیل کی فراوانی میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد خلیج میں پھنسے ہوئے غیر ایرانی خام تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈی میں آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو مزید ایرانی خام تیل بھی مارکیٹ میں واپس آ سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، منڈی بہت جلد تیل کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک ہی وقت میں ضرورت سے زیادہ تیل کی آمد کے مسئلے سے دوچار ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بحران سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے کیونکہ تاجر فوری سپلائی کے خدشات سے آگے کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم کم قیمتوں کا مطلب یہ نہیں کہ خطرات ختم ہو گئے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کی بہت سی ریفائنریاں برآمدات کی بحالی سے پہلے ہی اپنی قریبی مدت کی ضروریات پوری کر چکی تھیں۔ اس لیے خلیج سے روانہ ہونے والے کچھ تیل کو فوری خریدار نہیں مل سکیں گے اور ممکن ہے کہ وہ سمندر میں موجود ٹینکروں ہی میں بطور فلوٹنگ اسٹوریج ذخیرہ کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بھی خبردار کیا ہے کہ مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔ بحری راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا، ٹینکروں کی نقل و حرکت کو معمول پر لانا اور سپلائی چین کو دوبارہ مستحکم کرنا ابھی باقی ہے۔ آئی ای اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحران کے دوران صارفین، کمپنیوں اور حکومتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی، جس کے نتیجے میں تیل کی طلب میں پہلے ہی نمایاں کمی آ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں نرمی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے درآمدی بل، مہنگائی اور ایندھن پر ممکنہ مالی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب بیرونی مالیاتی کھاتے بدستور دباؤ کا شکار ہیں، تیل کی قیمتوں میں عارضی ریلیف بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس اطمینان کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل ضرور گئی ہے، لیکن وہ اب بھی دنیا کے حساس ترین جغرافیائی و سیاسی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی نئے حملے، جہاز رانی سے متعلق خدشے یا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت میں تعطل کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں شامل رسک پریمیم دوبارہ تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری صورتحال سے حاصل ہونے والا سبق واضح ہے۔ تیل کی عالمی منڈی خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کر سکتی ہے، مگر یہ عمل تکلیف اور مشکلات کے بغیر ممکن نہیں۔ برآمدات دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور سپلائی بحال ہو رہی ہے، لیکن سرمایہ کاروں اور منڈی کا اعتماد اب بھی نازک ہے۔ بحران شاید شدت کھو رہا ہو، مگر اس کے جھٹکے اب بھی عالمی تیل کی منڈی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ایک ایسی منڈی کے لیے جو طویل عرصے تک سپلائی کے شدید بحران کے خدشے کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی، یہ یقیناً ایک بڑی راحت ہے۔ قیمتوں میں کمی آ چکی ہے، تاجر نسبتاً پرسکون ہیں اور درآمد کنندگان کو بالآخر کچھ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ مگر اسے مکمل معمول پر واپسی نہیں کہا جا سکتا۔</strong></p>
<p>آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے نے اپنے ساتھ نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ وہ آئل ٹینکر جو کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے پھنسے ہوئے تھے، اب دوبارہ حرکت میں آ رہے ہیں، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس سے ایک غیر منظم اور مشکل ایڈجسٹمنٹ بھی جنم لے رہی ہے۔ بہت زیادہ کارگو ایک ہی وقت میں روانہ ہونے کی کوشش کریں گے۔ کویت، عراق، بحرین اور قطر اپنی برآمدات کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ جب آبنائے ہرمز میں خلل آیا تو صرف تیل کی نقل و حمل ہی نہیں رکی تھی؛ ریفائنریوں نے اپنی رفتار کم کر دی، ذخائر استعمال کیے گئے، ہنگامی ذخائر جاری کیے گئے اور خریداروں نے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اب ان تمام اقدامات کو مرحلہ وار واپس لینا ہوگا۔</p>
<p>تو کیا یہ صورتحال تیل کی قلت سے بڑھ کر تیل کی فراوانی میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد خلیج میں پھنسے ہوئے غیر ایرانی خام تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈی میں آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو مزید ایرانی خام تیل بھی مارکیٹ میں واپس آ سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، منڈی بہت جلد تیل کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک ہی وقت میں ضرورت سے زیادہ تیل کی آمد کے مسئلے سے دوچار ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی وجہ سے قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بحران سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے کیونکہ تاجر فوری سپلائی کے خدشات سے آگے کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم کم قیمتوں کا مطلب یہ نہیں کہ خطرات ختم ہو گئے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کی بہت سی ریفائنریاں برآمدات کی بحالی سے پہلے ہی اپنی قریبی مدت کی ضروریات پوری کر چکی تھیں۔ اس لیے خلیج سے روانہ ہونے والے کچھ تیل کو فوری خریدار نہیں مل سکیں گے اور ممکن ہے کہ وہ سمندر میں موجود ٹینکروں ہی میں بطور فلوٹنگ اسٹوریج ذخیرہ کر دیا جائے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بھی خبردار کیا ہے کہ مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔ بحری راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا، ٹینکروں کی نقل و حرکت کو معمول پر لانا اور سپلائی چین کو دوبارہ مستحکم کرنا ابھی باقی ہے۔ آئی ای اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحران کے دوران صارفین، کمپنیوں اور حکومتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی، جس کے نتیجے میں تیل کی طلب میں پہلے ہی نمایاں کمی آ چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں نرمی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے درآمدی بل، مہنگائی اور ایندھن پر ممکنہ مالی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب بیرونی مالیاتی کھاتے بدستور دباؤ کا شکار ہیں، تیل کی قیمتوں میں عارضی ریلیف بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس اطمینان کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل ضرور گئی ہے، لیکن وہ اب بھی دنیا کے حساس ترین جغرافیائی و سیاسی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی نئے حملے، جہاز رانی سے متعلق خدشے یا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت میں تعطل کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں شامل رسک پریمیم دوبارہ تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔</p>
<p>اس پوری صورتحال سے حاصل ہونے والا سبق واضح ہے۔ تیل کی عالمی منڈی خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کر سکتی ہے، مگر یہ عمل تکلیف اور مشکلات کے بغیر ممکن نہیں۔ برآمدات دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور سپلائی بحال ہو رہی ہے، لیکن سرمایہ کاروں اور منڈی کا اعتماد اب بھی نازک ہے۔ بحران شاید شدت کھو رہا ہو، مگر اس کے جھٹکے اب بھی عالمی تیل کی منڈی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288097</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 11:08:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30110645820fee5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30110645820fee5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288065/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس اے آر سی) پاکستان میں 1989 میں ایک نجی لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی، جسے 1993 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ کمپنی چمڑے، کاغذ اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں استعمال ہونے والے ڈائی اسٹف (رنگ ساز کیمیکلز) تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" href="#حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے مجموعی طور پر 60 لاکھ جاری شدہ حصص تھے، جو 1798 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی میں سب سے بڑا حصہ 69.74 فیصد مقامی عام سرمایہ کاروں (لوکل جنرل پبلک) کے پاس ہے، جبکہ ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو، ان کی شریک حیات اور کم سن بچوں کے پاس 22.47 فیصد حصص ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کے 4.06 فیصد حصص جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کی ملکیت ہیں، جبکہ 3.28 فیصد حصص نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) اور انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (آئی سی پی) کے پاس ہیں۔ باقی حصص دیگر سرمایہ کاروں کے مختلف زمروں کے پاس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مالیاتی-کارکردگی-2019ء-تا-2025ء" href="#مالیاتی-کارکردگی-2019ء-تا-2025ء" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی کارکردگی (2019ء تا 2025ء)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;زیرِ جائزہ عرصے کے دوران کمپنی کی فروخت (ٹاپ لائن) میں 2020 اور 2023 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ خالص منافع (باٹم لائن) میں 2022، 2023 اور 2025 کے دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں کمپنی کے مارجنز کا رجحان اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ 2019 میں مجموعی منافع کا مارجن (گراس مارجن) کم ہوا، تاہم آپریٹنگ مارجن اور خالص منافع کا مارجن (نیٹ مارجن) بہتر ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل دو برسوں تک کمپنی کے مارجنز میں بہتری کا رجحان برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214415b79b16.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214415b79b16.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2023 میں اگرچہ گراس مارجن اور آپریٹنگ مارجن میں بہتری آئی، تاہم نیٹ مارجن بدستور تنزلی کا شکار رہا۔ 2024 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز اپنی بہترین سطح پر پہنچ گئے، تاہم 2025 میں ان میں دوبارہ معمولی کمی ریکارڈ کی گئی (تفصیلات منافع کے تناسب سے متعلق گراف میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ زیرِ جائزہ مدت کی مالی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی فروخت (ٹاپ لائن) سالانہ بنیاد پر 31.05 فیصد بڑھ کر 26 کروڑ 84 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ کمپنی کی فروخت کے حجم میں 1.79 فیصد اضافہ تھا، جو بڑھ کر 386.160 میٹرک ٹن ہو گیا۔ اس دوران توانائی، نقل و حمل، بنیادی خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی نظرثانی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قیمتوں میں اضافے کے باوجود کمپنی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل نہ کر سکی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گراس پرافٹ مارجن 2018 کے 25.81 فیصد سے کم ہو کر 2019 میں 23.70 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس کے باوجود سامنے آئی کہ 2019 میں کمپنی کا مجموعی منافع (گراس پرافٹ) سالانہ بنیاد پر 20.34 فیصد بڑھا۔ اسی عرصے میں انتظامی اخراجات اور تقسیمی اخراجات میں بالترتیب 4.02 فیصد اور 7.34 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے اخراجات، ڈیپریسی ایشن اور سفر و آمدورفت کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 51.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آپریٹنگ پرافٹ مارجن 2018 کے 8.19 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 9.49 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214418873a8b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214418873a8b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2019 میں کمپنی کے مالیاتی اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 29.85 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافہ اور قرضوں کے حجم میں بڑھوتری تھیں۔ اس کے نتیجے میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب 2018 کے 19 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 24 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کا خالص منافع 76.62 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 86 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 2018 کے 1.76 روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 3.11 روپے ہوگئی۔ اسی طرح خالص منافع کا مارجن 2018 کے 5.16 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 6.95 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں کمپنی کی فروخت (ٹاپ لائن) سالانہ بنیاد پر 3.9 فیصد کم ہو کر 25 کروڑ 79 لاکھ 60 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ کووڈ-19 کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن اور طلب میں کمی کے نتیجے میں فروخت کے حجم میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت کا صرف 35 فیصد استعمال کیا، جبکہ 2019 میں استعدادِ کار کا استعمال 53 فیصد رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں 2020 کے دوران کمپنی کی پیداوار کم ہو کر 230 میٹرک ٹن رہ گئی۔ سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی کیمیکلز مہنگے ہوگئے، جبکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے نے بھی پیداواری لاگت بڑھا دی۔ تاہم کمپنی نے مؤثر لاگت پر کنٹرول اور قیمتوں میں مناسب ردوبدل کی حکمتِ عملی اختیار کرکے ان عوامل کے منفی اثرات کو بڑی حد تک زائل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے 2020 میں کمپنی کا مجموعی منافع 21.54 فیصد بڑھا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 29.97 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران انتظامی اخراجات میں 32.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں (بشمول ڈائریکٹرز کے معاوضے)، مرمت و دیکھ بھال، کرایہ، محصولات و ٹیکسز اور سال کے دوران متوقع نقصانات کے لیے مختص رقم تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 2020 کے دوران 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ مال برداری اور نقل و حمل کے اخراجات، نیز سفر و آمدورفت پر آنے والے اخراجات میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214423cc021a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214423cc021a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2020 میں کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 20.41 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 11.89 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران مالیاتی اخراجات میں 117 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ سال کے بیشتر حصے میں بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور قرضوں کے حجم میں اضافہ تھا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب بڑھ کر 55 فیصد تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کا خالص منافع 12.67 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 10 لاکھ 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 3.50 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.15 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34 کروڑ 5 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ خام مال، توانائی کے نرخ، مال برداری کے اخراجات اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث کمپنی کی مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قیمتوں میں اضافے کو صارفین نے خوش دلی سے قبول نہیں کیا، جس کے باعث کمپنی کی فروخت کے حجم (آف ٹیک) میں کوئی نمایاں اضافہ نہ ہو سکا۔ اس دوران پیداواری صلاحیت کا استعمال 40 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 267 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ صارفین کو منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے باعث مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 45.19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 32.97 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں انتظامی اخراجات میں 18.72 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ تھا۔ کمپنی کے ملازمین کی تعداد 2020 کے 108 سے بڑھ کر 2021 میں 122 ہو گئی، جبکہ اسی عرصے میں ڈیپریسی ایشن کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 2.39 فیصد معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یوٹیلٹی چارجز اور مال برداری (کیریج اینڈ کارٹیج) کے اخراجات میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح منافع سے متعلق پروویژنز میں اضافے کے باعث دیگر اخراجات میں 116.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مستقل اثاثوں (فکسڈ ایسٹس) کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 123.27 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021442c98e940.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021442c98e940.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2021 کے دوران سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کا آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 86.72 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 16.82 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں مالیاتی اخراجات میں 26.25 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ مانیٹری پالیسی میں نرمی اور سال کے دوران تمام قلیل مدتی قرضوں کی مکمل ادائیگی تھی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا خالص منافع بھی 84.93 فیصد اضافے کے ساتھ 3 کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 6.48 روپے اور خالص منافع کا مارجن 11.42 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 21.20 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 41 کروڑ 26 لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا، جبکہ فروخت کے حجم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران کمپنی کی پیداواری استعداد کا استعمال 60 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 394 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، تاہم وہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل نہ کر سکی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 7.26 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 25.23 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں انتظامی اخراجات اور تقسیمی اخراجات میں بالترتیب 8.73 فیصد اور 9.48 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات (بشمول ڈائریکٹرز کے معاوضے)، ڈیپریسی ایشن کے زیادہ اخراجات اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443022f6c1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443022f6c1.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2022 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 21.54 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن سکڑ کر 10.89 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران مالیاتی اخراجات ایک بار پھر بڑھ گئے اور 39 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچے، جس کی بنیادی وجہ مانیٹری پالیسی میں سختی تھی۔ یہ صورتحال اس کے باوجود رہی کہ کمپنی نے اپنے قلیل مدتی بینک قرضوں کی جگہ ڈائریکٹرز سے قرض حاصل کیے، جن پر شرحِ منافع (مارک اپ) موجودہ کائبور (کے آئی بی او آر) کے مقابلے میں ایک فیصد کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب 39.66 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے باعث 2022 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 25.26 فیصد کم ہو کر 2 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار روپے رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 4.84 روپے اور خالص منافع کا مارجن 7.04 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں کمپنی کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11.24 فیصد کم ہو کر 36 کروڑ 62 لاکھ 90 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجوہات بلند افراطِ زر، قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت، طلب میں شدید کمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں سست روی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران کمپنی نے اپنی پیداواری استعداد کا 49 فیصد استعمال کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 322 میٹرک ٹن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا ازالہ کرنے کے لیے کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں اگرچہ 3.76 فیصد معمولی اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن بہتر ہو کر 29.49 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں انتظامی اخراجات میں 10.52 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں اور ڈائریکٹرز کے معاوضوں میں اضافہ، نیز سال کے دوران ناقابلِ وصول قرضوں ( بیڈ ڈیٹس) کو رائٹ آف کرنا تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تقسیمی اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 32.50 فیصد اضافہ ہوا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے باعث مال برداری اور سفر و آمدورفت کے اخراجات بڑھ گئے، جبکہ تنخواہوں میں اضافہ بھی تقسیمی اخراجات میں اضافے کا ایک اہم سبب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2023 میں کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں 7.49 فیصد کمی واقع ہوئی، تاہم آپریٹنگ منافع کا مارجن معمولی اضافے کے ساتھ 11.35 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس مالیاتی اخراجات بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث 133.20 فیصد بڑھ گئے۔ تاہم کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب کم ہو کر 31.23 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً 2023 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 16.26 فیصد کم ہو کر 2 کروڑ 43 لاکھ 30 ہزار روپے رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی 4.05 روپے اور خالص منافع کا مارجن 6.64 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214437284f99.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214437284f99.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2024 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ نے زیرِ جائزہ مدت کے دوران فروخت (ٹاپ لائن) میں سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ 37.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی خالص آمدنی بڑھ کر 50 کروڑ 38 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت میں یہ نمایاں اضافہ مصنوعات کی فروخت کے حجم میں بہتری اور کمپنی کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ممکن ہوا۔ مقامی معیشت میں میکرو اکنامک اشاریوں کے استحکام نے ملکی صنعت کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم اس کے برعکس، 2024 کے دوران کمپنی نے کوئی برآمدی فروخت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں کمپنی نے اپنی مجموعی پیداواری استعداد کا 55 فیصد استعمال کیا اور 362 میٹرک ٹن مصنوعات تیار کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں فروخت کی لاگت میں 27.14 فیصد اضافہ ہوا، جو فروخت میں ہونے والے اضافے کے مقابلے میں خاصا کم تھا۔ اس کی بنیادی وجوہات پاکستانی روپے کا امریکی ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہونا، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں استحکام اور کمپنی کی جانب سے اپنی فیکٹری میں سولر سسٹم کی تنصیب تھیں، جس سے بیرونی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کمپنی کا مجموعی منافع 62.48 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح 34.83 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں انتظامی اخراجات میں 32.71 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سال کے دوران ناقابلِ وصول قرضوں کی مد میں ریکارڈ کیے گئے اخراجات تھے۔ تنخواہوں میں اضافے کی وجہ افراطِ زر کے دباؤ کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں اضافہ بھی تھا، کیونکہ ملازمین کی تعداد 2023 کے 126 سے بڑھ کر 2024 میں 131 ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تقسیمی اخراجات میں 25.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ اور سال کے دوران مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیگر اخراجات میں 149.51 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ پروویژن مختص کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس دیگر آمدنی میں 295.61 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ بینک اکاؤنٹس پر حاصل ہونے والی زیادہ منافع کی آمدنی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 112.5 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 17.54 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں مالیاتی اخراجات میں 6.37 فیصد معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور قابلِ تجدید توانائی (آرای ای ایف) اسکیم کے تحت حاصل کیا گیا طویل مدتی قرض تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر کمپنی کا خالص منافع 115 فیصد اضافے کے ساتھ 5 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای ایس پی) 8.72 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 10.39 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443491df79.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443491df79.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مالی-سال-2025-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2025 کی کارکردگی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;2025 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 5.95 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 53 کروڑ 38 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ فروخت میں یہ اضافہ فروخت کے حجم اور مصنوعات کی قیمتوں، دونوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوران کمپنی کی پیداواری استعداد کا استعمال 71 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں 467 میٹرک ٹن مصنوعات تیار کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں فروخت کی لاگت میں 17.39 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ یہ صورتحال اس کے باوجود رہی کہ گزشتہ سال نصب کیا گیا سولر سسٹم 2025 میں مکمل طور پر فعال ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کمپنی کا مجموعی منافع 15.45 فیصد کم ہو گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 27.80 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی اخراجات میں 5.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ ہائی بیس ایفیکٹ تھا۔ گزشتہ سال کمپنی نے 90 لاکھ 8 ہزار روپے کے ناقابلِ وصول قرضے ریکارڈ کیے تھے، جبکہ 2025 میں اس مد میں کوئی اخراجات نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 4.95 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر اخراجات میں 30.60 فیصد کمی واقع ہوئی، کیونکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم پروویژن مختص کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دیگر آمدنی میں 9.24 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ڈیفرڈ گرانٹ انکم میں اضافہ تھا، جس نے دیگر اخراجات میں ہونے والی کمی کے اثرات کو مکمل طور پر متوازن کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں 2025 میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 25.39 فیصد کم ہو گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن گھٹ کر 12.35 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران مالیاتی اخراجات میں 9.57 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ قرضوں میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر کمپنی کا خالص منافع 12.85 فیصد کم ہو کر 4 کروڑ 56 لاکھ روپے رہ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 7.60 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.54 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کی خالص فروخت میں 1.82 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 40 کروڑ 30 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فروخت کا حجم متاثر ہوا اور اس میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملی سرگرمیوں میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت میں 6.28 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع 23.37 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کے پہلے نو ماہ کے 27.33 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 33.11 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں انتظامی اخراجات میں 5.77 فیصد کمی آئی، جس کی ممکنہ وجوہات سفر و آمدورفت اور تنخواہوں کے اخراجات میں کمی تھیں، کیونکہ کمپنی نے اپنی آپریشنل سرگرمیاں محدود رکھی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 16.94 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بظاہر وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ تھا، کیونکہ کمپنی نئی جغرافیائی منڈیوں میں کاروباری مواقع تلاش کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے باعث کمپنی کا آپریٹنگ منافع 59.76 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن مالی سال 25 کے پہلے نو ماہ کے 11.42 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 17.92 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 25.58 فیصد کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً کمپنی کا خالص منافع 76.81 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 7.99 روپے اور خالص منافع کا مارجن 11.90 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ بالترتیب 4.52 روپے اور 6.85 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مقامی مارکیٹ میں کمپنی کی مصنوعات کی طلب مستحکم ہے، تاہم اپنی مصنوعات پر عائد بلند سیلز ٹیکس کے باعث کمپنی اس طلب سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کا مکمل بوجھ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل کرنا بھی اس کے لیے آسان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور لاگت کو مؤثر انداز میں کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ مسابقتی برتری برقرار رکھتے ہوئے منافع اور منافع کے مارجنز میں بہتری لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ کمپنی نئی صنعتوں اور نئی جغرافیائی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھا کر فروخت کے ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے، جس سے مستقبل میں طلب اور منافع، دونوں میں پائیدار بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس اے آر سی) پاکستان میں 1989 میں ایک نجی لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی، جسے 1993 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ کمپنی چمڑے، کاغذ اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں استعمال ہونے والے ڈائی اسٹف (رنگ ساز کیمیکلز) تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔</strong></p>
<h3><a id="حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" href="#حصص-کی-ملکیت-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ</strong></h3>
<p>30 جون 2025 تک سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے مجموعی طور پر 60 لاکھ جاری شدہ حصص تھے، جو 1798 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔</p>
<p>کمپنی میں سب سے بڑا حصہ 69.74 فیصد مقامی عام سرمایہ کاروں (لوکل جنرل پبلک) کے پاس ہے، جبکہ ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو، ان کی شریک حیات اور کم سن بچوں کے پاس 22.47 فیصد حصص ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کے 4.06 فیصد حصص جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کی ملکیت ہیں، جبکہ 3.28 فیصد حصص نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) اور انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (آئی سی پی) کے پاس ہیں۔ باقی حصص دیگر سرمایہ کاروں کے مختلف زمروں کے پاس موجود ہیں۔</p>
<h3><a id="مالیاتی-کارکردگی-2019ء-تا-2025ء" href="#مالیاتی-کارکردگی-2019ء-تا-2025ء" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مالیاتی کارکردگی (2019ء تا 2025ء)</strong></h3>
<p>زیرِ جائزہ عرصے کے دوران کمپنی کی فروخت (ٹاپ لائن) میں 2020 اور 2023 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ خالص منافع (باٹم لائن) میں 2022، 2023 اور 2025 کے دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>اس عرصے میں کمپنی کے مارجنز کا رجحان اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ 2019 میں مجموعی منافع کا مارجن (گراس مارجن) کم ہوا، تاہم آپریٹنگ مارجن اور خالص منافع کا مارجن (نیٹ مارجن) بہتر ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل دو برسوں تک کمپنی کے مارجنز میں بہتری کا رجحان برقرار رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214415b79b16.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214415b79b16.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2022 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2023 میں اگرچہ گراس مارجن اور آپریٹنگ مارجن میں بہتری آئی، تاہم نیٹ مارجن بدستور تنزلی کا شکار رہا۔ 2024 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز اپنی بہترین سطح پر پہنچ گئے، تاہم 2025 میں ان میں دوبارہ معمولی کمی ریکارڈ کی گئی (تفصیلات منافع کے تناسب سے متعلق گراف میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ زیرِ جائزہ مدت کی مالی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔</p>
<p>2019 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی فروخت (ٹاپ لائن) سالانہ بنیاد پر 31.05 فیصد بڑھ کر 26 کروڑ 84 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ کمپنی کی فروخت کے حجم میں 1.79 فیصد اضافہ تھا، جو بڑھ کر 386.160 میٹرک ٹن ہو گیا۔ اس دوران توانائی، نقل و حمل، بنیادی خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی نظرثانی کی۔</p>
<p>تاہم قیمتوں میں اضافے کے باوجود کمپنی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل نہ کر سکی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گراس پرافٹ مارجن 2018 کے 25.81 فیصد سے کم ہو کر 2019 میں 23.70 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>یہ صورتحال اس کے باوجود سامنے آئی کہ 2019 میں کمپنی کا مجموعی منافع (گراس پرافٹ) سالانہ بنیاد پر 20.34 فیصد بڑھا۔ اسی عرصے میں انتظامی اخراجات اور تقسیمی اخراجات میں بالترتیب 4.02 فیصد اور 7.34 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے اخراجات، ڈیپریسی ایشن اور سفر و آمدورفت کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔</p>
<p>ان عوامل کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 51.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آپریٹنگ پرافٹ مارجن 2018 کے 8.19 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 9.49 فیصد ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214418873a8b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214418873a8b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2019 میں کمپنی کے مالیاتی اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 29.85 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافہ اور قرضوں کے حجم میں بڑھوتری تھیں۔ اس کے نتیجے میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب 2018 کے 19 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 24 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کا خالص منافع 76.62 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 86 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 2018 کے 1.76 روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 3.11 روپے ہوگئی۔ اسی طرح خالص منافع کا مارجن 2018 کے 5.16 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 6.95 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>2020 میں کمپنی کی فروخت (ٹاپ لائن) سالانہ بنیاد پر 3.9 فیصد کم ہو کر 25 کروڑ 79 لاکھ 60 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ کووڈ-19 کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن اور طلب میں کمی کے نتیجے میں فروخت کے حجم میں کمی تھی۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت کا صرف 35 فیصد استعمال کیا، جبکہ 2019 میں استعدادِ کار کا استعمال 53 فیصد رہا تھا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں 2020 کے دوران کمپنی کی پیداوار کم ہو کر 230 میٹرک ٹن رہ گئی۔ سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی کیمیکلز مہنگے ہوگئے، جبکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے نے بھی پیداواری لاگت بڑھا دی۔ تاہم کمپنی نے مؤثر لاگت پر کنٹرول اور قیمتوں میں مناسب ردوبدل کی حکمتِ عملی اختیار کرکے ان عوامل کے منفی اثرات کو بڑی حد تک زائل کر دیا۔</p>
<p>اسی وجہ سے 2020 میں کمپنی کا مجموعی منافع 21.54 فیصد بڑھا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 29.97 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس دوران انتظامی اخراجات میں 32.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں (بشمول ڈائریکٹرز کے معاوضے)، مرمت و دیکھ بھال، کرایہ، محصولات و ٹیکسز اور سال کے دوران متوقع نقصانات کے لیے مختص رقم تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 2020 کے دوران 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ مال برداری اور نقل و حمل کے اخراجات، نیز سفر و آمدورفت پر آنے والے اخراجات میں کمی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214423cc021a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214423cc021a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2020 میں کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 20.41 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 11.89 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس دوران مالیاتی اخراجات میں 117 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ سال کے بیشتر حصے میں بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور قرضوں کے حجم میں اضافہ تھا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب بڑھ کر 55 فیصد تک جا پہنچا۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کا خالص منافع 12.67 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 10 لاکھ 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 3.50 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.15 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2021 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34 کروڑ 5 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ خام مال، توانائی کے نرخ، مال برداری کے اخراجات اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث کمپنی کی مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ تھا۔</p>
<p>تاہم قیمتوں میں اضافے کو صارفین نے خوش دلی سے قبول نہیں کیا، جس کے باعث کمپنی کی فروخت کے حجم (آف ٹیک) میں کوئی نمایاں اضافہ نہ ہو سکا۔ اس دوران پیداواری صلاحیت کا استعمال 40 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 267 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کمپنی نے بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ صارفین کو منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے باعث مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 45.19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 32.97 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>2021 میں انتظامی اخراجات میں 18.72 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ تھا۔ کمپنی کے ملازمین کی تعداد 2020 کے 108 سے بڑھ کر 2021 میں 122 ہو گئی، جبکہ اسی عرصے میں ڈیپریسی ایشن کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 2.39 فیصد معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یوٹیلٹی چارجز اور مال برداری (کیریج اینڈ کارٹیج) کے اخراجات میں اضافہ تھا۔</p>
<p>اسی طرح منافع سے متعلق پروویژنز میں اضافے کے باعث دیگر اخراجات میں 116.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مستقل اثاثوں (فکسڈ ایسٹس) کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 123.27 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021442c98e940.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021442c98e940.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2021 کے دوران سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کا آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 86.72 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 16.82 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس عرصے میں مالیاتی اخراجات میں 26.25 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ مانیٹری پالیسی میں نرمی اور سال کے دوران تمام قلیل مدتی قرضوں کی مکمل ادائیگی تھی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>کمپنی کا خالص منافع بھی 84.93 فیصد اضافے کے ساتھ 3 کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 6.48 روپے اور خالص منافع کا مارجن 11.42 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2022 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 21.20 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 41 کروڑ 26 لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا، جبکہ فروخت کے حجم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>اس دوران کمپنی کی پیداواری استعداد کا استعمال 60 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 394 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اگرچہ کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، تاہم وہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل نہ کر سکی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 7.26 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 25.23 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2022 میں انتظامی اخراجات اور تقسیمی اخراجات میں بالترتیب 8.73 فیصد اور 9.48 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات (بشمول ڈائریکٹرز کے معاوضے)، ڈیپریسی ایشن کے زیادہ اخراجات اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443022f6c1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443022f6c1.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2022 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 21.54 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن سکڑ کر 10.89 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>اس دوران مالیاتی اخراجات ایک بار پھر بڑھ گئے اور 39 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچے، جس کی بنیادی وجہ مانیٹری پالیسی میں سختی تھی۔ یہ صورتحال اس کے باوجود رہی کہ کمپنی نے اپنے قلیل مدتی بینک قرضوں کی جگہ ڈائریکٹرز سے قرض حاصل کیے، جن پر شرحِ منافع (مارک اپ) موجودہ کائبور (کے آئی بی او آر) کے مقابلے میں ایک فیصد کم تھی۔</p>
<p>2022 میں کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب 39.66 فیصد رہا۔</p>
<p>ان عوامل کے باعث 2022 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 25.26 فیصد کم ہو کر 2 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار روپے رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 4.84 روپے اور خالص منافع کا مارجن 7.04 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>2023 میں کمپنی کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11.24 فیصد کم ہو کر 36 کروڑ 62 لاکھ 90 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجوہات بلند افراطِ زر، قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت، طلب میں شدید کمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں سست روی تھیں۔</p>
<p>اس دوران کمپنی نے اپنی پیداواری استعداد کا 49 فیصد استعمال کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداوار 322 میٹرک ٹن رہی۔</p>
<p>بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا ازالہ کرنے کے لیے کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں اگرچہ 3.76 فیصد معمولی اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن بہتر ہو کر 29.49 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>2023 میں انتظامی اخراجات میں 10.52 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں اور ڈائریکٹرز کے معاوضوں میں اضافہ، نیز سال کے دوران ناقابلِ وصول قرضوں ( بیڈ ڈیٹس) کو رائٹ آف کرنا تھیں۔</p>
<p>اسی طرح تقسیمی اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 32.50 فیصد اضافہ ہوا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے باعث مال برداری اور سفر و آمدورفت کے اخراجات بڑھ گئے، جبکہ تنخواہوں میں اضافہ بھی تقسیمی اخراجات میں اضافے کا ایک اہم سبب رہا۔</p>
<p>اگرچہ 2023 میں کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں 7.49 فیصد کمی واقع ہوئی، تاہم آپریٹنگ منافع کا مارجن معمولی اضافے کے ساتھ 11.35 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس کے برعکس مالیاتی اخراجات بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث 133.20 فیصد بڑھ گئے۔ تاہم کمپنی کا قرض اور ایکویٹی کا تناسب کم ہو کر 31.23 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>نتیجتاً 2023 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 16.26 فیصد کم ہو کر 2 کروڑ 43 لاکھ 30 ہزار روپے رہ گیا، جبکہ فی حصص آمدنی 4.05 روپے اور خالص منافع کا مارجن 6.64 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214437284f99.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/290214437284f99.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2024 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ نے زیرِ جائزہ مدت کے دوران فروخت (ٹاپ لائن) میں سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ 37.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی خالص آمدنی بڑھ کر 50 کروڑ 38 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>فروخت میں یہ نمایاں اضافہ مصنوعات کی فروخت کے حجم میں بہتری اور کمپنی کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ممکن ہوا۔ مقامی معیشت میں میکرو اکنامک اشاریوں کے استحکام نے ملکی صنعت کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم اس کے برعکس، 2024 کے دوران کمپنی نے کوئی برآمدی فروخت نہیں کی۔</p>
<p>اس عرصے میں کمپنی نے اپنی مجموعی پیداواری استعداد کا 55 فیصد استعمال کیا اور 362 میٹرک ٹن مصنوعات تیار کیں۔</p>
<p>2024 میں فروخت کی لاگت میں 27.14 فیصد اضافہ ہوا، جو فروخت میں ہونے والے اضافے کے مقابلے میں خاصا کم تھا۔ اس کی بنیادی وجوہات پاکستانی روپے کا امریکی ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہونا، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں استحکام اور کمپنی کی جانب سے اپنی فیکٹری میں سولر سسٹم کی تنصیب تھیں، جس سے بیرونی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم ہوگیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کمپنی کا مجموعی منافع 62.48 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح 34.83 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>2024 میں انتظامی اخراجات میں 32.71 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات تنخواہوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سال کے دوران ناقابلِ وصول قرضوں کی مد میں ریکارڈ کیے گئے اخراجات تھے۔ تنخواہوں میں اضافے کی وجہ افراطِ زر کے دباؤ کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں اضافہ بھی تھا، کیونکہ ملازمین کی تعداد 2023 کے 126 سے بڑھ کر 2024 میں 131 ہوگئی۔</p>
<p>اسی طرح تقسیمی اخراجات میں 25.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ اور سال کے دوران مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔</p>
<p>دوسری جانب دیگر اخراجات میں 149.51 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ پروویژن مختص کرنا تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس دیگر آمدنی میں 295.61 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ بینک اکاؤنٹس پر حاصل ہونے والی زیادہ منافع کی آمدنی تھی۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 112.5 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 17.54 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>2024 میں مالیاتی اخراجات میں 6.37 فیصد معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور قابلِ تجدید توانائی (آرای ای ایف) اسکیم کے تحت حاصل کیا گیا طویل مدتی قرض تھا۔</p>
<p>مجموعی طور پر کمپنی کا خالص منافع 115 فیصد اضافے کے ساتھ 5 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (ای ایس پی) 8.72 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 10.39 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443491df79.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/29021443491df79.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h3><a id="مالی-سال-2025-کی-کارکردگی" href="#مالی-سال-2025-کی-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مالی سال 2025 کی کارکردگی</strong></h3>
<p>2025 میں سردار کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 5.95 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 53 کروڑ 38 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ فروخت میں یہ اضافہ فروخت کے حجم اور مصنوعات کی قیمتوں، دونوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>سال کے دوران کمپنی کی پیداواری استعداد کا استعمال 71 فیصد رہا، جس کے نتیجے میں 467 میٹرک ٹن مصنوعات تیار کی گئیں۔</p>
<p>2025 میں فروخت کی لاگت میں 17.39 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ یہ صورتحال اس کے باوجود رہی کہ گزشتہ سال نصب کیا گیا سولر سسٹم 2025 میں مکمل طور پر فعال ہو چکا تھا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کمپنی کا مجموعی منافع 15.45 فیصد کم ہو گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 27.80 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>انتظامی اخراجات میں 5.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ ہائی بیس ایفیکٹ تھا۔ گزشتہ سال کمپنی نے 90 لاکھ 8 ہزار روپے کے ناقابلِ وصول قرضے ریکارڈ کیے تھے، جبکہ 2025 میں اس مد میں کوئی اخراجات نہیں آئے۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 4.95 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔</p>
<p>اسی طرح دیگر اخراجات میں 30.60 فیصد کمی واقع ہوئی، کیونکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم پروویژن مختص کیے گئے۔</p>
<p>تاہم دیگر آمدنی میں 9.24 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ڈیفرڈ گرانٹ انکم میں اضافہ تھا، جس نے دیگر اخراجات میں ہونے والی کمی کے اثرات کو مکمل طور پر متوازن کر دیا۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں 2025 میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع 25.39 فیصد کم ہو گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن گھٹ کر 12.35 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>اسی دوران مالیاتی اخراجات میں 9.57 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ قرضوں میں اضافہ تھا۔</p>
<p>مجموعی طور پر کمپنی کا خالص منافع 12.85 فیصد کم ہو کر 4 کروڑ 56 لاکھ روپے رہ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 7.60 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.54 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h3><a id="حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" href="#حالیہ-مالیاتی-کارکردگی-مالی-سال-2026-کے-پہلے-نو-ماہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)</strong></h3>
<p>جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کی خالص فروخت میں 1.82 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 40 کروڑ 30 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فروخت کا حجم متاثر ہوا اور اس میں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>عملی سرگرمیوں میں کمی کے باعث فروخت کی لاگت میں 6.28 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع 23.37 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کے پہلے نو ماہ کے 27.33 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 33.11 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>اسی عرصے میں انتظامی اخراجات میں 5.77 فیصد کمی آئی، جس کی ممکنہ وجوہات سفر و آمدورفت اور تنخواہوں کے اخراجات میں کمی تھیں، کیونکہ کمپنی نے اپنی آپریشنل سرگرمیاں محدود رکھی تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 16.94 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بظاہر وجہ سیلز فورس کی تنخواہوں میں اضافہ تھا، کیونکہ کمپنی نئی جغرافیائی منڈیوں میں کاروباری مواقع تلاش کر رہی تھی۔</p>
<p>ان عوامل کے باعث کمپنی کا آپریٹنگ منافع 59.76 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن مالی سال 25 کے پہلے نو ماہ کے 11.42 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 17.92 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 25.58 فیصد کمی آئی۔</p>
<p>نتیجتاً کمپنی کا خالص منافع 76.81 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی 7.99 روپے اور خالص منافع کا مارجن 11.90 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ بالترتیب 4.52 روپے اور 6.85 فیصد تھا۔</p>
<h3><a id="مستقبل-کا-منظرنامہ" href="#مستقبل-کا-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مستقبل کا منظرنامہ</strong></h3>
<p>اگرچہ مقامی مارکیٹ میں کمپنی کی مصنوعات کی طلب مستحکم ہے، تاہم اپنی مصنوعات پر عائد بلند سیلز ٹیکس کے باعث کمپنی اس طلب سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کا مکمل بوجھ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل کرنا بھی اس کے لیے آسان نہیں۔</p>
<p>اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور لاگت کو مؤثر انداز میں کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ مسابقتی برتری برقرار رکھتے ہوئے منافع اور منافع کے مارجنز میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ کمپنی نئی صنعتوں اور نئی جغرافیائی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھا کر فروخت کے ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے، جس سے مستقبل میں طلب اور منافع، دونوں میں پائیدار بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288065</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 17:20:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/29163509bfcde6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/29163509bfcde6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پاکستان پری وائے ٹو کے مرحلے میں ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی کہانی عموماً ترسیلاتِ زر کے ذریعے بیان کی جاتی ہے، اور اس کی معقول وجہ بھی موجود ہے۔ یہی ترسیلات کرنٹ اکائونٹ کی مالی ضروریات پوری کرتی ہیں، گھریلو کھپت  کو سہارا دیتی ہیں اور ادائیگیوں کے توازن کو بار بار قومی شرمندگی کا باعث بننے سے بچاتی ہیں۔ لیکن اس کہانی کی یہ عام تشریح حد سے زیادہ محدود بھی ہے، کیونکہ یہ ترسیلاتِ زر کو محض رقم کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ آیا یہ صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ  بھی ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پہلے سے زیادہ ڈالر وطن بھیج رہے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی بیرونی افرادی قوت  کی کہانی اپنی نوعیت تبدیل کرنا شروع کر رہی ہے؟ کیا یہ صرف گھریلو بقا  کا ذریعہ رہنے کے بجائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا وسیلہ بنتی جا رہی ہے؟ کیا ترسیلاتِ زر صرف کرنٹ اکائونٹ کو سہارا دینے کے بجائے اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کے نیٹ ورکس کو خدمات کی برآمدات  کے ایک مؤثر راستے میں تبدیل کر سکتی ہیں، جیسا کہ 1990 کی دہائی سے لے کر 2000 کی دہائی کے وسط تک بھارت کی آئی ٹی صنعت کی غیر معمولی ترقی کے دوران دیکھا گیا تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی سادہ یا یک رخی کہانی نہیں، اور نہ ہی اسے ایسا بنا کر پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان، بھارت نہیں ہے۔ دو معاشی کامیابیوں کی کہانیاں کبھی ایک جیسی نہیں ہوتیں، اور اگر بھارت سے موازنہ پیش گوئی  کے طور پر کیا جائے، نہ کہ محض مثال کے طور پر، تو وہ جلد ہی سطحی اور گمراہ کن بن جاتا ہے۔ بھارت کے پاس زیادہ مضبوط تکنیکی بنیاد، ادارہ جاتی تسلسل، زیادہ پختہ ٹیکنالوجی کمپنیاں، سافٹ ویئر برآمدات کی ابتدائی صلاحیت، اور بالآخر عالمی خدمات کی طلب سے فائدہ اٹھانے کی کہیں زیادہ کامیاب صلاحیت موجود تھی۔ پاکستان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز اسی پیمانے پر موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، اگر اس موازنے کو محدود رکھا جائے تو بھارت کی مثال مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مقصد اس کی نقل کرنا نہیں، اور نہ ہی اسے پاکستان کی تقدیر سمجھنا چاہیے، بلکہ صرف ایک محدود سوال پوچھنا ہے: کسی معیشت کی وہ ابتدائی کیفیت کیا ہوتی ہے جب وہ بیرونی طلب  میں اچانک اضافے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بننے لگتی ہے؟ بھارت کے لیے وائے ٹو کے کا موقع کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا۔ دنیا کے دو ہندسوں والے تاریخی نظام  کے مسئلے پر عالمی تشویش کو بنیاد بنا کر کسی نے قومی حکمتِ عملی تیار نہیں کی تھی۔ لیکن جب تاریخ کا وہ غیر متوقع موقع آیا تو بھارت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے پاس انگریزی بولنے والے تکنیکی ماہرین، ہنر مند بیرونِ ملک مقیم افراد ، بڑھتی ہوئی سافٹ ویئر برآمدات، ابتدائی غیر ملکی صارفین  اور ایسی کمپنیاں موجود تھیں جو مطلوبہ خدمات فراہم کر سکتی تھیں۔ وائے ٹو کے نے بھارتی آئی ٹی صنعت کو جنم نہیں دیا، بلکہ اس کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر آزمایا۔ یہی فرق پاکستان کے لیے اہم ہے، کیونکہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان اگلے وائے ٹو کے جیسے موقع کی پیش گوئی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اب ایسی بنیادی معاشی شرائط  پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ اگر مستقبل میں عالمی خدمات کی طلب میں اسی نوعیت کا کوئی نیا موقع پیدا ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معیار پر دیکھا جائے تو جواب اب اتنا آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان سے بیرونِ ملک ہجرت کی کہانی دراصل ایک کہانی نہیں بلکہ کم از کم تین مختلف کہانیاں ہیں جو بیک وقت سامنے آ رہی ہیں۔ پہلی دولت اور سیکیورٹی کی بنیاد پر ہجرت ہے، جس میں پرانا سرمایہ، نیا سرمایہ، پیشہ ور اشرافیہ اور اعلیٰ متوسط طبقے کے خاندان اپنی فیملیز، سرمایہ، بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے بہتر مواقع کیلئے بیرونِ ملک منتقل ہورہے ہیں۔ دوسری ہنرمند افراد کی ہجرت  ہے، جس میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، بینکار، کنسلٹنٹس، منیجرز، نرسیں، اکاؤنٹنٹس اور طلبہ بہتر آمدنی، زیادہ تحفظ اور مستقل رہائش کی خاطر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ تیسری مزدوروں کی ہجرت ہے، جس میں خلیجی ممالک جانے والے مزدور، نیم ہنر مند کارکن اور غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے والے افراد شامل ہیں، جن کی روانگی کے اسباب بہتر مستقبل کی خواہش سے لے کر شدید مجبوری تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہی سرکاری اعدادوشمار میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مزدوروں کی ہجرت کا ریکارڈ، ہنرمند افراد کی ہجرت کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں رکھا جاتا ہے، جبکہ دولت کی ہجرت کا اندازہ زیادہ تر بالواسطہ طور پر لگایا جاتا ہے۔ طلبہ کی ہجرت ان دونوں کے درمیان کہیں آتی ہے، کیونکہ ابتدا میں اس کے اخراجات اکثر ذاتی یا خاندانی دولت سے پورے کیے جاتے ہیں، کامیابی کی صورت میں وہ ہنرمند افرادی قوت کا حصہ بن جاتی ہے، اور بعد میں یہی طلبہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام درجہ بندیاں مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن مجموعی سمت بالکل واضح ہے: پاکستان میں تقریباً ہر طبقے میں ملک چھوڑنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال بذاتِ خود ترقی کی علامت نہیں۔ ممکن ہے یہ صرف داخلی معاشی ناکامی ہو جس کے ساتھ زرمبادلہ کی آمد بھی منسلک ہو۔ کوئی ملک اپنے شہریوں کو اس لیے بھی بیرونِ ملک بھیج سکتا ہے کہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں قیمتی ہو، یا اس لیے بھی کہ اس کی داخلی معیشت اپنے شہریوں کے خواب، صلاحیت اور عزائم کو جذب کرنے کے قابل نہ رہی ہو۔ یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ پہلی صورت صلاحیت  کی علامت ہے، جبکہ دوسری صورت محض اندرونی دباؤ کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جسے بہتر حساب کتاب کی وجہ سے کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ دلچسپ اشارہ وہ تبدیلی ہے جو ہجرت کے ساتھ ساتھ رونما ہو رہی ہے۔ پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات  اب برآمدی ڈھانچے میں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اگرچہ ان کا حجم اب بھی محدود، غیر مستحکم اور غیر یکساں ہے، لیکن ان کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ فری لانسنگ میں اضافہ ہو رہا ہے، چھوٹی سافٹ ویئر اور سروسز کمپنیاں بیرونِ ملک خدمات فروخت کر رہی ہیں، اور غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اس آمدنی کا ایک حصہ آئی سی ٹی برآمدات کے طور پر ریکارڈ ہوتا ہے، جبکہ ایک حصہ غالباً ترسیلاتِ زر سے ملتے جلتے ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ آمدنی آف شور ڈھانچوں، غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، غیر رسمی بلنگ کے نظام اور ایسے کاروباری اداروں کے ذریعے بھی آتی ہے جو ریاست کے معاشی ریکارڈ کے روایتی طریقۂ کار میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت سے موازنہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ آج کا پاکستان وائے ٹو کے کے بعد والا بھارت نہیں ہے۔ ایسا کہنا حقیقت سے زیادہ فیاضی ہوگی۔ نہ ہی پاکستان 2003 یا 2005 کے بھارت جیسی پوزیشن میں ہے، جب خدمات کی برآمدات ایک مضبوط اور واضح معاشی قوت بن چکی تھیں۔ زیادہ محتاط اور قابلِ دفاع موازنہ 1997 سے 1999 کے درمیان کے بھارت سے کیا جا سکتا ہے، یعنی وہ مرحلہ جب صلاحیتیں جمع ہو چکی تھیں لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت بھارت کے پاس سافٹ ویئر کمپنیاں، انجینئرز، بیرونِ ملک مقیم پیشہ ور افراد سے روابط، غیر ملکی صارفین اور برآمدات کی ایک ابھرتی ہوئی کہانی موجود تھی۔ لیکن اسے ابھی تک وہ عالمی آزمائش درپیش نہیں آئی تھی جو بعد میں اس کی حقیقی صلاحیت کو دنیا کے سامنے لے کر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر وائے ٹو کے کا مرحلہ آ پہنچا۔ یہ کام نہایت معمولی نوعیت کا، بار بار دہرایا جانے والا، سخت ڈیڈ لائنز کا پابند اور انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن اصل اہمیت بھی اسی میں تھی۔ بھارت نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر ایسے غیر دلکش مگر ضروری کام قابلِ اعتماد انداز میں انجام دے سکتا ہے، اور برآمدی صلاحیت کے اعتبار سے یہ خوبی کسی ظاہری چمک دمک سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ وائے ٹو کے سے حاصل ہونے والی آمدنی وقتی تھی، مگر اس سے پیدا ہونے والی ساکھ کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوئی، کیونکہ غیر ملکی صارفین کو معلوم ہو گیا کہ بھارتی کمپنیاں دباؤ کے حالات میں بھی مؤثر انداز سے کام مکمل کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ابھی تک ایسا کوئی لمحہ نصیب نہیں ہوا۔ تاہم ممکن ہے کہ وہ ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہو جو اس بڑے لمحے سے پہلے کی کیفیت ہو۔ دعویٰ صرف اتنا ہی محدود ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ پاکستان اگلا بھارت بننے والا ہے، نہ ہی یہ کہ غیر معمولی معاشی کامیابی ناگزیر ہے، اور نہ ہی یہ کہ ترسیلاتِ زر کسی جادوئی عمل کے ذریعے خود بخود پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہو جائیں گی۔ دعویٰ اس سے کہیں زیادہ محدود، لیکن زیادہ دلچسپ ہے: ممکن ہے پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے ذریعے خدمات کی برآمدات کا ایک نیا راستہ تشکیل پا رہا ہو، اس سے پہلے کہ اسے باضابطہ طور پر کوئی نام دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے اس راستے کے لیے روایتی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی ضرورت ہی نہ ہو۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ بڑی کثیرالقومی سروسز کمپنیاں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی۔ عالمی کمپنیاں عموماً ایسے ممالک میں اپنی بیلنس شیٹس منتقل کرنے کے لیے جلدی نہیں کرتیں جہاں پیش گوئی کے قابل معاشی ماحول ایک درآمد شدہ تعیش  محسوس ہوتا ہو۔ لیکن خدمات کی برآمدات اس کے باوجود بڑھ سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ روایتی معنوں میں غیر ملکی سرمایہ ملک میں داخل ہو۔ یہ برآمدات معاہدوں، سفارشات، آف شور فرنٹ آفسز، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملکیت والی ایجنسیوں، ریموٹ ٹیموں، فری لانس پلیٹ فارمز، پیشہ ورانہ روابط اور ایسی چھوٹی کمپنیوں کے ذریعے فروغ پا سکتی ہیں جو ان منڈیوں میں خدمات فروخت کریں جہاں پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خریداروں کے نظام کا حصہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں ڈائسپورا صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والی مشین نہیں رہتا۔ لندن میں مقیم پاکستانی نژاد کسی کمپنی کا بانی لاہور کو کام منتقل کر سکتا ہے۔ دبئی میں کام کرنے والا کوئی بینکار کراچی تک کسی منصوبے کی رسائی ممکن بنا سکتا ہے۔ کینیڈا میں موجود کوئی ڈاکٹر بلنگ، دستاویزات کی تیاری یا سافٹ ویئر سے متعلق کام کسی پاکستانی ٹیم کے سپرد کر سکتا ہے۔ ریاض میں موجود کوئی لاجسٹکس آپریٹر بیک آفس خدمات کی طلب پیدا کر سکتا ہے۔ آسٹن میں کام کرنے والا کوئی ٹیکنالوجی ماہر کسی پاکستانی کمپنی کا پہلا گاہک، پہلا حوالہ  یا پہلا سیلز چینل بن سکتا ہے۔ اکثر پہلا معاہدہ سماجی تعلقات کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرا تجارتی بنیاد اختیار کر لیتا ہے، جبکہ تیسرا بار بار ملنے والے کاروبار  میں تبدیل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ آنے سے پہلے اعتماد اسی طرح سفر کرتا ہے۔ بھارت کے بیرونِ ملک مقیم افراد نے بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے پہلے معاہدے کا مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ابتدائی دور میں غیر ملکی صارفین کو یقین نہیں تھا کہ آیا بھارت مطلوبہ خدمات فراہم کر سکے گا یا نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں نے اسی غیر یقینی صورتحال کو کم کیا۔ وہ جانتے تھے کہ کس سے رابطہ کرنا ہے، کس پر اعتماد کرنا ہے، نگرانی کیسے کرنی ہے، اور خریداروں کی توقعات کو عملی نتائج میں کیسے تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کا ڈائسپورا بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا راستہ نسبتاً محدود، زیادہ منتشر اور کم رسمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق بہت اہم ہے۔ بھارت کی کہانی بالآخر بڑی کمپنیوں کی قیادت میں آگے بڑھی، جہاں بڑی ٹیکنالوجی برآمد کنندگان نے عالمی منڈی تک رسائی کے فوائد کو اپنے اندر سمو لیا۔ پاکستان کی کہانی شاید زیادہ منتشر رہے: فری لانسرز، چھوٹی خصوصی ایجنسیاں، سافٹ ویئر ہاؤسز، خلیجی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے قائم غیر ملکی کمپنیاں، اور وہ ریموٹ ٹیمیں جو پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر کو خدمات فراہم کریں اور ایسی مالیاتی راہوں سے ادائیگیاں وصول کریں جنہیں سرکاری اعدادوشمار صرف جزوی طور پر ہی ریکارڈ کر پاتے ہیں۔ اس سے یہ کہانی دیکھنے اور ناپنے میں ضرور مشکل ہو جاتی ہے، لیکن معاشی اعتبار سے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ البتہ یہ شماریاتی لحاظ سے ضرور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے صرف ترسیلاتِ زر کو کامیابی کا پیمانہ سمجھنا ناکافی ہے۔ ترسیلاتِ زر اس وجہ سے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ کوئی ملک اپنی مجبوری اور معاشی مشکلات برآمد کر رہا ہو۔ وہ اس لیے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ ملک کے اندر روزگار کے مواقع ناکام ہو چکے ہوں، مہنگائی نے مقامی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا ہو اور ملک چھوڑنا ایک منطقی فیصلہ بن گیا ہو۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ترسیلاتِ زر، ہنرمند افراد کی ہجرت، آئی سی ٹی برآمدات، فری لانس آمدنی اور غیر ملکی گاہکوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک ساتھ بڑھنا شروع ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہوں لیکن آئی سی ٹی برآمدات جمود کا شکار رہیں تو کہانی زیادہ تر بقا کی ہوگی۔ لیکن اگر آئی سی ٹی برآمدات بھی ہنرمند ہجرت اور مضبوط ہوتے ہوئے ڈائسپورا نیٹ ورک کے ساتھ بڑھنے لگیں تو پھر کہانی کا رخ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ کووِڈ کے بعد ایک نئی پیچیدگی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ بیرونِ ملک جانے کی خواہش پہلے سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن ہجرت کے مواقع اب زیادہ محدود اور منتخب ہو گئے ہیں۔ طلبہ کے ویزے مشکل ہو چکے ہیں، تنخواہوں کی کم از کم شرائط بڑھ گئی ہیں، جبکہ لیبر مارکیٹیں پہلے سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔ دولت مند افراد کے لیے ہجرت کے راستے اب بھی موجود ہیں۔ ہنرمند افراد کی ہجرت بھی ممکن ہے، لیکن اب اس کے لیے زیادہ مضبوط اسناد اور قابلیت درکار ہے۔ مزدوروں کی ہجرت جاری ہے، مگر وہ پہلے سے زیادہ معاشی چکروں، سیاسی حالات اور سرحدی قوانین سے متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ممکن ہے ایک نئی قسم کی ہجرت جنم لے: ورچوئل ہجرت ۔ اس میں کارکن اپنی جگہ رہتا ہے، کام بیرونِ ملک چلا جاتا ہے، اور آمدنی واپس پاکستان آ جاتی ہے۔ ممکن ہے یہی پاکستان کی بیرونی افرادی قوت کی کہانی میں سب سے اہم تبدیلی ثابت ہو۔ ہر وہ شخص جو ملک چھوڑنا چاہتا ہے، باہر نہیں جا سکے گا، اور نہ ہی ہر وہ شخص جو دنیا کو خدمات فروخت کرتا ہے، ہجرت کرے گا۔ بہت سے لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے ہی کوڈنگ، ڈیزائن، اکاؤنٹنگ، مارکیٹنگ، اینالیٹکس، کلاؤڈ سپورٹ، مصنوعی ذہانت کے ٹولز، بیک آفس خدمات اور پیشہ ورانہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے عالمی لیبر مارکیٹ کا حصہ بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اصطلاح میں یہ بھی لیبر آربٹریج  ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ہوائی اڈے سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے ملک ایک ایسے ہائبرڈ بیرونی لیبر ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہو، جس میں کچھ لوگ ہجرت کے ذریعے بیرونِ ملک جائیں، مہارتیں خدمات کی برآمدات کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچیں، اور آمدنی ترسیلاتِ زر اور ڈیجیٹل ذرائع دونوں کے ذریعے واپس پاکستان آئے۔ یہ بھارت کا راستہ نہیں، لیکن اس کی مماثلت بھارت کی اس ابتدائی کہانی سے ضرور ہے جو اس کی بڑی معاشی کامیابی سے پہلے وجود میں آ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہاں ایک اہم اور ناگزیر احتیاط بھی ضروری ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے نیٹ ورک مواقع کے دروازے تو کھول سکتے ہیں، لیکن وہ خود کام انجام نہیں دے سکتے۔ منڈی تک رسائی  پہلا آرڈر دلا سکتی ہے، مگر دوسرے آرڈر کا انحصار کام کے کامیاب اور معیاری نفاذ  پر ہوتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ کبھی بھی انفرادی صلاحیتوں کی کمی نہیں رہا، بلکہ اصل مسئلہ یہ رہا ہے کہ بکھری ہوئی صلاحیتوں کو ایک ایسی قابلِ اعتماد، بڑے پیمانے پر کام کرنے والی اور عالمی سطح پر قابلِ شناخت  استعداد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب اب بھی نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر اگر بھارت کی ترقی کے تسلسل  میں پاکستان کی موجودہ پوزیشن کا تعین کیا جائے تو وہ کہاں کھڑا ہے؟ یقیناً وائے ٹو کے کے بعد والے مرحلے پر نہیں، نہ ہی غیر معمولی معاشی پیش رفت  کے مرحلے پر، اور نہ ہی اس منزل پر جہاں عالمی کامیابی حاصل ہو چکی ہو۔ نسبتاً زیادہ مناسب، اگرچہ محدود، موازنہ بھارت کے 1997 سے 1999 کے دور سے کیا جا سکتا ہے، جب خدمات کی برآمدات نمایاں ہونا شروع ہو چکی تھیں، بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کے روابط تجارتی لحاظ سے مفید ثابت ہو رہے تھے، مطلوبہ صلاحیت موجود تھی، لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ پاکستان شاید کسی حد تک، غیر مکمل اور غیر یکساں انداز میں، اسی مرحلے کے قریب کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ابتدائی آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک ہجرت بڑھ رہی ہے۔ آئی سی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کا نیٹ ورک پہلے سے زیادہ وسیع اور گہرا ہو چکا ہے۔ غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی اشارہ حتمی نہیں۔ یہ نہ تو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہے اور نہ ہی ابھی اسے معاشی ترقی کی مکمل کہانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ یہ ایک ایسی خاموش مگر مضبوط لہر  ہو جو مستقبل میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے پاکستان آج بھی اپنے شہری اس لیے بیرونِ ملک بھیج رہا ہو کہ اس کی معیشت انہیں اپنے اندر جذب کرنے میں ناکام ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں بھی برآمد کرنا شروع کر رہا ہو، کیونکہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں معاہدوں کے ذریعے خدمات فراہم کرنے کے قابل بنتی جا رہی ہے۔ شاید سب سے غیر آرام دہ، لیکن حقیقت سے قریب جواب یہی ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں درست ہو سکتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو انتہائی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی کہانی عموماً ترسیلاتِ زر کے ذریعے بیان کی جاتی ہے، اور اس کی معقول وجہ بھی موجود ہے۔ یہی ترسیلات کرنٹ اکائونٹ کی مالی ضروریات پوری کرتی ہیں، گھریلو کھپت  کو سہارا دیتی ہیں اور ادائیگیوں کے توازن کو بار بار قومی شرمندگی کا باعث بننے سے بچاتی ہیں۔ لیکن اس کہانی کی یہ عام تشریح حد سے زیادہ محدود بھی ہے، کیونکہ یہ ترسیلاتِ زر کو محض رقم کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ آیا یہ صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ  بھی ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پہلے سے زیادہ ڈالر وطن بھیج رہے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی بیرونی افرادی قوت  کی کہانی اپنی نوعیت تبدیل کرنا شروع کر رہی ہے؟ کیا یہ صرف گھریلو بقا  کا ذریعہ رہنے کے بجائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا وسیلہ بنتی جا رہی ہے؟ کیا ترسیلاتِ زر صرف کرنٹ اکائونٹ کو سہارا دینے کے بجائے اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کے نیٹ ورکس کو خدمات کی برآمدات  کے ایک مؤثر راستے میں تبدیل کر سکتی ہیں، جیسا کہ 1990 کی دہائی سے لے کر 2000 کی دہائی کے وسط تک بھارت کی آئی ٹی صنعت کی غیر معمولی ترقی کے دوران دیکھا گیا تھا؟</p>
<p>یہ کوئی سادہ یا یک رخی کہانی نہیں، اور نہ ہی اسے ایسا بنا کر پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان، بھارت نہیں ہے۔ دو معاشی کامیابیوں کی کہانیاں کبھی ایک جیسی نہیں ہوتیں، اور اگر بھارت سے موازنہ پیش گوئی  کے طور پر کیا جائے، نہ کہ محض مثال کے طور پر، تو وہ جلد ہی سطحی اور گمراہ کن بن جاتا ہے۔ بھارت کے پاس زیادہ مضبوط تکنیکی بنیاد، ادارہ جاتی تسلسل، زیادہ پختہ ٹیکنالوجی کمپنیاں، سافٹ ویئر برآمدات کی ابتدائی صلاحیت، اور بالآخر عالمی خدمات کی طلب سے فائدہ اٹھانے کی کہیں زیادہ کامیاب صلاحیت موجود تھی۔ پاکستان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز اسی پیمانے پر موجود نہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود، اگر اس موازنے کو محدود رکھا جائے تو بھارت کی مثال مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مقصد اس کی نقل کرنا نہیں، اور نہ ہی اسے پاکستان کی تقدیر سمجھنا چاہیے، بلکہ صرف ایک محدود سوال پوچھنا ہے: کسی معیشت کی وہ ابتدائی کیفیت کیا ہوتی ہے جب وہ بیرونی طلب  میں اچانک اضافے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بننے لگتی ہے؟ بھارت کے لیے وائے ٹو کے کا موقع کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا۔ دنیا کے دو ہندسوں والے تاریخی نظام  کے مسئلے پر عالمی تشویش کو بنیاد بنا کر کسی نے قومی حکمتِ عملی تیار نہیں کی تھی۔ لیکن جب تاریخ کا وہ غیر متوقع موقع آیا تو بھارت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار تھا۔</p>
<p>بھارت کے پاس انگریزی بولنے والے تکنیکی ماہرین، ہنر مند بیرونِ ملک مقیم افراد ، بڑھتی ہوئی سافٹ ویئر برآمدات، ابتدائی غیر ملکی صارفین  اور ایسی کمپنیاں موجود تھیں جو مطلوبہ خدمات فراہم کر سکتی تھیں۔ وائے ٹو کے نے بھارتی آئی ٹی صنعت کو جنم نہیں دیا، بلکہ اس کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر آزمایا۔ یہی فرق پاکستان کے لیے اہم ہے، کیونکہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان اگلے وائے ٹو کے جیسے موقع کی پیش گوئی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اب ایسی بنیادی معاشی شرائط  پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ اگر مستقبل میں عالمی خدمات کی طلب میں اسی نوعیت کا کوئی نیا موقع پیدا ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکے؟</p>
<p>اس معیار پر دیکھا جائے تو جواب اب اتنا آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان سے بیرونِ ملک ہجرت کی کہانی دراصل ایک کہانی نہیں بلکہ کم از کم تین مختلف کہانیاں ہیں جو بیک وقت سامنے آ رہی ہیں۔ پہلی دولت اور سیکیورٹی کی بنیاد پر ہجرت ہے، جس میں پرانا سرمایہ، نیا سرمایہ، پیشہ ور اشرافیہ اور اعلیٰ متوسط طبقے کے خاندان اپنی فیملیز، سرمایہ، بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے بہتر مواقع کیلئے بیرونِ ملک منتقل ہورہے ہیں۔ دوسری ہنرمند افراد کی ہجرت  ہے، جس میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، بینکار، کنسلٹنٹس، منیجرز، نرسیں، اکاؤنٹنٹس اور طلبہ بہتر آمدنی، زیادہ تحفظ اور مستقل رہائش کی خاطر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ تیسری مزدوروں کی ہجرت ہے، جس میں خلیجی ممالک جانے والے مزدور، نیم ہنر مند کارکن اور غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے والے افراد شامل ہیں، جن کی روانگی کے اسباب بہتر مستقبل کی خواہش سے لے کر شدید مجبوری تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اس پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہی سرکاری اعدادوشمار میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مزدوروں کی ہجرت کا ریکارڈ، ہنرمند افراد کی ہجرت کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں رکھا جاتا ہے، جبکہ دولت کی ہجرت کا اندازہ زیادہ تر بالواسطہ طور پر لگایا جاتا ہے۔ طلبہ کی ہجرت ان دونوں کے درمیان کہیں آتی ہے، کیونکہ ابتدا میں اس کے اخراجات اکثر ذاتی یا خاندانی دولت سے پورے کیے جاتے ہیں، کامیابی کی صورت میں وہ ہنرمند افرادی قوت کا حصہ بن جاتی ہے، اور بعد میں یہی طلبہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام درجہ بندیاں مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن مجموعی سمت بالکل واضح ہے: پاکستان میں تقریباً ہر طبقے میں ملک چھوڑنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال بذاتِ خود ترقی کی علامت نہیں۔ ممکن ہے یہ صرف داخلی معاشی ناکامی ہو جس کے ساتھ زرمبادلہ کی آمد بھی منسلک ہو۔ کوئی ملک اپنے شہریوں کو اس لیے بھی بیرونِ ملک بھیج سکتا ہے کہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں قیمتی ہو، یا اس لیے بھی کہ اس کی داخلی معیشت اپنے شہریوں کے خواب، صلاحیت اور عزائم کو جذب کرنے کے قابل نہ رہی ہو۔ یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ پہلی صورت صلاحیت  کی علامت ہے، جبکہ دوسری صورت محض اندرونی دباؤ کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جسے بہتر حساب کتاب کی وجہ سے کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ دلچسپ اشارہ وہ تبدیلی ہے جو ہجرت کے ساتھ ساتھ رونما ہو رہی ہے۔ پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات  اب برآمدی ڈھانچے میں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اگرچہ ان کا حجم اب بھی محدود، غیر مستحکم اور غیر یکساں ہے، لیکن ان کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ فری لانسنگ میں اضافہ ہو رہا ہے، چھوٹی سافٹ ویئر اور سروسز کمپنیاں بیرونِ ملک خدمات فروخت کر رہی ہیں، اور غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اس آمدنی کا ایک حصہ آئی سی ٹی برآمدات کے طور پر ریکارڈ ہوتا ہے، جبکہ ایک حصہ غالباً ترسیلاتِ زر سے ملتے جلتے ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ آمدنی آف شور ڈھانچوں، غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، غیر رسمی بلنگ کے نظام اور ایسے کاروباری اداروں کے ذریعے بھی آتی ہے جو ریاست کے معاشی ریکارڈ کے روایتی طریقۂ کار میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتے۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت سے موازنہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ آج کا پاکستان وائے ٹو کے کے بعد والا بھارت نہیں ہے۔ ایسا کہنا حقیقت سے زیادہ فیاضی ہوگی۔ نہ ہی پاکستان 2003 یا 2005 کے بھارت جیسی پوزیشن میں ہے، جب خدمات کی برآمدات ایک مضبوط اور واضح معاشی قوت بن چکی تھیں۔ زیادہ محتاط اور قابلِ دفاع موازنہ 1997 سے 1999 کے درمیان کے بھارت سے کیا جا سکتا ہے، یعنی وہ مرحلہ جب صلاحیتیں جمع ہو چکی تھیں لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت بھارت کے پاس سافٹ ویئر کمپنیاں، انجینئرز، بیرونِ ملک مقیم پیشہ ور افراد سے روابط، غیر ملکی صارفین اور برآمدات کی ایک ابھرتی ہوئی کہانی موجود تھی۔ لیکن اسے ابھی تک وہ عالمی آزمائش درپیش نہیں آئی تھی جو بعد میں اس کی حقیقی صلاحیت کو دنیا کے سامنے لے کر آئی۔</p>
<p>پھر وائے ٹو کے کا مرحلہ آ پہنچا۔ یہ کام نہایت معمولی نوعیت کا، بار بار دہرایا جانے والا، سخت ڈیڈ لائنز کا پابند اور انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن اصل اہمیت بھی اسی میں تھی۔ بھارت نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر ایسے غیر دلکش مگر ضروری کام قابلِ اعتماد انداز میں انجام دے سکتا ہے، اور برآمدی صلاحیت کے اعتبار سے یہ خوبی کسی ظاہری چمک دمک سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ وائے ٹو کے سے حاصل ہونے والی آمدنی وقتی تھی، مگر اس سے پیدا ہونے والی ساکھ کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوئی، کیونکہ غیر ملکی صارفین کو معلوم ہو گیا کہ بھارتی کمپنیاں دباؤ کے حالات میں بھی مؤثر انداز سے کام مکمل کر سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ابھی تک ایسا کوئی لمحہ نصیب نہیں ہوا۔ تاہم ممکن ہے کہ وہ ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہو جو اس بڑے لمحے سے پہلے کی کیفیت ہو۔ دعویٰ صرف اتنا ہی محدود ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ پاکستان اگلا بھارت بننے والا ہے، نہ ہی یہ کہ غیر معمولی معاشی کامیابی ناگزیر ہے، اور نہ ہی یہ کہ ترسیلاتِ زر کسی جادوئی عمل کے ذریعے خود بخود پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہو جائیں گی۔ دعویٰ اس سے کہیں زیادہ محدود، لیکن زیادہ دلچسپ ہے: ممکن ہے پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے ذریعے خدمات کی برآمدات کا ایک نیا راستہ تشکیل پا رہا ہو، اس سے پہلے کہ اسے باضابطہ طور پر کوئی نام دیا جائے۔</p>
<p>ممکن ہے اس راستے کے لیے روایتی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی ضرورت ہی نہ ہو۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ بڑی کثیرالقومی سروسز کمپنیاں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی۔ عالمی کمپنیاں عموماً ایسے ممالک میں اپنی بیلنس شیٹس منتقل کرنے کے لیے جلدی نہیں کرتیں جہاں پیش گوئی کے قابل معاشی ماحول ایک درآمد شدہ تعیش  محسوس ہوتا ہو۔ لیکن خدمات کی برآمدات اس کے باوجود بڑھ سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ روایتی معنوں میں غیر ملکی سرمایہ ملک میں داخل ہو۔ یہ برآمدات معاہدوں، سفارشات، آف شور فرنٹ آفسز، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملکیت والی ایجنسیوں، ریموٹ ٹیموں، فری لانس پلیٹ فارمز، پیشہ ورانہ روابط اور ایسی چھوٹی کمپنیوں کے ذریعے فروغ پا سکتی ہیں جو ان منڈیوں میں خدمات فروخت کریں جہاں پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خریداروں کے نظام کا حصہ ہوں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں ڈائسپورا صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والی مشین نہیں رہتا۔ لندن میں مقیم پاکستانی نژاد کسی کمپنی کا بانی لاہور کو کام منتقل کر سکتا ہے۔ دبئی میں کام کرنے والا کوئی بینکار کراچی تک کسی منصوبے کی رسائی ممکن بنا سکتا ہے۔ کینیڈا میں موجود کوئی ڈاکٹر بلنگ، دستاویزات کی تیاری یا سافٹ ویئر سے متعلق کام کسی پاکستانی ٹیم کے سپرد کر سکتا ہے۔ ریاض میں موجود کوئی لاجسٹکس آپریٹر بیک آفس خدمات کی طلب پیدا کر سکتا ہے۔ آسٹن میں کام کرنے والا کوئی ٹیکنالوجی ماہر کسی پاکستانی کمپنی کا پہلا گاہک، پہلا حوالہ  یا پہلا سیلز چینل بن سکتا ہے۔ اکثر پہلا معاہدہ سماجی تعلقات کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرا تجارتی بنیاد اختیار کر لیتا ہے، جبکہ تیسرا بار بار ملنے والے کاروبار  میں تبدیل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سرمایہ آنے سے پہلے اعتماد اسی طرح سفر کرتا ہے۔ بھارت کے بیرونِ ملک مقیم افراد نے بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے پہلے معاہدے کا مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ابتدائی دور میں غیر ملکی صارفین کو یقین نہیں تھا کہ آیا بھارت مطلوبہ خدمات فراہم کر سکے گا یا نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں نے اسی غیر یقینی صورتحال کو کم کیا۔ وہ جانتے تھے کہ کس سے رابطہ کرنا ہے، کس پر اعتماد کرنا ہے، نگرانی کیسے کرنی ہے، اور خریداروں کی توقعات کو عملی نتائج میں کیسے تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کا ڈائسپورا بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا راستہ نسبتاً محدود، زیادہ منتشر اور کم رسمی ہوگا۔</p>
<p>یہ فرق بہت اہم ہے۔ بھارت کی کہانی بالآخر بڑی کمپنیوں کی قیادت میں آگے بڑھی، جہاں بڑی ٹیکنالوجی برآمد کنندگان نے عالمی منڈی تک رسائی کے فوائد کو اپنے اندر سمو لیا۔ پاکستان کی کہانی شاید زیادہ منتشر رہے: فری لانسرز، چھوٹی خصوصی ایجنسیاں، سافٹ ویئر ہاؤسز، خلیجی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے قائم غیر ملکی کمپنیاں، اور وہ ریموٹ ٹیمیں جو پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر کو خدمات فراہم کریں اور ایسی مالیاتی راہوں سے ادائیگیاں وصول کریں جنہیں سرکاری اعدادوشمار صرف جزوی طور پر ہی ریکارڈ کر پاتے ہیں۔ اس سے یہ کہانی دیکھنے اور ناپنے میں ضرور مشکل ہو جاتی ہے، لیکن معاشی اعتبار سے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ البتہ یہ شماریاتی لحاظ سے ضرور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اسی لیے صرف ترسیلاتِ زر کو کامیابی کا پیمانہ سمجھنا ناکافی ہے۔ ترسیلاتِ زر اس وجہ سے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ کوئی ملک اپنی مجبوری اور معاشی مشکلات برآمد کر رہا ہو۔ وہ اس لیے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ ملک کے اندر روزگار کے مواقع ناکام ہو چکے ہوں، مہنگائی نے مقامی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا ہو اور ملک چھوڑنا ایک منطقی فیصلہ بن گیا ہو۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ترسیلاتِ زر، ہنرمند افراد کی ہجرت، آئی سی ٹی برآمدات، فری لانس آمدنی اور غیر ملکی گاہکوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک ساتھ بڑھنا شروع ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہوں لیکن آئی سی ٹی برآمدات جمود کا شکار رہیں تو کہانی زیادہ تر بقا کی ہوگی۔ لیکن اگر آئی سی ٹی برآمدات بھی ہنرمند ہجرت اور مضبوط ہوتے ہوئے ڈائسپورا نیٹ ورک کے ساتھ بڑھنے لگیں تو پھر کہانی کا رخ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ کووِڈ کے بعد ایک نئی پیچیدگی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ بیرونِ ملک جانے کی خواہش پہلے سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن ہجرت کے مواقع اب زیادہ محدود اور منتخب ہو گئے ہیں۔ طلبہ کے ویزے مشکل ہو چکے ہیں، تنخواہوں کی کم از کم شرائط بڑھ گئی ہیں، جبکہ لیبر مارکیٹیں پہلے سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔ دولت مند افراد کے لیے ہجرت کے راستے اب بھی موجود ہیں۔ ہنرمند افراد کی ہجرت بھی ممکن ہے، لیکن اب اس کے لیے زیادہ مضبوط اسناد اور قابلیت درکار ہے۔ مزدوروں کی ہجرت جاری ہے، مگر وہ پہلے سے زیادہ معاشی چکروں، سیاسی حالات اور سرحدی قوانین سے متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>اس سے ممکن ہے ایک نئی قسم کی ہجرت جنم لے: ورچوئل ہجرت ۔ اس میں کارکن اپنی جگہ رہتا ہے، کام بیرونِ ملک چلا جاتا ہے، اور آمدنی واپس پاکستان آ جاتی ہے۔ ممکن ہے یہی پاکستان کی بیرونی افرادی قوت کی کہانی میں سب سے اہم تبدیلی ثابت ہو۔ ہر وہ شخص جو ملک چھوڑنا چاہتا ہے، باہر نہیں جا سکے گا، اور نہ ہی ہر وہ شخص جو دنیا کو خدمات فروخت کرتا ہے، ہجرت کرے گا۔ بہت سے لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے ہی کوڈنگ، ڈیزائن، اکاؤنٹنگ، مارکیٹنگ، اینالیٹکس، کلاؤڈ سپورٹ، مصنوعی ذہانت کے ٹولز، بیک آفس خدمات اور پیشہ ورانہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے عالمی لیبر مارکیٹ کا حصہ بن جائیں گے۔</p>
<p>معاشی اصطلاح میں یہ بھی لیبر آربٹریج  ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ہوائی اڈے سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے ملک ایک ایسے ہائبرڈ بیرونی لیبر ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہو، جس میں کچھ لوگ ہجرت کے ذریعے بیرونِ ملک جائیں، مہارتیں خدمات کی برآمدات کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچیں، اور آمدنی ترسیلاتِ زر اور ڈیجیٹل ذرائع دونوں کے ذریعے واپس پاکستان آئے۔ یہ بھارت کا راستہ نہیں، لیکن اس کی مماثلت بھارت کی اس ابتدائی کہانی سے ضرور ہے جو اس کی بڑی معاشی کامیابی سے پہلے وجود میں آ رہی تھی۔</p>
<p>تاہم یہاں ایک اہم اور ناگزیر احتیاط بھی ضروری ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے نیٹ ورک مواقع کے دروازے تو کھول سکتے ہیں، لیکن وہ خود کام انجام نہیں دے سکتے۔ منڈی تک رسائی  پہلا آرڈر دلا سکتی ہے، مگر دوسرے آرڈر کا انحصار کام کے کامیاب اور معیاری نفاذ  پر ہوتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ کبھی بھی انفرادی صلاحیتوں کی کمی نہیں رہا، بلکہ اصل مسئلہ یہ رہا ہے کہ بکھری ہوئی صلاحیتوں کو ایک ایسی قابلِ اعتماد، بڑے پیمانے پر کام کرنے والی اور عالمی سطح پر قابلِ شناخت  استعداد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب اب بھی نہیں ملا۔</p>
<p>تو پھر اگر بھارت کی ترقی کے تسلسل  میں پاکستان کی موجودہ پوزیشن کا تعین کیا جائے تو وہ کہاں کھڑا ہے؟ یقیناً وائے ٹو کے کے بعد والے مرحلے پر نہیں، نہ ہی غیر معمولی معاشی پیش رفت  کے مرحلے پر، اور نہ ہی اس منزل پر جہاں عالمی کامیابی حاصل ہو چکی ہو۔ نسبتاً زیادہ مناسب، اگرچہ محدود، موازنہ بھارت کے 1997 سے 1999 کے دور سے کیا جا سکتا ہے، جب خدمات کی برآمدات نمایاں ہونا شروع ہو چکی تھیں، بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کے روابط تجارتی لحاظ سے مفید ثابت ہو رہے تھے، مطلوبہ صلاحیت موجود تھی، لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ پاکستان شاید کسی حد تک، غیر مکمل اور غیر یکساں انداز میں، اسی مرحلے کے قریب کھڑا ہے۔</p>
<p>اس کے ابتدائی آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک ہجرت بڑھ رہی ہے۔ آئی سی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کا نیٹ ورک پہلے سے زیادہ وسیع اور گہرا ہو چکا ہے۔ غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی اشارہ حتمی نہیں۔ یہ نہ تو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہے اور نہ ہی ابھی اسے معاشی ترقی کی مکمل کہانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ یہ ایک ایسی خاموش مگر مضبوط لہر  ہو جو مستقبل میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔</p>
<p>ممکن ہے پاکستان آج بھی اپنے شہری اس لیے بیرونِ ملک بھیج رہا ہو کہ اس کی معیشت انہیں اپنے اندر جذب کرنے میں ناکام ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں بھی برآمد کرنا شروع کر رہا ہو، کیونکہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں معاہدوں کے ذریعے خدمات فراہم کرنے کے قابل بنتی جا رہی ہے۔ شاید سب سے غیر آرام دہ، لیکن حقیقت سے قریب جواب یہی ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں درست ہو سکتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو انتہائی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288047</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 13:01:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/291259393a88db8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/291259393a88db8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرلوپ لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرلوپ لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آئی ایل پی) 1992 میں پاکستان میں قائم ہوئی اور 2019 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹ ہوئی۔ کمپنی دنیا کے معروف برانڈز اور ریٹیلرز کے لیے ہوزری، ڈینم، نِٹ ویئر ملبوسات اور ایکٹو ویئر تیار کرنے کے شعبے سے وابستہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، انٹرلوپ دھاگا (یارن) بھی تیار کرتی ہے۔ کمپنی کا صنعتی انفراسٹرکچر پاکستان میں واقع ہے، جبکہ اس کی ایک منسلک پیداواری سہولت سری لنکا میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ چین میں سورسنگ آفس اور الحاقی مینوفیکچرنگ سہولت جبکہ امریکا، یورپ اور جاپان میں مارکیٹنگ دفاتر قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حصص کی ملکیتی ساخت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 تک انٹرلوپ لمیٹڈ کے مجموعی طور پر 1.401 ارب (140 کروڑ 17 لاکھ) حصص جاری شدہ تھے، جو 10,627 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ان کی شریکِ حیات اور نابالغ بچوں کے پاس کمپنی کے 69.75 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑا حصہ تھا، جبکہ اس کے بعد مقامی عام سرمایہ کاروں کے پاس 19.69 فیصد حصص موجود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082152dfdd043.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082152dfdd043.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرلوپ لمیٹڈ کے 3.11 فیصد حصص غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں، جبکہ مداربہ اداروں اور میوچل فنڈز کے پاس مجموعی طور پر 2.87 فیصد حصص موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) کے پاس کمپنی کے 1.82 فیصد حصص ہیں، جبکہ انشورنس کمپنیوں کی ملکیت میں 1.76 فیصد حصص ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی کارکردگی (2019 تا 2025)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 کو مستثنیٰ رکھا جائے تو زیرِ جائزہ مدت کے دوران انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں نمایاں اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے برعکس، کمپنی کے بعد از ٹیکس منافع (باٹم لائن) میں 2020، 2024 اور 2025 میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ منافع کے تناسب (مارجنز) نے 2019 میں بہتری کے بعد 2020 میں اپنی کم ترین سطح کو چھو لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، اگلے برسوں میں مارجنز نے دوبارہ بہتری کی راہ اختیار کی اور 2023 میں اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے، تاہم اس کے بعد 2024 اور 2025 میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ جائزہ مدت کے دوران کمپنی کی مالیاتی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240821540c14f67.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240821540c14f67.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2019 میں انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سالانہ بنیاد پر 20.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 37 ارب 47 کروڑ 83 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ برآمدی فروخت میں مضبوط نمو تھی، جسے شرح مبادلہ میں سازگار تبدیلی نے مزید تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خام مال کی بلند لاگت، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ایندھن اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں، تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافے، نیز پیداواری صلاحیت میں توسیع کے لیے نئے پلانٹس میں مشینری اور آلات کی تنصیب کے باعث نئے ملازمین کی بھرتیوں نے 2019 میں فروختی لاگت (کاسٹ آف سیلز) میں 16 فیصد اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کا مجموعی منافع (گراس پرافٹ) 2019 میں سالانہ بنیاد پر 30.73 فیصد بڑھا، جبکہ مجموعی منافع کا تناسب (جی پی مارجن) 2018 کے 29.37 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 31.90 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے دوران تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) قابو میں رہے، تاہم انتظامی اخراجات (ایڈمنسٹریٹو ایکسپنسز) میں سالانہ بنیاد پر 24.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082203e58faac.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082203e58faac.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دیگر اخراجات (اودر ایکسپنسز) میں بھی 2019 کے دوران سالانہ بنیاد پر 84.41 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا، عطیات اور خیرات میں اضافہ، اور آئی ایل بنگلہ لمیٹڈ میں سرمایہ کاری پر نقصِ قدر (امپیئرمنٹ لاس) کے لیے کیے گئے پروویژن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، دیگر آمدنی (اودر اِنکم) میں بھی سالانہ بنیاد پر 57.62 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آئی ایل بنگلہ لمیٹڈ سے واجب الادا رقوم پر حاصل ہونے والی سودی آمدن تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل کے نتیجے میں 2019 کے دوران کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 42.93 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا تناسب (او پی مارجن) 2018 کے 14.42 فیصد سے بڑھ کر 17.12 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بلند شرحِ سود کے باعث 2019 میں مالیاتی لاگت (فنانس کاسٹ) میں سالانہ بنیاد پر 105.87 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی کے قرض کے انحصار کا تناسب (گیئرنگ ریشو) 2018 کے 66.95 فیصد سے کم ہو کر 2019 میں 48.15 فیصد رہ گیا۔ اس کی وجہ سال کے دوران 10 کروڑ 90 لاکھ عام حصص کا اجرا اور قرضوں کے حجم میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082601ee94e21.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082601ee94e21.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرلوپ لمیٹڈ کے بعد از ٹیکس منافع (باٹم لائن) میں 2019 کے دوران سالانہ بنیاد پر 33.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 5 ارب 19 کروڑ 47 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں خالص منافع کا تناسب (این پی مارجن) 12.48 فیصد سے بڑھ کر 13.86 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، فی حصص آمدن (ای پی ایس) بھی 2018 کے 5.10 روپے سے بڑھ کر 2019 میں 6.67 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار ہونے کے باعث انٹرلوپ لمیٹڈ کو 2020 میں &lt;strong&gt;کووڈ-19&lt;/strong&gt; کی وجہ سے لوگوں اور اشیا کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے سبب شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سال کے دوران نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن نے نہ صرف کمپنی کی سرگرمیوں کو محدود کیا بلکہ اس کی بڑی برآمدی منڈیوں سے طلب کو بھی متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، 2020 میں انٹرلوپ کی خالص فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی (نیٹ سیلز ریونیو) میں سالانہ بنیاد پر 3.14 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ گھٹ کر 36 ارب 30 کروڑ 27 لاکھ 90 ہزار روپے رہ گئی۔ تاہم سپلائی کے مسائل اور رکاوٹوں کے باعث فروختی لاگت میں کوئی نمایاں کمی نہ آ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے نتیجے میں 2020 کے دوران مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں سالانہ بنیاد پر 34.22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مجموعی منافع کا تناسب (جی پی مارجن) کم ہو کر 21.66 فیصد پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408260763b91fb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408260763b91fb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فروخت کے حجم میں کمی کے باعث 2020 میں تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) میں سالانہ بنیاد پر 27.89 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ انتظامی اخراجات (ایڈمنسٹریٹو ایکسپنسز) میں 10.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، دیگر اخراجات (اودر ایکسپنسز) میں 2020 کے دوران 35.69 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجوہات ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے کم رقوم مختص کرنا، عطیات و خیرات میں کمی اور سرمایہ کاری کے نقصِ قدر (امپیئرمنٹ لاس) کے لیے کسی قسم کا پروویژن نہ کرنا تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، دیگر آمدنی (اودر اِنکم) نے کمپنی کے منافع کو سہارا فراہم کیا اور 2020 میں اس میں سالانہ بنیاد پر 585.41 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ ٹرم ڈپازٹ رسیدوں (ٹی ڈی آرز) اور ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس (ٹی ایف سیز) سے حاصل ہونے والا خاطر خواہ منافع تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آپریٹنگ اخراجات اور دیگر اخراجات میں کمی اور دیگر آمدنی میں نمایاں اضافے کے باوجود آپریٹنگ منافع برقرار نہ رہ سکا۔ 2020 میں آپریٹنگ منافع (اوپریٹنگ پرافٹ) میں سالانہ بنیاد پر 49.30 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ آپریٹنگ منافع کا تناسب (او پی مارجن) نمایاں طور پر گھٹ کر 8.96 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2020 کی ابتدائی سہ ماہیوں میں بلند شرحِ سود اور سال کے دوران قرضوں میں اضافے کے باعث مالیاتی لاگت (فنانس کاسٹ) میں 14.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں قرض کے انحصار کا تناسب (گیئرنگ ریشو) بڑھ کر 55.53 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از ٹیکس منافع (نیٹ پرافٹ) میں 2020 کے دوران سالانہ بنیاد پر 65.42 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ گھٹ کر 1 ارب 79 کروڑ 64 لاکھ روپے رہ گیا۔ اس طرح خالص منافع کا تناسب (این پی مارجن) 4.95 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) بھی کم ہو کر 2.06 روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240826125f9724d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240826125f9724d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2021 میں انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) نے بھرپور واپسی کی اور سالانہ بنیاد پر 51.4 فیصد اضافے کے ساتھ 54 ارب 96 کروڑ 24 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ خام مال کی بلند لاگت، تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافے، نِٹنگ، پراسیسنگ اور پیکنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، نیز ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروختی لاگت میں 43.29 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم برآمدی فروخت میں نمایاں اضافے کی بدولت مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 80.73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور جی پی مارجن بہتر ہو کر 25.86 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ فروخت کے نتیجے میں سیلز کمیشن بڑھنے سے تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) میں 31.50 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ انتظامی اور دیگر اخراجات بالترتیب 27.22 فیصد اور 82.25 فیصد بڑھ گئے۔ سرمایہ کاری پر نقصِ قدر کے الٹ اندراج (ریورسل آف امپیئرمنٹ لاس) اور زرِ مبادلہ کے منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 64.56 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، آپریٹنگ منافع میں 146.54 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور او پی مارجن 14.59 فیصد تک پہنچ گیا۔ شرحِ سود میں کمی کے باعث قرضوں میں اضافے کے باوجود مالیاتی لاگت تقریباً مستحکم رہی، تاہم گیئرنگ ریشو بڑھ کر 59.62 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از ٹیکس منافع (نیٹ پرافٹ) میں 250.23 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا اور یہ 62 ارب 91 کروڑ 57 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ این پی مارجن 11.45 فیصد جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 7 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2022&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 ٹاپ لائن نمو کے حوالے سے غیرمعمولی سال ثابت ہوا اور کمپنی کی آمدنی میں 65.38 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی کی تیز گراوٹ نے برآمدی فروخت کو تقویت دی اور فروخت بڑھ کر ریکارڈ 90 ارب 89 کروڑ 40 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر اور درآمدی پابندیوں سے پیدا ہونے والی سپلائی چین کی مشکلات کے باوجود مجموعی منافع میں 83.41 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن 28.68 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلز کمیشن، سمندری و فضائی مال برداری، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج اور تنخواہوں میں اضافے کے باعث آپریٹنگ اخراجات بڑھے۔ دوسری جانب، ڈیریویٹو مالیاتی آلات پر حقیقی نقصان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف و ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن کے باعث دیگر اخراجات میں 133.11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امپیئرمنٹ لاس کے ریورسل نہ ہونے سے دیگر آمدنی 64.94 فیصد کم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 98.46 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 17.51 فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم سخت مانیٹری پالیسی اور زیادہ قرض گیری کے باعث مالیاتی لاگت میں 117.34 فیصد اضافہ ہوا اور گیئرنگ ریشو 63.12 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ پرافٹ 96.45 فیصد اضافے کے ساتھ 123 ارب 59 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ این پی مارجن 13.60 فیصد اور ای پی ایس 8.82 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2023&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید معاشی اور سیاسی مشکلات کے باوجود 2023 میں انٹرلوپ کی ٹاپ لائن میں 31.14 فیصد اضافہ ہوا اور خالص فروخت 119 ارب 20 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی چین کی رکاوٹیں، گیس کی بندش اور کپاس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث فروختی لاگت میں 22.37 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع میں 52.97 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن 33.45 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ سیلز کمیشن اور شپنگ اخراجات کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات میں 16.87 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگرچہ ملازمین کی تعداد 31,986 سے کم ہو کر 30,774 رہ گئی، اس کے باوجود زیادہ تنخواہوں کے باعث انتظامی اخراجات 33.41 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ منافع سے متعلق پروویژنز کے باعث دیگر اخراجات میں 26.96 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹی ایف سیز سے منافع، زرِ مبادلہ کے منافع اور ڈیریویٹو آلات پر غیرحقیقی منافع کے باعث دیگر آمدنی 177 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً آپریٹنگ منافع میں 70.34 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 22.74 فیصد تک پہنچ گیا۔ بلند شرحِ سود اور اضافی قرضوں کے باعث مالیاتی لاگت 121.73 فیصد بڑھ گئی، تاہم بونس حصص کے اجرا اور غیر تقسیم شدہ منافع میں اضافے سے گیئرنگ ریشو کم ہو کر 57.57 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ پرافٹ 63.21 فیصد بڑھ کر 201 ارب 71 کروڑ 84 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ ای پی ایس 14.39 روپے اور این پی مارجن 16.92 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2024&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں خالص فروخت میں 30.98 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 156 ارب 12 کروڑ 88 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ برآمدی آرڈرز میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم روپے کی قدر میں استحکام، مہنگائی اور توانائی کی بلند لاگت کے باعث کمپنی جی پی مارجن برقرار نہ رکھ سکی، جو کم ہو کر 27.89 فیصد رہ گیا۔ مطلق اعداد و شمار میں مجموعی منافع میں 9.21 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شپنگ اخراجات اور سیلز کمیشن کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات 42.38 فیصد بڑھ گئے، جبکہ ملازمین کی تعداد 30,774 سے بڑھ کر 34,736 ہونے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث انتظامی اخراجات میں 37.43 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم منافع سے متعلق پروویژن اور ڈیریویٹو آلات پر حقیقی نقصان نہ ہونے کے باعث دیگر اخراجات 24.98 فیصد کم ہو گئے، جبکہ ڈیریویٹو آلات پر حقیقی و غیرحقیقی منافع اور ٹی ایف سیز سے بہتر آمدنی کے باعث دیگر آمدنی 304.67 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹنگ منافع میں معمولی 3 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 17.89 فیصد رہا۔ رعایتی قرضوں کی ادائیگی اور نئے قرضوں کے حصول کے باعث مالیاتی لاگت 83.18 فیصد بڑھ گئی، تاہم گیئرنگ ریشو کم ہو کر 56.25 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ پرافٹ میں 21.82 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 157 ارب 71 کروڑ 26 لاکھ روپے رہ گیا۔ این پی مارجن 10.10 فیصد جبکہ ای پی ایس 11.25 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں انٹرلوپ کی خالص فروخت میں 11 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 173 ارب 38 کروڑ 15 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ مقامی اور برآمدی دونوں فروخت میں بہتری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی فروخت کا مجموعی فروخت میں حصہ 93.27 فیصد رہا، جو گزشتہ سال 94.58 فیصد تھا۔ فروخت کے حجم میں اضافے کے باوجود شرحِ مبادلہ میں استحکام، بلند فروختی لاگت اور نئے شروع کیے گئے اپیرل ماسٹر پراجیکٹ کی ابتدائی مدت کے اثرات کے باعث مجموعی منافع متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً مجموعی منافع میں 19.23 فیصد کمی آئی اور جی پی مارجن کم ہو کر 20.29 فیصد رہ گیا۔ فریٹ، شپنگ اور تشہیری اخراجات کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات 18.74 فیصد بڑھ گئے، جبکہ نئے منصوبوں کے لیے اضافی افرادی قوت بھرتی کرنے سے انتظامی اخراجات 12 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ملازمین کی تعداد بڑھ کر 37,786 ہو گئی، جو سالانہ بنیاد پر 8.78 فیصد زیادہ تھی۔ کم پروویژنز اور خیرات میں کمی کے باعث دیگر اخراجات 53.56 فیصد کم ہوئے، جبکہ ڈیریویٹو آلات پر کم منافع اور ٹی ایف سیز سے کم آمدنی کے باعث دیگر آمدنی 37.57 فیصد گھٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹنگ منافع میں 34.41 فیصد کمی آئی اور او پی مارجن 10.57 فیصد رہ گیا۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی لاگت میں 5.84 فیصد کمی واقع ہوئی، تاہم توسیعی منصوبوں اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کے لیے زیادہ قرض لینے سے گیئرنگ ریشو بڑھ کر 62.19 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائنل ٹیکس رجیم سے نارمل ٹیکس رجیم میں منتقلی کے باعث ٹیکس اخراجات میں 67.48 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نیٹ پرافٹ 65.91 فیصد کم ہو کر 53 ارب 76 کروڑ 60 لاکھ روپے رہ گیا۔ این پی مارجن 3.10 فیصد جبکہ ای پی ایس 3.84 روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ میں انٹرلوپ کی خالص فروخت میں 1.50 فیصد معمولی اضافہ ہوا اور یہ 127 ارب 29 کروڑ 9 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت کے بہتر حجم اور موافق سیلز مکس، مقررہ اخراجات کے بہتر جذب اور مؤثر لاگت کے انتظام کے باعث مجموعی منافع میں 24.45 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 19.61 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشتہاری بجٹ میں کمی اور فریٹ اخراجات گھٹنے سے ڈسٹری بیوشن اخراجات 18.95 فیصد کم ہوئے، جبکہ مہنگائی اور ممکنہ افرادی قوت میں اضافے کے باعث انتظامی اخراجات 6.59 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن کے باعث دیگر اخراجات 33.86 فیصد بڑھ گئے، تاہم ڈیریویٹو مالیاتی آلات پر حقیقی اور غیرحقیقی منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 414.85 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کمپنی نے 121 کروڑ روپے کی خالص دیگر آمدنی حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 42 کروڑ 66 لاکھ روپے کے خالص دیگر اخراجات ریکارڈ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹنگ منافع میں 67.27 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 15.84 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ 9.61 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود میں کمی اور واجبات کی ادائیگی کے باعث مالیاتی لاگت 36.58 فیصد کم ہوئی، جس کے نتیجے میں نیٹ پرافٹ 244.76 فیصد اضافے کے ساتھ 93 ارب 42 کروڑ 18 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارکردگی 6.66 روپے فی حصص آمدن (ای پی ایس) اور 7.34 فیصد این پی مارجن میں تبدیل ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ای پی ایس 1.93 روپے اور این پی مارجن 2.16 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مستقبل کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اس کے مقامی معاشی اشاریوں پر دور رس اثرات پاکستانی مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے مالیاتی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں خریدار بھی محتاط طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں خریداری کے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جا رہے ہیں اور قیمتوں کے حوالے سے حساسیت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں انٹرلوپ لمیٹڈ اپنی برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے کے لیے نئے جغرافیائی خطوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی کمپنی آپریشنل استعداد بہتر بنانے اور اپنی فروخت کے تنوع (سیلز مکس) کو مزید متوازن بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، 3.5 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے کا فعال ہونا درست سمت میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے تناظر میں یہ منصوبہ کمپنی کی توانائی لاگت میں کمی لانے اور اس کی لاگت کے ڈھانچے کو زیادہ پائیدار بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، اگرچہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے معاشی حالات انٹرلوپ کے لیے چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم برآمدی منڈیوں میں تنوع، آپریشنل بہتری اور متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ کمپنی کے مستقبل کے امکانات کو تقویت دینے والے اہم عوامل دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرلوپ لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آئی ایل پی) 1992 میں پاکستان میں قائم ہوئی اور 2019 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹ ہوئی۔ کمپنی دنیا کے معروف برانڈز اور ریٹیلرز کے لیے ہوزری، ڈینم، نِٹ ویئر ملبوسات اور ایکٹو ویئر تیار کرنے کے شعبے سے وابستہ ہے۔</strong></p>
<p>اس کے علاوہ، انٹرلوپ دھاگا (یارن) بھی تیار کرتی ہے۔ کمپنی کا صنعتی انفراسٹرکچر پاکستان میں واقع ہے، جبکہ اس کی ایک منسلک پیداواری سہولت سری لنکا میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ چین میں سورسنگ آفس اور الحاقی مینوفیکچرنگ سہولت جبکہ امریکا، یورپ اور جاپان میں مارکیٹنگ دفاتر قائم ہیں۔</p>
<p><strong>حصص کی ملکیتی ساخت</strong></p>
<p>30 جون 2025 تک انٹرلوپ لمیٹڈ کے مجموعی طور پر 1.401 ارب (140 کروڑ 17 لاکھ) حصص جاری شدہ تھے، جو 10,627 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔</p>
<p>کمپنی کے ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ان کی شریکِ حیات اور نابالغ بچوں کے پاس کمپنی کے 69.75 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑا حصہ تھا، جبکہ اس کے بعد مقامی عام سرمایہ کاروں کے پاس 19.69 فیصد حصص موجود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082152dfdd043.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082152dfdd043.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انٹرلوپ لمیٹڈ کے 3.11 فیصد حصص غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں، جبکہ مداربہ اداروں اور میوچل فنڈز کے پاس مجموعی طور پر 2.87 فیصد حصص موجود ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) کے پاس کمپنی کے 1.82 فیصد حصص ہیں، جبکہ انشورنس کمپنیوں کی ملکیت میں 1.76 فیصد حصص ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں۔</p>
<p><strong>مالیاتی کارکردگی (2019 تا 2025)</strong></p>
<p>2020 کو مستثنیٰ رکھا جائے تو زیرِ جائزہ مدت کے دوران انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں نمایاں اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے برعکس، کمپنی کے بعد از ٹیکس منافع (باٹم لائن) میں 2020، 2024 اور 2025 میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ منافع کے تناسب (مارجنز) نے 2019 میں بہتری کے بعد 2020 میں اپنی کم ترین سطح کو چھو لیا۔</p>
<p>بعد ازاں، اگلے برسوں میں مارجنز نے دوبارہ بہتری کی راہ اختیار کی اور 2023 میں اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے، تاہم اس کے بعد 2024 اور 2025 میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>زیرِ جائزہ مدت کے دوران کمپنی کی مالیاتی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240821540c14f67.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240821540c14f67.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2019 میں انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں سالانہ بنیاد پر 20.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 37 ارب 47 کروڑ 83 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ برآمدی فروخت میں مضبوط نمو تھی، جسے شرح مبادلہ میں سازگار تبدیلی نے مزید تقویت دی۔</p>
<p>تاہم خام مال کی بلند لاگت، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ایندھن اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں، تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافے، نیز پیداواری صلاحیت میں توسیع کے لیے نئے پلانٹس میں مشینری اور آلات کی تنصیب کے باعث نئے ملازمین کی بھرتیوں نے 2019 میں فروختی لاگت (کاسٹ آف سیلز) میں 16 فیصد اضافہ کر دیا۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کا مجموعی منافع (گراس پرافٹ) 2019 میں سالانہ بنیاد پر 30.73 فیصد بڑھا، جبکہ مجموعی منافع کا تناسب (جی پی مارجن) 2018 کے 29.37 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 31.90 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>2019 کے دوران تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) قابو میں رہے، تاہم انتظامی اخراجات (ایڈمنسٹریٹو ایکسپنسز) میں سالانہ بنیاد پر 24.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082203e58faac.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082203e58faac.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دیگر اخراجات (اودر ایکسپنسز) میں بھی 2019 کے دوران سالانہ بنیاد پر 84.41 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا، عطیات اور خیرات میں اضافہ، اور آئی ایل بنگلہ لمیٹڈ میں سرمایہ کاری پر نقصِ قدر (امپیئرمنٹ لاس) کے لیے کیے گئے پروویژن شامل تھے۔</p>
<p>دوسری جانب، دیگر آمدنی (اودر اِنکم) میں بھی سالانہ بنیاد پر 57.62 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آئی ایل بنگلہ لمیٹڈ سے واجب الادا رقوم پر حاصل ہونے والی سودی آمدن تھی۔</p>
<p>ان عوامل کے نتیجے میں 2019 کے دوران کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں سالانہ بنیاد پر 42.93 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا تناسب (او پی مارجن) 2018 کے 14.42 فیصد سے بڑھ کر 17.12 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>تاہم، بلند شرحِ سود کے باعث 2019 میں مالیاتی لاگت (فنانس کاسٹ) میں سالانہ بنیاد پر 105.87 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی کے قرض کے انحصار کا تناسب (گیئرنگ ریشو) 2018 کے 66.95 فیصد سے کم ہو کر 2019 میں 48.15 فیصد رہ گیا۔ اس کی وجہ سال کے دوران 10 کروڑ 90 لاکھ عام حصص کا اجرا اور قرضوں کے حجم میں کمی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082601ee94e21.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/24082601ee94e21.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انٹرلوپ لمیٹڈ کے بعد از ٹیکس منافع (باٹم لائن) میں 2019 کے دوران سالانہ بنیاد پر 33.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 5 ارب 19 کروڑ 47 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں خالص منافع کا تناسب (این پی مارجن) 12.48 فیصد سے بڑھ کر 13.86 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>اسی طرح، فی حصص آمدن (ای پی ایس) بھی 2018 کے 5.10 روپے سے بڑھ کر 2019 میں 6.67 روپے ہو گئی۔</p>
<p>برآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار ہونے کے باعث انٹرلوپ لمیٹڈ کو 2020 میں <strong>کووڈ-19</strong> کی وجہ سے لوگوں اور اشیا کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے سبب شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سال کے دوران نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن نے نہ صرف کمپنی کی سرگرمیوں کو محدود کیا بلکہ اس کی بڑی برآمدی منڈیوں سے طلب کو بھی متاثر کیا۔</p>
<p>نتیجتاً، 2020 میں انٹرلوپ کی خالص فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی (نیٹ سیلز ریونیو) میں سالانہ بنیاد پر 3.14 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ گھٹ کر 36 ارب 30 کروڑ 27 لاکھ 90 ہزار روپے رہ گئی۔ تاہم سپلائی کے مسائل اور رکاوٹوں کے باعث فروختی لاگت میں کوئی نمایاں کمی نہ آ سکی۔</p>
<p>اس صورتحال کے نتیجے میں 2020 کے دوران مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں سالانہ بنیاد پر 34.22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مجموعی منافع کا تناسب (جی پی مارجن) کم ہو کر 21.66 فیصد پر آ گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408260763b91fb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408260763b91fb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فروخت کے حجم میں کمی کے باعث 2020 میں تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) میں سالانہ بنیاد پر 27.89 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ انتظامی اخراجات (ایڈمنسٹریٹو ایکسپنسز) میں 10.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسی طرح، دیگر اخراجات (اودر ایکسپنسز) میں 2020 کے دوران 35.69 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجوہات ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے کم رقوم مختص کرنا، عطیات و خیرات میں کمی اور سرمایہ کاری کے نقصِ قدر (امپیئرمنٹ لاس) کے لیے کسی قسم کا پروویژن نہ کرنا تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب، دیگر آمدنی (اودر اِنکم) نے کمپنی کے منافع کو سہارا فراہم کیا اور 2020 میں اس میں سالانہ بنیاد پر 585.41 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ ٹرم ڈپازٹ رسیدوں (ٹی ڈی آرز) اور ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس (ٹی ایف سیز) سے حاصل ہونے والا خاطر خواہ منافع تھا۔</p>
<p>تاہم، آپریٹنگ اخراجات اور دیگر اخراجات میں کمی اور دیگر آمدنی میں نمایاں اضافے کے باوجود آپریٹنگ منافع برقرار نہ رہ سکا۔ 2020 میں آپریٹنگ منافع (اوپریٹنگ پرافٹ) میں سالانہ بنیاد پر 49.30 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ آپریٹنگ منافع کا تناسب (او پی مارجن) نمایاں طور پر گھٹ کر 8.96 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>مالی سال 2020 کی ابتدائی سہ ماہیوں میں بلند شرحِ سود اور سال کے دوران قرضوں میں اضافے کے باعث مالیاتی لاگت (فنانس کاسٹ) میں 14.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں قرض کے انحصار کا تناسب (گیئرنگ ریشو) بڑھ کر 55.53 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>بعد از ٹیکس منافع (نیٹ پرافٹ) میں 2020 کے دوران سالانہ بنیاد پر 65.42 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ گھٹ کر 1 ارب 79 کروڑ 64 لاکھ روپے رہ گیا۔ اس طرح خالص منافع کا تناسب (این پی مارجن) 4.95 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) بھی کم ہو کر 2.06 روپے رہ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240826125f9724d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240826125f9724d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>2021 میں انٹرلوپ لمیٹڈ کی آمدنی (ٹاپ لائن) نے بھرپور واپسی کی اور سالانہ بنیاد پر 51.4 فیصد اضافے کے ساتھ 54 ارب 96 کروڑ 24 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ خام مال کی بلند لاگت، تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافے، نِٹنگ، پراسیسنگ اور پیکنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، نیز ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروختی لاگت میں 43.29 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>تاہم برآمدی فروخت میں نمایاں اضافے کی بدولت مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں 80.73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور جی پی مارجن بہتر ہو کر 25.86 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>زیادہ فروخت کے نتیجے میں سیلز کمیشن بڑھنے سے تقسیمی اخراجات (ڈسٹری بیوشن ایکسپنسز) میں 31.50 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ انتظامی اور دیگر اخراجات بالترتیب 27.22 فیصد اور 82.25 فیصد بڑھ گئے۔ سرمایہ کاری پر نقصِ قدر کے الٹ اندراج (ریورسل آف امپیئرمنٹ لاس) اور زرِ مبادلہ کے منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 64.56 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>نتیجتاً، آپریٹنگ منافع میں 146.54 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور او پی مارجن 14.59 فیصد تک پہنچ گیا۔ شرحِ سود میں کمی کے باعث قرضوں میں اضافے کے باوجود مالیاتی لاگت تقریباً مستحکم رہی، تاہم گیئرنگ ریشو بڑھ کر 59.62 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>بعد از ٹیکس منافع (نیٹ پرافٹ) میں 250.23 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا اور یہ 62 ارب 91 کروڑ 57 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ این پی مارجن 11.45 فیصد جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 7 روپے رہی۔</p>
<p><strong>2022</strong></p>
<p>2022 ٹاپ لائن نمو کے حوالے سے غیرمعمولی سال ثابت ہوا اور کمپنی کی آمدنی میں 65.38 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی کی تیز گراوٹ نے برآمدی فروخت کو تقویت دی اور فروخت بڑھ کر ریکارڈ 90 ارب 89 کروڑ 40 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔</p>
<p>افراطِ زر اور درآمدی پابندیوں سے پیدا ہونے والی سپلائی چین کی مشکلات کے باوجود مجموعی منافع میں 83.41 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن 28.68 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>سیلز کمیشن، سمندری و فضائی مال برداری، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج اور تنخواہوں میں اضافے کے باعث آپریٹنگ اخراجات بڑھے۔ دوسری جانب، ڈیریویٹو مالیاتی آلات پر حقیقی نقصان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف و ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن کے باعث دیگر اخراجات میں 133.11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امپیئرمنٹ لاس کے ریورسل نہ ہونے سے دیگر آمدنی 64.94 فیصد کم ہو گئی۔</p>
<p>اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 98.46 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 17.51 فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم سخت مانیٹری پالیسی اور زیادہ قرض گیری کے باعث مالیاتی لاگت میں 117.34 فیصد اضافہ ہوا اور گیئرنگ ریشو 63.12 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>نیٹ پرافٹ 96.45 فیصد اضافے کے ساتھ 123 ارب 59 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ این پی مارجن 13.60 فیصد اور ای پی ایس 8.82 روپے رہی۔</p>
<p><strong>2023</strong></p>
<p>شدید معاشی اور سیاسی مشکلات کے باوجود 2023 میں انٹرلوپ کی ٹاپ لائن میں 31.14 فیصد اضافہ ہوا اور خالص فروخت 119 ارب 20 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سپلائی چین کی رکاوٹیں، گیس کی بندش اور کپاس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث فروختی لاگت میں 22.37 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع میں 52.97 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن 33.45 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح تھی۔</p>
<p>زیادہ سیلز کمیشن اور شپنگ اخراجات کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات میں 16.87 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگرچہ ملازمین کی تعداد 31,986 سے کم ہو کر 30,774 رہ گئی، اس کے باوجود زیادہ تنخواہوں کے باعث انتظامی اخراجات 33.41 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>زیادہ منافع سے متعلق پروویژنز کے باعث دیگر اخراجات میں 26.96 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹی ایف سیز سے منافع، زرِ مبادلہ کے منافع اور ڈیریویٹو آلات پر غیرحقیقی منافع کے باعث دیگر آمدنی 177 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>نتیجتاً آپریٹنگ منافع میں 70.34 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 22.74 فیصد تک پہنچ گیا۔ بلند شرحِ سود اور اضافی قرضوں کے باعث مالیاتی لاگت 121.73 فیصد بڑھ گئی، تاہم بونس حصص کے اجرا اور غیر تقسیم شدہ منافع میں اضافے سے گیئرنگ ریشو کم ہو کر 57.57 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>نیٹ پرافٹ 63.21 فیصد بڑھ کر 201 ارب 71 کروڑ 84 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ ای پی ایس 14.39 روپے اور این پی مارجن 16.92 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p><strong>2024</strong></p>
<p>2024 میں خالص فروخت میں 30.98 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 156 ارب 12 کروڑ 88 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ برآمدی آرڈرز میں اضافہ تھا۔</p>
<p>تاہم روپے کی قدر میں استحکام، مہنگائی اور توانائی کی بلند لاگت کے باعث کمپنی جی پی مارجن برقرار نہ رکھ سکی، جو کم ہو کر 27.89 فیصد رہ گیا۔ مطلق اعداد و شمار میں مجموعی منافع میں 9.21 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>زیادہ شپنگ اخراجات اور سیلز کمیشن کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات 42.38 فیصد بڑھ گئے، جبکہ ملازمین کی تعداد 30,774 سے بڑھ کر 34,736 ہونے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث انتظامی اخراجات میں 37.43 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>کم منافع سے متعلق پروویژن اور ڈیریویٹو آلات پر حقیقی نقصان نہ ہونے کے باعث دیگر اخراجات 24.98 فیصد کم ہو گئے، جبکہ ڈیریویٹو آلات پر حقیقی و غیرحقیقی منافع اور ٹی ایف سیز سے بہتر آمدنی کے باعث دیگر آمدنی 304.67 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>آپریٹنگ منافع میں معمولی 3 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 17.89 فیصد رہا۔ رعایتی قرضوں کی ادائیگی اور نئے قرضوں کے حصول کے باعث مالیاتی لاگت 83.18 فیصد بڑھ گئی، تاہم گیئرنگ ریشو کم ہو کر 56.25 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>نیٹ پرافٹ میں 21.82 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 157 ارب 71 کروڑ 26 لاکھ روپے رہ گیا۔ این پی مارجن 10.10 فیصد جبکہ ای پی ایس 11.25 روپے رہی۔</p>
<p><strong>2025</strong></p>
<p>2025 میں انٹرلوپ کی خالص فروخت میں 11 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 173 ارب 38 کروڑ 15 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ مقامی اور برآمدی دونوں فروخت میں بہتری تھی۔</p>
<p>برآمدی فروخت کا مجموعی فروخت میں حصہ 93.27 فیصد رہا، جو گزشتہ سال 94.58 فیصد تھا۔ فروخت کے حجم میں اضافے کے باوجود شرحِ مبادلہ میں استحکام، بلند فروختی لاگت اور نئے شروع کیے گئے اپیرل ماسٹر پراجیکٹ کی ابتدائی مدت کے اثرات کے باعث مجموعی منافع متاثر ہوا۔</p>
<p>نتیجتاً مجموعی منافع میں 19.23 فیصد کمی آئی اور جی پی مارجن کم ہو کر 20.29 فیصد رہ گیا۔ فریٹ، شپنگ اور تشہیری اخراجات کے باعث ڈسٹری بیوشن اخراجات 18.74 فیصد بڑھ گئے، جبکہ نئے منصوبوں کے لیے اضافی افرادی قوت بھرتی کرنے سے انتظامی اخراجات 12 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>کمپنی کے ملازمین کی تعداد بڑھ کر 37,786 ہو گئی، جو سالانہ بنیاد پر 8.78 فیصد زیادہ تھی۔ کم پروویژنز اور خیرات میں کمی کے باعث دیگر اخراجات 53.56 فیصد کم ہوئے، جبکہ ڈیریویٹو آلات پر کم منافع اور ٹی ایف سیز سے کم آمدنی کے باعث دیگر آمدنی 37.57 فیصد گھٹ گئی۔</p>
<p>آپریٹنگ منافع میں 34.41 فیصد کمی آئی اور او پی مارجن 10.57 فیصد رہ گیا۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی لاگت میں 5.84 فیصد کمی واقع ہوئی، تاہم توسیعی منصوبوں اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کے لیے زیادہ قرض لینے سے گیئرنگ ریشو بڑھ کر 62.19 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>فائنل ٹیکس رجیم سے نارمل ٹیکس رجیم میں منتقلی کے باعث ٹیکس اخراجات میں 67.48 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نیٹ پرافٹ 65.91 فیصد کم ہو کر 53 ارب 76 کروڑ 60 لاکھ روپے رہ گیا۔ این پی مارجن 3.10 فیصد جبکہ ای پی ایس 3.84 روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p><strong>حالیہ کارکردگی (مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ)</strong></p>
<p>جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ میں انٹرلوپ کی خالص فروخت میں 1.50 فیصد معمولی اضافہ ہوا اور یہ 127 ارب 29 کروڑ 9 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>فروخت کے بہتر حجم اور موافق سیلز مکس، مقررہ اخراجات کے بہتر جذب اور مؤثر لاگت کے انتظام کے باعث مجموعی منافع میں 24.45 فیصد اضافہ ہوا اور جی پی مارجن بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 19.61 فیصد تھا۔</p>
<p>اشتہاری بجٹ میں کمی اور فریٹ اخراجات گھٹنے سے ڈسٹری بیوشن اخراجات 18.95 فیصد کم ہوئے، جبکہ مہنگائی اور ممکنہ افرادی قوت میں اضافے کے باعث انتظامی اخراجات 6.59 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ پروویژن کے باعث دیگر اخراجات 33.86 فیصد بڑھ گئے، تاہم ڈیریویٹو مالیاتی آلات پر حقیقی اور غیرحقیقی منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 414.85 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس طرح کمپنی نے 121 کروڑ روپے کی خالص دیگر آمدنی حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 42 کروڑ 66 لاکھ روپے کے خالص دیگر اخراجات ریکارڈ کیے گئے تھے۔</p>
<p>آپریٹنگ منافع میں 67.27 فیصد اضافہ ہوا اور او پی مارجن 15.84 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ 9.61 فیصد تھا۔</p>
<p>شرحِ سود میں کمی اور واجبات کی ادائیگی کے باعث مالیاتی لاگت 36.58 فیصد کم ہوئی، جس کے نتیجے میں نیٹ پرافٹ 244.76 فیصد اضافے کے ساتھ 93 ارب 42 کروڑ 18 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>یہ کارکردگی 6.66 روپے فی حصص آمدن (ای پی ایس) اور 7.34 فیصد این پی مارجن میں تبدیل ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ای پی ایس 1.93 روپے اور این پی مارجن 2.16 فیصد تھا۔</p>
<p><strong>مستقبل کا منظرنامہ</strong></p>
<p>عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اس کے مقامی معاشی اشاریوں پر دور رس اثرات پاکستانی مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے مالیاتی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں خریدار بھی محتاط طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں خریداری کے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جا رہے ہیں اور قیمتوں کے حوالے سے حساسیت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>
<p>اس پس منظر میں انٹرلوپ لمیٹڈ اپنی برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے کے لیے نئے جغرافیائی خطوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی کمپنی آپریشنل استعداد بہتر بنانے اور اپنی فروخت کے تنوع (سیلز مکس) کو مزید متوازن بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، 3.5 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے کا فعال ہونا درست سمت میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے تناظر میں یہ منصوبہ کمپنی کی توانائی لاگت میں کمی لانے اور اس کی لاگت کے ڈھانچے کو زیادہ پائیدار بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر، اگرچہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے معاشی حالات انٹرلوپ کے لیے چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم برآمدی منڈیوں میں تنوع، آپریشنل بہتری اور متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ کمپنی کے مستقبل کے امکانات کو تقویت دینے والے اہم عوامل دکھائی دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287926</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:32:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24231301150ee2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24231301150ee2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک لائسنسز کے لیے بولیاں طلب کر لیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بدھ کو باضابطہ طور پر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) لائسنسز کے لیے درخواستیں طلب کر لیں اور ملک گیر لائسنس کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی پیشگی فیس مقرر کر دی۔ یہ پیش رفت وفاقی کابینہ کی جانب سے اس پالیسی فریم ورک کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد پاکستان کی ٹیلی کام مارکیٹ میں نئے آپریٹرز کو متعارف کرانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے دلچسپی رکھنے والے اداروں کو ایم وی این او لائسنسز کے لیے درخواست دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں مسابقت، جدت اور صارفین کے لیے انتخاب کے بہتر مواقع کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان لائسنسز کے تحت کمپنیاں ریڈیو اسپیکٹرم حاصل کیے بغیر اور نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیے بغیر، پہلے سے لائسنس یافتہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز (ایم این اوز) کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنے برانڈ نام سے موبائل خدمات فراہم کر سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام پاکستان کی ٹیلی کام صنعت میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جہاں اب تک موبائل خدمات پر بنیادی ڈھانچے کے حامل محدود تعداد میں آپریٹرز کا غلبہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی فریم ورک کے مطابق ایم وی این او لائسنس 15 برس کے لیے جاری کیے جائیں گے، تاہم ان کی تجدید اور برقرار رہنا پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط اور لائسنس کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔ اہلیت کے معیار، لائسنس سے متعلق ذمہ داریوں اور درخواست دینے کے طریقہ کار کی تفصیلات ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ ایم وی این او لائسنس ٹیمپلیٹ میں شامل کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس فریم ورک سے فِن ٹیک کمپنیوں، انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان، کیبل آپریٹرز، ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی اداروں کو موبائل مارکیٹ میں نسبتاً کم سرمائے کے ساتھ داخل ہونے کا موقع ملے گا، جو روایتی ٹیلی کام آپریٹرز کے مقابلے میں ایک بڑی سہولت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی فریم ورک کے تحت ایم وی این اوز کو اپنے برانڈ نام سے خدمات کی تشہیر، صارفین کی ضروریات کے مطابق پیکجز متعارف کرانے، آزادانہ بلنگ سسٹم چلانے اور کسٹمر کیئر کے انتظام کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہیں لائسنس یافتہ سیلولر موبائل آپریٹرز سے نیٹ ورک کی گنجائش کرائے پر حاصل کرنا ہوگی کیونکہ انہیں ریڈیو اسپیکٹرم مختص نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک کے مطابق ایک ایم وی این او ایک یا ایک سے زیادہ ایم این اوز کے ساتھ معاہدے کر سکے گا، جبکہ میزبان سیلولر آپریٹرز بھی اپنے نیٹ ورکس پر متعدد ایم وی این اوز کو خدمات فراہم کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی لائسنس فیس کے علاوہ ایم وی این اوز کو سالانہ لائسنس فیس بھی ادا کرنا ہوگی اور قابلِ اطلاق ریونیو شیئرنگ نظام کے تحت یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فنڈ میں لازمی شراکت بھی کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے صارفین کے تحفظ کے لیے ایک جامع نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ ایم وی این اوز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ علیحدہ کسٹمر سپورٹ سسٹم برقرار رکھیں، صارفین کے ڈیٹا کی رازداری یقینی بنائیں، خدمات کے معیار کے تقاضے پورے کریں اور قومی سلامتی اور قانونی نگرانی سے متعلق ضوابط کی پابندی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے مفادات کے تحفظ اور خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے میزبان نیٹ ورک آپریٹرز پی ٹی اے کی پیشگی منظوری کے بغیر ایم وی این اوز کو فراہم کی جانے والی خدمات معطل یا ان کے معیار میں کمی نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح ایم وی این اوز بھی ریگولیٹر کی اجازت اور پیشگی اطلاع کے بغیر اپنی خدمات بند نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک میں موبائل نمبر پورٹیبلٹی کی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت صارفین سروس فراہم کنندہ تبدیل کرتے وقت اپنا موجودہ موبائل نمبر برقرار رکھ سکیں گے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو بہتر انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی کام ماہرین کے مطابق ایم وی این اوز کی آمد نوجوانوں، کاروباری اداروں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، ڈیجیٹل مواد استعمال کرنے والوں اور دیگر مخصوص صارفین کے لیے خصوصی نوعیت کی خدمات متعارف کرا کے ان مارکیٹ حصوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے جنہیں اب تک مناسب توجہ نہیں مل سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ایم وی این اوز نے مسابقت بڑھانے اور خدمات کی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ اس ماڈل کے تحت کمپنیاں نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے بجائے قائم شدہ آپریٹرز سے نیٹ ورک کرائے پر لے کر برانڈنگ، صارفین کے تجربے اور ویلیو ایڈڈ خدمات پر توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بدھ کو باضابطہ طور پر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) لائسنسز کے لیے درخواستیں طلب کر لیں اور ملک گیر لائسنس کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی پیشگی فیس مقرر کر دی۔ یہ پیش رفت وفاقی کابینہ کی جانب سے اس پالیسی فریم ورک کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد پاکستان کی ٹیلی کام مارکیٹ میں نئے آپریٹرز کو متعارف کرانا ہے۔</strong></p>
<p>ریگولیٹر نے دلچسپی رکھنے والے اداروں کو ایم وی این او لائسنسز کے لیے درخواست دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں مسابقت، جدت اور صارفین کے لیے انتخاب کے بہتر مواقع کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>ان لائسنسز کے تحت کمپنیاں ریڈیو اسپیکٹرم حاصل کیے بغیر اور نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیے بغیر، پہلے سے لائسنس یافتہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز (ایم این اوز) کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنے برانڈ نام سے موبائل خدمات فراہم کر سکیں گی۔</p>
<p>یہ اقدام پاکستان کی ٹیلی کام صنعت میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جہاں اب تک موبائل خدمات پر بنیادی ڈھانچے کے حامل محدود تعداد میں آپریٹرز کا غلبہ رہا ہے۔</p>
<p>پالیسی فریم ورک کے مطابق ایم وی این او لائسنس 15 برس کے لیے جاری کیے جائیں گے، تاہم ان کی تجدید اور برقرار رہنا پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط اور لائسنس کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔ اہلیت کے معیار، لائسنس سے متعلق ذمہ داریوں اور درخواست دینے کے طریقہ کار کی تفصیلات ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ ایم وی این او لائسنس ٹیمپلیٹ میں شامل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس فریم ورک سے فِن ٹیک کمپنیوں، انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان، کیبل آپریٹرز، ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی اداروں کو موبائل مارکیٹ میں نسبتاً کم سرمائے کے ساتھ داخل ہونے کا موقع ملے گا، جو روایتی ٹیلی کام آپریٹرز کے مقابلے میں ایک بڑی سہولت ہے۔</p>
<p>پالیسی فریم ورک کے تحت ایم وی این اوز کو اپنے برانڈ نام سے خدمات کی تشہیر، صارفین کی ضروریات کے مطابق پیکجز متعارف کرانے، آزادانہ بلنگ سسٹم چلانے اور کسٹمر کیئر کے انتظام کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>تاہم، انہیں لائسنس یافتہ سیلولر موبائل آپریٹرز سے نیٹ ورک کی گنجائش کرائے پر حاصل کرنا ہوگی کیونکہ انہیں ریڈیو اسپیکٹرم مختص نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>فریم ورک کے مطابق ایک ایم وی این او ایک یا ایک سے زیادہ ایم این اوز کے ساتھ معاہدے کر سکے گا، جبکہ میزبان سیلولر آپریٹرز بھی اپنے نیٹ ورکس پر متعدد ایم وی این اوز کو خدمات فراہم کر سکیں گے۔</p>
<p>ابتدائی لائسنس فیس کے علاوہ ایم وی این اوز کو سالانہ لائسنس فیس بھی ادا کرنا ہوگی اور قابلِ اطلاق ریونیو شیئرنگ نظام کے تحت یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فنڈ میں لازمی شراکت بھی کرنا ہوگی۔</p>
<p>پی ٹی اے نے صارفین کے تحفظ کے لیے ایک جامع نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ ایم وی این اوز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ علیحدہ کسٹمر سپورٹ سسٹم برقرار رکھیں، صارفین کے ڈیٹا کی رازداری یقینی بنائیں، خدمات کے معیار کے تقاضے پورے کریں اور قومی سلامتی اور قانونی نگرانی سے متعلق ضوابط کی پابندی کریں۔</p>
<p>صارفین کے مفادات کے تحفظ اور خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے میزبان نیٹ ورک آپریٹرز پی ٹی اے کی پیشگی منظوری کے بغیر ایم وی این اوز کو فراہم کی جانے والی خدمات معطل یا ان کے معیار میں کمی نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح ایم وی این اوز بھی ریگولیٹر کی اجازت اور پیشگی اطلاع کے بغیر اپنی خدمات بند نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p>فریم ورک میں موبائل نمبر پورٹیبلٹی کی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت صارفین سروس فراہم کنندہ تبدیل کرتے وقت اپنا موجودہ موبائل نمبر برقرار رکھ سکیں گے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو بہتر انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے۔</p>
<p>ٹیلی کام ماہرین کے مطابق ایم وی این اوز کی آمد نوجوانوں، کاروباری اداروں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، ڈیجیٹل مواد استعمال کرنے والوں اور دیگر مخصوص صارفین کے لیے خصوصی نوعیت کی خدمات متعارف کرا کے ان مارکیٹ حصوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے جنہیں اب تک مناسب توجہ نہیں مل سکی۔</p>
<p>عالمی سطح پر ایم وی این اوز نے مسابقت بڑھانے اور خدمات کی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ اس ماڈل کے تحت کمپنیاں نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے بجائے قائم شدہ آپریٹرز سے نیٹ ورک کرائے پر لے کر برانڈنگ، صارفین کے تجربے اور ویلیو ایڈڈ خدمات پر توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287921</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 20:58:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/242052513f38b81.webp" type="image/webp" medium="image" height="941" width="1672">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/242052513f38b81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی برآمدات، مضبوط کارکردگی کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287890/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی برآمدات 4.184 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 3.475 ارب ڈالر تھیں۔ یہ تقریباً 20 فیصد کی شرح سے نمو ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2026 بھی ایک مضبوط مہینہ رہا۔ آئی ٹی برآمدات 373 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ رقم اپریل کے 423 ملین ڈالر اور مارچ کے 413 ملین ڈالر سے کم تھی، لیکن اس سے مجموعی رجحان تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ شعبہ بڑھ رہا ہے، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر اس میں اتار چڑھاؤ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اہم ہے۔ پاکستان کی گڈز برآمدات اب بھی مشکلات کا شکار ہیں، درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، اور تجارتی خسارہ دباؤ کا ایک بڑا نقطہ بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں آئی ٹی برآمدات ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایسے ڈالر لاتی ہیں جن کے لیے بھاری درآمدی انحصار نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408171153bfce7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408171153bfce7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ شعبہ پہلے ہی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 4 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ جبکہ ابھی ایک مہینہ باقی ہے، مکمل سال کی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے اوپر جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری لانسرز اب آئی ٹی برآمدات کی کہانی کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے رپورٹنگ فریم ورک کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی فری لانس آمدن کو بیلنس آف پیمنٹس کے کوڈ کے تحت الگ ظاہر کیا جاتا ہے۔ اخباری رپورٹ شدہ  اسٹیٹ بینک ڈیٹا کے مطابق مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ میں فری لانس آئی ٹی آمدن 1.06 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال 708 ملین ڈالر تھی، جبکہ اس کا حصہ کل آئی ٹی برآمدات میں تقریباً ایک چوتھائی تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817136c4574a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817136c4574a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ قابلِ تعریف ہے، لیکن یہ اگلا چیلنج بھی ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس فری لانسنگ میں اسکیل موجود ہے، مگر اب اسے ویلیو کی طرف جانا ہوگا۔ بہت سا کام اب بھی کم قیمت اور کم منافع والا ہے۔ تبدیلی کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک، پروڈکٹ ڈیزائن اور انٹرپرائز سافٹ ویئر کی طرف جانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی خود بخود نہیں ہوگی۔ اس کے لیے بہتر مہارتیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ، آسان ادائیگیوں کا نظام، اور ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جو چھوٹے برآمد کنندگان کو باقاعدہ بنانے میں مدد دے، نہ کہ انہیں دور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ نے کچھ سپورٹ فراہم کی ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس نظام کی مدت جون 2029 تک بڑھانا اس شعبے کو کچھ یقینی صورتحال دیتا ہے۔ غیر ملکی کریڈٹ کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنا بھی مددگار ہے، خاص طور پر فری لانسرز اور چھوٹی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے جو عالمی پلیٹ فارمز، کلاؤڈ ٹولز اور آن لائن سبسکرپشنز استعمال کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے ابتدائی 11 ماہ کے اعداد و شمار تعریف کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817174836672.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817174836672.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ شعبہ بڑھ رہا ہے، فری لانسرز زیادہ کما رہے ہیں، اور پالیسی سپورٹ بہتر ہوئی ہے۔ لیکن اصل مشکل مرحلہ اب شروع ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4.5 ارب ڈالر سے 10 ارب ڈالر تک پہنچنے کے لیے صرف ٹیکس ریلیف کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مہارتوں، کنیکٹیویٹی، ادائیگیوں کے نظام، کمپنی اسکیل، ملکی ڈیجیٹلائزیشن اور ایکسپورٹ مارکیٹ تک رسائی پر سنجیدہ کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس ٹیلنٹ اور رفتار موجود ہے، لیکن اسے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ملک ایسا نظام بنا سکتا ہے جو اس ترقی کو برقرار رکھے اور آخرکار اس شعبے میں درکار غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی جذب کر سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی برآمدات 4.184 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 3.475 ارب ڈالر تھیں۔ یہ تقریباً 20 فیصد کی شرح سے نمو ہے۔</strong></p>
<p>مئی 2026 بھی ایک مضبوط مہینہ رہا۔ آئی ٹی برآمدات 373 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ رقم اپریل کے 423 ملین ڈالر اور مارچ کے 413 ملین ڈالر سے کم تھی، لیکن اس سے مجموعی رجحان تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ شعبہ بڑھ رہا ہے، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر اس میں اتار چڑھاؤ موجود ہے۔</p>
<p>یہ بات اہم ہے۔ پاکستان کی گڈز برآمدات اب بھی مشکلات کا شکار ہیں، درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، اور تجارتی خسارہ دباؤ کا ایک بڑا نقطہ بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں آئی ٹی برآمدات ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایسے ڈالر لاتی ہیں جن کے لیے بھاری درآمدی انحصار نہیں ہوتا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408171153bfce7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/2408171153bfce7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ شعبہ پہلے ہی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 4 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ جبکہ ابھی ایک مہینہ باقی ہے، مکمل سال کی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے اوپر جانے کی توقع ہے۔</p>
<p>فری لانسرز اب آئی ٹی برآمدات کی کہانی کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے رپورٹنگ فریم ورک کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی فری لانس آمدن کو بیلنس آف پیمنٹس کے کوڈ کے تحت الگ ظاہر کیا جاتا ہے۔ اخباری رپورٹ شدہ  اسٹیٹ بینک ڈیٹا کے مطابق مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ میں فری لانس آئی ٹی آمدن 1.06 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال 708 ملین ڈالر تھی، جبکہ اس کا حصہ کل آئی ٹی برآمدات میں تقریباً ایک چوتھائی تک پہنچ گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817136c4574a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817136c4574a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ قابلِ تعریف ہے، لیکن یہ اگلا چیلنج بھی ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس فری لانسنگ میں اسکیل موجود ہے، مگر اب اسے ویلیو کی طرف جانا ہوگا۔ بہت سا کام اب بھی کم قیمت اور کم منافع والا ہے۔ تبدیلی کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک، پروڈکٹ ڈیزائن اور انٹرپرائز سافٹ ویئر کی طرف جانا ہوگا۔</p>
<p>یہ تبدیلی خود بخود نہیں ہوگی۔ اس کے لیے بہتر مہارتیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ، آسان ادائیگیوں کا نظام، اور ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جو چھوٹے برآمد کنندگان کو باقاعدہ بنانے میں مدد دے، نہ کہ انہیں دور کرے۔</p>
<p>بجٹ نے کچھ سپورٹ فراہم کی ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس نظام کی مدت جون 2029 تک بڑھانا اس شعبے کو کچھ یقینی صورتحال دیتا ہے۔ غیر ملکی کریڈٹ کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنا بھی مددگار ہے، خاص طور پر فری لانسرز اور چھوٹی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے جو عالمی پلیٹ فارمز، کلاؤڈ ٹولز اور آن لائن سبسکرپشنز استعمال کرتی ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے ابتدائی 11 ماہ کے اعداد و شمار تعریف کے مستحق ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817174836672.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/240817174836672.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ شعبہ بڑھ رہا ہے، فری لانسرز زیادہ کما رہے ہیں، اور پالیسی سپورٹ بہتر ہوئی ہے۔ لیکن اصل مشکل مرحلہ اب شروع ہوتا ہے۔</p>
<p>4.5 ارب ڈالر سے 10 ارب ڈالر تک پہنچنے کے لیے صرف ٹیکس ریلیف کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مہارتوں، کنیکٹیویٹی، ادائیگیوں کے نظام، کمپنی اسکیل، ملکی ڈیجیٹلائزیشن اور ایکسپورٹ مارکیٹ تک رسائی پر سنجیدہ کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کے پاس ٹیلنٹ اور رفتار موجود ہے، لیکن اسے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ملک ایسا نظام بنا سکتا ہے جو اس ترقی کو برقرار رکھے اور آخرکار اس شعبے میں درکار غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی جذب کر سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287890</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 10:24:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24102037d3bb889.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24102037d3bb889.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیول پرائس، مارکیٹ کو اپنا کردار ادا کرنے دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287852/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے امریکی ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے پیٹرولیم قیمتوں کے فارمولے کے ساتھ مسلسل رد و بدل کیا ہے۔ قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ رہا، اور حکومت نے صرف وہی فارمولا اپنایا جو اسے مناسب لگا اور اسے اپنی مرضی سے تبدیل کرتی رہی۔ یہ ایک اچھی پالیسی نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکومت نے سپلائی سائیڈ کو اچھے طریقے سے منظم کیا، یعنی بین الاقوامی پانیوں سے تیل کی فراہمی حاصل کی اور ملک کے اندر سپلائی چین کو برقرار رکھا، لیکن قیمتوں اور ٹیکسوں کے معاملے میں اس نے غلطیاں کیں۔ اس سے سیکھنے کا سبق یہ ہے کہ قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت کا پہلا ردِعمل کچھ نہ کرنے کا تھا۔ اس دوران بین الاقوامی قیمتیں بڑھتی رہیں اور سبسڈی جمع ہونا شروع ہو گئی، جو بہت جلد 130 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ رقم ابھی بھی ویلیو چین میں شامل کمپنیوں کی قابلِ وصولی میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈی کو دیکھتے ہوئے حکومت محتاط ہو گئی اور اس نے مکمل طور پر پہلے سے موجود فارمولے کے مطابق تمام ٹیکس اور قیمتیں صارفین پر منتقل کر دیں۔ اس نے قیمتوں کے تعین کے چکر کو دو ہفتوں سے کم کر کے ایک ہفتہ بھی کر دیا۔ بی آر ریسرچ اور دیگر اداروں نے عام صارفین کے لیے حکومت کے اس غیر حساس رویے پر تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ردعمل دیتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے فارمولے میں تبدیلی کی، جہاں مارجنز یا کریکس غیر معمولی طور پر زیادہ تھے۔ اس کے بعد معاملات نسبتاً بہتر ہونے لگے، اگرچہ ٹیکسوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریفائنری مارجنز کو چیک کیا گیا۔ قیمتیں ہفتہ وار تبدیل ہو رہی تھیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سپلائی برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایران-امریکہ معاہدے کی بات چیت سے قیمتیں کم ہوئیں اور پھر کچھ ہفتوں بعد دوبارہ بڑھ گئیں۔ جب قیمتیں کمی کے بعد دوبارہ بڑھیں تو حکومت نے سہولت کے ساتھ قیمتوں کے چکر کو دوبارہ دو ہفتوں پر منتقل کر دیا تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثر کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پچھلے ہفتے، قیمتوں میں تیز کمی کے بعد حکومت نے دوبارہ ایک ہفتے کے فارمولے کو اختیار کر لیا ہے تاکہ قیمتوں میں زیادہ کمی ممکن بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران حکومت نے آئی ایف ای ایم، پریمیمز اور اپنی ریفائنری مارجنز میں بھی رد و بدل کیا ہے تاکہ آخری قیمتیں اپنی پسند کے مطابق طے کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بات یہ ہے کہ حکومت نے ایک ہدف مقرر کیا کہ قیمتوں کو ایک مخصوص حد میں رکھا جائے اور پھر دیگر تمام عوامل کے ساتھ رد و بدل کر کے اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان غیر مستقل اور غیر واضح پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ غیر معمولی منافع کما رہے ہیں جبکہ کچھ نقصان میں جا رہے ہیں۔ یہ امتزاج مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ ایران سے اسمگل شدہ مصنوعات کا بہاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبق یہ ہے کہ قیمتوں کے تعین کو ختم کیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور مارکیٹ کو اپنا توازن خود تلاش کرنے دیا جائے، جبکہ حکومت اپنے کنٹرول میں موجود سب سے بڑی ریفائنری اور سب سے بڑی او ایم سی کے ذریعے قیمتوں کو ایک حد تک مستحکم رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے امریکی ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے پیٹرولیم قیمتوں کے فارمولے کے ساتھ مسلسل رد و بدل کیا ہے۔ قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ رہا، اور حکومت نے صرف وہی فارمولا اپنایا جو اسے مناسب لگا اور اسے اپنی مرضی سے تبدیل کرتی رہی۔ یہ ایک اچھی پالیسی نہیں ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ حکومت نے سپلائی سائیڈ کو اچھے طریقے سے منظم کیا، یعنی بین الاقوامی پانیوں سے تیل کی فراہمی حاصل کی اور ملک کے اندر سپلائی چین کو برقرار رکھا، لیکن قیمتوں اور ٹیکسوں کے معاملے میں اس نے غلطیاں کیں۔ اس سے سیکھنے کا سبق یہ ہے کہ قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔</p>
<p>جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت کا پہلا ردِعمل کچھ نہ کرنے کا تھا۔ اس دوران بین الاقوامی قیمتیں بڑھتی رہیں اور سبسڈی جمع ہونا شروع ہو گئی، جو بہت جلد 130 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ رقم ابھی بھی ویلیو چین میں شامل کمپنیوں کی قابلِ وصولی میں موجود ہے۔</p>
<p>سبسڈی کو دیکھتے ہوئے حکومت محتاط ہو گئی اور اس نے مکمل طور پر پہلے سے موجود فارمولے کے مطابق تمام ٹیکس اور قیمتیں صارفین پر منتقل کر دیں۔ اس نے قیمتوں کے تعین کے چکر کو دو ہفتوں سے کم کر کے ایک ہفتہ بھی کر دیا۔ بی آر ریسرچ اور دیگر اداروں نے عام صارفین کے لیے حکومت کے اس غیر حساس رویے پر تنقید کی۔</p>
<p>حکومت نے ردعمل دیتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے فارمولے میں تبدیلی کی، جہاں مارجنز یا کریکس غیر معمولی طور پر زیادہ تھے۔ اس کے بعد معاملات نسبتاً بہتر ہونے لگے، اگرچہ ٹیکسوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔</p>
<p>تاہم ریفائنری مارجنز کو چیک کیا گیا۔ قیمتیں ہفتہ وار تبدیل ہو رہی تھیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سپلائی برقرار رہی۔</p>
<p>بعد ازاں ایران-امریکہ معاہدے کی بات چیت سے قیمتیں کم ہوئیں اور پھر کچھ ہفتوں بعد دوبارہ بڑھ گئیں۔ جب قیمتیں کمی کے بعد دوبارہ بڑھیں تو حکومت نے سہولت کے ساتھ قیمتوں کے چکر کو دوبارہ دو ہفتوں پر منتقل کر دیا تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثر کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>اب پچھلے ہفتے، قیمتوں میں تیز کمی کے بعد حکومت نے دوبارہ ایک ہفتے کے فارمولے کو اختیار کر لیا ہے تاکہ قیمتوں میں زیادہ کمی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p>اسی دوران حکومت نے آئی ایف ای ایم، پریمیمز اور اپنی ریفائنری مارجنز میں بھی رد و بدل کیا ہے تاکہ آخری قیمتیں اپنی پسند کے مطابق طے کی جا سکیں۔</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ حکومت نے ایک ہدف مقرر کیا کہ قیمتوں کو ایک مخصوص حد میں رکھا جائے اور پھر دیگر تمام عوامل کے ساتھ رد و بدل کر کے اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ان غیر مستقل اور غیر واضح پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ غیر معمولی منافع کما رہے ہیں جبکہ کچھ نقصان میں جا رہے ہیں۔ یہ امتزاج مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ ایران سے اسمگل شدہ مصنوعات کا بہاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>سبق یہ ہے کہ قیمتوں کے تعین کو ختم کیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور مارکیٹ کو اپنا توازن خود تلاش کرنے دیا جائے، جبکہ حکومت اپنے کنٹرول میں موجود سب سے بڑی ریفائنری اور سب سے بڑی او ایم سی کے ذریعے قیمتوں کو ایک حد تک مستحکم رکھ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287852</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 12:14:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/23121220e883c12.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/23121220e883c12.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑی صنتوں نے قدم جمالیے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑی صنعتوں کی پیداوار (لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) اب دوبارہ بحالی کی کہانی سے زیادہ ایک معمول کی طرف واپسی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2026 میں بھی مسلسل مضبوط توسیع دیکھی گئی، جس میں بڑی صنعتوں نے سالانہ 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 10 ماہ  کے دوران مجموعی ترقی اب 6.44 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اس شعبے کو سالانہ ہدف حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفتار اگرچہ جنوری اور مارچ میں دیکھے گئے دوہرے ہندسوں والے اضافے سے کچھ کم ہوئی ہے، لیکن اس میں تسلسل اب زیادہ اہم کہانی بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحالی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع بنیادوں پر قائم ہے۔ ایل ایس ایم کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 اب مثبت زون میں ہیں، جبکہ صرف 6 شعبے سکڑاؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید اہم بات یہ ہے کہ کمزور کارکردگی والے شعبوں کا وزن نسبتاً کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توسیع اب صرف ایک یا دو صنعتوں کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک وسیع تناظر ضروری ہے۔ بہتری کے باوجود ماہانہ اور مجموعی ایل ایس ایم انڈیکس اب بھی مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے تقریباً 14 فیصد اور 4 فیصد نیچے ہیں۔ یہ فرق اگرچہ کم ہوا ہے، لیکن یہ یاد دہانی بھی ہے کہ موجودہ بحالی زیادہ تر کھوئی ہوئی صنعتی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ کسی نئی بلند سطح تک پہنچنے کی۔ مالی سال 2022 اب بھی معیار ہے، اور اس سال اس سطح تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی کی ساخت بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر آٹوموبائلز سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ ہے، اس کے بعد خوراک اور ملبوسات آتے ہیں۔ اپریل میں ماہانہ بنیاد پر کہانی کی قیادت آٹوموبائلز اور ملبوسات نے کی، جبکہ فرنیچر بھی غیر متوقع طور پر نمایاں شعبوں میں شامل ہو گیا۔ تاہم چونکہ فرنیچر کا مجموعی انڈیکس میں وزن صرف آدھے فیصد کے قریب ہے، اس لیے اس کا حصہ زیادہ تر شماریاتی دلچسپی کا باعث ہے نہ کہ کسی بڑی ساختی تبدیلی کا اشارہ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خوراک کا شعبہ بدستور اہم سہارا فراہم کر رہا ہے۔ چینی کی پیداوار کئی برسوں کی بلند ترین سطح کی طرف جا رہی ہے، جو مجموعی صنعتی ترقی میں اس شعبے کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی دوران سگریٹس کی پیداوار میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے، جو 36 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ غیر قانونی فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے، جسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سخت پابندیوں نے بھی سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کی طلب میں بھی ابتدائی طور پر وسعت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور سائیکل کی پیداوار بالترتیب 48 ماہ اور 70 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ وائٹ گڈز میں بھی خاموش بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں ریفریجریٹرز اور ڈیپ فریزرز کی پیداوار پچھلے چار سال کی اوسط ماہانہ پیداوار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ رہی، جو مقامی طلب میں بہتری کا اشارہ ہے۔ تاہم تعمیراتی شعبے سے منسلک صنعتیں اب بھی مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہیں، اور تعمیراتی مواد میں ابھی تک کسی واضح بہتری کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے دیکھنے والے اشارے ملا جلا منظر پیش کرتے ہیں۔ کاروباری اعتماد اب بھی کمزور ہے، مہنگائی کی توقعات بلند ہیں، اور پیداواری صلاحیت کا استعمال تقریباً 66 فیصد کے آس پاس ہی موجود رہا ہے، بغیر کسی واضح بہتری کے۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار بحال ہو رہی ہے لیکن اعتماد پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پالیسی کا ماحول بتدریج زیادہ معاون ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی بجلی کے نرخ گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کی صنعتی مسابقت بہتر ہوئی ہے۔ اگر ایران امریکہ تنازعے میں سکون برقرار رہتا ہے تو توانائی کی کم قیمتیں مزید سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی بھی ایک اہم موڑ کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں قابو میں رہیں تو شرح سود کے موجودہ وقفے کے بعد سال کے آخر میں نرمی کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو صنعتی سرگرمیوں کو مزید سہارا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ماہ کے ابتدائی اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ ملبوسات کی برآمدات نے مئی میں پہلے ہی تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ آگے بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ آٹوموبائل کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے، اگرچہ بیس ایفیکٹس مزید سخت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی بحالی ابھی مالی سال 2022 کی سطح تک پہنچنے سے کافی دور ہے، لیکن اب یہ معیار کم اہم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بہتری پائیدار، شعبہ جاتی طور پر متنوع اور بہتر معاشی بنیادوں کی حمایت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی اسے پچھلے برسوں کی عارضی بحالی کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بڑی صنعتوں کی پیداوار (لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) اب دوبارہ بحالی کی کہانی سے زیادہ ایک معمول کی طرف واپسی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>اپریل 2026 میں بھی مسلسل مضبوط توسیع دیکھی گئی، جس میں بڑی صنعتوں نے سالانہ 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 10 ماہ  کے دوران مجموعی ترقی اب 6.44 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اس شعبے کو سالانہ ہدف حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔</p>
<p>رفتار اگرچہ جنوری اور مارچ میں دیکھے گئے دوہرے ہندسوں والے اضافے سے کچھ کم ہوئی ہے، لیکن اس میں تسلسل اب زیادہ اہم کہانی بن رہا ہے۔</p>
<p>بحالی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع بنیادوں پر قائم ہے۔ ایل ایس ایم کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 اب مثبت زون میں ہیں، جبکہ صرف 6 شعبے سکڑاؤ کا شکار ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید اہم بات یہ ہے کہ کمزور کارکردگی والے شعبوں کا وزن نسبتاً کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توسیع اب صرف ایک یا دو صنعتوں کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہی۔</p>
<p>تاہم ایک وسیع تناظر ضروری ہے۔ بہتری کے باوجود ماہانہ اور مجموعی ایل ایس ایم انڈیکس اب بھی مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے تقریباً 14 فیصد اور 4 فیصد نیچے ہیں۔ یہ فرق اگرچہ کم ہوا ہے، لیکن یہ یاد دہانی بھی ہے کہ موجودہ بحالی زیادہ تر کھوئی ہوئی صنعتی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ کسی نئی بلند سطح تک پہنچنے کی۔ مالی سال 2022 اب بھی معیار ہے، اور اس سال اس سطح تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>ترقی کی ساخت بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر آٹوموبائلز سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ ہے، اس کے بعد خوراک اور ملبوسات آتے ہیں۔ اپریل میں ماہانہ بنیاد پر کہانی کی قیادت آٹوموبائلز اور ملبوسات نے کی، جبکہ فرنیچر بھی غیر متوقع طور پر نمایاں شعبوں میں شامل ہو گیا۔ تاہم چونکہ فرنیچر کا مجموعی انڈیکس میں وزن صرف آدھے فیصد کے قریب ہے، اس لیے اس کا حصہ زیادہ تر شماریاتی دلچسپی کا باعث ہے نہ کہ کسی بڑی ساختی تبدیلی کا اشارہ۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خوراک کا شعبہ بدستور اہم سہارا فراہم کر رہا ہے۔ چینی کی پیداوار کئی برسوں کی بلند ترین سطح کی طرف جا رہی ہے، جو مجموعی صنعتی ترقی میں اس شعبے کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی دوران سگریٹس کی پیداوار میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے، جو 36 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ غیر قانونی فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے، جسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سخت پابندیوں نے بھی سہارا دیا۔</p>
<p>صارفین کی طلب میں بھی ابتدائی طور پر وسعت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور سائیکل کی پیداوار بالترتیب 48 ماہ اور 70 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ وائٹ گڈز میں بھی خاموش بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں ریفریجریٹرز اور ڈیپ فریزرز کی پیداوار پچھلے چار سال کی اوسط ماہانہ پیداوار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ رہی، جو مقامی طلب میں بہتری کا اشارہ ہے۔ تاہم تعمیراتی شعبے سے منسلک صنعتیں اب بھی مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہیں، اور تعمیراتی مواد میں ابھی تک کسی واضح بہتری کے آثار نہیں۔</p>
<p>آگے دیکھنے والے اشارے ملا جلا منظر پیش کرتے ہیں۔ کاروباری اعتماد اب بھی کمزور ہے، مہنگائی کی توقعات بلند ہیں، اور پیداواری صلاحیت کا استعمال تقریباً 66 فیصد کے آس پاس ہی موجود رہا ہے، بغیر کسی واضح بہتری کے۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار بحال ہو رہی ہے لیکن اعتماد پیچھے ہے۔</p>
<p>تاہم پالیسی کا ماحول بتدریج زیادہ معاون ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی بجلی کے نرخ گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کی صنعتی مسابقت بہتر ہوئی ہے۔ اگر ایران امریکہ تنازعے میں سکون برقرار رہتا ہے تو توانائی کی کم قیمتیں مزید سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی بھی ایک اہم موڑ کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں قابو میں رہیں تو شرح سود کے موجودہ وقفے کے بعد سال کے آخر میں نرمی کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو صنعتی سرگرمیوں کو مزید سہارا دے گا۔</p>
<p>موجودہ ماہ کے ابتدائی اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ ملبوسات کی برآمدات نے مئی میں پہلے ہی تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ آگے بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ آٹوموبائل کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے، اگرچہ بیس ایفیکٹس مزید سخت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>صنعتی بحالی ابھی مالی سال 2022 کی سطح تک پہنچنے سے کافی دور ہے، لیکن اب یہ معیار کم اہم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بہتری پائیدار، شعبہ جاتی طور پر متنوع اور بہتر معاشی بنیادوں کی حمایت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی اسے پچھلے برسوں کی عارضی بحالی کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287853</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 12:31:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/231227123807ed5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/231227123807ed5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مستقل دفاعی رویہ : بقا یا کارکردگی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287814/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں معاشی بقا کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں جہاں وسائل کی قلت کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک بے رحم حقیقت ہے۔ یہاں سرمائے کی دائمی کمی، ناقابلِ بھروسا پالیسیوں اور غلطی کی صفر گنجائش کے باوجود ہمارے اداروں نے وہ فولادی نظم و ضبط اور برداشت پیدا کی جو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو تالے لگوا دیتی مگر اسی کٹھن ماحول نے ہمیں ایک خطرناک سبق بھی سکھایا، ایک ایسا سبق جس نے آگے بڑھنے کے عزائم کو خاموشی سے  محفوظ رہنے کی مصلحت پسندی میں بدل دیا اور معیشت کو ترقی کے نام پر ایک ابدی جمود کا شکار کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں نے عدم استحکام کے پے در پے چکروں کے دوران اپنا سرمایہ برقرار رکھنا سیکھا۔ برآمد کنندگان نے توانائی کے بحران اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو برداشت کیا اور اپنی ترسیلات جاری رکھیں۔ خاندانی کاروباری اداروں نے معاہدوں کے نفاذ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی میں بھی اپنے کام کو وسعت دی۔ یہاں بقا حاصل کرنا بذاتِ خود ایک کارنامہ ہے اور کسی بھی دوسری بات سے پہلے اس کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کرنا ضروری ہے لیکن اس قلت نے پہلی خصوصیت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا سبق بھی سکھایا اور یہی وہ سبق ہے جس نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں سامنے آنے والی غلطیوں پر سزا ملنے کا امکان، ہاتھ سے گنوا دیے جانے والے مواقع کے مقابلے میں کہیں زیادہ یقینی ہو، وہاں ایک سمجھدار پیشہ ور شخص قدر تخلیق کرنے (ویلیو کریڈیشن) کے بجائے خود کو محفوظ رکھنا سیکھتا ہے۔ یہاں احتیاط، امنگ اور بلند نظری پر حاوی ہو جاتی ہے اور الزام سے بچنے کی کوشش کسی نئے انیشیٹو پر بھاری پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ یہ سبق محض حالات کا ایک ردِعمل نہیں رہتا بلکہ پختہ ہو کر ایک مستقل نقطہ نظر بن جاتا ہے۔ اصل بیماری یہی ہے کہ پاکستان کے ادارے صرف وسائل کی قلت کا شکار ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے قلت کے ہر دور کو خود کو محفوظ رکھنے کی ایک مستقل ثقافت  میں تبدیل کرنا سیکھ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی اس قدر مکمل ہے کہ ہم نے اب اس پر غور کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ تحفظ اب صنعتی پالیسی بن چکا ہے۔ طریقہ کار (پروسیس) اب گورننس بن چکا ہے۔ ضمانت (کولیٹرل) اب بینکنگ بن چکی ہے۔ سرکلرز اب ریگولیشن بن چکے ہیں اور کمیٹیاں اب اصلاحات بن چکی ہیں۔ ہر معاملے میں ایک دفاعی متبادل نے خاموشی سے اصل کام کی جگہ لے لی ہے۔ وہ صنعت جسے تحفظ دیا گیا تھا اب مقابلہ نہیں کرتی بلکہ وہ اپنے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے لابنگ کرتی ہے اور اسے اپنی حکمتِ عملی کا نام دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر اب مارکیٹ کو وسعت یا گہرائی نہیں دیتا بلکہ وہ ایسا سرکلر جاری کرتا ہے جو اس پر آنے والی تنقید کے امکان کو محدود کر دے اور وہ اسے نگرانی (سپروائزن) کا نام دیتا ہے۔ بینک اب کسی ایسے قرض دار کی جانچ پڑتال نہیں کرتا جس کا کام مشکل لیکن زیادہ پیداواری ہو بلکہ وہ سرکاری کاغذات اور ضمانتوں میں اپنا سرمایہ لگا دیتا ہے اور اسے تدبر و دانش کا نام دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ اب مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ وہ کمیٹی بناتا ہے، ڈھانچہ تیار کرتا  اور اسے ترقی کا نام دیتا ہے۔ ان میں سے ہر متبادل اپنے طور پر قابلِ دفاع دکھائی دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو بظاہر بہت مصروف نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں مکمل طور پر جامد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کو جو چیز اتنی پائیدار بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انفرادی سطح پر اس میں سے کچھ بھی غیر منطقی یا غلط نہیں ہے۔ وہ بینکر جو کسی مشکل قرضے کی منظوری دینے سے انکار کرتا ہے وہ اپنا ریکارڈ صاف رکھتا ہے۔ وہ سرکاری افسر جو صوابدیدی فیصلہ لینے سے گریز کرتا ہے وہ آڈٹ سے بچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ریگولیٹر جو کبھی مارکیٹ کی ترقی کی کوشش ہی نہیں کرتا وہ کبھی اخبارات کی سرخیوں میں نہیں آتا۔ ہر شخص سمجھداری سے کام لیتا  ہے اور ادارہ مجموعی طور پر کہیں آگے نہیں بڑھ پاتا یعنی ہزاروں محتاط فیصلے مل کر ایک اجتماعی مفلوج حالت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہی وہ جال ہے اور یہ ایسا جال نہیں جس سے لوگ مزید احتیاط برت کر نکل سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جمود کو کامیابی کے ذریعے ٹوٹنا چاہیے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ناکامی انتہائی ہولناک ثابت ہوتی ہے۔ کامیابی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ گرفت کو ڈھیلا کرے اور مشکل سے حاصل کی گئی ساکھ اور مضبوط بیلنس شیٹ کو مزید مشکل کاموں کی کوشش کے لیے استعمال کرے، اس کے برعکس ایک کے بعد دوسرے ادارے میں اس کا بالکل الٹ ہوتا ہے۔ وہ کمپنی جس نے بقا کے لیے جنگ لڑی تھی وہ اپنی کامیابی کو مزید تحفظ خریدنے میں صرف کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بینک جس نے خطرات کو بھانپنے کا ایک پورا شعبہ (رسک فنکشن) بنایا تھا وہ اسے بنیادی طور پر صرف ناواقف قرض داروں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ریگولیٹر جس نے وسیع اختیارات جمع کیے تھے وہ انہیں الزام سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ دفاعی انداز ٹھیک اس وقت مزید شدید ہو جاتا ہے جب اسے کم ہونا چاہیے تھا۔ بلند نظر ہونے کا حق حاصل کرنے کے بعد ادارہ اس کے بجائے صرف محفوظ رہنے کا انتخاب کرتا ہے اور اپنی اس کمزوری کو پختگی سمجھ بیٹھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی قیمت فیصلے کی قوت کی سست موت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ لوگ یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ سچ کیا ہے اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ محفوظ کیا ہے، یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ کس چیز سے قدر تخلیق ہوگی اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کس چیز سے ان کا عہدہ محفوظ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ بقا حاصل کرنے میں تو ماہر ہو جاتا ہے، ایک اور چکر، ایک اور جائزہ، ایک اور بورڈ میٹنگ گزر جاتی ہے لیکن وہ اس اصل کام میں رتی برابر بھی بہتر نہیں ہو پاتا جس کے لیے وہ وجود میں آیا تھا لیکن بقا کا مطلب کارکردگی نہیں ہے اور پاکستان ایسے اداروں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے بقا کے فن میں تو مہارت حاصل کر لی ہے لیکن کارکردگی کو خاموشی سے خیرباد کہہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کوئی نیا ڈھانچہ یا فریم ورک نہیں ہے۔ اس کا حل ایک مختلف قسم کا پیشہ ور شخص (پروفیشنل) ہے یعنی ایک ایسا شخص جو اپنے کام پر مکمل گرفت رکھتا ہو اور اس کام میں اسے اس قدر تحفظ حاصل ہو کہ وہ دفاعی پوزیشن چھوڑ کر کچھ نیا تخلیق کرنا شروع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اسے  قلت کے خوف سے آزاد پیشہ ور (پوسٹ اسکیرسٹی پروفیشنل) کہہ سکتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس کی مجبوریاں یا رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اب اپنا مقام، شناخت یا اہمیت کھو دینے کے خوف کے تابع نہیں ہے۔ وہ کم پُرعزم نہیں ہے وہ بس کم خوفزدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور وہ اس چیلنج کو اپنے اوپر حملہ نہیں سمجھتا، وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کر سکتا ہے بغیر یہ محسوس کیے کہ اس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہ اپنے کام پر ہونے والی تنقید اور اپنی ذات پر ہونے والی تنقید میں فرق کر سکتا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں بنیادی سوال تبدیل ہو جاتا ہے، سوال یہ نہیں رہتا کہ اپنے عہدے کو کیسے بچایا جائے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اصل میں قدر (ویلیو) کس چیز سے تخلیق ہوگی اور جس ادارے میں ایسے لوگ موجود ہوں وہ محض حرکت کرنے اور حقیقی ترقی کے فرق کو خلط ملط نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اتنی رپورٹس، فریم ورکس اور اصلاحاتی حکمتِ عملیاں تیار کی ہیں جن سے ایک پورا آرکائیو (ریکارڈ روم) کئی بار بھرا جا سکتا ہے لیکن جس چیز کی یہاں شدید ترین کمی رہی ہے وہ ہے سب کے سامنے غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ، ایک مشکل قرضہ دینے کا خطرہ مول لینا، صوابدیدی فیصلہ کرنا اور غیر محفوظ مارکیٹ میں قدم رکھنا کیونکہ یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں سے ہمیشہ حقیقی قدر (ویلیو) جنم لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک خود کو محفوظ رکھنے کے عمل کو بنیادی مقصد کے درجے سے ہٹا کر محض ایک عام مجبوری یا حد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ مشینری اسی طرح چلتی رہے گی، فائلیں آگے بڑھتی رہیں گی اور ادارے اپنی مستقل بقا کو ہی وہ کارکردگی سمجھتے رہیں گے جس کی فراہمی کے لیے انہیں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں معاشی بقا کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں جہاں وسائل کی قلت کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک بے رحم حقیقت ہے۔ یہاں سرمائے کی دائمی کمی، ناقابلِ بھروسا پالیسیوں اور غلطی کی صفر گنجائش کے باوجود ہمارے اداروں نے وہ فولادی نظم و ضبط اور برداشت پیدا کی جو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو تالے لگوا دیتی مگر اسی کٹھن ماحول نے ہمیں ایک خطرناک سبق بھی سکھایا، ایک ایسا سبق جس نے آگے بڑھنے کے عزائم کو خاموشی سے  محفوظ رہنے کی مصلحت پسندی میں بدل دیا اور معیشت کو ترقی کے نام پر ایک ابدی جمود کا شکار کر دیا۔</strong></p>
<p>بینکوں نے عدم استحکام کے پے در پے چکروں کے دوران اپنا سرمایہ برقرار رکھنا سیکھا۔ برآمد کنندگان نے توانائی کے بحران اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو برداشت کیا اور اپنی ترسیلات جاری رکھیں۔ خاندانی کاروباری اداروں نے معاہدوں کے نفاذ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی میں بھی اپنے کام کو وسعت دی۔ یہاں بقا حاصل کرنا بذاتِ خود ایک کارنامہ ہے اور کسی بھی دوسری بات سے پہلے اس کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کرنا ضروری ہے لیکن اس قلت نے پہلی خصوصیت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا سبق بھی سکھایا اور یہی وہ سبق ہے جس نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں سامنے آنے والی غلطیوں پر سزا ملنے کا امکان، ہاتھ سے گنوا دیے جانے والے مواقع کے مقابلے میں کہیں زیادہ یقینی ہو، وہاں ایک سمجھدار پیشہ ور شخص قدر تخلیق کرنے (ویلیو کریڈیشن) کے بجائے خود کو محفوظ رکھنا سیکھتا ہے۔ یہاں احتیاط، امنگ اور بلند نظری پر حاوی ہو جاتی ہے اور الزام سے بچنے کی کوشش کسی نئے انیشیٹو پر بھاری پڑتی ہے۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ یہ سبق محض حالات کا ایک ردِعمل نہیں رہتا بلکہ پختہ ہو کر ایک مستقل نقطہ نظر بن جاتا ہے۔ اصل بیماری یہی ہے کہ پاکستان کے ادارے صرف وسائل کی قلت کا شکار ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے قلت کے ہر دور کو خود کو محفوظ رکھنے کی ایک مستقل ثقافت  میں تبدیل کرنا سیکھ لیا ہے۔</p>
<p>یہ تبدیلی اس قدر مکمل ہے کہ ہم نے اب اس پر غور کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ تحفظ اب صنعتی پالیسی بن چکا ہے۔ طریقہ کار (پروسیس) اب گورننس بن چکا ہے۔ ضمانت (کولیٹرل) اب بینکنگ بن چکی ہے۔ سرکلرز اب ریگولیشن بن چکے ہیں اور کمیٹیاں اب اصلاحات بن چکی ہیں۔ ہر معاملے میں ایک دفاعی متبادل نے خاموشی سے اصل کام کی جگہ لے لی ہے۔ وہ صنعت جسے تحفظ دیا گیا تھا اب مقابلہ نہیں کرتی بلکہ وہ اپنے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے لابنگ کرتی ہے اور اسے اپنی حکمتِ عملی کا نام دیتی ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر اب مارکیٹ کو وسعت یا گہرائی نہیں دیتا بلکہ وہ ایسا سرکلر جاری کرتا ہے جو اس پر آنے والی تنقید کے امکان کو محدود کر دے اور وہ اسے نگرانی (سپروائزن) کا نام دیتا ہے۔ بینک اب کسی ایسے قرض دار کی جانچ پڑتال نہیں کرتا جس کا کام مشکل لیکن زیادہ پیداواری ہو بلکہ وہ سرکاری کاغذات اور ضمانتوں میں اپنا سرمایہ لگا دیتا ہے اور اسے تدبر و دانش کا نام دیتا ہے۔</p>
<p>ادارہ اب مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ وہ کمیٹی بناتا ہے، ڈھانچہ تیار کرتا  اور اسے ترقی کا نام دیتا ہے۔ ان میں سے ہر متبادل اپنے طور پر قابلِ دفاع دکھائی دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو بظاہر بہت مصروف نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں مکمل طور پر جامد ہے۔</p>
<p>اس نظام کو جو چیز اتنی پائیدار بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انفرادی سطح پر اس میں سے کچھ بھی غیر منطقی یا غلط نہیں ہے۔ وہ بینکر جو کسی مشکل قرضے کی منظوری دینے سے انکار کرتا ہے وہ اپنا ریکارڈ صاف رکھتا ہے۔ وہ سرکاری افسر جو صوابدیدی فیصلہ لینے سے گریز کرتا ہے وہ آڈٹ سے بچ جاتا ہے۔</p>
<p>وہ ریگولیٹر جو کبھی مارکیٹ کی ترقی کی کوشش ہی نہیں کرتا وہ کبھی اخبارات کی سرخیوں میں نہیں آتا۔ ہر شخص سمجھداری سے کام لیتا  ہے اور ادارہ مجموعی طور پر کہیں آگے نہیں بڑھ پاتا یعنی ہزاروں محتاط فیصلے مل کر ایک اجتماعی مفلوج حالت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہی وہ جال ہے اور یہ ایسا جال نہیں جس سے لوگ مزید احتیاط برت کر نکل سکیں۔</p>
<p>اس جمود کو کامیابی کے ذریعے ٹوٹنا چاہیے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ناکامی انتہائی ہولناک ثابت ہوتی ہے۔ کامیابی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ گرفت کو ڈھیلا کرے اور مشکل سے حاصل کی گئی ساکھ اور مضبوط بیلنس شیٹ کو مزید مشکل کاموں کی کوشش کے لیے استعمال کرے، اس کے برعکس ایک کے بعد دوسرے ادارے میں اس کا بالکل الٹ ہوتا ہے۔ وہ کمپنی جس نے بقا کے لیے جنگ لڑی تھی وہ اپنی کامیابی کو مزید تحفظ خریدنے میں صرف کر دیتی ہے۔</p>
<p>وہ بینک جس نے خطرات کو بھانپنے کا ایک پورا شعبہ (رسک فنکشن) بنایا تھا وہ اسے بنیادی طور پر صرف ناواقف قرض داروں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ریگولیٹر جس نے وسیع اختیارات جمع کیے تھے وہ انہیں الزام سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ دفاعی انداز ٹھیک اس وقت مزید شدید ہو جاتا ہے جب اسے کم ہونا چاہیے تھا۔ بلند نظر ہونے کا حق حاصل کرنے کے بعد ادارہ اس کے بجائے صرف محفوظ رہنے کا انتخاب کرتا ہے اور اپنی اس کمزوری کو پختگی سمجھ بیٹھتا ہے۔</p>
<p>اس کی قیمت فیصلے کی قوت کی سست موت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ لوگ یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ سچ کیا ہے اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ محفوظ کیا ہے، یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ کس چیز سے قدر تخلیق ہوگی اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کس چیز سے ان کا عہدہ محفوظ رہے گا۔</p>
<p>ادارہ بقا حاصل کرنے میں تو ماہر ہو جاتا ہے، ایک اور چکر، ایک اور جائزہ، ایک اور بورڈ میٹنگ گزر جاتی ہے لیکن وہ اس اصل کام میں رتی برابر بھی بہتر نہیں ہو پاتا جس کے لیے وہ وجود میں آیا تھا لیکن بقا کا مطلب کارکردگی نہیں ہے اور پاکستان ایسے اداروں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے بقا کے فن میں تو مہارت حاصل کر لی ہے لیکن کارکردگی کو خاموشی سے خیرباد کہہ دیا ہے۔</p>
<p>اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کوئی نیا ڈھانچہ یا فریم ورک نہیں ہے۔ اس کا حل ایک مختلف قسم کا پیشہ ور شخص (پروفیشنل) ہے یعنی ایک ایسا شخص جو اپنے کام پر مکمل گرفت رکھتا ہو اور اس کام میں اسے اس قدر تحفظ حاصل ہو کہ وہ دفاعی پوزیشن چھوڑ کر کچھ نیا تخلیق کرنا شروع کرے۔</p>
<p>آپ اسے  قلت کے خوف سے آزاد پیشہ ور (پوسٹ اسکیرسٹی پروفیشنل) کہہ سکتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس کی مجبوریاں یا رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اب اپنا مقام، شناخت یا اہمیت کھو دینے کے خوف کے تابع نہیں ہے۔ وہ کم پُرعزم نہیں ہے وہ بس کم خوفزدہ ہے۔</p>
<p>اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور وہ اس چیلنج کو اپنے اوپر حملہ نہیں سمجھتا، وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کر سکتا ہے بغیر یہ محسوس کیے کہ اس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہ اپنے کام پر ہونے والی تنقید اور اپنی ذات پر ہونے والی تنقید میں فرق کر سکتا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں بنیادی سوال تبدیل ہو جاتا ہے، سوال یہ نہیں رہتا کہ اپنے عہدے کو کیسے بچایا جائے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اصل میں قدر (ویلیو) کس چیز سے تخلیق ہوگی اور جس ادارے میں ایسے لوگ موجود ہوں وہ محض حرکت کرنے اور حقیقی ترقی کے فرق کو خلط ملط نہیں کرتا۔</p>
<p>پاکستان نے اتنی رپورٹس، فریم ورکس اور اصلاحاتی حکمتِ عملیاں تیار کی ہیں جن سے ایک پورا آرکائیو (ریکارڈ روم) کئی بار بھرا جا سکتا ہے لیکن جس چیز کی یہاں شدید ترین کمی رہی ہے وہ ہے سب کے سامنے غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ، ایک مشکل قرضہ دینے کا خطرہ مول لینا، صوابدیدی فیصلہ کرنا اور غیر محفوظ مارکیٹ میں قدم رکھنا کیونکہ یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں سے ہمیشہ حقیقی قدر (ویلیو) جنم لیتی ہے۔</p>
<p>جب تک خود کو محفوظ رکھنے کے عمل کو بنیادی مقصد کے درجے سے ہٹا کر محض ایک عام مجبوری یا حد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ مشینری اسی طرح چلتی رہے گی، فائلیں آگے بڑھتی رہیں گی اور ادارے اپنی مستقل بقا کو ہی وہ کارکردگی سمجھتے رہیں گے جس کی فراہمی کے لیے انہیں بنایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287814</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 14:19:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22135151a380620.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22135151a380620.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ معاشی بحالی جو حقیقت نہ بن سکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287801/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہاں تک کہ جب کاروبار معاشی بحالی اور ترقی کے رجحان کے بارے میں زیادہ پراعتماد ہو رہے تھے، صارفین محتاط ہی رہے۔ اور اس کی وجہ بھی درست تھی۔ مارچ 2026 کے بعد سے کاروباری ادارے بھی اب معاشی بحالی پر یقین نہیں رکھتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین کنفیڈنس سرویز کے مطابق مجموعی طور پر صورتحال میں نمایاں بگاڑ دیکھا گیا ہے۔ صارفین کا اعتماد فروری 2026 میں 43 سے کم ہو کر جون 2026 میں 36.1 رہ گیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال میں حاصل ہونے والے تقریباً تمام فوائد ختم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اعتماد میں اس سے بھی زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے، جو اسی مدت میں 55.3 سے کم ہو کر 48.2 تک آ گیا ہے اور 50 پوائنٹس کی اس اہم حد سے نیچے چلا گیا ہے جو امید اور مایوسی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام کے دور کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ گھرانے اور کاروبار دونوں ہی معاشی حالات کے بارے میں واضح مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ مجموعی معاشی تصویر اب بھی نسبتاً مستحکم نظر آتی ہے۔ مہنگائی 2023 کے بحران کی بلند ترین سطحوں سے کافی نیچے ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام مجموعی طور پر ٹریک پر ہے۔ شرحِ سود کو اس کی بلند ترین سطح سے کافی کم کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار، اور خاص طور پر صارفین، ہمیشہ کتابی معاشیات کے مطابق عمل نہیں کرتے اور اس کی وجوہات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام اور بحالی میں فرق ہوتا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ بڑی حد تک ادائیگیوں کے توازن کے ایک اور بحران کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس نے قوت خرید  بحال نہیں کی۔ گھرانے معیشت کو زرمبادلہ کے ذخائر، بنیادی مالیاتی توازن یا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی صورت میں نہیں دیکھتے۔ وہ معیشت کو گروسری بلز، اسکول فیس، یوٹیلیٹی چارجز اور روزگار کے مواقع کے ذریعے محسوس کرتے ہیں۔ 2022 اور 2023 کا مہنگائی کا جھٹکا صرف قیمتوں میں وقتی اضافہ نہیں تھا، بلکہ اس نے روزمرہ زندگی کی لاگت کو مستقل طور پر بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح کم ہو گئی ہے، لیکن قیمتیں اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ جس گھرانے کے لیے خوراک کے اخراجات دوگنا ہو گئے ہوں اور بجلی کے بل کئی گنا بڑھ چکے ہوں، وہ صرف اس وجہ سے راحت محسوس نہیں کرتا کہ اب قیمتیں آہستہ بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں کمی کے رجحان کو متاثر کر چکا ہے، جو دوبارہ بڑھ کر مئی 2026 تک 11.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اعتماد کے اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔ مہنگائی کی توقعات 72.7 کی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، موجودہ مہنگائی توقعات فروری کی سطح کے تقریباً برابر ہیں، باوجود اس کے کہ کئی مہینوں تک نسبتاً معتدل مہنگائی رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو لوگ اس پر کبھی یقین ہی نہیں کرتے، یا ان کے تجربات انہیں یہ سکھا چکے ہیں کہ ایک اور قیمتوں کا جھٹکا کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر مارکیٹ بھی کوئی خاص تسلی نہیں دیتی۔ اگرچہ کچھ رسمی شعبے کم شرحِ سود اور میکرو اکنامک استحکام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر روزگار کی تخلیق اب بھی کمزور ہے۔ بہت سے گھرانے اب بھی منجمد اجرتوں  کا سامنا کر رہے ہیں جو مہنگائی کے دور میں کھوئی ہوئی قوتِ خرید کو بحال نہیں کر سکیں۔ ایسے خاندان جن کی آمدن میں تقریباً کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ زندگی کے اخراجات مستقل طور پر بلند سطح پر ہیں، ان کے لیے معاشی استحکام اور معاشی جمود میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے پیمانے کی صنعتوں میں تعمیرات، معدنیات اور آٹو موبائل کے شعبوں میں نمو نظر آتی ہے۔ لیکن سیمنٹ کی فروخت صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل عرصے سے رکے ہوئے تعمیراتی منصوبے اب دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ اس کے آمدنی پر اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اعتماد میں چار ماہ کے اندر 50 سے نیچے آنا بڑھتی ہوئی طلب کے بارے میں تشویش کی علامت ہے۔ کاروبار یہ دیکھ رہے ہیں کہ شرحِ سود دوبارہ بڑھنے لگی ہے اور صارفین کی طلب جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔ کاروبار کمزور طلب کو برداشت کر سکتے ہیں اگر ترقی کے امکانات بہتر ہوں، لیکن جب بحالی صرف چند ماہ ہی چل سکے تو مستقبل زیادہ تاریک محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں نے پچھلے دو سال میں بیلنس شیٹس کی بحالی، ذخائر کی تعمیر اور آئی ایم ایف کے اعتماد کی بحالی پر توجہ دی۔ لیکن مارکیٹ کا اعتماد بالآخر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ عام لوگ اپنی معاشی زندگی میں بہتری محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔ جب تک حقیقی آمدن بحال نہیں ہوتی، روزگار کے مواقع نہیں بڑھتے اور قوتِ خرید واپس نہیں آتی، اعتماد ہر جھٹکے اور ہر مایوسی کے لیے کمزور ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہاں تک کہ جب کاروبار معاشی بحالی اور ترقی کے رجحان کے بارے میں زیادہ پراعتماد ہو رہے تھے، صارفین محتاط ہی رہے۔ اور اس کی وجہ بھی درست تھی۔ مارچ 2026 کے بعد سے کاروباری ادارے بھی اب معاشی بحالی پر یقین نہیں رکھتے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین کنفیڈنس سرویز کے مطابق مجموعی طور پر صورتحال میں نمایاں بگاڑ دیکھا گیا ہے۔ صارفین کا اعتماد فروری 2026 میں 43 سے کم ہو کر جون 2026 میں 36.1 رہ گیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال میں حاصل ہونے والے تقریباً تمام فوائد ختم ہو گئے ہیں۔</p>
<p>کاروباری اعتماد میں اس سے بھی زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے، جو اسی مدت میں 55.3 سے کم ہو کر 48.2 تک آ گیا ہے اور 50 پوائنٹس کی اس اہم حد سے نیچے چلا گیا ہے جو امید اور مایوسی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>استحکام کے دور کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ گھرانے اور کاروبار دونوں ہی معاشی حالات کے بارے میں واضح مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ مجموعی معاشی تصویر اب بھی نسبتاً مستحکم نظر آتی ہے۔ مہنگائی 2023 کے بحران کی بلند ترین سطحوں سے کافی نیچے ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام مجموعی طور پر ٹریک پر ہے۔ شرحِ سود کو اس کی بلند ترین سطح سے کافی کم کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار، اور خاص طور پر صارفین، ہمیشہ کتابی معاشیات کے مطابق عمل نہیں کرتے اور اس کی وجوہات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>استحکام اور بحالی میں فرق ہوتا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ بڑی حد تک ادائیگیوں کے توازن کے ایک اور بحران کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس نے قوت خرید  بحال نہیں کی۔ گھرانے معیشت کو زرمبادلہ کے ذخائر، بنیادی مالیاتی توازن یا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی صورت میں نہیں دیکھتے۔ وہ معیشت کو گروسری بلز، اسکول فیس، یوٹیلیٹی چارجز اور روزگار کے مواقع کے ذریعے محسوس کرتے ہیں۔ 2022 اور 2023 کا مہنگائی کا جھٹکا صرف قیمتوں میں وقتی اضافہ نہیں تھا، بلکہ اس نے روزمرہ زندگی کی لاگت کو مستقل طور پر بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح کم ہو گئی ہے، لیکن قیمتیں اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ جس گھرانے کے لیے خوراک کے اخراجات دوگنا ہو گئے ہوں اور بجلی کے بل کئی گنا بڑھ چکے ہوں، وہ صرف اس وجہ سے راحت محسوس نہیں کرتا کہ اب قیمتیں آہستہ بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>حالیہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں کمی کے رجحان کو متاثر کر چکا ہے، جو دوبارہ بڑھ کر مئی 2026 تک 11.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اعتماد کے اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔ مہنگائی کی توقعات 72.7 کی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، موجودہ مہنگائی توقعات فروری کی سطح کے تقریباً برابر ہیں، باوجود اس کے کہ کئی مہینوں تک نسبتاً معتدل مہنگائی رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو لوگ اس پر کبھی یقین ہی نہیں کرتے، یا ان کے تجربات انہیں یہ سکھا چکے ہیں کہ ایک اور قیمتوں کا جھٹکا کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔</p>
<p>لیبر مارکیٹ بھی کوئی خاص تسلی نہیں دیتی۔ اگرچہ کچھ رسمی شعبے کم شرحِ سود اور میکرو اکنامک استحکام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر روزگار کی تخلیق اب بھی کمزور ہے۔ بہت سے گھرانے اب بھی منجمد اجرتوں  کا سامنا کر رہے ہیں جو مہنگائی کے دور میں کھوئی ہوئی قوتِ خرید کو بحال نہیں کر سکیں۔ ایسے خاندان جن کی آمدن میں تقریباً کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ زندگی کے اخراجات مستقل طور پر بلند سطح پر ہیں، ان کے لیے معاشی استحکام اور معاشی جمود میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بڑے پیمانے کی صنعتوں میں تعمیرات، معدنیات اور آٹو موبائل کے شعبوں میں نمو نظر آتی ہے۔ لیکن سیمنٹ کی فروخت صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل عرصے سے رکے ہوئے تعمیراتی منصوبے اب دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ اس کے آمدنی پر اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔</p>
<p>کاروباری اعتماد میں چار ماہ کے اندر 50 سے نیچے آنا بڑھتی ہوئی طلب کے بارے میں تشویش کی علامت ہے۔ کاروبار یہ دیکھ رہے ہیں کہ شرحِ سود دوبارہ بڑھنے لگی ہے اور صارفین کی طلب جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔ کاروبار کمزور طلب کو برداشت کر سکتے ہیں اگر ترقی کے امکانات بہتر ہوں، لیکن جب بحالی صرف چند ماہ ہی چل سکے تو مستقبل زیادہ تاریک محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں نے پچھلے دو سال میں بیلنس شیٹس کی بحالی، ذخائر کی تعمیر اور آئی ایم ایف کے اعتماد کی بحالی پر توجہ دی۔ لیکن مارکیٹ کا اعتماد بالآخر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ عام لوگ اپنی معاشی زندگی میں بہتری محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔ جب تک حقیقی آمدن بحال نہیں ہوتی، روزگار کے مواقع نہیں بڑھتے اور قوتِ خرید واپس نہیں آتی، اعتماد ہر جھٹکے اور ہر مایوسی کے لیے کمزور ہی رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287801</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 11:15:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22111341897d214.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22111341897d214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیرملکی سرمایہ کاری کی سست رفتاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287697/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مئی 2026 میں پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بحالی دیکھی گئی، تاہم یہ بہتری نہ تو مجموعی تصویر کو تبدیل کرنے کے لیے کافی تھی اور نہ ہی یہ گزشتہ ماہانہ اوسط سرمایہ کاری کے مقابلے میں کوئی غیر معمولی اضافہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے دوران نیٹ ایف ڈی آئی 214 ملین ڈالر رہی، جبکہ اپریل میں یہ تقریباً 55 ملین ڈالر تھی۔ مجموعی آمدن (گراس ان فلو) 295 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اخراجات 81 ملین ڈالر تک محدود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران نیٹ ایف ڈی آئی میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 1.62 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2.27 ارب ڈالر تھی۔ اس کمی کی بڑی وجہ نئی سرمایہ کاری کی کمزور آمد تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075416001abae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075416001abae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گراس ایف ڈی آئی میں 17 فیصد کمی ہوئی اور یہ 3.27 ارب ڈالر رہی، جبکہ اخراجات تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.65 ارب ڈالر رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں نئے ڈالرز کی آمد کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اگرچہ کسی حد تک میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ استحکام اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کی واضح بحالی میں تبدیل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی اور شرح تبادلہ کی غیر یقینی صورتحال گزشتہ بحران کے سالوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جس سے نیٹ ان فلو 819 ملین ڈالر رہا۔ تاہم یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہے۔ ہانگ کانگ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 308 ملین ڈالر آئے، جو سالانہ 28 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754187e422bf.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754187e422bf.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات سے نیٹ سرمایہ کاری 10 فیصد کمی کے ساتھ 219 ملین ڈالر رہی۔ سوئٹزرلینڈ سے سرمایہ کاری 24 فیصد بڑھ کر 187 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ برطانیہ سے سرمایہ کاری تقریباً دوگنی ہو کر 114 ملین ڈالر رہی۔ تاہم یہ بہتری چین اور ہانگ کانگ سے آنے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکٹورل ساخت اور بھی زیادہ واضح تصویر پیش کرتی ہے۔  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران تقریباً پوری نیٹ ایف ڈی آئی صرف پاور اور مالیاتی شعبوں میں مرکوز رہی۔ پاور سیکٹر نے 871 ملین ڈالر سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ مالیاتی کاروبار کو 719 ملین ڈالر ملے۔ دونوں شعبے مل کر مجموعی نیٹ ایف ڈی آئی کا تقریباً 98 فیصد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری 20 فیصد کم ہو کر گزشتہ سال کے 1.09 ارب ڈالر سے نیچے آ گئی۔ ہائیڈرو پاور میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ کوئلے میں سرمایہ کاری مجموعی طور پر مستحکم رہی۔ دوسری جانب تھرمل پاور گزشتہ سال کے نیٹ آؤٹ فلو سے بدل کر  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ میں نیٹ ان فلو میں تبدیل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075420dd907ce.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075420dd907ce.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی کاروبار کی کارکردگی بہتر رہی اور اس شعبے میں نیٹ ایف ڈی آئی 11 فیصد بڑھ کر 719 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ سب سے بڑا منفی دباؤ کمیونیکیشن سیکٹر سے آیا، جہاں 448 ملین ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ صرف 65 ملین ڈالر تھا۔ مائننگ اور کواری میں بھی 106 ملین ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر سرمایہ کاری کی واپسی، انٹرا کمپنی واجبات کی ادائیگی وغیرہ کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی آئی کی یہ محدود شعبوں میں شدید مرکزیت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اب تک برآمدی صنعتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، لاجسٹکس اور دیگر ایسے شعبوں میں قابل ذکر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل نہیں کر پا رہا جو مستقل زرمبادلہ آمدن پیدا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754231967279.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754231967279.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اکنامک سروے میں بہتر میکرو اکنامک حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم مجموعی سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب اب بھی 14.38 فیصد پر کم ہے، جبکہ قومی بچتیں جی ڈی پی کے 14.13 فیصد کے برابر ہیں۔ یہ شرح بلند ترقی کو کئی سال تک برقرار رکھنے کے لیے درکار سرمایہ جاتی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں بھی واضح اشارہ دیتی ہیں کہ ایف ڈی آئی مالی سال 26 اور مالی سال 27 میں صرف 0.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر رہنے کی توقع ہے، جو مالی سال 25 کے 0.6 فیصد سے بھی کم ہے، یعنی آنے والے سالوں میں بھی سرمایہ کاری میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بجٹ نے کارپوریٹ اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے اور اس حد سے کم آمدن والے بیشتر شعبوں کے لیے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ جون 2029 تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ برآمدی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات بعد از ٹیکس منافع کو بہتر بنا سکتے ہیں اور کاروبار خصوصاً برآمدی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے زیادہ وضاحت فراہم کر سکتے ہیں۔ آئی ٹی ٹیکس چھوٹ میں توسیع خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے پالیسی تسلسل اور طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح برآمدی آمدن پر کم ٹیکس پاکستان کو غیر ملکی کرنسی میں آمدن حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ پرکشش بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صرف ٹیکس مراعات سے ایف ڈی آئی حاصل نہیں ہو سکتی۔ غیر ملکی سرمایہ کار پیش گوئی کے قابل پالیسیوں، قابل اعتماد توانائی کی فراہمی، منافع کی واپسی  کی سہولت، معاہدوں پر عمل درآمد اور ریگولیٹری تسلسل کو بھی دیکھتے ہیں۔ بجٹ کے مراعاتی اقدامات محدود حد تک بہتری لا سکتے ہیں، خصوصاً کارپوریٹس اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے۔ لیکن اگر انہیں وسیع تر اسٹرکچرل اصلاحات اور پالیسی اعتبار کے ساتھ نہ جوڑا گیا تو آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئی کہ ایف ڈی آئی 0.5 فیصد جی ڈی پی پر جمی رہے گی، بدلنا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مئی 2026 میں پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بحالی دیکھی گئی، تاہم یہ بہتری نہ تو مجموعی تصویر کو تبدیل کرنے کے لیے کافی تھی اور نہ ہی یہ گزشتہ ماہانہ اوسط سرمایہ کاری کے مقابلے میں کوئی غیر معمولی اضافہ تھا۔</strong></p>
<p>مئی کے دوران نیٹ ایف ڈی آئی 214 ملین ڈالر رہی، جبکہ اپریل میں یہ تقریباً 55 ملین ڈالر تھی۔ مجموعی آمدن (گراس ان فلو) 295 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اخراجات 81 ملین ڈالر تک محدود رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران نیٹ ایف ڈی آئی میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 1.62 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2.27 ارب ڈالر تھی۔ اس کمی کی بڑی وجہ نئی سرمایہ کاری کی کمزور آمد تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075416001abae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075416001abae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>گراس ایف ڈی آئی میں 17 فیصد کمی ہوئی اور یہ 3.27 ارب ڈالر رہی، جبکہ اخراجات تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.65 ارب ڈالر رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں نئے ڈالرز کی آمد کم ہو رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے اگرچہ کسی حد تک میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ استحکام اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کی واضح بحالی میں تبدیل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>مہنگائی اور شرح تبادلہ کی غیر یقینی صورتحال گزشتہ بحران کے سالوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>چین  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جس سے نیٹ ان فلو 819 ملین ڈالر رہا۔ تاہم یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہے۔ ہانگ کانگ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 308 ملین ڈالر آئے، جو سالانہ 28 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754187e422bf.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754187e422bf.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>متحدہ عرب امارات سے نیٹ سرمایہ کاری 10 فیصد کمی کے ساتھ 219 ملین ڈالر رہی۔ سوئٹزرلینڈ سے سرمایہ کاری 24 فیصد بڑھ کر 187 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ برطانیہ سے سرمایہ کاری تقریباً دوگنی ہو کر 114 ملین ڈالر رہی۔ تاہم یہ بہتری چین اور ہانگ کانگ سے آنے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔</p>
<p>سیکٹورل ساخت اور بھی زیادہ واضح تصویر پیش کرتی ہے۔  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران تقریباً پوری نیٹ ایف ڈی آئی صرف پاور اور مالیاتی شعبوں میں مرکوز رہی۔ پاور سیکٹر نے 871 ملین ڈالر سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ مالیاتی کاروبار کو 719 ملین ڈالر ملے۔ دونوں شعبے مل کر مجموعی نیٹ ایف ڈی آئی کا تقریباً 98 فیصد بنتے ہیں۔</p>
<p>تاہم پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری 20 فیصد کم ہو کر گزشتہ سال کے 1.09 ارب ڈالر سے نیچے آ گئی۔ ہائیڈرو پاور میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ کوئلے میں سرمایہ کاری مجموعی طور پر مستحکم رہی۔ دوسری جانب تھرمل پاور گزشتہ سال کے نیٹ آؤٹ فلو سے بدل کر  مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ میں نیٹ ان فلو میں تبدیل ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075420dd907ce.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/19075420dd907ce.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالیاتی کاروبار کی کارکردگی بہتر رہی اور اس شعبے میں نیٹ ایف ڈی آئی 11 فیصد بڑھ کر 719 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ سب سے بڑا منفی دباؤ کمیونیکیشن سیکٹر سے آیا، جہاں 448 ملین ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ صرف 65 ملین ڈالر تھا۔ مائننگ اور کواری میں بھی 106 ملین ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر سرمایہ کاری کی واپسی، انٹرا کمپنی واجبات کی ادائیگی وغیرہ کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>ایف ڈی آئی کی یہ محدود شعبوں میں شدید مرکزیت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اب تک برآمدی صنعتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، لاجسٹکس اور دیگر ایسے شعبوں میں قابل ذکر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل نہیں کر پا رہا جو مستقل زرمبادلہ آمدن پیدا کر سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754231967279.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/190754231967279.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ اکنامک سروے میں بہتر میکرو اکنامک حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم مجموعی سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب اب بھی 14.38 فیصد پر کم ہے، جبکہ قومی بچتیں جی ڈی پی کے 14.13 فیصد کے برابر ہیں۔ یہ شرح بلند ترقی کو کئی سال تک برقرار رکھنے کے لیے درکار سرمایہ جاتی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں بھی واضح اشارہ دیتی ہیں کہ ایف ڈی آئی مالی سال 26 اور مالی سال 27 میں صرف 0.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر رہنے کی توقع ہے، جو مالی سال 25 کے 0.6 فیصد سے بھی کم ہے، یعنی آنے والے سالوں میں بھی سرمایہ کاری میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔</p>
<p>حالیہ بجٹ نے کارپوریٹ اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے اور اس حد سے کم آمدن والے بیشتر شعبوں کے لیے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ جون 2029 تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ برآمدی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ اقدامات بعد از ٹیکس منافع کو بہتر بنا سکتے ہیں اور کاروبار خصوصاً برآمدی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے زیادہ وضاحت فراہم کر سکتے ہیں۔ آئی ٹی ٹیکس چھوٹ میں توسیع خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے پالیسی تسلسل اور طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح برآمدی آمدن پر کم ٹیکس پاکستان کو غیر ملکی کرنسی میں آمدن حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ پرکشش بنا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم صرف ٹیکس مراعات سے ایف ڈی آئی حاصل نہیں ہو سکتی۔ غیر ملکی سرمایہ کار پیش گوئی کے قابل پالیسیوں، قابل اعتماد توانائی کی فراہمی، منافع کی واپسی  کی سہولت، معاہدوں پر عمل درآمد اور ریگولیٹری تسلسل کو بھی دیکھتے ہیں۔ بجٹ کے مراعاتی اقدامات محدود حد تک بہتری لا سکتے ہیں، خصوصاً کارپوریٹس اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے۔ لیکن اگر انہیں وسیع تر اسٹرکچرل اصلاحات اور پالیسی اعتبار کے ساتھ نہ جوڑا گیا تو آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئی کہ ایف ڈی آئی 0.5 فیصد جی ڈی پی پر جمی رہے گی، بدلنا مشکل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287697</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 10:36:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1910331129939e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1910331129939e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنٹ اکاؤنٹ، ریلیف نے تجارتی عدم توازن کو چھپا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسا کہ توقع تھی کرنٹ اکاؤنٹ نے مئی میں 459 ملین امریکی ڈالر کا سرپلس ظاہر کیا، جو پچھلے مہینے کے 276 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 735 ملین ڈالر کی نمایاں بہتری ہے۔ یہ تقریباً مکمل تبدیلی ماہانہ  ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی وجہ سے ہوئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اپریل کے مقابلے میں 712 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل سوال ان رقوم کے تسلسل کا ہے، جو آنے والے مہینوں میں ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں جمع شدہ بچتوں کی واپسی کے باعث بلند رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود مجموعی تصویر فی الحال حوصلہ افزا ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی11 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ نے 255 ملین ڈالر کا سرپلس دکھایا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 1.62 ارب ڈالر کا سرپلس تھا۔ تشویش یہ ہے کہ اقتصادی ترقی 4 فیصد سے کم ہونے کے باوجود اشیا کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 24 فیصد اضافے کے ساتھ 30.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہانی مجموعی طور پر زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ حکومت کے دعوے کے برعکس کہ معیشت برآمدات پر مبنی ترقی کرے گی، اشیاء کی برآمدات 5 فیصد کمی کے ساتھ 28.2 ارب ڈالر تک آ گئیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ غیر ٹیکسٹائل برآمدات میں 12 فیصد کمی تھی، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 1 فیصد معمولی اضافہ ہوا۔ سب سے بڑی کمی خوراک کی برآمدات میں دیکھی گئی، جو چاول کی ایک وقتی برآمدی بوم ختم ہونے کے بعد 28 فیصد گر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اشیا کی درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں، جو 8 فیصد اضافے کے ساتھ 58.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ٹیکسٹائل گروپ کے علاوہ تقریباً تمام شعبوں میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود پیٹرولیم درآمدات تقریباً مستحکم رہیں، جس کی وجہ آر ایل این جی درآمدات کا نہ ہونا ہے۔ تاہم یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ قطر کی آر ایل این جی سپلائی دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہوا، جہاں درآمدی بل 77 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ آٹو سیکٹر میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مالی سال 26 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 211,000 مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیاں فروخت ہوئیں (پی اے ایم اے کے غیر اراکین سمیت)، اگرچہ یہ ریکارڈ سطح نہیں ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سی کے ڈی درآمدات مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران ریکارڈ 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 22 کے 11 ماہ کے دوران کے پچھلے بلند ترین 1.65 ارب ڈالر سے 16 فیصد زیادہ ہیں۔ نسبتاً مہنگی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدنی میں عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس رجحان پر واضح طور پر بے چینی محسوس کر رہا ہے۔ اس نے آٹو فنانسنگ پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں، جس کے تحت صارفین کے لیے گاڑی کی مالی معاونت 3 ملین روپے تک محدود ہے۔ تاہم اس سے طلب میں خاص کمی نہیں آئی۔ تازہ حکمت عملی غالباً آٹو امپورٹس پر نرم انتظامی کنٹرولز پر مشتمل ہے، جو ان غیر ضروری درآمدات کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے کو حل کرنے اور ساتھ ہی برآمدات کو سہارا دینے کا ایک زیادہ مؤثر طریقہ ایک زیادہ مسابقتی ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس پالیسی الٹی سمت میں جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) 106.15 تک پہنچ گیا ہے، جو سات سال کی بلند ترین سطح ہے اور دس سال کی اوسط 102.59 سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ بعض طاقتور حلقوں سے جڑی حساسیتیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سروسز بیلنس میں بہتری جاری ہے۔ سروسز کی برآمدات 17 فیصد بڑھ کر 9.1 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ درآمدات صرف 7 فیصد بڑھ کر 11.1 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ نتیجتاً سروسز کا تجارتی خسارہ 24 فیصد کم ہو کر 2.0 ارب ڈالر رہ گیا۔ تاہم مجموعی طور پر 629 ملین ڈالر کی بہتری اشیا کے تجارتی خسارے میں 5.8 ارب ڈالر کی خرابی کے مقابلے میں معمولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سہارا ترسیلاتِ زر سے آ رہا ہے، جو بلند بیس کے باوجود مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ترسیلات 9 فیصد یا 3.2 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات اور وسیع تر جی سی سی خطے سے آیا ہے۔ اس رجحان کی پائیداری غیر یقینی ہے، اور اگلے سال کے کرنٹ اکاؤنٹ کا انحصار اسی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال مجموعی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال قابلِ انتظام ہے۔ بیرونی قرضوں کی آمد میں اضافے نے کم ہوتی ہوئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوازن کیا ہے، اور اسٹیٹ بینک توقع کرتا ہے کہ جون کے آخر تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسا کہ توقع تھی کرنٹ اکاؤنٹ نے مئی میں 459 ملین امریکی ڈالر کا سرپلس ظاہر کیا، جو پچھلے مہینے کے 276 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 735 ملین ڈالر کی نمایاں بہتری ہے۔ یہ تقریباً مکمل تبدیلی ماہانہ  ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی وجہ سے ہوئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اپریل کے مقابلے میں 712 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔</strong></p>
<p>تاہم اصل سوال ان رقوم کے تسلسل کا ہے، جو آنے والے مہینوں میں ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں جمع شدہ بچتوں کی واپسی کے باعث بلند رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود مجموعی تصویر فی الحال حوصلہ افزا ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی11 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ نے 255 ملین ڈالر کا سرپلس دکھایا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 1.62 ارب ڈالر کا سرپلس تھا۔ تشویش یہ ہے کہ اقتصادی ترقی 4 فیصد سے کم ہونے کے باوجود اشیا کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 24 فیصد اضافے کے ساتھ 30.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>کہانی مجموعی طور پر زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ حکومت کے دعوے کے برعکس کہ معیشت برآمدات پر مبنی ترقی کرے گی، اشیاء کی برآمدات 5 فیصد کمی کے ساتھ 28.2 ارب ڈالر تک آ گئیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ غیر ٹیکسٹائل برآمدات میں 12 فیصد کمی تھی، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 1 فیصد معمولی اضافہ ہوا۔ سب سے بڑی کمی خوراک کی برآمدات میں دیکھی گئی، جو چاول کی ایک وقتی برآمدی بوم ختم ہونے کے بعد 28 فیصد گر گئیں۔</p>
<p>دوسری جانب اشیا کی درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں، جو 8 فیصد اضافے کے ساتھ 58.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ٹیکسٹائل گروپ کے علاوہ تقریباً تمام شعبوں میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود پیٹرولیم درآمدات تقریباً مستحکم رہیں، جس کی وجہ آر ایل این جی درآمدات کا نہ ہونا ہے۔ تاہم یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ قطر کی آر ایل این جی سپلائی دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔</p>
<p>سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہوا، جہاں درآمدی بل 77 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ آٹو سیکٹر میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مالی سال 26 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 211,000 مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیاں فروخت ہوئیں (پی اے ایم اے کے غیر اراکین سمیت)، اگرچہ یہ ریکارڈ سطح نہیں ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سی کے ڈی درآمدات مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران ریکارڈ 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 22 کے 11 ماہ کے دوران کے پچھلے بلند ترین 1.65 ارب ڈالر سے 16 فیصد زیادہ ہیں۔ نسبتاً مہنگی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدنی میں عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس رجحان پر واضح طور پر بے چینی محسوس کر رہا ہے۔ اس نے آٹو فنانسنگ پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں، جس کے تحت صارفین کے لیے گاڑی کی مالی معاونت 3 ملین روپے تک محدود ہے۔ تاہم اس سے طلب میں خاص کمی نہیں آئی۔ تازہ حکمت عملی غالباً آٹو امپورٹس پر نرم انتظامی کنٹرولز پر مشتمل ہے، جو ان غیر ضروری درآمدات کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اس مسئلے کو حل کرنے اور ساتھ ہی برآمدات کو سہارا دینے کا ایک زیادہ مؤثر طریقہ ایک زیادہ مسابقتی ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس پالیسی الٹی سمت میں جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) 106.15 تک پہنچ گیا ہے، جو سات سال کی بلند ترین سطح ہے اور دس سال کی اوسط 102.59 سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ بعض طاقتور حلقوں سے جڑی حساسیتیں موجود ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سروسز بیلنس میں بہتری جاری ہے۔ سروسز کی برآمدات 17 فیصد بڑھ کر 9.1 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ درآمدات صرف 7 فیصد بڑھ کر 11.1 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ نتیجتاً سروسز کا تجارتی خسارہ 24 فیصد کم ہو کر 2.0 ارب ڈالر رہ گیا۔ تاہم مجموعی طور پر 629 ملین ڈالر کی بہتری اشیا کے تجارتی خسارے میں 5.8 ارب ڈالر کی خرابی کے مقابلے میں معمولی ہے۔</p>
<p>اصل سہارا ترسیلاتِ زر سے آ رہا ہے، جو بلند بیس کے باوجود مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ترسیلات 9 فیصد یا 3.2 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات اور وسیع تر جی سی سی خطے سے آیا ہے۔ اس رجحان کی پائیداری غیر یقینی ہے، اور اگلے سال کے کرنٹ اکاؤنٹ کا انحصار اسی پر ہوگا۔</p>
<p>فی الحال مجموعی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال قابلِ انتظام ہے۔ بیرونی قرضوں کی آمد میں اضافے نے کم ہوتی ہوئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوازن کیا ہے، اور اسٹیٹ بینک توقع کرتا ہے کہ جون کے آخر تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287655</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 12:53:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18123512acf1852.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18123512acf1852.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی پیداوار: آر ایل این جی کی واپسی باوجود کوئلے کا کردار برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مئی نے پاکستان کے پاور سیکٹر کو کچھ انتہائی ضروری ریلیف فراہم کیا۔ دو ماہ تک شدید آر ایل این جی کی قلت، بجلی پیداوار کے بڑھتے ہوئے خسارے، اور سپلائی کی دستیابی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد آخرکار نظام کو کچھ سانس لینے کا موقع ملا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوقع سے زیادہ ہائیڈل پیداوار اور اضافی ایل این جی کارگو کی آمد نے حقیقی پیداوار اور ریفرنس پیداوار کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد دی۔ تاہم اس بہتری کے باوجود ماہ کے اعداد و شمار یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ اس شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ اب صرف ایندھن کی دستیابی نہیں رہا، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی حد تک لچک  کا مسئلہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل گرڈ کی پیداوار مئی 2026 کے دوران 12.3 ارب کلو واٹ آور رہی، جو سالانہ 2.2 فیصد کم ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران مجموعی پیداوار 111.7 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 1 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802071c49dae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802071c49dae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید اہم بات یہ ہے کہ پیداوار مالی سال 22 میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے تقریباً 8 فیصد کم رہی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بار بار ٹیرف میں کمی اور صنعتی صارفین کی گرڈ میں واپسی کے باوجود طلب ابھی تک اپنی تاریخی بلند سطحوں سے کافی نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس لیولز کے مقابلے میں پیداوار کا خسارہ اپریل کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوا۔ حقیقی پیداوار ریفرنس سے تقریباً 5 فیصد کم رہی، جبکہ ایک ماہ پہلے یہ کمی 11 فیصد تھی۔ یہ بہتری بڑی حد تک ہائیڈل پیداوار کی وجہ سے ہوئی، جو ایک بار پھر نظام کا سہارا بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل کا حصہ پیداواری مکس میں بڑھ کر 33 فیصد تک پہنچ گیا اور ریفرنس لیولز سے تقریباً 10 فیصد زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسے نظام میں جو تیزی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا جا رہا ہے اور بیرونی جھٹکوں کے لیے حساس ہے، ہائیڈل نے وہی کم لاگت ریلیف فراہم کیا جس کی پالیسی ساز توقع کر رہے تھے۔ اگر ہائیڈل کی مضبوط پیداوار نہ ہوتی تو فیول لاگت کی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہوتی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802092f493a2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802092f493a2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریلیف کا دوسرا ذریعہ آر ایل این جی تھا۔ ایک ماہ پہلے ایل این جی درآمدات کے آغاز کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد آر ایل این جی پر مبنی پیداوار نے جزوی بحالی دکھائی، کیونکہ پاکستان نے عالمی توانائی منڈیوں میں جاری رکاوٹوں کے باوجود ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آر ایل این جی کا حصہ پیداواری مکس میں بڑھ کر 12 فیصد تک پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ اب بھی ریفرنس لیول سے تقریباً 23 فیصد کم ہے، لیکن یہ بحالی اپریل کی تقریباً مکمل غیر موجودگی کے مقابلے میں ایک اہم بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی کی واپسی اور ہائیڈل پیداوار میں بہتری عام طور پر فیول لاگت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کافی ہوتی۔ تاہم فیول مکس ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی کوئلہ منصوبہ بندی کے مفروضوں سے سب سے بڑا انحراف رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/18080212c9e0259.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/18080212c9e0259.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل کی بہتر دستیابی اور آر ایل این جی کی جزوی بحالی کے باوجود درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سے تقریباً 48 فیصد زیادہ رہی، اور مجموعی پیداوار کا تقریباً 14 فیصد حصہ بنی۔ درآمدی کوئلے کے بڑے کردار کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ گرڈ کو درپیش چیلنج اب صرف توانائی کی دستیابی کا نہیں رہا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کب درکار ہوتی ہے، نہ کہ کتنی درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کا سولر انقلاب گفتگو میں داخل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تیزی سے بڑھنے والے بیہائنڈ دی میٹر اور آف گرڈ سولر سسٹمز دن کے وقت گرڈ کی طلب کو کم کر رہے ہیں۔ دوپہر کے وقت پیداوار کی سطحیں واضح طور پر کم ہیں، جبکہ مجموعی بجلی کی کھپت اس کے برعکس سمت میں جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک گہرے ڈک کَرْو  کی صورت میں نکل رہا ہے جو نظام کے آپریشنز کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، گرڈ پر طلب اچانک واپس آ جاتی ہے۔ نظام کو بہت تیزی سے پیداوار بڑھانی پڑتی ہے، جو چند سال پہلے غیر معمولی سمجھی جاتی۔ یہ ذمہ داری روایتی طور پر فلیکسیبل جنریشن ذرائع، خصوصاً آر ایل این جی پلانٹس پر ہوتی ہے۔ لیکن حالیہ بحالی کے باوجود آر ایل این جی کی دستیابی اب بھی منصوبہ بندی کے مفروضوں سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیگر ذرائع کو ایسے کام کرنے کے لیے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے جن کے لیے وہ بنیادی طور پر ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے۔ درآمدی کوئلے کے پلانٹس زیادہ اور طویل وقت تک چل رہے ہیں۔ زیادہ مہنگی پیداوار کو ڈسپیچ کیا جا رہا ہے۔ فیول لاگت بلند رہتی ہے۔ اور ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ مسلسل پانچویں مہینے مثبت رہی ہے، جبکہ مئی کے لیے تقریباً 1 روپے فی یونٹ کا اضافہ طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشنل دباؤ تیزی سے واضح ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے روزانہ لوڈ پروفائل کی شکل اب قبل از سولر دور سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی۔ طلب زیادہ تر شام کے اوقات میں مرکوز ہو رہی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ  کی سخت ضرورت پیدا ہو رہی ہے جو نہ صرف جنریشن کی لچک بلکہ ٹرانسمیشن کی صلاحیت کو بھی آزمائش میں ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چیلنج صرف ایندھن کی دستیابی تک محدود نہیں۔ ٹرانسمیشن کی رکاوٹیں اب بھی بجلی کو پیداوار والے علاقوں سے طلب والے مراکز تک پہنچانے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ برسوں کی سرمایہ کاری نے یقیناً نظام کو بہتر بنایا ہے، لیکن وقفے وقفے سے آنے والے دباؤ کے حالات اب بھی موجودہ رکاوٹوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر شام کے پیک اوقات میں واضح ہوتا ہے، جب طلب میں معمولی اضافہ بھی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ستم ظریفی نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کا سولر بوم درحقیقت ملک کو ایک بڑے توانائی بحران سے بچانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایل این جی سپلائی میں خلل اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ایندھن کی درآمدات میں نمایاں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر زیادہ دباؤ کا باعث بن سکتی تھی۔ لیکن یہی سولر بوم اب آپریشنل سطح پر نئے چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے، جن کے مطابق گرڈ کو کبھی ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی نے ظاہر کیا کہ جب ہائیڈل حالات بہتر ہوں اور ایل این جی کارگو بروقت پہنچیں تو شعبہ عارضی ریلیف حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس نے یہ بھی دکھایا کہ بنیادی چیلنج اب بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ ڈک کَرْو مزید گہرا ہو رہا ہے۔ شام کے ریمپس مزید تیز ہو رہے ہیں۔ درآمدی کوئلہ منصوبہ سازوں کی توقعات سے زیادہ کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اپریل کے مقابلے میں بہتر فیول مکس کے باوجود صارفین کو ایک اور مثبت فیول ایڈجسٹمنٹ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحران شاید کچھ حد تک کم ہوا ہو، لیکن توازن برقرار رکھنے کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مئی نے پاکستان کے پاور سیکٹر کو کچھ انتہائی ضروری ریلیف فراہم کیا۔ دو ماہ تک شدید آر ایل این جی کی قلت، بجلی پیداوار کے بڑھتے ہوئے خسارے، اور سپلائی کی دستیابی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد آخرکار نظام کو کچھ سانس لینے کا موقع ملا۔</strong></p>
<p>متوقع سے زیادہ ہائیڈل پیداوار اور اضافی ایل این جی کارگو کی آمد نے حقیقی پیداوار اور ریفرنس پیداوار کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد دی۔ تاہم اس بہتری کے باوجود ماہ کے اعداد و شمار یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ اس شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ اب صرف ایندھن کی دستیابی نہیں رہا، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی حد تک لچک  کا مسئلہ بن چکا ہے۔</p>
<p>نیشنل گرڈ کی پیداوار مئی 2026 کے دوران 12.3 ارب کلو واٹ آور رہی، جو سالانہ 2.2 فیصد کم ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران مجموعی پیداوار 111.7 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 1 فیصد زیادہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802071c49dae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802071c49dae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید اہم بات یہ ہے کہ پیداوار مالی سال 22 میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے تقریباً 8 فیصد کم رہی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بار بار ٹیرف میں کمی اور صنعتی صارفین کی گرڈ میں واپسی کے باوجود طلب ابھی تک اپنی تاریخی بلند سطحوں سے کافی نیچے ہے۔</p>
<p>ریفرنس لیولز کے مقابلے میں پیداوار کا خسارہ اپریل کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوا۔ حقیقی پیداوار ریفرنس سے تقریباً 5 فیصد کم رہی، جبکہ ایک ماہ پہلے یہ کمی 11 فیصد تھی۔ یہ بہتری بڑی حد تک ہائیڈل پیداوار کی وجہ سے ہوئی، جو ایک بار پھر نظام کا سہارا بنی۔</p>
<p>ہائیڈل کا حصہ پیداواری مکس میں بڑھ کر 33 فیصد تک پہنچ گیا اور ریفرنس لیولز سے تقریباً 10 فیصد زیادہ رہا۔</p>
<p>ایک ایسے نظام میں جو تیزی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا جا رہا ہے اور بیرونی جھٹکوں کے لیے حساس ہے، ہائیڈل نے وہی کم لاگت ریلیف فراہم کیا جس کی پالیسی ساز توقع کر رہے تھے۔ اگر ہائیڈل کی مضبوط پیداوار نہ ہوتی تو فیول لاگت کی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہوتی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802092f493a2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/180802092f493a2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ریلیف کا دوسرا ذریعہ آر ایل این جی تھا۔ ایک ماہ پہلے ایل این جی درآمدات کے آغاز کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد آر ایل این جی پر مبنی پیداوار نے جزوی بحالی دکھائی، کیونکہ پاکستان نے عالمی توانائی منڈیوں میں جاری رکاوٹوں کے باوجود ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آر ایل این جی کا حصہ پیداواری مکس میں بڑھ کر 12 فیصد تک پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ اب بھی ریفرنس لیول سے تقریباً 23 فیصد کم ہے، لیکن یہ بحالی اپریل کی تقریباً مکمل غیر موجودگی کے مقابلے میں ایک اہم بہتری ہے۔</p>
<p>آر ایل این جی کی واپسی اور ہائیڈل پیداوار میں بہتری عام طور پر فیول لاگت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کافی ہوتی۔ تاہم فیول مکس ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>درآمدی کوئلہ منصوبہ بندی کے مفروضوں سے سب سے بڑا انحراف رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/18080212c9e0259.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/18080212c9e0259.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ہائیڈل کی بہتر دستیابی اور آر ایل این جی کی جزوی بحالی کے باوجود درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سے تقریباً 48 فیصد زیادہ رہی، اور مجموعی پیداوار کا تقریباً 14 فیصد حصہ بنی۔ درآمدی کوئلے کے بڑے کردار کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ گرڈ کو درپیش چیلنج اب صرف توانائی کی دستیابی کا نہیں رہا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کب درکار ہوتی ہے، نہ کہ کتنی درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کا سولر انقلاب گفتگو میں داخل ہوتا ہے۔</p>
<p>ملک میں تیزی سے بڑھنے والے بیہائنڈ دی میٹر اور آف گرڈ سولر سسٹمز دن کے وقت گرڈ کی طلب کو کم کر رہے ہیں۔ دوپہر کے وقت پیداوار کی سطحیں واضح طور پر کم ہیں، جبکہ مجموعی بجلی کی کھپت اس کے برعکس سمت میں جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک گہرے ڈک کَرْو  کی صورت میں نکل رہا ہے جو نظام کے آپریشنز کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔</p>
<p>جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، گرڈ پر طلب اچانک واپس آ جاتی ہے۔ نظام کو بہت تیزی سے پیداوار بڑھانی پڑتی ہے، جو چند سال پہلے غیر معمولی سمجھی جاتی۔ یہ ذمہ داری روایتی طور پر فلیکسیبل جنریشن ذرائع، خصوصاً آر ایل این جی پلانٹس پر ہوتی ہے۔ لیکن حالیہ بحالی کے باوجود آر ایل این جی کی دستیابی اب بھی منصوبہ بندی کے مفروضوں سے کم ہے۔</p>
<p>اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیگر ذرائع کو ایسے کام کرنے کے لیے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے جن کے لیے وہ بنیادی طور پر ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے۔ درآمدی کوئلے کے پلانٹس زیادہ اور طویل وقت تک چل رہے ہیں۔ زیادہ مہنگی پیداوار کو ڈسپیچ کیا جا رہا ہے۔ فیول لاگت بلند رہتی ہے۔ اور ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ مسلسل پانچویں مہینے مثبت رہی ہے، جبکہ مئی کے لیے تقریباً 1 روپے فی یونٹ کا اضافہ طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>آپریشنل دباؤ تیزی سے واضح ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے روزانہ لوڈ پروفائل کی شکل اب قبل از سولر دور سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی۔ طلب زیادہ تر شام کے اوقات میں مرکوز ہو رہی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ  کی سخت ضرورت پیدا ہو رہی ہے جو نہ صرف جنریشن کی لچک بلکہ ٹرانسمیشن کی صلاحیت کو بھی آزمائش میں ڈال رہی ہے۔</p>
<p>یہ چیلنج صرف ایندھن کی دستیابی تک محدود نہیں۔ ٹرانسمیشن کی رکاوٹیں اب بھی بجلی کو پیداوار والے علاقوں سے طلب والے مراکز تک پہنچانے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ برسوں کی سرمایہ کاری نے یقیناً نظام کو بہتر بنایا ہے، لیکن وقفے وقفے سے آنے والے دباؤ کے حالات اب بھی موجودہ رکاوٹوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر شام کے پیک اوقات میں واضح ہوتا ہے، جب طلب میں معمولی اضافہ بھی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیتا ہے۔</p>
<p>یہ ستم ظریفی نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کا سولر بوم درحقیقت ملک کو ایک بڑے توانائی بحران سے بچانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایل این جی سپلائی میں خلل اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ایندھن کی درآمدات میں نمایاں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر زیادہ دباؤ کا باعث بن سکتی تھی۔ لیکن یہی سولر بوم اب آپریشنل سطح پر نئے چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے، جن کے مطابق گرڈ کو کبھی ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>مئی نے ظاہر کیا کہ جب ہائیڈل حالات بہتر ہوں اور ایل این جی کارگو بروقت پہنچیں تو شعبہ عارضی ریلیف حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس نے یہ بھی دکھایا کہ بنیادی چیلنج اب بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ ڈک کَرْو مزید گہرا ہو رہا ہے۔ شام کے ریمپس مزید تیز ہو رہے ہیں۔ درآمدی کوئلہ منصوبہ سازوں کی توقعات سے زیادہ کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اپریل کے مقابلے میں بہتر فیول مکس کے باوجود صارفین کو ایک اور مثبت فیول ایڈجسٹمنٹ کا سامنا ہے۔</p>
<p>بحران شاید کچھ حد تک کم ہوا ہو، لیکن توازن برقرار رکھنے کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287659</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 13:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18132441c130f26.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18132441c130f26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس میں ریلیف، ڈیجیٹل ترقی کا فقدان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 کا بجٹ مجموعی طور پر پاکستان کے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے مثبت ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ٹیکنالوجی بجٹ قرار دینا مبالغہ آرائی ہوگی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی کوئی نیا اور جرات مندانہ ڈیجیٹل ترقیاتی پروگرام نہیں بلکہ موجودہ ٹیکس رعایت کا تسلسل ہے جس نے برآمدات پر توجہ دینے والی کمپنیوں کو درکار پالیسی استحکام اور یقین دہانی فراہم کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بجٹ کا سب سے اہم اقدام رجسٹرڈ آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم کی مدت کو جون 2029 تک توسیع دینا ہے۔ یہ رعایت جون 2026 میں ختم ہونے والی تھی۔ اس توسیع سے غیر یقینی صورتحال کا ایک فوری سبب ختم ہو گیا ہے اور کمپنیوں کو مزید تین سال کے لیے یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے معاہدوں کی منصوبہ بندی، قیمتوں کے تعین اور بیرونِ ملک کاروباری توسیع کے فیصلے ٹیکس بوجھ میں اچانک اضافے کے خدشے کے بغیر کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں کئی سالہ غیر ملکی کرنسی پر مبنی معاہدوں کے لیے مقابلہ کرنے والی پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ٹیکس پالیسی میں استحکام انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ان کے منافع کے مارجن، قیمتوں کے تعین اور مسابقتی صلاحیت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اس ٹیکس رعایت میں توسیع کو ایک قلیل مدتی سبسڈی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتی اور مؤثر اقدام سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں کمی سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا ہے جبکہ اس حد سے زیادہ آمدن والی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔اگرچہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کمپنیوں اور کھاد ساز اداروں کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کمپنیاں اس استثنا میں شامل نہیں ہیں جس کے باعث وہ اس ٹیکس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان کے لیے دیا گیا مجموعی پیکج بھی معاون ہے۔ حکومت نے برآمدی آمدنی پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ختم کردیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا ہے۔ چونکہ ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہوتا تھا، اس لیے برآمد کنندگان کو اکثر سیٹلمنٹ یا ریفنڈز کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے ان کا سرمایہ  پھنس جاتا تھا۔ اس کے خاتمے سے کمپنیوں کے کیش فلو (نقد بہاؤ) میں بہتری آنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی برآمد کنندگان پر اس کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس اقدام کا اطلاق ان کے علیحدہ 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم کے ساتھ کیسے کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، مجموعی پیغام حوصلہ افزا ہے۔ البتہ جب بات مستحکم سافٹ ویئر برآمد کنندگان سے آگے بڑھتی ہے تو صورتحال کچھ غیر واضح ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;200 ملین روپے سے زائد سالانہ آمدنی والے بڑے ای-کامرس سیلرز کے لیے، آن لائن مارکیٹ پلیس ٹرانزیکشنز پر کٹنے والا ٹیکس اب ایڈجسٹ ایبل  ہوگا۔ اس اقدام سے اس خطرے میں کمی آنی چاہیے کہ کٹوتی ایک اضافی لاگت بن جائے، تاہم چھوٹے آن لائن کاروبار کو اس کا فائدہ کم ہی ہوگا کیونکہ انہیں اب بھی رجسٹریشن، بک کیپنگ اور مالیات تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک اب یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے ڈیجیٹل تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حاصل کردہ آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی لاگو کریں گے۔ آن لائن آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانا تو ایک معقول قدم ہے لیکن اگر ٹیکس کی واپسی (ریفنڈ) یا ایڈجسٹمنٹ کا کوئی آسان عمل موجود نہ ہوا تو یہ کٹوتی چھوٹے تخلیق کاروں اور فری لانسرز کے کیش فلو کو متاثر کر سکتی ہے جن کی آمدنی بے قاعدہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل فون ڈسٹری بیوٹرز پر ایڈوانس ٹیکس کو بھی 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہے اور بڑے ڈسٹری بیوٹرز پر اس کا طویل مدتی اثر شاید کم ہو لیکن یہ ان چھوٹے کاروبار کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے جو پہلے ہی بہت کم مارجن پر کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ترقیاتی پروگرام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں (اگرچہ یہ ایک ٹریلین روپے کے مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے مقابلے میں ایک معمولی رقم ہے)۔ یہ مختص رقم سرکاری شعبے کے ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کے لیے کچھ گنجائش فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کی دیگر رکاوٹوں کے لیے کوئی براہ راست اقدامات نظر نہیں آتے، جیسے کہ براڈبینڈ کی توسیع، اسپیکٹرم میں سرمایہ کاری، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی وغیرہ کے لیے کوئی ریلیف شامل نہیں ہے۔ ٹیکس کی رعایت میں توسیع یقیناً رفتار کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے لیکن یہ خود اس صنعت کو آؤٹ سورسنگ اور فری لانسنگ سے نکال کر اعلیٰ ویلیو والے سافٹ ویئر پروڈکٹس، انٹلیکچوئل پراپرٹی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز اور علاقائی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی طرف لے جانے کے لیے کافی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو توقع ہے کہ خدمات کی کل برآمدات مالی سال 2026 میں 10.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2027 میں 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جس کی بنیادی وجہ آئی ٹی سیکٹر کی مسلسل ترقی ہے۔ یہ ایک پیشرفت تو ہے لیکن اسے ایک بڑی چھلانگ قرار دینا مشکل ہے۔ یہ معمولی اضافہ (3.7 فیصد) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجٹ کو ایک نئے توسیعی مرحلے کے آغاز کے بجائے موجودہ رجحان کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2027 کا بجٹ لسٹڈ اور برآمدی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مثبت، ای کامرس اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے ملا جلا اور ٹیلی کام و مواصلات کے شعبے کے لیے بڑی حد تک غیر جانبدار ہے۔ سیکٹر کو ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی اور کچھ مہلت ضرور ملی ہے لیکن اسے وہ قابلِ اعتماد روڈ میپ نہیں ملا جو پاکستان کو ایک کم لاگت والی ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی معیشت سے نکال کر سرمایہ کاری پر مبنی اور پروڈکٹ-اورینٹڈ ڈیجیٹل اکانومی میں تبدیل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 کا بجٹ مجموعی طور پر پاکستان کے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے مثبت ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ٹیکنالوجی بجٹ قرار دینا مبالغہ آرائی ہوگی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی کوئی نیا اور جرات مندانہ ڈیجیٹل ترقیاتی پروگرام نہیں بلکہ موجودہ ٹیکس رعایت کا تسلسل ہے جس نے برآمدات پر توجہ دینے والی کمپنیوں کو درکار پالیسی استحکام اور یقین دہانی فراہم کی ہے۔</strong></p>
<p>اس بجٹ کا سب سے اہم اقدام رجسٹرڈ آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم کی مدت کو جون 2029 تک توسیع دینا ہے۔ یہ رعایت جون 2026 میں ختم ہونے والی تھی۔ اس توسیع سے غیر یقینی صورتحال کا ایک فوری سبب ختم ہو گیا ہے اور کمپنیوں کو مزید تین سال کے لیے یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے معاہدوں کی منصوبہ بندی، قیمتوں کے تعین اور بیرونِ ملک کاروباری توسیع کے فیصلے ٹیکس بوجھ میں اچانک اضافے کے خدشے کے بغیر کرسکیں۔</p>
<p>عالمی منڈی میں کئی سالہ غیر ملکی کرنسی پر مبنی معاہدوں کے لیے مقابلہ کرنے والی پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ٹیکس پالیسی میں استحکام انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ان کے منافع کے مارجن، قیمتوں کے تعین اور مسابقتی صلاحیت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اس ٹیکس رعایت میں توسیع کو ایک قلیل مدتی سبسڈی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتی اور مؤثر اقدام سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں کمی سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا ہے جبکہ اس حد سے زیادہ آمدن والی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔اگرچہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کمپنیوں اور کھاد ساز اداروں کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کمپنیاں اس استثنا میں شامل نہیں ہیں جس کے باعث وہ اس ٹیکس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گی۔</p>
<p>برآمد کنندگان کے لیے دیا گیا مجموعی پیکج بھی معاون ہے۔ حکومت نے برآمدی آمدنی پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ختم کردیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا ہے۔ چونکہ ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہوتا تھا، اس لیے برآمد کنندگان کو اکثر سیٹلمنٹ یا ریفنڈز کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے ان کا سرمایہ  پھنس جاتا تھا۔ اس کے خاتمے سے کمپنیوں کے کیش فلو (نقد بہاؤ) میں بہتری آنی چاہیے۔</p>
<p>آئی ٹی برآمد کنندگان پر اس کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس اقدام کا اطلاق ان کے علیحدہ 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم کے ساتھ کیسے کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، مجموعی پیغام حوصلہ افزا ہے۔ البتہ جب بات مستحکم سافٹ ویئر برآمد کنندگان سے آگے بڑھتی ہے تو صورتحال کچھ غیر واضح ہو جاتی ہے۔</p>
<p>200 ملین روپے سے زائد سالانہ آمدنی والے بڑے ای-کامرس سیلرز کے لیے، آن لائن مارکیٹ پلیس ٹرانزیکشنز پر کٹنے والا ٹیکس اب ایڈجسٹ ایبل  ہوگا۔ اس اقدام سے اس خطرے میں کمی آنی چاہیے کہ کٹوتی ایک اضافی لاگت بن جائے، تاہم چھوٹے آن لائن کاروبار کو اس کا فائدہ کم ہی ہوگا کیونکہ انہیں اب بھی رجسٹریشن، بک کیپنگ اور مالیات تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>بینک اب یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے ڈیجیٹل تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حاصل کردہ آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی لاگو کریں گے۔ آن لائن آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانا تو ایک معقول قدم ہے لیکن اگر ٹیکس کی واپسی (ریفنڈ) یا ایڈجسٹمنٹ کا کوئی آسان عمل موجود نہ ہوا تو یہ کٹوتی چھوٹے تخلیق کاروں اور فری لانسرز کے کیش فلو کو متاثر کر سکتی ہے جن کی آمدنی بے قاعدہ ہوتی ہے۔</p>
<p>موبائل فون ڈسٹری بیوٹرز پر ایڈوانس ٹیکس کو بھی 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہے اور بڑے ڈسٹری بیوٹرز پر اس کا طویل مدتی اثر شاید کم ہو لیکن یہ ان چھوٹے کاروبار کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے جو پہلے ہی بہت کم مارجن پر کام کررہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی ترقیاتی پروگرام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں (اگرچہ یہ ایک ٹریلین روپے کے مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے مقابلے میں ایک معمولی رقم ہے)۔ یہ مختص رقم سرکاری شعبے کے ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کے لیے کچھ گنجائش فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کی دیگر رکاوٹوں کے لیے کوئی براہ راست اقدامات نظر نہیں آتے، جیسے کہ براڈبینڈ کی توسیع، اسپیکٹرم میں سرمایہ کاری، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی وغیرہ کے لیے کوئی ریلیف شامل نہیں ہے۔ ٹیکس کی رعایت میں توسیع یقیناً رفتار کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے لیکن یہ خود اس صنعت کو آؤٹ سورسنگ اور فری لانسنگ سے نکال کر اعلیٰ ویلیو والے سافٹ ویئر پروڈکٹس، انٹلیکچوئل پراپرٹی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز اور علاقائی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی طرف لے جانے کے لیے کافی نہیں ہے۔</p>
<p>حکومت کو توقع ہے کہ خدمات کی کل برآمدات مالی سال 2026 میں 10.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2027 میں 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جس کی بنیادی وجہ آئی ٹی سیکٹر کی مسلسل ترقی ہے۔ یہ ایک پیشرفت تو ہے لیکن اسے ایک بڑی چھلانگ قرار دینا مشکل ہے۔ یہ معمولی اضافہ (3.7 فیصد) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجٹ کو ایک نئے توسیعی مرحلے کے آغاز کے بجائے موجودہ رجحان کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2027 کا بجٹ لسٹڈ اور برآمدی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مثبت، ای کامرس اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے ملا جلا اور ٹیلی کام و مواصلات کے شعبے کے لیے بڑی حد تک غیر جانبدار ہے۔ سیکٹر کو ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی اور کچھ مہلت ضرور ملی ہے لیکن اسے وہ قابلِ اعتماد روڈ میپ نہیں ملا جو پاکستان کو ایک کم لاگت والی ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی معیشت سے نکال کر سرمایہ کاری پر مبنی اور پروڈکٹ-اورینٹڈ ڈیجیٹل اکانومی میں تبدیل کر سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287628</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 16:03:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/17160033a16c29e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/17160033a16c29e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
